قرآن کریم کے ایک ایک لفظ کی لغوی، صرفی، نحوی اور اعرابی تفسیر
افادات :  پروفیسر حافظ احمد یار 
(یونی کوڈ فارمیٹ)

پہلا پارہ نصف اول

الۗمّۗ     Ǻ۝
[ الٓـمٓ : الف لام میم ] ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ     ٻ فِيْهِ   ڔ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ    Ą۝
[ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ : یہ کتاب ] [ لَا رَیْبَ فِیْہِ : کوئی شک نہیں ہے اس میں] [ ھُدًی : ہدایت ہے ] [ لِّلْمُتَّقِیْنَ : تقویٰ کرنے کے والوں کے لیے]

 

 

ر ی ب

 رَابَ یَرِیْبُ (ض) رَیْـبًا : کسی کا کسی کو شک میں ڈالنا۔

 رَیْبٌ : شک۔ شبہ (یہ مصدر ہے لیکن بطور اسم ذات بھی استعمال ہوتا ہے)

 رِیْـبَۃٌ : شک ‘ شبہ ۔ {لَا یَزَالُ بُنْیَانُھُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْـبَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ} (التوبۃ:110) ’’ ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انہوں نے بنائی تھی شبہ ان کے دلوں میں۔‘‘

 اَرَابَ یُرِیْبُ (افعال) اِرَابَۃً : کسی کا کسی کو شک میں ڈالنا۔

 مُرِیْبٌ (اسم الفاعل) : شک میں ڈالنے والا۔ {مَنَّاعٌ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبٍ} (قٓ:25) ’’ بھلائی سے روکنے والا حد سے بڑھنے والا شبہ ڈالنے والا ۔‘‘

 اِرْتَابَ یَرْتَابُ (افتعال) اِرْتِیَابًا : شک کرنا‘ شبہ میں پڑنا۔ {وَلٰـکِنَّـکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ} (الحدید:14) ’’ لیکن تم لوگوں نے خود کو فتنہ میں مبتلا کیا‘ گومگوں میں رہے اور شبہ میں پڑے۔‘‘

 مُرْتَابٌ(اسم الفاعل) : شک کرنے والا۔ {کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ} (المؤمن:34) ’’ اس طرح اللہ گمراہ کرتا ہے اس کو جو ہے اسراف کرنے والا شک کرنے والا ۔‘‘

و ق ی

 وَقٰی یَقِیْ(ض) وِقَایَۃً : کسی کو تکلیف یا نقصان سے بچانا۔ {وَوَقٰھُمْ رَبُّھُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ} (الطور:18) ’’ اور ان کو بچایا ان کے رب نے دوزخ کے عذاب سے۔‘‘

 تَقِ (یہ واحد مذکر مخاطب میں مضارع تقیتھا) : مجزوم ہونے کی وجہ سے ’’ ی‘‘ گر گئی۔ {وَمَنْ تَقِ السَّیِّئَاتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہٗ} (المؤمن:9) ’’ اور جس کو تو نے بچایا برائیوں سے اس دن تو یقینا تو نے رحمت کی اس پر ۔‘‘

 قِ (فعل امر) : تو بچا۔ {وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} (البقرۃ:201) ’’ اور تو بچا ہم کو آگ کے عذاب سے۔‘‘

 وَاقٍ (اسم الفاعل) : بچانے والا۔ {وَمَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ} (الرعد:34) ’’ اور نہیں ہے ان کے لیے اللہ سے کوئی بھی بچانے والا۔‘‘

 اِتَّقٰی یَتَّقِیْ (افتعال) اِتِّقَائً : نقصان یا تکلیف سے بچنا۔ اصطلاحاً ہر اس چیز سے بچنا جو اللہ کی ناراضگی کا باعث ہو۔ {وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٍ لِّمَنِ اتَّقٰی} (النسائ:77) ’’ اور آخرت بہتر ہے اس کے لیے جو اللہ کی ناراضگی سے بچا۔‘‘

 یَتَّقِ (مضارع مجزوم ہے شرط ہونے کی وجہ سے) : {وَمَنْ یَّـتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّـہٗ مَخْرَجًا} (التغابن:2) ’’ اور جو بچتا ہے اللہ کی ناراضگی سے تو وہ یعنی اللہ پیدا کرتا ہے اس کے لیے نکلنے کی ایک جگہ یعنی راستہ۔‘‘

 اِتَّقِ (فعل امر) : تو بچ۔ {وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ} (البقرۃ:206) ’’ اور جب کہا جائے اس سے کہ تو بچ اللہ کی ناراضگی سے۔‘‘

 مُتَّقُوْنَ (اسم الفاعل جمع کا صیغہ) : بچنے والے۔ {وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ} (البقرۃ:177) ’’ اور وہ لوگ ہی بچنے والے ہیں اللہ کی ناراضگی سے۔‘‘

 اَتْقٰی (افعل التفضیل) : {وَسَیُجَنَّـبُھَا الْاَتْقٰی} (الضحیٰ:17) ’’ اور دور کیا جائے گا اس سے یعنی آگ سے زیادہ پرہیزگار کو۔‘‘

 اَلتَّقْوٰی (مصدر) : اللہ کی ناراضگی سے بچنا‘ پرہیزگار ہونا۔ {وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی} (المائدۃ:2) ’’ اور باہم تعاون کرو نیکی پر اور پرہیزگار ہونے پر۔‘‘

 تُقَاۃٌ (اسم ذات) : پرہیزگاری ۔{اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ} (آل عمران:102) ’’ تم لوگ اللہ کی ناراضگی سے بچو جیسا کہ حق ہے اس کی ناراضگی سے بچنے کا۔‘‘

 تَقِیٌّ : باب افتعال میں فا کلمہ کی جگہ ’’ و‘‘ کو ’’ ت‘‘ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس لیے فَعِیْلٌ کے وزن پر وقی کے بجائے تَقِیٌاسم الفاعل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ {تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ کَانَ تَقِیًّا} (مریم:63) ’’ یہ وہ جنگ ہے جس کا ہم وارث بنائیں گے اپنے بندوں میں سے اس کو جو تھا تقویٰ پر دوام کرنے والا ۔‘‘

 لَارَیْبَ : سورۃ الفاتحہ میں آپ لفظ ’’ اَلْحَمْدُ‘‘ میں لام جنس پڑھ چکے ہیں‘ جو مذکورہ چیز کی تمام جنس اور ہر شکل و صورت کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ اب نوٹ کریں کہ رَیْبَ کے ساتھ جو لَا ہے یہ لائے نفی جنس ہے‘ جو مذکورہ چیز کی تمام جنس اور ہر شکل و صورت کی نفی کرتا ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ یہ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے اور اس کی تنوین کو ختم کرتا ہے ۔ اس لیے لَارَیْبَ میں ہر قسم کے شک کی نفی شامل ہے۔

 ھُدًی : یہ مصدر دراصل ھُدَیٌ تھا جو قاعدے کے مطابق ھُدًی بنا۔ یہ مبنی کی طرح استعمال ہوتا ہے یعنی تینوں اعرابی حالت میں ھُدًی ہی رہتا ہے۔ اس پر لام تعریف داخل ہو تو تینوں اعرابی حالت میں اَلْھُدٰی استعمال ہوتا ہے۔

ترکیب: آیت 2 کی ایک سے زیادہ ترکیبیں ممکن ہیں اور کئی بھی ہیں۔ اس کی ایک سادہ اور عام فہم ترکیب یہ ہے کہ ’’ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ‘‘ مرکب اشاری اور مبتدأ ہے۔ ’’ ھُدًی‘‘ اس کی خبر ہے ۔ ’’ لِلْمُتَّقِیْنَ‘‘ متعلق خبر ہے۔ ’’ لَارَیْبَ فِیْہِ‘‘ خبر ثانی ہے‘ جسے خبر اوّل سے پہلے لانے کی وجہ سے لائے نفی جنس میں مزید تاکید پیدا ہو گئی ہے۔

نوٹ (1) : ذٰلِکَاشارہ بعید ہے۔ اس لحاظ سے ذٰلِکَ الْکِتٰبُ کا ترجمہ ’’ وہ کتاب ‘‘ ہونا چاہیے۔ لیکن عام طور پر اس کا ترجمہ ’’ یہ کتاب‘‘ کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سمجھ لیں ایک فاصلہ Horizental ہوتاہے جس سے عام طور پر کسی کے دوریا نزدیک ہونے کا تصور کرتے ہیں لیکن ایک Vertical کا فاصلہ بھی ہوتا ہے جس میں کسی کے مقام و رتبہ کی بلندی کا تصور ہوتا ہے۔ اب نوٹ کرلیں کہ عربی میں مقام و مرتبہ کی بلندی کے اظہار کے لیے بھی اشارہ بعید استعمال ہوتا ہے جبکہ اردو میں یہ اسلوب نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے موقع پر اردو میں ترجمہ اشارہ قریب سے کرنا پڑتا ہے۔

 رتبہ کی بلندی ظاہر کرنے کے لیے اشارہ بعید کے استعمال کی قرآن مجید میں ذٰلِکَ الْکِتٰبُکے علاوہ اور بھی متعدد مثالیں ہیں جیسے {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا} ‘ (البقرۃ:187) {تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْھَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ} (البقرۃ:187) ‘ {وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ} (العنکبوت:43) لیکن سورئہ یوسف کی آیات 31۔32 میں اس کا فوری تقابل سامنے آتا ہے۔ حضرت یوسف (رح) کے متعلق عزیز مصر کی بیوی کے رویہ کی جب شہرت ہوئی اور شہر کی خواتین نے اس پر ملامت کی ‘ تو اس نے خواتین کو بلایا اور یوسف (رح) کو ان کے سامنے کیا۔ ان کی شکل و صورت کی خوبی کی تعریف میں انہوں نے کہا یہ کوئی بشر نہیں ہے۔ لیکن چونکہ وہ یوسف ( علیہ السلام) کے کردار کی بلندی سے واقف نہ تھیں‘ اس لیے ان کے قول میں اشارہ قریب استعمال ہوا ہے : {مَا ھٰذَا بَشَرًا}۔ عزیز مصر کی بیوی نے جواب میں کہا کہ یہ ہے جس کے متعلق تم مجھے ملامت کرتی ہو۔ چونکہ اسے یوسف ( علیہ السلام) کی عظمت کا تجربہ تھا‘ اس لیے اس کے قول میں اشارہ بعید آیا ہے : {فَذٰلِکُنَّ الَّذِیْ لُمْتَنَّنِیْ فِیْہِ}۔

نوٹ (2) : قرآن کو {ھُدًی لِّلنَّاسِ} (البقرۃ:185) کہا گیا ہے یعنی قرآن تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے ۔ لیکن یہاں اسے {ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ} کہا گیا ہے۔ یعنی قرآن صرف متقی لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ اس وجہ سے کچھ لوگوں کے ذہن میں الجھن پیدا ہوتی ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ قرآن میں بالقوہ (potentially) ہدایت موجود ہے جو ہر شخص کے لیے ہے۔ لیکن اس سے ہدایت صرف وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جن کے دل میں اللہ کی ناراضگی سے بچنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ یہ بات ایسے ہی ہے جیسے پنجاب یونیورسٹی کے دروازے ہر شخص کے لیے کھلے ہوئے ہیں لیکن اس میں داخلہ کے لیے بی اے ہونا ضروری ہے۔ پھر داخلہ ملنے کے بعد بھی ہاں سے علم صرف وہ حاصل ہوتا ہے جو فیس ادا کرے اور نظم کی پابندی کرے‘ ورنہ داخلہ ملنے کے بعد بھی محروم رہتا ہے۔ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ    Ǽ۝ۙ
[ الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [ یُؤْمِنُوْنَ : ایمان لاتے ہیں ] [ بِالْغَیْبِ : غیب پر ] [ وَیُـقِیْمُوْنَ : اور جو لوگ قائم رکھتے ہیں ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کو ] [ وَمِمَّا : اور اس میں سے جو ] [ رَزَقْنٰــھُمْ : ہم نے عطا کیا ان کو] [ یُنْفِقُوْنَ : وہ لوگ انفاق کرتے ہیں]

 

 

ء م ن

 اَمِنَ یَاْمَنُ (س) اَمْنًا ۔ اَمَنًا : (1) مطمئن ہونا۔ امن میں ہونا۔ {فَاِذَا اَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ} (البقرۃ:96) ’’ پس جب تم لوگ اطمینان سے ہو تو جس نے فائدہ اٹھایا عمرہ کا حج تک تو (اس پر واجب ہے) جو میسر ہو قربانی کے جانور میں سے۔‘‘ (2) کسی معاملہ میں کسی پر بھروسہ کرنا۔ {وَمِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ مَنْ اِنْ تَأْمَنْہُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّہٖ اِلَیْکَ} (آل عمران:57) ’’ اور اہل کتاب میں وہ بھی ہے کہ اگر تو بھروسہ کرے اس پر ڈھیروں (چیز یا امانت) کے بارے میں تو وہ ادا کرے گا اس کو تیری طرف۔‘‘ (3) کسی کی بات کا اعتبار کرنا۔ {قَالَ ھَلْ اٰمَنُکُمْ عَلَیْہِ اِلاَّ کَمَا اَمِنْتُکُمْ عَلٰی اَخِیْہِ مِنْ قَبْلُ} (یوسف:64) ’’ اس نے یعنی یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کیا میں اعتبار کروں تم لوگوں کا اس کے بارے میں سوائے اس کے کہ جیسے میں نے اعتبار کیا تم لوگوں کا اس کے بھائی کے بارے میں اس سے پہلے۔‘‘

 اٰمِنٌ (اسم الفاعل) : امن میں ہونے والا۔ {وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا} (البقرۃ:126) ’’ جب کہا ابراہیم علیہ السلام نے اے میرے رب تو بنا دے اس کو امن میں ہونے والا شہر۔‘‘

 مَأْمَنٌ(اسم الظرف) : امن کی جگہ {ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَأْمَنَہٗ} (التوبۃ:6) ’’ پھر تم پہنچا دو اس کو‘ اس کے امن کی جگہ۔‘‘

 اَمُنَ یَاْمُنُ (ک) اَمَانَۃً : امانت دار ہونا۔

 اَمَانَۃٌ ج اَمَانَاتٌ: امانت۔ {اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ} (الاحزاب:72) ’’ بے شک ہم نے پیش کیا اس امانت کو آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر ۔‘‘ {وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَ ۔ } (المؤمنون) ’’ اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی رعایت کرنے والے ہیں۔‘‘

 اَمِیْنٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : امانت دار۔ {اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ ۔ } (الشعرائ) ’’ بے شک میں تم لوگوں کے لیے امانت دار رسول ہوں۔‘‘

 اٰمَنَ یُوْمِنُ (افعال) اِیْمَانًا : امن دینا۔ کسی کی بات کی تصدیق کرنا۔ ایمان لانا (تصدیق کرنے سے اختلاف ختم ہوجاتا ہے اور امن ہو جاتا ہے) ۔ {مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ} (البقرۃ:62) ’’ جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت پر۔‘‘

 اِیْمَانٌ (اسم ذات) : ایمان‘ قلبی تصدیق۔ {اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِ} (التوبۃ:23) ’’ اگر وہ لوگ پسند کریں کفر کو ایمان پر۔‘‘

 اٰمِنٌ ج اٰمِنُوْا (فعل امر) : تو ایمان لا۔ {وَیْلَکَ اٰمِنْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ} (الاحقاف:17) ’’ تیرے لیے تباہی ہے تو ایمان لا‘ یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے‘‘۔ {وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَا اٰمَنَ النَّاسُ} (البقرۃ:13) ’’ اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ تم لوگ ایمان لائو جیسے لوگ ایمان لائے۔‘‘

 مُؤْمِنٌ (اسم الفاعل) : امن دینے والا‘ ایمان لانے والا۔ {لَا اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ} (الحشر:23) ’’ کوئی الٰہ نہیں سوائے اس کے جو بادشاہ ہے‘ پاک ہے‘ سلامتی ہے‘ امن دینے والا ہے۔‘‘{ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَّمِنْکُمْ مُّؤْمِنٌ} (التغابن:2) ’’ وہ ہے جس نے تم لوگوں کو پیدا کیا تو تم میں سے کوئی کفر کرنے والا ہے اور تم میں سے کوئی ایمان لانے والاہے۔‘‘

غ ب ی

 غَبَا یَغْبِیْ (ض) غَیْبًا : پوشیدہ ہونا‘ دور ہونا۔

 غَیْبٌج غُیُوْبٌ(اسم ذات) : حو اس سے پوشیدہ چیز یا بات۔ {اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ} (المائدۃ:116) ’’۔‘‘

 غَائِبٌ (اسم الفاعل) : غائب ہونے والا ۔ {وَمَا مِنْ غَائِبَۃٍ فِی السَّمَائِ وَالْاَرْضِ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ} (النمل:75) ’’ اور نہیں ہے کوئی بھی غائب ہونے والی چیز آسمانوں میں اور زمین میں مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہے۔‘‘

 غَیَابَۃٌ (اسم ذات) : پستی‘ گہرائی۔ {قَالَ قَائِلٌ مِّنْھُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَاَلْقُوْہُ فِیْ غَیٰـبَتِ الْجُبِّ} (یوسف:10) ’’ کہا ان میں سے ایک کہنے والے نے قتل مت کرو یوسف کو اور اس کو ڈال دو کنویں کی گہرائی میں۔‘‘

 اِغْتَبٰی یَغْتِبْی (افتعال) اِغْتِیَابًا : پوشیدگی میں یعنی پیٹھ پیچھے کسی کا عیب بیان کرنا‘ بیان کرنا۔

 لَا یَغْتَبْ (فعل نہی) : {وَلَا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضًاط} (الحجرات:12) ’’ تم میں سے کوئی غیبت نہ کرے کسی کی ۔‘‘

ص ل و

 صَلٰی یَصْلُوْا (ن) صَلْوًا : پیٹھ کے درمیان میں مارنا‘ نرم ہونا (ثلاثی مجرد سے قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا) ۔

 صَلّٰی یُصَلِّیْ(تفعیل) صَلَاۃً : ( اس کا مصدر خلاف قاعدہ صَلَاۃً استعمال ہوتا ہے) ۔ دعا دینا‘ نشوونما دینا‘ نماز پڑھنا۔ (نماز کی اصل دعا ہی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی نماز نشوونما دینے کے معنی میں ہے) ۔ {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ} (الاحزاب:33) ’’ بے شک اللہ نشوونما دیتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں ان نبی ﷺ کے لیے۔‘‘

 صَلَاۃً (اسم ذات) : (قرآنی املا صَلٰوۃٌ ج صَلَوَاتٌ) نماز‘ شفقت و رحمت۔ {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی} (البقرۃ:238) ’’ تم لوگ حفاظت کرو نمازوں کی اور درمیانی نماز کی ۔‘‘ {اُولٰٓـئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَرَحْمَۃٌ} (البقرۃ:157) ’’ یہ لوگ ہیں جن پر شفیق ہیں ان کے رب کی جانب سے اور رحمت ہے۔‘‘

 صَلِّ ج صَلُّوْا (فعل امر) : تو دعا کر۔ نماز پڑھ۔ {فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ۔ } (الکوثر) ’’ پس آپ نماز پڑھیں اپنے رب کے لیے اور قربانی دیں۔‘‘{یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ} (الاحزاب:56) ’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم لوگ دعا کرو انؑ کے لیے یعنی درود بھیجو۔‘‘

 مُصَلِّیْنَ (اسم الفاعل جمع کا صیغہ‘ واحد مُصِلٍّ) : نماز پڑھنے والا۔ {قَالُوْا لَمُ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ} (المزمل:43) ’’ ان لوگوں نے کہا ہم نہیں تھے نماز ادا کرنے والوں میں سے۔‘‘

 مُصَلّٰی (اسم المفعول ‘ جو بطور اسم الظرف استعمال ہوتا ہے) : نماز کی جگہ۔ {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھِیْمَ مُصَلّٰی} (البقرۃ:125) ’’ اور تم لوگ بنا لو ابراہیم علیہ السلام کے کھڑے ہونے کی جگہ میں سے نماز اداکرنے کی جگہ۔‘‘

ر ز ق

 رَزَقَ یَرْزُقُ (ن) رَزْقًا : معاوضہ دیے بغیر کوئی چیز دینا پھر دیتے رہنا‘ عطیہ جاریہ دینا‘ عطا کرنا۔ {اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ} (الروم:40) ’’ اللہ ہے جس نے تم لوگوں کو پیدا کیا پھر اس نے تم لوگوں کو عطا کیا یعنی صلاحیتیں اور اشیاء پھر وہ تم لوگوں کو موت دے گا پھر وہ تم لوگوں کو زندہ کرے گا۔‘‘

 رِزْقٌ (اسم ذات) : وہ چیز جو عطیہ جاریہ کے طور پر دی جائے۔ جو چیز ایک مرتبہ دی جائے اسے رَزْقَـۃٌ کہتے ہیں۔ {یٰـقَوْمِ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَـیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَرَزَقَنِیْ مِنْہُ رِزْقًا حَسَنًا} (ھود:88) ’’ اے میری قوم کیا تم نے غور کیا اگر میں ہوں ایک واضح دلیل پر اپنے رب کی جانب سے اور اس نے مجھے عطا کیا اپنے پاس سے ایک بہترین عطیہ جاریہ۔‘‘ اس آیت میں سے رِزْقًا حَسَنًاسے مراد علم وحی ہے۔

 اُرْزُقْ (فعل امر) : تو عطا کر۔ {وَارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّھُمْ یَشْکُرُوْنَ} (ابراھیم:37) ’’ اور تو انہیں عطا کر پھلوں میں سے شاید کہ وہ لوگ شکر ادا کریں۔‘‘

 رَازِقٌ (اسم الفاعل) : عطا کرنے والا۔ {وَاِنَّ اللّٰہَ لَھُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ} (الحج:37) ’’ اور یقینا اللہ ہی سب سے بہتر عطا کرنے والا ہے۔‘‘

 رَزَّاقٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر اسم مبالغہ) :{اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الرَّزَّاقُ} (الذریت:58) ’’ یقینا اللہ ہی بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ۔‘‘

ن ف ق

 نَفَقَ یَنْفُقُ ۔ نَفِقَ یَنْفَقُ (ن۔ س) نَفْقًا : خرچ ہو جانا‘ ختم ہوجانا‘ دومنہ والا ہونا۔ (قرآن مجید میں ثلاثی مجرد سے سے فعل استعمال نہیں ہوا) ۔

 نَفَقَۃٌ ج نَفَقَاتٌ (اسم ذات) : خرچہ‘ خرچ ہونے والی چیز ۔ {وَمَا اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَفَقَۃٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَذْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُہٗ} (البقرۃ:270) ’’ اور جو تم لوگ خرچ کروکسی خرچہ میں سے یا منت مانو کسی منت میں سے تو یقین اللہ اس کو جانتا ہے۔‘‘

 نفق : سرنگ۔ {فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ} (الانعام:35) ’’ تو اگر آپؐ میں استطاعت ہے کہ آپ تلاش کرلیں کوئی سرنگ زمین میں ۔‘‘

 اَنْفَق یُنْفِقُ (افعال) اِنْفَاقًا : خرچ کرنا۔ {لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ} (الحدید:10) ’’ برابر نہیں ہے تم میں سے وہ جس نے خرچ کیا الفتح سے پہلے یعنی فتح مکہ سے پہلے اور قتال کیا۔‘‘

 اَنْفِقْ ج اَنْفِقُوْا (فعل امر) : تو خرچ کر۔ {اَنْفِقُوْا مِّنْ مَّا رَزَقْنٰـکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ} (المنفقون:10) ’’ اور تم لوگ خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تم کو عطا کیا اس سے پہلے کہ آئے تم میں سے کسی ایک کو موت۔‘‘

 مُنْفِقٌ (اسم الفاعل) : خرچ کرنے والا۔ {وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ} (آل عمران:17) ’’ اور خرچ کرنے والے اور مغفرت مانگنے والے راتوں کے پچھلے پہر میں۔‘‘

 نَافَقَ یُنَافِقُ (مفاعلہ) مُنَافَقَۃٌ وَنِفَاقٌ : دو رُخا ہونا‘ دوغلا ہونا۔ {اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِھِمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} (الحشر:11) ’’ کیا آپؐ نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دورخے ہوئے ‘ وہ لوگ کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے جنہوں نے کفر کیا۔‘‘

 مُنَافِقٌ (اسم الفاعل) : دو رخا ہونے والا۔ {یَحْذَرُ الْمُنٰـفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْھِمْ سُوْرَۃٌ تُنَبِّئُھُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ} (التوبۃ:64) ’’ ڈرتے ہیں دو رخا پن اختیار کرنے والے کہ نازل کر دی جائے ان کے بارے میں کوئی سورت جو جتلا دے ان کو وہ‘ جو ان کے دلوں میں ہے۔‘‘

 صَلٰوۃٌ : اصل لفظ ’’ صَلَوَۃٌ‘‘ ہے جو قاعدہ کے مطابق تبدیل ہو کر صَلَاۃٌ بنتا ہے اور عربی میں یہ آج تک اسی طرح لکھا جاتا ہے۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص املا ہے جہاں یہ لفظ صَلٰوۃٌ لکھا جاتا ہے۔ البتہ قرآن مجید میں بھی جب یہ مضاف بن کر آتا ہے تو اس کی واو گر جاتی ہے اور الف کے ساتھ ہی لکھا جاتا ہے جیسے صَلَاتُھُمْ۔ یہ نوٹ کرلیں کہ اصطلاحاً صَلٰوۃ اس مخصوص عبادت کا نام ہے جو حضور ﷺ کی تعلیمات اور ہدایات کے مطابق ادا کی جاتی ہے۔ شاید اسی لیے قرآن مجید میں اس کا املا بھی مخصوص رکھا گیا ہے۔ واللہ اعلم!

ترکیب : اس آیت میں تین جملے ہیں: (1) الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ (1) وَ(الَّذِیْنَ) یُـقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ (3) وَ(الَّذِیْنَ) یُنْفِقُوْنَ مِمَّا رَزَقْنٰــھُمْ ۔ تیسرے جملے میں مِمَّا رَزَقْنٰــھُمْکو اصل فعل یُنْفِقُوْنَ سے پہلے اس حقیقت میں تاکید اور زور پیدا کیا گیا ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔ یہ تینوں جملے گزشتہ آیت اَلْمُتَّقِیْنَکے لفظ کا بدل ہیں۔

نوٹ (1) : سب سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ ڈکشنری المنجد کے مطابق مادہ ء م ن اگر باب سَمِعَ سے آئے تو معنی ہوتے ہیں مطمئن ہونا۔ اور اگر باب ضَرَبَ سے آئے تو معنی ہوتے ہیں بھروسہ کرنا‘ اعتبار کرنا۔ لیکن قرآن مجید میں یہ مادہ تینوں معانی میں باب سَمِعَ سے آیا ہے جیسا کہ معانی کی وضاحت میں دی گئی آیات 3/175 اور 12/64 سے ظاہر ہے۔ اس لیے ہم نے تینوں معانی باب سَمِعَ کے تحت دیے ہیں۔

نوٹ (2) : ہمارے جدید تعلیم یافتہ افراد میں سے اکثر کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے‘ البتہ اس کا اظہار کم لوگ کرتے ہیں‘ کہ ان دیکھی چیزوں پر ایمان لانا غیر سائنٹفک حرکت ہے اور ایمان بالغیب کا مطالبہ غیر فطری ہے۔ بظاہر ان کی اس بات میں وزن بھی نظر آتا ہے لیکن جب ہم اپنے روز مرہ کے معمولات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایمان بالغیب انسان کی فطرت میں ودیعت شدہ (inbuilt) ہے اور اس کے بغیر ہم اپنی زندگی کا ایک دن بھی نہیں گزار سکتے۔

 اس بات کو چند مثالوں کی مدد سے سمجھ لیں۔ لاہور میں ہمیں فون پر اطلاع ملتی ہے کہ پشاور میں فلاں عزیز کی شادی طے ہو گئی ہے۔ ملتان میں فلاں عزیز بیمار ہیں۔ سکھر میں فلاں صاحب حادثہ میں زخمی ہو گئے۔ کراچی میں فلاں کا انتقال ہو گیا ہے۔ اب غور کریں کہ ان میں سے کوئی بھی واقعہ ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں ہوا ہے۔ ان تمام ان دیکھے واقعات پر ان کی خبر کی بنیاد پر ہم ایمان لاتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ نیویارک کاٹن کے سودے ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں ہوتے۔ صرف ان کے متعلق خبر کی بنیاد پر پاکستان میں لاکھوں اور کروڑوں روپے کے سودے ہو جاتے ہیں۔

 اس طرز پراپنے روزانہ کے کام کا تجزیہ کر کے دیکھیں کہ آپ کتنے کام آنکھوں دیکھے واقعات کی بنیاد پر کرتے ہیں ‘ اور کتنے کام ان دیکھے واقعات کی خبر کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ پھر ان شاء اللہ آپ تسلیم کرلیں گے کہ ایمان بالغیب کے بغیر ہم زندگی کا ایک دن بھی نہیں گزار سکتے۔ ہم بس اتنی احتیاط کرسکتے ہیں کہ یہ دیکھ لیں کہ خبر دینے والا کتنا معتبر ہے۔ اسی لیے PTV اور BBC کی خبر میں ہم فرق کرتے ہیں اور BBC کی خبر پر ایمان لانے میں دیر نہیں کرتے۔

 اب آپ انصاف سے فیصلہ کریں کہ بی بی سی ‘ نیوز ویک‘ واشنگٹن پوسٹ‘ وغیرہ وغیرہ وغیرہ کی خبروں پر ایمان لانے کو نہ تو ہم غیر سائنٹفک سمجھتے ہیں اور نہ ہی غیر فطری کہتے ہیں۔ لیکن اس ہستی کو دی ہوئی خبروں پر ایمان لانے کو ہم غیر فطری کہتے ہیں جس کے بدترین دشمن بھی اسے جھوٹا نہ کہہ سکے اور زندگی کی آخری سانس تک اسے صادق اور امین ہی تسلیم کرتے رہے۔ اس کے بعد نرم ترین الفاظ میں بس اتنا کہا جا سکتا ہے کہ بعض اوقات بہت زیادہ پڑھے لکھے لوگ بھی کچھ باتیں سوچے سمجھے بغیر اور علم کے بغیر کہہ جاتے ہیں۔ آخر وہ بھی بندہ بشر ہیں۔

نوٹ (3): قرآن مجید میں صَلٰوۃًکے ساتھ اکثر و بیشتر اقامہ کا لفظ آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کی تعلیم کردہ نماز کو اس کے ظاہری نظام اور باطنی روح کے ساتھ ادا کرنے کی تاکید ہے۔ جبکہ آیت {فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰی ۔ } (القیامۃ)’’ نہ اس نے تصدیق کی اور نہ اس نے نماز پڑھی‘‘ میں فَلَاصَلّٰی سے مراد ہے کہ اس نے رسمی نماز بھی نہیں پڑھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسمی نماز پڑھنا بھی فائدہ سے خالی نہیں ہے۔ ایک روایت میں ہے اِنَّ الْمُصَلِّیْنَ کَثِیْرٌ وَالْمُقِیْمِیْنَ لَھَا قَلِیْلٌ’’ نماز پڑھنے والے بہت ہیں جبکہ اس کو قائم کرنے والے کم ہیں۔‘‘ وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ    ۚ   وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ   Ć۝ۭ
[ وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جو ] [ یُؤْمِنُوْنَ : ایمان لاتے ہیں ] [ بِمَا : اس پر جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ اِلَـیْکَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ وَمَا : اور جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ مِنْ قَبْلِکَ: آپ ﷺ سے پہلے ] [ وَبِالْاٰخِرَۃِ : اور آخری پر] [ ھُمْ : وہ لوگ ] [ یُوْقِنُوْنَ : یقین رکھتے ہیں]

 

 

ن ز ل

 نَزَلَ یَنْزُلُ (ن) نُزُوْلاً : اُترنا۔ {وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ} (الحدید:16) ’’ اور جو اُترا حق میں سے‘‘۔ {وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ} (الحدید:4) ’’ اور جو اترتا ہے آسمانوں سے۔‘‘

 مَنْزِلٌج مَنَازِلُ (اسم الظرف) : اترنے کی جگہ‘ ٹھہرنے کی جگہ۔ {ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَائً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ} (یونس:5) ’’ وہ ہے جس نے بنایا سورج کو روشن اور چاند کو نور اور اس کے لیے طے کر دیں منزلیں۔‘‘

 نُزُلٌ (اسم ذات) : وہ چیز جو مہمان کے سواری سے اترتے ہی یعنی آتے ہی اصل دعوت سے پہلے پیش کی جائے۔ ابتدائی مہمان نوازی۔ {اِنَّا اَعْتَدْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرین نُزُلًا} (الکہف:102) ’’ یقینا ہم نے تیار کیا ہے جہنم کو کافروں کے لیے ابتدائی مہمان نوازی کے طور پر۔‘‘

 اَنْزَلَ یُنْزِلُ (افعال) اَنْزَالًا : اتارنا۔ {اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ الْکِتٰبِ} (البقرۃ:172) ’’ بے شک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کو جو اتارا اللہ نے الکتاب میں سے۔‘‘

 مُنْزِلٌ(اسم الفاعل): اتارنے والا۔ {اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْ اُوفِی الْکَیْلَ وَاَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ} (یوسف:59) ’’ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں کہ میں پورا ناپتا ہوں پیمانے کو اور میں سب سے بہتر ہوں اتارنے والوں میں یعنی بہترین مہمان نواز ہوں۔‘‘

 مُنْزَلٌ (اسم المفعول) : اتارا ہوا۔{اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبُّـکُمْ بِثَلٰثَۃِ اٰلَافٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُنْزِلِیْنَ ۔ } (آل عمران) ’’ کہ تم لوگوں کی مدد کرے تمہارا رب تین ہزار فرشتوں سے جو اتارے گئے۔‘‘

 تَنَزَّلَ یَتَنَزَّلُ (تفعیل) تَنْزِیْلًا : کسی چیز کو بتدریج اتارنا۔ {ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ نَزَّلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ} (البقرۃ:176) ’’ یہ اس لیے کہ اللہ نے بتدریج اتارا الکتاب کو حق کے ساتھ۔‘‘ {وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ھُوَ شِفَآئٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ} (بنی اسرائیل :82) ’’ اور ہم بتدریج اتارتے ہیں قرآن میں سے جو شفاء ہے اور رحمت ہے مؤمنوں کے لیے۔‘‘

 مُنَزِّلٌ (اسم الفاعل) : بتدریج اتارنے والا۔ {قَالَ اللّٰہُ اِنِّیْ مُنَزِّلُھَا عَلَیْکُمْ} (المائدۃ:115) ’’ کہا اللہ نے کہ میں بتدریج اتارنے والا ہوں اس کو تم لوگوں پر۔‘‘

 مُنَزَّلٌ (اسم المفعول) : بتدریج اتارا ہوا۔ {وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّـہٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ} (الانعام:114) ’’ اور جن لوگوں کو ہم نے دی الکتاب‘ وہ لوگ جانتے ہیں کہ وہ یعنی قرآن بتدریج اتارا ہوا ہے آپ ﷺ کے رب کی جانب سے حق کے ساتھ‘‘۔

 تَنَزَّلَ یَتَنَزَّلُ (تفعل) تَنَزُّلًا : ٹھہر ٹھہر کر اترنا‘ اترتے رہنا۔ {اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ} (حٰمٓ السجدۃ:30) ’’ بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ لوگ ڈٹے رہے یعنی اپنے قول پر‘ تو اترتے ہیں ان لوگوں پر فرشتے۔‘‘

ء خ ر

 x x : ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوتا۔

 اَخَّرَ یُـاَخِّرُ (تفعیل) تَاْخِیْرًا : پیچھے کرنا۔ {یُنَـبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ} (القیامۃ:13) ’’ جتلا دیا جائے گا اس دن انسان کو جو اس نے آگے کیا اور جو اس نے پیچھے کمایا۔‘‘ {وَلَنْ یُّـؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا اِذَا جَآئَ اَجَلُھَا} (المنفقون:11) ’’ اور اللہ ہرگز پیچھے نہیں کرے گا یعنی ہرگز مہلت نہیں دے گا کسی نفس کو جب آ جائے گی اس کی اجل۔‘‘

 تَاَخَّرَ یَتَاَخَّرُ (تفعل) تَاَخُّرًا : پیچھے رہنا۔ {نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِ لِمَنْ شَآئَ مِنْکُمْ اَنْ یَّـتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَ} (المدثر:37) ’’ وارننگ ہے ہر شخص کے لیے جو چاہے تم میں سے کہ وہ آگے رہے یا پیچھے رہے۔‘‘

 اِسْتَئْخَرَ یَسْتَئْخِرُ (استفعال) اِسْتِئْخَارًا : پیچھے ہونا۔ {فَاِذَا جَآئَ اَجَلُھُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ} (الاعراف:34) ’’ تو جب آ جائے گی ان لوگوں کی اجل نہ تو وہ لوگ پیچھے ہوں گے ایک گھڑی اور نہ آگے ہوں گے۔‘‘

 

 آخِرٌ (فَاعِلٌکا وزن) : آخری۔ {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ } (البقرۃ) ’’ اور لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخری دن پر حالانکہ وہ لوگ مومن نہیں ہیں۔‘‘

 آخَرُ (اَفْعَلُکا وزن) : دوسرا۔ {اَلَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ} (الحجر:96) ’’ وہ لوگ جو بناتے ہیں اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ۔‘‘

ی ق ن

 (س) یَقَنًا : روشن و ثابت ہونا۔ قرآن مجید میں ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوا۔

 یَقِیْنٌ (فَعِیْلٌ کا وزن) : کسی چیز کا ثبوت کے ساتھ ہمیشہ کے لیے سمجھ میں آ جانا‘ یقین آنا۔ {وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّّیْنِ حَتّٰی اَتٰٹنَا الْیَقِیْنُ} (المدثر:47) ’’ اور ہم جھٹلایا کرتے تھے بدلے کے دن کو یہاں تک کہ آیا ہم کو یقین۔‘‘

 اَیْقَنَ یُوْقِنُ (افعال) اِیْقَانًا : یقین کرنا۔ {قَدْ بَیَّنَا الْاٰیٰتِ لَقِوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ} (البقرۃ:118) ’’ ہم واضح کر چکے ہیں نشانیوں کو ایسی قوم کے لیے جو یقین کرتے ہیں۔‘‘

 مُوْقِنٌ (اسم الفاعل) : یقین کرنے والا۔ {وَکَذٰلِکَ نُرِیْ اِبْرٰھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ ۔ } (الانعام) ’’ اور اس طرح ہم دکھاتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کو زمین اور آسمانوں کی بادشاہت اور اس لیے کہ وہ ہو جائے یقین کرنے والوں میں سے۔‘‘

 اِسْتَیْقَنَ یَسْتَیْقِنُ (استفعال) اِسْتِیْقَانًا : یقین حاصل کرنا۔ {وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَھُمْ اِلاَّ فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوتُوا الْکِتٰبَ} (المدثر:31) ’’ اور ہم نے نہیں بنایا ان کی گنتی کو مگر آزمائش ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا‘ تاکہ یقین حاصل کریں وہ لوگ جنہیں دی گئی الکتاب۔‘‘

 مُسْتَیْقِنٌ (اسم الفاعل) : یقین حاصل کرنے والا۔ {قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَۃُ اِنْ نَّظُنُّ اِلاَّ ظَنًّا وَّمَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ} (الجاثیۃ:32) ’’ تم لوگوں نے کہا ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے‘ ہم گمان نہیں کرتے مگر ایک گمان یعنی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہم یقین حاصل کرنے والے نہیں ہیں۔‘‘

ترکیب : یہ پوری آیت بھی آیت 2 کے لفظ اَلْمُتَّقِیْنَ کا بدل ہے۔ وَبِالْاٰخِرَۃِ صفت ہے۔ اس کا موصوف محذوف ہے۔ اَلْاٰخِرَۃِ مؤنث ہے اس لیے اس کا موصوف مذکر نہیں ہو سکتا لازماً مؤنث ہو گا جیسے وَبِالسَّاعَۃِ الْاٰخِرَۃِ۔

نوٹ (1): انزال اور تنزیل‘ دونوں کے معنی ہیں اتارنا۔ جبکہ ان میں فرق یہ ہے کہ انزال میں زیادہ تر کسی چیز کو ایک دفعہ اتارنے کا مفہوم ہوتا ہے۔ اور تنزیل میں کسی چیز کو رفتہ رفتہ اتارنے کے معنی ہوتے ہیں۔ نزول قرآن کے لیے انزال اور تنزیل‘ دونوں کے مختلف صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ اس کو سمجھنے میں ایک حدیث سے مدد ملتی ہے جس میں ہے کہ قرآن پاک ایک ہی دفعہ آسمان دنیا پر نازل ہوا اور پھر رفتہ رفتہ نازل ہوتا رہا۔

نوٹ (2): اس آیت میں {وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ}کے الفاظ سے واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن مجید سے پہلے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان لانا ہمارے ایمان کا لازمی جز ہے۔ لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ صحف ابراہیم کا آج دنیا میں وجود نہیں ہے۔ توراۃ‘ زبور‘ انجیل سریانی اور عبرانی زبانوں میں نازل ہوئی تھیں۔ ان زبانوں میں ان کے نسخے اب دستیاب نہیں ہیں۔ مختلف زبانوں میں ان کے ترجمے موجود ہیں‘ جن کے متعلق خود ان کتابوں کے علماء تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں کلام اللہ کے ساتھ انسانی کلام بھی شامل ہے۔ ان حالات میں آیت زیر مطالعہ کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اتنا ایمان کافی ہے کہ قرآن مجید سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل کی تھیں جن کا اب وجود نہیں ہے۔ لیکن آج کے دور میں قرآن مجید کے علاوہ کسی دوسری کتاب کو کلام اللہ تسلیم کرنا درست نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہاجا سکتا ہے کہ ان کتابوں کے کچھ اجزاء کلام اللہ کی ترجمانی پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔

نوٹ (3):{وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ}کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ ’’ آخری‘‘ پر ایمان لانا بھی ہمارے ایمان کا لازمی جز ہے۔ جیسا کہ اس آیت کی ترکیب میں واضح کیا جا سکتا ہے کہ اَلْاٰخِرَۃ چونکہ مؤنث صفت ہے اس لیے اس سے پہلے کسی مذکر لفظ کو محذوف ماننا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ صفت چاروں پہلوئوں سے موصوف کے مطابق ہوتی ہے۔ اس لیے اَلْاٰخِرَۃ سے پہلے کسی بھی مؤنث لفظ کو محذوف ماننے کی گنجائش قواعد کی رو سے نکلتی ہے۔ اس کے علاوہ قواعد ہی کی رو سے اس سے پہلے کسی غیر عاقل کی جمع مکسر کو بھی محذوف ماننے کی گنجائش ہے۔ بشرطیکہ سیاق و سباق بھی اس کی اجازت دیتے ہوں۔ اس کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزائی لوگوں نے اَلْاٰخِرَۃسے پہلے لفظ ’’ وحی‘‘ کو محذوف مانا ہے۔ اس بنیاد پر وہ استدلال کرتے ہیں کہ قرآن مجید سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں کی طرح‘ قرآن کے بعد نازل ہونے والی ’’ آخری وحی‘‘ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ اب یہ عجیب اتفاق ہے کہ اردو زبان میں وحی کا لفظ مؤنث ہے لیکن عربی میں مذکر ہے۔ مرزائی اہل علم اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں ان کی اس غلطی کو لاعلمی پر محمول کرنا ممکن نہیں ہے۔ اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ   ۤ   وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ   Ĉ۝
[ اُولٰٓـئِکَ : یہی لوگ ] [ عَلٰی ھُدًی : ہدایت پر ہیں ] [ مِّنْ رَّبِّھِمْ : اپنے رب کی جانب سے ] [ وَاُولٰٓـئِکَ : اور یہ لوگ ] [ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ: ہی مراد پانے والے ہیں ]

 

 

ف ل ح

 فَلَحَ یَفْلُحُ (ن) فَلْحًا : پھاڑنا‘ زمین میں ہل چلانا۔ ثلاثی مجرد سے فعل یا اسم قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔

 اَفْلَحَ یُفْلِحُ (افعال) فَلَاحًا : اس کا مصدر اِفْلَاحٌ کے بجائے فَلَاحٌ استعمال ہوتا ہے۔ مشکلات اور رکاوٹوں کو پھاڑ کر یعنی عبور کر کے اپنا مطلوب حاصل کر لینا۔ مراد پالینا (فعل لازم ہے) ۔ {وَاعْبُدُوْا رَبَّـکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَ لَـعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ } (الحج) ’’ تم لوگ بندگی کرو اپنے رب کی اور بھلے کام کرو شاید کہ تم لوگ مراد پائو۔‘‘

 مُفْلِحٌ (اسم الفاعل) : مراد پانے والا۔

ترکیب :’’ اُولٰٓئِکَ‘‘ کا اشارہ گزشتہ آیت 2 میں ’’ اَلْمُتَّقِیْنَ‘‘ کی طرف ہے۔ نیز اس آیت میں ’’ اُولٰٓئِکَ‘‘ مبتدأ ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ ’’ عَلٰی ھُدًی‘‘ قائم مقام خبر ہے۔ ’’ مِنْ رَّبِّھِمْ‘‘ متعلق خبر کہلائے گا۔ خبر محذوف اگر ’’ قَائِمُوْنَ‘‘ مانیں تو جملہ ہو گا ’’ اُولٰٓئِکَ قَائِمُوْنَ عَلٰی ھُدًی مِّنْْ رَّبِّھِمْ‘‘۔

نوٹ: نجات پانے اور مراد پانے کا فرق سمجھ لیں۔ نجات پانے میں مفہوم یہ ہے کہ دوزخ میں جانے سے بچ گیا۔ جس طرح 33 فیصد نمبر حاصل کرنے والا اور سو فیصد نمبر حاصل کرنے والا ‘ دونوں طالب علم فیل ہونے سے بچ جاتے ہیں اور پاس ہو جاتے ہیں جبکہ مراد پانے میں مفہوم یہ ہے کہ اپنی محنت اور توقع کے مطابق یا اس سے زیادہ نمبر لے کر پاس ہونا۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ     Č۝
[ اِنَّ : یقینا] [ الَّـذِیْنَ کَفَرُوْا : جن لوگوں نے انکار کیا] [ سَوَآئٌ عَلَیْھِمْ : برابر ہے ان پر ] [ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ : خواہ آپ خبردار کریں ان کو] [ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ: یا آپ ﷺ خبردار کریں نہ کریں ان کو ] [ لَا یُؤْمِنُوْنَ: وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے]

 

 

ک ف ر

 کفر یکفر (ن) کفرا : کسی چیز کو دبا دینا‘ چھپا دینا۔ پھر اس بنیادی مفہوم کے ساتھ دو معانی میں استعمال ہوتا ہے۔

 (1) کفورًا : ناشکری کرنا یا ناقدری کرنا اور ایمان لانے سے انکار کرنا۔ دراصل اللہ تعالیٰ کی معرفت‘

 (3) کفرانًا: اس کی وحدانیت‘ نیکی بدی کا شعور‘ جذبہ شکر وغیرہ انسان کی فطرت میں ڈال کر اسے دنیا کی امتحان گاہ میں بھیجا جاتا ہے۔ یہ چیزیں جب اس کے اندر سے اُبھر کر شعور کی سطح پرآنا چاہتی ہیں تو کچھ لوگ اسے دبا دیتے ہیں یا چھپا لیتے ہیں۔ اس کے بعد ہی وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ ناشکری کریں یا انکار کریں۔ {ومن یشکر فانما یشکر لنفسہ ومن کفر فان اللہ غنی حمید ۔ } (لقمٰن) ’’ اور جو شکر کرے تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ شکر کرتا ہے اپنے ہی لیے اور جس نے ناشکری کی تو بےشک اللہ بےنیاز‘ حمد کیا ہوا ہے۔‘‘

 (1) {اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ کُفْرًا} (ابراھیم:28) ’’ کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نے بدل دیا اللہ کی نعمت کو ناشکری سے۔‘‘

 (2) {وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ فَاَبٰی اَکْثَرُ النَّاسِ اِلاَّ کُفُوْرًا ۔ } (بنی اسرائیل ) ’’ ہم نے مختلف پیرایوں میں بیان کی ہے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال‘ تو نہ مانا لوگوں کی اکثریت نے مگر ناشکری کرتے ہوئے ۔‘‘

 (3) {فمن یعمل من الصلحت وھو مومن فلا کفران لسعیہ} (الانبیائ:94) ’’ تو جو عمل کرے نیکیوں میں سے اس حال میں کہ وہ مومن رہے تو کسی قسم کی کوئی ناقدری نہیں ہے اس کی کوشش کے لیے۔‘‘

 اکفر (فعل امر) : تو کفر کر۔ {کمثل الشیطن اذ قال للانسان اکفر} (الحشر:16) ’’ شیطان کی مثال کی مانند جب اس نے کہا انسان سے کہ تو ناشکری کر یا انکار کر۔‘‘

 کَافِرٌ ج کافرون اور کفار (اسم الفاعل) : کفر کرنے والا۔ {وَیَقُوْلُ الْکٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرٰبًا} (النبائ:40) ’’ اور کہے گا انکار کرنے والا اے کاش میں مٹی ہوتا۔‘‘ {ان الذین کفروا وماتو وھم کفار اولئک علیھم لعنۃ اللہ} (البقرۃ:161) ’’ بے شک جن لوگوں نے انکار کیا اور وہ لوگ مر گئے اس حال میں کہ وہ لوگ انکار کرنے والے ہی رہے‘ ان لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘ کسان کو بھی کَافِرٌکہتے ہیں کیونکہ وہ بیج کو زمین میں دبانے اور چھپانے والا ہوتا ہے۔ {کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ} (الحدید:20) ’’ بارش کی مثال کی مانند جو بھلی لگی کسانوں کو۔‘‘

 کُفَّارٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر اسم مبالغہ) : بہت ناشکرا‘ انکار کرنے والا۔ {ان اللہ لا یھدی من ھو کذب کفار ۔ } (الزمر) ’’ یقینا اللہ ہدایت نہیں دیتا اس کو جو بہت زیادہ انکار کرنے والا جھوٹا ہے۔‘‘

 کفور (فَعُوْلٌکے وزن پر اسم مبالغہ) : دل کھول کر ناشکری کرنے والا‘ انکار کرنے والا۔ {ان الانسان لکفور ۔ } (الحج:66) ’’ بے شک انسان دل کھول کر ناشکری کرنے والا ہے۔‘‘

 کفر یکفر (تفعیل) تکفیرا : کسی کی ناپسندیدہ چیز کو اس سے دور کرنا‘ دبا کر یا چھپا کر۔ غلطی کا جرمانہ ادا کر کے اس کی سزا کو دور کرنا‘ کفارہ ادا کرنا۔ {کفر عنھم سیئاتھم واصلح بالھم} (محمد:2) ’’ اس نے یعنی اللہ نے دور کیا ان کی برائیوں کو ان سے اور اس نے اصلاح کی ان کی حالتوں کی۔‘‘

 کفر (فعل امر) : تو دور کر۔ {ربنا فاغفرلنا ذنوبنا وکفر عنا سیئاتنا وتوفنا مع الابرار} (آل عمران:193) ’’ اے ہمارے رب تو بخش دے ہمارے لیے ہمارے گناہوں کو اور تو دور کر دے ہم سے ہماری برائیوں کو اور تو موت دے ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ۔‘‘

 کفارۃ (اسم ذات) : وہ چیز جو بطور جرمانہ ادا کی جائے۔ {ذلک کفارۃ ایمانکم اذا حلفتم} (المائدۃ:89) ’’ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم حلف اٹھائو۔‘‘

 سَوِیَ یَسْوٰی (س) سوی وسواء : ہموار ہونا‘ طول وعرض یا قدر و قیمت میں برابر ہونا‘ درمیان میں ہونا‘ قرآن مجید میں ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوا۔ البتہ اس کا مصدر سَوَائٌ آیت زیر مطالعہ میں استعمال ہوا ہے۔

 سواء (مصدر کے علاوہ اسم ذات بھی ہے) : کسی چیز کا درمیان یا وسط ۔ {ومن یتبدل الکفر بالایمان فقد ضل سواء السبیل} (آل عمران:108) ’’ اور جو تبدیل کرتا ہے کفر کو ایمان کے بدلے تو وہ بھٹک گیا ہے راستہ کے درمیان سے یعنی سیدھے راستے سے۔‘‘ {فاطلع فراہ فی سواء الجحیم} (الصّٰفّٰت:55) ’’ پس اس نے جھانکا تو اس نے دیکھا اس کو بھڑکتی آگ کے وسط میں۔‘‘

 سوی (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : ہر لحاظ سے کمی یا زیادتی سے پاک‘ کامل‘ درمیانی۔ {قال ایتک الا تکلم الناس ثلث لیال سویا ۔ } (مریم) ’’ اس نے یعنی اللہ تعالیٰ نے کہا تیری نشانی ہے کہ تو کلام نہیں کرے گا لوگوں سے تین کامل راتیں یعنی تین رات اور دن۔‘‘

 سَوّٰی یُسَوِّیْ (تفعیل) تَسْوِیَۃً : کسی چیز کی کمی یا زیادتی سے پاک کرنا۔ ہر لحاظ سے مناسب و موزوں بنانا یعنی نوک پلک درست کرنا‘ ہموار یا برابر کرنا۔ {اَلَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی ۔ } (الاعلیٰ) ’’ جس نے پیدا کیا پھر نوک پلک درست کی۔‘‘{رَفَعَ سَمْکَھَا فَسَوّٰٹھا ۔ } (النزعت) ’’ اس نے بلند کیا اس کی یعنی آسمان کی چھت کو پھر اسے ہموار کیا۔‘‘

 ساوی یساوی (مفاعلہ) مساواۃ : دو یا زیادہ چیزوں کو برابر کرنا۔ {حتی اذا ساوی بین الصدفین قال انفخوا} (الکہف:96) ’’ یہاں تک کہ جب اس نے برابر کردیا پہاڑوں کے دونوں کناروں کے درمیان کو‘ تو اس نے کہا تم لوگ پھونکو ۔‘‘

 استوی یستوی (افتعال) استواء : (1) برابر ہونا۔ {قل ھل یستوی الاعمی والبصیر ام ھل تستوی الظلمت والنور} (الرعد:16) ’’ آپ ﷺ کہیے کیا برابر ہوتے ہیں اندھا اور بصیرت والا کیا برابر ہوتے ہیں اندھیرے اور نور۔‘‘ (2) اِسْتَوٰی اِلٰی۔ ارادہ کرنا‘ متوجہ ہونا۔ {ثم استوی الی السماء وھی دخان} (حٰمٓ السجدۃ:11) ’’ پھر وہ متوجہ ہوا آسمان کی طرف اس حال میں کہ وہ دھواں تھا۔‘‘ (3) اِسْتَوٰعَلٰی۔ غالب آنا‘ متمکن ہونا۔ {الذی خلق السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش} (الفرقان:59) ’’ جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے‘ چھ دنوں میں پھر وہ متمکن ہوا عرش پر۔‘‘

ن ذ ر

 نذر ینذر۔ نذر ینذر (ض۔ ن) نذرا : کسی غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کر لینا‘ منت ماننا۔ {انی نذرت للرحمن صوما} (مریم:26) ’’ میں نے منت مانی رحمن کے لیے ایک روزے کی۔‘‘

 نَذْرٌ ج نُذُوْرٌ (اسم ذات) : منت‘ نذر۔ {وما انفقتم من نفقۃ او نذرتم من نذر فان اللہ یعلمہ} (البقرۃ:270) ’’ اور جو تم لوگ انفاق کرو کسی خرچے میں سے یا جو تم لوگ منت مانو کسی منت سے تو یقینا اللہ اس کو جانتا ہے۔‘‘{ثم لیقضوا تفثھم ولیوفوا نذورھم ولیطوفوا بالبیت العتیق} (الحج:29) ’’ پھر ان لوگوں کو چاہیے کہ اتاریں اپنے میل کچیل اور پوری کریں اپنی منتیں اور طواف کریں قدیم گھر کا یعنی خانہ کعبہ کا۔‘‘

 نَذِرَ یَنْذَرُ (س) نَذْرًا : کسی متوقع خطرہ سے خبردار ہونا‘ چوکنا ہونا‘ باب سمع سے فعل قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔

 نذیر ج نذر (فَعِیْلٌ کا وزن ہے اسم الفاعل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے) : لیکن اس کے معنی خبردار ہونے والا کے بجائے خبردار کرنے والا ہیں۔ {وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا} (سبا:28) ’’ اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ کو مگر تمام انسانوں کے لیے خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے۔‘‘ {وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ} (الاحقاف:21) ’’ اور گزر چکے ہیں خبردار کرنے والے ان کے سامنے اور ان کے پیچھے۔‘‘

 انذر ینذر (افعال) انذارا : کسی متوقع خطرے سے خبردار کرنا‘ وارننگ دینا۔ {واوحی الی ھذا القران لانذرکم بہ ومن بلغط} (المائدۃ:19) ’’ اور وحی کیا گیا میری طرف یہ قرآن تاکہ میں خبردار کروں تم لوگوں کو اس کے ذریعہ سے‘ اور اس کو جس کو وہ پہنچے۔‘‘

 انذر (فعل امر) : تو خبردار کر۔ {وَاَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْھُمُ الْعَذَابُ} (ابراھیم:44) ’’ اور خبردار کیجیے لوگوں کو اس دن سے جب آئے گا ان کے پاس عذاب۔‘‘

 منذر (اسم الفاعل) : خبردار کرنے والا۔ {انما انت منذر ولکل قوم ھاد ۔ } (الرعد) ’’ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ آپ ﷺ ایک خبردار کرنے والے ہیں اور ہر ایک قوم کے لیے ایک ہدایت دینے والا ہے۔‘‘

 منذر (اسم المفعول) : خبردار کیا ہوا۔{واغرقنا الذین کذبوا بایتنا فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین} (یونس:73) ’’ اور ہم نے ڈبویا ان لوگوں کو جنہوں نے جھٹلایا ہماری نشانیوں کو‘ تو دیکھ کیسا تھا خبردار کیے جانے والوں کا انجام۔‘‘

ترکیب :’’ اَلَّـذِیْنَ کَفَرُوْا‘‘ یہ پورا جملہ ’’ ان‘‘ کا اسم یعنی مبتدأ ہے اور ’’ سوائ‘‘ اس کی خبر ہے۔ اس سے آگے کا جملہ ’’ سوائ‘‘ وضاحت کر رہا ہے۔

نوٹ (1) : کسی جملہ میں ئَ کے بعد اگر اَمْ لانا ہو تو (1) زیادہ تر ئَ کے بعد فعل ماضی لاتے ہیں اور ام کے بعد فعل مضارع لاتے ہیں ۔ پھر مضارع میں ماضی کا مفہوم پیدا کرنے کے لیے اس پر لَمْ داخل کرتے ہیں۔ (2) ایسی صورت میں ئَ کے معنی ’’ کیا‘‘ نہیں ہوتے بلکہ ’’ خواہ‘‘ یا ’’ چاہے‘‘ ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ چاہے یہ کرو یا نہ کرو۔

نوٹ (2) : اس آیت سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ کافروں میں سے کوئی بھی ایمان نہیں لائے گا۔ لیکن اگلی آیت میں یہ خیال رد ہو جاتا ہے اور بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہاں پر بات دراصل کافروں کے ایک مخصوص گروہ کی ہو رہی ہے جو کفر میں point of no return پر پہنچ چکے ہیں۔ اس سے کم تر درجہ کے کافروں میں ایمان لانے کی صلاحیت باقی رہتی ہے جن میں سے بہت سے لوگ ایمان لائے ہیں اور ان شاء اللہ لاتے رہیں گے۔

نوٹ (3) : اس آیت میں کٹر کافروں کے لیے حضور ﷺ کا وعظ کرنا یا نہ کرنا ‘ دونوں کو برابر قرار دیا گیا ہے۔ لیکن سواء کے ساتھ علیھم کا اضافہ کر کے واضح کردیا کہ یہ برابری ایسے کفار کے حق میں ہے‘ آپ ﷺ کے حق میں نہیں ہے۔ آپ ﷺ کو اپنا فرض منصبی بہرحال ادا کرنا ہے۔ اسی لیے ایسے لوگوں کو بھی دعوت ایمان دینے سے حضور ﷺ کو نہیں روکا گیا۔ بلکہ ابلاغ کی تاکید کی گئی ہے :’’ اے رسولؐآپ پہنچائیں وہ جو اتارا گیا آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے۔ اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے نہیں پہنچایا اس کے پیغام کو ‘‘۔ (المائدۃ:67) اس سے معلوم ہوا کہ جو بھی امتی دعوت دین اور اصلاح کا کام کرتا ہے‘ اس کو اپنی کوشش کا ثواب بہرحال ملے گا‘ خواہ اس کی کوشش کا سامنے والے پر اثر ہو یا نہ ہو۔

نوٹ (4) : یہاں سے ایک اصول یہ بھی ملتا ہے کہ کسی کی ذمہ داری دوسروں کے غلط رویہ کی وجہ سے ختم نہیں ہوتی۔ مثلاً کوئی استاد یہ کہہ کر نہیں بچ سکے گا کہ طلبہ پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتے تھے اس لیے میں نے نہیں پڑھایا۔ کسی طالب علم کا یہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا کہ استاد کو پڑھانا نہیں آتا تھا اس لیے میں نے نہیں پڑھا۔ ہر فریق اپنی اپنی ذمہ داری کے لیے جواب دہ ہے اور اس میں کوتاہی کا نقصان اس کی اپنی ذات کو پہنچتا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ اپنے رویہ کو دوسروں کے رویہ کا تابع مت بنائو۔ اگر کوئی تمہارا حق مارتا ہے‘ تو تم اس کا حق ادا کرو۔ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰي سَمْعِهِمْ   ۭ   وَعَلٰٓي اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ  وَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ    Ċ۝ۧ
[ خَتَمَ: سیل لگا دی] [ اللّٰهُ : اللہ نے] [ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ: ان کے دلوں پر] [ وَعَلٰي سَمْعِهِمْ ۭ : اور ان کی سماعت پر] [ وَعَلٰٓي اَبْصَارِهِمْ: اور ان کی بصارتوں پر] [ غِشَاوَةٌ: ایک پردہ ہے] [ وَّلَھُمْ: اور ان کے لیے] [ عَذَابٌ عَظِيْمٌ: ایک عظیم عذاب ہے]

 

 

خ ت م

 خَتَمَ یَخْتِمُ (ض) خَتْمًا : (1) سیل (Seal) لگانا تاکہ اندر کی چیز باہر اور باہر کی چیز اندر نہ جا سکے {الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم ونشھد ارجلھم بما کانوا یکسبون ۔ } (یٰسٓ) ’’ اور اس دن ہم سیل لگا دیں گے ان کے مونہوں پر اور ہم سے کلام کریں گے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پیر‘ جو وہ لوگ کیا کرتے تھے۔‘‘ (2) کسی کام سے فارغ ہونا‘ ختم کرنا۔

 ختام (اسم ذات) : وہ چیز جس سے سیل لگائی جائے جیسے لاکھ‘ گیلا آٹا‘ گیلی مٹی وغیرہ۔ {یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ ۔ خِتٰـمُہٗ مِسْکٌج وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ ۔ } (المطففین) ’’ وہ لوگ پلائے جائیں گے سیل لگی ہوئی خالص شراب میں سے‘ اس کی سیل مشک ہے۔ اور چاہیے کہ اس میں جان کھپائیں جان کھپانے والے۔‘‘

 خاتم (فاعل اسم الآلہ کا ایک وزن) : سیل بند کرنے کا ذریعہ‘ سیل بند کرنے والا‘ ختم کرنے والا ۔ {وما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین} (الاحزاب:40) ’’ اور نہیں ہیں محمد ﷺ کسی ایک کے باپ‘ تمہارے مردوں میں سے‘ اور لیکن اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے سیل کرنے والے ہیں یعنی نبیوں کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں۔‘‘

 مختوم (اسم المفعول) : سیل بند کیا ہوا۔ (المطففین:25)

ق ل ب

 قَلَبَ یَقْلِبُ (ض) قَلْبًا : کسی چیز کو ایک حالت یا رُخ سے یا دوسری طرف پھیرنا یا پلٹنا۔ {والیہ تقلبون} (العنکبوت:21) ’’ اور اس کی طرف ہی تم لوگ پلٹائے جائو گے۔‘‘

 قَلْبٌ ج قُلُوْبٌ (اسم ذات) : دل (کیونکہ یہ ہر لمحہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹا رہتا ہے۔){وَمَنْ یُّـؤْمِنْ بِاللّٰہِ یَھْدِ قَلْبَہٗ} (التغابن:11) ’’ اور جو ایمان لاتا ہے اللہ پر تو وہ ہدایت دیتا ہے اس کے دل کو۔‘‘{لھم قلوب لا یفقھون بھا ولھم اعین لا یبصرون بھا ولھم اذان لا یسمعون بھا} (الاعراف:179) ’’ ان کے دل ہیں وہ لوگ تفقہ نہیں کرتے اس سے‘ ان کی آنکھیں ہیں وہ لوگ بصارت نہیں کرتے ان سے‘ ان کے کان ہیں وہ لوگ سماعت نہیں کرتے اس سے‘ ان کے کان ہیں وہ لوگ سماعت نہیں کرتے اس سے۔‘‘

 قلب یقلب (تفعیل) تقلیب : کسی چیز کو بار بار پلٹنا۔ {وَنُقَلِّبُھُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ} (الکہف:18) ’’ اور ہم بار بار پلٹتے ہیں ان کو دائیں جانب اور بائیں جانب یعنی ہم ان کی کروٹیں بدلتے رہتے ہیں۔‘‘

 تقبل یتقبل (تفعل) تفلبا : کسی چیز کا خود بار بار پلٹنا‘ گھومناپھرنا۔ {قد نری تقلب وجھک فی السمائ} (البقرۃ:124) ’’ ہم نے دیکھ لیا ہے آپ ﷺ کے چہرے کا بار بار پلٹنا آسمان میں۔‘‘{لا یغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد} (آل عمران:196) ’’ ہرگز دھوکا نہ دے آپ ﷺ کو‘ شہروں میں ان لوگوں کا گھومنا پھرنا جنہوں نے کفر کیا۔‘‘

 متقلب (اسم المفعول جو بطور اسم ظرف استعمال ہوتا ہے) : گھومنے پھرنے کی جگہ۔ {واللہ یعلم متقلبکم ومثوٹکم} (محمد:19) ’’ اللہ جانتا ہے‘ تمہارے گھومنے پھرنے کی جگہ کو اور تمہارے واپس ہونے کی جگہ کو۔‘‘

 اِنْقَلَبَ یَنْقَلِبُ (انفعال) اِنْقِلَابًـا : کسی چیز کا خود ایک حالت یا رخ سے دوسری طرف پھرنا یا پلٹنا۔ {اَفَاِئنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰی اَعْقَابِکُمْ} (آل عمران:144) ’’ تو کیا اگر وہ یعنی حضور ﷺ انتقال کر جائیں یا قتل کیے جائیں تو تم لوگ الٹے پھر جائو گے اپنی ایڑیوں کے بل۔‘‘

 منقلب (اسم الفاعل) : پھرنے والا۔ {قالوا انا الی ربنا منقلبون} (الزخرف:125) ’’۔‘‘ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ   Ď۝ۘ
[ وَمِنَ النَّاسِ: اور لوگوں میں سے] [ مَنْ: وہ (بھی) ہیں جو] [ يَّقُوْلُ: کہتے ہیں] [ اٰمَنَّا: ہم ایمان لائے] [ بِاللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ: اللہ پر اور آخری دن پر] [ وَ: حالانکہ] [ مَا ھُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ: وہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں]

 

ق و ل

 [ قولا: (ن) کہنا، بولنا۔ وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً (اور جب کہا آپ کے رب نے بےشک میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ)

قیل ماضی مجہول ہے ۔ کہا گیا۔

یقال ۔ مضارع مجہول ہے کہا جاتا ہے مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۭ،(نہیں کہا جاتا آپ سے مگر جو کہا گیا ہے رسولوں سے آپ سے پہلے)

قیل، اسم ذات ہے بات۔ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيْلًا (اور اللہ سے زیادہ سچا کون ہے بلحاظ بات کے)

قول۔ ج اقوال، جمع کی جمع، اقاویل۔ اسم ذات ہے بات ہے۔ (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ ،وَّمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۭ](یہ ایک بزرگ رسول کا قول ہے اور یہ کسی شاعر کی بات نہیں ہے) ۔

قل۔ فعل امر ہے تو کہہ۔ (قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ ) آپ کہہ دیجیے کہتم لوگ زیادہ جانتے ہو یا اللہ) ۔

قائل۔ اسم الفاعل ہے کہنے والا۔ قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ) (کہا ان میں سے ایک کہنے والے نے تم لوگ قتل مت کرو یوسف کو)

تقولا۔ بات گھڑنا۔ کسی طرف ایسی بات منسوب کرنا جو اس نے نہیں کہی۔ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ،لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ) اور اگر وہ غلط منسوب کرتے ہم پر باتوں میں کوئی تو ہم ضرور پکڑتے ان کو قوت کے ساتھ)

 

ترکیب۔ آیت زیر مطالعہ کی ترکیب پہلے ایک مثال سے سمجھ لیں۔ اگر ہم کہیں کہ من الناس کافر، تو اس میں من الناس قائم مقام خبر مقدم ہے جبکہ خبر موجود محذوف ہے اور کافر مبتدا موخر ہے اس کا سادہ جملہ ہوتا الکافر موجود من الناس۔ اور اس کا مطلب ہوتا کہ کافر یعنی خاص کافر لوگوں میں موجود ہے ۔ لیکن جب مبتدا کو موخر کرکے نکرہ کردیا تو اب من الناس کافر کا مطلب ہو گیا کہ لوگوں میں سے کوئی کافر ہے یعنی لوگوں میں سب کافر نہیں ہیں بلکہ کچھ کافر ہیں یہ رعایت اردو میں لفظ بھی سے ادا ہوتی ہے اس لیے اس جملہ کا ترجمہ ہو گا لوگوں میں کافر بھی ہیں اسی طرح ومن الناس من یقول من الناس، قائم مقام خبر مقدم ہے جبکہ خبر موجود محذوف ہے اور من یقول مبتدا موخر ہے اس کا بامحاورہ ترجمہ ہو گا لوگوں مین وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں وما ھم بمومنین مین ھم مبتدا ہے جبکہ مومنین اسم الفاعل ہے اور ما کی خبر ہے۔

نوٹ۔ لفظ ، من ، کے متعلق یہ بات نوٹ کرلیں کہ واحد ، تثنیہ، جمع، مذکر، مونث، سب کے لیے من ہی استعمال ہوتا ہے اس آیت میں من کے بعد یقول واحد کے صیغہ میں لا کر اس کی لفظی رعایت کی گئی ہے کیونکہ من اصلا واحد لفظ ہے اس کے آگے امنا جمع کے صیغے میں لا کر اس کی معنوی رعایت کی گئی ہے کیونکہ یہاں من جمع کے معنی میں آیا ہے۔

نوٹ۔ اوپر ترجمہ میں آپ نے نوٹ کرلیا ہوگیا کہ وما ھم بمومنین کے واو کا ترجمہ اور کے بجائے حالانکہ کیا گیا ہے، اس کی وجہ سمجھ لیں۔ واو کی تین قسمیں زیادہ مستعمل ہیں ایک واو قیمہ ہے جس کے معنی ہیں قسم ہے اس کی پہچان یہ ہے کہ یہ اپنے اسم کو جر دیتا ہے۔ جیسے والعصر (قسم ہے زمانے کی) ایک واو عاطفہ ہے جس کے معنی ہیں یعنی یہ کوئی اعرابی تبدیلی نہیں لاتے اس لیے ان کی پہچان عبارت کے مفہوم سے ہوتی ہے حضور ﷺ کی ایک تعلیم کردہ دعا میں واو حالیہ اور واو عاطفہ کافوی تقابل بہت واضح ہے۔ اللھم انی اعوذبک۔ اے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ ان اشرک بک۔ کہ میں (کسی کو) شریک کروں تیرے ساتھ۔ واعلم۔ اس حال میں کہ میں جانتا ہوں ۔ واستغفرک۔ اور میں مغفرت مانگتا ہوں تجھ سے ۔ بما لا اعلم۔ اس کی جو میں نہیں جانتا۔ آیت زیر مطالعہ کے آخری حصہ کا واو بھی حالیہ ہے اس لیے اس کا ترجمہ ، حالانکہ کیا گیا ہے۔ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا    ۚ   وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ    Ḍ۝ۭ
[ يُخٰدِعُوْنَ: وہ لوگ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں] [ اللّٰهَ: اللہ کو] [ وَالَّذِيْنَ: اور ان لوگوں کو جو] [ اٰمَنُوْا ۚ: ایمان لائے] [ وَ: اس حال میں کہ] [ مَا يَخْدَعُوْنَ: وہ لوگ دھوکہ نہیں دیتے] [ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ: مگر اپنے جی کو] [ وَمَا يَشْعُرُوْنَ: اور وہ لوگ ادراک حاصل نہیں کرتے]

 

خ د ع

 [ خدعا: دھوکا دینا۔ وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ](اور اگر وہ لوگ ارادہ کریں کہ وہ لوگ آپ کو دھوکا دیں تو بےشک آپ کے لیے اللہ کافی ہے)

 [ خادع: اسم الفاعل ہے ، دھوکا دینے والا [ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ](بے شک منافق لوگ دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں اللہ کو، اور وہ دھوکا دینے والا ہے ان کو)

 [ خداعا: (مفاعلہ) ۔ دوسرے کو دھوکا دینے کی کوشش کرنا۔

ن ف س

 [ نفاسۃ: (ک) ۔ پسندیدہ ہونا، نفیس ہونا، قرآن مجید میں ثلاثی سے فعل استعمال نہیں ہوا۔

 [ نفس: جمع انفس، اور نفوس۔ سانس۔ کیونکہ زندگی کا مدار سانس پر ہے اس لیے یہ پھر جان اور انسانی وجود کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ نفس سے اگر جان مراد ہو تو مؤنث اور اگر شخص مراد ہو تو مذکر استعمال ہوتا ہے۔ [ كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ: ہر جان موت کو چکھنے والی ہے] [ اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ: کیا تم لوگ ترغیب دیتے ہو لوگوں کو نیکی کی اور بھول جاتے ہو اپنے جی کو] [ رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ : تم لوگوں کا رب زیادہ جانتا ہے اس کو جو تمہارے جی میں ہے]

 [ تنفسا: (تفعل) سانس لینا،ظاہر ہونا۔ [ وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ: قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لے یعنی ظاہر ہو]

تنافسا: تفاعل۔ بطور مقابلہ رغبت کرنا۔ کسی چیز کے لیے جان کھپانا۔ [ وَفِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ: اور اس میں چاہیے کہ جان کھپائیں جان کھپانے والے]

متنافس۔ اسم الفاعل ہے ۔ جان کھپانے والا۔

ش ع ر

 [ شعرا: (ن) ۔ کسی چیز میں بال بھرنا یا لگانا۔ شِعرا۔ بال کی طرھ باریک علم حاصل کرنا یعنی محسوس کرکے کسی چیز کا ادراک حاصل کرنا۔ شعور حاصل کرنا۔ [ اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰي رَبِّيْ لَوْ تَشْعُرُوْنَ: نہیں ہے ان کا حساب مگر میرے رب کے ذمہ ، کاش تم لوگ شعور سے کام لیتے) (3) علم لطیف میں کلام کرنا یعنی شعر کہنا]

 [ شَعر: ج اشعار۔ اسم ذات ہے۔ بال۔ [ وَمِنْ اَصْوَافِهَا وَاَوْبَارِهَا وَاَشْعَارِهَآ اَثَاثًا : اور ان کے یعنی چوپایوں کے اونوں سے اور ان کے پشموں سے اور ان کے بالوں سے کچھ اثاثے بنائے۔

 [ شِعرُ۔ جمع اشعار۔ اسم ذات ہے موزوں کلام۔ شعر۔ [ وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْۢبَغِيْ لَهٗ: اور ہم نے تعلیم نہیں دی ان کو شاعری کی اور یہ شایان شان نہیں ہے ان کے]

 [ شاعِر: ج شعرا۔ اسم الفاعل ہے شعر کہنے والا۔ [ وَّمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ: اور یہ کسی شعر کہنے والے کا کلام نہیں ہے] [ وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ: اور شاعر لوگ ، ان کی پیروی کرتے ہیں گمراہ لوگ]

 [ شعیرۃ: ج۔ شعائر۔ اسم ذات ہے شعور حاصل کرنے کی علامت۔ [ اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِاللّٰهِ: بےشک صفا ومروہ اللہ کا شعور حاصل کرنے کی علامتوں میں سے ہیں]

 [ مشعر: اسم ظرف ہے شعور حاصل کرنے کی جگہ۔ [ فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠ : پس جب تم لوگ فارغ ہو عرفات سے تو یاد کرو اللہ کو شعور حاصل کرنے کی محترم جگہ کے پاس]

 [ اشعارا: شعور دینا۔ اطلاع دینا۔ [ فَلْيَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا: پس اسے چاہے کہ وہ تمہارے لیے لائے اس میں سے کچھ کھانا اور چاہیے کہ وہ نرمی کرے اور ہرگز اطلاع نہ دے تمہاری کسی ایک کو]

ترکیب۔

یخادعون۔ فعل اس میں جمع مذکر غائب کی ضمیر فاعل ہے اللہ منصوب ہونے کی وجہ سے مفعول ہے اور والذین آمنو، مفعول ثانی ہے اگر والذین آمنو، کو فاعل مانیں تو یہ اسم ظاہر ہوگا ایسی صورت میں جملہ فعلیہ جمع کے صیغے سے نہیں شروع ہو سکتا بلکہ فعل واحد آنا چاہیے تھا اس لیے والذین آمنو مفعول ثانی ہی ہے۔

ما یخادعون۔ منفی جملہ ہے جس کا استثنی آگے الا سے بیان ہوا ہے یہ بھی بات زور پیدا کرنے ایک انداز ہے مثلا اگر ہم کہیں کہ اللہ ہے تو یہ ایک سادہ سی خبر ہے۔ مگر جب ہم کہتے ہیں کہ کوئی الہ نہیں ہے سوائے اللہ کے تو خبر وہی رہتی ہے لیکن بات کا لہجہ بالکل تبدیل ہو جاتا ہے نوٹ کریں کہ یہاں یخادعون انفسھم (وہ لوگ اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں) کہنے کے بجائے ما یخادعون الا انفسھم،(وہ لوگ دھوکا نہیں دیتے مگر اپنے آپ کو) کہا گیا ہے۔

نوٹ۔ اس آیت سے ایک اصول یہ ملتا ہے کہ جب کوئی دوسروں کو دھوکا دیتا ہے یا اس کی کوشش کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس کی اپنی شخصیت مسخ ہوتی ہے لوگوں کی نظر میں اس کی شخصیت بےوقعت ہوتی ہے اور اس کی بات میں وزن نہیں رہتا اس کا نقصان بھی خود اسے ہی بھگتنا پڑتا ہے ایسے لوگوں کو چونکہ اس اصول کا شعور نہیں ہوتا اس لیے وہ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں یا قسمت کا رونا روتے ہیں۔ فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ   ۙ   فَزَادَھُمُ اللّٰهُ مَرَضًا    ۚ   وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌۢ       ڏ   بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ   10۝
[ فِىْ قُلُوْبِهِمْ: ان کے دلوں میں] [ مَّرَضٌ ۙایک مرض ہے] [ فَزَادَ: تو بڑھایا] [ ھُمُ: ان کو] [ اللّٰهُ: اللہ نے] [ مَرَضًا ۚ: مرض کے لحاظ سے] [ وَلَھُمْ: اور ان کے لیے] [ عَذَابٌ اَلِيْمٌۢ: ایک دردناک عذاب] [ ڏ بِمَا: اس سبب سے جو] [ كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ: وہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں]

 

م ر ض

 [ مرضا: (س) بیمار ہونا۔] [ وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ: اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ مجھے شفا دیتا ہے) ۔

 [ مَّرَضٌ: اسم ذات ہے ، بیماری۔ [ وَاِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا: اور جب کہا منافقوں نے اور ان لوگوں نے جن کے دلوں میں مرض ہے، ہم سے وعدہ نہیں کیا اللہ نے اور اس کے رسول نے مگر فریب کا)

 [ مریض۔ ج۔ مرضی۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔ بیمار۔ [ وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ: اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو تو گنتی ہے یعنی شمار پورا کرنا ہے دوسرے دنوں میں۔ [ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَنْ تَضَعُوْٓا اَسْلِحَتَكُمْ: اور کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم لوگوں پر اگر تم میں ہوں کچھ لوگ تکلیف میں بارش کے سبب سے یا تم بیمار ہو، کہ تم کھول دو اپنے ہتھیار)

زی د

 [ زیدا: (ض) کسی چیز کے پورا ہونے پر اس میں اضافہ کرنا، بڑھانا، زیادہ ہونا۔ [ اِنَّهُمْ فِتْيَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنٰهُمْ هُدًى: بےشک وہ لوگ کچھ نوجوان تھے ، وہ لوگ ایمان لائے اپنے رب پر اور ہم نے بڑھایا ان کو بلحاظ ہدایت کے] [ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰيٰكُمْ ۭ وَسَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ : اور تم لوگ داخل ہو دروازے میں سجدہ کرنے والوں کی حالت میں اور کہتے ہوئے کہ گناہ معاف ہوں تو ہم بخش دیں گے تمہارے لیے تمہاری خطاؤں کو اور ہم زیادہ دیں گے احسان کرنے والوں کو]

 [ نزد: مضارع مجزوم ہے۔ [ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِيْ حَرْثِهٖ: جو ارادہ کرنا ہے آخرت کی کھیتی کا تو ہم اضافہ کرتے ہیں اس کے لیے اس کی کھیتی میں)

 [ لا تزد: فعل نہی ہے تو مت بڑھا۔ [ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا ضَلٰلًا: اور تو مت بڑھا ظالموں کو مگر گمراہی میں) ۔

 [ زد: فعل امر ہے ۔ تو بڑھا۔ [ اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا : یا آپ اضافہ کریں اس پر اور ترتیل سے پڑھیں قرآن کو جیسا کہ ترسیل کا حق ہے]

 [ زیادۃ: اسم ذات ہے۔ اضافہ، زیادتی، [ اِنَّمَا النَّسِيْۗءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ: بےشک مہینے پیچھے کرنا اضافہ ہے کفر میں)

 [ مزید: اسم ذات ہے، اضافی چیز۔ [ لَهُمْ مَّا يَشَاۗءُوْنَ فِيْهَا وَلَدَيْنَا مَزِيْدٌ: ان کے لیے اس میں ہے جو وہ لوگ چاہیں گے اور ہمارے پاس اضافی ہے یعنی اور بھی چیزیں ہیں) ۔

 [ ازدادا۔ (افتعال) پڑھنا، زیادہ ہونا، [ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُھُمْ: بےشک جن لوگوں نے ناشکری کی اپنے ایمان کے بعد پھر وہ لوگ زیادہ ہوئے بلحاظ ناشکری کے تو ہرگز قبول نہیں کی جائے گی ان کی توبہ]

 ء ل م

 [ الما: دکھی ہونا، تکلیف اٹھانا۔ [ وَلَا تَهِنُوْا فِي ابْتِغَاۗءِ الْقَوْمِ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْ لَمُوْنَ فَاِنَّھُمْ يَاْ لَمُوْنَ كَمَا تَاْ لَمُوْنَ ۚ وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ : (اور تم لوگ تکلیف اٹھاتے ہو تو یقینا وہ لوگ بھی تکلیف اٹھاتے ہیں جیسے تم لوگ تکلیف اٹھاتے ہیں اور تم لوگ امید رکھتے ہو اللہ سے جس کی وہ لوگ امید نہیں رکھتے]

 [ الیم۔ فعیل کا وزن ہے۔ دردناک، تکلیف دینے والا۔ عذاب الیم۔0 درد ناک عذاب)

ک ذ ب

 [ کذبا: جانتے بوجھتے کسی کو غلط اطلاع دینا۔ جھوٹ بولنا۔ [ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلَي اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ: اور قیامت کے دن تو دیکھے گا ان لوگوں کو جنہوں نے جھوٹ کہا اللہ پر یعنی اللہ کے بارے میں کہ ان کے چہرے کالے ہیں)

کذب۔ اسم ذات ہے، جھوٹ۔ وَاِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ ۚ(اور اگر وہ جھوٹ بولنے والا ہے تو اس پر ہے اس کا جھوٹ]

 [ کاذب: اسم الفاعل ہے۔ جھوٹ بولنے والا، جھوٹا۔

 [ کذاب۔ فعال کا وزن ہے اس المبالغہ۔ بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا۔ بہت بڑا جھوٹا۔ [ وَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ ھٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌ: اور کہا انکار کرنے والوں کہ یہ بڑا جھوٹا جادوگر ہے]

 [ تکذیبا۔ جھوٹا قرار دینا، جھٹلانا۔ [ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ: اور جن لوگوں نے انکار کیا اور جھٹلایا ہماری نشانیوں کو وہ لوگ آگ والے ہیں]

 [ مکذب۔ اسم الفاعل ہے۔ جھٹلانے والا۔ [ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ: تو سیر کرو زمین کی، پس دیکھو کیسا انجام جھٹلانے والوں کا]

ترکیب۔

فی قلوبھم۔ قائم مقام خبر مقدم ہے ، خبر موجود محذوف ہے اور مرض مبتدا موخر نکرہ ہے ، فعل زاد کا مفعول ھم کی ضمیر ہے جبکہ مرضا تمیز ہے۔ لھم قائم مقام خبر مقدم ہے، خبر واجب محذوف ہے اور مرکب توصیفی عذاب الیم مبتدا مؤخر نکرہ ہے۔ کا یکذبون، ماضی استمراری ہے اور پورا جملہ متعلق خبر ہے اس لیے اس کا ترجمہ حال میں ہو گا۔

 

نوٹ۔ گزشتہ آیت نمبر 8، اور 9 میں ایک انسانی رویہ کی نشان دہی کی گئی ہے کہ کچھ لوگ اللہ ، اس کے رسول اور آخرت کے دل سے قائل نہیں ہوتے۔ لیکن خاندانی روایات اور معاشرہ سے حاصل ہونے والے مفادات پیش نظر اس کا زبانی اقرار کرتے ہیں۔ اس طرھ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں اور ان کا عمل ان کے قول کے مطابق نہیں ہوتا اس رویہ کو آیت زیر مطالعہ میں مرض کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس رویہ یا اس مرض کو نفاق کہنا درست نہیں ہے۔ اوپر لفظ مرض کے مفہوم کی وضاحت کے لیے آیت نمبر 33۔12 دی گئی ہے اس کے الفاظ پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نفاق والے اور دلوں کے روگ والے ، دو الگ الگ گروہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں فرق کیا ہے اس لیے ہمیں بھی فرق کرنا چاہیے۔ مذکورہ بالا رویہ دراصل ایمان کی کمزوری کا مرحلہ ہے ، اسے مرض کہہ کر اس حقیقت کی جانب رہنمائی کی گئی ہے کہ اس کا علاج کرنا ضروری ہے اگر علاج نہ کیا گیا تو یہی مرض پھر نفاق کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور علاج یہی ہے کہ انسان جس بات کا اقرار کرلے ، اس کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرتا رہے تو پھر ان شا اللہ نفاق سے بچا رہے گا۔

نوٹ۔ ایک عام انسان دوہری شخصیت کا حامل نہیں ہوتا۔ اسی لیے عمومی اصول یہی ہے کہ اپنے نظریات اور عقائد کے متعلق کوئی شخص اپنی عملی زندگی میں بھی قول وفعل کے تضاد کا شکار ہو جاتا ہے، دوسروں کو دھوکہ دینے اور جھوٹ بولنے میں جھجک محسوس نہیں کرتا اور لوگوں کا اعتماد کھو بیٹھتا ہے اس کے نتیجے میں جب اسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کی سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ اسے اس اصول کا شعور نہیں ہوتا۔

نوٹ۔ اس آیت میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ مرض میں اضافہ تو اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے لیکن اس کا ذمہ دار انسان ہے اور اسے ہی دردناک عذاب بھگتنا ہو گا اس کی وجہ یہی ہے کہ اضافہ اللہ کے تخلیق کردہ اصول کے تحت ہوتا ہے اس لیے فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے جبکہ اصول کا لحاظ نہ کرنے کی وجہ سے ذمہ دار انسان ہے۔ اصول یہ ہے کہ اپنے لیے کسی بھی راستے کا انتخاب کرنے کے لیے انسان آزاد ہے انسان خواہ کسی بھی راستے کا انتخاب کرے ابتدا میں ہر راستے میں اسے مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے مثلا ایک شخص خدمت خلق کا پروگرام بناتا ہے اور دوسرا ڈاکے ڈالنے کا پروگرام بناتا ہے تو دونوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر وہ ثابت قدم رہتے ہیں تو آہستہ آہستہ ان کا منتخب کردہ راستہ ان کے لیے آسان کردیا جائے گا یہ عام مشاہدہ کی بات ہے کہ کوئی جب ایک کام تسلسل سے کرتا رہتا ہے تو رفتہ رفتہ اس کام میں اسے ملکہ اور مہارت حاصل ہو جاتی ہے یہ مہارت تو اللہ دیتا ہے لیکن انتخاب انسان کا ہوتا ہے اس لیے نتیجہ کا ذمہ دار انسان ہوتا ہے۔

اسی طرح کوئی اگر اپنے مرض کا علاج نہ کرے اور اپنے مریض رویہ پر ہی کاربند رہے تو پھر یہی رویہ اس کے لیے آسان کردیا جاتا ہے یعنی اس کے مرض میں اضافہ ہوتا رہتا ہے وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَ رْضِ    ۙ   قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ    11۝
[ وَاِذَا قِيْلَ: اور جب بھی کہا جاتا ہے] [ لَھُمْ: ان لوگوں سے] [ لَا تُفْسِدُوْا: تم لوگ نظم خراب مت کرو] [ فِى الْاَ رْضِ ۙ : زمین میں ] [ قَالُوْٓا: وہ لوگ کہتے ہیں] [ اِنَّمَا نَحْنُ: ہم تو بس] [ مُصْلِحُوْنَ: اصلاح کرنے والے ہیں]

 

ف س د

 [ فسادا: (ن۔ ض) کسی چیز کا نظم بگڑ جانا، خراب ہونا، یہ صلح کی ضد ہے۔ [ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ : اور اگر نہ ہوتا اللہ کا دفع کرنا لوگوں کو، ان کے بعض کو بعض سے تو زمین بگڑ جاتی یعنی اجتماعی نظام کا توازن بگڑجاتا)

 [ فساد: اسم ذات ہے۔ نظم کی خرابی یا بگاڑ۔ [ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ: ظاہر ہوئی نظم کی خرابی، خشکی اور تری میں بسبب اسکے جو کمایا لوگوں کے ہاتھوں نے)

 [ افسادا۔ کسی چیز کا نظم بگاڑنا، خراب کرنا۔ [ وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ: اور کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے ، کیا تو چھوڑتا ہے موسیٰ اور ان کی قوم کو تاکہ وہ لوگ انتظام کو بگاڑ دیں زمین میں]

 [ مُفسِدُ: اسم الفاعل ہے، نظم بگاڑنے والا۔ اِنَّ يَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ: بےشک یاجوج اور ماجوج نظام بگاڑنے والے ہیں زمین میں) ۔

 ص ل ح

 [ صلاحا: (ف) ۔ نظم کا ٹھیک ہونا، درست ہونا [ جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ: عدن کے باغات ، وہ لوگ داخل ہوں گے اس میں، اور جو درست ہوا ان کے آباواجداد میں سے اور ان کے جوڑوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے]

 [ صالح: اسم الفاعل ہے، نظم کا درست ہونے والا۔ صفت کے طور پر استعمال ہوتا ہے یعنی نیک [ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا : پس جو امید رکھتا ہے اپنے رب سے ملاقات کی، تو اسے چاہیے کہ وہ عمل کرے ، درست نظم والا عمل یعنی نیک عمل)

 [ اصلاحا: (افعال) ۔ نظم کو درست کرنا، نظم کی خرابی کو دور کرنا (اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْا : سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اس کے بعد، اور نظم کی خرابی کو دور کیا]

 [ مصلح: اسم الفاعل ہے۔ نظم کی خرابی کو دور کرنے والا، اصلاح کرنے والا، [ وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ: اور نہیں ہے تیرا رب کہ وہ ہلاک کرے بستیوں کو ظلم کے ساتھ، اس حال میں کہ ان کے لوگ اصلاح کرنے والے ہوں)

ترکیب

قیل، ماضی مجہول ہے اور لھم اس کا متعلق فعل ہے ۔ لاتفسدوا فعل نہی ہے اور فی الارض اس کا متعلق فعل ہے نحن مبتدا ہے اور اسم الفاعل مصلحون اس کی خبر ہے۔ انھم میں ھم کی ضمیر اِن کا اسم ہے اس کی خبر المفسدون معرف باللام ہے اس لیے درمیان میں ضمیر فاصل ھم لائی گئی ہے ۔ لایشعرون مضارع منفی ہے۔

نوٹ۔ اذ اور اذا۔ یہ دونوں الفاظ ظرف زمان ہیں یعنی ان دونوں میں کام کرنے یا ہونے کے وقت کا مفہوم ہوتا ہے ۔ فرق یہ ہے کہ اذ میں وقت کی ابتدا کا مفہوم ہوتا ہے اس لیے اس کا بہتر ترجمہ ہے جس وقت یا جبکہ ، یہی وجہ ہے کہ اذ کے ترجمہ میں عموما ماضی کا مفہوم ہوتا ہے خواہ وہ مضارع پر آیا ہو لیکن اذا میں کسی معین وقت کا مفہوم نہیں ہوتا اس لیے اس کا بہتر ترجمہ ہے جب بھی یا جب کبھی بھی۔ چنانچہ اذا کے ترجمہ میں عموما حال یا مستقبل کا مفہوم ہوتا ہے خواہ وہ ماضی پر آیا ہو۔

نوٹ۔ اِنَّمَا: ایک لفظ ہے۔ اس کے معنی ہیں کچھ نہیں سوائے اس کے کہ بات اتنی ہے بس کہ، جبکہ ، ان ما، دو لفظ ہیں۔ اس میں ما دراصل ما موصولہ ہے اور ان کا اسم ہے اس کے معنی ہیں بےشک وہ جو کہ بےشک جو کچھ کہ۔ قرآن مجید میں کہیں کہیں ان ما کو ملا کر انما لکھا گیا ہے لیکن عبارت میں فرق صاف پتہ چل جاتا ہے۔

نوٹ۔ اردو میں فساد کا لفظ لڑائی جھگڑے اور قتل وغارت گری کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یہ مفہوم لفط فساد کے لغوی مفہوم سے ہی ماخوذ ہے کسی معاشرے میں جب حقوق وفرائض کا توازن بگڑ جاتا ہے کچھ لوگوں کو ان کے حق سے زیادہ ملنے لگتا ہے اور کچھ لوگوں کی حق تلفی ہوتی رہتی ہے تو اس کا آخری نتیجہ پھر لڑائی جھگڑے اور قتل وغارت گری کی شکل میں ہی سامنے آتا ہے۔ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ   12۝
[ اَلَآ: خبردار رہو] [ اِنَّھُمْ: بےشک یہ لوگ] [ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ: ہی نظم بگاڑنے والے ہیں] [ وَلٰكِنْ: اور لیکن] [ لَّا يَشْعُرُوْنَ : یہ لوگ ادراک حاصل نہیں کرتے]

 

نوٹ 4 : اَلَآ۔ ایک لفظ ہے اور یہ کلمہ تنبیہ ہے اسی لحاظ سے اس کے مختلف ترجمے کیے جاتے ہیں مثلا، سنو۔ آگاہ ہو جاؤ، خبردار ہو۔ وغیرہ ۔ کبھی حرف استفہام أ اور لا نافیہ ساتھ آتے ہیں تب بھی الا بنتا ہے جس کے معنی ہیں کیا نہیں ان دونوں میں فرق عبارت کے مفہوم سے کیا جاتا ہے۔

نوٹ 5۔ لٰكِنْ: اور لکنَّ کے معنی میں کوئی فرق نہیں ہے اور دونوں کے معنی ہیں لیکن۔ البتہ ان کے استعمال میں فرق ہے لکن اسم اور فعل دونوں پر آتا ہے اور غیر عامل ہے یعنی یہ اپنے اسم یا فعل مضارع میں کوئی اعرابی تبدیلی نہیں لاتا جبکہ لکن فعل پر نہیں آتا بلکہ صرف اسم پر آتا ہے اور یہ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے۔

نوٹ 6: انسانوں کے ایک مخصوص گروہ کے رویہ اور کردار کی نشان دہی کا سلسلہ گزشتہ آیات سے شروع ہوا تھا جو ابھی جاری ہے۔ اس کا آغاذ آیت نمبر 8 میں ومن الناس من یقول کے الفاظ سے ہوا تھا اب نوٹ کریں کہ آیت زیر مطالعہ میں واذا قیل لھم کے الفاظ میں ھم کی ضمیر اسی انسانی گروہ کے لیے آئی ہے یہ کردار ہر دور اور ہر معاشرہ میں پایا جاتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ اذ قیل کہنے کے بجائے اذا قیل کہا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔

نوٹ 7: کسی بھی نظریہ یا عقیدہ کو ماننے والوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس کا زبانی اقرار تو کرتے ہیں لیکن یقین نہیں رکھتے ایسے ہی لوگ پھر اس نظریہ کے نظام میں تبدیلی کی مہم چلاتے ہیں لیکن یہ کام وہ لوگ اصلاح کے نام پر کرتے ہیں۔ وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ كَمَآ اٰمَنَ السُّفَهَاۗءُ     ۭ   اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَهَاۗءُ وَلٰكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ  13۝
[ وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ: اور جب بھی کہا جاتا ہے ان لوگوں سے] [ اٰمِنُوْا: تم لوگ ایمان لاؤ] [ كَمَآ: جیسا کہ] [ اٰمَنَ النَّاسُ: ایمان لائے یہ لوگ] [ قَالُوْٓا: وہ لوگ کہتے ہیں] [ اَنُؤْمِنُ: کیا ہم ایمان لائیں] [ كَمَآ: جیسا کہ] [ اٰمَنَ السُّفَهَاۗءُ ۭ: ایمان لائے یہ بےوقوف لوگ] [ اَلَآ: خبردار رہو] [ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَهَاۗءُ: یقینا یہ لوگ ہی بےوقوف ہیں] [ وَلٰكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ: اور لیکن وہ جانتے نہیں ہیں]

 

س ف ھ

 [ سفھا: جسم کا ہلکا ہونا۔ بےوقوف ہونا۔ [ وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ ۭ: اور کون منہ پھیرتا ہے ابراہیم کے دین سے مگر وہ جو بےوقوف ہوا بلحاظ اپنے نفس کے]

 [ سفاھۃ: اسم ذات ہے، بےوقوفی۔ [ اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ سَفَاهَةٍ : بےشک ہم خیال کرتے ہیں کہ تم کو بےوقوفی میں]

 [ سفیھ: فعیل کے وزن پر صفت ہے بےوقوف ہونے والا یعنی بےوقوف۔ [ فَاِنْ كَانَ الَّذِيْ عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيْهًا اَوْ ضَعِيْفًا: پس اگر جس پر حق ہے وہ بےوقوف ہو یا ضعیف ہو] [ سَيَقُوْلُ السُّفَهَاۗءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ: کہیں گے لوگوں میں سے بےوقوف لوگ، کس چیز نے پھیر دیا ان لوگوں کو ان کے قبلہ سے)

 ترکیب۔ آمنو فعل امر ہے اور کما امن الناس متعلق فعل ہے انومن میں فعل مضارع حرف استفہام أ کے ساتھ ہے انھم میں ھم ان کا اسم ہے اور اس کے بعد والاھم ضمیر فاعل ہے کیونکہ ان کی خبر السفہا معرف باللام ہے۔

نوٹ 1: قالوا فعل ماضی ہے لیکن چونکہ بات اذا سے شروع ہوئی ہے اس لیے قیل کی طرح قالوا کا ترجمہ بھی حال میں کیا گیا ہے۔

نوٹ 2: الناس، السفھاء، پر لام جنس نہیں ہے بلکہ لام تعریف ہے یعنی ایسے مخصوص لوگوں کی بات ہو رہی ہے جو بات کہنے اور سننے والے کے ذہن میں موجود ہیں۔ اسے معھود ذہنی کہتے ہیں اور اردو ترجمہ میں اس مفہوم کی ادائیگی لفظ ، یہ ، یا ان سے ہی ممکن ہے۔

نوٹ 3: نزول قرآن کے وقت الناس سے مراد صحابہ کرام تھے اس سے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہی ایمان قابل قبول ہے جو صحابہ کرام کا تھا آج کے دور میں الناس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا ایمان صحابہ کرام جیسا ہے ایمان کی کمیت میں یعنی ایمان کے کم یا زیادہ ہونے میں تو ہم لوگ صحابہ کرام کی برابری نہیں کرسکتے ۔ لیکن ایمان کی کیفیت میں صحابہ کرام کی نقل کرنا ضروری ہے نزول قرآن کے وقت ان کے ایمان کی وجہ سے صحابہ کرام کو نعوذ باللہ بیوقوف سمجھنا اور کہنا، اس دور کا فیشن تھا اب ان کے جیسا ایمان رکھنے والوں کو بےوقوف سمجھنا اور کہنا ہمارے دور کا فیشن ہے۔ وَاِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا      ښ    وَاِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ   ۙ   قَالُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ   ۙ   اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ   14۝
[ وَاِذَا: اور جب کبھی] [ لَقُوا: وہ لوگ ملتے ہیں] [ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا: ان لوگوں سے جو ایمان لائے] [ قَالُوْٓا: تو وہ لوگ کہتے ہیں] [ اٰمَنَّا: ہم ایمان لائے] [ ښ وَاِذَا: اور جب کبھی] [ خَلَوْا اِلٰى: تنہائی میں ملتے ہیں] [ شَيٰطِيْنِهِمْ ۙ: اپنے شیطانوں سے] [ قَالُوْٓا: تو کہتے ہیں] [ اِنَّا: بےشک ہم ] [ مَعَكُمْ ۙ: تمہارے ساتھ ہیں] [ اِنَّمَا نَحْنُ: ہم تو بس] [ مُسْتَهْزِءُوْنَ: مذاق کرنے والے ہیں]

 

ل ق ی

 [ لقاء: کسی کے سامنے آنا، ملنا۔ [ ۚوَاِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا ۑ وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ: اور جب بھی تمہارے سامنے آتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب تنہا ہوتے ہیں تو انگلیاں چباتے ہیں تم پر غصہ سے] [ وَاتَّـبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا : ان لوگوں نے ضائع کیا نماز کو اور پیروی کی خواہشات کی تو عنقریب وہ ملیں گے گمراہی سے] [ بَلْ هُمْ بِلِقَاۗئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ: بلکہ وہ لوگ اپنے رب سے ملنے کا انکار کرنے والے ہیں]

 [ یلق: مضارع مجزوم ہے۔ [ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا: اور جو یہ کرے گا تو وہ ملے گا عذاب سے]

 [ لاق: اسم الفاعل ہے۔ ملنے والا۔ [ اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَـنًا فَهُوَ لَاقِيْهِ: تو جس سے وعدہ کیا ہم نے ایک اچھا وعدہ، تو وہ ملنے والا ہے اس سے]

 [ القاء: کسی کو کسی کے سامنے کرنا۔ ڈالنا ۔ زمین پر پھینکنا ۔ [ وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا: اور تم لوگ مت کہو اس سے جس نے ڈالا تمہاری طرف سلام یعنی سلام کیا کہ تو مومن نہیں ہے] [ قَالَ اَلْقُوْا ۚ فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْٓا اَعْيُنَ النَّاسِ: انہوں نے یعنی موسیٰ نے کہا تم لوگ ڈالو۔ پس جب ان لوگوں نے ڈالا تو انہوں نے جادو کیا لوگوں کی آنکھوں پر] [ سَـنُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ: ہم ڈال دیں گے ان کے دلوں میں جنہوں نے کفر کیا رعب کو] [ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ: اور آپ ان کے پاس نہیں تھے جس وقت وہ لوگ ڈال رہے تھے اپنے قلم یعنی قلم کے ذریعہ قرعہ نکار رہے تھے ]۔ اس میں یلقون مضارع ہے لیکن اذ کی وجہ سے ماضی میں ترجمہ ہوگا۔

 [ اُلقی: ماضی مجہول ہے [ فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ: تو کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کچھ کنگن سونے کے]

 [ الق۔ فعل امر ہے تو ڈال [ وَاَلْقِ مَا فِيْ يَمِيْنِكَ: اور تو ڈال جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے ] اس کی جمع القوا آتی ہے ۔

 [ فلیلقہ: فعل امر غائب ہے ۔ چاہیے کہ وہ ڈالے [ اَنِ اقْذِفِيْهِ فِي التَّابُوْتِ فَاقْذِفِيْهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ: تو یعنی موسیٰ کیوالدہ رکھ دے اس کو تابوت میں پھر تو رکھ دے اس کو دریا میں پھر دریا کو چاہیے کہ وہ ڈال دے اس کو ساحل پر]

 [ ملقون۔ اسم الفاعل ۔ ملقِ کی جمع ہے ڈالنے والے۔ [ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰٓي اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ: کہا ان سے موسیٰ نے کہ تم لوگ ڈالو جو تم ڈالنے والے ہو]

 [ تلقیۃ۔ (تفعیل) کسی کے سامنے پھینکنا۔ دینا۔ [ فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّسُرُوْرًا: تو بچایا ان کو اللہ نے اس دن کے شر سے اور دیا ان کو تازگی اور سرور۔

 [ یلقی۔ مضارع مجہول ہے۔ [ وَمَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ: اور یہ نہیں دی جاتی مگر بڑے نصیب والوں کو]

 [ ملاقاۃ: ایک دوسرے کے سامنے آنا۔ ایک دوسرے سے ملنا ۔ ملاقات کرنا ۔ [ فَذَرْهُمْ حَتّٰى يُلٰقُوْا يَوْمَهُمُ الَّذِيْ فِيْهِ يُصْعَقُوْنَ: تو آپ چھوڑ دیں ان کو یہاں تک کہ وہ لوگ ملاقات کریں اپنے اس دن سے جس میں وہ بےہوش ہوں گے]

 [ ملاق۔ (مفاعلہ) اسم الفاعل ہے۔ ملاقات کرنے والا ۔ [ اِنِّىْ ظَنَنْتُ اَنِّىْ مُلٰقٍ حِسَابِيَهْ: بےشک مجھے گمان تھا کہ میں ملاقات کرنے والا ہوں اپنے حساب سے] [ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ: اور جو اللہ سے یعنی اس کی ناراضگی سے اور جان لو کہ تم لوگ ملاقات کرنے والے ہو اس سے]

 [ تلقاء: تفعال کے وزن پر ظرف ہے ۔ ملاقات کی جگہ۔ [ تِلْقَاۗءَ اَصْحٰبِ النَّارِ: آگ والوں کی طرف]

 [ تلقِ: (تفعیل) ۔ بتکلف کسی کے سامنے آنا۔ استقبال کرنا۔ بتکلف کسی سے کچھ حاصل کرنا۔ سیکھنا۔ [ فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ: تو سیکھا آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات] [ لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : ان لوگوں کو غمگین نہیں کرے گی بڑی گھبراہٹ اور استقبال کریں گے ان کا فرشتے]

 [ التقاء (افتعال) ۔ اہتمام سے ملنا۔ [ اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ: بےشک جن لوگوں نے منہ موڑا تم میں سے جس دن ملیں دو فوجیں] [ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ،بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيٰنِ: اس نے بہایا دو سمندروں کو وہ دونوں ملتے ہیں ان کے مابین ایک پردہ وہ حد سے نہیں بڑھتے]

 [ خلاء: کسی چیز، جگہ یا زمانہ کا خالی ہونا۔ تنہا ہونا۔ زمانہ میں گزرنے کا مفہوم ہوتا ہے اس لیے یہ خلوۃ گزرنے یا جانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ [ تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ: وہ ایک امت ہے جو گزری ہے اس کے لیے ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لیے ہے جو تم نے کمایا۔ [ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۭ: اور ابھی آیا نہیں تم لوگوں کے پاس ان لوگوں کی طرح یعنی ان کے جیسے حالات جو گزرے تم سے پہلے]یہ فعل جب الی کے ساتھ آتا ہے تو معنی ہوتے ہیں تنہائی میں ملنا۔ [ وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰى بَعْضٍ: اور تنہائی میں ملتے ہیں ان کے بعض بعض سے]

 [ تخلیۃ: (تفعیل) کسی کو گزرنے دینا۔ آزاد چھوڑ دینا [ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ: پس اگر وہ لوگ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو تم لوگ چھوڑ دو ان کا راستہ]

 [ تخل: (تفعل) بتکلف خالی ہونا ۔ [ وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ، وَاَلْقَتْ مَا فِيْهَا وَتَخَلَّتْ: اور جب زمین دراز کی جائے گی اور وہ ڈال دے گی جو اس میں ہے اور وہ خالی ہو جائے گی]

ھ ز ء

 [ ھزءا: (ف ۔ س) مذاق اڑانا، کسی کا مذاق بنانا [ ۭ وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اٰيٰتِ اللّٰهِ ھُزُوًا : اور تم لوگ مت بناؤ اللہ کی آیات کو مذاق کا ذریعہ]

 [ استھزاء: کسی سے مذاق کرنا۔ [ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُ وْنَ: کیا اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول سے تم لوگ مذاق کرتے ہو]

 [ مستھزء: اسم الفاعل ہے۔ مذاق کرنے والا۔ آیات زیر مطالعہ]

ترکیب۔ فعل لَقُوا کا فاعل اس کی ضمیر ھم ہے اور الَّذِيْنَ اس کا مفعول ہے الَّذِيْنَ کولَقُوا کا فاعل ماننا ممکن نہیں ہے کیونکہ جملہ فعلیہ جمع کے صیغے سے شروع ہو رہا ہے آمنو بدل ہے الذین کا اسی طرح سے فعل خَلَوْا کا فاعل بھی اس کی ضمیر ھم ہے اوراِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ متعلق فعل کہلائے گا اسم الفاعل ہے اور نَحْنُ کی خبر ہے۔

نوٹ 1: دونوں فریقوں سے بنا کر رکھنے کا رویہ وہ انسان اختیار کرتا ہے جسے اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کون حق پر ہے اور کون زیادتی کر رہا ہے اسے صرف ایک فکر ہوتی ہے کہ کسی بھی صورت میں اس کے مفادات پر کوئی آنچ نہ آئے چمن میں چاہے بوم بسے یا ہما رہے۔ اَللّٰهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّھُمْ فِىْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَھُوْنَ   15۝
[ اَللّٰهُ يَسْتَهْزِئُ :: اللہ مذاق کرتا ہے ] [ بِهِمْ : ان سے] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ يَمُدُّھُمْ: وہ ڈھیل دیتا ہے ان کو] [ فِىْ طُغْيَانِهِمْ: ان کی سرکشی میں] [ يَعْمَھُوْنَ: وہ لوگ بھٹکتے ہیں]

 

م د د

 [ مددا: (ن) مدد دینا]

 [ مدا: دراز کرنا۔ مہلت دینا [ اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ: کیا آپ نے دیکھا نہیں اپنے رب کو کہ اس نے کیسے دراز کیا سائے کو] [ كَلَّا ۭ سَنَكْـتُبُ مَا يَقُوْلُ وَنَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا: ہم لکھ لیں گے جو وہ کہتا ہے اور ہم دراز کریں گے اس کے لیے عذاب جیسا کہ دراز کرنے کا حق ہے]

 [ مددُ: مصدر کے علاوہ اسم ذات بھی ہے ۔ مدد ۔ [ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا: اور اگر ہم لے آئیں اس کے جیسا بطور مدد کے]

 [ مدۃ: اسم ذات ہے معین عرصہ یعنی دراز کیا ہوا زمانہ ۔ مدت ۔ [ فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ : تو تم لوگ پورا کرو ان سے کیا ہوا وعدہ ان کی مدت تک]

 [ مداد: اسم ذات ہے۔ روشنائی ۔ [ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ: اگر ہوتا سمندر روشنائی میرے رب کے فرمانوں کے لیے تو ختم ہوتا سمندر قبل اس کے کہ ختم ہوتے میرے رب کے فرمان]

 [ ممدود: اسم المفعول ہے ۔ دراز کیا ہوا ۔ بڑھایا ہوا۔ [ وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا: اور میں نے بنایا اس کے لیے بڑھایا ہوا مال]

 [ لا تمد: فعل نہی ہے ۔ تو دراز مت کر] [ لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖٓ : تم ہر گز درازمت کرو اپنی دونوں آنکھوں کو یعنی آنکھ اٹھا کر بھی مت دیکھو جو ہم نے برتنے کے لیے دیا]

 [ امدادا: (افعال) مدد کرنا [ اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّبَنِيْنَ: اس نے مدد کی تمہاری چوپایوں سے اور بیٹوں سے]

 [ ممد: اسم الفاعل ہے ۔ مدد کرنے والا۔ [ اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ: کہ میں مدد کرنے والا ہوں تمہاری ایک ہزار فرشتوں سے]

 [ تمدیدا: (تفعیل) ۔ کسی چیز کو پھیلانا ۔

 [ ممدد: اسم المفعول ہے۔ پھیلایا ہوا ۔ [ فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ: پھیلائے ہوئے ستون میں]

ط غ ی

 [ طغیا: حد سے گزرنا۔ سرکشی کرنا ۔ [ اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰي: آپ جائیں فرعون کی طرف بےشک اس نے سرکشی کی] [ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى: بےشک انسان سرکشی کرتا ہے]

 [ طاغ: اسم الفاعل ہے ۔ سرکشی کرنے والا۔ [ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ : بلکہ وہ لوگ سرکشی کرنے والی قوم ہیں]

 [ لا تطغ: فعل نہی ہے ۔ تو سرکشی مت کر۔ حد سے تجاوز مت کر۔ [ اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ: کہ تم لوگ حد سے تجاوز مت کرو ترازو میں یعنی تول میں]

 [ طغیان: فعلان کے وزن پر اسم مبالغہ ہے۔ حد سے بہت زیادہ تجاوز ۔ بہت زیادہ سرکشی ۔ [ فَنَذَرُ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ: تو ہم چھوڑ دیتے ہیں ان لوگوں کو جو امید نہیں رکھتے ہماری ملاقات کی اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں]

 [ طاغوت: سرکشی کا ذریعہ۔ واحد اور جمع دونوں کے لیے آتا ہے۔ [ وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ: اور ہم نے بھیجا ہے ہر امت میں ایک رول کہ تم لوگ عبادت کرو اللہ کی اور تم لوگ بچو سرکشی کے ذریعوں سے]

 [ اطغاء: (افعال) سرکشی پر اکسانا، ابھارنا۔ [ رَبَّنَا مَآ اَطْغَيْتُهٗ وَلٰكِنْ كَانَ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ: اے ہمارے رب میں نے سرکشی پر نہیں اکسایا اس کو بلکہ وہ تھا دور کی گمراہی میں]

ع م ھ

 [ عمھا: (ف ۔ س) عمھا ۔ فقدان بصیرت کی وجہ سے بھٹکنا ۔ حیران ہونا۔ طغیان کی مثال میں دی گئی آیت نمبر 10، 11۔]

 

ترکیب: لفظ اللہ مبتدا ہے اوريَسْتَهْزِئُ بِهِمْ جملہ فعلیہ اس کی خبر ہے۔ يَمُدُّھُمْ جملہ فعلیہ ہے يَعْمَھُوْنَ بھی جملہ فعلیہ ہے ۔ لیکن یہ گزشتہ دونوں جملوں کے مفعول ھم کا حال ہے۔ فِىْ طُغْيَانِهِمْ کو یمدھم کا متعلق فعل بھی کہا جاسکتا ہے اور يَعْمَھُوْنَ کا بھی ۔ کیونکہ دونوں کی گنجائش موجود ہے اس لیے آیت دونوں مفہوم درست تسلیم کیے جائیں گے۔

نوٹ 1: بعض جملوں میں فاعل یا مفعول کی حالت کا بیان ہوتا ہے ۔ اسے حال کہتے ہیں جیسے جاء زید ضاحکا ۔ (زید ہنستے ہوئے آیا) اس میں ضاحکا زید یعنی فاعل کا حال ہے۔ حال کے لیے کبھی پورا جملہ آتا ہے جیسے آیت زیر مطالعہ میں یعمھون ہے۔ اور کبھی کوئی اسم آتا ہے ۔ جیسے ضاحکا ہے۔ کوئی اسم جب حال کے طور پر آتا ہے تو وہ ہمیشہ حالت نصب میں ہوتا ہے۔

 نوٹ 2: آیت زیر مطالعہ کی ترکیب میں بتایا گیا ہے کہ فِىْ طُغْيَانِهِمْ کو يَمُدُّھُمْ اور يَعْمَھُوْنَ ، دونوں سے متعلق ماننے کی گنجائش ہے۔ اس سے مفہوم میں جو فرق پڑتا ہے اسے سمجھ لیں۔ فی طغیانھم کو اگر یمدھم کے ساتھ مانیں تو مطلب ہو گا کہ اللہ ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ بھٹکتے رہیں اور اگر اسے ہم یعمھون کے ساتھ مانیں تو مطلب ہو گا کہ اللہ ان کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔

اب اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ مذکورہ بالا ایک فرق کے باوجود اصل بات میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوتا پھر بھی ہم نے یہ وضاحت ایک مقصد سے کی ہے اس مقام پر یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ گرامر کی رو سے قرآن مجید کی کچھ آیات کے ایک سے زیادہ مطلب ممکن ہوتے ہیں ایسی صورت میں ہم کسی ایک مطلب کو ترجیح دے سکتے ہیں اور اس کے دلائل بیان کرسکتے ہیں لیکن دوسرے مطلب کو غلط قرار دینا درست نہیں ہے علم میں اضافہ کے ساتھ آپ کے ذہن میں وسعت آنی چاہیے ورنہ علم ضائع ہو جائے گا۔

نوٹ 3: لفظ عمۃ اور عمی کا فرق سمجھ لیں دونوں کا بنیادی لغوی مفہوم ہے آنکھوں کا بینائی سے محروم ہونا۔ لیکن عمی زیادہ تر ظاہری آنکھوں کے نابینا ہونے کے لیے استعمال ہوتا ہے اسی لیے اندھے کو اعمی کہتے ہیں ۔ اس کی جمع عمی ہے جبکہ دل کی آنکھوں کے نابینا ہونے کے لیے زیادہ تر عمہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور بصیرت کے فقدان کا لازمی نتیجہ چونکہ حیرانی اور سرگردانی ہے اس لیے عمہ ان معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى   ۠   فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُھُمْ وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ    16؀
[ اُولٰۗىِٕكَ: یہ لوگ ہیں] [ الَّذِيْنَ: جن لوگوں نے] [ اشْتَرَوُا: خریدا] [ الضَّلٰلَةَ: گمراہی کو] [ بِالْهُدٰى ۠ : ہدایت کے بدلے میں] [ فَمَا رَبِحَتْ: تو نفع بخش نہ ہوئی] [ تِّجَارَتُھُمْ: ان کی تجارت] [ وَمَا كَانُوْا: اور وہ لوگ نہیں تھے] [ مُهْتَدِيْنَ : ہدایت پانے والے]

ش ر ی (ض) شراء] سوداگری کرنا، خریدو فروخت کرنا، وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖٓ اَنْفُسَھُمْ ۭ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ (اور کتنا برا ہے جو ان لوگوں نے سودا کیا اپنے آپ کا، کاش وہ لوگ جانتے ہوتے)

(افتعال) اشتراء: خریدنا، کسی چیز کے بدلے کوئی چیز حاصل کرنا وَقَالَ الَّذِي اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ (اور کہا اس نے جس نے خریدا اس کو مصر سے)

ر ب ح: (س) ربحا: نفع بخش ہونا، آیت زیر مطالعہ۔

ترکیب: اُولٰۗىِٕكَ مبتدا ہے ، الَّذِيْنَ موصول اور اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى جملہ فعلیہ اس کا صلہ ہے ۔ موصول اور صلہ مل کر پورا جملہ اُولٰۗىِٕكَ کی خبر ہے ۔ رَبِحَتْ فعل (واحد مونث غائب کا صیغہ) اور تِّجَارَتُھُمْ اس کا فاعل ہے۔ كَانُوْا میں ھُم کی ضمیر مَا اور کَانَ کا اسم یعنی مبتداء ہے اور مُهْتَدِيْنَ ان دونوں کی خبر ہے اس لیے حالت نصب میں ہے ۔ اشْتَرَوُا دراصل اشْتَرَوْا ہے۔ آگے ملانے کے لیے واؤ پر ضمہ آئی ہے۔

نوٹ 1: عربی میں مفعول کے ساتھ صلہ کے استعمال کے متعلق ایک ابتدائی بات سمجھ لیں۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ متعلق خبر اور متعلق فعل زیادہ تر مرکب جاری بن کر آتے ہیں۔ جیسے الرجل جالس فی المسجد۔ اس میں مرکب جاری فی المسجد متعلق خبر ہے۔ ضربت زیدا بالسوط اس میں مرکب جاری بالسوط متعلق فعل ہے ۔

اب نوٹ کریں کہ یہی حروف جاری کبھی مفعول کے ساتھ آتے ہیں تو انہیں صلہ کہتے ہیں، جو مفعول صلہ کے بغیر آتے ہیں انہیں مفعول بنفسہ کہتے ہیں۔ مفعول پر صلہ آنے کی وجہ سے معنی میں کچھ فرق پڑتا ہے۔ اس بات کو اب چند مثالوں سے سمجھ لیں۔ سئلت زیدا اس میں زیدا مفعول ہے اور بنفسہ آیا ہے۔ اس کا مطلب ہے میں نے زید سے پوچھا ۔ سئلت عن زید۔ اب زید کے ساتھ عن کا صلہ آیا ہے اور اب مطلب ہوگیا کہ میں نے زید کے ابرے میں پوچھا۔ قرآن مجید میں ہے واذا سالک عبادی عنی ۔ اس میں جس سے پوچھا جارہا ہے اس کے لیے ضمیر مفعولی "ک" بنفسہ آئی ہے ۔ جس کے بارے میں پوچھا جارہا ہے اس کے لیے ضمیر مفعولی "نی " عن کے سلہ کے ساتھ آئی ہے جبکہ عبادی فاعل ہے ۔

غفرت للولد کذبہ۔ اس میں جس کو معافی دی جارہی ہے وہ الولد ہے اس کے ساتھ لام کا صلہ آیا ہے اور جو غلطی معاف کی جارہی ہے وہ کزبہ ہے ، اور یہ بنفسہ آیا ہے ۔ اسکا مطلب ہے میں نے لڑکے کے لیے اس کا جھوٹ معاف کیا۔ قرآن مجید میں ہے ان اللہ یغفر الذنوب جمعیا۔ اس میں جو غلطی معاف کی جارہی ہے وہ الذنوب ہے جو بنفسہ آئی ہے ۔ جمیعا (کل کے کل) حرف تاکید ہونے کی وجہ سے نصب میں ہے ۔ دوسری جگہ ہے یگفر لکم ذنوبکم۔ اس میں جس کو معافی دی جارہی ہے اس کے لیے ضمیر مفعولی " کم " کے ساتھ لام کا صلہ آیا ہے۔ اور جو غلطی معاف کی جارہی ہے وہ ذنوبکم ہے جو بنفسہ ہے۔ اس کا مطلب ہے وہ معاف کردے گا تم لوگوں کے لیے تمہارے گناہ۔ ایک اور جگہ یغفر لیکم من ذنوبکم۔ اب مطلب ہوگیا کہ وہ معاف کردے گا تمہارے لیے تمہارے گناہوں میں سے کچھ۔

نوٹ 2: کوئی مفعول کب بنفسہ آتا ہے اور کب کس صلہ کے ساتھ آتا ہے ، اس بات کا علم ہمیں ڈکشنری سے ہوتا ہے ۔ فعل اشتری، یشتری (افتعال) کے متعلق نوٹ کرلیں کہ خریدی جانے والی چیز کا ذکر اس میں بنفسہ آتا ہے اور قیمت کے طور پر جو چیز دی جاتی ہے اس پر ب کا صلہ آتا ہے، آیت زیر مطالعہ میں الضللۃ بنفسہ آیا ہے، اس لیے یہ وہ چیز ہے جو خریدی گئی یعنی حاصل کی گئی۔ جبکہ الھدی پر ب کا صلہ آیا ہے، اس لیے یہ وہ قیمت ہے جو ادا کی گئی۔

نوٹ 3 : سلسلہ کلام میں ایسے افراد کا ذکر ہے جنہیں ایمان کی بھی کچھ رمق حاصل ہوتی ہے لیکن وہ ضعف ایمان کے مریض ہوتے ہیں اس پس منظر میں آیت زیر مطالعہ کے یہ الفاظ اہم ہیں کہ انہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اختیار کی۔ اس سے یہ راہنمائی ملتی ہے کہ خواہشات کے غلبہ کی وجہ سے اگر مرض کا علاج نہ ہوسکے تو پھر انسان ہدایت کے راستے ایک ایک کر کے چھوڑتا جاتا ہے اور گمراہی میں آگے بڑھتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ پھر وہ Point of no Return پر پہنچ جاتا ہے۔

نوٹ 4 : کسی دل میں خواہشات اور امنگوں کا ہونا بذات خود کوئی بری بات نہیں۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے تخلیق کردہ نظام کا حصہ ہے اور ہر انسان کی جبلت ہے ۔ کم یا زیادہ، ہر دل میں امنگیں ہوتی ہیں، خواہ وہ کسی متقی کا دل ہو یا کسی فاسق و فاجر کا ہو، خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنی خواہشات کا تابعدار ہوجاتا ہے ، اس کا ٹیسٹ یہ ہے کہ عقل کے کسی فیصلہ پر اگر دل بھی گواہی دے دے ، لیکن اپنی کسی خواہش یا مفاد یا خاندان یا برادری کے دباؤ کی وجہ سے انسان اس فیصلہ پر عمل نہ کرسکے، تو گویا اس نے اپنی فطرت کی پکار سننے کے بجائے اپنی خواہشات کی پیروی شروع کردی ہے اور یہی گمراہی کی جڑ ہے۔ مَثَلُھُمْ كَمَثَلِ الَّذِى اسْـتَوْقَدَ نَارًا   ۚ   فَلَمَّآ اَضَاۗءَتْ مَا حَوْلَهٗ ذَھَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَتَرَكَھُمْ فِىْ ظُلُمٰتٍ لَّا يُبْصِرُوْنَ    17؀
[ مَثَلُھُمْ: ان لوگوں کی مثال] [ كَمَثَلِ الَّذِى: اس کی مثال کی مانند ہے جس نے] [ اسْـتَوْقَدَ نَارًا ۚ : جلایا آگ کو] [ فَلَمَّآ اَضَاۗءَتْ: پس جب اس نے روشن کیا] [ مَا حَوْلَهٗ: اس کو جو اس کے ارد گرد تھا] [ ذَھَبَ اللّٰهُ: تو اللہ لے گیا] [ بِنُوْرِهِمْ: ان کے نور کے ساتھ] [ وَتَرَكَھُمْ: اور اس نے چھوڑ دیا ان کو] فِىْ ظُلُمٰتٍ: اندھیروں میں] [ لَّا يُبْصِرُوْنَ: اس حال میں کہ وہ لوگ بصارت نہیں کرتے] ۻ بُكْمٌ عُمْىٌ فَھُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ  18۝ۙ
[ ۻ: بہترے ہیں] [ بُكْمٌ: گونگے ہیں] [ عُمْىٌ: اندھے ہیں] [ فَھُم: پس وہ لوگ] [ لَا يَرْجِعُوْنَ: نہیں پلٹیں گے] اَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ فِيْهِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعْدٌ وَّبَرْقٌ   ۚ   يَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَھُمْ فِىْٓ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ    ۭ   وَاللّٰهُ مُحِيْطٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ   19۝
[ اَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ: یا آسمان سے بارش کی مانند ہے] [ فِيْهِ: اس میں] [ ظُلُمٰتٌ: اندھیرے ہیں] [ وَّرَعْدٌ: اور بادل کی گرج ہے] [ وَّبَرْقٌ ۚ : اور بجلی کی چمک ] [ يَجْعَلُوْنَ: وہ لوگ رکھتے ہیں] [ اَصَابِعَھُمْ: اپنی انگلیوں کو] [ فِىْٓ اٰذَانِهِمْ: اپنے کانوں میں] [ مِّنَ الصَّوَاعِقِ: بجلی گرنے سے] [ حَذَرَ الْمَوْتِ ۭ : موت کے ڈر سے ] [ وَاللّٰهُ مُحِيْطٌۢ : اور اللہ گھیرنے والا ہے] [ بِالْكٰفِرِيْنَ: کافروں کو] يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ اَبْصَارَھُمْ   ۭ   كُلَّمَآ اَضَاۗءَ لَھُمْ مَّشَوْا فِيْهِ   ڎ   وَاِذَآ اَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوْا    ۭ   وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَذَھَبَ بِسَمْعِهِمْ وَاَبْصَارِهِمْ   ۭ   اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ 20۝ۧ
[ يَكَادُ: قریب ہے کہ] [ الْبَرْقُ: بجلی کی چمک] [ يَخْطَفُ: اچک لے] [ اَبْصَارَھُمْ ۭ : ان کی بصارت کو ] [ كُلَّمَآ: جب کبھی] [ اَضَاۗءَ لَھُمْ: روشنی ہوتی ہے ان کے لیے] [ مَّشَوْا فِيْهِ ڎ : وہ لوگ چلتے ہیں اس مین ] [ وَاِذَآ: اور جب کبھی] [ اَظْلَمَ عَلَيْهِمْ: اندھیرا چھا جاتا ہے ان پر] [ قَامُوْا ۭ : وہ لوگ کھڑے رہتے ہیں ] [ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ: اور اگر اللہ چاہتا ] [ لَذَھَبَ: تو وہ جاتا] [ بِسَمْعِهِمْ : ان کی سماعت کے ساتھ ] [ وَاَبْصَارِهِمْ ۭ : اور ان کی بصارت کے ساتھ ] [ اِنَّ اللّٰهَ: بیشک اللہ] [ عَلٰي كُلِّ شَىْءٍ: ہر چیز پر] [ قَدِيْرٌ : کامل قدرت رکھنے والا ہے] يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ   21۝ۙ
[ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ: اے لوگو] [ اعْبُدُوْا: تم لوگ بندگی کرو] [ رَبَّكُمُ: اپنے رب کی] [ الَّذِىْ: جس نے] [ خَلَقَكُمْ : پیدا کیا تم لوگوں کو ] [ وَالَّذِيْنَ: اور ان لوگوں کو جو] [ مِنْ قَبْلِكُمْ: تم سے پہلے تھے] [ لَعَلَّكُمْ: شاید کہ تم لوگ] [ تَتَّقُوْنَ : تقویٰ اختیار کرو] الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً   ۠   وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ   ۚ   فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ    22؀
[ الَّذِىْ جَعَلَ: جس نے بنایا] [ لَكُمُ: تمہارے لیے] [ الْاَرْضَ: زمین کو] [ فِرَاشًا: اس حال میں کہ وہ فرش ہے] [ وَّالسَّمَاۗءَ: اور آسمان کو] [ بِنَاۗءً ۠ : اس حال میں کہ وہ بلندی ہے] [ وَّاَنْزَلَ: اور اس نے اتارا] [ مِنَ السَّمَاۗءِ: آسمان سے] [ مَاۗءً: پانی کو] [ فَاَخْرَجَ: تو اس نے نکالا] [ بِهٖ: اس سے] [ مِنَ الثَّمَرٰتِ: پھلوں میں سے] [ رِزْقًا: رزق کو] [ لَّكُمْ ۚ : تمہارے لیے] [ فَلَا تَجْعَلُوْا: پس تم لوگ مت بناؤ] [ لِلّٰهِ: اللہ کے لیے] [ اَنْدَادًا : کوئی مد مقابل] [ وَّ: اس حال میں کہ] [ اَنْتُمْ: تم لوگ] [ تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہو] وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ    ۠   وَادْعُوْا شُهَدَاۗءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ   23؀
[ وَاِنْ: اور اگر] [ كُنْتُمْ: تم لوگ ہو] [ فِىْ رَيْبٍ: کسی شک میں] [ مِّمَّا: اس کے بارے میں جو] [ نَزَّلْنَا: ہم نے اتارا] [ عَلٰي عَبْدِنَا: اپنے بندے پر] [ فَاْتُوْا: تو تم لوگ آؤ] [ بِسُوْرَةٍ: ایک سورہ کے ساتھ] [ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۠ : کس طرح اسکے جیسی] [ وَادْعُوْا : اور تم لوگ بلاؤ] [ شُهَدَاۗءَكُمْ: اپنے مددگاروں کو] [ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ: اللہ کے علاوہ] [ اِنْ كُنْتُمْ: اگر تم لوگ ہو] [ صٰدِقِيْنَ: سچے] فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ      ښ    اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ   24؀
[ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا: تو اگر تم ولگ نہ کرسکو] [ وَلَنْ تَفْعَلُوْا: اور تم لوگ ہرگز نہ کرسکو گے] [ فَاتَّقُوا النَّارَ : تو بچو اس آگ سے] [ الَّتِىْ وَقُوْدُھَا: جس کا ایندھن ہیں] [ النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ښ : انسان اور پتھر] [ اُعِدَّتْ: جو کہ تیار کی گئی ہے] [ لِلْكٰفِرِيْنَ: انکار کرنے والوں کے لیے] وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ    ۭ   كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَـــرَةٍ رِّزْقًا    ۙ   قَالُوْا ھٰذَا الَّذِىْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ    ۙ    وَاُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا    ۭ    وَلَھُمْ فِيْهَآ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ     ڎ    وَّھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ   25؀
[ وَبَشِّرِ: اور آ] بشارت دیجیے] [ الَّذِيْنَ: ان لوگوں کو جو] [ اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ: اور نیک عمل کیے] [ اَنَّ: کہ] [ لَھُمْ: ان کے لیے] [ جَنّٰتٍ: باغات ہیں] [ تَجْرِىْ: بہتی ہیں] [ مِنْ تَحْتِهَا: جن کے دامن میں] [ الْاَنْهٰرُ ۭ : نہریں] [ كُلَّمَا: جب بھی] [ رُزِقُوْا: ان کو دیا جائے گا] [ مِنْهَا: اس میں] [ مِنْ ثَمَـــرَةٍ: کوئی پھل] [ رِّزْقًا ۙ : رزق ہوتے ہوئے] [ قَالُوْا: وہ لوگ کہیں گے] [ ھٰذَا الَّذِىْ: یہ ہے جو] [ رُزِقْنَا: ہم کو دیا گیا] [ مِنْ قَبْلُ ۙ : اس سے پہلے] [ وَاُتُوْا بِهٖ : اور وہ لایا جائے گا] [ مُتَشَابِهًا ۭ : باہم ملتا جلتا ہونے والا ہوتے ہوئے] [ وَلَھُمْ فِيْهَآ: اور ان کے لیے ہیں اس میں] [ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ڎ : پاک کیے ہوئے جوڑے] [ وَّھُمْ: اور وہ لوگ] [ فِيْهَا : اس میں] [ خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ ایک حالت میں رہنے والے ہیں] اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْىٖٓ اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا     ۭ  فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ   ۚ   وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَيَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا  ۘ يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا    ۙ وَّيَهْدِىْ بِهٖ كَثِيْرًا    ۭ   وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ   26؀ۙ
[ اِنَّ اللّٰهَ: بیشک اللہ] [ لَا يَسْتَحْىٖٓ: حیا نہیں کرتا] [ اَنْ يَّضْرِبَ : کہ وہ بیان کرے] [ مَثَلًا مَّا: کوئی سی بھی مثال] [ بَعُوْضَةً : مچھر کے بچے کی] [ فَمَا فَوْقَهَا ۭ : یا جو اس سے بڑھ کر ہے (حقیر ہونے میں) ] [ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا: پس وہ لوگ جو ایمان لائے] [ فَيَعْلَمُوْنَ: وہ لوگ تو جانتے ہیں] [ اَنَّهُ الْحَقُّ: کہ یہ سچائی ہے] [ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ : ان کے رب سے] [ وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا: اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا] [ فَيَقُوْلُوْنَ: وہ لوگ تو کہتے ہیں] [ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰهُ: اللہ نے کیا ارادہ کیا] [ بِهٰذَا: اس سے] [ مَثَلًا ۘ : بطور مثال کے] [ يُضِلُّ بِهٖ: وہ گمراہ کرتا ہے اس سے] [ كَثِيْرًا ۙ : بہتوں کو] [ وَّيَهْدِىْ بِهٖ: اور وہ ہدایت دیتا ہے اس سے] [ كَثِيْرًا ۭ: بہتوں کو] [ وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ: اور وہ گمراہ نہیں کرتا اس سے] [ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ : مگر نافرمانی کرنے والوں کو] الَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِه   ٖ  ۠   وَ يَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ   ۭ   اُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ   27؀
[ الَّذِيْنَ: جو لوگ] [ يَنْقُضُوْنَ: توڑتے ہیں] [ عَهْدَ اللّٰهِ: اللہ کے وعدہ کو] [ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِه ٖ ۠ : اس کی پختگی کے بعد] [ وَ يَقْطَعُوْنَ: اور وہ لوگ کاٹتے ہیں] [ مَآ: اس کو جس کا] [ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ: حکم دیا اللہ نے] [ اَنْ يُّوْصَلَ: کہ وہ جوڑا جائے] [ وَيُفْسِدُوْنَ: اور وہ لوگ توازن بگاڑتے ہیں] [ فِى الْاَرْضِ ۭ : زمین میں] [ اُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ: یہ لوگ ہی گھاٹا پانے والے ہیں] كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ   ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ   28؀
[ كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ: تم لوگ کیسے انکار کرتے ہو اللہ کا] [ وَكُنْتُمْ: درانحالیکہ تم لوگ تھے] [ اَمْوَاتًا: مردہ حالت میں] [ فَاَحْيَاكُمْ ۚ : تو اس نے زندہ کیا تم نے ] [ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ: پھر وہ موت دے گا تم کو] [ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ : پھر وہ زندہ کرے گا تم کو] [ ثُمَّ اِلَيْهِ: پھر اس ہی کی طرف] [ تُرْجَعُوْنَ : تم لوگ لوٹائے جاؤ گے] ھُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا    ۤ  ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ    ۭ  وَھُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ     29؀ۧ
[ ھُوَ الَّذِىْ: وہ ہے جس نے] [ خَلَقَ: پیدا کیا] [ لَكُمْ: تمہارے لیے] [ مَّا فِى الْاَرْضِ: جو کچھ زمین میں ہے] [ جَمِيْعًا ۤ : کل کا کل] [ ثُمَّ: پھر] [ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ: وہ متوجہ ہوا آسمان کی طرف] [ فَسَوّٰ: تو اس نے ہموار کیے] [ ىھُنَّ: ان میں سے] [ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ۭ : سات آسمان] [ وَھُوَ: اور وہ] [ بِكُلِّ شَىْءٍ: ہر چیز کو] [ عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے] وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً    ۭ  قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاۗءَ    ۚ  وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ   ۭ  قَالَ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ  30؀
[ وَاِذْ قَالَ: اور جب کہا] [ رَبُّكَ: تیرے رب نے] [ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ: فرشتوں سے] [ اِنِّىْ جَاعِلٌ: کہ میں بنانے والا ہوں] [ فِى الْاَرْضِ: زمین میں] [ خَلِيْفَةً ۭ : ایک خلیفہ] [ قَالُوْٓا: ان لوگوں نے کہا] [ اَتَجْعَلُ فِيْهَا: کیا تو بناتا ہے اس میں] [ مَنْ: اس کو جو] [ يُّفْسِدُ فِيْهَا: توازن بگاڑے گا اس میں] [ وَيَسْفِكُ الدِّمَاۗءَ ۚ : اور بہائے گا خون] [ وَ: درنحالیکہ کہ] [ نَحْنُ نُسَبِّحُ: ہم پاکی بیان کرتے ہیں] [ بِحَمْدِكَ: تیری حمد کے ساتھ] [ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۭ : اور ہم تیری پاکیزگی کا اقرار کرتے ہیں] [ قَالَ: اس نے کہا] [ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ: میں جانتا ہوں] [ مَا: وہ جو] [ لَا تَعْلَمُوْنَ: تم لوگ نہیں جانتے] وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَي الْمَلٰۗىِٕكَةِ    ۙ  فَقَالَ اَنْۢبِــُٔـوْنِىْ بِاَسْمَاۗءِ ھٰٓؤُلَاۗءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ    31؀
[ وَعَلَّمَ: اور اس نے تعلیم دی] [ اٰدَمَ: آدم کو] [ الْاَسْمَاۗءَ كُلَّهَا: تمام چیزوں کے نام کی] [ ثُمَّ عَرَضَھُمْ: پھر اس نے پیش کیا ان کو] [ عَلَي الْمَلٰۗىِٕكَةِ ۙ : فرشتوں پر] [ فَقَالَ: تو کہا] [ اَنْۢبِــُٔـوْنِىْ: تم لوگ بتاؤ مجھ کو] [ بِاَسْمَاۗءِ ھٰٓؤُلَاۗءِ : ان چیزوں کے نام] [ اِنْ كُنْتُمْ: اگر تم لوگ ہو] [ صٰدِقِيْنَ : سچ کہنے والے] قَالُوْا سُبْحٰــنَكَ لَاعِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا    ۭ  اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ   32؀
[ قَالُوْا: انہوں نے کہا] [ سُبْحٰــنَكَ: پاک ہونا تیرا ہے] [ لَاعِلْمَ لَنَآ: ہمیں کوئی علم نہیں] [ اِلَّا مَا: سوائے اس کے جو] [ عَلَّمْتَنَا ۭ : تو نے تعلیم دی ہم کو] [ اِنَّكَ اَنْتَ: بیشک تو ہی] [ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ : حقیقی جاننے والا دانا ہے] قَالَ يٰٓاٰدَمُ اَنْۢبِئْـھُمْ بِاَسْمَاۗىِٕهِمْ   ۚ  فَلَمَّآ اَنْۢبَاَھُمْ بِاَسْمَاۗىِٕهِمْ    ۙ  قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ  33؀
[ قَالَ: اس نے کہا] [ يٰٓاٰدَمُ: اے آدم] [ اَنْۢبِئْـھُمْ: آپ بتائیں ان کو] [ بِاَسْمَاۗىِٕهِمْ ۚ : ان کے نام] [ فَلَمَّآ: تو جب] [ اَنْۢبَاَھُمْ: انہوں نے بتایا ان کو] [ بِاَسْمَاۗىِٕهِمْ ۙ : ان کے نام] [ قَالَ: اس نے کہا] [ اَلَمْ اَقُلْ: کیا میں نے نہیں کہا تھا] [ لَّكُمْ: تم لوگوں سے] [ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ: کہ میں جانتا ہوں] [ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ: زمین اور آسمانوں کے غیب کو] [ وَاَعْلَمُ: اور میں جانتا ہوں] [ مَا: وہ جو] [ تُبْدُوْنَ: تم لوگ ظاہر کرتے ہو] [ وَمَا: اور وہ جو] [ كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ: تم لوگ چھپاتے ہو] وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ   ۭ  اَبٰى وَاسْتَكْبَرَ       ڭ   وَكَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ  34؀
[ وَاِذْ قُلْنَا: اور جب ہم نے کہا] [ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ: فرشتوں سے] [ اسْجُدُوْا: تم لوگ سجدہ کرو] [ لِاٰدَمَ: آدم کو] [ فَسَجَدُوْٓا: تو ان لوگوں سجدہ کیا] [ اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ : سوائے ابلیس کے] [ اَبٰى: اس نے انکار کیا] [ وَاسْتَكْبَرَ ڭ : اور اس نے بڑائی چاہی] [ وَكَانَ: اور وہ تھا] [ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ: انکار کرنے والوں میں سے] وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَامِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا       ۠  وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ   35؀
[ وَقُلْنَا: اور ہم نے کہا] [ يٰٓاٰدَمُ: اے آدم] [ اسْكُنْ: سکونت اختیار کرو] [ اَنْتَ وَزَوْجُكَ: تم اور تمہاری زوجہ] [ الْجَنَّةَ: اس جنت میں] [ وَكُلَا: اور تم دونوں کھاؤ] [ مِنْهَا: اس میں سے] [ رَغَدًا: جی بھر کے] [ حَيْثُ شِـئْتُمَـا ۠ : جہاں سے تم دونوں چاہو] [ وَلَا تَـقْرَبَا: اور تم دونوں نزدیک مت جانا] [ ھٰذِهِ الشَّجَرَةَ: اس درخت کے] [ فَتَكُوْنَا: ورنہ تم دونوں ہوجاؤ گے] [ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ: ظلم کرنے والوں میں سے] فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ     ۠ وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ   ۚ   وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْـتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ   36؀
[ فَاَزَلَّهُمَا: تو پھسلا دیا ان دونوں کو] [ الشَّيْطٰنُ: شیطان نے] [ عَنْهَا: اس سے] [ فَاَخْرَجَهُمَا: پھر اس نے نکالا ان دونوں کو] [ مِمَّا كَانَا فِيْهِ ۠ : اس سے وہ دونوں تھے جس میں] [ وَقُلْنَا: اور ہم نے کہا] [ اھْبِطُوْا: تم لوگ اترو] [ بَعْضُكُمْ: تم میں کا کوئی] [ لِبَعْضٍ: کسی کے لیے] [ عَدُوٌّ ۚ : دشمن ہے] [ وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ : اور تمہارے لیے زمین میں ہے] [ مُسْـتَقَرٌّ: ایک ٹھہرنے کی جگہ] [ وَّمَتَاعٌ: اور برتنے کا کچھ سامان] [ اِلٰى حِيْنٍ : ایک عرصہ کے لیے] فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ    ۭ   اِنَّهٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ   37؀
[ فَتَلَـقّيٰٓ: تو سیکھ لیے] [ اٰدَمُ: آدم نے] [ مِنْ رَّبِّهٖ: اپنے رب سے] [ كَلِمٰتٍ: کچھ الفاظ] [ فَتَابَ عَلَيْهِ ۭ : تو اس نے توبہ قبول کی ان کی] [ اِنَّهٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ : یقینا وہ ہی بار بار توبہ قبول کرنے والا ہر حال میں رحم کرنے والا ہے] قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا    ۚ  فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ  38؀
[ قُلْنَا: ہم نے کہا] [ اھْبِطُوْا: تم لوگ اترو] [ مِنْهَا: اس سے] [ جَمِيْعًا ۚ : سب کے سب] [ فَاِمَّا: پھر جب کبھی بھی] [ يَاْتِيَنَّكُمْ: آئے تمہارے پاس] [ مِّـنِّىْ: مجھ سے] [ ھُدًى: کوئی ہدایت] [ فَمَنْ: پس جس نے] [ تَبِعَ: پیروی کی] [ ھُدَاىَ: میری ہدایت کی] [ فَلَا خَوْفٌ: تو کوئی خوف نہیں ہے] [ عَلَيْهِمْ: ان پر] [ وَلَا ھُمْ: اور نہ ہی وہ لوگ] [ يَحْزَنُوْنَ: پچھتاتے ہیں] وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ   ۚ   ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ   39؀ۧ
[ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا: اور جن لوگوں نے انکار کیا] [ وَكَذَّبُوْا: اور جھٹلایا] [ بِاٰيٰتِنَآ: ہماری نشانیوں کو] [ اُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ] [ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ : آگ والے ہیں] [ ھُمْ: وہ لوگ] [ فِيْهَا: اس میں] [ خٰلِدُوْنَ: ہمیشہ رہنے والے ہیں] يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَوْفُوْا بِعَهْدِىْٓ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ   ۚ   وَاِيَّاىَ فَارْھَبُوْنِ   40؀
[ يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ: اے اسرائیل کے بیٹو] [ اذْكُرُوْا: تم لوگ یاد کرو] [ نِعْمَتِىَ: میری نعمت کو] [ الَّتِىْٓ: جس کو کہ] [ اَنْعَمْتُ: میں نے انعام کیا] [ عَلَيْكُمْ: تم لوگوں پر] [ وَاَوْفُوْا: اور تم لوگ پورا کرو] [ بِعَهْدِىْٓ: میرے عہد کو] [ اُوْفِ: تو میں پورا کروں گا] [ بِعَهْدِكُمْ ۚ : تمہارے عہد کو] [ وَاِيَّاىَ: اور صرف مجھ سے ہی] [ فَارْھَبُوْنِ: تم لوگ خوف کرو میرا] وَاٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُوْنُوْٓا اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ    ۠   وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا  وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ    41؀
[ وَاٰمِنُوْا: اور تم لوگ ایمان لاؤ] [ بِمَآ: اس پر جو] [ اَنْزَلْتُ: میں نے نازل کیا] [ مُصَدِّقًا: تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے] [ لِّمَا: اس کی جو] [ مَعَكُمْ: تمہارے ساتھ ہو] [ وَلَا تَكُوْنُوْٓا: اور تم لوگ مت ہو] [ اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ ۠ : اس کا انکار کرنے والے کے پہلے ] [ وَلَا تَشْتَرُوْا: اور تم لوگ مت خریدو] [ بِاٰيٰتِىْ: میری آیات کے بدلے] [ ثَـمَنًا قَلِيْلًا : تھوڑی قیمت کو] [ وَاِيَّاىَ: اور صرف مجھ سے ہی] [ فَاتَّقُوْنِ: میرا تقوی کرو] وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَــقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ   42؀
[ وَلَا تَلْبِسُوا: اور تم لوگ خلط ملط مت کرو] [ الْحَقَّ: حق کو] [ بِالْبَاطِلِ: باطل کے ساتھ] [ وَتَكْتُمُوا: اور تم لوگ مت چھپاؤ] [ الْحَــقَّ: حق کو] [ وَ: اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ: تم لوگ جانتے ہو] وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ  43؀
[ وَاَقِيْمُوا: اور تم لوگ قائم کرو] [ الصَّلٰوةَ: نماز کو] [ وَاٰتُوا: اور تم لوگ پہنچاؤ] [ الزَّكٰوةَ: زکوۃ کو] [ وَارْكَعُوْا: اور تم لوگ رکوع کرو] [ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ: رکوع کرنے والوں کے ساتھ] اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ    ۭ   اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ  44؀
[ اَتَاْمُرُوْنَ: کیا تم لوگ ترغیب دیتے ہو] [ النَّاسَ: لوگوں کو] [ بِالْبِرِّ: نیکی کی] [ وَتَنْسَوْنَ: اور تم لوگ بھول جاتے ہو] [ اَنْفُسَكُمْ: اپنے آپ کو] [ وَ: اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ: تم لوگ تلاوت کرتے ہو الْكِتٰبَ ۭ: کتاب کی] [ اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ: تو کیا تم لوگ سوچ سمجھ سے کام نہیں لیتے] وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ      ۭ   وَاِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْنَ   45؀ۙ
[ وَاسْتَعِيْنُوْا: اور تم لوگ (اللہ سے) مدد مانگو] [ بِالصَّبْرِ: ثابت قدمی کے ذریعے] [ وَالصَّلٰوةِ ۭ : اور نماز کے ذریعے] [ وَاِنَّهَا: اور یقینا یہ] [ لَكَبِيْرَةٌ: بھاری ہے] [ اِلَّا: سوائے] [ عَلَي الْخٰشِعِيْنَ: فروتنی کرنے والوں پر] الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَاَنَّھُمْ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ   46؀ۧ
[ الَّذِيْنَ: وہ لوگ جو] [ يَظُنُّوْنَ: خیال کرتے ہیں] [ اَنَّھُمْ: کہ وہ لوگ] [ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ: اپنے رب کی ملاقات کرنے والے ہیں] [ وَاَنَّھُمْ: اور یہ کہ وہ لوگ] [ اِلَيْهِ: اس کی طرف ہی] [ رٰجِعُوْنَ: لوٹنے والے ہیں] يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ   47؀
[ يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ: اے اسرائیل کے بیٹو] [ اذْكُرُوْا: تم لوگ یاد کرو] [ نِعْمَتِىَ: میری نعمت کو] [ الَّتِىْٓ: جس کو کہ] [ اَنْعَمْتُ: میں نے انعام کیا] [ عَلَيْكُمْ: تم پر] [ وَاَنِّىْ: اور یہ کہ] [ فَضَّلْتُكُمْ: میں نے فضیلت دی تم لوگوں کو] [ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ: سب جہانوں پر]

 

ف ض ل

فضلا (ن): کسی چیز کا اوسط یا حق سے زیادہ ہونا، یہ پسندیدہ بھی ہے جیسے علم یا رتبہ میں زیادہ ہونا، اور ناپسندیدہ بھی ہے جیسے غصے وغیرہ میں زیادہ ہونا، عام طور پر پسندیدہ چیز کے لیے فضل اور ناپسندیدہ چیز کے لیے فضول کا لفظ استعمال ہوتا ہے، قرآن مجید میں ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوا۔

فضل: اسم ذات ہے ، حق سے زیادہ دی ہوئی چیز، قل ان الفضل بیداللہ یوتیہ من یشاء (آپ کہہ دیجیے یقینا کل کا کل فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے) 73/3۔ وان تعفوا اقرب للتقوی ولا تنسوا الفضل بینکم (اور یہ کہ تم لوگ درگزر کرو تو یہ زیادہ قریب ہے تقوی سے اور تم لوگ مت بھولو حق سے زیادہ چیز کو آپس میں) 237/2

تفضیلا (تفعیل) : کسی پسندیدہ چیز میں کسی کو زیادہ کرنا۔ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ (یہ رسول ہیں، ہم نے فضیلت دی ان میں سے بعض کو بعض پر) 253/2۔ وَاللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ (اور اللہ نے زیادہ کیا تم میں سے کسی کو کسی پر رزق میں) 71/16۔

 

نوٹ 1: دنیاوی اقتدار، حکومت، مال و دولت وغیرہ فضیلت کی علامت نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ چیزیں مومن اور کافر سب کے حصے میں آتی ہیں، اس پہلو سے بنوا اسرائیل کی اپنی تاریخ بھی عروج و زوال کا مرکب رہی ہے ، اس آیت میں ان کی جس فضیلت کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ ہزاروں سال تک وہ دنیا کی راہنمائی کے منصب پر فائز رہے ہیں۔ ان کی اسی ذمہ داری کے پیش نظر ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا اور مختلف انعام سے نوازا جاتا رہا۔

نوٹ 2: تمام عالم پر فضیلت کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اس منصب پر فائز ہے، ان کو تمام عالم پر فضیلت حاصل رہی۔ اور اس منصب سے معزول ہونے کے بعد یہ فضیلت بھی ختم ہوگئی اور اب امت محمد ﷺ کو منتقل ہوگئی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے ، کہ تم سترویں امت ہو اور سب سے بہتر اور بزرگ ہو۔ (ابن کثیر) وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِىْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ  48؀
[ وَاتَّقُوْا: اور تم لوگ بچو] [ يَوْمًا: ایک ایسے دن سے جب] [ لَّا تَجْزِىْ: کام نہیں آئے گی] [ نَفْسٌ: کوئی جان] [ عَنْ نَّفْسٍ: کسی جان کے] [ شَـيْــــًٔـا: کچھ بھی] [ وَّلَا يُقْبَلُ: اور قبول نہیں کی جائے گی] [ مِنْهَا: اس سے] [ شَفَاعَةٌ: کوئی سفارش] [ وَّلَا يُؤْخَذُ: اور نہیں لیا جائے گا] [ مِنْهَا: اس سے] [ عَدْلٌ: بدلے میں کچھ] [ وَّلَا ھُمْ: اور نہ ہی وہ لوگ] [ يُنْصَرُوْنَ: مدد دیے جائیں گے]

 

ج ز ی

جزاء (ض) کسی چیز کا کسی کے لیے کافی ہونا، حق ادا کرنا، بدلہ دینا۔ لِّيَجْزِيَ اللّٰهُ الصّٰدِقِيْنَ بِصِدْقِهِمْ وَيُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ اِنْ شَاۗءَ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ (تاکہ حق ادا کرے یعنی بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کے سبب سے اور تاکہ وہ عذاب دے منافقوں کو یا ان کی توبہ قبول کرے) 24/33

جاز: اسم الفاعل ہے ، بدلہ دینے والا، حق ادا کرنے والا، کافی ہونے والا۔ وَلَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَـيْـــــًٔا (اور نہ کوئی اولاد کافی ہونے والی ہے اپنے والدہ کے لیے کچھ بھی) 33/31

جزاء: اسم ذات ہے ، وہ چیز جو کافی ہو، حق، بدلہ۔ فَمَا جَزَاۗءُ مَنْ يَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ (تو اس کا کیا بدلہ ہے جو یہ کرتے تم میں سے) 85/2

جزیۃ: اسم ذات ہے ، امان کا بدلہ جو غیر مسلم اسلامی حکومت کو دیتے ہیں۔ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ (یہاں تک کہ وہ لوگ جزیہ ادا کریں ہاتھ سے) 29/9

ق ب ل

قبلا (ن) : کسی کی طرف توجہ کرنا، قرآن مجید میں اس باب سے فعل استعمال نہیں ہوا۔

قبلا (ف) : کسی چیز کا نزدیک ہونا، قریب ہونا، پہلے واقع ہونا، قرآن مجید میں اس باب سے بھی فعل استعمال نہیں ہوا۔

قبولا (س) : کسی چیز کو لے لینا، قبول کرنا۔ اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ (کیا وہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ ہی قبول کرتا ہے توبہ کو اپنے بندوں سے) 104/9

قابل: اسم الفاعل ہے ، قبول کرنے والا۔ غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ (گناہ کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والا) 3/40

قبل: مصدر کے علاوہ ظرف زمان بھی ہے ۔ پہلے اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِھٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ (سوائے اس کے جو حرام کیا اسرائیل نے یعنی یعقوب نے اپنے آپ پر اس سے پہلے کہ اتاری جاتی تورات) 93/3

قبل: کسی چیز کا آگے کا حصہ۔ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ (اگر اس کی قمیض پھٹی ہے آگے سے تو عورت نے سچ کہا اور وہ جھوٹوں میں سے ہے) 26/12

قبل: یہ دو معانی میں آتا ہے (1) طرف۔ سمت اور (2) طاقت۔ قدرت۔ لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ (نیکی یہی نہیں ہے کہ تم لوگ پھیر لو اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف) 177/2۔ فَلَنَاْتِيَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا (تو ہم لازما پہنچیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کے ساتھ جس پر کسی قسم کی کوئی طاقت نہیں ہوگی ان کو) 37/27

قبلۃ: اسم ذات ہے، وہ چیز جس کی طرف متوجہ ہوا جائے یا رخ کیا جائے۔ قبلہ۔ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِىْ كَانُوْاعَلَيْهَا (کس چیز نے پھیرا ان کو ان کے قبلے سے جس پر وہ تھے) 142/2

قبیل: ج قبائل، فعیل کا وزن ہے۔ ایک نسل کے افراد کا گروہ یا جماعت، قبیلہ (کیونکہ نسلی اعتبار سے ان میں ہمیشگی کا قربت کا مفہوم ہوتا ہے) ۔ ۭاِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ (بیشک وہ دیکھتا ہے تم لوگوں کو اور وہ اس کا قبیلہ وہاں سے جہاں تم لوگ نہیں دیکھتے ان کو) 27/7۔ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا (اے لوگو، بیشک ہم نے تم کو پیدا کیا ایک مرد اور ایک عورت سے اور بنایا تم کو شاخیں اور قبیلے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو) 13/49

اقبالا (افعال) ۔ کسی کے سامنے ہونا۔ فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَلَاوَمُوْنَ (تو سامنے ہوئے ان میں سے ایک دوسرے کے، باہم ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہوئے) 30/28۔

اقبل: فعل امر ہے، تو سامنے ہو، سامنے آ۔ يٰمُوْسٰٓي اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ (اے موسیٰ سامنے آ اور مت ڈر) 31/28

تقبلا، (تفعل): اس طرح قبول کرنا جس میں معاوضہ دینا شامل ہو۔ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ (اس نے کہا اللہ تو بس قبول کرتا ہے متقی لوگوں سے) 27/5

تقبل: فعل امر ہے، تو قبول کر۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۭ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ (اے ہمارے رب، تو قبول فرما ہم سے بیشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے) 127/2

تقابلا، (تفاعل): ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہونا، آمنے سامنے ہونا۔

متقابل: اسم الفاعل ہے، آمنے سامنے ہونے والا۔ عَلٰي سُرُرٍ مُّتَـقٰبِلِيْنَ (تختوں پر آمنے سامنے ہونے والے) 44/37

استقبال (استفعال) : کسی کی طرف متوجہ ہونا، کسی کے سامنے آنا۔

مستقبل: اسم فاعل ہے، سامنے آنے والا۔ فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَــتِهِمْ (پھر جب دیکھا اس کو بادل جیسا، ان کے نالوں کے سامنے آنے والا) 24/46

ش ف ع

شفعا اور شفاعۃ (ف): (1) کسی چیز کو جوڑا بنانا، جفت کرنا (2) سفارش کرنا، سفارش کرنے والا اس کے ساتھ جڑ جاتا ہے جس کی وہ سفارش کرتا ہے) ۔ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ (کون ہے جو سفارش کرے اس کے پاس مگر اس کی اجازت سے) 255/2

شفع: ایسا عدد جو دو سے تقسیم ہوجائے، جفت۔ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ (قسم ہے جفت کی ، قسم ہے طاق کی) 3/89

شفاعۃ: اسم ذات ہے، سفارش۔ فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ (تو نفع نہیں دے گی ان کو سفارش کرنے والوں کی سفارش) 48/74

شفیع: ج شفعاء۔ فعیل کا وزن ہے، ہمیشہ اور ہر حال میں سفارش کرنے والا۔ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيْعٌ (اس کے لیے نہیں ہے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ ہی کوئی سفارش کرنے والا) 70/6۔ وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ (اور وہ لوگ بندگی کرتے ہیں اللہ کے سوا ان کی جو نقصان نہیں دیتے ان کو اور نہ ہی ان کو نفع دیتے ہیں اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ لوگ ہماری سفارش کرنے والے ہیں اللہ کے پاس) 18/10

ء خ ذ

اخذا (ن) : کسی چیز کا احاطہ کرنا، اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ پکڑنا، لینا، غالب آنا۔ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِيْهِ (اور اس نے پکڑا اپنے بھائی کے سر کو) 150/7۔ وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ (اور لے چکا ہے اللہ بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ) 12/5۔ لَا تَاْخُذُهٗ سِـنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ (اور غالب نہیں آتی اس پر اونگھ اور نہ ہی نیند) 255/2

خذ: فعل امر ہے، تو پکڑ، تو لے ۔ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً (آپ لیں ان کے مال میں سے صدقہ) 103/9

آخذ: اسم الفاعل ہے، پکڑنے والا، لینے والا۔ وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِيْهِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِيْهِ (اور تم لوگ نہیں ہو اس کو لینے والے مگر یہ کہ تم لوگ چشم پوشی کر اس سے) 267/2۔

مواخذۃ (مفاعلہ) کسی کو کسی غلطی پر پکڑنا، جواب طلبی کرنا۔ قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِيْ بِمَا نَسِيْتُ (اس نے کہا تم جواب طلبی نہ کرو مجھ سے اس کے سبب سے جو میں بھول گیا) 73/18

اتخاذا (افتعال) : کسی کو کچھ بنانا۔ (یعنی اہتمام سے پکڑنا) جیسے دوست بنانا۔ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا (اور بنایا اللہ نے ابراہیم کو دوست) 125/4

اتخذ: فعل امر ہے، تو بنا۔ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا (کوئی الہ نہیں سوائے اس کے ، پس تو بنا اس کو وکیل یعنی کام بنانے والا) 9/73۔ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى (اور تم لوگ بناؤ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ میں سے نماز کی جگہ) 125/2

متخذ: اسم فاعل ہے، بنانے والا۔ ۠وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّيْنَ عَضُدًا (اور میں نہیں ہوں گمراہ کرنے والوں کو بنانے والا بازو یعنی مشیر) 51/18

ع د ل

 عدلا (ض) برابری کرنا، انصاف کرنا، وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ (اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں برابری کروں تمہارے مابین) 15/42

اعدل: فعل امر ہے، تو برابر کر، تو انصاف کر، وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰي (اور جب بھی تم لوگ بولو تو انصاف کرو اس حال میں کہ چاہے وہ ہو تمہارا قرابت والا) 152/6

عدل: اسم ذات ہے، کسی چیز کے برابر کی کوئی دوسری چیز، عدل، انصاف وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ (اور قبول نہیں کی جائے گی اس سے برابر کی کوئی چیز اور نفع نہیں دے گی اس کو کوئی سفارش) 123/2

ن ص ر

نصرا: (ن) کسی کی مدد کرنا۔ وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ (اور مدد کی ہے تمہاری اللہ نے بدر میں) 123/3

نصر: اسم ذات بھی ہے، مدد ۔ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ (سن لو، یقینا اللہ کی مدد قریب ہے) 214/2

انصر: فعل امر ہے، تو مدد کر۔ وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ (اور تو جما دے ہمارے قدموں کو اور تو مدد کر ہماری کافر قوم پر) 250/2

ناصر: ج ناصرون اور انصار۔ اسم الفاعل ہے، مدد کرنے والا، مددگار۔ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ (ہم نے ہلاک کیا ان کو تو کسی قسم کا کوئی مددگار نہیں ہے ان کے لیے) 13/47۔ قَالَ الْحَــوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ (حواریوں نے کہا ہم اللہ کی مدد کرنے والے ہیں) 14/61۔

نصیر: فعیل کا وزن ہے، ہمیشہ اور ہر حال میں مدد کرنے والا۔ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ ۭنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ (پس جان لو کہ اللہ تمہارا مولی ہے، کیا ہی اچھا مولی اور کیا ہی اچھا مددگار) 40/8۔

 منصور: اسم المفعول ہے، مدد کیا ہوا۔ فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ ۭ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا (پس اسے چاہیے کہ زیادتی نہ کرے قتل میں یقینا وہ مدد کیا ہوا ہے) 33/17

نصرانی: ج نصرا۔ اسم نسبت ہے، مدد والا، اصطلاحا یہ عیسائی لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شاید اس لیے کہ عیسیٰ کے حواریوں نے کہا تھا " نحن انصار اللہ"۔ مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا (ابراہیم یہودی نہیں تھے اور نہ ہی نصرانی) 67/3۔ وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ لَيْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰي شَيْءٍ (اور کہا یہودیوں نے کہ نہیں ہیں عیسائی کسی چیز پر) 113/2

تناصرا (تفاعل) : ایک دوسرے کی مدد کرنا، مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ (تم لوگوں کو کیا ہوا ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) 25/37

انتصار (افتعال): اہتمام سے کود اپنی مدد کرنا، بدلہ لینا۔ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيْلٍ (اور بیشک جس نے بدلہ لیا اپنے ظلم کے بعد تو وہ لوگ ہیں کہ ان پر کوئی راہ نہیں ہے یعنی گرفت نہیں ہے) 41/42

انتصر: فعل امر ہے، تو بدلہ لے۔ فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ (تو اس نے پکارا اپنے رب کو کہ میں مغلوب ہوں پس تو بدلہ لے) 10/54

منتصر: اسم الفاعل ہے، بدلہ لینے والا۔ اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ (یا یہ لوگ کہتے ہیں ہم بدلہ لینے والی جمعیت ہیں) 44/54

استنصارا (استفعال): مدد مانگنا۔ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ (اور اگر وہ لوگ مدد مانگیں تم لوگوں سے دین میں تو تم لوگوں پر ہے یعنی لازم ہے مدد کرنا) 72/8

 

ترکیب:

وَاتَّقُوْا فعل امر ہے اور اس میں شامل انتم کی ضمیر اس کا فاعل ہے۔ يَوْمًا اس کا مفعول ہے اور نکرہ موصوفہ ہے۔ آیت کا اگلا حصہ يَوْمًا کی صفت بیان کر رہا ہے۔ لَّا تَجْزِىْ کا فاعل نَفْسٌ اور شَـيْــــًٔـا اس کا مفعول ہے۔ لَا يُقْبَلُ مِنْهَا اور لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا میں ھَا کی ضمیر نفس کے لیے ہے۔ شَفَاعَةٌ اور عَدْلٌ نائب فاعل ہیں۔ شَفَاعَةٌ مونث غیر حقیقی ہے اس لیے اس کا فعل تُقْبَلُ کے بجائے يُقْبَلُ بھی درست ہے۔

 

نوٹ 1: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی نکرہ کی کوئی خصوصیت ایک یا چند فقروں یا جملوں میں بیان کی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ نکرہ محض نکرہ نہیں رہتا۔ اسے نکرہ موصوفہ مخصوصہ کہتے ہیں۔ اس بات کو اردو کی مثال سے سمجھ لیں، ہم کہتے ہیں ایک ٹھنڈا دن، اب یہ کسی بھی ٹھنڈے دن کی بات ہوسکتی ہے ، اس لیے اس فقرہ میں دن کا لفظ محض نکرہ ہے ، اسے نکرہ محضہ کہتے ہیں، لیکن اگر ہم کہیں ایک ایسا ٹھنڈا دن جب پانی جم جائے، اس فقرہ میں بھی دن کا لفظ نکرہ ہے کیونکہ ایسا ٹھنڈا دن کوئی بھی دن ہوسکتا ہے ، لیکن عام ٹھنڈے دنوں کی بنسبت اس دن کی ایک خصوصیت بھی ہے ۔ اس لیے اس فقرہ میں دن کا لفظ نکرہ محضہ نہیں رہا بلکہ نکرہ موصوفہ مخصوصہ ہوگیا۔

اسی طرح سے آیت زیر مطالعہ میں یوما کا لفظ نکرہ آیا ہے کیونکہ یہ ایک غیر معین دن ہے ، لیکن جب بھی یہ دن وقوع پذیر ہوگا تو کچھ خصوصیات کا حامل ہوگا، اس لیے یہ نکرہ محضہ نہیں ہے بلکہ نکرہ موصوفہ مخصوصہ ہے۔ ترجمہ کرتے وقت اس فرق کا لحاظ کرنا ہوتا ہے۔

نوٹ 2: اس آیت میں لفظ شیئا کے استعمال کو سمجھنے کے لیے پہلے ہمیں مفعول مطلق کا استعمال اور مفہوم سمجھنا ہوگا، ہم کہتے ہیں میں نے اس کو مارا یعنی ضربتہ، یہ ایک سادہ جملہ ہے لیکن اگر ہم کہتے ہیں میں نے اس کو ٹھیک ٹھاک مار ماری یعنی وہ مار ماری کہ اس کی سات پشتیں یاد کریں گی تو عربی کے جملہ میں یہ انداز پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس فعل کا ذکر ہو اسی فعل کا مصدر بطور مفعول لے آتے ہیں اور کہتے ہیں ضربتہ ضربا، اب اس میں ضربت کے بعد ہ اصل مفعول ہے اور ضربا مفعول مطلق ہے جس کی وجہ سے بات میں بہت زور پیدا ہوگیا ہے، اسی طرح سے جزیتہ جزاء یعنی میں نے اس کو بدلہ دیا جیسا بدلہ دیتے ہیں یا جیسا بدلہ دینے کا حق ہے۔

اب فرض کریں یہی بات ہم منفی انداز میں کہنا چاہتے ہیں کہ میں نے اس کو بالکل نہیں مارا یعنی چھوا تک نہیں، تو اس کے لیے ما ضربتہ ضربا نہیں کہیں گے ، بلکہ منفی جملہ میں مفعول مطلق کے طور پر فعل کا مصدر لانے کے بجائے عام طور پر لفظ شیئا لے آتے ہیں، اس لیے کہں گے ماضربتہ شیئا، میں نے اس کو کچھ بھی نہیں مارا، اسی سے ماجزیتہ جزاءہ کے بجائے ما جزیتہ شیئا کہیں گے ، میں نے اس کو کچھ بھی بدلہ نہیں دیا۔

نوٹ 3 : اب نوٹ کریں کہ آیت میں اصل جملہ تھا لا تجزی فیہ نفس عن نفس جزاء، اس میں فیہ محذوف کردیا اور مفعول مطلق کے طور پر جزاء کے بجائے شیئا آیا ہے۔ یعنی کوئی جان کسی جان کے کچھ بھی کام نہ آئے گی یا بدلہ میں ذرہ برابر بھی کوئی چیز نہ دے گی۔

نوٹ 4 : اس آیت سے بھی اور قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں کسی قسم کی کوئی شفاعت نہیں ہوگی۔ لیکن دوسری طرف قرآن مجید کے ہی دوسرے مقامات اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شفاعت ہوگی۔ اس مسئلہ کے ہر پہلو پر غور کرنے سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے (واللہ اعلم بالصواب)

1 : سب سے پہلے شفاعت عامہ کا مرحلہ ہے، یہ وہ وقت ہے جب میدان حشر میں لوگ حساب کتاب شروع ہونے کے منتظر ہوں گے، یہ بہت سخت مرحلہ ہوگا، کچھ لوگوں پر انتظار کی گھبراہٹ اس درجہ طاری ہوگی کہ وہ کہیں گے کہ یا اللہ تو ہمیں جہنم میں ڈال دے لیکن اس انتظار سے نجات دے۔ اس وقت شفاعت عامہ کا حق ہمارے نبی کریم ﷺ کو ملے گا اور آپ کی سفارش کے نتیجے میں حساب کتاب شروع ہوگا۔

2 : حساب کتاب کے وقت کسی بھی ہستی یا کسی بھی شخص کو کسی قسم کی سفارش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید کے جن مقامات پر شفاعت کی کلیتا نفی کی گئی ہے ان کا تعلق غالبا اسی مرحلہ سے ہے۔

3 : حساب کتاب کا مرحلہ پورا ہونے کے بعد جب ہر شخص کی صحیح پوزیشن سامنے آجائے گی تو پھر کچھ لوگوں کو شفاعت کرنے کا حق ملے گا۔ ان میں انبیاء کرام کے علاوہ صدیقین، شہداء کرام، حفاظ کرام اور دیگر صالحین شامل ہوں گے۔ اس بات کو ہم اپنے دنیاوی رویہ کے حوالہ سے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی کے حمایتی اور سفارشی بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب صحیح بات سامنے آتی ہے تو ہم اس کی حمایت سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔ اس حوالہ سے بات سمجھ میں آتی ہے کہ قیامت میں شخصی شفاعت کا مرحلہ اس وقت شروع ہوگا جب ہر شخص کی صحیح پوزیشن واضح ہوجائے گی۔

4: شخصی شفاعت کے متعلق دو باتیں بہت صراحت کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔ اول یہ کہ ہر شخص شفاعت نہیں کرسکے گا۔ بلکہ صرف وہ لوگ شفاعت کریں گے جن کو اللہ تعالیٰ اس کی اجازت دے گا۔ دوم یہ کہ جس کو اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت دے گا وہ کسی ایسے شخص کی شفاعت نہیں کرے گا جو اس کا مستحق نہیں ہوگا۔

5 : شخصی شفاعت کے بعد جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں جاچکے ہوں گے تو حضور ﷺ کی امت کے لیے شفاعت عامہ کا مرحلہ آئے گا۔ حضور ﷺ تین مرتبہ سجدہ میں جائیں گے، ہر مرتبہ آپ کو اجازت ملے گی اور ہر مرتبہ آپ اپنے کچھ امتیوں کو دوزخ سے نکال لائیں گے، آخری مرتبہ آپ فرمائیں گے کہ یا اللہ اب تو وہاں وہی لوگ رہ گئے ہیں جن کو قرآن نے روک رکھا ہے۔

6 : یہ بات خاص طور سے نوٹ کرلیں کہ جس کو قرآن مجید روک لے گا وہ حضور ﷺ کی شفاعت سے محروم رہے گا۔

7: اب ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ قیامت میں ہم خود کو کس گروہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ (1) ان لوگوں میں جو حضور ﷺ کی شفاعت سے محروم رہیں گے (2) یا ان لوگوں میں جن کو حضور ﷺ دوزخ سے نکال کر لائیں گے۔ (3) یا ان لوگوں میں جو میدان حشر میں کسی کی شفاعت کے محتاج ہوں گے (4) یا ان لوگوں میں جن میدان حشر میں کسی کی شفاعت کے بغیر جنت میں داخلہ کا پروانہ ملے گا۔ (5) یا ان لوگوں میں جن کو کسی کی شفاعت کرنے کا حق ملے گا۔ یہ فیصلہ کرتے وقت اپنی عزت نفس اور جنت کی سوسائٹی میں STATUS کے مسئلہ کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں اور اس کے مطابق اپنے عمل کو ڈھالنے کے لیے اپنے نفس سے جہاد کریں۔ وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ    ۭ   وَفِىْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ    49؀
[ وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ: اور جب ہم نے نجات دی تم لوگوں کو] [ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ: فرعون کے پیروکاروں سے] [ يَسُوْمُوْنَكُمْ : وہ لوگ تکلیف دیتے تھے تم کو] [ سُوْۗءَ الْعَذَابِ: برے عذاب کی] [ يُذَبِّحُوْنَ: وہ لوگ ذبح کرتے تھے] [ اَبْنَاۗءَكُمْ: تمہارے بیٹوں کو] [ وَيَسْتَحْيُوْنَ: اور وہ لوگ زندہ رکھتے تھے] [ نِسَاۗءَكُمْ ۭ : تمہاری عورتوں کو] [ وَفِىْ ذٰلِكُمْ: اور اس میں تھی] [ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ : تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی آزمائش]

 

ن ج و

 [ نجاۃ اور نجاء: (ن) ] کسی کا کسی چیز سے الگ ہوجانا، اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) رہائی پانا، نجات پانا (2) سرگوشی کرنا (کیونکہ یہ کام دوسروں سے الگ ہوکر کیا جاتا ہے) قَالَ لَا تَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ (انہوں نے یعنی شعیب نے کہا آپ مت ڈریں، آپ نے نجات پائی ظالم قوم سے) (25/28) ۔ سرگوشی کے معنی میں ثلاثی مجرد سے فعل قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔

ناج: اسم الفاعل ہے، نجات پانے والا۔ وَقَالَ لِلَّذِيْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا (اور انہوں نے یعنی یوسف نے کہا اس سے جس کے لیے انہوں نے خیال کیا کہ وہ نجات پانے والا ہے ان دونوں میں سے) 42/12

نجی: اسم نسبت ہے، سرگوشی والا۔ (یعنی جس سے سرگوشی کی جائے) ۔ وَقَرَّبْنٰهُ نَجِيًّا (اور ہم نے قریب کیا اس کو سرگوشی والا ہوتے ہوئے) 52/19

نجوۃ: اسم ذات ہے، رہائی، نجات۔ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَتَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَى النَّارِ (میں بلاتا ہوں تم لوگوں کو نجات کی طرف اور تم لوگ بلاتے ہو مجھ کو آگ کی طرف) 41/40

نجوی: اسم ذات ہے، سرگوشی، کاناپھوسی۔ اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ (کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے ان کی پوشیدہ بات کو اور ان کی سرگوشی کو) 78/9

انجاء (افعال) کسی کو رہائی دلانا، نجات دینا۔ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ (جب اس نے رہائی دلائی تم کو فرعون کے پیروکاروں سے) 6/14

تنجیۃ (تفعیل) کسی کو رہائی دلانا۔ نجات دینا۔ (اس میں تدریجا نجات دینے کا مفہوم ہوتا ہے) ۔ الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ (تمام حمد اللہ کے لیے ہے جس نے نجات دی ہم کو ظالم قوم سے) 28/23

منج: اسم الفاعل ہے، نجات دینے والا۔ ۣاِنَّا مُنَجُّوْكَ وَاَهْلَكَ (بیشک ہم نجات دینے والے ہیں آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو) 33/29

مناجاۃ (مفاعلہ) : کسی سے سرگوشی کرنا، راز داری سے مشورہ دینا۔ اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً ۭ (اور جب بھی تم لوگ سرگوشی کرو رسول سے تو پیش کرو اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ کو یعنی پہلے صدقہ دو) 12/58

تناجیا (تفاعل): باہم ایک دوسرے سے سرگوشی کرنا، باہم مشورہ کرنا۔ اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (جب بھی تم لوگ باہم مشورہ کرو تو مشورہ مت کرو گناہ اور زیادتی کے بارے میں) 9/58

ء و ل

اولا اور ماٰلا (ن): لوٹنا کسی چیز کا اپنے اصل کی طرف واپس ہونا۔ اس مادہ سے کوئی فعل قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔

اٰل: صفت ہے، کسی کے ساتھ تعلق والا۔ پیروکار FOLLOWER ۔ یہ کسی اہل علم اور کسی صاحب شرف ہستی کی طرف مضاف ہوکر آتا ہے۔ فَاَنْجَيْنٰكُمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ (تو ہم نے نجات دی تم کو اور غرق کیا فرعون کے پیروکاروں کو) 50/2

اول: مونث اولی۔ یہ افعل تفضیل میں افعل کے وزن پر اول بنتا ہے، لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے ہمزہ کا واؤ میں ادغام کر کے اول استعمال ہوتا ہے۔ معنی ہیں پہلا۔ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ (اور میں ایمان لانے والوں کا پہلا ہوں) 143/7 ۔ اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى (بیشک یہ پہلے صحیفوں میں ہے) 18/87

اولوا: والے ، جمع ہے اور ہمیشہ مضاف بن کر آتا ہے۔ قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ (انہوں نے کہا ہم قوت والے ہیں) 33/27

تاویلا (تفعیل) : کسی چیز کو اس کے اصل کی طرف واپس کرنا، لوٹانا، اس باب سے بھی قرآن مجید میں فعل استعمال نہیں ہوا۔

تاویل: مصدر کے علاوہ اسم ذات بھی ہے ، کسی چیز یا بات کا آخری انجام، انجام کار، خواب کی تعبیر۔ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا (یہ بہتر ہے اور اچھا ہے بلحاظ انجام کار کے) 59/4 ۔ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۡ وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ (اور اس طرح ہم نے سکونت دی یوسف کو زمین میں تاکہ ہم سکھائیں ان کو خوابوں کی تعبیر) 21/12

ف ر ع ن

(رباعی) (x ) یہ غیر عربی یعنی عجمی لفظ ہے جو عربی میں لیا گیا ہے۔

فراعنۃ ج فرعون: صفت ہے، سرکش، سرکشی کرنے والا۔

س و م

سوما (ن): کسی کا کسی چیز کی طلب میں کہیں جانا ، اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) مویشی کا چراگاہ میں جانا (2) اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے کسی کو تکلیف دینا (3) پہچان مقرر کرنا تاکہ جب چاہے جاسکے یا حاصل کرسکے۔ وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ (اور جب سنا دیا تیرے رب نے کہ وہ لازما بھیجتا رہے گا ان پر قیامت کے دن تک اس کو جو تکلیف دے گا ان کو برے عذاب کی) 167/7

سیماء: اسم ذات ہے، علامت، نشان۔ تَعْرِفُھُمْ بِسِيْمٰھُمْ ۚ لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا (تو پہچانے گا ان کو ان کی علامت سے ، وہ لوگ نہیں مانگتے لوگوں سے لپٹتے ہوئے) 273/2 ۔ سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ (ان کا نشان ہے ان کے چہروں میں سجدوں کے اثر سے) 29/48

اسامۃ (افعال) : مویشی کو چراگاہ میں لے جانا، چرانا۔ وَّمِنْهُ شَجَـرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ (اور اس سے درخت ہیں، اس میں تم لوگ مویشی چراتے ہو) 10/16

تسویما (تفعیل) : نشان لگانا، نشان زدہ کرنا۔

مسوم : اسم الفاعل ہے، نشان لگانے والا۔ يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُسَوِّمِيْنَ (تو مدد کرے گا تمہاری تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے نشان لگانے والے ہوتے ہوئے) 125/3

مسوم: اسم المفعول ہے۔ نشان لگایا ہوا۔ لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِيْنٍ ۔ مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِيْنَ (تاکہ ہم بھیجیں ان پر کچھ پتھر گارے میں سے جو نشان لگے ہوئے ہیں تیرے رب کے پاس اسراف کرنے والوں کے لیے) 51 /34٫33

س و ء

سوءا (ن) ناپسندیدہ ہونا، برا ہونا، بگڑ جانا، (لازم) برا لگنا، کسی چیز کو بگاڑ دینا۔ (متعدی) ۔ فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا (پس جب وہ دیکھیں گے اس کو نزدیک تو بگاڑ دیئے جائیں گے ان لوگوں کے چہرے جنہوں نے کفر کیا) 27/67 ۔ اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ (اگر پہنچتی ہے آپ کو کوئی بھلائی تو وہ بری لگتی ہے ان کو) 50/9 ۔ ۭ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ (پس جب آیا آخری وعدہ تاکہ وہ بگاڑ دیں تمہارے چہروں کو) 7/17

اسوء: مونث سوای۔ افعل تفضیل ہے، زیادہ برا یا سب سے برا۔ لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِيْ عَمِلُوْا (تاکہ اللہ دور کردے ان سے برے سے برے کام کو جو انہوں نے کیا) 35/39 ۔ ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوا السُّوْۗآٰى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ (پھر تھا انجام ان لوگوں کا جنہوں نے برا کیا، ا نتہائی برا، کہ انہوں نے جھٹلایا اللہ کی نشانیوں کو) 10/30

سوء اور سوء: صفت ہے، برا، قبیح۔ الظَّاۗنِّيْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ (گمان کرنے والے اللہ کے بارے میں برا گمان) 6/48 ۔ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ سُوْۗءُ الْحِسَابِ (یہ لوگ ہیں جن کے لیے برا حساب ہے) 18/13

سیء: مونث سیئۃ، اسم ذات اور صفت دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ برائی، برا۔ وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ (اور نہیں گھیرتا برا داؤ مگر اپنے اہل کو یعنی برائی کرنے والے کو) 43/35 ۔ وَاِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَّفْرَحُوْا بِھَا (اور اگر تم لوگوں کو پہنچے کوئی برائی تو وہ لوگ خوش ہوتے ہیں اس سے) 120/3 ۔ وَمَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً (اور کوئی سفارش کرتا ہے کوئی بری سفارش) 85/4

 [ سوءۃ: اسم ذات ہے، ناپسندیدہ چیز، اصطلاحا انسانی لاش اور ستر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ كَيْفَ يُوَارِيْ سَوْءَةَ اَخِيْهِ (کیسے وہ چھپائے اپنے بھائی کی لاش کو) 31/5 ۔ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا (ہم نے اتارا ہے تم لوگوں پر لباش کو، وہ چھپاتا ہے تمہارے ستر کے حصوں کو اور آرائش ہے) 26/7

 [ اساءۃ (افعال) : خراب کرنا، برائی کرنا۔ اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا (اگر تم لوگ بھلائی کرو گے تو تم لوگ بھلائی کرو گے اپنے آپ سے اور اگر تم لوگ برائی کرو گے تو اس کے لیے یعنی اپنے آپ سے) 7/17 ۔ اوپر آیت نمبر 10/30 بھی دیکھ لیں۔

ع ذ ب

 [ عذبا (ض) : پیاش کی شدت کی وجہ سے کچھ کھانے کے قابل نہ رہنا۔

 [ عذبا (س) : پانی کا کائی دار ہونا۔

 [ عذوبۃ (ک) : پانی کا میٹھا اور خوشگوار ہونا۔ (ثلاثی مجرد سے کوئی فعل قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا)

 [ عذب : صف ہے ، خوشگوار پانی، میٹھا پانی۔ وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ (اور وہ ہے جس نے ملائے دو سمندر ، یہ خوشگوار شیریں ہے اور یہ نمکین تلخ ہے) 53/25

 [ عذاب: اسم ذات ہے، ہر وہ چیز جو انسان کو تکلیف دے، مشقت میں ڈالے، عذاب۔ لَھُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ (ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے ہے آخرت میں عظیم عذاب) 114/2

 [ تعذیبا (تفعیل) : کسی کو تکلیف دینا، عذاب دینا۔ وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا يُعَذِّبُھُمْ وَاِمَّا يَتُوْبُ عَلَيْهِمْ (اور کچھ دوسرے لوگ موقوف رکھے گئے اللہ کے فیصلے کے لیے، چاہے وہ عذاب دے ان کو اور یا وہ توبہ قبول کرے ان کی) 106/9

 [ معذب : اسم الفاعل ہے، عذاب دینے والا۔ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ (اور نہیں ہے اللہ ان کو عذاب دینے والا اس حال میں کہ وہ لوگ مغفرت طلب کرتے ہیں) 33/8

ذ ب ح

 [ ذبحا (ف) : کسی جاندار کا گلا کاٹنا، ذبح کرنا۔ اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً (بیشک اللہ حکم دیتا ہے تم لوگوں کو کہ تم لوگ ذبح کرو ایک گائے) 67/2

 [ ذبح: قربانی کیا ہوا جانور۔ ذبیحہ۔ وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ (اور ہم نے اس کو فدیہ میں دیا ایک عظیم ذبیحہ) 107/37

 [ تذبیحا (تفعیل): کثرت سے ذبح کرنا۔ (آیت زیر مطالعہ)

ب ل و

 [ بلاء (ن) : کسی کو آزمانا ، امتحان لینا ( یہ تکلیف اور آسودگی ، دونوں طرح کی آزمائش کے لیے استعمال ہوتا ہے) وَبَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ (اور ہم نے آزمایا ان کو بھلائیوں سے اور برائیوں سے شاید کہ وہ پلٹ آئیں) 168/7

 [ بلاء: اسم ذات ہے، آزمائش، امتحان۔ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْبَلٰۗــــؤُا الْمُبِيْنُ (بیشک یہ تو یقینا کھلا امتحان ہے) 106/37

 [ بلی : کلمہ ایجاب ہے، کیوں نہیں۔ عموما کسی سوال کے جواب میں آتا ہے۔ سوال مثبت ہو یا منفی، دونوں کے جواب میں اس کا مفہوم مثبت ہی رہتا ہے۔ مثلا اگر سوال ہو کیا زید کھڑا ہے؟ جواب میں بَلٰی (کیوں نہیں) کا مطلب ہوگا کہ زید کھڑا ہے۔ اگر سوال ہو، کیا زید کھڑا نہیں ہے؟ تب بھی بَلٰی (کیوں نہیں) کا مطلب ہوگا کہ زید کھڑا ہے۔ قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ۭ قَالَ بَلٰي (اس نے کہا یعنی اللہ تعالیٰ نے پوچھا تو کیا آپ کو ایمان نہیں؟ انہوں نے یعنی حضرت ابراہیم نے کہا کیوں نہیں یعنی ایمان ہے) 260/2

 [ ابتلاء (افتعال) : اہتمام سے آزمانا ، آزمائش میں ڈالنا۔ وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ (اور جب آزمایا ابراہیم کو ان کے رب نے کچھ فرمانوں سے تو انہوں نے پورا کیا ان کو) 124/2

 [ مبتل : اسم الفاعل ہے، آزمانے والا۔ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ (اس نے یعنی طالوت نے کہا یقینا اللہ آزمانے والا ہے تم لوگوں کو ایک نہر سے) 249/2

ع ظ م

 [ عظومۃ: (ک) بڑا ہونا۔

 [ اعظم : افعل التفضیل ہے، زیادہ بڑا۔ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرًا وَّاَعْظَمَ اَجْرًا (اور جو تم لوگ آگے بھیجو گے اپنے لیے کسی بھلائی میں سے تو تم لوگ پاؤ گے اللہ کے پاس اس کو زیادہ اچھا اور زیادہ بڑا اجر کے لحاظ سے) 20/73

 [ عظیم، فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ بڑا (ہمیشہ اور ہر حال میں) ۔ ۭوَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ (اور اللہ بڑے فضل والا ہے) 105/2

 [ عظما (ن) : ہڈی پر مارنا۔

 [ عظم ج عظام: اسم ذات ہے، ہڈی۔ قَالَ رَبِّ اِنِّىْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّيْ ( اس نے کہا اے میرے رب بیشک کمزور ہوئی ہڈی میری) 4/19 ۔ (کیا گمان کرتا ہے انسان کہ ہم جمع نہ کرسکیں گے اس کی ہڈیوں کو) 3/75

 [ اعظاما (افعال) : بڑا کرنا، بڑا بنانا۔ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَـيِّاٰتِهٖ وَيُعْظِمْ لَهٗٓ اَجْرًا (اور جو اللہ کا تقوی کرے گا تو وہ دور کردے گا اس سے اس کی برائیوں کو اور وہ بڑا کردے گا اس کے لیے اجر کو) 5/65

 [ تعظیما (تفعیل): کسی کو بڑائی دینا، بڑائی تسلیم کرنا۔ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ (اور جس نے بڑائی تسلیم کی اللہ کے شعائر کی تو یقینا یہ دلوں کے تقوی سے ہے) 32/22

 

ترکیب:

نَجَّيْنَا فعل، اس میں شامل نَحنُ کی ضمیر فاعل ہے۔ كُمْ اس کا مفعول اور مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ متعلق فعل ہے۔ يَسُوْمُوْنَ فعل اور اس میں شامل ھُم کی ضمیر فاعل ہے۔ جو کہ ال فرعون کے لیے ہے۔ كُمْ اس کا مفعول اول اور سُوْۗءَ الْعَذَابِ مفعول ثانی ہے۔ يُذَبِّحُوْنَ اور يَسْتَحْيُوْنَ کی ضمیر فاعل بھی ال فرعون کے لیے ہیں اور یہ دونوں جملے يَسُوْمُوْنَ کا بیان یعنی وضاحت ہیں۔ فِىْ ذٰلِكُمْ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ بَلَاۗءٌ عَظِيْمٌ مرکب توصیفی اور مبتداء موخر نکرہ ہے۔ مِّنْ رَّبِّكُمْ متعلق خبر ہے۔

 

نوٹ 1: لفظ اٰل کے معنی دیے جاچکے ہیں اب نوٹ کریں کہ کسی کی ازواج، اولاد اور نسل کے لیے عموما ذریت یا اہل بیت کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ال النبی میں کون لوگ شامل ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ اس میں اہل بیت شامل ہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ جس بھی شخص نے شعوری طور پر اسلام کو قبول کیا اور اس پر عمل پیرا ہونے کی جدوجہد کی وہ ال النبی میں شامل ہے ، خواہ وہ حضور ﷺ کا رشتہ دار ہو یا نہ ہو۔ اور جس شخص کا اسلام سے تعلق سراسر تقلیدی ہے وہ آپ کی امت میں شامل ہے ال میں نہیں ہے ۔ امام جعفر صادق کی بھی یہی رائے ہے ۔

قرآن مجید کے مطالعہ سے بھی امام جعفر صادق کی رائے کی تصدیق ہوتی ہے ۔ حضرت ابراہیم ، آذر کی ذریت اور اہل بیت تھے ۔ حضرت نوح کا بیٹا ان کی ذریت اور اہل بیت تھا لیکن ال نہیں تھا۔ جب وہ ان کی آنکھوں کے سامنے ڈوب رہا تھا تو نوح نے فریاد کی تھی کہ یا اللہ یہ میرے اہل میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ یہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے کیونکہ اس کا عمل صالح نہیں ہے (46/11) اسی طرح سے ال فرعون میں، اس کے رشتہ دار اور غیر رشتہ دار، ایسے تمام لوگ شامل ہیں جو اس کے پیروکار تھے۔

اس ضمن میں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اہل بیت یا ال النبی ہونے میں جو فضیلت ہے وہ قیامت میں ملے گی اور نسب کی بنیاد پر نہیں بلکہ عمل کی بنیاد پر ملے گی۔ اسے اس دنیا میں CASH کرنے کی کوشش کرنا خسارے کا سودا ہے۔ البتہ درود شریف پڑھتے وقت وعلی الہ میں پوری امت کا تصور کرلینا بہتر ہے۔ یعنی ہماری دعا یہ ہو کہ یا اللہ تو اپنے حبیب ﷺ کی امت پر شفقت فرما اور تقلیدی تعلق والوں کو بھی شعوری پیروی کی نعمت سے نواز دے۔

نوٹ 2: مادہ س و ء سے ماضی کا واحد مذکر غائب کا صیغہ ساء قرآن مجید میں متعدد جگہ استعمال ہوا ہے۔ لیکن زیادہ تر اس کا ترجمہ ماضی کے بجائے حال میں کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سمجھ لیں۔

ہم کہتے ہیں آدمی کھڑا ہے، یہ ایک خبر ہے، اس کا مطلب ہے کہ آدمی پہلے نہیں کھڑا تھا، اب کھڑا ہے اور بعد میں بھی کھڑا نہیں ہوگا۔ لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ آدمی جلدباز ہے تو یہ محض خبر نہیں ہے بلکہ ایک آفاقی صداقت کا بیان بھی ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ماضی میں بھی جلد باز تھا۔ حال میں بھی ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا۔ اب دنیا کی کسی زبان میں کوئی ایسا لفظ یا صیغہ نہیں ہے جو تینوں زمانوں پر محیط ہو۔ اس لیے آفاقی صداقت کو بیان کرنے کے مختلف زبانوں کے انداز مختلف ہیں۔ اردو میں اسے زیادہ تر زمانہ حال میں بیان کرتے ہیں، جبکہ عربی میں اس کے لیے زیادہ تر ماضی کا صیغہ استعمال ہوتا ہے۔ جیسے وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا (11/17) اب اس کا لفظی ترجمہ تو بنتا ہے کہ انسان جلد باز تھا۔ لیکن چونکہ یہ ایک آفاقی صداقت ہے جس کا مفہوم اردو میں زمانہ حال میں ادا ہوتا ہے، اس لیے اس کا صحیح ترجمہ ہوگا کہ انسان جلد باز ہے، اسی طرح سے وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا کا صحیح ترجمہ ہوگا کہ اللہ علیم حکیم ہے۔ (17/4)

اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں سَاءَ کا لفظ آفاقی صداقت کے بیان میں آیا ہے، وہاں اس کا ترجمہ حال میں کرنا اردو محاورہ کی ضرورت ہے۔ جیسے یہ ایک آفاقی صداقت ہے کہ سوتیلی ماں سے نکاح کرنا بہت بری بات ہے۔ چنانچہ اس کے لیے فرمایا کہ ۭاِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقْتًا ۭوَسَاۗءَ سَبِيْلًا (یقینا یہ بےحیائی ہے اور غضب کو دعوت دینا ہے اور برا ہے بلحاظ راستہ کے یعنی طرز عمل کے لحاظ سے) 22/4

نوٹ 3: مرکبات ناقصہ کا استعمال مختلف زبانوں میں مختلف ہے۔ مثلا ہم کہتے ہیں دنیا کی زندگی (مرکب اضافی) جبکہ دنیوی زندگی (مرکب توصیفی) کا اردو میں استعمال نہ ہونے جیسا ہے۔ اس کے برعکس عربی میں الحیاۃ الدنیا (مرکب توصیفی) استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ حیاۃ الدنیا (مرکب اضافی) قرآن مجید میں تو استعمال نہیں ہوا۔ اس لیے مرکبات ناقصہ کا ترجمہ کرتے وقت متعلق زبان کے محاورہ کا لحاظ کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الحیاۃ الدنیا (مرکب توصیفی) کا ترجمہ دنیا کی زندگی (مرکب اضافی) کیا جاتا ہے۔

اسی طرح سے آیت زیر مطالعہ سوء العذاب مرکب اضافی ہے جس کا ترجمہ بنتا ہے عذاب کا برا ہے۔ لیکن اردو میں اس کا رواج نہیں ہے ۔ اس لیے صحیح مفہوم واضح کرنے کے لیے اردو محاورہ کے مطابق اس کا ترجمہ برا عذاب (مرکب توصیفی) کیا جاتا ہے۔ آگے بھی اس قسم کی مثالیں آئیں گی۔

نوٹ 4: یہاں سے مسلسل کئی رکوع تک بنو اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور ان کی ناشکری کے حوالے سے متعدد تاریخی واقعات کا ذکر آئے گا۔ اس لیے یہ بات ذہن میں ایک مرتبہ پھر تازہ کرلیں کہ ان واقعات میں ترتیب زمانی نہیں ہے۔ وَاِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَيْنٰكُمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ   50؀
[ وَاِذْ: اور جب] [ فَرَقْنَا: ہم نے پھاڑ کر الگ کیا] [ بِكُمُ: تم لوگوں کے لیے] [ الْبَحْرَ: سمندر کو] [ فَاَنْجَيْنٰكُمْ: تو ہم نے نجات دی تم کو] [ وَاَغْرَقْنَآ: اور ہم نے ڈبو دیا] [ اٰلَ فِرْعَوْنَ: فرعون کے پیروکاروں کو] [ وَ: اس حال میں کہ] [ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ: تم لوگ دیکھ رہے تھے] وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓى اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ   51۝
[ وَاِذْ وٰعَدْنَا: اور جب ہم نے معاہدہ کیا] [ مُوْسٰٓى: موسیٰ سے] [ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً: چالیس راتوں کا] [ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ : پھر تم لوگوں نے بنایا] [ الْعِجْلَ: بچھڑے کو (الہ) ] [ مِنْۢ بَعْدِهٖ: اس کے بعد] [ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ: اور تم لوگ ظلم کرنے والے تھے] ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ  52؀
[ ثُمَّ عَفَوْنَا: پھر ہم نے درگزر کیا] [ عَنْكُمْ: تم لوگوں سے] [ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ: اس کے بعد] [ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ: تاکہ تم لوگ شکر کرو] وَاِذْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ  53؀
[ وَاِذْ اٰتَيْنَا: اور جب ہم نے دیا] [ مُوْسَى: موسیٰ کو] [ الْكِتٰبَ وَالْفُرْقَانَ: کتاب اور فرق واضح کرنے والا] [ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ: تاکہ تم لوگ ہدایت پاؤ] وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْٓا اِلٰى بَارِىِٕكُمْ فَاقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ   ۭ  ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِىِٕكُمْ   ۭ   فَتَابَ عَلَيْكُمْ   ۭ   اِنَّھٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ  54؀
[ وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى: اور جب کہا موسیٰ نے] [ لِقَوْمِهٖ: اپنی قوم سے] [ يٰقَوْمِ: اے میری قوم] [ اِنَّكُمْ: بیشک تم لوگوں نے] [ ظَلَمْتُمْ: ظلم کیا ہے] [ اَنْفُسَكُمْ: اپنے آپ پر] [ بِاتِّخَاذِكُمُ: تمہارے بنانے سے] [ الْعِجْلَ: بچھڑے کو (الہ)] [ فَتُوْبُوْٓا: پس تم لوگ توبہ کرو] [ اِلٰى بَارِىِٕكُمْ: تم کو وجود بخشنے والے سے] [ فَاقْتُلُوْٓا: تو تم لوگ قتل کرو] [ اَنْفُسَكُمْ ۭ : اپنوں کو] [ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ: یہ بہتر ہے] [ لَّكُمْ: تمہارے لیے] [ عِنْدَ بَارِىِٕكُمْ ۭ : تم کو وجود بخشنے والے کے نزدیک] [ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۭ : تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی] [ اِنَّھٗ: یقینا وہ] [ ھُوَ التَّوَّابُ: ہی کثرت سے توبہ قبول کرنے والا] [ الرَّحِيْمُ: رحیم ہے] وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ  55؀
[ وَاِذْ قُلْتُمْ: اور جب تم لوگوں نے کہا] [ يٰمُوْسٰى: اے موسی] [ لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ: ہم ہرگز نہیں مانیں گے تیری بات] [ حَتّٰى نَرَى: یہاں تک کہ ہم دیکھیں] [ اللّٰهَ جَهْرَةً: اللہ کو نمایاں طور پر] [ فَاَخَذَتْكُمُ: تو پکڑا تم کو] [ الصّٰعِقَةُ: آسمانی بجلی نے] [ وَ: اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ : تم لوگ دیکھ رہے تھے] ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ   56؀
[ ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ: پھر ہم نے اٹھایا تم کو] [ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ: تمہاری موت کے بعد] [ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ : تاکہ تم لوگ شکر ادا کرو] وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى   ۭ   كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ    ۭ   وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ  57؀
[ وَظَلَّلْنَا: اور ہم نے سایہ فگن کیا] [ عَلَيْكُمُ: تم لوگوں پر] [ الْغَمَامَ: بادل کو] [ وَاَنْزَلْنَا: اور ہم نے اتارا] [ عَلَيْكُمُ: تم لوگوں پر] [ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى ۭ : من اور سلوی] [ كُلُوْا: تم لوگ کھاؤ] [ مِنْ طَيِّبٰتِ مَا: اس کے پاکیزہ سے جو] [ رَزَقْنٰكُمْ ۭ : ہم نے عطا کیا تم لوگوں کو] [ وَمَا ظَلَمُوْنَا: اور انہوں نے ظلم نہیں کیا ہم پر] [ وَلٰكِنْ: اور لیکن] [ كَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ: وہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے] وَاِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا ھٰذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰيٰكُمْ    ۭ  وَسَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ  58؀
[ وَاِذْ قُلْنَا: اور جب ہم نے کہا] [ ادْخُلُوْا: تم لوگ داخل ہو] [ ھٰذِهِ الْقَرْيَةَ: اس بستی میں] [ فَكُلُوْا: تو تم لوگ کھاؤ] [ مِنْهَا: اس میں سے] [ حَيْثُ: جہاں سے] [ شِئْتُمْ: تم چاہو] [ رَغَدًا: جی بھر کے] [ وَّادْخُلُوا: اور تم داخل ہو] [ الْبَابَ: دروازے میں] [ سُجَّدًا: سجدہ کرنے والوں کی حالت میں] [ وَّقُوْلُوْا: اور کہو] [ حِطَّةٌ: معافی ہو] [ نَّغْفِرْ: تو ہم بخش دیں گے] [ لَكُمْ: تمہارے لیے] [ خَطٰيٰكُمْ ۭ : تمہاری خطاؤں کو] [ وَسَنَزِيْدُ: اور ہم زیادہ کریں گے (بلحاظ درجہ)] [ الْمُحْسِنِيْنَ: بلا کم و کاست کام کرنے والوں کو] فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِىْ قِيْلَ لَھُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَاۗءِ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ   59؀ۧ
[ فَبَدَّلَ: تو تبدیل کیا] [ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا: ان لوگوں نے جنہوں نے ظلم کیا] [ قَوْلًا: بات کو] [ غَيْرَ الَّذِىْ: اس کے علاوہ جو] [ قِيْلَ لَھُمْ: کہی گئی ان سے] [ فَاَنْزَلْنَا: تو ہم نے نازل کیا] [ عَلَي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا: ان لوگوں پر جنہوں نے ظلم کیا] [ رِجْزًا: ایک عذاب] [ مِّنَ السَّمَاۗءِ: آسمان سے] [ بِمَا: بسبب اس کے جو] [ كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ: وہ لوگ حکم عدولی کرتے تھے] وَاِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ    ۭ  فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا    ۭ  قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْ   ۭ   كُلُوْا وَاشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَلَا تَعْثَوْا فِى الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ  60۝
[ وَاِذِ اسْتَسْقٰى: اور جب پانی مانگا] [ مُوْسٰى: موسیٰ نے] [ لِقَوْمِهٖ: اپنی قوم کے لیے] [ فَقُلْنَا: تو ہم نے کہا] [ اضْرِبْ: آپ ماریے] [ بِّعَصَاكَ: اپنی لاٹھی سے] [ الْحَجَرَ ۭ : چٹان کو] [ فَانْفَجَرَتْ: پس پھوٹ بہے] [ مِنْهُ: اس میں سے] [ اثْنَتَا عَشْرَةَ: بارہ] [ عَيْنًا ۭ : چشمے] [ قَدْ عَلِمَ: جان لیا] [ كُلُّ اُنَاسٍ: ہر ایک گروہ نے] [ مَّشْرَبَھُمْ ۭ : اپنے پینے کی جگہ] [ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا: تم لوگ کھاؤ اور پیو] [ مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ: اللہ کی دین میں سے] [ وَلَا تَعْثَوْا: اور تم لوگ انتشار مت پھیلاؤ] [ فِى الْاَرْضِ: زمین میں] [ مُفْسِدِيْنَ: عدل اجتماعی بگاڑنے والے ہوتے ہوئے] وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰي طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَقِثَّاۗىِٕهَا وَفُوْمِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا   ۭ   قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِىْ ھُوَ اَدْنٰى بِالَّذِىْ ھُوَ خَيْرٌ   ۭ  اِھْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ     ۭ   وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ     ۤ   وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ    ۭ   ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ النَّـبِيّٖنَ بِغَيْرِ الْحَقِّ   ۭ  ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ   61۝ۧ
[ وَاِذْ قُلْتُمْ: اور جب کہا تم لوگوں نے] [ يٰمُوْسٰى: اے موسی] [ لَنْ نَّصْبِرَ: ہم ہرگز صبر نہیں کریں گے] [ عَلٰي طَعَامٍ وَّاحِدٍ: کسی ایک کھانے پر] [ فَادْعُ: پس آپ پکاریے] [ لَنَا: ہمارے لیے] [ رَبَّكَ: اپنے رب کو] [ يُخْرِجْ لَنَا: کہ وہ نکالے ہمارے لیے] [ مِمَّا: اس میں سے جو] [ تُنْۢبِتُ: اگاتی ہے] [ الْاَرْضُ: زمین] [ مِنْۢ: جیسے کہ] [ بَقْلِهَا: اس کی سبزی] [ وَقِثَّاۗىِٕهَا: اور اس کی ککڑی] [ وَفُوْمِهَا: اور اس کا گندم] [ وَعَدَسِهَا: اور اس کی مسور] [ وَبَصَلِهَا ۭ : اور اس کی پیاز] [ قَالَ: انہوں نے کہا] [ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ: کیا تم لوگ تبدیلی میں چاہتے ہو] [ الَّذِىْ ھُوَ اَدْنٰى: اس کو جو کمتر ہے] [ بِالَّذِىْ ھُوَ خَيْرٌ ۭ : اس کے بدلے جو بہتر ہے] [ اِھْبِطُوْا: تم لوگ اترو] [ مِصْرًا: کسی شہر میں] [ فَاِنَّ: تو یقینا] [ لَكُمْ: تمہارے لیے ہے] [ مَّا سَاَلْتُمْ ۭ : وہ جو تم نے مانگا] [ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ: اور ان پر تھوپ دی گئٰ] [ الذِّلَّةُ: ذلت] [ وَالْمَسْكَنَةُ ۤ : اور محتاجی] [ وَبَاۗءُوْ: اور وہ لوگ لوٹے] [ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ ۭ : اللہ کے غضب کے ساتھ ] [ ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ: یہ اس لیے کہ وہ لوگ] [ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ: انکار کیا کرتے تھے] [ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ: اللہ کی آیات کا] [ وَيَقْتُلُوْنَ: اور قتل کیا کرتے تھے] [ النَّـبِيّٖنَ: نبیوں کو] [ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۭ : حق کے بغیر] [ ذٰلِكَ بِمَا: یہ اس سبب سے جو] [ عَصَوْا: انہوں نے نافرمانی کی] [ وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ: اور جو وہ حد سے تجاوز کیا کرتے تھے] اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَادُوْا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِـــِٕيْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ    ګ    وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ  62۝
[ اِنَّ الَّذِيْنَ: بیشک جو لوگ] [ اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [ وَالَّذِيْنَ: اور وہ لوگ جو] [ ھَادُوْا: یہودی ہوئے] [ وَالنَّصٰرٰى: اور نصرانی ہوئے] [ وَالصّٰبِـــِٕيْنَ: اور صابئی ہوئے] [ مَنْ اٰمَنَ: ان میں سے جو ایمان لایا] [ بِاللّٰهِ: اللہ پر] [ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ: اور آخری دن پر] [ وَعَمِلَ صَالِحًا: اور عمل کیے نیک] [ فَلَھُمْ: تو ان کے لیے ہے] [ اَجْرُھُمْ: ان کا اجر] [ عِنْدَ رَبِّهِمْ ګ : ان کے رب کے پاس] [ وَلَا خَوْفٌ: اور کچھ خوف نہیں ہے] [ عَلَيْهِمْ: ان پر] [ وَلَا ھُمْ: اور نہ ہی وہ لوگ] [ يَحْزَنُوْنَ: پچھتائیں گے] وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ   ۭ  خُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ  63۝
[ وَاِذْ اَخَذْنَا: اور جب لیا ہم نے] [ مِيْثَاقَكُمْ: پختہ وعدہ تم لوگوں سے] [ وَرَفَعْنَا: اور بلند کیا ہم نے] [ فَوْقَكُمُ: تمہارے اوپر] [ الطُّوْرَ ۭ : طور کو] [ خُذُوْا: کہ تم لوگ پکڑو] [ مَآ: اس کو جو] [ اٰتَيْنٰكُمْ: ہم نے تیا تم کو] [ بِقُوَّةٍ: عمل کی قدرت کے ساتھ] [ وَّاذْكُرُوْا: اور تم لوگ یاد رکھو] [ مَا: اس کو جو] [ فِيْهِ: اس میں ہے] [ لَعَلَّكُمْ: شاید کہ تم لوگ] [ تَتَّقُوْنَ: اللہ کی ناراضگی سے بچو] ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ    ۚ  فَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ  64۝
[ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ: پھر منہ موڑا تم لوگوں نے] [ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۚ : اس کے بعد سے] [ فَلَوْلَا: تو اگر نہ ہوتا] [ فَضْلُ اللّٰهِ: اللہ کا فضل] [ عَلَيْكُمْ: تم لوگوں پر] [ وَرَحْمَتُهٗ: اور اس کی رحمت] [ لَكُنْتُمْ: تو تم لوگ ہوتے] [ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ: خسارہ پانے والوں میں سے] وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِيْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِى السَّبْتِ فَقُلْنَا لَھُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـــِٕيْنَ 65۝ۚ
[ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ: اور جان لیا ہے تم لوگوں نے] [ الَّذِيْنَ: ان لوگوں نے جنہوں نے] [ اعْتَدَوْا: حد سے تجاوز کیا] [ مِنْكُمْ: تم میں سے] [ فِى السَّبْتِ: ہفتے کے دن میں] [ فَقُلْنَا لَھُمْ: تو ہم نے کہا ان سے] [ كُوْنُوْا: تم لوگ ہوجاؤ] [ قِرَدَةً خٰسِـــِٕيْنَ: دھتکارے جانے والے بندر] فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ  66۝
[ فَجَــعَلْنٰھَا: تو ہم نے بنایا اس کو] [ نَكَالًا: نشان عبرت] [ لِّمَا: اس کے لیے جو] [ بَيْنَ يَدَيْهَا: اس کے سامنے ہے] [ وَمَا: اور جو] [ خَلْفَهَا: اس کے پیچھے ہے] [ وَمَوْعِظَةً: اور نصیحت] [ لِّلْمُتَّقِيْنَ: اللہ کی ناراضگی سے بچنے والوں کے لیے] وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖٓ اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً     ۭ  قَالُوْٓا اَتَتَّخِذُنَا ھُزُوًا    ۭ  قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ   67؀
[ وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى: اور جب کہا موسیٰ نے] [ لِقَوْمِهٖٓ: اپنی قوم سے] [ اِنَّ اللّٰهَ: کہ اللہ] [ يَاْمُرُكُمْ: حکم دیتا ہے تم لوگوں کو] [ اَنْ تَذْبَحُوْا: کہ تم لوگ ذبح کرو] [ بَقَرَةً ۭ : ایک گائے کو] [ قَالُوْٓا: ان لوگوں نے کہا] [ اَتَتَّخِذُنَا: کیا آپ بناتے ہیں ہم کو] [ ھُزُوًا ۭ : مذاق کا نشانہ] [ قَالَ: انہوں نے کہا] [ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ: میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں] [ اَنْ اَكُوْنَ: کہ میں ہوں] [ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ : غلط خیالاتا والوں میں سے] قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا هِىَ    ۭ   قَالَ اِنَّهٗ يَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِكْرٌ     ۭ  عَوَانٌۢ بَيْنَ ذٰلِكَ    ۭ  فَافْعَلُوْا مَا تُـؤْمَرُوْنَ 68۝
[ قَالُوا: ان لوگوں نے کہا] [ ادْعُ: آپ پکاریے] [ لَنَا: ہمارے لیے] [ رَبَّكَ: اپنے رب کو] [ يُبَيِّنْ: کہ وہ واضح کردے] [ لَّنَا: ہمارے لیے] [ مَا هِىَ ۭ : وہ کیا ہے] [ قَالَ: انہوں نے کہا] [ اِنَّهٗ: کہ وہ] [ يَقُوْلُ: کہتا ہے] [ اِنَّهَا: کہ وہ] [ بَقَرَةٌ: ایک ایسی گائے ہے] [ لَّا فَارِضٌ: نہ بوڑھی ہے] [ وَّلَا بِكْرٌ ۭ : اور نہ کنواری ہے] [ عَوَانٌۢ : بیچ میں ہے] [ بَيْنَ ذٰلِكَ ۭ : اس کے مابین] [ فَافْعَلُوْا: پس تم لوگ کرو] [ مَا: وہ جو] [ تُـؤْمَرُوْنَ : تم کو حکم دیا جاتا ہے] قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا    ۭ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاۗءُ  فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِيْنَ   69؀
[ قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ: انہوں نے کہا آپ پکاریے ہمارے لیے اپنے رب کو] [ يُبَيِّنْ لَّنَا: کہ وہ واضح کردے ہمارے لیے] [ مَا: کیا ہے] [ لَوْنُهَا ۭ : اس کا رنگ] [ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوْلُ: انہوں نے کہا کہ وہ کہتا ہے] [ اِنَّهَا: کہ وہ] [ بَقَرَةٌ صَفْرَاۗءُ : ایک پیلی گائے ہے] [ فَاقِعٌ: شوخ ہے] [ لَّوْنُهَا: اس کا رنگ] [ تَسُرُّ: وہ خوش کرتا ہے] [ النّٰظِرِيْنَ : دیکھنے والوں کو] قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا هِىَ     ۙ   اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَيْنَا    ۭ  وَاِنَّآ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ   70؀
[ قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ: انہوں نے کہا آپ پکاریے ہمارے لیے اپنے رب کو] [ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا هِىَ ۙ : کہ وہ واضح کردے ہمارے لیے کہ وہ کیا ہے] [ اِنَّ الْبَقَرَ: بیشک تمام گائے بیل] [ تَشٰبَهَ: باہم ملتے جلتے ہوئے] [ عَلَيْنَا ۭ : ہم پر] [ وَاِنَّآ: اور یقینا ہم] [ اِنْ شَاۗءَ: اگر چاہا] [ اللّٰهُ: اللہ نے] [ لَمُهْتَدُوْنَ: تو ہدایت پانے والے ہیں]