ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار 

پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

حروفِ جار اور تفسیرِ قرآن

ڈاکٹر حافظ عبد اللہ

 

حروف کی دو اقسام ہیں ایک حروف مبانی اور دوسری حروف معانی ۔ حروف مبانی وہ ہیں جن سے کلمہ یا لفظ مرکب ہوتا ہے لیکن وہ خود کلمہ یا لفظ نہیں ہوتے جیسے زید میں ز۔ی۔د  حروف مبانی ہیں کہ ان سے لفظ زید مرکب ہے لیکن یہ حروف علیحدہ علیحدہ خود کلمہ یا لفظ نہیں ان کو حروف تہجی اور حروف الہجاء بھی کہتے ہیں:

علامہ تھانوی  ــکشاف اصطلاحات الفنون والعلوم میں فرماتے ہیں:

عرف العرب کما فی شرح المواقف یطلق علی ما یترکب منہ اللفظ نحو  ا ب ت لا ألف و باء و تاء، فانھا أسماء الحروف لا أ نفسھا کما فی النظامی شرح الشافیۃ و یسمی حرف التھجی و حرف الھجاء و حرف المبنی۔

 عرف عرب میں ان کا اطلاق ان پر ہوتا ہے جن سے لفظ مرکب ہوتاہے جیسے، ا، ب، ت نہ کہ الف، با، تا جیسا کہ شرح المواقف میں ہے کیونکہ یہ اسماء حروف ہیں نہ کہ خود حروف ، جیسا کہ النظامی شرح شافیہ میں ہے، تو ان کو حرف تہجی یا حرف الہجا یا حروف مبانی کا نام دیا جاتاہے۔

مصطفی جمال الدین  البحث النحوی عند الأصولیین میں حرف  پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں

۲ وھذا الحرف…… و قد یکون حروفا وحرکات غیرمستقلۃ عن اصول الکلمات، ولکنھا تمتزج معھا بحیث تساھم فی بناء معنی المفرد، او فی بناء معنی المرکب وقد اصطلح علیھا عند الاصولیین ب(الھیئات) وعند النحاۃ ب (الصیغ)۔)

اور یہ حرف… حروف اور حرکات اصولِ کلمات کے اعتبار سے غیر مستقل ہوتے ہیں لیکن ان کا باہم امتزاج ہوتا ہے توا س لحاظ سے وہ مفرد (الفاظ) کے معنی کی تشکیل میں حصہ ڈالتے ہیں۔ یا  مرکب جملوں کے معانی کی بنیاد بنتے ہیں۔ ان کو اصطلاح اصولیین میں ہیئات اور نحویوں کی اصطلاح میں صیغے کہا جاتا ہے۔

حروف کی دوسری قسم حروف معانی ہیں اور یہ اسم اور فعل کے مقابلہ میں آتے ہیں۔ اور یہ خود کلمات ہیں لیکن اپنے معنی میں دوسرے کلمات کے محتاج ہوتے ہیں یہی حروف ہیں جو افعال کے معانی اسماء تک پہنچاتے ہیں حروف کی یہی وہ قسم ہے جس سے علماء نحو بحث کرتے ہیں۔

علامہ ابن عقیل کلمہ، اسکی اقسام، اسم اور فعل کی تعریف کرنے کے بعد حرف کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں

وان لم تدل علی معنی فی نفسھا، بل فی غیرھا، فھی الحرف۔()۳

اگرچہ وہ اپنے ذات میں کسی معنی پرد لالت نہیں کرتے لیکن اپنے غیر پر معنوی دلالت کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ حرف ہیں۔

علامہ جرجانی علماء نحو کی اصطلاح حرف کی تعریف اس طرح فرماتے ہیں

ما دل علی معنی فی غیرہ۔ () ۴

جو اپنے غیر کے معنی پر دلالت کرے۔

علامہ سیوطی ؒ  فرماتے ہیں

۵ - وأما حد حروف المعانی وھو الذی یلتمسہ النحویون فھو أن یقال الحرف ما دل علی معنی فی غیرہ نحو من والی و ثم، وشرحہ ان (من) تدخل فی الکلام للتبعیض فھی تدل علی تبعیض غیرھا لا علی تبعیضھا نفسھا وکذلک اذا کانت لابتداء الغایۃ کانت غایۃ غیرھا۔ وکذالک سائر وجوھھا وکذلک (الی) تدل علی المنتھی فھی تدل علی منتھی غیرھا لا علی منتھی نفسھا، وکذلک سائر حروف المعانی۔ ()

جہاں تک حروف معانی کی تعریف کا تعلق ہے تو یہ وہ حروف ہیں جس سے نحویوں نے یہ مراد لی ہے کہ یہ وہ حروف ہیں جو اپنے غیر کے معنی پر دلالت کرتے ہیں مثلا من، الیٰ اور ثم وغیرہ۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ حرف مِن کسی بھی کلام میں تبعیض کے لیے آتا ہے لیکن یہ تبعیض اس کے غیر کی ہوتی ہے نہ کہ حرف مِن کی کی اپنی تبعیض ہوتی ہے اسی طرح یہ ابتدائِ غایت کے لیے آئے تو دوسرے کی غایت بتانے کے لیے ہوگا۔ یہی صورت اس کی تمام وجوہ کی ہے۔ حرف الیٰ انتہاء پر دلالت کرتا ہے اوریہ انتہائِ غیر پر دلالت ہوتی ہے نہ کہ الیٰ  کی اپنی ذات کے منتہاء پر دلالت، تمام حروف معانی اسی طرح ہیں۔

علامہ تھانویؒ فرماتے ہیں

 فی اصطلاح النحاۃ کلمۃ دلت علی معنی فی غیرہ و یسمی بحرف المعنی أیضا، وبالا داۃ أیضا۔  (۶)۶

نحویوں کی اصطلاح میں وہ کلمہ جو اپنے غیر کے معانی پر دلالت کرے ان کو حروف معنی بھی کہا جاتاہے اور اداۃ   بھی۔

علامہ مصطفی جمال الدین حروف معانی سے متعلق فرماتے ہیں:

وھذا الحرف قد یکون کلمۃ مستقلۃ لھا معنی خاص کالا بتداء والانتھاء والاستفہام، والتمنی وامثالھا تودیۃ ضمن وظیفۃ الربط بین المفردات، وھو ما اصطلح علیہ  ب (حروف المعانی)۔  (۷)

یہ حروف کلمہ مستقلہ ہیں اور ان کے لیے خاص معنی ہیں جیسے ابتداء، انتہاء، استفہام ،تمنا اور اس کی مثل دیگر معانی، یہ مفردات کے مابین ربط قایم کرنے کا وظیفہ سر انجام دیتے ہیں۔ان کو اصطلاحاً حروف معانی کہا جاتا ہے۔

قرآن کریم کی تفسیر اور نصوص سے احکام شرعیہ سے استنبا ط و استخراج میں حروفِ معانی کے صحیح فہم کی انتہائی اہمیت ہے اس لیے علماء اصول نے بھی ان کو موضوع بحث بنایاہے اور کتب اصول میں ان پر مفصل کلام کیا ہے۔

           علماء اصول نے حروف معانی کی دو اقسام پر بحث کی ہے،۱۔  حروف عطف۲۔ حروف جار

اس مقالہ میں صرف علمائے اصول کی کتب کی روشنی میں حروفِ جاراور ان کے تفسیرِ قرآن پر اثرات کے حوالے سے بحث کی جائے گی۔

حروف جار

حروف جر حروف معانی عاملہ میں سے ہیں اور ان کو حروف جر اس لیے کہا جاتا ہے کہ جر کے معنی کھینچنے کے ہیں اور یہ حروف بھی فعل کے معانی کو کھینچ کر اسم تک پہنچا دیتے ہیں یا اسم کے معنی اسم تک پہنچاتے ہیں۔علامہ عبدالعزیز بخاری فرماتے ہیں:

سمیت حروف الجر لانھا تجر فعلا الی اسم، نحو مررت بزید، أو أسماء الی اسم نحو المال لزید، وسمیت حروف الاضافۃ لان وضعھا علی ان تفضی بمعانی الأفعال الی الأسماء۔ (۸)

ان کو حروف ِجر کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ فعل کو اسم کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں جیسے مررت بزید (میں زید کے پاس سے گزرا) یا اسماء کو اسم کی طرف کھینچ لے جاتے ہیںجیسے المال لزید (مال زید کا ہے) ان کو حروفِ اضافت بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی وضع اس لیے کہ یہ فعل کے معنی کو اسماء کی طرف لے جاتے ہیں۔

یہ حروف اسم کو جر دیتے ہیں اور ان کی تعداد سترہ ہے۔علامہ عبدالقاہر الجرجانی فرماتے ہیں:

حروف تجر الاسم فقط، وتسمی حروفا جارۃ وھی سبعہ عشر حرفا۔ (۹)

یہ وہ حروف ہیںجو اسم کو جر دیتے ہیں ان کو حروف جارہ کہا جاتا ہے یہ سترہ حروف ہیں۔

ابن مالک نے حروف جر کی تعداد الفیہ میں بیس بیان کی ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں:

          ھاک حروف الجر وھی من الیٰ

          حتی خلا حاشا عدا فی عن علیٰ

          مذ منذ رُبَّ  اللام  کی و او  وتا

          و الکاف  والبا   ولعل   و متیٰ  (۱۰)

 یہ حروف جر ہیںمِن، الیٰ، حتیّٰ، خلا، حاشا، عدا، فی ، عن، علیٰ، مذ، منذ، رب، لام، کی، واو، تا، کاف، با، لعل، متیٰ۔

علماء اصول نے کثرت استعمال کی وجہ سے زیادہ تر ان پانچ حروف سے بحث کی ہے با، علیٰ، من، الیٰ اور فی

اس لیے ہم بھی حروف جر کی بحث کو انہی حروف تک محدود رکھیں گے۔

باء:  حروف جرمیں سے ایک حرف  با ہے اور با  الصاق کے لیے ا ٓتا ہے خواہ حقیقتاً ہو یا مجازاً، الصاق کہتے ہیں ایک شئی کا دوسری کے ساتھ متصل ہونا۔

علامہ جرجانی فرماتے ہیں:

الباء للالصاق وھو اتصال الشئی بالشیء، اما حقیقۃ نحو بہ داء، واما مجازا نحو مررت بزید ای التصق مروری بمکان یقرب منہ زید۔ (۱۱)

با الصاق کے لیے آتا ہے۔ الصاق سے مراد کسی شے کا کسی شے کے ساتھ اتصال ہے چاہے یہ اتصال حقیقی ہو جیساکہ بہ داء یعنی’’ اسے بیماری لاحق ہے‘‘ کہا جائے یا اتصال مجازی ہو جیسے کہا جائے: میں زید کے پا س سے گزرا، یعنی میرا گزرنا ایسی جگہ سے تھا جو زید کے قریب تھی۔

حنفی علماء اصول کے نزدیک الصاق با کے لغوی اور حقیقی معنی ہیں اور اس کے علاوہ جو معانی ہیں وہ سب مجازی ہیں۔علامہ بزدوی فرماتے ہیں:

اما الباء فللا لصاق ھو معناہ بدلالۃ استعمال العرب ولیکون معنی تخصہ ھو لہ حقیقۃ۔(۱۲)

باء  الصاق کے لیے ہے یہ استعمالِ عرب کی دلالت کے لحاظ سے اس کے معنی ہیں اور یہی اس کے خاص معنی ہیں جن میں یہ ’’حقیقت ‘‘ہے۔

علامہ عبدالعزیز بخاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں۔

 اہل عرب میں استعمال کی دلالت کے سبب الصاق اس کا معنی ہے اوریہ (استعمال عرب کی دلیل) لغت میں قوی ترین دلیل ہوتی ہے جیسا کہ احکامِ شرع (کے اثبات) میں نص قوی (دلیل)ہوتی ہے(ولیکون) یہ (باکے)معنی کی دلیلِ اول پر عطف ہے۔ یعنی استعمال کے لیے ۔(مطلب یہ ہوا کہ دلالت استعمال اس لیے ہے ) کہ باء کے خاص معنی ہیں جو اس کے ساتھ مخصوص ہیں اور اس میں اشتراک کی نفی ہے (وھو لہ حقیقۃ) یعنی باکے یہ معنی حقیقی ہیں۔ الالصاق کا عمل دو جانب کا اقتضاء رکھتا ہے ایک ملصق (اتصال کرنے والے کا) اور دوسرا ملصق بہ کا (متصل کیے جانے و الے کا، حالت مفعولی)  جس پر با کا حرف داخل ہو وہ ملصق بہ ہے اور دوسری جانب ملصق ہوتا ہے۔ جیسا کہ اگر تو کہے کتبت بالقلم الکتابۃ۔ (میں نے قلم کے ساتھ تحریر لکھی) الکتابۃ اس میں ملصق ہے اورقلم ملصق بہ۔ اس کا معنی ہوا کہ میں نے قلم کے ساتھ کتابت کو متصل کیا ہے جب الصاق میں مقصود فعل کو اسم کے ساتھ یا اس کے بالعکس ملانا ہو تو تب آپ کے اس قول کا یہ مقصوداس کلمہ سے حاصل ہوگا۔کتبت بالقلم(میں نے قلم کے ساتھ لکھا)  نحرت بالقدوم (میں نے کلہاڑے کے ساتھ ذبح کیا)  ضربت بالسیف (میں نے تلوار کے ساتھ مارا) وغیرہم ان سب امثلہ میں ان اشیاء مذکورہ کے ساتھ، ان افعال کا اتصال ہے۔ اس میں المصلق (اتصال کرنے والا) اصل ہے اور ملصق بہ تبعا ہے جیسا کہ کوئی آلہ کسی چیز کے لیے ہوتا ہے۔  (۱۳)

علامہ سرخسی فرماتے ہیں:

واما الباء فھی للالصاق فی اصل الوضع، وھو الحقیقۃ وعلیہ دل استعمال العرب، یقول الرجل: کتبت بالقلم وضربت بالسیف۔  (۱۴)

جہاں تک با  کا تعلق ہے تو وہ اپنی اصل وضع میں (لغوی اعتبار سے لفظ کی بنیاد کے لحاظ سے) الصاق کے لیے ہے۔ اور ان معنوں میں وہ حقیقت ہے۔ اس پر اہلِ عرب کا استعمال دلالت کرتا ہے۔جیسے کوئی شخص کہتا ہے۔ کتبت بالقلم(میں نے قلم سے لکھا) یا ضربت بالسیف (میں نے تلوار سے مارا)۔

اللہ تعالی کے ارشاد ؛وامسحوا برء و سکم کی  با پر بحث کرتے ہوئے علامہ بزدوی فرماتے ہیں:

امام شافعی  ؒ فرماتے ہیںاللہ تعالیٰ کے فرمان {وامسحوا برء و سکم} میں باء تبعیض کے لیے ہے۔ چنانچہ سر کے کچھ حصہ کا مسح واجب ہو گا۔ امام مالکؓ  کا فرمان ہے کہ با   صلہ کے لیے ہے کیونکہ مسح فعلِ متعدی ہے تو اس کو باء کے ساتھ موکد کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: {  تنبت بالدھن} (تیل لیے ہوئے اگتا ہے) پس تقدیر کلام ہے {وامسحوا رء و سکم} (اپنے سروں کا مسح کرو) ہم یہ کہتے ہیں کہ جہاں تک تبعیض کی بات ہے تو اس (معنی ) کے لیے لغت میں کوئی اصل نہیں ۔لغت میں تبعیض کے لیے کلمہ من  وضع ہوا ہے۔ اور ہم اس کی توضیح کر چکے کہ کلام میں تکرار (ایک معنی کے لیے بار بار الفاظ وضع کرنا) اور اشتراک (دو یا سے زیادہ الفاظ کا ایک جیسے ہی معنی دینا) کا بنیادی طور پر کوئی ثبوت نہیں کیونکہ یہ نقائص کلام میں سے ہے۔ پس (بلا دلیل) حقیقی معنی کو باطل نہیں کیا جا سکتااور اس کو تاکید کے لیے محدود کرنابھی ضرورت (کلام) کے وقت ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں با الصاق کے لیے ہی ہے۔ اور اس کی توضیح (مزید) یہ ہے کہ با  جب آلہ مسح کے ساتھ آئے گا تو فعل اس کے محل کی طرف متعدی ہو گا جیسا تو کہے  مسحت الحائط بیدی(میں نے دیوار پرہاتھ پھیرا)  تو یہ پورے محل کو شامل ہو گا کیونکہ یہ اس کی طرف بالجملہ مضاف ہے۔ اور (کہا جائے)  مسحت رأس التییم بیدی ( میں نے یتیم کے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا)۔اگرحرفِ الصاق محل مسح  (مسح والی جگہ) کے ساتھ ملصق ہوا توصرف فعل کی جانب متعدی باقی رہ گیا۔ تب تقدیر کلام یوں ہوئی وامسحوا ایدیکم برء و سکم  (اپنے ہاتھوں کو اپنے سروں پر پھیرو) یعنی ان کو اپنے سروںکے ساتھ متصل کر دو۔پس اس سے تمام سر کا مسح بالاستیعاب لازم نہیں آتا جبکہ وہ سر کی جانب مضاف نہیں ہے (بلکہ ہاتھ کی جانب مضاف ہے) پس اس کا اقتضاء آلہ مسح (ہاتھ) کا سر پر رکھنا ہے۔ اور عادتاً ہاتھ کا سر پر رکھنا تمام ہاتھ کو بالاستیعاب اپنے تحت نہیں لاتا پس اس سے مراد ہاتھ کا اکثر حصہ ٹھہرا چنانچہ اس شرط کے ذریعے تبعیض (بعض سر کا مسح) مشروع ہوا۔(۱۵)

علامہ سرخسی بھی علامہ بزدوی کی تائید میں  فرماتے ہیں:

امام شافعیؒ ارشاد باری تعالیٰ: {وامسحوا برء و سکم}کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہاں با تبعیض کے لیے ہے تو یہ سر کے کچھ حصہ کے مسح کو لازم کرتا ہے۔ اور یہ ادنی حصہ ہو گا ہے جس پر (سر کے) اسم کا اطلاق ہو۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں  با  صلہ کا ہے جو کہ تاکید کے لیے جیسا کہ فرمان الہی ہے {  تنبت بالدھن} (۱۶)میں ہے اسی طرح  {وامسحوا برء و سکم} ہے تو اس سے تمام سر کا مسح واجب ہوگا۔ ہم کہتے ہیں تبعیض کی یہاں کوئی وجہ نہیں کیونکہ تبعیض کے لیے حرف من  موضوع ہے اور اصل وضع میں تکرار و اشتراک ثابت نہیں۔

اسی طرح  با  کو صلہ پر محمول کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔ (با کو زائدہ قرار دینا)  اس سے (حقیقی)معنی کولغو ٹھہرانا (لازم آتا ہے) یا اس کو غیر مقصود فائدہ پر محمول کرنا پڑتا ہے یعنی با  کو تاکید کے لیے ٹھہراناپڑتاہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اصل وضع کے اعتبار سے باء الصاق کے لیے ہے۔ پس یہ جب آلہ مسح کے اقتران کے ساتھ ہو گا ہے تو فعلِ محل مسح کی طرف متعدی ہو گا۔ تو وہ اس کو اپنے اندر شامل کرے گا۔ جیسے کہ کوئی شخص کہتا ہے  مسحت الحائط بیدی و مسحت رأس االیتیم بیدی تو یہ تمام محل کو اپنے تحت شامل کرتا ہے لیکن یہ جب محلِ مسح کے ساتھ متصل ہوا تو فعل ِمسح، آلہ مسح کی طرف متعدی ہو گیا پس یہ اب استیعاب کا اقتضاء نہیں رکھتا۔ یہ صرف آلہ محل کے ساتھ الصاق کا مقتضی ہو گا۔ چنانچہ یہ عادتاً استیعاب کو لازم نہیں ہوتا۔ پس آلہ کے اکثر حصہ کا استعمال ہو جانا اِکمال کے لیے کافی ہو گا۔ اس لیے تین انگلیوں کے بقدر(سر پر) ہاتھ کے الصاق سے مسح (کے فرض)کی ادائیگی ہو جائے گی۔ تبعیض کے معنی اس طریقہ سے ثابت ہوتے ہیں نہ کہ حرف  باء کے ذریعے۔ (۱۷)

حاصل یہ ہے کہ امام شافعی کے نزدیک اللہ کے ارشاد {وامسحوا برء و سکم} کا با  تبعیض کے لیے ہے اور امام مالک کے نزدیک با صلہ کا ہے یعنی زائدہ ہے۔ جب کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک با تبعیض کا ہے نہ صلہ کا بلکہ اپنی اصل وضع الصاق کے لیے حقیقت ہے اور یہی یہاں مقصود ہے اور یہاں فعل مسح آلہ یعنی ید کی طرف متعدی ہونے کی وجہ سے تبعیض یعنی بعض سر کا مسح احناف کے نزدیک فرض ہے،  کے معنی پیدا ہوئے نہ کہ با   تبعض کے لیے ہے۔

 علماء شوافع میں سے امام الحرمین  با سے متعلق مختلف مذاہب بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

ومعناہ الظاہر الالصاق، فی مثل قول: مررت بزید۔ (۱۸)

اس کے ظاہری معنی الصاق کے ہیں جیسا کہ اس کی مثال ہے۔ مررت بزید میں زید کے پاس سے گزرا۔

ابن حزم اندلسی بھی انہی معنی کو ترجیح دیتے ہیں:چنانچہ فرماتے ہیں:

ومعنی الباء: الاتصال مثل قولہ مررت بزید، ترید اتصال مرورک بہ ولا توجب تبعیضا ولااستیفاء۔ (۱۹)

با کے معنی اتصال کے ہیں مثلا تیرا قول: مررت بزید میں زید کے پاس سے گزرا۔ تو اس بیان سے تیری مراد یہ ہے کہ تیرا گزرنا اس کے بالکل متصل تھا۔ یہ تبعیض یا اِتمام کو لازم نہیں کرتا۔

علامہ سیوطی فرماتے ہیں:

الباء المفردۃ: حرف جرلہ معان: اشھرھا: الالصاق، ولم یذکر لھا سیبویہ غیرہ۔ وقیل  انہ لا یفارقھا،۔ قال فی شرح (اللب) وھو تعلق احد المعنیین بالآخر۔

ثم قد یکون حقیقۃ، نحو {وامسحوا برء و سکم} ای: الصقو المسح برؤسکم  {فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَ اَیْدِیْکُمْ مِّنْہُ} (المائدہ: ۶) و قد یکون  مجازا، نحو: {واذا مروا بھم} ای بمکان یقربون منہ۔(۲۰)

باء مفردہ:  حرف جر ہے اس کے متعدد معانی ہیں اس میں مشہور ترین الصاق ہیں۔ سیبویہ نے اس کے علاوہ کوئی معنی ذکر نہیں کیے۔ اور کہا گیا یہ معنی اس سے کسی حال میں جدا نہیں ہوتے۔ شرح اللب میں ہے کہ یہ دو معنوں میں سے ایک کا دوسرے سے متعلق ہونا ہے۔ پس یہ معنی حقیقت ہوں گے جیسے {وامسحوا برء و سکم} یعنی مسح کو سروں کے ساتھ متصل کرو۔ کبھی یہ مجازا استعمال ہوتا ہے جیسے {واذا مرو بھم} ( وہ جب ان کے ساتھ سے گزرتے ہیں) یعنی اس جگہ سے گزرنے ہیں وہ ان کے قریب ہوتے ہیں۔

ملا جیون شرح نور الانوار علی المنار میں فرماتے ہیں۔

(فالباء للالصاق) فما دخل علیہ الباء ھو الملصق بہ، ھذا ھو اصلھا فی اللغۃ، ولبواقی مجاز فیھا۔(۲۱)

(فالباء للالصاق)باء جس پر بھی داخل ہو گا وہ ملصق بہ ہوگا لغت کے اعتبار سے یہ اس کی اصل ہے۔ باقی سب میں اس کا استعمال مجاز ہو گا۔

با کا زیادہ تر درج ذیل مجازی معنی میں استعمال ہوتاہے۔

۱۔        تعد یہ کے لیے: جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:{ذَھَبَ اللّٰہُ بِنُوْرِھِمْ} (۲۲)

          اللہ تعالیٰ نے ان کا نور (بینائی) لے گیا یعنی زائل کر دی۔

۲۔       استعانت کے لیے : بسم اللہ کی با

۳۔       تعلیل یا سبب کے لیے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:{ اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَکُمْ بِا تِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ}(۲۳)

          تم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا بچھڑے کے معبود بنا لینے کے سبب

۴۔       مصاحبت کے لیے جیسے {قَدْ جَآئَ کُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ} (۲۴)

          تحقیق تمہارے پاس رسول ،حق کے ساتھ آگئے

۵۔       استعلاء یعنی علی کے معنی میں {من ان تامنہ بقنطار} (۲۵) یعنی علی قنطار

          اگر تو اسے امین بنائے سونے کے ڈھیر پر۔

۶۔       ظرفیت کے معنی میں جیسے فی: اللہ کا ارشاد ہے: {وَ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ}(۲۶)

          بے شک اللہ نے تمہاری بدر میں مدد کی۔

۷۔       مجاوزت کے لیے عن کی طرح جیسے {فاسئل بہ خبیرا}(۲۷)

          اس کے بارے میں کسی باخبر سے پوچھ لو

۸۔       تبعیض کے لیے من  کی طرح جیسے {عَیْنًا یَّشْرَبُ بِہَا عِبَادُ اللّٰہِ} (۲۸)

          چشمہ ہو گا جس سے اللہ کے بندے پئیں گے۔

۹۔       غایت کے لیے الیٰ کی طرح جیسے { وقد احسن بی} (۲۹)

          اس نے میرے ساتھ انجام کار بہت احسان کیا

۱۰۔       مقابلہ کے معنی میں اور یہ با    عوض میں دی جانے والی چیزوں پر داخل ہوتی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: {ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } (۳۰)

          جنت میں داخل ہو جاؤ اس کے بدلے میں جو تم نیک اعمال کیا کرتے تھے۔

۱۱۔       تاکید کے لیے اس کو بائے زائدہ بھی کہا جاتا ہے جیسے اللہ تعالی کاارشاد ہے:{کفی باللہ شھیدا} (۳۱)

          اللہ گواہی کے لیے کافی ہے۔

علیٰ:  علیٰ بھی حروف جر میں سے ہے اور علیٰ  الزام کے لیے آتا ہے۔ علیٰ کے حقیقی معنی استعلا ء کے ہیں اور پھر استعلاء کی دو قسمیں ہیں ایک حقیقی یعنی ایک شے کا دوسری شے پر حقیقتاً بلند ہونا جیسے زید علی السطح۔  ’’زید سطح پر ہے۔‘‘اور دوسرا حکمی مثلا لہ علی الف درھم۔ اس کے ہزار درہم میرے ذمہ ہیں۔

 علامہ بزدوی فرماتے ہیں:

وأما علٰی فانھا وضعت لوقوع الشیء علٰی غیرہ وارتفاعہ وعلوہ فوقہ فصار ھو  موضوعا للایجاب والالزام فی  قول الرجل لفلان علی الف درھم انہ دین۔ (۳۲)

جہاں تک علیٰ کا تعلق ہے تو اسے ،ایک چیز کے اپنے غیر کے اوپر واقع ہونے، اس پر بلند ہونے اور ا سکے اوپر کی طرف اونچا ہونے کے معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ پس یہ وجوب ولزوم کے لیے موضوع قرار پایا۔ جیسا کہ کسی شخص کا قول کہ فلاں شخص کے مجھ پر ہزار درہم ہیں۔ یعنی قرض ہیں۔

علامہ سرخسی فرماتے ہیں:

علیٰ اصل وضع کے لحاظ سے لزوم کے لیے ہے کیونکہ اس کلمہ کے حقیقی معنی کسی چیز کا دوسری چیز پر عالی ہونا اور اسکے اوپر بلند ہونا کے ہیں اور یہ معانی وجوب و لزوم کو مقتضی ہیں۔ اس لیے جب کوئی کہے کہ فلاں شخص کے مجھ پر ہزار درہم ہیں۔ تو اس کو مطلقاً قرض پر محمول کیا جاتاہے۔ (۳۳)

کتبِ اصول میں علیٰ  کی الزام کے معنی کی مثال نہیں مل سکی۔ قرآن کریم میں اس کی مثال اللہ تعالی کا ارشاد یہ ہو سکتا ہے:

{وَ عَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہٗ رِزْقُھُنَّ وَ کِسْوَتُھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ} (۳۴)

جس کے لیے بچہ جنا گیا اس پر لازم ہے عورت کا راتب اور پہناوا معروف طریقے کے مطابق۔اور

{وَ عَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ} (۳۵)

وارث کے ذمہ بھی ہے اسی کی مثل۔

مجازاً علیٰ کا استعمال شرط کے لیے بھی ہوتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

{یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لاَّ یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا} (۳۶)

وہ تجھ سے بیعت کریں اس پر کہ وہ اللہ کے ساتھ ذرہ برابر شرک نہیں کریں گی۔

معنی حقیقی اور مجازی کے درمیان مناسبت یہ ہے کہ کلمہ علیٰ الزام کے لیے ہے اور جزاء الزام کے لیے شرط ہے لہذا الزم اور شرط کے درمیان لازم اور ملزوم کا علاقہ پایا گیا ۔علامہ سرخسی فرماتے ہیں:

ثم تستعمل الکلمۃ للشرط باعتبار ان الجزاء یتعلق بالشرط ویکون لازما عند وجودہ،۔ وبیان ھذا فی قولہ تعالی:{یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لاَّ یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا}۔ (۳۷)

پھر یہ کلمہ شرط کے لیے استعمال کیا جاتاہے اس اعتبار سے کہ جزاء، شرط کے ساتھ متعلق ہوتی ہے تو اس کا وجود، اس کے وجود کے ساتھ لازم ہو گا۔ اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے ہوتی ہے: {یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لاَّ یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا}۔

ملا جیون  شرح نور الانوار میں فرماتے ہیں:

وکلمۃ علٰی تستعمل بمعنی الشرط، قال اللہ تعالیٰ {یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لاَّ یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا} لان الجزاء لازم للشرط فیکون أقرب الی معنی الحقیقۃ من معنی الباء۔ (۳۸)

کلمہ علیٰ  شرط کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے فرمانِ الہی ہے: ٰ {یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لاَّ یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا} کیونکہ جزاء، شرط کے لیے لازم ہے۔ تو اس لحاظ سے (یہ معنی) حقیقی معنوں کے زیادہ قریب ہے۔

اور کبھی علی با کے معنی میں آتا ہے۔ یہ اس صورت میں جب کہ علی معاوضاتِ محضہ میں داخل ہو۔ معاوضہ محضہ سے مراد وہ ہے جس میں عوض اصل ہو اور عوض اس سے کبھی جدا نہ ہوتا ہو۔ جیسے بیع، اجارہ، نکاح وغیرہ، مثلا کسی نے کہا :

بعتک ھذا علی کذا، اجرتک علی کذا یا نکحت علی کذا۔

میں نے تجھے یہ اس قیمت پر بیچ دیا، تیری اجرت اس پر ہے، میں نے اس (مہر)پر نکاح کیا۔

ان مثالوں میں علیٰ، با کے معنی میں ہے اور مناسبت یہ ہے کہ با الصاق کے لیے آتا ہے اور علیٰ الزام کے لیے آتا ہے اور الصاق ،الزام کے مناسب ہے اس طرح کہ جب ایک شے دوسری شے کے لیے لازم ہو گی تو وہ اس کے ساتھ ملصق بھی ہو گی۔ علامہ بزدوی فرماتے ہیں:

فان دخلت فی المعاوضات المحضۃ کانت بمعنی الباء اذا استعملت فی البیع والاجارۃ والنکاح لان اللزوم یناسب الالصاق فاستعیر لہ۔ (۳۹)

جب یہ معاوضات محضۃ پر داخل ہوتا ہے تو باء کے معنی دیتا ہے جیسا کہ اس کو بیع و اجارہ و نکاح کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ لزوم و الصاق میں مناسبت ہے اس لئے اس کو (ان معنی کے لیے) مستعار لیا گیا ہے۔

علامہ سرخسی فرماتے ہیں:

یہ کلمہ با کے معنی میں مستعار ہے جو کہ معاملات معاوضات میں لازما ساتھ ہوتا ہے کیونکہ عوض اورمعوض کے وجوب میں لزم و اتصال پایا جاتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی کہے: میں نے تجھ سے یہ چیز ہزار درہم میں خرید لی۔ تیرا ماہانہ معاوضہ ایک درہم ہوگا۔ یہاں علی بمعنی  باء ہے کیونکہ بیع واجارہ کو کسی شرط کے ساتھ معلق ہونے پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے یہاں اس کو معنوی مستعار ہونے پر محمول کیا جائے گا تاکہ کلام درست ٹھہرے۔(۴۰)

کتب اصول میں قرآن کریم سے اس کی مثال ذکر نہیں کی گئی۔ ابن ہشام نے مغنی اللبیب میں اور علامہ سیوطی نے الاتقان میں اس کی مثال میں اللہ کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے:

{حَقِیْقٌ عَلٰٓی اَنْ لَّآ اَقُوْلَ علی اللہ الا الحق} (۴۱)

مجھ پر لازم ہے کہ میں  اللہ کے بارے میں سوائے حق کے کوئی بات نہ کہوں

اور حضرت ابی بن کعبؓ کی قرأت سے استدلال کیا ہے جنہوں نے اسے بأن پڑھا ہے۔  (۴۲)

اور کبھی علیٰ ،مِن کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔علامہ سرخسی فرماتے ہیں:

وقد یکون علٰی بمعنی من ، قال تعالیٰ {اِِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ} (۴۳) ای من الناس۔  (۴۴)

علیٰ کبھی من کے معنی میں ہوتا ہے فرمان الہی ہے:جب وہ تولتے ہیں لوگوں سے لیتے ہوئے تو پورا پورا لیتے ہیں۔

علمائِ اصول نے کتبِ اصول میں علیٰ کے انہی معانی پر بحث فرمائی ہے۔ جب کہ علمائِ لغت اور مفسرین نے علیٰ کے دیگر معانی بھی بیان فرمائے ہیں۔ مثلا

۱۔        مصاحبت یعنی مع کے معنی میں جیسے{وَ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ } (۴۵) ای مع حبہ

          وہ مال دیتے ہیں اس کی چاہت کے باوجود یعنی اس کے چاہت کے ہوتے ہوئے۔

۲۔       تعلیل لام کی طرح جیسے {وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ} (۴۶)لھداکم

          تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس وجہ سے کہ اس نے جو تمہیں ہدایت عطا کی۔

۳۔       ظرفیت فی کے معنی میں جیسے {وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ اَھْلِھَا} (۴۷)

          ای فی حین  وہ شہر میں اس کے رہنے والوں کی غفلت کے وقت داخل ہوا۔

مِن:  حروفِ جر میں سے ایک مِن ہے اکثر فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ کلمہ مِن اپنی اصل وضع کے اعتبار سے تبعیض کے لیے اور اس کے علاوہ باقی تمام معانی مجاز ی ہیں۔

علامہ بزدوی فرماتے ہیں:

واما من فللتبعیض ھو اصلھا و معناھا الذی وضعت لہ لما قلنا (۴۸)

من کی اصل تبعیض ہے اور اس کے یہ ہی معنی ہیں جس کے اس کو وضع کیا گیا ہے جیسا کہ ہم کہہ چکے۔

علامہ سرخسی فرماتے ہیں:

وکلمۃ من للتبعیض باعتبار اصل الوضع۔ (۴۹)

اپنی وضع کی اصل کے اعتبار سے کلمہ من  تبعیض کے لیے ہے۔

قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے:

{ تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ مِنْھُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ } (۵۰)

یہ رسل ہیں جن میں سے بعض کو بعض پر ہم نے فضیلت دی ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا۔

اس آیت میں من تبعیض کے لیے ہے۔اسی طرح ا للہ کے ارشاد :

{ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} (۵۱)

تم ہرگز ہرگز نیکی کو نہیں پا سکو گے جب تک کہ تم اس میں سے خرچ نہ کر وجو تمہیں محبوب ہے۔

ابن مسعود ؓ  کی قرأت میں:{حَتّٰی تُنْفِقُوْا بعض مِمَّا تُحِبُّوْنَ} ہے

جمہور اہل ِلغت کے نزدیک من درا صل ابتدائے غایت کے لیے ہے۔ابن ہشام فرماتے ہیں:

(من) تاتی علی خمسۃ عشر وجھا: احدھما: ابتداء الغایۃ، وھو الغالب علیھا، حتی ادعی جماعۃ ان سائر معانیھا راجعۃ الیہ، وتقع لھذا المعنی فی غیر الزمان، نحو (من المسجد الحرام) (الاسراء:۱) (انہ من سلیمان ) النمل:۱۳۰) قال الکوفیون والاخفش والمبرد وابن درستویہ و فی الزمان أیضا بدلیل (من أول یوم ) (التوبہ:۱۰۸) وفی الحدیث (فمطرنا من الجمعۃ الی الجمعۃ ) (۵۲)

من پندرہ معانی میں آتا ہے۔ اسی میں سے ایک ابتداء غایت ہے۔ اور یہ معنویت ہی اس پر غالب ہے۔ بلکہ ایک جماعت کا تو دعوی ہے کہ اس کے دیگر تمام معانی اسی معنی کی جانب راجع ہیں۔ من ،غیر زمانی ابتدائِ غایت بیان کرنے کے لیے مستعمل ہے جیسا کہ {من المسجد الحرام} ،  {انہ من سلیمان} وغیرھم۔ کو فیوں ، اخفش، مبردا اور ابن درستویہ کے قول کے مطابق زمان کی غایت کے بیان کے لیے بھی آتا ہے جس کی دلیل قرآن میں من اول یوم اور حدیث میں (ہماری بارش جمعہ سے جمعہ تک ہے) ہے۔

علامہ سیوطی فرماتے ہیں:

من: حرف جر، لہ معان: اشھرھا: ابتداء الغایۃ، مکانا وزمانا وغیرھما، نحو: (من المسجد الحرام) (الاسراء:۱) (انہ من سلیمان ) (النمل:۱۳۰)  (۵۳)

من حرفِ جر ہے۔ اس کے متعدد معانی ہیں اس میں سب سے مشہورمعنی ابتدائِ غایت کے ہیںچاہے ابتدائِ غایت مکانی ہو یا زمانی، جیسے آیت {من المسجد الحرام} مکانی ابتدائِ غایت کی مثال اور {من اول یوم} زمانی ابتدائے غایت کی مثال ہے۔ {انہ من سلیمان}یہ شخصی وانسانی ابتدائے غایت ہے جو غیر زمانی ہی ہے۔

ملا جیون المنار کی شرح میں فرماتے ہیں:

ومن للتبعیض ھذا اصل وضعھا والبواقی من المعانی مجاز فیھا۔ (۵۴)

(من للتبعیض)یہ (اس کی) اصل ہے اور اس کے باقی سارے معانی مجازی ہیں۔

علمائِ اصول کے نزدیک تبعیض کے علاہ  مِن کے باقی معانی مجازی ہیں جبکہ علمائِ لغت کے نزدیک من کے اصل معنی ابتدائے غایت ہیں اور دیگر معانی مجازی ہیں۔تبعیض اور ابتدائے غایت کے علاوہ من کا استعمال جن معانی کے لیے ہوتا ہے ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

۱۔         تبیین: جیسا کہ اللہ تعالی کاارشاد ہے:                  

          {فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ} (۵۵)پس اجتناب کرو ناپاکی سے بتوں کی۔

۲۔       تعلیل: مثلا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

          {یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَھُمْ فِیْٓ  اٰذَانِھِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ} (۵۶)

          وہ کڑک کے ڈر سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونستے ہیں۔

۳۔       بدل: جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

          {اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ } (۵۷)

کیا تم آخرت کے بدلے میں دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے ہو۔

۴۔       فصل بالمھملۃ: یہ من  دو متضاد امور میں سے دوسرے پر داخل ہوتا ہے۔ جیسے

          {وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ} (۵۸)

          اللہ جانتا ہے کہ مصلح کون ہے او رمفسد کون۔

الیٰ: حروف جر میں سے ایک حرف الیٰ بھی ہے۔ الیٰ انتہائے غایت کے لیے موضوع ہے۔   علامہ بزدوی فرماتے ہیں:

واما الٰی فلانتھاء الغایۃ لذلک وضعت ولذلک استعملت فی الآجال۔ (۵۹)

الیٰ انتہائِ غایت کے لیے ہے۔ اس کے لیے اسے وضع کیا گیاہے اور مدتوں کے بیان میں اسی معنی کو استعمال کیا جاتا ہے۔

علامہ سرخسی فرماتے ہیں:

وأما الی فھی لانتھاء الغایۃ ، ولھذا تستعمل الکلمۃ فی الآجال والدیون، قال تعالیٰ: (الی اجل مسمی)۔ (۶۰)

اور جہاں تک الیٰ کا تعلق ہے یہ انتہائے غایت کے بیان کے لیے ہے ۔مدتوں اور قرضوں کے معاملات کے بیان میں یہ کلمہ انہی معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ فرمان الہی ہے{الی اجل مسمی)} ایک مقررہ مدت تک۔

غایت سے مراد مسافت ہے۔ غایت کا اطلاق مسافت پر ایسا ہے جیسا کہ جزو کا اطلاق کل پر۔ کیونکہ مسافت کل ہے اور غایت اس کا جزو آخر۔ غایت مسافت کا ایک جز ہے تو اب اس کا مطلب یہ ہو گا کہ کلمہ الیٰ  مسافت اور دوری کی انتہاء بیان کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ملا جیون شرح المنار میں فرماتے ہیں:

و الی لانتھا الغایۃ: ای لانتھاء المسافۃ، اطلق علیھا الغایۃ اطلاقا للجزء علی الکل علی ما قیل۔(۶۱)

(الی لانتھاء الغایۃ)یعنی مسافت کی اختتامی حد کے بیان کے لیے ہے۔ اس پر غایت کا اطلاق ایسے ہے جیسے جزو پر کل کا اطلاق ہو جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔

الیٰ کے ما بعد کو غایت اور ما قبل کو مغیا کہتے ہیں۔ غایت ما قبل میں یعنی مغیا میں کب داخل ہو گی اور کب داخل نہیں ہو گی، سے متعلق چار مذاہب ہیں جن کا ذکر ابن ہشام نے المغنی اللبیب میں کیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

واذا دلت قرینۃ علی دخول ما بعدھا نحو (قرأت القرآن من اولہ الی آخرہ) أو خروجہ نحو (ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ) (۶۲)  ونحو (فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَ ۃٍ) (۶۳)  عمل بھا، والا فقیل: یدخل ان کان من الجنس، وقیل: یدخل مطلقا، وقیل: لا یدخل مطلقا۔ (۶۴)

جب قرینہ اسکے ما بعد آنے والے غایت کے دخول پر دلالت کر ے جیسے کہا جائے(قرأت القرآن من اولہ الی آخرہ) میں نے قرآن اس کے اول سے لے کر آخر تک پڑھا۔ جب قرینہ اس کے خروج پر دلالت کرے {ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ} پس تم روزہ پورا کرو رات تک اور اسی طرح ارشاد ہے۔ {فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ} پس اسے مہلت دینا ایک آسان مدت تک۔چنانچہ   اس پر عمل ہوگا۔ بصورت دیگر یہ کہا گیا کہ یدخل ان کان من الجنس،غایت ماقبل کے حکم میں  داخل ہوگی اگر وہ اس کی جنس سے ہے اوربعض نے یہ کہا کہ غایت ماقبل کے حکم میں مطلقاً داخل ہوگی چاہے اس کی قبیل سے ہو یا غیر قبیل سے ہو۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ماقبل کے حکم میں مطلقاً داخل نہیں ہوگی۔

علماء اصول نے پہلے مذہب کو ترجیح دی ہے اورا س کی تفصیل یہ ہے کہ اگر غایت بذات خود قائم ہو یعنی ما قبل کا جزو نہ ہو اور تکلم سے پہلے موجود ہو اپنے وجود میں مغیا کی محتاج نہ ہو تو اس صورت میں غایت ِابتدا اور غایتِ انتہا دونوں مغیا میں د اخل نہ ہوں گی اور اگر غایت بذات خود قائم نہ ہو توا سکی دو صورتیں ہیں صدر کلام غایت کو شامل ہو گایا نہیں اگر شامل ہے تو غایت کا ذکر اس کے ما سواکو ختم یا خارج کرنے کے لیے ہو گا اور غایت خود مغیا میں شامل ہوگی۔ اور اگرصدر کلام غایت کو شامل نہ ہو یا غایت کو شامل ہونے میں کوئی شبہ ہو ان دونوں صورتوں میں غایت کو اس لیے ذکر کیا جاتا ہے تاکہ حکم کھینچ کر غایت تک لایا جائے یعنی غایت کے ما قبل کا حکم خود تو غایت تک پہنچ جائے گا لیکن غایت خود اس کے حکم میں داخل ہو گی۔ علامہ بزدوی فرماتے ہیں:

غایت کے معاملے میں اصل یہ ہے کہ اگر وہ قائم بالذات ہو تو وہ حکم میں داخل نہیں ہو گی جیسے کسی شخص کا قول ہو کہ اس باغ سے اس باغ تک، اور فرمان باری تعالیٰ ہے:(تم پورا کرو روزہ رات تک) اگر غایت خود قائم بالذات نہ ہواور صدر کلام علی الاطلاق ایسا ہو کہ غایت کے سواسب کو خارج کر دے تو وہ داخل ہو کر باقی رہے گی کیونکہ اس پر اسم کا اطلاق ہو گا جیسے ہمارا قول المرافق کے بارے میں (کہ وضو میں کہنیوں کو دھویا جائے کیونکہ مرافق قائم بالذات نہیں اوریہ کہ صدر کلام اس کے دخول کا بھی مقتضی ہے)(۶۵)

علامہ سرخسی فرماتے ہیں:

پھراس کلمہ کی بعض غایات حکم میں داخل نہیں ہوتی ہیں جیسے {ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ} اور بعض غایات حکم میں شامل ہوتی ہیں جیسے فرمان باری تعالیٰ ہے:{وَ اَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ}۔ حاصل یہ ہے کہ وہ غایات جو قائم بالذات  ہوں وہ حکم میں شامل نہیں ہوں گی کیونکہ وہ حد فاصل ہیں اور حد، محدود میں داخل نہیں ہوتی۔ اس لیے اگر کوئی کہے اس دیوار سے اس دیوار تک تو دونوں طرف کی د یواریں اقرار میں شامل نہیں ہوں گی۔ اور اگرغایت قائم بالذات نہ ہومگر اصل کلام اس غایت کو اپنے تحت شامل کرتا ہو تو غایت کا ذکر اس کے علاوہ سب کو خارج کر دے گا اورمحل غایت باقی رہے گا جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے: {وَ اَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ} ہاتھ کے اسم کا اطلاق ہاتھ سے بغلوں تک کے عضو پر ہوتا ہے ۔یہاں غایت کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ اس کے علاوہ اس سے خارج ہو جائے اور اگر اصلِ کلام غایت کے محل کو شامل نہ کر تا ہو یا اس میں شک ہو کہ شامل ہے یا نہیں جب کہ غایت کا ذکر حکم کی طوالت کو بیان کر کے اس کی آخری حد تک بتایا گیا ہو تو غایت شامل نہیں ہو گی جیسا کہ {الی الیل} میں ہے ۔بے شک روزہ خود کو (کھانے پینے اورحوائج نفس سے) روکنا ہے اور اس اسم کا اطلاق ایک لمحہ کے سوا سب کو شامل نہیں کرتا اس لیے اسم کو غایت کے مقام تک بیان کیا گیا۔(یعنی روزہ خود کو کھانے پینے اور حوائج بشریہ سے روکنے کا نام ہے اور اگر وہ ایک لمحہ بھی ہوتو اس پر روزہ کے اسم کا اطلاق ہو جائے گا تو یہاں غایت کا بیان اس غرض سے ہے حکم کی مدت و طوالت بیان ہو۔حکم کی طوالت اسی طور متعین ہو سکتی کہ غایت حکم میں شامل نہ ہو ورنہ یہ جاننا کہ روزہ رکھنے کا حکم کب سے کب تک ہے نا ممکن ہو گا) (۶۶)

علامہ بزدوی نے اللہ تعالی کے ارشاد {ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ} میں غایت کی مغیا سے خارج اس لیے قرار دیا ہے کہ غایت بذات خود قائم ہے جب کہ علامہ سرخسی نے غایت کو مغیا میں شامل نہ ہونے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ غایت صدر کلام میں شامل نہیں ہے یا شامل ہونے میں شبہ ہے۔

علامہ نسفی نے بھی علامہ سرخسی کے اتباع میں فرمایا ہے:

جان لو کہ بعض غایات حکم کے تحت شامل نہیں ہوتیں جیسا کہ فرمان الہی ہے:{ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ} اور دوسری جگہ ارشاد ہے۔ {فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ} اسی طرح بعض غایات کا حکم میں شمول ہوتا ہے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔ {وَ اَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ} اورفرمان ہے: {اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی}(۶۷) قائل کا قول بھی اس کی مثال ہے کہ میں نے از اول تا اخر قرآن حفظ کر لیا۔ اس میں قاعدہ یہ ہے کے اگرغایت اپنی ذات میں قائم ہو تو وہ شامل نہیں ہو تی کیونکہ حد، محدود کا حصہ نہیں ہوتی۔ اس لیے یہ کہا گیا کہ اگر کوئی کسی دوسرے سے کہے: ’’اس دیوار سے اس دیوار تک‘‘ تو دونوں دیواریں اس اقرار کا حصہ نہیں ہوں گی اور جو چیز قائم بالذات نہ ہو تو اگر اصل کلام اس کو شامل کرتا ہو تو غایت کا ذکر اس کے ماوراء کے خروج کا سبب ہوگا اور مقام و محلِ غایت باقی حکم کے تحت  موجودرہ جائے گا۔ جیسا کہ (وضو میں)  المرافق ۔ کیونکہ اس اسم کا اطلاق ہاتھ سے بغلوں تک کے عضو پر ہوتا ہے تو غایت کے ذکر سے اس کے علاوہ کو نکال دیا گیا۔ اگرا صل کلام محل غایت کو شامل نہ ہو یا اس میں شک ہو توذکر غایت سے حکم کے مقام تک پہنچنا مراد ہوتاہے۔ (۶۸)

علماء نحو نے الیٰ کے اس کے علاوہ اور معانی بھی بتائے ہیں۔

ان میں سے ایک معنی معیت کے بھی ہیں جیسے اللہ کا ارشاد ہے:

{وَ لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓی اَمْوَالِکُمْ}  (۶۹)

اوران کا مال اپنے مال میں ملا کرنہ کھائو

اور ایک معنی  ظرفیت کے ہیں یعنی فی کی طرح جیسے اللہ کا ارشاد ہے:

{لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ} (۷۰)

وہ تمہیں ضرور بالضرور قیامت کے دن جمع کرے گا

ایک معنی تاکید کے بھی ہیں اس کو زائدہ بھی کہتے ہیں جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{فاجعلاَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْٓ اِلَیْھِمْ} (۷۱)

لوگوں کے دلوں کو ایسا بنا دے کہ ان کی جانب مایل رہیں

بعض کی قرأت میں واو کا فتحہ ا ورفراء نحوی نے یہاں الیٰ کو زائدہ کہا ہے۔فراء معانی القرآن میں فرماتے ہیں:

وقرأ بعض القرء (تَھْوِیْٓ اِلَیْھِمْ) بنصب الواو، بمعنی تھواھم کما قال (ردف لکم) (۷۲) یرید ردفکم۔ (۷۳)

بعض قراء نے {تَھْوِیْٓ اِلَیْھِمْ}تو واو کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی  تھوٰھم کے معنی میں جیسا کہ ارشاد ربانی (ردف لکم)(تمہارے قریب ہے) سے مرادردفکم ہے۔

فی:  حروف جر میں سے ایک حرف فی ہے۔ علماء اصول کے نزدیک کلمہ فی ظرفیت کے لیے وضع کیا گیا ہے اور لغت میں یہی اس کے اصل معنی ہیں۔علامہ بزدوی فرماتے ہیں:

واما فی فللظرف۔ (۷۴)

اور جہاں تک کلمہ فی  کا تعلق ہے تو یہ ظرف کے لیے ہے۔

علامہ عبدالعزیز بخاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں:

ان کا قول (واما فی فللظرف) یہ کلمہ جس پر داخل ہوتا ہے اسے ظرف بناتا ہے۔ گویا وہ چیز جو اس کلمہ سے پہلے بیان ہوئی ہوتی ہے یہ اس کے لیے برتن ہو جاتی۔ پس جب تو کہے۔ الخروج فی یوم الجمعۃ (جمہ کے دن نکلنا ہے) تو تو نے خبردی کہ دن، خروج کو اپنے اندر شامل کیے ہوئے ہے تو وہ اس کے لیے برتن کی طرح ہے اس طرح تیرا قول گھڑ دوڑ میدان میں ہے، زید گھر میں ہے۔ یہ اس کلمہ کی اصل ہے۔

پھر کہا گیا  زید ینظر فی العلم  (زیدعلم میں گہری نظر رکھتا ہے)، انا فی حاجتک (میں آپ کا حاجت مند ہوں) یہ ان معنوں میں ہے کہ علم ایک برتن کی مانند ہے جس کے اندر نظرڈالی جاتی ہے، اسی طرح ان معنوں میں کہ جب اس کی عنایت، اس کی حاجت کی جانب متوجہ ہو گی تو گویا وہ اس طرح ہوگی کہ وہ اس کے دل اور افکارِ (پریشاں) پر غالب ہو جائے گی ،سب کو گھیرلے گی۔  (۷۵)

علامہ سرخسی فرماتے ہیں:

اصل ِوضع کے اعتبار سے فی ظرف کے لیے ہے۔کہا جاتا ہے:دراہم تھیلی میں ہیں،  اسی حقیقت کا اعتبار کرتے ہوئے ہم نے کہاکہ جب اس نے کسی دوسرے کو کہا کہ میں نے تیرے کپڑے رومال میں غصب کیے یا کھجوریں ٹوکری میں غصب کیں،تو دونوں کو لوٹانا لازم ہوگا۔ کیونکہ اس نے مظروف کو ظرف کے اندر ہوتے ہوئے غصب کرنے کا اعتراف کیا۔چنانچہ اس کا تحقق اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب دونوں چیزیں مغصوب ہوں۔  (۷۶)

ابن ہشام نحوی نے بھی اس کے سب سے پہلے معنی ’’ظرفیت ‘‘ ہی بیان کیے ہیں خواہ یہ ظرفیہ مکانیہ ہو یا ظرفیہ زمانیہ ۔پھر سورہ روم کی آیت مثال کے طور پر نقل کی ہے جس میں دونوں جمع ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

آلٓم غلبت الروم فی ادنی الارض وھم من بعد غلبھم سیغلبون فی بضع سنین (۷۷)

الٓم ، رومی قریبی علاقوںمیں مغلوب ہو گئے اور اپنی مغلوبیت کے بعد جلد چند سالوں کے اندر اندردوبارہ غالب آجائیں گی۔

ظرفیت کے مجازی معنی میں سورۃ البقرۃ سے مثال {ولکم فی القصاص حیاۃ}(۷۸) بیان کی ہے۔ علامہ سیوطی نے ظرفیت کے مجازی معنی میں دو مثالوں کا اضافہ فرمایا ہے۔

 ایک سورۃ یوسف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد:

{لقد کان فی یوسف و اخوتہ آیات } (۷۹)

اور سورۃ الاعراف میں {انا لنراک فی ضلال مبین}(۸۰)

ابن ہشام نے  فی  کے دس معنی بیان فرمائے ہیں۔علمائِ اصول کے نزدیک  ظرفیت کے علاوہ دیگر معانی مجازی ہیں۔  فی کے ظرفیت کے علاوہ دیگر معانی میں سے چند ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں:

۱۔        مصاحبت کے معنی میں بھی فیآتا ہے۔ مع کی طرح جیسے {ادخلوا فی امم}(۸۱)

          امتوں کے ساتھ ہو جائو۔  ای معھم

۲۔       تعلیل کے معنی میں جیسے  {فذالکن الذی لمتننی فیہ} (۸۲)

          یہ وہ ہے جس کی وجہ سے تم نے مجھے بہت ملامت کی۔ ای: لاجلہ

۳۔       استعلاء کے معنی میں علیٰ کی طرح جیسے:  {ولاو صلبنکم فی جذوع النخلۃ} (۸۳)

          میں تمہیں لازماً کھجور کے تنوں پرپھانسی دوں گا۔ ای علیھا

۴۔       حرف با کے معنی میں اسے مرادفۃ الباء کہتے ہیں جیسے{ یذرؤ کم فیہ} (۸۴)

          اس کے ذریعے تمہیں پھیلاتا جاتا ہے ۔ ای بسببہ

۵۔       الیٰ کے معنی میں اسے مرادفۃ الیٰ کہتے ہیں جیسے {فردوا ایدیھم فی افواھم}(۸۵)

          انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیے۔ ای: الیھا

۶۔       من کے معنی میں اسے مرادفۃ منٰ کہتے ہیں جیسے: {ویوم نبعث فی کل امۃ شھیدا}(۸۶)

          اور اس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے۔  ای منھم

۷۔       عن کے معنی میں اسے مرادفۃ عنٰ کہتے ہیں جیسے: {وھو فی الآخرۃ اعمیٰ} (۸۷)

          وہ آخرت میں اندھا ہوگا۔ ای: عنھا و عن محاسنھا

۸۔        مقایست( اندازہ کرنا،قیاس کرنا) کے معنی میں اور اس طرح حرف فی سابق مفضول اور لاحق فاضل کے درمیان داخل ہوتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے{فما متاع الحیاۃ الدنیا فی الآخرۃ الا قلیل}(۸۸)

          دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلے میں بہت تھوڑا ہے

۹۔        تاکید کے لیے اور یہی زایدہ بھی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے{وقال ارکبوا فیھا}(۸۹) ای: ارکبوھا

 

خ خ خ

 

حوالے و حواشی

 

۱۔        تھانوی،محمد علی، کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم، تحقیق: ڈاکٹر علی دحروج، ڈاکٹر عبداللہ خالدی، بیروت، مکتبہ لبنان، طبع اول، ۱۹۹۶ء، ۱؍۶۴۳

۲۔       مصطفی ، جمال الدین، البحث النحوی عند الاصولیین، دار الہجرہ، قم، طبع دوم،۱۴۰۵ھ، ۱۹۹

۳۔       ابن عقیل، عبداللہ، شرح ابن عقیل علی الفیہ ابن مالک، تحقیق: محمد محی الدین عبدالحمد طہران، انتشارات ناصر خسرو، ۱۹۶۴ء، ۱؍۱۵

۴۔       جرجانی ، سید شریف، علی بن محمد، کتاب التعریفات،  طہران، مطبع خیریہ، طبع اول، ۱۳۰۶ھ، ۳۸

۵۔       سیوطی، عبدالرحمن، جلال الدین، الاشباہ والنظائر فی النحو، بیروت، دار الکتب العلمیہ، طبع اول، ۱۹۹۰ء، ۲؍۱۰،۱۱

۶۔       تھانوی،محمد علی، کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم،۱؍۶۵

۷۔       مصطفی ، جمال الدین، البحث النحوی عند الاصولیین، ۱۹۹

۸۔       بخاری، عبدالعزیز بن احمد، کشف الاسرار ، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، طبع اول، ۱۹۹۷ء، ۲؍۲۵۰

۹۔       جرجانی ، عبدالقاہر، شرح مائۃ عامل، اسلام آباد، دار العلم، طبع اول، ۱۹۹۷ء، ۶

۱۰۔       ابن مالک، محمد بن عبداللہ، الفیہ ابن مالک فی النحو والصرف، دار الکتب العلمیہ، بیروت، س ن، ۳۱

۱۱۔       جرجانی ، عبدالقاہر، شرح مائۃ عامل، ۶

۱۲۔       بزدوی، علی بن محمد، کنز الوصول الی معرفۃ الاصول، کراچی، امیر محمد کتب خانہ، س۔ن ،  ۱۰۷

۱۳۔      بخاری، عبدالعزیز بن احمد، کشف الاسرار، ۲؍۲۵۰

۱۴۔      سرخسی، محمد بن احمد، اصول، دار المعارف النعمانیہ، طبع اول،۱۹۸۱ء ، ۱؍۲۴۱

۱۵۔      بزدوی، علی بن محمد، کنز الوصول الی معرفۃ الاصول،  ۱۰۸، ۱۰۹

۱۶۔       القرآن،  ۲۳: ۲۰                         ۱۷۔      سرخسی ، اصول ، ۱؍۲۴۲

۱۸۔      جوینی، عبد الملک بن عبداللہ، البرہان فی اصول الفقہ،تحقیق: ڈاکٹر عبد العظیم محمود،قطر، دار الوفاء، ۱۹۹۲ ، ۱؍ ۱۳۷

۱۹۔       ابن حزم،ابو محمد علی، الاندلسی ،الظاہری، الاحکام فی اصول الاحکام، مصر، دارالحدیث بجوار ادارہ الازھر،۱۹۸۴ ، ۱؍۴۸۵

۲۰۔      سیوطی، عبدالرحمن، جلال الدین، الاتقان فی علوم القرآن، بیروت، دار الکتب العربی، طبع اول،۱۹۹۰ء، ۱؍۴۸۵

۲۱۔       ملاجیون، شیخ احمد، شرح نور الانوار علی المنار مع کشف الاسرار علی المنار، دار الکتب العلمیہ بیروت، طبع اول ۱۹۸۶م، ۱؍۳۳۲

۲۲۔      القرآن،  ۲: ۱۷                           ۲۳۔     ایضاً،  ۲:۵۴

۲۴۔      ایضاً،  ۴:۱۷۰                  ۲۵۔      ایضا ً، ۳:۷۵

۲۶۔      ایضاً،  ۳:۱۲۳                  ۲۷۔     ایضاً،  ۲۵:۵۹

۲۸۔      ایضا ،  ۷۶: ۶                  ۲۹۔      ایضاً،  ۱۲:۱۰۰

۳۰۔     ایضا،  ۱۶:۳۲                   ۳۱۔       ایضاً،  ۴:۷۹

          یہ امثلہ ان کتب سے لی گئیں:ابن ہشام، جمال الدین،  مغنی اللبیب عن کتب الاعاریب، تحقیق: ڈاکٹر مازن المبارک، سعید افغانی،چاپ بہمن،طبع سوم، ۱۹۶۷ء، ۱۳۷- ۱۵۱؛ الاتقان، ۴۸۵-۴۸۷

۳۲۔     بزدوی، علی بن محمد، کنز الوصول الی معرفۃ لأصول، ۱۰۹

۳۳۔     سرخسی ، اصول ، ۱؍۲۳۵ ۳۴۔     القرآن،  ۲:۲۳۳

۳۵۔     ایضاً                          ۳۶۔     ایضاً، ۶۰: ۱۲

۳۷۔     سرخسی ، اصول ، ۱؍۲۳۵          

۳۸۔     ملاجیون، شیخ احمد، شرح نور لأنوار، ۱؍۳۴۰،۳۴۱

۳۹۔     بزدوی، علی بن محمد، کنز الوصول الی معرفۃ الاصول،  ۱۰۹

۴۰۔      سرخسی ، اصول ، ۱/۲۳۶ ۴۱۔      القرآن ، ۷:۱۰۵

۴۲۔      ابن ہشام، جمال الدین،المغنی اللبیب، ۱۹۲؛  الاتقان، ۱؍۴۹۹

۴۳۔     القرآن ، ۸۳:۲                 ۴۴۔     سرخسی ، اصول ، ۱؍۲۳۶

۴۵۔     القرآن ، ۲: ۱۷۷               ۴۶۔      ایضا ً، ۲: ۱۸۵

۴۷۔     ایضاً،  ۲۸: ۱۵؛  المغنی اللبیب، ۱۹۰-۱۹۵؛  الاتقان، ۱؍۱۹۸،۴۹۹

۴۸۔     بزدوی، علی بن محمد، کنز الوصول الی معرفۃ الاصول، ۱۱۰

۴۹۔      سرخسی ، اصول ، ۱؍۲۳۶ ۵۰۔      القرآن ، ۲:۲۵۲

۵۱۔      ایضاً،  ۳:۹۲                   ۵۲۔      المغنی اللبیب، ۴۱۹، ۴۲۰

۵۳۔     سیوطی، عبدالرحمن، جلال الدین،الاتقان، ۱/۵۳۳

۵۴۔     ملاجیون، شیخ احمد، شرح نور الانوار، ۱؍۳۴۱        ۵۵۔      القرآن ، ۲۲:۳۰

۵۶۔      ایضاً،  ۲:۱۹                     ۵۷۔     ایضاً،  ۹: ۳۸

۵۸۔     ایضا ً، ۲:۲۲۰،  مغنی اللبیب، ۴۱۹-۴۳۱؛ الاتقان، ۱؍۵۳۳-۵۳۵

۵۹۔      کنز الوصول الی معرفۃ الاصول،۱۱۰   ۶۰۔      سرخسی ، اصول ، ۱؍۲۳۴

۶۱۔       ملاجیون، شیخ احمد، شرح نور الانوار، ۱؍۳۴۲       ۶۲۔      القرآن،  ۲:۱۸۷

۶۳۔     ایضا ً، ۲:۲۸۰                           

۶۴۔      ابن ہشام، جمال الدین،مغنی اللبیب، ۱۰۴

۶۵۔      بزدوی، علی بن محمد، کنز الوصول الی معرفۃ الاصول، ۱۱۰

۶۶۔      سرخسی ، اصول ، ۱؍۲۳۴، ۲۳۵               ۶۷۔     القرآن ، ۱۷:۱

۶۸۔      کشف الاسرار شرح المصنف علی المنار، ۱؍۳۴۳، ۳۴۴

۶۹۔      القرآن،  ۴:۲                            ۷۰۔     ایضا ً، ۶:۱۲

۷۱۔      ایضا ً،  ۱۴: ۳۷                          ۷۲۔     ایضا ً، ۲۷: ۸۲

۷۳۔     فراء، یحیٰ بن زیاد، معانی القرآن، تحقیق: احمد یوسف نجاتی، محمد علی النجار، دار السرور، س ن، ۲؍۷۸

۷۴۔     بزدوی، علی بن محمد، کنز الوصول الی معرفۃ الاصول، ۱۱۰

۷۵۔     کشف الاسرار، ۲ /۲۷۰                    ۷۶۔     اصول سرخسی،۱/۲۳۷

۷۷۔     القرآن ، ۳۰:۱

۷۸۔     ایضاً ، ۲:۱۷۹،  من المغنی اللبیب۔۲۲۳

۷۹۔      القرآن، ۱۲:۷                            ۸۰۔      ایضاً ،۷:۶، الاتقان، ۱/۵۰۵

۸۱۔      القرآن، ۷:۳۸                          ۸۲۔      ایضاً ،۱۲:۳۲

۸۳۔     ایضاً ،۲۰:۷۱                             ۸۴۔     ایضاً،  ۴۲:۱۱

۸۵۔     ایضاً ،۱۴:۹                              ۸۶۔      ایضاً ،۱۶:۸۹

۸۷۔     ایضاً ،۱۷:۷۳                           ۸۸۔     ایضاً، ۹:۳۸

۸۹۔      ایضاً ،۱۱:۴۱ امثلہ:ا لمغنی اللبیب۔۲۲۲۔۲۲۶،  الاتقان، ۱/۵۰۵۔۵۰۶