ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار
پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

قرآنی خطاطی

ڈاکٹر محمد اقبال بھٹہ - رخسانہ ندیم بھٹہ

جزیرۃ العرب میں اسلام پھیلا تو قرآن پاک کی اشاعت کے لیے خطاطی کو عام کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ حضورﷺ نے قرآنی کتابت پر خصوصی توجہ دے کر اس کی مناسب ترویج کی اور انہوں نے عہد رسالت کے تیرہ برس مکہ معظمہ گزارے وہاں جو لوگ فن کتابت سے وابستہ ہوئے ان کا ذکر کئی کتب میں ملتا ہے۔ دس سالہ مدنی زندگی میں مذکورہ صحابہ کے علاوہ حضورﷺکی ہدایت پر کئی  صحابہ کرام نے لکھنا سیکھ لیا ان میں سے ابی بن کعب، سعید بن زرارہ، منذر بن عمر، رافع بن مالک شامل ہیں۔       ماہ رمضان ۲ ہجری مطابق ۶۲۴ء میں مسلمانوں کو غزوہ بدر میں فتح نصیب ہوئی اور کئی مخالفین اسلام گرفتار ہوکر آئے ان میں سے جو اسیران جنگ اپنی رہائی کے لیے نقد فدیہ ادا کرنے سے قاصر رہے ان میں سے ۷۰ ایسے تھے جو لکھنا جانتے تھے۔ حکم ہوا کہ ان میں سے ہر قیدی انصار کے دس دس بچوں کو لکھنا سکھادے تو یہ اس کا فدیہ سمجھا جائے گا۔ پڑھے لکھے اسیران نے یہ شرط فوراً قبول کرلی اور یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں میں سا ت سو افراد تھوڑے عرصہ میں فن کتابت سے آشنا ہوگئے۔ (۱) حضرت زید بن ثابت نے اسی طرح لکھنا سیکھا تھا۔ تعلیم الخط کا پہلا مدرسہ مدینہ منورہ میں قائم ہوا قبل از اسلام عرب لکھنے کو حافظے کی کمزوری کی علامت سمجھتے تھے مگر اب اس نظریہ میں تبدیلی آگئی اور انہوں نے تحریر کی قدرو قیمت کا اندازہ لگالیا۔ اسلام کی فتوحات سے یہ سلسلہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ مکہ میں بنی ہاشم میں خط قیرآموز رائج تھا اور مصحف کی کتابت اسی خط میں ہوئی۔ مدینہ منورہ میں جو کتابت ہوئی وہ خط حمیری میں ہوئی دوسری صدی ہجری میں خط نسخ اختیار کیا گیا۔ (۲) خط حمیری یمنی خط تھا اور حضورﷺ کے نامہ ہائے مبارک حمیری خط ہی میں ہیں۔ (ع۔۱)

           کوفہ کے نواح میں جو خط رائج تھا وہ کوفہ کے پرانے نام حیرہ کی مناسبت سے خط حیری کے نام سے مشہور تھا۔ خط حیری میں ترامیم سے جو خط ایجاد ہوا اسے خط کوفی کا نام دیا گیا۔ حضورﷺ کے بعد سب سے پہلے حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں عربی خط سرزمین عرب سے باہر نکلا۔ اس زمانے میں ملٹری سیکرٹریٹ کا سارا کام عربی زبان میں ہوتا تھا مگر مفتوحہ علاقوں میں سول سیکرٹریٹ کی زبان مقامی ہی رہی حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ہی کوفہ اور بصرہ کی چھاؤنیاں آباد ہوئی مگر بہت جلد یہ شہر یمنی تہذیب کے اثرات لیے ہوئے اسلامی تہذیب و ثقافت کے مراکز بن گئے۔

          عربی خط نے اسلام کے زیر سایہ سب سے پہلے جو نیا جمالیاتی لباس پہنا اسے جدید کوفی خط کہا جاتا ہے جو بعد میں اپنے علاقائی ناموں سے بھی مشہور ہوا۔ بعض روایات کے مطابق حضرت علیؓ نے کوفہ کو دارالخلافہ بنایا تو سب سے پہلے آپ نے وہاں کے خط میں حسن و جمال پیدا کرکے اس کا نام خط کوفی رکھا جس کے ثبوت کے طور پر سلطان علی مشہدی کا یہ شعر پیش کیا جاتا ہے۔

مرتضی اصل خط کوفی را  کرد پیدا و نشو و نما

          یہاں لفظ ’’اصل خط کوفی کے الفاظ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت تک کوفی اپنی بہت سے اقسام کے ساتھ ارتقائی منازل طے کرچکا تھا۔ حضور نبی کریمﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ صحابہ رضوان علیہم کو پورے آداب و قواعد (ترتیل) کے ساتھ سنادیتے تھے۔ صحابہ کرام اس کو پوری احتیاط کے ساتھ از بر کرلیتے اور کاتبان وحی ان آیات کو اسی وقت اونٹ کے شانے کے ہڈی ، پتھر کی سل، کھجور کے پتے یا درخت کی چھال پر منضبط کرلیتے تھے۔ اس زمانے میں اعراب و نقاط کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ کیونکہ حفاظ الفاظ کو صحیح مخارج اور پوری صحت کے ساتھ ادا کرنے پر قادر ہوتے تھے ابتداء میں قرآن مجید چمڑے کے ٹکڑوں (۳) پتھروں، کھجور کے پتوں، اونٹ کے شانے کی ہڈیوں پر لکھا جاتا رہا بعثت نبویﷺ کے وقت قریش میں خط قیر آموز رائج تھا (۴) اس لیے مکہ معظمہ میں جس قدر کتابت وحی ہوئی وہ اسی خط میں ہوئی جبکہ مدینہ منورہ میں خط حیری لکھا جاتا تھا چنانچہ ہجرت نبویﷺ کے بعد قرآن کریم کے جو نسخے لکھے گئے وہ خط حیری میں تھے۔ (۵) حضرت خالد سعید ابی العاص ؓ کی صاحبزادی فرماتی ہیں کہ سب سے پہلے بسم اﷲ میرے والد ماجد نے لکھی یہ ربیع الاول سن ۴ ہجری کا واقعہ ہے اس لحاظ سے خالد بن سعید وہ خوش نصیب صحابی ہیں جنہیں سب سے پہلے کتابت وحی کی سعادت حاصل ہوئی حضرت خالد پانچویں مسلمان تھے۔ حضرت زید بن ثابت ؓ راوی ہیں کہ جب بھی رسول اﷲﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ مجھے بلاتے میں لوح وغیرہ لے کر حاضر خدمت ہوجاتا۔ آنحضرتﷺ پہلے وحی لکھاتے اور پھر سنتے اور اگر کوئی غلطی ہوتی تو درست کرادیتے پھر میں اس کو لوگوں میں لاتا (۶) آخری وحی ۳ ربیع الاول ۱۱ھ ؍ ۶۳۲ء کو نازل ہوئی جو ابی بن کعبؓ نے لکھی۔ اس کے بعد نزول وحی کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ (۷) جناب رسول مقبول ﷺ کے کاتبان وحی کی تعداد مختلف روایات کے مطابق کم و بیش چالیس تھی۔ (۸) حضورﷺ کے زمانے کے لکھے ہوئے قرآنی نسخے صحابہ کے پاس موجود تھے بعض صحابہ نے خود لکھے اور بعض نے لکھوائے کیونکہ قرآن لکھنے اور پڑھنے کو ابتدائی اسلامی دور سے بھی عبادت کا درجہ حاصل تھا (۹)۔

          امہات المؤمنین حضرت ام سلمہؓ ، حضرت حفصہؓ اور حضرت عائشہؓ نے قرآن پاک لکھوائے جن کو دیکھ کر آپ تلاوت کیا کرتی تھیں (۱۰) حضرت عائشہ نے اپنے آزاد کردہ غلام ابو یونسؓ سے کلام اﷲ لکھوایا (۱۱) حضرت عمربن رافع نے حضرت حفصہؓ کے لیے قرآن کریم لکھا۔ عرب کے مشہور شاعر لبیدؓ جب مسلمان ہوئے توانہوں قرآن نویسی کا شغل اختیار کیا۔ (۱۲) حضرت ناجیہ الطفائی عمر بھی قرآن پاک کی کتابت کرتے رہے (۱۳) حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ نے چار مرتبہ قرآن کریم لکھا ایک حضورﷺ کی حیات میں ، دوسرا مکمل قرآن بہ ترتیب نزول تیسری بار عہد صدیقی میں اور چوتھی مرتبہ عہد عثمانی میں (۱۴) دور نبوت میں صہیب رومی۔ سلمان فارسی ایشیا اور بلال حبشی افریقہ سے آکر مسلمان ہوئے آگے چل کر ان خطوں کے علاقائی خط بھی اپنے اپنے علاقائی اثرات کے تحت نمایاں ہوئے۔

خلافت صدیقی میں قرآنی خطاطی

          حضرت زید بن ثابتؓ کا بیان ہے کہ میں نے ابوبکرؓ کے حکم سے چمڑے کے ٹکڑوں پر قرآن پاک لکھا۔ یہ قرآن پاک خط حیری میں لکھا گیا۔ اسی نسخے کو ’’نسخہ ام‘‘ کہتے ہیں امام بن خرم نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں کوئی شہر ایسا نہ تھا جہاں لوگوں کے پاس بکثرت قرآن پاک موجود نہ ہوں۔

خلافت فاروقی

          فاروقی عہد میں حضرت زید ؓ نے ڈیڑھ برس کی مدت میں کلام مجید خط حمیری میں کتابت کیا اس عہد کے ایک مصحف کا ورق جس پر سورہ جن کی کی آیات درج ہیں جو یورپ کے کتب خانے میں محفوظ ہے (۱۵) حضرت عمرؓ کے عہد میں صرف مصر، عراق، شام اور یمن میں قرآن کریم کے ایک لاکھ سے زائد نسخے موجود تھے (۱۶) نافع بن ظریب النوفلی کے متعلق ابوالمنذر وہشام بن محمد الکلبی کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ کے لیے معارف کی کتابت کرتے۔ (۱۷)

خلافت عثمانی

          حضرت عثمانؓ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کی حیات مبارک میں، میں نے قرآن پاک جمع کیا ۲۵ھ؍۶۴۵ء میں حضرت عثمانؓ نے ۱۲ آدمی مامور فرمائے ۔ (۱۸) جن میں حضرت زید بن ثابتؓ ، حضرت سعید بن العاصؓ ، حضرت عبدالرحمن ؓ بن حارث بن ہشام، (۱۹) عبداﷲ بن زبیرؓ ، حضرت ابی بن کعبؓ ، عبد اﷲ بن عمروبن العاصؓ ، عبداﷲ بن عباسؓ، انس بن مالکؓ ، مالک بن ابی عامرؓ اور افلخ بن کثیر بھی شامل ہیں جنہوں نے قرآن پاک کی تدوین کی اور لغت قریش پریہ نسخہ تیار کرایا اس وجہ سے  حضرت عثمان جامع القرآن مشہور ہوئے۔ (۲۰) اگرچہ عہد عثمانی سے پہلے کاتبین وحی کے علاوہ کچھ لوگ کتابت مصاحف کے لیے مشہور رہے۔ مگر حضرت عثمان کا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے صحف صدیق کی اشاعت عامہ کرکے تمام مصاحف فردیہ کو یک قلم منسوخ کردیا۔ اس مصحف کی اشاعت کی کارروائی ۲۵ سے ۳۰ھ؍ ۶۴۵ء تک جاری رہی اور تمام نسخے اس وقت کے خط الجزم یا خط حیری میں لکھے گئے۔ (۲۱) جسے بعد میں خط کوفی کا نام دیا گیا۔ اس وقت خط جزم نقط اور شکل سے خالی ہوا کرتا تھا اس لیے مصاحف عثمانیہ بھی نقطوں اور اعراب سے یکسر مبری تھے ہر نسخے کے ساتھ قاری بھی روانہ کیے گئے ۔ مصاحف عثمانی کے کل آٹھ نسخے تھے جن میں سے ایک حضرت عثمان کے پاس رہا اور باقی نسخے مدینہ، مکہ، بصرہ، کوفہ، شام، یمن اور بحرین بھیجے گئے۔ اگر چہ یہ مصحف ایک خط میں لکھے گئے اور قریشی لہجے میں پڑھے گئے۔ اس کے بعد قرآن کریم ہر خط میں لکھا گیا جو قرآن کریم جس خطے میں لکھا گیا وہ اس کے علاقائی اثر کے تحت تھا۔

خلافت علوی

          عہد عثمانی تک جس قدر قرآن شریف لکھے گئے وہ سب خط  حیری میں تھے۔ (۲۲)   حضرت علی ؓکے دور خلافت میں آپ کے ندیم خاص اور نامور شاگرد ابوالاسود دوئلی(م ۶۹ھ؍ ۶۸۸ء) نے رسم الخط میں ترمیم اور قرآن کریم میں اعراب بھی لگائے۔ ابوالاسود دوئلی نے اعراب لگواتے وقت کاتب کو ہدایت کی کہ جس لفظ کو ادا کرنے سے میرا منہ کھل جائے اس کے اوپر ایک نقطہ لگادینا (فتحہ یعنی زبر کا قائم مقام)اور جس حرف کو ادا کرتے وقت میرے دونوں لب کناروں سے مل جائیں اور میں اسے منہ گول کرکے ادا کروں اس کے آگے ایک نقطہ لگادینا۔ (ضمہ یعنی پیش کا قائم مقام) اور جس حرف کے ادا کرنے میں بخلاف دیگر حروف کے آواز کا رخ نیچے کی جانب ہو، اس کے نیچے ایک نقطہ لگادینا یعنی (کسرہ زیر کا بدل) کاتب ان ہدایات پر عمل کرتا رہا اور مصحف کا اعراب شدہ نسخہ تیار ہوگیا اور اگلے سو برس تک یہ نقاط اعراب کا کام دیتے رہے۔ ابوالاسود کے نامور شاگرد نصر بن عاصم، یحی بن یعمر عدوانی، میمون بن اقرن اور عنسبہ بن معدان فہری تھے۔ عبدالمحمد ایرانی کی تالیف پیدائش خط و خطاطاں کے صفحہ ۵۶ پر کلام پاک کے ایک نسخے کا عکس چھپا ہے اس میں حروف پر بجائے اعراب کے نقطے ہی لگائے گئے ہیں یہ نسخہ مصحف مکرم مصر کے کتب خانے میں محفوظ ہے اور اس کو قرن اول کی یادگار تسلیم کیا جاتا ہے۔ جب اسلامی سلطنت نے وسعت پائیٍ تو لہجہ کے اختلاف کے باعث خود عربوں کو کلام اﷲ کے تلفظ میں دشواریاں پیش آئیں اس لیے کہ کتابت مصحف مکرم میں ب ت ث کے لیے صرف ایک شکل تھی ج ح خ  کی شکل بھی ایک اسی طرح د ذ ۔ رز۔ س ش۔ ص ض۔ ط ظ۔ ع غ۔ کے لیے ایک ہی شکل بنائی جاتی تھی عجمیوں کے لیے یہ اور بھی مشکل تھا۔ عبدالملک بن مروان بر سراقتدار آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد اس اہم مسئلے کی طرف متوجہ ہؤا اس نے عراق کے گورنر حجاج بن یوسف سے کہا کہ ابوالاسود کی مقرر کردہ علامات اعراب (نقاط) ناکافی ہیں۔ اس لیے اہل علم سے مشورہ کرکے متجانس الخط حروف میں تمیز کرنے کی غرض سے نقطے تجویز کیے جائیںحجاج نے علماء و فضلاء سے مشورہ کیا اور سب کی رائے سے نصر بن عاصم (شاگرد ابوالاسود دوئلی) نے متجانس الخط حرف کی تمیز کے لیے کلام پاک کے ایک نسخے پر ایک دو اور تین نقطے لگادیے مگر اعراب (زبر۔ زیر۔ پیش) ظاہر کرنے والے نقطوں کو بھی برقرار رکھا۔ فرق کے لیے یہ صورت اختیار کی گئی کہ اعراب کے لیے سیاہ نقطے لگائے اور متجانس الخط حروف کے لیے سرخ بعد کے نسخوں میں اس صورت کا عکس بھی اختیار کیا  گیا یعنی اعراب کے لیے سرخ نقاط لگائے گئے متجانس الخط حرف کے لیے سیاہ، پہلی سے پانچویں صدی عیسوی تک نہ صرف قرآن کریم خط کوفی کی مختلف اقسام میں لکھا گیا بلکہ یہ خط پانچ سو سال تک کتبات کے لیے بھی مستعمل رہا۔ قرآن کریم کا قدیم ترین نسخہ آٹھویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتا ہے جس کی تاریخ کتابت ۱۶۸ھ؍ ۷۸۴ء ہے قاہرہ کے کتب خانے میں محفوظ ہے۔ (۲۳) ابتدائی دو صدیوں میں زیادہ تر قرآن کریم کپڑے پر لکھا گیا جس کے لیے لکھنے کی سطح ہموار مصفیٰ اور دونوں اطراف کی سیاہی ایک ہی روانی نہیں رکھتی تھی جبکہ پیپی رس سرکاری فرائض اور کھاتوں کا حساب کتاب رکھنے کے لیے استعمال ہوا بعد میں کاغذ چین نے نویں صدی عیسوی کے وسط میں سمرقند کے راستے سے متعارف کرایا جس سے اسلامی آرٹ و فنون کی بساط ہی پلٹ گئی۔ دنیا کے مختلف عجائب خانوں میں پہلی صدی ہجری سے لے کر آٹھویں صدی ہجری تک لکھے ہوئے قرآن کریم کے جو نسخہ جات ملتے ہیں ان میں خط کوفی کے مختلف مدارج کا پتہ ہے (ع ۲)

کوفی کے عروج کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ اس مدت میں قرآنی کتابت کے لیے خط کوفی ہی خاص کر رہ گیا تھا۔

بنو امیہ

          حضرت معاویہ کے زمانہ میں قطبہ کاتب تھے جنہوں نے آبِ زر سے کلام پاک لکھا ولید بن عبدالملک م۹۶ھ؍ ۷۱۴ء کے عہد میں خالد بن ابی الہیاج مشہور خطاط قرآن تھے انہوں نے مسجد نبوی پر سورۃ الشمس آب زر سے لکھی یہ خط کوفی کے مصلح مانے جاتے ہیں آپ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ تک حیات تھے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے حکم سے خالد نے ایک قرآن کریم کتابت کیا۔ جب یہ کلام پاک حضرت عمر بن عبدالعزیز کو پیش کیا گیا تو آپ خط د یکھ کر حیران رہ گئے۔ مصحف پاک کو بوسہ دیا اور سر پر رکھا اور سوچا کہ اس کمال خط اور نفاست کا کیا ہدیہ یا انعام دیں مگر کچھ سمجھ میں نہ آیا تو اصل قرآن پاک ہی بطور ہدیہ خالد کو دے دیا۔ حسن بصری، ابو یحی ، مالک بن دینار، سامہ بن لوی بن غالب بھی اس دور کے کاتبان قرآن میں شمار ہوتے ہیں۔

بنو عباس کے قرآنی خطاط

          ابوالعباس سفاح بانی دولت عباسیہ کے عہد میں ضحاک بن عجلان شامی قرآن پاک کے مشہور خطاط تھے انہوں نے قطبہ کی طرز نگارش میں اصلاحات کیں ۱۵۴ھ؍۷۷۰ء میں فوت ہوئے ۔ اسی عہد کے مشہور کاتب اسحاق بن حماد تھے جنہوں نے ضحاک کے خط میں ترمیم کی یہ مہدی عباسی کے دور تک زندہ رہے خلیفہ ہارون الرشید کے زمانہ میں خشنام بصری اور مہدی کوفی مشہور کاتبان قرآن تھے،   مامون الرشید کے دور میں علم الخط کو بہت فروغ حاصل ہوا اس کے استاد امام کسائی (م ۱۸۲ھ؍۷۹۸ء) نحو، ادب، قرآن اور علم خط کے امام تھے جنہوں نے خط میں خاص اصلاحات کیں ان کا اصلاح شدہ خط اس قدر مقبول ہوا کہ قرآن کریم کی کتابت اسی طرز میں ہونے لگی (۲۴)اہلِ کوفہ نے اس خط کو بہت پسند کیا۔

          ضحاک بن عجلان اور اسحاق بن حماد کے بے شمار شاگرد تھے جن میں ابراہیم الشجری کا شاگرد الاحول المحرر اپنے زمانہ کا امام فن تھا اسی کے شاگردوں میں ابن مقلہ ۳۲۸ھ؍ ۹۴۰ء کے ہاتھوں ز اویہ دار کوفی کی جگہ نسخ نے اپنا سکہ جمانا شروع کیا جس نے پہلی مرتبہ حروف کی پیمائش کے لیے قلم کی موٹائی کو اکائی قرار دیا۔ ابن مقلہ کو موجودہ نسخی طرز نگارش کا بانی قرار دیا جاتا ہے ۔ ابن مقلہ کے بعد ابن البواب ۳۵۰۔۴۳۱ھ؍ ۹۶۱۔۱۰۳۹ء نے اپنی زندگی میں ۶۴ قرآن کریم کتابت کیے ۔ (۲۵) ابن البواب کے سو سال بعد تک ریحان، محقق، ثلث جوکہ نسخ ہی کی طرح گولائی دار خطوط اپنی ترقی کی انتہائی منازل طے کر چکے۔(۲۶) پانچویں صدی ہجری کے آغاز سے خط کوفی کا استعمال قرآنی کتابت کے لیے کم ہونے لگا اور یہ خط صرف عنوان نگاری، عمارتی خطاطی ، لکڑی، پتھر، شیشے اور دھات کے ظروف تک محدود ہوگیا اور ساتویں صدی عیسوی تک کوفی کا استعمال محض آرائش تزئین تک محدود ہوگیا۔ نقش و نگار عباسی اسلوب کے ساتھ مخصوص ہیں جن میں ساسانی آرٹ کی بہت سی خصوصیات موجود ہیں مثلا چوکٹھے کے ساتھ درخت وغیرہ ۔(۲۷) یہی وہ دور ہے جب تذہیب کاری کا آغاز قرآنی کتابت میں بھر پور طریقے سے ہوا۔

          ساتویں صدی ہجری ؍ تیرہویں صدی عیسوی میں قرآنی کتابت ترک خطاط یاقوت المستعصمی کے ہاتھوں انتہائی خوبصورت قالب میں ڈھل کر سامنے آتی ہے(ع  ۳)

جس نے قرآن کریم کی کتاب کے لیے ایک نیا انداز اختیار کیا جسے بعد میں کئی خطاطوں نے اپنایا (۲۸)۔ یاقوت المستعصمی نے قرآن کریم کی کتاب ۱۱سطور فی صفحہ کے حساب سے کی اور ان سطور میں پہلی چھٹی اور گیارہویں سطور کو خط محقق میں قدرے جلی قلم سے لکھا اور سطور ۲ تا ۵ اور ۷ تا ۱۰ کو نسخ میں یا ریحان میں تیز اور خفی قلم سے لکھا (۲۹) شروع میں یاقوت نے سورہ کے عنوان کوفی اور متن ریحان میں کتابت کیا۔ اس سے قبل جس طرح ابن البواب نے ابن مقلہ کے نسخ کو خوبصورت شکل دی تھی اسی طرح ابن البواب کے نسخ کو یاقوت المستعصمی نے مزید بہتر صورت میں رائج کیا۔ یاقوت المستعصمی کی انہی منفرد خصوصیات کی بناء پر مؤرخین نے اسے سلطان الخطاطین کا خطاب بھی دیا۔ مارٹن لنگز کے مطابق۔

It is often said that the supremacy of Ibn-al-Bawwab lasted only until the last part of the thirteenth century, when his script was surpassed by that of Yaqut al Mushtasii who is sometimes called sultan of calligraphers. It is also said that Yaqut himself was surpassed by the Ottoman Turkish and Safavid Persian calligraphers of the sixteenth and seventeenth centuries. (۲۸)

          ۶۸۵ھ؍ ۱۲۸۶ء میں بغداد میں لکھے گئے ایک نسخہ قرآن میں یاقوت نے سورہ کے عنوان تو پرانی روایت کے مطابق کوفی میں دیے ہیں۔ لیکن ۶۶۹ھ؍ ۱۲۷۰ء کے مکتوبہ قرآن کریم میں سورہ کے عنوان ثلث میں لکھ کر ان کے گرد آؤٹ لائن لگا کر سنہرے کردیے۔ عمومی طور پر یاقوت نے قرآنی کتابت میں چھ مختلف ڈیزائن استعمال کیے۔

          ۱۔        متن ریحان میں عنوان کوفی ہیں۔

          ۲۔       متن نسخ میں اور عنوان آؤٹ لائن میں خط ثلث جلی، سنہرے رنگوں سے مزین

          ۳۔       متن نسخ میں اور عنوان سورہ محقق میں مستطیل چوکھٹے میں

          ۴۔       نسخ میں دائرے اور مفردات س،ص،ان،م، ق، ک،ط، ع  کے انداز میں۔

          ۵۔       پہلی درمیانی اور آخری سطور میں محقق میں اور بقایا متن نسخ میں

          ۶۔       متن ریحان میں اور سورہ کے عنوان ثلث میں جبکہ آؤٹ لائن سنہری رنگ میں (۳۰) اور اس انداز کو ترکوں نے خوب اپنایا مگر جہاں تک قرآنی کتابت میں رکوع، سجدات، رموز اوقاف کا تعلق ہے اس کی مثالیں بقول الفاروق تین طرح سے ملتی ہیں۔ (۳۱)

          چوتھی صدی ہجری کے بعد قرآن کریم اور دیگر دینی کتب کی کتابت کے لیے خط نسخ کا رواج عام ہوا اور گزشتہ ایک ہزار سال سے نسخ کو عالم اسلام کا قرآنی کتابت کے لیے کامل مکمل خط سمجھا گیا۔ (۳۲) مگر ابن مقلہ اور ابن البواب کے نسخ نے ارتقائی منازل طے کیں اور یاقوت المستعصمی نے قرآنی کتابت کو ایک خوبصورت انداز دیا خط نسخ کی ایک بڑی فتح یہ تھی کہ اس نے بہت جلد کتابت قرآن کے لیے کوفی کی جگہ لے لی۔ پانچویں صدی ہجری کے آغاز ہی سے خط کوفی کا رواج کم ہونے لگا جس کی بجائے قرآن کریم کے لیے خط نسخ اور آرائشی مقاصد کے لیے ثلث کا رواج ہوا۔ گیارہویں صدی عیسوی میں قرآن نویسی کے لیے خط کوفی کا استعمال کم ہوگیا اور خط نسخ نے اس کی جگہ لے لی۔ اس کے باوجود عرصہ دراز تک سورتوں کے عنوانات خط کوفی میں ہی دیے جاتے رہے بارہویں صدی عیسوی کے نصف اول یعنی دولت فاطمیہ کے آخری دور میں نسخ اوج کمال کو پہنچ گیا تھا۔

          ترکی مستشرق معمر اولکر لکھتا ہے۔

          اس میں شک نہیں کہ قرآن کریم مکہ میں اترا ۔ مصر میں پڑھا اور ترکی میں لکھا گیا۔(ع۔۴)

          مگر اس کی اشاعت اور خطاطی کی تمام مروجہ اقسام میں بر صغیر کے خطاطوں نے نمایاں جگہ پائی یاقوت المستعصمی کا فیضان پورے عالم اسلام میں جاری رہا جس کے چھ باکمال شاگردوں نے اس کے اسلوب کو پوری دنیا میں متعارف کرایا ان میں ارغون بن عبداﷲ کاملی، یوسف مشہدی، نصراﷲ طبیب، ملقب بہ صدر عراقی شیخ زادہ احمد سہروردی۔ (۳۳) (ع ۴) مبارک شاہ زریں قلم بن قطب تبریزی، سید حیدر جلی نویس اور اس کے شاگرد مولانا عبداﷲ الصیرافی جن کے بارے حالات ِ ہنروراں میں ہے۔

سلسلہ شاگردی خطاطان خراسان بخواجہ عبداﷲ صیرافی می رسد

          مولانا عبداﷲصیرافی(۳۴) کے متعلق مشہور ہے کہ وہ بر صغیر پاک و ہند بھی آئے موصوف سلطان ابو سعید خدا بندہ م۷۳۷ھ؍۳۳۶اء کے معاصر تھے۔ پورے عالم اسلام میں جس طرح قرآنی خطاطی نے عروج حاصل کیا۔ وہاں قرآنی کتابت اس کی تذہیب اپنے علاقائی انداز میں پورے زور و شور سے ظہور پذیر ہوئی خطاطوں اور مصوروں کی اجتماعی کوششوں سے عالم اسلام کو خطاطی کے شاہکار میسر آئے ہر خطے کے لوگوں نے اپنی حس جمالیات اور اپنی تمام تر فنکارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر دنیا کے عجائب گھروں کو قرآنی مخطوطات کے ایسے شاہکار مہیا کیے جن کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ روحانی بالیدگی کے بغیر ایسے شاہکار وجود میں آنا ممکن نہیں۔ دنیا کے دوسرے علاقوں یعنی شمال مغربی افریقہ اور سپین میں دوسری صدی ہجری؍ دسویں صدی عیسوی میں اسلام پہنچا جن کے ثقافتی مراکز قاہرہ، مراکش، الجیریا، تیونس اور لیبیا ہیں۔ مغربی خط اس علاقے کا نمائندہ خط ہے۔ جو کوفی سے وجود میں آیا آج بھی اس خط میں قرآن کریم مراکش میں چھپ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک قرآن یہاں دیا جارہا ہے جو بلا زیتا واکنونے کتابت کیا۔ مشرقی کوفی اور مغربی کوفی کو آپس میں ملائیں تو پتہ چلتا ہے کہ مغربی خط کیسے وجود میں آیا۔ ابن خلدون کے مطابق خط مغربی میں مکمل لفظ کی بجائے حرف لکھا جاتا ہے ایک نسل سے دوسری نسل تک پانچویں صدی ہجری ؍ گیارہویں صدی عیسوی میں مغربی کوفی دو شاخوں میں بٹ گئی ان میں سے ایک اندلسی شاخ تھی جو تیونس سے نکلی جبکہ دوسری شاخ مغربی خط ہے۔

          عہد ممالیک کے قرآنی نسخوں کے نہایت اعلیٰ نمونے قاہرہ کے شاہی کتب خانہ میں محفوظ ہیں یہ بڑی تقطیع کے قرآن پاک ہیں جو خط طومار میں لکھے گئے ہیں جو خط نسخ کی ایک صورت ہے۔ مسلمانان ایران نے رسم الخط عربوں سے لیا ۔عباسی عہد میں کوفی نے ایک ایسی صورت اختیار کی جس کے حروف کے عمودی حصوں پر افقی حصوں کی نسبت زیادہ زور دیا گیا  ہے۔ اس طرز کے کوفی خط سے ایک اور خاص طرز نکلی جس کے حروف زیادہ زاویہ دار ہیں یہ طرز زیادہ تر عمارتی کتبات کے لیے موزوں قرار پائی عہد سلجوق کے مصاحف میں جو گیارہویں صدی عیسوی سے متعلق ہیں ایرانی طرز کا خط کوفی کمال کو پہنچا جس کے نقش و نگار بھی زیادہ خوبصورت ہیں ۔ برٹش میوزیم میں قرآن کریم کا ایک ایسا نسخہ موجود ہے جس کے چند اوراق سلجوقی طرز میں بہت آراستہ ہیں۔ اسے ابوالقاسم بن ابراہیم نے جمادی الاول ۴۲۷ھ ؍ ۱۰۳۶ء میں لکھا اس طرز کا خط گیارہویں اور بارہویں صدی میں سلاجقہ کے عہد حکومت میں ایران میں رائج تھا اور مصر میں فاطمی دور میں ۹۶۹ھ ؍ ۱۱۷۱ء میں مقبول عام تھا جبکہ ایلخانیوں کے دور میں خطاطی اور رنگ آمیزی کو نیا عروج ہوا ۔چنانچہ اس دور کے متعدد نفیس اور عمدہ مصحف مختلف عجائب خانوں اور پرائیویٹ مجموعات میں محفوظ ہیں ان میں سے بعض خدا بندہ محمد کی فرمائش پر لکھے گئے تھے ان میں سب سے مشہور دو مصاحف ہیں ایک جو ۹۰۶ھ؍ ۱۳۰۶ء میں بغداد میں لکھا گیا اور آج کل جرمنی کے شہر لائپزگ میں ہے اور دوسرا قاہرہ کے قومی کتب خانہ میں ہے جسے عبداﷲ بن محمد ہمدان میں ۷۱۳ھ ؍ ۱۳۱۳ء میں لکھا تھا۔ (۳۵)

          خدا بندہ الجائیتو کے دور میں پہلی مرتبہ خطاطی کے ساتھ ساتھ خوبصورت رنگوں کا استعمال کیا گیا چودہویں صدی کے اواخر اور پندرہویں صدی عیسوی کے اوائل میں کالے اور سنہرے باریک لائنوں  سے حاشیے لگائے گئے (۳۶)۔

 قرآنی خطاطی بر صغیر میں

          پورے عالم اسلام میں جس طرح قرآنی خطاطی نے عروج حاصل کیا بر صغیر میں بھی اس کی اشاعت کی تاریخ یکساں پرانی ہے بر صغیر میں اسلامی حکومت کا قیام محمد بن قاسم کی فتح سندھ ۹۳؍۷۱۲ء سے شروع ہوا اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے اس طویل عرصے میں اسلامی خطاطی نے کئی عروج و زوال دیکھے قرآنی کتابت کے لحاظ سے ہم بر صغیر کو چھ اداوار میں تقسیم کرسکتے ہیں۔

          پہلا دور ۹۳ تا ۴۱۳ھ ؍ ۷۱۲ تا ۱۰۲۲ء

          دوسرا دور ۴۱۳ تا ۹۳۲ ھ؍ ۱۰۲۲ء تا ۱۵۲۶ء

          تیسرا دور ۹۳۲ تا ۱۱۱۵ھ ؍۱۵۲۶ تا ۱۷۰۳ء

          چوتھا دور ۱۱۱۵ تا ۱۲۷۴ھ؍ ۱۷۰۷ تا ۱۸۵۷ء

          پانچواں دور ۱۲۷۵ تا ۱۳۶۷ھ؍۱۸۵۷ تا ۱۹۴۷ء

          چھٹا دور (پاکستان میں خطاطی) ۱۳۶۷ تا ۱۴۱۶ھ؍ ۱۹۴۷ء تا ۱۹۹۵ء۔

پہلا دور (۹۳۔۴۱۳ھ؍۷۱۲ ۔۱۰۲۲ء)

          خطاطی کا پہلا دور محمد بن قاسم کے فتح سندھ سے لے کر سلطان محمود غزنوی کے فتح لاہور تک محدود ہے اسلامی حکومت اس دور میں سندھ اور ملتان کے نواح تک محدود رہی جبکہ خط اسلامی قرآنی مخطوطات اور عماراتی کتبات تک محدود رہا منصورہ کی کھدائی کے دوران قرآن کریم کے جلے ہوئے اوراق ملے۔ (۳۷) سندھ سے محمد بن قاسم دیبل فتح کرکے الردر اور ملتان سے ہوتا ہوا دیپالپور تک جا پہنچا یہ سلسلہ ۲۹۰ ھ؍ ۹۰۲ء تک جاری رہا جو یعقوب بن لیث صفار پر ختم ہوا اس عرصہ میں یہاں کوفی ہی رائج تھا جس کے شواہد جلے ہوئے قرآنی اوراق سے ملتے ہیں اور بھنبھور کی کھدائی سے مقامی پتھر پر جو کتبات میسر آتے ہیں ان کا زمانہ ۱۰۹۔ ۲۹۴ھ؍ ۷۲۷۔ ۹۰۶ء مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ۱۴ کتبات بر صغیر میں عالم اسلام کی پہلی مسجد کے ہیں(۳۸)۔  جن میں سے ۱۴اس وقت بھنبھور میوزیم میں محفوظ ہیں ۔

          ان کتبات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خط کوفی ہی قرآنی کتابت اور عمارتی کتبات کے لیے مستعمل تھا۔ مندرجہ بالا شواہد پر انحصار کرتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ابتدائے اسلام ہی سے بر صغیر پاک و ہند کے ایک خطہ میں خط اسلامی رواج پا گیا تھا جو تیسری صدی ہجری کے اختتام تک ایک رسمی کیفیت اختیارکر گیا جو معیار میں باقی اسلامی دنیا کے خط کوفی کے بالکل متوازی تھا۔

دوسرا دور (۴۱۳۔۹۲۲ھ؍ ۱۰۲۲۔۱۵۲۶ء )

          برصغیر میں اسلامی حکومت کا دوسرا دور سلطان محمود غزنوی کے شمال سے وارد ہوکر فتح لاہور ۴۱۳ھ؍ ۱۰۲۲ء کے بعد سے شروع ہوکر بابر کے فتح ہندوستان تک پھیلا ہوا ہے۔ لاہور میں اسلامی خطاطی وسط ایشیائی اثرات لیے ہوئے آئی اور یاقوت المستعصمی کے شاگردوں میں سے سید حیدر علی جلی نویس کے شاگرد مولانا عبدا  لصیرافی کا خط بھی لاہور میں پہنچا۔ نستعلیق کی ایجاد سے قبل یہ عہد نسخ اور کوفی کی ترمیمات تک محدود رہا۔ اس عرصہ میں فارسی کے علاوہ عربی زبان کا رواج بھی رہا اور خطاطی زیادہ تر قرآنی کتابت تک ہی محدود رہی تاہم کاغذ اور تعلیمی مدرسوں کے رواج سے یہ فن زیادہ مقبول ہوا اس عہد کے نمونے مختلف مخطوطوں ، عمارتی کتبات اور سکوں وغیرہ کی عبارات کی صورت میں ملتے ہیں محمود غزنوی نے جب لاہور کو غزنوی سلطنت میں شامل کیا تو لاہور میں باقاعدہ دفتر دیوانی قائم کیا گیا اور یہاں قلم کاغذ دوات عمدگی سے دستیاب ہونے لگا۔  محمد بن قاسم کے تین سو سال بعد حملہ لاہور کے وقت ۴۱۲۔ ۴۱۳ھ؍ ۱۰۲۱۔ ۱۰۲۱ء سلطنت غز نی کا لاہور کے ساتھ الحاق کرکے اسے چھوٹے غزنی کا درجہ دیا گیا اور اس طرح یہاں علم و ہنر کے سر چشمے پھوٹے۔ اس دور میں لاہور اس قدر اہمیت اختیار کر گیا کہ غزنویوں کے ہاتھ سے غزنی پہلے نکلا اور لاہور بعد میں۔ محمود کے علاوہ مسعود بھی اہل علم کا مربی و قدر دان تھا اس کے دربار سے کئی اہل کمال وابستہ تھے لیکن اس زمانے کی اہم قابل ذکر تبدیلی لاہوراور اہل لاہور کا علم و فن میں راج تھا۔ (۳۹) سلطان محمود غزنوی کی فتوحات سے جہاں معاشی سماجی، ثقافتی طور پر ہندوؤں کو نقصان پہنچا وہاں اہل لاہور کو یہ فائدہ ہوا کہ اسلامی سلطنت کے قیام سے غزنی سے کئی اہل علم بسلسلہ ملازمت یہاں آکر آباد ہوئے اس لیے ان کے فیض سے یہ شہر بھی اسلامی علوم و فنون اور مذہب کی اشاعت کا مرکز بن گیا۔ (۴۰) ابتداً یہاں پر علم اور اہل علم کا قحط تھا حضرت داتا علی ہجویریؒ آئے تو انہیں غزنی کی محفلیں یاد آتی تھیں اس امر کی شکایت انہوں نے اپنی مشہور تصنیف کشف المحجوب میں اس طرح کی۔

کہ میں یہاں آکر نا جنسوں میں گرفتار ہوگیا ہوں۔(۴۱)

          ابراہیم غزنوی کے زمانہ حکومت ۴۵۱۔۴۹۲ھ؍ ۱۰۵۹۔۱۰۹۸ء میں لاہور علمی سرگرمیوں کا گہوارہ بن چکا تھا اور بقول عرفی لاہور اس وقت علم و فضل کا بڑا مرکز تھا۔ ابراہیم کا ایک وزیر ابو نصر فارسی جو ادبی دلچسپیوں کی وجہ سے ادیب مشہور تھا علم و فضل کا مربی تھا اس نے لاہور میں ایک خانقاہ قائم کی جو اہل علم اور دوسرے بزرگوں کی جائے پناہ تھی اور آہستہ آہستہ کاشغر، بخارا، خراسان، سمرقند، غزنی اور دوسرے ممالک سے اہل علم کھچ کر یہاں آنے لگے(۴۲) ۔ تاریخ حبیب ا لسیرمصنفہ اخوند میر میں مذکور ہے کہ محمود غزنوی کا وزیر ابوالعباس فضیل بن احمد بھی خطاط تھا اور یہ وزیر اپنے ابتدائی زمانے میں فائق کے دربار میں کاتب کے عہدے پر فائز تھا۔ (۴۳) فائق کے دربار کے بعد ابوالعباس نے سبکتگین کے دربار میں اثر رسوخ پیدا کیا اور وزارت کے عہدے تک پہنچا۔ سبکتگین کے بعد محمود نے بھی اسے وزارت پر بحال رکھا عربی زبان سے اس کی عدم واقفیت کی بناء پر جو منشور اور فرامین عربی زبان میں لکھے جاتے تھے اب فارسی زبان میں لکھے جانے لگے۔ (۴۴) مگر ان کا رسم الخط نسخی اور کوفی آمیز ثلث رہا۔ یہ شخص دس سال تک عہدہ وزارت پر رہا پھر اسے وزارت سے علیحدہ کردیا گیا۔ سلطان محمود غزنوی کا دوسرا وزیر خواجہ حسن بن احمد میمندی جو ابوالعباس کے بعد منصب وزارت پر متمکن ہوا سلطان محمود کا رضاعی بھائی اور ہم سبق بھی تھا(۴۵)۔ خواجہ احمد بن حسن میمندی پھرتیلا ، عقلمند، سمجھدار اور خوش خط آدمی تھا سب سے پہلے اسے عہدہ انشاء رسالت تفویض کی گیا پھر وہ صدر محسبی میر بخشی اور خراسان کی حکومت تک پہنچا اور اس نے ۱۸ سال تک خدمات انجام دیں(۴۶)۔ احمد بن حسن شاہی عتاب کی وجہ سے ۱۳ سال کالنجر کے قلعہ میں اسیری کے دن گزارے اور سلطان مسعود کے زمانہ میں دوبارہ وزارت کے عہدہ پر سرفراز ہوا اس نے ۴۲۴ھ؍ ۱۰۳۲ء میں وفات پائی۔ مذکورہ بالا دونوں وزراء کے دور خطاطی کے لیے انتہائٍ حوصلہ افزاء ثابت ہوئے اور وسعت سلطنت لاہور تک ہونے کی وجہ سے قرآنی خطاطی پر وسط ایشائی اثرات چھوڑے۔ دور سلاطین میں دو بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں اولاً دارالحکومت لاہور کی بجائے دہلی قرار پایا دوسرے بر صغیر میں اسلامی سلطنت وسط ایشیا سے لے کر ہندوستان کے مرکز دہلی تک پھیل گئی۔ سلطان شمس الدین التمش باکمال خطاط تھا سلطان ناصرالدین اپنے ہاتھ سے کلام مجید لکھ کر روزی کماتا (۴۷) غیاث الدین بلبن کے عہد کی تاریخ فیروز شاہی میں مذکور ہے کہ جو کاتب قرآن مجید لکھ کر بادشاہ کے سامنے پیش کرتا وہ اس کو ہدیہ دیتا اور پھر یہ نسخہ کسی ایسے شخص کو دے دیا جاتا جو اس کے مطالعہ کی خواہش کرتا اس زمانے میں قرآنی خطاطی اجرت پر ہوتی تھی۔ خلجی عہد میں یہاں پر اسلامی خطاطی اپنے عروج پر تھی اسی عہد میں نسخ کے ساتھ ساتھ ایک اور رسم الخط قرآنی کتابت کے لیے متعارف ہوا جس کا اصل وطن وسط ایشیا تھا۔ اس خط کو خط بہار کا نام دیا گیا(ع  ۵) یہ خط قرآنی خطاطی اور عمارتی کتبات میں مستعمل ہوا جو بالخصوص بنگال اور بہار میں بڑی سرعت سے ملتا ہے۔

          چودہویں صدی میں نقاشی اور رنگ آمیزی صرف قرآنی نسخوں تک ہی محدود نہ تھی رفتہ رفتہ اس کا استعمال دیگر کتب میں بھی ہونے لگا ان کی آرائش و زیبائش کے لیے کبھی تو کتاب کے آخر میں بیل بوٹے بنائے جاتے تھے۔ اور کبھی تصویروں کے ارد گرد چوکھٹوں کی شکل میں گل کاری کرتے تھے۔ اس عہد میں بعض قرآن کریم محقق میں اور بعض ریحان میں بھی لکھے گئے (۴۸)۔

          تغلق عہد میں بھی قرآنی مخطوطات بڑے تزک و احتشام سے لکھے جاتے تھے خود سلطان محمد تغلق اعلیٰ پائے کا خطاط تھا بغداد کی تباہی کے بعد مشہور خطاط عبداﷲ ہروی متوفی ۸۸۰ھ؍ ۱۴۷۵ء محمد تغلق کے عہد میں ہندوستان آکر امراء اور وزراء کا مقرب ہوا اس نادر روزگار خطاط نے ۴۵ قرآن کریم یادگار چھوڑے۔ (۴۹) عہد لودھی کی خطاطی کا ارتقاء ہمیں اس عہد کے عمارتی کتبات، فرامین ، مخطوطات کے مشاہدات سے ملتا ہے اس عہد میں علم و فضل کی شاہی سرپرستی جاری رہی اور اعلیٰ پائے کی لائبریریوں کے وجود کا پتہ بھی چلتا ہے۔

تیسرا دور (۹۳۲ تا ۱۱۱۹ھ؍۱۵۲۶۔۱۷۰۷ء)

          برصغیر میں قرآنی خطاطی کا تیسرا دور بابر کی فتح ہند ۹۳۲ھ؍ ۱۵۲۶ء سے شروع ہوکر اورنگ زیب ۱۱۱۹ھ؍۱۷۰۷ء تک محیط ہے بر صغیر میں اس دور میں قرآنی خطاطی نے جو عرو ج دیکھے وہ نہ تو پہلے نصیب تھے اور نہ ہی بعد میں ہوئے بانی مغلیہ سلطنت بابر اور آخری مغلیہ حکمران اورنگ زیب اور متاخر م مغلیہ حکمران بہادر شاہ تینوں اعلی خطاط تھے ماثر الامراء میں ہے کہ۔

کتب نزد بادشاہ بردہ منطقنہ ساخت کہ مارا بہ چیز

ہائے دیگرمی نماید وچوں خلوت می رود آں کاریگر میکند (۵۰)

          ایک مرتبہ شہزادہ سلیم ابوالفضل (جو اس وقت لاہور میں مقیم تھا) کے گھر آیا دیکھا کہ چالیس کاتب قرآن و تفسیر لکھنے میں مصروف ہیں وہ سب کو بادشاہ (اکبر) کے حضور لے گیا۔ (۵۱)

          مولانا علم الدین سالک کے مطابق ہندوستان میں چند سوسال قبل تک یہ رواج عام پایا جاتا تھا کہ جب کسی شخص سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا تو وہ کفارے کے طور پر قرآن مجید خود اپنے ہاتھ سے لکھ کر یا لکھواکر کسی بزرگ کی درگاہ پر رکھواتا لاہور میں حضرت علی ہجویریؒ کی درگاہ پر بڑے بڑے نایاب نسخے ہوا کرتے تھے جو محکمہ اوقاف نے دریا برد کروادیے ان نسخوں میں سے لاہور کے فقیر خانہ میوزیم میں اعتماد الدولہ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے چار پارے محفوظ ہیں۔ (۵۲) اس دور میں کشمیر میں ایک خاص انداز سے قرآن کریم نسخ میں مذھب کیے گئے۔ اور پنجاب میں جو نسخے مذھب کیے گئے منفرد خصوصیت کے حامل تھے۔

خطاطی کا چوتھا دور (۱۱۱۹۔۱۲۷۴ھ؍۱۷۰۷۔۱۸۵۷ء)

          خطاطی کے چوتھے دور کا آغاز اورنگ زیب کی وفات ۱۱۱۹ھ؍۱۷۰۷ء سے شروع ہوکر ۱۲۷۴ھ؍ ۱۸۵۷ء میں ختم ہوتا ہے اس دور میں مرہٹوں کی لوٹ مار سکھا گردی اور افغانیوں کی یورش کی وجہ سے خطاطی کی وہ سرپرستی نہ رہی۔ مغلوں کے ابتدائی دور عروج میں آگرہ کے بعد لاہور ملک کا دوسرا بڑا دارالسلطنت تھا اکثر امراء یہیں مقیم تھے مغل سربراہ بھی یہاں پر اپنا قیام بالعموم رکھتے حکمرانوں کی اس نقل و حرکت کی وجہ سے درباری کاتب دوسرے شہروں کے کاتبوں اور ان کے فن سے باخبر رہتے۔ ایک دوسرے کے فن پر اثرات چھوڑتے اور قبول کرتے۔ ایران کی طرف سے خطاطوں کی آمدورفت جاری رہی یہی وجہ ہے کہ اس دور میں قرآنی خطاطی زیادہ تر ایرانی خطاط احمد نیریزی۱۱۲۶ھ؍۱۷۱۴ء کی طرز کی مرہون احسان ہے کہ بر صغیر میں اس دور سے  آج تک جتنے بھی قرآن کریم لکھے گئے وہ زیادہ تر نیریزی طرز میں ہیں۔ (ع  ۶) اس دور کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے مرکزی حکومت کا شیرازہ بکھر چکا تھا۔ راجے مہاراجے خود مختار ہوچکے تھے اور فنون کو وہ شاہی سرپرستی حاصل نہ رہی جو کبھی مغلیہ دور کا شاخسانہ تھی کاتب زیادہ تر اجرت پر خطاطی کرنے لگے اور راجے مہاراجے خال خال ہی کوئی مخطوطہ اپنی سرپرستی میں لکھاتے قرآنی مخطوطات جو پہلے منظم طریقے سے انتہائی اہتمام سے تیار ہوتے اب اجرت پر تیار ہونے لگے۔ دیگرفنون مثلا روشنائی سازی، جلد سازی، قلمدان سازی، کاغذ سازی، مصوری ، نقش و نگاری، قلم سازی جن میں سے سیاہی اور قلم سازی ہی باقی رہی باقی سارے فنون شاہی سر پرستی نہ ہونے کی وجہ سے موقوف ہوگئے۔ اس دور میں پنجاب میں زیادہ تر جلی حروف میں قرآنی کتابت کا اہتمام ہوا جبکہ کشمیر میں خوبصورت نقش و نگاری جاری رہی مگر اس میں وہ رعنائی باقی نہ رہی جو کبھی مغلیہ دور کا طُرہّ امتیاز تھی۔ وسط ایشیا سے آنے والے قرآن کریم متوسط قلم سے سادہ زمین پر تیار ہوتے رہے۔ عہد محمد شاہ کے مشہور خطاط محمد حفیظ خاں(م ۱۱۹۴ھ ؍ ۱۷۸۰ء ) جو ہر طرز میں خطاطی کرتے اور بادشاہ کے داروغہ کتاب خانہ تھے انہوں نے چند نسخے قرآن کریم کے طرز یاقوت میں اور مذہب لکھ کر بادشاہ کو دئیے۔ (۵۳)

خطاطی کا پانچواں دور (۱۸۵۷سے ۱۹۴۷ء)

          خطاطی کے پانچویں دور میں بر صغیر میں قرآنی خطاطی سمٹ کر چند شہروں تک محدود ہوئی ان میں لاہور ، دہلی اور لکھنو دبستان خطاطی کی حیثیت سے نمایاں خصوصیت کے حامل ہوئے لکھنو روش کو جہاں پر قاضی نعمت اﷲ لاہوری اور حافظ نور اﷲ نے چھوڑا تھا منشی شمس الدین اعجاز رقم نے آگے بڑھایا عبدالرشید دیلمی کی روش کو جہاں محمد افضل لاہوری آقائے ثانی نے چھوڑا تھا امام ویردی لاہوری نے آگے بڑھایا۔ دہلی سکول حافظ امیرالدین المعروف میرپنچہ کش اور مولوی ممتاز علی نزہت رقم جیسے خطاطوں کو نہیں بھولے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ضلع گوجرانوالہ کے نواح جنڈیالہ ڈھاب والا سے محمد الدین مرحوم دہلی تشریف لائے جہاں ان کے بیٹے محمد یوسف نے دہلوی طرز کو آگے بڑھایا۔ لاہور دبستان خطاطی میں امام دیردی سے خطاطی کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا پروین رقم نے اس طرز کو آگے بڑھایا۔ خطاطی کا یہ وہ دور ہے کہ جب پرنٹنگ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری تھی اور قرآن مجید طبع ہوتا تھا اور ہر ادارے کے اپنے اپنے کاتب ہوتے تھے۔ (۵۴) منشی گلاب سنگھ المعروف رائے صاحب کے مطبع میں قرآن کریم بڑے اہتمام سے چھاپا جاتا اور موصوف نے غلطی کا امکان کم کرنے کے لیے آٹھ حافظ قرآن ملازم رکھے ہوئے تھے اور ان حفاظ کے لیے ایک چپوترہ بنوا رکھا تھا یہ پتھر کی پرنٹنگ کا دور تھا اور جب پلیٹیں استعمال کے بعد دھونا مقصود ہوتیں انہیں دھوکر ، دھون دریائے راوی میں بہادی جاتی۔ قرآن کریم اور خاص کر عربی رسم الخط لکھنے والوں کو اکثر خط نسخ لکھنے کی وجہ سے نساخ کہا گیا ہے ایک رسالہ ’’اصول النسخ‘‘ کے نام سے (۳۳۶ھ؍۱۹۱۷ء) الناظر پریس لکھنو میں شائع ہوا تھا جس کے مصنف مولوی حامد علی مرصع رقم نساخ ابن مولانا شیخ محمد علی محدث لکھنوی ہیں۔ اس کا تعارف نامہ محمد جان نے لکھا ہے۔ مصنف نے اس کے شروع میں سبب تالیف بیان کرتے ہوئے لکھنو کے دور متاخرین کے نسخ نگاروں کا ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں۔

          عہد اورنگ زیب کے محمد عارف یاقوت رقم نے یاقوت الستعصمی کے طرز تحریر میں بہت کچھ نغیر و تبدل کیا اور نیریزی طرز کو اپنایا ان کے برادر ز ادے قاضی عصمت اﷲ تھے جن کا لقب یاقوت رقم ثالث تھا ان سے استفادہ یا تلمذ کرنے والے عبداﷲ طباخ تھے ان کے بعد ان کے دو فرزند علی اکبر اور علی امیر نے اپنے باپ سے نسخ کی تعلیم حاصل کی ان کے تلامذہ میں شاہ غلام علی خلیفہ حاجی محمد تقی مہونوں باکمال نسخ نگار تھے ان کے بعد ان کے دو فرزند میر اکبر علی اور میر کلن علی مشہور ہوئے پھر ان کے بعد درویش مشرب شاہ غلام علی نسخ نگار ہوئے ان کے معاصرین میں نواب احمد قلی خان عرف مرزائی بڑے کامل استاد تھے جن کے بعد ان کے نواسے میر بندہ علی مرتعش رقم اعلیٰ درجہ کے نساخ تھے یہ سوسال کی عمر میں ۱۲۸۳ھ؍ ۱۸۶۶ء میں فوت ہوئے۔ آغا محمد اور محمد میرزا مولوی محمد مہدی ان کے شاگرد تھے مولوی محمد یحی مہاجر مکہ معظمہ بھی مشہور نساخ تھے اسی زمانے میں مولوی زکریا اور حافظ خورشید برادر حافظ نوراﷲ کا فیض ہند میں جاری تھا اور منشی عبدالحئی سندیلوی بھی مشہور تھے ان کے تلامذہ میں میر طفیل اور بلگرامی بھی اچھے نسخ نگار تھے میر اکبر علی سکنہ قصبہ کالپی بھی تھے اس زمانے میں دہلی میں حافظ امیرالدین بادشاہ بہادر شاہ کے ہاں قرآن لکھتے جن کا انتقال ۱۲۶۵ھ؍۱۸۴۸ء میں ہوا ان کے علاوہ منشی محمد حفیظ ، مولوی محمد صالح اور منشی محمد جعفر وغیرہ بھی قرآن لکھتے تھے اس کے مقابلے میں پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کے مقام ایمن آباد ، سوہدرہ، کوٹ وارث، سمبڑیال کے نساخ مشہور تھے جن میں سے عبدالرشید ، محمد حسین، مولوی عبداﷲ ان کے صاحبزادے مولوی عنایت اﷲ وغیرہ اس فن میں سبقت لے گئے مولوی محمد دین بڑے مشہور کاتب تھے۔ (۵۵)۔

قیام پاکستان کے بعد قرآنی خطاطی

          قیام پاکستان کے بعد دہلی اور دیگر ہندوستانی علاقوں سے بہت سے اعلیٰ خطاط ہجرت کرکے پاکستان آکر آباد ہوئے ان میں محمد یوسف دہلوی اور کپور تھلہ کے خورشید عالم خورشید رقم معروف خطاط ہیں۔ قیام پاکستان سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ مغربی پنجاب خطاطی کے میدان میں پورے بر صغیر میں نمایاں اہمیت اختیار کر گیا اور لاہور ایک اہم اشاعتی مرکز کے طور پر ابھرا یہاں اخبارات کی کثیر تعداد نے اشاعت شروع کی اور بے شمار پبلشنگ کے ادارے معرض وجود میں آئے اور کاتبوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا اور لاہوری طرز نستعلیق عبدالمجید پروین رقم کے ہاتھوں عروج کو پہنچی اور لاہور خطاطی کے میدان میں پورے بر صغیر میں اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوا۔ یہی وہ دور ہے جب عالم اسلام کے معروف خطاطین یاقوت المستعصمی ، شیخ حماد اﷲ ، مصطفی زادہ، کرشانی، حافظ عثمان، مصطفی عزت جیسے خطاطوں کے نمونوں کے علاوہ خوبصورت قرآن مجید چھپ کر لاہور آنے لگے اور یہاں کے خطاطین دیگر اسلامی ممالک میں گئے۔ قرآنی کتابت کے لیے پنجاب کے علاقے سیالکوٹ، گوجرانوالہ، پیرکوٹ، عادل گڑھ، کوٹ وارث اور کیلیانوالہ ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ برصغیر میں پچھلے صد سالہ دور میں جہاں بے شمار مسلمانوں نے اس کی اشاعت میں بھر پور حصہ لیا وہاں ہندو اور سکھوں نے بھی اس کی اشاعت کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ جن میں جے ایس سنت سنگھ لاہور، مطبع مفید عام، مطبع منشی گلاب سنگھ، مطبع نولکشور، سراج الدین، عزیزیہ کتب خانہ، فیروز سنز، قبول عام پریس، میراں بخش ، شیخ محمد اشرف (چنیاں والی مسجد کے سیکرٹری) انجمن حمایت اسلام ریلوے روڈ، تاج کمپنی ریلوے روڈ، چاند کمپنی شیخ محمد حسین اینڈ سنز،اویس کمپنی اردو بازار لاہور، نیو انڈس پبلشنگ کمپنی اردو بازار لاہور، ویسٹ پاک پبلشنگ کمپنی اردو بازار لاہور، حافظ اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور، خالق بک سنٹر اردو بازار ، اقراء کمپنی، ممتاز کمپنی، ممتاز کمپنی، ، مہتاب کمپنی، احمد بک سنٹر ، ضیاء القرآن ، فیض اینڈ کمپنی، قدرت اﷲ اینڈ کمپنی، مکتبہ تعمیر انسانیت پبلشر الوہاب مارکیٹ، قرطاس کمپنی احمد علی بھٹہ سے قرآن کریم 20x30 آدھے پر 4 ملی میٹر موٹی قلم سے کتابت کروا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 8انچ چوڑائی اور 90 فٹ لمبائی میں قرآن کے 11 پارے قدیم کوفی حجازی میں احمد علی بھٹہ نے کتابت کئے۔ اسی طرح دار القرآن والوں نے دو قرآن کریم کتابت کروائے اور فیصل آباد صبح نور پبلشر نے ایک قرآن کریم کتابت کروایا۔ اس طرح احمد علی بھٹہ نے اب تک کل سات (۷) قرآن کریم کتابت کئے(۵۶)۔ اقبال اینڈ کمپنی الکریم مارکیٹ، قرآن کمپنی، ذکاء پبلشر بالمقابل کامیاب ڈاکخانہ زر کمپنی ، شیخ غلام حسین اینڈ سنز(کاتب محمد عثمان۔ عبدالرؤف) ، سلمانیہ کتب خانہ ملک دین محمد پیکولمٹیڈ، دین محمدی پریس، مجاہد کمپنی اردوبازار ، خواجہ محمداسلام، شیخ غلام علی اینڈ سنز جیسی کمپنیاں پچھلی صدی سے قرآن کریم کی اشاعت میں نمایاں خدمات دے رہی ہیں۔ ہر ادارے کے اپنے خطاط ہیں جو اجرت پر کتابت کرتے ہیں ۔

          حاصل کلام یہ ہے کہ صدیوں سے مسلمانوں کی توجہ کا اہم مرکز چونکہ کلام اﷲ ہے اس لیے جہاں اس کی سورہ اقراء کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اس کی ترتیل و تجوید میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے اس کی خطاطی میں بھی مہارت کا ثبوت دیا گیا۔ یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ مسلمان اسلامی خطاطی جیسے پاکیزہ فن سے روشناس ہوئے۔ قرآنی خطاطی کوفی رسم الخط سے جدید نسخ اور نستعلیق تک کا ارتقائی سفر ہمیں مختلف ادوار کے شاندار ماضی اور حال کی خبر دیتا ہے کہ شمسی قمری رسم الخطوط گلزاری بہاری رسم الخط اور خود کوفی رسم الخط، ثلث ، ریحان اور محقق جیسے رسم الخطوط کو قرآنی آیات ہی نے لافانی بنادیا۔ جس طرح وہ دوسرے علوم و فنون میں لاہور کو مرکزیت حاصل رہی قرآنی کتابت میں بھی ہمیں لاہور کے کم و بیش ۸۵ کے قریب خطاط ملتے ہیں جنہوں نے مختلف ادوار میں قرآنی کتابت کو ذریعہ روزگار بنایا اور آج بھی عظمت رفتہ کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ لاہور میں یہ سلسلہ ابراہیم غزنوی سے شروع ہوکر خورشید عالم گوہر قلم پر ختم ہوتا ہے۔ بر صغیر کے قرآنی خطاطوں میں صرف لاہور شہر سے جن کا تعلق رہا ہے ان میں سلطان ابراہیم غزنوی ، ابراہیم سیالکوٹی، احمد یارخان یکتا۔ حافظ شیخ احمد۔ امام الدین کیلانی، برکت علی سیالکوٹی، شہزادہ پرویز ، خوشی محمد ناصر قادری، خورشید عالم گوہر قلم،شہزادہ دارا شکوہ، مولوی سراج الدین، نجیب الدین بابر، پیر عبد الحمید ، منشی عبدالحکیم جنڈیالوی، مولوی عبدالرشید محبوب رقم، عبدالرحمن کیلانی، عبدالرؤف، خلیل الرحمن، عنایت اﷲ، محمد یعقوب، محمد یوسف، محمد سعید، ریاض احمد، نورالہی، عبدالغفار، محمدالدین، محمد حنیف، خالد محمود، محمد سلیمان، مولوی عبدالقادر، عبدالکریم، محمد علی زاہد، مولوی عبدالمجید شیریں قلم، عبداﷲ ہردی، عمر بخش رسول نگری، عبیداﷲ، مولوی عنایت اﷲ وارثی، سید عنایت اﷲ حسینی، مولوی غلام رسول عادل گڑھی، میاں غلام قادر، غلام محمد اچھروی، غلام محمد لاہور، حافظ غلام علی لاہوری، مفتی غلام محمد لاہوری، مولوی غلام محی الدین انصاری، غلام یسین لاہوری، فاطمہ الکبری، مولوی فضل الدین صحاف، حافظ فضل الہی، سید فضل شاہ، لطف اﷲ مہندس، قاضی محمد امام الدین، قاضی میراں بخش، سید محمد اشرف علی سیدالقلم، مولوی محمد حسین عادلی، حافظ محمد حسین لاہوری، مفتی محمد حیات اﷲ قصوری، محمد دین جنڈیالوی، محمد روح اﷲ لاہوری، محمد شریف لدھیانوی، حافظ محمد شریف، محمد شفیع لدھیانوی، حافظ محمد طاہر، محمد مظہر قیوم بھٹہ، محمد عباس، محمد عبداﷲ وارثی، محمد عبدالغفور، محمد عمرکابلی، محمد غوث، مولوی محمد قاسم لدھیانوی، میر صالح ، شیخ میر لاہوری، مولوی میراں بخش، مولوی ممد یسین قریشی، حاجی محمد امین، محمد یوسف، مولوی نیاز احمد، مولوی نورالہی، نذر محمد قریشی، حکیم سید نیک عالم شاہ، فیض رسول بھُٹہ جیسے خطاط کسی تعارف کے محتاج نہیں (۵۷)۔

 

حوالے و حواشی

 

۱۔        احمد بن محمد بن حنبل، المسند، ادارہ دارالمعارف، مصر۱۹۵۳ء ، ۱/۲۴۶

۲۔       خالد محمود ،  اقرا باسم ربک الذی خلق،  جشن نزول قرآن نمبر روزنامہ کوہستان ۲۹ دسمبر۱۹۶۷ء

۳۔       سلیم اختر ،  قرآن کے نادر قلمی نسخے، سیارہ ڈائجسٹ قرآن نمبر،  شمارہ ۵، جلد ۱۳، نومبر۱۹۶۹ء۔لاہور ،  ۲/۸۲۴

۴۔        سید انور حسین نفیس رقم ، خطاطان قرآن، سیارہ ڈائجسٹ، قرآن نمبر، ۔ جلد ۱۳، شمارہ۵، نومبر۱۹۶۹ء ۔۱/۴۰۱

۵۔       ایضاً

۶۔       الھیثمی ،نورالدین علی بن ابی بکر( متوفی ۸۰۷ھ ) مجمع الزوائد و منبع الفوائد ، ۱۹۸۶ء ، ۱۔۲/ ۱۹

۷۔       سیدانور حسین نفیس رقم، خطاطان قرآن ، محولہ بالا ۴ ص ۴۰۱

۸۔       مندرجہ ذیل کاتبین وحی خاص طور پر مشہور ہیں۔

          ۱۔حضرت ابوبکرؓ ۲۔ حضرت عمرفاروقؓ  ۳۔ حضرت عثمان غنیؓ  ۴۔ حضرت علیؓ  ۵۔ حضرت زید بن ثابتؓ  ۶۔حضرت عبداﷲ بن سعدؓ   ۷۔حضرت زبیربن العوامؓ ۵۔ حضرت خالد بن سعدؓ      ۹۔ حضرت حنظلہ بن ربیع ؓ  ۱۰۔ حضرت علاء خالد بن ولیدؓ   ۱۱۔ حضرت عبداﷲ بن رواحہؓ       ۱۲۔ حضرت محمد مسلمؓ   ۱۳۔ حضرت عبداﷲ بن سلولؓ  ۱۴۔ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ  ۱۵۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ  ۱۶۔ حضرت عمروبن العاصؓ  ۱۷۔ حضرت جہم بن ا     لصلتؓ  ۱۸۔ حضرت شرجیل بن حسنہؓ  ۱۹۔ حضرت عبداﷲ بن ارقمؓ  ۲۰۔ حضرت ثابت بن قیسؓ  ۲۱۔ حضرت حذیفہ بن الیمانؓ   ۲۲۔ حضرت عامر بن فہیرہ ؓ   ۲۳۔ حضرت عبداﷲ بن زبیرؓ  ۲۴۔ حضرت ابان بن سعیدؓ۔

۹۔       ڈاکٹر محمد اقبال بھٹہ،  لاہور اور فنِ خطاطی، علم و عرفان پبلشرز، دسمبر ۲۰۰۷، ص ۱۰۳

۱۰۔       علی المتقی ، ابوالحسن البکری سیوطی ، علاؤ الدین کنزالعمال فی سنن الاقوال الافعال، دائرہ معارف نظامیہ،  حیدرآباد ، ۱۳۱۳ھ ص ۲۲۳

۱۱۔        ترمذی،  الجامع مترجم مولانا فضل احمد دار اشاعت مقابل مولوی مسافر خانہ اردو بازار کراچی۔ ص ۲۲۸

۱۲۔       ابن حزم ، محمد علی بن احمد بن سعید اندلسی،  جمھرۃ انساب العرب، تحقیق عبد السلام محمد ہارون، دار المعارف مصر، قاہرہ ۱۹۶۳ء۔ ص ۲۸۵

۱۳۔       ابن حجر ،احمد بن علی بن محمد بن ،  الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ،  دارالکتب المصریہ ۱۹۳۹ء ،  ۳/۵۱۳

۱۴۔       سید انور حسین نفیس رقم، خطاطان قرآن،  محولہ بالا۔ ص ۴۰۲

۱۵۔       خالد محمود،  اقرا باسم ربک الذی خلق، روزنامہ کوہستان،  محولہ بالا ۲، ۲۹۔ دسمبر ۱۹۶۷ء

۱۶۔       ایضاً

۱۷۔       ابو محفوظ الکریم المعصومی ، مصحف عثمانی کے تاریخی نسخے، مجلہ علوم اسلامیہ، مسلم یونیورسٹی پریس علی گڑھ۔ دسمبر۱۹۶۱ء۔ ص۲

۱۸۔       کتاب المصاحف،  ص ۲۵

۱۹۔       حمیدی ، الجمع بین الصحیحین میں عبدالرحمن بن حارث کی جگہ عبداﷲ بن الحارث  المخزومی کا نام ملتا ہے جبکہ صحیح بخاری کے ابتدائی نسخوں میں ایسا اختلاف نہیں۔

۲۰۔       کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عہد عثمانی سے قبل مصاحف کی تیاری حضرت ابوبکرؓ کے دور میں ہوئی حضرت عثمانؓ  کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے مصحف صدیق کی اشاعت عام کردی۔ تفصیل کے لیے دیکھیں: مصحف عثمان کے تاریخی نسخے ،  محولہ بالا فٹ نوٹ۱۷

۲۱۔       ابومحفوظ الکریمی، مصحف عثمانی کے تاریخی نسخے،  محولہ بالا ۱۷۔ص۸

۲۲۔       سید انور حسین نفیس رقم،  خطاطان قرآن، سیارہ ڈائجسٹ، قرآن نمبر، محولہ بالا ،  ۱/۲۰۴

۲۳۔      ایس ایم ڈیمنڈ مترجم پروفیسر شیخ عنایت اﷲ ،  مسلمانوں کے فنون،پنجابی ادبی اکیڈمی لاہور ۱۹۱۴ء ۔ ص ۱۰۰

۲۴۔      ڈاکٹر محمد اقبال بھٹہ،  لاہور اور فنِ خطاطی، علم و عرفان پبلشرز، دسمبر ۲۰۰۷، ص ۱۰۵

۲۵۔       سیدانور حسین نفیس رقم، خطاطان قرآن، سیارہ ڈائجسٹ،  قرآن نمبر، محولہ بالا ۔  ۱/ ۲۰۵

۲۶۔      طارق مسعود ، اسلامی خطاطی قدیم وجدید، لاہور عجائب گھر، لاہور ۱۹۸۱ء ۔ ص۶

۲۷۔     ایس ایم ڈیمنڈ ،  مسلمانوں کے فنون ،محو لہ بالا ، ص ۱۰۱۔۱۰۰

۔۲۸      Martin Lings. The Quranic Art of Calligraphy and Illumination. London.

۲۹۔       عبدالقیوم ،  تدریس نسخ، آزاد بک ڈپو اردو بازار لاہور فروری ۱۹۶۷ء۔ ص۱۱

۔۳۰     Lois Lamya Alfaruqi, Islam and Arts. National Higher Council, Islamabad, 1985, pp. 50-51.

۔۳۱      Ibid

۳۲۔      عبدالقیوم ، تدریس نسخ، آزاد بک ڈپو،  اردو بازار لاہور۔ فروری ۱۹۶۷ء ۔ ص۱۰

۳۳۔      احمد سہروردی کا مکتوبہ قرآن کریم نیشنل میوزیم کراچی کی زینت ہے۔ احمد سہروردی یاقوت کے چھ باکمال شاگردوں میں سے ایک تھا۔

۳۴۔      مسٹر بیٹی کے مجموعہ میں عبداﷲ الصیرافی کے ہاتھ کا قلمی قرآن کریم موجود ہے جس کی تاریخ کتابت ۷۲۸ھ؍ ۱۳۲۷ء ہے اس میں سورتوں کے عنوان کوفی میں ہیں جو شوخ قرمزی، فیروزی اور سبز رنگوں سے لکھے گئے ہیں۔ جن کی زمین طلائی ہے۔

۳۵۔      ایس ایم ڈیمنڈ ،  مسلمانوں کے فنون، محولہ بالا،  ص ۱۰۲۔ ۱۰۳

۳۶۔     انجم رحمانی ،  برصغیر پاک و ہند میں خطاطی،  لاہور عجائب گھر، ۱۹۷۸ء، ص ۷۔

۔۳۷     Ahmed Nabi Khan, Al Mansurah A Forgotten Arab Metropolis, Deptt. of Archaeology, Karachi, p. 14.

۔۳۸     F. A. Khan. Bhanbore, Dept. of Archaeology, Karachi, p. 14.

۳۹۔      شیخ محمد اکرام ،  آب کوثر، ادارہ ثقافت اسلامیہ۔ ۱۹۹۰ء ، ۴/۶۴۔۶۵

۴۰۔      ایضاً

۴۱۔       سید علی ہجویریؒ ،  کشف المحجوب، مترجم سید محمد احمد قادری، اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور۔  ۱۹۸۰ء ص ۱۰۷

۴۲۔      شیخ محمد اکرام ، آب کوثر،  محولہ بالا،  ص ۳۹

۴۳۔      ابوالقاسم فرشتہ ترجمہ عبدالحئی خواجہ ،  تاریخ فرشتہ، شیخ غلام علی اینڈ سنز، ۱۹۷۴ء،  ۱/ ۱۵۲

۴۴۔     ابوالقاسم فرشتہ ، تاریخ فرشتہ،  محولہ بالا،  ص ۱۵۲

۴۵۔      ایضاً،  ص ۱۵۳

۴۶۔      اعجاز راہی، تاریخ خطاطی،ادارہ ثقافت پاکستان،  ۱۹۸۶ء،  ص ۱۴۴

۴۷۔      ابوالقاسم فرشتہ، تاریخ فرشتہ،  محولہ بالا ،  ص ۲۶۸

۴۸۔     انجم رحمانی،  تعارف مخطوطات گیلری،  عجائب گھر، لاہور، ص ۲۷۔

۴۹۔      انجم رحمانی، برصغیر پاک و ہند میں خطاطی،  لاہور عجائب گھر، لاہور ۱۹۷۸ء۔ ص ۷

۵۰۔       شاہنواز خان مترجم محمد ایوب قادری ،ماثر الامراء، مرکزی اردو بورڈ لاہور ۱۹۷۰ء۔  ۲/۴۵۷۔۴۵۸

۵۱۔       شیخ محمد اکرام، رود کوثر، طبع سیزدہم ادارہ ثقافت اسلامیہ کلب روڈ، لاہور ۱۹۹۰ء ص ۱۳۶

۵۲۔       عابد نظامی،  لاہور میں قرآنی نوادر، سیارہ ڈائجسٹ قرآن نمبر، شمارہ ۵ ،جلد ۱۳ نومبر ۱۹۶۹ء ۔ ۲/ ۸۳۳

۵۳۔      عبداﷲ چغتائی ،  خطاطی ۱۷۰۷ء۔ ۱۹۷۲ء،  تاریخ ادبیات فارسی مسلمانان پاکستان، جلد ۵، فارسی ادب ، پنجاپ یونیورسٹی ۔۳/ ۳۳۴

۵۴۔      ایضا ً،  ص ۳۴۲

۵۵۔      ایضاً،  ص ۳۴۲

۵۶۔      بحوالہ احمد علی بھٹہ (احمد علی بھٹہ نے راقم کو اپنے کتابت شدہ کلام پاک دکھائے)

۵۷۔     مزید تفصیل کے لیے دیکھیں : لاہور اور فن خطاطی از ڈاکٹر محمد اقبال بھٹہ ، علم و عرفان پبلشرز اردو بازار لاہور،  ص ۱۱۵ تا ۱۴۰