ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار 

پروفیسر حافظ احمد یار کے اعزاز میں
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

پاکستان میں رسم عثمانی پر مبنی نسخہ قرآن کی اشاعت کی ضرورت

                                                                                                                         پروفیسر حافظ احمد یارمرحوم

             پروفیسرحافظ احمد یار مرحوم نے اس مضمون میں جس خواہش کا اظہار کیا ہے الحمد للہ اس کے مطابق حکومت پنجاب کے زیر اہتمام پنجاب اسمبلی میں قانون سازی ہوچکی ہے جس کے نتیجہ میں پنجاب قرآن بورڈ بنایا گیاہے ،اوراس میں پاکستانی مصاحف پر علمی وتحقیقی کام کا آغاز ہوچکاہے ۔ اورحافظ صاحب مرحوم کی کاوش کے نتیجہ میں اس موضوع کی طرف علماء ومحققین اور سرکاری وغیر سرکاری اداروں کی توجہ ہوچکی ہے۔نیز حال ہی میں طباعت ِقرآن کے موضوع پر قرآن کمپلیکس مدینہ منورہ سعودیہ عرب میںایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس کی رپورٹ چھ جلدوں میں شائع ہوئی ہے ۔اور اس رپورٹ میں پاکستانی مصاحف کے بارے میں پانچ علمی و تحقیقی مقالات شامل کیے گئے ہیںجوکہ ایک قابل قدرعلمی ذخیرہ ہے ۔لہذا بجا طور پر یہ کہا جاسکتاہے کہ حافظ احمد یار مرحوم نے پاکستانی مصاحف کا جس گہری نظرسے مطالعہ کیااورایک فکرانگیز منصوبہ پیش کیا وہ آج بھی زندہ ہے اور اس منصوبہ پر عملی کام جاری ہے۔  دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ پروفیسر حافظ احمدیار مرحوم کی اس کاوش کو شرف قبول عطاء فرمائے اور اجر عظیم سے نوازے۔ آمین)!)

            قرآن کریم کی صحیح قراء ت (حفظ یا ناظرہ) ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے ۔ اور اس مقصد کے لئے کلام اللہ کی درست کتابت کا اہتمام مسلمانوں کا اجتماعی فریضہ اور فرض کفایہ ہے۔ قرا ء ت اور کتابت کا یہ تسلسل ہی بحکم الہیٰ گزشتہ چودہ سو سال قرآن کریم کی حفاظت کا ضامن رہا ہے اور ان شاء اللہ تاقیامت رہے گا۔

            حفاظت قرآن کے یہ دونوں عوامل (درست قرا ء ت اور کتابت) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہی شروع ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف تلقی اور سماع کی بنیاد پر خود جبریل علیہ السلام سے قرآن مجید کا ایک ایک لفظ سن کر یاد کیا اور پھر اسی طرح اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سنایا اور پڑھایا۔ بلکہ اس کے ساتھ آپ ﷺ نے قرآن کے ہر نازل شدہ حصے کی کتابت بھی کسی نہ کسی کاتب وحی سے اپنے سامنے کرائی۔ اس کتابت کی نقلیں بھی صحابہؓ میں شائع ہوئیں اور کلی یا جزوی طور پر حفظ قرآن کا کام بھی ساتھ ساتھ جاری رہا۔

            قرآن کریم کی تاریخ میں کئی ایسے مواقع بھی پیش آئے جب مختلف اسباب و عوامل کی بنا پر قرآن مکتوب (مصاحف) میں اغلاط داخل ہونے لگیں۔ حفاظ قرآن کے لئے اس قسم کی اغلاط قطعاً بے ضرر ہوتی ہیں۔ کتابت مصحف میں کسی طرح کا سہو و خطا یا نقص و عیب (چاہے وہ کسی وجہ سے واقع ہوا ہو) نہ تو حافظ قرآن کے لئے کسی گمراہی اور غلطی کا باعث بن سکتا ہے اور نہ ہی حفاظ کے ہوتے ہوئے (اور حفظ قرآن مسلم معاشرہ میں ایک جزء اساسی (institution)کا درجہ رکھتا ہے)  قرآن کریم میں کسی قسم کی تحریف یا تغیر مستقل طور پر راہ پا سکتی ہے۔ غالباً اسی لئے کہا گیا ہے کہ قرآن کریم کا کوئی نسخہ (غالباً) اغلاط سے مبرا نہیں ہوتا، تاہم قرآن کبھی غلط نہیں پڑھا جاتا۔

            حفاظ کی حد تک تو یہ بات درست ہے۔ مگر عام (غیر حفاظ) مسلمان کو قرآن کریم کی بذریعہ تلقی و سماع ناظرہ تعلیم کے بعد روزانہ تلاوت و قرا ء ت کے لئے کسی نہ کسی مکتوب نسخہ قرآن (مصحف) پر اعتماد کرنا پڑتا ہے۔ بنا بریں اگر کسی وجہ سے کسی زمانے یا کسی علاقے میں کتابت مصاحف میں اغلاط عام اور بکثرت واقع ہونے لگیں تو ان کے فوری تدراک کے لئے صحیح کتابت پر مبنی نسخہ قرآن (مصحف) کی اشاعت ناگزیر ہو جاتی ہے۔

            تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی ضرورت کا احساس سب سے پہلے خلیفہ سوم حضرت عثمانؓ کے زمانے میں ہوا۔ یہاں ان عوامل و اسباب سے بحث کرنے کی نہ ضرورت ہے نہ گنجائش جن کے تحت حضرت عثمانؓ  کو یہ کام کرنا پڑا صرف اس بات کی طرف توجہ دلانا کافی ہے کہ قرآن کریم کے یہ عثمانی ایڈیشن (مصاحف عثمانی) اہل علم و بصیرت کبار صحابہ کے ہاتھوں اور ان کی نگرانی میں خاص اہتمام سے تیار ہوئے تھے۔ اور اس وقت سے آج تک یہ عثمانی ایڈیشن ہی کتابت مصاحف کے لئے معیاری نمونہ اور ماڈل کاپی تسلیم کئے گئے۔ ان مصاحف (عثمانی) میں اختیار کردہ طریق املاء الفاظ اور ہجاء کلمات ہی اصطلاحاً      رسم عثمانی کہلاتا ہے اور کتابت مصاحف میں صحت اور درستی کا معیار مطلوب ہی یہ ہے کہ ہر نیا لکھا جانے والا  مصحف رسم اور املاء کی حد تک مصاحف عثمانی میں سے کسی ایک کی بعینہ نقل ہو یا اس قسم کی کسی نقل صحیح سے نقل کیا جائے۔

            یہ بات اس لئے بھی ضروری تھی کہ رسم عثمانی کئی امور میں رسم معتاد یا عربی زبان کے عام طریق ہجاء سے مختلف تھا۔ اس اختلاف کے اسباب اور ان کی نوعیت پر بحث کے لئے مستقل تالیفات موجود ہیں۔ یہاں اس کی تفصیلات میں جانا بے کار ہے۔ البتہ جو بات خاص طور پر قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ امت میں اصولی طور پر اس بات میں قطعاً کوئی اختلاف نہیں ہے کہ کتابت قرآن میں اس  رسم عثمانی کو ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔ حتی کہ وہ مکاتبِ فکر بھی جو کسی وجہ سے ’’رسمِ عثمانی‘‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کرنا چاہتے بلکہ اسے رسم قرآنی کا نام دیتے ہیں وہ بھی اس رسم قرآنی یا         رسم عثمانی  کا اتباع اور کتابت مصاحف میں اس کی پابندی لازمی سمجھتے ہیں۔

            یہی وجہ ہے کہ کاتبین مصاحف کی راہنمائی کے لئے اور علمائے تجوید و قرا ء ت کے استفادہ کے لئے اس مخصوص فن (فن الرسم) پر الگ کتابیں تالیف کی گئی ہیں اور اس قسم کی تالیفات میں مسلمانوں کے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء نے یکساں حصہ لیا ہے۔

            عثمانی ایڈیشن کی اشاعت کا باعث مختلف لہجات استعمال کرنے والے عربوں اور غیر عرب مسلمانوں کے باہمی اختلاط سے پیدا ہونے والا اختلاف بنا تھا۔ مگر پھر مصاحف عثمانی کی اشاعت سے تقریباً تیس (۳۰) برس کے اندر ہی عرب و عجم کے لسانی اختلاط اور عربوں اور عجمیوں کی عربیہ فصحی سے تدریجی بیگانگی اور دوری (اور عربی زبان کی کتابت میں شکل و اعجام کی غیر موجودگی۔ یہ سب مل کر۔۔۔) متشابہ حروف و کلمات میں تمیز کے لئے علامات ضبط بذریعہ نقط (نقط الشکلی اور نقط الاعجام)کی ضرورت اور ایجاد کا باعث بن گئے۔اور یہ کام مشہور تابعی ابوالاسود الدئولی م۶۹ھ اور ان کے بعض خاص تلامذہ نے سر انجام دیا۔دوسری صدی ہجری کے اختتام تک خلیل عروضی کا ایجادد کردہ طریقہ ـحرکات الشکل  بھی وجود میں آگیا۔

            دئولی اور خلیل کی ایجاد کردہ علامات ضبط مختلف اسلامی ملکوں میں رائج ہو گئیںاور ان میں مزید اضافوں اور ترمیمات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔اگرچہ بالآآخر خلیل عروضی کا طریقہ ہی تمام ممالک میں رائج ہو گیاتاہم کتابت قرآن کی حد تک آج بھی بعض افریقی ممالک میں ابوالاسود کے ایجاد کردہ طریق ضبط بذریعہ نقط کو جزوی طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔علامات ضبط کے اس تصور اور تنوع کا مطالعہ اور موازنہ بھی ایک دلچسپ علمی موضوع ہے اور ایک مستقل تالیف کا محتاج ہے۔

            علامات ضبط میں اس پیش رفت کے ساتھ ساتھ فنی اور جمالیاتی لحاظ سے بھی خط عربی کئی مراحل طے کر گیا۔ بیسیوںاقلام(اقسام خط) ایجاد ہوئیں(مثلا کوفی،ریحانی، محقق، ثلث، نستعلیق، شکشہ، دیوانی، رقاع، طغری، وغیرہ)تاہم کتابت مصاحف کے لئے ان میں سے صرف دو تین خطوط (اقسام خط)ہی مستعمل رہے۔اگرچہ ایک ہی قسم کے خط(مثلا کوفی یا نسخ)میں بھی۹ مختلف ممالک اور مناطق کے اندر بعض واضح انفرادی علاقائی خصوصیات موجود ہیں۔

            تاہم،شکل و اعجام کے اختلاف،علامات ضبط کے تنوع اور انواع خط کی بوقلمونی کے باوجود یہ بات ہمیشہ مسلم رہی کہ اصل ہجاء اور رسم قرآنی (یا عثمانی)میں قطعا ًکوئی تغیر جائز نہیں ہوگا۔خصوصاًوہ جو اس میں سے متفق علیہ ہے۔

            مصاحف عثمانی جو بصرہـــ ‘  کوفہ ‘  دمشق ‘  مکہ مکرمہ وغیرہ صوبائی صدر مقامات پر ماڈل اور ماسٹر کاپی کے طور پر  بھیجے گئے تھے۔ان میں باہم بھی چند جگہوں پر طریق ہجاء و املاء اور رسم کے کچھ اختلافات موجود تھے بلکہ شاید عمداًرکھے گئے تھے اس کی وجوہ اور ان جملہ اختلافات کا ریکارڈ بھی بالتفصیل اس فن (رسم)کی کتابوں میں موجود ہے۔ لیکن مختلف فیہ رسم میں بھی مصاحف عثمانی میں سے ہی کسی ایک کا اتباع لازمی ہے۔اس کے علاوہ اور ان مصاحف سے باہر کا کوئی طریق ھجاء یا رسم الخط قابل قبول نہیں ہو گا چاہے وہ عام عربی خط میں رائج ہی کیوں نہ ہوچکا ہو۔

            اس کے ساتھ ہی اس کی مختلف فیہ صورتوں میں کسی ایک ہی رسم کو لازمی قرار دینا بھی اتنا ہی غلط ہے جنتا رسم عثمانی سے انحراف غلط ہے۔

            مندرجہ بالا بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسم قرآنی کی درستی اور صحت نہ تو محض حافظ قرآن ہونے کی بنا پر متعین کی جا سکتی ہے نہ محض عربیت میں مہارت سے یہ بات ممکن ہے۔ خصوصاً ان کلمات میں جو غیر معتاد اور خلاف قیاس لکھے گئے ہوں۔ اس لئے کہ اس (رسم قرآنی) کی صحت کا دارومدار ہی نقل صحیح  پرہے۔

            یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خطاط حضرات اکثر و بیشتر (الا ما شاء اللہ) کم علم لوگ ہوتے ہیں۔ فنی مہارت کسی علمی ثقاھت کا ثبوت نہیں ہے۔ کتابت مصاحف مدتوں ایک معقول، شریفانہ اور منفعت  بخش پیشہ اور ذریعہ معاش بھی تھا۔ خصوصاً جب کہ نسخہ خطاطی و نقاشی کے کمال کا آئینہ دار ہوتا اور کسی حکمران یا بڑی شخصیت کو پیش کیا جاتا تو بہت کچھ انعام و اکرام ملنے کی توقع ہو سکتی تھی۔ اس لئے خطاط جلدی کی خاطر یا محض جمالیاتی پہلو پر نظر رکھنے کے باعث کتابت مصاحف میں رسم الخط عثمانی (قرآنی) کی خلاف ورزیاں بھی کر جاتے تھے (۱)۔ بعد میں آنے والے کاتب یا تو غلطی کے کسی ایسے ہی سبب کا شکار ہو کر یا کسی سابق کے لکھے ہوئے ’’باغلاط‘‘ مصحف سے نقل کرتے ہوئے نادانستہ طور پر غلطی در غلطی کا ارتکاب کر لیتے تھے اور یوں ایک غلطی محض تکرار کی وجہ سے مانوس لگنے لگتی تھی۔

            علم الرسم علمی کتابوں میں ضرور موجود تھا لیکن اول تو جتنی تعداد میں مصاحف لکھے جاتے تھے ان میں سے ایک ایک پر ماہرانہ نگرانی کا انتظام موجود نہ تھا اور ایسا ہونا شاید ممکن بھی نہ تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مصاحف کی کتابت میں رسم عثمانی (قرآنی) کی خلاف ورزی عام ہونے لگی بلکہ بعض صورتوں میں غلط املاء کو ہی کلمہ کی صحیح صورت املاء ورسم سمجھ لیا گیا۔ یہ صورت خصوصاً حذف و اثبات الف والے کلمات اور مقطوع و موصول لکھے جانے والے کلمات میں زیادہ واقع ہوئی یا ان کلمات میں جن کی املاء معتاد (روزمرہ کی املاء) رسم قرآنی سے مختلف ہوتی تھی۔ اگرچہ بعض دیگر کلمات میں بھی کتابت کی غلطی پر ارتکاب ہوتا رہا ہے۔

            اس تساہل یا جہالت کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کی قرآن کریم کے لئے صحت کتابت کا معیار صرف یہ سمجھ لیا گیا کہ کوئی کلمہ قرآنی چھوٹ نہ گیا ہو یا کسی بھی ملک کے اندر رائج ’’علامات ضبط‘‘ کے مطابق تمام علامات ضبط ٹھیک ٹھیک لگی ہوں یعنی حرکات ثلاثہ مد شد اور نقطہ وغیرہ کی غلطی نہ ہو (۲)۔

            طباعت کے دور میں یہ اغلاط آناً فاناً اضعافاً  مضاعفۃَ  ہونے لگیں اس لئے کہ ایک مکتوب مصحف سے سینکڑوں ہزاروں مصاحف تیار ہونے لگے اور یوں اغلاط بھی کثرت سے ’’متعارف‘‘ اور ’’متداول‘‘ ہونے لگیں۔

            بعض علاقوں (خصوصاً برصغیر میں) تجارت مصاحف کے نفع بخش کاروبار میں غیرمسلموں کے بھی آ جانے سے رسم عثمانی تو کجا علامات ضبط کی اغلاط بھی زیادہ عام ہو گئیں۔ اس کے تدارک کے لئے کم از کم برصغیر میں بہت سے مصاحف کی طباعت میں اغلاط سے مبرا ہونے کا خاص خیال رکھا گیا اس کی ایک ’’اور شاید آخری‘‘ مثال انجمن حمایت اسلام کا طبع کردہ نسخہ قرآن ہے۔ تاہم صحت کا یہ سارا معیار صرف علامات ضبط تک محدود تھا۔ رسم الخط عثمانی کی حد تک ان مہتم بالشان مصاحف میں بھی اغلاط یا خلاف ورزیاں عام ہیں۔

            حقیقت یہ ہے کہ مشرقی ممالک بالخصوص ترکی، ایران اور برصغیر میں زیادہ (اور شام عراق اور مصر میں ذرا کم) رسم عثمانی کی خلاف ورزی عام ہونے کا بڑا باعث کاتبان مصاحف کی کم علمی ، سہل انگاری یا جلد بازی وغیرہ ہی بنی۔

            افریقی ممالک (ماسوائے مصر) اس وباء سے اس وجہ سے بھی محفوظ رہے کہ وہاں قرآن کریم کی ناظرہ تعلیم کا طریقہ مختلف رہا اور اب تک ہے۔۔۔ وہاں ہر طالب علم جتنا حصہ قرآن کریم کا روزانہ پڑھتا ہے وہ مصحف سے دیکھ کر تختی پر بھی نقل کرتا ہے اور کئی بار لکھ کر وہ تختی اپنے استاد کو دکھاتا بھی ہے۔ اس لئے وہاں اس طریق تعلیم کی بدولت قرآن کی نقل صحیح کے امکانات زیادہ رہے۔ جب کہ اہل مشرق نے (شاید آیات قرآنیہ کو بے ادبی سے بچانے کے لئے) اس طریقے کو اختیار نہ کیا اور نتیجۃً یہاں قرآن کریم کی نقل صحیح کا وہ اہتمام نہ ہو سکا۔

            ان سب باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ کتابت مصاحف میں اتباع رسم عثمانی کی خلاف ورزی عام ہو گئی۔ مصاحف خطیہ کے دور تک تو قدرتاً ان اغلاط کی اشاعت کا دائرہ محدود رہا۔ مگر دورِ طباعت  نے جب اس وباء کو عام کیا تو اہل علم اس صورتحال سے بے چین ہونے لگے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر میں غالباً سب سے پہلے رضوان مخللاتی نے اپنے ذاتی انفرادی اہتمام سے ایک نسخہ قرآن رسم عثمانی کے موافق (شام یا مصر سے) شائع کیا۔

            غالباً اسی نسخہ سے ۔۔۔ اور اس کوشش سے متاثر ہو کر حکومت مصر نے ۱۳۴۲ھ / ۱۹۲۵ء میں فواد اول کے زمانے میں اہل ماہرین فن کے ایک بورڈ کی نگرانی میں بڑے اہتمام سے وہ مشہور نسخہ قرآن شائع کیا جو عموماً نسخہ امیریہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا دوسرا ایڈیشن ۱۳۷۱ھ/ ۱۹۵۴ء میں شائع ہوا اور اس میں رسم الخط عثمانی کی ان چار غلطیوں کو بھی درست کر دیا گیا جو طبع اول میں رہ گئی تھیں۔ اس کے بعد سے مشرق اوسط کے تمام عرب ممالک میں شائع ہونے والے مصاحف بالعموم اسی مصری مصحف (طبع دوم) سے نقل کئے جاتے رہے ہیں۔

            ان مصری یا عرب مصاحف میں رسم عثمانی کی صحت اور رعایت کا اہتمام تو یقینا اچھی بات ہے۔ تاہم ان میں علامات ضبط کا جو طریق اختیار کیا گیا ہے وہ اپنی ’’نامانوسیت‘‘ کے باعث اہل مشرق خصوصاً ایران، ترکی یا برصغیر کے کم علم محض ناظرہ خواں لوگوں کے لئے قرا ء ت میں دشواری بلکہ غلطی کا باعث بن سکتا ہے اور بن جاتا ہے۔

            ابھی حال ہی میں سعودی حکومت نے رسم عثمانی کی خلاف ورزی کی بنا پر برصغیر میں شائع ہونے والے مصاحف کا حرمین میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا ہے لیکن اس سلسلے میں سعودیہ کے ماہرین کی جو رپورٹ سامنے آئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علامات ضبط اور رسم عثمانی کو ایک ہی درجہ میں رکھ دیا گیا ہے۔ حالانکہ اصل چیز رسم قرآنی یا رسم عثمانی ہے۔ علامات ضبط ۶۰ھ سے لے کر آج تک مختلف ملکوں اور زمانوں میں مختلف شکلیں اختیار کرتی رہی ہیں۔ خود حکومت مصر کے محولہ بالا مصحف میں یہ صراحت موجود ہے کہ:

اس میں علامات ضبط کا طریقہ کتاب  الطرز علی ضبط الخراز سے کیا گیا ہے مگر اہل مغرب اور اہل اندلس کی علامات (جو اس کتاب میں مذکور ہیں) کی جگہ خلیل عروضی اور دیگر اہل مشرق کی علامات اختیار کر لی گئیں ہیں۔

            اس تصریح کے بعد بھی کسی نام نہاد اہل علم کا اپنے ملک میں رائج علامات ضبط کو اور رسم عثمانی کو یکساں قرار دینا یا محض تعصب ہے یا جہالت۔

            مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کوئی اہل درد فرد یا کوئی اسلامی حکومت (اور حکومت پاکستان اس کی زیادہ حقدار بھی ہے اور اس پر یہ فرض خصوصاً عائد ہوتا ہے کہ وہ) ایک ایسے نسخہ قرآن کی اشاعت کا اہتمام کرے جو رسم عثمانی کے ماہرین کے ایک بورڈ کی نگرانی میں تیار کر دیا جائے۔ اور اس میں علامات ضبط اہل مشرق کی ہی اختیار کی جائیں۔ البتہ اہل عرب اور مصری و افریقی مصاحف میں قدیم سے مستعمل بعض اچھی اور سہولت پیدا کرنے والی علامات ضبط کو بھی  اپنایا جا سکتا ہے مثلاً تنوین اخفاء و اظہار۔

            حکومت پاکستان اپنے قوانین کی رو سے پاکستان کے اندر طباعت مصاحف کی صحت کی ذمہ دار ہے۔ اگر حکومت ایک معیاری مصحف تیار کر کے بطور نمونہ پیش کرے اور کم از کم پاکستانی ناشرین قرآن کو اس بات کو پابند کر دے (اور پابند بنانے کا قانون تو موجود ہے صرف غلطی کو غلطی ہی نہیں سمجھا جا رہا) کہ وہ آئندہ تمام مصاحف اس معیاری مصحف کے مطابق شائع کریں۔

            اگر یہ کام نیک نیتی، خلوص، علمی لگن اور حسن تدبیر کے ساتھ سر انجام دیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ شاید ایسا نسخہ آگے چل کر تاریخ مصاحف میں مصحف پاکستان  یا نسخہ پاکستانیہکے نام سے یادگار بن جائے۔

            میرے نزدیک اس کام کے لئے علماء و ماہر کا ایک بورڈ پہلے تو رسم عثمانی کے متفق علیہ مقامات کی واضح نشاندہی کرے سورۃ بہ سورۃ اور آیت بہ آیت اور اس میں متفق علیہ اور مختلف فیہ کی بھی تصریح کر دی جائے۔

            دوسرا کام یہ کمیٹی یا بورڈ علامات ضبط کو اختیار کرنے یا وضع کرنے کا کرے اور مختلف ممالک میں رائج علامات ضبط کا علمی جائزہ لے کر احسن و اعلیٰ کا انتخاب کرے۔ اس کے بعد یہ کمیٹی تعداد آیات، کوفی وغیر کوفی آیات کا تعین اور مختصر مگر جامع علامات وقوف متعین و مقرر کر دے۔

            اس کے بعد مصحف کی تیاری کا عملی مرحلہ آ جائے گا ممکن ہے ان ہدایات کی روشنی میں کوئی بڑا ادارہ خود ہی ایسا جامع الصفات نسخہ قرآن شائع کرنے پر آمادہ ہو جائے۔

            میرے نزدیک اس سے اگلا قدم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستانی اس معاملے میں بھی پیش قدمی کر کے اس امر کی کوشش کریں کہ تمام عالمِ اسلامی کی حکومتیں مل کر پورے عالم اسلام کے لئے یکساں علامات ضبط پر مبنی نسخہ قرآن شائع کرنے کا اہتمام کریں۔ اور اس کی تعلیم دینے کے لئے اس کے لئے طے کردہ طریق ضبط کی روشنی میں ایک قرآنی تعلیمی قاعدہ بھی شائع کیا جائے۔

            خیر یہ تو بعد کا مرحلہ ہے۔ پہلے مرحلے یعنی پاکستان میں رسم عثمانی پر مبنی مصحف کی اشاعت کے کام کی آج اتنی ہی شدید ضرورت ہے جیسی مصحف عثمانی کی تیاری کے لئے پیش آئی تھی۔

 حوالے و حواشی

 ۱۔          مارٹن لنگز نے لندن کی ۱۹۷۶ء والی مہرجان عالم اسلامی والی نمائش کے جو نمونے اپنی کتاب میں دئیے ہیں یا آربری نے ڈبلن (چیسٹر بٹی) میں موجود مصاحف کے جو عکس دئیے ہیں ان میں اکثر رسم الخط عثمانی کی کوئی نہ کوئی خلاف ورزی پائی جاتی ہے۔

۲۔         برسبیل تذکرہ کراچی سے دارالتصنیف کے شائع کردہ مصاحف میں فی غلطی ایک سو روپے انعام کے اعلان کو صرف اس شرط کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے کہ ’’اس قرآن مجید کے متن میں اعراب یعنی زیر، زبر، پیش، جزم، تشدید اور مد کی غلطی نکالنے والے کوفی غلطی سو روپیہ انعام دیا جائے گا‘‘۔ گویا رسم عثمانی کی خلاف ورزی ان کے نزدیک کوئی غلطی ہی نہیں ہے اور حکومت پاکستان کے قانون کا تقاضا پورا کرنے کے لئے جو قراء و حفاظ صحت کا سر  ٹیفکیٹ جاری کر دیتے ہیں وہ شاید خود بھی اس قسم کی غلطی پکڑنے کی اہلیت سے محروم ہوتے ہیں۔