ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار
پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

پادری احمد شاہ کا اردو ترجمۃ القرآن

 ڈاکٹر ساجد اسد اللہ

 

برصغیر میں قرآنیات کے باب میں ایک پہلو جس سےعموماًصرف نظر کیا جاتا ہے وہ یہاں کے غیر مسلم اہل قلم  کے تراجم قرآنی  ہیں۔ان میں ہندو ، سکھ مترجمین کے ساتھ ساتھ مسیحی اہل قلم  کا نام بھی آتا ہے۔ برصغیر کے کلیسیائی  ادب  میں پادری عماد الدین ، پادری احمد شاہ ، پادری جے علی بخش اور پادری سلطان محمد پال کے   اردو تراجم قرآن خاص اہمیت حاصل ہے){C}[1]{C}(۔ان میں سے اولین دو تراجم مکمل جب کہ آخری دونوں جزوی تراجم  و تفاسیر قرآن ہیں۔ان سب میں پادری عمادالدین (۱۸۳۳ ء ۔۱۹۰۰ء )کے ترجمہ قرآن  کو زمانی  تقدم حاصل ہے   جب کہ   پادری احمد شاہ کا زیر نظرترجمہ اس کے بعد طبع ہواجس کا اظہار اشاعت ہذا کے  اس ابتدائی جملہ سےہوتا ہے۔

مسیحیوں کی طرف سے اردو زبان میں یہ قرآن کا دوسرا ترجمہ ہے){C}[2]{C}(۔

یہ  دونوں تراجم  بدون متن معرٰی ہی  طبع ہوئے۔ چونکہ انجیل مقدس کے اصل متن کی عدم دستیابی کی بنا پر مسیحی معاشرہ میں فقط ترجمہ انجیل (لاطینی یا انگریزی) زیادہ رواج پا گیا تھا ، غالباً اس پس منظر میں مسیحی  اہل قلم کی طرف سے قرآن کو بائبل کی طرح بدون متن  پیش کرنے کی یہ

شعوری کاوش ہے ۔ مسلم عقیدہ کے مطابق قرآنی الفاظ منزل من اللہ ہیں اور  کلام الہی ہونے کی   بناء  پر  متن قرآن کو    تقدس اور احترام کا درجہ حاصل  ہے۔لیکن زیر بحث معری  ترجمہ دیکھ کر قرآنی احترام وتقدس کا احساس  مفقود ہے۔غالب مسیحی عقیدہ  ہے کہ "انجیل کے الفاظ من و عن الہامی نہیں بلکہ  الہام و کشف کوانسانی الفاظ میں  ڈھالا گیا ہے")[3](،اس لیے الفاظ اتنے اہم نہیں شاید اسی لیے، مسلم روایت کے برعکس ، کلیسیا کے زیر انتظام تراجم  بائبل کی اشاعت میں  عبرانی /سریانی/یونانی متن کا اہتمام نہیں کیا  جاتا بلکہ مقامی زبان میں تراجم کو ہی متن کی حیثیت سے ذہنی طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔مسیحی تراجم سے قبل مسلمانوں کے ہاں بدون متن، معرٰی ترجمہ قرآن کی اشاعت کیروایت رائج نہ تھی  اور نہ ہی اسے بعد میں پذیرائی مل سکی۔

پادری احمد شاہ کا یہ ترجمہ قرآن مسلم  قارئین کے لیے نہیں بلکہ مقامی مسیحی منادین کے لیے کیا گیا تھا۔ ان کے نزدیک   اس دور میں مسلم تراجم قرآنی گروہی فکری چھاپ  کے حامل اور با محاورہ نہ ہونے کی بنا پر  غیر مسلموں کے لیے باعث الجھن تھے ۔ اس عمومی رویہ  کو دیکھتے ہوئے پادری صاحب نےایسے بامحاورہ  ترجمہ قرآن کا بیڑا اٹھایا جو  مسیحی منادین کی ضروریات پورا کرسکے۔

محمدی علماء کے ترجمے میں ایک بھاری نقص یہ ہے کہ ہر مترجم اپنے فریق کی رائے کا پابند ہو کر ترجمہ کو اسی پہلو سے ڈھالتا ہے ۔ پس غیر محمدی کے لیے یہ ترجمے نہ صرف بے کار بلکہ الجھن میں ڈالنے والے ہیں۔مجھ کو مسیحی منادوں کے لیے خاص طور سے محسوس ہوا کہ ایک ایسے ترجمے کی ضرورت ہے جو اردو میں عربی قرآن کو لفظ بہ لفظ اور حتی الامکان بامحاورہ ادا کرے۔){C}[4]{C}(

مترجم نے مقدمہ میں درج ذیل امور خیال رکھنے کا دعوٰی کیا ہے۔

{C}·        {C}جہاں تک ممکن ہو بیرونی الفاظ نہ ملائے جائیں۔

{C}·        {C}زبان با محاورہ ہو۔

{C}·        {C}عربی الفاظ کی ترتیب جہاں تک ممکن ہو قائم رہے۔

{C}·        {C}جو الفاظ عربی کے زبان اردو میں رواج پا گئے ہیں ان کا ترجمہ نہ کیا جائے ۔ ان کی اصلی حالت قائم رہے۔

{C}·        {C}شان نزول جن پر محمدی علماء کا اتفاق ہے بطور تحت حاشیہ اسباب وحی میں درج کر دیئے جائیں۔

{C}·        {C}کسی امر متنازعہ پر کسی خاص  فرقہ کی تائید نہ کی جائے بلکہ ناظرین خود اس سے اپنے لیے نتیجہ نکال لیں۔

{C}·        {C}ترجمہ میں تعصب اور ذاتی رائے سے کام نہ لیا جائے){C}[5]{C}(۔

ایک مبسوط مقدمہ لکھنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا  جسے اشاعت ہذا کے بعد  الگ سے قارئین تک پہنچانے کا وعدہ تھا لیکن اس کی  اشاعت معلوم نہیں کہ ہو پائی  یا نہیں ۔

ابتداء میں "فہرست سورتہا ئے قرآن معہ نمبر شمار و صفحہ " کے عنوان کے تحت باعتبار حروف تہجی تین کالموں میںقرآنی  سورتوں کی فہرست دیگئی ہے۔پہلے کالم میں ترتیب توقیفی کے اعتبار سے سورت نمبر ، دوسرے کالم میں نام سورت اور تیسرے میں صفحہ نمبر دیا گیا ہے۔ پہلا اندراج سورت ابراہیم کا ہے اور آخری سورت یونس کا ہے۔دو صفحات پر مشتمل اس فہرست کے پہلے صفحہ پر ۶۴ جبکہ دوسرے صفحہ پر ۵۶ اندراج ہیں){C}[6]{C}(۔

ہر سورت کے آغاز میں سورت نمبر ، نام سورت ، مکی/ مدنی اور تعداد رکوع و آیات درج ہے۔ اسماء سور میں"ال "لکھنے کاالتزام نہیں اورمسلم روایت کے برعکس بعض اسمائے سور  کا ترجمہ خطوط وحدانی میں لکھا ہے۔مثلاً

۶ ۔ سورہ انعام  ( چوپائے ) مکی ۲۰ ع آیات ۱۶۵){C}[7]{C}(

ہر صفحہ کے انتہائی اوپر دائیں جانب فارسی میں  نام پارہ ونمبرجب کہ دائیں جانب نام سورت مع نمبر لکھا گیا ہے۔مثلاًپارہ ہشتم۶ ۔ انعام  ){C}[8]{C}(

مسلم روایت کے برعکس آیات کے نمبر اختتام آیات کی بجائے آغاز آیت میں دے کر شعوری طور پر بائبل کا  انداز اپنانےکی سعی کی گئی ہے۔نیز آیات کے نمبر فلوگل(Flugelکے ۱۸۳۴ ء میں لیپزگ (Leipzig) جرمنی سے شائع کردہ قرآن کریم کی ترتیب  سے  ہیں جو کہ ہمارے ہاں متداول  مصحف سے مختلف ہے۔ اس میں تعداد آیات تو یکساں ہے لیکن آغاز و اختتام آیت میں اختلاف ہے ۔

ہر سورت سے قبل بسم اللہ کا ترجمہ "نہایت مہربانبڑے رحم والے اللہ کے نام سے " (صرف سورت فاتحہ  سے قبل" نہایت  مہربان اوربڑے رحم والے اللہ کے نام سے ") ہے){C}[9]{C}(۔

{C}·        {C}جا بجا کتابت کیغلطیاں موجود ہیں۔ ممکن ہے مسیحی قاری معمولی خیال کرے لیکن  مسلم قاری  ان سےصرف نظر نہیں کرپاتا مثلاً

{C}o       {C}ابتداء میں سورت ابراہیم کا نمبر ۱۴ کی بجائے ۱۴۱  لکھا ہوا ہے ){C}[10]{C}(۔

{C}o       {C}ص ۴۳ کا آغاز سور ۃ آل عمران سے  ہو رہا ہے لیکن اوپر سورۃ بقرہ لکھا ہے۔

{C}o       {C}پارہ ششم  میں صفحہ ۹۰  تا صفحہ ۱۰۷ تک  ہر صفحہ کے بائیں جانب مائیدہ  مرقوم ہے جبکہ سورت کے آغاز پر نام مائدہلکھا ہوا ہے۔

{C}·        {C}ص ۲۰۹ پر سورت حجر کا نمبر شمار ۱۵ کی بجائے ۵ مرقوم ہے۔اسی طرح سورۃ مریم کا شمار نمبر ۱۹ کی بجائے ۲۹درج ہے۔سولہویں پارےکا آغاز ص ۲۴۰ سے ہوتا ہے۔ مگر اسے ۲۴۱ پر ظاہر کیاگیا ہے۔اور صفحہ ۲۴۲ پر دوبارہ پارہ پنجد شش و دہم (پندرہواںو سولھواں )مرقوم ہے۔

{C}·        {C}ص ۴۷۱پر سورت کا نام بدون نمبر لکھا ہوا ہے۔اسی طرح ص ۳۸۴ پر ۲۹واں پارہ اختتام پذیر اور ۳۰ ویں کا آغاز ہو رہا ہے۔

{C}·        {C}سابقہ  اسلوب کے برعکس دونوں پاروں کا نام ذکر نہیں کیا گیا صرف ۳۰ویں کا لکھا ہے۔

{C}·        {C}ص ۴۰۹  پر لفظ "گشت  " بغیر نقطوں کے، ص ۳۱۵ پر حمزہ کو ہمزہ  ، ص ۴۹۸ پر کنجوسی کو کنجوشی اورص ۴۸۵ پر سورۃالنباء کو"سورہ  بنا "  لکھا گیا ہے۔

ان اسقام  سے کتابت میں بے توجہی کا رویہ سامنے آ   تا ہے۔جب کہ مسلمانوں کے ہاں دینی ذمہ داری سمجھتےہوئے  کلام الہی کیکتابت میں چھوٹی چھوٹی جزئیات تک کا بہت باریک بینی سے خیال رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرسیداحمد خاں  نے اپنی تفسیر  بائبل " تبیین الکلام فی تفسیر التوراۃ ولانجیل علی ملہ الاسلام" میں متن بائبل نقل کرنےمیں  اسلامیروایتکیپیروی کرتے ہوئے بہت احتیاط سے کام لیا ۔عبرانی ٹائپ کے حروف خصوصی طور پر منگوائے گئے، نیزعبرانی  زبان کےماہر مولانا عنایت رسول چریا کوٹی کے ساتھ ایک یہودی عالم کی خدمات حاصل کیں ){C}[11]{C}(۔

حاشیہ نگاری کے لیے متن میں " ؎  "  کی علامت بدون نمبر شمار  دی گئی ہے ۔ نیچے حاشیہ میں متعلقہ آیت نمبر کے ساتھ حاشیہ لکھا گیا ہے۔

لفظی کی بجائے یہ بامحاورہ  ترجمہسہل ، رواں  اورسلیس ہے۔ گنجلک  ، ثقیل اور بلاغت و فصاحت کی حامل انشاءپردازیکی بجائے آسان اورسادہ اسلوب اختیار کیا گیا  ہے۔ عبارت اس دور کی طرز تحریر کے مطابق ہے۔ "ں" کی بجائے "ن" کا استعمال کیا گیا ہے۔

مثلاً " میں" کو "مین " ، "ہیں" کو " ہین"  ، نہیں   " کو " نہین " لائیں" کو  "لاوین"، "ہاں" کو " ہان" اسی طرح "اس" کو "اوس "وغیرہ

فارسی اورعربی تراکیب یا مفردات کو بھی کم جگہ دی گئی ہے۔ البتہ بعض قرآنی تراکیب و اصطلاحات   کے ترجمہ میں عبارت کا حسن ماند پڑ گیا ہے۔مثلاً

"الم (۱)اس کتاب مین کوئی شک نہین ہے متقیوں کے لیے رہنماہے۔جو اندیکھے پر یقین رکھتے ہیں اور درستی سے نماز پڑھتے ہیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے دیتے ہیں"){C}[12]{C}(۔

یقیمون کا ترجمہ قائم کرنا کی بجائے پڑھنا  مفہوم کو بالکل محدود کرنا ہے۔

اس بات کا خاص اہتمام ہے کہ شان نزول یا پھر وہ آیات جن کا تعلق مسلم مفسرین نے یہود سے جوڑا ہے انکے بارے حاشیہ آرائی کی جائے۔جب کہ مترجمقرآن کے مخاطب اہل کتاب کے بڑے گروہ  یعنی عیسائیوں سے متعلقہ بیانات کا   فقط ترجمہ کر کے خاموشی سے آگے گذر جاتے ہیں اور صرف اپنے مفید مطلب مقام پرحاشیہ آرائی کرتے ہیں۔ بطور محشی  اہم مقام پر اپنی ذمہ داری سے گریز کرتے ہیں۔مثلاً سورۃ مائدہ کی آیت۷۶ ۔  ۷۷ کا ترجمہ یوں کیا ہے؛

(۷۶) بیشک وہ کافر ہوئے جو کہتے ہیں کہ اللہ وہی مسیح ابن مریم ہے مگر مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل اللہ کی جو میرا اورتمہارا رب ہے عبادت کرو جس نے اللہ کا شریک مقرر کیا اس پر اللہ نے جنت کو حرام کر دیا اوراسکا ٹھکانا  آگ ہے ظالموں کا مدد گار کوئی نہیں (۷۷) بے شک وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا  کہ بیشک اللہ تین میں کا تیسرا ہے بجز ایک اللہ کے کوئی اللہ نہیں اور اگر وہ اس سے جو وہ کہتے ہیں باز نہ آویں تو ان لوگوںکو جو  ان میں سے کافر ہوئے بہت سخت عذاب ہو گا ({C}[13]

مترجم کے عقائد کی تغلیط و تکفیر کرنے والی آیات کا بدون تردید و توضیح سادہ ترجمہ اس مناظراتی عہد کی تبشیری تحریروں کے مزاج کے برعکس اور پادری صاحب کی دشنام طرازی پر مبنی ابتدائی کتاب  امہات المؤمنین(مطبوعہ ۱۸۹۴ء) کی بہ نسبت  انتہائی شائستہ ہے۔ مترجم  کی سابقہ تحریروں سے آشنا  قاری کو  یہ رویہ ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ یہ  تعصب پر مبنی ابتدائی تحریروں   میں بتدریج  تبدیلی کا آئینہ دار ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اس ترجمہ قرآن میں مترجم کا   اپنی تصنیف مراۃ القرآن   (طبع شدہ ۱۹۱۰ ء)میں  کردہ بعض آیات کے ترجمہ میں بھی لفظی تبدیلی  کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے ۔ مثلاً

ترجمہ از مراۃ القرآن ( ۱۹۱۰ ء)

 

ترجمہ قرآن ( ۱۹۱۵ء)

کیا اہل مکہ کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں ایک آدمی کی طرف الہام بھیجا کہ لوگوں کو ڈرائے اور ایمان داروں کو بشارت دے کہ خدا کے پاس ان کے لئے رتبہ اور صداقت ہے کافروں نے کہا کہ یہ شخص (محمد ) صریح فریبی ہے۔(۱۶) اور جب ہماری صاف آیات ان کے سامنے  پڑھی جاتی ہیں جو ہماری ملاقات سے نامید ہیں یوں کہتے ہیں کہ اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لا  یا اسی کو بدل ڈال تو کہہ میرا یہہ کام نہیں کہ اپنی طرف سے اسے بدلوں میں اسی کے تابع ہوں جو مجھے الہام ہوتا ہے اگر میں رب کا گناہ کروں  تو مجھے یوم عظیم کے عذاب کا خوف ہے (۱۷) تو کہہ اگر خدا چاہتا تو میں تم پر قرآن نہ پڑھتا نہ وہ تمہیں اس کی خبر دیتا میں تو اس سے پہلے تم میں ایک عمر تک (۴۰ برس) رہ چکا ہوں( اور کبھی کچھ نبوت و الہام کاذکر نہ تھا ) کیا تم نہیں سمجھتے( ۱۸) ا س سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے  مجرموں کا بھلا نہیں ہوتا([14]

 

کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ ہم نے انہیں میں سے ایک مرد کی جانب وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈرائے اور ایماندارون کو خوشخبری دے اور ان کا قدم ان کے رب سے سچا ہے۔۔کافر کہنے لگے کہ بے شک یہ تو صریح جادوگر ہے(۱۶) لیکن جب ہماری کھلی آیتیں ان پر پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جن کو  ہم سے ملنے کی امید نہیں کہتے ہیں کہ لا ایک قرآن اس کے سوا نیا اس کو بدل ڈال کہہ دے کہ میرا کام نہیں کہ میں اس کو بدل ڈالوں میں تو اسی بات کا تابع ہوں جو میری طرف وحی آتی ہے اور اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو اس بھاری دن کے عذاب سے خوف ہے۔(۱۷) تو کہہ کہ اگر اللہ چاہتا تو میں تمہارے سامنے نہ پڑھتا اور نہ تم کو اس کی خبر کرتا کیونکہ میں اس سے پہلے ایک عرصہ تک رہ چکا ہوں کیا تم نہیں سمجھتے (۱۸) اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے بے شک مجرموں کا بھلا نہیں ہو گا([15]

پادری صاحب  ماخذ  کی نشان دہی اور حوالہ دیئے بغیر ہی "روایت ہے" ،" بعض کا خیال ہے" ،" کہتے ہیں " کےالفاظ میں شان نزول بیان کرتے ہیں  قاری ان کے قول کی  ثقاہت کو پرکھ  نہیں سکتا کہ آیا یہ بات ان کی  ذاتی رائے  ہے یا کسی مفسر کا شاذ قول یا صحیح روایت ہے۔نیز اس بارے  مسلم علماء کے متفقہ بیان کردہ سیاق و سباق  درج کرنے  کے اپنے دعوٰی  پر پورا اترتے دکھائی نہیں دیتے۔ حاشیہ آرائی  میں اپنی فکر کو بھر پور طریقے سے سمونے کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔مثلاً سورت فاتحہ کا پس منظر دیتے ہوئے رقم طراز ہیں ،

بعض کا خیال ہے کہ یہ سورۃ دو مرتبہ نازل ہوئی اس سورۃ کی بابت کہا جاتا ہے کہ دعوٰی نبوت سے قبل جب حضرت محمد صاحب مکان سے دور صحرا مین ہوا کرتے یعنی گھوما کرتے تھے تو اکثر آواز سنائی دیتی تھی "یا محمد" جسکو سن کر حضرت خوف زدہ ہو جایا کرتے تھے اور جب اسکا ذکر ورقہ بن نوفل سے جو ایک مسیحی عالم تھا کیا تو اوس نے کہا  کہ خوف مت کرو بلکہ غور سے سنو کہ وہ کیا کہتا ہے جب اس پر عمل کیا تو معلوم ہوا کہ یہ آواز جبرئیل کی ہے۔اور اوس نے یہ سورۃ حضرت کو پڑھائی   گویا تلاش حق کا گر سکھلا دیا ({C}[16]

اسی طرح سورت فاتحہ کے متعلق کہتے ہیں؛

مختصر سورۃ (فاتحہ) میں اتنی ہی درخواستیں ہیں جس قدر خداوند (یعنی حضرت عیسی علیہ السلام )کی دعا میں ہیں۔محمدی اس کو اپنی ہر نماز مین کئی دفعہ پڑھتے ہیں ({C}[17]

حاشیہ آرائی میں بعض مقامات پرمترجم نے کلام الہی کو رسول اللہ کے ذہنی پس منظر کا اظہار گردانا ہے۔ سورۃ بقرہ :۱۵ کا ترجمہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے عوض گمراہی خرید کی پس اون کی تجارت نے اون کو کچھ نفع نہ پہونچا یا اور نہ انہوں  نے ہدایت پائی" لکھ کر  حاشیہ  آراء ہیں؛

دعوے نبوت سے پہلے محمد صاحب خود صیغہ تجارت میں مشغول تھے ممکن ہے اس سے یہ خیال پیدا ہوا ہو({C}[18]{C})۔

اسی طرح سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ۳۴   میں مذکور لفظ شیطان کے ذیل میں لکھتے ہیں ؛

آیت ۲۳ میں ابلیس استعمال ہوا ہے اور آیت ۳۴  میں شیطان۔ نئے عہد نامے کے عربی ترجمے مین بھی ابلیس استعمال ہوا ہے ۔ سورۃ کہف آیت ۴۸ مین ابلیس کو جنوں میں سے بتلایا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد صاحب نے فارس اور ہندوستان کے جنوں کے اور پریوں کے افسانوں سے متاثر ہو کر ابلیس کو جنوں میں سے بتلایا ہے ({C}[19]

 اکثر حاشیہ میں قرآنی آیات  کی تائید  کرنے والے بائبل  کے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں  مثلاً دیکھو  زبور ۱۰۴ (ص۵،تحت سورۃ بقرہ آیت ۳۴)، سورۃ بقرہ آیت ۶۱ ؛ مرقس ۸: ۳۰ (ص ۱۰۱،تحت سورۃ مائدہ آیت نمبر ۸۲)وغیرہ ۔اس کے ساتھ ساتھ بائبل کی روایت کے حوالے سے  مسلم مفسرین کی بعض آراء کی نفی کرتے ہیں۔ مثلاً سورۃ بقرۃ آیت ۲۴۹ میں مذکور لفظ " سکینہ " کے تحت رقم طراز ہیں ؛

لفظ "سکینہ " اپنی اصل میں عبرانی ہے محمدی مفسرین نے تسکین سے تعبیر کیا ہے جو بالکل غلط ہے کیونکہ سکینہ اور تابوت دونون کے معنی صندوق کے ہیں لفظ تابوت کے لیے سورہ طہ آیت ۱۳۹ کو دیکھو  یہ قصہ سلاطین باب ۴ ، ۵ ، ۶ سے اخذ ہے۔

بعض مقامات پر  مترجم کی عربی زبان میں درک کی نفی ہوتی ہے۔ مثلاً سورۃ بقرۃ آیت نمبر ۱۴کا ترجمہ درست نہیں ہے۔ ﴿اَللّٰهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ يَمُدُّهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ ﴾  کا ترجمہ اللہ اون سے تمسخر کرتا ہے اور اون کو گمراہی کے چکر میں ڈالے رکھتا ہے کیا گیا ہے۔یہاں کے فعل کی ذمہ داری اللہ  تعالی پر ڈالی  گئی ہے جب کہ اصلاً فعل کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔ پہلے مسیحی اردو مترجم پادری عمادالدین صاحباس آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں :

خدا ان سے ٹھٹھہ کرتا ہے اور ان کی شرارت میں انہیں کھنچتا ہے وہ بہکتے ہیں ({C}[20]

ترجمہ  میں اسماء اور افعال کے ساتھ  بعض دفعہ  " حروف"  کے معنی کا اہتمام کرتے ہیں اور کبھی نہیں  جس سے معنی بدل جاتے ہیں۔

﴿يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِيْهِ وَ اِذَا  اَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوْاؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِم ؕاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌؒ  ﴾  (البقرہ، ۱۹)

میںيَكَادُ کا ترجمہ نہیں کرتے اور آیت کا فعل حال میں یوں ترجمہ کرتے ہیں:

بجلی ان کی بینائی کو جھپٹ کر لے جاتی ہے جب روشنی معلوم ہوتی ہے تب چلتے ہین جب تاریکی چھا جاتی ہے تب کھڑے  رہ جاتے ہیں اگر اللہ چاہے تو اون کی سماعت اور بصارت کو لے جائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ({C}[21]

نیز سورۃ الحجر  کا ترجمہ پتھر کیا گیا ہے حالانکہ یہحِجر ظرف ہے جو کہ قوم صالح کا مسکن  ہے نا کہ  حَجر بمعنی پتھر۔ عربی کلمات و تراکیب کے تراجم میں الفاظ کی  گہرائی اور زبان کی باریکیوں کے بارے عدم تفکر کا اظہار ہوتا  ہے ۔

 یوں بھی یہ ترجمہ عام مسلم قاری کے لیےنہیں بلکہ عربی سے نا بلد مسیحی منادین کے لیے کیا گیا ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ مسیحی منادین کو  قرآنی محتویات سے آشنا کروانے کی غرض سے کیا گیا یہ ترجمہ قرآن  مسلم افکار کی صحیح تصویر کشی نہیں کرتا   بلکہ ”مخصوص زاویہ نگاہ"نے اس  کاوش کی علمی وقعت کو کافی حد تک گھٹا دیا ہے۔

حوالے و حواشی


{C}[1]{C}    ترجمہ قرآن بہ اردو زبان از پادری عمادالدین (نیشنل پریس ، امرتسر۴۱۸۸ء)، صفحات۳۰۴ ، ترجمہ قرآن از پادری احمد شاہ ( زمانہ پریس  کان پور۱۹۱۵ء) ، صفحات۵۸۸ ، تفسیر قرآن از پادری جے علی بخش ( مرکنٹائل پریس لاہور ۱۹۳۵ء) ، صفحات ۲۷۵ ، سلطان التفاسیر ازپادری  سلطان محمد پال ( ایم کے خاں مہان سنگھ ، لاہور س ن) صفحات۱۸۴

{C}[2]{C}    احمد شاہ، پادری ،  ترجمۃ القرآن   ،( زمانہ پریس ، کانپور ۱۹۱۵ء) بدون شمار صفحہ، زیر عنوان  " التماس

{C}[3]{C}    فانڈر، سی جی ، پادری ، میزان الحق ، (پنجاب رلیجس بک سوسائٹی ، لاہور۱۹۶۲ء)،  ص ۱۶۴

{C}[4]{C}    احمد شاہ، ترجمۃ القرآن   ، بدون شمار صفحہ، زیر عنوان  " التماس

{C}[5]{C}    ایضاً       

{C}[6]{C}    ایضاً

{C}[7]{C}    ایضاً ، ص ۱۰۸

{C}[8]{C}    ایضاً   ، ص۱۱۹

{C}[9]{C}    احمد شاہ ، ترجمہ القرآن,  ص ۱

{C}[10]{C}   ایضاً  ، ص بدون نمبر شمار، فہرست  سورہ

{C}[11]{C}   سر سید احمد خاں ، تبیین الکلام فی تفسیر التوراۃ والانجیل علی ملۃ الاسلام ، ( مکتبہ اخوت ، لاہور ، س ن ) ، بدون شمار صفحہ ، حرف اول

{C}[12]{C}   احمد شاہ ، پادری ، ترجمۃ القرآن ،ص ۲

{C}[13]{C}   ایضاً ، ص  ۱

{C}[14]{C}   احمد شاہ ، پادری ، مرآۃ القرآن ، ص۲۵

{C}[15]{C}   احمد شاہ ، پادری ، ترجمۃ القرآن، ص ۱۷۱ ، ۱۷۲

{C}[16]{C}   احمد شاہ ، ترجمہ القرآن، ص۱ 

{C}[17]{C}   ایضاً

{C}[18]{C}   ایضاً

{C}[19]{C}   احمد شاہ، ترجمۃ القرآن   ، ص۵

{C}[20]{C}   عمادالدین ، لاہز ، ترجمہ قرآن بہ اردو زبان ،  امرتسر ۱۸۸۶ء ،  ص ۳

{C}[21]{C}   احمد شاہ، ترجمۃ القرآن   ، ص ۳