ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار
پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

پروفیسر حافظ احمد یار ؒ اور فن خطاطی
جناب  راشد شیخ

            فن خطاطی وہ مقدس فن ہے جس کا تعلق براہ راست کتابت مصاحف سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے یہ فن بہت اہمیت کا حامل ہے۔ فن خطاطی کے ذریعے کئی شاہکار تخلیق کئے جاتے ہیں اور قلم کی حرمت کا ذکر کلام اللہ میں بھی موجود ہے۔ جیسے قرآن کریم میں علم اور قلم کے رشتے کا اظہار انسان کے ساتھ یوں بیان کیا گیا ہے۔

{اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ}(۹۶:۳۔۵)

پڑہو اور تمھارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا۔انسان کو وہ علم عطا کیا جسے وہ جانتا نہ تھا ۔

            گویا قلم ہی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے علم کی اشاعت کا ذریعہ قرار دیا اور قلم کے ذریعے انسان کو جو علم سکھایا اسے بنی آدم کے لئے اعزاز قرار دیا۔

            اسلامی خطاطی کی ابتداء آغاز اسلام سے ہی ہوئی۔ رسول اللہﷺ نزول وحی کے بعد کسی خوشخط صحابیؓ  کو آیات قرآنی کی کتابت کے لئے کہتے ۔اس طرح تقریبا ً چالیس صحابہ کرامؓ  کو کاتبان وحی ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ بعثت نبوی کے وقت مکہ مکرمہ میں خط قیراموز رائج تھا اسی لئے کتابت وحی کے لئے یہی خط استعمال ہوا جبکہ مدینہ منورہ میں خط حیری رائج تھا اس لئے ہجرت کے بعد وحی الہی کی کتابت اس خط میں ہوئی ۔ شروع میں عربی خط سادہ تھا اور اس میں نقاط اور اعراب موجود نہیں تھے۔ اسلامی فنون سے مصوری کے اخراج کی وجہ سے فن خطاطی نے روز افزوں ترقی کی اور وہ عرو ج حاصل کیا کہ آج فن خطاطی کو تمام فنون میں نمایاں مقام حاصل ہے۔

            ماہر مسلم خطاطوں نے ہر عہد میں علاقائی اثرات کے تحت کتابت قرآن پاک میں اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کیں اور ماہرین فن خطاطی نے بھی فن خطاطی کی تاریخ، مختلف خطوط کے ارتقائی مراحل کی تفصیلات اور خطاطوں کے حالات اور ان کی خدمات پر تفصیل سے لکھا۔ یہی وجہ ہے کی آج ان موضوعات پر کتب اور مقالات دنیا کی ہر زبان میں موجود ہیں ۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ کام آج بھی عربی زبان میں ہو رہا ہے۔ عربی (۱)کے علاوہ فارسی ، ترکی(۲) ، انگریزی، جرمن، فرانسیسی اور دیگر زبانوں میں بھی ماہرین فن خطاطی کی تحقیقات و مقالات منظر عام پر آتے رہتے ہیں ۔

            برصغیر پاک و ہند میں کئی معروف خطاط گزرے ہیں اور اب بھی کئی خطاط اپنے فن کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد فن خطاطی کے محققین پر نظر ڈالی جائے تو ڈاکٹر عبداللہ چغتائی مرحوم(۳)  کی اس موضوع پر مندرجہ ذیل کتب بہت اہم ہیں۔

            ۱۔  پاک و ہند میں اسلامی خطاطی                     ۲۔  سرگذشت خط نستعلیق

            ۳۔  ریحان نستعلیق                                           ۴۔  پاک وہند میں خط نستعلیق

            ۵۔  علم الکتابت

            ڈاکٹر عبداللہ چغتائی کے علاوہ جن حضرات نے فن خطاطی کو موضوع تحقیق بنایا ان میں پاکستان کے نامورخطاط اور شیخ طریقت سید نفیس الحسینی المعروف نفیس رقم(۴) شامل ہیں جنہوں نے مختلف اوقات میں فن خطاطی کے مختلف پہلوؤں پر نہایت عمدہ تحقیقی مضامین لکھے اور مختلف اخبارات و رسائل میں انہیں شائع کرایا(۵)۔ اس حوالے سے آپ کے درج ذیل مقالات اور مضامین بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔

            ۱۔  خطاطان قرآن                                             ۲۔  خطاطی۔ تاریخی عظمت کا شاہکار ایک بے مثال فن

            ۳۔  خط کو فی کی خصوصیات                                     ۴۔  خط نسخ کی خصوصیات

            ۵۔  خط نستعلیق کی خصوصیات                                   ۶۔  اسلامی خطاطی اور اقسام خط

            ۷۔  خط نسخ اور نستعلیق کا تقابلی جائزہ                 ۸۔  ابن مقلہ

            ۹۔  فن خطاطی کا ارتقاء                                        ۱۰۔  فن خطاطی کو فروع کیسے ہوا؟

            ڈاکٹر عبداللہ چغتائی اور سید نفیس الحسینی کے علاوہ جن حضرات نے فن خطاطی پر تحقیقی کام کیا ان میں ڈاکٹر انجم رحمانی(۶)، ڈاکٹر محمد اقبال بھٹہ(۷)، محمد عالم مختار حق(۸)، سید یوسف بخاری دہلوی(۹) ، قاضی احمد میاں اختر جونا گڑھی(۱۰)، مولانا اسلم جیرا جپوری(۱۱) اور پروفیسر سید محمد سلیم (۱۲)شامل ہیں۔ اسی سلسلے کا ایک اہم نام پروفیسرحافظ احمد یار(۱۳) کا بھی ہے جنہوں نے گو کہ فن خطاطی پر زیادہ نہیں لکھا لیکن جتنا بھی لکھا معیاری لکھا اور اس فن کے منفرد پہلوؤں پر لکھا ہے۔

            ان سطور کے عاجز راقم کے فن خطاطی کے ساتھ تعلق کو ۳۵ برس ہو چکے ہیں۔ آج سے تقریباً ۲۵ برس قبل راقم الحروف نے عالم اسلام کے نامور خطاطوں کے حالات اور ان کی بہترین تخلیقات پر مشتمل کتاب  تذکرہ خطاطین پر تحقیق کا آغاز کیا تھا۔ اس موقع پر سب سے پہلے یہ فیصلہ کیا کہ اب تک فن خطاطی پر جو مواد مطبوعہ یا غیر مطبوعہ شکل میں موجود ہے اسے حتی المقدور کوشش سے حاصل کیا جائے اور اس مواد کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے۔ اس مقصد کی خاطر نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک سے مفید چیزیں حاصل کیں۔ مطبوعہ مقالات میں پروفیسر حافظ احمد یار صاحب کے درج ذیل تین مقالات کے حصول میں کامیابی ہوئی۔

            ۱۔    تاریخ خط نسخ مشمولہ سہ ماہی اقبال لاہور بابت اکتوبر ۱۹۶۶ء

            ۲۔  کتابت مصاحف میں صنائع و بدائع کا تنوع مشمولہ سہ ماہی   اقبال لاہور بابت اکتوبر ۱۹۶۹ء۔ یہی مضمون بہ عنوان کتابت مصاحف میں صنائع و بدائع، نزول قرآن کے حوالے سے عجائب گھر لاہور میں منعقدہ نمائش(۲۶ رمضان تا ۱۵ شوال۱۳۹۲ھ) کے موقع پر پیش کیا گیا اور مقالات مرتبہ رشید احمد، مکتبہ علمیہ لیک روڈ لاہور سے دسمبر ۱۹۷۲ء میں شائع ہوئے،  اس کے سرورق کی خوبصورت خطاطی سید نفیس الحسینی کے زو ر قلم کا شاہکار ہے۔

            ۳۔  خط و خطاطان لاہور، مشمولہ ارمغان لاہور، اشاعت ۱۹۶۷ء۔

       مزید برآں پروفیسر حافظ احمد یار صاحب نے خطاطی پر ہونے والے سیمینار میں جو مضمون پڑھا وہ اس وقت ڈاکٹرمحمد اقبال بھٹہ صاحب کے پاس محفوظ ہے۔

             ان مقالات کے علاوہ پروفیسر حافظ احمد یار کی نگرانی میں ادارہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فن خطاطی کے ایک اہم موضوع پر ایم۔اے کا مقالہ لکھا گیا۔ یہ مقالہ، مسلم خطاط خواتین کے موضوع پر صفیہ غفور صاحبہ نے لکھا تھا جس پر انہیں ۱۹۶۹ء میں ایم۔ اے کی سند عطا کی گئی ۔ راقم الحروف کی معلومات کے مطابق اس موضوع پر اردو میں اب تک کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی ہے حالانکہ اس موضوع پر ایران میں فارسی اور ترکی میں ترکی زبان میں تحقیقی کتب شائع ہو چکی ہیں(۱۴)۔

             اس مقالہ میں نگران مقالہ پروفیسر حافظ احمد یار نے جن بنیادی مأخذ سے اپنی شاگرد کو استفادہ کرنے کی ہدایت کی ہے ان کے مطالعے سے پروفیسر حافظ احمدیار کے تبحر علمی کا اندازہ ہوتا ہے۔

             ڈاکٹر محمد اقبال بھٹہ کے بیان کے مطابق پروفیسر حافظ احمد یار صاحب اکثر لاہور کے معروف خطاط حافظ محمد یوسف سدیدی، سیدانور حسین نفیس رقم اور صوفی خورشید عالم خورشید رقم کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔  مجھے حافظ یوسف سدیدی کے ہاں خطاطی پر ان کے قیمتی مباحث سننے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ میرا دفتر لاہور عجائب گھر میں واقع ہونے کی وجہ سے قبلہ حافظ محمد یوسف سدیدی صاحب کو کبھی کبھار پروفیسر حافظ احمدیار صاحب کے پاس پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس میں بھیجا کرتے تھے۔لاہور شہر کے تین بڑے خطاطین سے حافظ احمد یار صاحب کے گہرے تعلقات اس بات کے غماض ہیں کہ پروفیسرصاحب نے خطاطی میں انتہائی زیر کی سے مطالعہ جاری رکھا۔

            پروفیسر حافظ احمد یار مرحوم کے مذکورہ بالامقالات کا راقم متعدد مرتبہ مطالعہ کر چکا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ دقت نظری، وسعت معلومات اور مستند مأخذو مصادر کے استعمال کی بناء پر ان کے یہ مقالات نہایت معیاری ہیں۔ ان مقالات کی خاطر انہوں نے اردو اور انگریزی کے علاوہ کئی مستند عربی کتب کا بھی مطالعہ کیا اور مستند معلومات پیش کیں۔ اب ہم ان مقالات میں درج معلومات کا مختصراً ذکر کریں گے۔

             مقالہ تاریخ خط نسخ، علمی و تحقیقی لحاظ سے بڑا مستند، جامع اور معلومات افزا مقالہ ہے جس میں حافظ صاحب نے فن خطاطی کی مختصر تاریخ، کتابت قرآن کے لئے استعمال کیا گیا خط حجازی، خط حجازی سے خط کو فی کی اختراع پھر خط نسخ کا آغاز اور اس خط کی تجمیل و تکمیل اور عالم اسلام میں خط نسخ کے حوالے سے مختلف دبستانوں کا بڑی عمدگی سے ذکر کیا ہے۔ مسلمانوں میں فن خطاطی کی اہمیت کے حوالے سے حافظ احمد یارصاحب تحریر فرماتے ہیں:

            فن خطاطی ایک لطیف اور پاکیزہ ترین فن ہے۔ کسی بھی قوم نے خط کے بارے میں اتنا اہتمام نہیں کیا جتنا مسلمانوں نے اور نہ ہی ان سے پہلے خط میں آرئش و تنوع کے اتنے پہلو کسی نے پیدا کئے۔ کتابوں میں اسلامی خط کی اسّی(۸۰)سے زائد اقلام یعنی اسالیب و أنواع کا ذکر ملتا ہے۔ خطاطی کا آغازکیوں اور کب ہوا؟ اس حوالے سے حافظ صاحب ان تین نظریوں کا ذکر کرتے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

            ۱۔   پہلے نظرئیے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ساری زبانوں کی کتابت سکھائی۔یہ نظریہ توقیف کہلاتا ہے۔اس نظریے کی بنیاد کسی علمی یا صحیح تاریخی سند پر نہیں اور معروف مؤرخ ابن خلدون نے اس نظرئیے کی خامی کو بھانپ لیا تھا۔  ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں خط کو دوسرے معاشرتی و اجتماعی فنون و صنائع کی طرح ایک صنعت قرار دیا جو توقیف کی نہیں بلکہ معاشرتی و اجتماعی ارتقاء اور اس کی ضرور یات کی پیداوار ہے حافظ صاحب نے بھی اس بناء پر اس نظرئیے کو رد کیا ہے۔

            ۲۔   دوسرا نظریہ جنوبی حمیری نظریہ ہے۔اس کے مطابق قبل اسلام کا حجازی خط حمیری یا ــْْْـ" خط مسند" سے نکلا ہے جو جنوبی عرب خصوصاً یمن کا قدیم ترین خط تھا۔ حافظ صاحب کی تحقیق کے مطابق یہ نظریہ بھی قابل قبول نہیں ۔ اس کی سب سے بڑی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ اس زمانے کے حجازی خط اور قدیم حمیری خط کے جو نمونے ہم تک پہنچے ہیں ان میں قطعاً کوئی مناسبت یا تعلق نظر نہیں آتا۔

            ۳۔  حجازی خط کی أصل کے حوالے سے تیسرا نظریہ مؤرخ بلاذری نے پیش کیا۔ اس کے مطابق شمالی عرب کے تین آدمیوں نے یہ خط سریانی زبان سے اخذ کر کے ایجاد کیا۔ انبار وحیرہ اس خط کا پہلا مرکز بنے اور وہاں سے یہ خط حجاز پہنچا۔ حافظ صاحب کی تحقیق کے مطابق سب سے پہلے حجاز میں جو خط رائج ہوا وہ اس شمالی نبطی خط کی ایک شکل تھی چنانچہ عصر نبویؐ کے خط کو نبطی، حیری اور انباری خط کہنے کی وجہ بھی یہی ہے۔ حافظ صاحب کے مطابق عہد عثمانی کے مصاحف بھی اس حیری یا نبطی خط میں کتابت کئے گئے تھے۔ آنحضرتؐ نے اپنے عہد مبارک میں کتابت کی ترویج و اشاعت پر خصوصی توجہ فرمائی تھی۔ اس کے علاوہ خط میں حسن و جمال پیدا کرنے کے بارے میں بھی آنحضرتؐ سے بعض ہدایات مروی ہیں۔ حافظ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ اس حجازی خط نے اسلام کے زیر سایہ سب سے پہلے جو جمالیاتی لباس پہنا اسے خط ِکوفی کہا جاتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق حضرت علیؓ نے جب کوفہ کو دارالخلافہ بنایا تو سب سے پہلے آپ نے ہی وہاں خط کوفی ایجاد کیا اور اس کی تعلیم بھی دی۔ حافظ صاحب کی تحقیق کے مطابق یہ روایت اس لئے قابل قبول نہیں کہ خط کوفی اپنی ابتدائی شکل میں خود کوفہ شہر کے آباد ہونے سے بھی کم از کم سو سال تک عالم اسلام کے کامل ترین خط کا درجہ حاصل رہا اور کتابت کلام پاک بھی اس عرصے میں خط کوفی میں ہی ہوتی رہی۔

            جہاں تک خط نسخ کی ایجاد و ابتداکا تعلق ہے تو حافظ صاحب کی تحقیق کے مطابق ابن مقلہ (۲۷۲ھ۔۳۲۸ھ) ہی خط نسخ کا بانی ہے(۱۵)۔ ابن مقلہ کے آبا ء و اجداد عجمی النسل تھے جو بغداد میں آباد ہو گئے تھے۔ ابن مقلہ اپنی ذہانت و فطانت کی بنا پر کئی عباسی خلفا کے درباروں میں وزیر رہا۔ درباری سازشوں کے نتیجے میں اسے معزول بھی کیا گیا اور بطور سزا اس کا دایاں ہاتھ قطع بھی کیا گیا۔ ا س کے باوجود اس کی مہارت فن کا یہ عالم تھا کہ اپنے مقطوع ہاتھ سے قلم باندھ کر لکھنے میں وہ مہارت پیدا کر لی کہ اس کے خط میں وہی کمال زیبائی اور شکوہ پیدا ہو گیا جو پہلے تھا۔ ابن مقلہ خواہ وزیر رہا یا گوشہ نشین، جیل میں رہا یاگھر میں ہر جگہ اس نے خط کے کمال کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا تھا۔ ابن مقلہ ہی وہ پہلا شخص ہے جس نے عربی خط کے اصول و قواعد مقرر کئے اور قلم کے قط کو ناپ کی اکائی قرار دیا۔

            خط نسخ کی ایجاد اور خط کوفی کی جگہ خط نسخ کا آغاز برائے کتابت قرآن مجید کے حوالے سے حافظ صاحب نے بڑا اہم نکتہ بیان کیا ہے۔ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ خط کوفی ایک آرائشی خط تھا اور اس بات کی ضرورت تھی کہ کتابت قرآن کی خاطر آرائشی نہیں بلکہ تحریری خط ہوتا کہ کم از کم وقت میں زیادہ سے زیادہ قرآنی نسخوں کی کتابت کی جا سکے۔ کیونکہ وہ زمانہ پریس کا تو تھا نہیں اس لئے قرآن پاک کی تلاوت کتابت کردہ نسخوں سے ہی کی جاتی تھی۔ اس ضرورت کی بنا پر خط نسخ ایجاد کیا گیا اور اس خط کی ایجاد ہی سے یہ انقلابی تبدیلی آئی کہ اب خطاطی کا مقصد تحریر ہو گیا نہ کہ آرائش و نقاشی۔ خط نسخ کے محاسن کے حوالے سے حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ اس خط نے سادگی میں جمال، جمال میں افادیت اور افادیت کے لئے سہولت قرأت اور حروف میں عدم التباس کے اصولوں کو اپنے اندر جمع کر لیا تھا۔ ابن مقلہ خط نسخ کا موجد ضرور ہے لیکن اس خط میں صوری جمال اور فنی کمال کی معراج ابن البواب (وفات:۴۱۳ھ) کی وجہ سے ہوئی۔ خط نسخ کی مذکورہ بالا خوبیوں کی ہی بناء پر گزشتہ ایک ہزار سال سے زائد عرصے سے اسے عالم اسلام کے کامل ترین خط کا درجہ حاصل ہے۔خط نسخ کو اوج کمال پر پہنچانے والا اہم ترین خطاط یاقوت المستعصمی (وفات:۶۹۹ھ) ہے۔ یا قوت نے کتابت قرآن مجید کا ایک نیا طریقہ ایجاد کیا جس میں گیارہ سطریں فی صفحہ کتابت کیں ۔ان میں پہلی ، چھٹی اور گیارھویں سطر ذرا جلی قلم سے خط ثلث میں اور بقیہ سطور خط نسخ میں لکھیں۔ بعد کے کئی خطاطوں نے یا قوت کے اختراع کردہ اس طریقے کی پیروی کی ہے۔

            اس کے بعد حافظ احمد یار صاحب بیان کرتے ہیں کہ سقوط بغداد کے بعد اسلامی سیاست کا مرکز مختلف ممالک میں تقسیم ہو گیا اور اس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں خط نسخ جاری رہا ۔ ان ممالک میں ایران، افغانستان، برصغیر پاک و ہند، چین، ملایا، انڈونیشیا، عراق، ترکی، مصر اور حجاز وغیرہ شامل ہیں۔  ان تمام ممالک میں خط نسخ کے بڑے ماہر خطاط اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے خاص طور پر ترک سلاطین نے خطاطی کی اس قدر عزت افزائی کی کہ ان کے دور میں ترکی میں ایسے نامور خطاط پیدا ہوئے جنہوں نے کتابت مصاحف اور خط نسخ میں تمام عالم اسلام سے ترکوں کی امامت تسلیم کرا لی۔ اس مختصر مضمون میں ان تمام ممالک کے خطاط کے صرف اسمائے گرامی کا ذکر کرنا بھی مضمون کو طول دے گا اس لئے صرف ممالک کے نام کا ذکر کر دیا گیا ہے۔

            اس مضمون کے آخر میں پروفیسر حافظ احمد یار فرماتے ہیں کہ عصر جدید میں ٹائپ کی ایجاد نے ایک مرتبہ پھر خط تسخ کی برتری کا ثبوت مہیا کر دیا ہے۔

            پروفیسر حافظ احمد یار کا ایک اور اہم اور منفرد معلومات پر مشتمل مضمون کتابت مصاحف میں صنائع و بدائع کا تنوع ہے ۔ الحمدللہ راقم الحروف اب تک فن خطاطی میں اردو زبان کی بیشتر کتب و مضامین کا مطالعہ کر چکا ہے لیکن صنائع و بدائع کے تنوع پر سوائے حافظ احمد یا صاحب کے کسی اور شخص کی تحریر نظر نہیں آئی۔کتابتِ مصاحف میں صنائع و بدائع کے اہتمام کا محرک کون سا جذبہ ہوتا ہے۔ اس حوالے سے تحریر فرماتے ہیں ۔

             قرآن کریم یا اس کی بعض آیات کی حسین کتابت کا شوق اور اس کام میں سعادت حاصل کرنے کا ذوق، اس فن جمیل کے کمال کا محرک بھی تھا اور کمال فن کے اظہار کا بہترین ذریعہ بھی تھا۔ عام طور پر مصاحف (قرآن کے نسخوں) کی تیاری مین کاغذ، سیاہی، خط، تجلید، تذہیب اور نقاشی کی خوبیوں کے اعتبار سے نسخے کا فنی اور جمالیاتی معیار متعین کیا جاتا تھا۔ تاہم بعض ماہرین فن نے مذکورہ امور کے علاوہ مصاحف کی تیاری  میں فنی ندرت اور فکری جدت کے بعض انوکھے پہلو نکالے اور کتابت مصاحف میں بعض ایسی عجیب و غریب صورتیں اختیار کیں جونسخے کو خاص طور پر جاذب توجہ بنا دیتی تھیں۔ دراصل کتابت مصاحف میں اسی فنی ندرت اور فکری جدت کے نئے پہلو کی بناء پر ہی کتابت مصاحف میں صنائع و بدائع کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس مضمون میں حافظ صاحب نے بڑی عمدگی سے ایسے قرآنی نسخوں کی تفصیلات بیان کی ہیں جن میں صنائع و بدائع کا کاتب قرآن نے خاص اہتمام کیا ہے ۔ یہاں ہم مختصراً ایسے مصاحف کا ذکر کریں گے۔

            یا قوت المستعصمی نے سب سے پہلے کتابت مصاحف میں ایک نئی صنعت کو رواج دیا۔ اس صنعت کے تحت ہر صفحے کی پہلی ، چھٹی اور گیارھویں سطر وہ خط ثلث میں لکھتا اور سطور ۲۔۵ اور ۷۔۱۰ خط ریحان میں لکھتا تھا۔ اس صنعت میں ترکی کے معروف خطاط احمد قرہ حصاری نے ۹۴۴ھ میں کتابت قرآن کی۔ اس نسخے میں ہر صفحہ میں ۱۳ سطریں ہیں جن میں پہلی، ساتویں اور تیرہویں سطر خط ثلث میں اور بقیہ سطور خط نسخ میں لکھی گئی ہیں(۱۶)۔

            بعض خطاطوں نے کتابت قرآن عام روش سے ہٹ کر مسدس، مثمن یا بیضوی شکل میں بھی کی ہے مثلا محمد روح اللہ لاہوری نے ۱۱۰۹ھ میں جو قرآنی کتابت کی اس کا ہر صفحہ مثمن شکل کا تھا۔ مجتبائی پریس دہلی سے ۱۲۸۸ھ میں شائع کردہ قرآن کا ہر صفحہ بیضوی شکل کا تھا۔ اسی پریس نے ۱۲۹۴ھ میں منشی ممتاز علی نزہت رقم کا کتابت کردہ قرآن شائع کیا جس کا ہر صفحہ مسدس شکل کا تھا۔ اس طرح مفید عام پریس آگرہ سے ۱۳۰۹ھ میں مولوی وسیع اللہ کے کتابت کردہ قرآن کا ہر صفحہ مثمن شکل میں تھا۔

            بعض خطاطوں نے خوبصورتی پیدا کرنے کے لئے ایک ہی نسخے میں متعدد رنگ کی روشنائیاں اور ایک سے زیادہ اسالیب خط کا استعمال کیا ہے۔

            کتابت قرآن میں بعض خطاطوں نے دقیق نویسی (باریک نویسی) کا بڑی مہارت سے مظاہرہ کیا مثلاً ایک ورق یا دس اوراق یا تیس اوراق میں مکمل قرآن کی کتابت کی متعدد مثالیں ہیں۔ اسی صنعت کے تحت انڈے، گندم یا چاول کے دانے پر قرآن کی بعض سورتوں کی کتابت کی گئی ہے۔ پاکستان کے نامور خطاط حافظ محمد یوسف سدیدی نے ایک مرتبہ چاول کے دانے پر مکمل سورۃ الفاتحہ کی کتابت کی تھی۔

            اس بات کااہتمام بھی کیا گیا کہ پورے قرآن پاک کا ہر صفحہ آیت پر ختم ہو۔ اس صنعت کا آغاز معروف ترک خطاط حافظ عثمان نے کیا تھا اور اب عالم عرب کے علاوہ پاکستان میں بھی اس انداز میں کتابت قرآن کی جا رہی ہے۔

            بعض خطاطوں نے یہ اہتمام کیا کہ پورے قرآن میں ہر جگہ بسم اللہ جدید اور منفرد انداز سے لکھیں یعنی پورے قرآن کی ۱۱۳ دفعہ بسم اللہ میں ہر جگہ نیا خط اور نیا انداز کتابت اختیار کیا۔ بعض خطاطوں نے پورے قرآن کی کتابت خط نسخ کے بجائے خط ثلث یا خط گلزار میں کی ہے۔

            بعض کاتبان نے پورے قرآن کی کتابت اس انداز سے کی کہ ہر سطر کا آغاز الف سے ہو۔ ایسا نسخہ الفی قرآن کہلاتا ہے۔ منشی محمدالدین جنڈیالوی کا کتابت کردہ ایسا نسخہ بیت القرآن لاہور میں محفوظ ہے۔

            کتابت مصاحف میں ایک عجیب صنعت مقابلہ حرفین یا مقابلہ سطرین کی صنعت ہے مثلاً غلام  محمد زینت رقم کا کتابت کردہ مصحف لاہور سے شائع ہوا تھا۔ اس کے ہر صفحے میں  ۱۱  سطریں ہیں۔  سطر ۱  اور ۱۱  ایک  ہی حرف سے شروع ہوتی ہیں اسی طرح سطور ۲ اور ۱۰ ، ۳ اور ۹، ۴ اور ۸،۵ اور ۷ ایک ہی حرف سے شروع ہوتی ہیں اور سطر نمبر۶س حرف سے شروع ہوتی ہے اس سے مقابل صفحے کی سطر نمبر ۶ بھی اسی حرف سے شروع ہوتی ہے۔

            کتابت مصاحف میں صنائع و بدائع پر حافظ احمد یار مرحوم کا یہ مضمون اکتوبر ۱۹۶۹ء میں شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد ۱۹۷۴ء میں ترکی کے عالمی شہرت یافتہ خطاط استاد حامد الآمدی کے کتابت کردہ قرآن مؤسسئہ الخدمت استنبول سے شائع ہوا جس کی کتابت استاد حامد مرحوم(۱۷) نے ایک منفرد صنعت میں کی تھی جسکا ذکر حافظ صاحب کے مضمون میں نہیں ہے۔ استاد حامد نے پورے قرآن کی کتابت میں اس بات کا اہتمام کیا کہ ہر صفحے پر جہاں جہاں لفظ جلالہ اللہ یا ربّ آیا ہے اس کی کتابت سرخ روشنائی سے کی اور یہ اہتمام رکھا کہ ہر صفحے پر یہ الفاظ ایک کے نیچے ایک یعنی لائن کی شکل میں نظر آئیں دیگریہ کہ ہر صفحہ آیت پر ختم ہو۔ الحمدللہ راقم کے پاس یہ نسخہ موجود ہے جس کے آخری صفحات میں یہ مذکور ہے کہ استاد حامد مرحوم کو اس صنعت میں کتابت کرنے کا مشورہ ترکی کے نامور مصلح استاد بدیع الزماں سعید نورسی نے اپنے ایک خط میں دیا تھا۔

            پروفیسر حافظ احمد یار مرحوم کا فن خطاطی کے حوالے سے ایک اور مضمون ’’خط و خطاطان لاہور ہے۔ اس موضوع پر گو کہ حافظ صاحب نے خطاطوں کے مختصرحالات اور ان کی خدمات پر ہی روشنی ڈالی ہے لیکن اس کے باوجود یہ مضمون مفید معلومات کا حاصل ہے۔ بعد میں اس موضوع پر دیگر حضرات نے بھی لکھا لیکن دیگر مضامین کی طرح اس مضمون میں بھی حافظ صاحب کو اولیت کا مقام حاصل ہے۔ اس مضمون میں ماضی بعید اور ماضی قریب کے ان خطاطوںکا تذکرہ کیا گیا ہے جن کا تعلق لاہور سے تھا یا وہ بعد میں لاہور میں رہے۔ ان خطاطوں میں امام ویروی،عبدالمجید پروین رقم، خلیفہ احمد حسین سہیل رقم، محمد صدیق الماس رقم، حاجی دین محمد ، تاج الدین زریں رقم، حافظ محمد یوسف سدیدی اور دیگر خطاط شامل ہیں۔

            یہاں تک ہم نے پروفیسر حافظ احمد یار مرحوم کی فن خطاطی میں مہارت کا ذکر ان کے معلومات افزا مضامین کی روشنی میں کیا ہے۔ آخر میں راقم الحروف ایک ذاتی محرومی کا ذکر کرنا چاہتا ہے جس کا تعلق باوجود کوشش کے حافظ احمد یار صاحب سے ملاقات سے محرومی سے ہے۔ راقم ان کے مضامین کے مطالعے کے بعد ان سے ملاقات کا متمنی تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان سے استفادہ اور یہ گزارش کرنی تھی کہ اپنی نادر معلومات کی روشنی میں وہ فن خطاطی پر ایک معیاری کتاب لکھیں ۔ ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۰ء تک راقم کا لاہور میں قیام رہا۔ متعدد حضرات سے رابطہ کرنے پر علم ہوا کہ موصوف سے شام کے اوقات میں انجمن خدام القرآن کے دفتر واقع ماڈل ٹاؤن لاہور میں ملاقات ہو سکتی ہے۔ غالباً جون یا جولائی ۱۹۹۷ء کی ایک شام راقم انجمن خدام القرآن پہنچا۔ وہاں جب حافظ صاحب کے بارے میں معلوم کیا تو یہ سن کر افسوس ہواکو موصوف مؤرخہ۱۵ مئی۱۹۹۷ء (بروز جمعرات) وفات پا گئے۔ اس خبر کے بعد مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کے علاوہ میں کر ہی کیا کر سکتا تھا اور اس دعائے مغفرت پر اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔

رب اغفر و ارحم و انت خیر الراحمین۔

 

حوالے و حواشی

 

۱۔           عربی زبان کے محققین خطاطی میںمحمد طاہر الکردی ، محمد ابراہیم جمعہ، صلاح الدین المنجد، فوزی سالم عفیفی، یوسف ذنون، ہاشم البغدادی و دیگر حضرات کی کتب معیاری ہیں ۔ عربی زبان میں فن خطاطی پر دبئی سے شائع ہونے والا سہ ماہی رسالہ حروف عربیۃ بھی شامل ہے اس رسالے کا طباعتی معیار نہایت اعلیٰ ہے اور اس میں اعلیٰ پائے کے مقالات خطاطی شائع ہوتے ہیں۔

۲۔         ترکی میں فن خطاطی پر جن محققین کی معیاری کتب شائع ہوئیں ان میں پروفیسر اوغوردرمان، پروفیسر ڈاکٹر سہیل انور، ڈاکٹر محی الدین سیرین، پروفیسر نہاد چتین، ڈاکٹر خسرو سوباشی و دیگر شامل ہیں۔ استنبول میں واقع تحقیقی مرکز برائے اسلامی تاریخ، فنون و ثقافت یا مختصراً IRCICA گزشتہ تیس برسوں سے اسلامی خطاطی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ادارے کے تحت ہر تین سال بعد عالمی مقابلہ خطاطی کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

۳۔         ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی نے اسلامی فنون و ثقافت پر بے بہا علمی و تحقیقی کام کیا ۔ آپ کی پیدائش۲۳ نومبر ۱۸۹۶ء کو لاہور میں اور انتقال ۱۹؍دسمبر ۱۹۸۴ء کو یہیں ہوا۔

۴۔         سید انور حسین نفیس رقم (سید نفیس الحسینی)  پاکستان کے نامور خطاط شیخ طریقت، مصنف ، شاعر اور دیگر کئی حیثیتوںکے مالک تھے۔ آپ نے نوادر خطاطی کی تخلیق اور مقالات خطاطی کی تحریر کے علاوہ تقریباً پچاس برس تک  نوواردان فن کو بلا معاوضہ فن خطاطی کی تعلیم دی۔ آپ کی پیدائش ۱۱ مارچ ۱۹۳۳ء کو گھوڑیالہ (ضلع سیالکوٹ) میں اور انتقال ۵ فروری ۲۰۰۸ء کو لاہور میں ہوا۔ سید نفیس الحسینی کے مقالات خطاطی راقم الحروف نے مرتب کئے جو مقالات خطاطی سید نفیس الحسینی شاہ صاحب کے عنوان سے ۲۰۰۶ء میں لاہور سے شائع ہوئے ۔ آپ کے مفصل حالات زندگی اور نوادر خطاطی پر مشتمل خوبصورت مجموعہ بھی راقم الحروف ہی نے مرتب کیا جو ارمغانِ نفیس کے عنوان سے ۲۰۱۴ء میں کراچی سے شائع ہوا۔

۵۔         یہ تمام مقالات، مقالات خطاطی سید نفیس الحسینی شاہ صاحبمیں شامل ہیں۔

۶۔          ڈاکٹر انجم رحمانی سابق ڈائریکٹر عجائب گھر لاہور ہیں اور ان کے فن خطاطی پر متعدد مقالات اردو اور انگریزی میں شائع ہو چکے ہیں ۔ آپ کا مستقل قیام لاہور میں ہے اور آپ فن خطاطی کے حوالے سے مستقبل میں تحقیقی کتب کی اشاعت کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

۷۔         ڈاکٹر محمد اقبال بھٹہ نے پنجاب یونیورسٹی سے لاہور اور فن خطاطی پر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی اور آپ کا یہ مقالہ ۲۰۰۷ء میں لاہور سے شائع ہو چکا ہے۔

۸۔          محمد عالم مختار حق نامور محقق اور ایک نادرونایاب کتب خانے کے مالک تھے۔ آپ نے تقریباً ۵۵ برس تک عبدالمجیدپروین رقم کے نوادر خطاطی جمع کئے ۔ آپ کی پیدائش ۴مارچ ۱۹۳۱ء کو لاہور میں اور وفات مؤرخہ ۶ مارچ ۲۰۱۴ء کو لاہور میں ہوئی ۔ مکمل حالات اور خدمات کے لیے ملا حظہ فرمائیں راقم الحروف کا مضمون، معروف کتاب شناس محمد عالم مختار حق مرحوم  ماہنامہ الحمرا ، لاہور اپریل۲۰۱۴ء ۔

۹۔          سید یوسف بخاری دہلوی مؤلف خطاطی اور ہمارا رسم الخط۔ پیدائش یکم مارچ ۱۹۰۷ء دہلی، وفات ۸ جنوری۱۹۹۱ء کراچی۔

۱۰۔         قاضی احمد میاں اختر جونا گرھی ، پیدائش ۱۸۹۷ء جونا گڑھ، وفات ۶ مئی ۱۹۶۶ء حیدر آباد۔

۱۱۔         مولانا اسلم جیرا جپوری، وفات ۲۸ دسمبر ۱۹۵۶ء دہلی۔

۱۲۔        پروفیسر سید محمد سلیم ماہر تعلیم، استاداور مصنف تھے۔ آپ کی پیدئش مؤرخہ ۲۱ دسمبر ۱۹۲۲ء تجارہ (الور ) میں اور وفات ۲۷ اکتوبر ۲۰۰۰ء اسلام آباد میں ہوئی۔ آپ کے انتقال کے بعد آپ کی تالیف کردہ کتاب تاریخ خط و خطاطین کراچی سے شائع ہوئی۔

۱۳۔         پروفیسر حافظ احمد یار عالم دین ماہر خطاطی اور ماہر تعلیم وفات ۱۵ مئی ۱۹۹۷ء لاہور۔

۱۴۔        ایران میں خواتین خطاطوں پر نساء خطاطین اور ترکی میں خواتین خطاطوں کے حالات اور نوادر خطاطی پر مشتمل خوبصورت کتاب Hanim Hattarlariکے عنوان سے شائع ہو چکی ہیں۔

۱۵۔        عربی زبان وادب کے نامور محقق علامہ عبدالعزیز میمن (۱۸۸۸ء - ۱۹۷۸ء) کی تحقیق کے مطابق ابن مقلہ خط نسخ کا موجد نہیں تھابلکہ خط نسخ اس سے قبل وجود میں آچکا تھا۔تفصیل کے لیے راقم الحروف کی کتاب علامہ عبدالعزیزی میمن۔سوانح و علمی خدمات صفحہ نمبر  ۱۲۳ ملاحظہ فرمائیں۔

۱۶۔        احمد قرہ حصاری کا کتابت کردہ یہ قرآنی نسخہ ترکی حکومت نے اصل جہازی سائز میں نہایت اعلی معیار پر طبع کرایا ہے۔ اس قرآن کا ایک نسخہ مظفر آباد (آزاد کشمیر) کی ترکی مسجد میں محفوظ ہے۔ یہ نسخہ ۲۰۰۹ء میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اس وقت ہدیہ کیا تھا جب وہ اس مسجد کے افتتاح کے لئے مظفر آباد تشریف لائے تھے۔ ان دنوں راقم الحروف کا قیام بغرض ملازمت مظفر آباد ہی میں تھا ۔

۱۷۔        حامد الآمدی کے حالات زندگی اور نوادر خطاطی کے لیے ملاحظہ فرمائیں راقم الحروف کی تالیف تذکرہ خطاطین صفحہ ۶۵تا ۷۶