ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار
پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب


خانوادہ ولی اللہی کی تفسیری خدمات

 ڈاکٹر عاصم نعیم

شاہ ولی اللہ دہلویؒ (م۱۷۶۲ء)، برعظیم پاک وہند کی وہ عبقری شخصیت ہیں، جن کی دینی و دعوتی، اصلاحی و تجدیدی اور سیاسی و معاشرتی خدمات سے ایک زمانہ مستفید ہوا ہے۔ ان خدمات کے اثرت ہمہ گیر ہیں۔ تین سو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود، آج بھی ان کی فکر سے راہنمائی لی جا رہی ہے۔  علومِ اسلامیہ کے مختلف شعبوں، تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، دعوت و ارشاد واور اسرار الدین وغیرہ میں شاہ صاحب کی تجدیدی فکر نے صدیوں سے طاری جمود توڑ کر انقلابی راہ دکھائی ہے۔شاہ صاحب کے ہمہ جہتی کارہائے نمایاں میں سے اہم کارنامہ ،قرآن مجید کے علوم و معارف کی ترویج و اشاعت ہے۔ اپنے عہد کی دفتری و سرکاری زبان، فارسی میں ترجمہ قرآن کر کے انہوں نے رجوع الی القرآن کی تحریک کا آغاز کیا، جس کی بدولت برعظیم پاک و ہند میں قرآن فہمی کا عام چرچا ہوا۔ اردو اور دوسری زبانوں میں بھی قرآن مجید اور احادیث نبویﷺ کے ترجمے کا دروازہ کھل گیا۔ معرکۃ الآرا ترجمہ قرآن، فتح الرحمٰن کے علاوہ، مقدمہ فتح الرحمٰن اصول تفسیر کی مہتم بالشان تصنیف الفوز الکبیر اور فتح الخبیر بھی قرآن فہمی کے لیے منارۂ نور ثابت  ہوئے۔  بعد ازاں آپ کے لائق اور قابل فرزندوں اور تلامذہ نے اپنے شیخ بزرگوار کے اس مشن
 

*  اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ علومِ اسلامیہ، جامعہ پنجاب، لاہور

کو سنبھالا۔ شاہ عبدالعزیز، شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر نے فہم قرآن کی اس تحریک میں اپنی زندگیاں صرف کر دیں اور خانوادہ ولی اللہی کی نیک نامی کا باعث بنے۔

شاہ ولی اللہ اور ان کے ابنائے ثلاثہ کی تفسیر ی نگارشات میں درج ذیل کتبِ تفسیر اہم ہیں۔

۱۔      فتح الرحمٰن (مقدمہ، ترجمہ وتحشیہ) از شاہ ولی اللہ(م۱۷۶۲ء)،

۲۔      تفسیر فتح العزیز از شاہ عبدالعزیز دہلوی،

۳۔      تفسیر رفیعی از شاہ رفیع الدین، اور

۴۔     حاشیہ موضح القرآن از شاہ عبدالقادر

(۱     فتح الرحمٰن (مقدمہ، ترجمہ وتحشیہ)

شاہ ولی اللہ کا معرکۃ الآراء ترجمہ قرآن، فتح الرحمٰن  کے نام سے مشہور ہوا۔ فتح الرحمٰن اصل میں ایک مقدمہ، ترجمہ قرآن اور اس کے تفسیری حواشی پر مشتمل ہے۔ مقدمہ میں ترجمہ کے اصول، ترجمہ قرآن کی ضرورت و اہمیت اور چند دیگر فوائد ذکر کیے گئے ہیں۔

شاہ صاحب کے نزدیک ترجمہ قرآن کا مقصد و مقتضیٰ، مسلمانان ہند کی خیر خواہی اور ان کی دینی ضروریات کی تکمیل تھی۔ آپ کا ممطح نظریہ تھا کہ قرآن کا ترجمہ فارسی زبان میں ایسا سلیس اور روز مرہ کے مطابق کیا جائے، جو تکلف و تصنع اور عبارت آرائی سے پاک ہو اور اس میں قصوں، حکایات اور مختلف النوع توجیہات سے کوئی سروکار نہ رکھا جائے تاکہ عوام و خواص اسے یکساں طور پر سمجھ لیں۔

اس ترجمہ میں شاہ صاحب نے جن امور کو ملحوظ رکھا ہے۔ انہیں  مقدمہ فتح الرحمٰن  کی روشنی میں جناب سعود عالم قاسمی نے ان نکات میں بیان کیا ہے۔

۱۔  قرآن کی آیات  کا انہی کے مطابق اظہارِ مراد اور لطافتِ تعبیر کے ساتھ معروف فارسی زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ دوسرے تراجم میں عبارت کی طوالت ، تعبیر میں رکاوٹ اور مفہوم کو سمجھنے میں جو دقت پیش آتی ہے، اس سے احتراز کیا گیا ہے۔

۲۔  قصص قرآن کے بیان میں طوالت و تقصیر کی درمیانی راہ اختیار کی گئی ہے۔

۳۔ مختلف توجیہات میں عربی زبان و قواعد کے اعتبار سے زیادہ مستحکم، علمِ حدیث اور علمِ فقہ کے اعتبار سے زیادہ درست اور کم الفاظ کی توجیہہ کو اختیار کیا گیا ہے۔

۴۔ قرآن کا ترجمہ اس انداز سے کیا گیا ہے کہ جو کوئی علمِ نحو سے واقف ہے، وہ اس کو بخوبی جان سکتا ہے او ر جوشخص نحو نہیں جانتا، وہ بھی اصل مقصد سے محروم نہیں رہے گا۔

۵۔  ترجمہ کو تحت اللفظ اورحاصل المعنی ترجمہ کی کمزوریوں سے پاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔(۱)

اسلوبِ تفسیر

شاہ صاحب کے نزدیک ترجمہ قرآن کا اہم ترین مقصد مسلمانوں میں قرآن فہمی کا ذوق پیدا کرنا تھا، اس لیے انہوں نے قرآنی آیت کے مفہوم کو اصل اہمیت دی ہے، لیکن الفاظِ قرآن سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا۔ اسی طرز نے بعد ازاں بین القوسین ترجمہ اور تفسیری حواشی کو رواج دیا۔ شاہ صاحب نے طول طویل بحثوں کے بجائے سادہ اور سلیس انداز میں قرآنی مقصود کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ اور انہوں نے مشکل مقامات کی مختلف توجیہات اور متشابہات کی تاویلات میں غیر ضروری تفصیلات کو عقلی موشگافی قرار دیتے ہوئے نظر انداز کر دیا ہے۔

ترجمہ وتفسیر میں اجتہادی بصیرت

ترجمہ وتفسیر میں اجتہادی بصیرت کے کئی نمونے موجود ہیں۔ قرآن حکیم کے وہ مقامات جہاں ایک سے زیادہ معانی اور مفاہیم کی گنجائش ہے، اور مفسرین نے آیت کے مختلف معانی مراد لیے ہیں وہاں شاہ صاحب نے عام مفسرین کی پیروی کو ضروری نہیں سمجھا ہے بلکہ اپنی خداداد اجتہادی بصیرت اور ذوق قرآنی کو کام لاتے ہوئے اس کا ترجمہ  و تفسیر کیا ہے۔مثال کے طور پر قرآن حکیم کی یہ آیت:

﴿وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا﴾  (البقرہ، ۲:۱۴۳)

ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول(ﷺ) تم پر گواہ ہو جائیں

لفظ  وسط ایک جامع لفظ ہے، اس کا ترجمہ مفسرین نے عام طور پر خیار، معتدل، اجود، اوسط وغیرہ کیا ہے۔ تاہم شاہ صاحب نے "مختار" ترجمہ کیا ہے جو اقتضائے حال سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ اس میں خیار، معتدل، اجود، اوسط کےعلاوہ قوت اور شوکت کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے (۲)۔

تفسیر میں  شاہ صاحب کی قرآنی بصیرت کےاور نمونے بھی نظر آتے ہیں(۳)۔

ترجمہ و تفسیر میں تنوع

ترجمہ و تفسیرکی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں موقع کلام کی نزاکت کا احساس و لحاظ پورے طور پر پایا جاتا ہے۔ یعنی ترجمہ میں لفظی رعایت کے ساتھ ساتھ صورت حال کو بھی تناظر میں رکھا گیا ہے(۴)۔

بعض مواقع پر اس بات کی بھی رعایت کی گئی ہے کہ اگر کوئی آیت ایک سے زیادہ مطالب پر حاوی ہے تو انہوں نے ایک ترجمہ پر اکتفا نہ کر کے دوسرے مطلب کا بھی ذکر کیا ہے۔ شاہ صاحب اس سے یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ یہ دونوں مطلب اپنی جگہ درست اور مناسب ہیں (۵)۔

فقہی احکام کاتذکرہ

حاشیہ میں شاہ صاحب نے آیات احکام کے ذیل میں فقہی جزئیات کو بھی سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے احکام کا ذکر مختصراً  اور اشارۃًٍٍ  کیا ہے۔ فقہ حنفی کے علاوہ دیگر مکاتیب فقہ کو بھی پیش کیا ہے تاکہ آیات کے مفاہیم وضاحت کے ساتھ سامنے آسکیں۔ مثلاً  آیتِ کریمہ:

﴿فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ  ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ﴾ (۶)

جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر ان میں سے کوئی کھا لے بغیر میلانِ گناہ کے، تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے

اس ذیل میں شاہ صاحب لکھتے ہیں:

مخمصہ میں مردار کھانا جائز ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک متجانف لاثم کا فائدہ یہ ہے کہ ضرورت سے زیادہ نہ کھائے اور امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کے نزدیک اس کافائدہ یہ ہے کہ اضطرار کے وقت مردار کھانے کی رخصت چوروں اور ڈاکوؤں کے لیے نہیں ہے (۷)۔

فقہی جزئیات بتاتے ہوئے کئی مقامات پراپنی اجتہادی رائے کا اظہار بھی کیا ہے۔(۸)

آیات  و سور میں باہم تطابق

شاہ صاحب نے آیات  و سور میں باہم تطبیق پیدا کرنے میں بڑی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ حاشیہ فتح الرحمان میں انہوں نے اس کا لحاظ رکھا ہے اور آیات و سور کے مضامین میں حسب ضرورت تطبیق دینے کی کوشش کی ہے(۹)۔

المختصر یہ کہ شاہ صاحب کا یہ ترجمہ مع حواشی فتح الرحمٰن، ایسے بہت سے قرآنی مباحث کو  اجاگر کرتا ہے، جن سے فہم قرآن کی گرہیں کھلتی ہیں۔ بحیثیت مجموعی شاہ صاحب کا یہ کارنامہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔

اس ترجمہ نے شاہ صاحب کے صاحبزادوں کو تحریک دی کہ وہ فارسی اور اردو میں قرآن کی خدمت انجام دیں۔ چنانچہ شاہ عبدالعزیز نے فارسی میں فتح العزیز لکھی ۔شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین نے اردو میں تراجم کئے اور حواشی لکھے۔جن کاتذکرہ ذیل میں دیا جارہا ہے۔

۲)   تفسیر فتح العزیز ازشاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (م ۱۸۲۳ء)

عبدالعزیز نام اور سراج الہند لقب تھا۔ ان کے والد ماجد حضرت شاہ ولی اللہ تھے۔ والد ماجد ہی کی خدمت میں ان کی اصل تعلیم وتربیت ہوئی البتہ بعض امہات کتب کادرس اپنے والد کے ممتاز تلامذہ جیسے شاہ محمد عاشق پھلتی اور محمد امین ولی اللہی سے بھی لیا۔ اپنے پدربزرگوار شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی وفات کے وقت ان کی عمر سترہ سال تھی۔ اوائل عمر میں کثرت امراض کے باوجود آپ نے مدۃ العمر درس و افادہ کابازار گرم رکھا اوراپنے والد کے جانشین مقرر ہوئے۔

آپ کو قرآن مجید کےدرس سے خاص شغف تھا۔ آپ کے نواسے  اسحاق بن فضل روزانہ ایک رکوع قرآن مجید ان کی مجلس میں  تلاوت کرتے تھے جس کی تفسیر شاہ صاحب بیان کرتے تھے۔ اس حلقہ درس سے بے شمار فضلا پیدا ہوئے اور ملک کے کونے کونے میں پھیل گئے۔ آپ نے ۸۰ برس کی عمر پا کر  ۹شوال ۱۲۳۹ھ/۱۸۲۳ء کو وفات پائی(۱۰)۔

شاہ عبدالعزیز نے متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ امراض کی شدت اورآنکھوں کی بصارت کے زائل ہو جانے کے سبب بعض کتابوں کو انہوں نے املا کرایا۔ ان کی اہم تصنیفات میں تحفہ اثنا عشریہ، بستان المحدثین، العجالۃ النافعۃ، فتاویٰ اور زیرتبصرہ تفسیر فتح العزیز ہے۔

تفسیر فتح العزیز

یہ تفسیر نامکمل صورت میں پائی جاتی ہے سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی ابتدائی ایک سو چوراسی آیات کی تفسیر پہلی جلد میں ہے اور آخر کے دو پاروں کی تفسیر علیحدہ علیحدہ جلدوں میں ہے اوریہ جلدیں متعدد بار شائع ہو چکی ہیں۔

شیخ رفیع الدین مراد آبادی نے تفسیر فتح العزیز کی اہم خصوصیات یہ گنوائی ہیں:

۱۔  سورتوں کے عنوان اور اجمالی مضمونِ سورت کی وضاحت سورۃ کے آغاز میں کرتے ہیں(۱۱)۔

۲ ۔  تفسیر کی دوسری خصوصیت ربطِ آیات و سورکا بیان ہے۔تفسیر فتح العزیز کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ شاہ عبدالعزیز صاحب کے یہاں اس کا خاص اہتمام تھا۔ وہ آیتوں کے ربط کے ساتھ ساتھ سورتوں کے درمیان بھی ربط و مناسبت کے قائل تھے۔ انہوں نے سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کے درمیان ربط کی ایسی دل نشیں وضاحت کی ہے جس سے ربط آیات اور ربط سور دونوں ہی کی بہ خوبی وضاحت ہوتی ہے۔ ان کی تحریر کا اردوترجمہ کچھ یوں ہے:

سورہ فاتحہ مجمل طو پرقرآن مجید کے تما م معانی پرمحیط ہے اور سورہ بقرہ سے اس اجمال کی تفصیل کاآغاز ہوتا ہے۔ سورہ فاتحہ میں آیت  اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ  میں بندہ کو ہدایت طلب کرنے کی تعلیم دی گئی ہے  تو سورہ بقرہ  میں  ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ سے لے کر اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ  تک یہ وضاحت کی گئی ہے کہ دولت ہدایت سے کس قسم کے لوگ سرفراز ہوتے ہیں(۱۲)۔

شاہ عبدالعزیز نے اکثر سورتوں کے درمیان اسی انداز سے وجوہ مناسبت تحریر کیے ہیں اور ان کے مضامین کی یکسانی دکھائی ہے۔ کہیں کہیں انہوں نے متعدد سورتوں کو ہم مضمون ثابت کیا ہے ،تفسیر میں نظم و ربط کے لطائف بھی بیان ہوئے ہیں جو قدم قدم پر ملتے ہیں(۱۳)۔

۳۔ تفسیر فتح العزیز کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قرآن مجید کے نظائر  بکثرت پیش کیے گئے ہیں۔ مفسر موصوف القرآن یفسربعضہ بعضا کے قائل تھے اور اپنی تفسیر میں انہوں نے اس کا خاص اہتمام کیا ہے۔ قرآن مجید کو وہ اصل محکم سمجھتے تھے اور شریعت کے تمام مآخذ کا سررشتہ اسی سے جوڑتے تھے۔ علاوہ ازیں شاہ صاحب نے دوسرے مآخذ شریعت اجماع اور قیاس کی مفصل تشریح کی ہے اوران کو بھی کتاب اللہ کا تابع بتایا ہے(۱۴)۔

۴۔ اپنے والد بزرگوار شاہ ولی اللہ کے اتباع میں شاہ عبدالعزیز نے انبیاء سابقہ کے قصص ومللِ ماضیہ کے واقعات اور احکام قرآنیہ کے اسرار و رموز بھی بیان کیے ہیں۔ خاص طور پر بنی اسرائیل کے واقعات، ان کے بحث و تحقیق کاموضوع رہے ہیں۔ اسی طرح قرآن مجید کے احکام  کو بھی انہوں نے دقّتِ نظر سے لکھا ہے۔ انہوں نے سورہ فاتحہ کے تمام مطالب کی حکیمانہ تشریح بھی کی ہے(۱۵)۔

۵۔  مذکورہ بالا خصوصیات کے علاوہ اس تفسیر میں حروف مقطعات پر بھی عمدہ بحث کی گئی ہے اور شاہ صاحب نے ان کے مفہوم متعین کرنے کی کوشش کی ہے(۱۶)۔

۳) تفسیرِ رفیعی از شاہ رفیع الدین دہلوی (م ۱۲۳۳ھ)

شاہ ولی اللہ کے فرزندِ دوم شاہ رفیع الدین نے بھی اپنے والد بزرگوار اوربرادرِ اکبرشاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی طرح درس و تدریس اور افتاء و ارشاد کے ساتھ قرآن مجید کے ترجمہ وتفسیر کی خدمت انجام دی۔ آپ کی تعلیم وتربیت پر شاہ عبدالعزیز نے خصوصی توجہ مبذول کی۔ شیخ محمد عاشق پھلتی سے تعلیم کی تکمیل کی۔ بیس برس کی نو عمری میں تعلیم سے فراغت حاصل کر لی اور اپنے والد کے مدرسہ میں درس و تدریس اور افتاء کی ذمہ داری سنبھال لی ان کے بڑے بھائی شاہ عبدالعزیز نے شدت عوارض کی بنا پر جب تدریس کا سلسلہ موقوف کر دیا تو ان کے اسباق بھی پڑھانے لگے اور  تقریباً نصف صدی سے زائد عرصہ تک درس وافتاء کا بازار گرم رکھا اورہزاروں تلامذہ ان سے مستفید ہوئے (۱۷)۔

تفسیری خدمات

شاہ رفیع الدین کی قابلِ ذکر قرآنی  خدمت ، اردو زبان میں اولین تحت اللفط ترجمہ قرآن ہے۔  آپ کی ایک تفسیری کاوش آیت نور کی تفسیر ہے جس کو شاہ عبدالعزیز نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا  (۱۸)۔

تفسیر آیت نور کو صوفی عبدالحمید سواتی (م۲۰۰۷) نے اپنی کوشش سے اپنے مقدمہ کے ساتھ گوجرانوالہ سے شائع کیا۔

شاہ رفیع الدین کا دوسرا تفسیری کارنامہ ان کی تفسیر سورہ بقرہ ہے جو  تفسیر رفیعی  کے نام سے شائع ہوئی ہے۔

تفسیر میں نادر تفسیری نکات اور نظمِ قرآن کا اہتمام کیا گیا ہے، تفسیر میں ناسخ و منسوخ کے موضوع پر  بحث قابلِ مطالعہ ہے (۱۹)۔

۴) موضح القرآن ازشاہ عبدالقادر دہلوی(۱۸۱۴ء)

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے تیسرے فرزند شاہ عبدالقادر اپنے مقبول  و مستند ترجمۂ قرآن کی بدولت محتاجِ تعارف نہیں ہیں۔ اردو زبان کا سب سے پہلاترجمہ قرآن مجید آپ  ہی نے کیا اور آج بھی باجودیکہ اس ترجمہ پر دو صدی کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس عرصے میں متعددترجمے ہو چکے ہیں مگر شاہ عبدالقادر کے ترجمہ کی اہمیت و افادیت پر کوئی حرف نہیں آیا ہے۔

شاہ عبدالقادر صاحب کے ترجمہ قرآن کےساتھ ان کے تفسیری فوائد  موضح القرآن  کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔ یہ فوائد بھی ترجمہ قرآن کے مانند اہل علم کے درمیان مقبول و متداول ہیں۔  ہر دور کے علما نے  موضح القرآن  کو بھی مصدر و ماخذ کے طور پر استعمال کیا ہے بعض علمی حلقوں میں موضح القرآن کی تعلیم سبقاً و سنداً بھی ہوتی تھی (۲۰)۔

شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد مولانا شبیر عثمانی نے اپنے تفسیری حواشی میں موضح القرآن ہی کو اسوہ اور رہ نما بنایا ہے۔

موضح القرآن کے چند نمونے

سورۃ بقرہ کی آیت  کریمہ

﴿بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّاَحَاطَتْ بِهٖ خَطِيْۗــــَٔــتُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ   ﴾ (۲۱)

یوں نہیں جس نے کمایا گناہ اور گھیر لیا اس کے گناہ   نے سو وہی ہیں لوگ دوزخ کے، وہ اسی میں پڑ رہے۔

﴿اَحَاطَتْ بِه۔ خَطِيْۗــــَٔــتُه﴾  کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر صاحب لکھتے ہیں گھیر لیاگناہ نے یعنی گناہ کرتا ہے اور شرمندہ نہیں ہوتا(۲۲)۔

ایک دوسری آیت

﴿وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۭوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴾ (۲۳)

اور چاہے کہ رہیں تم میں ایک جماعت بلاتے نیک کام پر اور حکم کرتے پسند بات کو اور منع کرتے ناپسند کو اور وہی پہنچے مراد کو۔

میں شاہ  عبدالقادر فریضۃ امر بالمعروف و نہی عن المنکرکا دائرہ صرف مسلمانوں کی دینی اصلاح تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ وہ اس کو نوع انسانی کی رشد واصلاح کا منصب تصور کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں فرض ہے ایک جماعت قائم رہے جہاد کرنے اور دین کو قائم رکھنے کو ، تاکہ خلافِ دین کوئی نہ کرے اور جو اس کام پرقائم ہوں وہی کامیاب ہیں اور )اس کے برعکس( یہ کہ کوئی کسی سے تعرض نہ کرے، موسیٰ بدین خود، عیسیٰ بدین خود، یہ راہ مسلمانی کی نہیں(۲۴)۔

سورۃ آل عمران میں غزوہ احد کی تفصیلات مذکور ہیں اور اس کے بعد مسلمانوں کو سود سے اجتناب کی تعلیم دی گئی ہے۔ شاہ عبدالقادر نے ان دونوں کے درمیان بہت لطیف مناسبت بتائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

شاید  سود کا ذکر یہاں اس واسطے فرمایا کہ اوپر مذکورہوا  ،جہاد میں نامردی کا اور سود کھانے سے نامردی آتی ہے، دو سبب سے، ایک یہ کہ مال حرام کھانے سے توفیق طاعت کم ہوتی ہے اور بڑی طاعت جہاد ہے۔ دوسرے یہ کہ سود لینا کمال بخل ہے چاہیے کہ اپنا مال جتنا دیا تھا لے لیا بیچ میں کسی کا کام نکلا، یہ بھی مفت نہ چھوڑے، اس کا جدا بدلا چاہے تو جس کو مال پراتنا بخل ہو وہ کب جان دیا چاہے (۲۵)۔

سورۃ رعد کی آیت :

﴿يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ ښ وَعِنْدَهٗ اُمُّ الْكِتٰبِ  ﴾  (۲۶)

مٹاتا ہے اللہ جو چاہے اور رکھتا ہے   اور اسی کے پاس ہے اصل کتاب

آیت  کی تشریح کرتے ہوئے شاہ صاحب نے تقدیر کی بڑی عمدہ تفسیر کی ہے، لکھتے ہیں:

دنیا میں ہر چیز اسباب سے ہے، بعضے اسباب ظاہر ہیں، بعضے چھپے ہیں، اسباب کی تاثیر کا ایک اندازہ ہے، جب اللہ چاہے اس کی تاثیر اندازے سے کم زیادہ کر دے، جب چاہے ویسی ہی رکھے، کبھی کنکر سے مرتا ہے اور گولی سےبچتا ہے اور ایک اندازہ ہر چیز کا اللہ کے علم میں ہے، وہ ہرگز نہیں بدلتا۔ اندازے کو تقدیر کہتے ہیں۔ یہ دو تقدیریں ہیں ایک بدلتی ہے اور ایک نہیں بدلتی (۲۷)۔

بعض آیتوں کی تشریح میں شاہ عبدالقادر کی غیر معمولی ذہانت کا پتہ چلتا ہے مثلاً سورہ الحجر کی  آیت

﴿وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِيْنَ۔ لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ  ۭ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ ﴾ (۲۸)

اور دوزخ پروعدہ ہے ان سب کا، اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازہ کو ان میں ایک فرقہ بٹ رہا ہے۔

سات دروازوں کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

جیسے بہشت کے آٹھ دروازے ہیں۔ نیک عمل والوں پر بانٹے ہوئے، ویسے دوزخ کے سات دروازے ہیں، بدعمل والوں پر بانٹے ہوئے، شاید بہشت کا ایک دروازہ زیادہ وہ ہے کہ بعضے لوگ نرے فضل سے جاویں گے بغیر عمل کے باقی عمل میں دروازے برابر ہیں (۲۹)۔

مذکورہ بالا مثالوں سےتفسیر موضح القرآن  کا اسلوبِ بیان اور اس کے طریق استدلال کا ایک سرسری اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

 

ظ ظ ظ

 

حوالے و حواشی

۱۔  قاسمی، مسعود عالم، فتح الرحمان ایک تنقیدی مطالعہ، در قرآن کی تفسیریں چودہ سو برس میں، خدا بخش اورئنٹیل لائبریری، پٹنہ، ۱۹۹۵ء، ص:۱۷

۲۔  قاسمی، مسعود عالم، فتح الرحمن  ایک تنقیدی مطالعہ، ص ۱۷۲

۳۔ قاسمی، وہی کتاب،ص ۱۰۱

۴۔ مثال کے لیے ملاحظہ کیجیے: سورۃ التوبہ،آیت نمبر ۱۱۲ کی تفسیر

۵۔  قاسمی، مسعود عالم، قرآن مجید کی تفسیریں –  چودہ سو برس میں، ص ۱۵۴

۶۔  المائدہ،  ۳:۵

۷۔ قاسمی، مسعود عالم،  قرآن مجید کی تفسیریں – چودہ سو برس میں، ص:۱۷۴

۸۔ چند مقامات کے لیے ملاحظہ ہو:  شاہ ولی اللہ، فتح الخبیر، بحوالہ ضیاء الدین اصلاحی، مقدمہ فتح الرحمٰن والفوز الکبیر وفتح الخبیر، (مضمون) در قرآن مجید کی تفسیریں – چودہ سو برس میں، ص:۱۶۵

۹۔  مثال کے لیے ملاحظہ ہو: سورۃ الانعام کی آیت نمبر ۱۱۴ کی تشریح، نیز،قاسمی، سعود عالم، قرآن مجید کی تفسیریں – چودہ سو برس میں، ص:۱۷۹، بحوالہ شاہ ولی اللہ، حاشیہ فتح الرحمٰن

۱۰۔ حالاتِ زندگی کے لیے ملاحظہ کیجیے: عمری،محمد عارف، تذکرہ مفسرینِ ہند، دارالمصنفین، اعظم گڑھ،۲۰۰۶ء،ص ۱۶۷ ۔ ۱۶۹

۱۱۔  دیکھیے:  شاہ عبدالعزیز، فتح العزیز، مطبوعہ بمبئی، س۔ن، ۷۹،۷۸/۱

۱۲۔ تفسیر فتح العزیز، ۹۰/۱

۱۴۔ نفس مصدر، ۱۸۶/۱ (مزید مثال کے لیے ملاحظہ ہو : نفس مصدر، ۱۱۰/۱)

۱۵۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: تفسیر، ۷۴/۱ ، ۱۱۰-۱۰۸/۱

۱۶۔ دیکھیے تفسیر، ۹۵/۱، ۱۰۲/۱ ؛  تذکرہ، ص ۱۹۰

۱۷۔ تذکرہ، ص ۱۹۱

۱۸۔ دیکھیے: عبدالحئی حسنی، نزھۃ الخواطر، ۱۸۳/۷

۱۹۔ دیکھیے : تفسیررفیعی، ص ۶,۹۱،۱۴۹

۲۰۔ اخلاق حسین قاسمی، محاسن موضح القرآن، دہلی، ۱۹۷۷ء، ص ۲۸

۲۱۔ البقرہ، ۸۱:۲                   ۲۲۔     موضح القرآن، ص ۱۸

۲۳۔    آل عمران، ۱۰۴:۳          ۲۴۔    موضح القرآن، ص ۱۰۱

۲۵۔ نفس مصدر، ۱۰۷               ۲۶۔     الرعد، ۳۹:۱۳

۲۷۔    موضح القرآن، ص ۴۱۹               ۲۸۔    الحجر، ۴۳،۴۴:۱۵

۲۹۔ موضح القرآن، ص ۴۳۵