قرآن کریم کے ایک ایک لفظ کی لغوی، صرفی، نحوی اور اعرابی تفسیر
افادات :  پروفیسر حافظ احمد یار (یونی کوڈ فارمیٹ)

ترکیب سورۃ الفاتحہ
       سُوْرَۃُ الْفَاتِحَۃِ

        قرآن کریم کی پہلی سورت کے کئی نام یا ’’لقب‘‘ کتابوں میں مذکور ہیں۔ مصاحف میں اس کا عنوان برصغیر اور بیشتر عرب اور افریقی ممالک میں اسی طرح لکھاجاتا ہے یعنی ’’سُوْرَۃُ الفَاتِحَۃِ‘‘۔ البتہ بعض ممالک (مثلاً ترکی، ایران، نائیجیریا اور بعض دفعہ شام) کے مصاحف میں اس کا عنوان ’’سُوْرَۃُ الفَاتِحَۃِ الکتابِ‘‘ لکھا جاتا ہے۔ اور اس میں ’’الکتاب‘‘ سے مراد اللہ کی کتاب یعنی قرآن کریم ہی ہوتا ہے۔

        یہ سورۃ اکثر اہلِ علم کے نزدیک ، بلحاظِ نزول مکّی سورت ہے۔ اور اس کی آیات کی کل تعداد جو بلا اختلاف سات (۷)ہے۔ تاہم اس بات میں اختلاف ہے کہ کہاں کہاں آیت ختم ہوتی ہے۔ مکی اور کوفی ’’طریقہ شمار‘‘ کے مطابق ’’بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرحیم‘‘ اس سورۃ کی پہلی مکمل آیت ہے باقی پانچ طریقہ ہائے شمار یعنی مدنی اوّل وثانی، بصری، دمشقی اور حمصی کے مطابق ’’بِسم اللّٰہِ الرّحمن الرّحیم الْحَمْدُ لِللّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْن‘‘ پر اس سورت کی آیت نمبر۱ختم ہوتی ہے یعنی ’’بسم اللہ ‘‘  ا ٓیت کا جزوہے۔ ان پانچ طرقِ شمار آیات کے مطابق ’’اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ‘‘ پر آیت نمبر۶ ختم ہوتی ہے جب کہ پہلے دو مکی اور کوفی طریقۂ شمار کے مطابق وہاں اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ پر اختتام آیت نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں بر صغیر میں سورۃ کے اس پہلے ’’عَلَیْھِمْ‘‘ کے بعد غیر کوفی آیت کا نشان ’’۵‘‘ ڈالا جاتا ہے۔ ’’پہلا‘‘ اس لئے لکھا ہے کہ سورۃ میں ’’عَلَیْھِمْ‘‘ دو دفعہ آیاہے۔

        لفظ ’’سُوْرَۃ‘‘ کی لغوی اصل کے بارے میں دو قول ہیں:

         پہلا قول:اس کا مادہ ’’س و ر‘‘ اور وزن ’’فُعْلَۃٌ‘‘ ہے۔ فعل ثلاثی مجرد سَارَ یَسُورُ سَوْرًا (باب نصر سے) کے معنی ہیں بلند ہونا دیوار پر چڑھنا اور اس مادہ سے ہی باب ’’تفعّل‘‘ کا ایک صیغہ فعل قرآن کریم (ص:۲۱) میں وارد ہوا ہے اور اس سے ہی ’’سُوْرٌ‘‘ بمعنی شہر کی فصیل (بیرونی دیوار) آتا ہے اور یہ لفظ بھی قرآن کریم (الحدید: ۱۳) میں آیا ہے۔ اس لفظ (سُوْرٌ) کے ایک معنی درجہ اور منزلت بھی ہیں۔ اور عربی زبان میںکامل اور مکمل اونٹنی کو بھی ’’سُورَۃٌ‘‘ کہتے ہیں۔

دوسرا قول: اس کا مادہ ’’س ء ر‘‘ اور وزن ’’فُعْلَۃ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد سَأَر یَسْأَرُ  (باب فتح سے ) اور سَئِرَ یَسْأَرُ سُؤْْرًا (باب سمع سے) ہر دو کے معنی ہیں باقی بچنا، کچھ حصہ باقی رہ جانا۔ معنی ہیں بقایا حصّہ یا (صرف) ’’حصّہ‘‘ اور ھمزۂِ ساکنہ ماقبل متحرک کو اس کی حرکت کے موافق حرف (ا، و، ی) کی صورت میں پڑھنا جائز ہے یعنی عرب اس طرح بھی بولتے ہیں۔ اس بناء پر ’’سُؤرَۃ‘‘ کو ’’سُوْرَہٌ‘‘ بولنا بھی جائز ہے۔ ویسے یہ مادہ اور اس سے کوئی فعل قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا ہے۔

        اس طرح لفظ ’’سُوْرَۃ‘‘ میں رتبہ، درجہ، منزلت، ایک مکمل وحدت (unit)اور حصہ کے معنی شامل ہیں۔

        لفظ ’’الفاتحۃ‘‘ کا مادہ ’’ف ت ح‘‘ اور وزن ’’فَاعِلَۃٌ‘‘ ہے۔ اور یہ فعل ثلاثی مجرد فَتَحَ یَفْتَحُ فَتْحاً بمعنی ’’کھولنا‘‘ سے اسم فاعل مؤنث کا معرف باللّام صیغہ ہے جس کے معنی ہیں ’’کھولنے والی‘‘۔ یہ اس سورۃ کا معروف اور زیادہ مستعمل نام ہے۔ قرآن کریم کو شروع سے کھولیں تو سب سے پہلے یہی سورت سامنے آتی ہے۔

        اب ہم اللہ عزوجل کے بابرکت نام کے ساتھ اس سورۃ کا مطالعہ ۔ بلحاظ لغات و اعراب اور رسم و ضبط  شروع کرتے ہیں۔

  ۱:۱                      

        یہ بیان ہو چکا ہے کہ (بِسْمِ اللّٰہِ) (جسے قر ّاء کی اصطلاح میں ’’بَسْمَلَۃ‘‘ کہتے ہیں) مکی اور کوفی طریقۂِ شمارآیات کے مطابق سورۃ الفاتحہ کی پہلی آیت ہے۔ اس لئے اس کے اختتام پر آیت کا نمبر شمار دیا گیا ہے۔

۱:۲                                            

۱:۲:۱ (۱) اللغۃ

        [اَلْحَمْدُ] کا مادہ ’’ح م د‘‘ اور وزن ’’فَعْلٌ‘‘ ہے۔ اَلْ (لام تعریف) داخل ہونے کی وجہ سے ’’حَمْدٌ‘‘ کی دال پر تنوین (-ٌ) کی بجائے صرف ضمہ (-ُ) رہ گیا ہے۔

        اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد حَمِدً یَحْمِدُ حَمْدًا (باب سمع سے) ہمیشہ متعدی اور بغیر صلہ کے آتا ہے یعنی حَمِدَہٗ یَحْمَدُہٗ کہتے ہیں (مفعول بنفسہٖ کے ساتھ) اور اکثر ’’کسی کی تعریف کرنا‘‘ یا ’’کسی کی خوبیاں بیان کرنا‘‘ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور باب نصر سے بمعنی ’’کسی کا شکر ادا کرنا‘‘ بھی آتا ہے۔ لفظ حَمْدٌ اس فعل ثلاثی مجرد کے بہت سے مصدروں میں سے ایک مصدر ہے۔

عربی زبان میں ’’تعریف‘‘ (Praise) کے ہم معنی یا قریب المعنی متعدد الفاظ ہیں۔ مثلاً حمد، مدح، ثناء ، شکر وغیرہ جن کے باہمی لغوی فرق کو سمجھنے کے لئے لغت یا تفسیر کی کسی اچھی کتاب کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ مختصراً یوں کہہ سکتے ہیں کہ :

۱۔مدح اختیاری اور غیر اختیاری تمام امور میں کی جاسکتی ہے۔ مثلاً کسی کے حسن و جمال کی مدح یا اس کے علم اور سخاوت کی مدح۔ جب کہ حمد صرف اختیاری امور میں ہوتی ہے مثلاً کسی کے علم یا بہادری کی حمد ہوسکتی ہے ُحسن و جمال کی نہیں

۲۔گویا حمد، مدح سے خاص ہے۔ یا یوں سمجھئے کہ ہر حمد مرح ہے مگر ہر مدح حمد نہیں ہوسکتی۔

۳۔اسی طرح کہا گیا ہے کہ حمد (یا مدح) کے لئے زبان کا استعمال ضروری ہے، جب کہ ’’شکر ‘‘ صرف دل میں بھی ادا ہوسکتاہے۔ اسی طرح ہر شکر حمد ہے مگر ہر حمد شکر نہیں ہوتی۔ وغیرہ۔

        قرآن کریم میںاس مادہ (ح م د) سے فعل ثلاثی مجرد سے فعل (بصیغۂ مضارع مجہول) تو صرف ایک جگہ (آل عمران:۱۸۸) آیا ہے تاہم اس کے دیگر مصادر اور مشتقات ۶۷ جگہ آئے ہیں۔ ان کا بیان اپنی جگہ آئے گا۔

۱:۲:۱(۲) [لِلّٰـہِ] = لِ + اللہ۔ یعنی اس کے شروع میں لام الجر ّ ہے۔

۱:۲:۱ (۲)س ’’لِ‘‘ (لام الجر ّ) کے بھی بعض دوسرے حروف جارہ کی طرح [جیسا کہ آپ نے ابھی --- پچھلی قسط میں --- ’’مِنْ‘‘ اور ’’بِ‘‘ (باء) کے بارے میں ’’استعاذہ‘‘ اور ’’بسم اللہ‘‘ کی بحث میں پڑھا ہے] متعدد معنی ہیں۔ مثلا موقع استعمال کے لحاظ سے اس کے اردو میں یوں معنی ہوسکتے ہیں (۱)… کے لئے  (۲)…کی وجہ سے (۳)…کا (حق) (۴)…کی (ملکیت) (۵)…کو،  یا … (۶)…کا ہے (۷)…کے بعد سے وغیرہ کثیر الاستعمال معنی یہی ہیں ۔

لام الجر مختلف افعال کے ساتھ بطور صلہ کے بھی آتا ہے اور ان کو مخصوص اور متعدد معنی دیتا ہے۔

کبھی کبھی لام الجر (لِ) بعض دوسرے حروف الجر خصوصاً الٰی، علٰی، عن ، فی مَعَ اور مِنْ کے معنوں میں بھی آتا ہے۔ حروف جارہ کے اس باہم ایک دوسرے کی جگہ اور معنوں میں استعمال کو ’’تناوب حروف الجر‘‘ کہتے ہیں یعنی حروف الجر کا باہم ایک دوسرے کی نیابت کرنا۔

’’لام‘‘ بطور جار کسی اسم سے پہلے آئے یا بطور صلہ کسی فعل کے بعد ۔تو یہ ہمیشہ مکسورہ (لِ) ہوتی ہے۔ البتہ ضمائر کے شروع میں

  نحو کی بڑی کتابوں اور بڑی ڈکشنریوں میں اس (لِ) کے تیس مواقع استعمال مذکور ہوئے ہیں مثلاً دیکھئے معجم النحو ص : ۳۰۴ یا مد القاموس تحت مادہ ’’ل‘‘۔

ماسوائے ضمیر واحد متکلم ’’ی‘‘ کے ۔۔۔۔۔۔ یہ ہمیشہ مفتوح آتی ہے۔

لام مفتوحہ (لَ) کے اپنے مختلف معنی اور مواقع استعمال ہیں جن کا بیان اپنے موقع پر آئے گا۔

اسی طرح ہر دو قسم کے ’’لام‘‘  (مفتوحہ اور مکسورہ) افعال کے شروع میں بھی آتے ہیں اور مختلف معنی پیدا کرتے ہیں۔

’’لام‘‘ کے اس متنوع استعمال کے بارے میں آپ عربی قواعد و گرامر کے مطالعہ کے دوران بہت سی چیزیں پڑھ بھی چکے ہوں گے۔ اور ہماری اس کتاب میں بھی یہ چیزیں اپنے اپنے موقع پر بیان ہوں گی۔

اسم جلالت [اللّٰہ] کی لغوی وضاحت پہلے ہوچکی ہے۔ دیکھئے ۱:۱:۱

        آیت زیر مطالعہ میں [لِلّٰہِ] کا اردو ترجمہ ’’اللہ کے لئے‘‘ ، ’’اللہ کا حق‘‘، ’’اللہ کو سزاوار یا زیبا‘‘ وغیرہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ البتہ

بعض حضرات نے ’’اللہ ہی‘‘ کیساتھ ترجمہ کیا ہے۔ یہ اُس صورت میں درست ہوگا۔ جب ’’لِلّٰہِ الْحَمْدُ‘‘ کہا جائے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں متعدد جگہ یہ کلمہ مقدّم ہوکر آیا ہے۔

        [رب العلمین] میں دو کلمات ہیں ’’رب‘‘ اور ’’العٰلمین‘‘

        ہر دو کی الگ الگ لغوی وضاحت کی جاتی ہے۔

۱: ۲: ۱ (۳)’’رَبٌ‘‘ (جس کے ’’رَبِّ‘‘ کی صورت میں استعمال ہونے کی وجہ الاعراب میں آئے گی۔ کا مادہ ’’ر ب ب‘‘ وزنِ اصلی ’’فَعْلٌ‘‘ اور شکلِ اصلی ’’رَیْبٌ‘‘ ہے۔

        اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد رَبَّ یَرُبُّ رَبًّا (باب نصر سے) ہمیشہ متعدی اور صلہ کے بغیر آتا ہے یعنی ’’رَبَّہٗ‘‘ کہتے ہیں مفعول بنفسہٖ کے ساتھ اور اس کے دو معنی ہیں:

        (ا) کسی کا مالک ہونا ۔         (۲) کسی کی پرورش کرنا

اس طرح لفظ ’’ربٌّ‘‘ دراصل تو مصدر ہے مگر یہاں (آیت زیر ِ مطالعہ میں) یہ صفت بمعنی اسم الفاعل آیا ہے۔ اور اس کی دو صورتیں ہیں:۔

(ا)      یا تو اصل اسم الفاعل [رَابٌّ] سے الف حذف کر دیا گیا ہے جیسے ’’بَارٌّ‘‘ سے ’’بَرٌ‘‘بنا لیا گیا ہے۔

(ب)    اور یا پھر مصدر ہی بمعنی صفت آیا ہے۔ اس لئے کہ مبالغہ کے معنی پیدا کرنے کے لئے مصدر کو بطور صفت (بمعنی اسم الفاعل) بھی استعمال کرتے ہیں جیسے صِدقٌ، صادقٌ اور عَدْلٌ =عادلٌ وغیرہ ۔

اس مادہ سے مزید فیہ کے بابِ تفعیل سے ’’رَبَّبَہٗ‘‘ اور ’’رَبَّاہُ‘‘ [جس میں آخری ’’ب‘‘ کو ’’ی‘‘ میں بدل لیا گیا اور عربی زبان میں فعل مضاعف کے دوسرے حـرف کو حذف کردینے یا تیسرے کو ’’ی‘‘میں بدلنے کی کئی مثالیں خود قرآن کریم میں ہمارے سامنے آئیں گی] بھی ’’رَبَّہ‘‘کے معنوں میں (کسی کا مالک ہونا یا کسی کی پرورش کرنا) استعمال ہوتے ہیں۔ اور اسی مادہ سے دو اور مصدر ’’رلوببیۃ‘‘ اور ’’رِبَابۃ‘‘ بمعنی’’رب ہونا‘‘ بھی (رب کے دونوں مذکورہ بالا معنوں کے ساتھ) عربی میں استعمال ہوتے ہیں۔

        مذکورہ بالا فعل رَبّٰی یَرَبِّیْ تَرْبِیَۃً (باب تفعیل) [جس کی اصل ریب کے علاوہ ’’رب و‘‘بھی ہوسکتی ہے] سے صرف دو صیغے

   الکشاف ج ۱ ص ۵۳‘ الدرویش ج ۱ ص ۱۳ ۔

قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں (الاسراء: ۲۴ اور الشعراء:۱۸) فعل ’’ربَّ‘‘ (ثلاثی مجرد) یا ’’رَبَّبَ‘‘ [تفعیل کی اصل شکل آخری ’’ب‘‘ کو ’’ی‘‘ میں بدلے بغیر] سے کوئی صیغہ اور ’’ربوبیّۃ‘‘ یا ’’رِبَابَۃ‘‘ کے الفاظ بھی قرآن کریم  میں استعمال نہیںہوئے۔ البتہ لفظ ’’رَبٌّ‘‘ کے معنوں کے ساتھ ان کا تعلق ضرور ہے۔

        اس وجہ سے ہی ’’رب‘‘ کو ترجمہ اردو فارسی میں زیادہ تر پروردگار اور انگریزی میں (Sustainer) سے کیا جاتا ہے۔ ’’مُرَبِّی‘‘ تفعیل سے (اسم فاعل) اور ’’پالنے والا‘‘ کا مطلب بھی یہی ہے۔ تاہم یہ لفظ غیر اللہ کے لئے بھی بولے جاتے ہیں۔ جب کہ ’’پروردگار‘‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مختص ہوکر لفظ ِ ’’رَبّ‘‘ کا صحیح مترادف بن گیا ہے۔ پنجابی (دراصل ہندی) کا ’’پالنہار‘‘ بھی اس کا قریب المعنی ہے۔ ’’مالک‘‘ اور ’’صاحب‘‘ بھی مادہ ’’رب‘‘ سے فعل ثلاثی مجرد کے پہلے معنی (مالک ہونا) کے مطابق درست ہے۔

تاہم اس میں خالق و مخلوق کے اس تعلق کی طرف اشارہ نہیں پایا جاتا جو لفظ ’’پروردگار‘‘ سے ذہن میں آتاہے۔

        لفظ ’’رب‘‘ اب صرف اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ خصوصاً جب یہ مطلقاً (اضافت وغیرہ کے بغیر) بولا جائے۔ قرآن کریم میں صرف ایک دو جگہ یہ لفظ اپنے بنیادی لغوی معنی (آقا اور مالک) کے طور پر بھی استعمال ہوا ہے۔ [مثلاً یوسف: ۲۳،۴۳ اور ۵۰ میں] عام عربی میں بھی مضاف ہوکر یہ ان معنوں میں مستعمل ہے بلکہ اس سے مؤنث بھی بنا لیتے ہیں۔ مثلاً ’’ربُّ الدار‘‘ (گھر کا مالک) اور ’’رَبَّہُ الْبَیْت‘‘ (گھر کی مالکن) وغیرہ۔ اور ان ہی معنوں کے لحاظ سے قرآن کریم میں چار جگہ اس لفظ (رب) کی جمع ’’ارباب‘‘ بھی استعمال ہوئی ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں یہ معبود حقیقی کے لئے استعمال نہیں ہوئے اس استعمال کی وجہ اور اس کے معنی اپنی جگہ بیان ہوں گے۔

۱:۲:۱ (۴)[العلمین] یہ لفظ جو عام عربی املاء میں ’’العالمین‘‘ لکھا جاتا ہے۔ ’’عالم‘‘ (لام مفتوحہ کے ساتھ) کی جمع سالم مذکر کی معرف باللام اور مجرور صورت ہے ۔ اور ’’عالم‘‘ کا مادّہ ’’ع ل م‘‘ اور وزن فَاعَلٌ (عین کی فتحہ -َکے ساتھ ) ہے۔

        اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد عَلَم یَعلم علْمًا (باب سمع سے) بمعنی ’’…کو جاننا یا جان لینا‘‘ ہمیشہ متعد ی اور اکثر بغیر صلہ کے، مگر کبھی کبھی باء (بِ) کے صلے کے ساتھ آتا ہے یعنی عَلِم(س)بہ: … سے آگاہ ہونا البتہ عَلَم …یَعْلُم (نصر سے) اور علم …  یَعلِم (ضرب سے) عَلْمًا ہمیشہ بغیر صلہ کے آتا ہے اور اس کے معنی ہیں … کو نشان لگانا، … کے لئے علامت مقرر کرنا لفظ عالم کا تعلق بظاہر ان دوسرے معنوں کے ساتھ زیادہ ہے۔

        لفظ ’’عالَم‘‘ کی جمع مکسر’’عَوَالِم‘‘ (جو قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوئی) اور جمع سالم مذکر کے طریقے پر ’’عَالَمون‘‘ بنتی ہے۔ (جس کی نصبی اور جری صورت ’’عالمین‘‘ ہے)۔ کتبِ لغت میں بیان ہوا ہے کہ اس وزن (فاعل) سے جمع مذکر سالم کی واحد مثال یہی لفظ (عالم) ہے۔ عربی زبان میں اس کی اور کوئی مثال نہیں ملتی ۔

        لفظ ’’عالم‘‘اسم جامد ہے یعنی اپنے مصدری معنوں سے اسمائے مشتقہ کے معروف صرفی اوزان کے مطابق ’’مشتق‘‘ نہیں ہے

    مواقع استعمال کے لئے دیکھئے المعجم المفہرس (فواد عبدالباقی) کلمات مادہ ’’ر ب ب‘‘ کے آخر پر۔

   فیروز آبادی نے القاموس المحیط میں اس کی دوسری مثال ’’یاسمون‘‘ (یاسمین) کی دی ہے۔ مگر یہ لفظ دراصل فارسی زبان سے آیا ہے اور یہ ایک معروف خوشبو دار پھول اور اس کے پودے کا نام ہے جسے اُردو میں چنبیلی کہتے ہیں۔

بلکہ ’’ما ٔخوذ‘‘ ہے۔ ایسے اسماء میں بھی اپنے مصدری معنوں کے ساتھ ایک مناسبت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے لفظ ’’عالَم‘‘ کی مناسبت مادہ ’’ع ل م‘‘ میں سے اس کے فعل ثلاثی مجرد کے پہلے معنی (علم) کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے اور دوسرے معنی (علم = علامۃ) کے ساتھ بھی یعنی عَالَم کے بنیادی معنی ہیں۔ وہ جو کسی کو جاننے کا ذریعہ یا اس کی پہچان کی علامت ہو۔ اس طرح ’’عالَمْ‘‘سے مراد خالق و مالک ے وجود کو جاننے کی علامت یا ذرَیعہ ہے۔

        لفظ عالم اسم جمع ہے  یعنی اس میں خود ہی جمع کے معنی ہیں۔ یہ لفظ ’’تمام مخلوق دنیا‘‘ ’’جملہ اصنافِ مخلوقات‘‘ اور بعض دفعہ مخلوقات کی کسی خاص صنف یا ایک مکمل گروہ کے لئے بھی آتا ہے جیسے عالم الحیوانات (حیوانوں کی دنیا) اردو فارسی میں یہ لفظ (عالم) اپنے اصل عربی معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور بعض دفعہ اپنے اصل عربی معنی سے ہٹ کر بھی ۔ مثلاً گرمی کا یہ عالم ہے کہ

جب اس لفظ کی جمع بناتے ہیں تو اس سے مراد ’’پوری دنیا‘‘، ’’سارے جہان‘‘، ’’تمام مخلوقات‘‘ یا ’’ساری کائنات‘‘ مراد لی جاتی ہے۔ موقع استعمال کے لحاظ سے بعض قرآنی آیات میں اس لفظ ’’عَالَمِیْنِ‘‘ کے معنی کچھ اور بھی بنتے ہیں مثلاً ایک زمانے کے لوگ‘‘ ، ’’تمام انسانوں‘‘، ’’تمام عاقل مخلوق‘‘ وغیرہ اور اس کے جمع مذکرّ سالم میں استعمال ہونے کی وجہ یہی ہے کہ اس میں ’’عاقل مخلوق‘‘ یا عاقل اور غیر عاقل (ملی جلی) مخلوق کا مفہوم ہوتا ہے۔ صرف غیر عاقل مخلوق کے لئے ’’عالمین‘‘ کا لفظ نہیں آتا۔

        قرآن کریم میں جملہ ’’الحمد للہ رب العالمین‘‘ کل چھ دفعہ اور صرف ’’الحمد للہ‘‘ سولہ دفعہ آیا ہے۔ اسی طرح ’’رب العالمین‘‘ کی ترکیب کل بیالیس دفعہ اور لفظ ’’العٰلمین‘‘ کل تہتر دفعہ آیا ہے۔ مندرجہ بالا بحث کو ذہن میں رکھنے سے ان تمام مقامات پر عبارت کے فہم میں آسانی ہوگی۔ ان شا اللہ!

۱:۲:۲           الاعراب :

        [الحمد اللّٰہ رب العالمین]

        [اَلْحَمْدُ] مبتداء ًمرفوع ہے اور اس میں علامت رفع ’’د‘‘ کا ضمہ ہے۔ اور ابتداء (مبتدأ ہونا) معنوی عامل ہے۔

        ’’الحمد‘‘ پر جو لامِ تعرف (ال) لگا ہے اسے اگر استغراق الجنس (پوری جنس مراد لینا) کا لام سمجھا جائے (جو لام تعریف کے معنوں میں سے ایک معنی ہے) تو ’’الحمد‘‘ کا ترجمہ ’’ہر ایک تعریف‘‘ یا ’’سب تعریفیں‘‘ ہوگا۔ جیسے اردو میں ’’آدمی فانی ہے‘‘ کہیں تو اس کا مطلب ’’ہر ایک آدمی‘‘ یا ’’سب آدمی‘‘ ہوگا۔ اردو میں اس لفظ (الحمد) کا ترجمہ ’’سب خوبیاں‘‘، ’’سب تعریف‘‘، ’’سب تعریفیں‘‘، ’’ہر طرح کی تعریف‘‘ اور ’’ہر تعریف‘‘ کے ساتھ کرنے کی وجہ یہی ہے ۔

        اور اگر اسے (الکو) ’’عھد‘‘کا لام سمجھا جائے تو مراد یہ ہوگا کہ ’’وہ ساری تعریف‘‘ جس کی طرف لفظ ’’تعریف‘‘ سنتے ہی ہمارا ذہن منتقل ہوسکتا ہو۔ مثلاًجس کا ذکر قرآن کریم میں بار بار آیا ہے۔ یا آج تک جن حمد کرنے والوں نے جو بھی حمد کی ہے۔ اسکی مثال اردو میں یہ فقرہ ہے ’’آدمی آگیا ہے‘‘ اس فقرے سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ کہنے اور سننے والے ذہن میں ’’ایک خاص آدمی‘‘ ہے اور

   اسم جمع میں جمع کے معنی پائے جائیں جیسے اُمَّۃٌ، قبیلۃٌ، قومٌ، رَھْطٌ وغیرہ۔ ایسا لفظ واحد (مفرد) کے ساتھ اس لحاظ سے مشابہ ہوتا ہے کہ اس سے تثنیہ اور جمع کے صیغے بن سکتے ہیں (امم‘ اقوام کی طرح) اگرچہ ان کا واحد بھی بمعنی جمع استعمال ہوتا ہے جیسے اردو میں لوگ۔

   یہ الفاظ اردو کے مختلف تراجم قرآنِ کریم سے لئے گئے ہیں۔ آئندہ بھی کسی لفظ یا جملے کے لئے متعدد معنی یا ترجمہ ایک جگہ جمع کرنے کا مطلب یہی ہوگا۔

دونوں سمجھ گئے ہیں کہ ’’وہ آدمی‘‘ آگیا ہے۔ (اسے ہی ’’معہودِ ذہنی‘‘ بھی کہتے ہیں)۔ یہاں اردو میں --- ’’ہر ایک آدمی یا سب آدمی‘‘ مراد نہیں ہوگا۔ تاہم اردو میں لام عہد کے معنی پیدا کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ صرف ’’تعریف‘‘ کا لفظ ہی استعمال ہوسکتا ہے یا پھر ’’ساری تعریف‘‘ یا ’’اصل تعریف‘‘ ہی کہہ سکتے ہیں کیونکہ ’’وہ تعریف‘‘ کہنا کوئی محاورہ نہیں ہے۔

        بہر حال لام استغراق الجنس سمجھ کر ’’الحمد‘‘ کا ترجمہ کرنامعنیِٔ مراد اور محاورہ --- دونوں لحاظ سے بہتر معلوم ہوتا ہے جیسا کہ اوپر بیان کردہ تراجم سے ظاہر ہے۔ بہر حال لفظ ’’الحمد‘‘ کے سادہ ، درست اور عام اُردو دانوں کے لئے قابلِ فہم معنی یہی (خوبی اور تعریف والے) ہیں ادب و انشاء اور لفظی بازی گر ی کے زور پر اسے رنگ و روغن لگا کر بیان کرنا ،چاہے خوبصورت لگے، مگر اصل سے دور ہٹنے والی بات ہے۔

        ترجمہ اصل سے قریب تر رہنے کا تقاضا کرتا ہے اور محاورہ کی رعایت اصل سے ہٹنے کا تقاضا کرتی ہے اور ان دونوں میں توازن ہی ایک مشکل کام اور مترجم کی قابلیت کا امتحان اور نشان ہے۔ بعض حضرات نے اپنے اندر اس کی ہمت نہ پاکر اور عبارت کو من مانے معنی پہنانے کی راہ میں ’’ترجمہ ‘‘ کو رکاوٹ سمجھ کر ’’مفہوم ‘‘ کی آڑ لی ہے۔ فافھموا

        [لِلّٰہِ] جار (لِ) اور مجرور (اللّٰہ) مل کر قائم مقام خبر ہے۔

        [رَبّ] یہ لِلّٰہ کے ’’اللّٰہ‘‘ کی صفت بھی ہوسکتا ہے اور اس کا بدل بھی، اس لئے مجرور ہے اور علامتِ جر ’’بِّ‘‘ کی کسرہ (-ِ)ہے اور یہ آگے مضاف ہونے کی وجہ سے خفیف ہے یعنی لام تعریف اور تنوین سے خالی ہے۔

 [العٰلمین] مجرور بالاضافہ (یعنی لفظ ’’رب‘‘ کا مضاف الیہ ہو کر مجرور) ہے اور اس کی علامتِ جر آخری ’’یْنَ‘‘ ہے جو جمع مذکر سالم کی علامت جر ہے۔ خیال رہے کہ نحوی حضرات صرف ’’ن‘‘ سے ماقبل ’’-ِیْ‘‘ کو علامت ِ جر کہتے ہیں (اور یہ نصب کے ساتھ مشترک علامت ہے) اور اس (-ِیْ) میں دراصل تین علامتیں جمع ہیں۔ علامت ِ جر ، علامت جمع اور علامت تذکیر۔ اور آپ کو معلوم ہوگا کہ جمع مذکر سالم میں آخری نون ’’نون اعرابی‘‘ ہوتا ہے۔ یہ تو بعض دفعہ (مثلاً بصورتِ اضافت) حذف بھی ہوجاتا ہے۔ اس لئے جمع مذکر سالم کا اصل اعراب ’’-ُدْ‘‘ (برائے رفع) اور ’’-ِیْ‘‘ (برائے نصب یا جر) ہی ہوتا ہے۔

        اگر ’’رب العلمین‘‘ کو (للّٰہ کے اللّٰہ کی) صفت مانا جائے تو اردو ترجمہ ہوگا ’’ساری تعریفیں سارے جہانوں کے پروردگار اللہ کے لئے ہیں‘‘ اور یہ اس لئے کہ اردو میں صفت اپنے موصوف سے پہلے آتی ہے---  اور اگر اسے (رب العٰلمین) کو ترکیب میں بدل سمجھیں توترجمہ ہوگا ’’ساری تعریفیں اللہ کے لئے جو کہ رب العٰلمین (سارے جہان کا پروردگا ر) ہے‘‘ یہاں لفظ ’’جو کہ‘‘ کسی اسم موصول کا ترجمہ نہیں ہے بلکہ یہ اردو محاورے میں ’’بدل‘‘ کے بیان کا اور بعض دفعہ صفت کے بیان کا بھی ایک طریقہ ہے۔

        ’’رب‘‘ اور ’’العالمین‘‘ کا الگ الگ ترجمہ ’’اللغۃ‘‘ والی بحث میں بیان کیا گیا ہے۔ پوری ترکیب اضافی کا ترجمہ مندرجہ ذیل طریقوں سے کیا گیا ہے۔ ’’پروردگار عالموں کا‘‘ ’’صاحب سارے جہان کا‘‘ ’’پالنے والا سارے جہان کا‘‘’’مربی ہر ہر عالم کا‘‘،’’تمام جہان کا پروردگا ر‘‘،’’مالک سارے جہان والوں کا‘‘، ’’سارے جہان کا پالنے والا‘‘، ’’تمام مخلوقات کا پروردگار‘‘، ’’سارے جہان کا مربی‘‘۔ ’’رب‘‘ اور ’’العلمین‘‘ کے متعلق لغوی بحث (اللغۃ میں) پڑھ کر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کس مترجم نے کس لفظ کا ترجمہ کس طرح کیا ہے۔ اور کس کا انتخاب الفا ظ بہتر ہے! اور کیوں!

۱:۲:۳  الرسم :

        ’’الحمد للّٰہ رب العلمین‘‘ کے رسم سے متعلق حسب ذیل امور قابلِ توجہ ہیں:

        اسم جلالت ’’اللّٰہ‘‘ سے پہلے ’’لِ‘‘ (حرف جر) آنے کی صورت میں ابتدائی ھمزۃ الوصل خط میں حذف اور تلفظ میں ساقط ہو جاتا ہے۔ یعنی نہ لکھا جاتا ہے نہ پڑھا جاتا ہے [اور کسی بھی معرف باللام سے پہلے لام الجر ّ  آنے کی صورت میں ایسا ہی ہوگا۔ اس کی بکثرت مثالیں آگے آئیں گی]

        اسم جلالت ’’اللہ‘‘ کی دوسری ’’لام‘‘ اور آخری ’’ہ‘‘ کے درمیانی الف کے حذف کی بات پہلے ’’بسم اللہ‘‘ کے ضمن میںہوچکی ہے۔ (پچھلی قسط میں)اور بنیادی اء (ا ل ل ھ) کو برقرار رکھتے ہوئے متنوع خطی یعنی مکتوبی شکلوں کا ذکر بھی پہلے ہو چکا ہے۔ دیکھئے[۱:۱:۳]

        ’’العلمین‘‘ یہاں (الفاتحہ میں) بھی اور قرآن کریم میں ہر جگہ بحذف ِ الف لکھا جاتا ہے۔ یعنی ’’ع‘‘ اور ’’ل‘‘ کے درمیان الف نہیں لکھا جاتا۔ عام عربی (رسم معتاد) میں اسے باثبات ِ الف لکھتے ہیں یعنی ’’العالمین‘‘ اور ایران اور ترکی کے بعض مصاحف میں یہ لفظ اسی طرح (باثبات الف) لکھا دیکھا گیا ہے جو رسمِ عثمانی کے مخالف اور لھذا غلط ہے۔

الضبط

[الحمد للّٰہ رب العلمین]

اس میں اختلاف ِضبط کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں:

(۱)ہمزئہ وصل پر علامت وصل (صلہ) ڈالنا یا نہ ڈالنا اور ڈالنے کی صورت میں اس کا طریقہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کی بحث ضبط [۱:۱:۴]میں اس پر بحث ہوچکی ہے۔ آیت زیر مطالعہ میں اس اختلاف کا اثر کلمات ’’الحمد‘‘ اور ’’العالمین‘‘ کے ضبط میں ظاہر ہوگا۔

(۲)اسم جلالت کے درمیانی لام کی علامت ِ اشباع ڈالنا یا نہ ڈالنا اور ڈالنے کی صورت میں اس کے طریقہ وضع پر بھی مفصل بحث ’’بسم اللہ‘‘ کے ضمن میں ہو چکی ہے۔[۱:۱:۴]

(۳)    بعض افریقی ممالک میں درمیانی لام پر سرے سے کوئی علامت ضبط نہیں ڈالتے۔ صرف پہلے ’’ل‘‘ اور آخری ’’ہ‘‘ کے نیچے زیر (-ِ) ڈال دیتے ہیں:

(۴)     الف محذوفہ کے ماقبل کے ضبط کے طریقے اور اختلاف پر ’’بسم اللہ‘‘ کی بحث ِ ضبط میں ’’الرحمٰن‘‘ کی میم کے ضبط کے ضمن میں بات ہو چکی ہے۔ یہاں اس کا اثر ’’العلمین‘‘ کی ’’ع‘‘ پر ظاہر ہوگا۔

(۵)     یائے ماقبل مکسور پر علامت سکون صرف برصغیر میں ڈالی جاتی ہے اس پر مفصل بات بسم اللہ پر بحث میں ’’الرحیم‘‘ کے ضمن میں ہوچکی ہے نیز ایران اور ترکی میں یاء سے ماقبل مکسور پر کسرہ کی بجائے علامت اشباع (کھڑی زیر -ٖ) ڈالنے کی بات بھی وہیں ہوچکی ہے [دیکھیے۱:۱:۴]۔آیت زیرِ مطالعہ میں اس اختلاف کا اثر کلمہ ’’العلمین‘‘ کی یاء (بین المیم والنون) کے ضبط میں ظاہر ہوگا۔

(۶)     ’’نون متطرفہ‘‘ (کلمہ کے آخر پر آنے والے نون) پر علامت ِ اعجام (نقطہ )ڈالنے یا نہ ڈالنے ۔۔۔۔اور ڈالنے کی صورت میں اس کے ’’محل وضع‘‘ کی بات بھی استعاذہ اور بسم اللہ کی بحث میں ہو چکی ہے۔ یہاں اس کا اثر العلمین کے آخری نون میں ظاہر ہوگا۔

(۷)            اس طرح مجموعی طور پر اختلافاتِ ضبط بطریق ذیل نمایاں ہوں گے۔

        شمار آیات کے ضمن میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سب کے نزدیک ’’العلمین‘‘پر آیت ختم ہوتی ہے بعض کے نزدیک سورۃ الفاتحہ کی پہلی آیت کا اور بعض کے نزدیک دوسری آیت کا یہاں اختتام ہوتا ہے۔ مزید دوبارہ دیکھ لیجئے سورۃ الفاتحہ کی ابتدائی تمہیدی بحث ۔

۱:۳                                     C۴ D۲

۱:۳:۱           اللغۃ :

                [الرحمن] اور [الرحیم] کی لغوی بحث پہلے ’’بسم اللہ ‘‘ میں گزر چکی ہے۔ [دیکھئے۱:۱:۱]

۱:۳:۱(۱) [مٰلِکِ] (جو عام عربی املاء میں ’’مالک‘‘ لکھا جاتا ہے) کا مادہ ’’م ل ک‘‘ اور وزن ’’فَاعِلٌ‘‘ ہے۔

        اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد مَلَک … یَمْلِکُ مُلْکًا (باب ضرب سے) ہمیشہ متعدی اور بغیر صلہ کے آتا ہے۔ یعنی ملکہ کہتے ہیں اور اس کے دو معنی ہیں: (۱)…کا مالک ہونا ، (۲)…پر حکمران ہونا‘‘۔ یہاں (آیت زیر مطالعہ میں) مالک کی اضافت کسی چیز (مثلاً مال وغیرہ) کی بجائے یَوْم (وقت۔ دن ۔ زمانہ) کی طرف ہے، اس لئے مناسب ترجمہ اس کا یہاں ’’حکمران یا حاکم‘‘ (Sovereign) ہے۔

        بعض نے دونوں معنوں کو سامنے رکھتے ہوئے ترجمہ ’’مالک‘‘ ہی رہنے دیا ہے۔

۱: ۱۳ (۲)       [یَوْم] کا مادہ ’’ی و م‘‘ اور وزن ’’فعل‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد عربی میں استعمال ہی نہیں ہوتا۔ مزید فیہ میں سے صرف باب مفاعلہ سے (یومیہ اجرت پر کام کرنا یا کرانا کے معنی میں) آتا ہے۔مگر اس کا استعمال بھی شاذ ہے۔ اور قرآن کریم میں بہرحال اس مادہ سے کوئی فعل استعمال نہیں ہوا ہے۔

        J.Penriceنے اپنی انگریزی ’’ڈکشنری آف قرآن‘‘ میں اس مادہ سے ماضی مضارع ’’یَوِمَ یَوْیَمُ‘‘ لکھ کر اس کے اصلی معنی ’’ایک دن کے لئے وجود میں آنا‘‘ بیان کئے ہیں۔ اور غالباً اس کی تقلید میں ایک اردو ’’غریب القرآن فی لغات القرآن‘ ‘  کے مصنف نے بھی مادہ ’’ی وم‘‘ کے تحت یہی ماضی مضارع لکھ ڈالا ہے اگرچہ اس کے معنی نہیں لکھے۔ اس فعل (ثلاثی مجرد) اور اس کے ان معنوں کی کوئی اصل کسی قابلِ ذکر عربی معجم (ڈکشنری) میں مادہ ’’ی و م‘‘کے بیان میں کہیں نہیں ملتی۔ ویسے بھی بیان کردہ فعل مضارع (یَوْیَمُ) مادہ ’’یوم‘‘ سے نہیں بلکہ ’’وَیِمٌ‘‘ سے (باب سمع سے) ہونا چاہئے۔ ’’یوم‘‘ سے تو اسے ’’یَیْوَم‘‘ (سمع سے) بننا چاہئے تھا۔ مگر اس مادہ (ر ی م)سے بھی عربی معاجم (ڈکشنریوں) میں کوئی فعل بیان نہیںہوا۔

        لفظ ’’یوم‘‘کے معنی ’’دن‘‘ ہیں۔ اور یہ لفظ ’’ایک دن رات‘‘ یا ’’صرف دن‘‘ یا ’’صرف رات‘‘ یا مطلقاً ’’موجودہ وقت‘‘ کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اسی سے ’’الیوم‘‘ بمعنی ’’آج‘‘ آتا ہے۔ کبھی یہ لفظ (یوم) ’’دور‘‘ اور ’’جنگ‘‘ (فلاں جنگ کا دن) کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً یوم بدر (بدر کی جنگ) یوم کی جمع ایام ہے [جو دراصل ’’اَیْوام‘‘ بروزن ’’اَفْعَال‘‘ ہے]اور یہ بھی قرآن کریم میں بکثرت آیا ہے۔ اس لفظ (یوم) کے مختلف استعمالات اور معانی موقع استعمال کے لحاظ سے سامنے آتے جائیں گے۔ خیال رہے کہ لفظ ’’یوم‘‘ مفرد اور مرکب مختلف صورتوں میں قرآن کریم کے اندر چار سو سے زائد جگہ پر آیا ہے۔

۱:۳:۱ (۳)       [الدین] =لام تعریف (ال)+دین اور لفظ ’’دین‘‘ کا مادہ ’’د ی ن‘‘ اور وزن ’’فِعْلٌ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد (دانَ … یَدِیْن دِیْنًا (باب ضرب سے) عموماً بغیر صلہ کے اور متعدی آتا ہے۔ اور اس کے معنی ہیں (۱)…کو بدلہ دینا (۲)…پر اختیار ہونا اور اسی کے معنی لغت ِ اضداد کے طور پر (۱)…کا مطیع ہونا اور (۲)… کے پیچھے چلنا بھی ہوتے ہیں۔ اور اسی باب (ضرب) سے یہ فعل ’’لام‘‘ (لِ) اور باء (بِ) کے صلہ کے ساتھ بھی آتا ہے۔ مثلاً دان لہٗ […کے تابع ہونا] اور دان بِ… [کو اپنا دین بنانا] ۔ تاہم قرآن کریم کے اندر فعل کی یہ دونوں --- (مؤخر الذکر) صورتیں کہیں استعمال نہیں ہوئی ہیں۔

        قرآن کریم میں اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد (بغیر صلہ) کا صرف ایک صیغہ [التوبہ: ۳۰] اور باب تفاعل سے بھی صرف ایک ہی صیغہ [البقرۃ: ۲۸۲] آیا ہے۔ البتہ لفظ ’’دین‘‘ اور اس کے مرکبات اور مشتقات بکثرت (کل ۹۲ دفعہ) آئے ہیں۔

        اسی مادہ سے ایک اور لفظ ’’دَین‘‘ (بفتح الدال) بمعنی قرضہ بھی قرآن کریم میں چار پانچ دفعہ آیا ہے۔ اس کی وضاحت اپنے موقع پر ہوگی۔

        لفظ ’’دِین‘‘ (بکسر الدال) قرآن کریم میں چار مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ (۱)جزاء یا بدلہ (۲)اطاعت یا عبادت (۳)قانون یا دستور (۴)شریعت یا مذہب ۔ اور ان چاروں معنوں کا اس مادہ (د ی ن) کے فعل ثلاثی مجرد کے مختلف معنوں کے ساتھ تعلق ہے۔ دیکھئے۔ ان مختلف معانی کے موقع استعمال پر ان کی وضاحت کی جائے گی۔

        قرآن کریم میں جہاں جہاں تو ’’یوم الدین‘‘ کی ترکیب آئی ہے۔ [اور یہ ترکیب ] قرآن میں ۱۲ دفعہ آئی ہے] اس کا ترجمہ ’’جزاء کا دن‘‘ یا ’’روزِ جزاء‘‘  ہی سے درست ہے۔ بعض مترجمین نے ’’جزاء‘‘ کی بجائے ’’انصاف‘‘ کا لفظ اختیار کیا ہے۔ اسے تفسیری (یاImplied معنی پر مبنی) ترجمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

        یوم الدین یا ’’روز جزاء‘‘ سے کون سا ’’دن‘‘ مراد ہے؟ اس کے لئے کسی مستند تفسیر یا تفسیری حاشیہ کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس لئے کہ اب یہ لفظ ایک قرآنی اصطلاح ہے اور ہر اصطلاح کے خاص متعین معنی ہوتے ہیں۔

۱:۳:۲           الاعراب :

        [الرحمن الرحیم] یہ دونوں لفظ اسم جلالت (اللہ) کی صفت ہو کر (لفظ ’’رَبِّ‘‘ کی طرح) مجرور ہیں۔ ان کی علامت ِ جر آخری ’’ن‘‘ اور آخری ’’م‘‘ کا مکسور ہونا ہے۔ اردو محاورے کی وجہ سے اس کا ترجمہ ’’بدل‘‘ کی طرح ’’جو‘‘ لگا کر کیا جاتا ہے۔ یا اس وجہ سے کہ جب متعدّد صفات ساتھ ساتھ آجائیں تو صفت کے ترجمہ میں بھی ’’جو‘‘ کا استعمال اردو محاورے کے مطابق ہی ہے۔ یعنی ’’رحمٰن و رحیم رب العٰلمین اللّٰہ کے لئے ‘‘ کہنے کی بجائے (جو اردو میں صفت موصوف کی اصل ترتیب ہے) اکثر مترجم ’’اللہ کے لئے جو ’’رب العٰلمین‘‘  ’’الرحمٰن‘‘  ’’الرحیم‘‘ ہے ‘‘ کی ترتیب سے ترجمہ کرتے ہیں۔

        [مٰلِکِ]’’الحمد للّٰہ‘‘کے’’اللّٰہ‘‘ کی صفت یا بدل ہو کر مجرور ہے۔ بعض نحویوں کے نزدیک یہ صرف بدل ہی ہوسکتا ہے صفت

   کسی لفظ کے ایک سے زیادہ معنی ہونا کوئی عیب یا تعجب کی بات نہیں ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں ایسا ہوتا ہے البتہ موقع و محل کی مناسبت سے اس کے درست معنی سمجھنے کے لئے صرف ڈکشنری ہی نہیں بلکہ زبان کی مہارت اور اس کے محاورہ نیز سیاق و سباق عبارت کا فہم ضروری ہے اور قرآن کریم میں تو اس کے لئے زبان کے علاوہ عقیدہ کی درستی‘ اطاعت رسول اور تقویٰ کا ہونا بھی لازمی ہے۔

    جیسے دین اسلام یا مذہب اسلام۔ خیال رہے یہ لفظ (مذہب) اردو میں تو فارسی‘ کیش‘ ہندی ’’مت یا دھرم‘‘ یا انگریزی religionکے معنوں میں آتا ہے اس لئے اردو میں ’’مذہب اسلام‘‘ کہنا سراسر غلط نہیں ہے البتہ عربی میں یہ لفظ (مذہب) بڑے محدود معنی (طریقہ یا مسلک کے) رکھتا ہے۔ نیز لفظ مذہب قرآن میں استعمال نہیں ہوا بلکہ دین آیا ہے۔ ہمیں اردو میں بھی اسی لفظ (دین) کو اپنانا اور رواج دینا چاہئے۔

نہیں ۔ بہر حال اس میں علامت ِ جر آخری ’’ک‘‘ کا مکسور ہونا ہے۔

        [یَوْمِ] مجرور بالاضافہ ہے (یعنی ’’مالک‘‘ کا مضاف الیہ ہوکر)۔ علامت ِ جر اِس میں ’’م‘‘ کا کسرہ (-ِ) ہے اور یہ لفظ (یوم) خود آگے مضاف بھی ہے۔اس لئے اس پر سے ’’لام تعریف‘‘ اور ’’تنوین‘‘ دونوں ساقط ہوگئے۔

        [الدّین] یہ بھی مجرر بالاضافہ (’’یوم‘‘ کا مضاف الیہ ہوکر) ہے۔

اس کے لام تعریف کو ’’لامِ عھد‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں یعنی آخرت کی وہ ’’جزائے اعمال‘‘ جس کی طرف قرآن پڑھنے والے کا ذہن فوراً جاتا ہے اور اگر اسے ’’لام استغراق‘‘ مانیں [الحمد کی طرح] تو ’’ساری جزائوں‘‘ یعنی تمام اعمال کی (ایک ایک ) جزاء کا دن مراد لیا جاسکتا ہے۔

        لفظ ’’مالک‘‘ اس ترکیب (مٰلِکِ یَوْمِ الدّین) میں صرف ظرف (یوم الدین)کی طرف سے مضاف ہے لہٰذا یہاں ’’مالَک‘‘ کا اصل ’’مفعول‘‘ محذوف ہے  ۔ اس کی ’’تقدیر‘‘ یا ’’تاویل نحوی‘‘ یوں ہوگی: ’’مالک الاَمرَ یومَ الدّین‘‘ (یوم الدین کو تمام معاملہ یا حکم کا مالک) یا ’’مالک یومِ الدینِ الفصلَ او القضائَ اوالامرَ‘‘ (یوم الدین کو سب فیصلہ یا حکم کا مالک ) یا ’’مالک الامرَکلّہ یومَ الدّین‘‘ (یوم الدین کو سب کے سب معاملہ یا حکم کا مالک) یعنی ’’دن‘‘ کا مالک ہونے سے مراد اس دن کی حکمرانی کا مالک ہونا مراد ہے۔ اور اس کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ کرنے کی یہی وجہ ہے۔

’’ملک یوم الدین‘‘ مرکب اضافی ہے ، مکمل جملہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ’’الحمد للہ ‘‘ … سے شروع ہونے والے جملہ اسمیہ کا ایک حصہ ہے جو یہاں آکر مکمل ہوتا ہے۔

۱:۳:۳  الرسم:

۱:۳:۳(۱)        [الرحمن الرحیم] ان دونوں کلمات کے خصوصاً الرحمٰن کے بحذف الالف رسم پر --- بسم اللّٰہ کے ’’الرسم‘‘ والے حصے میں مکمل بحث ہوچکی ۔ (۱:۳:۳)

۱:۳:۳ (۲)      [مٰلِک] اس جگہ (سورۃ الفاتحہ میں ) متفقہ طور پر حذفِ الف کے ساتھ لکھا جاتا ہے یعنی ’’م‘‘ اور ’’ل‘‘ کے درمیان الف نہیں لکھا جاتا۔ اسے ’’مالک‘‘ لکھنا غلط ہے (یعنی قرآن میں) اس لئے کہ رسم عثمانی اور متفقہ رسم عثمانی کی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی، ترکی اور بعض دیگر ممالک کے مصاحف میں یہ غلطی (’’مالک‘‘ لکھنا) عام پائی جاتی ہے۔ (’’ملک‘‘ کے ) اس رسم الخط کی توجیہہ کے لئے چاہیں تو دیکھئے نثر المرجان، ج۱ص۹۶۔

۱:۳:۳ (۳)      [یوم الدین]کی املاء رسم معتاد یعنی عام قواعد ِ املاء کے مطابق ہی ہے۔

 

 

     اور اس کی دقیق توجیہ کے لئے چاہیں تو دیکھئے ابن الانباری (البیان) ج ۱ ص ۳۵ اور بکری (البتیان) ج ۱ ص ۶۔

    فعل کی طرح اسم فاعل کا بھی منصوب مفعول ہوتا ہے۔ بعض اسماء مشتقہ فعل کا عمل کرتے ہیں۔ یہ نحو کا مشہور مسئلہ ہے۔ ’’مالک‘‘ اسم الفاعل ہے۔

۱:۳:۴  الضبط :

        [الرحمن اور الرحیم] کے ضبط پر ’’بسم اللّٰہ‘‘ کے ضمن میں مکمل بحث ہوچکی ہے۔ (۱:۱:۴))

        [ملک] کے ضبط میں ’’م‘‘ کے بعد کے محذوف الف کے ضبط میں اختلاف بھی ’’الرحمن‘‘ کی میم کے ضبط کی طرح ہے۔ یعنی عرب اور افریقی ممالک میں ’’م‘‘ پر فتحہ (-َ) ڈال کر ساتھ الف مقصورہ (چھوڑا الف یا کھڑی زبر لکھتے ہیں

         بر صغیر اور ترکی ایران وغیرہ میں ’’م‘‘ پر صرف ’’کھڑی زبر ‘‘ (مٰ)ڈالتے ہیں۔

        [یَوْم] کا ضبط تمام ممالک کے مصاحف میں یکساں ہے۔ یعنی ہر جگہ ’’ی‘‘ پر علامت ِ فتحہ اور ’’و‘‘ پر علامت ِ سکون لکھی جاتی ہے۔ البتہ بعض قدیم مصاحف بخط ِ بہار میں اور افریقی ممالک کے مصاحف میں (آج کل بھی ) حرکاتِ ثلاثہ ترچھی کی بجائے فقی ڈالی جاتی ہیں۔

        [الدّین] میں (۱)ایک اختلاف تو شروع کے ہمزۃ الوصل (بصورت الف) پر علامت ِ وصل ڈالنے یا نہ ڈالنے کا ہے اور ڈالنے کی صورت میں اس کی وضع یا شکل کا اختلاف ہے --- اس اختلاف پر ’’الحمد‘‘ کے ضبط میں بات ہوچکی ہے۔ (۱:۲:۴)

(۲)     دوسرا اختلاف (دال اور نون کے درمیاں والی ) ’’ی‘‘ جس کا ماقبل مکسور ہے پر علامت سکون ڈالنے یا نہ ڈالنے کا ہے۔ اس قسم کے اختلاف پر ’’الرحیم‘‘ کی ’’ی‘‘کے ضبط میں بات ہوچکی ہے۔

(۳)    تیسرا اختلاف ’’د‘‘ کی حرکت (صرف کسرہ یا کھڑی زیر) ڈالنے کا ہے یہ بھی ’’الرحیم‘‘ کی ’’ح‘‘ کے ضبط کی طرح ہے۔

(۴)     چوتھا اختلاف آخری ’’ن‘‘ پر علامت ِ اعجام (نقطہ) ڈالنے یا نہ ڈالنے کا ہے اس پر بھی ’’الرحمن‘‘ کے ’’ن‘‘ کے ضبط میں بات ہوچکی ہے۔

        اسی طرح قطعہ زیر مطالعہ ’’الرحمن الرحیم‘ ملک یوم الدین‘‘ کے ضبط کی حسب ذیل صورتیں سامنے آتی ہیں۔

۱:۴                                             ۱:۴:۱    اللغۃ:

        [اِیّاکَ] دراصل یہ دو لفظ ہیں: اِیَّا+کَ۔ لفظ ’’اِیّا‘‘ جس کا مادہ ’’ای ی‘‘ہے اور وزن ’’فِعْلا‘‘ یا فِعْلٰی قرار دیا جاسکتا ہے ، اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد استعمال نہیں ہوتا ہے۔ البتہ باب تفعیل بمعنی نشان مقرر کرنا اور تفاعل اور تفعّل سے بمعنی ’’…کا ارادہ کرنا‘‘ آتا ہے تاہم قرآن کریم میں اس سے کسی قسم کا فعل استعمال نہیں ہوا۔اس پر مزید بات لفظ ’’آیہ‘‘ میں ہوگی۔

        لفظ ’’اِیّا‘‘ کے اپنے الگ کوئی لغوی معنی نہیں بنتے، یہ ایک طرح سے اسم مبہم ہے۔ البتہ یہ ترکیب میں آکر ’’حَصر‘‘ (محدود کردینا) کسی فعل کا ’’دائرہِ عمل‘‘ محدود اور متعین کردینا) کے معنی پیدا کرتا ہے اردو میں اس کا ترجمہ ’’صرف …کو ہی‘‘، ’’صرف…کا ہی‘‘ ، ’’صرف…سے ہی‘‘ وغیرہ سے کیا جاسکتا ہے۔

        یہ لفظ ’’اِیّا‘‘ ہمیشہ کسی ضمیر کی طرف ’’مضاف‘‘ ہو کر آتا ہے (اس لئے ہم نے اوپر ضمیر کے لئے خالی نقطوں کی شکل میں جگہ رکھی ہے) مگر دراصل یہ (بظاہر مضاف الیہ مجرور) ضمیر منصوب ہی ہوتی ہے اور اسے ضمیر منصوب منفصل ہی کہا جاتا ہے۔ مثلاً اِیَّاہ، اِیَّاھما، اِیَّاھم… اِیَّایَ، اِیَّانا جیسے یہاں آیت زیر مطالعہ میں (اِیَّاک میں) ضمیر منصوب ’’کَ‘‘ آئی ہے ۔ اس لئے اس کا ترجمہ ’’صرف تیری ہی‘‘ ،’’صرف تجھ سے ہی ‘‘ ’’صرف تجھ کو ہی ‘‘ کی صورت میں کیا جائے گا۔

گویا دراصل ’’اِیَّا‘‘ خود ہی ضمیر منصوب منفصل ہے اور اس کے ساتھ آنے والی ضمیریں اسماء نہیں بلکہ ایک طرح سے صرف ’’حروف‘‘  ہیں اور ان کا کام صرف صاحب ِ ضمیر (جس کے لئے ضمیر آرہی ہے) کو متعیّن اور متمیّز کردینا ہوتا ہے۔ یعنی اس کو، تجھ کو، ہم کو وغیرہ  کے معنی پیدا کرنے کے لئے آتے ہیں ۔

        شاذ و نادریہ لفظ ’’اِیَّا‘‘ کسی اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے۔ اور اس وقت وہ اسم مجرور (بالاضافہ) ہی آتا ہے مثلاً ’’اِیَّا زیدٍ‘‘ تاہم اکثر اہلِ لغت اس قسم کا استعمال غلط سمجھتے ہیں اور قرآن کریم میں بھی یہ ترکیب (اسم ظاہر کی طرف اضافت والی) کہیں مستعمل نہیں ہوئی۔

        بعض اہل لغت کے نزدیک ’’اِیَّاک‘‘ اکھٹا ایک ہی لفظ ہے مگر اس کا آخری حصہ (ضمیر والا) حسب ضرورت بدلتا رہتا ہے۔ تاہم یہ صرف ایک فنی (ٹیکنیکل) سی بحث ہے۔ اس سے لفظ کے استعمال اور معنی میں کچھ فرق واضح نہیں ہوتا ہے۔ یہ صرف ضمیر کے بطور ’’حرف‘‘ ساتھ آنے والی بات کہنے کا دوسرا طریقہ ہے ۔

یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ تمام ضمائر ’’منصوبہ‘‘ اور ’’مجرورہ‘‘ کی شکل ایک ہی ہوتی ہے اور اس ضمیر منصوب کے ’’مضاف الیہ‘‘ ہو کر آنے کے لئے دیکھئے القاموس المحط بحث الف لینہ (آخر پر)

  دیکھئے معجم النحو ص ۸۰۔ المنجد ’’ا ی ی‘‘ اور القاموس المحیط بحث الف لعینہ۔(آخر پر)

   ’’اِیَّا‘‘ پر مزید بحث کے لئے چاہیں تو دیکھئے : ابن خالویہ (اعراب ثلاثنین سورۃ) ص ۲۶ طبرسی (طبع بیروت) ج ۱ ص ۵۳ اور ابن الانباری (البیان) ج ۱ ص ۳۶ ۔ ۳۷

        ’’اِیَّا‘‘ اور اس کی ’’ساتھی‘‘ ضمیر ۔دونوں مل کر مفعول بہٖ واقع ہوتے ہیں۔ مگر یہ ہمیشہ اپنے فعل سے پہلے ہی آتے ہیں۔ بعد میں نہیں سوائے اس کے کہ وہ ’’اِلاّ‘‘ کے بعد آئیں یا کسی مفعول پر معطوف ہوکر آئیں۔ مثلاً ’’لاَ تَعْبُدْوا اِلاَّ اِیَّاہ‘‘ (مت عبادت کرو مگر صرف اسی کی ) یا ’’نَرْزِ قُھُمْ وَاِیّاکم‘‘ (ہم ان کو روزی دیتے ہیں اور تم کو بھی) میں ’’الا‘‘ کے بعد آنے کی صورت میں ’’اِیّا‘‘ سے ’’صرف‘‘ یا ’’ہی‘‘ کے معنی پیدا ہوتی ہیں مگر معطوف ہونے کی صورت میں ’’بھی ‘‘کے۔

        البتہ عام (متصل) ضمیر منصوب ہو تو فعل کے بعد ہی آئے گا۔ مثلا ’’نعبدک‘‘(ہم تیری عبادت کرتے ہیں) اور ’’اِیّاک نعبد‘‘ (ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں) کہہ سکتے ہیں مگر ’’نعبد ایاک‘‘ کہنا درست نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ کس مفعول بہٖ پر عطف ہو جیسے اوپر ’’تَرْزقھم‘‘ والی مثال آئی ہے مگر اس صورت میں معنی ’’ہی‘‘ سے ’’بھی ‘‘ میں بدل جاتے ہیں۔’’ایاک‘‘ اسم فعل کے طور پر بمعنی اِحْذَز (بچ کے رہ) بھی آتا ہے۔ اور اس کے استعمال کے اپنے قواعد ہیں۔ تاہم قرآن کریم میں یہ تحذیر والا ’’ایاک‘‘ کہیں مستعمل نہیں ہوا۔ البتہ حدیث شریف میں اس کا استعمال ملتا ہے۔

قرآن کریم میں ماقبل فعل مفعول ہوکر ’’اِیّا‘‘ مختلف ضمائر [ہ، ک کم، ی اور فا] کے ساتھ ۱۶ دفعہ، ’’اِلَّا‘‘ کے بعد (ہ) کے ساتھ تین جگہ، پہلے مفعول پر معطوف ہوکر (’’وَ‘‘ کے بعد) پانچ دفعہ اور صرف ایک جگہ اسم ’’اِنَّ‘‘ پر معطوف ہوکر آیا ہے۔ ان پر  اپنے اپنے موقع پر بات ہوگی۔

۱:۴:۱(۲) [نَعْبُدَ] کا مادہ ’’ع ب د‘‘ اور وزن ’’نَفْعُلُ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد عَبَدَ … یَعْبَدُ عِبَادَۃً (باب نصر سے) ہمیشہ متعدی اور بغیر صلہ کے آتا ہے اور اس کے معنی ہوتے ہیں: …کی عبادت کرنا، …کی اطاعت کرنا، …کی پوجا کرنا، …کی بندگی کرنا۔ اسی مادہ سے عَبدبہ (نصر سے) عبِدبہ (سمع سے) اور عَبدعنہ (نصر سے) وغیرہ افعال بھی (عربی زبان میں) استعمال ہوتے ہیں مگر ان کے معنی (عبادت کرنا کی بجائے) کچھ اور ہی ہوتے ہیں اور اس قسم کا کوئی فعل قرآن کریم  میں استعمال بھی نہیں ہوا۔ [سورۃ الزخرف:۸۱ میں اس کے (عبادت کے علاوہ) ایک دوسرے معنی کے امکان کی بات اپنے مقام پر آئے گی]

        عربی زبان میں لفظ عبادت (جس کی عربی املاء ’’عبادۃ‘‘ ہے) کے بنیادی معنی ہیں: ’’کسی ہستی کی انتہائی تقدیس اور تعظیم کی بنا پر اس کے سامنے اپنے انتہائی عاجز، پست اور فرماں بردار ہونے (خضوع اور تذلّل) کا اظہار کرنا۔ مثلاًسجدہ کرنا اور اسی جذبے کے ساتھ اس کے احکام بجا لانا ‘‘۔ اور ان ہی معنوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی ’’عبادت‘‘ حرام ہے اور عبادت کے یہ معنی کسی ایک لفظ سے ظاہر کرنے کے لئے اردو میں ’’پرستش‘‘، ’’بندگی‘‘، ’’پوجا‘‘ وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ تاہم ان سب الفاظ میں وہ بات پیدا نہیں ہوسکتی جو اصل لفظ (عبادت ) میں ہے۔ اس لئے اردو میں اسی لفظ (عبادت) پر فعل ’’کرنا‘‘ کا اضافہ کرکے ترجمہ’’عبادت کرنا‘‘ ہی کر لیا جاتا ہے۔ لفظ ’’عبادت‘‘ اور اس کے مضمرات و معانی کی اس سے زیادہ تفصیل اور وضاحت کے لئے کسی اچھی مستند تفسیر یا عقائد و تصوف کی کسی معتبر کتاب کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔

        قرآن کریم میں اس مادہ (عَبَدَ)سے مشتق افعال و اسماء دو سو سے زائد مقامات پر آئے ہیں اور خود لفظ ’’عبادۃ‘‘ آٹھ جگہ آیا ہے۔ ان مختلف استعمالات سے ہی لفظ ’’عبادت‘‘ کے معنی متعین ہوتے ہیں اور اس کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔

دیکھئے المفردات (اصفہانی) مادہ ’’عبد‘‘ الکشاف ۱ ص ۶۲‘ مد القاموس ج ۵ ص ۱۹۳۳ء نیز قاموس القرآن ج ۴ ص ۲۷۹۔

۱:۴:۱ (۳)       [و] حرف ’’واؤ‘‘ بھی عربی زبان میں متعدد و معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً (۱) ’’اور‘‘ اس وقت اسے ’’واو عاطفہ‘‘ یا واو العطف کہتے ہیں۔ (۲)’’…کی قسم ہے‘‘ اس وقت اسے ’’واو‘‘ قسمیہ یا ’’واوالقسم‘‘ کہتے ہیں (۲) ’’اس حالت میں کہ ‘‘ یا ’’درانحالیکہ‘‘ تب اسے ’’واوحالیہ‘‘ یا واو الحال کہتے ہیں۔ (۴) ’’…کے ساتھ ساتھ‘‘ ان معنوں کے لئے یہ ’’واو المعیت‘‘ کہلاتی ہے۔

        واو (’’وَ‘‘) کے ان مختلف (بلکہ ان کے علاوہ بھی) استعمالات کے مقرر قواعد ہیں جو کتبِ نحو میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہاں (آیت زیر مطالعہ میں) یہ واوالعطف ہے یعنی اس کے معنی ہیں ’’اَوْر‘‘ آئندہ ’’وَ‘‘ کے کوئی معنی بیان ہوں گے تو صرف اردو معنی لکھنے کی بجائے ہم ساتھ اصطلاحی طریقے پر ’’واو‘‘ کا متعلقہ نام لکھ دیا کریں گے۔ مثلاً ’’واوا العطف‘‘ ہے یا ’’واو حالیہ‘‘ ہے وغیرہ۔

        [ایّاک] پر ابھی پوری بحث ہوچکی ہے۔

۱:۴:۱ (۴)       [نستعین] کا مادہ ’’ع و ن‘‘ او روزن اصلی ’’نَسْتَفْعِلُ‘‘ ہے۔ اور اس کی شکل اصلی ’’نَسْتَعُوِنُ‘‘ ہے۔ جس میں اہل زبان یعنی عرب ’’واو‘‘ کی حرکت (کسرہ) ماقبل ساکن حرف (ع) کو دے کر اسے (واو کو) موافقِ حرکت (کسرہ) حرف یعنی ’’یاء‘‘ میں بدل کر بولتے ہیں جسے ہم صرف کی زبان میں ’’تعلیل ‘‘ کہتے ہیں

 ۔ اس طرح اب اس کی مستعمل شکل کا وزن ’’نَسْتَفِیلُ‘‘ رہ گیا ہے

        اس مادہ (ع و ن) سے فعل ثلاثی مجرد باب نصر سے (عَاَنَ یُعوُنْ عَونًا یعنی عَاذَ یُعوْذ کی طرح) بمعنی ’’گائے کا درمیانی عمر کو پہنچنا‘‘ لازم اور بغیر صلہ کے آتا ہے۔ مگر قرآن کریم میں یہ کہیں استعمال نہیں ہوا۔ البتہ اس کے معنوں سے ایک لفظ ’’عَوَان‘‘ (البقرۃ:۶۸) آیا ہے۔ جس کی وضاحت اپنے موقع پر آئے گی۔

        ’’نَسْتَعِیْن‘‘ مادہ ’’عَون‘‘ سے باب استفعال کا فعل مضارع معروف کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ [جو مذکر مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے۔ گویا اس اقرار میں مرد و عورت دونوں شامل ہیں اگرچہ اردو میں ترجمہ جمع مذکر سے ہی کیا جاتا ہے]

        اِستَعَان… یَسْتَعین اِستِعَانَۃَ (جس کی اصلی شکل اِسْتعَونُ یَسْتَعِونُ اِستْعِوَانًا تھی) ہمیشہ فعل متعدی کی صورت میں آتا ہے اور اس کے معنی ہوتے ہیں: سے مدد چاہنا، …مدد مانگنا، … سے اعانت طلب کرنا وغیرہ۔ اکثر تو یہ فعل بغیر صلہ کے (مفعول بفسہٖ کے ساتھ) اور کبھی ’’باء‘‘ (بِ) کے صلہ کے ساتھ بھی آتا ہے ۔ [یعنی ’’اِستَعَانَۃٌ‘‘ اور ’’اِستَعَان بہٖ‘‘ ہر دو کا مطلب ہے، اس نے اس سے مدد مانگی]۔ قرآن کریم میں یہ فعل دونوں طرح (صلہ کے ساتھ اور اس کے بغیر بھی ) استعمال ہوا ہے۔

        اس مادہ (عون) کے استفعال کے علاوہ بعض دیگر مزید فیہ کے ابواب مثل افعال، اور تفاعل سے بھی مشتقات (افعال و اسماء) کے دس کے قریب صیغے قرآن کریم میں آئے ہیں۔

 

   ہم نے یہاں اس کلمہ (نستعین) میں واقع ہونے والی ’’تعلیل صرفی‘‘ کی طرف مختصراً اشارہ کر دیا ہے۔ آئندہ بھی اس قسم کا کوئی کلمہ جب پہلی دفعہ سامنے آئے گا تو ’’صرفی تبدیلی‘‘ (مثلاً تخفیف‘ ادغام یا تعلیل) کی طرف اسی طرح اشارہ کر دیا جائے گا۔ اگرچہ ہم اس مفروضہ پر چل رہے ہیں کہ ہمارا قاری نحو اور صرف کے ان مبادی سے واقف ہے جن کا ’’مقدمہ‘‘ میں ذکر کر دیا گیا ہے۔

  عبدالحمید فراہی کے طریقہ تدریس صرف میں صرف مستعمل شکل کا وزن ہی سکھایا اور بتایا جاتا ہے۔

۱:۴:۲     الاعراب

’’ایاک نعبد و ایاک نستعین‘‘

        [اِیّاکَ] ضمیر منصوب منفصل ہے جس کی نصب کی وجہ فعل (نعبد) کا مفعول بہ ہونا ہے [ضمائر میں اور ’’ایا‘‘ کے مقصور ہونے کی بنا پر اس میں بھی کوئی علامتِ اعراب (رفع نصب جر) ظاہر نہیں ہوتی] اور فعل سے مقدم ہونے کی بناء پر اس میں اختصاص اور حصر کے معنی پیدا ہوگئے ہیں یعنی ’’صرف تیری ہی ‘‘

        [نَعْبُد] فعل مضارع معروف کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ اسے صرفی نحوی اصطلاح میں ’’فعل مرفوع‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں اور اس اعراب الفعل میں ’’رفع‘‘ کی علامت آخری ’’دال‘‘ کا ضمہ (-ُ) ہے اور اس میں ضمیر فاعل ’’نَحْنُ‘‘ مستتر ہے۔

        [وَ] یہ واو عاطفہ بمعنی ’’اور‘‘ ہے ۔ اس کے ذریعے  اگلے جملے ’’اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ‘‘ کے پہلے جملے ’’اِیّاکَ نَعبُد‘‘ پر عطف کیا گیا ہے۔ یعنی دو جملوں کو اس حرفِ عطف (’’و‘‘) کے ذریعے ملایا گیا ہے۔

        [اِیّاکَ] یہاں بھی (پہلے کی طرح )ضمیر منصوب منفصل ہے اور یہ بھی اپنے فعل (نَسْتَعِینَ) کا مفعول بہٖ مقدم ہے۔ اور اس تقدیم کی وجہ سے اس میں بھی اختصاص اور حصر کے معنی پیدا ہوگئے ہیں یعنی ’’صرف تجھ سے ہی‘‘

        [نَسْتَعِیْنَ] بھی (نعبدکی طرح) فعل مضارع کا صیغہ جمع متکلم ہے اور یہ فعل مرفوع ہے جس کی علامت ِ رفع آخری ’’ن‘‘ کا ضمہ (-ُ) ہے اور اس میں بھی ضمیر فاعل ’’نحن‘‘، ’’مستتر‘‘ ہے۔

        چونکہ فعل مضارع کا ترجمہ فعل حال اور مستقبل دونوں کے ساتھ کیاجاسکتا ہے۔ اس لئے ’’نَعْبَد‘‘ اور ’’نَستَعین‘‘ میں ایک ’’اقرار‘‘ بھی ہے اور ایک وعدہ یا عہد بھی۔ اگرچہ عام ترجمہ ’’حال‘‘ سے ہی کیا جاتا ہے۔ نیز جمع متکلم کے ان صیغوں کی ضمیر فاعل میں مرد اور عورت ہر دو شامل ہیں۔ اگرچہ عام طور ترجمہ صرف ’’مذکر‘‘ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

۱:۴:۳  الرسم:

        [اِیَّاک] بالاتفاق اثبات الالف (بین الیاء والکاف) کے ساتھ لکھاجاتا ہے۔ (بخلاف ’’خلقنٰک‘‘ وغیرہ کے )۔ اور اس کا ابتدائی ’’الف‘‘ ہمزۃ القطع ہے۔ اس لئے واو عاطفہ کے ساتھ بھی اپنا تلفظ برقرار رکھتا ہے اور عام عربی املاء بھی ’’ایّاک‘‘ ہی ہے۔

        [نعبد اور نستعین] کا رسم عثمانی بھی رسم املائی یا ’’معتاد‘‘ ہے یعنی عام عربی املاء کے قواعد کے مطابق ہی ہے۔

۱:۴:۴           الضبط :

ایاک نعبد و ایاک نستعین

        اس میں ضبط کا اختلاف صرف دو لفظوں میں ہے:

(۲)     ’’نستعین‘‘ کی یاء پر علامتِ سکون صرف برصغیر میں ڈالتے ہیں۔

        ’’نعبد‘‘ کے ضبط میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

۱:۵                                             ۱:۵: ۱            اللغۃ :

۱:۵:۱ (۱)        [اھد] کا مادہ ’’ھ د ی‘‘ اور وزن اصلی ’’اِفْعِلٌ‘‘ ہے اور شکل اصلی ’’اِھْدِیْ‘‘ تھی۔

        اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد ھُدی … یَھْدِی ھُدًی (دراصل ھَدَی یَھْدِیُ باب ضرب سے) ہمیشہ متعدی اور بغیر صلہ کے آتا ہے اور اس کے معنی ہیں: …کو راستہ دکھانا، …کو راہ بتلانا ، …کو راستے پر ڈالنا،  … کو رستے چلانا عموماً تو اس سے مراد ’’ازراہِ لطف و کرم سیدھا راستہ دکھانا ہی ہوتا ہے البتہ قرآن کریم میںایک آدھ جگہ تحکماً اور طنزاً ’’دوزخ کا راستہ دکھانا‘‘ کے لئے آیا ہے۔

ؤ       اس فعل (ھدی یھدی) کے بعض دفعہ دو مفعول ہوتے ہیں۔ پہلا مفعول (یعنی جسے جو راستہ دکھایا گیا) تو ہمیشہ بغیر صلہ کے (مفعول بنفسہٖ) آتا ہے مگر دوسرا مفعول (یعنی جدھر یا جو راستہ دکھایا گیا) بغیر صلہ کے بھی اور کبھی لام (لِ) اور کبھی ’’اِلی‘‘ کے صلہ کے ساتھ بھی آتا ہے ۔ یعنی ’’اس نے اسے راستہ دکھایا‘‘ کا عربی میں ترجمہ تین طرح ہوسکتا ہے (۱) ھداہ الصراط (۲) ھداہ لِلصراط اور (۳) ھداہ الی الصراط (صراط =راستہ ) … قرآن کریم میں اس فعل کے استعمال کی یہ تینوں صورتیں آئی ہیں۔

        بعض اہلِ لغت پہلی صورت (بغیر صلہ والی) کو لغتِ اہلِ حجاز کہتے ہیں او دوسری دو (صلہ والی) کو حجاز سے باہر کی بولی سمجھتے ہیں (حجاز یا الحجاز : عرب کا وہ مغربی جغرافیائی خطہ جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ واقع ہیں۔

        لفظ ’’اِھدِ‘‘ دراصل ’’اِھْدِیْ‘‘ تھا یعنی فعل ثلاثی مجرد سے صیغہ امر واحد مخاطب مذکر۔ عرب لوگ کسی ناقص مادہ سے فعل ثلاثی مجرد مجزوم کے ضمہ (-ُ) پر ختم ہونے والے مضارع کے پانچ صیغوں میں آخر پر آنے والی ’’د‘‘ یا ’’ی‘‘ کو تلفظ سے ساقط کر دیتے ہیں۔ بلکہ اسے لکھتے بھی نہیں اسے ہی ’’صرفی تعلیل‘‘ کہتے ہیں۔ مثلاً اسی فعل سے فعل مضارع منفی بلَمْ ’’لَمْ یَھْدِ‘‘ رہ جائے گا اور فعل امر ’’اِھْدِ‘‘ رہ جاتا ہے جس کی گردان ’’اِھْدِ، اِھْدِیَا، اِھْدُوا، اِھْدِیْ اِھْدِیَا اور  اِھْدِیْنَ‘‘ ہوگی۔ ان تمام صیغوں کے شروع کا الف ہمزۃ الوصل ہے جو اس صیغہ کے اپنے سے ماقبل کسی کلمہ (اسم، فعل یا حرف) کے ساتھ ملا کر پڑھنے کی صورت میں تلفظ سے گر جاتا ہے ۔

۱:۵: ۱ (۲)       [نَا] یہ جمع متکلم (مذکر و مونث ہر دو) کے لئے ضمیر منصوب اور مجرور (ہر دو) کی صورت ہے۔ بصورتِ منصوب ترجمہ ’’ہم کو ‘‘ یا ہمیں (us) ہوگا اور مجرور ہو تو اس کا ترجمہ ’’ہمارا‘‘ (our) کیا جائیے گا۔ اسی ضمیر کی مرفوع صورت ’’نَحْنُ‘‘ (بمعنی ’’ہم‘‘ یا we) استعمال ہوتی ہے۔

۱:۵:۱ (۳)       [الصِّرَاطَ]اس لفظ کا مادہ ’’ص رط‘‘اور وزن ’’فِعَالٌ‘‘ہے اور یہ اس کی معرف باللام (منصوب) صورت ہے۔

  ہدایت کے مختلف طریقے یا ’’اقسام ہدایت‘‘ نیز کسی خاص عبارت میں ہدایت کے مختلف معنی ہائے مراد  کی تفصیل کے لئے کسی اچھی تفسیر کی طرف رجوع کیا جائے یا مثلاً دیکھئے مفرداتِ راغب مادہ ’’ہدی‘‘ یا قاموس قرآنی ج ۳ ص ۱۴۵۔

اس مادہ (ص رط)سے کس طرح کا کوئی فعل استعمال نہیں ہوتا۔البتہ مادہ ’’س ر ط‘‘ سے فعل ثلاثی مجرد سَرِط … یسرَطُ سَرَطاناً (باب نصر اور سمع سے) بمعنی : … کو نگل جانا‘‘ استعمال ہوتا ہے۔ اور اس سے بھی لفظ ’’سِراط‘‘ (بمعنی راستہ ) آتا ہے جو ہر لحاظ سے ’’صراط‘‘ کا ہم معنی ہے۔ بلکہ ان ہی معنوں میں ایک تیسرا لفظ ’’زراط‘‘ بھی آتا ہے۔ تاہم اہلِ زبان ’’صراط‘‘ کو ہی بلحاظ استعمال زیادہ فصیح اور قابلِ ترجیح سمجھتے ہیں۔ یہی قریش کی بولی تھی۔ اور قرآن کریم میں بھی یہی صورت استعمال ہوئی ہے۔ تاہم قراء حضرات کے ہاں ان تینوں الفاظ (صراط، سراط اور زراط) کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے۔ اگرچہ ’’رسمِ قرآن‘‘ فنِ قراء ت کے ان احتمالات میں سے کسی  کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔

        لفظ ’’صراط‘‘ کے معنی راستہ یا سڑک کے ہیں اور یہ زیادہ تر نمایاں اور معروف و ممتاز راستے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اہلِ لغت صراط (جس کی اصل ’’سراط‘‘ ہے مگر ’’ط‘‘ کی مناسبت سے ’’س‘‘ کو ’’ص‘‘ پڑھا اور بولا جاتا ہے ) کی ’’وجہ تسمیہ ‘‘ بھی یہی بیان کرتے ہیں کہ راستے میں مسافر اس طرح آگے چلا جاتاہے جیسے نگلی ہوئی چیز پیٹ (اور انتڑیوں) میں گم ہوجاتی ہے۔ واللّٰہ اعلم۔ لفظ ’’صراط‘‘ قرآن کریم میں ۔مفرد یا مرکب (توصیفی یا اضافی) شکل میں پنتالیس (۴۵) دفعہ وارد ہوا ہے۔

۱:۵:۱ (۴)       [الْمُسْتَقِیْمَ] اس کا مادہ ’’ق و م‘‘ اور وزن اصلی ’’مُسْتَفْعِلٌ‘‘ ہے ۔ اور شکل اصلی ’’مُسْتَقْوِمٌ‘‘ تھی۔

        اس مادہ (ق و م) سے فعل ثلاثی مجرف قَام یقوم قِیامًا (دراصل قوَم یَقْوُم) باب نصر سے آتا ہے اور اس کے معنی ’’کھڑا ہونا‘‘ ۔ ’’کھڑا رہنا‘‘ یا ’’کھڑا ہو جانا‘‘ ہوتے ہیں۔ یہ فعل بغیر صلہ کے تو ہمیشہ لازم ہوتا ہے۔ مگر مختلف صلات (مثلاً ’’عَلیٰ‘‘، ’’لِ‘‘، ’’بِ‘‘) کے ساتھ کبھی لازم کبھی متعدی (دونوں طرح) مستعمل ہے۔ اس مادہ سے مزید فیہ کے بھی متعدد ابواب مختلف معانی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم قرآن کریم میں یہ مادہ مزید فیہ کے صرف باب افعال اور بابِ استفعال سے استعمال ہوا ہے۔

        یہ لفظ (المستقیم) باب استفعال سے اسم الفاعل کا (معرف باللام) صیغہ ہے۔ جیسا کہ ابھی بیان ہوا ہے اس کی ’’شکل اصلی ‘‘ مُسْتَقْوِمٌ تھی مگر اہل عرب کی زبان پر اس قسم کے الفاظ کی اصلی شکل کا تلفظ گراں گزرتا ہے وہ اسے بدل کر بولتے ہیں مگر اس قسم کے بہت سے الفاظ کی تبدیلی کو سامنے رکھتے ہوئے علماء صَرْف نے یہ قاعدہ مستنبط کیا کہ اس میں ’’واو‘‘ کی حرکت (-ِ) ماقبل ساکن (ق) کو دے کر خود ’’واو‘‘ کو اب اپنی ماقبل کی (نئی) حرکت (-ِ) کے موافق حرف ’’ی‘‘ میں بدل دیا جاتا ہے۔ اس طرح تعلیل کے بعد اس کی (استعمالی) شکل ’’مستقیم‘‘ اور وزن ’’مُستَفِیلُ‘‘ رہ گیا ہے۔ [ابھی پچھلی آیت میں آپ نے لفظ ’’نستعین‘‘ میں بھی اسی قسم کی صرفی تعلیل ملاحظہ کی ہے] اس مادہ سے باب استفعال کے فعل [استقام یستقیم استقامۃ] کے معنی ہیں: ’’درست ہونا‘‘، ’’سیدھا ہونا‘‘،’’اعتدال پر ہونا ‘‘، ’’سیدھے ہی چلے جانا (کہیں مڑے بغیر)‘‘اس طرح مستقیم کے لفظی معنی ’’سیدھا ہونے والا‘‘، ’’مڑے بغیر سیدھا ہی جانے والا ‘‘ ہیں اور اسی لئے اکثر مترجمین حسب ِ موقع اس کا ترجمہ ’’سیدھا یا سیدھی‘‘ ہی سے کرتے ہیں۔

یہ مادہ (ق و م) ایک کثیر الاستعمال مادہ ہے۔ صرف قرآن کریم میں ہی اس مادہ سے مشتق اسماء و افعال کے ساڑھے چھ سو

    ترجیح صاد کے بیان کے لئے دیکھئے الکشاف (طبع البابی) ج ۱ ص ۶۳۔

  جسے قراء ت کی کسی کتاب میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے اور دراصل تو یہ کسی ماہر قاری سے سننے کی چیز ہے۔

(۶۵۰)کے قریب صیغے وارد ہوئے ہیں۔ جس میں صرف فعل ثلاثی مجرد کے تیس سے زائد صیغے اور لفظ ’’مستقیم‘‘ سینتیس (۳۷) دفعہ آیاہے۔

۱ :۵ :۲  الاعراب:

        [اِھْدِ] فعل امر معروف کا صیغہ واحد مخاطب مذکر  ) ہے۔ جس میں ضمیر فاعل ’’أَ نْتَ‘‘ مستتر ہے جس کا ترجمہ ہوگا توچلا ۔ دکھا ، بتلا وغیرہ۔

        [نَا] ضمیر متصل منصوب ہے جو فعل ’’اِھْدِ‘‘ کا مفعول بہٖ (اوّل) ہے۔ یعنی ’’ہم کو یا ہمیں‘‘ [الصراطَ] مفعول بہٖ ثانی ہے (یہاں یہ بغیر صلہ کے آیا ہے) اور اسی لئے منصوب ہے اور علامتِ نصب ’’ط‘‘ کی فتحہ (-َ) ہے ۔

        [المستقیم]لفظ’’الصراط‘‘کی صفت ہونے کے باعث منصوب ہے۔ اور علامتِ نصب’’م‘‘کی فتحہ(-َ) ہے۔ اس طرح پورے مرکبِ توصیفی کا اردو ترجمہ ہوگا۔ ’’سیدھا راستہ یا سیدھی راہ‘‘ یوں پوری آیت فعل مع فاعل اور مفعول مل کر پورا جملہ فعلیہ ہے۔

۱:۵:۳  الرسم

        [اھدنا] کا رسم املائی اور رسم قرآنی یکساں ہے۔ البتہ اس کے متعلق چند امور توجہ طلب ہیں جن کا تعلق دراصل قراء ت سے ہے۔مگر قراء ت کا تعلق چونکہ ’’رسم‘‘ اور ’’ضبط‘‘ دونوں سے ہوتا ہے، اس لئے ان کو یہاں بیان کردینا مناسب ہے۔

        ’’اھدنا‘‘ کے شروع کا ’’الف‘‘ حمزۃ الوصل ہے ۔ جو اپنے سے ماقبل کے ساتھ وصل کی صورت میں تلفظ سے ساقط ہوجاتا ہے مثلاً سورۃ الفاتحہ میں اگر ’’نستعین‘‘ پر وقف نہ کیا جائے (جیسا کہ بعض دفعہ قاری حضرات نہیں کرتے) تو اس کے آخری ’’نُ‘‘ کو ’’اھْدنا‘‘ کی ’’ھ‘‘ کے ساتھ ملا کر پڑھ سکتے ہیں یعنی ’’نُہْ‘‘ کی طرح۔

        ’’نَا‘‘ کا آخری الف ’’اصل الف‘‘ ہے اسے ہمزہ نہیں کہیں گے۔ کیونکہ اس پر کوئی حرکت نہیں آتی اور یہ صرف اپنے مفتوح ماقبل (جو یہاں ’’نَ‘‘ ہے) کے اپنے مابعد (ساکن) کے ساتھ وصل کی صورت میں تلفظ سے ساقط ہو جاتا ہے جیسے یہاں ’’نَــا‘‘ کے ’’نَ‘‘ کو آگے ’’الصراط‘‘ کے ’’ص‘‘ کے ساتھ ملاتے وقت ’’نَصْ‘‘ پڑھتے ہیں۔

    صیغۂ امر ہمیشہ صرف ’’حکم دینا‘‘ کے لیے نہیں آتا بلکہ متعدد معنوی اغراض (مثلاً حکم، اجازت، طلب، دعا، دھکمی وغیرہ) کے لیے آتا ہے جن کی تعداد اٹھارہ تک پہنچتی ہے۔ تفصیل اصولِ فقہ کی کسی کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ مثلاً دو ایبی (المدخل) ۱۲۶

  جب کوئی فعل صلہ کے بغیر بھی اور صلہ کے ساتھ بھی اسی معنی کے لیے استعمال ہوتا ہو تو جب وہ بغیر صلہ کے آئے تو نحوی اس کے مفعول کو ’’منصوب بنزع الخافض‘‘ یعنی الخافض (=الجار) ہٹا کر منصوب کیا ہوا کہتے ہیں۔ مثلاً یہاں ’’الصراط‘‘ کو منصوب بنزع الخافض کہہ سکتے ہیں اس لیے کہ فعل ’’ھدی‘‘ کا دوسرا مفعول ’’الی‘‘ یا ’’لِ‘‘ (تسلسل) کا صلہ کے ساتھ بھی آسکتا ہے۔ اور اگر مفعول سے پہلے کوئی صلہ ہو جس سے مفعول (عملاً) مجرور ہوجاتا ہے تو اس وقت اسے محلاً منصوب کہتے ہیں مزید بحث کے لیے چاہیں تو دیکھئے    اعراب القرآن للدروویش ج۱ ص۱۵ یا تجدیدالنحوص ۶۹۔ ۱۶۸۔

   دراصل ہمزہ (وصل کا ہو یا قطع کا) کو ’’الف‘‘ کہنا ہی درست نہیں ہے۔ تاہم اردو میں چونکہ ’’ا‘‘ کو الف ہی کہتے ہیں اس لیے آسانی اور عرف کے پیش نظر ہم نے بھی اسے الف کہہ دیا ہے اور آئندہ بھی ہم یہ ’’لائسنس‘‘ استعمال کر لیا کریں گے ورنہ ’’ا‘‘ دراصل تو ’’ہمزہ‘‘ کی کتابت کی کئی صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔

        لفظ ’’الصراط‘‘ کا ابتدائی ’’الف‘‘ بھی (لام تعریف کا) ہمزۃ الوصل ہے ۔ اور ’’ص‘‘ کے شمسی حرف ہونے کی بنا پر ’’لام‘‘ خاموش (Silent) ہوجاتا ہے اور ’’نَا‘‘ کا ’’ن‘‘ صراط کے ’’ص‘‘ میں مدغم کر کے (ملا کر) پڑھا جاتا ہے جس سے تشدید پیدا ہوتی ہے۔ (’’نَصِّ‘‘)

۱:۵:۳ (۱)       [الصراط] کے رسم قرآنی کے بارے میں حسب ذیل امور قابل، توجہ ہیں:

        یہ لفظ (صراط) قرآن کریم میں جہاں اور جس طرح (معرفہ نکرہ و مفرد مرکب وغیرہ) بھی آیا ہے اسے ہمیشہ ’’ص‘‘ کے ساتھ لکھنا رسمِ عثمانی کا متفق علیہ مسئلہ ہے یعنی اسے اس کی (بلحاظ مادہ اصلی یا بلحاظ تلّفظ دوسری شکل مثلاً ’’سراط‘‘ یا ’’زراط‘‘ لکھنا ممنوع ہے ۔ اگرچہ قراء حضرات کی فنی بازیگری سے یہ پھر بھی محفوظ نہیں رہا۔)

        اس لفظ (الصراط) کا درمیانی الف تلفظ میں تو یقینا آتا ہے۔یعنی اسے ’’رَا‘‘ ہی پڑھتے ہیں۔ مگر رسمِ عثمانی میں متعدد کلمات کے اندر آنے والے الف کو کتابت میں حذف کر دیا جاتا ہے (جس کی دو مثالیں ’’الرحمٰن‘‘ اور ’’مٰلک‘‘ میں آپ دیکھ چکے ہیں۔ اور قرآن مجید کے رسم میں اس کی بیسویں مثالیں آگے آئیں گی)

        خیال رہے کہ کسی کلمہ کی ابتداء میں آنے والا ’’الف‘‘ دراصل ہمزہ ہی ہوتا ہے چاہے قطع کا ہو یا وصل کا۔اور کسی کلمہ کے آخر پر آنے والا ’’الف‘‘ کتاب میں کبھی محذوف نہیں ہوتا۔البتہ کسی کلمہ کے درمیان واقع ہونے والے ’’الف‘‘ یا ’’الفات‘‘ کا کتابت میں حذف (نہ لکھنا) یا اثبات (لکھنا) علم الرسم کے اہم مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے بلکہ عموماً کتبِ رسم کی ابتداء ہی ’’حذفِ الف‘‘ والے کلمات کے بیان سے ہوتی ہے۔ اس قسم کے کلمات میں سے ایک یہ ’’الصراط‘‘ بھی ہے۔

        تاہم اس لفظ (الصراط) کے اس درمیانی ’’الف‘‘ کے حذف یا اثبات میں اختلاف ہے۔ غالباً مصاحف عثمانیہ میں (جو علم الرسم کی اصل ہیں) سے بعض میںیہ باثبات الف مکتوب تھا اور بعض میںبحذفِ، الف لکھا گیا تھا۔ [اگرچہ اس لفظ کے بارے میں عثمانی مصاحف میں اس اختلاف کی تصریح نہیں ملتی جیسا کہ بعض دوسرے کلمات کے بارے میں اس قسم کی صراحت ملتی ہے کہ ’’وہ‘‘ عراقی مصحف میں یوں اور شامی مصحف میں یوں لکھاگیا تھا] بہر حال اس وقت (اور کئی صدیوں سے ) تمام غیر عرب مشرقی ممالک (ترکی، ایرن ، برصغیر، چین وغیرہ) میں اسے با ثبات الف ہی لکھا جاتا ہے۔ جب کہ بیشتر عرب ممالک (مثلاً مصر، شامل ،سعودیہ وغیرہ) اور ماسوائے لبیا باقی تمام افریقی ملکوں (تونس، مراکش، غانا، نائیجیریا، سوڈان وغیرہ) میں یہ بحذف الف لکھا جاتا ہے۔

        تاہم مشارقہ (اہلِ مشرق) اور مغاربہ  ) کے تعامل میں اس فرق کی وجہ مختلف ہے۔ اہلِ مشرق نے تو غالباً ازراہِ تساہل عام عربی املاء پر قیاس کرتے ہوئے اسے ’’صراط‘‘(با ثبات الف) لکھنا شروع کر دیا ہے۔ بہر حال اہل مشرق کے اس تعامل (باثبات الف) کی کوئی صریح وجہ کہیں بیان نہیں ہوئی۔ مگر لیبیا والے جو اسے باثبات الف لکھتے ہیں تو ان کے پاس اس کی ایک معقول فنی وجہ ہے ۔ اور بحذف الف لکھنے والوں کے پاس بھی ایک دلیل موجود ہے

   خیال رہے کہ اسلامی تاریخ کی اصطلاح میں مغرب سے مراد مصر سے مغرب کی طرف کے تمام افریقی ممالک ہوتے ہیں جن میں ’’وہ مرحوم‘‘ اندلس بھی شامل تھا۔ یورپ اور امریکہ مراد نہیں ہوتے۔

        علم الرسم کی دو بنیادی اور مستند کتابیں  (حدیث میں بخاری اور مسلم کی طرح ایسی ہیں جو اپنے سے پیشتر کی تمام کتابوں کی جامع اور اپنے بعد آنے والی تمام کتابوںکی بنیاد ہیں اور یہ ہیں (۱) عثمان بن سعید الدانی الاندلسی (ت ۴۴۴ھ) کی ’’المقنع‘‘ اور (۲) اس کے شاگرد ابو دائود سلیمان بن نجاح الاندسی (ت ۴۹۶ھ) لہ ’’التنزیل فی ھجاء المصاحف‘‘ علم الرسم پر بعد میں لکھی جانے والی کتابوں کی بنیاد یہی دو کتابیں ہیں اور بعد والے تمام مصنّف ان دو کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ اب قصہ یوںہے کہ المقنع للحانی میں… بلکہ علم الرسم پر ایک دوسری اہم کتاب ’’العقیلہ‘‘ میں (جسے الرائیۃ للشاطبی بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ ایک منظوم کتاب ہے اور رائیہ قصیدہ کی صورت میں ہے) ان دونوں کتابوں میں اس لفظ (صراط) کے حذف الف کی کہیں تصریح نہیں کی گئی۔ اور یہ اصول ہے کہ جب کسی جگہ حذف کی تصریح نہ ہو تو پھر اس لفظ کی کتابت میں عام عربی املاء (رسم معتاد) کو ہی اختیار کیاجائے گا۔ بلکہ الدانی نے ایک عام اصول یہ بیان کیاہے کہ قرآن کریم میں ’’فِعَال‘‘ اور ’’فَعال‘‘ کے وزن پر آنے والے تمام کلمات باثبات الف لکھے جاتے ہیں اس میں یہ لفظ ’’صراط‘‘خود بخود آجاتا ہے۔ اس کے برعکس ابودائود (سلیمان بن نجاح) نے اپنی کتاب میں لفظ ’’صراط‘‘ کے محذوف الالف ہونے کی صراحت کی ہے۔ گویا اس لفظ کے بارے میں ’’الدانی‘‘ اور ’’ابودائود‘‘ میں اختلاف ہے۔

        کسی کلمہ کے رسم کے بارے میں ان دونوں کے اختلاف کی صورت میں عرب اور عام افریقی ممالک میں ابودائود کے قول کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ اس لئے ان ممالک میںلفظ ’’صراط‘‘ میں الف کا حذف ابو دائود کی تصریح یا ترجیح کے ذکر کی بنا پر اختیار کیا گیا ہے۔ یعنی اسے صرف ’’صرط‘‘ لکھا جاتا ہے پھربذریعہ ضبط الف کا پتہ چلتا ہے ۔ اس کے مقابلے پر اہل لیبیا کے ہاں یہ اصول ہے کہ الدانی اور ابودائود میں اختلاف کی صورت میں شاگرد (ابودائود) کی بجائے استاد (الدانی)کے قول کو ترجیح دی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ لیبیا کے ’’مصحف الجماھیریہ‘‘ میں اس لفظ کو ’’صراط‘‘ (باثبات الف) لکھا گیا

اس اختلاف سے یہ بات بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ اس لفظ ’’صراط‘‘ کی کتابت میں ’’اثبات الف‘‘ کو حتمی طور پر رسم عثمانی کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا جاسکتا جیسا کہ عرب اور افریقی ممالک میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ اور جیسا کہ مدینہ یونیورسٹی کے دو اساتذہ نے پاکستانی مصاحف کی اغلاط پر اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ذہن میں رہے کہ بہر حال یہ لفظ ’’صراط‘‘ قرآن کریم میں جہاں جہاں بھی آیاہے (اور ابھی بیان ہوچکا ہے کہ یہ لفظ قرآن کریم میں پینتالیس (۴۵) دفعہ آیا ہے)

   دیکھئے مصری یا سعودی یا شامی مصحف کے آخر پر ضمیمہ ’’التعریف بھذا المصحف‘‘۔

  دیکھئے ’’مصحف الجماھیریہ‘‘ کے آخر پر ضمیمۃ التعریف بالمصحف۔ نیز نثر المرجان ج ۱ ص ۹۷

  یہاں ایک دلچسپ اور قابل ِ ذکر بات یہ ہے کہ الدانی کی کتاب تو شائع ہوچکی ہے مگر ابودائود کی ’’التنزیل‘‘ ابھی تک کہیں شائع نہیں ہوئی۔ اس کا ایک آدھ قلمی نسخہ کہیں کہیںموجود ہے۔ مصر والوں نے آج سے پچاس ساٹھ برس پہلے جب ’’نسخہ ٔ امیر یہ‘‘ شائع کیا تو اس میں یہ کہا گیا تھا کہ مسائل رسم میں اختلاف کی صورت میں الدانی کی بجائے ابو دائود کے قول کو ترجیح دی گئی ہے۔ غالباً مصر میں تو اس کا کوئی قلمی نسخہ موجود ہوگا۔ مگر سعودیہ والوں نے بھی اپنے مصحف کے آخر پر یہی بات (غالباً مصریوں کی نقل میں) لکھ دی۔ حالانکہ مدینہ یونیورسٹی میں کم از کم مارچ ۱۹۸۹ء کے آخر تک بھی ابودائود کی کتاب کی فوٹو سٹیٹ یا مائیکرو فلم تک نہیں تھی۔ اب وہ مکتبہ ظاہریہ دمشق سے منگوا رہے تھے۔ دراصل ان کا ذریعہ معلومات مورد الظمآن وغیرہ بعد کی تصا نیف ہیں جو ابودائود کا قول نقل کرتے ہیں ۔ پھر اصل مصنف کا ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی جس کی کتاب کی شکل تک نہیں دیکھی۔

سب جگہ یکساں طریقے پر لکھا جائے گا۔ یعنی یا تو سب جگہ بحذف الف یا ہر جگہ باثباتِ الف لکھا جائے گا۔ کہیں بحذف اور کہیں باثبات لکھنا جائز نہیں ہے۔

        اہل مشرق اور اہل لیبیا اس لفظ (صراط) کی باثبات الف کتابت سے اتنے مانوس ہوچکے ہیں کہ انہیں مصری یا سعودی یا شامی مصاحف میں (اور ان کے تتبع میں لکھے گئے پاکستانی ’’تجویدی قرآن‘‘ میں) یہاں بحذف الف کتابت (صرط) عجیب لگتی ہے۔ دوسری طرف چونکہ اس لفظ کی عام عربی املاء بھی باثبات الف ہے۔ اس لئے عرب ممالک کے پڑھے لکھے لوگوں کو اس کا رسم عثمانی (بحذف الف) عجیب لگتا ہے۔ بہرحال اصل چیز متفق علیہ رسم عثمانی کی پابندی ہے چاہے وہ مانوس لگے یا اجنبی۔ کسی غلطی کی تکرار کی بنا پر اس سے مانوس ہو جانے کی وجہ سے اسے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

۱:۵:۴   الضبط

اس آیت (اھدنا الصراط المستقیم) میں اختلافِ ضبط کی درج ذیل صورتیں موجود ہیں:

        حذف الف کی علامت کا اختلاف ۔ عرب اور افریقی ملکوں میں اسے فتحہ مع الف صغیرہ ( -َ-ا)سے اور باقی ملکوں میں صرف کھڑی زبر (-ٰ) سے ظاہر کرتے ہیں اس اختلاف کا اثر کلمہ ’’الصراط‘‘ کے ضبط میں ظاہر ہوگا۔ (بحذف الف لکھنے کی صورت میں)

یائے ساکنہ ماقبل مکسور پر علامت سکون اور ماقبل کی حرکت کے لئے علامت کا فرق۔ یہ علامت ِ سکون صرف برصغیر میں ڈالی جاتی ہے اور ما قبل کی حرکت ہر جگہ کسرہ (-ِ) ڈالی جاتی ہے مگر ایران اور ترکی میں اسے کھڑی زیر (-ٖ) کی شکل میں لکھتے ہیں یہ فرق ’’المستقیم‘‘ میں ظاہر ہوگا۔

الف ماقبل مفتوح میں ماقبل پر ہر جگہ فتحہ (-َ) ڈالتے ہیں مگر ایران میں یہ بھی کھڑی زبر (-ٰ) کی صورت میں لکھتے ہیں یعنی ’’نَـا‘‘ کو ’’نٰـا‘‘ لکھتے ہیں۔

ہمزۃ الوصل جب آیت کی ابتداء میں ہو تو اسے پڑھنے کے لئے کسی حرکت کی ضرورت ہوتی ہے۔ (مثلاً ’’اھدنا‘‘ میں یہ ہمزۃ کسرہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے) عرب اور عام افریقی ملکوں میں اس ہمزہ پر صرف علامت وصل  لکھ دی جاتی ہے مگر اس کی حرکت کو غالباً اپنی عربی دانی کے زور پر متعین کرتے ہیں۔ مشرقی ملکوں میں ایسے ہمزۃ الوصل پر متعلقہ حرکت (-ِ،-َ،-ُ) ڈالی جاتی ہے۔ مثلاً یہاں ’’اھدنا‘‘ کے ہمزۃ الوصل کے نیچے کسرہ (-ِ) ڈالی جاتی ہے۔ لیبیا میں اس قسم کی حرکت کے لئے اس الف کے نیچے درمیاں میں یا اوپر ایک باریک مجوف (اندر سے خالی) گول نقطہ ڈالتے ہیں یعنی وہ لوگ

۱:۶       اللغۃ:

        [صِرَاطَ] اس لفظ پر مکمل بحث ابھی اوپر گزر چکی ہے۔

۱:۶:۱(۱)  [اَلَّذِیْنَ] یہ جمع مذکر کے لئے اسم موصول ہے۔ بمعنی ’’وہ لوگ جو کہ‘‘ ۔۔۔۔۔اسم موصول کے بعد ایک جملہ آتا ہے۔ جسے ’’صِلَہ‘‘ کہتے ہیں۔ اسم موصول اپنے صلہ کے ساتھ مل کر جملہ کا کوئی جزء (مبتداء، خبر، فاعل و مفعول وغیرہ) بنتا ہے۔ اسماء موصولہ کو کسی مادہ سے مشتق یاماخوذ نہیں دیا جاتا ۔ اور اسی لئے اسے معاجم (ڈکشنریوں) میں بیان ہی نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ عربی پڑھنے والا اسماء موصولہ کے بارے میں سب کچھ کتب نحو میں پڑھ چکا ہوتا ہے۔ [بعض ڈکشنریوں مثلاً المنجد میں ’’الذی‘‘ اور اس کے ساتھی اسماء موصولہ کا ذکر ’’الذ‘‘کی ترتیب میں کیا گیا ہے] اگرچہ ہم اس مفروضہ پر چل رہے ہیں کہ آپ اسماء موصولہ کے بارے میپں پڑھ چکے ہیں۔ تاہم محض اعادہ اور یاد دہانی کے لئے یہاں ان کے بارے میں ذرا وضاحت کی جاتی ہے۔

        اسماء موصولہ کی کثیر الاستعمال شکلیں حسب ذیل ہیں:

واحد مذکر کیلئے ’’اَلَّذِیْ‘‘ جو مبنی ہے اور اسکے معنی حسب موقع ’’جو کہ ‘‘ ’’جس نے کہ ‘‘، ’’جس کو --- کہ‘‘ اور ’’جس کا --- کہ‘‘ کر لئے جاتے ہیں۔

تثنیہ مذکر کیلئے ’’اللّذانِ‘‘ جس کی نصبی اور جری صورت ’’اللّذَیْنَ‘‘ ہوتی ہے اور معنی ’’وہ دو جو کہ ، جن کو کہ یا جن کا کہ‘‘ ہوں گے۔

جمع مذکر کیلئے ’’اَلَّذِیْنَ‘‘ جومبنی ہے اور اس کے معنی بھی نمبر۱ کی طرح بصیغہ کا جمع (وہ جنہوں نے ، جن کو، جن کا) لئے جاتے ہیں۔

واحد مؤنث کے لئے ’’اَلَّتِیْ‘‘ جو مبنی ہے اور اس کے معنی بھی نمبر۱ کی طرح حسب موقع بصیغۂ واحد مؤنث لئے جاتے ہیں۔

تثنیہ مؤنث کے لئے ’’اللَّتانِ‘‘ جس کا نصبی اور جری شکل ’’اللَّتَیْنِ‘‘ ہوگی اور معنی میں ’’وہ دو مؤنث جو کہ‘‘ کا مفہوم ہوگا۔

جمع مؤنث کے لئے ’’اللَّاتی‘‘ یا ’’اللّاتِیْ‘‘ (دوصورتیں) جو دونوں ہی مبنی ہیں اور اس کے معنی کی طرح بصیغہ مؤنث (مثلاً وہ سب عورتیں جو کہ کی طرح) ہوں گے۔ ایک نقشہ کی شکل میں ان سب کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔

                                                رفع                     نصب            جر

                واحد                             الَّذی                    الذی                    الذی

مذکر             تثنیہ                            اللَّذَانِ           اللذَینِ           اللذَینِ

                جمع                              الَّذِین                    الّذِینَ                    الذِیْنَ

                واحد                             الّتی                     الَّتی                     الّتی

مؤنث   تثنیہ                            اللّتانِ            اللتَیْنِ           اللتَیْنِ

                جمع                              اللاتی            اللاتی            اللاتی

                جمع                              اللائی             اللائی            اللائی

ان کے علاوہ اسم موصول کی تین اور صوتیں بھی کثیر الاستعمال ہیں۔ یعنی مَنْ (جو کہ جس نے کہ، جس کو کہ، جس کا کہ) مَا (جو کچھ وغیرہ) اور ایٌّ (جونسا، کونسا وغیرہ)۔ ان تمام اسماء موصولہ کے قوائدِ استعمال کے اعادہ کے لئے کتب نحو کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔

اسماء موصولہ کی مذکورہ بالا (بصورتِ نقشہ) صورتوں میں سے صرف نمبر۵ (اللتان یا اللتین) قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوئی باقی تمام صورتیں استعمال ہوئی ہیں۔ ان سب کا بیان اپنی اپنی جگہ ہوگا۔

اسماء موصولہ پہلی ’’چھ‘‘ شکلوں کی املاء کو غور سے دیکھئے۔ واحد مذکر، واحدمونث اور جمع مذکر میں ’’لام‘‘ (ل) ایک دفعہ لکھا جاتا ہے۔ (الذی، التی اور الذین) مگر تثنیہ مذکر، تثنیہ مؤنث اور جمع مؤنث میں ’’لام‘‘ دو دفعہ لکھا جاتا ہے۔ (اللذانِ، اللتان، اللاتی وغیرہ) تاہم خیال رہے کہ یہ عام عربی قیاسی املاء (رسم معتاد) ہے۔ قرآن کریم میں ان اسماء (موصولہ) کے لکھنے کے اپنے خاص طریقے ہیں جو اپنی اپنی جگہ ’’الرسم‘‘ کے عنوان کے تحت مذکور ہوں گے۔ (ان شاء اللہ تعالی)

۱:۶:۱ (۲)        [اَنْعَمْتَ] کا مادہ ’’ن ع م‘‘ اور وزن ’’اَفْعَلْتَ‘‘ ہے اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد نِعِمَ ینعَُِم نِعْمَۃً (باب نصر، سمع اور فتح سے) آتا ہے اور اس کے معنی ہوتے ہیں۔ ’’خوشحال ہونا‘‘، ’’مالا مال ہونا‘‘ ’’تازہ اور سرسبز ہونا‘‘ اور نعُم ینعُم نُعُومۃً (باب کرم سے) کے معنی ’’نرم و نازک ہونا‘‘ ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ فعل ہمیشہ لازم اور بغیر صلہ کے آتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اس مادہ سے ثلاثی مجرد کوئی فعل نہیں آیا۔ البتہ ثلاثی مجرد کے مصدر ’’نِعمۃ‘‘ مزید فیہ کے دو ابواب (افعال اور تفعیل) سے اَفعال کے کچھ صیغے اور اس مادہ (نعم) سے مشتق اور ماخوذ متعدد اسماء قرآن مجید میںاستعمال ہوئے ہیں۔

لفظ [اَنْعَمْتَ]۔ اس مادہ سے باب افعال کا فعل ماضی معروف کا صیغہ واحد مذکر مخاطب ہے۔ باب افعال کے اس فعل اَنْعَمَ … یُنْعِمُ انعامًا کے معنی ہیں ’’…کو نعمت دینا‘ … پر انعام کرنا‘‘۔ یہ فعل ہمیشہ متعدی آتا ہے اور اس کے لئے عموماً دو مفعول درکار ہوتے ہیں (ا) جس کو یہ انعام دیا جائے اور (۲) جو چیز انعام کے طور پر دی جائے۔ ان میں سے پہلے مفعول کے لئے یہ فعل ہمیشہ ’’علی‘‘کے صلہ کے ساتھ آتا ہے اور اس مفعول (اوّل) کو ’’مُنعَم علیہ‘‘ کہتے ہیں۔دوسرا مفعول، اگر مذکور ہو تو یہ صلہ کے  بغیر (مفعول بنفسہٖ ہو کر) بھی اور باء (بِ) کے ساتھ بھی آتا ہے۔ اور اس (چیزکو جو بطور انعام دی جائے) کو ’’مُنْعَم بہ‘‘ کہیں گے مثلاً آپ عربی میں یوں کہیں گے: اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الشیَٔ یا  بالشیِٔ (اللہ نے اس کو (فلاں) چیز انعام دی) قرآن کریم میںاس فعل کے ساتھ باء (بِ) کے صلہ کا استعمال تو کہیں نہیں ہوا۔ مفعول بنفسہٖ کی بھی مثال صرف ایک جگہ (الانفال: ۵۳) آئی ہے۔اس کا بیان اپنی جگہ آئے گا۔ البتہ ’’علی‘‘ کے صلہ کتے ساتھ (صرف مفعول اوّل  ۔ منعم علیہ کا ذکر کرتے ہوئے) اس فعل (اِنعام) سے سترہ مختلف صیغے قرآن کریم میں آئے ہیں۔

۱:۶:۱ (۳)       [عَلَیْھِمْ]یہ دراصل ’’عَلٰٰی‘‘(حرف الجر) اور ’’ھُمْ‘‘(ضمیر مجرور متصل) سے مرکب ہے۔’’عَلی‘‘جب کسی ضمیر سے پہلے آئے تو اُسے عموماً ’’عَلَیْ‘‘پڑھا جاتا ہے اور ضمیر مجرور ’’ھُم‘‘سے پہلے اگر کوئی مکسور حرف یا ساکن یاء (یْ)آئے تو عموماً اسے ’’ھِمْ‘‘

   مثلاً علم النحو ص : ۳۸۰ یا تجدیا النحو ص ۱۸۔۱۱۷

پڑھتے ہیں اور یہی قاعدہ ’’ھُما‘‘ اور ’’ھُنَّ‘‘ میں بھی جاری ہوتا ہے یعنی علیھم، علیھما، علیھِنَّ پڑھے جاتے ہیں ۔ اس قاعدے کا تعلق صرف عربوں کے طریق تلفظ سے ہے اور اس کا عملاً اطلاق فن قراء ۃ اور تجوید میں ہوتا ہے ۔ یہ کسی لغوی اشتقاق یا نحوی (اعراب وغیرہ کے) قاعدے پرمبنی نہیں ہے۔

        اس حرف جار (علی) کے متعدد معنی اور استعمالات ہیں۔ ان میں سے زیادہ مستعمل صورتوں کا اردو ترجمہ حسب موقع ’’پر‘‘، ’’کے اوپر‘‘ ’’کے باوجود‘‘ کے موقع پر ’’کے خلاف‘‘ کے ساتھ کر لیا جاتا ہے۔ اس کی مختلف صورتیں اگے چل کر ہمارے سامنے آئیں گی۔ مختلف  افعال کے ساتھ یہ ’’علی‘‘ بطور صلہ استعمال ہو کر ان میںمتعدد معنی پیدا کرتا ہے۔ جیسے یہاں (اس آیت میں) ’’علی‘‘ فعل ’’انعمتَ‘‘ کے صلہ کے طور پر آیا ہے اور اس کا تعلق ’’مادہ‘‘ کے لغوی استعمال سے ہے جیسا کہ ابھی اوپر ’’انعمتَ‘‘ کے ضمن میں بیان ہوا ہے۔

۱:۶:۱  (۴)      [غَیْرٌ] غَیْرِکا مادہ ’’غ ی ر‘‘اور وزن ’’فَعْلٌ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد غَارَ یَغِیْر غیرًا (باب ضرب سے) صلہ کے بغیر بھی اور مختلف صلات (مثلاً ’’لِ‘‘ اور ’’علی‘‘) کے ساتھ مختلف معنوں (مثلاً خوں بہا ادا کرنا، عطا کرنا وغیرہ) کے لئے آتا ہے۔ اور غار یغار غَیْرۃً (باب سمع سے) بمعنی ’’غیرت کرنا‘‘ بھی آتا ہے۔ تاہم قرآن کریم میں اس مادہ سے ثلاثی مجرد کا کوئی فعل نہیں آیا۔ البتہ مزید فیہ کے بعض ابواب (افعال، تفعیل،اور تفعّل) سے بعض اَفعال اور مشتق اسماء کے کل سات صیغے آئے ہیں۔ ان کا بیان اپنی اپنی جگہ آئے گا۔ان شاء اللہ العزیز

ؤ       لفظ ’’غَیْرِ‘‘ کے اصل معنی تو ’’دوسرا‘‘ یا ’’کوئی اور‘‘ ہیں۔ اور ان معنوں میں ہی اس کی جمع ’’اغیار‘‘ آتی ہے۔ (قرآن کریم میں جمع کا صیغہ استعمال نہیں ہوا)

        یہ لفظ (غیر) متعدد معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً

۱۔      زیادہ تر تویہ ’’سِویً‘‘ یعنی ’’… کے سوا‘‘ یا ’’سوائے … کے‘‘ کے لئے آتا ہے جیسے غیر اللّٰہ (اللہ کے سوا)

۲۔      ’’… کی بجائے، کی جگہ ’’جیسے‘‘ (من یبتغ غیر الاسلام دینا)‘‘

۳۔     ’’مگر …‘‘ یعنی الَّا کے معنوں میں جسے ’’ مالثوا غیر ساعۃٍ‘‘

۴۔     ’’ نہ … ہوتے ہوئے‘‘ جیسے ’’غیرَ با غٍ ولا عادٍ‘‘ میں

۵۔      جو … نہیں ہے‘‘ یعنی لَــیْسَ کے معنوں میں جیسے ’’غیرُ مکذوب‘‘

۶۔      کبھی خود اس کے شروع میں باء (بِ) آجاتی ہے۔ اس صورت میں اس کا اردو ترجمہ ’’… کے بغیر‘‘ کیا جاتا ہے یعنی اس کی یہ شکل اردو میں مستعمل ہے جیسے ’’بغیر حساب ‘‘۔

۷۔     اور کبھی یہ کسی صفت میں منفی معنی پیدا کرنے کے لئے آتا ہے۔ اس وقت اس کا اردو ترجمہ ’’نا …‘‘ سے کیا جا سکتا ہے۔ جیسے

   اور فن قراء ت میں اس (علیھم) کے پڑھنے کے بعض دیگر طریقوں (قراء ت) سے بھی بحث کی جاتی ہے۔ مثلاً ’’عَلَیْھُم‘‘ اور ’’عَلَیْھِمُوْ‘‘ وغیرہ۔ کیونکہ بعض عرب اس طرح بھی بولتے ہیں۔ مزید وضاحت کے لیے چاہیں تو دیکھئے البیان (ابن الانبادی) ج ۱ ص ۳۹۰۴۰ یا قراأت کی کوئی کتاب۔

   قرآن کریم میں یہ ’’بغیر…‘‘ کی ترکیب قریباً چالیس دفعہ آئی ہے۔ ان تمام مقامات پر ’’بغیر‘‘ کا اردو ترجمہ ’’بغیر‘‘ ہی کیا جاتا ہے۔

        ’’غیر متشابہٍ‘‘ اور آیت زیر مطالعہ میں اس لفظ (غیر) کے معنی نمبر۵ یا نمبر۷ والے لئے جاسکتے ہیں۔

        ان تمام معنوں کے لئے ’’غیر‘‘ ہمیشہ مضاف ہو کر آتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ بغیر تنوین کے آتا ہے [اوپر والی عبارتوں میںجہاں جہاں نقطوں والی خالی جگہ (…) چھوڑی گئی ہے وہ اس کے مضاف الیہ کے (ترجمہ کے ) لئے ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر یہ لفظ کسی صفت کے طور پر بھی آتا ہے اور استثناء کے معنی پیدا کرنے کے لئے بھی اور اس کے اپنے اعراب یعنی غیرُ، غیرَ یا غیرِ کے استعمال کے کچھ قواعدہیں جو اگر مستحضر (یاد) نہ ہوں تو نحو کی کسی کتاب میں ’’استثناء‘‘ کی بحث پر نظر ڈال لیجئے خصوصاً ’’غیر‘‘ اور ’’سوی‘‘ کے استعمال پر۔

۱:۶:۱ (۵)        [الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ]اس لفظ میں ’’مَغْضُوْبِ‘‘ (جو یہاں معرف باللام اور مجرور ’’شکل‘‘ میں ہے) کا مادہ

’’غ ض ب‘‘ اور وزن مَفْعُوْلٌ ہے یعنی یہ اسم المفعول کا صیغہ ہے اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد غَضِب یَغْضَبُ غَضْبًا (باب سمع سے) آتا ہے اور اس کے معنی ہیں ’’بہت خشم ناک ہونا‘‘ سخت غصے میں آنا‘‘ یعنی یہ ہمیشہ فعل لازم ہوتا ہے اسے متعدی بنانے کے لئے اس کے ساتھ ہمیشہ ’’علی‘‘ کا صلہ استعمال ہوتا ہے مثلا ’’غضِبَ علیہ یا علی فلانٍ‘‘ (اس پر یا فلاں پر سخت ناراض ہوا)۔ [غَضِبَہٗ یا غَضِبَ ’’فلانا‘‘ کہنا بالکل غلط ہے]

        ثلاثی مجرد سے یہ فعل بعض دوسرے صلات (’’لِ‘‘، ’’بِ‘‘ اور ’’فی‘‘) کے ساتھ بطور فعل لازم ’’… کی خاطر ناراض ہونا ‘‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ تاہم قرآن کریم میں ان معنی کے ساتھ یہ فعل کہیں استعمال نہیں ہوا۔ یہ فعل بغیر صلہ کے بطور لازم صرف ایک جگہ (الشوریٰ: ۴۲) اور ’’علی‘‘ کے صلہ کے ساتھ چھ سات جگہ آیا ہے۔

        اس طرح اس فعل سے مجہول بنانا ہو تو اسی صلہ (علی) کے ساتھ بنے گا۔ یعنی غَضِبَ علی فلانٍ‘‘ (اس نے فلاںپر غصہ کیا) کا مجہول ہوگا ’’غُضِبَ علی فلانٍ‘‘ (فلاں پر غضب ؍ غصہ کیاگیا) غصہ کرنے والے کو ’’غاضِبٌ‘‘ اور جس پر غصہ کیا گیا اسے ’’مغصوب علیہ‘‘ کہتے ہیں۔ صرف ’’مغضوب‘‘ کہنا عربی میں درست نہیں ہے۔ اگرچہ اردو میں ہم اسے اس طرح (بغیر صلہ کے) استعمال کرتے ہیں۔

        اور یہ صلہ کے بعد مفعول کے مطابق ضمیر لوٹا نے (یعنی لانے) والا قاعدہ ہر اس متعدی فعل کے اسم مفعول پر جاری ہوتا ہے جو کسی خاص صلہ کے ساتھ استعمال ہوتا ہو۔ یا جسے کسی صلہ کے ذریعے متعدی بنایا جاتا ہو۔ مشارٌ الیہ، مضاف الیہ، مقسوم علیہ‘ الیہ، منعم علیہ،مضروب فیہ وغیرہ اسی کی مثالیں ہیں [انگریزی میںاس کی مثال Applied For] یا Refered to  کی قسم کے کلمات ہیں کہ ان میں فعل کی تیسری شکل (جو اسم مفعول کے لئے آتی ہے) کے ساتھ وہی صلہ (PREPOSITION) لگایا جاتا ہے جو فعل کے ساتھ لازماً آتا ہے۔]

        اس قسم کے مفعول میںتثنیہ یا جمع وغیرہ کی تبدیلی صلہ کے بعد والی ضمیر میں مطلوبہ تبدیلی کے ذریعے ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی منصوب علیہ کا تثنیہ ’’مغضوب علیھما‘‘ اور اس کی جمع ’’مضغوب علیھم‘‘ ہوگی خیال رہے کہ ’’مغضوبان علیھما‘‘ یا ’’مغضوبین علیھم‘‘ نہیں کہیں گے۔ یہاں آیتِ زیر مطالعہ میں ’’المغضوب علیھم‘‘ آنے کی وجہ یہی قاعدہ ہے۔ اگر فعل ’’غضِب‘‘ بغیر صلہ کے متعدی ہوتا تو یہاں ’’غیر المغضوبین‘‘ آتا اس قاعدہ کو ذہن نشین کر لیجئے۔ آگے چل کر قرآن مجید میں اس کے استعمال کی بکثرت مثالیں سامنے آئیں گی۔

۱: ۶ :۱ (۶)      [وَلَا الضَّآلِیْنَ] اس میں ’’وَ‘‘ تو عاطفہ (بمعنی ’’اور‘‘ ہے ) ہے اور ’’لا‘‘ نفی کے لئے ہے۔ (بمعنی ’’نہ ہی‘‘) ان حروف (وَاور لَا)کے استعمال پر ابھی آگے ’’الاعراب‘‘کے تحت بات ہوگی۔ الضَّآلِیْنَ (جو معرف باللام ہے) کامادہ ’’ض ل ل‘‘ اور وزن (لام تعریف کے بغیر) ’’فاعلین‘‘ ہے جس کی شکل اصلی ’’ضالِلِین‘‘ تھی ۔ یعنی یہ اسم الفاعل کی جمع مذکر سالم (کی نصبی اور جری صورت) ہے۔ اور اس میںمتحرک حرف (لام) آنے کی وجہ سے پہلے کو ساکن کرکے دوسرے میں مدغم کر دیا گیا ہے۔ (فعل مضاعف کے قاعدے کے مطابق) اور الف ماقبل مفتوح (اور اسی طرح واو ساکنہ ماقبل مضموم یا یائے ساکنہ ماقبل مکسور) کے بعد اگر ’’ء‘‘ یا کوئی حرف ساکن آجائے تو اس میں مدّ (آواز کو کھینچنا) پیدا ہوتی ہے۔ یہاں ’’ضآ‘‘ میں مدّ کی وجہ یہی قاعدہ ہے۔

        اس مادہ (ض ل ل) سے فعل ثلاثی مجرد ضلَّ یَضِلُّ ضلالۃً وضلالاً (باب ضرب سے) آتا ہے اور اس کے بنیادی معنی ہیں: ’’مطلوب راستے سے دور ہونا‘‘ (عمداً ہو یا سہواً اور کم ہو یا زیادہ)۔ بنیادی طور پر یہ فعل لازم ہے مگر ’’جائَ‘‘ اور ’’آتیٰ‘‘ کی طرح یہ متعدی بھی استعمال ہوتا ہے یعنی اس کے ساتھ اس کا مفعول بہٖ بغیر صلہ کے (بنفسہٖ) بھی آتا ہے۔ مثلاً ’’ضَلَّ الطریقَ‘‘ (وہ راستے سے بھٹک گیا‘‘ اور کبھی اس کے ساتھ ’’عن‘‘ یا ’’فِی‘‘ کا صلہ بھی لگتا ہے۔ اس طرح یہ فعل (ثلاثی مجرد) بطور لازم اور متعدی (صلہ کے ساتھ اور کے بغیر بھی) متعدد معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً (ا) … کو کھو بیٹھا (۲) … سے بھٹک جانا (۳) گمراہ ہونا (۴) بہک جانا (۵)… سے بچھڑ جانا (۶) بے خبر ہونا (۷) سرگرداں ہونا (۸) بھول جانا (۹) ہٹ جانا  (۱۰) بیکار جانا۔ (۱۱) ہلاک ہونا (۱۲) گم ہوجانا وغیرہ۔ یہ تمام استعمالات حسب موقع ہمارے سامنے آتے جائیں گے قرآن کریم میںاس سے صرف فعل ثلاثی مجرد کے ساٹھ سے زائد صیغے آئے ہیں۔ اور دیگر (مزید فیہ) ابواب سے اَفعال اور مشتقات وغیرہ تو بہت زیادہ (۱۳۶ کے قریب) آتے ہیں:

۱:۶:۲  الاعراب:

        اس حصہ میں آیت کے اعراب سمجھنے کے لئے اس سے سابقہ آیت کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کیونکہ بعض اعراب اس (پہلی) آیت کے حوالے سے بیان ہوں گے یعنی ’’اھدِنا الصراطَ المستقیم۔ صراطَ الذِینَ النعمتَ علیھم۔ غیرِ المغضوبِ علیھم وَلا الضالِّین‘‘ پوری عبارت کو سامنے رکھئے۔ اسی لئے اسے دوبارہ لکھ دیا گیا ہے۔

        [صِرَاطَ] پہلے صراط (الصراط المستقیم والا) کابدل ہے (جسے یہاں بدل الکل کہہ سکتے ہیں) یہ اسی وجہ سے (منصوب کا بدلہ ہونے کی بنا پر، ہی منصوب ہے) اور اس میں علامت ِ نصب ’’طَ‘‘ کی فتحہ (-َ) ہے۔ اور آگے مضاف ہونے کی وجہ سے اس کی تنوین ساقط ہوگئی ہے۔

        [الذین]اسم موصول ہے اور (صراطکا) مضاف الیہ ہو کر مجرور ہے تاہم مبنی ہونے کے باعث اس میں اعراب ظاہر نہیں ہوتا۔

        [انعمت]فعل ماضی صیغہ واحد مذکر مخاطب ہے جس میں ضمیر فاعل ’’أَنتَ‘‘ متصل موجودہے۔ [علیھم] جار (علی) اور مجرور (ھم) مل کر فعل ’’انعمت‘‘ سے متعلق ہے۔ ضمیر ’’ھم‘‘ یہاں در اصل تو مفعول بہٖ اور منصوب ہے مگر علی (صلہ) کے بعد آنے کی وجہ سے یہاں یہ ضمیر (ھم) متصل مجرور بالجرّ بھی ہے۔ اس لئے فعل (انعمت) کے مفعول بہٖ ہونے کی بناپر اس کو یہاں محلاً منصوب بھی کہہ سکتے ہیں ‘‘ انعمت علیھم --- ’’الَّذِیْن‘‘ کا صلہ ہے اور صلہ موصول مل کر ’’صراط‘‘ کا مضاف الیہ ہے اور یہ سارا مرکب اضافی [صراط الذین انعمت علیھم یعنی [الذین انعمت علیھم (جن پر تو نے انعام کیا) کا صراط راستہ)] ’’الصراط المستقیم‘‘ کا بدل الکل ہے۔ یعنی ’’الصراط المستقیم‘‘ (سیدھا راستہ) وہی (چیز) ہے جو ’’صراط الذین انعمت علیھم‘‘ (تیرے انعام یافتہ بندوں کا راستہ) ہے۔

        [غیرِ] یہ الّذین……کی صفت یا اس کا بدل الکل ہو کر مجرور ہے۔ (علامت جر ’’ر‘‘ کی کسرہ (-ِ) ہے) اور یہ آگے مضاف ہے [المغضوبِ] ’’غیر‘‘ کا مضاف الیہ ہو کر مجرور ہے۔ (علامت جر ’’بِ‘‘ کی کسرہ (-ِ) ہے۔ اور [علیھم] جار مجرور مل کر ’’مغضوب‘‘ سے متعلق ہے۔ نحو کی اصطلاحی زبان میں ’’علیھم‘‘ یہاں نائب فاعل ہو کر محلاً مرفوع ہے۔ کیونکہ ’’المغضوب علیھم‘‘ دراصل ’’الّذین غُضِبَ علیھم‘‘ ہے۔ یعنی ضمیر ’’ھم‘‘ فعل مجہول کے نائب فاعل کا کام دے رہی ہے۔

        [ولا الضالین] میں واو (’’و‘‘) تو عاطفہ (بمعنی اور) ہے اور ’’لا‘‘ محض تاکید ِ نفی کے لئے آیا ہے۔ یعنی ’’غیر‘‘ میںجو نفی (’’نا‘‘) کے معنی ہیں محض اس کی تاکید دمزید کے لئے ہے۔ جسے نحو کی زبان میں’’زائدہ‘‘کہتے ہیں ۔ ’’الضالین‘‘ یہاں ’’المغضوب علیھم‘‘ پر معطوف ہونے کی وجہ سے مجرور ہے اور اس کی علامت ِ جر ’’یاء‘‘ ہے یعنی (-ِ یْنَ) والی ’’یاء‘‘ جو جمع مذکر سالم کی مجرور صورت ہے۔

        ہم نے ابھی لکھا ہے کہ ’’غیر‘‘ یہاں ’’الذین…‘‘ کی صفت یا بدل الکل ہوسکتاہے۔ اور یہ مضاف بھی ہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ ’’غیر‘‘ اپنے مضاف الیہ سمیت یعنی پوری عبارت ’’غیر المغضوب علیھم ولاالضالین‘‘ اپنے سے پہلے والے صلہ موصول یعنی ’’الذین انعمت علیھم‘‘ کی صفت یا نعت بھی بن سکتی ہے اور اس کا بدل بھی ہوسکتی ہے۔ اور بدل مانیں تو پھر بدل الکل ہی ہوسکتا ہے۔ پہلی صورت میں (صفت یا نعت ہونے کی صورت میں) عبارت کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسے ’’الذین انعمت علیھم‘‘ (تیرے انعام یافتہ بندے) جو ’’غیر المغضب علیھم ولا الضالین‘‘ ہوں (یعنی نہ مغضوب ہوں نہ گمراہ ہوں) اور دوسری صورت یعنی بدل ماننے سے مطلب یہ ہوگا کہ ’’الذین انعمت علیھم‘‘ (تیرے صحیح انعام یافتہ بندے) وہی تو ہیں جو ’’غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین‘‘ (نہ مغضوب ہیں اور نہ ہی گمراہ ہیں)۔

        صفت والے معنی لینے سے یہ بحث پیدا ہوسکتی ہے کہ کیا کچھ لوگ بیک وقت انعام یافتہ‘‘ (من رجہٍ) منصوب و گمراہ (من وجہٍ) (بھی ہو سکتے ہیں جن میں منعم علیہم (انعام یافتہ) ہونا اور ’’مغضوب علیھم والضالین (مغضوب اور گمراہ ہونا۔ دونوں صفات جمع ہوں بدل والے معنی لئے جائیں تو یہ سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے بدل مراد لینا زیادہ بہتر ہے ۔

        اس ضمن میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہمارے ہاں اکثر تراجم میں اس حصہ آیت’’غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین‘‘

   نحوی ’’زائد‘‘ کی اصطلاح ایسے حرف یا لفظ کے لیے استعمال کرتے ہیںجس کے ہونے یا نہ ہونے سے کسی اعرابی تبدیلی پر کچھ اثر نہ پڑتا ہو جیسے یہاں  ’’الضالین‘‘ اس ’’لا‘‘ کے بغیر بھی مجرور ہی ہوتا۔ ’’زائد‘‘ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے ہونے یا نہ ہونے سے معنوں میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ مثلاً یہاں ’’لا‘‘ سے مزید تاکید کے معنی پیدا ہوتے ہیں یعنی ’’نہ ہی‘‘۔ مطلقاً ’’نفی کے معنی تو ’’غیر‘‘ کی وجہ سے بھی پیدا ہورہے تھے۔

   مزید بحث کے لیے چاہیں تو دیکھئے مثلاً روح المعانی ج۱ ص ۹۵۔ ۹۴، مجالسِ سبعہ ص۱۳۸۔۱۳۷ یا الکشاف ج۱ ص۶۹

کا ترجمہ ’’مغضوب علیھم کا (راستہ) اور نہ گمراہوں کا (راستہ)‘‘ یا اسی مفہوم کے لئے ملتے جُلتے الفاظ سے کیا جاتا ہے۔ جس میں اس عبارت کا تعلق لفظ’’صراط‘‘ سے بنتا ہے۔ یہ ترجمہ صرف اس صورت میں درست قرار دیا جاسکتا ہے۔ جب ’’غَیْرَ‘‘ (منصوب) پڑھا جائے۔ اس صورت میں تقدیر(خود بخود ذہن میں آنے والی عبارت) یوں ہوگی ’’غیر صراط المغضوب علیھم…‘‘ یعنی ’’غیرَ‘‘  لفظ ’’صراط‘‘ (جو خود بھی ’’اھدنا‘‘ کے مفعول بہٖ ’’الصراط‘‘ کا بدل ہوکر منصوب ہے) کی صفت یا بدل سمجھا جائے گا۔ ’’الذین…‘‘ کی نہیں۔

        اردو تراجم میں سے صرف شاہ عبدالقادرؒ اور شیخ الہندؒ نے ’’غیر المغضوب … کو ’’الذین…‘‘ ہی کی صفت یا بدل سمجھ کر ترجمہ کیا ہے۔ انگریزی تراجم میں سے صرف علامہ عبد للہ یوسف علی نے اس طرح ترجمہ کیا ہے۔ اور نیچے (فٹ نوٹ) میں ’’غیر‘‘ کے ’’صراط‘‘ کی بجائے ’’الذین…‘‘ سے متعلق ہونے کی صراحت کی ہے۔ (انگریزی ہی تراجم میں سے) محمد اسد مشہور نو مسلم یورپی عالم نے صرف نیچے (فٹ نوٹ میں) اس ترجمہ کا بحوالہ زمخشری ذکر کیا ہے۔ فارسی تراجم میں سے حضرت شاہ ولی اللہ: نے ’’بجز‘‘ کے ساتھ ترجمہ کیا ہے (راہ کا ذکر کئے بغیر) باقی اردو، فارسی اور انگریزی مترجمین قرآن نے اسے ’’صراط‘‘ ہی سے متعلق کرتے ہوئے ترجمہ کر لیا ہے جسے ’’مفہومی‘‘ یا ’’تفسیری‘‘ ترجمہ تو کہا جاسکتا ہے۔ مگر روایتِ حفص کی ترکیب نحوی اور لفظی ترجمہ سے قریب تر نہ ہونے کی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ اسی طرح جن مترجمین نے ’’غضب‘‘کے ساتھ ’’تیرا‘‘ یا ’’تونے‘‘ کا اضافہ کیا وہ بھی ’’انعمت‘‘ کی ضمیر فاعل کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہے۔ کیوں کہ یہاں ’’غضب‘‘ سے مراد تو ’’اللہ کا غضب‘‘ ہی ہے۔ تاہم یہ اضافہ بھی ترجمہ کو لفظی سے زیادہ ’’تفسیری‘‘ بناتا ہے۔

۱:۶:۳            الرسم:

        [صراط (صرط) الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین]

        لفظ [صراط] یا  [صرط] پر ابھی پچھلی آیت میں بات ہو چکی ہے۔(۱:۵:۳)

        [الذین]  ہمزئہ وصل اور ایک ’’لام‘‘ (مشد ّد) کے ساتھ لکھا جاتا ہے ’’ذ‘‘ اور ’’ن‘‘ کے درمیاں ’’ی‘‘ (بصورت نبرہ یعنی دندانہ) لکھی جاتی ہے۔

        [انعمت] ہمزۂ قطع اور لمبی ’’ت‘‘ کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔

        [علیھم] میں ’’علی‘‘ کی ’’ی‘‘ کو ’’ھم‘‘ کی ’’ھ‘‘ کے ساتھ ملا کر لکھا جاتا ہے ۔

        [غیر المغضوب علیھم]میں ’’غیر‘‘ کے بعد ’’المغضوب‘‘ کالام تعریف باثبات ہمزۃ الوصل لکھاجاتا ہے اور ’’علیھم‘‘ سابق کی طرح موصول (ملا کر) لکھاجاتا ہے۔ [ولا الضالین] میں ’’وَلا‘‘ کے بعد ’’الضالین‘‘ ابتدائی ہمزۃ الوصل اور درمیانی الف (ضاور ل کے درمیان کے اثبات کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔ صرف صاحب نثر المرجان (ج ا ص ۹۹) نے اس الف

دیکھئے ’’غیر‘‘ کی قرأت نصب پر بحث۔ روح المعانی ج۱ ص۹۵۔ خیال رہے ہم صرف روایت ِ حفص کے مطابق اعراب بیان کر رہے ہیں جو یہاں قراء ت الجر (غیر) ہے۔ نصب کی قرأت بھی ثابت ہے مگر وہ ہمارے دائرہ عمل (SCOPE) سے خارج ہے دیکھئے مقدمہ ۔

  دیکھئے  الکشاف للزمخشری ج۱ ص ۶۹

کے حذف کی طرف (بحوالہ مصحف الجزری) اشارہ کیا ہے (یعنی الضلین) تاہم کتب ِ رسم میں ’’ضالین‘‘ کے الف کے حذف کا کہیں ذکر نہیں ہے اور لَ کی تشدید کی بناء پر ماقبل کی ’’مدّ‘‘ کے لئے بھی اس الف کا اثبات ضروری ہے۔

        ملاحظہ کیجئے کہ اس (زیرِ مطالعہ) آیت کے تمام کلمات کا رسم الخط عام املائی رسم کے مطابق ہی ہے۔ اوپر جو ’’قوائدِ املاء‘‘ بیان ہوئے ہیں وہ سب عام عربی املاء کے قواعد ہی ہیں۔ البتہ صرف کلمہ’’صراط‘‘ کی رسم مختلف فیہ ہے۔ اس پر مفصل بات سابقہ آیت کے

’’الصراط‘‘ میں آچکی ہے۔ (۱:۵:۳)اور ’’الضالین‘‘ کے الف کے حذف کا قول شاذ اور لہٰذا ناقابلِ قبول ہے۔ عام قواعدِ املاء کی تفصیل ہم نے اس لئے دی ہے کہ یہ معلوم ہو جائے کہ قرآن کا رسم الخط بیشتر (اسی فیصد سے بھی زیادہ) عام رسم معتاد کے  مطابق ہی ہے صرف چند مخصوص کلمات میں اختلاف ہے۔ آئندہ ہم صرف ان قرآنی کلمات کے رسم کی نشا ن دہی کر دیا کریں گے جن کا رسم (عثمانی) عام املائی رسم سے مختلف ہوگا۔ ہر ایک کلمہ کی املاء بیان کرنا ضروی نہیں ہے کیوں کہ عنوان ’’الرسم‘‘ سے ہماری مراد راصل تو ’’الرسم العثمانی‘‘ یا ’’الرسم المصحفی‘‘ ہی ہے۔

الضبط:

        (صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین)

        اس آیت میں اختلافِ ضبط کی حسب ذیل صورتیں موجود ہیں

ہمزۃ الوصل کی علامت (صلہ) ڈالنا یا نہ ڈالنا اور ڈالنے کی صورت میں اس کی شکل کا اختلاف ۔ اس اختلاف کا اثر کلمات ’’الذین‘‘، ’’المغضوب‘‘ اور ’’الضالین‘‘ کے ضبط میں ظاہر ہوگا (یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ ہمزۃ الوصل کی یہ شناختی علامت صرف عرب اور افریقی ملکوں میں ڈالی جاتی ہے (دیکھئے بسم اللہ کی بحث)۔

ہمزۂ قطع کی علامت قطع ڈالنا یا نہ ڈالنا اور ڈالنے کی صورت میں اس کی شکل کا اختلاف یہ علامت بھی صرف عرب اور افریقی ملکوں میں ڈالی جاتی ہے۔ اس اختلاف کا اثر صرف کلمہ ’’انعمت‘‘ کے ضبط میں ظاہر ہوگا۔

واو ماقبل مضموم پر علامت سکون ڈالنے یا نہ ڈالنے کا اختلاف یہ علامت صرف بر صغیر میں ڈالی جاتی ہے۔ اس اختلاف کا اثر کلمہ ’’المغضوب‘‘ کے ضبط میں ظاہر ہوگا۔

یائے ماقبل مکسور پر علامت ِ سکون ڈالنا یا نہ ڈالنا۔ یہ علامت بھی صرف برصغیر میں ڈالی جاتی ہے۔ اس اختلاف کا اثر دو کلمات ’’الذین‘‘ اور ’’الضالین‘‘ کے ضبط میں ظاہر ہوگا۔

یاء کے ماقبل مکسور حرف کی حرکت (کسرہ) کی شکل کا اختلاف (-ِ،-ٖ) مؤخر الذکر شکل یعنی کھڑی زیر کی صورت میں لکھنے کا رواج صرف ترکی اور ایران کے مصاحف میں ہے۔ اس اختلاف کا اثر بھی دوکلامت ’’الذین‘‘اور ’’الضالین‘‘کے ضبط میں ظاہر ہوگا۔

        کلمہ ’’لا‘‘ میں افریقی ملکوں میں پہلا سرا الف اور دوسرا سرا ’’لام‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ مصر اور مشرقی ملکوں میں اس کے برعکس سمجھا جاتا ہے۔ اس اختلافِ ضبط کا اثر کلمہ ’’ولا‘‘ کے ضبط میں ظاہ ہوگا۔

        اس طرح اس آیت میں اختلاف ِضبط کی مندرجہ ذیل صورتیں سامنے آتی ہیں:

ہمارے ہاں بلکہ تمام مشرقی ممالک میں آیات قرآنی کی کوفی گنتی رائج ہے۔ تاہم صرف برصغیر میں غیر کوفی آیت کے آخر پر ’’۵‘‘ کی علامت ڈالی جاتی ہے او پر کوئی نمبر نہیں ڈالا جاتا۔ آیت زیر مطالعہ میں پہلے ’’علیھم‘‘ پر ایک غیر کوفی آیت ختم ہوتی ہے یعنی مدنی اول، مدنی آخر، بصری، اور شامی طریق شمار کے مطابق یہاں آیت ختم ہوتی ہے۔ اس لئے ہم نے بھی یہاں یہ نشان ’’۵‘‘ ڈالا ہے۔

        سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے آخر پر ’’آمین‘‘ کہنا سنت سے ثابت ہے تاہم یہ لفظ قرآن کا حصہ نہیں ہے۔ اس لئے اسے لکھا نہیں جاتا اور لکھنا درست بھی نہیں۔ اس لئے کہ مصاحف عثمانیہ میں یہ نہیں لکھا گیا تھا۔ ’’آمین‘‘ کے معنی، اس کے تلفظ کی دوسری صورتوں اور اس کے متعلق فقہی احکام کے لئے کسی مستند تفسیر کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔