ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار
پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

کتاب فنون الافنان کا علمی جائزہ 
ڈاکٹر محمد فاروق حیدر

علوم القرآن ایک عظیم الشان علم ہے جس کی تاریخ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول قرآن سے شروع ہوئی۔ لیکن عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور عہد صحابہ ؓمیں علوم القرآن بالمشافہ اخذ و روایت کیے جاتے رہے ۔عہد تابعین میں علوم القرآن کا دائرہ قدرے وسیع ہوا اس دور کے بعد علوم القرآن کی باقاعدہ تدوین کا آغاز ہوا اور اس فن کی مختلف انواع جیسے تفسیر، اسباب نزول، ناسخ و منسوخ ،غریب قرآن ،متشابہ قرآن، وقف و ابتداء ،اعراب قرآن، معانی قرآن،وجوہ و نظائر، علم قراء ات اور اعجاز قرآن وغیرہ پر تالیف کتب کا آغاز ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض مفسرین نے اپنی کتب تفاسیر کے مقدمات میں بھی علوم القرآن کی بعض انواع سے بحث کی ۔ یہاں تک کہ علوم القرآن کے عنوان سے مستقل کتب تالیف کئے جانے کا سلسلہ شروع ہوا اس سلسلے کی ملنے والی پہلی مطبوع کتاب التنبیہ علی فضل علوم القرآن ہے جس کو حسن بن محمد ابو قاسم نیشاپوری  (م ۴۰۲ھ/ ۱۰۱۱ء)  (۱)  نے تالیف کیا۔ یہ کتاب انتہائی مختصر ہے اس میں علوم القرآن کے دو مباحث  نزول قرآن اور مخاطباتِ قرآن سے صرف چند صفحات میں بحث کی گئی ہے۔ اس کے بعد ابن جوزیؒ (م ۵۹۷ھ/ ۱۲۰۰ء ) (۲) نے علوم القرآن کی مختلف انواع پر ایک جامع کتاب فنون الافنان فی عیون علوم القرآن تالیف کی۔      ابن جوزیؒ نے فنون الافنان کے علاوہ بھی علوم القرآن کی دیگر اہم انواع پر کتب تالیف کیں تاہم فنون الافنان اس حوالے سے منفرد اور نمایاں ہے کہ علوم القرآن پر ملنے والی یہ پہلی جامع کتاب ہے جس میں اس فن کے بارے میں اہم مباحث کو جمع کیا گیا یہ کتاب کئی مرتبہ شائع ہو چکی ہے ۔

سبب تالیف

کسی کتاب کا علمی اور تحقیقی جائزہ لینے سے پہلے کتاب کی تالیف کے اسباب و محرکات کو جاننا ضروری ہوتا ہے جو عموماً کتاب کے مقدمہ میں بیان کیے جاتے ہیں۔ ابن جوزیؒ نے فنون الافنان کے شروع میں مختصر مقدمہ لکھا ہے جس میں حمد و درود کے بعد اپنی کتاب کا سبب تالیف بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

لما الفت کتاب التلقیح فی غرائب علوم الحدیث رأیت أن تالیف کتاب فی عجائب علوم القرآن أولی فشرعت فی سوال التوفیق قبل شروعی، و ابتھجت بما الھمتہ و القی فی روعی،وھا أنا أراعی عرفان المنن، ومن راعی روعی  (۳)

آپ نے جب اپنی کتاب التلقیح لکھ لی تو آپ کو اس بات کا احساس ہوا کہ علوم القرآن پر کتاب لکھنا زیادہ ضروری ہے غالباً انہیں یہ احساس اس وجہ سے ہوا کہ ان کے عہد تک علوم الحدیث کی نسبت علوم القرآن پر مستقل حیثیت سے کم لکھا گیا کیونکہ جب ہم علوم القرآن کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو فنون الافنان سے پہلے علوم القرآن کے عنوان سے کوئی جامع کتاب نہیں ملتی۔ ابن جوزی کے بعد اس موضوع پر علامہ زرکشی نے جب البرہان فی علوم القرآن لکھی تو سبب تالیف میں اسی بات کی وضاحت ان الفاظ میں کی۔

ولما کانت علوم القرآن لا تنحصر، ومعانیہ لا تستقصی؛ وجبت العنایۃ بالقدر الممکن۔ و مما فات المتقدمین وضع کتاب یشتمل علی انواع علومہ، کما وضع الناس ذلک بالنسبۃ إلی علم الحدیث، فاستخرت اللہ تعالیٰ ولہ الحمد فی وضع کتاب فی ذلک…(۴)

اس بات کا امکان ہے کہ علامہ کو فنون الافنان کا علم نہ ہو سکا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو علم تو ہو لیکن جس قسم کی مفصل کتاب لکھنے کا نقشہ ان کے ذہن میں تھا اس معیار پر فنون الافنان پوری نہ اترتی ہو۔ انہیں خیالات کا اظہار علامہ سیوطیؒ نے اپنی کتاب الاتقان کے مقدمہ میں کیا ہے۔( ۵)  لیکن آپ کے ذہن میں یہ بات زمانہ طالب علمی میں آئی ورنہ الا تقان لکھتے وقت فنون الافنان اور البرہان دونوں کتابیں آپ کے سامنے تھیں اور آپ نے ان دونوں سے استفادہ کیا۔

ابن جوزیؒ  کا یہ کہنا کہ علوم القرآن پر لکھنا زیادہ ضروری ہے اس سے مراد یہی ہے کہ علوم القرآن پر علم حدیث کی نسبت جامع اور مستقل کتب تالیف نہیں کی گئیں تھیں لہذا اس بات کی ضرورت تھی کہ علوم القرآن پر ایسی جامع کتاب تالیف کی جائے جس میں اس فن کی اہم انواع شامل ہوں۔ لہٰذا آپ نے فنون الافنان فی عیون علوم القرآن کے نام سے ایک مستقل کتاب تالیف کی جس میں علوم القرآن کے جلیل القدر مباحث کو بیان کیا۔

اس کتاب کے علمی مقام و مرتبہ کو جاننے کے لیے یہاں اس کتاب کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیا جائے گا اس ضمن میں سب سے پہلے کتاب کے مصادر و مراجع بیان کیے جائیں گے۔

فنون الافنان کے مصادر و مراجع

ابن جوزیؒ میں بچپن ہی سے تمام علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنے کا شوق و جذبہ موجود تھا تاہم علوم القرآن و تفسیر، علوم حدیث ،تاریخ اور فن وعظ میں اپنے وقت کے امام تھے۔ ان تمام علوم میں آپ کی بلند پایہ تصانیف موجود ہیں۔ آپ نے اپنے وسیع و عمیق مطالعہ کے بعد کتاب فنون الافنان تالیف کی۔ کتاب کی تیاری میں آپ نے ان کتب سے استفادہ کیا جو اپنے فن پر ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ علامہ نے کتاب کے مقدمہ میں ایسی کسی کتاب کا ذکر نہیں کیا البتہ کتاب کے مختلف مباحث میں کہیں کتاب کا نام دے کر کہیں صرف مؤلف کا نام لکھ کر حوالے نقل کیے ہیں۔ یہاں ان کتب کا مختصر تعارف درج ذیل ہے جن سے کتاب فنون الافنان کی تیاری میں مدد لی گئی۔

۱۔        کتب علوم قرآن و تفسیر

الف۔ جامع البیان عن تأویل ای القرآن

اس عظیم الشان تفسیر کے مؤلف ابن جریر طبری ہیں۔آپ ۲۲۴ھ/۸۲۸ء میں طبرستان کے شہر آمل میں پیدا ہوئے کثیر التعداد اساتذہ سے علوم کی تحصیل کی۔ طلبِ حدیث میں آپ نے عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ اپنے عہد کے علماء میں ممتازتھے۔ کتاب اللہ کے حافظ تھے۔ قراء ات میںمہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ قرآنی احکام کے فقیہ تھے۔ احادیث اور ان کے طرق، احادیث کی صحت و ضعف اور ناسخ و منسوخ وغیرہ کو اچھی طرح جانتے تھے۔ آپ نے بڑی مفصل اور جامع کتب تالیف کیں۔ تاریخ الامم والملوک اور جامع البیان عن تاویل ای القرآن آپ کی معروف کتابیں ہیں۔ آپ بغداد میں ۳۱۰ھ/۹۲۲ء میں فوت ہوئے۔ (۶)

جامع البیان بڑی جامع اور مفصل تفسیر ہے اس میں آپ نے قرآنی احکام، ناسخ و منسوخ اور قرآن مجید کے مشکل اور غریب الفاظ کی وضاحت فرمائی اور اس ضمن میں علماء اور اہل تاویل کے اختلافات بھی نقل کیے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ تفسیر کئی اور علوم کی جامع ہے۔ آ پ کی تفسیر کے متعلق علامہ دائودی نے لکھا ہے:

بین فی احکامہ، وناسخہ و منسوخہ و مشکلہ و غریبہ ومعانیہ، واختلاف اھل التاویل والعلماء فی احکامہ و تاویلہ، والصحیح لدیہ من ذلک، واعراب حروفہ، والکلام علی الملحدین فیہ،والقصص واخبار الامۃ، والقیامۃ وغیر ذلک۔ (۷)

ابن جوزیؒ نے فنون الافنان کی تیاری میں مذکورہ تفسیر کے مقدمہ سے استفادہ کیا اس تفسیر کے مقدمہ میں علوم القرآن کے اہم مباحث جیسے قرآن میں استعمال ہونے والی لغات، قرآن مجید کا سات حروف پر نازل ہونا، تفسیر قرآن کی فضیلت اور قرآن مجید کے اسماء وغیرہ شامل ہیں۔ آپ نے مقدمہ تفسیر ابن جریر سے خاص طور پرسبعہ احرف پر نزول قرآن  کی بحث سے استفادہ کیا ہے حقیقت میں مقدمہ کی سب سے اہم بحث  بھی یہی ہے ابن جریرؒ نے اس موضوع پر جس مدلل انداز سے بحث کی ہے اور جس طرح اپنے موقف کا دفاع کیا ہے کم ہی کسی کتاب میں اس کی مثال ملتی ہے۔

ب۔ ایضاح الوقف والابتداء

اس کتاب کے مؤلف محمد بن قاسم، ابن انباری ہیں۔ اس کتاب کے علاوہ ابن جوزیؒ نے آپ کی دوسری کتاب مرسوم الخط سے بھی بھر پور استفادہ کیا۔

ابن انباری ۲۷۱ھ/ ۸۸۴ء میں پیدا ہوئے اپنے والد اور دیگر کئی اساتذہ سے علوم کی تحصیل کی۔ آپ حافظ قرآن تھے۔ زہد اور عاجزی آپ کی خاص صفات تھیں آپ کو ایک سو بیس تفاسیر مع اسناد کے حفظ تھیں۔ آپ کی تالیفات میں غریب الحدیث اور الرد علی من خالف مصحف عثمان وغیرہ بھی شامل ہیں۔ آپ نے ۳۲۸ھ/ ۹۳۹ء میں بغداد میں وفات پائی۔(۸)

 

 ابن انباریؒ کی کتاب ایضاح الوقف والابتداء اپنے موضوع پر بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب کے شروع میں مقدمہ ہے جس میں فضائل قرآن، لغات قرآن، اعراب قرآن اور غریب قرآن وغیرہ سے بحث ہے۔ اس کے بعد وقف کی مختلف انواع اور صفات سے تفصیلی بحث ہے۔ پھر سورہ فاتحہ سے لے کر سورہ لہب تک تمام سورتوں کے مقامات اوقاف اور اس بارے پائے جانے والے اختلافات کی وضاحت کی ہے۔ (۹)

فنون الافنان کے دسویں باب کا عنوان وقف و ابتداء ہے۔ ابن جوزیؒ نے اس میں تقریباً تمام مواد معمولی کمی بیشی کے ساتھ کتاب ایضاح الوقف والابتداء کی پہلی جلد کے مختلف صفحات سے نقل کیا ہے۔ مثلاً وقف کی اقسام آپ نے کتاب ایضاح کے صفحہ نمبر۱۴۹، ۱۵۰ سے نقل کی ہیں۔ (۱۰)

ج۔       کتاب مرسوم الخط  (۱۱)

ابن انباری نے اس کتاب میں رسم قرآن سے بحث کی ہے اور سورہ فاتحہ سے لے کر سورہ کافرون تک مختلف مقامات سے حذف ،وصل و فصل اور ابدال وغیرہ کی مثالیں نقل کی ہیں مثلاً سورہ فاتحہ سے حذف کی مثال درج ذیل ہے۔

کتبوا {مٰلک یوم الدین}(۱۲)  بغیر الف (۱۳)

ابن انباری کی یہ کتاب بھی ا پنے فن پر ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس موضوع پر اولین کتب میں سے ہے۔

د۔       المعرب من الکلام الاعجمی علی حروف المعجم

یہ کتاب ابو منصور جوالیقی کی ہے۔ آپ ابن جوزیؒ کے اساتذہ میں سے ہیں آپ کو فن لغت میں مہارت حاصل تھی۔ ابن جوزیؒ نے آپ کے متعلق لکھا ہے کہ آپ انتہائی منکسر المزاج تھے میں نے حدیث اور غریب حدیث میں ان سے بہت زیادہ سماعت کی اور ان سے ان کی کتاب المعرب پڑھنے کے علاوہ دیگر تصانیف اور لغت پڑھی۔ جوالیقی کی کتب میں المعرب کے علاوہ شرح ادب الکاتب اور العروض وغیرہ شامل ہیں۔ (۱۴)

آپ نے اپنی کتاب المعرب میں حروفِ تہجی کے اعتبار سے الف سے یاء تک عجمی الفاظ نقل کیے ہیں۔ ابن جوزیؒ نے فنون الافنان کے باب اللغات فی القرآن  میں اس کتاب سے استفادہ کیا ہے اور وہاں باقاعدہ اس کتاب کا حوالہ بھی دیا ہے ۔ (۱۵)

ہ۔  کتب ابن منادی

ابن جوزیؒ نے احمد بن جعفر بن محمد، ابن منادی (م ۳۳۶ھ/ ۹۴۷ء)   (۱۶) کی کتب سے بھی استفادہ کیا۔ آپ ثقاہت، امانت، صداقت اور تقویٰ جیسی خوبیوں سے متصف تھے۔ آپ نے بہت سی کتابیں تالیف کیں اور کئی علوم جمع کیے۔  آپ جید قراء اور بلند محدثین میں سے تھے۔ آپ نے علوم القرآن پر تقریباً ۴۴۰ کتب تالیف کیں ابن جوزیؒ کا بیان ہے کہ ان میں سے ۲۱ کتابوں سے تو میں واقف ہوںاور دیگر کتب کے متعلق صرف میں نے سنا ہے۔ ان کی تصانیف میں سے ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے چند ٹکڑے میری نظر سے گزرے ان میں ایسے فوائد جمع تھے جو کسی اور کتاب میں نہیں پائے جاتے۔ کوئی بھی شخص ان کی تصانیف سے ان کے علمی مقام کا بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے۔ (۱۷)

ابن منادی کی علوم القرآن پر کوئی تالیف نظر سے نہیں گذری البتہ ابن جوزیؒ نے کتاب فنون الافنان کی بحث قرآن مجید کی سورتوں اور آیات کی تعداد میں ابن منادی کا صرف نام دے کر حوالے دیے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابن منادی کی جو تحریر آپ کو ملی آپ نے اس سے استفادہ کیا۔

۲۔       کتب احادیث

ابن جوزیؒ نے جن کتب احادیث سے استفادہ کیا ان میں سے صرف دو کتب کا حوالہ ملتا ہے۔

الف۔  صحیح بخاری

یہ محمد بن اسماعیل جو امام بخاریؒ کے نام سے معروف ہیں کی تالیف ہے۔ قرآن مجید کے بعد صحیح بخاری کو مستند ترین کتاب کا درجہ حاصل ہے۔ اس کتاب کی کئی شروح لکھی گئیں جن میں ابن حجر کی فتح الباری سب سے زیادہ معروف ہے۔

ب۔  صحیح مسلم

مسلم بن حجاج کی تالیف ہے صحاح ستہ میں سے صحیح بخاری کے بعد اس کا درجہ ہے۔ صحیح مسلم کی بھی کئی شروح منظرِ عام پر آئیں لیکن ان میں سے امام نووی کی شرح کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔

کتاب فنون الافنان کا منہج و ترتیب

فنون الافنان کے شروع میں نہایت مختصر مقدمہ ہے جس کے آغاز میں مؤلف نے اللہ تعالیٰ کے احسانات و عنایات اور قرآن مجید کی چند خصوصیات کا تذکرہ کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے کہ اس نے اپنے کلام کو حفظ کرنے اور اس میں غورو فکر کرنے کی توفیق بخشی اس کے بعد آخری چند سطور میں کتاب کا سبب تالیف بیان کیا ہے۔(۱۸)

اس مقدمہ میں موضوع کی مناسبت سے علوم القرآن کے تعارف اور اہمیت کے بارے میں معلومات نہیں ملتیں جیسا کہ بعد میں لکھی گئی دیگر کتب علوم القرآن کے مقدمات میں ملتی ہیں۔

کتاب فنون الافنان کے تمام بنیادی مباحث میں جو منہج اختیار کیا گیا ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔

الف۔  فضائل قرآن

یہ کتاب کا پہلا باب ہے اس میں مؤلف نے قرآن مجید کی فضیلت میں صرف چھ احادیث کا ذکر کیا ہے اسی اختصار کی وجہ سے آپ نے اس باب کا عنوان ذکر نبذۃ من فضائل القرآن رکھا۔ اس باب میں صرف پہلی حدیث کی پوری سند بیان کی گئی ہے جبکہ بقیہ پانچ احادیث کو صرف صحابہؓ کے واسطے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ بحث بہت مختصر ہے لہٰذا اس میں کوئی فصل قائم نہیں کی گئی۔

ب۔  قرآن مجید مخلوق نہیں اللہ کا کلام ہے

اس باب میں علامہ نے ترتیب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہؓ، تابعینؒ ،تبع تابعینؒ اور مشاہیر علماءؒ کے اقوال نقل کیے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے مخلوق نہیں۔ اس کے بعد آپ نے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے تابعینؒ اور دیگر علماء کے ناموں کی فہرست نقل کی ہے جو اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ اس بحث میں مختلف شہروں کے نام دے کر ان کے تحت علماء کے ناموں کی فہرست دینے کا خصوصیت کے ساتھ اہتمام کیا گیا ہے اور آخرمیں اس امر کی وضاحت ہے کہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں۔ مثلاً اہل مدینہ کے عنوان کے تحت وہاں کے علماء کے اسماء کی فہرست نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:

أجمعوا علی أن القرآن کلام اللہ غیر مخلوق ثم لا اعرف لھم من اھل المدینۃ مخالفا من اھل الاثروا لجماعۃ(۱۹)

اگرچہ یہ تفصیلی بحث ہے لیکن اس میں ابن جوزیؒ نے نہ تو کسی کتاب کا حوالہ نقل کیا ہے نہ ہی اس کو فصول میں تقسیم کیا اس کے علاوہ اس ضمن میں کسی اختلافی بحث کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔

ج۔       سبعہ احرف پر قرآن مجید کا نزول

فنون الافنان میں اس بحث کا عنوان نزل القرآن علی سبعۃ احرف ہے۔ ابن جوزیؒ نے اس باب کا آغاز صحیح بخاری کی مشہور حدیث سے کیا ہے جو حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت ہشام بن حکیمؓ کے مابین سورہ فرقان کی قراء ات میں ہونے والے اختلاف کے بارے میں ہے۔ ابن جوزیؒ نے اس حدیث کی تخریج بھی کی ہے۔ اس حدیث کے آخر میں لکھتے ہیں :

ہذا حدیث صحیح ،أخرجہ البخاری و مسلم (۲۰)

سبعہ احرف پر نزول قرآن کے ثبوت میں آپ نے ایک ہی روایت ذکر کرنے پر اکتفا کیا۔ اس کے بعد آپ نے سبعہ احرف کے بارے ابن حبان کے ذکر کردہ پینتیس اقوال میں سے صرف ۱۴ اقوال کو اپنی کتاب میں بیان کیا اور لکھا کہ حدیث کی توجیہ میں یہ سارے اقوال لائق اعتماد نہیں آپ نے لکھا ہے:

وقد ذکر ابو حاتم بن حبان الحافظ أن العلماء اختلفوا فی معناہ علی خمسۃ و ثلاثین قولاً، فذکرھا و فیھا ما لا یصلح الاعتمادعلیہ فی توجیہ الحدیث …وانا انتخب من جمیع الاقوال ما یصلح ذکرہ وأبین الاصوب ان شاء اللہ تعالی  (۲۱)

بحث کے اس انداز سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مؤلف نے مجموعی طور پر کتاب میں اختصار کو ملحوظ رکھا ہے اور غیر ضروری تفصیلات کو اپنی کتاب میں جگہ نہیں دی۔ اس کے علاوہ صرف اقوال ذکر کر دینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان اقوال میں سے ایک قول کو راجح قرار دیا ہے اور اس کی وجہ ترجیح بھی بیان کی مثلاً آخری قول کے متعلق لکھا ہے:

ان المراد بالحدیث انزل القرآن علی سبع لغات، وہذا ھو القول الصحیح (۲۲)

سبعہ احرف سے سات لغات مراد ہیں اس کے ثبوت میں ابن جوزیؒ نے ابن جریرؒ کے استدلال کو بیان کیا ہے جو انہوں نے مختلف احادیث سے کیا ۔

ابن جریر طبری کے نزدیک سبعہ احرف سے مراد سات لغات ہیں اس کی دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جب قراء قراء ت میں اختلاف کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کی قراء ت کو درست قرار دیتے لیکن اگر حلال و حرام کا اختلاف ہوتا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کیسے درست قرار دے سکتے تھے۔ لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اختلاف لغات میں تھا اور اس پر ابن مسعودؓ کا قول بھی دلالت کرتا ہے جس میں آپؓ نے فرمایا میں نے قراء سے ملتی جلتی قراء ات سنیں پس اسی طرح قراء ت کرو جس طرح تمہیں سکھائی گئی اور تصنع و تکلف سے پرہیز کرو۔ ( ۲۳)

ابن جوزیؒ سبعہ احرف سے سات لغات مراد لینے کی حد تک تو اس قول کے حامل تمام علماء سے متفق ہیں لیکن قرآن مجید میں ان لغات کی موجودگی اور نوعیت کے بارے میں آپ ابن جریر اور ان کی جماعت کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ سبعہ احرف کے تحت جو اقوال نقل کیے گئے ہیں ان میں سے دسواں قول اسی جماعت کا اختیار کردہ ہے جس کو آپ نے مرجوح مانا ہے وہ قول درج ذیل ہے:

القول العاشر: انہا الالفاظ المختلفۃ بمعنی واحد، مثل قولھم ھلم، تعال، أقبل (ھھنا، إلی، عندي، اعطف علي۔ (۲۴)

یہ وہ قول ہے جس کو ابن جریرؒ نے اختیار کیا لیکن ابن جوزیؒ کا موقف وہی ہے جو ابو عبید قاسم بن سلام کا ہے کہ سبعہ احرف سے مراد وہ سات لغات ہیں جو قرآن مجید میں مختلف مقامات پر موجود ہیں۔

 ابن جوزیؒ نے اپنا یہ موقف اپنی دوسری کتاب غریب الحدیث میں بیان کیا ہے۔

نزل القرآن علی سبعۃ احرف أي: علی سبع لغات من لغات العرب، فھی مفرقۃ فی القرآن فبعضہ بلغۃ قریش و بعضہ بلغۃ ھوازن، وبعضہ بلغۃ الیمن و نحو ہذا (۲۵)

قرآن مجید سات حروف پر نازل ہوا یعنی لغات عرب میں سے سات لغات پر جو قرآن مجید میں الگ الگ موجود ہیں کچھ لغت قریش میں ،کچھ حصہ لغت ہوازن میں، بعض لغت یمن میں نازل ہوا اور اسی طرح بعض دوسری لغات میں بھی نازل ہوا۔

ابن جوزیؒ کے علاوہ یہ قول ابو عبید ،ثعلب ازہری، ابن عطیہ اور امام بیہقی کا ہے۔ (۲۶)

اس قول کے حامل علماء کے درمیان ان سات لغات کے تعین میں اختلاف پایا جاتا ہے ہر کسی نے بعض لغات کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے ابن جوزیؒ نے اس بارے لکھا ہے کہ سات لغات کا بعینہ تعین کرنا سنداً ثابت نہیں ہے(۲۷)۔

آپ کی رائے یہ ہے کہ سبعہ احرف سے عرب کی سات فصیح لغات مراد ہیں لکھتے ہیں:

بل نقول : نزل القرآن علی سبع لغات فصیحۃ من لغات العرب(۲۸)

مذکورہ بحث کے آخری اور چودھویں قول سے مختصر بحث کی ورنہ سابقہ ۱۳ اقوال کو نقل کر کے آپ نے نہ تو ان کے حق میں دلائل نقل کیے اور نہ ہی کسی دلیل کی بناء پر ان کا رد کیا بلکہ آخری قول کو راجح قرار دینے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سابقہ سارے اقوال ابن جوزیؒ کے نزدیک مرجوح ہیں۔ اس لیے آپ نے مرجوح اقوال سے بحث کرنے کو محض طوالت خیال کرتے ہوئے ان سے کسی قسم کا تعارض نہیں کیا البتہ آپ نے ابن حبان کے اقوال نقل کر کے علمی دنیا پر احسان کیا۔

د۔  کتابت مصحف اور اس کا رسم

سبعہ احرف کی طرح علوم القرآن کی اہم اور دقیق بحث ہے۔ فنون الافنان میں اس کا عنوان کتابۃ المصحف و ہجائہ ہے۔ ابن جوزیؒ نے اس بحث میں فن رسم کے ماہر ابو بکر محمد بن قاسم انباری کے اقوال نقل کیے ہیں۔ اس بحث کے شروع میں ابن جوزیؒ نے رسم کے ابتدائی اور اصولی مباحث کا ذکر نہیں کیا بلکہ ابن انباری کا قول نقل کرنے سے بحث کی ابتداء کی ہے لکھتے ہیں:

قال ابو بکر محمد بن قاسم الانباری،کل ما فی القرآن من ذکر ألا فھو فی المصحف حر ف واحد الا عشرۃ احرف…(۲۹)

آگے قرآن مجید سے ایسی آیات کی تفصیل نقل کی گئی ہے۔ یہ کتاب کا پہلا باب ہے جس کو مختلف فصول میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی فصل میں لفظ نعمۃ کے متعلق آپ نے ابن انباری کا قول نقل کیا:

قال ابو بکر کل ما فی کتاب اللہ من ذکر النعمۃ فھو بالھاء الا احد عشر حرفا (۳۰)

آگے قرآن مجید سے ان گیارہ مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں نعمۃ کو تاء مبسوطہ کے ساتھ لکھا گیا ہے۔

اس بحث میں آپ نے رسم کے اہم قواعد جیسے حذف، وصل و فصل اور ابدال وغیرہ کو مثالوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔

ہ۔        قرآن مجید کی سورتوں،آیات ،کلمات ،حروف اور نقاط کی تعداد

اس باب کے آغاز میں سورتوں کی تعداد کا ذکر ہے۔ اس ضمن میں ابن جوزیؒ نے ابن منادی کا قول نقل کیا ہے کہ قرآن مجید کی کل سورتوں کی تعداد ۱۱۴ ہے۔

أما سورۃ فقال ابو الحسین بن المنادی جمیع سور القرآن؛ فی تالیف زید بن ثابت علی عھد صدیق و ذی النورین؛ ومائۃ و اربع عشرۃ سورۃ، فیھن الفاتحۃ والتوبۃ والمعوذتان،وذلک ھو الذی فی ایدی اھل قبلتنا (۳۱)

اس کے بعد آپ نے مصحف عبداللہ بن مسعودؓ اور مصحف ابی بن کعب کا تذکرہ کیا ہے جن میں سورتوں کی تعداد ۱۱۴ نہیں تھی۔ مصحف ابن مسعود میں معوذتین کے نہ ہونے اور مصحف ابی بن کعب میں ۱۱۶ سورتوں کی موجودگی کا ذکر کیا لیکن آپ نے یہاں صرف اختلاف کا ذکر کیا ہے اور اس کے حل میں آپ نے کسی قسم کی کوئی تفصیل نقل نہیںکی غالباً پوری کتاب میں صرف یہی وہ مقام ہے جہاں ابن جوزیؒ نے ایک مسئلہ بیان کیا اور اس کی وضاحت نہیں فرمائی۔

دوسری اور تیسری فصل قرآن مجید کی آیات کی تعداد سے متعلق ہے اس میں مختلف شہروں کے علماء کا آپس میں اختلاف بیان کیا گیا ہے اور اس بات کی وضاحت ہے کہ آیات کی یہ تعداد پانچ شہروں کی طرف منسوب ہے۔

آپ نے آیات کا شمار کرنے والوں کا اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ قرآن کی آیات کی تعداد ۶۲۰۰ ہے۔ اختلاف اس سے اوپر کی تعداد میں ہے۔( ۳۲)

          اس کے بعد آپ نے مختلف شہروں کے علماء کے نزدیک آیات کی جو تعداد ہے وہ بیان کی ہے مثلاً کوفی عدد کے مطابق قرآن مجید کی آیات کی تعداد ۶۲۳۶ ،اور مکی عدد کے مطابق ۶۲۲۰ ہے۔ (۳۳)

کلمات کی تعداد کے لیے علیحدہ سے ایک مستقل فصل قائم کی گئی ہے اور اس میں مختلف علماء کے نزدیک قرآن مجید کے کلمات کی تعداد بیان کی گئی ہے۔ اس فصل کی ابتداء میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا قول ہے جن کے مطابق کلمات قرآنی کی تعداد ۷۷۹۳۴ ہے۔ (۳۴)

اس باب کی ایک فصل حروف قرآن کی تعداد سے متعلق ہے۔ اس کے شروع میں وہ کم از کم تعداد بیان کی گئی ہے جس پر اجماع ہے :

فاما عدد حروف القرآن فاجمعوا علی ثلاثمائۃ ألف حرف،وأختلفوا فی الکسر الزائد علی ذلک (۳۵)

یعنی تین لاکھ حروف پر تو سب کا اجماع ہے اختلاف اس سے اوپر کی تعداد میں ہے۔

ابن جوزیؒ کا یہ خاص اسلوب ہے کہ کسی بھی بحث میں جس مسئلہ پر علماء کا اجماع ہو آپ اسے نقل کرتے ہیں اس کے بعد جو اختلافی بحث ہو اس کی وضاحت کرتے ہیں۔

اس باب کی اگلی فصل ان حروف کی تعداد کے بارے میں ہے جو قرآن میں بار بار آئے ہیں جیسے الفات، باء ات اور تاء ات سے لے کر یاء ات تک حروف تہجی کی تعداد کا تذکرہ ہے مثلاً قرآن مجید میں آنے والے الفات کی تعداد ۴۸۹۴۰ بتائی گئی ہے۔

کتاب میں کسی کسی جگہ فصول کی تقسیم میں توازن نہیں پایا جاتا مثلاً اس باب کی آخری فصل صرف دو سطروں پر مشتمل ہے جس میں نقطوں کی تعداد کا ذکر ہے۔

و۔        اجزائِ  قرآن

مسلمانوں نے قرآن مجید کی تلاوت میں آسانی کے لیے اسے مختلف حصوں میں تقسیم کیا اور ان مختلف حصوں کی تکمیل پر علامات و نشانات لگانے کا اہتمام بھی کیا۔

فنون الافنان کے چھٹے باب میں اس موضوع کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے اس باب میں انیس فصول ہیں۔ سب سے پہلے ابن جوزیؒ نے قرآن مجید کو دو حصوں میں تقسیم کیا پھر تین ،چار ،پانچ، چھ اور سات سے دس حصوں میں تقسیم کر کے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ہر حصے کی انتہاء کس آیت کے کون سے حرف یا کلمہ پر ہوتی ہے۔ اس کے بعد مختلف حصوں کو اجزاء میں تقسیم کیا گیا جیسے چھٹے حصے کو بارہ اجزاء میں ،ساتویں کو چودہ ،آٹھویں کو سولہ ،نویں کو اٹھارہ اور دسویں حصے کو بیس اجزاء میں تقسیم کیا گیا۔

ز۔       سورتوں کی آیات کی تعداد

اس بحث کا تعلق پانچویں باب سے ہے لیکن ابن جوزیؒ نے اس بحث کو ایک الگ باب میں بیان کیا ہے اور سورہ فاتحہ سے لے کر سورہ الناس تک تمام سورتوں کی آیات کی تعداد بیان کی ہے اور اس میں مکی، مدنی،کوفی، بصری اور شامی عدد کے مطابق اختلاف بیان کیا ہے ۔ مثال کے لیے آخری تین سورتوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔

سورہ اخلاص

کوفی، بصری اور دونوں مدنی عدد کے مطابق اس سورہ کی آیات کی تعداد چار ہے جبکہ شامی اور مکی عدد کے مطابق آیات کی تعداد پانچ ہے۔ اختلاف ایک آیت کے شمار میں ہے شامی اور مکی عدد کے مطابق {لم یلد } آیت ہے۔( ۳۶)

سورہ الفلق

سب کے نزدیک اس سورہ کی آیات کی تعداد پانچ ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔(۳۷)

سورہ الناس

کوفی، بصری اور دونوں مدنی عدد کے مطابق اس سورہ کی چھ آیات ہیں جبکہ شامی اور مکی عدد کے مطابق آیات کی تعداد سات ہے۔ اختلاف ایک آیت میں ہے۔ شامی اور مکی عدد کے مطابق {الوسواس} آیت ہے۔ ان دونوں کا بھی اس آیت کو شمار کرنے میں اختلاف ہے۔ (۳۸)

ح۔       مکی اور مدنی سورتوں کا بیان

علوم القرآن کی ایک اہم نوع مکی اور مدنی آیات کا علم ہے۔ علوم القرآن پر لکھی گئی اکثر کتب میں یہ بحث شامل ہے۔

ابن جوزیؒ نے فنون الافنان کے اس باب میں تفصیلی کلام نہیں کیا اور باب کے شروع میں لکھا ہے کہ اس نوع میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے اور میں نے اس کا تذکرہ کتب تفسیر میں کر دیا ہے یہاں اس کا بیان محض طوالت اور تکرار ہو گا۔ (۳۹)

اس باب میں صر ف مکی اور مدنی سورتوں کی تعداد سے متعلق مختصر بیان ہے اس ضمن میں آپ نے صرف ایک قول نقل کیا ہے۔ فنون الافنان میں اس سے آگے تین اور اہم مباحث کے بارے میں بھی آپ کا یہی موقف ہے کہ اس کا تذکرہ چونکہ پہلے ہو چکا لہذا یہاں اس کی تکرار سے گریز کیا جائے گا ۔

ط۔       قرآن مجید میں استعمال ہونے والی لغات

ابن جوزیؒ نے اس بحث میں اپنے استاذ ابو منصور جوالیقی کی کتاب المعرب سے کافی استفادہ کیا ہے۔

قرآن مجید میں استعمال ہونے والی لغات کے بارے میں بنیادی طور پر دو آراء پائی جاتی ہیں باب کے شروع میں دونوں کا ذکر کیا گیا ہے پہلی رائے یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہر زبان کا لفظ ہے اور دوسری رائے یہ ہے کہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا ۔ لہذا عربی کے علاوہ اس میں کسی زبان کا لفظ نہیں پایا جاتا۔ (۴۰)

اس کے بعد آپ نے ابو عبید سے متوازن اور معتدل رائے نقل کی ہے جس سے پہلے دونوں مذاہب کی تصدیق ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اصل میں قرآن مجید میں لغات عرب کے علاوہ دیگر لغات کے حروف پائے جاتے ہیں لیکن اہل عرب کے ہاں استعمال ہونے کی وجہ سے وہ عربی شکل اختیار کر گئے لہذا اب وہ عربی ہیں لیکن ان کی اصل عجمی ہے۔ (۴۱)

ابن جوزیؒ کا رجحان بھی اسی قول کی طرف ہے ۔ آپ نے اس متوازن قول کو نہ صرف نقل کرنے پر اکتفا کیا بلکہ مثالوں کے ساتھ اس موقف کی وضاحت فرمائی۔ اس کے بعد آپ نے ان الفاظ کی فہرست دی ہے جن کا تعلق عرب کی مختلف لغات سے ہے اور آخر میں وہ الفاظ درج کیے ہیں جن کا تعلق لغات عرب کے علاوہ دیگر لغات سے ہے۔

ی۔       وقف و ابتداء

وقف و ابتداء علوم القرآن کے اہم مباحث میں سے ہے۔ بعض علماء نے اسے توقیفی قرار دیا صحابہ کرامؓ اوقاف کے مواقع کی تعلیم اسی طرح حاصل کرتے جس طرح قرآن کی تعلیم اور اس پر صحابہ کرامؓ کا اجماع ہے۔( ۴۲)

ابن جوزیؒ نے وقف و ابتداء کی تقریباً ساری بحث ابن انباری کی کتاب ایضاح الوقف والابتداء کی پہلی جلد سے نقل کی ہے۔ ابن جوزیؒ نے اس میں کئی اہم قواعد ذکر کیے ہیں شروع میں ان مقامات کی وضاحت کی ہے جہاں وقف کرنا درست نہیں اور اس کے بعد ایسے مقامات کی بھی نشاندہی کی ہے جہاں وقف کرنا بہتر ہے۔ اسی ضمن میں آپ نے وقف کی تینوں اقسام تام، حسن اور قبیح کو مثالوں کے ساتھ واضح کیا ہے۔

ک۔  تفسیر،ناسخ و منسوخ اور محکم و متشابہ

ابن جوزیؒ نے علوم القرآن کی مذکورہ تین اہم انواع کے اکٹھے عنوانات دیے ہیں کیونکہ ان تینوں کے متعلق انہوں نے یہ وضاحت کی ہے کہ ان کا تذکرہ ان کی تفسیر میں موجود ہے لہذا یہاں ان انواع کے تحت بحث کرنا محض تکرار ہو گی۔(۴۳)

ل۔       متشابہات قرآن

ابن جوزیؒ نے عنوان ابواب متشابہ کے تحت اس موضوع سے متعلق تفصیلی معلومات جمع کی ہیں۔ یہ بحث خاص طور پر حفاظ قرآن کے لیے بہت مفید ہے اس میں قرآن مجید میں ملتی جلتی آیات کے مقامات بیان کر دیے ہیں تاکہ حفاظ کو کسی مقام پر کوئی مغالطہ نہ ہو اور وہ حفظ و تلاوت میں ہر قسم کے اشتباہ اور اشکال سے محفوظ رہ سکیں۔

فنون الافنان میں اس نوع کو مزید آٹھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان کے تحت کئی فصول ہیں۔ مثلاً مختلف سورتوں کی آیات میں جو مشابہ الفاظ آئے ہیں وہ نقل کیے گئے ہیں اس کے بعد ایک کلمہ کا دوسرے کلمہ سے یا ایک حرف کا دوسرے حرف سے ابدال، متشابہ میں سے کمی بیشی والے حروف، وہ مفرد الفاظ جو تقدیم و تاخیر کے ساتھ آئے وغیرہ کی تفصیل ہے۔ اس باب کی آخری بحث میں انبیاء کے ان اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے جو اس امت میں بھی پائے جاتے ہیں اس بحث کی ابتداء میں آپ نے متقدمین کا قول نقل کیا ہے۔

ذکر بعض القدماء أن اللہ عزوجل وصف امۃ محمدؐ بثلاثین وصفا، عشر اوصاف منھا اوصاف الخلیل وعشر اوصاف منھا اوصاف موسی الکلیم، وعشرۃ اوصاف منھا اوصاف محمد الحبیب صلوات اللہ علیھم اجمعین، فسوی بینھم و بین الخلیلؑ و الکلیمؑ والحبیبؐ فی تلک الاوصاف (۴۴)

اس کے بعد ابن جوزیؒ نے ترتیب سے پہلے حضرت ابراہیمؑ پھر حضرت موسیٰ ؑ اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے اوصاف ذکر کیے جو امت مسلمہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ مثلاً

اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیل ؑ سے فرمایا {وہداہ الی صراط مستقیم} (۴۵)

اور اس امت کے لیے فرمایا {وان اللہ لھاد الذین اٰمنوا }  (۴۶)

یعنی اللہ تعالیٰ نے جس صراط مستقیم کی ہدایت حضرت ابراہیم  ؑ کو دی اسی راستے کی اس امت مسلمہ کو بھی ہدایت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے صراط مستقیم پر چلانے کی ہدایت و رہنمائی دونوں میں مشترک ہے۔

          مختصر یہ کہ فنون الافنان میں مباحث کے درمیان ربط و تعلق اور ترتیب وغیرہ کی خوبیاں تو پائی جاتی ہیں البتہ ابواب بندی اور فصول کی تقسیم میں توازن نہیں ہے۔ آپ نے ہر بحث میں آیات و احادیث سے استدلال کیا اور ہر موضوع پر اس فن کے ماہر علماء کے اقوال نقل کیے لیکن دیگر کتب کی طرح فنون الافنان میں اقوال کی کثرت نہیں پائی جاتی ۔ خاص طور پر آپ نے علماء کے اختلافی اقوال اور ان کے دلائل و تاویلات یا کسی قول کی تردید میں یا اس کے حق میں آپ نے تفصیلی دلائل کے ساتھ بحث نہیں کی۔ کہیں کہیں علوم القرآن کی تفصیلی اور دقیق مباحث کو بڑے موثر انداز میں اختصار کے ساتھ سمیٹا ہے ۔ البتہ کہیں کہیں حد درجہ اختصار اختیار کیا گیا جس سے بحث کے ضروری اصول و قواعد سے بھی واقفیت حاصل نہیں ہوتی ۔ مجموعی طور پر کتاب میں علوم القرآن کی اہم اور جلیل القدر مباحث شامل کی گئی ہیں جس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی۔

فنون الافنان کے محاسن

الف۔  سلاست اُسلوب

فنون الافنان کی نمایاں خوبی اس کا سلیس اور سادہ اسلوب ہے۔ یہی خصوصیت ابن جوزیؒ کی دیگر تالیفات میں بھی پائی جاتی ہے۔ کتاب میں مغلق الفاظ اور پیچیدہ تراکیب استعمال نہیں کی گئیں اور نہ ہی تشبیہات و استعارات کی زبان اختیار کی گئی جس سے عموماً کتاب کے سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے۔ فنون الافنان میں علوم القرآن کے مفصل اور دقیق مباحث کو نہایت اختصار کے ساتھ سمیٹنے کے باوجود کہیں بھی اس کی سلاست اور روانی میں خلل نہیں آیا اس کی ایک بڑی مثال’’سبعۃ احرف پر نزول قرآن‘‘ جیسی مشکل اور اختلافی بحث ہے۔ کتاب میں اس حوالے سے کئی اختلافی اقوا ل نقل کیے گئے ہیں لیکن باوجود کثرت اقوال کے کہیں اس کی تفہیم میں دقت پیش نہیں آتی۔ کتاب کی یہ خصوصیت اس کو علوم القرآن پر لکھی گئی دیگر کتب سے ممتاز کرتی ہے۔

ب۔  طوالت بیان سے احتراز

ابن جوزیؒ نے سوائے ایک بحث کے پوری کتاب میں اختصار کو ملحوظ رکھا ہے ۔ کتاب میں نہ تو غیر ضروری اقوال نقل کیے گئے ہیں اور نہ ہی اس میں ایسی تکرار پائی جاتی ہے جس سے کتاب کے حسن میں فرق آئے اور اس ضمن میں کتاب سے چند مثالیں درج ذیل ہیں۔

کتاب کا پہلا باب فضائل قرآن ہے اس موضوع پر چونکہ پہلے ہی مستقل کتب تالیف کی جا چکی تھیں اور اس بحث میں ایسے ضروری اصول و قواعد یا اختلافی اقوال بھی نہیں پائے جاتے جو اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہوں لہذا آپ نے فنون الافنان میں اس بحث کا عنوان ذکر نبذۃ من فضائل القرآن  رکھا اور عنوان کی مناسبت سے اس میں صرف چند احادیث کے بیان پر اکتفا کیا۔

کتاب کی ایک بحث سبعہ احرف پرقرآن مجید کے نزول کی بحث ہے۔ علماء کے مابین سبعہ احرف کے معانی کے تعین میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے اور اس بارے کئی اقوال پائے جاتے ہیں تاہم ابن جوزیؒ نے سبعہ احرف میں ابن حبان کے ذکر کردہ پینتیس اقوال میں سے صرف چودہ اقوال نقل کیے اور باقی اقوال کو یہ کہہ کر نقل نہیں کیا کہ سبعہ احرف والی حدیث کی توجیہہ میں وہ قابل اعتماد نہیں ہیں۔

قرآن مجید کی سورتوں کی آیات کی تعداد کے ضمن میں آپ نے جہاں کوفی مذہب کے مطابق تعداد آیات کے لحاظ سے ایک جیسی سورتوں کی تفصیل دی ہے وہاں مدنی اور شامی مذہب کی تفصیل نہیں نقل کی کیونکہ اس بارے ابن جوزیؒ کے نزدیک معتمد مذہب کوفی ہے۔ لہذا اس کی تفصیل بیان کر دی گئی باقی مذاہب کی تفصیل کو محض طوالت خیال کرتے ہوئے نقل نہیں کیا ،آپ نے لکھا ہے۔

فلم نری التطویل بذکر ذلک، وانما ذکرنا الکوفی، لأنہ المعتمد علیہ من الاعداد (۴۷)

          اس کے علاوہ کتاب میں علوم القرآن کے دیگر اہم مباحث جیسے وقف و ابتداء سے بھی مختصر اور جامع بحث کی گئی ہے ابن جوزیؒ نے یہ بحث کتاب ایضاح الوقف و الابتداء سے نقل کی ہے جو دو جلدوں میں ہے۔

بعض مباحث میں عنوان کے تحت آپ نے یہ کہہ کر کہ وہ اس کا تذکرہ اپنی تفسیر میں کر چکے ہیں وہاں دوبارہ تفصیل نقل کرنے کو محض تکرار سمجھتے ہوئے نا مناسب خیال کیا مثلاً مکی اور مدنی سورتوں کے بیان کے تحت آپ نے لکھا ہے:

قد وقع فی ذلک خلاف کثیر ،وقد ذکرتہ فی کتب التفسیر ولم أر التطویل بہ ھنا لئلا یتکرر فی التصانیف(۴۸)

          علوم القرآن کے تین اور اہم مباحث کے عنوانات کے تحت بھی مؤلف نے یہی منہج اختیار کیا جیسے تفسیر و تاویل میں فرق، ناسخ و منسوخ اور محکم و متشابہ۔

ج۔       حسن ترتیب

فنون الافنان کے مباحث میں معلومات اور مواد کو نہایت عمدہ ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ خاص طور پر کتاب کے دوسرے باب میں جس کا عنوان ’’قرآن مجید اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں‘‘ ہے۔ اس بحث میں سب سے پہلے نبی کریم ؐ سے مروی احادیث ہیں پھر صحابہ کرام کے اقوال جن میں ترتیب سے پہلے چاروں خلفائے راشدین کے اقوال نقل کیے گئے ہیں اس کے بعد تابعین ،تبع تابعین اور دیگر ائمہ کے اقوال ہیں۔ اور اس بحث کے آخر میں صحابہؓ، تابعین اور اپنے زمانے تک کے ائمہ کا اجماع نقل کیا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں۔ اس کے بعد آپ نے ترتیب سے تابعین اور اپنے عہد تک ہر زمانے اور مختلف شہروں کے ائمہ کے نام گنوائے ہیں جو قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے پر متفق ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کی سورتوں، کلمات، حروف اور نقاط کی تعداد کو بھی بڑی عمدہ ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ کتاب کے تقریباً سارے ابواب میں حسن ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔

د۔       روایت حدیث میں احتیاط

فنون الافنان کی یہ امتیازی اور منفرد خصوصیت ہے کہ اس میں معتبر کتب ِاحادیث سے روایات نقل کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کتاب کے مؤلف خود حافظ حدیث ہیں اس کے علاوہ صحیح و ضعیف اور موضوع روایات کی پہچان کا خصوصی ملکہ رکھتے ہیں۔ اس حوالہ سے تذکرہ الموضوعات آپ کی مشہور و مقبول کتاب ہے۔

کتاب کے اکثر مقامات پر احادیث کو اسناد کے ساتھ نقل کیا گیا اور کہیں کہیں حدیث کے آخر میں بخاری یا بخاری و مسلم دونوں معتبر کتب کا حوالہ درج کیا گیا ہے ۔

ہ۔        راجح قول کی نشاندہی

علوم القرآن پر لکھی گئی دیگر کتب کی طرح ابن جوزیؒ نے صرف مختلف اقوال نقل کرنے کا اہتمام نہیں کیا بلکہ ان اقوال میں سے ایک کو نہ صرف ترجیح دی بلکہ وجہ ترجیح بھی بیان کی۔ خاص طور پر سبعہ احرف پر نزول قرآن کی بحث ہے جس میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے اور سبعہ احرف کے معانی کے تعین میں اقوال کی کثرت ہے۔ آپ نے محض اقوال نقل نہیں کیے بلکہ ابن حبان کے ذکر کردہ ۳۵ اقوا ل میں سے پہلے صرف چودہ اقوال کا انتخاب کیا اور باقی اقوال کو لائق اعتماد نہ سمجھتے ہوئے ترک کر دیا آپ نے لکھا ہے:

وقد ذکر ابو حاتم بن حبان الحافظ ان العلماء اختلفوا فی معناہ علی خمسۃ و ثلاثین قولا، فذکرھا وفیھا مالا یصلح الاعتماد علیہ فی توجیہ الحدیث وانا انتخب من جمیع الاقوال ما یصلح ذکرہ و أبین الاصوب ان شاء اللہ تعالی(۴۹)

سبعہ احرف کی اس دقیق اور اختلافی بحث میں ابن جوزیؒ نے مختلف اقوال نقل کر کے نہ صرف ایک قول کو ترجیح دی ہے بلکہ لغات کے تعین میں جو اختلاف تھا اس میں اپنی رائے بیان کر کے مسئلہ کی وضاحت فرمائی۔ یہ فنون الافنان کی خاص خوبی ہے ورنہ کتاب البرہان اور الاتقان دونوں میں سبعہ احرف کے تحت مختلف اقوال تو نقل کیے گئے ہیں لیکن کسی قول کو بھی راجح قرار نہیں دیا گیا۔

و۔        جامعیت

فنون الافنان سے پہلے علوم القرآن کے عنوان سے صرف ابوالقاسم نیشاپوری کی کتاب التنبیہ علی فضل علوم القرآن ملتی ہے جس میں علوم القرآن کے صرف دو مباحث کا تذکرہ ہے پہلی نزول قرآن اور دوسری مخاطبات قرآن ہے۔ اس لحاظ سے فنون الافنان کی یہ خاصیت ہے کہ اس میں علوم القرآن کے بارہ اہم مباحث کو بیان کیا گیا ہے۔ لہذا فنون الافنان فی عیون علوم القرآن اس فن پر ملنے والی پہلی جامع کتاب ہے۔

فنون الافنان کے دیگر کتب پر اثرات

کتاب فنون الافنان علوم القرآن پر ملنی والی پہلی مستقل اورجامع کتاب ہے اپنے بعد لکھی جانے والی کتب علوم القرآن پر اس کتاب کے گہرے اثرات ہیں۔ فنون الافنان سے سب سے زیادہ استفادہ علامہ سیوطیؒ نے کیا ہے۔ یہاں دو کتابوں کا ذکر درج ذیل ہے۔ جس میں فنون الافنان کے حوالے ملتے ہیں۔

الف۔  الاتقان فی علوم القرآن

الاتقان علامہ سیوطیؒ کی تالیفات میں سے ایک نمایاں اور اہم تالیف ہے۔ علامہ نے اس کتاب میں البرہان کی انواع پر تینتیس(۳۳) انواع علوم کا اضافہ کیا اور کل اسی انواع علوم القرآن سے جامع بحث کی۔ علامہ نے اس کتاب میں اس کمی کو بڑی خوش اُسلوبی سے پورا کیا جو علامہ زرکشی کی کتاب البرہان میں رہ گئی تھی۔ اس کتاب میں ایسے قواعد ، فوائد اور مسائل کا اضافہ کیا گیا ہے جو صرف اسی کتاب کی خصوصیت ہے۔ علوم القرآن پر اس کتاب کو سب سے اہم ماخذ ہونے کی حیثیت حاصل ہے۔ الاتقان تالیف کیے جانے کے بعد آج تک یہ کتاب مسلسل علماء، فضلاء اور محققین کا مرجع بنی رہی ہے۔ اس کتاب کے بعد علوم القرآن پر جس کسی نے بھی قلم اُٹھایا وہ اس سے استفادہ کیے بغیر نہیں رہ سکا۔

فنون الافنان کو یہ خاص مقام حاصل ہے کہ علامہ سیوطیؒ نے الاتقان کی تیاری میں اس کتاب سے استفادہ کیا اور مختلف مباحث میں اس کے حوالے نقل کیے ہیں۔ یوں فنون الافنان کو الاتقان کے واسطے سے علوم القرآن پر لکھی گئی کئی کتب کے بنیادی ماخذ ہونے کا درجہ حاصل رہا ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے سب سے پہلے اس کتاب کا حوالہ الاتقان کے مقدمہ میں دیا ہے لکھتے ہیں:

ومن المصنفات فی مثل ہذا النمط، ولیس فی الحقیقۃ مثلہ ولا قریبًا منہ وانما ھی طائفۃ یسیرۃ و نبذۃ قصیرۃ: فنون الافنان فی علوم القرآن لابن الجوزیؒ و جمال القرآء للشیخ علم الدین السخاوی…(۵۰)

علامہ سیوطیؒ نے یہاں اس امر کی وضاحت کی ہے کہ یہ کتب میری کتاب کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ علامہ سیوطیؒ کا یہ دعویٰ اگرچہ اپنی جگہ درست ہے لیکن غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ فنون الافنان الاتقان سے تقریباً تین سو سال پہلے لکھی گئی اس لحاظ سے فنون الافنان کے بعد علوم القرآن پر کئی کتب تالیف کی جا چکی تھیںیہاں تک کہ الا تقان تالیف کرتے وقت ابن جوزیؒ کی نسبت علامہ سیوطیؒ کے سامنے علوم القرآن پر لکھی گئی کتب کا وسیع ذخیرہ موجود تھا اس کے علاوہ فنون الافنان لکھتے وقت ابن جوزیؒ کے پیش نظر یہ نہیں تھا کہ وہ اس موضوع پر ایک مفصل کتاب لکھنا چاہتے تھے بلکہ پوری کتاب میں ابن جوزیؒ نے قصداً اختصار کو ملحوظ رکھا لہذا اس حوالے سے فنون الافنان کی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے۔

علامہ سیوطیؒ نے الاتقان کی انیسویں نوع   قرآن مجید کی سورتوں، آیات، کلمات اور حروف کی تعداد  میں کتاب فنون الافنان سے کافی استفادہ کیا اور غالباً یہ عنوان بھی فنون الافنان سے ہی نقل کیا گیا ہے۔ اس بحث میں علامہ سیوطیؒ نے فنون الافنان کا حوالہ صرف ایک جگہ نقل کیا ہے جہاں حروف کی تعداد سے بحث کی ہے۔ وہاں علامہ سیوطیؒ نے لکھا ہے:

وتقدم عن ابن عباس حروفہ و فیہ اقوال اخر والاشتغال باستیعاب ذلک مما لا طائل تحتہ، وقد استوعبہ ابن الجوزی فی فنون الافنان و عدالانصاف والاثلاث إلی الاعشار واوسع القول فی ذلک، فراجعہ منہ(۵۱)

یعنی حروف کی تعداد کو بالاستیعاب بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ابن جوزیؒ نے اپنی کتاب فنون الافنان میں اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور قرآن مجید کے انصاف، اثلاث اور اعشار تک کی تعداد بیان کی ہے۔ لہذا استفادہ کے لیے فنون الافنان کی طرف رجوع کیا جائے۔

علامہ سیوطیؒ نے الاتقان کی ۳۷ ویں نوع قرآن مجید میں استعمال ہونے والی غیر حجازی لغات میں اور ۳۸ ویں نوع  قرآن مجید میں استعمال ہونے والے غیر عربی الفاظ  میں بھی فنون الافنان سے استفادہ کیا اس کتاب سے کئی الفاظ نقل کیے مثلاً

۱۔        {الا رائک} (۵۲) حکی ابن الجوزی فی فنون الافنان انہا السرر بالحبشیۃ،(۵۳)

۲۔       {واکواب}(۵۴)حکی ابن الجوزی انہا الاکواز بالنبطیۃ (۵۵)

۳۔       {یصدون} (۵۶)  قال ابن الجوزی: معناہ یضجون بالحبشیۃ۔(۵۷)

اسی طرح کئی اور الفاظ ہیں جو فنون الافنان سے نقل کیے گئے ہیں۔

ب۔  المتوکلی

یہ کتاب بھی علامہ جلال الدین سیوطیؒ کی ہے۔ جو انہوں نے خلیفہ توکل علی اللہ کے لیے تالیف کی اس میں علامہ سیوطیؒ نے قرآن مجید میں استعمال ہونے والے ایسے الفاظ کا تذکرہ کیا ہے جن کا تعلق غیر عربی لغات سے ہے۔

اس کتاب میں بھی علامہ سیوطیؒ نے ابن جوزیؒ کی کتاب فنون الافنان سے استفادہ کیا مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں:

وفی فنون الافنان لابن الجوزی قال {الا رئک} (۵۸) السرر بالحبشیۃ (۵۹)

مختصر یہ کہ فنون الافنان کو یہ شرف حاصل ہے بلا واسطہ نہ سہی بالواسطہ علوم القرآن پر لکھی گئی ان تمام کتب کی ماخذ ہے۔ جنہوں نے متعلقہ مباحث میں خصوصاً قرآن کی سورتوں، آیات ،حروف اور کلمات کی تعداد ’’اور قرآن میں استعمال ہونے والی لغات‘‘ کے بارے میں الاتقان سے استفادہ کیا۔

فنون الافنان کی جدت طرازی

فنون الافنان سے پہلے علوم القرآن کے عنوان سے ملنے والی صرف ایک کتاب التنبیہ علی فضل علوم القرآن ہے۔ جو چند صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں علوم القرآن کے دو مباحث نزول قرآن اور مخاطبات قرآن کا بیان ہے۔ لہذا فنون الافنان میں ’’مکی اور مدنی سورتوں کا بیان‘‘ واحد بحث ہے جس کا تذکرہ التنبیہ میں موجود ہے۔ لہٰذا اس حوالے سے فنون الافنان کے سارے مباحث پہلے کسی کتاب میں یکجا نہیں ملتے۔ یہاں اس کی مزید وضاحت چند نکات میں درج ذیل ہے۔

الف۔ فنون الافنان سے پہلے علوم القرآن کے عنوان سے جتنی کتب کا تذکرہ ملتا ہے ان میں سے سوائے التنبیہ کے تمام کتب تفاسیر ہیں۔ علوم القرآن کے عنوان سے جس کتاب کا سب سے پہلے ذکر ملتا ہے وہ محمد بن خلف مرزبان (م ۳۰۹ھ/ ۹۲۱ء) کی کتاب الحاوی فی علوم القرآن ہے۔ یہ کتاب مفقود ہے البتہ علامہ دائودی نے اس کتاب کے متعلق لکھا ہے کہ اس کے ستائیس اجزاء تھے  (۶۰)۔

الحاوی فی علوم القرآن کے بعد اور فنون الافنان سے پہلے علوم القرآن کے عنوان سے ملنے والی کتب کے بارے میں جس طرح یہ معلومات ملتی ہیں کہ اصل میں وہ کتب تفاسیر تھیں، کتاب الحاوی کے متعلق کوئی معلومات نہیں ملتیں البتہ اس کتاب کے بارے میں بھی غالب گمان یہی ہے کہ یہ تفسیر کی کتاب ہو گی ۔ بعض ماہرین علوم القرآن نے الحاوی کے بعد عجائب علوم القرآن کا تذکرہ کیا ہے حالانکہ اس کتاب کو غلطی سے محمد بن قاسم انباری (م ۳۲۸ھ/ ۹۳۹ء) کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔ اصل میں یہ کتاب ابن جوزی کی ہے(۶۱)۔  ان کتب کے علاوہ علی بن اسماعیل، ابو موسیٰ اشعریؓ (م ۳۳۴ھ/ ۹۴۵ء) (۶۲) کی تالیف المختزن فی علوم القرآن اور محمد بن اذفوی     (م ۳۳۸ھ/ ۹۴۹ء) (۶۳) کی الاستغناء فی علوم القرآن ہے لیکن یہ دونوں کتابیں اصل میں قرآن مجید کی تفاسیر تھیں  (۶۴)۔

مذکورہ بالا کتب کا جائزہ لینے پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فنون الافنان ، علوم القرآن کے عنوان سے ملنے والی پہلی جامع کتاب ہے ۔ جس میں علوم القرآن کی بارہ اہم مباحث کو شامل کیا گیا ہے۔

ب۔  اس کتاب کی ایک منفرد بات یہ ہے کہ علوم القرآن پر لکھی گئی مستقل کتب میں سے یہ واحد کتاب ہے جس میں ایک کلامی بحث خلق قرآن کو شامل کیا گیا۔

ج۔        سبعہ احرف علوم القرآن کی اہم بحث ہے۔ فنون الافنان کی اس بحث کے حوالے سے یہ انفرادیت ہے کہ اس میں پہلی مرتبہ سبعہ احرف سے متعلق ابن حبان کے ذکر کردہ پینتیس اقوال میں سے چودہ اقوال کو متعارف کروایا گیا۔ ابن جوزیؒ سے پہلے ابو عبید،ابن قتیبہ،ابن جریر، مؤلف کتاب المبانی اور ابن عطیہ وغیرہ نے اپنی اپنی کتب میں سبعہ احرف پر نزول قرآن سے بحث کی ہے۔ تاہم مذکورہ کتب میں سے کسی میں بھی اتنے اقوال نقل نہیں کیے گئے جتنے ابن جوزیؒ نے ذکر کیے ہیں۔

د۔        فنون الافنان میں پہلی مرتبہ علوم القرآن کے مفصل مباحث کو موثر انداز میں اختصار کے ساتھ سمیٹا گیا ہے جیسے کتابت مصحف اور اس کا رسم، وقف و ابتداء اور قرآن مجید کی سورتوں، آیات ،کلمات اور حروف و نقاط کی تعداد وغیرہ۔

خلاصہ بحث

علوم القرآن ایک عظیم الشان اور نہایت وسیع علم ہے اس موضوع پر کثیر التعداد کتب تالیف کی گئیں ابتدائی ادوار میں علوم القرآن کی مختلف انواع پر کتب تالیف کیے جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہاں تک کہ چھٹی صدی ہجری میں ابن جوزیؒ نے علوم القرآن پر مستقل کتاب تالیف کی جس کا نام فنون الافنان فی عیون علوم القرآن  رکھا۔ علوم القرآن کے عنوان سے ملنے والی یہ پہلی جامع کتاب ہے۔

ابن جوزیؒ نے کتاب فنون الافنان کی تیاری میں علوم القرآن کی مختلف انواع پر لکھی گئی اہم اور بنیادی کتب سے استفادہ کیا جن میں خاص طور پر ابن جریر کی تفسیرجامع البیان عن تاویل ای القرآن ،ابن انباری کی ایضاح الوقف والابتداء اور کتاب مرسوم الخط اور جوالیقی کی کتاب المعرب وغیرہ شامل ہیں۔

کتاب میں علوم القرآن کے بارہ مباحث کا بیان ہے۔ ان مباحث کو مختلف فصول میں تقسیم کر کے اور کہیں بغیر فصول کے بیان کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر جہاں کہیں اختلافی اقوال ہیں وہاں ان کے دلائل کے بیان سے گریز کرتے ہوئے راجح قول کی نشاندہی کا اہتمام کر دیا گیا ہے۔

فنون الافنان کی نمایاں خوبی اس کا سادہ اُسلوب ہے کتاب میں کہیں مغلق الفاظ اور پیچیدہ تراکیب استعمال نہیں کی گئیں کتاب میں نہ تو غیر ضروری اقوال نقل کیے گئے اور نہ ہی اس میں بے جا تکرار پائی جاتی ہے بلکہ تمام مباحث میں معلومات اور مواد کو حسن ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میںاگرچہ احادیث کم بیان کی گئی ہیں تاہم ان کو نقل کرنے میں احتیاط برتی گئی ۔

فنون الافنان میں بیان کئے گئے مباحث میں سے سبعہ احرف پر قرآنِ مجید کا نزول، کتابت مصحف اور اس کا رسم اور قرآن مجید کی سورتوں،آیات، کلمات ،حروف کی تعداد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

 

حوالے و حواشی

 ۱۔          دائودی،   طبقات المفسرین،  بیروت دارلکتب العلمیہ،۲۰۰۱ء، ص ۱۰۲

۲۔         آپ کا نام عبدالرحمن بن علی کنیت ابو الفرج اور لقب جمال الدین ہے۔ ابن جوزیؒ کے نام سے معروف ہیں۔ آپ مسلکاً حنبلی تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت ابو بکر صدیقؓ سے جا ملتا ہے۔ابن جوزیؒ اپنی غیر معمولی ذہانت، علمی قابلیت اور پر اثر وعظ کہنے کی وجہ سے اپنے ہم عصروں میں ممتاز تھے۔ آپ کو بہت سے علوم و فنون میں مہارت حاصل تھی جیسے تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، لغت اور بلاغت وغیرہ ۔ صاحب علم و فن ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ محاسن سیرت اور بہترین اخلاقی اوصاف کامجموعہ تھے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے: ابن اثیر، الکامل ، ۱۰؍۱۸۱؛ ابن خلکان، وفیات الاعیان،۳؍۱۴۰؛ ابن رجب، الذیل علی طبقات الحنابلہ ، ۳؍۳۳۶؛  ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ ۱۳؍۲۸؛ ابو شامہ المقدسی، الذیل علی الروضتین ۳؍۳۳؛  الادفوی ،طبقات المفسرین ، ص ۲۰۸ )

۳۔       ابن جوزی، فنون الافنان فی عیون علوم القرآن،بیروت داربشائر الاسلامیہ، ۱۹۸۷ء، ص ۱۴۱

۴۔        زرکشی، البرہان فی علوم القرآن،بیروت دارالکتب العلمیہ، ۲۰۰۱ء،  ۱؍۳۰

۵۔        سیوطی، الاتقان فی علوم القرآن، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۹۹۹ء، ۱/ ۴۰

ٰٰ۶۔       ماخوذ طبقات المفسرین، ص ۳۷۴- ۳۷۹  

۷۔       ایضاً، ص ۳۷۷                                  ۸۔        ایضاً، ص ۲۵۲-۲۵۴

۹۔       یہ کتاب دو جلدوں میں دمشق سے ۱۹۷۱ء میں شائع ہوئی۔

۱۰۔       تفصیل کے لیے دیکھئے :  ایضاح الوقف والابتداء ، ۱؍۱۱۶۔۱۵۰ ،  ۲۴۶۔۲۵۰، ۲۷۸۔۲۸۵

۱۱۔       یہ کتاب بھی ابن انباری کی ہے جو امتیاز علی عرشی کی تحقیق سے دہلی سے ۱۹۷۷ء میں شائع ہوئی۔

۱۲۔       الفاتحہ،  ۱:۴

۱۳۔      ابن انباری، کتاب مرسوم الخط، دہلی، المعھد الہندی للدراسات الاسلامیہ، ۱۹۷۷ء، ص ۱

۱۴ ۔     المنتظم فی تاریخ الملوک والامم، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۹۹۲ء، ۱؍۴۶، ۴۷؛  زرکلی، الاعلام، ۷؍۱۳۵

ٍِّ۱۵۔       یہ کتاب ۱۹۶۶ء میں احمد شاکر کی تحقیق سے طہران سے شائع ہو چکی ہے۔

۱۶۔       المنتظم ، ۱۴؍۶۴                                  ۱۷۔      ایضاً ،۱۴؍۶۵،۶۶

۱۸۔      ماخوذ فنون الافنان، ص ۱۴۰،۱۴۱           ۱۹۔       ایضاً ، ص ۱۶۶

۲۰۔      ایضاً،ص ۱۹۸                                               ۲۱۔       ایضاً ،ص ۲۰۰      

۲۲ ۔  ایضاً ، ص ۲۱۴                                        ۲۳۔  ایضاً ، ص ۱۸ ۲

۲۴۔      ایضاً ، ص  ۲۰۶

۲۵۔   ابن جوزی، غریب الحدیث ، بیروت دارالکتب العلمیہ، ۲۰۰۳ء،۱؍۲۰۵،۲۰۶

۲۶۔   الاتقان ، ۱؍۱۷۷                              ۲۷۔  فنون الافنان،  ۲۱۶

 ۲۸۔   ایضاً ،ص  ۲۱۷                             ۲۹۔      ایضاً ،ص۲۲ ۲

۳۰۔   ایضاً ،ص ۲۴ ۲                                                 ۳۱۔      ایضاً ،ص ۲۳۳، ۲۳۴

۳۲۔     ایضاً،ص ۲۴۱،۲۴۲                                ۳۳۔     فنون الافنان، ص ۲۴۳

۳۴۔     ایضاً، ص ۲۴۵                                             ۳۵۔     ایضاً ،ص ۲۴۶

۳۶۔     ایضاً ، ص ۳۲۷                                  ۳۷۔     ایضاً ، ص ۳۲۷

۳۸۔     ایضاً ، ص ۳۲۷                                  ۳۹۔     ایضاً ،ص ۳۳۵

۴۰۔      فنون الافنان ، ص ۳۴۱،۳۴۲             ۴۱۔      ایضاً ، ص ۳۴۳،۳۴۴

۴۲۔      نحاس،القطع والائتناف، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۲۰۰۲ء،ص ۲۷،۲۸؛دانی، المکتفی فی الوقف والابتداء، بیروت، موسسۃ رسالۃ، ۱۹۸۴، ص ۱۳۴،۱۳۵

 ۴۳۔  علم تفسیر اور محکم و متشابہ کی وضاحت آپ نے اپنی تفسیر زاد المسیر میں کی ہے جبکہ منسوخ آیات کے حوالے سے آپ کا موقف یہ ہے کہ قرآن مجید کی کل بائیس آیات منسوخ ہیں جس کی وضاحت آپ کی تینوں کتب  نواسخ القرآن اور المصفی اور زاد المسیر کی روشنی میں ہوتی ہے۔

۴۴۔     فنون الافنان، ص ۴۸۱                             ۴۵۔     النحل ، ۱۶:۱۲۱

 ۴۶۔     الحج ، ۲۲: ۵۴                                   ۴۷۔     فنون الافنان ،ص ۳۳۰

۴۸۔     ایضاً ، ص ۳۳۵                                  ۴۹۔      ایضاً، ص ۲۰۰

۵۰۔      الاتقان ، ۱؍۵۱                                    ۵۱۔      ایضاً ،۱؍۲۴۳

۵۲۔      الکہف ، ۱۸:۳۱                                   ۵۳۔الاتقان ،۱؍۴۲۸

۵۴۔     الزخرف، ۴۳:۷۱                                 ۵۵۔      الاتقان، ۱؍۴۲۸

۵۶۔      الزخرف ، ۴۳:۵۷                               ۵۷۔     الاتقان،  ۱؍۴۳۸

۵۸۔     الکہف،  ۱۸:۳۱                                   ۵۹۔      المتوکلی،ص ۶

۶۰۔      طبقات المفسرین، ص ۳۹۷

۶۱۔       حقیقت میں یہ کتاب ابن جوزیؒ کی ہے۔ علامہ فھد رومی نے اپنی کتاب کے حاشیہ میں اس بات کی صراحت کی ہے یہ تالیف ابو بکر انباری کی نہیں بلکہ ابن جوزیؒ کی فنون الافنان فی عجائب علوم القرآن ہے۔ یہ شبہ اسی وجہ سے پیدا ہوا کہ اسکندریہ کے کتب خانہ بلدیہ میں غلطی سے اس کے مؤلف کا نام ابو بکر انباری لکھ دیا گیا۔

۶۲۔      طبقات المفسرین، ص  ۲۷۲

۶۳۔      ایضاً، ص  ۴۳۲                                  ۶۴ ۔     ایضاً، ص  ۲۷۲، ۴۳۲