ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار
پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

میرے حافظ صاحبؒ
پروفیسر ڈاکٹر شیر محمد زمان چشتی

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آبِ بقائے دوام لے ساقی

          حافظ صاحب سے میری پہلی ملاقات، تعارف اور شناسائی برادرم چوہدری صفدر علیؒ کے توسط سے ہوئی۔ ایم اے کا دوسرا سال تھا (۱۹۵۵ء) کہ چوہدری صفدر علی ہماری کلاس میں شامل ہوئے۔ اسلامیات میں ایم اے کے علاوہ ایل ایل بی اور جرنلزم میں ڈپلوما پہلے ہی کر چکے تھے۔ ان دنوں قانوی مشیر (Legal Remembrancer) پنجاب کے دفتر میں ملازمت کے ساتھ تسنیم (روزنامہ) میں بھی جزوقتی کام کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ رفاقت و محبت کا تعلق قائم ہوا تو انہوں نے اپنے بہترین دوست مسمّی حافظ احمد یار سے بھی تعارف کرایا۔ چوہدری صفدرمرحوم کے اس ناچیز پر کئی احسانات ہیں اور میں اسے بھی ان کا ایک بہت بڑا احسان شمار کرتا ہوں۔یہ صاحبین کریمین اخلاص و ایثار کا پیکر تو تھے ہی، اس پر طبائع اور ذوق کی ہم آہنگی نے ہم تینوں کو بہت قریب کردیا۔ چوہدری صاحب نے اسی سال (۱۹۵۶ء) میرے ساتھ ہی   ایم اے (عربی) کا امتحان دیا، اور حافظ صاحب نے اگلے سال (۱۹۵۷ء) میں اور گولڈ میڈل لے کر کامیاب ہوئے۔۔۔ گو اس وقت بھی وسعتِ مطالعہ ، علمی گہرائی اور تحقیقی ذوق کے لحاظ سے اسلامیات اور عربی میں گولڈمیڈل کی حیثیت حافظ صاحب کے لیے ’صیدِزبوں‘ سے زیادہ نہ تھی۔

          سو اس طرح ۱۹۵۵؍۵۶ء میں حافظ صاحب سے سلسلۂ مودّت و اخوت کا آغاز ہوا اور صدہزار شکر اس منعم حقیقی کا کہ اس میں کبھی کوئی شکستگی یا دراڑ تک نہ آئی بلکہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اس تعلق میں استقلال و استحکام فزوں تر ہوتا چلا گیا۔یکم نومبر ۱۹۶۹ء کو وفاقی وزارت تعلیم میں تقرر کے بعد عملاً میں اسلام آبادی ہو کر رہ گیا۔ مگر ناممکن تھا کہ لاہور جاؤں اور حافظ صاحب کی بارگاہ ِ قلندری میں حاضری نہ دوں ، بلکہ بارہا انہی کے ہاں قیام رہا۔

          حافظ صاحب کی پوری زندگی علمی و عملی جدوجہد سے عبارت تھی۔ آخری سالوں میں ان کے جفاکش اور زورآور جسم میں کئی عوارض کے ساتھ اضمحلال نمودار ہونے لگا تھا۔ عارضۂ قلب بھی لاحق ہو گیا تھا۔ ان کے چھوٹے صاحبزادے عزیزی کرنل ذوالقرنین بصد اصرار انہیں اوائل اپریل ۱۹۹۷ء میں اپنے ہاں راولپنڈی لے آئے، جہاں اوجھڑی کیمپ کے پاس فوجی افسران کی رہائشگاہوں میں ان کی اقامت گاہ تھی۔ یہاں وہ لگ بھگ ڈیڑھ ماہ صاحبِ فراش رہے تآنکہ ۱۵؍مئی کو کوئی گیارہ بجے شب عسکری ادارۂ امراضِ قلب راولپنڈی میں داعیٔ اجل کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے اس مالک حقیقی کے دربار میں حاضر ہو گئے، جس کے قرآن کی محبت و خدمت ان کی حیاتِ مستعار کا محبوب ترین مشغلہ اور ممتاز ترین کارنامہ تھا۔ ان کی علالت کے دنوں میں کئی شامیں عزیزی ذوالقرنین کے ہاں ان کی صحبت میں بسرہوئیں۔ سخت علالت میں بھی علمی گفتگو میں وہی ذکاوت و حلاوت وجلالت؛ تھک جاتے، سانس متأثر ہونے لگتی تو آکسیجن لگانے کے لیے فرماتے۔سلنڈر پلنگ کے پاس ہی رکھا ہوتا۔ عزیزی ذوالقرنین آکسیجن ماسک لگا دیتے۔ طبیعت بحال ہوتی تو منع کرنے کے باوجود ذکرِمحبوب سے سکوت نہ کرتے۔

           عزیزی ذوالقرنین ایمبولینس میں ان کے جسدِ خاکی کو لاہور لے گئے۔باغِ جناح کی مسجد دارالسلام میں ۹؍محرم الحرام کو جمعہ کے دن ڈاکٹراسراراحمد نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی وہی مسجد جہاں دس بارہ سال انہوں نے خطابت وامامت جمعہ کی خدمت سرانجام دی تھی اورپھر ڈاکٹراسراراحمد مرحوم کی قرآن اکیڈمی سے حافظ صاحب کے طویل تعلق کا لحاظ کرتے ہوئے ماڈل ٹاؤن K۔بلاک کے قریبی قبرستان میں ان کے جسدِ خاکی کو پیوند خاک کر دیا گیا۔

سب  کہاں  کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

          حافظ صاحب تصوف سے کسی نسبت کے مدّعی نہ تھے مگر حبّ دنیا سے ان کی مکمل بے نیازی، سادگی ودرویشی کے ساتھ مجاہدانہ شان قلندری، خدمتِ دین میں ان کی مثالی للّٰہیت اور شہرت سے فرار پر کوئی بھی صوفی ٔ صافی و صادق رشک کر سکتا ہے۔ اچھرہ کی جامع مسجد میں سالہا سال قرآن سنایا اور سمجھایا بلکہ شاید تراویح کے بعد تلاوتِ آں شب کے مطالب کا خلاصہ بیان کرنے کی مبارک طرح ڈالی، پر کبھی کسی سے ایک پائی قبول کرنا تو کجا، اس کی خواہش بھی نزدیک سے نہ گزری۔ مسجد دارالسلام میں خطابت سے ہاتھ اٹھا لیاکہ شاید حافظ احمدیار کی اس طرح شہرت ہو رہی ہے! سبحان اللہ۔اب ایسی سراپا اخلاص، عشقِ قرآن سے سرشار ، دینِ محمد پہ نثار اور علم کا پہاڑ شخصیتیں کہاں ملتی ہیں۔ عاب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر۔

 وے صورتیں الہیٰ کس دیس بستیاں ہیں

اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

          حافظ صاحب کے اخلاق ِ حسنہ کا ایک امتیازی وصف آج کے دور میں ان کا بے مثال جذبۂ ایثار تھا۔ اس راہ میں ان کے محدود وسائل کبھی حائل نہ ہونے پائے۔ احباب کی خاطر ان کے کمالِ ایثار کا ایک واقعہ میری اپنی سرگزشت کا ناقابلِ فراموش حصہ ہے۔ ۱۹۵۶ء میں ایم اے (عربی) کرنے کے بعد اسی سال ۲۰؍ دسمبر کو میرا تقرر گورنمنٹ کالج لاہور میں بطور لیکچرار (عربی) ہو گیا تھا۔ ستمبر ۱۹۵۷ء سے میری رہائش والدہ محترمہ ، ہمشیرہ اور خواہرزادہ مظہررسول (صابرمیاں) کے ساتھ محلہ بلال گنج کی آخری گلی میں تھی۔ کرائے کے لیے بنائے گئے ایک نوتعمیر شدہ کمپلیکس میں دو چھوٹے چھوٹے کمروں، مختصر برآمدے،صحنچی، باورچی خانہ، اور پرانی طرز کے ایک غسل خانہ اور ایک بیت الخلاء پر مشتمل دو دو یونٹ جڑواں بنے ہوئے تھے۔ فروری۱۹۵۷ء میں ہمارے ساتھ والا یونٹ خالی ہوا۔ نیا کرایہ دار ایک شریف سا جواں سال صحافی تھا۔ اس کے ساتھ ایک خاتون جو اس کی اہلیہ یا کوئی عزیزہ تھیں، تپ دق کی مریضہ تھیں اور انہیں علاج کے لیے لاہور لایا گیا تھا۔ صحافی بہت لگن سے ان کی خدمت اور تیمارداری کرتے تھے۔ بیت الخلاء سے مریضہ کا رقیق فضلہ نالی میں بہا دیا جاتا جو جڑواں یونٹ کی داخلی ڈیوڑھی سے گزرتی تھی۔ میری دونوں پھوپھیوں کا انتقال میری ولادت سے بھی پہلے تپ دق کے مرض سے ہی ہوا تھا، اباجی اس بارے میں اتنے حسّاس تھے کہ انہوں نے بہنوں کی وفات کے بعد مکان مکمل مسمار کر کے ازسرنو تعمیر کروایا تھا۔ امی جان بھی اس بارے میں خوف کی حد تک حسّاس تھیں۔ انہوں نے فوراً مکان بدلنے پر شدید اصرار فرمایا۔ حافظ صاحب ان دنوں اچھرہ میں جامعہ فتحیہ کوارٹرز میں مقیم تھے۔ ہم دونوں سائیکلوں پر اچھرہ اور رحمن پورہ میں خوب گھومے مگر بسیار جستجو کے بعد بھی کوئی مناسب جگہ نہ ملی جو میری کم از کم ضروریات اور محدود بجٹ کے مطابق ہوتی۔ شام کو میں ناکام لوٹ آیا۔ حافظ صاحب کو امی جی کی پریشانی کا اندازہ تھا۔ سردیوں کے موسم میں رات گئے کوئی دس گیارہ بجے دستک ہوئی۔ دروازے پر حافظ صاحب کھڑے تھے۔ کہنے لگے میں تمہاری بھابھی سے مشورہ کر کے آیا ہوں۔ ہمارے کوارٹر کے بڑے کمرے میں آپ رہیں گے اور چھوٹے میں ہم۔ بس صبح سامان لے چلیں۔ سچی بات ہے، ایثار و اخلاص کی اس حیران کن پیش کش پر میں حیران رہ گیا۔ کہا کہ امی جان سے مشورہ کر کے کچھ عرض کروں گا۔ اب اسے بھی حافظ صاحب کی کرامت کہیے کہ گورنمنٹ کالج منٹگمری سے صوفی ضیاء الحق ؒصاحب کے لاہور میں اور میرے منٹگمری میں تبادلہ کے دو تین مہینوں سے متوقع آرڈر اگلے روز ہی موصول ہو گئے اور اسی طرح مسئلہ از خود حل ہو گیا۔حافظ صاحب کے ایثار کی ایسی کئی مثالیں مشاہدہ میں آئیں مگر اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔

کتابوں کے ساتھ عشق

          حافظ صاحب کا متنوع الفنون ذاتی ذخیرۂ کتب ان کے علمی ذوق کی وسیع دامانی پر شاہد ہے۔ اسلامیات کے ایک سچے اور فاضل استاد کے لیے تفسیر، حدیث، فقہ، صرف کلام اور تاریخ جیسے فنون کی کتب ذاتی دسترس میں رکھنے کی خواہش تو چنداں تعجب کی بات نہیں مگر تاریخ و جغرافیہ کی متعدد اطلسیں(Atlases)اور خرائط، طبّ و جراحت، قوامیس لغت، انگریزی ادب، سیاحت حتیٰ کہ Space Sciences جیسے موضوعات پر بیش قیمت کتب ان کے کثیر الجہات علمی ذوق کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔

          ۱۹۵۷ء کے نصف اول میں میری رہائش ایک دوست عبدالاحد خان کے ساتھ گوالمنڈی میں تھی۔ اکثر حافظ صاحب اسلامیہ کالج سول لائینز سے نکلتے اور میں اپنے کالج سے، تو اکٹھے نیلا گنبد تک سائیکلیں لیے پیدل چلے آتے۔ انار کلی نیلا گنبد چوک والے گوشے پر واقع ایک وضعدار باریش پان سگریٹ فروش کے ہاں حکومت پاکستان کا شائع کردہ عربی رسالہ ’الوعی‘ اور فارسی ’الھلال‘ بھی دستیاب ہوتے تھے، وہاں رک کر ان کے تازہ شمارے کا ضرور پوچھتے اور فوراً خرید لیتے۔ نیشنل جیو گرافک میگزین کے بھی باقاعدہ خریدار تھے۔ حبّ ِکتب کے حوالے نے ہی مکتبہ علمیہ کے کلاسیکی صاحب مکتبہ مولاناعبیدالحقؒ سے بھی حافظ صاحب کا رشتۂ محبت و اخوت استوار کر دیا تھا۔ عبید الحق ؒ صاحب کتاب فروش سے زیادہ عالم اور مردِ درویش تھے۔ علمی ذوق رکھنے والے قلیل الوسائل احباب کو کتابیں دے کر ’’بھول‘‘ جاتے اور انہیں اصرار بہ تکرار سے بل حاصل کرنا پڑتا۔ حافظ صاحب سے محبت واخلاص کا رشتہ تھا اور دوستانہ بے تکلفی بھی۔ مصر وغیرہ سے نئی کتابوں کی کھیپ آتی تو حافظ صاحب کوئی وقت ضائع کیے بغیر جا دھمکتے۔ وہ بے تکلف ڈانٹ پلا دیتے’’حافظ! تنخواہ میں سے کچھ بچوں کے لیے بھی بچانا ہے کہ نہیں؟‘‘۔ حافظ صاحب ڈانٹ پیتے اور کتابیں لیتے جاتے۔ خدا رحمت کند ایں عاشقاںِ پاک طینت را۔ کیا خرید کنندہ اور کیا فرو شندہ!         

          عبیدالحق صاحب کے ساتھ کتابوں کے رشتہ کے علاوہ مرغیاں اور اعلیٰ نسل کی گائیں پالنے کا شوق بھی مشترک تھا۔ عبیدالحقؒ کے ہاں تو یہ سلسلہ ذرا وسیع پیمانے پر تھا مگر حافظ صاحب کے ہاں ۱۶، سلطان احمد روڈ اچھرہ میں بھی ولایتی مرغیوں اور آسٹریلین گائیوں کی نمائندگی بالالتزام رہتی۔

خدا شرے برانگیزد کہ خیر ما دراں باشد

          حافظ صاحب کی اسلامیہ کالج سول لائینز سے پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامیات میں ہجرت کا ’’سانحہ‘‘ بھی دلچسپ اور حافظ صاحب کی شخصیت کے محاسن میں ایک نمایاں پہلو کا عجیب مظہر ہے۔ حافظ صاحب نہایت خوش مزاج اور باغ و بہار طبیعت کے مالک تھے۔ احباب و تلامذہ سب ان کی لطیفہ گوئی، بذلہ سنجی اور بے تکلف سخن رانی سے شناسا و آگاہ تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ عزت نفس خودداری اور شریفانہ اکرامِ ذات کے پیکر بھی تھے۔ ہوا یوں کہ حافظ صاحب اسلامیہ کالج کے طلبہ کی ایک جماعت کے ساتھ ان کے قائد کی حیثیت سے تفریحی سفر پر چھانگا مانگا کے معروف انسان کاشتہ ذخیرہء اشجار کی سیر کو گئے۔ غالباً جنگل کی آرام گاہ طلبہ کے لیے پہلے سے ریزرو کرالی گئی تھی۔ سیر گاہ کے لوازم اور تفریحی گردش سے فراغت کے بعد طلبہ آرام گاہ میں طعام و کلام میں جتے تھے کہ انجمن حمایت اسلام کے اساتین میں سے کوئی حضرت جو انجمن کے اداروں اور ان کے وابستگان کو ذاتی جاگیر شمار کرتے ہوں گے، اپنے کرّوفر کے ساتھ وارد ہو گئے اور خدائی شان کے ساتھ حافظ صاحب سے مخاطب ہو کر میدان خالی کرنے کا حکم صادر کیا۔ مگر حافظ صاحب نے میدان خالی کرنے کی بجائے اسے گرمی ٔ کارزار میں بدل دیا۔ اور بڑے صاحب انجمن کے کالج کے ایک ’’معمولی استاد‘‘ کا یہ غیرمتوقع ردِ عمل دیکھ کر بھونچکا رہ گئے اور حافظ صاحب کے خلاف انضباطی کارروائی کا آغاز ہو گیا۔ اسی شر کی کوکھ سے حافظ صاحب کے یونیورسٹی میں ورود کی خیر برآمد ہوئی۔ اور پھر اپنے گرامی قدر استاد علامہ علاء الدین صدیقی صاحب کی سربراہی میں حافظ صاحب کے لیے کئی علمی ہفت خواں سر کرنے کا راستہ کھل گیا۔

          اسلامیہ کالج میں حافظ صاحب اپنے طلبہ میں مقبول و محترم اور اپنے رفقاء میں عزیز و مؤقر مقام کے حامل رہے۔ اور یہ وہ دور تھا جس میں پروفیسر حمید احمد خان جیسے پرنسپل اور حافظ نذر احمد ، مولانا علم الدین سالک، ڈاکٹروحید قریشی اور پروفیسر ابوبکرغزنوی (رحمھم اﷲ علیھم) جیسے نامی گرامی اساتذہ اسلامیہ کالج کی پیشانی کا جھومر تھے۔ کالج میں تدریس کے دوران میں باوقار علمی نمائشوں کے انعقاد کو حافظ صاحب کی علمی اوّلیات میں شمار کیا جاسکتا ہے۔اس کا آغاز اپریل۱۹۶۱ء میں قرآن مجید کے قدیم اور نادر مطبوعہ نسخوں کی نمائش سے ہوا۔ اس میں طلبہ کا ایک دستہ ان کا رضاکارانہ معاون تھا۔ احباب کو خطوط لکھے۔ خود مجھے بھی ان کا حکم نامہ ملا تو میں نے تین نسخے فراہم کیے اور تینوں نمائش میں شامل کیے گئے۔ ایک نسخہ تو میرے داد جان پیراحمد بخشؒ کا تھا۔ 7x12"سائز کے ۶۴۶ صفحات ، خوبصورت نسخ کتابت ، مطبوعہ مطبع نظامی واقع کان پور؛تاریخ اختتام طباعت رمضان ۱۲۷۹ھ۔ کاغذ دبیز مگر ایسا کہ اب تک ہر طرح کے صنعف و شکستگی سے محفوظ و مصؤن۔ مگر اس کی وہ نمایاں خصوصیت جسے دیکھ کر رسمِ مصحف عثمانی کے ایک سنجیدہ طالب علم (اور بعد ازاں پاکستان میں اس فن کے فاضل اجّل) کی حیثیت سے حافظ صاحب پھڑک گئے۔ رسم پربحرالعلوم سے مقتبس ہر صفحہ پر منتشر حواشی ہیں۔ باقی دو نسخے میرے بزرگ ماموں صاحب پیر اکبر علی (مرحوم و مغفور) نے میری درخواست پر نمائش کے لیے عنایت فرمائے۔جن میں سے ایک نسخہ مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی، سالِ طباعت ۱۲۹۴ھ جہازی سائز کے ۷۹۹ صفحات، آٹھ سطری متن، ہر آیت کی تین تحتانی سطروں میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کے فارسی ترجمہ اور ان کے جلیل القدر صاحبزدگان شاہ رفیع الدین ؒ اور شاہ عبدالقادرؒ کے تحت اللفظ اور بامحاورہ رواں تراجم (بالترتیب) سے مزیّن ہے۔ دوسرا نسخہ 11x7"سائز کے ۶۱۰+۴ صفحات پر تیرہ سطری معّریٰ متن کے ساتھ عام سا نسخہ ہے۔ جس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ۱۳۱۵ھ میں قاضی عبدالکریم فُلبَندری کے زیرِاہتمام مطبع کریمی بمبئی میں زیورِ طبع سے آراستہ ہوا۔ ان تین نسخہ جات کے نسبتہً تفصیلی ذکر سے مراد یہ ہے کہ قارئین کو اس گراں قدر کام کا کچھ اندازہ ہو جائے جو حافظ صاحب نے مادّی وسائل کے فقدان کے باوجود چند شاگردوں کی مدد سے محض اپنی ذاتی اُپج اور ہمت و استقلال سے سرانجام دیا۔

          دوسرا کارنامہ سیرتِ طاہرہ علی صاحبھا الصلوۃ والتسلیم کے مبارک موضوع پر لکھی گئی تحریروں ، مطبوعہ وغیرمطبوعہ، کی نمائش کا انعقاد (۲-۹ مئی، ۱۹۶۳ء) تھا۔ حافظ صاحب کی اس انفرادی کوشش کے نتیجہ میں خطاطی و نقاشی کے دل کش شاہکاروں کے علاوہ عربی، فارسی ، اردو ، پنجابی کے ۳۶ مخطوطات و مسوّدات پیش کیے گئے۔ مطبوعہ کتب کی قبیل میں ۱۱۶ عربی، ۲۸ فارسی، ۲۷ پنجابی، ۴ سندھی، ۲ ہندی اور ۴۵۰ اردو منشورات شامل تھیں۔دیگر زبانوں میں انگریزی کی ۷۴، فرانسیسی کی ۵، جرمن کی ۵ اور اطالوی و ترکی کی ایک ایک کتاب نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔(۱) حافظ صاحب کی اس کاوش کی قدروقیمت کا اندازہ نمائش میں پیش کردہ کتب کی تعداد سے نہ لگائیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اہتمام ِ نمائش کتب بحوالۂ قرآن وسیرت کے ساتھ انہوں ایک نئی روایت کی طرح ڈالی اور خلوصِ نیت اور حبِ دین و علم کی برکت کہیں کہ اس کا حسنِ قبول کے ساتھ تتبع کیا گیااور اس رجحان کی مقبولیت کا اندازہ کیجیئے کہ اس کے بعد ، بالخصوص ستر کی دہائی میں، سیرت کانفرنسوں کے سلسلے کے ساتھ، مختلف قومی اداروں کی طرف سے اپنے وسیع تر وسائل کی بدولت شاندار نمائشوں کا انعقاد دیکھنے میں آیا۔حافظ صاحب کی کسرنفسی اور درویشی کے کیا کہنے کہ ۱۲۴صفحات پر محیط اس فہرست کے سرورق پر بحیثیت مرتب اپنا نام تک نہیں لکھا۔ عام طور پر D.S Margoliouthکی Life of Mahomet کے پیش لفظ میں لکھا ہوا ایک جملہ اس کتاب کے مشمولات کی زہرآلودگی کے باوجود اکثر مسلم مصنفین بھی فخریہ نقل کرتے ہیں مگر حق کا تفاضا یہ ہے کہ اس فہرست کے’ تعارف‘ میں لکھا ہوا حافظ احمد یار صاحب کا یہ جملہ ہر کتاب ِ سیرت کی تقدیم کا حرفِ آغاز بنایا جائے۔

          سیرت ِ پاک کتنا وسیع موضوع ہے اور اس پر دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں اب تک کیا کچھ لکھا جا چکا ہے، اس کا علم بھی صحتِ یقین کے ساتھ تو فقط اس ذات کو ہی ہے جس نے ورفعنالک ذکرک کہا۔

          اس کے بعد حافظ صاحب نے ۱۹۶۴ء میں اسلامی خطاطی کے حسین و جمیل نادر نمونوں کی ایک وقیع نمائش کا انعقاد کیا۔ مگر بدیہی امرہے کہ اس کا کوئی کیٹیلاگ منظرِ عام پر نہ لایا جا سکا۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے نمائش میں پیش کردہ نمونوں کی رنگین عکسی تصاویر کے بغیر ایسی فہرست سے کوئی فائدہ مرتب نہ ہوسکتا تھا۔

          حافظ صاحب نے دونوں نمائشوں کے بعد ان میں پیش کردہ کتب کی فہرستوں کی اشاعت کو اپنی ان مبارک کاوشوں کا لازمی تتمّہ سمجھتے ہوئے وسائل کی تنگ دامانی کے باوجود ان کے ایسے کیٹیلاگ شائع کیے جن کی ظاہری وضع تو ان کی طرح سادہ مگر حسن ترتیب و تدوین کے لحاظ سے (تربیت یافتہ و مستند کتابدار نہ ہونے کے باوصف) وہ آج بھی قابل ِ تقلیدنمونہ ہیں۔مخطوطات و مسّودات کی تعداد قلیل تھی، صرف ۳۶، اس لیے اس باب کے تحت اندراجات کو عناوین کی الفبائی ترتیب پر اکتفاء کیا۔ مطبوعہ کتب میں فارسی، پنجابی، سندھی اور ہندی کتب کے لیے بھی یہی اسلوب روا رکھا۔ عربی کتب کومآخذ تحقیق، تلخیص وتراجم،فضائل و شمائل ، صلوٰۃ و نعت اورمتفرق کے ذیلی عنوانات کے تحت اسماء الکتب کی الفبائی ترتیب سے مرتب فرمایا۔ تاہم اردو کتب میں متنوع ذیلی عنوانات کے ساتھ ’تقاریرِ سیرت اور تبلیغی پمفلٹ‘، اخبارات و رسائل کے خاص نمبر جیسے الگ عنوانات بھی قائم کیے گئے۔ اس وضاحت کا مدعا یہ ہے کہ راقم الحروف کے نزدیک اپنی نوع کی اس پہلی کوشش میں ہی مرتبین فہارس کتب سیرت کے لیے ایک اساسی منہج تجویز کر دیا گیا ہے۔ اور شاید اب تک اس میں، گنجائش کے باوجود ، کوئی خاص قابل ذکر بہتری نہیں لائی جا سکی ہے۔

          الحمدللہ فہارس کتب کا یہ رجحان فروغ پزیر ہے۔ فہرست قومی نمائش کتب سیرت ۱۹۸۴ء (ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، اسلام آباد)، کتابیات ِ سیرتِ رسولؐ (۱۹۷۳ء تا ۱۹۸۷ء) شائع کردہ نیشنل بک کونسل آف پاکستان (۱۹۸۸ء)، جدید اردو کتابیات سیرت۔ ۱۴۰۰ھ تا ۱۴۳۰ھ؍۱۹۸۰ء - ۲۰۰۹ء، مرتبہ حافظ محمد عارف گھانچی (کراچی، زوار اکیڈمی، ۲۰۰۹ء)، ذخیرہ کتب سیرت قومی لائبریری، مرکزِ تحقیق، مرتبہ:شیرنوروزخان(اسلام آباد،ادارہ تحقیقاتِ اسلامی ا۔ت۔ن ۲۰۱۱ء؟)، The Prophet Muhammad (PBUH): A Select Biblography in Western Languages،  مرتبہ: شیرنوروزخان(۲۰۱۵ء) اس کی صرف چند مثالیں ہیں۔

          حقیقت یہ ہے کہ اگر حافظ صاحب نے اپنی حیات مستعار میں صرف یہی کام کیا ہوتا تو ہمارے ہاں، علوم ِ اسلامیہ کی تاریخ میں ان کا نام زندہ جاوید کرنے کے لیے کافی تھا۔

          ندرتِ فکر اور جدت پسندی (تجدّد نہیں) کے ساتھ حافظ صاحب کی قرآن سے والہانہ محبت کا امتزاج دیکھنا ہو تو ان کے بچوں کے ناموں پر نظر ڈالیے۔ سب سے بڑی بچی رابعہ کا نام تو خیر عام سا مقبول نام ہے۔ مگر دوسرے بیٹے بیٹیوں نعم العبد، ذوالقرنین، مُستتبشرہ، قرۃ العین اور نضرۃ النعیم ۔ سب ہی کے نام قرآن سے گہرے لگاؤ کے ساتھ ساتھ حافظ صاحب کی معنی آفرین اور قدرے مشکل پسند طبع کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گو انہوں نے ، نیمی، ظلّی ، مُوشن، عینی اور نعیم کے ’عرفی ملّخصات‘ کے ذریعے گھر والوں کے لیے آسانی کی صورت نکال لی تھی۔

          کسی بھی موضوع پر لکھنا مطلوب ہوتا ، حافظ صاحب میں اس عنوان کا کوئی اچھوتا گوشہ ڈھونڈ لینے کا خاص ملکہ تھا۔ حکیم حافظ محمدسعید شہید کے زیرِاہتمام کراچی میں سیرت کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ اخلاق نبویؐ عمومی عنوان تھا۔اس کے تحت حافظ صاحب کے لکھے ہوئے مقالہ کا عنوان ’’ اخلاق ---نبوت سے اکتساب فیض کی شرط اور علامت‘‘ بھی ان کی مخصوص انفرادیت کا حامل تھا۔

          جامعہ فتحیہ اچھرہ کے کوارٹروں میں کئی سال سکونت رہی۔ وہاں متعدد ممتاز ارباب علم سے ہمسائیگی اور مودّت کا رشتہ رہا۔عاصم الحدّاد، حافظ عبدالغفارحسن، خلیل حامدی جیسے اصحاب کا ذکر برسبیلِ مثال کیا جا سکتا ہے۔ حافظ صاحب علماء دیوبند اور جماعت اسلامی کے مکاتب فکر سے خاصی ہم آہنگی رکھتے تھے۔ گو اپنی مخصوص ذکاوت و حریّت فکر کے ساتھ اپنے دیانتدارانہ تحفظات سے کبھی دست کشی کی، نہ فکری اعتبار سے کبھی کسی مسلکی یا گروہی عصبیت کے اسیر ہوئے۔خاندانی اور موروثی نسبت کی بناء پر جھنگ کے علاقے کی معروف شخصیت پیرمبارک شاہ صاحبؒ سے ارادت اور محبت و احترام کا رشتہ قائم و دائم رہا۔ ہمچوں ما دیگر ے نیست کے رویہ، ملّائیت اور مولویانہ یبوست سے کوسوں دور تھے۔ احباب کی محفل میں بے تکلف گفتگو اور حسب موقع و ضرورت ٹھیٹھ جھنگوی پنجابی زبان اور اسی کے خالص لہجے میں ، لطیفہ گوئی ، بذلہ سنجی ان کی شخصیت کا زیور اور نکھار تھا۔ اچھا شعر سن کر پھڑک اٹھتے۔ اس وقت ان کے احتظاظ اور ابتہاج و اہتزاز کی کیفیت دیدنی ہوتی تھی۔( کسی کے ’’ذوق لطیف‘‘ پر یہ الفاظ گراں گزریں تو وہ رشید احمد صدیقی کی ’گنجہائے گرانمایہ‘ کی طرف رجوع فرمائیں۔ دسمبر ۱۹۵۷ء کی ایک حسین و لطیف شام کی روح پرور سکینت و سرور کو میں کبھی فراموش نہیں کر پاؤں گا۔ بھابی بچے جھنگ گئے ہوئے تھے۔ حافظ صاحب کی فتحیہ کوارٹر والی رہائش گاہ میں احباب کی محفل جمی۔ کھانے کے بعد حلقہ یاراں میں محفل آرائی و نغمہ سرائی کا دور چلا۔ چوہدری صفدرعلی مرحوم اور حافظ صاحب کے تدیّن و تقویٰ کی قسم کھائی جا سکتی ہے، پر اسی محفل میں چوہدری صفدر علی کی مترنم طلمساتی آواز میں وارث شاہ کی ہیر رانجھا کے بیت اور نورجہاں کی گائی ہوئی غزلیں سنیں۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔

          بذلہ سنجی، نکتہ آفرینی، علوم و فنون کی گو ہرفشانی کا جو انداز اسلامیہ کالج سول لائینز کے اسٹاف روم میں دیکھا، اور کہیں وہ شان آن بان نظر نہ آئی۔ اسٹاف روم کیا تھا کالج کے آہنی داخلی دروازہ کے ساتھ ہی کونے میں کوئی تین فٹ اونچے چبوترے پر ایک مختصر سا کمرہ جس کے سامنے کھلے آسمان تلے کرسیاں سجی رہتیں۔ پروفیسر ابوبکر غزنویؒ ، ڈاکٹر وحید قریشی ؒ، ابوالخیر مودودیؒ، علم الدین سالکؒ اور حافظین (حافظ نذراحمدؒو حافظ احمد یارؒ) جیسی نابغہ ہستیوں کی باہم چھیڑ چھاڑ بھی چلتی رہتی اور پھلجھڑیوں کے ساتھ علم و ادب کے جام بھی چھلکتے رہتے۔پروفیسر ابوبکر غزنوی ان دنوں جوان اور ناکتخدا تھے۔عربی کے پروفیسر مگر اردو ایسی شستہ اور بامحاورہ کہ اہل زبان اور استاذان اردو بھی ان کے آگے پانی بھریں۔ خود ان کا دعویٰ تھا کہ میں نے رتن ناتھ سرشار کا فسانۂ آزاد اوّل تا آخر بالاستیعاب پڑھ رکھا ہے۔ آج بھی شاید ہی کوئی اردو کا استاد یہ دعویٰ کر سکے۔

          حافظہ غضب کا تھا اور لہجہ کڑک دار۔ پھر طبیعت میں جولانی اور چلبلاپن۔ جان ِمحفل بنے رہتے۔ قریشی صاحب نے ایک روز اثنائے گفتگو میں کسی حوالے سے ذکر کیا کہ ’’میں وہاں سے کھسک لیا‘‘ غزنوی صاحب فوراً اپنے دبنگ انداز میں بولے ’’ ایسے موقع پر سٹک گیا‘‘ کہتے ہیں۔ قریشی صاحب بھی کہاں چوکنے والے تھے۔ تڑاخ سے جواب دیا کہ ’’میں چپکے سے نکل گیا تھا، فرار نہیں ہوا تھا‘‘۔ سبحان اللہ کیا نکتہ سنج اور نکتہ رس لوگ تھے۔

          ابوبکرصاحب اور حافظ صاحب نے باہمی اشتراک سے ایک نصابی کتاب تفہیم آیات کے عنوان سے شائع کی۔ جو غالباً بی اے ، اسلامیات آپشنل کے طلبہ کے لیے تھی اور سورۃ محمّد کے علاوہ دو اور مختصرسورتوںکی تفہیم و تفسیر پر مشتمل تھی۔ غزنوی صاحب کے ساتھ حافظ صاحب کی دوستانہ بے تکلفی تھی۔ خود مجھے بتایا (اور اس سے ان کی وسیع حوصلگی، عالی ظرفی اور عظمت کردار کا اظہاربھی ہوتا ہے)کہ طے شدہ طریق کار کے مطابق میں چند آیات کی تفہیم معانی و تفسیر ِ مطالب تیار کر کے غزنوی صاحب کے ہاں جاتا۔ وہاں نظرثانی کی نشست ہوتی۔ پہلی نشست میں غزنوی صاحب نے پوری تحریر اطمینان سے پڑھی پھراپنی پاٹ دار آواز میں اپنی معروف بے ساختگی سے کہا: ’’حافظ! اس تحریر میں جہاں جہاں بھی چونکہ، چنانچہ، اگرچہ، کیوں کہ ہے، اسے کاٹ دو‘‘۔ ’میں نے تعمیل کی۔ کہا!: ’’اب پڑھو‘‘، میں نے سب پڑھ دیا۔کہا! ’’کہیں معنی میں کوئی کمی ہوئی؟ بلکہ عبارت میں تعقید کی بجائے روانی آئی یا نہیں؟، میں نے اتفاق کیا۔ یہ واقعہ سنا کر حافظ صاحب نے غزنوی صاحب کے ادبی ذوق کو جی بھر کر داد دی۔

          بحمدہٖ تعالیٰ حافظ صاحب کے ساتھ محبت اس ناچیز کے لیے نہایت ہی بیش قیمت سرمایۂ حیات ہے۔ ان کے سب بچوں کے ساتھ ، جن میں سے ہر ایک ماشاء اللہ اپنی اپنی جگہ دینی اور دنیوی سعادت سے ثروت مند بھرپور زندگی بسرکررہا ہے، بفضلہ سبحانہ وتعالیٰ محبت کا وہی تعلق قائم ہے اور وہ بھی اپنے گرامی قدر والد کی مہتم بالشان روایتوں کو خوب نبھا رہے ہیں۔ بس اسی رعایت سے جمیلہ بہن نے اپنی زیرِ نظر تالیف کے لیے حافظ صاحب کے لیے چند سطور لکھنے کو ارشاد فرمایا۔ اپنی کوتاہی کا اعتراف کرتا ہوں کہ اس میں بے حد تاخیر ہوئی۔ اب قویٰ مضمحل ، عناصر میں اعتدال کی بجائے انحلال کا غلبہ، علم و فضل کے اس مینار کی علمی فتوحات کے بارے میں کیا لکھتا اور کیسے؟ پر جمیلہ بہن کا استقلال اور پیہم اصرار، پھر حافظ صاحب سے لازوال تعلق کا اجبار۔ یہ کچھ یادیں، کچھ ان کے ساتھ گزری مبارک ساعتوں کی جھلکیاں ہی ڈھنگ سے پیش کر پایا ہوں تو غنیمت ہے۔ ان کے علمی کارناموں کے بارے میں تو ان کی عالمانہ تحریریں اور فاضلانہ مقالات ہی بہترین شاہد عادل ہیں۔ حافظ صاحب کے گرامی قدر دوست اور رفیق وہم کار (افسوس اب وہ بھی مرحوم ہو گئے)، ہمارے دور کے نامور عالم علوم اسلامیہ، ممتاز سیرت نگار اور شعبۂ اسلامیات، جامعہ پنجاب کے محترم مؤقر معلم و استاد ڈاکٹر خالد علوی کی اس شہادت پر ہی اس تحریر کو ختم کرتا ہوں کہ ’’حافظ صاحب مرحوم ہمارے شعبے کے سب سے بڑے عالم اور محقق استاد تھے‘‘۔ شعبہ کے موسّس پرفیسرعلامہ علاء الدین صدیقی جیسے وجیہہ ، جامہ زیب، بارعب ، خوش گفتار، باکردار ، ذہین و فطین ، انگریزی و اردو میں یکساں بلند پایہ فصیح و بلیغ خطیب، موثر منتظم اور وسیع العلم معلم و استاذ کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ ان کے نزدیک بھی حافظ صاحب کا مقام ایک لائق افتخار و اعتزاز شاگرد اور علمی وزن و وقارمیں قاموس الاسلام کا ساتھا۔

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ ائے لئیم

تونے وہ گنجہائے گراں مایہ کیا کیے