ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار 

پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

عربی سیکھئے قرآن کے لئے ، قرآن کے ذریعے 

          الحمد للّٰہ وحدہ والصَّلٰوۃ والسّلام علٰی عبدہ و رسولہ سیدنا محمد النّبی الامّیّ الذی لا نبیّ بعدہ۔ و علی ٰالہ واصحابہ ومن دعا بدعوتہ و تمسّک بسنّتہ الی یوم الدّین ۔

          قرآنِ کریم کی عظمت و فضیلت اور اس کی اہمیت کسی تعریف یا تعارف کی محتاج نہیں۔

          مسلمانوں کے لئے قرآنِ عظیم کی فضیلت کا مقام یہ ہے کہ وہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ یہ خدائے ذ والجلال والاکرام کا وہ ابدی کلام اور سرمدی پیغام ہے جو خیر الانام محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کی روشن دلیل اور معروف ترین معجزہ ہے اور یہ ربّ العالمین‘ احکم الحاکمین اللہ عز ّوجل کی طرف سے خاتم النّبیین رحمۃ للعالمین محمد رسول اللہ ﷺ پر بذریعہ روح الامین نازل کردہ وہ کتابِ مبین ہے جو ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ہے۔ جو برہان و نور ہے اور جو حبل اللہ المتین ہے۔

          اور غیر مسلموں کے لئے… اس کی اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ اس کتاب کی انقلاب آفرینی اور اس کی کایا پلٹ ’’کیمیا گری‘‘ ان کے نزدیک بھی مسلّمہ ہے۔ یہی وہ کتابِ ہدایت ہے جس نے عربوں کو گمنامی اور گمراہی کے گڑھے سے نکال کر شہرت و حکومت اور رفعت و عظمت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

          قرآنِ کریم کی اس عظمت اور اہمیت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

          غیر مسلم اپنی اغراض کے لئے اپنے آپ کو مطالعہ قرآن پر مجبور پاتے ہیں۔ مسلمانوں کی سربلندی کے اصل ’’قرآنی راز‘‘ سے آگاہی حاصل کرنے پر ہی وہ مسلمانوں کو اس ’’نسخۂ کیمیاء‘‘ سے غافل کر کے دوبارہ قعر مذلت میں گرانے کا کوئی مؤثر پروگرام بنا سکتے ہیں۔ یہ قرآنی تعلیمات کی انقلابی اہمیت اور نفوسِ انسانی میں اس کی تاثیر کا خوف ہی تو تھا جس کی بناء پر کفارِ مکہ نے قرآنِ کریم کے بارے میں  وَالْغَوْا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُوْنَ [حٰم السجدۃ : ۲۶] کی وہ پالیسی اپنائی تھی جس میں آج بھی اسلام کے دشمنوں کو اپنے مذموم عزائم کے لئے امید موہوم کی کچھ کرن دکھائی دیتی ہے۔

          مسلمانوں پر تو قرآنِ حکیم پر ایمان لانے کے ساتھ ہی اس کے حقوقِ اربعہ… تعلّم‘ تدبر‘ تعمیل اور تبلیغ کی ادائیگی واجب ہو جاتی ہے۔

          ان میں سے پہلا حق ’’تعلّم قرآن‘‘  یعنی اسے سیکھنے کا ہے۔ جس میں قراء ت اور تلاوت کے ساتھ اس کے معانی کا علم اور اس کے احکام کا فہم بھی شامل ہے اور اس کی روزانہ تلاوت یا قراء ت سے نہ صرف ادائے حقوقِ قرآن کی ابتداء ہوتی ہے ‘بلکہ بافہم تلاوت تو قرآنِ کریم کے باقی تمام حقوق ادا کرنے کے لئے پیہم یاددہانی کا کام بھی دیتی ہے۔

          تعلیم و تعلّم قرآن کے اسباب و ذرائع اور اس کے لئے مطلوب علوم و فنون متعدّد اور متنوّع ہیں یا یوں سمجھئے کہ فہم اور تدّبر کے ساتھ مطالعہ قرآن کا انحصار کئی امور بلکہ علوم پر ہے ۔تاہم بلا اختلافِ حدے… یہ امر مسلّم ہے کہ اس سمت میں پہلا قدم عربی زبان کا کسی درجہ مہارت تک کا معقول فہم ہے۔

          اور اگر عربی زبان کا یہ علم و فہم ماہرانہ اور ’’منبہیانہ‘‘ درجے میں ممکن نہ ہو تو بھی کم از کم عامیانہ اور ’’مبتدیانہ‘‘ سطح سے خاصا اونچا ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ صرف قرآنِ کریم ہی نہیں تمام علومِ اسلامیہ کی اصل اور بنیادی کتابیں عربی زبان ہی میں ہیں۔

          اور یہاں عربی زبان سے ہماری مراد بھی قرآن و حدیث والی زبان ہے جسے اصطلاحاً ’’العربیۃ الفصحٰی‘‘ کہتے ہیں اور یہی زبان دنیا بھر کے مسلمانوں کی مشترکہ دینی اور ثقافتی زبان ہے۔ عربی زبان کی تعلیم کا سب سے بڑا مقصد تو دین فہمی ہی ہے ۔ اگرچہ آج کل عربی سیکھنے کی ضرورت کئی اور پہلوئوں سے بھی محسوس ہونے لگی ہے تاہم عرب ممالک میں بولی جانے والی عام روزمرہ کی (Colloquial) زبان جسے اصطلاحاً ’’اللغۃ الدّارجۃ‘‘کہتے ہیں… اس کا سیکھنا سیاحوں اور عرب ممالک میں کام کرنے والے چھوٹے یا بڑے ملازموں یا دُکانداروں وغیرہ کے لئے چاہے کتنا ہی ضروری یا مفید ہو… قرآن فہمی توکجا قرآن کی درست قراء ت سے بھی اس کا کوئی تعلق نہیں۔

          عربی (یا کسی بھی زبان) کو سیکھنے کے لئے نطق‘ قراء ت اور کتابت (یعنی سننا، بولنا، پڑھنا اور لکھنا ) قرآن فہمی کے لئے عربی سیکھنے میں بھی یہ مہاراتِ اربعہ نا گریز ہیں۔

          اس کا سب سے پہلا مرحلہ ناظرہ قرآن خوانی سے شروع ہوتا ہے۔ عربی حروف کے درست مخارج اوران کی اصوات (آوازوں) کو استماع او رنطق یعنی سن کر بولنے سے ہی سیکھا جاسکتا ہے۔ بعد کے مراحل میں یہ استماع و نطق عربی بول چال بذریعہ حوارو مکالمہ سیکھنے کے لئے بھی استعمال ہو سکتے ہیں اور ہونا چاہئیں… تاہم عربی زبان سیکھنے کی خشت اول، صحیح مخارج اور درست تلفظ کے ساتھ قرآن خوانی کو قرار دینا اتنا اہم کام ہے کہ مشہور مصری عالم دکتور شوقی ضیف (جن کا تخصص ہی عربی گرامر یعنی صرف و نحو ہے) نے اپنی کتاب ’’تجدیدالنحو‘‘ کے ابتدائی دس صفحات (ص۴۹ تا ۵۸) میں کلمہ کی اقسام ثلاثہ ( اسم ، فعل ، حرف ) بیان کرنے کے فورا بعد درست قرآن خونی اور تجوید کے بنیادی قواعد پر مثل مخارج ، اصواتِ حروف، حرکات ، تشدید، تنوین، لین ، مدّ، تفخیم ، ترفیق، ہمزہ قطع و وصل ، حروفِ شمسی و قمری اور ادعام و ابدال پر مفصل بات کی ہے۔ (یعنی یہ تمام امور ’’قرآنی قاعدہ‘‘ میں آجانے چاہئیں )… اور انہوں نے نطق سلیم اور تلفظ کی صحت کو عربی صرف و نحو کی تعلیم کے لئے بنیادی لازمی شرط (PRE-REQUISITE) قرار دیا ہے۔ بلکہ اس چیز سے غفلت کی بنا پر ہی مصریوں کی نئی (نوجوان) نسل کا  لغۃ فصحٰی میں گفتگو کی صورت میں کلمات کے ناقص تلفظ اور حروف کے نطق میں لا اُبالی پن پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔ صحیح مخارج‘ درست تلفظ اور عربی حروف کی صوتی خصوصیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے رواں اور شستہ لہجے میں ناظرہ قرآن خوانی سے تعلیم زبان کی تیسری مطلوبہ مہارت یعنی قراء ت… بلکہ بسرعت قراء ت (RAPID READING) کے حصول کا وہ مرحلہ طے ہو جاتا ہے جو نہ صرف تعلیم زبان (عربی ) کی اہم اساس ہے بلکہ اس کے ذریعے اس سے اگلے مراحل طے کرنے کا کام آسان ہو جاتا ہے۔ اس وقت اگر تیسری مہارت زبان (قراء ت) کے ساتھ ہی بچے کے لئے زبان کی چوتھی مہارت (کتابت) کے حصول کی بنیاد رکھ دی جائے… یعنی متعلّم کو عربی حروف (بخط نسخ ) بقدرِ امکان خوشخط لکھوانے کا کام شروع کر دیاجائے… بلکہ اگر افریقی مسلم ممالک میں رائج طریقے کے مطابق متعلّم کو (چھوڑی عمر میں ہی) سبق میں پڑھی جانے والی قرآنی عبارات یا کلمات کو … کاغذ یا تختی پر … ہو بہو نقل نویسی کی عادت ڈالی اور مشق کرائی جائے… تو یہ چیز عربی زبان کے مؤثر اور بسرعت و سہولت تعلیم کی مضبوط اور مستحکم بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔

          اور اگر کسی آدمی کو ابتدائی عمرمیں ان مہارات اربعہ کے ساتھ قرآن کریم پڑھنے کا موقع نہیں ملا… اور اب وہ عربی زبان کے سیکھنے کا بھی خواہاں ہے تو اسے حسب ضرورت پہلے چند دن یا چند ہفتے مخارج کی صحت اور تلفظ کی درستی کے ساتھ قرآن کریم … بلکہ عام مشکول عربی عبارات … کی رواں قراء ت (RAPID READING) کی مشق کر لینی چاہئے۔ اور اس کے ساتھ ہی عربی عبارات کو قرآنی اسلوبِ کتابت (خط نسخ ) کے مطابق نقل کرنے یا لکھنے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔

          مندرجہ بالا امور عربی زبان کی تعلیم کے لئے ’’مالا بدمنہ ‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں اس کے بعد عربی صرف و نحو کے قواعد کی تدریس اور تر جمتین کے ذریعے ان کی عملی مشق کا درجہ آتا ہے ۔ اور یہاں بھی عربی کی کسی اچھی مشکول درسی کتاب (READER) کا مطالعہ (قراء ت و معانی ) تعلیم قواعد سے پہلے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ جاری رکھنا چاہئے۔ تجربہ شاہد ہے کہ اگر اسی تدریس کو دو ڈھائی گھنٹے روزانہ (مع مشقی کام ۔HOME WORK) دیئے جائیں تو طالب علم کی سابقہ تعلیمی استعداد (بی اے۔ ایف اے یا میٹرک ہونے) کے لحاظ سے ایک یا دو سال کے عرصے میں نہ صرف عربی زبان کا اچھا خاصہ ذخیرئہ الفاظ (VOCABULARY) بلکہ وہ تمام ضروری قواعد زبان… صرف ونحو … ذہن نشین کرائے جا سکتے ہیں… جو ترجمۂ   قرآن  کی لغوی اور نحوی بنیادوں کو سمجھنے کے لئے ضروری ہیں اور جن کا بطور سلیبس یا مقدارِ نصاب کے ہم ابھی آگے چل کر ذکر کریں گے۔

          اس سے اگلے مراحل (اگر کوئی طے کرنا چاہے تو ) میںعربی نظم و نثر کی کتابیں پڑھ کر ذوقِ ادب پیدا کرنے ، اسالیب کلام سے آشنا ہونے کے بعد آخر پردرجہ تخصص میں بلاغت اور معانی و بیان کے اصولوں سے آگاہ ہونے اور اس کے عملی اطلاق کے مراحل طے کرنے سے عربی زبان و ادب پر عبور اور میں مہارت کاعلمی درجہ تکمیل پذیر ہوتا ہے۔ تاہم یہ آخری مراحل قرآن فہمی کے بنیادی لوازمات نہیں ہیں۔ اگرچہ ان کوتدبر کے ساتھ فہم قرآن کی ’’تحسینیات ‘‘ اور ’’ مستحبات ‘‘ میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

          تخصص زبان کے اس آخری درجہ سے پہلے قواعد صرف و نحو کے ایک معقول اور معیاری نصاب (جن کا ذکرآگے آئے گا ) کی کامیاب تکمیل کے بعد قرآن کریم کو … ترجمہ کی حد تک … براہ راست سمجھنے کے کام کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے کہ طالب علم اس مرحلے پر فہم قرآن کے دو بنیادی عناصر … لغات (مادہ اشتقاق کی بحث ) اور وجوہ اعراب کی بنیاد سے آگاہ ہو چکا ہوتا ہے وہ کلمات کی بنائی اور اعرابی حرکات کے تغیرات کے اسباب و نتائج کو جاننے لگتا ہے اور معجم (ڈکشنری) کے استعمال پر قادر ہونے کی بناء پر وہ کلمات کے لغوی معنی کی بحث کو سمجھ سکتاہے۔ بلکہ عبارت کے اندر کلمات کے باہمی تعلق (ترکیب) کی بناء پر عبارت کے معنی متعین کرنے پر قادر ہوسکتاہے۔ گویا وہ براہ راست فہم قرآن کی دہلیز پر آ کھڑا ہوتا ہے۔

          اس ’’لغاتِ قرآن ‘‘ اور ’’اعراب قرآن‘‘ کا فہم قرآن سے کتنا گہرا تعلق ہے اس کا اندازہ اس بات سے کر لیجئے کہ عموماً ہر قابلِ ذکر مفسر اپنی کتاب (تفسیر ) میں تفسیر آیات (مثلاً بعض واقعات یا احکام کی تفصیل یا کسی نکتہ آفرینی وغیرہ ) سے پہلے نص قرآنی (عبارت) کے مفرد کلمات (الفاظ) کی لغوی تشریح اور مرکب کلمات (جملوں) میں کم از کم بعض اہم اعراب کی توضیح ضروری سمجھتا ہے … اور بعض تفاسیر (مثلاً کشاف، بیضاوی وغیرہ ) اپنی اس خصوصیت کی بنا پر اہل علم کے ہاں زیادہ مقبول ہوئی ہیں۔

          خیال رہے کہ عربی دنیا کی واحد زندہ اور ترقی یافتہ زبان ہے جس میں کلمات (خصوصاً اسماء و افعال ) کی بنیاد (عموماً) ایک سہ حرفی مادہ ہوتا ہے… اگرچہ بعض دوسری اسلامی زبانوں مثلاً عبرانی، سریانی، آرامی، امری، حبشی وغیرہ میں بھی یہ ’’مادئہ کلمات‘‘ والی بات پائی جاتی ہے لیکن ان میں سے اکثر یا تو اب مردہ زبانیں شمار ہوتی ہیں یا ان زبانوں کے مقابلے پر عربی میں یہ چیز زیادہ وسیع اور ایسی ترقی یافتہ صورت میں پائی جاتی ہے کہ ایک ایک مادہ سے نکلنے والے مشتق اور جامد کلمات میں سے معانی و مفاہیم کے اتنے چشمے پھوٹتے ہیں جنہوں نے عربی زبان کو ایک دریائے ناپیدا کنار بنا دیا ہے۔

          عربی زبان اپنی ترقی کے یہ مدارج طے کرکے ظہور اسلام اور نزول قرآن سے پہلے (خصوصاً حجاز میں ) اپنے بلوغ کو پہنچ چکی تھی۔ قرآن اور اسلام کی بدولت اسی عربی زبان کو حیاتِ دوام حاصل ہوئی۔ اور یہی زبان آج تک دنیائے اسلام کی مشترک دینی اور ثقافتی زبان ہے دوسری طرف عربی دنیا کی ان چند زبانوں میں سے ایک ہے جن میں اسماء و افعال کے آخری حصے میں تصریف سے بعض قواعد و ضوابط کے ساتھ ایک تبدیلی INFLECTION واقع ہوتی ہے۔ جسے اعرابی تبدیلی یا اعرابی حالتیں یا صرف ’’اعراب‘‘ کہتے ہیں ۔ یہ خصوصیت بھی دنیا کی بعض قدیم زبانوں مثلاً یونانی، لاطینی وغیرہ میں بھی موجود تھی۔مگر آج کی زندہ زبانوں میں سے یہ چیز صرف تین زبانوں… عربی ، جرمن اور امہری (حبشی) میں پائی جاتی ہے اور عربی میں بھی یہ چیز قرآن کریم کی برکت سے صرف لغۃِ فصحٰی یعنی علمی عربی میں پائی جاتی ہے ورنہ روزمرہ کی بول چال  لغۃ دارجہ میں تو عرب بھی اسے خیر باد کہہ چکے ہیں۔

          فہم قرآن کی کسی بھی علمی کوشش میں عربی زبان کی ان دو خصوصیات یعنی لغوی ا ور نحوی پہلوئوں … لغات اور اعراب … کو مدِ نظر رکھے بغیر چارہ نہیں۔ تفسیر کا درجہ اس کے بعد آتا ہے۔ یا یوں کہئے کہ نص قرآنی (عبارت) کی تفسیر و توضیح کے کام کا آغاز ان دو امورسے ہی کیا جا سکتا ہے اور کہا جا سکتا ہے۔

          بلکہ ’’لغات و اعرابِ قرآن‘‘ کی اسی اہمیت کے پیش نظر ان موضوعات پر مستقل تالیفات موجود ہیں جو خصوصاً ان دو موضوعات سے متعلق مشکل (غریب) کلمات یعنی ’’غریب المفردات‘‘ اور مشکل مرکبات یعنی ’’غریب الاعراب‘‘ سے بحث کرتی ہیں۔ مثلاً حسین بن محمد المعروف راغب اصفہانی (المتوفی ۵۰۲ھ) کی المفر دات فی غریب القرآن اور (عبد الرحمن بن محمد المعروف ابن لانباری (المتوفی ۵۷۷ھ) کی البیان فی غریب اعراب القرآن…اور یہ تو ہم نے صرف دو کتابوں کا نام لیا ہے ورنہ ان … دو موضوعات …  میں سے ہر ایک موضوع پر بلکہ بعض دفعہ ان کے ضمنی موضوعات پر مستقل تالیفات میں یا بعض بڑی کتابوں کے مختص ابواب میں بحث کی گئی ہے۔ جن کامختصر تعارف بھی ایک مستقل مقالے کا محتاج ہے۔ صرف ابن الندیم نے الفہرست میں اس قسم کی انیس کتابوں کا ذکر کیاہے۔

          اور یہ بھی خیال رہے کہ یہ دو امور (لغات اور اعراب قرآن) اگرچہ فہم قرآن یا ترجمۂ   قرآن   کی بنیاد ہیں … تاہم یہی اور محض یہی فیصلہ کن عامل نہیں ہیں۔ اس لئے کہ فہم قرآن کے دوسرے عوامل و ذرائع خصوصاً سنت رسول ﷺ، تفسیرِ ماثور، سیرت طیبہ اور تاریخ عرب وغیرہ سے بھی استفادہ ناگزیر ہے۔ اور پھر لغوی مباحث میں بھی عام و خاص، حقیقت و مجاز، صریح و کنایہ اور تشبیہ و استعارہ وغیرہ کے قواعد استعمال کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر تو اس معاملے میں ایمان (عقیدہ کی درستی) تقویٰ ، خدا خوفی، دیانتداری اور اخلاصِ نیت کا دخل ہے۔ ورنہ کسی عبارت کو من مانے معنی ’’پہنانا‘‘ … یا کسی مجموعۂ عبارات میں سے اپنی مرضی کے موافق عبارت اور کلمات نکال دکھانا۔ یہ تو حضرتِ انسان کی وہ خصوصیت ہے جس کے مظاہر صرف ’’خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں‘‘ کی قسم کے نام نہاد مذہبی رہنمائوں کی تحریر و تقریر میں ہی نہیں بلکہ ہماری عدالتی کارروائیوں میں وکلاء کے باہم تصادم دلائل میں اور سیاسی لیڈروںکے مناظرانہ بیانات میں مشاہدہ کر سکتے ہیں اور کرتے رہتے ہیں۔ (وَ کَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْئٍ جَدَلاً… (الکھف: ۵۴)

          اس جملہ معترضہ کے باوجود اس میں شک نہیں کہ لغات و اعراب قرآن کے علم کے بغیر قرآن کریم سے براہِ راست علمی یافکری رابطہ ممکن نہیں… اس رابطہ کے بعد قرآن کریم سے ہدایت و رہنمائی پانا … یا قرآن کے ذریعے ہی اپنی گمراہی کو مستحکم کرنا… یہ تو ’’نصیب اپنا اپنا‘‘ والی بات ہے اور اس نصیب کا تعین کرنے والے اندرونی بیرونی عوامل کی بحث ایک الگ مسئلہ ہے۔

          جیسا کہ ہم نے ابھی اوپر بیان کیا ہے اس موضوع کی اہمیت کی بناء پر عربی زبان میں تولغاتِ قرآن اور اعرابِ قرآن پر متعدد اعلیٰ پایہ کی تالیفات موجود ہیں۔ تاہم اردو زبان میں ابھی اس چیز کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ اور لغات القرآن پر تو پھر بھی اردو میں اچھا خاصا کام ہوچکا ہے۔ اگرچہ ان میں سے بعض میں صرف اپنی اغراض کے لئے کام دینے والے الفاظ و معانی جمع کرکے اپنے لئے لغات القرآن کے نام پر ایک خود ساختہ سند مہیا کرنے کی کوشش ہی کی گئی ہے۔ تاہم معقول اور دیانتدارانہ علمی کام بھی ضرور ہوا ہے۔ لیکن اعراب القرآن پر ابھی تک اردو میں کوئی کام نظر سے نہیں گزرا بعض تفاسیر (مثلاً حقانی) میں ترکیب نحوی کے نام سے اعراب القرآن کی کسی کتاب (عموما عکبری) سے کچھ اقتباس بزبانِ عربی شامل کر دیئے گئے ہیں۔

           اردو زبان میں اس موضوع پر کام نہ ہونے کی وجہ یہ تاثر یا خیال بھی ہے کہ اعراب کی بحث کو تو وہی سمجھے گا جس نے اچھی خاصی عربی گرامر پڑہی ہوئی اور جس نے اتنی عربی پڑھ لی ہو اس کو اردو میں اعراب سمجھانے کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ ورنہ لوگ اب تک بیضاوی اور زمخشری کا ترجمہ بھی کر چکے ہوتے۔

           یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ لغات اور اعراب کی بحث سمجھنے کے لئے ایک خاص سطح تک کی عربی دانی یا عربی صرف و نحو کے قواعد سے واقفیت ضروری ہے۔

          تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس معیار تک …بلکہ اس سے زیادہ عربی جاننے والوں میں سے بھی بہت کم لوگ ایسے ملیں  گے جنہوں نے کبھی پورے قرآن کریم کا لغات و اعراب کے ساتھ مطالعہ کیا ہو۔ اور اس میں یون%D