ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار
پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

مقدمۃ التفسیر میں مولیناٰ محمد ادریس کاندھلوی ؒ  کا منہج

 پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی 

اللہ تعالیٰ نے برصغیر پاک و ہند کو یہ سعادت عطاء فرمائی ہے کہ اِس علاقہ سے منسوب شخصیات نے اِس دین متین کی علوم و معارف، تصنیفات و تالیفات اور درس و خطبات کے ذریعہ جس طرح خدمت کی ہے، وہ علوم ِاسلامیہ کے ارتقاء کی تاریخ میں نمایاں مقام کی حامل ہے۔

        مولیناٰ محمد ادریس کاندھلویؒ کا شمار برصغیر کے انہی علماء و ادباء میں شمار ہوتا ہے جو بیک وقت محدث بھی ہیں، مفسر بھی، سیرۃ نگار بھی ہیں اور عقائد و کلام کے ماہر بھی، ادیب بھی ہیں اور شاعر بھی۔ مولیناٰ ہندوستان کے صوبہ اُتر پردیش  (U.P.) کے مردم خیز قصبہ کاندھلہ سے تعلق رکھتے ہیں، کاندھلہ وہ قصبہ ہے کہ بقول احسان دانش متعدد شاعر، جدید مولوی، انگریزی کے فارغ التحصیل بھی اور اصول و عقیدہ کے لحاظ سے انگریزی کو گناہ خیال کرنے والے صاحبِ نظر بھی اور وہ علماء اور اہل دانش بھی کہ جن کی وجہ  سے دنیا کے دارالعلوم کاندھلہ کا نام عزت سے لیتے ہیں، اسی قصبہ کے خاک سے اٹھے۔ (۱)

     مولیناٰ محمد ادریس کاندھلوی کے والد گرامی مولیناٰ حافظ محمد اسمٰعیل کاندھلوی جن دنوں بسلسلہ ملازمت بھوپال میں مقیم تھے، وہاں قیام کے دوران ۱۲ ربیع الثانی ۱۳۱۷ھ /

۲۰  اگست ۱۸۹۹ء کو اُن کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی جس کا نام محمد ادریس رکھا گیا۔(۲)

تعلیمی و تدریسی زندگی

        مولیناٰ نے تعلیم کی ابتداء کاندھلہ میں حفظِ قرآن کریم سے کی , علوم ِدینیہ کے حصول کی ابتداءمولیناٰ اشرف علی تھانوی کےمدرسہ امدادیہ سے کی اورمظاہر علوم، سہارنپور اور دارالعلوم دیوبند سےاعلیٰ تعلیم  حاصل کی۔ ۱۳۳۸ھ/۱۹۲۱ء سے مفتی کفایت اللہ صاحب  کے قائم کردہ مدرسہ امینیہ دھلی سے تدریسی زندگی کا آغاز ہوا اور ایک سال بعد ہی آپ کومادرِ علمی دارالعلوم دیوبند میں تدریس کی پیش کش کی گئی جو آپ نے قبول فرمالی۔ دارالعلوم دیوبند سے یہ تعلق کم و بیش نو سال قائم رہا۔

حیدرآباد دکن میں قیام

        حیدرآباد دکن میں نوبرس پرمشتمل قیام آپ کی زندگی میں اس اعتبار سے تاریخی گردانا جا سکتا ہے کہ وہاں قیام کے دوران آپ نے عظیم الشان کتاب التعلیق الصبیح علی مشکوٰۃ  المصابیح تالیف کی ۔ حیدرآباد دکن میں قیام کے دوران دنیائے علم کے ایک عظیم کتب خانہ، کتب خانہ آصفیہ میں موجود بعض نادر مخطوطات سے استفادہ کیا جن میں تور بشتی کی المفاتیح شرح مصابیح سب سے اہم ہیں، جس سے آپ نے التعلیق میں استفادہ کیا اور بعض مقامات پر سیرۃ المصطفیٰ میں بھی اس کے حوالہ جات موجود ہیں۔ (۳)

پاکستان ہجرت

        ۱۹۳۹ء میں آپ شیخ التفسیر کے منصب پر دوبارہ دارالعلوم دیوبند آگئے اور ۱۹۴۹ء یعنی پاکستان ہجرت تک اسی منصب پر فائز رہے۔ مئی ۱۹۴۹ء میں آپ نے نقلِ وطن  کا ارادہ فرمایا۔ دسمبر ۱۹۴۹ء میں آپ نے پاکستان آ کر جامعہ عباسیہ، بہاولپور کے شیخ الجامعہ کا منصب سنبھالا اور ۱۶ اگست ۱۹۵۱ء کو بانی جامعہ اشرفیہ مفتی محمد حسنؒ کی دعوت پر جامعہ اشرفیہ میں شیخ الحدیث کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئے اور وفات تک اسی منصب پر فائز رہے۔

        ۲۸ء جولائی ۱۹۷۴ء/۸ رجب ۱۳۹۴ھ کو صبح صادق کے وقت آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔

تصنیفی خدمات

علوم تفسیر، حدیث، سیرۃ، کلام وعقائد پر مولیناٰ کی چھوٹی بڑی تصنیفات کی کل تعداد سو (۱۰۰)ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اردو خواں طبقہ میں تفسیر معارف القرآن، سیرۃ المصطفی اور عقائد اسلام کے ذریعہ مولیناٰ کو قبول عام عطاء فرمایا جبکہ عالم عرب میں آپ کی شہر ت آپ کی تالیف   التعلیق الصبیح علی مشکوٰۃ المصابیح  کے ذریعہ پہنچی (۴)۔

مقدمہ التفسیر

ہر علم کے کچھ اصول اور مبادی ہوتے ہیں جن پر اس علم کی بنیاد ہوتی ہے ان اصول و کلیات کا علم حاصل کئے بغیر انسان اس علم میں مہارت و دسترس حاصل نہیں کرسکتا۔ ، علماء مفسرین ان اصول و مبادیات پرتصنیف و تالیف میں ہمیشہ مشغول رہے ہیں۔ علوم قرآنی اور اصول تفسیر پر ادبی ذخیرہ کےدو حصےہیں:

الف۔ بعض علماء و مفسرین نے اس پر مستقل تصانیف مرتب کی ہیں ان تصانیف میں سیوطی کی الاتقان اور صابونی کی التبیان سب سے زیادہ مقبول ہیں دور جدید کی کتب میں صبحی صالح کی مباحث فی علوم القرآن سے بکثرت استفادہ کیا جاتا ہے۔اردو میں بھی اس سلسلہ میں گرانقدر ذخیرہ موجود ہے

ب۔  کم وبیش تمام قدیم مفسرین نے اپنی تفاسیر کے مقدمہ میں تفسیر کے بنیادی اور اساسی اصولوں پر بحث کی ہے۔

مولانا کی تفسیری خدمات کا باب ایک وسیع باب ہے، ان تفسیری خدمات میں اردو میں معارف القرآن  سب سے  نمایاں لیکن زیرِنظر مضمون میں  اصول و کلیات تفسیر پر مبنی ایک تحقیقی مقالہ کا تعارف پیش کیا جائے گا جس کا نام ہی مولانا نے مقدمہ التفسیر رکھا ہے یعنی جس طرح ہر کتاب کا مقدمہ اس کی ابتداء میں ہوتا ہے اسی طرح علوم تفسیر پر بحث کرنے سے قبل، ان اصول و قواعد سے تعارف ضروری ہے کہ یہ قصر تفسیر میں داخلہ کا دروازہ ہے۔کسی مفسر  کے مرتب کردہ تفسیری ذخیرہ کا دروازہ آپ کا مقالہ مقدمہ التفسیر ہے  ان صفحات میں اس کا تعارف پیش کیا جائے گا۔

وجہ تالیف

     مقدمہ التفسیر کے حرف آغاز میں اس کی تصنیف کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

علم تفسیر میں یہ مختصر مقدمہ طلباء کو اللہ کے کلام کو سمجھنے میں مدد دے گا چنانچہ جو اس فن میں مکمل دسترس چاہتا ہو، وہ الاتقان کا مطالعہ کرے اور جو انتہائی اختصار چاہتا ہے وہ الاتقان کی تلخیص التبیان کا مطالعہ کرے، اس مختصر مقدمہ میں منقح علم، قابل فہم کلام اور مفصل بیان قاری کو ملے گا جس میں علم تفسیر کے صرف ان اصول و مبادیات پر بحث ہے جن کی علم تفسیر میں ایک قاری کو زیادہ ضرورت ہوتی ہے، اس مقدمہ میں میں نے موضوع پر گفتگو کو زیادہ پھیلانے کی بجائے سمیٹنے اور سلف کے علوم کا جوہر اور نچوڑ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔(۵)

        یعنی مولانا نے اس مقدمہ میں یہ ارادہ کیا ہے کہ اس کے ذریعہ آسان اور عام فہم زبان میں علماء سلف کی تحریروں اور ان کے علوم کا جوہر و لباب اس طرح پیش کر دیا جائے کہ اس میں غیر ٖضروری بحثوں سے بھی اجتناب ہو، کلام میں بھی زیادہ طوالت نہ ہو، لیکن ایسا مختصر بھی نہ ہو کہ اس کو سمجھنے میں مشکل پیش آئے۔ مولانا نے اپنے اس مقدمہ میں یقیناً اس خوبی کو برقرار رکھا ہے۔

زمانہ تالیف

خلاف معمول مولانا نے اپنے اس مقدمہ میں نہ تو ابتداء کی کوئی تاریخ تحریر کی ہے اور نہ اختتام کی۔ البتہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بیضاوی کے حاشیہ  کی تالیف سے کچھ پہلے یا تالیف کے دوران لکھا گیا ہے۔ کیونکہ مقدمہ کے آخر میں مولانا نے برصغیر کے کچھ مفسرین اور ان کی تفاسیر کا ذکر کیا ہے، ان تفاسیر کے آخر میں مولانا نے بیضاوی کے اپنے تالیف کردہ حاشیہ کی سرخی تو اسی وقت ڈال دی لیکن اس کا تعارف بعد میں لکھا کیونکہ اس صفحہ کے طرز تحریر میں بھی فرق ہے اور یہ صفحہ پنسل سے لکھا گیا ہے جب کہ سابق صفحات قلم سے لکھے گئےہیں (۶)۔

صفحات مقدمہ

مولانا کے اس مقدمہ کے کل صفحات ۲۳۷ ہیں جن میں صفحہ ۲۲۱ تک تو مسلسل نمبر لگے ہوئے ہیں اس کے بعد نمبر نہیں ہیں درمیان میں متفرق مقامات پر کچھ صفحات خالی ہیں جن کی کل تعداد ۵۲ ہے جب کہ کچھ اٖضافی صفحات لگے ہوئے ہیں جن کی تعداد ۲۴ ہے اس طرح تحریر شدہ مسودہ کے صفحات کی تعداد ۲۰۹ ہو گئی ہے۔

مخطوط کی شکل

مقدمہ التفسیر کا یہ مسودہ مکمل طور پر مولانا کے اپنے ہاتھ کا تحریر کردہ ہے اور صفحات کی ترتیب کے ساتھ ایک جلد میں مجلد ادارہ اشرف التحقیق میں محفوظ ہے۔ اس مخطوط کا ایک ہی نسخہ ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی نسخہ نہیں اور نہ ہی ابھی تک یہ یا اس کا کوئی حصہ زیور طباعت سے آراستہ ہوا ہے۔

مباحث

مولانا نے اپنے اس مقدمہ میں جن اصولی موضوعات پر بحث کی ہے ان میں فضائل قرآن، تعظیم قرآن، آداب قراء ت، کیفیت نزول وحی، قرآن کی سات تلاوتوں پر ہونے کی توضیح، جمع و ترتیب قرآن کریم، اعراب و اعجاز قرآن، اللہ کے کلام کا غیر مخلوق ہونا، قرآن، حدیث اور حدیث قدسی میں فرق، تفسیر و تاویل میں فرق، علم تفسیر کی ضرورت و فضیلت، مراتب تفسیر، آداب مفسر اور طبقات المفسرین شامل ہیں۔ مولانا نے سوائے چند موضوعات کے ہر موضوع پر مختصر بحث کی ہے لیکن ہر بحث مدلل اور محکم ہے۔

ماخذ و مصارد

مولانا نے اس مختصر لیکن تحقیقی مقالہ میں علوم قرآن، تفسیر، حدیث، تاریخ اور اصول و فلسفہ پر مختلف کتب سے استفادہ کیا ہے۔ علوم قرآن میں سیوطی کی الاتقان، صابونی کی التبیان، ابن المبارک یزیری کی غرائب القرآن، کروی کی تاریخ القرآن، تفسیر میں آلوسی کی روح المعانی، ابن جریر کی جامع البیان، قرطبی کی احکام القرآن، حاشیہ الشہاب علی البیضاوی، حدیث میں بخاری، عینی کی عمدۃ القاری، ابن حجر کی فتح الباری، بغوی کی شرح السنہ، طیبی کی شرح مشکوٰۃ، ملا علی قاری کی مرقاۃ، فقہ میں فتاوی ابن تیمیہ، فلسفہ اور اصول دین میں التمہید، خواتم الحکم، ابو الحسن اشعری کی کتاب الابانہ ابن قیم کی الصواعق المرسلہ، بیہقی کی کتاب الاسماء و الصفات اور امام رازی کی نہایۃ العقول سے بکثرت استفادہ کیا ہے۔ ان ماخذ کو دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ دو سو صفحات پر مشتمل اس مقالہ میں مولانا نے کس قدر تحقیق سے کام لیا ہے۔

بعض مباحث

     مولانا نے جو مباحث پیش کیے ہیں، ان میں سے چند ایک بطور استشہاد پیش کیے جائیں گے۔

کیفیت نزول قرآن

     اس بحث میں مولانا نے دو آیات قرآنیہ کو بنیاد بنا کر اس مسئلہ پر بحث کی ہے۔

الف)  شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن (۷)

ب) ان انزلناہ  فی لیلۃ القدر (۸)

ان دو آیات میں حق تعالیٰ جل شانہ نے ارشاد فرمایا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں لیلۃ القدر میں یہ قرآن کریم اتارا گیا  اس سلسلہ میں کچھ سوالات ذہنوں میں ابھرتے ہیں۔

۱۔  رمضان میں نزول قرآن کی کیا حکمت ہے؟

۲۔  کیفیت نزول کیا تھی، کیا ایک ہی مرتبہ قرآن لوح محفوظ سے اترایا حصوں میں؟

۳۔ نبی کریم ﷺ پر ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اترا؟

۴۔ نبی کریم ﷺ پر جبرئیل امین لے کر آتے تھے، جبرئیل امین پر نزول کی کیا کیفیت تھی۔

     مولانا نے لکھا  ہے کہ ایک حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ تمام آسمانی کتب رمضان ہی میں نازل ہوئیں۔ توراۃ چھ (۶) رمضان کو، انجیل تیرہ (۱۳) رمضان کو اور قرآن کریم چوبیس (۲۴) رمضان کو نازل ہوا۔(۹)

     گویا رمضان کتب الہٰی کے نزول کا مہینہ ہے پھر اسی ماہ میں جبرئیل امین نبی کریم ﷺ سے دور ہ کرتے تھے جس کی دو حکمتیں تھیں۔

۱۔   قرآن کریم کا مذاکرہ ہو جائے۔

۲۔  منسوخ آیات کو ختم کر دیا جائے اور غیر منسوخ کو برقرار رکھا جائے۔ گویا رمضان قرآن کریم کے اجمالاً، تفصیلاً مذاکرہ اور احکام کے لئے ایک ظرف قرار دے دیا گیا ہے۔ (۱۰)

دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں۔ کیفیت نزول کے سلسلہ میں مختلف اقوال ہیں۔

۱۔  لیلۃ القدر میں یکبارگی لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اترا پھر  نبی کریم ﷺ پر تھوڑا تھوڑا اترا۔ اس کی تائید ایک حدیث سے ہوتی ہے جسے نسائی، بیہقی اور حاکم نے ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے۔ (۱۱)

۲۔  آسمان دنیا پر ۲۰، ۲۳ یا ۲۵ راتوں میں اترا اور ہر رات ایک سال کے برابر ہے۔ اس طرح آسمان دنیا پر بھی ۲۰، ۲۳ یا ۲۵ سالوں میں اترا۔ یہ روایت قرطبی نے مقاتل بن حیان سے نقل کی ہے۔ (۱۲)

۳۔ نزول کی ابتداء لیلۃ القدر میں ہوئی پھر تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا۔ حاکم کی ایک روایت اس کی تائید کرتی ہے۔ (۱۳)

تیسرے سوال کا جواب یہ دیا۔

ایک ہی دفعہ نازل نہ ہونے کی حکمت خود اللہ نے بیان فرمائی۔  لمنثبت بہ فوادک کہ ہر واقعہ پر آیت نازل ہونے، فرشتہ سے بار بار ملاقات کرنے اور رسالت کی بار بار تجدید کے احساس سے آپ کے دل کو تقویت حاصل ہو گی۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ امی تھے، آپ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا یک بارگی نازل ہونے کے لئے ضروری تھا کہ وہ کسی صحیفہ کی شکل میں یا الواح پر لکھا ہوا نازل ہوتا، اسے آپ امی ہونے کی وجہ سے پڑھ نہ سکتے تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام امی نہ تھے اس لئے ان کو الواح پر لکھی ہوئی کتاب دی گئی۔ تیسری حکمت یہ ہے کہ قرآن کریم میں ناسخ و منسوخ ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً نازل ہو۔(۱۴)

چوتھے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا نےتین اقوال نقل کئے ہیں۔

۱۔  جبرئیل امین وحی کے حصہ کی تلاوت اللہ تعالیٰ سے سنتے، اسے اپنے سینہ میں محفوظ کر لیتے اور پھر نبی کریم ؐ کے سامنے تلاوت فرماتے۔

۲۔  اللہ تعالیٰ لوح محفوظ کا وہ حصہ ان کے سامنے کر دیتے جس پر الفاظ وحی منقش تھے، جبرئیل امین اس کو دیکھ کر سینہ میں محفوظ کر لیتے اور نبی کریم ﷺ پر نازل کرتے۔

     مولانا نے دوسرے قول کی تردید کی ہے اور فرمایا کہ یہ عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے اور غالباً یہ قول ان لوگوں کا ہے جو قرآن کے مخلوق ہونے کے قائل ہیں۔

۳۔ تیسرا قول یہ نقل کیا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ متشابہات میں سےہے، اس پر بحث نہیں کرنی چاہئے۔

     مولانا نے پہلے قول کو ترجیح دی اور تائید میں ایک حدیث پیش کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن کریم کی تلاوت، جبرئیل کے سامنے ہوتی اور وہ اس کو اسی  طرح نبی کریم ﷺ کے سامنے تلاوت کر دیتے، اس کی ترتیب و تلاوت اور تلفظ و قراۃ میں جبرئیل کا کوئی دخل نہیں بلکہ اللہ نے اپنے مقدس کلام کو اسی ترتیب سے الفاظ کے جامہ میں اتارا جس ترتیب کے ساتھ یہ اللہ کے علم ابدی و ازلی میں محفوظ تھا۔ اسی ترتیب سے یہ کلام نبی کریم ﷺ تک پہنچا اور حضورؐ نے ہم تک پہنچایا اور آج تک اسی طرح محفوظ ہے۔ ہم اس کی تلاوت کرتے، پڑھتے، سمجھتے اور لکھتے ہیں۔ (۱۵)

مسئلہ خلق قرآن

اللہ کا کلام مخلوق و حادث ہے یا ازلی و ابدی، یہ مسئلہ ایک معرکۃ الاراء مسئلہ کی حیثیت سے ہمیشہ علماء میں معروف رہا ہے۔ مفسرین میں سے اکثر نے اپنی کتب کے مقدمہ میں اس پر بحث کی ہے، مولانا نے بھی اس مسئلہ پر بہت تفصیل سے بحث کی ہے اور اس مقالہ کی یہ سب سے طویل اور پر مغز بحث ہے۔

مولانا نے پہلے بہت خوبصورت انداز میں تمہید باندھی ہے، پھر حنابلہ  معتزلہ، کرامیہ اور اشاعرہ کے نظریات نقل کئے ہیں۔ سب کے دلائل تفصیل سے بیان کئے اور ان کے جوابات بھی دیئے ہیں۔ آخر میں مولانا نے اہل سنت والجماعت کے دلائل کا ذکر کیا ہے اس تمام بحث کے بعد "خلاصہ کلام" کے عنوان سے چند الفاظ میں حاصل بحث سپرد قلم کی ہے۔ مولانا لکھتے ہیں:

قرآن اللہ کا کلام ہے، یہ عبارت اللہ کے نفسی، غیبی اور قدسی کلمات سے، اللہ تعالیٰ نے ان کلمات کو قرآن کے الفاظ کی صورت میں اسی ترتیب کے ساتھ نازل کیا جو ترتیب اس کے علم ازلی میں موجود تھی جیسے ہم اپنی گفتگو کو اسی ترتیب سے مرتب کرتے ہیں جو ہمارے ذہن میں پہلے سے موجودہوتی ہے لہٰذا قرآن منزل من اللہ ہے، یہ جبرئیل کا کلام ہے نہ نبی کریمؐ کا بلکہ جبرئیل امین اور نبی کریم ﷺ دونوں اس کے قاری اور تلاوت کرنے والے ہیں اور قراء ت و تلاوت دوسرے کے کلام کی جاتی ہے، اپنے کلام کی نہیں۔ (۱۶)

مولانا نے اسی انداز و اسلوب کے ساتھ دقیق، نظری اور فکری  مسائل پر بحث کی ہے۔ (۱۷)

عربی زبان و ادب کے حوالہ سے جائزہ

مولانا کا یہ مقالہ ایک خالص علمی، نظری اور فکری موضوع پر ہے جس میں بہت دقیق علمی نکات بیان کیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود مولانا نے زبان بہت شستہ اورسہل استعمال کی ہے قاری کسی بھی مقام پر مولانا کے الفاظ یا ان کی عبارت سے الجھن کا شکار نہیں ہوتا۔

تقابلی جائزہ

مقدمۃ التفسیر کے اس موضوع پر لکھی گئی دیگر کتب سے تقابل و موازنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ علوم القرآن علوم التفسیر کی نسبت وسیع موضوع ہے۔ علوم تفسیر، علوم قرآن کا ایک حصہ ہے، مولانا نے مقدمۃ التفسیر علوم قرآن پر نہیں بلکہ علوم تفسیر پر مرتب کیا ہے اور اسی موضوع کے تقاضوں کو مدنظر رکھا ہے۔ نزول قرآن کے سلسلہ میں مولانا نے تین سوال  اٹھائے تھے جامعہ ازہر قاہرہ کے شعبہ علوم قرآن و حدیث کے ایک استاد محمد عظیم الزرقانی نے بھی اپنی کتاب مناہل العرفان فی علوم القرآن میں انہی نکات پر بحث کی ہے۔ زرقانی کی بحث طویل ہے جب کہ مولانا کی بحث مختصر اور جامع ہے مزید یہ کہ رمضان میں نزول قرآن کریم کی حکمتوںپر مولانا نے علمی انداز میں بحث کی ہے۔ زرقانی نے اس بحث کو نہیں چھیڑا۔ اسی طرح خلق قرآن کےمسئلہ پر بھی زرقانی نے بحث نہیں کی۔ (۱۸)

        صبحی صالح نے بھی مباحث فی علوم القرآن کے نام سے ایک کتاب تالیف کی ہے، علوم قرآن پر لکھی جانے والے کتب میں عہد جدید کی مقبول ترین کتب میں سے ہے علوم و اصول تفسیر میں سے جن موضوعات پر صبحی صالح نے بحث کی ہے ان میں وحی کے معنی و مصداق پر بحث، قرآن کے سات انداز تلاوت، اسباب نزول، مکی و مدنی سورتوں کا فرق، ناسخ و منسوخ، تاریخ تفسیر شامل ہیں۔ صبحی صالح نے شرائط و آداب تفسیر پر بحث نہیں کی۔ (۱۹)

        مولانا کی اس کتاب کا انداز و اسلوب سیوطی کی التحیر فی علم التفسیر سے بہت مشابہت رکھتا ہے۔ سیوطی نے بھی کم و بیش انہی موضوعات پر بحث کی ہے جن پر مولانا نے مقدمہ التفسیر میں قلم اٹھایا ہے۔ (۲۰)

        اصول و کلیات اور قواعد و ضوابط تفسیر پر مولانا کی یہ خوبصورت اور جامع تحریر ہے جو میدان تفسیر میں قدم رکھنے والے کو ابتداء میں ضرور پڑھنی چاہئے۔ مولانا  کا یہ مخطوط اہل علم اور طالبان علم تفسیر کے لئے ایک گراں مایہ سرمایہ کی حیثیت رکھتا ہے جسے تدوین کے بعد شائع ہو کر ہماری جامعات اور ہمارے دینی مدارس میں شامل نصاب ہونا چاہئے۔

 

حوالے و حواشی

۱۔   احسان دانش، جہان دانش، ۲۰

۲۔   مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مقدمۃ التفسیر۔ (مخطوط)

۳۔  علم تفسیر میں مولانا ادریس کاندھلوی کی خدمات۔ مقالہ پی ایچ ڈی، ۲۱۶، ۲/۷

۴۔  علم تفسیر میں مولانا ادریس کاندھلوی کی خدمات۔ مقالہ پی ایچ ڈی، ۲۳۷، ۲/۷

۵۔  محمد ادریس کاندھلوی، مولانا۔  مقدمہ التفسیر، مخطوط، ص ۱، ۲۔

۶۔   ایضاً: ص ندارد                                       ۷۔     البقرہ،  ۲: ۱۸۵

۸۔  القدر ، ۹۵: ۱

۹۔   احمد بن حنبل، امام،  مسند، بیروت، المکتبہ الاسلامی، ج ۴: ص ۱۰۷۔ بیہقی، ابوبکر احمد بن حسین۔ السنن الکبری، حیدرآباد دکن، دائرہ معارف، ۱۳۵۶ھ،   ۹/ ۱۸۸۔

۱۰۔  اس بحث میں مولانا نے ابن حجر کی فتح الباری،  ۹/ ۳، ابن کثیر کی البدایہ و النہایہ،  ۳/۶۔ اور صابونی کی التبیان ص ۲۸ سے استفادہ کیا ہے۔ دیکھئے : مقدمۃ التفسیر، (مخطوط) ص ۱۱، ۱۲۔

۱۱۔   حاکم، ابو عبداللہ محمد بن عبد اللہ، المستدرک، ریاض، مکتبہ المعارف،   ۱/ ۵۵۳۔

۱۲۔  مولانا کاندھلوی،  مقدمہ التفسیر، ص ۱۲۔

۱۳۔  ایضاً، ص ۱۳۔                                 ۱۴۔     ایضاً، ص ۱۴، ۱۵۔

۱۵۔  ایضاً،  ص ۱۵، ۱۶۔ یہ بڑی لطیف بحث ہے، اس بحث میں مولانا نے امام الحرمین کی الارشاد   پر مدار کیا ہے۔

۱۶۔  یہ بحث مقدمہ التفسیر کے ص  ۷۳۔۱۰۵ ، ۳۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ ص ۱۰۵ پر خلاصہ بحث ہے۔

۱۷۔  مقدمہ التفسیر کی زیادہ تر مباحث مقالہ کے مقدمہ میں گزر چکی ہیں اس لئے یہاں اختصار سے کام لیا گیا ہے۔

۱۸۔  شیخ محمد عبد العظیم الزرقانی کی کتاب جو دراصل جامعہ ازہر کےشعبہ اصول الدین میں پیش کردہ ایک مقالہ ہے، قاہرہ کے داراحیاء الکتب العربیہ سے دو جلدوں میں شائع ہوا ہے۔

۱۹۔  صبحی صالح کی یہ کتاب مباحث فی علوم القرآن، صبحی کی دیگر کتب کی طرح اہل علم میں بہت مقبول ہے۔ دارلعلم بیروت سے متعدد مرتبہ شائع ہو چکی ہے۔

۲۰۔ سیوطی کی یہ کتاب دکتور فتحی عبدالقادر فرید کی تحقیق و تدوین کے ساتھ لاہور دار نشر الکتب الاسلامیہ سے شائع ہوئی ہے۔