ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار
پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

حرفِ سپاس

ڈاکٹر جمیلہ شوکت

            رب رحیم کا خصوصی کرم اور آپ سب کی دعائیں کہ الحمد للہ سلسلہ ارمغان کی تیسری کتاب آپ کے ہاتھوں تک پہنچ رہی ہے۔  یہ کتاب پروفیسر حافظ احمد یار صاحب ؒ  کی خدمات ِ جلیلہ کے اعتراف میں ایک عاجزانہ ہدیہ ہے اللہ کریم اسے قبول فرمائے۔ حافظ صاحب مرحوم و مغفور کا میدان تخصص علوم القرآن تھا۔ گذشتہ روایت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم نے محققین حضرات سے درخواست کی کہ ان کی تحقیقی کاوشوں کا موضوع قرآن حکیم اور اس کے متعلقات ہوں۔ ہم اپنے مقالہ نگار حضرات کے ازحد ممنون ہیں کہ انہوں نے دنیاوی فوائد سے بالا ہو کر کتاب مبین کے حوالے سے مضامین تحریر کیے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اجرِ جزیل سے نوازے۔

            کتاب کے محتویات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

            حصہ اول صاحب ارمغان سے متعلق ہے۔ اس حصے کے لیے ہم نے ان کے رفقاء، تلامذہ، منتسبین کے رقم کردہ ان قیمتی احساسات و جذبات کو جگہ دی جو حافظ صاحب کی علمی و عملی زندگی سے متعلق ان کی رفاقت میں ان کے تجربے میں آئے۔ یہ نگارشات ہمارے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اس حصے کو جن اہل علم نے اپنی خوبصورت تحریروں سے نوازا ان میں سر فہرست نام استاذ محترم و مکرم پروفیسر ڈاکٹر شیر محمد زمان چشتی مدظلہ کا ہے،  جو حافظ صاحبؒ  کے ہم جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے قلبی رفیق اور دوست بھی رہے۔  ان کی یہ تحریر اس مخلصانہ رفاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے حافظ صاحب سے متعلق جن حقائق اور واقعات سے ہمیں روشناس کرایا وہ ان ہی کا خاصہ ہے۔ انہوں نے یہ قیمتی مضمون اپنی طویل علالت کے باوصف ہماری خواہش پر دسمبر ۲۰۱۵ء میں عطا کیا۔ ہماری دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان و صحت کے ساتھ ان کی زندگی میں برکت فرمائے۔

            حافظ صاحب کے مآثر جلیلہ کے ذکر میں شعبہ علوم اسلامیہ ، پنجاب یونیورسٹی اور انجمن خدام القرآن نے متعدد علمی مجالس منعقد کیں۔  ان مجالس میں ان کے رفقاء، تلامذہ اور دیگر متعلقین نے  حافظ صاحب مرحوم کے بارے میں اپنے تاثرات وتجربات بیان کئے ان کو شعبہ علومِ اسلامیہ ، پنجاب یونیورسٹی نے ایک یادگار کتاب حافظ احمد یارؒ ۔ شخصیت اور علمی مقام میں محفوظ کیا جبکہ انجمن خدام القرآن نے ماہنامہ حکمتِ قرآن میں شائع کیا۔  یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ حصہ اول کے بیشتر مضامین مذکور کتاب اور رسالے سے منتخب کیے گئے ہیں۔ اس حصے میں دو تعزیتی خطوط بھی شامل ہیں جو مشہور عالمِ دین مولانا عبد الغفار حسنؒ اور حافظ صاحب کے ایک دوست محمد شریف حافظ صاحب نے امریکہ سے ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ، مؤسس انجمن خدام القرآن کو ارسال کیے۔

            ہم ان تمام حضرات محترم اور بالخصوص جناب عاکف سعید صدر تنظیمِ اسلامی کے ممنون ہیں جنہوں نے مضامین کی نقول فراہم کیں۔

            بعض اہلِ علم نے حافظ صاحب مرحوم کے بعض تحقیقی مضامین اور تالیفات کے محاسن و خصائص کو موضوع بحث بنایا۔ 

            جناب راشد شیخ صاحب جن کا علمی میدان روایتی علوم اسلامیہ سے تو نہیں لیکن محب قرآن ہیں۔ حافظ صاحب مرحوم کے علمی مضامین ان سے غائبانہ تعارف و تعلق کا باعث بنے۔ انہیں جب شعبہ کے منصوبے کا علم ہوا تو از خود اپنی تحریرعطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ان کو اجرِ جزیل عطا فرمائے جبکہ ڈاکٹر محمد عبد اللہ نے   دستورِ حیاء (مطالعہ سورۃ النساء)  کو اپنی تحقیق کا محور بنایا۔

            حافظ صاحب کی صاحبزادی ڈاکٹر نضرۃ النعیم جو شعبہ عربی ، پنجاب یونیورسٹی کی فارغ التحصیل ہیں انہوں نے بڑی محبت اور محنت سے ذخیرہ قرآن کا مختصر تعارف لکھا۔ اس کے علاوہ بحیثیت بیٹی اپنے والد صاحب کے شب و روز کے معمولات ، عادات و خصائل اور اخلاق کا خوبصورت اور مؤثر انداز میں تذکرہ کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے والد صاحب کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اور دینی و دنیوی نعمتوں سے مالا مال کرے۔

            عزیزانِ محترم! حافظ صاحب مرحوم کی قرآنِ حکیم سے محبت و خدمت ہم سے ہدیہ ارمغان کے علاوہ اس بات کی بھی متقاضی ہے کہ علوم القرآن کے جن اہم اور دقیق موضوعات کو انہوں نے اپنی تحقیق کا مرکز بنایا ہم اس کام کو کم از کم ایم فل اور پی ایچ۔ ڈی کی سطح پر اپنے تلامذہ کے ذریعے آگے بڑھائیں۔

            دوسر ا حصہ ان مقالات پر مشتمل ہے جو قرآن حکیم سے متعلق علوم پر ہے۔ اس میں انیس (۱۹) مضامین شامل کیے جا رہے ہیں۔ ان مضامین و مقالات کو تین حصوں میں منقسم کیا گیا ہے اور موضوع کے اعتبار سے ایک منطقی ترتیب دینے کی کوشش کی گئی ہے جو یوں ہے:

            ٭   پہلے حصے میں الفاظ قرآنی اور اس سے متعلقہ علوم پر مقالات کو شامل کیا گیا ہے جن کی تعداد چھ(۶) ہے۔

            ٭   دوسرے حصے میں تاریخ ، تدوین اور حفاظت قرآن سے متعلق تحقیقی مقالات کو رکھا گیا ہے۔

            ٭   تیسرے حصے کی زینت وہ تحقیقی مضامین ہیں جن کا موضوع کتب علوم القرآن و تفسیر ہیں۔

            حصہ اول کا پہلا مضمون ماہر علوم قرآن جناب ڈاکٹر حافظ عبد اللہ کا تحریر کردہ ہے جو الفاظ قرآن حکیم سے متعلق ہے انہوں نے ایک مشکل موضوع کو سھل انداز میں عمدگی سے پیش کیا ہے اللہ تعالیٰ ان کے علم وفضل میں اضافہ فرمائے۔

            ڈاکٹر حفصہ نسرین نے قرآن کریم میں وارد معرب الفاظ کا عمدگی سے جائزہ لیا۔

            ڈاکٹر رشید احمد تھانوی جو خدمت قرآن کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں انہوں نے اپنے مضمون میں علم قرا ء ات اور تفسیر کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی ہے۔

            ڈاکٹر فیروز الدین کھگہ نے اپنے فاضلانہ مقالہ میں متن قرآن میں روایاتِ حفص وورش کے کردار پر عالمانہ انداز میں روشنی ڈالی۔

            عزیزہ ضوء فشاں (پی ایچ ڈی سکالر) جنہوں نے محدود وقت میں قرآن حکیم کے ایک اور دقیق پہلو مشکل القرآن پر روشنی ڈالی۔

            ڈاکٹر محمد اویس نے قرآن فہمی میں علم وقف و ابتداء کی اہمیت پر اپنے نتائج تحقیق کو آسان انداز میں پیش کیا۔

            ڈاکٹر محمد سمیع اللہ فراز نے مصاحف عثمانیہ کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات کا مدلل جائزہ لیا۔

            پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر نے ماہرانہ انداز میں قرآن حکیم کی کتابت و طباعت کا تاریخی جائزہ لیا۔

            صاحبِؒ ارمغان نے علوم قرآن کے اہم اور مشکل موضوعات پر بیش قیمت علمی و تحقیقی مضامین تحریر فرمائے ان مضامین میں سے ایک مضمون پاکستان میں رسمِ عثمانی پر مبنی نسخہ قرآن کی اشاعت کی ضرورت ، تبرکاً ہدیہ ناظرین پیش کیا جارہا ہے۔

            ڈاکٹر اقبال بھٹہ صاحب جن کا میدان تحقیق بالواسطہ علوم اسلامیہ تو نہیں لیکن خطاطی اور بالخصوص قرآن حکیم کی خطاطی ان کا پسندیدہ مضمون ہے انہوں نے قرآنی خطاطی پر اپنے نتائج تحقیق قلمبند فرمائے۔      ڈاکٹر اکرم ورک نے ایک اہم موضوع حفاظت قرآن اور بعض روایات میں منقول آیات کی قرآنیت ۔ ایک تحقیقی مطالعہ،  پر اپنی تحقیقی کاوش کو پیش کیا۔

            عزیزۃ القدر ڈاکٹر شاہدہ پروین جو عائلی قوانین و مسائل پر خوب نظر رکھتی ہیں انہوں نے عائلی قوانین اور قرآن کا اسلوب پیش کیا۔

            ڈاکٹر عاصم نعیم جو علوم قرآن کے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ شاگرد بھی ہیں انہوں نے شاہ صاحبؒ کے خاندان کی قرآنی خدمات کا جائزہ لیا۔

            جناب ڈاکٹر سعد صدیقی جو علوم قرآن و فقہ پر گہری نظر رکھتے ہیں انہوں نے اپنے مرحوم دادا کے اصول تفسیر سے متعلق مخطوط پر تبصرہ فرمایا۔

            عزیزۃ القدر رملہ خان ( پی ایچ ڈی سکالر )نے بہت کم وقت میں ایک جدید عربی تفسیر  روائع البیان کا اختصار سے جائزہ لیا۔ 

            عزیزم ڈاکٹر فاروق حیدر علومِ اسلامیہ کے سنجیدہ استاذ اور طالبعلم ہیں انہوں نے کتاب فنون الافنان کے خصائص کا خوبصورتی سے جائزہ لیا۔

            عزیزہ عائشہ جبیں نے محمد علی لاہوری کی تفسیر بیان القرآن کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہوئے ان کے ختمِ نبوت سے متعلق تحریفات کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے۔

            ہماری ایک اور عزیز طالبہ شائستہ نے جناب ڈاکٹر غازی احمد مرحوم و مغفور (جن کی کمی ہم سب ہی محسوس کرتے ہیں) کی ایک اہم کتاب  المدخل الوجیز کے خصائص و اسلوب کو بیان کیا ہے۔

            ڈاکٹر ساجد اسد اللہ دائود ی نے اس شمارے میں بھی حصہ ڈالا۔ انہوں نے پادری احمد شاہ کے ترجمہ القرآن کے محاسن و معائب کا جائزہ لیا۔

            ہم ان تمام مقالہ نگار حضرات کے از حد شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہماری درخواست پر لبیک کہا اور اپنی علمی کاوشوں سے نوازا۔

            حافظ صاحب کے فرزندانِ  ارجمند ڈاکٹر نعم العبد اور لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) ذوالقرنین جو آج بھی اپنے والد محترم کی علمی کاوشوں یعنی قرآن کے پیغام کو جدید ٹیکنالوجی کے توسط سے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ انہوں نے ارمغان کے لیے حافظ صاحب کے ذخیرہ قرآن سے نادر مصاحف کے صفحات کے عکس عطا فرمائے (ان شاء اللہ ان میں سے بعض عکس اپنے موقعہ محل پر رکھے جائیں گے)۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں قرآن حکیم کی خدمت کا مزید موقعہ عطافرمائے اوربارگاہِ رب ذوالجلال میں مقبول ہو۔

            سپاس گذار ہیں ڈاکٹر محمد اقبال بھٹہ کے جنہوں نے بڑی عقیدت و محبت سے ارمغان کا سرورق تیار کیا۔

            بات نامکمل رہے گی اگر ہم ان شخصیات کا ذکر نہ کریں جن کے اخلاص اور تعاون کی وجہ سے ارمغان تکمیلی مراحل تک پہنچا۔

            اس سلسلے میں سب سے پہلے پروفیسر ڈاکٹر طاہرہ بشارت،  ڈین کلیہ علومِ اسلامیہ کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے اپنے آفس کے کمپوزر عزیزم سرفراز احمد کی خدما ت اور دیگر سہولیات فراہم کرنے میں فراخدلی سے کام لیا۔

            صدرِ شعبہ علومِ اسلامیہ جناب پروفیسر ڈاکٹر سعد صدیقی صاحب جنہوں نے ہر قدم پر بھرپور معاونت کی۔ کمیٹی ارمغان علمی کے دیگر ارکان محترم جناب ڈاکٹر عاصم نعیم ، ڈاکٹر حسن مدنی بالخصوص   پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر معروف ادیب اور نقاد اور عزیزم ڈاکٹر حافظ عثمان احمد کا بھرپور تعاون حاصل رہا ۔

            ڈین اور شعبہ علومِ اسلامیہ کے دفاتر کے حضراتِ محترم جنہوں نے اس علمی کام میں تعاون کیا۔   اللہ کریم ان سب کو دنیا و آخرت میں بہترین اجر سے نوازے۔

            ہم آخر میں لیکن سب سے زیادہ شکر گزار ہیں علم دوست وائس چانسلر جناب پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران صاحب کے کہ جن کی حوصلہ افزائی اور مالی تعاون سے یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ اللہ تعالیٰ انہیں بہت سے اچھے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اجرِ عظیم سے نوازے۔

            قارئین کرام سے امید کی جاتی ہے کہ آئندہ ارمغان کو خوب سے خوب تر بنانے کے لیے اپنے بہترین مشوروں اور تجاویز سے ضرور نوازیں گے۔ ان شاء اللہ آئندہ شائع ہونے والے ارمغان کے موضوعات   فقہ ، سیرت رسول ﷺ  اور اسلامی تہذیب و تاریخ اور  اسلام  او رسائنس ہوں گے۔ آپ کی گرانقدر علمی و تحقیقی نگارشات کا انتظار رہے گا۔  فجزا کم اللہ خیر الجزاء

                                                                                                                                                دعائوں کی طالبہ

                                                                                                                                    جمیلہ شوکت