ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار
پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

مصاحف عثمانیہ :تعداداور اسبابِ اختلاف روایات کاتحقیقی جائزہ

ڈاکٹر محمد سمیع اللہفراز

          عہدِ نبوی کے بعد عہدِ صدیقی اور عہدِ عثمانی میں قرآن کریم کے جمع وکتابت کی ابحاث میں مصاحفِ عثمانیہ کی تعداد اور امصار کی تعیین ایک بنیادی مسئلہ ہے جس کی بحث و تحقیق میں علماء و مورخین کے ہاں مختلف اقوال و آراء پائی جاتی ہیں۔ تعدادِ مصاحف اور مُرسل اِلیہا مقامات کی تعیین میں کسی حتمی قول کے عدمِ وجود کا سب سے بنیادی سبب ، تعداد اور مقامات کے بارے میں روایات کا اختلاف ہے کیونکہ جمعِ عثمانی کے ضمن میں مروی روایات میں کسی مقام کی تعیین کی بجائے ’بعث عثمان إلی کل افق‘(۱)، یا’إلی کل جند من أجناد المسلمین‘(۲)،یا ’بعث بھا إلی الآفاق‘(۳)، یا’فرّقھا فی الناس‘(۴)یا’قسمھا فی الأمصار‘(۵)وغیرہ کے الفاظ ملتے ہیں۔

          مصاحف ِ عثمانیہ کی تعداد اور مقامات کی تعیین پراوّلین مصدر، جمعِ عثمانی کی روایات ہیں لیکن ان میں مصاحف کی مخصوص تعداد اور مُرسل الیہا مقامات کی واضح نشاندہی ملنا مشکل ہے۔یہی وجہ ہے کہ ابن ندیمؒ(م ۳۸۴ھ) نے بھی اس بحث کوکسی محاکمہ کے بغیر ذکر کیاہے(۶)۔ اسی طرح ابن الاثیرؒ نے بھی ابو الفداء ابن کثیرؒ اور علامہ ابن خلدونؒ کی طرح اس بحث کو کسی فیصلہ کے بغیر نقل کیا ہے(۷)۔

          ذیل میں تعدادِ مصاحف کے متعلق مروی روایات کو ذکر نے کے بعد ان میں راجح قول کی وجوہ ِ ترجیح ذکر کی جاتی ہیں۔

مصاحفِ عثمانیہ ،چار ہونے کا مؤقف

          قر ّائِ سبعہ میں سے قارئِ کوفہ ،حمزہ الزیاتؒ (م۱۵۶ھ) کا موقف یہ ہے کہ مصاحفِ عثمانیہ کی تعداد چار تھی، کیونکہ حمزہ ؒنے مصاحفِ عثمانیہ میں سے کوفہ کی طرف روانہ کیے گئے مصحف سے دیکھ کر اپنا مصحف لکھا تھا:

حدثنی قبیصۃ بن عقبۃ قال: سمعت حمزۃ الزیات یقول:أنہ کتب مصحفہ الخاص بہ نقلا عن النسخۃ الرسمیۃ التی أرسلھا عثمان إلی الکوفۃ والتی کانت إحدی أربع نسخ أمر بکتابتھا (۸)

          لیکن حمزہؒ نے اِن چار مصاحفِ عثمانیہ میں سے باقی تین کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کہاںبھیجے گئے؟ لیکن اس کمی کو علامہ دانی  ؒنے اِن الفاظ میں دور کیا ہے:

اکثر العلماء علی أن عثمن بن عفان رضی اﷲ عنہ لما کتب المصحف جعلہ علی أربع نسخ وبعث إلی کل ناحیۃ من النواحی بواحدۃ منہن، فوجّہ إلی الکوفۃإحداھن، وإلی البصرۃ أخری، وإلی الشام ثالثۃ وأمسک عند نفسہ واحدۃ(۹)

          یعنی اکثر علماء کا خیال ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مصحف کے چار نسخے تیار کروائے اور اطراف میں سے ایک کوفہ ،دوسرا بصرہ، تیسرا شام اور چوتھانسخہ اپنے پاس رکھا۔

          عبد اللہ خورشید، مؤرخ ابن بشکول الاندلسی ؒ(م ۵۷۸ھ) کے حوالے سے جامع مسجد قرطبہ کے نسخہ کے متعلق بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

أن ھذہ المصحف ھو أحد المصاحف الأربعۃ التی بعث بہا عثمان إلی الأمصار: مکۃ، والبصرۃ، والکوفۃ، والشام (۱۰)

          علامہ قرطبیؒ(م ۶۷۱ھ) نے بھی چار مصاحف والے قول کو نقل کیا ہے(۱۱)عصرِ حاضر میں مستشرقین میں سے بوہل(Buhl) (۱۲)اور بروکلمان(۱۳) کی رائے بھی یہی ہے۔علامہ دانی  ؒنے بھی مصاحف عثمانیہ کی تحدید چار تک کرتے ہوئے کہا کہ یہی قول صحیح ہے(۱۴)۔لیکن علامہ دانی  ؒاپنی تصنیف کی بنیاد چار کی بجائے پانچ مصاحف پر رکھنے کا اظہار بھی کرتے ہیں۔(۱۵)

مصاحفِ عثمانیہ ،پانچ ہونے کامؤقف

          علامہ ابن جبیر المکی ؒکے مذہب پر بنیاد رکھتے ہوئے علامہ ابن حجر العسقلانی  ؒنے مصاحف کی تعداد پانچ ہونے کی رائے کو منتخب کیا ہے۔ یہ مصاحف .1مدینہ،.2مکہ، .3شام ،.4بصرہ اور.5کوفہ    کی طرف روانہ کیے گئے؛

ابن مجاھد صنف کتابا فی القراء ات فاقتصر علی خمسۃ اختار من کل مصر إماما۔ وإنما اقتصر علی ذلک لأن المصاحف التی ارسلھا عثمان کانت خمسۃ إلی ھذہ الأمصار…الخ (۱۶)

          ابن حجرؒ کے مذکورہ قول کی بنیاد پر علامہ سیوطیؒ اور علامہ قسطلانی  ؒنے بھی یہی رائے قائم کی ہے کہ مصاحف ِعثمانیہ کی تعدا د پانچ تھی(۱۷)۔عبد الوہاب حمّودہ نے علامہ ابن الجزریؒ کے حوالے سے مصاحف ِخمسۃ کی رائے کو مشہور قرار دیا ہے:

واختلفوا فی عدۃ ھذہ المصاحف، والمشہور أنہا خمسۃ؛ فأرسل إلی مکۃ، وإلی الشام، وإلی البصرۃ، وإلی الکوفۃ، وحبس بالمدینۃ واحداً(۱۸)

           عبد الہادی الفضليؒنے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے وہ القراء ات القرآنیہ میں رقمطراز ہیں:

وقد اختلف فی عدد المصاحف التی کتبھا عثمان ، والمشہور أنہا خمسۃ … کما عزاہ السیوطی إلی السخاوی(۱۹)

مصاحفِ عثمانیہ، چھ ہونے کامؤقف

          ابن القاصح  ؒ،  تلخیص الفوائد میں رقمطراز ہیں:

وقال صاحب زاد القراء: لما جمع عثمان رضی اﷲ عنہ القرآن فی مصحف سماہ (الإمام) نسخ منہ المصاحف فأنفذ منھا مصحفاً إلی مکۃ ومصحفاً إلی الکوفۃ، ومصحفاً إلی البصرۃ، ومصحفاً إلی الشام، وأمسک مصحفاً بالمدینۃ(۲۰)

          جرجی زیدان نے بھی علامہ ابن حجر ؒکی رائے سے اتفاق کیا ہے لیکن اس میں صرف اس قدر اضافہ کیا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک مصحف اپنے لیے مخصوص فرمایا تھا جس کی بنیاد پر مصاحف کی تعداد چھ تک پہنج جاتی ہے ۔

          … مصحفا سادسا احتفظ بہ عثمان لنفسہ وھو الذی یسمونہ (الإمام)(۲۱)

          علامہ زاہد الکوثری ؒ(م۱۳۷۱ھ)، اپنے مقالات میں اسی رائے کی طرف مائل نظر آتے ہیں کیونکہ انہوں نے بھی مصاحف ِعثمانیہ کو چھ شمار کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

وقد استمر عمل الجماعۃ فی نسخ المصاحف مدۃ خمس سنین، من سنۃ خمس وعشرین إلی سنۃ ثلاثین فی التحقیق، ثم أرسلوا المصاحف المکتوبۃ إلی الأمصار، وقد احتفظ عثمان بمصحف منہا لأھل المدینۃ، وبمصحف لنفسہ، غیر ما أرسل إلی مکۃ والشام والکوفۃ والبصرۃ (۲۲)

          یعنی مصاحف ِعثمانیہ کی کتابت میں جماعت ِصحابہثنے تقریباً پانچ برس اپنی کاوشیں صَرف کیں،محقق قول کے مطابق مصاحف کی تیاری ۲۵ ہجری سے ۳۰ہجری میں مکمل ہو گئی تھی(۲۳)۔پھر مصاحف ِمذکورہ مختلف امصار کی طرف روانہ کیے گئے،جن میں سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک اہلِ مدینہ ، دوسرا ذاتی استعمال کیلئے، تیسرامکہ، چوتھا شام، پانچواں کوفہ اور چھٹا اہلِ بصرہ کی طرف ارسال فرمایا۔

          علامہ زرقانی  ؒنے بھی مصاحف کی تعداد چھ ہونے کا قول نقل کیا ہے:

قال صاحب زاد القراء: لما جمع عثمان القرآن فی مصحف سماہ الإمام ونسخ منہ مصاحف فأنفذ منہا مصحفا إلی مکۃ، ومصحفا إلی الکوفۃ، ومصحفا إلی البصرۃ، ومصحفا إلی الشام، وحبس بالمدینۃ(۲۴)

          مجمع الملک فہد لطباعۃ المصحف الشریف المدینۃ المنورۃ نے 1417ہجری میں عثمان طٰہٰ خطاط کے ہاتھ کا لکھا ہوا مصحف ، وزارۃ الشئون الاسلامیۃ کی وساطت سے مصحف المدینۃ النبویۃ شائع کیا ۔ اس مصحف اور علاماتِ ضبط کے تعارف،جو کہ مصحف کے آخر میں بطور تتمہ شامل ہے، میں لکھا ہے:

واُخذ ھجاؤہ مما رواہ علماء الرسم عن المصاحف التی بعث بہا الخلیفۃ الراشد عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ إلی البصرۃ والکوفۃ والشام ومکۃ ، والمصحف الذی جعلہ لأھل المدینۃ، والمصحف الذی اختص بہ نفسہ(۲۵)

          متأخرین میں سے مولانا محمد حنیف ندوی ؒنے بھی مصاحف کی تعداد چھ ذکر کی ہے۔(۲۶)

مصاحفِ عثمانیہ، سات ہونے کامؤقف

          حمزۃ الزیات ؒسے ایک صدی بعد جبکہ علامہ دانی  ؒ(م۴۴۴ھ)سے دو صدیاں قبل ہمیں ایک اور شخصیت کی رائے معلوم ہوتی ہے جس کے مطابق مصاحف ِعثمانیہ سات تھے۔ ابو حاتم السجستانی  ؒ(م۲۵۰ھ) ، امام اصمعی ؒ کے مشہور شاگرد تھے۔ مصاحفِ عثمانیہ کی تعداد کے بارے میں ان کا قول حسب ِذیل ہے:

حدثنا عبد اﷲ قال: سمعت أبا حاتم السجستانی قال: لما کتب عثمان المصاحف حین جمع القرآن کتب سبعۃ مصاحف، فبعث واحدا إلی مکۃ، وآخر إلی الشام، وآخر إلی الیمن، وآخر إلی البحرین، وآخر إلی البصرۃ، وآخر إلی الکوفۃ، وحبس بالمدینۃ واحداً (۲۷)

          یعنی ابو حاتم السجستانی ؒکا قول ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سات مصاحف لکھوائے جن میں سے .1مکہ،.2شام، .3یمن، .4بحرین، .5بصرہ، .6کوفہ بھیجے اور .7 ایک نسخہ مدینہ میں رکھ لیا۔

          ابن کثیر الدمشقیؒ(م ۷۷۴ھ) بھی ابو حاتم ؒکے قول سے مطمئن نظر آتے ہیںکیونکہ انہوں نے بھی بعینہٖ انہی مقامات کا ذکر کیا ہے(۲۸) ۔ یہی وجہ ہے کہ امام رافعیؒ نے اسی کو قولِ مشہور قرار دیا ہے(۲۹)۔علامہ شمس الحق افغانی  ؒنے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے(۳۰)۔الدکتور محمدرمضان البوطیؒ لکھتے ہیں:

إلا أن الباحثین اختلفوا فی عدد المصاحف التی استنسخہا، والراجح الذی علیہ اکثرھم أنہا سبعۃ مصاحف، استبقی واحدا منہا عندہ وھو الذی سمي بالمصحف الإمام ووزع سائرھا علی الکوفۃوالبصرۃ والشام والیمن ومکۃ والبحرین(۳۱)

          لیکن علامہ جعبری اور سیوطیؒ کے قول کے مطابق ’لم یسمع لمصحفي الیمن والبحرین خبر‘ ۔(۳۲)یعنی یمن اور بحرین کے مصاحف کے بارے میں کوئی خبر نہیں سنی گئی۔

مصاحفِ عثمانیہ، آٹھ ہونے کامؤقف

          علامہ ابن الجزریؒ(م۸۳۳ھ) نے مصاحفِ عثمانیہ کو آٹھ شمار کیا ہے۔ علامہ ابن الجزریؒ کی رائے دراصل ابوحاتم السجستانی  ؒکے قول پر مبنی ہے لیکن اس میں اُس ایک مصحف کا اضافہ کیا گیا ہے جس کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ،مصحفِ مدنی کے علاوہ ،ذاتی استعمال کیلئے مخصوص فرمایاتھا۔

المصحف الإمام الذی احتجزہ الخلیفۃ لإستعمالہ الشخصی، وھو غیر المصحف الذی استبقی فی (المدینۃ) عاصمۃ الخلافۃ للإستعمال العام(۳۳)

          لیکن علامہ ابن الجزری ؒنے،جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، پانچ مصاحف کی رائے کو بھی مشہور قرار دیا ہے۔

مصاحفِ عثمانیہ، نو ہونے کامؤقف

          مذکورہ بالا سب اقوال سے مختلف ایک اور قول ہمارے سامنے آتا ہے جس کے مطابق حضرت عثمان صکے تیار کروائے گئے مصاحف کی تعداد نو(۹) تھی۔ یہ رائے مؤرخ الیعقوبیؒ (م۲۸۴ھ)کی ہے ۔ علامہ یعقوبی ؒنے ابو حاتم کے ذکر کردہ سات مصاحف کے علاوہ مزیددو(۲) مصاحف کا ذکر کیا ہے جن میں سے ایک’ مصر‘جبکہ دوسرا ’الجزیرۃ‘ کی طرف روانہ کیا گیا(۳۴)۔

          لیکن دکتور عبد اللہ خورشید البری ،علامہ یعقوبی کی رائے پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیںکیونکہ ان کے نزدیک  ’مصر‘میں کسی مصحف کا وجود متحقق نہیں ،اور بعض علماء نے وہم کی بنیاد پرلفظ ِمصر سے ملک ِمصرمراد لیا ہے۔ شاید یہ مغالطہ عبارت کی وجہ سے یا پھر نقل کی وجہ سے ہوا ہے۔ لکھتے ہیں:

لا نستطیع قبول أخبارہ فی ھذا الموضوع ومن بینہا إرسال مصحف إلی مصر وآخر إلی الجزیرۃ بالإضافۃ إلی الجہات السبع التی یقول بہا ابو حاتم…طرأ علی العبارات التی تذکر أن عثمان لما کتب مصحفہ أرسل منہ نسخۃ إلی کل (مصر)من الأمصار (۳۵)

 

راجح قول

          راقم الحروف کی تحقیق کے مطابق مصاحف ِعثمانیہ کو تعدادکے لحاظ سے چھ (۶) قرار دینا اقرب الی الصواب ہے کیونکہ روایات کی ایک بڑی تعداد اسی کی شاہد ہے۔ مصاحف ِعثمانیہ کی تعداد چھ قرار دینے کی مندرجہ ذیل وجوہ ہیں:

وجہِ اوّل…مصاحف کے ساتھ بھیجے جانیوالے قر ّاء کی تعداد

          مصاحف ِعثمانیہ کی تعداد چھ قرار دینے کی پہلی اور سب سے بنیادی وجہ اُن قر ّاء صحابہث کی تعداد ہے جن کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مصاحف کے ساتھ مراکزِ خمسہ کی طرف روانہ فرمایا ۔ روایات کے مطابق اِن قر ّاء کی تعداد پانچ تھی ۔ذیل میں ان قر ّاء کے اسماء پیش خدمت ہیں:

۱۔

حضرت عبد اللہ بن سائب المخزومی (م ۷۰ھ) ص

مکہ معظمہ کے مصحف کے ساتھ بھیجے گئے۔

۲۔

حضرت ابو عبد الرحمن السُلّمی (م ۴۷ھ)ص

کوفہ کی طرف روانہ کیے گئے۔ ان سے قبل خلیفہ دوم امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود ص کو کوفہ کی طرف بھیجا تھا ۔

۳۔

حضرت عامر بن عبد قیس (م۵۵ھ تقریباً)ص

بصرہ کی طرف روانہ کیے گئے۔

۴۔

حضرت مغیرۃ بن ابی شہاب المخزومیص

شام کی طرف بھیجے گئے۔

۵۔

حضرت زید بن ثابت(م ۴۵ھ)ص

مدینہ میں متعین ہوئے۔(۳۶)

          چنانچہ مذکورہ بالا تصریح سے مصاحف ِامصار کے ساتھ بھیجے جانیوالے قر ّا ء کی تعداد پانچ(۵) متعین ہوتی ہے جس سے یہ بات واضح ہے کہ یہ مصاحف پانچ مقامات:مکہ،کوفہ،بصرہ،شام اور مدینہ کی طرف روانہ کیے گئے ۔ جبکہ ایک مصحف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنے ذاتی استعمال کیلئے بھی لکھوایا(۳۷) ،جس کو الإمام کے نام سے پکارا گیا۔ جس سے مصاحف کی مجموعی تعداد چھ (۶)ہو جاتی ہے۔

 

وجہِ دوم…جغرافیائی تقسیم کے لحاظ سے مصاحف کی روانگی

          حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مصاحف کی روانگی کیلئے اسلامی سلطنت کو تین بنیادی حصوں میں تقسیم فرمایا :

اوّل:-     جزیرئہ ِعرب (جس کے مراکز مکہ اور مدینہ تھے)

دوم :-   مشرقی علاقے (بصرہ اور کوفہ ان کے مراکز تھے)

 سوم:-   مغربی  علاقے(جن کا مرکز ملک ِشام تھا)

          اِن مراکزِ خمسہ میں سے ہر ایک شہر میں ایک مصحف بھیجا گیا جبکہ ایک مصحف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنے لیے باقی رکھا(۳۸)۔ اسی وجہ سے مصاحف کیلئے مخصوص اصطلاحات کا استعمال شروع ہوا:

۱۔مدنیین:  مدنی مصحف اور حضرت عثمان صکے ذاتی مصحف کے دونوں نسخوں کو اکٹھا ذکر کرنے کیلئے۔

۲۔الحجازیۃ؍الحرمیۃ:     مذکورہ دونوں اور مکی مصحف کو مجموعی طور پر ذکر کرنے کیلئے۔

۳۔العراقیین:  کوفی اور بصری مصاحف کو اکٹھا ذکر کرنے کیلئے۔(۳۹)

          مذکورہ بالا بحث سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی سلطنت کے بڑے پانچ مراکز کی طرف ایک ایک مصحف روانہ کیا گیا جب کہ چھٹا مصحف حضرت عثمان صکا ذاتی تھا جس سے مصاحف کی مجموعی تعداد چھ ہو جاتی ہے۔

وجہِ سوم…دیگر اقوال میں امکانِ تاویل

۱۔        مصاحف کی تعداد چھ ہونے کی رائے کے علاوہ دیگر اقوال میں تاویل کا احتمال بہر حال موجود ہے مثلاًچار مصاحف سے مراد وہ مصاحف ہیں جو مدینہ سے باہر بھیجے گئے تھے، جیسا کہ ابن بشکولؒ نے مسجد ِقرطبہ کے نسخہ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا ہے:

أن ھذہ المصحف ھو أحد المصاحف الأربعۃ التی بعث بہا عثمان إلی الأمصار: مکۃ، والبصرۃ، والکوفۃ، والشام (۴۰)

          جبکہ دو مصاحف مدینہ میں موجود تھے۔

۲۔       پانچ مصاحف والے قول میں حضرت عثمان صکے ذاتی نسخہ کا ذکر نہیں اور روایات اس بات کی شاہد ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنے لیے ایک ذاتی نسخہ تیار کروایاتھا۔ جس کے اضافہ سے مصاحف ِعثمانیہ کی تعداد چھ ہو جاتی ہے۔

۳۔       سات مصاحف کے قول میں ’یمن‘ اور’ بحرین‘ کے مصاحف کا ذکر ہے لیکن اختلافِ مصاحف کی بحث میں ہمیں کہیں بھی اِن مصاحف کا ذکر نہیں ملتا(۴۱)۔

۴۔       آٹھ مصاحف والا قول علامہ ابن الجزریؒ کی طرف منسوب ہے لیکن خود علامہ ابن الجزری ؒ نے پانچ مصاحف والے قول کو مشہور قرار دیا ہے ۔لہٰذا اگر ان مصاحف ِخمسہ میں مصحف ِامام کو شامل کیا جائے تو مصاحف کی تعداد چھ ہوتی ہے۔

۵۔       جبکہ مؤرخ الیعقوبی کے نو مصاحف والے قول پر الدکتور عبد اللہ خورشید البری کا تبصرہ ذکر کیا جا چکا ہے۔

          اس کے علاوہ علامہ زرقانی  ؒنے بھی چھ مصاحف والے قول کو اَولیٰ قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں:

ولعل القول بأن عددھا ستۃ، ھو أولیٰ الأقوال بالقبول(۴۲)

          علامہ ابو طاہر السندی ؒ  بھی چھ مصاحف والے قول کو اولیٰ اور اصح قرار دیتے ہیں:

وتکونت مصاحف ستۃ __علی اصح الاقوال__ووزعت علی الأمصار المشہورۃ المرکزیۃ، وھی: مکۃ، والشام، والکوفۃ،والبصرۃ، وخصص مصحف المدینۃ وأمسک عثمان رضی اﷲ عنہ لنفسہ مصحفًا (۴۳)

          عبد الواحد بن عاشر الاندلسیؒ رسم وقراء ات کے جلیل القدر امام ہیں ، اپنی تصنیف  تنبیہ الخلّان علی الأعلان بتکمیل مورد الظمآنمیں لکھتے ہیں:

المصاحف العثمانیۃ المتعارفۃ عند أھل الرسم وھي ستۃ، وإن کان فی عددھا خلاف ذکرناہ فی شرح مورد الظمآن۔ الاوّل: الإمام وھو مصحف الذی احتسبہ سیدنا عثمان لنفسہ وعنہ ینقل ابو عبید القاسم بن سلام، الثانی: المدني وھو المصحف کان بأیدي أھل المدینۃ وعنہ ینقل نافع۔ الثالث: المکي وھو واللذان قبلہ ھي المرادۃ بالمصاحف الحجازیۃ والحرمیۃ عند الإطلاق۔ الرابع: الشامي۔ الخامس:الکوفي۔ السادس: البصري۔ وھذان عراقیان وھما المرادان بمصاحف أھل العراق عند الإطلاق(۴۴)

          یعنی اہل رسم کے نزدیک مشہور مصاحف عثمانیہ کی تعداد چھ ہے اگرچہ ان کی تعداد میں اختلاف موجود ہے جس کو ہم نے مورد الظمآن کی شرح میں تفصیلاً ذکر کیا ہے۔ جن میں سے ایک تو وہ مصحف ہے جو سیدنا عثمان ص نے اپنے پاس رکھا اور اسی سے ابوعبیدقاسم بن سلّام نے نقل کر کے اپنا مصحف لکھا۔ دوسرا مدنی مصحف جو کہ اہل مدینہ کے پاس تھا جس سے امام نافع نے اپنا مصحف لکھا۔ تیسرا مکی مصحف ، کہ اس مصحف اور پہلے ذکر کردہ دو مصاحف کومطلقاً ’مصاحفِ حجازیہ‘ اور’حرمیہ‘ کہاجاتا ہے۔ چوتھا شامی مصحف۔ پانچواں کوفی مصحف اور چھٹا بصری مصحف۔ کوفی اور بصری مصاحف کو ’عراقی مصاحف‘ بھی کہاجاتا ہے جو اہل عراق کے مصاحف کے طور پر مشہور ہیں۔

          درج بالا وجوہ کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت عثمان صکے لکھوائے گئے مصاحف کی تعداد چھ(۶) تھی جو مرکزی بلادِ اسلامیہ کی طرف روانہ کیے گئے اور علمائے رسم نے رسمِ عثمانی کے قواعد اور مصاحف کے باہمی اختلاف کو بیان کرنے کیلئے انہی مصاحف کو بنیاد بنایا ہے ۔

مصاحف ِعثمانیہ کی تاریخ

          دورِ جدید میں ،قرطاس یا کھال پر مکتوب ہر ایسا مصحف جس کے خط کی قدامت مسلّمہ ہو،جو نقط و اعراب سے معر ّیٰ ہونے کے ساتھ ساتھ صحابہ ،تابعین اور قر ّاء کی روایتی تقطیع اور رسمِ عثمانی کے عین موافق ہو۔غرض اس میں وہ تمام خصوصیات جمع ہوں جو کسی مصحف ِعثمانی میں پائی جاتی ہیں ،اِن سب کے باوجود کسی قدیم مصحف کو اصل نسخہ ء ِعثمانی مشہور کر دینا جس قدر آسا ن ہے اس کی اصلیت ثابت کرنا اسی قدر کٹھن اور مشکل ہے، کیونکہ کسی بھی مصحف کو مصحف ِعثمانی ثابت کرنے کیلئے کوئی دلیل ِقطعی موجود نہیں ۔ جیسا کہ علامہ زرقانی  ؒلکھتے ہیں:

لیس بین أیدینا قاطع علی وجود المصاحف العثمانیۃ الآن فضلا عن تعیین أمکنتھا(