ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار
پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

متن قرآنی میں روایات حفص اور ورش کا کردار
ایڈرین براکٹ کے موقف کاناقدانہ مطالعہ

ڈاکٹر  محمد فیر وزالدین شاہ کھگہ

متواترہ قراء اتِ قرآنیہ قطعی طورپر منقولی اور منزل من اللہ ہیں ،ان تمام پر قرآنیت کا اطلاق ہوتا ہے ،ان میں انسانی قیاس ،اجتہاد یارائے کا کوئی دخل نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے امت پر سہولت کیلئے قرآن کریم کو متعدد قراء ات پر نازل کیا تاکہ قرآنی پیغام ہر شخص تک بآسانی پہنچ سکے ۔یہ قراء ات سنتِ متبعہ ہیں جو آپ ﷺ سے صحابہ کرام اورصحابہ رضی اللہ عنھم سے ہم تک متواتر طریقہ سے پہنچی ہیں ۔ ان قراء ات میں اختلاف سے آیات کے مجموعی معنی ومقصود میں کوئی ایسی تبدیلی یا تضاد پیدا نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ایک قراء ت کو دوسری کے ساتھ جمع کرنا ممکن نہ ہویا ایک قراء ت کے صحیح ہونے سے دوسری کی تغلیط لازم آتی ہو بلکہ اختلافِ قراء ات سے متنوع اورعجیب وغریب معانی منکشف ہوتے ہیں جن کے مابین ضدیت اورمخالفت نہیں ہوتی کیونکہ ایسا کتاب اللہ میں محال ہے،جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے:

{ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ القُرْاٰنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافاً کَثِیْرًا} (النساء،۳:۱۱)

اسلئے یہ ناممکن ہے کہ ایک قراء ت میں امر اوردوسری میں نہی ہویا اورکسی طرح کا تعارض ہو سکے۔غرض یہ قراء ات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہیں اورہر قسم کی تحریفات سے پاک ہیں۔اس کے برعکس مستشرقین وملحدین نے مختلف قراء ات کو نتیجۂ قلم قرار دیتے ہوئے یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ قراء ات کا اختلاف درحقیقت سماعی نہیں بلکہ اس کی بنیادی وجہ مصاحفِ عثمانیہ کا نقط وحرکات سے خالی ہونا تھا،لہٰذا ہر شخص نے اپنے اجتہاد کے مطابق اس کو پڑھا اور بعد میں اسی کو ’قراء ات‘کانام دے دیاگیا۔اسی طرح انہوں نے قرآن کی قراء ات ِمختلفہ کو تحریف ثابت کرنے کیلئے بطور دلیل پیش کیا ہے ۔ اس حوالہ سے ان کی فکر کا مآخذ بائبل کے مختلف Versions ہیں ،چونکہ اناجیل کے متعدد ومختلف نسخہ جات دنیا میں رائج ہیں اوران کے مابین اختلافِ کثیر پایا جاتا ہے ،بایں وجہ وہ قرآن کریم میں بھی اسی طرح کی صورتِ حال کو ثابت کرنے کیلئے اس کی قراء ات کو بائبل کے Versionsکی طرح قرآن کے مختلف Versions  قرار دیتے ہیں ۔ خصوصاً جارج سیل (George Sale)وغیرہ نے مصاحفِ عثمانیہ کے سات نسخوں کو، سات مختلف کتب (Editions)سے تشبیہ دی ہے ،اس کے مطابق ان سات قرآنوں میں سے دومدینہ، ایک کوفہ،ایک بصرہ اور ایک شام میں مستعمل رہا جبکہ ساتواں مشترکہ مصحف(Common Edition) تھا۔اسی طرح گولڈزیہر اورآرتھرجیفری نے حضرت عثمان ؓکے زمانہ سے قبل،مختلف صحابہ ؓکے پاس مستقل مصاحفِ قرآنیہ کی موجود گی کو ثابت کرنے کے بعد مصاحفِ عثمانیہ سے ان کاتقابل کرنے کی کوشش کی ہے جس سے وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ مصاحفِ قدیمہ ،مصاحفِ عثمانیہ سے قطعاً مختلف تھے۔پھراسی بنیاد پر متواتر قراء ات اور طرق کے تقابل کو اپنا موضوع بنایا،ان اختلافات کوقرآن کریم میںتحریف کی سب سے بڑی دلیل کے طورپرپیش کیا۔ مستشرقین کے مذکورہ نظریات کے باطل ہونے کو مسلم محققین نے متعدد دلائل وشواہد کے ذریعہ  واضح کیا ہے۔

زیرِ نظر مقالہ مستشرق (Adrian Brockett) ایڈرین براکٹ کے مضمونThe Value of the Hafs and Warsh Tramissions for the Textual History of the Quran  کے  اردو  ترجمہ اور اہم نکات کے مطالعہ پر مشتمل ہے،جس میں  اس نے قرائٰ تِ قرآنیہ کی تاریخ میں روایت حفص اور ورش کے کردار اور اہمیت سے بحث کی ہے ۔ مقالہ نگار نے سابقہ مستشرقین کی بعض جزئیات میں ان سے اختلاف کیا ہے لیکن نتائج میں انہی کی پیروی کی ہے ۔ چنانچہ اس مضمون میں وہ بظاہر کئی مقامات پر اس بات کو توکا فی شد و مد سے واضح کرتا نظر آتاہے کہ حفص اور ورش کی روایات کے مابین کو ئی ایسا اختلاف نہیں جس سے معنی کا تضاد مفہوم ہولیکن پسِ پردہ یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کرتاہے کہ قرآن مجید میں موجود قراء ات کے اختلافات کی بنیاد عہدِ نبوی میں نہیں تھی بلکہ یہ بعد کی پیدا وار ہیں۔

اس مقالہ کامصنف ایڈرین براکٹ(Adrian Brockett) ،لیڈزیونیورسٹی برطانیہ کے Department of Mdern Arabic Studies میں اسلامی تہذیب وتمدن اور عربی زبان کا استاذہے،  تحقیقی رجحان  اور تخصص قران کریم کی مختلف قراء ات  و روایات کی جانب  ر ہا ہے ،چنانچہ اس  نے قراء ات قرآنیہ کی  تاریخ کی جستجومیں روایت حفص اور ورش کے مابین اختلافات کے ۔ مطالعہ کو ڈاکٹریٹ مقالے کا مستقل موضوع بنایا۔یہ مقالہ سینٹ اینڈریوس یونیورسٹی برطانیہ میں۱۹۸۴ء میں پیش کیا گیا                                                                                                                                             

 علاوہ ازیں براکٹ نے غالباً پندرہویں صدی سے متعلق ہسپانوی زبان میں99           کے نام سے ایک اہم دستاویز کے طور پر۱۹۸۴ء میں Fragment of Quran کو Codices Manuscriptشائع کیا ،  اسی طرح  The Spoken Arabic of Khaburah on the Oman Batinaمضمون کو Journal of Semitic Studies میں ۱۹۸۵ء میں شائع کیا۔

ہم یہاں اس کے پی ایچ ڈی مقالے کا خلاصہ جو خود اس نے تیار کیا ہے، کے اہم نکات پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔یہ مقالہ Andrew Rippin  (اینڈریو رپن کی تدوین سے اس کی کتاب Approaches to the History of the Interpretation of the Qur'an  میں  آکسفورڈ، برطانیہ سے۱۹۸۸ء میں شائع ہوا۔اس مضمون کے مطالعہ سے قارئین کو علم ہوگا کہ اگر چہ مستشرقین مختلف اوقات میں حالات کے تقاضوں کی بنا پراپنی منصوبہ بندیاں اور تعبیرات بدلتے رہتے ہیں لیکن اہداف و مقاصد کے اعتبار سے یکسانیت کبھی بھی متاثر نہیںہو نے پاتی ،عام طور پر اپنے آپ کو غیر جانبدار ثابت کرنے کے لئے بطور تدبیربعض اوقات جزئیات میں تو اختلاف کرلیتے ہیں مگر نتائج میں سر مو فرق نہیں آنے دیتے ۔پیش نظرسطور میں براکٹ کے مقالے کا ترجمہ وتلخیص ہدیہ قارئین ہے۔  دورانِ تلخیص طرزِ تحریر یکساں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے ،تاکہ مقالہ کی اصل روح بر قرار رہے ۔ چنانچہ مقدس ہستیوں کے ناموں کے ساتھ دعائیہ جملوں کے عدمِ استعمال کو بے ادبی کے قبیل سے نہ گرداناجائے ۔

مسلمان اہل علم اور مستشرقین دونوں اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ بعض قراء اتِ قرآنیہ اپنی اصل کے اعتبار سے تفسیری روایات کے قبیل سے ہیں نہ کہ باقاعدہ متن کی حیثیت رکھتی ہیں ۔(۱)لیکن یہ کسطرح سمجھا اور تسلیم کیا جائے ، اس کیلئے شاید قرآنی مصاحف کا مطالعہ ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے مشاہدہ سے اس سوال کا جواب تلاش کیا جاسکتاہے ۔اس ضمن میں یہ مقالہ بھی مطبوعہ صورت میں موجود دو قرآنی مصاحف کے درمیان موجود اختلافات کی نوعیت کو واضح کرتاہے،ایک روایت کی ابتدا کوفہ اوردوسری کی مدینہ سے ہوئی ،جبکہ ان کی نسبت عمومی طور پر بالترتیب دوسری صدی ہجری کے معروف قراء اور راویوں حفص (م۱۸۰ھ) اور دوسرے ورش (م۱۹۷ھ) کی جانب کی جاتی ہے۔(۲)

 روایت حفص پر مشتمل  قرآنی مصاحف مطبوعہ صورت میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں،لیکن مغربی اور شمال مغربی افریقی ممالک میںاس کی بجائے روایت ورش رائج اور معروف عام ہے ۔اس لحاظ سے روایتِ حفص  دنیا میںشائع شدہ مصاحف قرآنی  میں اکثریتی طور پر پائے جاتی ہے ،اس کے مقابلہ میں روایتِ ورش کے مطبوع نسخہ ہائے قرآنیہ میں نسبتاً کمیاب ہیں۔(۳)

اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ قرآن کی دوسری روایات بھی کہیں نہ کہیں موجود ہوسکتی ہیں ، لیکن بظاہر وہ مطبوعہ شکل میں دستیاب نہیں ہیں ۔ مثلاً بصرہ کے خلیل بن احمد الفراہیدی(م۱۷۵ھ) اور سیبویہ (م۱۸۰ھ) دونوں کے پاس ایسی روایات پر مشتمل متون تھے جو کئی مقامات پر ورش اور حفص کی روایات سے مختلف تھے۔اسی طرح بصری طرزِ قراء ۃ پر مشتمل ابوعمرو بصری کے ایک مخطوطہ کی موجودگی سے متعلق بھی معلومات ملتی ہیں، (۴)اور یہ طرزِ روایت علامہ زمخشری(م۵۳۸ھ) کی تفسیر الکشاف کے بعض ایڈیشنوں میں صفحات کے بالائی اور اطرافی حصوں میں بطورحاشیہ تحریرا ملتی ہے ، لیکن  متعدد جلدوں پر مشتمل اس ضخیم تفسیری ادب کومسلمانوں کے ہاں باقاعدہ قرآنی مصحف کی حیثیت سے کبھی قابل غور نہیں سمجھا گیا۔

روایتِ حفص اور روایتِ ورش کے علاوہ دوسری روایات کے مطابق قرآنی مصاحف ممکن ہے کہ موجود ہو ں لیکن بہر حال وہ عالمانہ تحقیق ومعائنہ کے لیے دستیاب نہیں ہیں ،(۵)اسی وجہ سے ان دونوںمصاحف کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اور زیادہ قابل عمل امر بھی یہی ہے کہ انہی روایات کے اختلافات کو جمع کیا جائے جو کہ مطبوعہ صورت  میں حقیقتاموجودہیں، اس  طرح مجموعی طورپراس ذریعہ سے ایک طرف تو قرآن کے تنقیدی جائزہ لینے میں مدد ملے گی اور اس سے بڑھ کردوسری طرف اس سے قرآن کی اصلیت بھی آشکارا ہوگی۔غرض یہ مقالہ اس مقصد کے حصول کے لئے اہم بنیادیں فراہم کرتا ہے(۶)۔

روایات حفص اور ورش میں اصولی اختلافات

اگر چہ دونوں روایات میں بذاتِ خود کوئی اختلاف نہیں ہے ،(۷)لیکن جب ان کاباہم تقابل کیا جاتا ہے تو کئی اختلافات ابھر کر سامنے  آتے ہیں،خصوصاً ان دو نسخوں میں جن سے یہاں مدد لی گئی ہے۔  تاہم یہ بات ملحوظِ نظر رہے کہ ان اختلافات میں سے کوئی بھی اختلاف اصل معنی و مفہوم پر اثر انداز نہیں ہوتا ۔ ان میں سے دو بڑے اختلاف ہمزۃ القطع اور امالہ کے ہیں ۔

 اسی طرح  ورش کی روایت میں اتنے صوتی سکتات نہیں ہیں جتنے روایتِ حفص میں ہیں، البتہ کچھ مقامات یقینا ایسے ہیں کہ جہاں روایتِ ورش میں صوتی سکتہ ہے جب کہ روایتِ حفص میں اس کے بجائے ی یا واو ہے(۸)۔

جہاں تک امالہ کا تعلق ہے تو وہ الف کو یا کی طرف اور ہمزہ کو اس کے حرکت کے مطابق حرفِ علت کی طرف جھکانے کا نام ہے (۹)۔

مذکورہ روایات کے مابین دیگر اختلافات

روایتِ حفص اور روایتِ ورش میں  اسکے علاوہ جو اختلافات پائے گئے ہیںاور تقابل کے لئے ہمارے پیش نظر مصاھف میں درج ہیں،ان کو دو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ، پہلی قسم ان اختلافات پر مشتمل ہے جو کہ الفاظ کے ادائیگی اور ان کے صوتی کیفیت سے متعلق ہیں جب کہ دوسری قسم دونوں روایات میں موجود کتابت کے اختلافات سے متعلق ہیں(۱۰)۔

رسم یا کتابت سے متعلق اختلافات

یہ حقیقت ہے کہ ان دونوں روایات میں کتابت کے معاملہ میں اختلاف کے مقابلے میں اتفاق کا پہلو زیادہ نمایاں ہے ،باوجود اس کے کہ بعض روایات میں  رسم کا اختلاف دونوں روایتوں کے درمیان ملتا ہے ، مثلاً لفظ  این ما   اور  اینما میں،تاہم دونوں روایات میں یہ اختلافات ہو بہو محفوظ رہے ہیں، اسی طرح لفظ لعنت اللہ  تائے مطولہ اور تائے مربوطہ کے ساتھ دونوں صحا ئف میں اپنے اپنے مقامات پر موجود ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات  واضح رہے کہ کتابت کے ان قرآنی اختلافات کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں میں ان روایات کے استناد واحترام میں کوئی کمی نہیں آتی ہے ۔

 

صوت یا قراء ات سے متعلق اختلافات

یہاں پر بھی الفاظ کی ادائیگی کے حوالے سے  اگرچہ مطابقت کے پہلو بھی موجود ہیں تاہم اختلافی پہلو نمایاں ہیں ۔ خاص طور پر  ہمزہ سے پہلے حرفِ علت آنے کی صورت میں اس کو کھنیچنا،اس اعتبار سے دونوں روایات میں اختلاف ہے ۔لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ اس نوعیت کے اختلافات کلام کے سیاق وسباق پر اثر انداز نہیں ہوتے ہیں (۱۱) ۔

اختلافات رسم کے بارے میں مسلمانوں کا نقطہ نگاہ

مسلمانوں کے ہاں کتابت کے اختلافات کے حوالے سے وہی طرزِ عمل اپنایا گیا ہے جو کہ ان کے ہاں پورے قرآن کے حوالے سے موجود ہے ۔اس کے برعکس بہت سے مستشرقین جو کہ قرآن کو محض ایک لکھی ہوئی تحریر تصور کر تے ہیں ان اختلافات کو دیکھ کر یہ سوچ سکتے ہیں کہ یہ اختلافات قرآن کے ابتدائی تاریخ کے ا حوال جاننے کے لئے ایک اہم سراغ ہیں، اس لیے کہ اگر حضرت عثمان نے ایک فیصلہ کن مصحف تیار کروایا تھا تو پھر اس میں کتابت کے اتنے اختلافات کیوں ظاہر ہوئے ہیں ؟، ا ن کو یہ سوال کرنے کا حق پہنچتاہے ۔ البتہ مسلمانوں کے نزدیک جو کہ قرآن کو زبانی پڑھی جانے والی اور مصاحف میں لکھی ہوئی اللہ تعالی کی کتاب سمجھتے ہیں ،ان کے لیے یہ اختلافات اس سے زیادہ اہم نہیں ہے کہ یہ قرآن کی مختلف قراء ات ہیں مثلاً حذف واثبات کے اختلافات یا ہمزہ کے ادائیگی میں تنوع کا مظاہرہ ۔ اس بات کو مسلمان علماء ومحققین کی ذکر کردہ عبارات پیش کرکے مزید آسانی سے سمجھا جاسکتاہے جو انہوں نے ابتدائی پانچ سورتوں میں موجود کتابت کے تین اختلافات کے تحت ذکرکی ہیں :

ووصّی /اوصٰیکا اختلاف

جہا ں ابنِ جزری(م۸۳۳ھ) نے کئی صفحا ت لفظبارئکم (۱۲) کی ادائیگی کے نذر کیے ہیں، وہاں اس نے مذکورہ کتابت کے اختلاف کو چند سطروں میں نمٹایا ہے اور اس پر کسی قسم کے وضاحتی کلمات کا اضافہ نہیں کیا ہے ، چنانچہ لکھتے ہیں :

نافع ابوجعفر ، اور ابنِ عامر نے واوصی پڑھا ہے جس طرح کہ مدنی اور شامی مصاحف میں لکھاہوا تھا ، اس کے علاوہ دوسرے قراء نے ووصیٰ پڑھا ہے جیسا کہ ان کے مصاحف میں لکھاہواتھا (۱۳)۔

اسی طرح امام فراء (م۲۰۷ھ ) نے بھی بمشکل یہ کہا کہ اس اختلاف کی وجہ سے معنی کے اند ر کوئی نقص یا تضاد پیدا نہیں ہوتاہے ، اور دونوں قرائٰ ت روایۃًاورکتابۃًثابت ہیں۔جبکہ مصحفِ مدینہ میں واوصیٰ ہے ۔ دونوں صحیح ہیں اور عموماً سنے گئے ہیں ۔

ابو عبیدہ (م ۲۱۰ھ) نے اس اختلاف کو لائق اعتناء نہ سمجھا اور اس بارے میں انہوں نے کسی بھی قسم کے خیالات کا اظہار نہیں کیا ۔

ابنِ جریر طبری(م۳۱۰ھ) نے بھی کتابت کے اختلاف کا ذکر کیے بغیر صرف اتنا کہا ہے کہ کئی پڑھنے والے واوصیٰ پڑھتے ہیں جس سے معنی ہلکا سا بدل جاتا ہے لیکن مفہوم برقرار رہتا ہے ۔ مسلمان علماء کی ایک لمبی فہرست میں صرف طبری اور دانی(م۴۴۴ھ) ہی ہیں جنہوں نے اس حوالے سے کچھ لکھا ہے، چنانچہ دانی لکھتے ہیں کہ ابوعبید(م۲۲۴ھ) نے واوصیٰ مصحفِ عثمانی میں دیکھاہے ، آگے وہ اپنی بات کو اس عقلی دلیل سہا را لیتے ہوئے ختم کرتا ہے کہ قرآنی مکتوب کبھی بھی زبانی اسناد سے جدانہیں ہوا ،چاہے یہ اس کے مستند ہونے کے حوالے سے ہو یا حقیقی ادائیگی کی قبیل سے ہو۔     

وسارعوا /سارعوا کا اختلاف

ابنِ جزری نے اس اختلاف کو بھی بعینہ اسی طرح بیان کیا جس طرح ماقبل میں کیا تھا، (۱۴) زمخشری نے بھی صرف اس کے ادائیگی کے حوالے سے بات کی ہے (۱۵)۔فراء جن کا طرزِ تفسیر دوسرے مفسرین سے نمایاں ہے، انہوں نے بھی اس مقام کو لائق توضیح نہ سمجھا  اور نہ ہی ابوعبیدہ اور طبری نے اس پر کچھ بحث مناسب سمجھی۔

یرتدّ/ یرتدد کا اختلاف

اس اختلاف کو ابن جزری اورزمحشری نے بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے ، لیکن یہ بات باعثِ تعجب ہے کہ انہوں نے یہاں پر بھی کتابت کے تضاد کوبیان نہیں کیا ہے۔

 چنانچہ علامہ زمحشری لکھتے ہیں  یرتدّ  اور یرتدد دونوں لکھے جاتے ہیں جبکہ مصحفِ امام میں لفظ یرتدد ہے  (۱۶)

اسی طرح ابنِ جزری نے اس کورسم اور کتابت کے تناقض کے پسِ منظرمیں غور وفکر کی دعوت دینے کے بجائے لفظ دال کے ادغام اور عدمِ ادغام کو بطور مسئلہ قراردیتے ہوئے بحث کرتے نظر آتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں :

ابوجعفر ، نافع اور ابنِ عامر یرتدد پڑھتے ہیں جس طرح یہ مدنی اور شامی مصاحف میں موجود تھا جبکہ بقیہ قراء اپنے مصاحف کے مطابق یرتدّ پڑھتے ہیں جبکہ سورہ بقرہ (آیت: ۲۱۷ ) میں تمام قراء لفظ دال کے عدم ادغام کے ساتھ  یرتدد پڑھتے ہیں ، دو وجوہات کی بنا پراول یہ کہ ان مصاحف میں اسی طرح دیکھاگیا ہے جبکہ دوسری وجہ سورہ بقرہ کا طویل ہونا ہے ۔ اس کی اور مثال سورہ انفال(آیت: ۱۳) بھی ہے کہ جہاں پر لفظ {ومن یشاقق اللہ ورسولہ} کے عدمِ ادغام میں تمام قرّاء متفق ہیں ، اسی طرح سورہ حشر(آیت:۴) کی مثال جہاں سب قرّاء  لفظ  ومن یشاقّ اللہ ورسولہ کا ادغام کرنے میں متفق ہیں، اس اختلاف کی وجہ آیت کا سیاق ہوسکتا ہے جو کہ ہر دو مقامات پر اس لفظ کے طول و اختصار کا تقاضا کرتاہے (۱۷)۔

بہر حال ان دو مقامات کے علاوہ سورہ نساء (آیت:۱۱۵)  میں بھی  ومن یشاقق کا مو جود ہونا جس کا تذکرہ ابنِ جزری نے اپنی کتاب النشر میں نہیں کیا ہے ان کے اس رائے پر شکوک پیداکر رہا ہے۔یہاں زیادہ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان مثالوں میں کتابت کے اختلاف کے بارے میں انہوں نے کسی بھی قسم کے رائے کا اظہار نہیں کیا ہے ۔

 طبری (م۳۱۰ھ)نے اس کو محض صرف ونحو کا ایک خفیف سا اختلاف قرار دیتے ہوئے یہ نتیجہ اخذکیا ہے کہ اس قسم کا اختلاف قابلِ فہم اور عام ہے (۱۸)،جبکہ فرّا  اور ابو عبیدہ نے اس اختلاف کو ایک بار پھر قابل ِ وضاحت نہیں سمجھا۔

سیبویہ اس اختلاف کا تذکرہ اپنی کتاب میں قائم کردہ ادغام کی فصل کے تحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

حجاز کے لوگ غیر حروف علت کو علیحدہ پڑھتے ہیں چنانچہ وہ  اردد اور تردد لکھتے ہیں اور اسی طریقہ کار کو قدیم عربی زبان میں اپنا یا گیا تھا، جب کہ بنو تمیم ملاکر پڑھتے ہیں (چنانچہ وہ  ردّ اور تردّ   لکھتے ہیں )(۱۹)

یہاں پر بھی دانی نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ ابوعبید نے مصحفِ امام میں   یرتدد  ہی دیکھا ہے (۲۰)۔

 یہ بات قابلِ غور ہے کہ اگر اس بات کو تسلیم بھی کرلیا جائے کہ کتابت کے ان اختلافات کی وجہ سے مفہومِ قرآنی پر کو ئی اثر نہیں پڑتا مگر سوال یہ رہ جاتاہے کہ ان اختلافات کے ہو تے ہوئے قرآن مستند بھی رہا یا نہیں ۔۔؟(۲۱)

 معانی میں تغیر پیدا کرنے والے اختلافات کی حد بندی

 واضح حقیقت یہی ہے کہ ان دو روایات میں موجود اختلافات چاہے وہ ادائیگی سے متعلق ہوں یا کتابت سے متعلق ہوں ،معانی کی یکسانیت پر کوئی گہرا اثر نہیں ڈالتے ہیں ، (۲۲)بعض اختلافات تو وہ ہیں جو کہ معنی کو بالکل تبدیل نہیں کرتے ہیں اور کچھ اختلافات ایسے ہیں کہ ان سے سیاقِ آیت میں تبدیلی آتی ہے مگر وہ تبدیلی اتنی بڑی نہیں ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کی تعلیمات سے متصادم ہوجائے۔ ہاں ایک اختلاف (۲/۱۸۴) ایسا ہے جوواقعی اسلامی تعلمات سے متصادم ہے اور اس اختلاف کے ذریعے سے روایتِ حفص اور روایتِ ورش میں موجود اختلافات کی نوعیت اور حدود کو جاناجاسکتاہے۔

اس بات کی وضاحت کہ کس طرح ان روایات میںموجوداختلافات کی نوعیت مختلف ہے، مندرجہ مثا لوں سے سمجھا جاسکتاہے  :

۱ ۔          ننشرھا اور ننشزھا(۲۵۹ /۲)کا اختلاف مادے کا ہے لیکن دونوں کا معنیٰ اٹھانا  ہے ۔

۲ ۔        اسی طرح  تقولن اور یقولن (۲/۱۴۰)کا اختلاف براہِ راست یا بالواسطہ کلام نقل کر نے کی قبیل سے ہے ۔ جو کہ مفہوم کی صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا ہے ۔

۳۔         واتخَذوا اور واتخِذوا (۲/۱۲۵) کا اختلاف بھی زمانے اور وقت کا اختلاف ہے جس سے سیاقِ کلام پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے یہ اختلاف زیادہ سے زیادہ کسی بات کا حکم دینے یا زمانہ ماضی کے کسی بات کو بیان کرنے کے قبیل سے ہے ۔

۴۔          یخدعون/ یخٰدعون (۹/۲) کا اختلاف محض اوزانِ فعل کا اختلاف ہے لیکن سیاقِ کلام پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتاہے اس سے محض یہ ظاہر ہوتاہے کہ منافقین اپنے آپ کو دھو کہ دیتے ہیں یا دھوکہ دینے کی کوشش کر تے ہیں ۔ (۲۳)

۵۔          یقول اور یقولَ (۲/۲۱۴) کا اختلاف محض لفظ حتیٰ کے عامل ہونے یا نہ ہونے کے سبب واقع ہوا ہے۔ 

۶۔          آخری اختلاف وکفّلہا اور وکفلہا (۳/۳۷) کا ہے ۔یہاں اختلاف محض وزنِ فعل اور فاعل کا ہے چنانچہ اس  لفظ کو  مشدد  پڑھنے کی صورت میں معنٰی یہ ہے کہ زکریا نے زوجۂ عمران کی کفالت کی ، جبکہ تخفیف کی صورت میںمعنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ذکریا علیہ السلام کو عمران کی بیوی کا کفیل بنایا ،(۲۴)یہاں بھی دونوںقراء ات کے اختلاف سے مفہوم میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔

جیسا کہ اوپر کہا جا چکا ہے کہ سوائے ایک اختلاف کے (جوکہ آگے آرہا ہے )ان دو روایتوں میں موجود اختلافات مفہومِ قرآنی پر اثر انداز نہیں ہوتے ہیں ۔اس اختلاف کے تذکرہ سے پہلے ہمیں کچھ حدود متعین کر نے ہوں گے جن کے بنیاد پر ہم اس اختلاف کے اثر و وسعت کا اندازہ لگا سکیں ۔ہمیں مفسرین کے تفسیری نقطۂ نظر سے ہٹ کر وسعت نظری کے ساتھ دوسرے علوم وفنون کے ماہرین کی آرا کو پرکھنا ہوگا کیونکہ بنیادی طور پر تقریباً تمام اسلامی علوم کی بنیاد قرآنی مضامین ہیں ۔ 

مفسرین کا کام رطب و یابس کو جمع کرنا تھا اگر چہ وہ قر آن سے متعلقہ تمام فنون سے بحث کر تے ہیں لیکن اتنی گہرائی میں نہیں جاتے ہیں جتنا اس فن کے ماہرین کا طریقہ کا ر ہے ۔ قر آن کے جس مقام سے کسی علم کی طرف اشارہ ملتاہے تو مفسرین حسبِ منشا اس کے متعلقات کو ذکر کر دیتے ہیں ۔ مثلاً لغت یاعقائدکے اصولوں سے متعلق کسی بات کے لیے قرآن کے صرف اس حصہ پر زیادہ زور دیا جاتاہے جو کہ اس مخصوص سمت میں بحث کا ذریعہ بنتا ہے ۔ لہذا کسی لغوی یا عقیدہ سے متعلق قرآنی حصے کو اس فن کے ماہرین کی آراء کے تناظر میں دیکھنا مفسرین کے اقوال کے مقابلے میںزیادہ نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے ۔

اس حد کو سمجھنے کے بعد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک اختلاف جو کہ مفسرین کے ہاں حقیقی اثر رکھتاہو اور معنی پر اثر انداز ہوتا ہو وہ قانونی مسئلہ بننے کے بجائے محض مفسرین کی قیاس آرائی بن جائے ۔

 فدیۃ ٌطعام مسکین اور فدیۃ طعام مسٰکین کا اختلاف

چنا نچہ سورۂ بقرہ (آیت :۱۸۴)میں فدیۃ ٌطعام مسکین اور فدیۃ طعام مسٰکین دونوں طرح پڑھا جاتاہے ، ابو جعفر، نافع اور ابنِ عامر جمع کے ساتھ جبکہ بقیہ دیگر سات قراء واحد کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ اسی کی ایک اور نظیر سورۂ نساء (آیت: ۹۵) ہے جہاں پر حالتِ احرام میں کسی شکار کو قتل کر نے سے متعلق اوکفارۃٌ طعام مسٰکین کے الفاظ آئے ہیں اس جگہ تمام دس قراء نے لفظ مسکین کو صرف جمع کے ساتھ پڑھا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابنِ جزری ان دونوں مقامات میں تفاوت کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سورہ نساء میں ذکر کردہ کفارہ کسی زندگی کے تلف کرنے کے عوض دیا جاتاہے اور زندگیوں میں تفاوت ہو تا ہے مثلاً ایک پرندے کی زندگی کی اہمیت واضح طور پر ایک بھیڑ کی زندگی سے کم ہے ، مگر سورہ بقرۃ میں ذکر کردہ کفارہ دنوں کا عوض ہوتاہے اور ایک دن دوسرے دن سے خلقۃً مختلف نہیں ہو تاہے ۔(۲۵)

فدیہ کو مسلم علماء نے دو حصوں میں منقسم کیا ہے ایک قضا اور دوسرا کفارہ، مقدّم الذکرمیں فوت شدہ دنوں کا روزہ رکھنا ہوتا ہے جب کہ مؤخر الذکر ایک سزاہے جو کہ ساٹھ مسلسل روزوں یا مسکینوں کو کھانا کھلانے پر مشتمل ہوتی ہے۔ قضا صرف اسی دن کی ہو تی ہے جس دن کا روزہ چھوٹتا ہے۔

لفظ مسکین کو چاہے جمع پڑھیں یا واحد دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی مراد لیا گیا ہے ، حالانکہ جمع اور واحد کے اختلاف کا تقاضا یہ ہے کہ معنی میں اختلاف ہو۔

چنانچہ شافعیؒ (م۲۰۴ھ) کی کتاب الام سے اس مسئلہ کی مکمل وضاحت نہیں ملتی ہے۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ اس شخص کو کیا کرنا چاہیے جو کہ بیمار ہونے کے بعد صحت یاب ہوگیا ہو اور اس کے ذمے روزے رہ گئے ہوں یا اس سے روزے چھوٹ گئے ہوں اور ان کی قضا سے پہلے ہی وہ مر جائے تو ان کا جواب یہ تھا کہ اس کے پسماندہ گان کو ہر فوت شدہ دن کے بدلے ایک من غلہ کی مقدار کسی فقیر کو دینی پڑے گی، یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ شافعی نے صرف جمع والی روایت کو لاگو کیا ہے چنانچہ ان کے نزدیک لفظ مسکین کو واحد کے ساتھ پڑھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چاہے جتنے بھی دن کا روزہ فوت ہوجائے ایک ہی مسکین کو کھانا کھلانا ضروری ہے ۔(۲۶)

اسی طرح فقہ مالکی میں بھی جمع والی روایت کا مفہوم سمجھا گیا ہے جہاں پر ایک من طعام کو ساٹھ مسکینوں میں تقسیم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔  زیدیہ کے نزدیک اگر چہ اس حوالے سے کوئی اہم بات ذکر نہیں کی گئی ہے ، تاہم ابنِ مرتضی (م۳۱۰ھ) نے لفظ مسکین کو جمع کے ساتھ پڑھاہے اور ساتھ میں ابوہریرہ کی روایت کو نقل کر تے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ہر فوت شدہ دن کے لیے ایک فقیر کو کھانا کھلایا جائے گا ،انہوں نے بھی یہاں کسی قسم کے عدمِ مطابقت کو محسوس نہیں کیا ہے۔

شافعیؒ کے احکام القرآن میں اس آیت کی تفسیر یوں بیان کی گئی ہے ’’ وہ جو روزہ رکھنے کے قابل تھے ، پھر ان میں روزہ رکھنے کی صلاحیت نہ رہی ان پر فرض ہے کہ وہ ہر روزے کے بدلے ایک تنگدست آدمی کو کھانا کھلائیں۔ یہاں موضوع بحث یطیقونہ کو بنا یا گیا ہے نہ کہ مسٰکین اور مسکین کی      قرا ء ات کو۔ بخاری بھی صرف   یطیقونہ  کو ہی زیرِ بحث لائے ہیں ۔(۲۷)

ہماری اس گفتگو سے یہ بات واضح ہو گئی کہ فقہاء کے نزدیک مسکین اور مساکین کا اختلاف غیر اہم تھا اور تفسیر ی توجہات زیادہ تر الذین کی ضمیر کی طرف مرکوز رہیں ۔ چنانچہ اس حوالے سے کئی سوالات اٹھائے گئے ،مثلاً یطیقونہ میں موجود ’’ہ‘‘  ضمیر روزے کی طرف لوٹ رہی ہے یا فدیہ کی طرف؟ اور اس سوال پر مبنی یہ سوال کہ الذین سے کون مراد ہیں؟ کیا وہ لوگ ہیں جو روزہ نہیں رکھ سکتے ہیں یا وہ ہیں جو کفارہ نہیں دے سکتے ہیں ؟(۲۸)

یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ بنیادی تفسیری ماٰخذ میں بھی اس اختلاف پر بہت کم بات کی گئی ہے چنانچہ ز مخشری نے اس آیت میں موجود دوسرے الفاظ کی مکمل وضاحت کی ہے لیکن اس اختلاف کے بارے میں کچھ نہیں لکھا ، نہ ہی فراء نے تفسیر کرتے ہوئے اس اختلاف کو بیان کیا ہے ۔ طبری جس نے اس آیت کی تفسیر میں کئی صفحات لکھے ہیں ، اس اختلاف کو چند سطروں میں نمٹاتے ہیں ۔ اپنے زمانے کے بحر العلوم سمجھے جانے والے رازی(م۶۰۶ھ) کی نظر میں بھی یہ اختلاف کچھ اہم نہیں تھا ،یہی وجہ ہے کہ جہاں انہوں نے  یطیقونہ کا تذکرہ دو صفحات میں کیا ہے وہاں اس اختلاف کی طرف ایک سطر میں اشارہ کیا ہے ۔

تاہم طبری کا ان دو قراء ا ت کو تسلیم کر تے ہوئے اسی آیت میں ایک اور اختلاف کا انکا رکرنا قابلِ اہمیت ہے ۔ چنانچہ طبری کے نزدیک لفظ مسکین ، مساکین  کا اختلاف مفہوم کی یکسانیت پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوتاہے ، اور اس سے فوت شدہ روزوں کے متعلق وضع کردہ قوانین پرکوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ اگرچہ طبری نے جمع کے مقابلے میں واحد کے قرأۃ کو ترجیح دی ہے ، لیکن یہ محض عقلی بنیادوں پر قائم مفروضہ ہے جو کہ تسلی بخش نہیں ہے، لکھتے ہیں کہ ’’ واحد کا اطلاق جمع پر کیا جاسکتاہے لیکن جمع کا واحد پر اطلاق باعث تأمل ہے‘‘۔(۲۹)

یہاں دیکھیں کہ انہوں نے جمع والی روایت کا انکار نہیں کیا ہے نہ ہی اس بارے میں کوئی رائے قائم کی ہے کہ کونسی قراء ت مقدم ہے اور کونسی مؤخر ہے ۔ ان کا مطمعِ نظر یہ نہیں ہے کہ کونسی قراء ت اصلی ہے ؟ بلکہ یہ ہے کہ کونسی قراء ت زیادہ واضح ہے۔

اس اختلاف کے بیان سے ذرا پہلے طبری نے اسی آیت میں یطیقونہ کے بجائے یطوّقونہ کی قراء ۃ کا انکار کیا ہے ۔ لہذا ان کایہ انکار ایک واضح اور روشن دلیل مہیا کرتاہے کہ نصِّ قرآنی غیر مرتب اور غیر مربوط ہے ۔ یہ بات بھی ملحوظِ نظر رہے کہ اس قراء ۃ  سے ان لوگوں کی بات کو ترجیح حاصل ہوتی  ہے جو کہ الذین سے وہ ضعیف العمر افراد مراد لیتے ہیں جو کہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔

یہ اختلاف کہ جس نے طبری کو مشکلات سے دو چار کیا محض لفظ  واو یا  یا  کا اختلاف نہیں تھا ، کیونکہ اس نے بھی اس نوعیت کے اختلاف کا انکار نہیں کیا ہے بلکہ اس کو تسلیم کیا ہے ۔  اس اختلاف کا اثراتنا وسیع ہے کہ یہ نہ صرف روزوں سے متعلق وضع کردہ قوانین پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ علمِ نسخ کی رو سے بھی مطابقت نہیں رکھتا ہے ۔ تب ہی علامہ نے اس قراء ت کا انکار کردیا ۔ طبری کو اہلِ مذہب کے اس شوشے نے بھی متأثر نہیں کیاکہ قراء ۱ تِ قرآنیہ مستند ذرائع سے آئی ہیں ،باوجود اس کے کہ انہوں نے اس روایت کے پڑھنے سے متعلق ابنِ عباس، عکرمہ ، سعید ابنِ جبیر ، عائشہ ، عطاء اور مجاہد کی روایات کو نقل کیا ہے ، جبکہ معنی کی وضاحت کے لیے علی، طاؤس اور ضحاک کی روایات کو لیا ہے ۔

طبری کے اس انکار سے نکلنے والے پیچیدگیوں کو کھنگالنے کی ضرورت نہیں ہے،بس اس روایت کے حوالے سے طبری کا نقل کردہ یہ پیرا ہی یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ درونِ خانہ کیا ہے !

 عکرمہ نے اس کلمے کو الذین یطوّقونہ پڑھا ہے ،اور ساتھ میں یہ بھی وضاحت کی ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہواہے چنانچہ ضعیف العمر افراد کے لیے روزہ رکھنا ضروری نہیں ہے بلکہ ہر روزہ کے بدلے ایک فقیر کو کھانا کھلادینا کافی ہے (۳۰)  

خلاصہ بحث

مفسرین کا ان اختلافات کو بالتفصیل بیان نہ کرنا بلکہ بعض مقامات پراصل اختلاف اور بعض پر اس کی تفصیل کو نظر انداز کردینا اس بات کی دلیل ہے کہ نص قرآنی کا اختلاف تفسیری بنیادوں پر نہیں ہے ۔

قرآن کی تاریخی حقیقت کو جاننے کے لیے روایتِ حفص اور ورایتِ ورش کے مذکورہ تقابل سے مندرجہ ذیل دو بڑے نکات سامنے آئے ہیں:

 ۱۔           ان روایات میں موجود اختلاف کے نوعیت نے واضح کردیا کہ یہ دونوں روایات بنیادی طور پر ایک ہی نص ہیں ۔(۳۱)

۲۔         قرآن کی حفاظت زبانی تحمل و ادا کے ذریعہ بھی کی گئی ہے۔

اس تقابل سے امکانی طور پر یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ قران کی دوسری روایات میں بھی اس نوعیت کے اختلافات موجود ہوں ۔

زبانی روایت کا طریقہ مشرق میں رائج رہا ہے ،(۳۲) خصوصاً قبائل عرب میں (۳۳)کیونکہ ان کی اکثریت لکھنا پڑھنا نہیں جانتی تھی اور مضبوط قوت حافظہ کی مالک تھی۔ تاہم اگرزبانی طریقہ روایت کے منفی پہلوؤں کو دیکھا جائے تو اس طریقہ روایت میں کسی لفظ کو غلط سننے ، ایک لفظ کے دوسرے لفظ کے ساتھ مماثلت کی وجہ سے مغالطہ کا شکار ہونے اسی طرح کسی داستان درداستان قصے کو بھول جانے یا اس میں تفسیری مواد کا اصل بن کر دخول ،(۳۴)یا غلط تعبیر(۳۵) ایسے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اسی طرح فن خطاطی کے ارتقاء سے قطع نظر کسی روایت سے متعلق کاتب کے سہو میں مبتلا ہونے ، لفظ کو غلط لکھنے ، اس کے تکراریا عدمِ تیقظ کی بنا پر کسی لفظ کے نفسِ عبارت سے حذف ہونے جیسے امکانات کاانکارنہیں کیا جاسکتاہے ۔ بنا بریں یہ بھی ہوسکتاہے نفسِ مضمون سے کوئی پیرا غائب ہوجائے یا دوسرے ذرائع کے توسط سے اس میں کچھ داخل کردیاجائے۔

چنانچہ اگر قرآن کو پہلی صدی ہجری میں صرف زبانی روایت کیا جاتا تو اس میں بھی اس نوعیت کی غلطیاں ہو تیں جیسا کہ حدیث میں ہیں۔ اسی طرح اگر اس کو صرف تحریری طورپر نقل کیا جاتا تو اس میں اسی طرزکے اختلافات ہوتے جیسے کہ میثاقِ مدینہ کی روایات میں ہیں۔لیکن قران کی یہ کیفیت نہیں ہے بلکہ قرآن کو ہر دو طرح سے نقل کیا گیا ہے اور ہر طریقے نے دوسرے کو محفوظ بنانے میں مدد بھی کی ہے ۔ (۳۶) محمد (ﷺ) کی وفات کے بعد قرآن کا نامیاتی پہلو برقرار نہ رہا بلکہ اس میں جمود آگیا ۔چنانچہ قرآن کی ایک ہی نص تھی جس میں نہ تو کسی چیز کو داخل کیا جاسکتاتھا اور نہ ہی اس سے کسی چیز کو خارج کیا جاسکتا تھا،حتی کہ منسوخ مواد کو بھی نہیں (۳۷)۔یہی حالت اسلام کے اول خلیفہ کے وقت بھی رہی۔چنانچہ ان مغربی سکالرز کی کوششیں جنہوں نے مفروضاتی طور پر قرآن کی ایک اور نص(اویجنل ورژن) بنانے کی کوشش کی، ان کی یہ ورژن مسلمانوں کے اصل نص کے آدھے جوہر سے مطابقت نہیں رکھتی ہے ۔

اعراب بندی وتشکیل صوت (Vocalization) کی ابتدا محض اسلیے نہیں ہوئی کہ غیر عرب نہیں جانتے تھے کہ قرآن کو کس طرح سے پڑھا جائے اور نہ ہی یہ زبانی طرزِروایت کے قائم مقام ہے ۔ اسی طرح نصِ قرآنی کی پائیداری میں بھی اس کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ یہ سارے ادبی نقطہ نظر ہیں۔لیکن قرآن محض ادبی شاہکار نہ تھا کہ اس کی ہر طرح سے نوک پلک درست کی جاتی بلکہ مسلمان علماء کے گفتگو کا زیادہ زور اس بات پرہے کہ قرآن کی انفرادی اجزا کی تاریخی حد بندی کی جائے جس سے علمِ نسخ میں بحث ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کتابت کے وہ اختلافات جن کا ماقبل میں ذکر ہوا ہے ان کے حوالے سے کوئی پریشانی محسوس نہیں کی گئی بلکہ بعض اختلافات سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ہا ںنصِ قرآنی کے الفاظ کے مقابلے میں اس کی روح(معانی ومفاہیم ) کی اہمیت زیادہ تھی۔ یہ حقیقت کتبِ تفسیر سے زیادہ سمجھ میں آسکتی ہے ۔

دوسری جانب اگرVocalization (اعراب بندی وتشکیل صوت ) کو دیکھا جائے تو عجم کے لیے قرآن پڑھنے میں دقت اس کے پھیلنے کی بڑی وجہ ہوسکتی ہے چنانچہ اسی بنا پر چمڑے کے بجائے کاغذ کا استعمال شروع کردیا گیاتھا۔کیونکہ اس بات کے کچھ ایسے تاریخی شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عراقی تہذیب وثقافت سے ماخوذ ہے کیونکہ وہاں آباد نسطوری عیسائیوں میںDot Vocalization  کا نظام رائج تھا۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ عجم سے آئی ہے نہ عرب سے ۔ بالکل اس کے برابر ایک اور وجہ جو کہVocalization(اعراب بندی وتشکیل صوت )  کے پھیلاؤ کا سبب بناہوگا و ہ مسلمانوں کے ہاں قرآن کے الہامی کتاب ہو نے کی وجہ سے عزت وعظمت ہے۔  چنانچہ ان وجوہات کی بنیاد پر ایک تحریک شروع ہوئی جس میں نصِ قرآنی کی خوبصورتی پر زور دیا گیا لیکن اس کے الفاظ کی صحت و صفائی کو نظر انداز کیا جانے لگا اسی طرح استناد کے بجائے احترام کو ملحو ظِ نظر رکھا جانے لگا ۔چنانچہ تسلسل کے ساتھ یہ خواہش رہی ہے کہ نص قرآنی کی زبانی روایت کی تکمیل کے لیے کتابت کو اس مطابق بنالیا جائے،اس طرح سے کتابت کی اجمالی حیثیت میں مسلسل اضافہ ہوتارہا ۔ہماری اس گفتگو سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ ابتدائً یہ مسئلہ نہیں تھاکہ بعض اختلافات نص کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں جبکہ دوسرے بعض زبانی ادائیگی کے ساتھ ،بلکہ ابتداء ً سب کچھ ایک تھا ۔

حقیقت یہ ہے کہ مستشرقین نے قراء ات قرآنیہ کی علمی روایت اور استناد کو کبھی بھی فنی زاویوں سے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی،بلکہ ہمیشہ ان کو قرآنی تغیرات اور بعد کے لوگوں کی ایجاد قرار دیاہے،مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قراء ات کی حقیقت اور حیثیت اور وجوہ شہرت کا ایک جائزہ پیش کردیا جائے تاکہ مسلمانوں کا اس بارے میں جو موقف ہے، اس کی وضاحت ہوجائے۔

قراء ات قرآنیہ کی حقیقت ،استنادی وتاریخی حیثیت

صحابہ کرام ؓ  مختلف قراء ات ِ آنجناب ﷺ سے سنتے اور ان کو محفوظ کرلیا کرتے ،اس طرح قرآن اپنی تمام قراء ات کے ساتھ بے شمار صحابہ کے سینوں میں محفوظ ہو گیا،یہی سبب ہے کہ عہد ِنبوی کے متعدد حفاظ صحابہ کرام ؓ  کا تذکرہ روایات میں ملتا ہے۔

 ابن الجزری تحریر کرتے ہیں:

ان الاعتماد فی نقل القرآن علی حفظ الصدور والقلوب لا علی حفظ المصاحف والکتب، وہذہ اشرف خصیصۃ من اﷲ تعالیٰ لہذہ الامۃ (۳۸)

قرآن کی صدری حفاظت کی غرض سے صحابہ آپس میں قرآنی آیات کا تکرار اور مذاکرہ بھی کرتے رہتے تھے اور صحابہ نے جمعِ قرآن میں اسی کو بنیاد بنایا۔ چنانچہ حضرت عثمان کے عہد مبارک میں جمعِ قرآن میں یہ مرحلہ بھی آیا کہ سورتِ توبہ کی آخری دو آیات کو صرف ایک آدمی کے حافظہ پر اعتماد کرتے ہوئے لکھاگیا۔ کیونکہ رسول اللہ  ﷺنے ان کی شہادت کو دو شہادتوں کے برابر قرار دے رکھا تھا۔مکی بن ابی طالب القیسیؒ(م۴۳۷ھ) لکھتے ہیں:

کانوا یحفظون الآیۃ لکنہم انسوہا فوجدوہا فی حفظ ذلک الرجل ، فتذاکروہا واستیقنوہا واثبتوہا فی المصحف لحفظہم لہا وسماعہم ایاہا من رسول اﷲ ﷺ ، ولم یخالفہم احد فی ذلک فصارت اجماعاً (۳۹)

البتہ مختلف قراء ات کے حوالہ سے جب کبھی صحابہ کا آپس میں اختلاف ہوتا تو وہ آپ  ﷺ سے اس کے حل کے لیے رجوع فرماتے ۔ جیسا کہ امام بخاری نے حضرت عمر ؓ سے منقول ایک روایت کا ذکر کیا ہے جس میں آپ ؓنے ہشام بن حکیم ؓ  کو سورئہ ِفرقان میں مختلف قرائتیں پڑھنے پر غصہ کا اظہار کیا اور ان کے گلے میں چادر ڈال کر پوچھا کہ پڑھنے کا یہ طریقہ تم نے کس سے سیکھا؟ تو انہوں نے اس کی نسبت آپ  ﷺ کی طرف کی۔ دونوں حضرات آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں کی قراء ت کو سن آپ  ﷺ نے تصویب فرمائی اور ارشاد فرمایاکہ بے شک یہ قرآن سات حروف پر نازل ہو اہے ، جس طریقہ پر آسان معلوم ہو وہی اختیار کر لو(۴۰)۔

قراء ات کا یہ اختلاف چونکہ سماعی تھا اسلئے قرآن کے ساتھ ساتھ اس کی قراء ات کی ترویج بھی ہوتی رہی اور متفرق امصاروبلاد میں صحابہ کرا م کے پھیلنے پر یہ بھی پھیلتی رہیں،یہ قراء ات صحابہ سے دیگر صحابہ اور ان سے تابعین تک پہنچیں اور یہ سارا یہ سلسلہ نقل اور حفظ کی بنیاد پر چلتا رہاحتیٰ کہ قرآن کا ایک ایک حرف بغیر کسی کمی بیشی کے جس طرح آپ  ﷺ سے سنا تھا ،پہنچا دیا گیا۔

 ابن الجزریؒ(م۸۳۳ھ) لکھتے ہیں:

وتلقوہ من النبی ﷺ حرفا حرفا، لم یہملوا منہ حرکۃ ولا سکونا ولا اثباتا ولا حذفاً ، ولا دخل علیہم فی شیئ منہ شک ولا وہم ، وکان منہم من حفظ کلہ ومنہم مَن حفِظ اکثرہ، ومنہم مَن حفظ بعضہ، کل ذلک فی زمن النبی ﷺ (۴۱)

اس طرح آپ  ﷺ رفیق اعلیٰ (اللہ تعالیٰ ) کی طرف انتقال فرما گئے اور قرآن بغیر کسی کمی بیشی کے لوگوں کے سینوں ، صحیفوں ،پتھر کی سِلوں ،چمڑے کے پارچوں ،کھجور کی شاخوں اور ہڈیوں وغیرہ میں محفوظ ہو گیا(۴۲)۔

جب آپ  ﷺ وفات پا گئے اور حضرت ابو بکر صدیق ؓخلافت کے منصب پر فائز ہوئے تو اس وقت تک قرآن کتابی صورت میں مدون نہ ہوا تھا بلکہ اس کے اجزاء منتشر اور متفرق تھے۔ خلافتِ صدیقی میں یمامہ میں مسیلمہ کذاب سے نہایت شدید جنگ ہوئی اور حفاظ وقراء کی ایک بڑی جماعت اس میں شہید ہوگئی ۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر حضرت عمر  ؓکو قرآن مجید کے ضائع ہونے کا اندیشہ پیدا    ہوا۔آپ ؓ نے سیدنا صدیق اکبر  ؓ کو مشورہ دیا کہ وہ قرآن کی ترتیب وتدوین کرادیں۔چونکہ یہ کام عہدِ نبوت میں نہیں ہوا تھا اسلئے حضرت ابو بکر ؓ  کو شروع میں تامل تھالیکن پھر اللہ نے ان کا شرح صدر فرمایا اور آپ نے نہایت اہتمام سے قرآن مجید کو کتابی شکل میں یکجا کر دیا…یہ مصحف حضرت ابو بکر ؓ کے بعد حضرت عمرؓ اور پھر حضرت حفصہ ؓ کے پاس رہا(۴۳)۔

واضح رہے کہ حضرت زید نے مصحف ِصدیقی کو متعدد احتیاطوں کے ساتھ مرتب کیا تھا جن میں سے ایک احتیاط یہ بھی تھی کہ وہ لکھی ہوئی آیات کا دیگر صحابہ کے مکتوب مصاحف سے موازنہ فرماتے تھے۔ چنانچہ علامہ زرکشیؒ لکھتے ہیں:

وانما طلب القرآن متفرقاً لیعارض بالمجتمع عند من بقی مِن مَن جَمع القرآن لیشترک الجمیع فی علم ما جمع ، فلا یغیب عن جمع القرآن احد عندہ من شیئ، ولا یرتاب احد فی ما یؤدی المصحف ، ولا یشکوا فی انہ جمع عن ملاء منہم (۴۴)

علاوہ ازیں وہ حافظہ یعنی صدورِ رجال اور مکتوبہ ٹکڑوں کے دستیاب ہونے کے باوجود ،دوگواہوں کی گواہی کو بھی لازمی قرار دیتے (۴۵)۔ غرض یہ نسخہ خط ِحیری(۴۶) میں ساتوں حروف کے موافق لکھا گیا(۴۷)اور تمام شکو ک وشبہات سے بالا یہ متفقہ نسخۂ قرآنی دو گتوں کے درمیان محفوظ ہو گیا۔

حضرت عثمان ؓکے دور میں حذیفہ بن الیمان ؓنے اذربیجان (۴۸)اور اِرمینیہ (۴۹)کی جنگ میں، جس میں شام اور عراق کی فوجیں ایک ساتھ شریک تھیں ،وہاں انہوں نے مسلمانوں کے درمیان    قراء ات کے شدید اختلافات کا مشاہدہ کیا۔ تو امیرالمومنین کی خدمت میں عرض کی :

یا امیر المؤمنین ! ادرک ہذہ الامۃ قبل ان یختلفوا فی الکتاب اختلاف الیہود والنصاری (۵۰)

اے امیرالمومنین! خدارا امت کی خبر لیجئے قبل اس کے کہ کتاب کے بارے میں ان کے اختلافات ایسے ہی شدید ہو جائیں جیسا کہ یہود ونصاریٰ کے اختلافات تھے۔

چنانچہ حضرت عثمان نے مصحف ِصدیقی کو حضرت حفصہ ؓ سے منگوایا اور زید بن ثابت ؓ،عبد اللہ بن زبیرؓ، سعید بن العاصؓ اور عبد الرحمن بن حارث بن ہشام ؓ کو حکم دیا کہ اس کو نقل کریںاور اختلاف کی صورت میں لغت ِقریش کو اختیار کیا جائے۔ علامہ ابن حجر العسقلانی(م۸۵۲ھ)لکھتے ہیں:کہ حضرت حذیفہ ؓنے حضرت عثمان ؓسے کہا کہ میں ارمینیہ کی لڑائی میں شریک تھا وہاں میں نے دیکھا کہ شام والے ابی بن کعب کی قراء ت کے مطابق پڑھتے ہیں جو عراق والوں نے نہیں سنی تھی اور عراق والے عبد اللہ بن مسعود کی قراء ت کے مطابق پڑھتے تھے اوربعض بعض کی تکفیر کررہے ہیں(۵۱)۔

حضرت عثمان نے یہ اہم کارنامہ سرانجام دے کر ایک بہت بڑے نزاع کا قبل از وقوع خاتمہ کر دیا ۔ جب مصاحف کی کتابت مکمل ہوگئی تو حضرت عثمان ؓنے حضرت حفصہ ؓ  کو مصحف ِصدیقی لوٹا دیااور تیار کردہ مصاحف مختلف علاقوں کی طرف روانہ فرما دیے۔ چونکہ اِن مصدقہ اور متفقہ نسخوں کے بعد کسی صحیفہ یا مصحف کی ضرورت باقی نہ رہی اس لئے ان کو جلا دیا گیا(۵۲)۔ علامہ زرکشی ؓ لکھتے ہیں:

والنسخ فی المصاحف فی زمن عثمان ، وکان ما یجمعون وینسخون معلوما لہم ، بما کان مثبتاً فی صدور الرجال، وذلک کلہ بمشورۃ من حضرہ من الصحابۃ (۵۳)

چنانچہ امام ابو عبید قاسم بن سلام نے اسی موافقت میں حضرت علی ؓ  کا یہ قول کیا ہے:

لو وُلّیت لفعلتُ فی المصاحف الذی فعل عثمان(۵۴)

 اگر یہی ذمہ داری مجھے سونپی جاتی تو میں اسی طرح کرتا جیسا  حضرت عثمان ؓ نے مصاحف کے معاملہ میں کیا۔

اسی طرح حضرت مصعب بن سعد کے بقول حضرت عثمان کے اس فعل کا سب کو پتہ چلا مگر کسی نے اس کا انکار نہیں کیا۔ وہ فرماتے ہیں:

ادرکت الناس حین  فعل عثمان ما فعل فما رایت احدا انکر ذلک یعنی من المہاجرین والانصار واہل العلم (۵۵)

حضرت عثمان ؓنے جس انداز سے مختلف قراء ات اور وجوہِ سبعہ کو مصاحف میں سمویا یہ قرآن اور قراء ات کی حفاظت وصیانت اور ان کے معجِز ہونے کی ایک بین دلیل ہے۔ اس حوالے سے حضرت عثمان کی محنت وجہد ،خصوصی دلچسپی ،حضرت زید بن ثابت کی معیت میں دیگر صحابہ کا خلوص اور اس ضمن میں ان کی احتیاطیں نادرالمثال ہیں(۵۶)۔

یہ ایک حقیقتِ واقعہ ہے کہ دورِ عثمانی میں کتابت ِمصاحف کی بنیاد بھی صدورِ رجال اور نقل ہی رہی،چنانچہ اس کی ترویج میں بھی تلقی اور مشافہت کو بھی لازمی قرار دیاگیا ۔ اس مقصد کیلئے حضرت عثمان ؓ نے ہر مصحف کے ساتھ ایک مستند قاری کو بطورِ معلم روانہ کیا تاکہ لوگ اپنی مرضی سے مصاحف کی تلاوت نہ کریں بلکہ رسولِ کریم  ﷺ سے منقول قراء ات ہی رواج پائیں۔علامہ طاہر کردیؒ رقمطراز ہیں:

وبعث عثمان رضی اﷲ عنہ مع کل مصحف من یرشد الناس الی قراء تہ بما یحتملہ رسمہ من القراء ات مما صحّ وتواتر، فکان عبد اللہ ابن السائب مع المصحف المکی، والمغیرۃ بن شہاب مع المصحف الشامی، وابو عبدالرحمن السلمی مع المصحف الکوفی ، وعامر ابن قیس مع المصحف البصری، وامر زید بن ثابت ان یقرئ الناس بالمدنی (۵۷)

حضرت عثمان نے ہر مصحف کے ساتھ ایک استاد بھیجا جو رسم میں موجود احتمالِ قراء ات ِصحیحہ متواترہ کی تعلیم وہدایت دے۔ چنانچہ عبد اللہ بن سائب ؓ  کو مکی مصحف ،مغیرہ بن شہاب کو شامی، ابو عبد الرحمن سلّمی کو کوفی، عامر بن قیس کو بصریٰ مصحف کے ساتھ روانہ فرمایا اور زید بن ثابت کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو مدنی نسخہ کے مطابق پڑھائیں۔

اس مرحلہ پر حضرت عثمان نے تمام مسلمانوں کو قراء ات معتبرہ کی تلاوت پر جمع کر دیا اور مصاحف کو نقاط واعراب سے اسی مقصد کیلئے خالی رکھا تاکہ وہ قراء ات جو متواتر ہیں اس میں سما سکیں۔ مزید براں صرف ان مصاحف کی ترویج واشاعت کو قراء ات صحیحہ کیلئے کافی نہ سمجھا گیا بلکہ ہر مصحف کے ساتھ قاری کو بھیجا گیا تاکہ وہ اس شہر کی اغلب اور رائج قراء ت کے موافق قرآن پڑھائے(۵۸)۔

علامہ ابن الجزریؒنے مدینہ، مکہ،کوفہ بصرہ اور شام میں صحابہ کے شاگردوں یعنی تابعین کے تقریباً چالیس نام ذکر کیے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں قراء ات میں صرف کردیں(۵۹)۔  سینکڑوں تابعین اس علم کی خدمت میں منہمک ہو گئے اور صحابہ سے تلقی کی بناء کو برقرار رکھتے ہوئے متواتر قراء ات کوآگے پہنچاتے رہے۔

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قراء ات ِ مختلفہ امت کی آسانی کیلئے جائز قرار دی گئیں اور عرضۂ اخیرہ کے بعد لغت ِقریش پر صحابہ کا اجماع ہو جانے سے صرف لہجات کا منقولی اختلاف باقی رہا، یہ اختلاف قطعاً منزل من اللہ اور منقولی تھا۔ صحابہ کرام نے ان مختلف طریقہ ہائے قراء ت کو محفوظ رکھا اور امت تک اس کو بعینہٖ پہنچا دیا۔ علامہ ابن خلدون (م۸۰۸ھ) قرآن کی تاریخ اور اس کے تواتر کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

الا ان الصحابۃ رووہ عن رسول اﷲ ﷺ علی طرق مختلفۃ فی بعض الفاظہ وکیفیات الحروف فی ادائہا وتنوقل ذلک الی ان استقرت منہا سبع طرق معینۃ، تواتر نقلہا ایضا بادائہا واختصت بالانتساب الی ان اشتہر بروایتہا من الجم الغفیر ، فصارت ہذہ القراء ات السبع اصولاً للقر اء ۃ(۶۰)

یعنی صحابہ نے جو مختلف طرقِ تلاوت ، آپ  ﷺ سے سیکھے وہ نقل ہوتے ہوئے سات قرار پائے۔ متواتر طریقے سے لوگوں کے جمِ غفیر نے ان قراء ات کواخذ کیایہاں تک کہ یہ سات قراء ات اصولِ قراء ت بن گئے۔

تابعین اور تبع تابعین نے سبعہ احرف کے موافق قرآن کے حروف وکلمات کی تعلیم دی اور انہی کی ترویج واشاعت میں منہمک ہوئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف قبائل کا باہمی اختلاط بھی روز افزوں ہوتا رہا ۔ نسلوں کی دیگر شہروں میں منتقلی سے ان کی صفات اور طبقات میں اختلا ف کا ظہورہوا ۔ بعض لوگ روایات وقراء ات کے ماہر تھے جبکہ بعض قلت ِضبط کا شکار اور روایات سے نا آشنا تھے۔ ایسی صورتِ حال میں ڈر تھا کہ حق اور باطل یعنی صحیح اور غلط کا ملاپ نہ ہوجائے۔ چنانچہ امت کے عظیم علماء اور قراء ات کے ائمہ اٹھ کھڑے ہوئے اور دیگر علومِ قرآنیہ کی طرح قراء ات اور حروفِ قرآن کو جمع کیااور اس میں محنت وجُہد سے چند اصولی قواعد مرتب کیے تاکہ وجوہ اور روایات کی نسبت متعین ہو جائے اور متواتر وشاذ قراء ات میں تمیز ممکن ہو سکے(۶۱)۔ علامہ سیوطیؒ(م۹۱۱ھ) نے قراء صحابہ سے قراء ات اخذ کرنے والے تابعین کے اسمائِ گرامی مختلف شہروں کی تعیین سے شمار کیے ہیںاور لکھتے ہیں کہ سات ائمہ ان میں بہت زیادہ مشہور ہوئے(۶۲)۔

مکی بن ابی طالب القیسی ؒ(م۴۷۳ھ)نے قرا ئِ سبعہ کی قراء ات مشہور ہونے کی وجہ یہ لکھی ہے کہ ائمہ قرا ء سے روایت کرنے والے دوسری اور تیسری صدی میں بہت ہو گئے اور ان کے مابین اختلافِ کثیر پایا جانے لگا، لوگ اِن حالات کے پیش نظر چوتھی صدی میں صرف ان قراء ات پر اکتفاء کرنے لگے جو مصحف کے موافق اور حفظ وضبط کے لحاظ سے محکم ترین تھیں۔چنانچہ انہوں نے مشہور،ثقہ،امانت ودیانت ، اور علم کے اعتبار سے کامل لمبی عمر کے ان ائمہ ٔقراء ات کا انتخاب کیا جن پر اہلِ زمانہ کے تمام اہلِ علم ودیانت کا اتفاق تھا اوران تمام علاقوں میں سے ایک ایک امام چنا جن میں مصاحفِ عثمانیہ بھیجے گئے۔مثلاً ابو عمرو بصرہ سے ،حمزۃاورعاصم کوفہ سے،کسائی عراق سے ، ابن کثیر مکہ،ابن عامر شام اور نافع مدینہ سے منتخب ہوئے۔متفرق شہروں سے لوگ کوچ کر کے اس علم کی تحصیل کے لئے ان ائمہ کی طرف رجوع کرنے لگے(۶۳)۔ علامہ الدمیاطی البناء(م۱۱۱۷ھ) نے ائمہ مشہورین سے اخذِ قراء ات کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

اہل البدعۃ والاہواء یقراء ون بما لا یحل تلاوتہ وفاقا لبدعتہم، اجمع رأی المسلمین ان یتفقوا علی قراء ا ت ائمۃ ثقات تجردوا للاعتناء بشان القرآن العظیم ، فاختاروا من کل مصر وجہ الیہ مصحف ائمۃ مشہورین بالثقۃ والامانۃ فی النقل ،وحسن الدرایۃ وکمال العلم(۶۴)

 اہل بدعت اور نفس پرست لوگوں نے ایسے قراء ات پڑھنا شروع کردیں جو جائز نہ تھیںتاکہ وہ اپنی بدعت کو رواج دیں ۔ ان حالات میں مسلمانوں نے ائمہ ثقات پر اتفاق کر کے قراء ات اخذ کیں، جن کی زندگیاں قرآنِ عظیم کی خدمت میں گزریں جو امانت، نقل وعدالت اور علم میں کامل تھے۔

ان کی یہی خدمات آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا کے مختلف حصوں میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں،مثلا:

            روایت حفص الدوری عن ابی عمرو البصری: یہ روایت صومال، سوڈان ، نیجیریا،وسطی افریقی ممالک میںعمومی طور پر پھیلی ہوئی ہے ۔

            روایت ورش المصری عن نافع المدنی: یہ روایت بلاد مغرب (الجزائر ،مغرب اورموریتانیا)، مغربی افریقہ(سینیگال، نائیجیریا ،مالے وغیرہ) اور کسی حد تک مصرکے نواحی علاقوں ،لیبیا اورتونس۔ یہ روایت ابتدائی صدیوں میں مصر میں خوب پھیلی اور یہیں سے دوسرے علاقوں تک پہنچی۔

            روایت قالون عن نافع: یہ لیبیا اورتونس کے اکثرعلاقوں میں شائع ہے ۔اسی طرح روایت حفص عن عاصم براعظم ہند اور دنیا کے اکثرممالک میں معروف ہے۔روایت ورش جس کا تقابل بالعموم مستشرقین باقی روایات سے کرتے نظرآتے ہیں،اور اس کے ذریعے قرآن کریم کی حقانیت کو مشکوک قراردینے کی کوشش کرتے ہیں ،مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کی شہرت اور ترویج واشاعت کی سند اور تاریخ بیان کی جائے۔

روایت ورش کی ترویج:  تاریخی جائزہ

مدینہ منورہ میں دو اماموںاما م نافع بن ابی نُعیم اورمالک بن انس کے مسجد نبوی ﷺکے صحن میں قائم کردہ تعلیم وروایت کے حلقات کے ذریعے روایت ورش افریقی ممالک ، قیروان ،مغرب اوراندلس وغیرہ تک آٹھویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پہنچی،ایک ہی وقت میں ان ائمہ کرام سے اخذ و تشفی کے بعداپنے اپنے ممالک میں لوٹ جانے والوں کے ذریعے ان روایات کا شیوع ہوتا رہا،تیونس ، الجزائر اور مغرب اقصی اور اہل اندلس میں مدینہ کی یہ روایت براہ راست پہنچی۔ یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ بلاد مغرب میں امام نافع مدنی سے قراء ت کی روایت اور امام مالک بن انس (امام دارالہجرت) سے  فقہ مالکی پھیلی۔چنانچہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جس طرح ورش کی روایت امام نافع کی زندگی ہی میں افریقہ ، قیروان اور اندلس میں مروج ہوئی اسی طرح امام مالک کی المؤطأ ـ اور مالکی مذہب بھی ان کی زندگی میں رائج ہوا۔اولین شخص جس نے ان دونوں اماموں سے روایت لے کر قرطبہ کا رخ کیا وہ امام ابو محمد الغازی بن قیس القرطبی (م۱۹۹ھ) ہیں ،انہوں نے دوسری صدی میں عبد الرحمن الداخل اموی (امیر قرطبہ واندلس)کے عہد میں ایک مدت مدینہ منورہ میں قیام کیا اور امام نافع و مالک سے قراء ت، حدیث اور فقہ میں اخذواستفادہ کیا۔انہی سے  مؤطأ بھی روایت ہوئی ، یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مدینہ کی قراء ت اور مذھب مالکی اور مؤطاء کی روایت کو مغرب میں متعارف کرایا۔انہوں نے اپنے مصحف کو امام نافع اور اہل مدینہ کے مصحف پرتیرہ یا چودہ مرتبہ پیش کیا۔(۶۵)

بعد ازاں یہی روایت امام ورش کے ذریعہ بلاد اندلس سے مصر میں امام نافع( ۱۶۹ھ-۷۸۶م) اورامام مالک( ۱۷۹ھ-۷۹۵م)کی وفات کے بعد منتقل ہوئی۔اس طرح مصر میں مدرسہ ورش کی روایت مقبول ہوئی،امام مالک اور امام نافع کی حیات مبارکہ ہی میں ان کے فیض یافتہ اندلسی عالم اور قاری محمد بن عبد اللہ القرطبی نے ورش پر ان کی قراء ات کو پیش کیا۔(۶۶)…

یہی سلسلہ چلتا رہایہاں تک کہ روایت ورش امام ابی عبد اللہ محمد بن وضاح القرطبی(م۲۷۶ھ) کے ذریعہ مزید تقویت حاصل کرگئی ،وضاح القرطبی قرطبہ سے مصر تشریف لائے ، اور روایت ورش کو اپنے ساتھی ابی الازھر عبد الصمد بن عبد الرحمن بن القاسم العتقی(م۲۳۴ھ) پر بھی پیش کیا۔ابن الجزری نے غایۃ النھایۃ میں محمد بن وضاح سے متعلق ذکرکیاہے :

ومن وقتہ اعتمداھل الاندلس علی روایۃ ورش، وصارت عندھم مدونۃ، وکانوا قبل ذلک معتمدین علی روایۃ الغازی بن قیس عن نافع (۶۷)…

 اس وقت سے اہل اندلس روایت ورش پراعتماد کرتے ہیں،اور ان کے نزدیک یہ مدون ہوچکی ہے، اس سے سے پہلے یہ لوگ غازی بن قیس عن نافع کی روایت پر اعتماد کرتے تھے ۔

رحلات علمی کی ایک تاریخ ہے جو اس بعد بھی جاری رہی،اندلس سے  امام ابو عبد اللہ محمد بن عمر بن خیرون(م۳۰۶ھ) مصرتشریف لائے ، اور مشاہیر قراء کرام مدرسہ ورش سے روایت حاصل کی اور قیروان میں اقامت اختیارکرلی،ان سے روایت ورش کے متعدد طرق ظاہرہوئے ،علی سبیل الاختصاص طریق ابی یعقوب یوسف الازرق (جو کہ امام ورش کے بااعتماد،عظیم اور لمبی صحبت اختیار کرنے والے ساتھی تھے )، ان کے ذریعہ مغرب اوراندلس میں یہ روایت خوب پھیلی،لکھنے ، پڑھنے اور تادیب وتعلیم میں اسی پر اعتماد کیاجانے لگا، چنانچہ ورش کی روایت ابی یعقوب یوسف الازرق کے طریق سے اہل مغرب میں رائج ہوئی،مؤلفین اور محققین جیسے امام دانی التیسیرمیں ، امام شاطبی حرز الامانی میں اورابن برّی الدرر اللوامعمیں اسی پر اعتماد کرتے چلے آئے ہیں۔اہل مغرب روایت ورش علی طریق الازرق کے علاوہ دو اور طرق بھی استعمال میں لاتے ہیں ، ایک طریق ابی الازھر عبد الصمد العُتقی، اوردوسراطریق ابی بکر محمد بن عبد الرحیم الاصبہانی سے ہے ۔(۶۸)

خلاصۂ ِبحث یہ ہے کہ قراء ات سینہ بہ سینہ تلقی اور تلقین کے ذریعہ پھیلی ہیںاور اس میں رو برو نقل اور سماع کا عنصر یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کی حیثیت توقیفی ہے ،ان میں قیاس یا رائے کا قطعاً کوئی دخل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام قراء ِکرام اپنی قراء ات کی نسبت صحابہ کی طرف کرتے ہیں اور سب اپنی اسنا دکو رسو ل اللہ  ﷺ سے مربوط کرتے ہیں۔ امام قرطبی ؒ نے خطابی کا یہ قول اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ حجاز شام اور عراق کے اصحابِ قر اء ات نے اپنی قراء ا ت کی نسبت ان صحابہ کی طرف کی ہے جن سے انہوں نے اِن قراء ات کو اخذ کیا۔ چنانچہ عاصم نے اپنی قراء ا ت کی سند حضرت علیؓ اور ابن مسعود ؓ  کی طرف کی ہے۔ابن کثیر اور ابو عمرو ابن العلا نے حضرت ابي بن کعب کی طرف اور عبد اللہ بن عامر نے حضرت عثمان کی طرف نسبت کی ہے۔ ان سب حضرات صحابہ رضی اللہ عنھم نے آپ  ﷺ سے قرآن پڑھا ،ان  قراء ات کی اسناد متصل اور رجال ثقہ ہیں(۶۹)۔

علامہ ابن الجزریؒ(م۸۳۳ھ) قراء ت میں اثرِ صحیح اور نقل کا تذکرہ کرتے ہوئے ائمہ قراء ات کے عمل کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وائمۃ القراء ات لا تعمل فی شیئ من حروف القرآن علی الافشی فی اللغۃ والاقیس فی العربیۃ بل علی الاثبت فی الاثر والاصح فی النقل (۷۰)

ائمہ قراء ات کسی بھی قرآنی حر ف میں مروج ترین لغت اور قیاس سے موافق ترین عربی قاعدہ پر عمل نہیں کرتے بلکہ مذکور صحیح ترین روایت پر عمل کرتے ہیں۔

حوالے و حواشی

۱۔          علامہ سیوطی(م۹۱۱ھ)نے امام ابو عبید القاسم بن سلام(م۲۲۴ھ)کی فضائل القرآن سے اس ضمن میں یہ اقتباس نقل کیا ہے :  المقصد من القراء ات الشاذۃ تفسیر القراء ۃ المشھورۃ۔ دیکھئے:  الاتقان فی علوم القرآن ،قاہرہ ،۱۳۶۸ھ،ص ۸۲

۲۔         واضح رہے کہ یہ ماہرین ،قراء ات کے اس نظام کے واضع یا مصنف نہیں سمجھے جاتے بلکہ اس فن میں درجہ استناد پر فائز شخصیات شمار ہوتی ہیں،جیسا کہ علامہ ابن خلدون(م۸۰۸ھ)نے تصریح کی ہے کہ ان ماہرین فن میں ہر ایک انفرادی حیثیت میں میں ایک پورے مکتبہ فکر کے نمائندہ ہیں اور کسی بھی طرح ان قراء ات کے موجد یا مخترع نہیں ہیں۔دیکھئے تاریخ،بیروت، ۸۷۔۱۳۸۶ھ، ص ۷۸۲: امام ورش کے حالات کے لیے ملاحظہ کیجئے:  معرفۃ القراء الکبار، ۱/۱۲۸۔۱۲۷

۳۔         مغربی اور شمال مغربی افریقہ میںمدینہ کی قراء ات یمن کے زیدیہ نے محفوظ کررکھی تھیں اور وہ اسکو امام نافع کی طرف منسوب کرتے تھے،دیکھئے:

            R.B.Serjeant and R. Lewcock, eds., San'a', An Arabian Islamic City(London,1983),316b جہاں ورش کی نسبت قالون کی زیادہ معروف رہی اور صنعا کی جامع مسجد کی کھدائیوں کے دوران بھی اس کے آثار ملے اور وہی یمن میں شائع بھی ہوئے لیکن اصلی قرآن کی کاپیاںطبع نہ ہوئیں،ورش کے مطابق قرآن کی طباعت قاہرہ اور سعودی عرب میں جبکہ حفص کی تیونس میں ہوتی ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے:

            A. Brockett, Studies in two Transmissions of the Qur'an, Ph.D. thesis (St Andrews University, 1984),43-71.

۔۴         N. Abbott, The Rise of the North Arabic Script (Chicago, 1939), p. 63.

۵۔         صحائف قرآنیہ ہی سے اسکے متن کا درست مطالعہ ہوسکتا ہے لیکن یہ مصاحف بہت کم ملتے ہیں،البتہ جو کچھ ہمیں اس حوالے سے مواد ملتا ہے مثلا حسن بصری کا رسالۃاور سیبویہ کی  الکتابسے ،اسکو انتہائی حزم و احتیاط سے پرکھنا چاہئے،کیونکہ اسکی بعض قراء ات مصاحف میں بھی ملتی ہیں۔

۶۔         برجسٹراسر(Bergstrasser)کی موت اس کا اور آرتھر جیفری(Arthur Jefferi)کا نئے قرآنی متن کی تلاش کا منصوبہ(جس کے تحت انہوں نے کتابیںبھی لکھیں) اپنی موت مرگیا،لیکن اسکی ضرورت آج بھی محسوس کی جاتی ہے،دیکھئے:

            Andrew Rippin, The Present Status of Tafsir Studies, M W 72(1982),224.

ٔٔٔ۷۔         تفصیل کے لئے دیکھئے:

            Brockett, Studies, 45-62

۔۸         Brockett, Studies, 115-17

۹۔         ایضا، ص۱۴۱ا۔۱۱۱،۱۔۱۲۰۔

۱۰۔         Graphic form کو رسم ،خط، کتاب،کتابت اور کتب وغیرہ جبکہVocal formکوضبط،لفظ اور نطق بھی کہتے ہیں،ایضا، ص۳۳۔۱۲۴

۱۱۔         دیکھئے لبیب السعید،المصحف المرتل(The Recited Koran)  پرنسٹن،۱۹۷۵ء

۱۲۔        ابن الجزری،النشر،  ۲/۲۱۲                      ۱۳۔        ایضاً،ص۲۲۲

۱۴۔        ایضا،ص۲۴۲ و۲۲۰اتا ۲۵۴                                 

۱۵۔        الزمخشری،جاراللہ،الکشاف عن حقائق التنزیل،بیروت،ج۱ص۴۶۳

۱۶۔        ایضاً،۶۲۰                           ۱۷۔        ابن الجزری،النشر،  ۲/۲۵۵

۱۸۔        الطبری،محمد ابن جریر،جامع البیان فی تفسیر آی القرآن، ۱۰/۴۲۱

۱۹۔         سیبویہ ، الکتاب،قاہرہ،۱۳۶۱ھ، ۲/۴۲۴

۲۰۔        الدانی، المقنع فی رسم مصاحف الامصار،ص۱۱۰،نیز ۱۱۶ و۱۱۸

۲۱۔        ابن الجزری،النشر،ج۱ص۱۳،نیز دیکھئے:

            J.   Burton,The Collection of the Quran,Cambridge,1977,  p.149, 206.

۲۲۔        اس حوالے سے ہم Jonesسے اختلاف رکھتے ہیں،جس نے اپنی کتابThe Qur'an میں یہ موقف اختیار کیا کہ حفص اور ورش کے اختلافات سے معانی کا تضاد واقع ہوتا ہے،واضح رہے کہ جونز کی کتاب کیمبرج سے ۱۹۸۳ء میں شائع ہوئی۔دیکھئے ج۱ ص۲۴۴۔

۲۳۔       ابن الجزری نے اس اختلافی روایت کوالنشر فی القراء ات العشر،ج۲،ص۲۳۱میں بغیر کسی تبصرہ کے نقل کیاہے۔  اسی طرح دیکھئے ابو عبیدہ،مجاز القرآن،القاہرہ  ۱۳۷۴و ۱۳۸۱ھ نیز طوسی کی التبیان فی تفسیر القرآن،نجف، ۱۳۷۵ھ،ص۸

۲۴۔       دیکھئے:  الزمخشری،الکشاف ،ج۱ ص ۴۲۷۔

۲۵۔       ابن الجزری ،النشر فی القراء ات العشر،ج۲،ص۲۵۵

۲۶۔        الشافعی، کتاب الام،قاہرہ،۱۳۸۱ھ،ج۲ص۱۰۴

۲۷۔       ابن حجر ،فتح الباری،قاہرہ،۱۳۷۸ھ،ج۹ص۲۴۶

۲۸۔       الزمخشری،الکشاف،ج۱ص۳۵۵

۲۹۔        الطبری،محمد ابن جریر،جامع البیان فی تفسیر آی القرآن، ۳/۴۳۸و۴۴۰

۳۰۔       ایضاً، ۳/۴۳۰

۳۱۔        ولیم میور نے بھی ایک صدی قبل بیان دیا تھاکہ مصحف عثمان نسل در نسل منتقل ہوتا ہمارے زمانے تک بغیر کسی تبدیلی کے پہونچاہے اور اس قدر احتیاط سے محفوظ رہا ہے کہ اسلامی دنیامیںپھیلے قرآنی مصاحف میں کوئی ایک بھی اہمیت کا حامل اختلاف نہیںپایا گیا۔۔۔غالبا دنیا میں متن قرآن کی طرح کا کوئی نمونہ تحریف وتغیر سے پاک موجود نہیں ہے ،جو بارہ صدیوں سے  اس طرح محفوظ ومامون ہو۔دیکھئےWilliam Mure, The Life of Mohamet, London 1858: i,xiv-xvاسی طرح کا بیان دوبارہ سے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

   ۔۳۲See, e.g., H.Gunkle, The Legends of Genesis, (Chicago,1907),   9 8f.

۔۳۳       See J.Pedersen, Israel,its Life and Culture, London 1926,127; H.A.R. Gibb, Modern Trends in Islam, (Chicago,1947), 5.

۔۳۴       E. Nielsen, Oral Tradition,  London,1961, 37.         

 ۔۳۵      P.Crone, Slaves on Horses, Cambridge,1980, 7.

 ۔۳۶E. Nielsen, Oral Tradition, London, 1961, pp. 34ff.  See also Arthur Jeffery, The Quran as Scripture, New York, 1952,17.Cf. قرآن کی اسی زبانی روایت کا انکار الفونس منگانا نے کیا ہے ۔ دیکھئے Transmisssion of the Quran; MW7 (1917), 223-32, 402-14.

ٔٔٔ۔۳۷Burton.,pp.239,162,188.

ٔٔ۳۸۔ النشر،۱؍۶

۳۹۔       القیسی،مکی بن ابی طالب،الابانۃ عن معانی القراء ات،ص۴۶

۴۰۔        بخاری،الجامع الصحیح،۶؍۱۰۰                        ۴۱۔        النشر،۱؍۶

۴۲۔       ابن ابی داؤد،کتاب المصاحف،ص۹

۴۳۔بخاری،الجامع الصحیح،۶؍۹۸…تفصیل کیلئے فتح الباری(۹؍۱۴)ملاحظہ ہو۔

۴۴۔البرہان،۱؍۳۳۲                                                     ۴۵۔       الا تقان،۱؍۱۶۶

۴۶۔علامہ دانی نے اپنی تصنیف  المقنع میں ایک روایت اس بارے میں ذکر کی ہے جس میں مہاجرین کی بابت معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کتابت اہلِ حیرہ سے سیکھی لہٰذا قرآن کا رسم الخط بھی اول حیری تھا بعد میں کوفی اورنسخی کا استعمال ہوا ۔(المقنع،ص۱۹)۔

۴۷۔       کردی،  تاریخ القرآن،  ص۲۸

۴۸۔       ہمزہ کے فتحہ ،ذال کے سکون،راء کے فتحہ اورباء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے ۔عراق کے شہروں میں سے ایک پہاڑی علاقہ کا نام ہے۔(یاقوت الحموی، معجم البلدان،۱؍۱۲۸)

۴۹۔        ہمزہ کے کسرہ اورراء کے سکون کے ساتھ پڑھاجاتا ہے ،مشہور شہر کانام ہے۔خلافت ِعثمان میں ۲۴ھ میں فتح ہوا۔(معجم البلدان،۱؍۱۵۹)

۵۰۔        بخاری،الجامع الصحیح،کتاب فضائل القرآن،باب جمع القرآن

۵۱۔        ابن حجر،فتح الباری،کتاب فضائل القرآن،باب جمع القرآن،۱۰؍۳۹۲

۵۲۔       الفہرست لابن ندیم، ص۳۷…فضائل القرآن لابی عبید، ص۱۵۴

۵۳۔ البرہان،۱؍۳۲۹                                                     ۵۴۔  ابوعبید،فضائل القرآن،ص۱۵۷

۵۵۔ مرجعِ سابق                               

۵۶۔       تفصیل کیلئے  المرشد الوجیز،ص۴۹تا۷۶ ملاحظہ ہو۔

۵۷۔ ابن القاصح،تلخیص الفوائد،ص۱۶…کردی،تاریخ القرآن ،ص۸۰

۵۸۔  زرقانی،مناہل العرفان،۱؍۴۰۶   ۵۹۔        ابن الجزری، النشر

۶۰۔        سخاوی،جمال القراء وکمال الاقراء،۲؍۲۴۵…ان حضرات کے تفصیلی سوانحی اور علمی حالات وخدمات کیلئے: ابن الجزری،غایۃ النہایۃ، ۱؍۴۳۹ و۴۴۰ ؛ النشر، ۱؍۳۲تا۵۳؛ الذہبی،  معرفۃ القراء الکبار،  ۱ ؍۴۹؛  زرقانی، مناہل العرفان، ۱؍۴۱۵  و ۴۱۶ ملاحظہ فرمائیں۔

۶۱۔        ابن خلدون عبدالرحمن،مقدمہ ابن خلدون،۱؍۴۳۷

۶۲۔                    النشر،۱؍۱۵ملخصاً                                                          ۶۳۔  الاتقان،۱؍۳۵۲

۶۴۔        الابانۃ عن معانی القراء ات،ص۴۷و۴۸

۶۵۔       تفصیل کے لئے دیکھئے : ابو داود سلیمان بن نجاح ،کتاب التنزیل فی رسم المصاحف و ابن الجزری، غایۃ النھایۃ فی طبقات القراء، (۲/۲  رقم ۲۵۴۳)

۶۶۔        تفصیل کے لئے دیکھئے : ابن الجزری ، غایۃالنھایۃ،  ۲/۱۸۹ رقم الترجمۃ ۳۱۹۷

۶۷۔  ابن الجزری،غایۃالنھایۃ، ۲/۲۷۵۔

۶۸۔  قراء ِسبعہ کے تفصیلی حالات کیلئے معرفۃ القراء الکبار،لطائف الاشارات، الاتقان اور  جمال القراء وکمال الاقراء وغیرہ ملاحظہ ہوں۔

۶۹۔  الدمیاطی،اتحاف فضلاء البشر،ص۵، ۶                    ۷۰۔  النشر،۱؍۱۰