ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار
پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

نرم مزاج اور لطیف
حافظ محمد شریف امریکہ

            یکم ستمبر کو ایک اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لیے شکاگو گیا تو ایک اسٹال پر آپ کا رسالہ حکمت قرآن نظر سے گزرا جس کے چند شمارے میں ساتھ لایا تھا۔ماشاء اللہ آپ انتہائی لائق تحسین ہیں کہ اس دور ظلمات میں اپنا چراغ باوجود باد مخالف کے جلائے ہوئے ہیں اور یوں دین حق کے راہ نوردوں کے لیے مشعل راہ کا کام دے رہے ہیں۔رسالہ کے مضامین نہایت علم آموز،فکرانگیز اور تازگی ایمان کا موجب بنے اور دوستوں نے بھی پڑھ کر ایسے ہی احسان مندانہ تاثرات کا اظہار کیاہے۔

تسلیم کہ اک شمع کی ضوء کم ہے،بہت کم

اک شمع بھی ظلمات میں جلتی ہے بمشکل

            کتنے خوش نصیب ہیں وہ اللہ کے پراسرار بندے جنہیں حق نے عشق الہیٰ کی نعمت سے نوازا ہے۔ ایسی شمع کا جلتے رہنا نہایت ضروری ہے۔

            جولائی ۹۷ء کے شمارہ میں حافط احمد یار صاحب کی موت کی خبر پڑھ کر افسوس ہوا کیونکہ مجھے بھی مرحوم سے رسم و راہ تھی۔خدا مغفرت کرے۔مرحوم ایک نہایت نیک،شریف النفس انسان تھے۔علم دوست اسلام پسند قرآن سے عشق،سادہ دلی ان کا شعار،مزاج کے نہایت لطیف اور گفتگو میں نرم لہجہ میں بہت خفیف۔اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں خاص مقام عطا فرمائے۔

            حافظ صاحب سے میرا تعارف ۱۹۵۵ء میں ہوا جب ان کے بیٹے نعم العبد اور ذوالقرنین نیا مدرسہ اچھرہ میں میرے شاگرد بنے تھے۔میں اس زمانے میں سیکنڈ ماسٹر کی حیثیت سے انگلش کے علاوہ تجوید القرآن بھی پڑھایا کرتا تھا۔سید نقی علی صاحب مرحوم ہیڈ ماسٹر اور کوثر نیازی صاحب نیا مدرسہ بورڈ کے چیئرمین تھے۔

            نعم العبد باپ کی طرح نہایت ذہین اور محنتی طالب علم تھا۔کئی بار مضامین میں اول پوزیشن حاصل کی۔یہ ایک نمایاں اعزاز تھا کیونکہ اس کے ہم جماعتوں میں بڑی ہستیوں کے فرزندان شامل تھے۔جیسے مولانا مودودی صاحب کے بیٹے محمد فاروق اور حسین فاروق،میاں طفیل محمد اور نعیم صدیقی کے فرزندان۔ میاں محمد عثمان(سابق ایم این اے)  اور شہریار آف دل روز ولا (کارڈیالوجسٹ) وغیرہم۔  حافظ صاحب سے میرے تعلقات کی قربت کی وجہ ہمارے ذاتی اور تعلیمی حالات میں حد درجہ مشابہت تھی۔ابتدائی عمر میں ناداری اور قلیل وسائل کے شکار،جونیئر ٹیچر کی ٹریننگ،قرآن کی تعلیم و قراء ت کا شوق ،میٹرک کے بعد کی تعلیم کے مراحل بزور محنت و کاوش Self-taught بطور پرائیویٹ طالب علم طے کیے۔ وہ بھی اعلیٰ امتحانات میں فرسٹ پوزیشن حاصل کرتے رہے اور میں بھی ایم اے کے بعد انٹرنیشنل سکالر شپ حاصل کرکے پہلی مرتبہ ایک یونیورسٹی میں باضابطہ Formal) ( طالب علم کا اعزاز حاصل کرسکا۔ ۱۹۶۴ء میں ہم دونوں نے پنجاب یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔وہ شعبہ اسلامیات میں اور میں انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن میں جہاں ہم اکثر علامہ علائوالدین صدیقی صاحب کی قیادت میں علمی، ادبی اور اسلامی موضوعات پر تبادلہ خیالات کے لیے اکٹھے ہوا کرتے تھے۔

            عہد رفتہ کی یادوں کی داستاں کچھ طویل ہوتی جارہی ہے۔مرحوم کا اس دار فانی کو خیر باد کہہ جانا گویا ہم عصراحباب کے لیے ایک ریمائنڈ رہے کہ

چل بسیں گے ایک دن ہم بھی اسی صورت میں یار

لوگ پھر ہم کو کہیں گے آج وہ بھی چل دیئے