ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار
پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

تفسیر روائع البیان کا منہج و اسلوب

رملہ خان

قرآن کریم اپنی حقانیت اور ابدی حفاظت کے اعتبارسے یکتا ہے ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید کی حفاظت اور اس کے بیان کی ضمانت رسول اللہ  ﷺ کو دی ۔ارشاد باری تعالی ہے ۔

{ إِنَّ عَلَینَا جَمعَہُ وَقُرآنَہُ  فَإِذَا قَرَأنَاہُ فَاتَّبِع قُرآنَہُ  ثُمَّ إِنَّ عَلَینَا بَیَانَہُ} (۱)

بے شک اس قرآن کو جمع کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے پس جب آپ اس قرآن کو پڑھ لیں تو اس کے درپے رہیں پھر اس کا بیان ہمارے ذمہ ہے ۔

اللہ تعالی کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر اور تشریح اجمالا اور تفصیلا آپ ﷺ کو عطا کی گئی تھی پھر صحابہ کرام ؓ  قرآن کریم کے معانی ومفاہیم کے جاننے میں لگے رہتے ۔اس کے بعد تابعین کا دور شروع ہوا۔ اور بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں تفسیر کا تدوینی کا م شروع ہوا ۔فن تفسیر پر مستقل کتابیں لکھی گئیں اور تفسیر کے متعدد رجحانا ت پیدا ہوئے ۔ان میں سے ایک اہم رجحان احکامی اور فقہی تفسیر کا ہے ۔معاصر دور کی احکامی تفاسیر کا جائزہ لیں تو اس میں علامہ محمدعلی الصابونی کی  روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکا م من القرآن  ہے ۔

روائع البیان احکام القرآ ن کے موضوع پر لکھی گئی متوسط کتب میں شمار ہوتی ہے ۔اپنے منفرد اسلوب وخصوصیات کی بناء پر اسے عالم اسلام کی متعدد یونیورسٹیوںمیں مقررہ اور مجوزہ کتاب کے طور پر پڑھایا جاتا ہے ۔زیر نظر سطور میں محمد علی الصابونی کے مختصر تعارف کے ساتھ تفسیر روائع البیا ن کے اسلوب وخصوصیات کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔

محمد علی الصابونی کا تعارف

شیخ محمدعلی بن محمد جمیل الصابونی ملک شام کے شہر حلب (الشہباء) میں یکم جنوری ۱۹۳۰ء کو پیدا ہوئے اور اس وقت ان کی عمر پچاسی (۸۵) سال ہے ۔آپ کے والد محمد جمیل حلب کے برگزیدہ عالم تھے ۔دینی ماحول کی وجہ سے آپ کو بچپن ہی سے دینی مجالس اور دیگر مقامات دروس سے قلبی لگاؤ تھا کمال حسن سیرت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی نے شیخ الصابونی کو حسن صورت بھی عطا فرمائی ہے ۔آپ کی صورت میں وقار ومتانت اور دلکشی کے ساتھ ساتھ رعب بھی ہے (۲)

شیخ محمد علی الصابونی اپنے شہر کے مشہو راور نمایا ں علماء کے زیر تعلیم رہے پرائمری سکول سے سند لینے کے بعد انہوں نے مدرسہ التجاریہ میں داخلہ لیا جہاں ایک سال پڑھنے کے بعد حلب کے مشہور مدرسہ خسرویۃ میںداخلہ لیا ۔یہاں آپ نے دینی اور عصری دونوں علوم حاصل کیے اور انگریزی زبان بھی سیکھی۔ گریجویشن میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے باعث شام کے وزارت اوقاف نے آپ کو تعلیم کے لیے مصر میں  جامعۃ الازہر بھیج دیا جہاں آپ نے ۱۹۵۴ء میں قضاء شرعی میں تخصص کی شہادت حاصل کی جو ڈاکٹریٹ کے مساوی ہے ۔

شیخ محمد علی الصابونی نے اپنے علوم میں ماہر متبحر اساتذہ سے علم حاصل کیا جن میں شیخ محمد نجیب سراج، شیخ احمد شماع، شیخ محمد سعید ادلبی، شیخ راغب الطباخ اور شیخ محمد نجیب خیاطہ وغیرہ شامل ہیں۔جامعہ ازہر سے فراغت کے بعد آپ شام تشریف لے گئے اور آٹھ سال تک حلب میں تدریس کے فرائض سر انجام دیے پھر مکہ کی شاہ عبد العزیز یونیورسٹی میں شریعت کے شعبہ میں لیکچرر مقرر ہوئے اور تقریبا تیس (۳۰) سال تدریسی خدمات سر انجام دیں (۳)

محمد علی الصابونی نے مختلف مقامات پر دروس قرآن کے سلسلے جاری رکھے دروس کا یہ سلسلہ آٹھ سال تک جاری رہا۔علامہ صابونی نے جدید دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بھی دینی خدمات پیش کیں جس میں ٹیلی وژن کے لیے تقریبا چھ سو (۶۰۰) پروگرام ریکارڈ کروائے ۔عالم اسلام کی ممتاز اور نامور شخصیات کا انتخاب کرنے والی ایک تنظیم نے ۲۰۰۷ء کے لیے دوبئی انٹر نیشنل قرآنک ایوارڈ کا حق دار شیخ محمد علی الصابونی کو قرار دیا ۔ جامعہ ام القریٰ میں آپ کی علمی اور تحقیقی خدمات کو دیکھتے ہوئے آپ کو مرکز البحث العلمی اور احیا ء التراث الاسلامی کا رکن مقرر کیا گیا ۔ اس دوران آپ نے مشاہیر اسلام کی مایہ ناز کتابوں پر تحقیق کا فریضہ سر انجام دیا ۔جن کتابوں میں آپ نے تحقیق کی ان میں بطور خاص اما م ابو جعفر نحاس (م ۳۳۸ھ )کی کتاب  معانی القرآن ہے (۴)

شیخ محمد علی الصابونی کی تالیفات پچاس کے قریب پہنچ چکی ہیں جن میں  التفسیر الواضح المیسر، التبیان فی علوم القرآن ،صفوۃ التفاسیر ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکا م وغیرہ شامل ہیں ۔

تفسیر روائع البیان کا تعارف

فقہ قرآنی کے محقق آثار میں علامہ محمد علی الصابونی کی تفسیر روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام    سر فہرست ہے۔ علامہ الصابونی نے اس علمی کاوش میں آیات الاحکام کے موضوع کوایک نیا رنگ دے کر انوکھے انداز میں پیش کیا ہے علامہ صابونی نے اپنی فقہی تفسیر کا نام  روائع البیا ن فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن رکھا ہے ۔روائع روعۃ کی جمع ہے جس کے معنی خوبصورتی ہیں۔  روائع البیان کا مطلب بیان کی خوبصورتیاں ہیں ۔

یہ علامہ صابونی کے وہ لیکچرز ہیں جو وہ بطور پروفیسر مکہ مکرمہ کے کلیۃ الشریعۃ میں دیتے رہے ۱۳۹۱ھ میں یہ تفسیر مکمل ہوئی ۔ یہ مکمل ستر (۷۰) لیکچرز ہیں جو دو جلدوں میں تقریبا بارہ سو بتیس (۱۲۳۲) صفحات پر مشتمل ہیں ۔

علامہ صابونی نے اپنی کتاب کا آغاز ایک مختصر مقدمہ سے کیا ہے جس میں قرآن کی عظمت اور اس کے خدمت کے اجر کے بارے میں کلام فرمایا ہے اس کے بعد علامہ صابونی نے تفسیر روائع البیان کے متعلق اپنا  طرز بیان کرتے ہوئے لکھا ہے ۔

ومامثلی الاکمثل انسان رأی جواھر واللآلی، ودررا ثمینۃ مبعثرۃ ھنا وھناک ،فجمعھا ونظمھا فی عقد واحد (۵)

اور میری مثال ایک ایسے انسان کی مانند ہے جو جواہرات اور قیمتی موتیوں کو ادھر ادھر بکھرا ہو ا دیکھے تو ان کو جمع کر کے ایک لڑی میں پرو دے ۔

روائع البیان کا اسلوب

یوں تو قرآن کی ساری آیات انسان کی ہدایات کے لیے نازل ہوئی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر آیت نے خاص موضوع کو سمیٹا ہوا ہے بعض آیات احکام شرعیہ کی خبر دیتی ہیں اور بعض اقوام ماضیہ کے قصص بتلاتی ہیں اور بعض امثال قرآنیہ سے متعلق ہیں اور بعض بیا ن کے معارف اور مختلف مسائل کی وضاحت کرتی ہیں ۔علامی صابونی نے آیات الاحکام کی تفسیر میں صرف ان آیات کومنتخب کیا ہے جو احکام سے متعلق ہیں اور فقہی احکام کوبھی صرف ان ہی آیات میں تلاش کیا ہے جو اس سے متعلق ہیں اور واضح اور روشن بھی ہیں ۔

علامہ صابونی نے اپنی تفسیر روائع البیان میں ان آیات کا ذکر نہیں کیا جو عقود معاملات اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے متعلق ہیں ۔

علامہ صابونی نے روائع البیان میں ابواب قائم کیے ہیں اور ہر باب کو فصول میں تقسیم کیا ہے اور اپنی تحقیقات کو دس عنوانات کے تحت ذکر کیا ہے ۔(ان عنوانات کی مثالوں کا حوالہ حواشی میں دیا گیا ہے)

۱۔         التحلیل اللفظی مع الاستشھاد بأقوال المفسرین وعلماء اللغۃ ۔

اس عنوان کے تحت علامہ صابونی نے آیت کے الفاظ کی تحقیق کرتے ہوئے ادبی اور بلیغ نکات کو بیان کیا ہے ۔ اس ضمن میں وہ دیگر مفسرین کے اقوال تحریر کرتے ہیں اور ساتھ ہی جہاں مناسب ہو حدیث نبوی ﷺ کا حوالہ بھی ذکر کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ مختلف علماء لغت کی تحقیقات کو بھی شامل تحریر فرماتے ہیں ۔(۶)

۲۔       المعنی الاجمالی لآیات الکریمۃ بشکل مقتضب ۔

اس عنوان کے تحت علامہ صابونی آیات کریمہ کے اجمالی معنی کو بیان کرتے ہیں ۔تحلیل لفظی کرنے کے بعد آیت کے اجمالی معنی کو بیان کرنے سے ان کا مقصد آیات کی مراد کو واضح سے واضح تر کرنا ہے یوں کہا جاسکتا ہے کہ اگر تحلیل لفظی میں لغوی تشریح کو الگ عنوان کے تحت جمع کیا گیا ہے تو المعنی الاجمالی کے عنوان کے تحت آیات کریمہ کی معنوی تشریح کو بیان کیا ہے جس سے آیت کی مراد اور اس سے مستنبط ہونے والے مسائل تک پہنچنا آسان ہوجاتا ہے ۔

اجمالی معنی بیان کرتے ہوئے علامہ صابونی آیات قرآنیہ احادیث مبارکہ اور دیگر مفسرین کی رائے کو بھی بطور حوالہ پیش کرتے ہیں

علامہ صابونی آیت کے اجمالی معنی بیان کرتے ہوئے ایک ساتھ پوری آیت کو شامل تحریر نہیں فرماتے بلکہ آیت کے کچھ حصے ذکر کرکے اس کے اجمالی معنی بیان کرتے ہیں پھر بقیہ حصوں کو تھوڑ ا تھوڑا کرکے ان کے اجمالی معنی بیان فرماتے ہیں ۔اسی لیے عنوان میںالفاظ  بشکل المقتضب کا اضافہ کیا گیا ہے ۔(۷)

۳۔       سبب النزول

آیت کی تحلیل لفظی اور اجمالی معنی بیان کرنے کے بعد صاحب روائع البیان سبب النزول  عنوان کے تحت آیت کا سبب نزول بیان کرتے ہیں میں اختلافی اقوال موجود ہوں تو علامہ صابونی ان اقوال کو مختصر مگر جامع انداز میں حوالہ کے ساتھ تحریر فرماتے ہیں(۸)

۴۔       وجہ الارتباط بین الآیات السابقۃ والاحقۃ

علامہ صابونی اپنی تفسیر روائع البیان میں آیات کا ماقبل ومابعد سے ربط الگ عنوان کے تحت ذکر فرماتے ہیں اور مقدمہ میں ترتیب کے اعتبار سے  وجہ الارتباط  کو سبب نزول کے بعد چوتھے نمبر پر تحریر فرماتے ہیں

لیکن آیات کی تفسیر کرتے ہوئے کبھی تو معنی الاجمالی سے پہلے  وجہ الارتباط ذکر کرتے ہوئے ہیں اور کبھی  معنی الاجمالی کے بعد تحریر فرماتے ہیں اور کسی آیت کی تفسیر میںسبب نزول کے بعد  وجہ الارتباط تحریر فرماتے ہیں ۔ علامہ صابونی نے جلد اول میں دس (۱۰)مقامات پر وجہ الارتباط کے عنوان سے ربط آیات تحریر فرمایا ہے اور دو مقامات پر وجہ المناسبت بین الآیات  کے عنوان ربط آیات تحریر فرمایا ہے اور ایک مقام پر سورۃ سبامیں  وجہ المناسبۃ کے عنوان سے ربط آیت تحریر فرمایا ہے ۔(۹)

۵۔       البحث عن وجوہ القراء ات المتواترۃ

اس عنوان کے تحت علامہ صابونی اختلاف قراء ت کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں جس میں جمہور کی آراء کے ساتھ دیگر مفسرین کی آراء کو بھی تحریر فرماتے ہیں ۔(۱۰)

 

۶۔       البحث عن وجوہ الاعراب بالایجاز

علامہ صابونی اختلاف قراء ت کو ذکر کرنے کے بعد  وجوہ الاعرابعنوان کے تحت مختصراوجوہ اعراب بیان کرتے ہیں ۔اس عنوان کے تحت صاحب روائع البیان نہایت عمدگی سے نحوی ابحاث  ذکر کی ہیں جو ان کی نحو میں مہارت کی نمایا ں دلیل ہیں (۱۱)

۷۔       لطائف التفسیر وتشمل الاسرار والنکات البلاغیۃ والدقائق العلمیۃ

وجوہ الاعراب کے بعد علامہ صابونی لطائف التفسیر عنوان کے تحت آیات سے متعلق لطیف نکات تحریر فرماتے ہیں جس میں آیات کے اسرار ،علمی باریکیاں اور فصیح وبلیغ نکات شامل ہیں علامہ صابونی ان تفسیری نکات کو بیان کرتے ہوئے کہیں دیگر آیات سے مددلیتے ہیں اورکہیں مفسرین کے مختلف اقوال بطور حوالہ تحریر فرماتے ہیں ۔وہ لطائف کو  اللطیفۃ الاولی ،اللطیفۃ الثانیۃ،اللطیفۃ الثالثۃ کے عنوان سے الگ الگ تحریرفرماتے ہیں ،جس سے قاری کے لیے ان کو پڑھنا ،سمجھنا آسان ہوجاتا ہے اور آیت سے مراد اور معنی بہترین طور پر واضح ہوجاتے ہیں (۱۲)

۸۔       الاحکام الشرعیۃ وادلۃ الفقہاء مع الترجیح بین الأدلۃ

اس عنوان کے تحت علامہ صابونی آیت سے متعلقہ شرعی احکام ذکر فرماتے ہیں جس میں فقہاء کے آراء ،دلائل اور راجح اقوال کو الگ الگ ذکر فرماتے ہیں ان شرعی احکام کے بیان کرنے کا انداز علامہ صابونی کی تفسیر کو دیگر تفاسیر سے ممتاز کرتا ہے اور احکام القرآن کے سیکھنے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس میں وہ شرعی احکام کو ایک سوال کی صورت میں نمبر وار تحریر فرماتے ہیں اور ہر حکم کے جواب کے طور پر مذاہب کے اختلافات ،دلائل اور دیگر مفسرین کی آراء کو تحریر فرماتے ہیں ۔ نیز بیشتر مقامات پر راجح اقوال کی نشاندہی کرتے ہیں اور   اقول کے تحت اپنی اجتہادی رائے بھی ذکر فرماتے ہیں (۱۳)

۹۔       ماترشدالیہ الآیات الکریمۃ بالاختصار

          علامہ صابونی اس عنوان کے تحت آیت کے مضمون کا ایک خلاصہ یا نچوڑبیان کرتے ہیں اور تمام نکات کو نمبر وار ذکر کرتے ہیں ۔آیات کے مضمون کا خلاصہ بیان کرنے کا یہ انداز بہت منفرد ہے اورجیساکہ علامہ صابونی کا یہ مقصد ہے کہ وہ آیت کے مراد کو واضح سے واضح تر کرنا چاہتے ہیں تو یہ انداز تفسیر ان کی اس مراد کو بخوبی پورا کرتا ہے (۱۴)

۱۰۔       خاتمۃ البحث

          مضمون آیات کے خلاصہ کے بعد علامہ صابونی  خاتمۃ البحث عنوان کے تحت آیت میں موجود تشریعی حکمتوں کو بیا ن کرتے ہیں شرعی احکام میں حکمتوں کا تذکرہ علامہ صابونی کی تفسیر روائع البیان کا خاص امتیاز ہے کیونکہ یہ نکتہ اسلاف کی تفاسیر میں نادر الوقوع ہے(۱۵)

روائع البیان کے خصائص

علامہ صابونی کی تفسیر  روائع البیان کے چند اہم خصائص درج ذیل ہیں ۔

استنباط احکام میں احتیاط

صاحب روائع البیان نے اپنی تفسیر میں استنباط احکام اور فقہی مباحث کو تحریرکرنے میں نہایت احتیاط سے کام لیا ہے جس سے ان کی علمی دیانتداری ،عظمت اور علمی وتحقیقی عمیق وطویل مطالعہ جیسی خصوصیات نمایاں ہوتی ہیں علامہ صابونی اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں ۔

وما کنت اسطرشیئا حتی اقرأ علی خمسۃ عشر مرجعا من امھات المراجع فی التفسیر ،عدا عن مراجع اللغۃ والحدیث ،ثم الکتب ھذہ المحاضرات مع التنبیہ الی المصادر التی نقلت عنھا بکل دقۃ والامانۃ (۱۶)

علامہ صابونی نے آیت کی تفسیرمیں اتنی احتیاط سے کام لیا ہے کہ ایک سطر لکھنے سے پہلے پندرہ سے زائد ان تفاسیر کو پڑھا ہے جس کا شمار مصادر اصلیہ میں ہوتا ہے ،اس کے علاوہ لغت حدیث کی کتب کی طرف بھی رجوع کیا ہے اور پھر یہ محاضرات تحریر کیے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ تحقیق اور امانت کی رعایت رکھتے ہوئے مصادر کے حوالہ جات بھی تحریر کیے ہیں ۔

علامہ صابونی نے روائع البیان میں زیادہ تر دیگر مفسرین کے اقوال کو نقل کیا ہے اور اپنی رائے بیان کرنے میں بہت زیادہ احتیاط سے کا م لیا ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں

ولست ازعم ان ماجاء فی ھذا الکتاب ھو من بھدی الشخصی فحسب بل ھو خلاصۃ الآراء مشاہیر المفسرین فی القدیم والحدیث(۱۷)

میں ہر گز یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نے جو کچھ اس کتاب میں لکھا ہے وہ میری ذاتی کوشش اور محنت ہے بلکہ یہ سب مشہور قدیم اور جدید مفسرین کی آراء کا خلاصہ ہے ۔

تفسیر  روائع البیان کے مطالعہ سے یہ بات بخوبی معلوم ہوتی ہے کہ محمد علی الصابونی نے آیات کی تفسیر میں متقدمین اور متأخرین کی تفاسیر سے بھر پور استفادہ کیا ہے۔اور انتہائی جامعیت سے ان کی آراء ذکر کی ہیں ۔نیز اپنی ترجیحی رائے بیان کرنے میں بھی انتہائی غیر جانبداری سے کام لیا ہے

علامہ صابونی کا استنباط احکام میں احتیاط کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی تفسیر میں جو دو سو چالیس (۲۴۰) آیات ذکر کی ہیں ان سب سے استنباط نہیں کیا اور اکثر مقامات پر محض تفسیر پر ہی اکتفاء کیا ہے مثال کے طور پر علامہ صابونی نے سورۃ الواقعۃ کی تفسیر میں  حرمت مس المصحف کے عنوان کے تحت تیرہ (۱۳) آیات ذکر کی ہیں لیکن صرف دو آیات سے احکام کا استنباط کیا ہے ۔(۱۸)

تنقیص سے اجتناب

علامہ صابونی نے اپنی تفسیر میں حتی الامکان تنقیدی اسلوب سے اجتناب کیا ہے جوان کے علمی اور تحقیقی میدان میں مہارت کی دلیل ہے ۔جیساکہ مصنف محقق کے بارے میں ابو الحسن ندوی ؒ لکھتے ہیں ۔

یہ حقیقت ہے کہ اہل علم اور بحث وتحقیق کا سنجیدہ اور مخلصانہ کام کرنے والوں کا طبقہ ہمیشہ دوسرے ہم پیشہ اور ہم مذاق لوگوں کے مقابلہ میں زیادہ فراخ دل وسیع النظر اور دوسرے کی محنت وکاوش کا اعتراف کرنے میں عالی حوصلہ ہوتاہے  (۱۹)

علامہ صابونی کی زیادہ تر تحقیقات اسلاف کی آراء سے جاملتی ہیں ،البتہ عصر حاضر کے مسائل میں معاصر علماء کے اقوال ،بعض شبہات اور ان کے جوابات بھی شامل تحریر ہیں ،لیکن ان تمام مقامات پر علامہ صابونی  البغض للہ  کے تحت مسائل پر نکیر کرتے ہیں لیکن معاصر علماء کی تحریر کو اس انداز سے تنقید کا نشانہ نہیں بناتے جیسا کہ عموما ً اہل علم حضرات اپنی تحریروںمیں مخصوص تنقیدی اسلوب سے اجتناب اور اچھی تعبیر کو اختیار کرنا علامہ صابونی کے قلم کے محسنات میں شمار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سورۃ النساء کی آیت نمبر ۳  { فَانکِحُوا مَا طَابَ لَکُم مِنَ النِّسَائِ مَثنَی وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ}کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ صابونی ان حضرات کی خلاف سختی سے کلام کرتے ہیں جو اس آیت سے استدلا ل کرتے ہوئے ایک وقت میں نو (۹)  عورتوں سے نکاح تجویز کرتے ہیں (۲۰)

بیان کی سلاست وروانی

علامہ صابونی کی تفسیر  روائع البیان کی ایک نمایاں خصوصیت اس میں بیان کی سلاست وروانی ہے ،علامہ صابونی مشکل سے مشکل ابحاث کو اتنے سہل انداز میں بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو ایک لمحہ کے لیے بھی تعب اور تکان محسوس نہیں ہوتا ۔ہر مسئلہ پر دیگر مفسرین کی آراء ذکر کرتے ہوئے علامہ صابونی نے اس بات کا خصوصی خیال رکھاہے کہ جہاں پر مشکل الفاظ اور طویل عبارت ہو وہاں پر انہوں نے آسان الفاظ میں خلاصہ تحریر کیا ہے ۔

ان کی تفسیرپڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی خدمت میں حاضر ہوکر خود ان کی تفسیر سن رہے ہوں ۔جو لوگ تصنیف کے شعبہ سے وابستہ ہیں وہ اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ تقریر کے اندازکو تحریر میں ڈھالنا نہایت مشکل امر ہے ۔ لیکن علامہ صابونی کی تفسیر میں ان کے بیان کی سلاست وروانی بخوبی جھلکتی ہے ۔

صرفی و نحوی مباحث

قرآن حکیم کے ترجمہ وتفسیر کے لیے جن علوم میں مہارت ضروری ہے ان میں صرف ونحو میں مہارت ایک لازمی جزو ہے ۔اکثر مفسرین اپنی تفسیر میں نحوی مسائل پر طویل ابحاث ذکر کرتے ہیں لیکن علامہ صابونی نے اس روش سے گریز کیا ہے ۔وہ جہاں ضرورت ہو وہاں پر مختصر اور جامع بحث بیان کرتے ہیں ان کی بلاغت پر مشتمل ابحاث سے ان کی صرف ونحو میں دلچسپی اور مہارت نمایاں ہوتی ہیں۔ مثلا ًسورۃ البقرۃ کی آیت ۱۷۳میں { فَمَنِ اضطُرَّ غَیرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ }کی تفسیر میں  باغ کی لغوی تحقیق کرتے ہوئے علامہ صابونی تحریر کرتے ہیں ۔

                     الباغی فی اللغۃ: الطالب لخیر أو لشر ومنہ حدیث( یا باغی الخیر أقبل) وخُصّ ہنا بطالب الشر۔قال الزجاج: البغی قصدُ الفساد یقال: بغی الجرح إذا ترامی للفساد۔ وبغت المرأۃ إذا فجرت۔عَادٍ : اسم فاعل أصلہ من العدوان وہو الظلم ومجاوزۃ الحد۔والمراد بالباغی من یأکل فوق حاجتہ والعادی من یأکل ہذہ المحرمات وہو یجد غیرہا۔قال الطبری: وأولی ہذہ الأقوال قول من قال: {فَمَنِ اضطر غَیرَ بَاغٍ }بأکلہ ما حرم علیہ من أکلہ {وَلاَ عَادٍ } فی أکلہ ولہ فی غیرہ مما أحلہ اللہ لہ مندوحۃ وغنی ۔  (۲۱)

یعنی باغی لغت میں کہتے ہیں خیر یاشر کو تلاش کرنے والا ،او رحدیث میں آتا ہے (اے خیر کے طلب گار آگے بڑھ)اور یہاں پر شر تلاش کرنے والے کے ساتھ مخصوص ہے۔ زجاج نے کہا :  بغی سے مراد فساد کا ارادہ کرنا ہے بغی الجرح کہا جاتا ہے ،جب فساد کے لیے تیر پھینکے جاتے ہیں اور بغت المرأۃ کہا جاتا ہے جب عورت بدکاری کرے ۔ عاد:اسم فاعل ہے اس کی اصل عدوان سے ہے یعنی ظلم کرنا اور حد سے تجاوز کرنا ۔یہاں باغ سے مراد وہ شخص ہے جو ضرورت سے زائد کھاتا ہو ،اور عادسے مراد وہ شخص ہے جوحرام کردہ چیزوں کو کھاتا ہو جبکہ ا ن کے پاس ان محرمات کے علاوہ بھی موجود ہو ۔ طبری نے کہا :ان اقوال میں بہتر قول اس کا ہے جس نے کہا  {فَمَنِ اضطر غَیرَ بَاغٍ }مراد اس چیز کا کھانا ہے جس کاکھانا اس پر حرام ہو{ولا عاد}سے مراد یہ ہے کہ حرام چیز کا کھانا جب کہ اس کے پاس اس کے علاوہ وہ چیزیں بھی موجود ہوں جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور اس کو وسعت اور تونگری عطا کی ہو ۔

اصطلاحی تعریفات اور فقہی قواعد کا اہتمام

علامہ صابونی کی تفسیر روائع البیان کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے تفسیر کی اصطلاحات کی تعریفات کا خاص اہتمام کیا ہے ۔ جہاں کہیں علوم حدیث ، علوم قرآن یا فقہ سے متعلق کوئی اصطلاح استعمال ہوئی ہے وہاں علامہ صابونی نے اس اصطلاح کی تعریف کا بھی ذکر کیا ہے ۔

اور فقہی مباحث میں اکثر مقامات پر اصل قاعدہ فقہیہ تحریرکیا ہے ،مثال کے طور پر سورۃ بقرۃ کی آیت ۱۰۲  تا  ۱۰۸میں {  مَا نَنسَخ مِن آیَۃٍ أَو نُنسِہَا نَأتِ بِخَیرٍ مِنہَا أَو مِثلِہَا}کی تفسیر میں علامہ صابونی نسخ کے لغوی معنی بیان کرتے ہوئے نسخ کی تعریف کرتے ہیں

النسخ  : ھو رفع الحکم الشرعی ،بدلیل شرعی متأخر(۲۲)

اسی طرح سورۃ البقرہ کی آیت ۲۷۵تا ۲۸۱کی تفسیر میں سود کے متعلق احکام شرعیہ بیان کرتے ہوئے علامہ صابونی قاعدہ فقہیہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

والقاعدۃ الفقہیۃ فی ھذالنوع من التعامل ھی انہ (اذا اتحد الجنسان حرم الزیادۃ والنَّساء واذا اختلف الجنسان حل التفاضل دون النساء)(۲۳)

یعنی اس قسم کے عمومی معاملات میں قاعدہ فقہیہ یہ کہ جب دو چیزیں ایک ہی جنس سے ہوں تو  زیادتی اور ادھار کرنا حرام ہے اور جب دو چیزیں مختلف جنس سے ہوںتو زیادتی کرنا حلال ہے اور ادھار کرنا حلال نہیں ہے ۔

عصر حاضر کے مسائل کی نشاندہی کا  اہتمام

علامہ صابونی نے اپنی تفسیر  روائع البیان میں عصر حاضر کے اہم مسائل کی طرف نشاندہی کی ہے اور اکثر مقامات پر ان کا حل بھی قرآن وسنت کی روشنی میں پیش کیا ہے ۔

تفسیری اور فقہی تصنیفات اسی وقت مفید اور کا ر آمد ہوتی ہیں جب مفسر یا فقیہ پہلا قدم منابع اور متون کی طرف خوب وضاحت سے اٹھائے اور دوسرا قدم موجودہ دور کی دینی مشکلا ت کی وضاحت کی طرف اٹھائے پھر معارف دین کے سہارے ان کی جڑ تک رسائی اور ان کو جڑ سے اکھاڑنے کا طریقہ مہیا کرے ۔علامہ صابونی نے بھی اس راستہ میں قدم رکھ کر اپنی تفسیر کو تحریر کیا ہے ۔

اس ضمن میں وہ بیسویں صدی کے تہذیب وتمدن پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں

ایہ عصر العشرین ظنوک عصرا       نیّر الوجہ  مسعد  الانسان

لست  نوراً  بل  انت  نار  و ظلم         مذ جعلت الانسان کالحیوان (۲۴)

بس کر اے بیسویں قرن ،لوگ تو تجھے سنہرا اور خوش بختی کا دور سمجھتے ہیں پھر حقیقت یہ ہے

 کہ تو کوئی نور نہیں ہے بلکہ جب سے تم نے انسان کو جانور بنایا ہے تو تم آگ اور ظلم بن چکے ہو ۔

اس شعر کے چناؤسے اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ صابونی دورحاضر میں تباہی اوربربادی کے اسباب کو کتنی باریک بینی سے سمجھتے اور اس کادرد اپنے دل میں رکھتے ہیں ۔جس کا اظہار اکثر مقامات پر ہوتا ہے۔  علامہ صابونی نے عصر حاضر کے جن مسائل کا ذکر کیا ہے ان میںچند ایک درج ذیل ہیں ۔

۱۔         عورتوں کی بے حجابی ،غیر محارم سے ملنا اور محرم کے بغیر سفرکرنا (۲۵) یہ بات علامہ صابونی کو اس قد ر بے چین کردیتی ہے کہ کئی مقامات پر وہ اس کے فسادپر کلام کرتے ہیں اور بعض اوقات اپنی بات کو استرجاع پر ختم کردیتے ہیں ۔ علامہ صابونی قرآن و حدیث کی روشنی میںاس مسئلے پر مفصل گفتگو فرماتے ہیں کہ مسلمان عورتوں پر حجاب فرض ہے اور پردے کے حکم کو نماز پر قیاس کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنی بیٹیوں کو اسی ترتیب سے پردہ کی عادت ڈالے جس ترتیب سے حدیث میں نبی کریم ﷺ نے بچوں کو نماز کی عادت ڈالنے کا حکم دیا ہے کہ سات سال کی عمر میں اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو اور جب دس سال کی ہو جائے تو نماز نہ پڑھنے پر انہیں مارو۔اگر آج کے اس پرفتن دور میںوالدین اس سنہری اصول کو اولاد کی تربیت میں لازم پکڑ لیں تو کچھ مشکل نہیں کہ نئی نسل حیا دار اور نماز کی پابند بن جائے ۔اور ایسی ہی اولاد  دنیا اور آخرت میں ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور نجات کا سبب ہو گی جو اپنی شرم و حیا اور اپنے فرائض خاص طور پر نماز کی حفاظت کرنے والی ہو گی۔

۲۔       قرآن کریم اور دینی علوم سکھانے پر اجرت لینے کے مسئلے کو  بیان کرتے ہوئے علامہ صابونی اجرت لینے اور نہ لینے کی آراء کو بہت متوازن انداز سے بیان کرتے ہوئے اس رائے کو ترجیح دیتے ہیں جو اجرت لینے کے جواز کے بارے میں ہے۔(۲۶)  اس سلسلے میں علامہ صابونی اجرت نہ لینے کی رائے کا حترام کرتے ہوئے کہتے  ہیں کہ یہ ان علماء کی فقہی نظر کی گہرائی ہے کہ وہ دینی علوم کے سکھانے کو عبادت کے مرتبے کی طرف منسوب کرتے ہیں  اور یہ نظر اسی لائق ہے کہ دینی علوم پر اجرت نہ لینے کا  فتوی دیا جائے ،پھر ا سکے ساتھ علامہ صابونی اجرت لینے کے جواز کو ترجیح دیتے ہوئے وضاحت کرتے ہیں کہ اگر اس کے جواز کو اختیار نہ کیا جائے تو پھرکوئی دینی علوم سکھانے والا نہیں ملے گا اور یہ علوم ضائع ہو جائیں گے

۳۔       کیمرہ سے تصویر  اتارنے اور ویڈیو بنانے کے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے علامہ صابونی لکھتے ہیں:

انہ لیس تصویرابالید ،ولکنہ فی الضرروالحرمۃ اشد من التصویر بالید (۲۷)

یعنی بے شک یہ ہاتھ سے بنائی گئی تصویر نہیں ہے لیکن اس کے نقصانات اور اس کی حرمت ہاتھ سے بنائی گئی تصویر سے بہت زیادہ ہے۔

          اس مسئلے کو بیان کرتے ہوئے علامہ صابونی  تصویر کا معنی و مفہوم وضاحت سے بیان کرتے ہوئے کیمرے سے اتاری گئی تصویر کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ کیمرے سے جو عکس لیا جاتا ہے اسے ہم عرف میں تصویر کہتے ہیں ،  لیکن کیمرے سے تصویر لینا تصویر کے صریح حکم میں داخل نہیں ہے  لہذا کیمرے کے ذریعے تصویر بنانے پر جواز کا اطلاق کیا جائے گا کیونکہ وہ تصویر نہیں بلکہ صرف عکس یعنی سایہ ہے ۔اس لیے اس کو تصویر کہنا مناسب نہیں ،لیکن اس کی اباحت پر ضرورت کی حد تک اکتفا کیا جائے گا جیسے شناختی کارڈ ،پاسپورٹ یا بعض استثنائی صورتوں میں تبلیغ دین کے لیئے ٹی وی پر آنا  وغیرہ کی گنجائش موجود ہے ۔

۴۔       دور حاضر میں عموما قراء حضرات گانے کے انداز میں قرآن پڑھتے ہیں ،علامہ صابونی نے اس سلسلے میں تلحین کے ساتھ قرآن پڑھنے کے مسئلے کو نہایت وضاحت اور خوبی سے بیان کیا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ عموما قراء حضرات تجوید کے قواعد سے ہٹ کر محض آواز کی خوبصورتی اور دوسروں کو خوش کرنے کی بنیاد پر قرآن مجید کو گانے کی طرز پر پڑھتے ہیں مثلا الف مقصورہ کو لمبا کرنا ،مد کیے جانے والے حروف کو مختصر پڑھنا اور موٹے حروف کو باریک پڑھنا ،جہاں ادغام کرنا چاہیے وہاں اظہار کرنا اور جہاں اظہار کرنا چاہیے وہاں اخفاء کرنا وغیرہ ۔غرض تجوید و قراء ت کے آداب سے قطع نظر صرف دنیاوی مقاصد کے حصول کے لیے گانے کی طرح قرآن پڑھنا فقہاء کے نزدیک حرام ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ علامہ صابونی نے ان قراء حضرات پر نکیر کی ہے جو اس انداز میں قرآن پڑھتے ہیں اور اسے خوبی کا باعث سمجھتے ہیں ۔(۲۸)  علامہ صابونی کے اسلوب سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ آپ  افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اعتدال کے رستے پر چلے ہیں اور مسائل میں ترجیح بیان کرتے ہوئے ہر قسم کے مذہبی تعصب سے بالا تر ہو کر صرف دلائل کی بنیاد پر ترجیح دینے کو پسند کرتے ہیں اور مختلف فیہ مسائل بیان کرنے میں اکثر مفاہمتی ادب کے رموز کو اختیار کرتے ہیں ۔

روائع البیان میں چند اہم موضوعات کا اہتمام

علامہ صابونی کی تفسیر روائع البیان کی ایک نمایاں خصوصیت اس میں مذکور چند اہم مضامین ہیں۔  علامہ صابونی نے ان مضامین کو الگ عنوان کے تحت تفصیل سے ذکر کیا ہے جو قاری کی علمی پیاس بجھانے اور بات کو زیادہ مدلل اور پر اثر بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔مثلا ً سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۰۱تا۱۰۳{یُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحرَ }کی تفسیر بیان کرتے ہوئے جادو کی اقسام کو ضروب السحر کے عنوان سے تحریر کیا ہے (۲۹) جس سے جادو کی حقیقت اور اس کے طریقہ کار کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔

اسی طرح سورۃ الاحزاب کی آیات ۵۰تا۵۳کی تفسیر بیان کرتے ہوئے حکمۃ تعدد زوجات الرسول کے عنوان سے نہایت مدلل اور مفصل مضمون تحریر کیا ہے جس میں حضو ر  ﷺ کی تعدد ازواج کی تعلیمی ،تشریعی ،اجتماعی اور سیاسی حکمتوں کو بیان کیا ہے ۔ پھر امھات المؤمنین الطاھراتکے عنوان سے مضمون تحریر کیا ہے جس میں امھات المؤمنین کے حالات زندگی اور ان کے فضائل مفصل بیان کیے ہیں اس کا مقصد ان تمام شبہات کا رد ہے جو دشمنان اسلام نے حضور ﷺ کے تعدد ازواج پر کیے ہیں (۳۰)

جوا اور اس کی مختلف صورتوں کو بھی وضاحت سے بیان کیا ہے (۳۱)

فوٹو گرافی کے ذریعے تصویر کے مسئلہ پر بہت مدلل اور مفصل مضمون قلم بند کیا ہے (۳۲)اس کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے گمراہ کن فتنوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے سد باب کے ذرائع کی طرف راہنمائی بھی فرمائی ہے (۳۳)

علامہ صابونی نے روائع البیان کی تالیف میں قرآن کریم ،تفسیر ،حدیث ،فقہ اور احکام القرآن کے موضوع پر مختلف تالیفات میں سے مضبوط اور مستند مصادر کو بنیاد بنایا ہے ۔

خلاصہ بحث

تفسیر روائع البیان کے تجزیاتی مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ تفسیر بلا شبہ ایسی تفسیر ہے جو دور جدید کے مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوسکتی ہے ۔ اس تفسیر میں علامہ صابونی کا اسلوب بیان جدید انداز کا ہے ۔عنوانات کو الگ تحریر کرنا ،ہر بحث کو الگ باب کے تحت پیش کرنا اور خاص طور پر آیات کی تفسیرکے اختتام پر آیات کا خلاصہ اور خاتمۃ البحث تحریر کرنا ان کے اسلوب تفسیر کو دیگر تفاسیر سے ممتاز کرتا ہے ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اصل میں یہ محاضرات یعنی لیکچرز ہیں جنہیں تفسیر کی صورت میں تحریر کیا گیا ہے لیکن یہ بات نہایت اہم ہے کہ اس اسلوب تحریرکی بناء پر اس تفسیر کا شمار جدیداسلوب بیان پر مشتمل جدید تفاسیر میں ہوتا ہے ۔

اگر تحقیقی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو چند فقہی اقوال میں اختلاف نظر آتا ہے لیکن دوسری طرف اس تفسیر میں مواد کی پختگی اور فکر کی گہرائی بدرجہ اتم موجود ہے ۔ علامہ صابونی نے اپنی تفسیر روائع البیان میں قدیم مصادر سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ جدید تفاسیر مثلاًشیخ سائس کی آیات الاحکام    سید قطب کی  فی ظلال القرآن اور ابو الاعلی مودودی کی تحریرات سے بھی اکتساب کیا ہے ۔

روائع البیان میں صرف فقہی احکام بیان کرنے پر اکتفا ء نہیں کیا گیا بلکہ اسلامی معاشرے میں اس کے نفاذ اور تطبیق کا راستہ بھی بتا یا گیا ہے ۔خلاصہ یہ کہ روائع البیان احکام القرآن کی بہترین تسہیل ہے اور اس کا جدید اسلوب اس کو دیگر تفاسیر سے ممتاز کرتا ہے  روائع البیان کے تجزیاتی مطالعہ کے بعد اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ  روائع البیان میں علامہ صابونی کی ترجیحات اور استنباط احکام پر تحقیق کے ساتھ ساتھ اس تفسیر کے ترجمہ کا بھی اہتمام کرنا چاہئے ۔جو طلباء کے ساتھ ساتھ عوام الناس کے لیے بھی مفید ثابت ہوگا۔

 

حوالے و حواشی

۱۔        سورۃ القیامۃ ، ۲۹:۱۹

۲۔       ابراہیم موسی کی شیخ شعیب سے گفتگو (انٹر ویو)ciiنیوز ،۱۴محرم ۱۴۳۵ھ بمطابق ۱۸نومبر ۲۰۱۳ء

۳۔       شیخ محمد علی الصابونی کے بیٹے احمد علی الصابونی سے ای میل کے ذریعے یہ حالات معلوم کیے گئے ہیں 

                                                          amsabouni@hotmail.com.

۴۔       The Muslim 500،ایڈیشن ۲۰۱۳،ریکنگ نمبر ۲۶

۵۔       الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۱۲

۶۔       الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن ‘  ۱/۱۳۳، ۱/۳۹۸، ۳/۴۴۳

۷۔       الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن ‘  ۱/۴۸۵، ۲/۶۰۱، ۴/۲۷۳

۸۔       الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن ‘  ۱/۷۱، ۲/۳۷۷، ۲/۶۰۹

۹۔       الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘ ۱/۱۱،۱/۹۳،۲/۳۹۹

۱۰۔       الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۲۲۴، ۱/۵۷۸، ۱/۵۹۱

۱۱۔       الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۳۴۳،  ۲/۲۸۹،  ۲/۵۸۶

۱۲۔       الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۲۶۶، ۲/۱۰۶، ۳/۴۲۸

۱۳۔      الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۱۳۹، ۱/۱۴۱، ۳/۴۵۰

۱۴۔      الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن ‘  ۱/۵۶۷،۴/۲۴۷

۱۵۔      الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۵۵۷

۱۶۔       الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۱۲

۱۷۔      الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۱۲

۱۸۔      الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۲/۵۰۴

۱۹۔       ندوی ،ابو الحسن ،اسلامیات اورمغربی مستشرقین اور مسلمان مصنفین ،دار المصنفین شبلی اکیڈمی،  اعظم گڑھ ،  ۲۰۰۱،۵

۲۰۔      الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۴۲۷

۲۱۔       الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۱۵۶

۲۲۔      الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۹۰

۲۳۔الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۳۹۲

۲۴۔      الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن ‘  ۲/۱۶۳

۲۵۔      الصابونی ، محمد علی ، روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۲/۳۸۰،  ۱/۱۴۳، ۲/۵۶۶

۲۶۔      الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۱۵۱

۲۷۔     الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۲/۴۱۶

۲۸۔      الصابونی ،محمد علی ،روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۲/۲۶۹

۲۹۔      الصابونی ،محمد علی ، روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۷۷

۳۰۔     الصابونی ،محمد علی ، روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۲/۳۲۷

۳۱۔      الصابونی ،محمد علی ، روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۲۷۹

۳۲۔الصابونی ،محمد علی ، روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۱/۴۱۷

۳۳۔الصابونی ،محمد علی ، روائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام من القرآن‘  ۲/۳۸۵،  ۱/۳۹۶