ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار
پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

قرآن کریم میں وارد مُعرّب الفاظ

استشراقی نکتہ نگاہ کے تناظر میں

ڈاکٹر حفصہ نسرین

          قرآن کریم اللہ رب العزت کی جانب سے بنی نوع انسان کے لیے آخری اور جامع ترین کتاب ہدایت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اتنا مکمل بناکر اتارا کہ اب تاقیامت رشد و ہدایت اور رضائے الٰہی کے ہر طالب کے لیے یہ کتاب کافی و شافی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے اس کتاب لاریب فیہ کو مھیمن کہہ کر پکارا۔ ارشاد ربانی ہے

{وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَ مُھَیْمِنًا عَلَیْہِ} (۱)

اور ہم نے آپ پر ایک سچی کتاب اتاری جو سابقہ کتابوں کی تصدیق بھی کرتی ہے اور ان کے مضامین پر نگہبان بھی ہے

یعنی یہ کتاب اپنے سے قبل نازل کی جانے والی تمام کتب کی تعلیمات کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اور ان کی محافظ و نگران بھی۔ یہ کتاب قیامت تک کے تمام حالات و واقعات کی پیشین گوئی اور وعید کا کام بھی بخوبی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسی کتاب میں ہمیں انبیائے سابق کے اسمائے گرامی بھی ملتے ہیں ان سے متعلقہ قصص بھی، مختلف اقوام کے سرکش و باغی افراد کے نام بھی اور ان کے قصے بھی اور ہر قصے سے متعلقہ مقامات کے نام بھی۔ اسی طرح قرآن کریم وہی تعلیمات دیتا ہے جو سیدنا آدمؑ سے لے کر سیدنا عیسیٰ ؑ تک ہر نبی و رسول نے دیں۔ اسی لیے اسے مھیمن کہہ کر پکارا گیا۔

رشد و ہدایت کا بہترین منبع ہونے کے ساتھ ساتھ یہ کتاب مبین ان تمام ادبی معیارات کے کمال پر ہے جو جزیرۂ عرب میں معتبر تصور کیے جاتے تھے۔ عرب اپنی زبان پر نازاں تھے اور غیر عربوں کو عجمی یعنی گونگا کہا کرتے تھے۔ ان کے ہاں کسی شخص کا کمال اس کی زبان و بیان میں ہی پوشیدہ تھا۔ فصاحت و بلاغت ہی انسان کے سب سے بڑا وصف گردانا جاتا تھا

(۲) اور یہی وجہ ہے کہ ان کے بلاغت کے اظہار کی تمام اصناف یعنی خطبات، امثلہ، حکیمانہ مقولے، منافرت و مفاخرت وغیرہ تو اہم تھیں ہی لیکن شاعری بہت اہمیت کی حامل تھی۔ اسے عربوں کا دیوان قرار دیا جاتا ہے۔ عرب معاشرے میں شاعر کا مقام بہت بلند تھا۔ حال یہ تھا کہ کسی قبیلے کے کسی شخص کے عمدہ شعر کہنے کی شہرت ہوتی تو دوسرے قبائل کے لوگ آکر اس قبیلے کے سب لوگوں کو مبارک باد دیا کرتے۔ ضیافت کا اہتمام ہوتا اور باقاعدہ تہنیتی تقریب منعقد ہوا کرتی تھی

(۳)۔ زبان و بیان کی اسی اہمیت کے سبب عرب اپنی زبان یعنی عربی زبان کے نکھار اور اس کے ارتقا پر بہت توجہ دیتے تھے

(۴)۔ مکہ مکرمہ ایک اہم تجارتی مرکز ہونے کے ساتھ حج بیت اللہ کے لیے آنے والے زائرین کا مقام اجتماع بھی تھا لہٰذا یہاں عرب کے ہر گوشے سے لوگ جمع ہوا کرتے۔ قریش کا ان سب سے اختلاط ہوتا اور ہر لہجے کے عمدہ الفاظ و تراکیب اہل مکہ اپنے لہجہ میں شامل کرلیتے

(۵)۔ اسی طرح عرب کے بڑے بڑے بازاروں میں دنیا کے کونے کونے سے جمع ہونے والے تاجروں، جن میں چینی، افریقی، ترکی، ایرانی، حبشی، ہندوستانی سب شامل تھے، سے اختلاط کے نتیجے میں بہت سے غیر عربی الفاظ بھی عربی کا حصہ بنے۔ عرب ہر اس لفظ کو جو سننے بولنے میں میٹھا اور عمدہ محسوس ہوتا اور فصاحت کے معیار پر پورا اترتا مُعرّب کرکے اپنی زبان میں شامل کرلیتے۔ یوں قریش کا لہجہ ان قبائلی لہجات اور مُعرّب الفاظ کو سموئے ہوئے وسیع تر اور فصیح تر ہوتا چلا گیا اور اسی لہجہ کو اللغۃ العربیۃ المشترکہ (Common Literary Arabic Language) کا درجہ حاصل ہوا۔ یہ تمام عرب کی مشترکہ ادبی زبان تھی۔ شعراء اسی زبان میں یعنی اسی لہجہ کے مطابق قصائد نظم کیا کرتے تھے۔ خطباء اسی زبان میں نثرپارے مرتب کرتے تھے

(۶) اور پھر اسی مشترکہ ادبی زبان میں قرآن کریم نازل ہوا۔ قرآن کریم ایک طرف عرب کے تمام فصیح لہجات (جن کا تعلق مختلف قبائل سے تھا) کا احاطہ کرتا ہے

(۷)۔ دوسری طرف اس میں بہت سے مُعرّب الفاظ، جو معیاری ادبی زبان کا حصہ بن چکے تھے اور عرب شعراء، فصحا ء و خطباء کے ہاں مستعمل تھے، بھی شامل ہیں۔

)۸)-قرآن کریم کو اسلام کی اساس ہونے کا اہم مقام حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ ابتدائے اسلام سے قرآن کریم کے مختلف پہلوؤں پر بڑے ذوق و شوق سے کام کیا جاتا رہا ہے۔ مفسرین نے اپنی تفاسیر میں جہاں اس چشمہ جاں فزا سے نکلنے والے دیگر فیوض و برکات اور علوم کو خوب نکھار کر پیش کیا وہیں قرآن کریم کی زبان، انداز بیان اور فنی محاسن بھی بطور خاص موضوع بحث و تحقیق رہے۔ قرآن کریم کی زبان کے حوالے سے ہمارے علما کے ہاں ایک اہم نکتہ یہ اٹھایا گیا کہ کیا قرآن کریم میں غیر عربی /مُعرّب الفاظ شامل ہیں یا نہیں؟ علماء کے ہاں اس نکتے پر کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے مطابق قرآن کریم میں مُعرّب الفاظ موجود ہیں، جبکہ بعض اس رائے کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہر دو کے ہاں اپنے اپنے موقف کی توثیق کے لیے آیات قرآنیہ اور اسلاف کی آراء پر مشتمل دلائل بھی پائے جاتے ہیں۔

(۹)

اول الذکر جو قرآن کریم میں مُعّربات کے وقوع پذیر ہونے کے قائل ہیں ان میں ممتاز ترین طبری، ابن ابی شیبہ، امام سیوطی، امام قرطبی، زمخشری، ابو حیان، ابو جعفر النحاس، بغوی، بیضاوی و غیرہم اور لغویین میں جوالیقی، العکبری، خفاجی وغیرہ ہیں۔ ان کی رائے یہ ہے کہ قرآن کریم میں ہر زبان کے الفاظ پائے جاتے ہیں چونکہ یہ آخری کتاب سماوی ہے اور قیامت تک ہر زبان ہر علاقے کے لوگوں کے لیے یہی پیغام الٰہی ہے اس لیے یہ ہر زبان کے کچھ الفاظ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

دوسرے گروہ میں، جو قرآن میں مُعّربات کے وقوع پذیر ہونے کا رد کرتا ہے، امام شافعیؒ، شاطبیؒ، باقلانی، ابن عطیہ، ابو عبیدہ، ابن فارس، مجاہد، عکرمہ، ابو عبیدالقاسم بن سلام، قاضی ابوبکر اور بعض دوسرے علماء شامل ہیں۔ ان کی رائے درج ذیل دلائل کی بنیاد پر قائم ہے:

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ-  (۱۰)

{وَلَوْ جَعَلْنٰہُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْلاَ فُصِّلَتْ اٰیٰتُہٗ ئَ اَعْجَمِیٌّ وَّعَرَبِیٌّ قُلْ ہُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ہُدًی وَّشِفَآئٌ وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ فِیْٓ اٰذَانِہِمْ وَقْرٌ وَّہُوَ عَلَیْہِمْ عَمًی اُوْلٰٓئِکَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ} (۱۱)

ان آیات کے علاوہ اس رائے کے حاملین یہ دلیل دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں غیرعربی الفاظ کے شامل ہونے کا مطلب عربی زبان میں نقص ہے جبکہ عربی زبان بہت زرخیز و وسیع زبان ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس امر کی کوئی حاجت نہ تھی کہ اپنے پیغام کو بندوں تک پہنچانے کے لیے فارسی، نبطی، سریانی و عبرانی کے الفاظ مستعار لیتے۔(۱۲)

ان دونوں آراء میں بظاہر تضاد لگتا ہے لیکن جب اس مسئلہ کی گہرائی میں جاکر دیکھا جائے تو ہمارے سامنے بڑی خوبصورت بات آتی ہے جو اس اختلاف کو بالکل ختم کردیتی ہے اور اس کا احاطہ امام شافعی، ابو عبید، ثعالبی و غیرھم عمدگی سے کرتے ہیں کہ دونوں ہی گروہ اپنے اپنے مقام پر درست رائے کے حامل ہیں جو قرآن میں معرب کے وقوع پذیر ہونے کے قائل ہیں وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں اور جو اسے نہیں مانتے وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں فرق یہ ہے کہ وہ معرب کو معرّب کے نام سے پکارتے ہیں، جبکہ جو اس کے قائل نہیں ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ جو الفاظ عربی زبان میں شامل ہوچکے اس میں رچ بس چکے اور اس کے اوزان و مقاییس کے قالب میں ڈھل چکے وہ عربی ہی کہلائیں گے ان کو معرّب نہیں کہا جائے گا(۱۳)۔ یوں دونوں بظاہر متضاد و متباین آراء میں درحقیقت مطابقت ہی ہے۔

مستشرقین اور مُعرّبات قرآنیہ

قرآن کریم میں پائے جانے والے غیر عربی الفاظ دیگر موضوعات قرآنیہ کی مانند معاندینِ اسلام و قرآن یعنی مستشرقین کا خاص ہدف رہے ہیں۔ قرآن کریم میں پائے جانے والے انبیائے بنی اسرائیل کے اسماء، دیگر شخصیات و متعلقہ مقامات کے نام، اشیاء کے نام، اصطلاحات وغیرہ کو مستشرقین نے حسب عادت و حسب معمول منفی انداز میں استعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی ایک مذموم کوشش کی کہ یہ قرآن کریم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اختراع کردہ مجموعہ ہے جو انہوں نے یہود و نصاریٰ، مجوس، عرب کے مقامی مذاہب اور متداول روایات و قصص وغیرہ کو ملاجلا کر اس میں حک و اضافہ کرکے تیار کردیا۔ ذیل میں اس موضوع پر کام کرنے والے چند ممتاز مشرقی و مغربی غیر مسلم محققین اور ان کے کام کا اجمالی تعارف پیش کیا جارہا ہے۔

(1).مُعّربات قرآن پر قدیم ترین کام نویں صدی عیسوی کے الکندی عبدالمسیح کی کتاب الرسالۃ ہے جس نے بعض معرب الفاظ قرآن مثلاً نمارق، مشکاۃ، ابریق وغیرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں قرآن کے انسانی تصنیف ہونے کی شہادت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے بعد قرآن کریم کے مغربی تراجم میں بھی قرآن کے یہودی و نصرانی مآخذ کی نشاندہی کی گئی۔ ان کے بعد اس موضوع پر درج ذیل مستقل کتب مرتّب کی گئیں:

      ہے  David Mill کی کتاب Inauguralis de Mohammeden simo Veterum Hebraeorum Scripts Magna ex Parta Compositionمطبوعہ ۱۷۱۸ء میں

۲-       Geiger Abraham: Was hat Muhammad aus dem Judenthum aufgenommen

۳-       J. Gastfreund :  Mohammad nach Talmud Und Midrash

۴-       Seigmund Fraenkel : پی ایچ ڈی کا مقالہ De Vocabulis in antiquis ArabusJudiscse Element in Koran Carminibus in Corano Perigrin   (جو بعد ازاں کتابی شکل میں شائع ہوا)

۵-       St. Clair Tisdall :  The Sources of Islam

۶-       Theodore Noldeke :  The Koran

۷-       Alphonse Mingana :  Syriac Influences on the Style of Quran

۸-       D.S. Margoliouth ،  Mohammadanism اور Encyclopedia of Religion and Ethics میں مقالہ ’’قرآن‘‘

۹-       Berenat Heller :  The Jewish Elements in the Religious Terms of the Qur'an

۱۰-       Richard Bell:  The Origins of Islam in its Christian Environment

۱۱-       C.C. Torrey  :   The Jewish Sources of the Qur'an

۱۲-       S.M. Zwemmer :  Arabia the Cradle of Islam

۱۳-      C.G. Pfander :  میزان الحق

۱۴-      William Goldsack:    The Origins of the Qur'an

۱۵-      M. Watt کا ترجمہ قرآن

 ان کے علاوہ بھی سیرت پر لکھی گئی کئی کتب میں لغت قرآن کو موضوع بتاتے ہوئے قرآن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف قرار دیا گیا۔ تاہم اس میدان میں سبقت لے جانے والا شخص آرتھر جیفری م ۱۹۵۲ء ہے(۱۴)۔ جیفری نے اس موضوع پر ایک کتاب بنام The Foreign Vocabulary of the Qur'an مرتب کی، کتاب میں ۴۰ صفحات پر مشتمل مقدمہ ہے جس میں طرح طرح کے دلائل کی مدد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہود و نصاریٰ سے مواد حاصل کرکے اس کتاب کو مرتب کیا۔ اس کے بعد قرآن کریم کے ۲۷۵ الفاظ بہ ترتیب حروف تہجی پیش کیے جو اس کے خیال میں معرب ہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ یہودیت، نصرانیت، مجوسیت اور عرب کی مقامی روایات سے مستعار لے کر شامل قرآن کیے۔ بعض الفاظ اس کے دعویٰ کے مطابق آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی ایجاد کیے… جیفری کو مغرب میں قرآنیات پر مستند ہستی اور امام و پیشوا تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی کتب (۱۵) تمام مستشرقین کے لیے مصدر کی حیثیت رکھتی ہیں لہٰذا قرآن کریم پر تمام معاصر مغربی تحقیقات کی اساس و بنیاد جیفری کے کام پر ہی رکھی جاتی ہے۔ خاص طور پر لغت قرآن میں جیفری کی Foreign Vocabulary کو اہل مغرب سند کا درجہ دیتے ہیں۔ جیفری نے اپنی اس کتاب میں اپنے تمام پیش رو مغربی محققین کی تحقیقات سے استفادہ کیا اور ان کو بھی شامل کتاب کیا۔ اس کے مندرجات و آراء بھی فطری طور پر وہی ہیں جو اس کے پیش رو حضرات کی۔ سو سب مغربی محققین کے مُعّربات پر کام کا تنقیدی جائزہ الگ الگ لینے کے بجائے ان سب کے مجموعے یعنی جیفری کی کتاب Foreign Vocabulary کا ایک تنقیدی جائزہ قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

جیفری کے تحریر کردہ مقدمۂ کتاب کے اہم نکات اور ان کا تجزیہ :

۱۔        جیفری کا دعویٰ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی تفسیر مروی نہیں ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ مسلم مفسرین قرآن کے کئی الفاظ کے معنوں سے ناواقف تھے اور انہوں نے ایک ہی لفظ کے کئی کئی متضاد معنی تفاسیر میں شامل کیے۔ اس دعویٰ کی مثال اس نے ’’صابی‘‘ کے لفظ سے دی، جس کے معنی مفسرین نے مختلف و متنوع لکھے ہیں اور پھر اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ اصل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے معاصرین صابی کہہ کر پکارا کرتے تھے۔(۱۶)

حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے متن کے ساتھ اس کی تشریح و توضیح بھی فرمائی اور حکم دیا کہ بلغوّا عنی ولوآیۃ (۱۶ا)۔ اس میں آیت سے مراد محض متن نہیں بلکہ ہر چیز تھی جو صحابہ نے آپ سے سیکھی۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ۱۲ سال میں سورہ بقرہ سیکھی۔ ظاہر ہے انہوں نے محض متن یاد کرنے پر ۱۲ سال نہیں لگائے بلکہ اس کے احکام، مسائل، تفسیر سب ہی کچھ سیکھنا اس میں شامل تھا پھر یہ دعویٰ کس بنیاد پر کیا جاسکتا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عثمانؓ بن عفان اور دیگر کبار صحابہ دس دس آیات پڑھتے اور یاد کرتے اور اس وقت تک اگلی آیات نہ پڑھتے تھے جب تک کہ ان آیات میں موجود تمام احکام و تفاصیل سے اچھی طرح واقف نہ ہوجاتے(۱۷)۔ جہاں تک لفظ صابی کے مفہوم کا تعلق ہے تو تقریباً تمام مفسرین و لغویین نے اس کے جو جو معنی بیان کیے ہیں ان کا خلاصہ امام رازی کی بیان کردہ تشریح میں بہت عمدگی سے سمٹ آیا ہے وہ لکھتے ہیں: ’’صابی سے مراد ایسا شخص ہے جو اللہ کی وحدانیت پر پورا یقین رکھتا ہو مگر اپنے مذہب سے الگ ہوکر ایک خالص اور بہتر مذہب و عقیدے کی تلاش میں ہو۔ اسی لیے اہل مکہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی صابی کہا‘‘(۱۸)۔ لغات و تفاسیر کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ مفسرین یا لغویین کے ہاں صابی کے معنوں میں کوئی ابہام نہیں تھا لہٰذا جیفری کے اس دعویٰ میں کوئی سچائی نہیں ہے۔

۲۔       جیفری کے مطابق قرآن کریم کی زیادہ تر تفسیری روایات حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہیں اور انہوں نے کعبؓ الاحبار سے روایت کی ہیں گویا ہمارے سارے تفسیری ورثہ کی عمارت کعب الاحبار سے آنے والی یہودی و نصرانی روایات پر کھڑی ہے(۱۹)۔

اس دعویٰ کی حقانیت جاننے کے لیے کعب الاحبار کا تعارف جان لینا بہت ضروری ہے۔ حضرت کعب الاحبار کا نام کعب بن متیع تھا۔ اور کعب الاحبار یا کعب الحبر کے نام سے معروف تھے ان کا تعلق یہود یمن سے تھا اور وہ یہودی علما میں ممتاز مقام کے حامل تھے۔ یہ بات لازماً محل نظر رہنی چاہیے کہ انہوں نے عہد رسالت میں اسلام قبول نہیں کیا بلکہ ۱۲ھ میں سیدنا عمرؓ کے زمانہ خلافت میں اسلام قبول کیا(۲۰)۔ علامہ زاہد الکوثری نے حضرت عمرؓ کے مسجد اقصیٰ کی تعمیر کے حوالے سے واقعات نقل کرتے ہوئے سیدنا عمرؓ اور کعب الاحبار کے مابین اختلاف رائے اور حضرت عمرؓ کی ناپسندیدگی کے اظہار کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھا کہ حضرت عمرؓ، حضرت ابوذرؓ، عوفؓ بن مالک اور دیگر صحابہؓ کعب پر بالکل اعتبار نہیں کرتے تھے(۲۱)۔ جہاں تک حضرت کعب سے آنے والی روایات کا تعلق ہے تو وہ اسرائیلیات کے زمرے میں آتی ہیں جن کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے لیے علمانے کڑی شرائط عائد کررکھی ہیں(۲۲)۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تفاسیر میں اسرائیلیات شامل ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ علمائے اسلام نے ان کو مستند و معتبر قرار دیا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بہت بلند مرتبہ عالم تصور کیے جاتے ہیں ان کو  ترجمان القرآن اور حبرالامۃ کے القاب سے بھی پکارا جاتا ہے۔ قرآنی علوم کے علاوہ وہ عربی زبان و ادب کے بھی ماہر تھے۔ ان کی جانب کثیر تعداد میں تفسیری روایات اور مرویات حدیث منسوب ہیں تاہم ان کے وسیع علم اور مقام و مرتبہ کے باوجود علما کی ایک معقول تعداد ان سے منسوب روایات پر تحفظات و تشکیک کی رائے رکھتی ہے حتیٰ کہ امام شافعیؒ  فرماتے ہیں :

لم یثبت عن ابن عباس فی التفسیر الاشبہ بمائۃ حدیث(۲۳)

ڈاکٹر عبداللہ النمر اس حوالے سے لکھتے ہیں :

 عباسی دور میں بہت سی روایات حضرت عبداللہ بن عباس اور ان کے والد سیدنا عباسؓ کی جانب منسوب کردی گئیں حضرت ابن عباس کے بلند مقام و مرتبہ اور علمی قد کے سبب لوگ اپنا نام ان کے ساتھ منسوب کرنے کو بہت پسند کرتے تھے اسی لیے لوگوں نے اپنی من پسند تأویلات کو مرویات ابن عباس کے ساتھ خلط ملط کردیا(۲۴)۔

 اس کی ایک وجہ اور بھی تھی کہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وعید من کذب علی متعمدًا فلیتبوأ مقعدہ من النار(۲۵) سے خوب واقف تھے سو انہوں نے اپنی من پسند آراء کو سیدنا ابن عباس کی جانب منسوب کرکے بیان کرنا شروع کردیا۔ اسی لیے کہ ہمیں ان کے نام سے ایسی روایات کثیر تعداد میں ملتی ہیں جن میں باہم تناقص و تضاد پایا جاتا ہے اور اسی لیے علماء نے حضرت ابن عباس کی جانب منسوب روایات کو قبول کرنے کے لیے چند شرائط عائد کررکھی ہیں اور ان سے مروی ہر ایک تفسیری روایت کو درست تصور نہیں کیا جاتا، جہاں تک کتب تفسیر میں ان کی جانب مروی روایات کا تعلق ہے ان کو ہمارے مفسرین نے بلاتحقیق اسناد اپنی اپنی کتب تفسیر میں شامل کرلیا لہٰذا ان غیر معتبر روایات کا بارسیدنا ابن عباسؓ پر تو نہیں ہے اور اس قسم کی روایات کو ان کی جانب منسوب کرنا سخت زیادتی و ناانصافی ہے۔ لہٰذا جیفری کا یہ دعویٰ کہ تمام تفسیری روایات حضرت کعب الاحبار کی جانب سے آنے کے سبب معتبر ہیں، بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔

۳۔      جیفری اور اس کے ہمنوا مستشرقین کا دعویٰ ہے کہ قرآن کریم میں قرآن کو قرآناً عربیاً اور عربیٌّ مبین کہہ کر پکارا گیا۔ جب اس میں غیر عربی لفظ شامل ہیں تو اسے عربی مبین کیسے کہا جاسکتا ہے۔(۲۶)

جیفری نے اس دعویٰ کے دلائل میں درج ذیل آیات پیش کی ہیں:

{اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ} (۲۷)

{وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ} (۲۸)

{لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیٌّ وَّ ھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ } (۲۹)

{بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ } (۳۰)

جیفری نے لسان عربی مبین کا ترجمہ خالص عربی زبان کیا ہے لہٰذا اسے مذکورہ آیات کی روشنی میں قرآن کریم میں مُعربات کا وجود ہضم نہیں ہورہا۔ اگر عربی لغات کی روشنی میں ان الفاظ کے معنی پر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ عربی مبین سے مراد صاف و واضح عربی کے ہیں خالص عربی کے نہیں۔(۳۱)

جیفری کے اس سوال کا جواب سیوطی اور کئی دیگر علما بہت پہلے دے چکے ہیں کہ قرآن میں چند غیر عربی الفاظ کا وجود اس کی عربیت کو متأثر نہیں کرتا جس طرح کسی فارسی قصیدے میں کسی دوسری زبان کے لفظوں کا ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ قصیدہ اب فارسی نہیں رہا۔(۳۲)

۴۔       جیفری نے آٹھ (۸)  زبانوں کا تذکرہ کیا جن سے (اس کے مطابق) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے استفادہ کیا تھا۔ ان زبانوں میں فارسی، عبرانی، سریانی، حبشی، ہندوستانی، یونانی، ترکی، افریقی (نیگرو، بربر، زنج)، نبطی اور قبطی زبانیں شامل ہیں۔ جیفری نے ان زبانوں کا تعارف کروانے کے بعد بالترتیب اس امر کا جائزہ لیا ہے کہ کس زبان سے نبی کریم نے کس کس طرح ان الفاظ کو قرآن میں شامل کیا اور مفسرین نے جن الفاظ کو مُعرّب قرار دیا ان کے پاس اس کے کیا دلائل تھے: مثلاً

(الف)  فارسی زبان کے متعلق اس نے لکھا ہے کہ مفسرین نے باربار’’ فارسی زبان‘‘ کے الفاظ استعمال کیے جب کہ ایران کی زبان تو پہلوی تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے محض تکے سے کچھ الفاظ کو فارسی قرار دے دیا(۳۳)۔

(ب)   حبشی زبان کا تذکرہ کرتے ہوئے جیفری نے یہ الزام لگا دیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں موجود حبشی غلاموں سے مذہبی اصطلاحات ماخوذ کیں اور ان کو قرآن میں شامل کیا۔ اس کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حبشی زبان پر مہارت رکھتے تھے۔ دعویٰ کی توثیق کے لیے اس نے خفاجی کا حوالہ دیا(۳۴)۔

 (ج)   عبرانی زبان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ یہود کا ایک بیت مدراس تھا جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی گئے تھے تاہم یہ یقینی نہیں ہے کہ انہوں نے وہاں کیا پڑھا تھا یا یہود وہاں کیا پڑھتے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بیت مدراس جانے پر دلالت کے لیے اس نے سیرۃ ابن ہشام کا حوالہ دیا۔ نیز اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے کچھ معلومات خریدنے کی کوشش بھی کی۔

 (د)  سریانی زبان پر بات کرتے ہوئے اس نے بحیراء اور نسطورا نامی راہبوں کے حوالے سے کہا کہ ابتدا ہی سے عرب کے لوگ جانتے تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عیسائی راہبوں سے تعلقات ہیں۔ نیز وہ قِس بن ساعدہ الایادی نامی عیسائی پادری اور معروف عرب خطیب کے خطبے بھی سنا کرتے اور انہوں نے قِس سے کافی کچھ سیکھا۔

(ہ)  اسی قسم کا دعویٰ اس نے قطبی زبان کے حوالے سے کیا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ماریہؓ قبطیہ سے بہت سی عیسائی مصطلحات لے کر شاملِ قرآن کیں لیکن قرآن میں ان کا ثبوت نہیں چھوڑا(۳۵)۔

(ق)  ہندوستانی، یونانی اور افریقی زبانوں کے حوالے سے جیفری نے دعویٰ کیا کہ عربوں کی افریقیوں اور ہندوؤں سے یا ان کے ممالک سے کوئی جان پہچان نہ تھی۔ دراصل مسلم مفسرین کو جن الفاظ کے معنی معلوم نہیں تھے انہوں نے ان الفاظ کے متعلق اپنی لاعلمی کو پوشیدہ رکھنے کے لیے ہندو، افریقہ (زنجی، بربر) کے نام ان الفاظ پر چسپاں کردئیے اور کہا کہ یہ لفظ فلاں فلاں زبان کے ہیں۔(۳۶)

ذیل میں جیفری کے ان اعتراضات کا بالترتیب جائزہ لیا جارہا ہے۔ اختصار کے پیشِ نظر اعتراضات کا اعادہ نہیں کیا جارہا محض جوابات پر اکتفا کیا جارہا ہے:

(الف)   مفسرین نے قرآن کریم کے متعدد الفاظ کو فارسی الاصل قرار دیا۔ انہوں نے اس زبان کو پہلوی کے نام سے اس لیے موسوم نہیں کیا کہ اہل عرب ایران کو فارس کے نام سے پکارتے تھے اور اسی نسبت سے ایران میں رائج زبان کو اللغۃ الفارسیہ کہا جاتا تھا اور یہی الفاظ مفسرین نے استعمال کیے۔ ایرانی عربوں کے قریب ترین پڑوسی تھے اور ان کو بہت اچھی طرح فارسی زبان اور ایران میں رائج تمام زبانوں کا علم تھا۔ لہٰذا مفسرین نے تُکے سے نہیں بلکہ اپنے علم اور موجود مصادر کی روشنی میں کام کیا۔

(ب)     اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے، جیفری کے دعویٰ کے مطابق، حبشی الاصل لوگوں سے کوئی مذہبی اصطلاحات اقتراض لی تھیں تو وہ کون سی تھیں یہ جیفری کو اور اس کے ہم خیال دیگر لوگوں کو ہی واضح کرنا چاہیے تھا۔ جیفری کے پاس اس دعویٰ کی توثیق کے لیے کوئی ایک بھی مثال نہیں ہے۔ نہ ہی وہ کسی ٹھوس اور معتبر مآخذ سے اس کی کوئی دلیل پیش کرسکا۔ جہاں تک خفاجی کا تعلق ہے انہوں نے اپنی کتاب شِفائٔ الغلیل میں کہیں بھی ایسا کوئی بیان نہیں دیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حبشی زبان بولنے میں بہت ماہر تھے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ حبشی زبان کے بعض الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بولتے تھے لیکن صرف وہ الفاظ جو عرب میں معروف تھے اور عام بول چال میں مستعمل تھے۔ جیفری لکھتا ہے کہ خفاجی نے لفظ ’’سنہ‘‘ پر بحث کرتے ہوئے نبی اکرم کی حبشی میں مہارت کا تذکرہ کیا جب کہ حقیقت حال اس کے برعکس ہے۔ خفاجی نے اس لفظ کے ذیل میں صرف یہ لکھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ لفظ بولتے تھے(۳۷)۔ یہ واضح ہے کہ جیفری نے تحقیق کے اصولوں کے خلاف جاتے ہوئے ایک مصدر کو غلط انداز میں پیش کیا۔

 (ج)   جیفری نے جس بیت مدراس کا ذکر کیا ہے اس میں کیا پڑھا جاتا تھا، کیا سرگرمیاں تھیں، عبرانی زبان میں تالمود پڑھی جاتی تھی یا نہیں؟ جیفری ان سب باتوں سے لاعلمی کا واشگاف الفاظ میں اظہار کرتا ہے اس کے بعد سیرۃ ابن ہشام کے حوالے سے یہ بیان دیتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اس بیت مدراس میں گئے تھے۔ جب ہم اس بیان کی سچائی اور حوالہ تلاش کرنے کے لیے    سیرۃ ابن ہشام کو دیکھتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ابن ہشام نے پوری کتاب میں ایسی کوئی روایت نقل نہیں کی(۳۸)۔ جہاں تک اس کے اگلے الزام کا تعلق ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے معلومات خریدنے کی کوشش کی، اس کی بھی کوئی دلیل وہ پیش نہیں کرسکا۔ الزام لگانے والا خود ہی دلیل نہیں دے پایا تو اس میں کس حد تک سچائی ہے! بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

(د)      حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیرا یا نسطورا سے کون سی معلومات اخذ کی ہیں جیفری یا اس کے ہم خیال دیگر مستشرقین میں سے کوئی بھی اس کی کوئی مثال یا ثبوت پیش نہیں کرسکے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی جانب دو بار سفر کیا پہلا سفر تیرہ (۱۳) سال کی عمر میں اور دوسرا پچیس (۲۵) سال کی عمر میں جبکہ نبوت کا اعلان چالیس (۴۰) سال کی عمر میں کیا۔ اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائی عمر میں ہی بحیرا سے معلومات اخذ کرلی تھیں تو انہوں نے اس کا اعلان کرنے میں اتنا وقت کیوں لگایا؟ پہلی بار جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب ساتھ تھے۔ اس وقت ان کی ملاقات Sergius  یا  بحیرا نامی راہب سے ہوئی یہ ملاقات بہت مختصر تھی۔ اس کا دورانیہ محض اتنا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے نے پڑاؤ ڈالا جتنی دیر قافلے نے آرام کیا اتنی دیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بحیرا سے ملے اور چند منٹ تک اس سے بات چیت کی۔ کیا ایک تیرہ (۱۳) سالہ بچہ چند منٹ میں ایک نئے مذہب کے تمام اصول و قواعد، عقائد اور تمام اساسیات سیکھ سکتا ہے؟ ایک اور سوال یہ ہے کہ بحیرا نے اپنی تمام معلومات عرب سے آئے ہوئے ایک اجنبی بچے ہی کو دینے کا فیصلہ کیوں کیا؟ پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت سے سیکھی ہوئی معلومات کی بنا پر اپنے نبی ہونے کا اعلان ۲۷ سال بعد ہی کیوں کیا؟ محمد عبداللہ دراز اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

سریانی راہب کو جس کردار میں پیش کیا گیا ہے وہ محض اس کہانی کے مصنف کی ذہنی اختراع ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔(۳۹)

جیفری کے دعویٰ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے نجران کے پادری قِس بن ساعدہ الایادی کے خطبات سنے اور ان سے بھی مواد اکٹھا کیا جس کی مدد سے قرآن مرتب کیا۔ اس بیان کی تردید معتبر مصادر سے بخوبی ہوجاتی ہے۔ کتب سیرت میں ایک واقعہ ملتا ہے کہ عبدالقیس کا وفد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفد میں شامل لوگوں سے قِس کے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قِس کی وفات ہوچکی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قِس کے لیے دعا کی اور فرمایاکہ میں نے عکاظ میں اس کا ایک بیان سنا تھا اس نے کہا:  ایہا الناس... پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس کے الفاظ بھول گیا ہوں اگر کسی کو یاد ہو تو مجھے بتائے‘‘ حضرت ابوبکر صدیقؓ کھڑے ہوگئے اور قِس کا بیان سنا دیا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سننے کے بعد قِس کے لیے دعا کی(۴۰)۔ مذکورہ واقعہ کے علاوہ یعنی عکاظ کے بازار میں اس موقعہ پر قِس سے خطبہ سننے کے علاوہ کسی بھی کتاب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قِس سے کسی بھی ملاقات کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ سو یہ سوال تشنۂ جواب ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کس وقت قِس سے معلومات اخذ کیں جو انہوں نے قرآن میں شامل کیں {نعوذ باللہ من ذلک}۔ اس سوال کا جواب کسی بھی مستشرق نے نہیں دیا جو اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قِس سے کچھ بھی نہیں سیکھا۔

(ہ)   جیفری نے اپنے دعویٰ کی خود ہی نفی کردی ہے۔ وہ خود تسلیم کررہا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن میں قبطی زبان سے اخذ و استفادہ کے کوئی ثبوت نہیں چھوڑے۔ جب اس کے پاس ثبوت نہیں ہے تو وہ یہ دعویٰ کس بنیاد پر کررہا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ماریہؓ قبطیہ سے کچھ لفظ حاصل کرکے قرآن میں شامل کیے تھے۔

(ق)  ہندی، یونانی، افریقی، ترکی زبانوں سے اہل عرب قدیم زمانے سے واقف تھے ذیل میں نہایت اختصار سے اس کے چند دلائل پیش کیے جارہے ہیں:

 (i)  جزیرہ عرب و ہندوستان پڑوسی ہیں ان کے درمیان ایک سمندر حائل ہے۔ دونوں ممالک کے تجارتی روابط سیدنا مسیحؑ کی تشریف آوری سے پہلے سے ہیں(۴۱)۔ جزیرہ عرب میں قبل از اسلام ہندو آبادیوں کے وجود کی روایات ملتی ہیں(۴۲)۔ اسلامی ادب میں بھی ہندوؤں کا تذکرہ ملتا ہے مثلاً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے بعد انبیا علیھم السلام کا تذکرہ فرماتے ہوئے حضرت موسیٰؑ کا حلیہ مبارک یوں بیان کیا… اُنہ جسیم کأنہ رجال زُط(۴۳)… زُط کا لفظ دراصل ایک ہندی لفظ جاٹ سے مُعرّب ہے۔ جاٹ ہندوستان کی ایک ذات کا نام ہے اور اس ذات کے لوگوں یعنی جاٹوں کی آبادیاں بھی عرب میں موجود تھیں(۴۴)۔ عرب میں ظفار، صحار، شہر، ایلہ کے مقامات ہندوستانی مال کی بڑی منڈیوں کے طور پر معروف تھے(۴۵)۔ سو جیفری کا یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے۔

(ii)      یونانیوں اور عربوں کے تعلقات کی معلوم تاریخ کے واضح ثبوت یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس کی کتاب دنیا کی قدیم ترین تاریخ میں ملتے ہیں۔ اس نے جزیرہ عرب کے سفر اور وہاں پیدا ہونے والے پودوں مثلاً لوبان، مُر وغیرہ کا ذکر بھی کیا اور ان کے خصائص بھی بیان کیے(۴۶)۔ ان دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات بھی تھے۔ پھر روم کے ساتھ عربوں کے پڑوسی ہونے کے ناطے بھی تعلقات تھے، اور تجارتی روابط بھی۔ اس لیے رومی اور یونانی زبانوں کے مابین پائے جانے والے فرق سے وہ اچھی طرح واقف تھے(۴۷)۔ البتہ مستشرقین خود اس فرق سے واقف نہ تھے اسی لیے بہت سے مستشرقین نے سورہ الروم کا ترجمہ کرتے ہوئے اسے The Greeks  کا نام دیا۔(۴۸)

(iii)     افریقی زبانوں کے حوالے سے جیفری لکھتا ہے کہ مسلمان مفسرین نے قرآن کریم کے بعض الفاظ کے متعلق اپنی لاعلمی چھپانے کے لیے ان پر اللغۃ الغرب یا بلغۃ اہل المغرب کا عنوان چسپاں کردیا(۴۹)۔ حقیقت ہے کہ برّاعظم افریقہ کو جزیرۂ عرب میں مغرب کہا جاتا تھا۔ افریقہ کی زبانیں جن کی کل تعداد نو سو  (۹۰۰) سے زائد ہے، لغات المغرب ہی کہلاتی ہیں۔ افریقیوں سے عربوں کے قدیم تجارتی روابط تھے(۵۰)۔ یہ روایات بھی ملتی ہیں کہ یَعْرب بن قحطان کے زمانے میں کچھ عرب قبائل ہجرت کرکے افریقہ جا آباد ہوئے۔ وہاں انہوں نے جن علاقوں میں اپنی بستیاں بسائیں وہ موجودہ دور کے لیبیا، سوڈان، تونس وغیرہ کے علاقے ہیں(۵۱)۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جیفری کے مصادر میں سے ایک Ignaz Goldziher عربی زبان کی شاخوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ عربی زبان اب پانچ شاخوں میں منقسم ہے: ۱۔ جزیرہ عرب میں مستعمل عربی زبان، ۲۔ مصری عربی، ۳۔ عراقی عربی، ۴: شامی عربی، ۵:مغربی عربی، مغربی عربی کے ساتھ گولڈ زیہر نے قوسین میں (African) لکھا(۵۲)۔ سو یہ واضح ہے کہ خود مستشرقین کو بھی مغربی کا مفہوم اچھی طرح معلوم ہے ۔ لہٰذا جیفری اور اس کے ہم خیال لوگوں کا الزام کہ مفسرین افریقی زبانوں سے ناآشنا تھے، بالکل غلط ہے۔

(iv)     ترکوں سے عربوں کے قدیم روابط کی بھی بہت سی شہادتیں ملتی ہیں۔ مثلاً طبری، جو جیفری کے پسندیدہ ترین مفسر ہیں، لکھتے ہیں کہ یاسر بن نعم نامی تبع یمن نے ازد، لخم، جزام اور قضاعہ کی مدد سے وسطی ایشیا کے ترکوں پر حملہ کرکے یہ علاقہ فتح کیا اور بہت سے ترکوں کو غلام بناکر ساتھ لے آیا(۵۳)۔ اسی طرح بہت سے ترکی الاصل قبائل وسطی ایشیا پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں غلام بن کر ایران پہنچ گئے اور وہیں آباد ہوئے۔ ایران سے عربوں کے بہت قریبی تعلقات تھے سو ان کا ترکوں اور ترکی زبان سے واقف ہونا کوئی عجیب یا محال بات نہیں۔ اس لیے استشراقیوں کا یہ دعویٰ بھی بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔

(v)      زبانوں کے تذکرے کے بعد جیفری لکھتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہود و نصاریٰ سے معلومات اخذ کرنا شک و شبہ سے بالکل بالاتر ہے انہوں نے ان دونوں ذرائع سے بہت سی اصطلاحات اخذ کیں۔ وہ یہود و نصاریٰ سے مسحورکن اور پر اسرار الفاظ لے کر بیان کرنے کے بھی شائق تھے اور اپنے سامعین کو گومگو میں مبتلا کرکے بڑی خوشی محسوس کرتے تھے۔ اسی لیے بسااوقات ایسے الفاظ بھی بول دیا کرتے تھے جن کے معنی پر خود ان کو گرفت نہ ہوتی تھی مثلاً: سکینہ، فرقان۔ اسی طرح بعض اوقات وہ اپنی طرف سے بھی الفاظ ایجاد کیا کرتے تھے  مثلاً سلسبیل، غسّاق، تسنیم سو ان الفاظ کے معنی جو تفاسیر میں ملتے ہیں وہ محض مفسرین کا Guess work" "ہے۔(۵۴)

جیفری نے یہ دعویٰ تو کیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود و نصاریٰ سے تکنیکی اصطلاحات اخذ کیں لیکن اس کے لیے وہ کوئی دلیل نہیں لایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا ایک ایک لمحہ کتب تاریخ، سیرت و کتب حدیث میں محفوظ و مأمون ہے۔ ہمیں کہیں بھی ایسی کوئی روایت نہیں ملتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود و نصاریٰ سے کچھ سیکھنے کی کوشش کی ہو۔ اگر ایسا ہوا تھا تو جیفری کو بطور مثال وہ اصطلاحات پیش کرنی چاہیے تھیں۔ جیفری نے قرآن کے جن جن الفاظ کو اپنی دانست میں یہود و نصاریٰ سے ماخوذ قرار دیا ہے وہ سب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہی عربوں کے ہاں مستعمل تھے اور وہ قدیم عربی شاعری میں بھی ملتے ہیں(۵۵)۔ شاعری میں ان کا پایا جانا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ   اللغۃ العربیۃ المشترکہ کا حصہ بن چکے تھے۔

جیفری کا یہ دعویٰ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہود و نصاریٰ سے ماخوذ ایسے الفاظ استعمال کرتے تھے جن کے معنی وہ خود بھی نہیں جانتے تھے بالکل غلط ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے نہ صرف الفاظ بلکہ اس کے معنی و مفاہیم بھی خوب وضاحت سے لوگوں تک پہنچا دیے تھے۔ جہاں تک جیفری کی پیش کردہ مثالوں کا تعلق ہے یعنی سکینہ اور فرقان تو یہ جن جن آیات میں آتے ہیں وہاں معنی کی تعیین میں نہ تو صحابہ کرامؓ کو کوئی اختلاف یا تذبذب تھا نہ ہی مفسرین و لغویین کو ہے۔

جیفری کے مطابق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نئے الفاظ ایجاد کرتے تھے تاکہ اپنے سامعین کو متأثر کرسکیں۔ اس دعویٰ کی جیفری کے پاس کوئی کمزور و ضعیف سی دلیل بھی نہیں ہے۔ اس نے مثال کے طور پر غسّاق، سلسبیل اور تسنیم کے الفاظ کے حوالے دیے۔ یہ لفظ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایجاد نہیں کیے کیونکہ ہمیں کسی صحابی کے حوالے سے یہ روایت نہیں ملتی کہ وہ ان الفاظ کے معنی سے ناآشنا ہوں۔ پھر غسّاق کے حوالے سے جیفری خود دوہری آراء پیش کرتا ہے ایک طرف تو وہ کہتا ہے کہ یہ لفظ خالصتاً عربی زبان کا ہے اور غسق سے مشتق ہے دوسری طرف وہ اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایجاد قرار دیتا ہے۔ واضح ہورہا ہے کہ کون تذبذب میں ہے جیفری یا مسلم مفسرین و علما(۵۶) اور یہ بھی خوب واضح ہوتا ہے کہ  Guess work کس نے کیا۔ جیفری نے یا مسلم مفسرین نے۔

مقدمے کے مندرجات کو سمیٹے ہوئے جیفری اپنا خلاصہ کلام اسی طرح پیش کرتا ہے کہ قرآن کریم میں موجود غیر عربی/ دخیل الفاظ تین اقسام کے ہیں:

(i)      وہ الفاظ جو کلّی طور پر غیر عربی الاصل ہیں مثلاً نمارق، فردوس، زنجبیل استبرق وغیرہ۔ اس قبیل کے الفاظ کو کسی بھی طرح عربی کے کسی مادے سے مشتق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ الفاظ کسی غیر عربی ذریعے سے ہی حاصل کردہ ہیں۔

(ii)      وہ الفاظ جو سامی الاصل ہیں اور جن کے مادے اور مشتقات بھی عربی زبان میں ملتے ہیں لیکن قرآن کریم میں وہ جس مفہوم کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوئے ہیں عربی زبان میں وہ لفظ اس مفہوم میں مستعمل نہیں بلکہ وہ قرآنی مفہوم دراصل دوسری سامی زبانوں [سریانی، عبرانی] سے ماخوذ ہے مثلاً فاطر، صوامع، درس، بارک اس قسم کے الفاظ کو دوسری زبانوں/مذاہب سے اخذ کرنے کے بعد ان کو اس طرح عمل اشتقاق سے گزارا گیا کہ وہ غیرعربی محسوس نہ ہوں اور یہ پتہ نہ چلے کہ وہ معرّب و دخیل ہیں۔

(iii)     وہ الفاظ جو کُلّی طور پر عربی الاصل ہیں اور عربی میں مستعمل بھی ہیں لیکن قرآن میں ان کا استعمال ان کے عربی کے لسانی گروہ کی دوسری زبانوں کے مطابق ہے مثلاً لفظ نور، جس کے معنی روشنی کے ہیں، یہ ایک معروف عربی لفظ ہے لیکن قرآن میں اسے مذہب کے معنوں میں استعمال کیا یعنی  {وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْن}َ (الصف: ۶۱، آیت ۸)

اسی طرح  نفس، روح، أمُ، کلمہ، علم وغیرہ کی مثالیں ہیں۔ یہ سب الفاظ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیت و عیسائیت میں مستعمل مفہوم میں انہی سے مستعارلے کر پیش کیے۔

جہاں تک جیفری کے ان اعتراضات کا تعلق ہے تو:

۱۔        پہلے قبیل کے لفظ یعنی زنجبیل، استبرق، نمارق، فردوس وغیرہ کو تمام مفسرین مُعّرب الفاظ قرار دیتے ہیں اخذ و قبول کا یہ عمل دنیا کی ہر زندہ زبان میں ہوتا ہے اسی طرح عربی میں بھی ہوا اور عربوں کے ہاں مستعمل مُعرّب الفاظ قرآن پاک میں بھی آئے۔

۲۔       دوسرے قبیل کے الفاظ جو خالصتاً عربی ہیں مگر قرآن کریم میں کسی اور مفہوم میں استعمال ہوئے اس حوالے سے ایک لفظ کی مثال پیش کی جارہی ہے۔ جیفری نے ان الفاظ میں فاطر کو بھی مثال کیا ہے۔ فاطر عربی کے مادہ ف ط ر سے مشتق ہے جس کے معنی تخلیق کرنے، وجود میں لانے، بنانے، کسی چیز کی اولین ابتداء کرنے، یا کسی چیز کے وجود پذیر ہونے کا سبب بننے کے ہیں(۵۷)۔ قرآن کریم میں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے چھ (۶) مقامات پر استعمال ہوا یعنی {فاطر السمٰوت والارض… } حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ:  میں فاطر کے معنوں سے پوری طرح آگاہ نہ ہوا تھا تا آنکہ میں نے دو عربوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جو ایک کنویں کی ملکیت پر لڑرہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کنویں کے متعلق کہا انا فطر تہا یعنی اسے میں نے نکالا(شروع کیا) تھا(۵۸)  انہی معنوں میں یہ لفظ قرآن میں بھی مستعمل ہے۔ سو قرآن کریم میں وارد لفظ فاطر اور عام محاورہ کی عربی زبان میں مستعمل  فاطر کے معنوں میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا نہ ہی کوئی تضاد نظر آتا ہے۔ اسی طرح کا معاملہ دوسرے الفاظ یعنی بارک، درس، صوامع وغیرہ کا ہے۔ اگرفطر، عبرانی، سریانی، حبشی، آرامی وغیرہ میں بھی ملتا ہے تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ یہ سامی الاصل لفظ ہے اور سب سامی زبانوں میں پایا جاتا ہے۔ اس قسم کے الفاظ کا عربی میں وجود ان کے مستعار شدہ ہونے کی دلیل ہرگز نہیں ہوسکتی۔

(iii)     جیفری کے مطابق قرآن کے بہت سے الفاظ خالصتاً عربی زبان کے ہیں عربی میں عام مستعمل بھی ہیں لیکن قرآن میں ان کا استعمال خالص انہیں معنوں میں ہوا جن میں وو لفظ عبرانی و سریانی میں مستعمل ہیں مثلاً نور، نور کے معنی عربی میں عام طور پر روشنی کے لیے جاتے ہیں لیکن سورہ براء ۃ آیت نمبر ۳۲ میں یہ خالصتاً سریانی میں نور کے معنوں میں استعمال ہوا۔ جیفری نے یہاں جس آیت کا حوالہ دیا وہ درج ذیل ہے:

{یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَ یَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَ لَوْکَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ}۔

وہ (کفار) چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی (دعوت توحید) کو بجھا دیں اپنے منہ سے جب اللہ اپنی روشنی کو پورا کیے بغیر نہ رہے گا چاہے کافر کتنا ہی برا مانیں۔

جیفری کا کہنا ہے کہ یہاں نور سے مراد دین لیا گیااور یہ مفہوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیت سے لیا (نعوذ باللہ)

حقیقت یہ ہے کہ ہر زبان میں الفاظ حقیقی اور مجازی دونوں معنوں کے حامل ہوتے ہیں۔ کئی معانی ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو محض لغوی تشریح سے واضح نہیں کیا جاسکتا ان کے پیچھے ایک نظریہ، ایک سوچ کارفرما ہوتی ہے۔ عربی زبان اس حوالے سے بہت وسیع اور معانی کے عمق سے مالا مال ہے۔ اس زبان میں ایک لفظ بسااوقات ستر (۷۰ ) معنی کا حامل ہوتا ہے اور اسے ہر جگہ محض اس کے لغوی معنی میں استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ تشبیہ کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ اسی طرح نور سے مراد روشنی ہے اور کفر کے معنی چھپانے، مستور رکھنے، اندھیرے میں رکھنے کے بھی ہیں تو آیت میں مراد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی نوع انسان کے لیے بھیجی جانے والی روشنی یعنی پیغام رشد و ہدایت وہ روشنی ہے جو کفر یعنی لاعلمی کے اندھیرے سے انسانوں کو نکالنے کے لیے بھیجی جارہی ہے۔ اس مفہوم کو سریانی زبان سے چوری کرنے کی تو ضرورت ہی نہ تھی ۔ عربی زبان کا لفظ نور بخوبی ایک خوبصورت مشبّہ بہ کا کام کررہا ہے۔ اسی طرح کا معاملہ جیفری کے مذکورہ باقی الفاظ کا ہے یعنی ساعۃ، یوم، کلمہ، رسول، نفس وغیرہ۔ جیفری اور اس کے ہمنوا ایک اہم نکتہ کو ہمیشہ یا تو سمجھ نہیں پاتے یا پھر قصداً ان سے اعراض کرتے ہیں اور وہ ہے عربی کا دیگر سامی زبانوں کے گروہ کا ایک رکن ہونا۔ ایک لسانی گروہ میں پانی جانے والی سبھی زبانوں میں چند مشترکہ خصائص لازماً ہوتے ہیں مثلاً فارسی اور سنسکرت کو ہی دیکھ لیں۔ دونوں کا تعلق Indo-Aryan گروہِ لسانیات سے ہے اس لیے ان میں بہت سے اشتراکات ملتے ہیں۔ اسی طرح عربی زبان جنوبی سامی اور شمال مغربی سامی زبانوں کے تمام خصائص کی حامل ہے(۵۹)۔ لہٰذا اس میں آرامی، سریانی، عبرانی زبانوں سے بہت مشابہت بھی پائی جاتی ہے،  مثلاً:

عبرانی زبان میں ہلبِس ْکا لفظ مستعمل ہے جس کے معنی ہیں اس نے کپڑے پہنے جبکہ  ہُلْبَس کے معنی اسے کپڑے پہنائے گئے۔ عربی میں قَتَلَ کے معنی اس نے قتل کیا اور قُتِلَ بمعنی اسے قتل کیا گیا۔ یہ ایک مثال عربی و سامی زبانوں کی مشابہت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح عربی کا ذو عبرانی میں ذی ہے۔ عربی میں الذی  اور آرامی میں ذی وغیرہ(۶۰)۔

مقدمہ میں اٹھائے گئے اعتراضات میں سے کسی ایک کو بھی جیفری ٹھوس دلائل و براہین سے ثابت نہیں کرسکا۔ اس نے یہ دعویٰ تو بڑے زعم سے کیا کہ مسلم علما کا لغت قرآن پر جتنا بھی کام ہے وہ صرف guesswork ہے۔ لیکن جب وہ خود ان الفاظ کا جو اس کے خیال میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے مذاہب کے متبعین سے لیے، تجزیہ کرتا ہے تو کم و بیش ہر لفظ کی تفصیل میں وہ درج ذیل لفظ استعمال کرتا ہے:It seems, it is probable,  may be,...

کسی جگہ بھی وہ پورے وثوق و ایقان سے اپنی رائے نہیں دے سکا اور اس کا کام دراصل محض اندازوں اور تخمینوں کا ایک مجموعہ ہے۔ تو پھر guess work کس نے کیا جیفری نے یامسلم علما نے؟ فرق تو بالکل واضح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عرب جو اپنی زبان و بیان کے بادشاہ تھے اپنی زبان سے خوب واقف تھے اور ان الفاظ سے بھی جو دوسری زبانوں سے عربی میں شامل ہوتے تھے۔ لہٰذا قرآن کریم سے مسلمانوں کے بے حد شغف و انہماک کے سبب ان الفاظ کی نشاندہی محض ایک علمی کام کے طور پر کی گئی۔

جیفری نے کتاب میں قرآن کریم کے دو سو پچھتر (۲۷۵)  الفاظ درج کیے ہیں جو اُس کے مطابق غیر عربی ہیں۔ یہاں اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے جیفری کے پیش کردہ ایک لفظ کی تشریح و توضیح اور جیفری کی رائے کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔ جیفری کی فہرست میں سب سے پہلا لفظ أبّ ہے۔یہ لفظ سورہ عبس آیت ۳۱ میں استعمال ہوا۔

جیفری لکھتا ہے کہ مسلم مفسرین اس لفظ کی تشریح کرنے میں بہت متذبذب رہے ہیں مثلاً طبری، بغوی، اور بیضاوی کی تفاسیر میں اس لفظ کے معنوں کی تشریح میں اختلاف و ابہام واضح ہے۔ اسی طرح کتب لغات میں بھی غیر یقینی انداز میں اس کے معنی بیان کیے گئے ہیں۔ اپنی رائے کی توثیق کے لیے اس نے کئی مستشرقین یعنی Fraenkel (۶۱) Mingana (۶۲) وغیرہ کے حوالے بھی دیے ہیں۔ Frankel کے مطابق یہ لفظ عبرانی زبان سے لیا گیاجب کہ Mingana کے مطابق یہ لفظ سریانی سے لیا گیا۔  جیفری نے Mingana کی رائے کو درست تصور کیا ہے۔

جیفری کی مذکورہ بالا رائے کا تنقیدی جائزہ

جیفری نے جن مفسرین کے حوالے دیے ان میں طبری، بغوی و بیضاوی ہیں۔ جہاں تک طبری کا تعلق ہے تو انہوں نے لفظ أباً کی تشریح میں ۲۱ روایات درج کی ہیں۔ ۲۰ روایات میں اَبٌّ کے معنی ہیں: سبزہ، چارہ، گھاس پھونس جسے جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال کیا جائے۔ صرف ایک روایت میں جو حضرت ابن عباسؓ کی جانب منسوب ہے اَبٌّ کے معنی ایک رسیلے پھل کے بتائے گئے ہیں۔ جبکہ باقی بیس (۲۰) روایات میں سے تین (۳)  حضرت ابن عباس کی جانب منسوب ہیں اور اس کے معنی وہی چارہ، سبزہ وغیرہ ہیں(۶۳)۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ أبٌّ کے معنی ایسا چارہ سبزہ یا پھر پھل بھی ہوسکتا ہے جو جانوروں کے لیے استعمال ہوتا ہو۔ سو طبری کے بیان میں ہمیں تو کوئی تناقض و تضاد دکھائی نہیں دیتا۔ دوسرے نمبر پر جیفری نے زمخشری کا حوالہ دیا۔ زمخشری نے بھی اَبٌّ کے مذکورہ معنی ہی بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے دو روایات نقل کی ہیں۔

۱۔        ’’حضرت ابوبکرؓ سے کسی نے اَبٌّ کے معنی پوچھے، انہوں نے جواب دیا کہ کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا کون سی زمین  میرا بوجھ اٹھائے گی اگر میں اللہ کی کتاب کے متعلق کوئی ایسی رائے دے دوں جس کا مجھے صحیح علم نہیں؟ حضرت عمرؓ نے یہ آیت پڑھی اور پھر خود سے سوال کیا کہ فاکھۃ کا تو مجھے پتہ ہے یہ ابٌّ کیا ہے؟ پھر ایک دم چونکے اور کہا کہ یہ تو تکلف ہے (یعنی اس لفظ کے معنی کی تفصیل میں پڑنا ناپسندیدہ امر ہے)۔ ایک اور روایت میں حضرت عمرؓ کی جانب منسوب اسی روایت میں کچھ اضافہ بھی ملتا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جو ہم جانتے ہیں ہمارے لیے محض اتنا ہی کافی ہے۔

ان روایات کو نقل کرنے کے بعد زمخشری لکھتے ہیں:

ہمارے اسلاف کا نظریہ تھا کہ اللہ نے جو نعمتیں ہمیں عطا کی ہیں ہمیں ان کے لیے اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے بجائے ان کے معنی تلاش کرنے کے۔ اَبٌّ  سے مراد سبزے کی کوئی قسم ہے۔ اس تفصیل میں جانا کہ وہ کسی خاص قسم کا چارہ تھا، یا ہر سبزے کے لیے اَبٌّ ہی استعمال ہوگا، وقت کا ضیاع ہے اور غیر ضروری ہے(۶۴)۔

 چونکہ أبٌّ ایک وسیع مفہوم لفظ ہے اس میں یہ تخصیص نہیں تھی کہ یہ کس قسم کے سبزے/ چارے کا نام ہے تو بہت ممکن ہے مفسرین و لغویین کے ہاں یہ بحثیں یہ جاننے کے لیے ہوئی ہوں کہ آیا یہ کسی خاص قسم کی، خاص علاقے کی کسی جڑی بوٹی کا نام تھا۔ یہاں ایک اور بات بڑی اہم اور قابل ذکر ہے کہ بعض اہل علم حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی جانب منسوب مذکورہ بالا روایات کو درست تصور نہیں کرتے مثلاً خطیب عبدالکریم اپنی کتاب اعجاز القرآن میں لکھتے ہیں کہ یہ دونوں روایات حضرات خلفا کی طرف غلط طور پر منسوب ہیں کیونکہ اگر ان دونوں سے یہ سوال کیا جاتا اور وہ اس کے معنی سے ناواقف ہوتے تو لازماً نبی کریم کی جانب رجوع کرتے جس کا کہ روایت میں ذکر نہیں۔ یہ واضح ہے کہ ان واقعات کا تعلق ان دونوں خلفا کے دورِ حکومت سے ہے تو یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ نبی کریم کے اتنے قریبی معتبر ساتھی، کبار صحابہ نے قرآن کے ایک لفظ کے معنی سے ناواقف ہوتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق استفسار نہ کیا ہو سو یہ روایات معتبر نہیں ہیں۔(۶۵)

تفاسیر کے جائزہ سے یہ امر واضح ہوا کہ لغویین و مفسرین کے ہاں اس لفظ کا مفہوم میں کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔ سبھی اس پر متفق ہیں کہ أبٌّ سے مراد ہر وہ سبزہ ہے جو بغیر کوشش کیے اُگ جائے یعنی خودرو پودے، جھاڑیاں وغیرہ(۶۶)، ہر وہ چیز جو جانوروں کے لیے چارے کے طور پر کام آئے(۶۷)۔  سو جیفری کی بیان کردہ تشریح اس کے اپنے دماغ کی اختراع ہے۔

قرآن کریم خود اس لفظ کے معانی پر بڑے خوبصورت انداز میں روشنی ڈالتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے

{وَّفَاکِہَۃً وَّاَبًّا  مَّتَاعًا لَّکُمْ وَلِاَنْعَامِکُمْ } (۶۸)

پھل اور چارہ جو قیمتی ہے تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔

ان آیات کے معنی اتنے واضح ہیں کہ ابہام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بغوی نے بھی آیات کے معنی اسی انداز میں بیان کیے ہیں لہٰذا تضاد یا ابہام کا قطعاً سوال ہی نہیں(۶۹)۔

جہاں تک لفظ کی لغوی اصل یا بنیاد کا تعلق ہے تو علما مفسرین کی اکثریت کے مطابق یہ لفظ عربی الاصل ہے البتہ چند علما نے اسے افریقی زبان (یعنی بلغۃ اہل المغرب) سے معرب قرار دیا ہے مثلاً سیوطی انہوں نے شاذلہ کی روایت سے بیان کیا کہ اہل مغرب کے ہاں   حشیش کو ابُّ کہا جاتا تھا (۷۰)۔  حشیش بھی ایک جڑی بوٹی کا نام ہی ہے۔ ممکن ہے اہل مغرب حشیش کا لفظ ہر قسم کی جڑی بوٹی کے لیے استعمال کرتے ہوں یا پھر انہوں نے کسی بہت ہی قدیم زمانے میں یہ لفظ عربوں سے مستعار لے لیا ہو۔ بعض علما کے اس لفظ کے مفہوم پر اتنی بحث اس لیے بھی ملتی ہے کہ بعض علما اسے غریب (نامانوس وغریب)  لفظ قرار دیتے ہیں جو عام طور پر عرب میں مستعمل نہ تھا(۷۱)۔

دراصل اَبٌّ کا لفظ ایک مشترک الاصل سامی لفظ ہے یہ عبرانی میں بھی پایا جاتا ہے(۷۲) اور سریانی میں بھی(۷۳) اور تینوں زبانوں میں عربی، عبرانی و سریانی میں یہ انہی معنوں میں مستعمل ہے۔ جس کا سبب ان تینوں زبانوں کا ایک مشترکہ لسانی گروہ سے متعلق ہونا ہے۔ جیفری کے بیان کردہ مواد سے جیفری کی اپنی لاعلمی کا اظہار ہوتا ہے نہ صرف قرآن اور عربی زبان سے بلکہ لسانیات کے حوالے سے بنیادی علوم سے بھی۔

جیفری کے بیان کردہ غیر عربی الفاظ کو ہم درج ذیل اقسام میں تقسیم کرسکتے ہیں:

۱۔        اسماء: یعنی اللہ کے نام، انبیاء کے نام، مقامات کے نام قرآن کریم میں وارد مختلف شخصیات کے نام، اشیاء کے نام۔

۲۔       اصطلاحات: جیسے صلٰوۃ، زکوٰۃ، فرقان، صوم، نبی۔

۳۔      چند افعال مثلاً: سجد، سبح، سلم، شرک، بارک، بطل

ذیل میں ان تینوں اقسام کا بالترتیب جائزہ لیا جارہا ہے:

۱۔        اسماء ذات

جہاں تک قرآن کریم میں آنے والے اسماء کا تعلق ہے جن میں انبیاء کے نام مثلاً ہارون، موسیٰ، نوح، عیسیٰ، آدم… وغیرہم شامل ہیں اور بعض دوسری شخصیات مثلاً ہامان، قارون، فرعون، اشیاء کے نام مثلاً اباریق، نمارق، سجیل وغیرہ، مقامات کے نام مثلاً بابل، مصر وغیرہ شامل ہیں۔

دنیا کی تمام زبانوں میں اسماء ایک سے دوسری زبان میں اسی طرح منتقل ہوجاتے ہیں۔ ان کو مستعار شدہ، یا جیفری کے الفاظ میں کہا جائے تو مسروقہ (Stolen) نہیں کہا جاسکتا۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت بھی جیفری نے خود ہی فراہم کیا ہے۔ جیفری نے مقدمتان فی  علوم القرآن کے نام سے ایک کتاب عربی زبان میں مرتب کی اس کتاب پر بطور مصنف اس نے اپنا نام آرثر جفری رکھا ہے، جو کہ اس کے نام Arthur Jeffery کی مُعرّب شکل ہے۔ اسی طرح تمام انبیاء کے نام اور دیگر قدیم شخصیات، امم سابقہ کے نام عربی زبان میں اُسی طرح منتقل ہوئے اور ان کو عربی زبان کے مقاییس کے مطابق ڈھال لیا گیا۔ اسے چوری قراردیا جاسکتا ہے؟

اسی طرح مقامات کے نام کا معاملہ ہے۔ اگر ایک شخص ہندوستان کے متعلق بات کررہا ہے تو خواہ وہ خود کوئی بھی زبان بول رہا ہو وہ نام تو ہندوستان کا ہی لے گا۔ ہاں اس کی اپنی زبان اور لہجے کا مطابق اس نام کا تلفظ ضرور مختلف ہوگا اور یہی معاملہ قرآن پاک میں وارد مقامات کے اسماء کا ہے جسے جیفری نے بنا سوچے سمجھے نقل قرار دے دیا۔

۲۔       اصطلاحات

جہاں تک اسلامی و عیسائی و عبرانی، یہودی زبان کی مشترک اصطلاحات کا تعلق ہے جیسے صلٰوۃ، زکوٰۃ، صوم، …ان میں پایا جانے والا اشتراک بھی ان کی مشترکہ اصل کی وجہ سے ہے۔ اسلام کوئی نیا مذہب نہیں نہ ہی اسے متعارف کروانے والے پہلے شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ یہ وہی مذہب ہے جس کی تبلیغ حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت عیسیٰ ؑ تک سبھی پیغمبر کرتے رہے۔ اسلام اسی آسمانی پیغامِ رُشد و ہدایت کی انتہائی ارتقا یافتہ شکل ہے۔ ان سب آسمانی مذاہب کا منبع و مرکز اللہ رب العزت کی ذات اقدس ہے اور چونکہ اس کا مرکز و منبع ایک ہے لہٰذا ان کی معتبر شخصیات، ان کی مردود شخصیات، قصص، احکامات سب ایک سے ہی ہیں۔ اس لیے مؤخر کو مقدم کی نقّالی یا چوری نہیں بلکہ اس سے مُتّصل اور اسی کا تسلسل قرار دیا جائے گا۔

۳۔      مشترک افعال

اسی طرح جیفری نے بعض افعال کا تذکرہ کیا جو اس کے خیال کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود و نصاریٰ سے مستعار لیے مثلاً   سَجد، دَرَسَ، بطلَ وغیرہ۔

پہلے بھی بیان کیا جاچکا ہے کہ اس کا سبب عربی، عبرانی، سریانی، آرامی، اکادی وغیرہ کی مشترکہ اصل ہے اور ان کے لسانی گروہ میں پایا جانے والا اشتراک ہے۔ اس کو کوئی بھی معقول اور صحیح الدماغ شخص مستعار لینا نہیں کہہ سکتا۔

خلاصہ کلام

گزشتہ صفحات میں پیش کردہ تفاصیل کو ہم درج ذیل نکات میں سمیٹتے ہیں:

۱۔        قرآن کریم عرب کی معیاری ادبی زبان میں نازل ہوا اور اس میں وہ مُعرّب الفاظ بھی شامل تھے جو اس اللغۃ العربیۃ المشترکہ کا حصہ تھے۔

۲۔       مسلم علما اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن کریم میں غیر عربی الفاظ موجود ہیں البتہ علما کے مابین لفظی حد تک اختلاف پایا جاتا ہے بعض کے مطابق ان الفاظ کو معرب/دخیل کہا جاتا ہے جبکہ دوسرے گروہ کے مطابق جو الفاظ عربی مقاییس پر پورے اترتے ہوں وہ عربی ہی کہلائیں گے۔ ابن جنی نے اس کو یوں بیان کیا کل مایقیس علی العربیۃ فھو عربی۔ سو یہ ایک معمولی سا فرق ہے اور محض انداز بیان کا فرق ہے۔

۳۔      قرآن کریم میں غیر عربی الفاظ کے وجود سے مستشرقین نے یہ سوال اٹھایا کہ بلسان عربی مبین کے کیا معنی ہیں اور جب اس میں انبیاء سابق کے اسماء، مقامات، شخصیات کے اسماء و قصص پائے جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم نے یہود و نصاریٰ سے معلومات اخذ کرکے الفاظ مستعار لے لیے، بسااوقات ان میں خلط ملط کرکے خود ایک کتاب مرتب کی اور دعویٰ کیا کہ یہ مُنّزل من اللہ ہے۔ اس حوالے سے کئی لوگوں نے کام کیا تاہم سب سے زیادہ مرتب انداز میں جیفری نے اس پر کام کیا اور وہی آج تک قرآن کی زبان پر کام کے حوالے سے تمام مستشرقین کا مصد رہے۔

۴۔       مقالہ ھٰذا میں جیفری کے کام  Foreign Vocabulary of the Qur'an کا ایک تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے اور تحقیق سے معتبر مصادر کی روشنی میں ان امور کو ثابت کیا گیا کہ

          (i)  مسلم مفسرین و لغویین نے قرآن کی زبان پر جو کام کیا وہ جیفری کے دعویٰ کے مطابق Guess work نہیں بلکہ تمام موجود روایات کی روشنی میں کیا گیا تھا۔

          (ii)        نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے قرآن پاک کی تفسیر بھی صحابہ کو سکھائی تھی اور انہوں نے تابعین کو اور ان سے آگے نسل در نسل یہ علم پھیلتا رہا ہے لہٰذا یہ دعویٰ بھی سراسر غلط ہے کہ ہمارا موجودہ تفسیری ورثہ اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔

          (iii)  سیدنا ابن عباسؓ کی جانب بہت سی باہم متضاد و متناقض روایات منسوب کی گئی ہیں، جن میں سے بیشتر معتبر نہیں ہیں۔

          (iv)       عربوں کے تمام دنیا سے تعلقات تھے۔ تاجر ہونے کے سبب وہ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں جاتے تھے اور دوسرے ممالک کے لوگ عرب آتے تھے۔ لہٰذا قرآن و حدیث میں جہاں بھی کسی دوسرے ملک یا دوسری قوم کا حوالہ ملتا ہے یا پھر مفسرین کے ہاں ایسا کوئی حوالہ ملتا ہے اس کا سبب مفسرین کا اپنی لاعلمی کو چھپانا نہیں بلکہ کوئی ٹھوس معتبر شہادت ہوتی ہے۔

          (v)  دنیا کی ہر زبان کی طرح عربی بھی اپنے اصل لسانی گروہ یعنی سامی زبانوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے اور اس میں عبرانی، سریانی، آرامی، اکادی وغیرہ کے بہت سے پہلوؤں سے مشابہت پائی جاتی ہے۔

          (vi)  جیفری کے پیش کردہ دو سو پچھتر (۲۷۵)  الفاظ میں سے بیشتر خالصتاً عربی الاصل ہیں جن کو جیفری نے خواہ مخواہ معرّب اور مستعار شدہ قرار دے دیا۔

          (vii)  اسلام اسی دین کی آخری صورت ہے جس کی تبلیغ سب انبیاء نے کی۔ تمام کتب سماویہ کا مرکز و منبع ایک ہی ہے لہٰذا ان میں اشتراک کا پایا جانا لازمی اور لابُدی امر ہے۔

 

خ خ خ

 

حوالے و حواشی

 

۱۔        المائدہ،  ۲۴۸

۔۲       P.K. Hittie, History of the Arabs, p:55,N.4, Ibid, Islam A Way of Life, p:25, Minnesota, 1970.

۳-       Carl Brocklmann, History of Islamic People, p:305-306, London, 1964

۴۔       کارلونالینو، تاریخ الادب العربیۃ، ص:۶۳، دارالمعارف، مصر، ۱۹۵۴۔

۵۔       مصطفی صادق الرافعی، تاریخ آداب العربیۃ، ص:۹۲، دارالکتاب العربی، ۱۹۷۴ء۔

۶۔       مناع القطان، مباحث فی علوم القرآن، ص:۱۵۶، مئوسسۃ الرسالۃ، بیروت ۱۹۸۷ء۔

۷۔      دیکھیے راقمہ السطور کا مقالہ  اللغۃ العربیۃ المشترکۃ- قرآن کریم میں وارد عربی لہجات، در مجلہ تحقیق شمارہ:۲۵، ج۱، جزو:۶۹،ص:۹-۲۹  مطبوعہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی، لاہور

۸۔       احمد حسن الباقوری، اثر القرآن الکریم فی اللغۃ العربیۃ، ص:۱۴۵، بیروت۔ س۔ ن

۹۔       اس رائے کے حاملین کے دلائل یہ ہیں کہ قرآن کریم کو تمام بنی نوع انسان کے لیے اتارا گیا۔ لہٰذا اس میں دنیا کی مختلف زبانوں کی نمائندگی ہونا بھی بہت ضروری تھا۔ یہ قرآن کے مُعجِز پہلوؤں میں سے ایک ہے کہ اس میں دنیا کی مختلف زبانوں کے فصیح الفاظ پائے جاتے ہیں۔ اس کا یہ وصف اسے دنیا کے دیگر مذہبی متون سے ممتاز کرتا ہے۔

۱۰۔      یوسف،  ۲                             ۱۱۔       فصلت،   ۴۴

۱۲۔      مثلاً دیکھیے ابو عبید، مجازالقرآن،۱/۱۷، س ن- شافعی امام، الرسالۃ، ص:۲۸-۵۲۸؛ ۱۳۰۹ھ،  ابن فارس، الصاحبی فی فقہ اللغۃ،ص:۴۸، بیروت ۱۳۸۲ھ؛ الباقلانی، اعجاز القرآن، ۱/۴۰۱، دارالمعارف مصر ، س ن۔

۱۳۔      ابو عبید، مجاز القرآن، ۱/۱۸؛ شافعی، الرسالۃ، ص:۲۸، ۱۳۰۰ھ، الثعالبی، جواہر الحسان فی تفسیر القرآن، ۱/۴، بیروت، س ن

۱۴۔      آرتھر جیفری، آسٹریلوی نژاد امریکی مستشرق (۱۸۹۲ء-۱۹۵۲ء) یورپ امریکہ کی متعدد جامعات اور چرچوں میں اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ نص قرآنی پر بھرپور کام کیا۔ تمام معاصر مستشرقین کے لیے مصدر کی حیثیت رکھتا ہے۔ دیکھیے:

          Ibn Warraq, Origins of the Koran, p:440

۱۵۔      علوم قرآن پر جیفری کی متعدد کتب ہیں، اہم کتب میں

          The Koran as Scripture؛  Materials for the History of  the Text of Qur'an؛ The Koran-Selected Suras.

۔۱۶      Jeffery, Foreign Vocabulary, p:3, Baroda, India, 1938

۱۶-       بخاری، الجامع الصحیح، حدیث نمبر: ۳۴۶۱، دارالسلام، ریاض، ۱۹۹۹ء

۱۷۔      قنوجی صدیق حسن خان، فتح البیان فی مقاصد القرآن، ۱/۱۲، المکتبہ العصدیہ ۱۹۹۲ء

۱۸۔      رازی، مفاتیح الغیب، ج:۱،ص:۵۳۷، احیاء التراث العربی، بیروت، س ن

۱۹۔      تفصیل کے لیے دیکھیے: زمخشری، الکشاف، ۱/۲۸۵؛  دارالکتب العربی، س ن۔ قنوجی، فتح البیان، ۱/۱۸۶؛ ابن جوزی، زادالمسیر، ص:۶۵، دارالکتب العلمیہ، بیروت ۱۹۹۴ء؛ الماوردی، النکت والعیون، ۱/۱۳۳، دارالکتب العلمیہ، بیروت، س ن، بغوی، معالم التنزیل، ج:۱،ص:۴۷، دارالکتب العلمیہ، بیروت ۱۹۹۳ء؛ ابن عاشور، التحریر والتنویر، ۱/۵۳۲ ، دارالکتب العلمیہ، س ن

           Beirut Lane, Arabic English Lexicon,، بذیل مادہ؛ محمد اسدThe Message of Qur'an، ص:۱۴،  Dar al Andalus Gibralter, 1980

          Jeffery, Foreign Vocabulary, p:4,  Baroda, India, 1938

۲۰۔      روایت ہے کہ حضرت ابن عباس کے استفسار پر کعب الاحبار نے بتایا کہ میرے والد نے تورات کا ایک نسخہ مجھے دے کر ہدایت کی تھی کہ صرف اسی کی پیروی کروں باقی کتب پر انہوں نے مہریں لگا کر بند کردیں تھیں اور مجھے پدرانہ شفقت کا حوالہ دے کر قسم لی تھی کہ ان کتب میں سے کسی کو نہ کھولوں گا۔ جب اسلام پھیلنے لگا تو میں نے سوچا شاید ان کتب میں ایسا کچھ ہے جو والد نے مجھ سے چھپانے کی کوشش کی۔ پھر میں نے کتب کھولیں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کا تذکرہ پڑھا پھر اسلام قبول کرلیا۔  دیکھیے: ابن سعد، الطبقات الکبریٰ،۱۰/۳۶۰-۳۶۲۔داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۱۹۹۶ء۔

۲۱۔      زاہد الکوثری، مقالات الکوثری، ص:۲۰۳، ایچ ایم سعید کمپنی ، پاکستان، ۱۳۷۲ھ

۲۲۔     ابن کثیر نے تفسیر القرآن العظیم میں اس موضوع پر بڑی عمدگی سے بحث کی ہے۔ دیکھیے: ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۱/۲۵۔بیروت، س ن

۲۳۔     بحوالہ السیوطی، الاتقان، ۱/۱۲۰، مطبعہ عیسیٰ البابی الحلبی، مصر، س ن

۲۴۔     عبدالمنعم نمر، علم التفسیر، ص:۲۸-۳۱، دارالکتب المصری، ۱۹۸۵ء

۲۵۔     بخاری، الجامع الصحیح،حدیث: ۱۰۷

۔۲۶     Jeffery, Foreign Vocabulary, p: 6-11

۲۷۔     یوسف، ۲           ۲۸۔     ابراہیم، ۴          ۳۰۔     الشعراء، ۱۹۵۔

۳۱۔      الزبیدی، تاج العروس، دارالفکر ، بیروت ۱۹۸۸ء ، بذیل مادہ، فیروز آبادی، قاموس المحیط، بذیل مادہ؛ ازہری، تہذیب، بذیل مادہ ، دارالکتب العربی ۱۹۶۷ء

۳۲۔     سیوطی، الاتقان، ۱/۱۴۵

۳۳-     Jeffery, Foreign Vocabulary, p: 14-16

۳۴-     Ibid, p: 12-13          ۳۵-     Ibid, p: 14-18

۳۶-     Ibid, p: 18-29

۳۷۔     خفاجی، شفاء الغلیل، ص:۱۸۱

۳۸۔     سیرۃ ابن ہشام میں کہیں بھی ایسا کوئی حوالہ نہیں ملتا جس کا ذکر جیفری نے کیا ہے۔

۳۹۔     محمد عبداللہ دراز، المدخل فی القرآن، ص:۳۵، دارالقلم ، کویت، ۱۹۸۱ء

۴۰۔     محمد بن عبدالوہاب، المختصر سیرت الرسول، ص:۵۷؛ القشیری ابوالقاسم عبدالکریم بن ھوازن، شرف المصطفی، ۱/۳۱۲۔۲۱۳، مکتبہ دارالسلام، ریاض، ۱۹۹۴ء

۴۱۔      قاضی اطہر مبار کپوری، عرب و ہند عہد رسالت میں؛ فکرو نظر پبلی کیشنز ، کراچی، ۱۹۸۶ء ، عبداللہ مبشر، موسوعۃ التاریخ الاسلامی و ادارات الاسلامیہ لبلادالسندوالبنجاب فی العھد العرب، ۱/۱۰۳-۱۰۹۔ ابن خرد اذبہ: المسالک والممالک،  ص:۶۰-۶۱، ای ۔جے۔ برل لائڈن، ۱۹۵۶ء؛ جواد علی، المفصل فی التاریخ العرب، ۷/۲۹۲  ریاض، ۲۰۰۰؛  عبدالواحد عزام، مھد العرب، ص:۱۱۳-۱۱۵؛ نقولازیادہ، صورمن تاریخ العربی، ص:۳۳-۱۳۴، دارالمعارف ، مصر، ۱۹۴۶ء ؛ نیز:

          P.T. Sirinivas, Iyangar, Advanced History of India, pp. 116-117; Hugh Tinker, South Asia Short History, pp. 42-43; Tara Ali Beig, The Culture of India, p. 69.

۴۲۔     اطہر مبارک پوری، ہندوستان میں عربوں کی حکومتیں، ص۲۵۷

۴۳۔     بخاری، الجامع الصحیح، حدیث نمبر ۳۴۳۸

۴۴۔     ابن منظور، لسان العرب،  داراحیا ء التراث العربی بیروت، س ن ، بذیل مادہ؛ الخلیل، کتاب العین، بذیل مادہ۔

۴۵-     Anguste Toussaint, History of Indian Ocean, tr by June Guicharnaund, p: 17, 38; Abd Allah Yusuf Ali, The Making of India, p.42

          ان کے علاوہ بھی عرب و ہند کے مابین تعلقات بہت سی کتب، بہت سے واقعات سے ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً ابن اثیر نے البدایۃ والنہایۃ میں سرباتک ہندی نامی صحابی کا ذکر کیا جو بھارت کے شہر قنوج سے ہجرت کرکے عرب پہنچے اور حضرت حذیفہ بن الیمان، حضرت اسامہ بن زید اور بعض دوسرے صحابہ سے تعلیمات اسلامیہ سیکھیں۔

۴۶۔     ہیرو ڈوٹس، دنیا کی قدیم ترین تاریخ، ت: یاسر جواد، ص:۴۹۵، لاہور، ۲۰۰۱ء

۴۷-     P.K. Hittie, History of the Arabs, p.44; De Lacy O'Leary, How Greek Science Passed to Arabs, pp. 6-7, Routland Kagan Paul Ltd. 1964. J. Spencer Trimingham, Christianity Among the Arabs in Pre-Islamic Arabia, p. 21, Oxford University Press, London, 1965

۴۸-     R.V.C. Boodley, The Messanger, p. 196; Oxford University Press, London, 1954, A.J. Arberry, Qur'an, p. 10

۴۹-      Jeffery, Foreign Vocabulary, p. 30

۵۰۔     المقدسی، احسن التقاسم فی معرفۃ الاقالیم، ص:۲۱۵۔۲۴۸، ای جے برل لائڈن ۱۹۰۶ء؛ المراکشی ابن عذاری، البیان المغرب فی اخبار الاندلس والمغرب، ۱/۵-۶، دارالثقافہ، بیروت ۱۹۸۳ء؛ ابن الوردی سراج الدین ابو حفص عمر، جریدۃ العجائب و فریدۃ الغرائب، ص:۱۵-۱۰۸

۵۱۔      المغربی، الاشتقاق والتعریب، ص:۱۰۸، مطبعۃ الھلال، مصر، ۱۹۰۸ء

۵۲-      Ignaz Goldziher, A Short History of Arabic Literature,  p. 6

۵۳۔     طبری، تاریخ الامم والملوک، ۱/۶۶۔۶۷، دارالمعارف، مصر ، ۱۹۶۰ء

۵۴-     Jeffery, Foreign Vocabulary, p. 39

۵۵۔     جیفری نے اپنی کتاب Foreign Vocabulary،  میں خود ہی الفاظ کے حوالے سے قدیم عربی شاعری کی مثالیں پیش کی ہیں۔

۵۵-     Jeffery, Foreign Vocabulary, p. 29-30

۵۷۔     فیروز آبادی، القاموس المحیط، بذیل مادہ؛  جوہری، الصحاح، بذیل مادہ؛ الزبیدی، تاج العروس، بذیل مادہ، ابن منظور، لسان العرب، بذیل مادہ، Lane, Arabic English Lexicon، بذیل مادہ

۵۸۔     ابن فارس، الصاحبی فی فقہ اللغۃ، ص ۴۵، بیروت ۱۳۸۲ھ

۵۹۔     سباعی بیومی، تاریخ الادب العربی، ص:۴۸۔۴۹، مکتبہ الانجلو المصریۃ س ن

۶۰-      Comire, World's Languages, p. 665, London, 1987

۶۱۔       سامی زبانوں کا پروفیسر Sigmund Fraenkel، تفصیل کے لیے دیکھیے:نجیب العقیقی، المستشرقون، ۲/۷۱۹، دارالمعارف، مصر، ۱۹۶۵ء

۶۲۔     عراق کے کلدانی چرچ کا پادری، سریانی و عربی کا ماہر، تفصیل کے لیے دیکھیے:

          www.mingana.bham.ac.uk/mingana.htm

          http//people.lulu.com/users/index,php

۶۳۔     طبری، جامع البیان، ۱۲/۴۵۱۔۴۵۳، دارالکتب العلمیہ، لبنان، ۱۹۹۹ء

۶۴۔     زمخشری، الکشاف،  ۴/۲۲۰    

۶۵۔     خطیب عبدالکریم، اعجاز القرآن،  ۲/۴۴

۶۶۔     الماوردی، النکت والعیون، ۶/۶۰۷۔۲۰۸

          الماوردی نے حضرت ابن عباسؓ  کا قول بھی نقل کیا کہ وہ ایک خاص جھاڑی کو  أبٌ کہا کرتے تھے۔ خازن، لباب التاویل، ۴/۳۹۶، بیروت، ۱۹۹۵ء؛ نووی شیخ محمد، مراح لبید،۲/۴۲۸؛ الطوسی، التبیان، ۱۰/۲۷۶، داراحیاء التراث العربی، بیروت س ن ،      حقی بروسوی، روح البیان، ۱۰/۳۳، آلوسی، روح المعانی، ۱۵/۲۵۰،دارالفکر بیروت س ن ؛ لغات سے  ابٌّ کے معنی و مفہوم کی تفصی کے لیے دیکھیے: ابن منظور، لسان العرب، بذیل مادہ؛ البستانی، محیط المحیط، داراحیاء التراث العربی بیروت س ن،  بذیل مادہ؛ الیاس انطون الیاس، القاموس العصری، بذیل مادہ۔

۶۷۔     طبرسی، مجمع البیان، ۵/ جزو ۱۰،۶۶۸، دارالمعارف ، بیروت، ۱۳۷۶ھ

۶۸۔     عبس،۳۱-۳۲                 ۶۹۔      بغوی، معالم التنزیل، ۴/۴۴۹

۷۰۔     سیوطی، الا تقان، ۱/۱۳۵؛ وہی مصنف، المتوکلی، ص:۲، وہی مصنف، المہذب، ص ،۳

۷۱۔      الیزیدی ابو عبدالرحمن عبداللہ، غریب القرآن و تفسیر، ص:۱۹۹، دارالفکر، بیروت، س ن، ابوحیان، تحفۃ الاریب فی تفسیر الغریب، ص، ۴۳۹، المطبعہ المانی بغداد، ۱۹۷۷ء

۔۷۲     Francis Brown, A Hebrew and English Lexicon of Old Testaments with an appendix containing the Biblical Aramaic, s.v.

۔۷۳Pyne Smith, Syriac English-Dictionary, s.v., Clarendon Press, Oxford, 1903.

 

حاشیہ

سینئر مدیر / اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی، لاہور