ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار
پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

یاد رفتگان ۔۔۔ حافظ احمد یارؒ
پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد صدیقی  ؒ

شعبہ علومِ اسلامیہ میں حافظ احمد یار مرحوم کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ انہوں نے ایم۔اے علومِ اسلامیہ اور ایم۔اے عربی میں امتیازات حاصل کئے تھے انہیں یہ امتیاز بھی حاصل تھا کہ وہ علم کے ساتھ ساتھ جسم کے اعتبار سے بھی امتیاز ی حیثیت کے حامل تھے۔ اور انہیں دیکھتے ہی بسطۃ فی العلم والجسم کی آیت بے ساختہ زبان پر آ جاتی۔

حافظ احمد یار مرحوم ایک فاضل، محقق، محنتی ، شگفتہ مزاج، کھلے دل و دماغ سے کام لینے والے اور ہمیشہ ہشاش بشاش رہنے والے انسان تھے۔ جس مجلس میں گفتگو فرماتے تو وہ مجلس زعفران زار ہو جاتی۔ بعض دفعہ تو ان کی گفتگو اتنی فری سٹائل ہو جاتی تو ’یزدان بکمند آور اے ہمت مردانہ‘ شعر ذہن میں گھوم جاتا۔

مرحوم کی کتب سے وابستگی مشہور تھی جب ماہانہ تنخواہ ملتی تو تن کے تقاضوں کو نظر انداز کرتے ذہن و قلب کو ترجیح دیتے ہوئے کتب خانوں کی طرف رجوع فرماتے۔ چونکہ مکتبہ علمیہ لیک روڈ سے ان کے ذوق کی اکثر کتب میسر آ جاتیں تو بیشتر وہیں کا رُخ اختیار کرتے۔ ان کے ذوق مطالعہ کے نتیجے میں ان کی کتب گھر کے اکثر حصے کو گھیرے ہوتیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے تمام کتب کو یکجا کر کے ایک بڑے کمرے میں سجا لیا تھا اور اپنی چارپائی بھی وہیں بچھالی تھی جہاں وہ استراحت فرماتے۔ کہنے کو تو یہ چارپائی تھی وگرنہ اپنے حجم کے اعتبار سے اسے ’’آٹھ پائی‘‘ کا نام بھی دیا جا سکتا تھا۔ چارپائی کا ایک قابل ذکر کردار یہ بھی تھا کہ حافظ صاحب کے ذہنی اُفق سے قریبی کتابوں کو بھی شب و روز ان سے قریب رکھتی تھی۔

مرحوم کو نادر کتابوں کے جمع کرنے کا بھی بڑا شوق تھا اس حوالے سے مولانا شمس الدین (مسلم مسجد انار کلی) کے ہاں بھی چکر لگاتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ راقم الحروف نے ایک نادر کتاب چند روز کیلئے عاریتاً مانگی تو ہر روز خوبصورت وعدہ فرماتے اور اگلے روز مجھے دیکھتے ہی بڑی خوبصورتی سے قہقہہ لگا کر بھول آنے کا اظہار فر ما دیتے۔ میں نے چند روز کے بعد کہا کہ ’’حافظ صاحب! براہ کرام اسے اپنی ڈائری میں نوٹ کر لیجئے‘‘ ایک قہقہہ لگایا اور فرمانے لگے ’’بسر و چشم! لیکن یہ کون یاد کرائے گا کہ آج ڈائری بھی دیکھنی ہے‘‘ بہرکیف ایک روز از خود انہیں یاد رہا اور وہ کتاب لیتے آئے۔ راقم الحروف نے چند روز استفادہ کے بعد شکریہ کے ساتھ انہیں واپس لوٹا دی۔ مرحوم نے اپنے ایک باذوق دوست کا خط مجھے دکھایا جنہوں نے حافظ صاحب کو صاحب الانعام و الحشرات کے لقب سے مخاطب کیا تھا واقعی بڑا موزوں لقب تھا۔ حافظ صاحب ہمیشہ تازہ دودھ کے حصول کیلئے بھینس رکھنے اور تازہ انڈوں اور گوشت کے حصول کیلئے مرغیوں کو پالنے کا اہتمام فرماتے تھے۔ ایک روز ان کے دولت کدہ پر جانے کا اتفاق ہوا تو انہوں نے ایک خاص آواز نکالی اور میرے تعجب کی انتہا نہ رہی جب کہ ہر سو سے مرغیاں حافظ صاحب کی آواز سن کر اپنا رُخ ان کی طرف کرتے ہوئے ہمہ تن گوش ہو کر اپنے آقا کا آئندہ حکم سننے کیلئے جمع ہو گئیں۔

مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ کسی نے بھینس کے حسن کو دیکھنا ہو تو احمد یار کی آنکھ سے دیکھے۔

ایک دفعہ انہوں نے سَو سَو کے پانچ نوٹ جیب میں ڈالے تھوڑی دیر کے بعد دیکھا تو جیب میں نہیں تھے اِ دھر اُدھر تلاش کرنے لگے تو انہیں جیب کے نیچے اپنے ’’شِکم پُرلحم‘‘ پر موجود پایا۔ حسبِ معمول ایک قہقہہ لگایا اور فرمانے لگے کہ ’’آج پیٹ کا بڑا ہونا کام آ گیا ہے‘‘۔

حافظ صاحب بڑے باہمت اور پُرعزم تھے۔علامہ صاحب مرحوم جب وائس چانسلر کے منصب پر فائز ہوئے تو انہوں نے تقابلِ ادیان کی تدریس ، ایک سیکشن کی حافظ صاحب کے ذمہ لگائی اور دوسرے سیکشن میں مضمون کی تدریس میرے سپرد فرمائی۔ کچھ عرصے کے بعد حافظ صاحب نے قہقہہ کی گونج میں مجھے یہ بتایا کہ جین دھرم اور بدھ دھرم کی تدریس کے دوران کئی ماہ وہ چارپائی پر نہیں سوئے اور ریاضت کا تجربہ کرتے رہے۔ تاہم انہوں نے تقابلِ ادیان کی تدریس سے کنارہ کش ہو کر خود کو قرآن مجید اور عربی ادب کے اعلیٰ مضامین کیلئے وقف فرما دیا۔

قرآنِ حکیم سے ان کی شغف کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے اپنے سب بیٹے اور بیٹیوں کے نام قرآنِ حکیم میں مذکور خوشگوار معانی کے حامل الفاظ کے حوالے سے رکھے ۔

مرحوم طلبہ کو بڑی محنت اور لگن سے پڑھاتے۔ طلبہ سے شفقت اور رفقاء اور احباب کے ساتھ نہایت اخلاص سے پیش آتے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جب کبھی ان کے دولت کدہ پر اُن سے ملاقات کا اتفاق ہوا تو ان کی آرزو ہوتی کہ مجلس دیر تک قائم رہے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔