قرآن کریم کے ایک ایک لفظ کی لغوی، صرفی، نحوی اور اعرابی تفسیر
افادات :  پروفیسر حافظ احمد یار 
(یونی کوڈ فارمیٹ)

پارہ اول نصف دوئم
قَالَ اِنَّهٗ يَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِيْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِى الْحَرْثَ    ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيْهَا    ۭ  قَالُوا الْـــــٰٔنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ    ۭ   فَذَبَحُوْھَا وَمَا كَادُوْا يَفْعَلُوْنَ   71۝ۧ
[ قَالَ: انہوں نے کہا] [ اِنَّهٗ: کہ وہ] [ يَقُوْلُ: کہتا ہے] [ اِنَّهَا: کہ وہ] [ بَقَرَةٌ: ایک گائے ہے] [ لَّا ذَلُوْلٌ: جو سدھائی نہیں گئی] [ تُثِيْرُ: کہ وہ جوتتی ہے] [ الْاَرْضَ: زمین کو] [ وَلَا تَسْقِى: اور وہ پانی نہیں پلاتی] [ الْحَرْثَ ۚ : کھیتی کو] [ مُسَلَّمَةٌ: وہ بچائی گئی ہے ( ہر مشقت سے) ] [ لَّا شِيَةَ: کسی قسم کا کوئی نشان نہیں ہے] [ فِيْهَا ۭ : اس میں] [ قَالُوا: ان لوگوں نے کہا] [ الْـــــٰٔنَ: اب] [ جِئْتَ بِالْحَقِّ ۭ : تو لایا حق کو] [ فَذَبَحُوْھَا: تو ان لوگوں نے ذبح کیا اس کو] [ وَمَا كَادُوْا: اور لگتا نہیں تھا کہ] [ يَفْعَلُوْنَ: وہ لوگ کریں گے] وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِيْهَا      ۭ   وَاللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ  72۝ۚ
[ وَاِذْ قَتَلْتُمْ : اور جب تم لوگوں نے قتل کیا [ نَفْسًا : ایک جان کو] [ فَادّٰرَءْتُمْ: تو الزام اک دوسرے پر ڈالا] [ فِيْهَا ۭ : اس میں ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ مُخْرِجٌ : نکالنے والا تھا] [ مَّا : وہ جو] [ كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ: تم لوگ چھپاتے تھے]

 

 

 اللغۃ

 [ وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا] جو ’’ وَ‘‘ (اور) + ’’ اِذْ‘‘ (جب) + ’’ قَتَلْتُمْ‘‘ (تم نے قتل کیا) + ’’ نَفْسًا‘‘ (ایک جان یعنی شخص کو) کا مرکب ہے اس جملے کے تمام اجزاء کے معنی اور استعمال پر اس سے پہلے بات ہوچکی ہے چاہیں تو تفصیل کے لیے دیکھ لیجئے: ’’ وَ‘‘ کے لیے [ 1:4:1 (3)] ’’ اِذْ‘‘ کے لیے [ 2:12:1 (1)] ’’ قتلتم‘‘ (قتل یقتل) کے لیے [ 2:34:1 (4)] اور ’’ نَفْسًا‘‘ کے لیے [ 2:8:1 (4)] یہاں مترجمین نے ’’ نفس‘‘ (نفسًا) کا ترجمہ ’’ ایک جان، شخص، آدمی‘‘ سے کیا ہے۔ بعض نے صرف ’’ ایک‘‘ کرکے فعل قتلتم کا ترجمہ ساتھ ’’ خون کردیا‘‘ کیا ہے یعنی ’’ ایک خون کردیا‘‘ باقی حضرات نے ’’ قتلتم‘‘ کا ترجمہ ’’ مار ڈالا تم نے، مار ڈالا تھا، قتل کیا ناقتل کر ڈالا تھا‘‘ کی صورت میں کیا ہے۔ تمام تراجم ہم معنی ہی ہیں اور یہاں ’’ تم نے قتل کیا، کا مطلب ہے تمہارے اندر قتل ہوا۔ کیونکہ سب نے مل کر اسے قتل نہیں کیا تھا، نیز دیکھئے حصہ ’’ الاعراب‘‘۔

2:45:1 (1) [ فَادَّارَئْتُمْ فِیْھَا] (یہاں ’’ فادارء تم‘‘ رسم املائی میں سمجھانے کے لیے لکھا گیا ہے رسم عثمانی پر بات آگے ’’ الرسم‘‘ میں ہوگی)

 اس میں آخری ’’ فیھا‘‘ (فی+ھا) کا ترجمہ تو ہے ’’ اس کے بارے میں‘‘ یہاں ضمیر مؤنث (ھا) ’’ نفس‘‘ کے لیے ہے جو مؤنث سماعی ہے۔ ’’ فَادَّارَئْ تُمْ‘‘ کی ابتدائی ’’ فَائ‘‘ (فَ) تو عاطفہ (بمعنی پھر: پس) ہے۔ باقی فعل ’’ اِدّارَئْ تُمْ‘‘ ہے۔ اس کا مادہ

’’ درئ‘‘ اور وزن اصلی ’’ تَفَاعَلْتَم‘‘ ہے۔ اس کی اصلی شکل ’’ تدارَئْ تُم‘‘ تھی۔ عربوں کے تلفظ کا طریقہ یہ ہے کہ باب تفاعل میں فاء کلمہ اگر ت ث رذز س ص ط ظ میں سے کوئی ایک حرف ہو تو ’’ تفاعل‘‘ کی ’’ ت‘‘ کو بھی اسی حرف میں بدل کر بولتے ہیں۔ اس طرح (مثلاً اسی) ’’ تدارَئْ تُمْ‘‘ سے ’’ دَدَارَئْ تُمْ‘‘ بنے گا۔ جس میں مضاعف کے قاعدہ کے مطابق ایک ’’ د‘‘ دوسری ’’ د‘‘ میں مدغم کرنے سے ایک مشدد (تشدید والی) ’’ دّ‘‘ پیدا ہوگی۔ یعنی اب یہ لفظ ’’ دّارَئْ تُمْ‘‘ بنے گا۔ اب مشدد ’’ دّ‘‘ کو پڑھنے کے لیے ابتداء میں ایک ہمزۃ الوصل لگا دیا جاتا ہے جو مکسور پڑھا جاتا ہے اور یوں یہ لفظ ’’ اِدّارَئْ تُمْ‘‘ لکھا اور بولا جاتا ہے یعنی ’’ تدارَئْ تُمْ = وَدَارَئْ تُمْ = اِدّارَئْ تُمْ‘‘ یہاں زیر مطالعہ آیت میں اس لفظ کے شروع میں ’’ فَ‘‘ ہے جس کی وجہ سے ’’ فَادّرَائْ تُمْ‘‘ میں ہمزۃ الوصل پڑھنے میں نہیں آتا (مگر لکھا ضرور جاتا ہے) ۔

ؤ بعض علمائے صرف ’’ تفاعل‘‘ کی اس تبدیل شدہ صورت کو مزید فیہ کا ایک مستقل باب سمجھتے ہیں یعنی ’’ اِفَاعَلَ یَفَّاعَلُ اِفَّاعُلًا‘‘ (مثلاً علم الصرف (للسورتی) ص 24) تاہم باب ’’ تفاعل‘‘ میں مذکورہ بالا تبدیلی لازمی نہیں ہے۔ مثلاً زیر مطالعہ لفظ کو اپنی اصلی شکل میں ’’ فَتَدَارَئْ تُمْ‘‘ بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ مگر قرآن کریم کی قراءت میں روایت کی پابندی کی جاتی ہے۔ یعنی جس طرح کسی لفظ کا پڑھنا صحابہ (رض)  سے ثابت ہے اسی طرح پڑھا جاتا ہے محض معنی اور گرامر کی بنا پر لفظ نہیں بدلا جاسکتا۔ یہاں زیر مطالعہ آیت میں یہ لفظ اسی طرح مادہ کے حروف کی تبدیلی کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔

ؤ اس ثلاثی مادہ (درئ) سے فعل مجرد ’’ دَرَأٌ … یَدْرَؤُ دَرْأُ‘‘ (فتح سے) آتا ہے اور اس کے ساتھ بنیادی معنی ہیں: …کو ہٹا دینا یا زور سے ہٹا دینا۔ پیچھے دھکیل دینا۔ مثلاً دَرَأَہٗ= اس نے اس کو ہٹا دیا۔ اور درَأہٗ الیہ ولہ (یعنی ’’ اِلی‘‘ یا لام کے صلہ کے ساتھ) اس نے اس کو اس کی طرف چلایا۔‘‘ اس کے علاوہ یہ فعل ’’ آگ کا روشنی دینا، کسی چیز کو پھیلانا‘‘ اور بطور فعل لازم ’’ اچانک نکل آنا اور ستارے کا چمکنا‘‘ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ تاہم قرآن کریم میں اس فعل مجرد سے کل تین صیغے چار جگہ آئے ہیں اور ہر جگہ یہ فعل ’’ ہٹا دینادور کردینا‘‘ والے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ البتہ ایک جگہ (النور:25) میں ایک اسم مشتق ’’ دُرَّیٌّ‘‘ کے بارے میں امکان ہے کہ وہ ’’ چمکنے والے‘‘ م عنی کے لحاظ سے اس مادہ سے لیا گیا ہو۔ اس پر مزید بات اپنے موقع پر ہوگی ان شاء اللہ۔

ؤ زیر مطالعہ صیغہ فعل ’’ اِدّرَئْ تُمْ‘‘ اس مادہ (درئ) سے باب تفاعل کا فعل ماضی صیغہ جمع مذکر حاضر ہے باب تفاعل کے اس فعل ’’ تَدارَأَ یَتَدَارَؤُ تَدَارَأَ‘‘ کے بنیادی معنی ہیں: باہم ایک دوسرے کی طرف دھکیلنا یعنی کسی الزام وغیرہ کو اپنے سے ہٹا کر دوسرے پر ڈالنا۔‘‘ اور چونکہ اس باب کی ایک خاصیت ’’ مشارکت‘‘ ہے اس لیے اس کا فاعل واحد نہیں آتا بلکہ کم از کم دو آدمی ہوں گے یعنی کہیں گے ’’ تدارء الرجلان‘‘ (دو آدمیوں نے الزام کو ایک دوسرے کی طرف دھکیلا) جیسے تفاخر الرجال= باہم فخر کیا اور تشابہ الرجلان= باہم ملتے جلتے ہوئے وغیرہ میں ہے۔

ؤ اس طرح ’’ فادّرَئْتُمْ‘‘ کا ترجمہ تو ہوتا۔‘‘ تم نے باہم ایک دوسرے کی طرف ہٹایا: دھکیلا‘‘ چونکہ ان زیر مطالعہ آیات میں کسی شخص کے قتل (وإذ قتلتم نفسًا) اور اس کے الزام کو اپنے سے ہٹا کر دوسرے پر ڈالنے کا ذکر ہے اور ’’ فیھا‘‘ میں اس کی طرف اشارہ بھی موجود ہے۔ اس لیے بعض اردو مترجمین نے اس عبارت (فادرائتم فیھا) کا ترجمہ ’’ پھر لگے ایک دوسرے پر دھرنے: ایک دوسرے پر دھرنے لگے‘‘ سے کیا ہے مگر اس پر محاورہ کی خاطر ’’ فیھا‘‘ کا ترجمہ نظر انداز کرنا پڑا ہے۔ بعض حضرات نے اسی کا ترجمہ ’’ پھر ایک دوسرے پر اس کو ڈالنے لگے : تو ایک دوسرے پر اس کی تہمت ڈالنے لگے‘‘ کیا ہے۔ اس ترجمے میں ’’ فیھا‘‘ کا مفہوم ’’ اس کو‘‘ اور ’’ اس کی تہمت‘‘ کی صورت میں شامل کیا گیا ہے جو محاورہ اور مفہوم کے لحاظ سے درست سہی مگر لفظ سے ہٹ کر ہے۔

ؤ اور چونکہ ’’ ایک دوسرے پر دھکیل دینا، دھرنے لگنا اور ڈالنے لگنا‘‘ میں ’’ جھگڑنے لگ جانا‘‘ کا مفہوم موجود ہے۔ اس لیے بعض مترجمین نے اس (فأدارئتم فیھا) کا ترجمہ ’’ اور لگے اس کے بارے میں جھگڑنے: تو اس میں باہم جھگڑنے لگے: پھر تم آپس میں اس باب میں جھگڑنے لگے‘‘ سے کیا ہے۔ ان ترجموں میں ’’ فیھا‘‘ کا ترجمہ ’’ اس میں، اس بارے میں‘‘ اور ’’ اس باب میں‘‘ کی صورت میں کیا گیا ہے جو اصل لفظ سے زیادہ قریب ہے۔ باب تفاعل کی ’’ مشارکت‘‘ والی بات کو ’’ باہم‘‘ اور ’’ آپس میں‘‘ کے الفاظ سے واضح کیا گیا ہے اور یہ تینوں ترجمے اس لحاظ سے زیادہ بہتر ہیں --- البتہ بیشتر مترجمین نے ترجمہ میں ’’ فادارء تم‘‘ کی ضمیر فاعلین ’’ انتم‘‘ کا ترجمہ (تم) کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی (ماسوائے ایک آخری ترجمہ کے) ۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اس سے پہلے (’’ واذ قلتم نفساً‘‘ کے) ’’ قتلتم‘‘ کے ترجمہ میں ’’ تم‘‘ آچکا تھا۔ (اور وہاں تو سب نے ’’ تم‘‘ استعمال کیا ہے) اس لیے اردو محاورے کے مطابق ’’ ادّارء تم‘‘ کے ترجمہ میں ’’ دھرنے لگے: ڈالنے لگے‘‘ (وغیرہ) سے پہلے دوبارہ ضمیر ’’ تم‘‘ لگانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ البتہ جس مترجم نے اس ضمیر کو بھی استعمال کیا ہے تو اس سے ترجمہ مزید واضح ہوگیا ہے۔ اس لیے کہ اردو میں ’’ دھرنے لگے‘‘ وغیرہ کی ضمیر مفاعلین ’’ وہ سب، تم سب‘‘ اور ’’ ہم سب‘‘ ہوسکتی ہے۔ جب کہ عربی میں یہ صورت نہیں ہے بلکہ صرف ’’ انتم‘‘ ہے یعنی ’’ تم‘‘ ہی۔

ؤ [ وَاللّٰہُ مُخْرِجٌ] وَاللّٰہُ۔ اور اللہ تعالیٰ ’’ مُخْرِجٌ‘‘ کا مادہ ’’ خ ر ج‘‘ اور وزن ’’ مُفْعِلُ‘‘ ہے۔ یعنی یہ اسی مادہ سے باب افعال کے فعل (اَخْرَجَ یُخْرِجُ = نکالنا، باہر نکلنا) سے صیغۂ اسم الفاعل ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد (خرَج یَخْرُجُ= نکلنا) اور اسی باب افعال کے فعل کے معنی و استعمال پر البقرہ:22 [ 2:16:1 (11)] میں بات ہوچکی ہے۔

ؤ ’’ مُخْرِجٌ‘‘ باب افعال سے فعل کا اسم الفاعل ہے اور اس کے لفظی معنی تو ہیں: ’’ باہر نکالنے والا‘‘ چونکہ یہاں (جیسا کہ اگلی آیت میں بیان ہوا ہے) کسی چھپی ہوئی بات یا راز کے نکلانے کا ذکر ہے۔ اس لیے اس کا ترجمہ ’’ کھول دینا، ظاہر کرنا یا فاش کرنا‘‘ سے بھی ہوسکتا ہے۔ پھر بعض مترجمین نے تو اسم الفاعل کے ساتھ اس عبارت (وَاللّٰہُ مُخْرِجٌ) کا ترجمہ ’’ اللہ کھولنے والا تھا‘‘، ’’ اللہ ظاہر کرنے والا تھا‘‘ سے کیا ہے۔ جبکہ بیشتر حضرات نے اردو محاورے کو سامنے رکھتے ہوئے‘‘ اللہ کو ظاہر کرنا تھا: ظاہر کردینا تھا: فاش کرنا تھا۔‘‘ کی صورت میں ترجمہ کیا ہے۔ ایک آدھ مترجم نے مصدری ترجمہ کے ساتھ ’’ اللہ کا منظور تھا‘‘ لگا کر کیا ہے یعنی ’’ اللہ کو منظور تھا ظاہر کرنا: کھولنا: فاش کرنا‘‘ وغیرہ کے ساتھ یہ سب تراجم محاورہ اور مفہوم کی بناء پر ہی درست قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ اسم الفاعل کے ساتھ ترجمہ کرنے والے اصل عبارت سے قریب رہے ہیں۔ اور مفہوم سمجھنے میں بھی کوئی پیچیدگی پیدا نہیں ہوتی۔ ان تمام تراجم میں صیغہ ماضی ’’ تھا‘‘ کے لانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک قصہ کا بیان ہے جس کا تعلق عہدِ ماضی سے ہے ایسے موقع پر جملہ اسمیہ کا ترجمہ بصیغہ ماضی کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ سیاقِ عبارت کا تقاضا ہوتا ہے۔

ؤ [ مَا کُنْتُمْ تَکْتَمُوْنَ] یہ پورا جملہ مع تشریح کلمات (جدا جدا) اس سے پہلے البقرہ:33 [ 2:24:1 (3)] میں گزر چکا ہے اور اس کے تراجم بھی وہاں (الاعراب میں) لکھے گئے تھے جن میں بعض نے کنتم کو فعل ’’ کان ناقصہ‘‘ کی صورت میں ’’ ہو‘‘ اور ’’ تھے‘‘ سے ترجمہ کیا ہے اور بعض نے بوجہ قصہ اس کا ترجمہ ماضی استمراری کے ساتھ کیا ہے۔ فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا    ۭ  كَذٰلِكَ يُـحْىِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى   ۙ   وَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ  73؀
[ فَقُلْنَا : تو ہم نے کہا] [ اضْرِبُوْهُ: تم لوگ مارو اس کو] [ بِبَعْضِهَا ۭ : اس کے حصہ سے] [ كَذٰلِكَ: اس طرح ] [ يُـحْىِ اللّٰهُ : اللہ زندہ کرتا ہے] [ الْمَوْتٰى ۙ : مردہ کو] [ وَيُرِيْكُمْ : اور وہ دکھاتا ہے تم کو] [ اٰيٰتِهٖ : اپنی نشانیاں ] [ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ : شاید تم لوگ عقل کرو]

 

 

 [ فَقُلْنَا اضْرِبُوْ بِبَعْضِھَا] ابتدائی ’’ فَ‘‘ = پس: پھر ہے اور ’’ قُلْنَا‘‘ (ہم نے کہا) اس سے پہلے اسی سورت (البقرہ) میں سات دفعہ آچکا ہے۔ پہلی دفعہ یہ لفظ (قلنا) البقرہ:34 [ 3:25:1 (1)] (واذ قلنا للملئکۃ) میں آیا ہے، اور اس کے مادہ ’ باب‘ تعلیل اور معنی وغیرہ پر وہاں بھی اور البقرہ:8 [ 2:7:1 (5)] میں بھی بات ہوئی تھی۔

ؤ [ اِضْرِبُوْ] میں آخری ضمیر (ہ) تو ’’ اس کو‘‘ کے معنی میں ہے اور فعل ’’ اِضْرِبُوْا‘‘ کے مادہ (ض رب) باب اور معنی وغیرہ کی اس سے پہلے البقرہ:26 (ان یضرب مثلاً) [ 2:19:1 (2)] میں اور البقرہ:60 [ 2:38:1 (2)] میں مزید وضاحت ہوئی تھی۔ یہ فعل (ضَرب یضرِب) ایک کثیر المعانی فعل ہے جو مختلف صلات کے ساتھ تیس سے بھی زائد معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور خود قرآن کریم میں یہ متعدد معانی کے لیے آیا ہے جن کو ہم حسب موقع بیان کرتے جائیں گے۔ (دو حوالے اوپر دیئے گئے ہیں)

ؤ [ ببَعْضِھَا]کی ابتدائی ’’ بِ‘‘ یہاں فعل ’’ ضربَ‘‘ کا ایک صلہ ہے جو اس چیز سے پہلے لگتا ہے (پتھر، ڈنڈا وغیرہ) جس سے کسی چیز کو مارا جائے۔ اس کی مثال آپ ’’ اضرِبْ بعصاک الحجَر‘‘ یعنی البقرہ:60 [ 2:38:1 (2)] میں پڑھ آئے ہیں۔ ’’ بعضھا‘‘ کے ’’ بعض‘‘ کے مادہ وغیرہ کی ’’ ضرب… بِ …‘‘ کے معنی ہیں۔ ’’ اس نے … کو… سے مارا ‘‘ مثلاً کہیں گے ’’ ضربہ بالید: بالعصا: بالسوط‘‘ یعنی اس نے اسے ہاتھ: لاٹھی: چابک سے مارا۔‘‘

ؤ اس طرح اس عبارت ’’ فقُلنا اضرِبُوہ ببعضِھا‘‘ کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ پس ہم نے کہا تم مارو اس (ہ) کو اس (ھا) کے بعض (کچھ حصے) سے‘‘ اس آیت کی تفسیر میں ایک قصہ بیان کیا گیا ہے۔ اکثر مترجمین نے اسی تفسیری قصے کو سامنے رکھتے ہوئے یہاں ’’ بعضھا‘‘ (اس کے بعض) کا ترجمہ ’’ اس کا ٹکڑا یا ایک ٹکڑا‘‘ کے ساتھ کیا ہے۔ اور پھر اس ’’ تفسیر‘‘ کی وجہ سے یہاں ’’ ضرب‘‘ بمعنی ’’ پیٹنا‘‘ (مارنا) بھی نہیں بنتا اس لیے یہاں فعل ’’ ضرب‘‘ کا ترجمہ ’’ چھوا دینا‘‘ سے کیا گیا ہے یعنی ’’ ہم نے کہا کہ اس کو اس کے کوئی (کسی) ٹکڑے سے چھو دو۔‘‘ تاہم بیشتر مترجمین نے ’’ اضرِبُو‘‘ کا ترجمہ ’’ اس کو مارو: ماردو‘‘ سے ہی کیا ہے جو لفظ سے زیادہ قریب ہے۔

ؤ اور اسی تفسیری قصے کو ملحوظ رکھتے ہوئے (جسے آپ ان آیات کے ضمن میں کسی تفسیر یا تفسیری حاشیے میں دیکھ سکتے ہیں) اس عبارت میں ’’ اضربوہ‘‘ کی ضمیر منصوب (ہ) اس مقتول کے لیے ہے جس کا ذکر ابھی اوپر ’’ اذ قتتم نفسًا‘‘ البقرہ:73 [ 2:45:1] میں ہوا ہے اور ’’ ببعضھا‘‘ کی ضمیر مجرور (ھا) اس گائے کے لیے ہے جس کا قصہ اوپر ’’ ان تذبحوا بقرۃ‘‘ البقرہ:67 [ 2:33:1] کے ضمن میں (البقرہ:67 تا 71 میں) بیان ہوا ہے۔ اسی لیے بیشتر مترجمین یہاں تفسیری ترجمہ کرتے ہوئے ’’ اضربوہ‘‘ اور ’’ ببعضھا‘‘ کی ضمیروں (ھا) کے لیے ان کے مرجع کو اسم ظاہر کی صورت میں ہلائے ہیں یعنی ’’ اضربوہ‘‘ = ’’ ماتو تم اس مردے کو: مقتول کو: اس میت پر: مردے پر‘‘ اور ’’ ببعضھا‘‘ یعنی اس گائے کا ایک: کوئی ٹکڑا: گائے کے ٹکڑے سے‘‘ وغیرہ۔ ان تمام تراجم کو تفسیری تراجم ہی کہا جاسکتا ہے جن کی صحت اس قصے کی صحت پر منحصر ہے جو اس آیات کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے۔ اور اس کے لیے کسی مستند تفسیر کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

ؤ اس تفسیری قصے میں چونکہ ایک خارق عادت (معجزانہ) طریقے کا ذکر آتا ہے لہٰذا اس کی روایتی پڑتال بھی ضروری ہے۔ بہرحال اس بارے میں نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً (براہِ راست) کچھ ثابت نہیں اس لیے بعض مفسرین (مثلاً ابن کثیر اور صاحب النار) نے فہم آیت کے لیے اس قصہ کو ہی غیر ضروری قرار دیا ہے۔

ؤ تفسیری مباحث میں جانا ہمارے دائرہ کار سے باہر ہے۔ مگر زیر مطالعہ میں فعل ’’ ضرب‘‘ کے استعمال (اضربو ببعضھا= اس کو اس کے بعض سے مارو) سے جو ایک ابہام اور استفہام پیدا ہوتا ہے (یعنی کس کو؟ کس سے؟ کیوں کر؟ کس لیے؟) اس کی ’’ وضاحت‘‘ یا ’’ تسکین تجسس کے لیے ’’ مقتول، قتل یا قاتل‘‘ کے بارے میں کچھ نہ کچھ بیان کرنا ضروری معلوم ہوا۔ اس ’’ بیان‘‘ کی کانہ پری کے لیے قدمار مفسرین تو وہ روایت لائے جن کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ اور جو بلحاظ سند کسی مضبوط اساس پر نہیں ہیں۔

ؤ صاحب النہار نے اسے توریت (کتاب استثنائ:21) کے ایک حکم سے متعلق قرار دیا ہے جس کا تعلق ’’ الزام قتل سے اظہار براءت کے طریقہ‘‘ سے ہے۔ مگر اس صورت میں اسی فقرہ (اضربوہ ببعضھا) کی کوئی وضاحت نہیں ہوتی۔

ؤ اس ضمن میں حیران کن موقف منکرین سنت کا ہے جو احادیث اور روایات کے غیر مستند ہونے کا بہت شور مچاتے ہیں۔ مگر خود اس آیت کے ضمن میں پرویز صاحب نے ایک من گھڑت قصہ ’’ دریافت قاتل‘‘ کا لکھ دیا ہے۔

 کہ قاتل کا سراغ نکالنے کی ایک نفسیاتی ترکیب یہ بتائی گئی کہ ’’ تم میں سے ایک ایک جائو اور مقتول کے کسی حصۂ جسم کو اٹھا کر لاش کے ساتھ لگا دو (مقتول اور لاش دو الگ چیزیں تھیں؟) چنانچہ جو مجرم تھا جب وہ لاش کے قریب پہنچا تو خوف کی وجہ سے اس سے ایسے آثار نمایاں ہوگئے جو اس کے جرم کی غمازی کرنے کے لیے کافی تھے اس طرح اللہ نے اس قتل کے راز کو بےنقاب کردیا۔‘‘ اور اس ’’ خود ساختہ‘‘ قصے کے لیے کسی حوالہ یا سند کی ضرورت تک محسوس نہیں کی گئی۔ بلکہ جدید تعلیم یافتہ حضرات کو محض الفاظ کی بازیگری (قاتل کا سراغ لگانے کی ’’ نفسیاتی‘‘ ترکیب ’’ جرم کی غمازی، راز کو بےنقاب کرنا، خوف کے آثار‘‘ (وغیرہ) سے مرعوب یا بےوقوف بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ عربی زبان سے ناواقف کیا جانیں کہ یہاں فعل ’’ ضرب‘‘ کا بامحاورہ (Idiomatic) اور بلحاظ سیاق استعمال کیا معنی دیتا ہے؟ اور مذکر و مونث ضمائر (’’ ہ‘‘ اور ’’ ھا‘‘) کا استعمال کس ضرورت کے لیے کیا گیا ہے؟ (شاید ’’ حصۂ جسم‘‘ اور ’’ لاش‘‘ کا مفہوم اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نکالا گیا ہے۔ کیونکہ اردو میں ’’ حصہ‘‘ مذکر اور ’’ لاش‘‘ مؤنث ہے۔ رہا تذکیر و تانیث کا عربی میں استعمال تو اس کو ’’ ملا‘ کے سوا کون جانتا ہے؟)

ؤ اور اس سے بھی زیادہ جاہلانہ مفہوم قادیانیوں نے نکالا ہے جنہوں نے یہاں شخص مقتول سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام لے کر ’’ قَتَلْتُمْ‘‘ کا ترجمہ ’’ تم نے قتل کرنے کا دعویٰ کیا‘‘ کرکے اپنا ’’ لُچ تلنے‘‘ کی کوشش کی ہے۔ گویا قاتل کی بجائے ’’ مقتول‘‘ دریافت کرنا مطلوب تھا۔ پھر ’’ اضربو ببعضھا‘‘ کا ترجمہ کیا ہے‘‘ اس واقعہ کو اس کے بعض دوسرے واقعات کے ساتھ ملا کر دیکھو‘‘ یہ ہے وہ انداز استدلال جس پر قرآن کریم کی آیت ’’ فما ذا بعد الحق الا الضلال‘‘ (یونس:42) پوری طرح چسپاں ہوتی نظر آتی ہے (یعنی جب حق سے منہ موڑا تو پھر گمراہی کے سوا اور کس چیز کی توقع کی جاسکتی ہے) اور قرآن کے ساتھ اس قسم کی ’’ باطنی‘‘ چالبازیوں اور ذہنی بازی گریوں کو دیکھ کر یہ احساس کتنی شدت سے ابھرتا ہے کہ قرآن کریم کے فہم کے لیے عربی بان کا سیکھنا کتنا ضروری ہے۔

ؤ ان لوگوں کے لغت ِ قرآن سے اس تلاعب (بازیگری) کی نسبت تو ان آیات کی اس تفسیری قصہ کے ساتھ (جو کتب تفسیر میں وارد ہوا ہے اور جس کی طرف پہلے اشارہ ہوا ہے) وضاحت اس لحاظ سے بہتر معلوم ہوتی ہے کہ اس میں کم از کم قرآن کریم کی نض (الفاظِ عبارت) سے تو انحراف نہیں ہوا۔ اور نہ ہی ضمائر کے مراجع کی تعیین میں سیاق عبارت سے تجاوز ہوا ہے۔

ؤ اور اگر ہم قصے کی تفسیری تفاصیل کو غیر ضروری سمجھ کر مضمون کے اجمال تک محدود رہیں کہ اس ’’ قتل‘‘ اور ’’ گائے کے ذبح‘‘ کرنے میں کوئی تعلق ضرور تھا اور یہ ’’ دریافت قاتل‘‘ کا کوئی طریقہ تھا جو اگر معجزانہ اور غارق عادت طریقے پر ظاہر ہوا ہو تو ایسا ہونا ’’ بالکل ناممکن‘‘ تو نہیں ہوسکتا البتہ اس کے اثبات کے لیے ’’ قوتِ روایت‘‘ درکار ہوگی۔ جو موجودہ روایات میں مفقود یا ضعیف ہے۔ اس لیے اگر ہم اصل قصہ کے ابہام کو دور کرنے کی کوشش ترک کرکے صرف نفس واقعہ پر مجمل ایمان رکھیں تو کیا حرج ہے؟ بقول حافظ ابن کثیر ’’ اگر اس واقعہ کی تفاصیل کی تعیین میں کوئی دینی دنیاوی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے واضح کرتا۔ مگر جسے اللہ نے مبہم رکھا ہے اور جس کے بارے نبی معصوم ﷺ سے کوئی خبر صحیح بھی ثابت نہیں تو پھر ہم بھی اس کو مبہم رکھنا بہتر سمجھتے ہیں۔ ’’ فنحن نُبْھِمُہ کما اَبْھَمہُ اللّٰہ‘‘ (تفسیر ابن کثیر 1:166 ۔ طبع دارالمعارف)

 [ کَذَلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْموتٰی] اس جملے کے تمام کلمات کے الگ الگ معانی و استعمال پہلے مختلف مقامات پر گزر چکے ہیں۔ مثلاً ’’ کذلک‘‘ = ک+ ذلک اور ’’ ک‘‘ کے معنی ہیں ’’ کی مانند، کی طرح، جیسا‘‘ چاہیں تو تفصیل کے لیے دیکھئے البقرہ:17 [ 2:13:1 (1)] ’’ ذلک‘‘ اسم اشارہ بعید بمعنی ’’ وہ‘‘ ہے۔ (تفصیل کے لیے البقرہ:2 [ 2:1:1 (1)] دیکھ لیجئے) اس طرح ’’ کذلک‘‘ کا ترجمہ ہوگا ’’ اس جیسا، اس کی مانند اور اس کی طرح‘‘ اور اس کو بامحاورہ اردو میں ’’ اسی طرح‘‘ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔

ؤ ’’ یُحْیی‘‘ کا مادہ ’’ ح ی ی‘‘ اور وزن اصلی ’’ یُفْعِلُ‘‘ ہے۔ یہ دراصل ’’ یُحْیِی‘‘ تھا جس میں آخری یاء ماقبل مکسور ہونے کے باعث ساکن ہو جاتی ہے۔ یہ (یُحْیٖ) اس مادہ سے باب افعال کا فعل مضارع صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس باب سے فعل ’’ اَحْیا یُحْیٖ إحْیائً‘‘ (زندہ کرنا، زندگی دینا) کے معنی و استعمال پر البقرہ:28 [ 2:20:1 (3)] میں بات ہوچکی ہے۔ (اس مادہ سے فعل مجرد پر بات البقرہ:26 [ 2:19:1 (1)] میں ہوئی تھی) ۔ یہاں (زیر مطالععہ آیت میں) فعل ’’ یُحْیی‘‘ کا ترجمہ فعل حال سے بھی ہوسکتا ہے اور مستقبل کے ساتھ بھی۔ یعنی زندگی کرتا ہے: کرے گا۔ اسم جلالت ’’ اللّٰہ‘‘ پر لغوی بحث ’’ بسم اللّٰہ‘‘ میں ہوئی تھی۔

ؤ ’’ المَوتٰی‘‘ کا مادہ ’’ م و ت‘‘ اور وزن لامِ تعریف کے بغیر ’’ فَعْلٰی‘‘ ہے جو جمع کا ایک وزن ہے۔ جیسے قتِیْل سے قَتْلَی اور مریض سے مَرْضٰی جمع آتی ہے۔ اس طرح یہ (مَوْتٰی) لفظ ’’ مَیِّتٌ‘‘ (بروزن فَیْعِلٌ مثل صَبِّبٌ و سَیّدٌ) کی جمع ہے اس مادہ

(م و ت) سے فعل مجرد پر بات البقرہ:19 [ 2:14:1 (12)] میں ہوئی تھی۔ اور ’’ مَیِّتٌ‘‘ اور ’’ مَیْتٌ‘‘ (بمعنی مردہ، بےجان) کی ایک دوسری جمع ’’ اَمْوَاتٌ‘‘ پر بھی البقرہ:28 [ 2:2:1 (2)] میں بات ہوئی تھی۔

ؤ یوں اس عبارت (کذلک یُحیِ اللّٰہُ الموتیٰ) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے، ’’ اسی طرح اللہ زندہ کرتا ہے مردوں کو‘‘ اسی کو بعض نے بصیغۂ مستقبل ’’ زندہ کرے گا: جلائے گا‘‘ کی صورت میں ترجمہ کیا ہے۔

2:45:1 (2) [ وَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ] اس جملے کی ابتدائی ’’ وَ‘‘ بمعنی ’’ اور‘‘ ہے اور آخری ضمیر (کُمْ) بمعنی ’’ تم‘‘ ہے۔ ان کو نکلانے کے بعد باقی فعل ’’ یُرِی‘‘ بچتا ہے۔ اس کا مادہ ’’ رأی‘‘ اور وزن اصلی ’’ یُفْعِلُ‘‘ ہے۔ اس کی اصلی شکل ’’ یُرْئِیُ‘‘ تھی جس میں خلافِ قیاس ’’ئ‘‘ کی حرکت (کسرہ) ماقبل ساکن حرف صحیح (ر) کو دے کر فعل اجوف کی طرح (حالانکہ یہ مادہ مہموز العین ہے) ’’ئ‘‘ کو گرا دیا جاتا ہے اور آخری ’’ یائ‘‘ ماقبل مکسور ہونے کی بناء پر ساکن ہو جاتی ہے۔ اس طرح یہ لفظ بصورت ’’ یُرِیْ‘‘ لکھا اور بولا جاتا ہے۔ اس مادہ (رأی) سے فعل مجرد کے استعمال پر البقرہ:55 [ 2:35:1 (3)] میں بات ہوئی تھی۔

ؤ زیر مطالعہ لفظ (یُرِیْ) اپنے مادہ سے باب افعال کا صیغہ مضارع (واحد غائب مذکر) ہے اور اس باب سے فعل ’’ أرَیْ … یُرِیْ (دراصل أَرْئَ یَ، یُرْئِ یُ) إِرَائَ ۃً‘‘ (دراصل اِرْاَیٌ) کے معنی ہیں: ..کو ... دکھانا۔‘‘ یعنی یہ فعل متعدی ہے اور اس کے دو مفعول آتے ہیں’’ جن کو دکھایا جائے‘‘ اور ’’ جو چیز دکھائی جائے۔‘‘ اور اس کے دونوں مفعول بنفسہ (منصوب بغیر صلہ کے) آتے ہیں جیسے اسی زیر مطالعہ حصۂ آیت (بربکم آیاتہ) میں ایک مفعول ضمیر منصوب (کُمْ) ہے اور دوسرا ’’ آیات‘‘ (جو آگے مضاف بھی ہے) یعنی ’’ وہ دکھاتا ہے تم کو اپنی آیات‘‘۔

ؤ ’’ آیاتہ‘‘ (یہ رسم اور ضبط املائی ہے قرآنی رسم و ضبط پر آگے بات ہوگی) میں آخری ’’ ہ‘‘ تو ضمیر مجرور بمعنی ’’ اس کی : اپنی‘‘ ہے اور کلمہ ’’ آیۃ‘‘ (برسم املائی) کی واحد ’’ آیۃ‘‘ ہے جس کا مادہ ’’ ا ی ی‘‘ یا بقول بعض ’’ اوی‘‘ ہے۔ اس لفظ (آیۃ) کے وزن اور اس مادہ سے فعل مجرد کے باب اور استعمال وغیرہ پر البقرہ:39 (2:27:1 (13)] میں مفصل بحث گزر چکی ہے۔ ’’ آیات‘‘ کا ترجمہ تو ’’ نشانیاں‘‘ ہے مگر بعض نے اس مطلب کے لیے ’’ نمونے، قدرت کے نمونے، نظائر قدرت اور قدرت کی نشانیاں‘‘ سے ترجمہ کیا ہے۔

 [ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ] ’’ لعلکم‘‘ کے معنی ہیں ’’ شاید کہ تم‘‘ اور بعض نے اس کا ترجمہ ’’ تاکہ تم اس لیے کہ تم، اس توقع پر کہ تم‘‘ سے کیا ہے ’’ شاید‘‘ میں تو (لعل والا) توقع اور ترجی (امیدکرنا) کا مفہوم ہوتا ہے مگر ’’ تاکہ‘‘ اور اس لیے کہ میں توقع (امید) سے زیادہ تعلیل (سبب بتانا) کا مفہوم ہے۔ البتہ ’’ اس توقع پر‘‘ اور ’’ شاید کہ‘‘ کا مفہوم ایک ہی ہے۔ ’’ لعلکم‘‘ اور اس میں شامل حرف مشبہ بالفعل (لعلَّ) کے معنی وغیرہ پر بحث البقرہ:21 [ 2:16:1 (4)] میں ہوچکی ہے۔

ؤ ’’ تَعْقِلُوْنََ‘‘ کا مادہ ’’ ع ق ل‘‘ اور وزن ’’ تَفْعِلُوْنَ‘‘ جو اس مادہ سے فعل مجرد کا صیغہ مضارع (جمع مذکر حاضر) ہے۔ اس فعل بلکہ خود اسی صیغہ (تَعْقِلُوْنَ) کے باب اور معنی وغیرہ پر البقرہ :44 [ 2:29:1 (8)] میں بات ہوچکی ہے۔ اس کے مطابق ’’ تعقلون‘‘ کا ترجمہ ’’ تم عقل سے کام لیتے ہو: لو گے‘‘ بنتا ہے۔ ’’ لعلکم‘‘ (شاید کہ تم) کے ساتھ لگنے سے اس کی بامحاورہ صورتیں ’’ تم سمجھو: غور کرو: عقل سے کام لیا کرو: سمجھ جائو: عقل پیدا کرو‘‘ ترجمہ میں اختیار کی گئی ہیں۔

 

الاعراب

 زیر مطالعہ دو آیات کل چار جملوں پر مشتمل ہیں۔ اس لیے ہر جملے کے بعد وقف مطلق کی علامت (ط) ڈالی گئی ہے۔ ان میں آخری (چوتھا) جملہ ویسے تو دو جملوں کا مجموعہ ہے مگر واو عاطفہ کے ذریعے (اور بلحاظ مضمون بھی) ان کو ایک جملہ بنا دیا گیا ہے۔ ہر ایک جملے کے اعراب کی تفصیل یوں ہے:

 ۔ واذقتلتم نفسا فاذارء تم فیھا

 [ وَ] مستانفہ بھی ہوسکتی ہے کہ یہاں سے ایک اور قصہ شروع ہوتا ہے۔ اور اسے وائو العطف، کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس کے بعد والے قصے کا اس سے پہلے والے قصے سے واقعاتی تعلق بھی ہے [ اذ] ظرفیہ ہے جس سے پہلے ایک فعل (مثلاً اذکروا) محذوف سمجھا جاتا ہے [ قتلتم] فعل ماضی معروف مع ضمیر فاعلین ’’ انتم‘‘ ہے (اور مراد یہ ہے کہ ’’ تم‘‘ میں سے کسی یا بعض نے قتل کیا کیونکہ سب تو قاتل نہیں تھے) ۔ [ نفساً] اس فعل (قتلتم) کا مفہوم بہ (لہٰذا) منصوب ہے۔ علامت نصب خود تنوین نصب (-ً) ہے۔ ویسے فعل فاعل مفعول مل کر یہاں تک ایک جملہ فعلیہ بن جاتا ہے مگر ’’ اذا‘‘ کی وجہ سے جملہ ادھورا لگتا ہے کیونکہ آگے اس ’’ جب‘‘ کے بعد ایک ’’ پھر‘‘ یا ’’ تو‘‘ بھی آنی چاہیے۔ [ فادّارء تم] کی فاء (فَ) عاطفہ ہے۔ ’’ ادّارَء تم‘‘ فعل ماضی معروف کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ جس میں ضمیر فاعلین ’’ انتم‘‘ شامل ہے اور فاء عاطفہ کے ذریعے اس صیغۂ فعل (ادارء تم) کا عطف (ربط یا تعلق) سابقہ صیغہ فعل ’’ قتلتم‘‘ پر بنتا ہے۔‘‘ یعنی قتل کیا پھر اس کے بعد جھگڑنے لگے‘‘ [ فیھا] جار (فی) مجرور (ھا) مل کر متعلق فعل ’’ ادارء تم‘‘ ہے۔ اور مؤنث ضمیر ’’ ھا‘‘ کا مرجع نفس بھی ہوسکتا ہے جو مؤنث سماعی ہے اور ایک محذوف مثلاً ’’ تُھۃ‘‘ بھی یعنی اس ’’ نفس‘‘ (جان) کے قتل کی تہمت ایک دوسرے پر ڈالنے لگے۔ یہاں تک ایک جملہ ہر لحاظ سے مکمل ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہی یہاں وقف مطلق کی علامت (ط) ڈالی جاتی ہے۔

 ۔ واللّٰہُ مُخرج ماکنتم تکمتُون

 یہاں [ وَ] مستأنفہ ہے مگر اس کے بعد کی عبارت (جملہ) اپنے سے سابقہ جملے (یعنی نمبر 1) اور بعد والے جملے (نمبر 3) کے درمیان ایک جمعلہ معترضہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے بعض نحوی اس (قسم کی) ’’ و‘‘ کو ’’ واو اعتراضیہ‘‘ بھی کہتے اور اس ’’ واو‘‘ کو یہاں حالیہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم اکثر مترجمین نے اس کا اردو ترجمہ ’’ اور‘‘ سے ہی کردیا ہے۔ [ اللّٰہ] مبتدأ (لہٰذا) مرفوع ہے اور [ مُخْرِجٌ] اس کی خبر (مرفوع) ہے [ مّا] اسم موصول جو ’’ مُخْرِجٌ‘‘ کا مفعول بہ (لہٰذا) نصب میں ہے۔ یہاں اسم ۔۔ (یخرِج) کا شامل کیا ہے جس کی وجہ سے ’’ مَا‘‘ مفعول منصوب ہے اگرچہ مبنی ہونے کی وجہ سے اس (ما) میں کوئی اعرابی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ [ کنتم] فعل ناقص ہے جس میں اس کا اسم ’’ انتم‘‘ بھی شامل ہے اور [ تکتمون] فعل مضارع معروف جمع مذکر حاضر ہے اور یہ ایک جملہ فعلیہ (فعل مع فاعل) ہے جو ’’ کنتم‘‘ کی خبر (لہٰذا محلاً منصوب) ہے اور چاہیں تو پورے جملے ’’ کنتم تکتمون‘‘ کو ماضی استمراری کا صیغہ سمجھ لیں جس کے بعد اسم موصول (ما) کے لیے ایک ضمیر عاید محذوف ہے یعنی ’’ کنتم تکتمونہ‘‘ (تم اسے: جسے چھپا رہے تھے) بہرحال دونوں صورتوں میں یہ جملہ (کنتم تکتمون) اسم موصول (ما) کا صلہ ہے اور صلہ موصول مل کر ’’ مُخْرِجٌ‘‘ کا مفعول بہ ہوکر محلاً منصوب ہے۔ بعض نحوی صرف اسم موصول کو ہی منصوب کہتے ہیں (جیسے ہم نے بھی اوپر لکھا ہے) اور ’’ صلہ‘‘ کے متعلق کہتے ہیں کہ اس کا کوئی اعرابی محل نہیں ہوتا۔ حالانکہ صرف اسم موصول الگ جملے کا جزء نہیں ہوتا۔ بلکہ ہمیشہ صلہ موصول مل کر ہی جملے کا کوئی جزء (مبتداء خبر، فاعل، مفعول وغیرہ) بنتے ہیں اور حسب موقع وہی ان کی اعرابی حالت سمجھی جانی چاہیے۔

 ۔ فقلنا اضربوہ ببعضھا

 یہاں فاء یعنی [ فَ] عاطفہ ہے جس میں ترتیب کا مفہوم موجود ہے (پھر: پس) یعنی ’’ قتل‘‘ اور پھر ’’ باہمی جھگڑے‘‘ کے وقوع کے بعد یہ ہوا کہ [ قلنا] فعل ماضی معروف صیغہ متکلم ہے جس میں ضمیر تعظیم ’’ نحن‘‘ (اللہ تعالیٰ کے لیے) مستتر ہے [ اضربوئ] میں ’’ اضربوا‘‘ فعل امر صیغہ جمع مذکر حاضر ہے جس میں ضمیر الفالعین ’’ انتم‘‘ شامل ہے اور آخر پر ضمیر منصوب (ئ) اس (فعل امر) کا مفعول بہ ہے اور یہ مذکرضمیر اس شخص (مقتول) کے لیے ہے (جس کے لیے لفظ ’’ نفس‘‘ آیا تھا) پہلے لفظ ’’ نفس‘‘ کی تانیث کی بناء پر اس کے لیے مؤنث ضمیر ’’ فیھا‘‘ میں (ھا) آئی تھی۔ یہاں بلحاظ معنی یعنی ’’ شخص‘‘ یا ’’ رجل‘‘ یا ’’ قتیل‘‘ کے معنی میں مذکر ضمیر (ہ) آئی ہے۔ یہاں ایک اور چیز بھی نوٹ کیجئے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ واو الجمع والے صیغہ فعل کے بعد اگر کوئی ضمیر مفعول ہوکر آئے تو زائد الف (جو واو الجمع کے بعد لکھا جاتا ہے) ساتھ نہیں لکھا جاتا۔ اس لیے ہم نے یہاں صیغۂ فعل (امر) سمجھانے کے لیے ضمیر سے الگ لکھتے ہوئے اس کے آخر پر زائد الف لکھا ہے (اضربوا میں) مگر ضمیر مفعول کے ساتھ اس کی ضرورت نہیں رہتی اس لیے آیت میں ’’ اضربوہ‘‘ لکھا گیا ہے۔ [ ببعضھا] میں ’’ بِ‘‘ حرف الجر اور ’’ بعض‘‘ مجرور (بالجبر) اور آگے مضاف بھی ہے جس کی وجہ سے وہ خفیف (تنوین اور لام التعریف سے خالی) بھی ہے اور آخر پر ضمیر مجرور ’’ ھا‘‘ مضاف الیہ ہے۔ اور یہ پورامرکب جاری (ببعضھا) متعلق فعل (اضربوہ) ہے۔ اس میں مؤنث ضمیر (ھا) کا مرجع وہ گائے ( البقرۃ) ہے جس کو ذبح کرنے کا قصہ اوپر گزرا ہے۔ اس عبارت کے تراجم پر پہلے حصہ اللغہ میں مفصل بحث ہوچکی ہے۔

 ۔ کذلک یحیی اللّٰہ الموتی و یریکم اٰیتہ لعلکم تعقلون

 [ کذلک] جار (کَ) اور مجرور (ذلک) مل کر دراصل یہاں بعد میں آنے والے فعل (یحی) کے محذوف مفعول مطلق کی صفت کے طور پر مقدم آگیا ہے۔ اور اس لیے محلاً منصوب ہے گویا عام سادہ عبارت (نثر) کی ترتیب یوں بنتی ہے: ’’ یحی اللّٰہُ الموتی کذلک‘‘ (اس کے پہلے حصے ’’ یحی اللّٰہ الموتی‘‘ پر اعرابی بحث آگے آرہی ہے اور اس کے معانی حصہ ’’ اللغہ‘‘ میں بیان ہوچکے ہیں) اور بالحاظ اعراب تقدیر عبارت یوں بنتی ہے۔ ’’ یحی اللّٰہُ الموتی إحیائٌ کذلک الاحیائ‘‘ یعنی مثلا ذلک الاحیاء (ک=مثل) یعنی ’’ اللہ زندہ کرے گا مردوں کو زندہ کرنا مانند اس (مردہ کے) زندہ کرنے کے گویا ’’ ذلک‘‘ میں اشارہ ’’إحیائ‘‘ (زندہ کرنا) کی طرف ہے اور اس سے بظاہر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مردہ زندہ ہوا تھا جس کے زندہ کیے جانے کی طرف ’’ کذلک‘‘ میں اشارہ ہے۔ [ یحیی] فعل مضارع معروف واحد مذکر غائب ہے اور [ اللّٰہ] اس کا فاعل (لہٰذا) مرفوع ہے اور [ الموتیٰ] مفعول بہ منصوب ہے جس میں مقصود ہونے کے باعث اعرابی علامت ظاہر نہیں ہے۔ یہاں ایک جملہ ختم ہوتا ہے جس کو ’’ وَ‘‘ کے ذریعے آگے ملایا گیا ہے۔ [ وَ] عاطفہ ہے جس کے ذریعے اگلے فعل (یُری) کو سابقہ فعل (یُحیی) پر عطف کیا گیا ہے یا یوں کہیے اس واو العطف کے دو جملوں کو ملایا گیا ہے۔ گویا دونوں جملوں کو ملا کر ایک جملہ بنا دیا گیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہاں ’ الموتیٰ‘ کے بعد علامت عدم وقف (لا) لکھی جاتی ہے تاکہ اس ساری عبارت کو مربوط سمجھ کر (اسی طرح ملا کر) پڑھا جائے۔

 [ یُرِیْکُمْ] میں ’’ یُرِی‘‘ تو فعل مضارع معروف کا پہلا صیغہ ہے اور اس میں ضمیر فاعلی (ھو) اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ ’’ کُمْ‘‘ ضمیر منصوب اس فعل (یُرِی) کا مفعول اول ہے اور (ایتہ) مضاف (آیات) اور مضاف الیہ (ضمیر مجرور ’’ ہ‘‘) مل کر فعل ’’ یُرِیْ‘‘ کا مفعول ثانی ہے اس لیے اس مرکب اضافی (ایتہ) کا پہلا جزء (مضاف) منصوب ہے اور علامت نصب اس میں مکسور ’’ تائ‘‘ (تِ) ہے [ لعلکم] میں ’’ لعلّ‘‘ حرف مشبہ بالفعل اور ’’ کُمْ‘‘ ضمیر منصوب اس کا اسم ہے [ تعقلون] فعل مضارع معروف مع ضمیر فاعلین ’’ انتم‘‘ ہے اور یہ جملہ فعلیہ (تعقلون) ’’ لعلّ‘‘ کی خبر ہے۔ اس لیے یہاں اسے محلاً مرفوع کہہ سکتے ہیں۔

2:45:3 الرسم

 زیر مطالعہ دو آیات میں بلحاظ رسم صرف چار کلمات وضاحت طلب ہیں یعنی ’’ فادرء تم کذلک یحیی اور ایتہ‘‘ ان میں سے مؤخر الذزکر تین پر پہلے بھی بات ہوچکی ہے۔ لہٰذا ان کا ذکر مختصراً ہوگا۔ اصل توجہ طلب نیا لفظ ’’ فادرء تم‘‘ ہے۔ تفصیل یوں ہے:

 ۔ ’’ فَادَّرَئْ تُمْ‘‘ جس کی رسم املائی یا قیاسی ’’ فَادَّارَأْتُمْ‘‘ ہے اس کے رسم عثمانی میں حذف الالفین پر اتفاق ہے یعنی ’’ د‘‘ کے بعد والا الف اور ’’ ر‘‘ کے بعد والا الف (جو دراصل ہمزہ ساکنہ کی ’’ کرسی‘‘ ہے) دونوں لکھنے میں حذف کردیئے جاتے ہیں۔ یہ لفظ مصاحف عثمانی میں ’’ فادرتم‘‘ کی شاکل میں لکھا گیا تھا۔ (اعجام اور نقط یعنی نقطوں اور حرکتوں کے بغیر) ۔ اور دراصل اس میں تین ہمزے (یا الف) ہیں پہلا تو ’’ ف‘‘ کے بعد ہے یہ ہمزۃ الوصل ہے جو ہمیشہ کسی کلمہ کے شروع میں ہی آتا ہے (یہاں یہ ’’ ادّرء تم‘‘ کے شروع میں ہے) یہ ہمیشہ بصورت الف (ا) لکھا جاتا ہے اور یہ چند خاص صورتوں کے سوا کبھی لکھنے میں حذف نہیں ہوتا البتہ کسی ماقبل سے ملا کر پڑھتے وقت تلفظ سے گر جاتا ہے (جیسے یہاں ’’ ف‘‘ کے بعد ہے) ۔ دوسرا الف وہ ہے جو ذال مفتوحہ (ذ) کے بعد ہے۔ یہ الف جسے ’’ لِینہ‘‘ کہتے ہیں اپنے ماقبل کو اشباع (کھینچ کر یا ذرا لمبا کرکے پڑھنا) دیتا ہے اور یوں یہ تلفظ میں ضرور آتا ہے (چاہے کتابت میں محذوف بھی ہو) ۔ تیسرا الف اس کلمہ میں وہ ہے جو راء مفتوحہ (رَ) کے بعد ہے مگر یہ ساکن (ہمزہ) ہے۔ اس لفظ

(فادرء تم) میں جس حذف الالفین کی بات کی گئی ہے۔ اس سے مراد آخری دو الف (یا ہمزے) ہیں یعنی ’’ د‘‘ کے بعد والا اور ’’ د‘‘ کے بعد والا۔

ؤ عربوں کے طریق تلفظ کے مطابق کسی متحرک حر کے بعد والا ساکن ہمزہ (جیسے یہاں ’’ ر‘‘ کے بعد ہے) اپنے ماقبل کی حرکت کے موافق حرف میں بدل کر پڑھا جاسکتا ہے۔ (جوازاً) یعنی فتحہ (-َ) کے بعد الف کسرہ (-ِ) کے بعد یا (ی) اور ضمہ (-ُ) کے بعد ’’ و‘‘ میں بدل کر پڑھا جاسکتا ہے۔ اس طرح یہاں ’’ رَئْ‘‘ کو ’’ رَا‘‘ بھی پڑھا جاسکتا ہے اور کم از کم ایک قراءت (ابو عمرو البصری) میں اسے ’’ رَا‘‘ ہی پڑھا گیا ہے گویا جن قراء نے اِسے ہمزہ ساکنہ (رَئْ) پڑھا ہے (اور اکثر نے اسی طرح پڑھا ہے) ان کے نزدیک ’’ ر‘‘ کے بعد ایک ہمزہ (ئ) محذوف ہے اور جس نے اسے ہمزہ لینہ (الف) کے ساتھ پڑھا اس کے مطابق یہاں ’’ ر‘‘ کے بعد الف لینہ (ا) محذوف ہے۔ اس اختلاف کی بنا پر اس لفظ (فادرء تم) کے ضبط کے لیی مختلف صورتیں اختیار کی گئی ہیں۔ جس پر مزید بحث ’’ الضبط‘‘ میں آئے گی۔ خیال رہے کہ اصل رسم عثمانی (فادرء تم) دونوں قراء توں اور اس کے مطابق مختلف طریق ضبط کا متحمل ہوسکتا ہے۔ (دیکھئے بحث ’’ الضبط‘‘)

 ۔ ’’ کذلک‘‘ بلحاظ رسم ’’ ذلک‘‘ کی طرح ہے یعنی اس میں ’’ ذ‘‘ کے بعد الف نہیں لکھا جاتا (گو پڑھا جاتا ہے) اور اس لفظ کا رسم املائی بھی یہی ہے۔ حالانکہ قیاسی رسم ’’ کذالک‘‘ ہونا چاہیے تھا مگر بہت سے اور لفظوں کی طرح یہاں بھی عام املاء میں بھی رسم عثمانی کی ہی پیروی کی جاتی ہے۔

 ۔ ’’ یُحیی‘‘ کا رسم املائی تو ’’ یُحْیِی‘‘ ہے مگر رسم عثمانی میں صرف ایک ’’ ی‘‘ لکھی جاتی ہے۔ البتہ پڑھی دونوں جاتی ہیں (ایک متحرک دوسری ساکن) اور قرآن کریم میں یہ لفظ ہر جگہ اسی طرح (ایک ’’ ی‘‘ کے ساتھ) لکھا جاتا ہے۔ البتہ اگر اس کے بعد کوئی ضمیر منصوب (مفعول) آرہی ہو تو اسے دو ’’ یائ‘‘ سے ہی لکھا جاتا ہے۔ جیسے کلمہ ’’ یُحْیِیْکُمْ‘‘ میں ہے۔ نیز دیکھئے ’’ الضبط‘‘ میں۔

 ۔ ’’ اٰیتہ‘‘ جس کی رسم املائی ’’ آیاتہ‘‘ ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ (آیات) مفردیا مرکب (اضافی کے ساتھ) ہر جگہ ’’ ی‘‘ کے بعد والے الف کے حذف کے ساتھ (آیت) ہی لکھا جاتا ہے۔ البتہ دو جگہ (یونس:15 ،21) اور بقول بعض یوسف:7 میں بھی۔ سے ’’ ایات‘‘ یعنی باثبات الف بعد الیاء لکھا گیا ہے۔ ان پر مزید بات حسب موقع ہوگی۔ خیال رہے کہ اس لفظ (ایات: ایت) کے شروع میں ایک ہمزہ مفتوحہ (ئَ) بھی محذوف ہے جو تلفظ میں آتا ہے اور اسے بذریعہ ضبط مختلف طریقوں سے ظاہر کیا جاتا ہے۔

2:45:4 الضبط

 رسم کی طرح بلحاظ ضبط میں کلمہ ’’ فادرء تم‘‘ توجہ طلب ہے۔ رسم میں یہ بتایا جاچکا ہے کہ اس کلمہ میں ’’ ر‘‘ کے بعد بھی ایک الف (یا ہمزہ) محذوف ہے۔ ہمزہ ساکنہ متوسطہ (یعنی وہ ساکنہ مزہ جو کسی لفظ کے اندر آرہا ہو۔ ابتداء میں یا آخر پر نہ ہو) کی املاء کے بارے میں رسم عثمانی اور رسم املائی دونوں میں یہ قاعدہ تسلیم کیا گیا ہے۔ کہ ایسے ہمزہ سے ماقبل متحرک حرف کی جو حرکت ہوگی یہ ہمزہ اس حرکت کے موافق حرف پر لکھا جائے گا (یعنی وہ حرف ہمزہ کی کرسی کا کام دے گا) اس طرح ماقبل مفتوح حرف کے بعد ہمزہ الف (1) پر، ماقبل مضموم ہو تو ہمزہ ’’ و‘‘ پر اور ماقبل مکسور ہو تو ہمزہ ’’ ی‘‘ پر (یا اس کے نبرہ: دندانہ پر) لکھا جاتا ہے جیسے بأس، بُؤْس اور بِئْس میں ہے۔

ؤ چونکہ ’’ فادرء تم‘‘ کی ’’ ر‘‘ کے بعد ایک ہمزہ ساکنہ (اکثر قراء ات میں) پڑھا جاتا ہے اور بعض میں وہ الف لینہ سے بھی پڑھا گیا ہے۔ اور ہمزہ ساکنہ ہو یا الف لینہ صرف تلفظ میں آتا ہے۔ لکھنے میں محذوف ہے (یہ بات پہلے بھی کہیں لکھی گئی ہے کہ مصاحف عثمانی میں کہیں بھی ہمزہ نہیں لکھا گیا تھا۔ اور الف لینہ کا حذف بھی بکثرت ہوا ہے) اور چونکہ ہمزہ متوسطہ ساکنہ ماقبل مفتوح الف کے اوپر لکھا جاتا ہے۔ اس لیے یہاں ہمزہ کے لکھنے کے طریقے میں اختلاف ہوا ہے۔

ؤ ہمزئہ ساکنہ پڑھنے والوں نے اسے الف کے اوپر لکھا (أ) تاہم چونکہ یہ الف اور صورت ہمزہ (ء یا ٔ یا ہ) دونوں اصل مصحف عثمانی میں نہ تھے اس لیے ان دونوں کو سرخ روشنائی سے لکھا جاتا تھا ۔ البتہ دور طباعت میں اس طرق کو برقرار رکھنے کے لیے اس (کرسی والے) الف کو عام الف سے نصف بلکہ اس سے بھی کم لمبائی میں (کھڑی زیر -ٖ کی طرح ) لکھا جانے لگا۔ یا بعض دفعہ اسے عام الف کی طرح لمبا مگر (اصل الف سے فرق کرنے کے لیے) سطر سے اونچا لکھا جاتا ہے (-:ٰ کی طرح اور بعض ’’ ر‘‘ کے بعد صرف علامت ہمزۃ القطع (ئ) ڈالنے پر اکتفا کرتے ہیں (رَئْ) اور جس قراءت میں ’’ ر‘‘ کے بعد والے ہمزہ کو الف لینہ پڑھا گیا ہے اس کی رعایت سے ’’ ر‘‘ کے اوپر ہی محذوف الف کو کھڑی زبر (-ٰ) کی شکل میں لکھ دیتے ہیں۔ اور ضبط کی یہ ساری صورتیں اصل رسم عثمانی (فادرتم) کے مطابق ہیں یعنی بحذف الالفین ہیں۔ البتہ ایرانی مصاحف میں اس لفظ کو عام رسم املائی (دیکھئے ابتدائے بحث ’’ الرسم‘‘ میں) کی طرح لکھنے کا رواج ہوگیا ہے۔ رسم عثمانی کے مخالف ہیں۔

 زیر مطالعہ قطعہ کے کلمات میں ضبط کا تنوع مندرجہ ذیل مثالوں سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً     ۭ  وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ    ۭ   وَاِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاۗءُ    ۭ  وَاِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْـيَةِ اللّٰهِ    ۭ   وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ  74؀
[ ثُمَّ قَسَتْ: پھر سخت ہوئے] [ قُلُوْبُكُمْ: تمہارے دل] [ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ: اس کے بعد سے] [ فَهِىَ: پس یہ] [ كَالْحِجَارَةِ: پتھروں کی مانند ہیں] [ اَوْ اَشَدُّ: یا زیادہ ہیں] [ قَسْوَةً ۭ : سختی میں] [ وَاِنَّ: اور یقینا] [ مِنَ الْحِجَارَةِ: پتھروں میں سے یہں] [ لَمَا: وہ جو] [ يَتَفَجَّرُ: پھوٹ بہتی ہیں] [ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ ۭ : جن سے نہریں] [ وَاِنَّ مِنْهَا: اور یقینا ان میں ہیں] [ لَمَا: وہ جو] [ يَشَّقَّقُ: چٹخ اٹھتے ہیں] [ فَيَخْرُجُ: تو رستا ہے] [ مِنْهُ: ان سے] [ الْمَاۗءُ : پانی] [ ۭ وَاِنَّ مِنْهَا : اور یقینا ان میں ہیں] [ لَمَا يَهْبِطُ: وہ جو گرپڑتے ہیں] [ مِنْ خَشْـيَةِ اللّٰهِ: اللہ کے رعب سے] [ ۭ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ : اور اللہ غافل نہیں ہے] [ عَمَّا : اس سے جو] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو]

 

1 اللغۃ

2:46:1 (1) [ ثُمَّ قَسَتْ] ’’ ثُمَّ‘‘ کے معنی و استعمال پر البقرہ:28 [ 2:20:1 (4)] میں بات ہوئی تھی۔ اس کا اردو ترجمہ تو ’’ پھر: اس کے بعد‘‘ ہے یہاں سیاقِ عبارت (قصہ) کی بنا پر اردو محاورہ میں اس کا موزوں ترجمہ ’’ پھر بھی‘‘ بنتا ہے۔

 قَسَتْ کا مادہ ’’ ق س و‘‘ اور وزن اصلی ’’ فَعَلَتْ‘‘ ہے۔ اس کی اصلی شکل ’’ قَسَوَتْ‘‘ تھی۔ مگر ماقبل مفتوح اور مابعدصحیح حرفِ ساکن والی متحرک وائو (وَ) ساقط ہو جاتی ہے۔ یعنی قَسَوَتْ= قَسَاتُ= قَسَتْ۔

ؤ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ قَا یَقُوْ قَسْوۃً‘‘ (نصر سے) کے بنیادی معنی ہیں: ’ نرمی سے خالی ہونا اور سختی میں بڑھ جانا: یہ فعل لازم ہی استعمال ہوتا ہے اور زیادہ تر اس کا فاعل ’’ القلب‘‘ (دل) آتا ہے مثلاً کہتے ہیں: قسا قلبُہ (اس کا دل سخت ہوگیا) ۔ اگر اس کا فاعل ’’ الدرھم‘‘ (چاندی کا ایک سکہ) ہو تو اس کے معنی ’’ کھوٹا ہونا‘‘ ہوتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں: ’’ قسا الدرھمُ‘‘ (درہم کھوٹا ہوگیا یعنی اس کی چاندی ملاوٹ کے باعث سخت ہوگئی اور اس میں خالص چاندی والی نرمی نہ رہی) اور اگر اس کا فاعل ’’ اللیل‘‘ (رات) ہو تو اس کے معنی ’’ سخت تاریک ہونا‘‘ ہوتے ہیں۔ مثلاً کہیں گے: ’’ قَسا اللیلُ‘‘ (رات سخت اندھیری ہوگئی) ۔

 اس فعل سے اسم صفت ’’ فاعل‘‘ اور ’’ فعیل‘‘ دونوں وزنوں پر آتا ہے یعنی ’’ قاسیٍ‘‘ بھی اور ’’ قَسِیٌّ‘‘ بھی۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ قلبٌ قاسیٍ‘‘ (سخت دل) اور ’’ درھم قَسِیٌّ‘‘ (کھوٹا درہم) عربی زبان میں اس مادہ سے مزید فیہ کے بعض افعال بھی بعض معانی کے لیے آتے ہیں۔

ؤ تاہم قرآن کریم میں اس فعل کا استعمال صرف مجرد سے آیا ہے اور وہ بھی صرف قلب (دل) کے لیے ہوا ہے۔ اس سے فعل ماضی کا یہی ایک صیغہ (قَسَتْ) تین جگہ اور بصورت اسم الفاعل مؤنث (القاسِیۃ) بھی تین ہی جگہ آیا ہے۔ اور ایک جگہ مصدر ’’ قَسْوَۃ‘‘ آیا ہے۔

ؤ زیر مطالعہ لفظ (قَسَتْ) اس فعل مجرد سے فعل ماضی صیغہ واحد مؤنث غائب ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے ’’ وہ سخت ہوگئی‘۔ یہاں چونکہ اس کا فاعل (جیسا کہ آگے آرہا ہے) ’’ قلوبکم‘‘ (تمہارے دل) ہے اس لیے اردو میں بامحاورہ ترجمہ ’’ سخت ہوگئے‘‘ (تمہارے دل) سے کیا گیا ہے۔ البتہ بعض مترجمین نے چونکہ سیاق عبارت اور بیان قصہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ’’ ثُمَّ‘‘ کا ترجمہ ’’ پھر بھی‘‘ کیا تو فعل ’’ قَسَتْ‘‘ کا ترجمہ ’’ سخت رہے: سخت ہی رہے‘‘ سے کیا ہے۔

 [ قُلُوْبُکُمْ] میں آخری ضمیر مجرور ’’ کُمْ‘‘ (بمعنی تمہارے) ہے اور اس سے پہلا لفظ ’’ قُلُوب‘‘ بروزن ’’ فُعُوْلٌ‘‘ ہے جو لفظ قَلَبٌ بروزن ’’ فَعْلٌ‘‘ کی جمع مکسر ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد کے باب و معنی کے علاوہ لفظ ’’ قلوب‘‘ کے بارے میں مفصل بحث البقرہ:7 اور 10 یعنی [ 2:6:2 (2)] اور [ 2:8:1 (6)] میں ہوچکی ہے۔

 [ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ] اس مرکب کے تینوں اجزاء ’’ من‘‘، ’’ بعد‘‘ اور ’’ ذٰلک‘‘ بلکہ اس پورے مرکب کے معنی وغیرہ پرالبقرہ:52 [ 2:33:1 (7)] اور البقرہ:64 [ 2:41:1 (4)] کے بعد بات ہوچکی ہے۔ اس کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ اس کے بعد سے‘‘ تاہم بعض مترجمین نے سیاق عبارت اور بیان قصہ کی بناء پر اس کا ترجمہ ’’ اس کے بعد بھی‘‘ اور ’’ اس سب (کچھ) کے بعد‘‘ کے ساتھ کیا ہے۔ ’’ بعد‘‘ کا لفظ اردو میں اتنا متعارف اور مستعمل ہے کہ اس کا ترجمہ ’’…کے پیچھے‘‘ کرنا الٹا خارج از محاورہ لگتا ہے۔

 [ فَھِیَ کَالْحِجَارَۃٍ] یہ ’’ فَ‘‘ (پس: چنانچہ) + ’’ ھِیَ‘‘ (وہ، مونث واحد) + ’’ کَ‘‘ (مانند: جیسا: مثل) + ’’ الحِجَارۃ‘‘ (پتھروں) کا مرکب ہے۔ لفظ ’’ الحجارۃ‘‘ پر تفصیلی بحث البقرہ:24 [ 2:17:1 (13)] میں گزر چکی ہے۔ فاء (ف) کا ترجمہ یہاں ’’ پس‘‘ کے علاوہ (جو اس کا عام ترجمہ ہے) بعض حضرات نے ’’ چنانچہ‘‘ اور ’’ سو‘‘ سے کیا ہے۔ ’’ ھی کالحجارۃ‘‘ کا لفظی ترجمہ تو بنتا ہے: ’’ وہ (مونث) ہے پتھروں کی مانند ’’ ھِیَ‘‘ کا واحد مؤنث صیغہ ’’ قنوب‘‘ کے جمع مکسر ہونے کی وجہ سے ہے جن کو پتھروں سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ اس لیے ’’ پتھروں‘‘ کی مناسبت سے بامحاورہ اردو ترجمہ ہوگا ’’ وہ ہیں مانند پتھروں کے: یا وہ پتھروں کی مانند ہیں‘‘۔ تاہم اردو میں لفظ ’’ پتھر‘‘ جمع کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے بعض نے اس کا ترجمہ ’’ وہ مثل پتھر کے ہیں: وہ پتھر کی طرح ہیں‘‘ سے بھی کیا ہے۔ جب کہ بعض نے اس کا ترجمہ ’’ گویاوہ پتھر ہیں‘‘ کیا ہے۔ مفہوم درست سہی مگر یہ ’’ ھی کالحجــارۃ‘‘ سے زیادہ ’’ کَاَنَّھا الحجارۃ‘‘ کا ترجمہ معلوم ہوتا ہے۔ اور بعض نے ’’ وہ ہوگئے جیسے پتھر‘‘‘‘ سے ترجمہ کیا ہے۔ اس میں ’’ ہوگئے‘‘ اپنی طرف سے (بلاضرورت) اضافہ ہے۔

2:46:1 (2) [ اَوْاَشَـدُّ قَسْـوَۃً] اس میں تین کلمات ہیں ’’ اَوْ‘‘، ’’ اَشَدُّ‘‘ اور ’’ قَسْـوَۃ‘‘۔ ہر ایک کی الگ الگ لغوی تشریح یوں ہے۔

 ۔ ’’ اَوْ‘‘ حرف عطف کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور یہ تخییر ؎1 (دو چیزوں میں سے ایک لیے کی اجازت) اِباحتہ ؎2 (دو چیزوں میں سے ایک یا دونوں ہی لینے کی اجازت)، ابہام ؎3 (دو چیزوں کے بارے میں بات کو واضح نہ کرنا) شک ؎4 (دو چیزوں کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں شک کرنا) کے معنی دیتا ہے اور کبھی یہ حرفِ اضراب (بَلْ) کے معنی میں اور کبھی ’’ اِلی أن‘‘ (یہاں تک کہ) اور ’’ اِلَّا اَن‘‘ (مگر یہ کہ) کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ اس لفظ (اَوْ) کا اردو ترجمہ حسب موقع ’’ یا‘‘، ’’ یا پھر‘‘، ’ یا شاید‘‘، ’’ بلکہ‘‘، ’’ تاوقتیکہ‘‘ اور ’’ مگر یہ کہ‘‘ کی صورت میں کیا جاسکتا ہے۔ نیز دیکھئے البقرہ:19 [ 2:14:1 (1)] میں۔

ؤ زیر مطالعہ عبارت میں ’’ اَوْ‘‘ اگرچہ عطف بمعنی ابہام بھی لیا جاسکتا ہے اور بہت سے مترجمین نے اس کا ترجمہ ’’ یا‘‘ سے ہی کیا ہے۔ تاہم سیاقِ عبارت کے لحاظ سے اسے یہاں حرفِ اضراب (بَلْ=بلکہ) کے معنی میں لینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض مترجمین نے یہاں اس کا ترجمہ ’’ بلکہ‘‘ سے ہی کیا ہے۔ اور یہ اردومحاورے کے لحاظ سے بھی اور مفہوم عبارت کے لحاظ سے بھی بہتر ترجمہ ہے۔

 ۔ ’’ اشد‘‘ کا مادہ ’’ ش د د‘‘ اور وزن ’’ اَفْعَلُ‘‘ ہے۔ یہ دراصل تو ’’ اَشْدَدُ‘‘ تھا پھر پہلے ’’ دَ‘‘ کی حرکت فتح اس کے ماقبل صحیح حرف ساکن (ش) کو منتقل ہوئی اور دونوں ’’ د‘‘ مدغم ہوگئے۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ شدَّ یشُدُّ شَدًّا وشِـدَّۃً‘‘ (نصر سے) کے بنیادی معنی ہیں: مضبوط، بھاری یا قوی ہونا: کرنا۔ پھر یہ لازم اور متعدی دونوں طرح (کسی صلہ کے بغیر بھی اور بعض صلات کے ساتھ بھی) مختلف معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے مثلاً (1) ’’ مضبوط یا بھاری ہونا‘‘ کہتے ہیں شدَّا الشییُٔ (چیز مضبوط ہوگئی) ۔ (2) ’’ گرہ کو مضبوط باندھنا‘‘ کہتے ہیں ’’ شدَّ الـعُـقُدۃَ‘‘ (اس نے گرہ مضبوط باندھی‘‘ (3) ’’ کسی کی مدد کرنا یا اس کو طاقت دینا۔‘‘ مثلاً کہتے ہیں ’’ شدَّ عَضُدَہٗ‘‘ (اس کا بازو مضبوط کیا) اور ’’ شدَّ اَزْرَہٗ‘‘ (اس نے اس کی کمر یا قوت کو مضبوط کیا) اور یہ دونوں استعمال قرآن میں بھی آئے ہیں۔ دیکھئے القصص:35 اور طٰہ:31 (4)’’ سفر کی تیاری کرنا‘‘ کہتے ہیں ’’ شدَّ رِحالَہٗ‘‘ اس صورت میں اس کے ساتھ ’’ علیٰ‘‘ کا صلہ آتا ہے جیسے قرآن کریم (یونس:88) میں ہے ’’ وَاشْدُدْ علیٰ قُلُوْبِھِمْ‘‘ (اور تو ان کے دلوں کو سخت گرفت میں لے لے) ۔

ؤ قرآن کریم میں اس مادہ سے فعل مجرد کے مختلف صیغے چھ جگہ آئے ہیں اور زیادہ تر یہ بطور فعل متعدی ہی استعمال ہوا ہے۔ البتہ بعض مشتقات مثلاً ’’ اشدّ‘‘ اور ’’ شدِید‘‘ فعل لازم سے آئے ہیں۔ اور مجرد کے علاوہ مزید فیہ کے بابِ افتعال سے بھی فعل کا ایک صیغہ قرآن حکیم میں ایک جگہ (ابراہیم:18) آیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف مشتقات (اَشَدّ، شدید، اشُدّ، شِداد وغیرہ) متعدد (94) جگہ آئے ہیں جن پر حسب موقع بات ہوگی۔ اِن شاء اللہ تعالیٰ۔

ؤ یہاں لفظ ’’ اشدّ‘‘ اپنے فعل مجرد سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے اور اس کے معنی ہیں ’’ نسبتاً زیادہ شدت یا سختی والا‘‘ یا ’’ زیادہ سخت‘‘، ’’ شدید تر‘‘۔ یہ لفظ قرآن کریم میں بلحاظ ترکیب تین طرح استعمال ہوا ہے (اور افعل التفضیل عموماً ان تین میں سے ہی کسی صورت میں استعمال ہوتا ہے) (1) ’’ مِنْ‘‘ کے ساتھ یعنی کسی ایک چیز سے مقابلہ کے طور پر ’’ زیادہ سخت‘‘ کے معنی میں۔ جیسے ’’ اشدّ مِنَ القل‘‘ (البقرہ:191) (2) مضاف ہوکر یعنی مضاف الیہ میں شامل تمام چیزوں سے بڑھ کر سخت جیسے ’’ اِلی اشدِّ قوۃ‘‘ (محمد:13) اور قرآن کریم میں اس لفظ (اشَدّ) کا زیادہ استعمال اسی تیسری (تمیز والی) صورت میں ہوا ہے اور یہاں (زیر مطالعہ عبارت میں) بھی یہ لفظ تمیز کے ساتھ ہی آیا ہے جس کا بیان آگے آرہا ہے۔

 ۔ ’’ قَسْوَۃً‘‘ کا مادہ ’’ ق س و‘‘ اور وزن ’’ فَعْلَۃً‘‘ ہے۔ (یہاں یہ لفظ منصوب آیا ہے جس کی وجہ الاعراب میں بیان ہوگی) اس مادہ سہ فعل مجرد اور اس کے معنی پر ابھی اوپر [ 2:46:1 (1)] میں بات ہوئی ہے۔ یہ لفظ (قـسوۃ) اس فعل مجرد کا مصدر ہے جس کے معنی بطور مصدر ’’ سخت ہونا‘‘ ہیں اور بطور اسم ’’ سختی‘‘ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بلحاظ ترکیب (جس کی مزید وضاحت آگے الاعراب میں آئے گی) یہاں یہ لفظ (قسوۃ) تمیز کے طور پر آیا ہے اور اس کا ترجمہ ہوگا ’’ بلحاظ قَسوۃ(سختی: سخت ہونے) کے‘‘ یا ’’ سختی کے لحاظ سے‘‘۔

ؤ اس طرح زیر مطالعہ حصہ عبارت (أو اشد قسوۃ) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ یا: بلکہ زیادہ سخت بلحاظ سختی کے۔‘‘ اردو میں ’’ شِدّۃ‘‘ اور ’’ قَسْوَۃ‘‘ دونوں کاترجمہ ’’ سختی‘‘ ہی کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ ’’ اشَد‘‘ کی ’’ شِدّۃ‘‘ میں سختی کا درجہ یا مقدار (کی فضیلت۔

 تفضیل۔ برتری) کی طرف اشارہ ہے (یعنی کتنا سخت) اور ’’ قَسْوۃ‘‘ میں سختی کی نوعیت یا قسم (مثلاً ٹھوس ہونا، بےرحم ہونا، تاریک ہونا وغیرہ) مراد ہے۔ اس لیے اردو ترجم میں اس کا قریب ترین ترجمہ ’’ سختی میں زیادہ سختی میں بڑھ کر‘‘ سے کیا گیا ہے۔ تاہم یہاں ترجمہ کرتے وقت بعض مخدوفات کو بھی ذہن میں رکھنا (understood سمجھنا) پڑتا ہے۔ اس لیے اس حصہ عبارت (اَو اشَدّ قَسْوۃ) کے ترجمہ پر مزید بحث حصہ ’ الاعراب‘ میں ہوگی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

 [ وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارۃِ لَمَا] اس میں کل چہ کلمات ہیں یعنی یہ ’’ وَ‘‘ (اور) + ’’ اِنَّ‘‘ (بے شک) + ’’ مِنْ‘‘ (میں سے) + ’’ الحجارۃ‘‘ (پتھروں) + ’’ لَ‘‘ (البتہ، ضرور) + ’’ مَا‘‘ (وہ جو کہ) کا مرکب ہے اور ان تمام کلمات پر اس سے پہلے بات ہوچکی ہے [ اگر ضرورت ہو تو ’’ وَ‘‘ کے لیے [ 2:7:1 (1)] ’’ اِنَّ‘‘ کے لیے [ 2:5:1] ’’ مِنْ‘‘ کے لیے [ 2:2:1 (5)] ’’ الحجـارۃ‘‘ کے لیے [ 2:17:1 (13)] ’’ لَ‘‘ (لامِ تاکید) کے لیے [ 2:41:1 (6)] اور ’’ مَا‘‘ (موصولہ) کے لیے (جوواحد جمع مذکر مونث سب کے لیے استعمال ہوتا ہے) [ 2:2:1 (5)] اور [ 2:19:1 (2)] کو دیکھ لیجیے]

 اس طرح اس حصہ عبارت (واِنّ من الحجارۃ لَمَا) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے: ’’ اور بےشک پتھروں میں سے البتہ : ضرور وہ ہے جو کہ‘‘ اسی کا بامحاورہ اور سلیس اردو میں بعض مترجمین نے ’’ اور پتھروں میں سے بعض ایسے ہیں جو‘‘ سے ترجمہ کیا ہے مگر اس میں ’’ اِنَّ‘‘ اور ’’ لَ‘‘ کا ترجمہ نظر انداز کرنا ُڑا ہے۔ بعض حضرات نے اس کا ترجمہ ’’ پتھروں میں تو: پتھروں میں تو بعضے: پتھروں میں تو کچھ ایسے ہیں جو‘‘ سے کیا ہے جبکہ بعض نے جمع کے لیے بھی ’’ پتھر‘‘ ہی کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی ’’ بعضے پتھر تو: بعض پتھر تو: اور پتھر تو کوئی ایسا (بھی) ہے جو کہ‘‘ کی صورت میں۔ اس طرح ترجمہ میں ’’ تو‘‘ کے لگانے سے ’’ اِنَّ‘‘ (بے شک) کا مفہوم آگیا ہے۔ اور ’’ کوئی‘‘ اور ’’ بعض: بعضے‘‘ کے ساتھ ترجمہ ’’ مِنْ‘‘ (میں سے) کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ یعنی یہ ’’ مِنْ‘‘ تبعیضیہ ہے۔

2:46:1 (3) [ یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْاَنْھٰرُ] اس میں بھی تین لفظ وضاحت طلب ہیں۔ یَتَفَجَّرُ، مِنْہ (مرکب جاری) اور الانٰھر۔ ہر ایک کا الگ الگ (پہلے) بیان یوں ہے پھر بعد میں مجموعی ترجمہ پر بات ہوگی۔

 ۔ یَتَفَجَّرُ کا مادہ ’’ ف ج ر‘‘ اور وزن ’’ یَتَفَعَّلُ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد کے باب، معانی اور استعمال پر البقرہ:60 [ 2:38:1 (5)] میں بات ہوئی تھی۔ ’’ یَتفجَر‘‘ اپے مادہ سے باب تفعل کا فعل مضارع صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس باب سے فعل ’’ تَفَجَّر، یتفجَّرُ تفَجُّرًا‘‘ کے معنی ہیں: ’’ زور سے پھوٹ کر نکلنا، پھٹ کر باہر نکل آنا۔‘‘ زیادہ تر یہ پانی کے پھوٹ نکلنے (چشمہ وغیرہ کی صورت میں) کے لیے آتا ہے۔

 ۔ ’’ مِنْہُ‘‘ (مِنْ+ہ) کا ترجمہ ضمیر واحد مذکر (ہ) کی وجہ سے ’’ اس میں سے‘‘ ہونا چاہیے مگر کچھ تو ’’ مَا‘‘ (لَمَا والا) میں جمع کا مفہوم بھی موجود ہے اور کچھ سیاق (سابقہ عبارت) کے ’ پتھروں‘ کے ساتھ ملا کر ترجمہ کرنے کے لیے ’’ ان سے: ان میں سے‘‘ کی صورت میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

 ۔ ’’ الانھٰر‘‘ جو ’’ نھرٌ‘‘ کی جمع مکسر ہے۔ اس لفظ کے مادہ، وزن فعل مجرد کے باب وغیرہ پر مفصل بحث البقرہ:25 [ 2:18:1 (6)] میں گزر چکی ہے۔ ’’ الانھار‘‘ کا اردو ترجمہ ’’ نہریں، ندیاں اور دریا‘‘ سے کیا گیا ہے۔ بعض نے اس کا ترجمہ ’’ چشمے‘‘ کیا ہے جو حقیقت کے اعتبار تو زیادہ درست ہے (چشموں سے ہی ندیاں: دریا وجود میں آتے ہیں) تاہم لفظ کے لحاظ سے نہر، ندی یا دریا والا ترجمہ قریب تر ہے۔

ؤ اس عبارت (یتفجر منہ الانھٰر) میں ’’ منہ‘‘ کی ضمیر واحد کی طرح صیغۂ فعل ’’ یتفجر‘‘ بھی واحد مذکر غائب ہے۔ اس لحاظ سے اس کے پہلے حصے (یتفجر منہ) کا ترجمہ ہونا چاہیے ’’ پھوٹ نکلتا ہے: جاری ہوتا ہے اس میں سے‘۔ مگر ضمیر ’’ ہ‘‘ کے ’’ ما‘‘ کا عائد ہونے کی بنا پر (جو واحد جمع مذکر مؤنث سب کے لیے ہے) اور فعل ’’ یتفجر‘‘ کے فاعل (الانھر= دریا، ندیاں، نہریں) کے ترجمہ کی اردو میں تذکیر و تانیث کی مناسب سے اردو ترجمہ ’’ پھوٹ نکلتی ہیں: جاری ہوتی ہیں: بہہ نکلتی ہیں‘‘ کے ساتھ بھی کیا گیا ہے اور ’’ بہہ نکلتے ہیں‘‘ وغیرہ کی شکل میں بھی۔

 [ وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا] اس کے بھی تمام کلمات پہلے بیان ہو چکے ہیں یعنی یہ ’’ وَ‘‘ (اور) + ’’ اِنَّ‘‘ (بے شک) + ’’ مِنْھَا‘‘ (اس میں سے) + ’’ لَمَا‘‘ (البتہ وہ جو کہ) کا مرکب ہے اور اس کا لفظی ترجمہ بنتا ہے، اور بےشک اس (مؤنث) میں سے البتہ کوئی وہ ہے جو کہ ’’ یہاں بھی کچھ تو ضمیر مؤنث ’’ ھا‘‘ کے پتھروں کے لیے ہونے کی وجہ سے اور کچھ ’’ مَا‘‘ (لما والا) میں واحد جمع مذکر مؤنث سب کامفہوم موجود ہونے کی وجہ سے بامحاورہ اردو میں اس عبارت (وان منھا لما) کے تراجم مختلف طریقے پر کیے گئے ہیں مثلاً ان میں سے تو وہ بھی ہیں: ایسے بھی ہیں جو : بعض ایسے ہوتے ہیں کہ کچھ وہ ہیں جو: بعضے وہ ہیں جو‘‘ کی صورت میں۔ یہاں بھی محاورہ کی خاطر ’’ اِنَّ‘‘ کا ترجمہ نظر انداز کرنا پڑا ہے۔ اور یہاں بھی ’’ کوئی، کچھ، بعض‘‘ کا مفہوم ’’ مِنْ‘‘ (منھا) میں موجود ہے۔

2:46:1 (4) [ یَشَّقَّقُ] کا مادہ ’’ ش ق ق‘‘ اور وزن اصلی ’’ یَتَفَعَّلُ‘‘ ہے۔ یہ دراصل ’’ یَتَفَعَّلُ‘‘ ہے۔ یہ دراصل ’’ یَتَشَقَّقُ‘‘ تھا۔ اور اس کا اسی طرح (یعنی بصورت اصلی) استعمال بھی درست ہے۔ تاہم بعض دفعہ اہل عرب باب تفعل کے فاء کلمہ ’’ ت ث ر ذ ز س ش س ض ط ظ‘‘ (11 حروف) میں سے کسی حرف کے ہونے کی صورت میں ’’ تاء تفعل‘‘ کو بھی اسی حرف میں بدل کر مدغم کر دیتے ہیں اور پھر ماضی امر اور مصدر کے شروع میں حرفِ مشدد (مدغم) کو پڑھنے کے لیے ہمزۃ الوصل بھی لگاتے ہیں۔ مضارع میں اس (ہمزۃ الوصل) کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یوں یہ لفظ ’’ یتشقق‘‘ کے علاوہ بصورت ’’ یَشَّقَقُ‘‘ بھی پڑھا، بولا اور لکھا جاتا ہے۔ یہاں اس کی قراءت تبدیل شکل کے ساتھ ہے۔

ؤ اس مادہ (ش ق ق) سے فعل مجرد (شَقَّ یَشَقّ مشَقًا) (نصر سے) بطور فعل لازم و متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اور اس کے بنیادی معنی ہیں: ’’ پھٹ جانا اور پھاڑ دینا۔‘‘ پھر اس سے یہ متعدد معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے مثلاً (1) جانور کی ’’ ناب‘‘ (پانچواں دانت جسے ’’ کچلی‘‘ بھی کہتے ہیں) نکل آنا۔ کہتے ہیں ’’ شقَّ النابُ‘‘ (یعنی مسوڑھا پھاڑ کر کچلی نکل آئی) (2) نباتات کا زمین پھاڑ کر نکل آنا۔‘‘ کہتے ہیں ’’ شق النبتُ‘‘ (3) ’’ کسی چیز میں دراڑ ڈال دینا‘‘ جیسے ’’ شقَّ الزّجاجَ‘‘ (اس نے شیشہ میں دراڑ ڈال دی) (4)’’ نہر کھودنا‘‘ کہتے ہیں ’’ شقَّ النھرَ‘‘ (اس نے نہر کھود نکالی) (5)’’ شکل اور دشوار ہونا‘‘ کہتے ہیں ’’ شقَّ الامرُ علیہ‘‘ (باب اس پر دشوار ہوئی) اور (6) علیٰ کے صلہ کے ساتھ ہی یہ ’’ کسی پر دشواری ڈالنا‘‘ کے معنی بھی دیتا ہے۔ مثلاً کہیں گے: ’’ شقَّ علیٰ فلانٍ‘‘ (اس نے اسے دشواری میں ڈالا) ۔

ؤ تاہم قرآن کریم میں اس فعل مجرد سے صرف دو صیغے دو ہی جگہ وارد ہوئے ہیں ایک جگہ (عبس:26)’’ پھاڑنا‘‘ کے معنی میں اور دوسری جگہ (القصص:27) ’’ دشواری: مشقت میں ڈالنا‘‘ کے معنی میں۔ باقی کسی معنی کے لیے یہ فعل مجرد قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا۔ فعل مجرد کے علاوہ اس مادہ سے مزید فیہ کے ابواب مفاعلہ، تفعل اور انفعال سے بھی افعال کے مختلف صیغے 15 جگہ آئے ہیں اور مختلف مصادر اور مشتقات بھی دس گیارہ جگہ آئے ہیں۔ ان سب پر حسب موقع بات ہوگی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

ؤ زیر مطالعہ لفظ ’’ یشَّقَّقُ‘‘ اپنے مادہ سے باب تفعل کا صیغہ مضارع (واحد مذخر غائب) ہے۔ اس باب سے فعل ’’ تشقَّق یَتَشَقَّقُ تشقَقً‘‘ جو بدل کر بصورت ’’ اِشّقَقَ یَشْقَّقُ اِشُّقُّقًا‘‘ بھی استعمال ہوتا ہے) ہمیشہ بطور فعل لازم ہی استعمال ہوتا ہے اور اس کے معنی ہیں ’’ پھٹ جانا، دراڑیں نمودار ہونا یا پڑنا‘‘ قرآن کریم میں اس مادہ سے اس باب (تفعل) سے فعل کل کے دو صیغے تین جگہ آئے ہیں جن میں سے ایک یہ زیر مطالعہ صیغہ ہے۔ اس کا ترجمہ ہے ’’ پھٹ جاتا ہے‘‘ جسے بیشتر مترجمین نے یہاں ’’ پتھروں میں سے بعض‘‘ کو ملحوظ رکھتے ہوئے جمع کے صیغے کے ساتھ ترجمہ کیا ہے یعنی ’’ پھٹ جاتے ہیں: شق ہو جاتے ہیں‘‘ کی صورت میں۔

2:46:1 (5) [ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَآئُ] یہ جملہ کل پانچ کلمات کا مجموعہ ہے یعنی ’’ فَ‘‘ (پس: چنانچہ) + ’’ یخرج‘‘ (نکلتا ہے: نکل آتا ہے: + ’’ مِنْ‘‘ (سے)+ ’ ہُ‘ (اس) + ’’ المائُ‘‘ (پانی) سے مرکب ہے۔ اس میں فعل ’’ یَخْرُجُ‘‘ جس کا مادہ ’’ خ ر ج‘‘ اور وزن ’’ یَفْعُلُ‘‘ ہے، کے فعل مجرد کے باب معنی وغیرہ پر البقرہ:21 [ 2:16:1 (11)] میں بات ہوئی تھی۔ اس فعل مجرد سے قرآن کریم میں ماضی کے مختلف صیغے 13 جگہ اور مضارع کے صیغے قریباً 40 جگہ آئے ہیں۔ ’’ مِنہ‘‘ اس میں سے اور ’’ المائٌ‘‘ (جس کا اردو ترجمہ ’’ پانی‘‘ ہے) کا مادہ ’’ م و ہ‘‘ اور وزن اصلی (لام تعریف نکال کر) ’’ فَعْلٌ‘‘ ہے۔ اصلی شکل ’’ مَوَہٌ‘‘ تھی جس میں واو متحرکہ ماقبل مفتوح الف میں بدل کر لفظ ’’ مَائٌ‘‘ بنتا ہے۔ اور اس میں خلافِ قیاس ’’ ہ‘‘ کو ’’ئ‘‘ میں بدل دیتے ہیں۔ اس کی جمع مکسر ’’ مِیاہٌ‘‘ اور ’’ امواہ‘‘ ہے جس میں ’’ ہ‘‘ پھر لوٹ آتی ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد کے بارے میں (جو قرآن میں کہیں استعمال نہیں ہوا) البقرۃ:22 [ 2:16:1 (10)] میں بات ہوئی تھی۔

ؤ اس طرح ’’ فیخرج منہ المائ‘‘ کا لفظی ترجمہ بنتا ہے: ’’ پس نکلتا ہے اس میں سے پانی۔‘‘ جسے بعض مترجمین نے مزید بامحاورہ بناتے ہوئے‘‘ اس میں سے پانی جھرتا: رستا: جھرجاتا: نکل آتا: نکلنے لگتا ہے‘‘ کی صورت میں ترجمہ کیا ہے۔ بعض نے یہاں سیاقِ عبارت میں پتھروں (الحجارۃ) کا ذکر اور ان کے لیے مؤنث ضمیر (ھا) کی وجہ سے ’’ منہ‘‘ کی ضمیر مذکر کے باوجود یہاں ’’ ان میں سے‘‘ کے ساتھ ترجمہ کر ڈالا ہے۔ جسے بلحاظ مفہوم ہی درست کہہ سکتے ہیں۔

 [ وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا] یہی عبارت ابھی اوپر [ 2:46:1 (4)] سے پہلے گزر چکی ہے۔ جہاں مختلف تراجم مع وجہ بیان ہوئے ہیں۔

2:46:1 (6) [ یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ] اس میں صرف دو لفظ ’’ یَھبِط‘‘ اور ’’ خَشْیَۃ‘‘ لغوی لحاظ سے وضاحت طلب ہیں۔

 ’’ یَھْبِطُ‘‘ کا مادہ ’’ ھ ب ط‘‘ اور وزن ’’ یَفْعِلُ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد (ھَبط یھبِط= نیچے اترنا: گرنا) کے باب معنی اور استعمال کا بیان البقرہ:36 [ 2:26:1 (17)] میں گزر چکا ہے۔

 ’’ خَشْیَۃَ‘‘ کا مادہ ’’ خ ش ی‘‘ اور وزن ’’ فَعْلَۃً‘‘ ہے (عبارت میں لفظ مجرور بالجبر ’’ من‘‘ ہے) اس سے فعل مجرد ’’ خشِیَ … یَخْشَی خَشْیۃً‘‘ (سمع سے) آتا ہے اور اس کے معنی ہیں ’’…سے ڈرنا، … کا خوف رکھنا‘‘ بعض کتب لغت (مثلاً المعجم الوسیط اور البستان) میں ہے کہ ہے اس فعل کے معنی میں کسی کی تعظیم اور ہیبت کے سبب سے ڈرنے کا مفہوم ہوتا ہے۔ بلکہ یہی اس کے حقیقی اور بنیادی معنی ہیں۔ یہ فعل عموماً متعدی بنفسہٖ استعمال ہوتا ہے جیسے ’’ خَشِیَ رَبَّہٗ‘‘ (البینۃ:5) ’’ وہ اپنے رب سے ڈرا۔‘‘ کبھی اس کا مفہوم ’’ اَن‘‘ سے شروع ہونے والا جملہ ہوتا ہے جو محلاً منصوب ہوتا ہے جیسے ’’ خشِیتُ اَنْ تقولَ‘‘ (طٰہ:94) میں ہے (میں ڈرا کہ تو کہے گا …) اور کبھی اس فعل کے ساتھ ’’ مِنْ‘‘ کا صلہ بھی لگتا ہے یا ’’ اَن‘‘ سے پہلے ’’ ب‘‘ کا صلہ بھی لگتا ہے مثلاً کہتے ہیں ’’ خَشِیَ الموتُ ومِن الموتِ وباَنْ یموتَ‘‘ (سب کا مطلب ہے وہ موت سے ڈرا)

ؤ تاہم قرآن کریم میں یہ فعل ان صلات (’’ مِنْ‘‘ یا ’’ بائ‘‘) کے ساتھ کہیں استعمال نہیں ہوا بلکہ مفعول بنفسہ کے ساتھ آیا ہے۔ البتہ بعض دفعہ اس کا مفعول محذوف (غیر مذکور) ہوتا ہے جو سیاقِ عبارت سے سمجھا جاسکتا ہے اور عموماً اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے۔ جیسے ’’ سیذّکِّر مَن یخشی‘‘ (الاعلیٰ:10) میں ہے۔ قرآن کریم میں اس فعل مجرد سے مختلف صیغے 39 جگہ اور مصدر ’’ خشیۃ‘‘ مفرد یا مرکب صورت میں کل آٹھ دفعہ آیا ہے۔ لفظ ’’ خشیۃ‘‘ جو اس فعل مجرد کا مصدر (بمعنی’’ ڈر رکھنا‘‘) ہے بطور اسم بھی استعمال ہوتا ہے یعنی ’’ ڈر یا خوف‘‘ کے معنی دیتا ہے ویسے اردو میں یہ لفظ بھی تائے مبسوط کی املاء (خشیت) اپنے اصل عربی معنی کے ساتھ متعارف ہے۔

ؤ اس طرح زیر مطالعہ عبارت (یھبِط من خشیۃِ اللّٰہ) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ نیچے گر پڑتا ہے ڈر اللہ کے سے۔‘‘ جس کی سلیس اردو صورت ’’ اللہ کے ڈر سے گر پڑتا ہے‘‘ بنتی ہے کیونکہ ’’ گر پڑنا‘‘ میں ’’ نیچے‘‘ کا مفہوم موجود ہے۔ بعض مترجمین نے ’’ خشیۃ‘‘ کے بنیادی معنی کی بناء پر ’’ اللہ کی ہیبت سے نیچے آگرتا ہے‘‘ سے ترجمہ کیا ہے جو عمدہ ترجمہ ہے اور بیشتر مترجمین نے یہاں بھی سیاق (عبارت کے سابقہ حصے) میں الحجارۃ (پتھروں) کے ذکر کی بناء پر فعل مضارع کے صیغہ واحد (مذکر غائب) ہونے کے باوجود ترجمہ بصورت جمع ہی کردیا ہے یعنی ’’ گر پڑتے: نیچے لڑھک آتے ہیں: اللہ کے ڈر سے: خدا تعالیٰ کے خوف سے۔‘‘

2:46:1 (7) [ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ] اس عبارت (جو ایک مکمل جملہ ہے) کے تمام کلمات (ماسوائے ’’ غافِل‘‘ کے جو اردو میں بھی مستعمل ہے) کی لغوی تشریح و معنی وغیرہ پہلے کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔

 مثلاً ’’ وَ‘‘ (عاطفہ یا مستانفہ بمعنی ’’ اور‘‘) پر [ 2:7:1 (1)] میں ’’ مَا‘‘ (الحجازیۃ یا نافیہ بمعنی’’ نہیں ہے‘‘) پر [ 2:2:1 (5)] میں اسم جلالت (اللہ) پر بسم اللہ کی بحث میں ’’ بِغافل‘‘ کی باء (ب) کا الگ ترجمہ نہیں ہوتا یہ مَا الحجازیہ کی خبر پر آنے والی ’’ بِ‘‘ ہے جسے نحوی باء زائدہ کہتے ہیں (لفظ ’’ غافل‘‘ پر ابھی بات ہوگی) ’’ عَمَّا‘‘ عن+ما ہے جس میں ’’ عَنْ‘‘ بمعنی ’’ سے‘‘ ہے اور اس کا تعلق ’’ غافل‘‘ کے ساتھ ’’ صلہ‘‘ کا ہے (جیسا کہ ابھی بیان ہوگا) اور ’’ مَا‘‘ یہاں موصولہ بمعنی ’’ جو کچھ‘‘ ہے اس پر [ 2:2:1 (5)] میں ’’ تعملون‘‘ (تم کرتے ہو) جو فعل عمِل یعمَل (کرنا) سے مضارع کا صیغہ ہے اس پر [ 2:18:1 (2)] میں بات ہوچکی ہے۔

ؤ لفظ ’’ غافِلٌ‘‘ (جو عبارت میں ’’ بِ‘‘ کی وجہ سے مجرور ہے) کا مادہ ’’ غ ف ل‘‘ اور وزن ’’ فاعِلٌ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ غفَل … یغفُل غَفْلَۃً‘‘ (نصر سے) آتا ہے اور اس کے عام مشہور معنی ہیں: ’’…سے بےخبر ہونا۔‘‘ یہ فعل متعدی ہے اور زیادہ تر ’’ عَن‘‘ کے صلہ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ غفَل عن الشییٔ‘‘ (وہ اس چیز سے غافل یا بےخبر رہا) اگر یہ فعل متعدی بنفسہ آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیں: ’’…کے بارے میں بےتوجہی سے کام لینا‘‘ یا ’’ …پر پردہ ڈال دینا۔‘‘ تاہم یہ استعمال قرآن کریم میں نہیں آیا۔ بلکہ قرآن کریم میں تو اس فعل مجرد سے مضارع کا ایک صیغہ ’’ تَغْفُلون‘‘ صرف ایک جگہ (النسائ:101) آیا ہے اور اس مادہ سے مزید فیہ کے بھی صرف بابِ افعال سے ماضی کا صرف ایک ہی صیغہ ’’ اَغْفَلْنَا‘‘ بھی ایک ہی جگہ (الکہف:28) آیا ہے البتہ اس فعل مجرد سے مصدر و دیگر مشتقات بکثرت (31 جگہ) آئے ہیں۔

ؤ لفظ ’’ غافل‘‘ اس فعل مجرد سے صیغۂ اسم الفاعل ہے جس کے معنی ہیں ’’ بے خبر‘‘ اور خود لفظ ’’ غافل‘‘ بھی اردو میں مستعمل ہے۔ البتہ عربی میں اگر اسم الفاعل کے بعد بھی مفعول (جس سے بےخبری بیان کی جائے) مذکور ہو تو فعل کی طرح اسم الفاعل کے بعد بھی ’’ عَنْ‘‘ کا صلہ آئے گا۔ جیسے اس زیر مطالعہ آیت میں ’’ غافل‘‘ کے بعد ’’ عما‘‘ (عن ما) آیا ہے۔ البتہ بعض دفعہ مفعول محذوف (غیر مذکور) ہوتا ہے جیسے ’’ واھلھا غافلون‘‘ (الانعام:131) میں ہے۔ ایسے موقع پر مفعول سیاق عبارت سے سمجھا جاسکتا ہے یعنی کس سے غافل؟

ؤ اس طرح یہاں ’’ وما اللّٰہ بغافل عما تسلون‘‘ کا لفظی ترجمہ ہوگا: ’’ اور نہیں ہے اللہ بےخبر اس سے جو کچھ تم کرتے ہو۔‘‘ اور اسی کی سلیس اور با محاورہ صورت ہے اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے بےخبر نہیں‘‘ یا ’’ جو کچھ بھی تم لوگ کررہے ہو اللہ اس سے بےخبر نہیں‘‘۔ بعض مترجمین نے ’’ عما تعملون‘‘ کا ترجمہ اردو محاورہ کی بناء پر اور عربی کے ’’ ما‘‘ کو (جو عمّا میں ہے) مصدریہ (دیکھئے [ 2:2:1 (5)]) سمجھ کر ’’ تمہارے کام سے: تمہارے کاموں سے: تمہارے اعمال سے: تمہارے عملوں سے: تمہارے کُوتکوں سے‘‘ کی صورت میں ترجمہ کیا ہے جو مفہوم اور محاورہ کے اعتبار سے درست ہیں۔ تاہم جن حضرات نے فعل مضارع کے ساتھ (تعملون کا) ترجمہ کیا ہے وہ اصل لفظ سے زیادہ قریب ہے اور اس سے اردو محاورے میں بھی کوئی خرابی تو واقع نہیں ہوتی۔

2:46:2 الاعراب

 زیر مطالعہ آیت چھ جملوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلے دو جملوں کو فائے عاطفہ کے ذریعے ملا کر ایک جملہ بنا دیا گیا ہے۔ باقی ہر جملے کے آخر پر وقف مطلق کی علامت (ط) ڈالی گئی ہے۔ الگ الگ جملوں کی اعرابی ترکیب ہوں ہے:

 ۔ ثم قسَتْ قلوبُکم من بعد ذٰلک

 [ ثم] حرف عطف برائے ترتیب و تراخی ہے (یعنی اس کے کچھ عرصہ بعد) [ قَسَتْ] فعل ماضی صیغہ واحد مؤنث غائب ہے [ قلوبُکم] مضاف (قلوب) اور مضاف الیہ (کم) مل کر فعل ’’ قَسَتْ‘‘ کا فاعل (لہٰذا) مرفوع ہے علامت ِ رفع ’’ بُ‘‘ کا ضمہ (-ُ) ہے۔ قلوب کو جمع مکسر ہونے کی وجہ سے صیغۂ فعل (قَسَتْ) مؤنث آیا ہے۔ [ من بعد ذٰلک] میں جار مجرور ’’ من بعدِ‘‘ = بعدَ ہے یعنی یہ ظرف مضاف ہے اور ’’ ذٰلک‘‘ اس کا مضاف الیہ ہے۔ اردو جملے کی ترکیب میں چونکہ پہلے ظرف پھر فاعل اور فعل آخر پر آتا ہے اس لیے اس کا سلیس ترجمہ پھر اس کے بعد (بھی) تمہارے دل سخت ہوگئے: رہے‘‘ سے کیا گیا ہے۔ تراجم حصہ اللغۃ میں دیکھئے۔

 ۔ فھی کالحجارۃ اواشدّ قَسْوۃً

 [ فَ] عاطفہ اور [ ھِیَ] مبتدا ہے جو ضمیر مرفوع منفصل ہے اور مؤنث ضمیر ’’ قلوب‘‘ (جمع مکسر) کے لیے آئی ہے [ کالحجارۃ] میں ’’ ک‘‘ (بمعنی ’’ مانند‘‘) حرف الجر ہے اور ’’ الحجارۃ‘‘ اس کی وجہ سے مجرور ہے علامت جر آخری ’’ۃ‘‘ کی کسرہ (-ِ) ہے یہ مرکب جاری یہاں مبتدأ (ھی) کے ساتھ خبر کا کام دے رہا ہے لہٰذا اسے محلاً مرفوع کہہ سکتے ہیں اور بعض حضرات اسے قائم مقام خبر بھی کہتے ہیں کیونکہ اصل خبر (کائنۃٌ: ہونے والا وغیرہ) محذوف ہے۔ [ اَوْ] حرفِ عطف (بمعنی ’’ یا‘‘) بھی ہوسکتا ہے جس میں ابہام کا مفہوم ہے تاہم سیاقِ عبارت کا تقاضا ہے کہ یہاں ’’ اَو‘‘ حرفِ اضراب (بَلْ) کے معنی (بلکہ) میں لیا جائے [ اَشَدُّ] فعل التفضیل ہے جو نحوی اعتبار سے ’’ ک‘‘ (بمعنی ’’ مثلُ‘‘) پر عطف ہونے کے باعث مرفوع ہے یعنی یہ رفع بالحاظ معنی ہے یا یوں سمجھئے کہ یہ (اشد) یہاں ایک محذوف (مکرر) مبتدأ (ھی) کی خبر مرفوع ہے یعنی ’’ ھِیَ اشدُّ‘‘ علامت رفع ’’ دُّ‘‘ کا ضمہ (-ُ) ہے۔ اور یہاں ’’ اشدّ‘‘ کے بعد اس کا مفعول (جس پر فضیلت ہو یا جس سے بڑھ کر ہو کسی بات میں) جس سے پہلے عموماً ’’ من‘‘ لگتا ہے وہ بھی محذوف ہے یعنی ’’ منھا‘‘ (پتھروں کے لیے مؤنث ضمیر) ۔ اس طرح مخدوفات سمیت تقدیر (اصل مقصود و مفہوم) عبارت کچھ یوں بنتی ہے۔‘‘ او (ھی) اشد (منھا)‘‘ یعنی ’’ بلکہ وہ ہے زیادہ سخت ان سے‘‘ ’’ ھا‘‘ کا ترجمہ ’’ پتھروں‘‘ کی وجہ سے ’’ ان‘‘ کیا گیا ہے [ قسـوۃٌ] افعل التفضیل ’’ اشد‘‘ کی تمیز (لھٰذا) منصوب ہے علامت نصب تنوین نصب (-ً) ہے جس کا اردو ترجمہ ’’ بلحاظ سختی کے‘‘ یا ’’ سختی میں‘‘ ہی کیا جاسکتا ہے۔ یوں اس حصہ عبارت (او اشد قَسْوۃً) کا ترجمہ بنتا ہے ’’ بلکہ زیادہ سخت بلحاظ سختی کے۔‘‘ پھر ’’ شِدّۃ‘‘ اور ’’ قسوۃ‘‘ کی سختی میں فرق کرنے کے لیے (دیکھئے حصہ ’’ اللغۃ‘‘) نیز محذوفات کو ملحوظ رکھتے ہوئے مقدر (understood) عبارت اور (ھی) اشد (منھا) قسوۃً‘‘ کے ساتھ بامحاورہ ترجمہ کرنے اور ’’ سخت اور سختی‘‘ کی تکرار سے بچنے کے لیے بعض مترجمین نے اس (او اشد قســوۃ) کا ترجمہ ’’ بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت: ان سے بھی سخت: ان سے بھی سخت تر: ان سے بھی زیادہ کّرے: سختی میں ان سے بڑھ کر‘‘ کی صورت میں کیا ہے۔ ان سب ترجموں میں ’’ ان سے‘‘ اسی محذوف (مگر مفہوم) ’’ منھا‘‘ کا ترجمہ ہے۔ بعض نے ’’ سختی میں (پتھر سے بھی) زیادہ سخت ترجمہ کیا ہے اس میں ضمیر کی بجائے اسم ظاہر یعنی ’’ منھا‘‘ کی بجائے ’’ من الحجارۃ‘‘ کو ہی مقدر سمجھ کر ترجمہ کیا گیا ہے۔ بعض نے ’’ اس سے بھی زیادہ‘‘ یعنی بصورت واحد ترجمہ کیا ہے جو سیاق عبارت اور نص (عبارت) سے ذرا ہٹ کر ہے۔

ؤ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہاں فعل مجرد (قسا یقسو= سخت ہونا) سے صیغہ افعل التفضیل استعمال ہوسکتا تھا یعنی ’’ اَواَقْسی منھا‘‘ کی شکل میں ’’ اشدّ‘‘ (وغیرہ) کا استعمال تو مزید فیہ سے افعل التفضیل بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ تاہم یہاں معنی میں سختی (قسـوۃ) کی بھی شدت کا مفہوم پیدا کرنے کے لیے ’’ اَو اَقْسٰی‘‘ کی بجائے ’’ او اشدّ قَسـوۃً‘‘ لایا گیا ہے نیزدیکھئے حصہ ’’ الغۃ‘‘ میں ’’ شدۃ‘‘ اور ’’ قسوۃ‘‘ (ہر دو بمعنی سختی) میں فرق کا بیان۔

 ۔ وان من الحجارۃ لما یتفجر منہ الانھر

 [ وَ] یہاں حالیہ بھی ہوسکتی ہے اور مستانفہ بھی [ انّ] حرف مشبہ بالفعل ہے۔ اس کا اسم (منصوب) آگے آرہا ہے [ من الحجارۃ] جار مجرور ’’ اِنَّ‘‘ کی قائم مقام خبر یا متعلق خبر مقدم (اپنی جگہ سے پہلے آگیا) ہے اور [ لَمَا] میں لام (لَ) تو لازم مزحلقہ ہے (یہ لام الابتداء ہی ہوتا ہے جو کسی اسم مبتدأ یا خبر) یا فعل مضارع پر تاکید کے لیے لگتا ہے۔ مگر جب یہ ’’ اِنَّ‘‘ والے جملے کے اسم یا خبر پر آئے تو اسے لام مزحلقہ کہتے ہیں) اس سے مقصود تاکید ہی ہوتی ہے اور ’’ ما‘‘ موصولہ یہاں ’’ اِنَّ‘‘ کا اسم ، لہٰذا محلاً منصوب، ہے گویا عبارت کچھ یوں تھی ’’ وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارۃِ لَحَجَرً‘‘ (اور بےشک پتھروں میں سے کوئی پتھر ہوتا ہے جو کہ) [ یتفجَّرُ] فعل مضارع مع ضمیر الفاعل (ھو) ہے۔ یہ ’’ ما‘‘ موصولہ کا صلہ ہے یعنی یہاں سے صلہ شروع ہوتا ہے جو جملے کے آخر تک چلتا ہے۔ [ منہ] جار مجرور متعلق فعل (یتفجَّرُ) ہیں۔ اس ضمیر مذکر (ہ) ایک یا کوئی پتھر کے لحاظ سے آتی ہے۔ [ الانھارُ] فعل ’’ یتفجَّرُ‘‘ کا فاعل (لہٰذا)

مرفوع ہے۔ علامتِ رفع آخری کا ضمہ (-ُ) ہے۔ یہاں صیغۂ فعل (جمع مکسر ’’ الانھار‘‘ کے فاعل ہونے کی بناء پر) بظاہر مؤنث (تتفجّر) ہونا چاہیے تھا۔ تاہم صیغۂ فعل کو واحد مؤنث یا مذکر ہی لانا صرف اس صورت میں واجب ہوتا ہے جبکہ فاعل واحد مذکر یا واحد مؤنث حقیقی ہو۔ جمع مکسر یا مؤنث سماعی وغیرہ میں مذکر مؤنث دونوں صیغۂ فعل استعمال ہوسکتے ہیں مثلاً ’’ کتبَتِ المرأۃُ‘‘ یا ’’ کتبَ الرجلُ‘‘ کہنا ضروری ہے مگر ’’ کتبَ النسائُ‘‘ یا ’’ کتبتِ الرجالُ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ ’’ یتفجر‘‘ کے اردو ترجمہ میں فعل کی تذکیر یا تانیث ’’ الانھار‘‘ کے ترجمہ کے مطابق ہوگی۔ مثلاً ’’ دریا نکلتے ہیں‘‘ یا ’’ ندیاں نکلتی ہیں‘‘ وغیرہ۔

 ۔ وان منھا لما یشّقّق فیخرُج منہ المائُ

 [ وَ] عاطفہ ہے جو اس جملے کو سابقہ جملے سے ملاتی ہے۔ [ اِنّ] حرف مشبہ بالفعل اور [ منھا] جار مجرور مل کر اس (اِنَّ) کی خبر یا قائم مقام خبر مقدم (پہلے آگئی) ہے۔ ضمیر مؤنث ’’ ھا‘‘ الحجارۃ (جمع مکسر) کے لیے ہے۔ [ لَمَا] یہاں بھی سابقہ جملے کی طرح (لَ) لام مزحلقہ ہے اور ’’ مَا‘‘ اسم موصول اِنَّ کا اسم مؤخر (جو بعد میں آیا) ہے۔ [ یشقّق] فعل مضارع مع ضمیر الفاعل (ھو) ہے اور یہ صیغۃ فعر ایک جملہ فعلیہ ہے جو ’’ مَا‘‘ کا صلہ ہے۔ صیغۂ فعل کی تذکیر بلحاظ معنی ’’ کسی ایک پتھر‘‘ کے لیے ہے [ فیخرُج] میں فاء (ف) عطف کے لے ہے اور فعل ’’ یخرُج‘‘ بھی مضاع صیغہ واحد مذکر غائب ہے جس کا عطف بذریعہ ’’ فَ‘‘ سابقہ فعل ’’ یشقّق‘‘ پر ہے [ منہ] جار مجرور متعلق فعل (یخرج) ہیں اور یہ ضمیر (ہ) بھی بلحاظ معنی ’’ ایک پتھر‘‘ کے لیے ہے [ المائُ] فعل ’’ یخرج‘‘ کا فاعل (لہٰذا) مرفوع ہے علامت ِ رفع آخری ’’ئ‘‘ کا ضمہ (-ُ) ہے۔

 ۔ وانّ منھا لَمَا یھبط من خشیہۃ اللّٰہ

 [ وانّ منھا لَمَا] کا اعراب و ترکیب اوپر والے جملے (کے ابتدائی حصے) کی طرح ہے [ یَھْبط] فعل مضارع مع ضمیر الفاعل (ھو) ہے اور فعل کی تذکیر معنی کے لحاظ سے ’’ کسی ایک پتھر‘‘ کے لیے ہے (وہ گرتا ہے) اور یہاں بھی ’’ یھبط‘‘ سے ’’ ما‘‘ کا صلہ شروع ہوتا ہے۔ (جو آخری عبارت تک کا جملہ ہے) [ من خشیۃ اللّٰہ] میں ’’ مِنْ‘‘ تو حرف الجر ہے ’’ خشیۃ‘‘ مجرور بالجبر بھی ہے اور آگے مضاف بھی ہے اس لیے خفیف بھی ہے ’’ اللّٰہ‘‘ مضاف الیہ (لہٰذا مجرور بالاضافۃ) ہے۔ یہ سارا مرکب جاری (من خشیۃ اللہ) فعل ’’ یھبط‘‘ سے متعلق ہے جو ہبوط (گرنے) کی وجہ (تعلیل) بیان کرتا ہے یعنی یہاں ’’ من‘‘ کا مطلب ’’ کی وجہ سے‘‘ ہے۔

 ۔ وما اللّٰہ بغافل عما تعملون

 [ وَ] برائے استیناف ہے یعنی یہاں سابقہ مضمون سے الگ ایک نیا مضمون شروع ہوتا ہے۔ [ مَا] حجازیہ (نافیہ) ہے جو ’’ لَیْسَ‘‘ کا سا عمل کرتی ہے۔ [ اَللّٰہُ] اس (مَا) کا اسم (لہٰذا) مرفوع ہے۔ [ بغافِلٍ] کی باء (بِ) زائد حرف الجر ہے جو ’’ لیس‘‘ (اور اس کے ساتھی حروف) کی خبر پر تاکید کے لیے آتی ہے۔ ’’ غافِلٍ‘‘ بوجہ باء (ب) مجرور ہے اس طرح یہ لفظاً تو یہاں مجرور ہے مگر ’’ مَا‘‘ کی خبر ہونے کے لحاظ سے محلاً منصوب ہے (لَیْسَ کی خبر پر ’’ ب‘‘ نہ ہو تو منصوب ہوتی ہے) [ عَمَّا] جار (عن) اور مجرور (مَا) ہے جس میں ’’ ما‘‘ موصولہ ہے اور [ تعملون] فعل مضارع مع ضمیر الفاعلین (انتم) جملہ فعلیہ ہوکر ’’ مَا‘‘ کا صلہ ہے۔ یہاں ’’ مَا‘‘ کی عائد ضمیر محذوف ہے۔ یعنی دراصل تھا ’’ عما تعملونہ‘‘ یہ سارا صلہ موصولہ ’’ ما تعملون‘‘، ’’ عن‘‘ کی وجہ سے محلاً مجرور ہے اور خبر ’’ بغافل‘‘ سے متعلق ہے۔

2:46:3 الرسم

 بلحاظ رسم زیر مطالعہ آیت میں صرف چار کلمات توجہ طلب ہیں۔ یعنی ’’ ذلک، الانھر، بغافلٍ، عَمَّا‘‘ ان میں سے تین کا رسم متفق علیہ ہے۔ صرف ایک کا مختلف فیہ ہے۔ تفصیل یوں ہے:

 ۔ ’’ ذلک‘‘ کے رسم پر [ 2:2:3] پر بات ہوئی تھی۔ یہ لفظ صرف رسم عثمانی میں ہی نہیں بلکہ رسم املائی میں بھی ’’ ذ‘‘ کے بعد الف کے حذف سے لکھا جاتا ہے۔

 ۔ ’’ الانھر‘‘ جس کا رسم املائی ’’ الانھار‘‘ ہے۔ رسم قرآنی میں ہر جگہ ’’ بحذف الالف بعد الہائ‘‘ لکھا جاتا ہے یعنی ’’ الانھر‘‘ کی شکل میں اور یہ اس کا متفق علیہ رسم ہے یعنی سب علمائے رسم کا اس پر اتفاق ہے۔

 ۔ ’’ بغافل‘‘ الدانی کے اصول پر (کہ’’ فاعل‘‘ کے وزن پر آنے والے مفرد (بصیغۂ واحد) کلمات اثبات الف کے ساتھ لکھے جاتے ہیں) یہ لفظ ’’ باثباتِ الالف بعد الغین‘‘ لکھا جاتا ہے۔ برصغیر، ترکی، ایران اور لیبیا کے مصاحف میں یہ اسی طرح (باثبات الف لکھا جاتا ہے۔ تاہم ابودائود کی طرف منسوب قول کی بنا پر عرب اور افریقی ممالک کے مصاحف میں اسے بحذف الالف بعد العین یعنی ’’ بفضل‘‘ کی صورت میں لکھا جاتا ہے۔

 ۔ ’’ عَمَّا‘‘ جو دراصل ’’ عن مّا‘‘ ہے قرآن کریم میں ہر جگہ ’’ عمَّا‘‘ یعنی موصول (ملا کر) ہی لکھا جاتا ہے۔ البتہ صرف ایک جگہ (الاعراف:166) یہ مقطوع بصورت ’’ عن ما‘‘ لکھا جاتا ہے۔ اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ يُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ  75؀
[ اَفَتَطْمَعُوْنَ: تو کیا تم لوگ آرزو کرتے ہو] [ اَنْ يُّؤْمِنُوْا: کہ وہ لوگ مان لیں] [ لَكُمْ: تمہاری بات] [ وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ: درآں حالیکہ ایک ایسا فریق ہے] [ مِّنْھُمْ: ان میں] [ يَسْمَعُوْنَ: جو سنتے ہیں] [ كَلٰمَ اللّٰهِ: اللہ کے کلام کو] [ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ: پھر وہ جھکاتے (بدلتے ) ہیں اس کو] [ مِنْۢ بَعْدِ: اس کے بعد] [ مَا: کہ جو] [ عَقَلُوْهُ: انہوں نے سمجھا اس کو] [ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ: اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں] وَاِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا       ښ    وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاۗجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ   ۭ   اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ   76؀
[ وَاِذَا لَقُوا: اور جب وہ لوگ ملتے ہیں] [ الَّذِيْنَ: ان لوگوں سے جو] [ اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [ قَالُوْٓا: و وہ کہتے ہیں] [ اٰمَنَّا ښ : ہم ایمان لائے] [ وَاِذَا خَلَا: اور جب تنہائی میں ملتے ہیں] [ بَعْضُھُمْ: ان کے بعض] [ اِلٰى بَعْضٍ : بعض سے] [ قَالُوْٓا: تو وہ کہتے ہیں] [ اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ: کیا تم لوگ بیان کرتے ہو ان سے] [ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ: اس کو جو کھولا اللہ نے] [ عَلَيْكُمْ: تم پر] [ لِيُحَاۗجُّوْكُمْ: تاکہ وہ لوگ بحث کریں تم سے] [ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ: اس کے ذریعہ تمہارے رب کے پاس] [ ۭ اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ : تو کیا تم لوگ عقل نہیں کرتے]

 

 اللغۃ

 [ وَاِذَ لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوا اٰمَنَّا] یہ عبارت البقرہ:14 کے ابتدائی حصے کی تکرار ہے۔ اس پر مکمل بحث کے لیے دیکھئے [ 2:11:1]

 [ وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ] ’’ وَاِذَا‘‘ (جب، جس وقت) کئی دفعہ گزر چکا ہے۔ (پہلی دفعہ البقرہ:11) [ 2:9:1 (1)] میں آیا تھا۔

 [ خَلَا] کا مادہ ’’ خ ل و‘‘ اور وزن اصلی ’’ فَعَلَ‘‘ ہے اور یہ فعل مجرد ’’ خلا یخلُو خلُوًّا‘‘ (خالی ہونا) سے فعل ماضی کا پہلا صیغہ ہے اس فعل مجرد اور اس کے ساتھ ’’إلی‘‘ کے بطور صلہ آنے کی صورت میں (جیسے کہ یہاں ہے ) اس کے معنی و استعمال پر البقرہ:14 [ 2:11:1 (2)] میں وضاحت ہوچکی ہے۔

 ’’ بَعْضُھُم‘‘ ’’ بعض‘‘ کی لغوی بحث [ 2:19:1 (3)] میں ہوچکی ہے۔ تاہم یہ لفظ اردو میں بھی اتنا متعارف اور مستعمل ہے کہ اس کا ترجمہ تک کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اردو میں اس مرکب اضافی (بعضھم) کا محض لفظی ترجمہ تو بنتا ہے ’’ ان کا بعض یا ان کے بعض‘‘ جس کی بامحاورہ صورت ان میں سے بعض: کوئی: کچھ‘‘ بنتی ہے۔

 ’’ الی بعض‘‘ کا ابتدائی ’’إلی‘‘ (کی طرف) تو یہاں فعل ’’ خَلَا‘‘ کے صلہ کے طور پر آیا ہے اور ’’ خلا إلیٰ‘‘ کے معنی (اکیلا ہونا، تنہائی میں ملنا وغیرہ ) البقرہ:14 [ 2:11:1 (2)] میں دیکھ لیجئے۔ یوں ’’ بعضھم الی بعض‘‘ کا ترجمہ لفظی بنتا ہے ’’ ان کے بعض کسی بعض کی طرف‘‘ جس کی سلیس اور بامحاورہ صورت ’’ ایک دوسرے کے پاس، آپس میں اور اپنے لوگوں میں اختیار کی گئی ہے۔

2:48:1 (1) [ قَالُوْا اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ] ’’ قالوا‘‘ کا ترجمہ یہاں ابتدائی ’’ اذا‘‘ کی وجہ سے ماضی کی بجائے فعل حال سے ہوگا یعنی ’’ وہ کہتے ہیں‘‘۔ اس صیغہ فعل (قالوا) کے مادہ باب تعلیل وغیرہ پر پہلی دفعہ البقرہ:11 [ 2:9:1 (4)]میں بات ہوچکی ہے۔

 [ اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ] کا ابتدائی ہمرہ (أ) استفہامیہ (بمعنی ’’ کیا‘‘) ہے اور آخری ضمیر منصوب (ھم) یہاں بمعنی ’’ ان کو: ان سے‘‘ ہے باقی صیغۂ فعل ’’ تُحَدِّثُوْنَ‘‘ ہے جس کا مادہ ’’ ح د ث‘‘ اور وزن ’’ تُفْعِلُوْنَ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ حَدَث یحدُث حُدُوْثًا‘‘ (نصر سے) ’’ واقع ہونا اور نیا ہونا (بمقابلہ پرانا ہونا)‘‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تاہم اس فعل مجرد سے قرآن کریم میں کوئی صیغۂ فعل کہیں نہیں آیا۔ البتہ اس کے بعض مشتقات میں سے کلمہ ’’ حدیث‘‘ (بصورت واحد جمع معرفہ نکرہ مفرد (مرکب) بکثرت (26 جگہ) قرآن میں آیا ہے۔ اور مزید فیہ کے (ابواب تفعیل اور افعال سے مشتق کچھ افعال اور اسماء بھی آٹھ جگہ آئے ہیں۔

ؤ زیر مطالعہ لفظ (تحدِّثُون) اس مادہ سے باب تفعیل کا فعل مضارع معروف صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ اس باب سے فعل ’’ حدَث … یُحدِّث یحدیثًا‘‘ کے معنی ہیں: ’’ کو خبر دینا، …سے بات کرنا۔‘‘ اس فعل کے دو مفعول آئے ہیں (1) جس کو خبر دی جائے یا جس سے بات کی جائے اور (2) جو خبر دی جائے یا جس چیز کی بات کی جائے۔ مفعول اول تو ہمیشہ بنفسہ (منصوب) آتا ہے۔ مگر دوسرا مفعول بنفسہٖ بھی آسکتا ہے۔ اور ’’ بائ‘‘ (ب) کے صلہ کے ساتھ بھی۔ مثلاً عربی میں کہیں گے۔ ’’ حدَّثہ الحدیثَ وبالحدیث‘‘ (اس نے اس کو بات بتائی یا اسے اس بات کی خبر دی کبھی اس کا پہلا مفعول (صلہ کے ساتھ یا صلہ کے بغیر) مذکورہ ہوتا ہے۔ جیسے ’’ بِنِعْمَۃ رَبِّکَ لَحَدِّثُ‘‘ (الضحیٰ:11) اور ’’ تُحَدِّثُ اخبارَھا‘‘ (الزلزال:4) میں ہے۔ اس فعل (حَدَّث) کے ساتھ اگر ’’ عَن‘‘ کا صلہ آئے مثلاً ’’ حَدَّثَ عن…‘‘ تو اس کے معنی ہوتے ہیں: ’’… سے حدیث رسول ﷺ روایت کرنا‘‘ تاہم قرآن کریم میں یہ فعل ان معنوں کے لیے اور اس صلہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوا۔

ؤ اس طرح ’’ اتحدِّثونھم‘‘ کا لفظی ترجمہ بنتا ہے: ’’ کیا تم ان سے بات کرتے: یا ان کو خبر دیتے ہو۔‘‘ اسی کو بامحاورہ بناتے ہوئے مختلف مترجمین نے ’’ کیا تم ان سے کہہ دیتے ہو: خبر کردیتے: بیان کیے دیتے: بتلا دیتے: کہے دیتے ہو‘‘ کی صورت میں ترجمہ کیا ہے۔ البتہ بعض نے ضمیر ’’ ھم‘‘ کا ترجمہ (ان کو، انہیں) کی بجائے اسم ظاہر ’’ مسلمانوں کو‘‘ سے کردیا ہے جسے تفسیری ترجمہ کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح بعض نے ہمزئہ استفہام (أ) کا ترجمہ ’’ کیا‘‘ کی بجائے ’’ کیوں‘‘ سے کیا ہے جو سیاق عبارت کے لحاظ سے درست مفہوم ہے تاہم وہ ’’ أ‘‘ سے زیادہ ’’ لِمَ‘‘ کا ترجمہ معلوم ہوتا ہے۔

2:48:1 (2) [ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ] ابتدائی ’’ بائ‘‘ (ب) یہاں وہی صلہ ہے جو فعل ’’ حدّث‘‘ کے دوسرے مفعول بہ پر آتا ہے (جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے) ۔ اور ’’ مَا‘‘ یہاں موصولہ ہے۔ اس طرح ’’ بمَا‘‘ کا ترجمہ ہوگا: ’’ اس چیز کے بارے میں جو کہ ‘‘ اسے ہی بعض نے ’’ وہ علم جو: وہ باتیں جو: جو بات‘‘ کی صورت میں (جس میں ’’ علم‘‘ باتیں یا ’’ بات‘‘ تفسیری اضافہ ہے) اور بعض نے صرف ’’ جو: جو کچھ‘‘ اور ’’ وہ جو‘‘ سے ترجمہ کیا ہے ( جو لفظ سے زیادہ قریب ہے) [ فَتَحَ] کا مادہ اور وزن تو ظاہر ہے (یعنی ’’ ف ت ح‘‘ سے فَعَلَ) اس سے فعل مجرد ’’ فتَح… یفتَح فتحًا‘‘ آتا ہے (اور اسی فعل پر باب کا نام رکھا گیا ہے) اس فعل کے بنیادی معنی تو ہیں: ’’(کسی بند چیز) کو کھول دینا، یا (کسی رکاوٹ) کو دور کردینا۔‘‘ اس کے لیے ہی اس فعل کا مختصر ترجمہ ’’ کھول دینا‘‘ کیا جاتا ہے پھر یہ ’’ کھولنا‘‘ حسی بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے ’’ فتحوا متاعھم‘‘ (یوسف:65) میں ہے (یعنی انہوں نے اپنا سامان کھولا) اور معنوی (کھولنا) بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے ’’ فتحنا علیھم برکات‘‘ (الاعراف:96) میں ہے (یعنی ہم نے ان پر برکتیں کھول دیں)

ؤ یہ فعل متعدی ہے اور اس کا مفعول ہمیشہ بنفسہٖ آتا ہے اور مفعول کے لحاظ سے اس کا اردو ترجمہ بھی مختلف ہوسکتا ہے مثلاً فتَح البابَ (اس نے دروازہ کھولا) فتح النَھر (اس نے نہر بنائی اور جاری کی) ’’ فتَح البَلدَ‘‘ (اس نے شہر فتح کرلیا) اور کبھی اس کے مفہوم میں ایک طرح سے دو مفعول ہوتے ہیں ایک تو جو چیز کھولی جائے۔ دوسرا جس پر یا جس کے لیے کھولی جائے۔ پہلا مفعول تو ہمیشہ بنفسہٖ ہی ہوتا ہے اور دوسرے کے ساتھ مختلف معانی کے لیے مختلف صلہ (حرف الجر) لگتا ہے۔ اور اس میں بعض دفعہ اصل مفعول محذوف ہو جاتا ہے مثلاً ’’ فتح بینھم‘‘ (اس نے ان کے درمیان فیصلہ کردیا۔ یعنی جھگڑے والی رکاوٹ دور کردی۔) یہاں بھی فعل کے بعد ’’ علیکم‘‘ آیا ہے یعنی تم پر کھولا تم کو (جس چیز کی) راہ دکھائی۔

ؤ اسی لیے یہاں ’’ فتح علی‘‘… کا ترجمہ (مصدری) ’’… پر ظاہر کرنا… کو بتلانا، … پر منکشف کرنا‘‘ سے کیا گیا ہے (سب میں ’’ کھولنا‘‘ کا بنیادی مفہوم موجود ہے) اور یوں ’’ فتح اللّٰہ علیکم‘‘ کا ترجمہ ’’ خدا نے تم پر ظاہر کیا…‘‘ اللہ نے تم پر کھولا، خدا نے تم پر منکشف کیا ہے‘‘ سے کیا گیا ہے۔ ’’ بما‘‘ کے ترجمہ پر ابھی اوپر بات ہوئی ہے اس طرح آپ اس پوری عبارت کے تراجم سمجھ سکتے ہیں۔

ؤ بعض حضرات نے اردو میں ترجمہ کرتے وقت (شاید اردو محاورے کی خاطر) اوپر کی دو عبارتوں ’’ اتحدثونھم‘‘ [ 2:48:1 (1)] اور ’’ بما فتح اللّٰہ علیکم‘‘ [ 2:48:1 (2)] کو آگے پیچھے کرکے ترجمہ کیا ہے یعنی ’’ جو کچھ خد نے تم پر ظاہر کیا ہے کیا تم ان (مسلمانوں) کو اس کی خبر کیے دیتے ہو‘‘ ’’ وہ علم جو خدا نے تم پر کھولا کیا ان (مسلمانوں) سے بیان کیے دیتے ہو۔‘‘ ان دونوں ترجموں میں پہلے ’’ بما فتح اللّٰہ علیکم‘‘ اور بعد میں ’’ اتحدثونھم‘‘ کا ترجمہ کیا گیا ہے بلکہ ایک طرح سے عربی عبارت یوں (فرض) کرلی گئی ہے۔ ’’ مافتح اللّٰہ علیکم اتحدثونھم بہ‘‘ اور یہ اردو میں صلہ موصول کی ترتیب کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ حالانکہ استفہامیہ جملہ پہلے لانے میں ایک خاص زور اور تعجب کا مفہوم ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ بیشتر مترجمین نے اصل عربی عبارتوں کو ترتیب کے مطابق ہی ترجمہ کیا ہے۔ مثلاً ’’ ارے کیا تم انہیں وہ بتا دیتے ہو جو خدا نے تم پر منکشف کیا ہے۔‘‘

2:48:1 (3) [ لِیُحَآجُّوْکُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّکُمْ] اس عبارت میں مختلف اسم، فعل اور حرف ہیں۔ پہلے ہر ایک پر الگ الگ بات کرتے ہیں۔

 ۔ لام [ ’’ ل‘‘] یہاں لام صیروت ہے جو ناصب مضارع ہوتا ہے اور اس کا ترجمہ ’’ تاکہ‘‘ اور ’’ اس کے نتیجے میں‘‘ سے ہوسکتا ہے اور اسی کو بامحاورہ کرتے ہوئے ’’ تو تو نتیجہ یہ ہوگا، کل کلاں کو اور جس سے یہ ہوگا کہ‘‘ کی صورت میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

 ۔ ’’ لِیُحَاجُّوْکُمْ‘‘ ابتدائی لام کے معنی اوپر بیان ہوئے ہیں یہاں دوبارہ اس لیے لکھنا پڑا ہے کہ اس کے بغیر مضار منصوب لکھنا درست نہیں بنتا۔ آخر پر جو ضمیر منصوب ’’ کُمْ‘‘ ہے اس کا ترجمہ تو ’’ تم کو‘‘ ہے مگر یہاں فعل کی مناسبت سے (جیسا کہ ابھی آئے گا) اس کا بامحاورہ ترجمہ ’’ تم پر‘‘ ہی ہوسکتا ہے ابتدائی ’’ لام‘‘ اور آخری ’’ کم‘‘ نکال کر باقی صیغۂ فعل ’’ یُحَآجّوْا‘‘ بچتا ہے ( ضمیر مفعول سے الگ ہوکر واو الجمع کے بعد الف زائدہ لکھا گیا ہے) ۔ اس فعل کا مادہ ’’ ح ج ج‘‘ اور وزن اصلی ’’ یُفاعِلُوا‘‘ ہے۔ جو دراصل ’’ یُحَاجِبُوْا‘‘ تھا پھر پہلے ’’ ج‘‘ کو ساکن کرکے دوسرے میں مدغم کردیا گیا اور پہلے ’’ ج‘‘ کے سکون کی بنا پر ہی یہاں ’’ حا‘‘ میں مدّ پیدا ہوئی ہے (عربوں کے طریق تلفظ یا قرآن کریم کے قائدہ تجوید کے مطابق مدّ وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں ’’-َ ا‘‘ یا ’’-ُوْ‘‘ یا ’’-ِّیْ‘‘ کے بعد یا تو ہمزہ (ئ) آئے یا کوفی حرف ساکن مدغم ہوکر آرہا ہو۔

ؤ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ حجّ … یُحجّ حَجًّا‘‘ (نصر سے) بنیاد معنی ہیں ’’… کا قصد کرنا ، …کا ارادہ کرنا‘‘ یہ فعل متعدی ہے اور اس کا مفعول بنفسہٖ آتا ہے۔ کہتے ہیں ’’ حجۃ‘‘ (اس نے اس کا قصد کیا) اور اگر اس کا مفعول ’’ البیتَ‘‘ (خانہ کعبہ) ہو تو اس کے معنی ’’ حج کرنا‘‘ ہوتے ہیں مگر اس صورت میں اس کا مصدر ’’ حِجًّا‘‘ آتا ہے۔ حج کو ’’ حج‘‘ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں آدمی خاص دنوں میں خاص شرعی اعمال بجا لانے کے لیے خانہ کعبہ کا قصد کرتا ہے۔ اور اسی فعل کے ایک معنی ’’ دلیل سے غالب آنا‘‘ بھی ہیں مگر یہ استعمال قرآن کریم میں نہیں آیا۔ اسی طرح اس فعل کے بعض غیر قرآنی استعمال (بار بار آنا جانا۔ زخم کھولنا وغیرہ) بھی ہیں جو ڈکشنری میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

 قرآن کریم میں اس فعل مجرد سے صرف ایک صیغہ ماضی ’’ فمن حجّ البیت‘‘ (البقرہ:158) میں آیا ہے۔ جو حج کرنا ہی کے معنی میں ہے۔

ؤ اس فعل مجرد سے ماخوذ اور مشتق بعض کلمات بھی قرآن کریم میں آئے ہیں مثلاً ’’ الحجّ‘‘ (حج) 9 دفعہ آیا ہے۔ حجَّۃٌ (دلیل) چھ دفعہ ’’ الحجاجّ‘‘ (حاجیوں) اور حِجَجٌ (حِجَّۃٌ بمعنی سال کی جمع) ایک ایک دفعہ آئے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید فیہ کے باب مفاعلہ سے مختلف صیغے بارہ جگہ اور باب تفاعل سے بھی ایک صیغہ ایک جگہ آیا ہے اور ان سب پر اپنے اپنے موقع پر بات ہوگی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

ؤ زیر مطالعہ صیغۂ فعل ’’ یُحَاجُّوْا‘‘ (جو یہاں ’’ لیحاجوکم‘‘ میں ہے) اس مادہ سے باب مفاعلہ کا فعل مضارع منصوب صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ اس باب سے فعل ’’ حاجَّ … یُحَاجُّ (حَاجَجَ یُحا جِجُ) مُحَآجّۃً وحِجاجًا‘‘ کے معنی ہیں ’’…سے بحث کرنا، جھگڑا کرنا‘‘ دلیل سے زیر کرنے کی کوشش کرنا۔‘‘ اور اسی سے اس میں ’’…کو جھٹلا دینا، حجت میں مغلوب کرنا،… کے خلاف سند لانا، … پر الزام ثابت کردینا،… کو قائل کردینا‘‘ کے معنی پیدا ہوتے ہیں سب کا مفہوم ایک ہی ہے۔

 ۔ ’’ بہ‘‘ کا ترجمہ تو ہے ’’ اس کے ساتھ‘‘ اور پھر مندرجہ بالا فعل کے ساتھ اور سیاق عبارت کی بناء پر اس کا ترجمہ ’’ اسی سے، اس بات کی سند پکڑ کر، اسی کے حوالے سے‘‘ اور جس سے کہ ’’ کی صورت میں کیا گیا ہے۔ محاورے کے لحاظ سے سب کا مفہوم ایک ہے البتہ بعض اصل لفظ سے بہت ہٹ کر ہیں۔

 ۔ ’’ عند ربکم‘‘ جو ’’ عند‘‘ (کے پاس) [ دیکھئے 2:34:1 (6)] + ربّ+کُم (تمہارا) کا مرکب ظرفی ہے۔ اس کا سادہ ترجمہ تو ہے ’’ تمہارے رب کے پاس‘‘ … جسے مترجمین نے ’’ تمہارے رب کے نزدیک، تمہارے پروردگار کے آگے: سامنے: کے حضور میں، مالک کے پاس، تمہارے رب کے یہاں اور پروردگار کے روبرو‘‘ کی صورت میں متنوع ترجمہ کیا ہے مفہوم سب کا ایک ہی ہے (لفظ ’’ رب‘‘ کی وضاحت سورۃ الفاتحہ میں کی جاچکی ہے)

ؤ اس طرح اس پوری عبارت ’’ لیحاجّوکم بہ عند ربکم‘‘ کالفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ کہ وہ جھگڑا کریں تم سے اس کے ساتھ تمہارے رب کے پاس‘‘ اس کا بامحاورہ ترجمہ عموماً لفظوں سے ہٹ کر (وضاحت کے لیے) کیا گیا ہے۔ اور لَ ’’ یحاجوا‘‘ ’’ بہ‘‘ ’’ عندربکم‘‘ کے الگ الگ لفظی اور بامحاورہ ترجمے لکھ دیے گئے ہیں ہم یہاں بطور نمونہ اس پوری عبارت کے چند وضاحتی تراجم لکھ دیتے ہیں مثلاً

 ’’ کہ جھٹلا دیں تم کو اس سے تمہارے رب کے آگے‘‘ تو نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ تم کو حجت میں مغلوب کرلیں گے کہ یہ مضمون اللہ کے پاس ہے‘‘ کہ اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم پر الزام دیں‘‘ اور ’’ جس سے وہ تمہیں تمہارے پروردگار کے حضور میں قائل کردیں گے‘‘ وغیرہ سب کا مفہوم ایک ہی ہے۔

 [ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ] یہ پورا جملہ البقرہ:44 [ 2:29:1 (8)] میں گزر چکا ہے۔ یہاں لفظی ترجمہ ’’ سو کیا تم نہیں سمجھتے‘‘ کے علاوہ ’’ کیا تم کو عقل نہیں؟‘‘ کے علاوہ بعض نے وضاحتی ترجمہ ’’ کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے‘‘ سے کیا ہے۔ ظاہر ہے اس میں ’’ اتنی بات بھی‘‘ کا اضافہ و محاورے کی خاطر کرنا پڑتا ہے۔ ویسے ’’ اَفَ‘‘ کے ’’ تو کیا‘‘ میں بھی یہ مفہوم موجود ہے۔ اَوَلَا يَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ   77؀
[ اَوَلَا يَعْلَمُوْنَ : تو کیا وہ لوگ جانتے نہیں ] [ اَنَّ اللّٰهَ : کہ اللہ ] [ يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ مَا : اس کو] [ يُسِرُّوْنَ: وہ چھپاتے ہیں ] [ وَمَا يُعْلِنُوْنَ: اور اس کو جو وہ آشکارا کرتے ہیں]

 

 [ اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ] اس عبارت میں دو دفعہ تو فعل ’’ علِمَ یَعْلم‘‘ (جاننا، جان لینا) کے مضارع کے صیغے (یَعْلمون اور یَعْلَمُ) آئے ہیں جن کے مادہ (ع ل م) اور باب و معنی وغیرہ پر الفاتحہ :2 [ 1:2:1 (4)] میں البقرہ:13 [ 2:10:1 (3)] میں بات ہوچکی ہے۔ اسی طرح ’’ أَنَّ‘‘ (حرف مشبہ بالفعل بمعنی ’’ بے شک‘‘) پر البقرہ:6 [ 2:5:1] میں اور اسم جلالت (اللہ) کی لغوی بحث ’’ بسم اللّٰہ‘‘ میں ہوچکی ہے ابتدائی ’’ أوَ‘‘ میں ہمزئہ استفہام (أ) کے ساتھ ’’ وَ‘‘ اس میں تاکید کے معنی پیدا کرنے کے لیے ہے ’’ أفَ‘‘ کی طرح) ۔ اس کا ترجمہ ’’ یا : صرف‘‘ سے ہی ہوسکتا ہے یا ’’ تو کیا‘‘ یا الٹ کر ترجمہ ’’ اور کیا‘‘ بھی کرسکتے ہیں۔

ؤ یوں اس عبارت کا لفظی ترجمہ ہے: ’’ کیا نہیں جانتے وہ کہ بےشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے‘‘ اسی کی بامحاورہ صورتیں ہیں۔ ’’ کی اتنا بھی نہیں جانتے کہ اللہ کو معلوم ہے‘‘۔ ’’ کیا ان کو اس کا علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے۔‘‘ اور بعض نے ’’ لا یعلمون‘‘ کی ضمیر فاعلین ’’ ھم‘‘ کا ترجمہ ’’ یہ لوگ‘‘ اور ’’ ان لوگوں‘‘ کی صورت میں کرلیا ہے یعنی ’’ کیا ان لوگوں کو یہ بات بھی معلوم نہیں کہ خدا کو سب معلوم ہے‘‘، ’’ کیا یہ لوگ اتنا بھی نہیں جانتے کہ اللہ کو خبر ہے۔‘‘ ان تمام تراجم میں ’’ أَنَّ‘‘ کا ترجمہ ’’ بے شک: یقینا‘‘ حذف کرکے اس کے مفہوم کو ’’ یہ بات بھی‘‘ اور ’’ اتنا بھی‘‘ وغیرہ سے ظاہر کیا گیا ہے۔ بعض نے اس عبارت کے آخری حصہ ’’ انّ اللّٰہ یَعْلَم‘‘ کا ترجمہ اگلی عبارت (ما یُسِرُّون وما یُعلِنُون) کے بعد کیا ہے جیسا کہ ابھی بیان ہوگا۔

2:48:1 (5) [ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ] کا ابتدائی ’’ مَا‘‘ موصولہ بمعنی ’’ جو کچھ کہ‘‘ ہے اور اسے مصدریہ بھی سمجھا جاسکتا ہے جیسا کہ ابھی بعض تراجم کے ضمن میں آئے گا۔ اور ’’ مَا‘‘ یہاں بتکرار آیا ہے یعنی دو دفعہ [ یُسِرُّوْنَ] کا مادہ ’’ س ر ر‘‘ اور وزن اصلی ’’ یَفْعِلُوْنَ‘‘ ہے۔ جو دراصل تو ’’ یُسَرِرُوْن‘‘ تھا پھر ’’ ر‘‘ کی کسرہ (-ِ) ماقبل ساکن (س) کو دے کر دونوں ’’ ر‘‘ مدغم کردیئے گئے۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ سَرَّ… یَسُرُّ‘‘ (…کو خوش کرنا) کے باب معنی اور معروف و مجہول استعمال (سَرَّ یُسَرُّ= خوش ہونا) کی وضاحت البقرہ:69 [ 2:44:1 (4)] میں ہوچکی ہے۔ قرآن کریم میں اس فعل مجرد کا ایک ہی صیغہ صرف ایک بار آیا ہے۔

ؤ زیر مطالعہ لفظ (یُسِرُّوْنَ) اس مادہ سے باب افعال کا فعل مضارع صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ اس باب سے فعل ’’ اَسَرَّ … یُسِرُّ اِسْرَارًا‘‘ کے معنی ہیں: ’’ چھپانا، چھپا لینا‘‘ اور بعض نے ’’ مخفی رکھنا‘‘ سے ترجمہ کیا ہے جو شاید عام آدمی کے لیے قابل فہم نہیں ہے۔ ’’ یُسرُّوْن‘‘ کا ترجمہ ہے۔ ’’ وہ چھپاتے ہیں‘‘ قرآن کریم میں اس مزید فیہ فعل کے مختلف صیغے 18 جگہ آئے ہیں۔ یہ فعل متعدی ہے اور اس کا مفعول بنفسہٖ آتا ہے۔ البتہ بعض دفعہ مفعول کے بعد ’’ الی‘‘ استعمال ہوتا ہے مثلاً ’’ اَسَرَّ حدیثًا الی فلانٍ‘‘ اس کے مصدری معنی ہیں: ’’ بات ایک سے چھپانا دوسرے پر ظاہر کرنا‘‘ یعنی خفیہ بات کرنا یا اطلاع دینا۔ اور یہ استعمال بھی قرآن کریم میں کم از کم دو جگہ (الممتحنہ:1 ، التحریم:3) آیا ہے۔ اس باب کا مصدر ’’ اِسْرارً‘‘ بھی دو جگہ آیا ہے۔ اور اس مادہ سے ماخوذ اور مشتق بعض دیگر کلمات (مثلاً سِرٌّ، سَرَّائ، سُرور، مَسْرور اور سُورُ) کئی جگہ آئے ہیں۔

 [ یُعْلِنُوْنَ] کا مادہ ’’ ع ل ن‘‘ اور وزن ’’ یُفْعِلُوْنَ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ علَن یَعلِن عُلُونًا‘‘ (ضرب سے) اور علِن یَعلَن عَلَنًا وعلانیۃً (سمع سے) کے معنی ہیں: ’’ ظاہر ہوجانا، سب کو معلوم ہوجانا،‘‘ کہتے ہیں ’’ عَلِنَ الامرُ‘‘ (معاملہ ظاہر ہوگیا، لازم ہونے کی وجہ سے اس فعل سے اسم فاعل نہیں آتا بلکہ صفت ’’ عَلِنٌ‘‘ اور ’’ عَلِیْنٌ‘‘ آتی ہے۔ اس فعل مجرد سے قرآن کریم میں کوئی صیغۂ فعل استعمال نہیں ہوا۔ البتہ اس کا مصدر ’’ علانیۃ‘‘ چار جگہ آیا ہے (اور یہ لفظ اردو میں بھی مستعمل ہے) ۔

ؤ ’’ یُعْلِنُون‘‘ اس مادہ سے بابِ افعال کا فعل مضارع صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ اس باب سے فعل ’’ اَعْلَن … یُعْلِنُ اِعْلَانًا‘‘ کے معنی ہیں: …کو ظاہر کردینا، کھول دینا، …کا اظہار کردینا۔‘‘ یہ فعل متعدی ہے اور اس کا مفعول بنفسہٖ بھی آتا ہے اور ’’ بائ‘‘ (ب) کے صلہ کے ساتھ بھی کہتے ہیں ’’ اَعْلَنہ وبِہ‘‘ (اس نے اس کو ظاہر کردیا) اور خود لفظ ’’إعلان‘‘ اردو میں مستعمل ہے اس لیے اس کا ترجمہ ’’ اعلان کرنا‘‘ بھی ہوسکتا ہے۔ اس باب سے فعل کے مختلف صیغے قرآن کریم میں بارہ جگہ آئے ہیں۔

ؤ اس طرح اس پوری عبارت ’’ ما یُسِرُّونَ ومَا یُعْلِنُوْنَ‘‘ کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ جو کچھ کہ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ کہ وہ ظاہر کرتے ہیں‘‘ اور بعض نے ’’ یُعلِنُون‘‘ کے لیے ’’ وہ اظہار کرتے ہیں، جتلاتے ہیں یا کھولتے ہیں‘‘ ترجمہ کیا ہے اسی طرح ’’ مَا‘‘ موصولہ کا ترجمہ بعض نے ’’ جسے‘‘ اور بعض نے ’’ ان چیزوں کو جو کہ‘‘ ’’ ان باتوں کو جو کہ‘‘ سے کیا ہے۔ چاہے محاورے کے لیے سہی مگر ’’ چیزوں اور باتوں‘‘ اصل عبارت پر اضافہ ہے۔ بعض نے ’’ مَا‘‘ موصولہ کی بجائے ’’ مَا‘‘ مصدریہ کے ساتھ ترجمہ کیا ہے یعنی ان کی ’’ چھپی اور کھلی‘‘ دونوں باتیں۔ جو دراصل مصدر بمعنی حال (اسم مفعول کے ساتھ) ہے یعنی ’’ چھپائی ہوئی اور کھلی کی ہوئی‘‘ (باتیں) ۔ (مصدر اور فاعل مفعول دونوں کے معنی دیتا ہے) اسی طرح بعض حضرات نے سابقہ عبارت کے آخری جملہ ’’ ان اللّٰہ یعلم‘‘ کا ترجمہ اس زیر مطالعہ عبارت کے ترجمہ کے بعد کیا ہے یعنی ’’ جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو اللہ سب جانتا ہے‘‘ اور اللہ ان کی چھپی اور کھلی دونوں باتیں جانتا ہے۔‘‘ کی صورت میں۔ اور بعض نے ’’ مَا‘‘ کی تکرار کے لیے ترجمہ میں ’’ بھی‘‘ کا اضافہ کیا ہے یعنی ’’ اللہ کو اس کی بھی خبر ہے جسے وہ چھپاتے ہیں اور اس کی بھی جسے یہ جتلاتے ہیں‘‘۔ اور یہ ’’ جسے‘‘ دراصل اس ضمیر عائد کا ترجمہ ہے جو یہاں محذوف ہے یعنی ’’ مایسرونہ‘‘ اور ’’ مایعلونہ یا بہ‘‘ کی شکل میں۔

 

2:48:2 الإعراب

 اعراب اور ترکیب نحوی بیان کرنے کے لیے زیر مطالعہ دو آیات کو چار جملوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

1 واذا لقوا الذین اٰمنوا قالوا آمنا

 [ وَ] عاطفہ بھی ہوسکتی ہے اور مستانفہ بھی یعنی یہ ’’ یہودیوں‘‘ کے رویہ کے ذکر سے متعلق بھی ہے اور ایک نئے رویہ کا ذکر بھی یہاں سے شروع ہوتا ہے [ اذا] شرطیہ ظرفیہ ہے یعنی اس میں شرط (جب بھی جب کبھی بھی) اور ظرف یعنی وقت اور جگہ (جس وقت بھی اور جس جگہ بھی) کا مفہوم موجود ہے [ لقوا] فعل ماضی معروف صیغہ جمع مذکر غائب ہے جس میں ضمیر فاعلین ’’ ھم‘‘ مستتر ہے جو یہاں ’’ یہود‘‘ کے لیے ہے جن کا ذکر اوپر سے چل رہا ہے۔ یہاں فعل ماضی کا ترجمہ ’’ اذا‘‘ شرطیہ کی وجہ سے حال میں ہوگا یعنی ’ جب وہ ملتے ہیں‘‘۔ [ الذین] اسم موصول (جمع مذکر) یہاں فعل ’’ لقوا‘‘ کا مفعول بہ ہوکر منصوب ہے جس میں بوجہ مبنی ہونے کے کوئی اعرابی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ [ آمنوا] فعل ماضی معروف مع ضمیر فاعلین ’’ ھم‘‘ ہے اور یہ جملہ فعلیہ ہوکر ’’ الذین‘‘ کا صلہ ہے۔ اور یہ صلہ موصول (الذین آمنوا) ’’ واذا لقوا‘‘ کے ساتھ مل کر جملہ شرطیہ کا پہلا حصہ یعنی بیانِ شرط بنتے ہیں۔ اس کے بعد [ قالوا] فعل ماضی معروف مع ضمیر فاعلین ’’ ھم‘‘ جملہ فعلیہ ہے اور یہاں سے ’’ اذا‘‘ کا جوابِ شرط شروع ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا ترجمہ ’’ تو کہتے ہیں‘‘ ہوگا۔ فعل ماضی ہونے کے باعث یہاں شرط اور جوابِ شرط کے فعل (لقوا اور قالوا) ’’ جزم‘‘ سے بری ہیں [ آمنا] فعل ماضی معروف مع مستتر ضمیر الفاعلین ’’ نحن‘‘ ہے اور فعل ’’ قالوا‘‘ کا مفعول ہوکر محل نصب میں ہے اور اس جملے (قالوا آمنا) کے ساتھ پہلا جملہ شرطیہ مکمل ہو جاتا ہے۔

2 واذا خلا بعضھم الی بعض۔ قالوا اتحدثونھم بما فتح اللّٰہ علیکم لیحاجّوکم بہ عند ربکم

 [ واذا] سابقہ (اوپر والے) ’’ واذا‘‘ پر عطف ہے اور اسی طرح واو عاطفہ اور ’’ اذا‘‘ ظرفیہ پر مشتمل ہے [ خلا] فعل ماضی صیغۃ واحد مذکر غائب ہے [ بعضھم] مضاف (بعض) اور مضاف الیہ (ھم) مل کر فعل ’’ خلا‘‘ کا فاعل ہے اس لیے ’’ بعض‘‘ مرفوع ہے علامتِ رفع ’’ ض‘‘ کا ضمہ (-ُ) ہے اور نحوی حضرات ’’ اذا‘‘ کے بعد والے (جملے) کو ظرف کا مضاف الیہ لہٰذا محلاً مجرور کہتے ہیں۔ [ الی بعض] جار (الی) مجرور (بعض) مل کر متعلق فعل ’’ خلا‘‘ ہیں یا ’’ الی‘‘ اس فعل (خلا) کا صلہ ہے اور ’’ الی بعض‘‘ مفعول ہوکر محل نصب میں ہے یہاں تک جملے کا پہلا حصہ ’’ بیان شرط‘‘ مکمل ہوتا ہے [ قالوا] فعل ماضی معروف مع ضمیر الفاعلین ’’ ھم‘‘ ہے اور یہاں سے ’’ اذا‘‘ کے بعد والے جملے کا جواب شرط شروع ہوتا ہے اس کا ترجمہ بھی مثل سابق ’’ تو کہتے ہیں‘‘ ہوگا [ اَتُحدِّثُونھم] کا ابتدائی ہمزہ (أ) استفہامیہ ہے جو یہاں انکار کے معنی میں ہے یعنی ’’ ایسا مت کرو‘‘ کا مفہوم رکھتا ہے ’’ تحدِّثون‘‘ فعل مضارع مع ضمیر الفاعلین ’’ انتم‘‘ ہے اور آخر پر ضمیر منصوب ’’ ھم‘‘ اس فعل اک مفعول ہے۔ [ بما] جار (ب) اور مجرور (ما) مل کر متعلق فعل (تحدثون) ہے۔ یا ’’ بِ‘‘ فعل ’’ حدّث‘‘ کے دوسرے مفعول (دیکھئے حصہ ’’ اللغۃ‘‘) پر آنے والا صلہ ہے۔ اور ’’ ما‘‘ موصولہ اپنے بعد آنے والے جملے (صلہ) کے ساتھ مل کر یہاں مفعول (ثانی) ہونے کے اعتبار سے محلاً منصوب ہے۔ [ فتَح] فعل ماضی معروف صیغہ واحد مذکر غائب ہے [ اللّٰہ] اس فعل (فتح) کا فاعل (لہٰذا) مرفوع ہے علامت رفع اسم جلالت (اللّٰہ) کا ضمہ (-ُ) ہے۔ [ علیکم] جار مجرور (علی+کم) فعل ’’ فتح‘‘ سے متعلق ہیں۔ اور یہ پورا جملہ ’’ فتح اللّٰہ علیکم‘‘ (جو فعل، فاعل اور متعلق فعل پر مشتمل ہے) ’’ بِمَا‘‘ کے ’’ ما‘‘ کا صلہ ہے اور صلہ موصول (بمع فتح اللّٰہ علیکم) مل کر ’’ بِمَا‘‘ کی ابتدائی باء (ب) کے ذریعے فعل ’’ تحدِّثون‘‘ سے متعلق ہیں یا فعل ’’ تُحَدِّثُوْنَ‘‘ کا مفعول ثانی ہوکر محلاً منصوب ہے [ لیحاجُّوکُم] کی ابتدائی لام (لِ) لامِ کی یا لام تعلیل (جس کا ترجمہ ’’ کہ: تاکہ‘‘ ہوتا ہے) کی بجائے یہاں لام العاقبۃ یا لام الصیرورۃ ہے جس کا ترجمہ ’’ جس کا نتیجہ یہ ہوا: ہوگا کہ‘‘ سے کیا جاتا ہے (لام تعلیل ہو یا لام عاقبہ دونوں ہی ناصب مضارع ہیں) ’’ یحاجوکم‘‘ میں ’’ یُحَاجُوا‘‘ فعل مضارع منصوب (بوجہ ’’ لام‘‘) ہے علامت نصب واو الجمع کے بعد والے ’’ نون‘‘ کا گر جانا ہے۔ (یہ دراصل ’’ یحاجون‘‘ تھا) اور دراصل ’’ ل‘‘ کے بعد ایک ’’ اَنْ‘‘ مقدر ہوتا ہے جو اصل ناصب ہوتا ہے یعنی ’’ لِأَنْ‘‘) اس صیغہ فعل ’’ لیحاجَوا‘‘ میں ضمیر فاعلین ’’ ھم‘‘ مستتر ہے اور آخری ’’ کم‘‘ ضمیر منصوب برائے جمع مذکر حاضر فعل ’’ لیحاجّوا‘‘ کا مفعول بہ ہے اردو میں یہاں اس ضمیر کا ترجمہ فعل کی مناسبت سے ’’ تم کو‘‘ (جھٹلائیں) یا ’’ تم سے‘‘ (جھگڑا کریں) کیا جاسکتا ہے (دیکھئے حصہ اللغۃ میں تراجم) [ بہ] جار مجرور (ب+ہ) مل کر متعلق فعل (لیحاجوکم) ہیں اور اس میں ضمیر مجرور (ہ) ’’ بما فتح اللّٰہ علیکم‘‘ کے ’’ ما‘‘ کے لیے (عائد) ہے یعنی ’’ اس کی وجہ سے‘‘ [ عندربکم] میں ’’ عند‘‘ ظرف منصوب اور مضاف ہے اور ’’ ربِّکم‘‘ (مضاف ’’ ربّ‘‘ اور مضاف الیہ ’’ کم‘‘ مل کر) ’’ عِندَ‘‘ (ظرف) کا مضاف الیہ ہے ۔ لفظ ’’ ربِّ‘‘ مضاف ہونے کی وجہ سے خفیف اور خود مضاف الیہ (عند کا) ہونے کی وجہ سے مجرور ہے علامت جر آخری ’’ ب‘‘ کی کسرہ (-ِ) ہے ’’ عند‘‘ کے لفظی اور بالحاظ سیاق بامحاورہ تراجم حصہ ’’ اللغۃ‘‘ میں بیان ہوچکے ہیں۔

3 افلا تعقلون

 یہ جملہ اس سے پہلے البقرہ:33 [ 2:29:2) میں گزر چکا ہے۔

4 اَوَلا یَعلَمون اَن اللّٰہ یعلم ما یُسِرُّون وما یَعلِنون

 [ اَوَ] ہمزئہ استفہامیہ اور واو عاطفہ کا مرکب ہے۔ ’’ وَ‘‘ یا ’’ فَ‘‘ کے ساتھ ہمزئہ استفہامیہ مقدم ہوکر اور ’’ ھل‘‘ استفہامیہ کے ساتھ مؤخر (فھل) آتا ہے اردو فارسی میں اس ’’ اَوَ‘‘ کا ترجمہ ’’ کیا اور‘‘ کی بجائے ’’ آیا؟‘‘ سے کیا جاتا ہے [ لایعلمون] فعل مضارع منفی ’’ بِلَا‘‘ صیغہ جمع مذکر غائب ہے جس میں ضمیر فالعین ’’ ھم‘‘ مستتر ہے۔ [ اَنَّ] حرف مشبہ بالفعل اور [ اللّٰہ] اس کا اسم منصوب ہے اور اس کی خبر اگلا جملہ آرہا ہے [ یَعلَم] فعل مضارع معروف صیغہ واحد مذکر غائب ہے [ مَا] اسم موصول فعل ’’ یعلم‘‘ کا مفعول (لہٰذا محلاً منصوب) ہے [ یُسِرُّون] فعل مضارع معروف مع ضمیر فالعین ’’ ھم‘‘ جملہ فعلیہ ہوکر ’’ ما‘‘ کا صلہ بنتا ہے اور [ ومایُعلِنُون] میں ’’ وَ‘‘ عاطفہ کے ذریعے ’’ مَا یعلنون‘‘ (جو ’’ ما‘‘ موصولہ اور اس کے صلہ جملہ فعلیہ (فعل فاعل) ’’ یعلنون‘‘ پر مشتمل ہے) سابقہ صلہ موصول ’’ ما یسرِّون‘‘ پر عطف ہے۔ یہاں یہ دونوں صلہ موصول (مایسرون اور مایعلنون) فعل ’’ یعلم‘‘ کے مفعول بنتے ہیں۔ یہاں دونوں جگہ صلہ کے ساتھ اسم موصول ’’ مَا‘‘ کے لیے ضمیر عائد محذوف ہے یعنی دراصل ’’ مایسرونہ وما یعلونہ‘‘ تھا اس لیے مترجمین نے اس ضمیر محذوف کے لیے ’’ جسے‘‘ کے ساتھ ترجمہ کیا ہے۔ اس کے بھی مختلف تراجم حصہ ’’ اللغۃ‘‘ میں بیان ہوچکے ہیں۔

1:48:3 الرسم

 اس قطعہ آیات (76 ۔77) کے تمام کلمات کا رسم املائی اور رسم قرآنی (عثمانی) یکساں ہے۔ کسی کلمہ کے رسم عثمانی پر بحث کی ضرورت نہیں۔

1:48:4 الضبط

 اور اس قطعہ کے کلمات میں ضبط کا تنوع درج ذیل نمونوں میں دیکھئے۔ وَمِنْھُمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِىَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ  78؀
[ وَمِنْھُمْ : اور ان میں ہیں] [ اُمِّيُّوْنَ : ان پڑھ لوگ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : جن کو علم نہیں ] [ الْكِتٰبَ: کتاب کا] [ اِلَّآ اَمَانِىَّ : سوائے آرزوں کے ] [ وَاِنْ ھُمْ : اور وہ لوگ نہیں ہیں ] [ اِلَّا يَظُنُّوْنَ : وہ گمان کرتے ہیں]

 

 اللغۃ

2:49:1 (1) [ وَمِنْھُمْ اُمِّیُّوْنَ] ابتدائی ’’ وَمِنْھم‘‘ ’’ وَ‘‘ (اور) + ’’ مِنْ‘‘ (میں سے) + ’’ ھُمْ‘‘ (ان) ہے اور یوں اس کا ترجمہ ہوا ’’ اور ان میں سے‘‘ (ہیں یا تھے) جس کا بامحاورہ ترجمہ ’’ ان میں سے کچھ : بعض: بہت (ہیں)‘‘ کی صورت میں کیا گیا۔ اور یہ ’’ کچھ: بعض: بہت‘‘ اگلے لفظ ’’ اُمِّیّون‘‘ کے نکرہ ہونے کی وجہ سے لگانے پڑے ہیں۔ بیشتر مترجمین نے ’’ منھم‘‘ کا ترجمہ ’’ ان میں‘‘ کے ساتھ کیا ہے جو بلحاظ محاورہ درست ہے مگر بظاہر ’’ فیھم‘‘ کا ترجمہ لگتا ہے۔ [ اُمِّیُّوْنَ] یہ لفظ ’’ اُمّتی‘‘ کی جمع مذکر سالم ہے۔ اور ’’ اُمّتی‘‘ کا مادہ ’’ ا م م‘‘ اور وزن ’’ فُعْلِیُّ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد باب نصر سے ’’ اَمَّ یَؤْمُّ‘‘ مختلف مصادر کے ساتھ مختلف معنی دیتا ہے۔

 ۔ ’’ اَمَّ یؤْمُ أُمُوْمَۃً‘‘ کے معنی ہیں ’’ ماں بننا‘‘ کہتے ہیں ’’ أَمَّتِ المرأۃُ‘‘ (عورت ماں بن گئی) اور اسی سے لفظ ’’ اُمٌّ‘‘ ہے جس کے بنیادی معنی ’’ ماں‘‘ ہیں۔ دیگر معانی و استعمال آگے حسب ِ موقع آئیں گے۔

 ۔ ’’ اَمَّ یَؤْمُّ أَمًّا‘‘ کے معنی ہیں: ’’ کسی چیز کا قصد کرنا‘‘ مثلاً کہیں گے: ’’ امّ فلانٌ اَمْرًا‘‘ (فلاں نے ایک کام کا قصد کیا) اور اسی سے لفظ ’’ اُمَّۃٌ‘‘ ہے یعنی وہ جماعت یا لوگ جو ایک مشترکہ قصد ارادہ اور واحد نصب العین رکھتے ہوں۔ اس لفظ (اُمّۃ) کے بعض دوسرے معنی بھی ہیں جو حسب موقع بیان ہوں گے۔

 ۔ ’’ اَمَّ یَؤْمُّ اِمَامَۃً‘‘ کے معنی ہیں ’’ لوگوں کے آگے چلنا اور ان کا لیڈر بننا‘‘ کہتے ہیں ’’ اَمَّ النّومَ‘‘ (اس نے لوگوں کی (نماز میں) امامت کی یا وہ لوگوں کا امام بنا) ۔ عربی میں لفظ ’’ امام‘‘ کے بھی متعدد معانی ہیں یہ بھی حسب موقع سامنے آئیں گے۔ قرآن حکیم میں ان (تینوں) افعال سے کوئی صیغہ فعل تو کہیں استعمال نہیں ہوا البتہ اس سے مشتق اور ماخوذ کلمات (امّ۔ امّۃ۔ اَمّ۔ إمام وغیرہ) مختلف صورتوں (واحد جمع مفرد مرکب) میں بکثرت وارد ہوئے ہیں جن پر اپنی اپنی جگہ بات ہوگی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

ؤ لفظ ’’ اُمِّیٌّ‘‘ (جس کی جمع ’’ اُمِّیُّون‘‘ اس وقت زیر مطالعہ ہے) اسم نسبت ہے جس کی نسبت ’’ اُمّ‘‘ سے بھی ہوسکتی ہے اور ’’ اُمَّۃ‘‘ سے بھی۔ (جیسے ’’ مکۃ‘‘ سے ’’ مَکِّیٌّ‘‘ بنتا ہے) ۔ اس لفظ (اُمّی) کے بنیادی معنی ’’ ناخواندہ یا ان پڑھ ہیں۔ یعنی جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو (ضروری نہیں کہ وہ جاہل یا نادان ہو) ۔ گویا وہ بلحاظ خواندگی ویسا ہی ہو جیسا اسے ماں نے جنا تھا یا ’’ ماں کے پاس ہی رہا کسی استاد کے پاس مدرسے وغیرہ میں نہ گیا۔‘‘

ؤ یہ لفظ (امّی) قرآن کریم میں رسول اللہ ﷺ کی صفت کے طور پر دو جگہ (الاعراف:157 ، 158) آیا ہے۔ اور ’’ اُمِّیّ‘‘ ہونا آپ ﷺ کی فضیلت اور آپ کا معجزہ اور دلیل صداقت ہے۔ ظہورِ اسلام سے پہلے اہل عرب میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس لیے عربوں کو ’’ اُمّۃ اُمِّتۃ‘‘ (ناخواندہ امت) کہا جاتا تھا اور ایک موقع پر آپؐ نے خود بھی فرمایا: ’’ نحن اُمّۃ امّیۃٌ‘‘ (ہم ناخواندہ امت ہے) ۔ اس کے علاوہ آپؐ کا ’’ امّی‘‘ ہونا ’’ ام القری‘‘ (مکہ مکرمہ) سے نسبت رکھنے والا کی بنا پر بھی ہوسکتا ہے اور ’’ امۃ امِّیّۃ‘‘ کی نسبت رکھنے والا کی مناسبت سے بھی۔

ؤ یہودی اپنے سوا باقی سب لوگوں کو ’’ امّیّون‘‘ (اُمّی لوگ) کہتے تھے (آل عمران:75) اس طرح لفظ ’’ امیون‘‘ (بصورت جمع) کہیں ’’ ناخواندہ اور اَن پڑھ لوگوں‘‘ کے بنیادی معنی میں استعمال ہوا ہے اور بعض جگہ اس سے مراد غیر اہل کتاب (Gentiles) بھی لیے جاسکتے ہیں۔

ؤ زیر مطالعہ مقام پر لفظ ’’ امِّیّون‘‘ بظاہر اپنے بنیادی معنی (ان پڑھ لوگ) میں استعمال ہوا ہے کیونکہ بلحاظِ سیاقِ عبارت اہل کتاب (یہودیوں) کے امّیّون (ان پڑھوں) کا ذکر ہے۔ اور اسی لیے بیشتر مترجمین نے یہاں اس کا ترجمہ ’ ان پڑھے: بےپڑھے: بن پڑھے: ناخواندہ اور ان پڑھ‘‘ سے کیا ہے۔

 [ لَا یَعْلَمُوْنَ الْکِتٰبَ] یہ ایک جملہ ہے۔ جس کا پہلا حصہ ’’ لایعلمون‘‘ مادہ ’’ ع ل م‘‘ سے بروزن ’’ لایَفعَلون‘‘ فعل مضارع منفی (بلا) ہے۔ جس کے باب معنی (عِلم یعلَم= جاننا) وغیرہ کی وضاحت البقرہ:13 [ 2:10:1 (3)] میں کی جاچکی ہے۔ دوسرا لفظ ’’ الکتاب‘‘ (مادہ ’’ ک ت ب‘‘ سے بروزن ’’ فِعَال‘‘) ہے ان کے معنی وغیرہ [ 2:1:1 (2)] میں بیان ہوئے تھے۔ لفظ ’’ کتاب‘‘ اردو میں مستعمل ہے۔ اس لیے اس عبارت (لایعلمون الکتاب) کا ترجمہ ’’ نہیں جانتے کتاب کو، کتاب کو نہیں جانتے، خبر نہیں رکھتے کتاب کی‘‘ اور ’’ وہ کتاب سے واقف ہی نہیں‘‘ کی صورت میں کیا گیا ہے۔ سب کامفہوم ایک ہی ہے۔ البتہ بعض نے ’’ الکتاب‘‘ کے لام تعریف کی وجہ سے ’’ خاص کتاب‘‘ کا مفہوم لے کر ترجمہ ’’ کتاب الٰہی کا کوئی علم نہیں رکھتے‘‘ یا ’’ اللہ کی کتاب کو نہ جانتے‘‘ کے ساتھ کیا ہے جو تفسیری ترجمہ ہے۔ اس ’’ لایعلمون‘‘ کا ایک اور مفہوم حصہ الاعراب میں بیان ہوگا۔

2:49:1 (2) [ اِلَّا اَمَانِیَّ] میں ’’ اِلّا‘‘ تو حرفِ استثناء ہے جس کا ترجمہ ’’ مگر: سوائے: لیکن: بغیر‘‘ سے کیا جاسکتا ہے۔

 لفظ [ اَمَانِیَّ] غیر منصرف جمع مکسر ہے (جو عبارت میں منصوب آیا ہے) اس کا ۔۔ ’’ اُمْنِیَّۃٌ‘‘ ہے جس کا مادہ ’’ م ن ی‘‘ اور وزن اصلی اس کا ’’ اُفْعُوْلَۃٌ‘‘ ہے یعنی یہ دراصل ’’ اُمُنُوْا‘‘ تھا۔ پھر ’’ و‘‘ کو بھی ’’ ی‘‘ میں بدل کر دونوں ’’ یائ‘‘ مدغم کردی جاتی ہیں اور پھر ’’ ی‘‘ سے ماقبل ضمیر کو ثقیل سمجھتے ہوئے کسرہ (-ِ) میں بدل کر لکھا اور بولا جاتا ہے (جیسے مَبیُوْع سے مَبِیْعٌ اور مَومُویٌ سے مَوْمِیٌّ بنتا ہے) یوں یہ لفظ ’’ اُمنیّۃ‘‘ بنتا ہے۔

ؤ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ مَنَی یَمْنِی مَنْیًا‘‘ (ضرب سے) آتا ہے اور اس کے بنیادی معنی ہیں ’’ کسی چیز کا اندازہ لگانا‘‘ اور اس سے اس میں ’’ آزمانا، آمائش میں ڈالنا‘‘ کے معنی پیدا ہوتے ہیں جس کو آزمایا جائے وہ تو مفعول بنفسہٖ آتا ہے اور جس چیز سے آزمایا جائے اس پر باء (ب) کا صلہ لگتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ مناۃ اللّٰہُ بِحُبِّھا‘‘ (اللہ نے اس (مرد) کو اس (عورت) کی محبت میں مبتلا کردیا یا اس کے ذریعے آزمائش میں ڈالا) ویسے ان (آزماتا اور امتحان لینا والے) معنی کے لیے یہ فعل واوی مادہ سے ’’ منا یَعْنُو مَنْوًا‘‘ بھی استعمال ہوتا ہے مگر لفظ ’’ اُمنیّہ‘‘ صرف یائی مادہ (م ن ی) سے آتا ہے۔ یہ فعل بعض صلات کے ساتھ اور صلہ کے بغیربعض دیگر معانی کے لیے بھی آتا ہے۔ تاہم قرآن کریم میں اس فعل مجرد سے کوئی صیغۂِ فعل کسی معنی کے لیے بھی استعمال نہیں ہوا۔ البتہ مزید فیہ کے ابواب تفعیل، افعال اور تفعل سے مختلف صیغے چودہ جگہ آئے ہیں اور مختلف مشتق و ماخوذ کلمات (امنیّۃ، امانی، مِنِّی، مناۃ وغیرہ) دس کے قریب مقامات پر آئے ہیں۔

 ’’ اُمنِیَّۃٌ‘‘ (جس کی جمع ’’ اَمَانِیُّ‘‘ اس وقت زیر مطالعہ ہے) کے بنیادی معنی ہیں: کسی چیز کی آرزو کرنے سے اس چیز کے بارے میں دل میں آنے والا تصور یا اندازہ‘‘ یعنی جس چیز کے بارے میں دل میں اندازے لگائے جائیں۔ اس سے لفظ میں ’’ مرکز آرزو، خیالی اندازہ، دل میں باندھے ہوئے اندازے‘‘ کا مفہوم پیدا ہوتا ہے چاہے وہ اندازہ (اور آرزو) حقیقت پر مبنی ہو یا اٹکل پر۔ بلکہ اکثر یہ لفظ ’’ اٹکل پچو اندازہ اور خیالی پلائو کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے اور یوں اس میں ’’ کذب‘‘ اور ’’ جھوٹ‘‘ کے معنی پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی جھوٹی آرزو۔ لفظ ’’ امنیۃ‘‘ (واحد) قرآن کریم میں ایک جگہ (الحج:52) اور ’’ امانی‘‘ (بصورت جمع اور مفرد مرکب معرفہ نکرہ) کل پانچ جگہ آیا ہے۔ اور اسی لفظ (امنیۃ) کا ایک معنی ’’ بے فہم تلاوت‘‘ بھی مراد لیا گیا ہے کیونکہ بقول راغب ’’ بے معرفت تلاوت‘‘ بھی تخمین و ظن (اٹکل یا اندازہ) ہی ہوتی ہے۔

 اس طرح یہاں ’’ امانی‘‘ کا ترجمہ اکثر نے تو ’’ آرزوئیں، جھوٹی آرزوئوں، بلا سند دل خوش کن باتیں، باندھی ہوئی آرزوئیں، اور خیالات باطل‘‘ کی صورت میں کیا ہے اور بعض نے دوسرے معنی کو سامنے رکھتے ہوئے ’’ زبانی پڑھ لینا‘‘ اور ’’ بڑبڑا لینا‘‘ سے ترجمہ کیا ہے۔ جب کہ بعض نے اس کا ترجمہ ’’ من گھڑت باتیں‘‘ کیا ہے جو ’’ امانی‘‘ سے زیادہ ’’ مفرّیات‘‘ (افتراء کردہ چیزیں) کا ترجمہ معلوم ہوتا ہے۔

 اس عبارت ’’ لا یعلمون الکتاب الامانی‘‘ کا ایک اور مفہوم حصہ ’’ الاعراب‘‘ میں ’’ امانی‘‘ کی نصب کے سلسلے میں بیان ہوگا۔

 [ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا یَظُنُّونَ] یہ ’’ وَ‘‘ (بمعنی اور) + اِنْ (نافیہ بمعنی ’’ نہیں‘‘) + ’’ ھُمْ‘‘ (ضمیر غائب بمعنی ’’ وہ سب‘‘) + ’’ اِلَّا‘‘ (بمعنی مگر: سوائے) ’’ یظنّون‘‘ (جس کے ترجمہ پر ابھی بات ہوگی) کا مرکب جملہ ہے۔ ’’ یظنون‘‘ (کا مادہ ’’ ظ ن ن‘‘ اور وزن ’’ یَفْعَلُونَ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد کے باب وغیرہ اور خود اسی صیغہ کے معانی کی البقرہ:46 [ 2:30:1 (4)] میں وضاحت ہوچکی ہے۔

 زیر مطالعہ عبارت میں ’’ ظن‘‘ صرف ’’ گمان اور جاہلانہ خیال‘‘ کے معنی میں ہے کیونکہ اس سے پہلے (’’ لایعلمون‘‘ میں) علم کی نفی کی گئی ہے۔ اس طرح اس عبارت (ان ھم الا یظنون) کا لفظی ترجمہ تو بنتا ہے ’’ نہیں وہ مگر گمان کرتے ہیں‘‘ بیشتر مترجمین نے بامحاورہ بنانے کے لیے ’’ ان‘‘ (نہیں) اور ’’إلّا‘‘ (مگر) کا مجموعی ترجمہ یا مفہوم ’’ محض، فقط، صرف، نرے اور ہی‘‘ کے ذریعے ظاہر کیا ہے یعنی ’’ یہ لوگ اور کچھ نہیں صرف خیالات پکا لیتے ہیں: فقط خیالی تکے چلاتے ہیں: صرف ظن سے کام لیتے ہیں: محض تخیلات میں پڑے رہتے ہیں: نرے گمان میں ہیں: گمان ہی گمان رکھتے ہیں: ان کا خیال ہی خیال ہے‘‘ کی صورت میں تراجم کیے گئے ہیں۔ اصل مفہوم ایک ہی ہے۔ عبارت کو زور دار بنانے کے لیے مختلف محاورے استعمال کیے گئے ہیں۔ فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ يَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَيْدِيْهِمْ   ۤ  ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَــمَنًا قَلِيْلًا     ۭ فَوَيْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَيْدِيْهِمْ وَوَيْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا يَكْسِبُوْنَ   79؀
[ فَوَيْلٌ: پس بربادی ہے] [ لِّلَّذِيْنَ: ان لوگوں کے لیے جو] [ يَكْتُبُوْنَ: لکھتے ہیں] [ الْكِتٰبَ: کتاب کو] [ بِاَيْدِيْهِمْ : اپنے ہاتھوں سے] [ ۤ ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ: پھر وہ کہتے ہیں] [ ھٰذَا: یہ] [ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ: اللہ کے پاس سے ہے] [ لِيَشْتَرُوْا: تاکہ وہ حاصل کریں] [ بِهٖ : اس کے عوض] [ ثَــمَنًا قَلِيْلًا ۭ: کچھ تھوری سی قیمت] [ فَوَيْلٌ: تو تباہی ہے] [ لَّھُمْ مِّمَّا : ان کے لیے اس سے جو] [ كَتَبَتْ : لکھا] [ اَيْدِيْهِمْ: ان کے ہاتھوں نے] [ وَوَيْلٌ: اور تباہی ہے] [ لَّھُمْ : ان کے لیے] [ مِّمَّا: اس سے جو] [ يَكْسِبُوْنَ: وہ کمائی کرتے ہیں]

 

 [ فویل للذین…]

 ابتدائی ’’ فائ‘‘ (ف) بمعنی ’’ پس: سو: تو: پھر‘‘ ہے دیکھئے [ 2:16:1 (1)] [ وَیْلٌ] کا مادہ ’’ و ی ل‘‘ اور وزن ’’ فَعْلٌ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد استعمال ہی نہیں ہوتا۔ مزید فیہ کے ’’ تفعیل، تفعل اور تفاعل سے فعل بمعنی ’’ کسی کو بربادی کی بددعا دینا‘‘ آتے ہیں۔ تاہم قرآن کریم میں اس مادہ سے کوئی صیغہ فعل کہیں استعمال نہیں ہوا۔ بلکہ اس مادہ سے صرف یہی کلمہ ’’ ویل‘‘ مختلف طریقوں پر قرآن کریم میں چالیس مقامات پر استعمال ہوا ہے۔

ؤ لفظ ’’ وَیْل‘‘ کے معنی ’’ تباہی، بربادی، شر، عذاب، خرابی، ذلت، رسوائی، ہلاکت اور بدبختی‘‘ ہیں۔ یہ بددعا یا اظہارِ افسوس کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کا اردو ترجمہ ’’ بڑی خرابی ہے‘‘ اور ’’ وائے افسوس ہے‘‘ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اور بعض مقامات پر مندرجہ بالا دوسرے معانی کے ساتھ بھی ترجمہ کیا جاتا ہے جیسا کہ آگے آئیں گے۔

ؤ ’’ ویل‘‘ کا استعمال کئی طرح ہوتا ہے۔

 ۔ مفرد بطورہ مبتداء عموماً نکرہ آتا ہے (نکرہ بددعا میں جائز ہے) مثلاً کہتے ہیں: ’’ وَیْلٌ لفلانٍ‘‘ (فلاں کے لیے خرابی ہے: ہو) یا یوں سمجھئے کہ جار مجرور خبر مقدم کے بعد مبتداء نکرہ (مؤخر) تھا مگر ترتیب الٹ دی گئی ہے۔ یعنی ’’ لفلانٍ ویلٌ‘‘ کو ’’ ویل لفلان‘‘ کہہ دیتے ہیں۔ اس استعمال میں یہ مرفوع ہی آتا ہے۔ اس (مفرد مرفوع) استعمال کے ساتھ یہ لفظ قرآن کریم میں 27 جگہ آیا ہے۔ اور ہر جگہ نکرہ ہی آیا ہے، صرف ایک جگہ (الانبیائ:18) یہ لفظ معرف باللام ’’ الویل‘‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ عموماً لام الجر (ل) کے ساتھ ہی استعمال ہوتا ہے۔ کبھی اس کے ساتھ ’’ ب‘‘ بھی لاتے ہیں۔ یعنی کہتے ہیں: ’’ ویل لفلان و بفلانٍ‘‘ تاہم قرآن کریم میں اس (مبتدا والے) استعمال میں یہ ہر جگہ لام الجر (لِ) کے ساتھ ہی آیا ہے۔

 ۔ کبھی مفرد مگر منصوب استعمال ہوتا ہے مثلاً کہتے ہیں: ’’ ویلاً لِفلان‘‘ اس صورت میں اس سے پہلے ایک فعل محذوف سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً ’’ ادعُو ویلا لہ‘‘ یا ’’ الزم اللّٰہ ویلا لہ‘‘ (میں اس کے لیے تباہی کو بلاتا ہوں یا اللہ اس کے لیے بربادی لازم کرے) یعنی نصب اس محذوف فعل کے مفعول بہ ہونے کے اعتبار سے آتی ہے۔ اگر اس مادہ سے اپنا فعل استعمال ہوتا (جوکہ ہے ہی نہیں) تو ’’ ویلاً‘‘ کو مفعول مطلق سمجھ سکتے تھے۔ اس لفظ کا یہ (مفرد منصوب والا) استعمال قرآن کریم میں کہیں نہیں آیا۔

 ۔ کبھی یہ مرکتب (مضاف ہوکر) منصوب آتا ہے (اس صورت میں لام الجر کی ضرورت نہیں رہتی) جیسے ’’ وَیْلَکَ آمِنْ‘‘ (الاحقاف:17) میں ہے یعنی ’’ تیرا ستیاناس ایمان لے آ‘‘ اس صورت میں بھی اس سے پہلے ایک فعل محذوف سمجھا جاتا ہے۔ یہ استعمال (مرکب منصوب والا) قرآن کریم میں تین جگہ آیا ہے۔

 ۔ کبھی یہ حرف نداء کے ساتھ منادیٰ مضاف (لہٰذا) منصوب استعمال ہوتا ہے۔ جیسے ’’ یَا وَیْلَنَا‘‘ (اے ہماری خرابی) میں ہے۔ یہ استعمال بلکہ یہی ترکیب (یاؤیلنا) قرآن کریم میں چھ جگہ آیا ہے۔

 ۔ کبھی یہ لفظ ’’ ویل‘‘ کی بجائے ’’ ویلۃ‘‘ استعمال ہوتا ہے کعب لغب میں ’’ ویلۃ‘‘ کے معنی ’’ فضیحت اور رسوائی‘‘ بتائے گئے ہیں۔ اس صورت میں بھی یہ (ویلۃ) صرف نداء کے بعد منادیٰ منصوب ہوکر ہی استعمال ہوتا ہے جیسے ’’ یاویلنا‘‘ (اے ہماری رسوائی) میں ہے یہ استعمال بلکہ یہی ترکیب (یاویلنا) قرآن مجید میں صرف ایک جگہ (الکہف:49) آیا ہے۔ البتہ ’’ یاویلتیٰ‘‘ (جو ’’ یاویلتی‘‘ کی دوسری شکل ہے) کی ترکیب بھی قرآن کریم میں تین جگہ وارد ہوتی ہے۔ ان تمام استعمالات پر مزید بات اپنے اپنے موقع پر ہوگی۔ ان شاء اللہ۔

ؤ یہاں ’’ ویل‘‘ کے بعد ’’ للذین‘‘ ہے جو دراصل ’ لام الجر (ل) + الذین‘‘ ہے۔ لام الجر کے بعد لام تعریف آئے تو املاء میں ’’ الف‘‘ ساقط ہوجاتا ہے اور دونوں لام ملا کر لکھے جاتے ہیں ’’ للذین‘‘ کا ترجمہ ہے‘‘ واسطے ان کے جو ، جس کو، ان کے لیے جو، ان کی جو، ان لوگوں کی جو‘‘ کی صورت میں بھی دی گئی ہے۔

ؤ اس طرح زیر مطالعہ عبارت (فویل للذین…) کے تراجم ’’ پس خرابی ہے ان لوگوں کی جو: سو خرابی ہے ان کی جو‘‘ کی صورت میں کیے گئے ہیں۔ اور بعض نے ’’ افسوس‘ اور ’’ وائے‘‘ کے ساتھ ترجمہ کیا ہے یعنی ’’ تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو: پس افسوس ہے ان لوگوں پر جو: پس : تو وائے ہے ان پر جو‘‘ کی شکل میں۔

 [ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ] ’’ یکتبون‘‘ کا مادہ ’’ ک ت ب‘‘ اور وزن ’’ یفعُلُون‘‘ ہے یعنی یہ اس مادہ سے فعل مجرد (کتب=لکھنا) کے باب نصر سے کا فعل مضارع صیغہ جمع مذکر غائب ہے جس کا ترجمہ زیادہ تر فعل حال کے ساتھ ’’ وہ لکھتے ہیں‘‘ کیا گیا ہے۔ بعض نے صیغہ مضارع ’’ لکھیں‘‘ ہی سے کیا ہے جو فعل امر نہیں بلکہ ’’ حال‘‘ کے معنی میں ہے۔ دوسرا لفظ ’’ الکتاب‘‘ اسی مادہ (ک ت ب) سے فِعَال بمعنی مفعول ہے یعنی ’’ مکتوب: لکھی ہوئی چیز یا تحریر‘‘ اور خود لفظ کتاب بھی اردو میں مستعمل ہے۔ اس مادہ

(ک ت ب) سے فعل کے باب اور معنی کے علاوہ خود لفظ ’’ کتاب‘‘ کی لغوی تشریح البقرہ:2 [ 2:1:1 (2)] میں دیکھئے۔

2:49:1 (4) [ بِاَیْدِیْھِم] یہ تین کلمات کا مرکب ہے۔ ابتدائی ’’ بائ(ب)‘‘ الجر بمعنی ’’ سے: کے ساتھ: کے ذریعے‘‘ ہے۔ اور آخر پر ضمیر مجرور ’’ ھم‘‘ بمعنی ’’ ان کے: اپنے‘‘ ہے اور درمیان میں وضاحت طلب کلمہ ’’ اَیْدِیْ‘‘ ہے۔ [ اَیْدِیْ] یہ جمع مکسر یہاں مجرور باء الجر اور مضاف (لہٰذا خفیف) ہے۔ اس کا واحد ’’ یدٌ‘‘ ہے جس کا مادہ ’’ ی و ی‘‘ اور وزن اصلی ’’ فَعْلٌ‘‘ ہے۔ اصلی شکل ’’ یَدْیٌ‘‘ تھی جو خلافِ قیاس یا شاید کثرت استعمال کے باعث ’’ یَدٌ‘‘ استعمال ہوتا ہے۔ حالانکہ اس طرح کے کئی کلمات (مثلاً وَحْیٌ، ھَدْیٌ، ثَدْیٌ، رَمْیٌ وغیرہ) اپنی اصلی حالت پر رہتے ہیں بہرحال اس میں تعلیل کی صورت کچھ یوں بنتی ہے: یَدْیٌ= یَدْیُنْ= یَدُیْنْ= یَدُنْ=یَدٌ۔ اس کی اعرابی صورتیں (واحد کی) یَدٌ، یَدًا اور یدٍ‘‘ ہوتی ہیں (جو دراصل یَدْیٌ یَدْیًا اور یُدْیٍ تھے) اس کا تثنیہ ’’ یدان (اور یَدَیْنِ) ہوتا ہے اور شاذ ’’ یَدیَان‘‘ بھی آتا ہے) جمع مکسر اس کی ’’ اَیْدِیٍ‘‘ (باملاء ’’ آیْدٍ‘‘) یَدِیٌّ اور آیادٍی، آتی ہے مگر قرآن کریم میں صرف مقدم الذکر جمع (ایدی) ہی استعمال ہوئی ہے۔ یہ بھی دراصل ’’ اَیْدَیٌ‘‘ (بروزن ’’ اَفْعُلٌ‘‘ ہی تھا پھر اس میں ’’ ی‘‘ کی تنوین اڑا کر ’’ د‘‘ (عین کلمہ) کے نیچے تنوین (-ٍ) دی گئی جو تنوین جر نہیں بلکہ تنوین ِ عوض ہے جیسے یائی اللام افعال باب ’’ تفعل‘‘ کے مصدر میں تبدیل ہوئی ہے۔ مثلاً تَلَقُیٍ سے تَلَقِّی اور تَرَقُیٌ سے ترقّیٍ بنتا ہے۔ گویا اَیْدُیٌ= اَیْدُیُنْ= اَیْدِیُنُ= اَیْدِیْنُ= اَیْدِنْ= اَیدٍی ہے اس کی اعرابی گردان ایدٍ، اَیدِیًا۔ اَیِدٍ (مثل قاضٍ، قاضیًا، قاضیٍ) ہے اور رفع اور جر میں مضاف یا معرف باللام ہوتے وقت ’’ اَیْدِیْ‘‘ ہوجاتا ہے (یعنی ’’ یائ‘‘ لوٹ آتی ہے) جیسے یہاں زیر مطالعہ لفظ میں ہے۔

ؤ لفظ ’’ یَد‘‘ کا ترجمہ ’’ ہاتھ‘‘ ہے۔ عربی میں یہ لفظ ’’ ہاتھ کی انگلیوں سے لے کر کندھے تک پورے بازو‘‘ کے لیے آتا ہے۔ پھر صرف انگلیوں والے حصے کو بھی ’’ یَدٌ‘‘ (ہاتھ) ہی کہتے ہیں اور انگلیوں سے کہنی تک کے حصے کو بھی۔ (جیسے المائدہ:6 میں آتا ہے) یہ اس لفظ کے حقیقی معنی ہیں (یعنی جس کے لیے دراصل زبان میں یہ لفظ بنایا گیا ہے) پھر اس سے استعارہ، تشبیہہ اور محاورے کے طور پر یہ لفظ بیس سے زیادہ معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں یہ لفظ واحد مفرد یا مکرب 21 جگہ، تثنیہ مفرد یا مرکب 33 جگہ اور جمع مفرد یا مرکب 65 جگہ آیا ہے۔

ؤ کسی عبارت میں اس لفظ کے معنی (واحد ہو یا تثنیہ یا جمع) متعین کرنے کا عام اصول تو یہ ہے کہ بنیادی طور پر تو لفظ کے حقیقی معنی ہی مراد لیے جائیں گے۔ سوائے اس کے کہ کوئی ایسا قرینہ پایا جائے جس کی بنا پر کوئی مجازی معنی لینا ضروری ہو۔ اور اس قرینہ کی موجودگی یا عدم موجودگی کے بارے میں اختلاف بلکہ بعض دفعہ گمراہی کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن کریم میں اس لفظ کے معنی مراد متعین کرنے میں لغات، زبان کے محاورے (idiom) اور سیاق سباق عبارت کے علاوہ ماثور معنی (جو نبی کریم یا آپ کے صحابہ (رض)  سے ثابت ہوں) کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے جو مستند تفاسیر میں بیان ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس لفظ کے استعمال کا تعلق کسی جگہ علم الکلام (عقائد) سے ہے اور کوئی جگہ تشریع فقہی احکام سے ہے اس لیے اس کے معنی کے تعین میں محض خواہش کی پیروی میں اس لفظ کے ڈکشنری میں دیے گئے متعدد معانی میں سے اپنی مرضی کے معنی تلاش کرنے کی کوشش ایک خطرناک کام ہے۔

ؤ پوری عبارت (یکتبون الکتاب بایدیھم) کے ترجمے (وہ لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھوں سے) میں ’’ اپنے ہاتھوں سے‘‘ کی بجائے بعض نے اردو کی بنا پر ’’ بایدیھم‘‘ (جمع) کا ترجمہ واحد سے کردیا ہے یعنی ’’ اپنے ہاتھ سے‘‘ کہ آدمی ایک ہاتھ سے ہی لکھتا ہے۔ مگر یہاں لکھنے والوں کی جمع (الذین اور یکتبون میں) کے باعث لفظ ’’ اَیْدِیْ‘‘ بصورت جمع آیا ہے (اردو میں لفظ ’’ ہاتھ‘‘ جمع کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے کہیں ’’ ان کے ہاتھ‘‘ اور بلحاظ حقیقت جمع بمعنی ’’ واحد‘‘ ہے۔

ؤ محض لکھتے ہیں ’’(یکتبون) کی بجائے ساتھ ’’ اپنے ہاتھوں سے‘‘ (بایدیھم) مزید تاکید کے لیے آیا ہے کیونکہ لکھا تو ہاتھ سے ہی جاتا ہے اور آدمی اپنے ہی ہاتھ سے لکھتا ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے اردو میں کہتے ہیں ’’ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔‘‘ یعنی ضرور دیکھا۔ ورنہ ہر شخص آنکھوں سے ہی دیکھتا اور اپنی ہی آنکھوں سے دیکھتا ہے (کسی دوسرے کی سے نہیں) ۔

 [ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ] ’’ ثُمَّ‘‘ بمعنی پھر: اس کے بعد (دیکھئے:2:20:1 (4)) اور ’’ یقولون‘‘ (وہ کہتے ہیں) کے مادہ، باب اور تعلیل وغیرہ کے لیے دیکھئے [ 2:19:1 (1)] اس فعل کے مادہ (ق و ل) سے فعل مجرد پر پہلی دفعہ البقرہ:8 [ 2:7:1 (5)] میں بات ہوئی تھی۔ اب تو اس کے متعدد صیغے گزر چکے ہیں۔

ؤ اس حصہ عبارت کا ترجمہ تو ہے، ’’ پھر وہ کہتے ہیں‘‘ جسے بیشتر مترجمین نے سیاق عبارت کے ساتھ اردو محاورے کی مطابقت کرتے ہوئے ’’ پھر کہہ دیتے ہیں‘‘ سے ترجمہ کیا ہے۔ اور بعض نے ’’ اور کہتے ہیں‘‘ سے ترجمہ کیا ہے یعنی ثُمَّ کا ترجمہ ’’ اور‘‘ سے کیا ہے جو آیت کے سابقہ مضمون کی مناسبت سے ہی درست کہا جاسکتا ہے ورنہ اصل لفظ سے تو ہٹ کر ہے بعض نے (یکتبون کی طرح) یہاں بھی مضارع (امر کے نہیں بلکہ) حال ہی کے معنی دیتا ہے۔

 [ ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہ] اس جملے کے تمام کلمات پہلے گزر چکے ہیں اگر ان کی لغوی تشریح کی ضرورت محسوس کریں تو ’’ ھٰذا‘‘ (یہ) اور دوسرے اسماء اشارہ کے لیے [ 2:1:1 (1)] ’’ مِن‘‘ (میں سے: سے) کے معنی و استعمال کے لیے ’’ بحث استعاذۃ‘‘ اور البقرۃ:3 [ 2:2:1 (5)] ’’ عِندَ‘‘ (کے پاس: کے نزدیک) ظرف کے استعمال و معانی کے لیے [ 2:34:1 (6)] کی طرف رجوع کریں۔ اسم جلالت (اللہ) کی لغوی بحث ’ بسم اللہ‘ میں گزر چکی ہے۔

ؤ اس طرح اس جملے کا لفظی ترجمہ تو بنتا ہے ’’ یہ ہے اللہ کے پاس سے‘‘ بعض مترجمین نے تو ’’ مِن‘‘ اور ’’ عِندَ‘‘ دونوں کے معنی ترجمہ میں شامل کیے ہیں یعنی ’’ یہ نزدیک اللہ تعالیٰ کے سے ہے: یہ خدا کے پاس سے ہے: یہ اللہ کے ہاں سے ہے‘‘ کی صورت میں۔ اور بعض نے اردو محاورے کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہاں ’’ عند‘‘ کا ترجمہ نظر انداز کردیا ہے یعنی ’’ یہ خدا کی طرف سے ہے‘‘ کے ساتھ ترجمہ کیا ہے۔ اور بعض نے ’’ اتری ہے: آئی ہے‘‘ کے تفسیری الفاظ کا اضافہ کردیا ہے۔ جس کی یہاں چنداں ضرورت نہ تھی۔

 [ لِیَشْتَرُوا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا] ’’ لِیَشْتَرُوْا‘‘ کا مادہ ’’ ش ری‘‘ اور وزن اصلی ’’ لِیَفْتَعِلُوْا‘‘ ہے جو دراصل ’’ لِیَشْترِبُوا‘‘ بنتا تھا پھر واو الجمع سے ماقبل والا حرف علت (ی) گرا کر اس کے ماقبل (ر) کی کسرہ (-ِ) کو ضمہ (-ُ) میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہ صیغہ ٔفعل اس مادہ سے باب افتعال کا فعل مضارع منصوب (بوجہ لام کَیْ) صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ اس مادہ اور اس سے اس باب کے فعل (اشتری لشتری= خریدنا) کے استعمال پر البقرہ:16 [ 2:12:1 (1)] ’’ ثمن‘‘ (جو یہاں منصوب آیا ہے) کے معنی (قیمت) کے علاوہ اس کے مادہ، فعل مجرد اور پھر فعل (اشتری) کے ساتھ اس کے استعمال اور اس کے ساتھ (بہ والے) ’’ بِ‘‘ کے استعمال پر بھی البقرہ:41 [ 2:28:1 (11)] میں بات گزر چکی ہے اور اسی جگہ لفظ ’’ قلیل‘‘ بمعنی ’’ تھوڑا‘‘ (جو عبارت میں منصوب آیا ہے) کے مادہ، فعل وزن وغیرہ کی بات بھی ہوئی تھی۔

ؤ اس طرح یہاں اس عبارت کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ تاکہ وہ خرید لیں اس کے ساتھ: سے تھوڑی قیمت‘‘ مختلف مترجمین نے یہاں ’’ لِیشتروا‘‘ کے تراجم ’’ تاکہ لیویں: کہ لیویں: کہ وصول کرلیں: کہ حاصل کرلیں: کہ اس کو بیچ کر لیویں‘‘ کی صورت میں کیے ہیں پھر اردو محاورے کے مطابق وہ فعل کے اس ترجمہ کو فقرے کے آخر پر لائے ہیں۔

 اسی طرح ’’ بہ‘‘ کے تراجم ’’ اس کے ذریعے سے: اس کے عوض: بدلے، اس سے: کیے ہیں۔ اور بعض نے ’’ اس پر‘‘ کیا ہے جس میں لفظ سے زیادہ محاورہ کا خیال رکھا گیا ہے اور ’’ ثمنا قلیلا‘‘ کا ترجمہ ’’ مول تھوڑا: تھوڑا مول: کچھ نقد قدرے قلیل: تھوڑے سے دام: قدرے قلیل معاوضہ‘‘ کی صورت میں کیا گیا ہے ان تراجم میں ’’ نقد‘‘ اور معاوضہ ’’ ثمن‘‘ (قیمت) کے لیے لائے گئے ہیں۔

 [ فَوَیْلٌ لَّھُمْ] ’’ وَیْل‘‘ کے معنی و استعمال پر ابھی اوپر [ 2:49:1 (3)] میں بات ہوئی ہے۔ ’’ فَ‘‘ (پس: سو) اور ’’ لَھُمْ‘‘ (ان کے لیے) کا ابتدائی ’’ لام الجر‘‘ لفظ ’’ ویل‘‘ کے مرفوع استعمال کا ایک حصہ ہے۔ یوں اس عبارت (فویل لھم) کے تراجم ’’ پس وائے ہے واسطے ان کے: سو خرابی ہے ان کو: سو بڑی خرابی آوے گی ان کو: پس افسوس ہے ان پر: سو خرابی ہے ان کے لیے: خرابی ہے ان کی‘‘ کی صورت میں کیے گئے۔ سب کا مفہوم ایک ہی ہے البتہ ’’ آوے گی‘‘ وضاحتی ترجمہ ہے۔

 [ مِمَّا کَتَبَتْ اَیْدِیْھِمْ] اس عبارت کے جملہ کلمات پہلے گزر چکے ہیں۔ ’’ مِمَّا‘‘ (جو مِنْ+مَا) ہے میں ’’ مِنْ‘‘ تعلیل (کی وجہ سے) کے معنی میں آیا ہے اور ’’ مَا‘‘ موصولہ بھی ہوسکتا ہے اور مصدریہ بھی موصولہ کی صورت میں ’’ ممَّا‘‘ کا ترجمہ ’’ اس چیز کی وجہ سے جو: اس سے کہ: اس کی بدولت جس کو: جس سے: اس کی بدولت جو‘‘ کے ساتھ کیا گیا ہے اور ’’ کَتَبَتْ‘‘ کا ترجمہ تو ہے اس (مؤنث) نے لکھا۔ مگر مَا کو مصدریہ سمجھ کر ترجمہ ’’ لکھے سے: اس لکھنے پر‘‘ کی صورت میں کیا گیا ہے ’’ ایدیھم‘‘ (جو یہاں فاعل ہوکر آیا ہے) کا ترجمہ ’’ ہاتھ ان کے: ان کے ہاتھوں نے‘‘ بنتا ہے جسے بعض نے ’’ ان کے ہاتھوں سے‘‘ کیا ہے جو لفظ سے ہٹ کر ہے۔

ؤ اس طرح زیر مطالعہ پوری عبارت (مما کَتَبت ایدیھم) کا لفظی ترجمہ تو بنتا ہے ’’ اس کی وجہ سے جو لکھا ان کے ہاتھوں نے، جسے سیاق عبارت اور سابقہ فعل ’’ یکتبون‘‘) کی مناسبت سے بعض نے فعل حال کے ساتھ ترجمہ کیا ہے یعنی ’’ اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں‘‘ ویسے بھی یہ ترجمہ ’’ یکتبون بایدیھم‘‘ کا لگتا ہے اگر حال ہی میں کرنا تھا تو بھی ترجمہ ’’ لکھتے ہیں ان کے ہاتھ‘‘ ہونا چاہیے تھا۔ اکثر مترجمین نے ’’ مَا‘‘ کو مصدریہ سمجھ کر تراجم ’’ اپنے ہاتھوں کے لکھے سے: ان کے ہاتھوں کے لکھے سے: ان کے اس لکھنے پر‘‘ کی صورت میں کیے ہیں۔ ان تراجم میں (ماسوائے آخری کے) ’’ لکھنے‘‘ کی نسبت ’’ ہاتھوں‘‘ سے ہی ہے جو اصل عبارت کا تقاضا ہے۔

 [ وَوَیْلٌ لَّھُمْ] سابقہ ’’ فویل لھم‘‘ کی طرح ہے سوائے اس کے کہ یہاں شروع میں واو عاطفہ بمعنی ’’ اور‘‘ ہے۔

2:49:1 (5) [ مِمَّا یَکسِبُوْنَ] یہاں بھی ’’ مِمَّا‘‘ (من+ما) کا ’’ مِنْ‘‘ تبعیضیہ نہیں بلکہ تعلیلیہ [ دیکھئے 2:2:1 (5)]بمعنی ’’ اس کی وجہ سے‘‘ ہے اور اسی لیے اس (مِمَّا) کا ترجمہ ’’ اس کی جو کہ: اس کی بدولت جس کو: اس لیے کہ: اس چیز سے کہ‘‘ کی صورت میں کیا گیا ہے۔

 [ یَکْسِبُوْنَ] کا مادہ ’’ ک س ب‘‘ اور وزن ’’ یَفْعِلُوْنَ‘‘ ہے ۔ فعل مجرد اس سے کَسَب… یکسِبُ کَسْبًا (ضرب سے) آتا ہے اور اس کے معنی ہیں… کو جمع کرنا، …کمانا۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ کسَب المالَ‘‘ (مال کمایا یا جمع کیا) اور ’’ کسَب الاثم‘‘ (اس نے گناہ کمایا: اٹھایا: سرلیا‘‘ اور ’’ کسَب لِاَھلہ‘‘ کا مطلب ہے ’’ اس نے اپنے گھر والوں کے لیے روزی: معاش طلب کی۔‘‘ کبھی یہ فعل دو مفعول کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً ’’ کسَب فلاناً مالاً: علماً‘‘ (اس نے فلاں کو علم یا مال حاصل کرایا۔ یعنی اس تک پہنچادیا) تاہم اس فعل کا یہ (دو مفعول والا) استعمال قرآن کریم میں نہیں آیا۔

ؤ اس فعل میں بنیادی طور پر تو ’’ کسی نفع بخش شے کے حصول کی کوشش۔ یا خوش نصیبی حاصل کرنے کی کوشش‘‘ کا مفہوم ہوتا ہے۔ تاہم کبھی یہ ’’ نفع کی بجائے نقصان اٹھا بیٹھنے‘‘ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کا استعمال نیکی بدی دونوں کے آتا ہے۔ قرآن کریم میں اس کا زیادہ استعمال ’’ بدی‘‘ کے لیے آیا ہے۔ یہ متعدی فعل ہے اور اس کا مفعول بنفسہ (منصوب) آتا ہے۔ البتہ بعض دفعہ مفعول محذوف (غیر مذکور) ہوتا ہے۔ زیادہ تر استعمال اس کا ’’ مَا‘‘ کے ساتھ آیا ہے یعنی دراصل ’’ ما‘‘ مفعول ہوتا ہے جو فعل سے پہلے مذکور ہوتا ہے۔ اور فعل کے بعد اس (مَا) کے لیے عائد ضمیر (مفعول) محذوف ہوتی ہے۔ جیسے یہاں زیر مطالعہ آیت میں ہے (گویا اصل تھا ’’ ممّا یکسبونہ‘‘)

ؤ اس طرح اس عبارت ’’ ممّا یکسبون‘‘ کا ترجمہ بنتا ہے ’’ بوجہ اس کے جو کہ وہ کماتے ہیں‘‘ جسے بعض نے ’’ ایسی کمائی کرتے ہیں: حاصل کرتے ہیں: کام کرتے ہیں‘‘ کے ساتھ ترجمہ کیا ہے۔ اور بہت سے مترجمین نے یہاں ’’ مَا‘‘ کو مصدریہ سمجھ کر ترجمہ ’’ اپنی کمائی سے: اس کمائی سے: اس کمائی پر: اپنی کمائی: اپنی اس کمائی‘‘ کی صورت میں کیا ہے۔ اس میں ’’ سے‘‘ اور ’’ پر‘‘ دراصل ’’ کی وجہ سے‘‘ (مِنْ) کا مفہوم رکھتے ہیں۔ بعض نے ماضی کے ساتھ ترجمہ کیا ہے (وصول کرلیا کرتے تھے) جو اصل عبارت کے مطابق درست معلوم نہیں ہوتا۔

2:49:2 الإعراب

 بلحاظ ترکیب نحوی زیر مطالعہ قطعہ آیات کو چھ جملوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جن میں سے بعض ’’ واو الحال‘‘ اور ’’ ثم عاطفہ‘‘ کے ذریعے باہم ملائے گئے ہیں۔ تفصیل یوں ہے:

 ۔ وَمنھم اُمّیُّون لا یَعلمُون الکِتبَ اِلّا امانِیَّ

 [ وَ] عاطفہ ہے جو مضمون کے تسلسل کے لیے جملے کو جملے سے ملاتی ہے [ منھم] جار مجرور (من+ھم) مل کر خبر مقدم کا کام دے رہے ہیں اور [ اُمِّیُّوْن] مبتداء موخر (لہٰذا) مرفوع ہے اور یہ نکرہ موصوفہ ہے جس میں ’’ جو کہ‘‘ کا مفہوم ہوتا ہے (یعنی ان میں سے کچھ یا بہت سے اَن پڑھ جو کہ) [ لایعلَمون] فعل مضارع معروف مع ضمیر الفاعلین (ھم) ہے اور [ الکتاب] اس فعل کا مفعول بہ (لہٰذا) منصوب ہے علامت نصب آخری ’’ بائ‘‘ کی فتحہ (بَ) ہے۔ یہ جملہ (لایعلمون الکتابَ) ’’ امّیّون‘‘ (نکرہ موصوفہ) کی صفت ہے اس لیے اسے محلاً مرفوع کہہ سکتے ہیں (یعنی جو نہیں جانتے کتاب کو) [ اِلّا] حرف استثناء ہے اور [ امانِیَّ] مستثنیٰ بالا ہے اور یہ استثنا منقطع ہے کیونکہ ’’ علم الکتاب‘‘ اور ’’ امانِیَّ‘‘ دو بالکل الگ چیزیں ہیں اس لیے یہاں ’’ امانِیْ‘‘ کی نصب لازمی ہے (چاہے استثناء سے پہلے جملہ منفی بھی ہے) یعنی ’’ ان کے پاس‘‘ علم کتاب نہیں بلکہ صرف (جھوٹی آرزوئیں ہیں‘‘ اس عبارت (لایعلمون الکتابَ اِلّا امانِیَّ) کی ایک اور توجیہ بھی ہوسکتی ہے کہ فعل ’’ عِلم‘‘ کو یہاں دو مفعول کے ساتھ آنے والا فعل سمجھا جائے جیسے ’’ اِن عَلِمْتمُوھُن مومناتٍ‘‘ (الممتحنہ:10) میں استعمال ہوا ہے۔ (یعنی اگر تم ان عورتوں کو ایمان والیاں جانو: سمجھو) اس صورت میں ترجمہ ہوگا ’’ وہ نہیں جانتے: سمجھتے کتاب کو مگر صرف آرزوئوں کا مجموعہ‘‘ گویا وہ ایسے جاہل ہیں کہ کتاب الٰہی کو مجموعہ اوامر و نواہی (جن پر عمل مطلوب ہے) نہیں بلکہ محض ’’ مجموعہ اور اردو وظائف‘‘ ہی سمجھتے ہیں جو ’’ دل خوش رکھنے کا سامان‘‘ ہے۔

 ۔ وان ھم الایظنون

 [ وَ] یہاں حالیہ ہے اور [ اِنْ] نافیہ بمعنی ’’ مَا‘‘ [ ھم] ضمیر مرفوع منفل مبتداء ہے۔ [ اِلَّا] حرف استثناء ہے جو یہاں حصر کے لیے آیا ہے کیونکہ اس سے پہلے نفی (اِنْ) آتی ہے یعنی یہ بمعنی ’’ صرف و محض‘‘ آیا ہے کیونکہ ’’ نہیں ہے مگر‘‘ مل کر ’’ صرف‘‘ کا مفہوم دیتا ہے [ یظنّون] فعل مضارع معروف مع ضمیر فاعلین ’’ ھم‘‘ (مستتر) جملہ فعلیہ بن کر ’’ ھم‘‘ مبتداء کی خبر ہے۔ دراصل تو یہاں لفظ ’’ قوم‘‘ خبر مقدر ہے جس کی صفت ’’ یظنون‘‘ ہے یعنی مفہوم عبارت ’’ وَاِنَّ ھم اِلّا قومٌ یظنون‘‘ (حالانکہ وہ صرف ایسے لوگ ہیں جو ظن میں مبتلا ہیں) ہے اور یہ پورا جملہ (وان ھم الّا یظنون) حالیہ ہے جو سابقہ جملے کے فعل ’’ لایعلمون‘‘ کی ضمیر فاعلین (ھم) کا حال ہونے کی بناء پر اسی سابقہ جملے (ومنھم امیون لایعلمون الکتاب الا امانی) کا ہی ایک حصہ شمار ہوگا کیونکہ حال ذوالحال ایک جملے میں شامل ہوتے ہیں۔ چاہیں تو ایک دفعہ اس جملے (وأن ھم الا یظنون) کے تراجم پر (حصہ اللغۃ میں) نظر ڈال لیں۔

 ۔ فویل للذین یکتبون الکتاب بایدیھم

 [ فَ] یہاں مستانفہ ہے یعنی یہاں سے ایک الگ جملہ اور الگ مضمون شروع ہوتا ہے یا اس ’’ فائ‘‘ کو سببیہ بھی سمجھا جاسکتا ہے یعنی ’’ اس کی وجہ سے‘‘ کے معنی میں۔ [ ویل] مبتداء (لہٰذا) مرفوع ہے جو یہاں بدعا کے لیے آیا ہے اور دعا یا بددعا کی صورت میں مبتداء نکرہ لایا جاسکتا ہے جیسے ’’ سلامٌ علیکم‘‘ میں ہے [ للذِین] لام الجر (لِ) کے بعد ’’ الذین‘‘ اسم موصول ہے جو مبنی ہے لہٰذا مجرور بالجر ہونے کے باوجود اس میں کوئی اعرابی علامت ظاہر نہیں ہے۔ اس کے بعد [ یکتبون] فعل مضارع معروف مع ضمیر الفاعلین ’’ ھم‘‘ ہے جو ’’ الذین‘‘ کے لیے ہے اور یہ جملہ فعلیہ (یکتبون) اس ’’ الذین‘‘ کا صلہ ہے بلکہ یہ صلہ آگے چلتا ہے یعنی صلہ والا جملہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔ چنانچہ آگے [ الکتاب] اسی فعل (یکتبون) کا مفعول بہ (لہٰذا) منصوب ہے [ بایدیھم] میں باء الجر (بِ) کے بعد ’’ ایدی‘‘ مضاف اور ’’ ھم‘‘ مضاف الیہ ہے اور یہ مرکب اضافی (ایدیھم) باء الجر کے باعث اس کا مضاف (ایدی) مجرور ہے علامت جر اس میں آخری یاء ماقبل مکسور (-ِی) کا سکون ہے (جو دراصل ’’ بِایْدِھِمْ‘‘ تھا مگر یاء مکسور یا مضموم ماقبل مکسور ساکن ہو جاتی ہے) اور یہ مرکب جاری (بایدیھم) متعلق فعل ’’ یکتبون‘‘ ہے اور اس طرح دراصل پورا جملہ ’’ یکتبون الکتابَ بایدیھم‘‘ (جس میں فعل فاعل مفعول اور متعلق فعل شامل ہیں) ’’ الذین‘‘ کا صلہ بنتا ہے۔ اور یوں یہ پورا صلہ موصول ابتدائی لام الجر (لِ) کے ذریعے ’’ ویلٌ‘‘ کی خبر کا کام دیتا ہے۔ اس جملے کے تمام اجزاء کے تراجم حصہ ’’ الغۃ‘‘ میں بیان ہوچکے ہیں۔

 ۔ ثم یقولون ھذا من عند اللہ لیشتروا بہ ثمنا قلیلا

 [ ثُمَّ] عاطفہ ہے سج کے ذریعے ما بعد والے فعل (یقولون) کو سابقہ جملے والے فعل (یکتبون) پر عطف کیا گیا ہے یعنی ’’ لکھتے ہیں پھر کہہ دیتے ہیں‘‘ [ یقولون] فعل مضارع معروف مع ضمیر الفاعلین ’’ ھم‘‘ ہے [ ھذا] مبتداء ہے اور [ مِنْ عندِ اللّٰہ] میں ’’ مِن‘‘ حرف الجر اور ’’ عندہ‘‘ ظرف مضاف اور مجرور بالجر (مِنْ) بھی ہے اور ’’ اللّٰہ‘‘ مجرور بالاضافہ یعنی مضاف الیہ ہے اور یہ سارا مرکب جاری (من عندِ اللّٰہِ) ’’ ھذا‘‘ کی خبر یا قائم مقام خبر ہے۔ اور یہ جملہ اسمیہ (ھذا من عند اللّٰہ) فعل ’’ یقولون‘‘ کا مقول (مفعول) ہونے کے اعتبار سے محلاً منصوب ہے [ لیشتروا] کا ابتدائی لام (لِ) لامِ کَیْ یا لامِ تعلیل ہے جس کی وجہ سے ’’ لیشتروا‘‘ فعل مضارع منصوب ہے (لامِ تعلیل کے بعد ایک ’’ أنْ‘‘ مقدر سمجھا جاتا ہے اور دراصل وہی ناصب ہوتا ہے یعنی ’’ لِاَن‘‘) علامت نصب اس صیغۂ فعل میں آخری ’’ ن‘‘ کا گر جانا ہے (جو دراصل ’’ لیشترون‘‘ تھا) اور اس صیغہ میں واو الجمع ضمیر الفاعلین (ھم) کی علامت ہے۔ [ بہ] جار مجرور (ب+ہ) متعلق فعل (لیشتروا) ہیں [ ثمنًا] اس فعل کا مفعول بہ (لہٰذا) منصوب ہے اور [ قلیلاً] اس کی صفت (منصوب) ہے اس طرح ’’ ثم‘‘ کے ذریعے یہ دونوں جملے (نمبر 3، نمبر 4 مندرجہ بالا) دراصل ایک ہی طویل جملہ (بلحاظ مضمون مربوط) بنتا ہے۔

 ۔ فویل لھم مما کتبت ایدیھم

 [ ف] یہاں بھی استیناف کے لیے ہے یعنی یہاں سے ایک الگ جملہ شروع ہوتا ہے۔ اور اسی لیے سابقہ جملے کے آخر پر (ثمنا قلیلا کے بعد) وقف مطلق کی علامت (ط) ڈالی جاتی ہے [ ویلٌ] سابقہ جملے (نمبر 3 مندرجہ بالا) کی طرح یہاں بھی مبتدأ ہے (نکرہ ہونے کا جواز بھی اوپر بیان ہوا ہے) یہاں بددعا کی تکرار تاکید (لفظی) کے لیے ہے۔ [ لھم] جار مجرور مل کر ’’ ویل‘‘ کی خبر کا کام دے رہے ہیں [ مِمَّا] جو جار (من) اور مجرور (مَا موصولہ) ہیں۔ ان کا تعلق بھی ’’ ویل‘‘ سے ہے یعنی ’’ ویل‘‘ (تباہی) اس سبب سے ہے کہ [ کتبتْ] فعل ماضی معروف صیغۃ واحد مؤنث غائب ہے۔ [ ایدیھِمْ] مضاف (ایدِیْ) اور مضاف الیہ (ھم) مل کر فعل ’’ کتبتْ‘‘ کا فاعل ہے اس لیے ’’ ایدی‘‘ یہاں حالت رفع میں ہے۔ مگر اس منقوص میں رفع اور جر کی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ یا یوں سمجھئے کہ یہ دراصل ’’ اَیْدِیْھُمْ‘‘ تھا مگر یائے مضمومہ (اور یائے مکسورہ بھی) کا جب ماقبل مکسور ہو تو وہ ساکن ہو جاتی ہے (جیسے ’’ یَرْمِنٌ‘‘ سے ’’ یَرْمِْ‘‘ ہو جاتا ہے) اور فاعل (ایدی) کے جمع مکسر ہونے کی وجہ سے فعل (کتبت) کا صیغۃ واحد مؤنث لایا گیا ہے۔ یہاں ’’ مِمَّا‘‘ کے ’’ مَا‘‘ کو موصولہ بھی سمجھا جاسکتا ہے اس صورت میں جملہ ’’ کتبتْ ایدیھم‘‘ اس کا صلہ ہے اور ترجمہ ’’ اس کی وجہ سے جو کہ (لکھا ان کے ہاتھوں نے) ہوگا۔ اور اس ’’ مَا‘‘ کو مصدریہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ اس صورت میں ’’ کتبت‘‘ کا ترجمہ مصدر مووّل ’’ کتابۃ‘‘ کے ساتھ (یعنی ’’ من کتابۃ ایدیھم‘‘ کی طرح ’’ ان کے ہاتھوں کے لکھنے کی وجہ سے‘‘ کے ساتھ ہوگا۔ دونوں طرح کے تراجم حصہ ’’ اللغہ‘‘ میں بیان ہوچکے ہیں۔

 ۔ وَویلٌ لھم مما یَکسِبُون

 [ وَ] عاطفہ ہے جس سے (اگلے) جملے کا (پچھلے) جملے پر عطف ہے [ وَیْلٌ] مثل سابق مبتداء (لہٰذا) مرفوع ہے نکرہ ہونے کی وجہ اوپر بیان ہوئی ہے [ لھم] جار مجرور (ل+ھم) مل کر ’’ ویلٌ‘‘ کی خبر کا کام دے رہے ہیں [ مِمَّا] جار مجرور (من+ما) کا تعلق ’’ ویل‘‘ سے ہے یعنی اس کی وجہ بیان کی گئی ہے [ یکسِبُون] فعل مضارع معروف مع ضمیر الفاعلین ’’ ھم‘‘ (مستتر) ہے یعنی جملہ فعلیہ ہے اور یہاں بھی اگر ’’ مِمَّا‘‘ کے ’’ مَا‘‘ کو موصولہ سمجھا جائے تو یہ (یکسبُون) اس کا صلہ ہے اور اس کے آخر پر ضمیر عاید محذوف ہے (یعنی مفہوم ’’ یکسبونہ‘‘ کا ہے) اور اگر ’’ مِمَّا‘‘ کے ’’ مَا‘‘ کو مصدریہ سمجھیں تو ترجمہ مصدر مَووّل ’’ کَسْب‘‘ کے ساتھ ’’ من کسبِھم‘‘ کی طرح کیا جائے گا۔ دونوں طرح سے تراجم حصہ ’’ اللغۃ‘‘ میں گزر چکے ہیں۔ یہ آخری جملہ ’’ وَ‘‘ عاطفہ کے ذریعے سابقہ جملے (نمبر 5) کا ہی ایک حصہ بنتا ہے یعنی دونوں کے ترجمے کے درمیان ’’ اور‘‘ کا ہی اضافہ ہوگا۔

2:49:3 الرسم

 قطعہ زیر مطالعہ کے تمام کلمات کا رسم املائی اور رسم عثمانی یکساں ہے۔ البتہ تین کلمات وضاحت طلب ہیں۔ یعنی ’’ الکتب‘‘، ’’ مِمَّا‘‘ اور ’’ ھذا‘‘ کلمہ ’’ الکتاب‘‘ جس کا رسم املائی ’’ الکتاب‘‘ ہے۔ (جو یہاں دو دفعہ آیا ہے) قرآن مجید میں ہر جگہ (سوائے چار خاص مقامات کے) بحذف الف بعد التاء لکھا جاتا ہے معرفہ ہو یا نکرہ اور مفرد ہو یا مرکب۔ ’’ مِمَّا‘‘ (یہ بھی یہاں دو دفعہ ہے) یہ دراصل ’’ من‘‘ ہے مگر قرآن میں عموماً ہر جگہ موصول (ملا کر) ’’ مِمَّا‘‘ لکھا جاتا ہے ان دونوں کلمات (الکتاب اور مِمَّا) کے رسم پر تفصیلی بحث [ 2:1:3] میں ہوچکی ہے۔

ؤ کلمہ ’’ ھذا‘‘ کا رسم الخط اس لحاظ سے قابل ذکر ہے کہ اس کا رسم عثمانی اور عام رسم املائی دونوں اسی طرح بحذف الالف بعد الہاء (یعنی ’’ ھذا‘‘) ہے (حالانکہ بظاہر رسم قیاسی ’’ ھاذا‘‘ ہونا چاہیے تھا) ۔ اس طرح کے بعض کلمات (مثلاً ذٰلک۔ اولئک وغیرہ) پہلے بھی گزر چکے ہیں اور آئندہ بھی ایسے کئی کلمات ہمارے سامنے آئیں گے جن کا رسم املائی عام قیاسی رسم کی بجائے۔ رسم قرآن والا ہی اختیار کیا گیا۔ یعنی ان کا رسم املائی دراصل رسم عثمانی کی یادگارہ ہے۔ اور یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اصل چیز رسم قرآنی یا رسم عثمانی (عہد نبوی اور خلافت راشدہ تک کا رائج رسم الخط) ہی تھا۔ اس میں بعض اصطلاحات یا تبدیلیاں کرکے رسم املائی کے قواعد بنائے گئے۔ یہ نہیں کہ رسم املائی کو توڑ مروڑ کر (کسی مصلحت کے تحت) رسم عثمانی بنایا گیا۔ جیسا کہ عام طور پر کتب رسم میں بیان کیا جاتا ہے۔ عربی زبان میں بہت سے کلمات ایسے ہیں جن کی املاء (رسم) صوتی اصول کے تحت نہیں۔ بلکہ تاریخی اصول کے تحت اختیار کی گئی ہے۔

2:49:4 الضبط

 ان دو آیات کے کلمات میں ضبط کا تنوع درج ذیل مثالوں سے سمجھا جاسکتا ہے۔ یکساں ضبط والے کلمات شامل نہیں کیے گئے۔ وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً      ۭ  قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗٓ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 80۝
[ وَقَالُوْا: اور ان لوگوں نے کہا] [ لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ: ہرگز نہیں چھوئے گی ہم کو آگ] [ اِلَّآ: مگر] [ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً: گنے ہوئے چند دن] [ ۭ قُلْ: آپ کہیے] [ اَتَّخَذْتُمْ: کیا تم لوگوں نے لیا] [ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا: اللہ کے پاس کوئی وعدہ] [ فَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ: تو اللہ خلاف نہیں کرے گا] [ عَهْدَهٗٓ: اپنے وعدہ کے] [ اَمْ تَقُوْلُوْنَ: یا تم لوگ کہتے ہو] [ عَلَي اللّٰهِ مَا: اللہ پر وہ جو] [ لَا تَعْلَمُوْنَ: تم لوگ نہیں جانتے] بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّاَحَاطَتْ بِهٖ خَطِيْۗــــَٔــتُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ   ۚ   ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ  81۝
[ بَلٰى: کیوں نہیں] [ مَنْ كَسَبَ: جس نے کمائی] [ سَيِّئَةً: کوئی برائی] [ وَّاَحَاطَتْ: اور احاطہ کیا] [ بِهٖ: اس کا] [ خَطِيْۗــــَٔــتُهٗ: اس کی خطا نے] [ فَاُولٰۗىِٕكَ: تو وہ لوگ] [ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ : آگ والے ہیں] [ ھُمْ: وہ لوگ] [ فِيْهَا: اس میں] [ خٰلِدُوْنَ: ہمیشہ رہنے والے ہیں] وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ    ۚ   ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ  82؀ۧ
[ وَالَّذِيْنَ: اور جو لوگ] [ اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ: اور عمل کیے بھلے] [ اُولٰۗىِٕكَ: وہ لوگ] [ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ : جنت والے ہیں] [ ھُمْ فِيْهَا: وہ لوگ اس میں] [ خٰلِدُوْنَ: ہمیشہ رہنے والے ہیں] وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ ۣوَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْـنًا وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ  ۭثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْكُمْ وَاَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ 83؀
[ وَاِذْ اَخَذْنَا: اور جب ہم نے لیا] [ مِيْثَاقَ: پختہ عہد] [ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ: بنواسرائیل] [ لَا تَعْبُدُوْنَ: تم لوگ بندگی نہیں کرو گے] [ اِلَّا اللّٰهَ ۣ: مگر اللہ کی] [ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا: اور والدین سے حسن سلوک کرو جیسا احساسن کا حق ہے] [ وَّذِي الْقُرْبٰى: اور قرابت داروں سے] [ وَالْيَتٰمٰى: اور یتیموں سے] [ وَالْمَسٰكِيْنِ: اور مسکینوں سے] [ وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ: اور تم لوگ بات کرو لوگوں سے] [ حُسْـنًا: بھلائی کی] [ وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ: اور قائم کرو نماز کو] [ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ۭ: اور پہنچاؤ زکات کو] [ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ: پھر تم لوگوں نے منہ موڑا] [ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْكُمْ: سوائے تم میں سے چند کے] [ وَاَنْتُمْ: اور تم لوگ] [ مُّعْرِضُوْنَ: منہ موڑنے والے ہو] وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَاۗءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ ثُمَّ اَقْــرَرْتُمْ وَاَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ  84؀
[ وَاِذْ اَخَذْنَا: اور جب ہم نے لیا] [ مِيْثَاقَكُمْ: تم لوگوں سے پختہ عہد] [ لَا تَسْفِكُوْنَ: تم لوگ نہیں بہاؤ گے] [ دِمَاۗءَكُمْ: اپنوں کے خون] [ وَلَا تُخْرِجُوْنَ: اور تم لوگ نہیں نکالو گے] [ اَنْفُسَكُمْ: اپنوں کو] [ مِّنْ دِيَارِكُمْ: اپنے گھروں سے] [ ثُمَّ اَقْــرَرْتُمْ: پھر تم نے اقرار کیا] [ وَاَنْتُمْ: اس حال میں کہ تم لوگ] [ تَشْهَدُوْنَ: گواہی دیتے ہو یعنی اب بھی مانتے ہو۔] ثُمَّ اَنْتُمْ ھٰٓؤُلَاۗءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُوْنَ فَرِيْـقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِيَارِھِمْ    ۡ تَظٰھَرُوْنَ عَلَيْهِمْ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۭوَاِنْ يَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْھُمْ وَھُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ ۭاَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاۗءُ مَنْ يَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُرَدُّوْنَ اِلٰٓى اَشَدِّ الْعَذَابِ ۭ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ  85؀
[ ثُمَّ اَنْتُمْ: پھر تم ] [ ھٰٓؤُلَاۗءِ: وہ لوگ ہو] [ تَقْتُلُوْنَ: کہ قتل کرتے ہو] [ اَنْفُسَكُمْ: اپنوں کو] [ وَتُخْرِجُوْنَ: اور تم نکالتے ہو] [ فَرِيْـقًا مِّنْكُمْ: ایک فریق کو اپنوں میں سے] [ مِّنْ دِيَارِھِمْ ۡ : ان کے گھروں سے] [ تَظٰھَرُوْنَ: باہم مل کر چڑھائی کرتے ہو] [ عَلَيْهِمْ: ان پر] [ بِالْاِثْمِ: گناہ سے] [ وَالْعُدْوَانِ ۭ: اور دشمنی سے] [ وَاِنْ يَّاْتُوْكُمْ: اور اگر وہ لوگ آتے ہیں تمہارے پاس] [ اُسٰرٰى: قیدی ہو کر] [ تُفٰدُوْھُمْ: تو تم لوگ بدلہ دے کر چھڑاتے ہو ان کو] [ وَھُوَ: اور بات یہ ہے کہ ] [ مُحَرَّمٌ: حرام کیا گیا ہے] [ عَلَيْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ: تم لوگوں پر ان کا نکالنا] [ ۭاَفَتُؤْمِنُوْنَ: تا کیا تم لوگ ایمان لاتے ہو] [ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ: کتاب کے اک حصے پر] [ وَتَكْفُرُوْنَ: اور انکار کرتے ہو] [ بِبَعْضٍ ۚ: ایک حصے کا] [ فَمَا جَزَاۗءُ مَنْ: تو کیا ہے بدلہ اس کا جو] [ يَّفْعَلُ ذٰلِكَ: کرتا ہے یہ] [ مِنْكُمْ: تم میں سے] [ اِلَّا خِزْيٌ: اسوائے اس کے کہ رسوائی ہے] [ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ: دنیوی زندگی میں] [ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ: اور قیامت کے دن] [ يُرَدُّوْنَ: وہ لوگ لوٹائیں جائیں گے] [ اِلٰٓى اَشَدِّ الْعَذَابِ ۭ: سخت ترین عذاب کی طرف] [ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ: اور اللہ غافل نہیں ہے] [ عَمَّا: اس سے جو] [ تَعْمَلُوْنَ: تم لوگ کرتے ہو۔] اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا بِالْاٰخِرَةِ ۡ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ  86؀ۧ
[ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے] [ اشْتَرَوُا: خریدا] [ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا: دنیوی زندگی کو] [ بِالْاٰخِرَةِ: آخرت کے بدلے] [ ۡ فَلَا يُخَفَّفُ: تو کم نہیں کیا جائے گا] [ عَنْهُمُ الْعَذَابُ: عذاب کو ] [ وَلَا ھُمْ: اور نہ ہی وہ لوگ] [ يُنْصَرُوْنَ: مدد دئیے جائیں گے] وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَقَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ ۡ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۭ اَفَكُلَّمَا جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ ۚفَفَرِيْقًا كَذَّبْتُمْ ۡوَفَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ  87؀
[ وَلَقَدْ اٰتَيْنَا: اور بےشک ہم نے دیا] [ مُوْسَى الْكِتٰبَ: موسیٰ کو کتاب (یعنی تورات] وَقَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ: اور ہم نے بھیجا ان کے بعد] [ بِالرُّسُلِ ۡ: رسولوں کو] [ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ: اور ہم نے دیا عیسیٰ بن مریم کو] [ الْبَيِّنٰتِ: روشن دلیلیں یعنی معجزات] [ وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۭ: اور ہم نے تقویت دی ان کو پاکیزگی کی روح یعنی جبرایل سے] [ اَفَكُلَّمَا: تو کیا (ایسا نہیں ہوا کہ ( جب بھی] [ جَاۗءَكُمْ: آیا تمہارے پاس] [ رَسُوْلٌۢ : کوئی رسول] [ بِمَا لَا تَهْوٰٓى: اس کے ساتھ جو نہیں چاہتے ] [ اَنْفُسُكُمُ: تمہارے جی] [ اسْتَكْبَرْتُمْ: تو تم لوگوں نے گھمنڈ کیا] [ ۚفَفَرِيْقًا: پس ایک فریق کو] [ كَذَّبْتُمْ ۡ: تم نے جھٹلایا] [ وَفَرِيْقًا: اور ایک فریق کو] [ تَقْتُلُوْنَ: قتل کرتے ہو] وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ۭ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِھِمْ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ  88؀
[ وَقَالُوْا: اور انہوں نے کہا] [ قُلُوْبُنَا: ہمارے دل] [ غُلْفٌ ۭغلاف میں بند ہیں] [ بَلْ: (ہرگز نہیں) بلکہ] لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ: اللہ نے رحمت سے دور کیا ان کو] [ بِكُفْرِھِمْ: ان کے کفر کے سبب سے] [ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ: تو وہ لوگ تھوڑا سا ایمان لاتے ہیں] وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ ۙ وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ښ فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ ۡ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ  89؀
وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ: اور جب آئی ان کے پاس] [ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ: اللہ کے پاس سے ایک تصدیق کرنے والی کتاب] [ لِّمَا مَعَھُمْ ۙ: اس کی جو ان کے ساتھ ہے] [ وَكَانُوْا: اس حال میں کہ وہ لوگ] [ مِنْ قَبْلُ: اس سے پہلے] [ يَسْتَفْتِحُوْنَ: فتح مانگا کرتے تھے] [ عَلَي الَّذِيْنَ: ان پر جنہوں نے] [ كَفَرُوْا ښ: کفر کیا] [ فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ: تو جب آیا ان کے پاس] [ مَّا عَرَفُوْا: وہ جس کو انہوں نے پہچانا] [ كَفَرُوْا بِهٖ ۡ: تو انہوں نے انکار کیا اس کا] [ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ: تو اللہ کی رحمت سے دوری ہے] [ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ: انکار کرنے والوں پر] بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖٓ اَنْفُسَھُمْ اَنْ يَّكْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْيًا اَنْ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ  ۚ فَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰي غَضَبٍ ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ  90۝
[ بِئْسَمَا اشْتَرَوْا: کتنا برا ہے وہ انہوں نے جو خریدا] [ بِهٖٓ: جس کے بدلے] [ اَنْفُسَھُمْ: اپنے نفس کو] [ اَنْ يَّكْفُرُوْا: کہ وہ لوگ انکار کرتے ہیں] [ بِمَآ: اس کا جسے] [ اَنْزَلَ اللّٰهُ: اللہ نے اتارا] [ بَغْيًا: سرکشی کرتے ہوئے] [ اَنْ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ: کہ اللہ اتارتا ہے] [ مِنْ فَضْلِهٖ: اپنے فضل میں سے] [ عَلٰي مَنْ: جس پر] [ يَّشَاۗءُ: وہ چاہتا ہے] [ مِنْ عِبَادِهٖ ۚ: اپنے بندوں میں سے] [ فَبَاۗءُوْ: پس وہ لوگ لوٹے] [ بِغَضَبٍ عَلٰي غَضَبٍ ۭ: غضب پر غضب کے ساتھ] [ وَلِلْكٰفِرِيْنَ: اور کافروں کے لیے] [ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ: ایک ذلیل کرنے والا عذاب] وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَاۗءَهٗ ۤ وَھُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَھُمْ ۭ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِيَاۗءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ   91۝
[ وَاِذَا: اور جب کبھی ] [ قِيْلَ لَھُمْ: کہا جاتا ہے ان سے] [ اٰمِنُوْا: تم لوگ ایمان لاؤ] [ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ: اس پر جو اتارا اللہ نے] [ قَالُوْا: تو وہ لوگ کہتے ہیں] [ نُؤْمِنُ: ہم ایمان لاتے ہیں] [ بِمَآ اُنْزِلَ: اس پر جو اتارا گیا] [ عَلَيْنَا: ہم پر] [ وَيَكْفُرُوْنَ: درآں حالاں کہ] [ بِمَا: اس کو جو] [ وَرَاۗءَهٗ ۤ: اس کے بعد ہے] [ وَھُوَالْحَقُّ: وہ کل کا کل حق ہے] [ مُصَدِّقًا: تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے] [ لِّمَا: اس کی جو] [ مَعَھُمْ ۭ: ان کے ساتھ ہے] [ قُلْ فَلِمَ: آپ پوچھیے تو پھر کیوں] تَقْتُلُوْنَ: تم لوگ قتل کیا کرتے تھے] [ اَنْۢبِيَاۗءَ اللّٰهِ: اللہ کے نبیوں کو] [ مِنْ قَبْلُ: اس سے پہلے] [ اِنْ كُنْتُمْ: اگر تم لوگ ہو] [ مُّؤْمِنِيْنَ: ایمان لانے والے] وَلَقَدْ جَاۗءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَيِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ  92۝
وَلَقَدْ جَاۗءَكُمْ : اور آچکے تمہارے پاس ] [ مُّوْسٰى : موسی] [ بِالْبَيِّنٰتِ: واضح نشانیوں کے ساتھ] [ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ: پھر تم لوگوں نے بنایا] [ الْعِجْلَ : بچھڑے کو الہ] [ مِنْۢ بَعْدِهٖ : ان کے بعد] [ وَاَنْتُمْ : اور تم لوگ] [ ظٰلِمُوْنَ: ہو ہی ظلم کرنے والے]

 

 اللغۃ

 زیر مطالعہ پورے قطعہ میں (جو دو آیات پر مشتمل ہے) لغوی تشریح کے لیے ایک بھی نیا لفظ نہیں ہے۔ تمام کلمات بلا واسطہ (یعنی اپنی موجودہ ہی شکل میں) جو اس قطعہ میں آتی ہے) یا بالواسطہ (یعنی مادہ و اشتقاق کی اصل کے لحاظ سے) پہلے گزر چکے ہیں۔ تاہم چونکہ ہمارا ایک کام یا مقصد موجودہ اردو تراجم کا تقابلی مطالعہ (لغوی و نحوی بنیاد سمجھانے کے لیے) کرنا بھی ہے۔ اس لیے ہم ذیل میں ان آیات کو نحوی لحاظ سے موزوں اکائی بننے والے چھوٹے چھوٹے جملوں میں تقسیم کرکے ہر ایک جملہ کے کلمات کا صرف ترجمہ مع گزشتہ حوالہ (برائے طلب مزید) لکھ کر ہر ایک جملے کے آخر پر تراجم کا تقابلی مطالعہ بھی کریں گے۔

ؤ [ وَلَقَدْ جَآئَ کُمْ مُوْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ]

 ۔ ’’ وَ‘‘ (اور) [ 2:7:1 (1)] ’’ لَ‘‘ (ضرور) لام مفتوحہ کے لیے دیکھئے [ 2:41:1 (6)] ’’ قَدْ‘‘ (تحقیق بےشک) دیکھئے [ 2:38:1 (8)] بعض نے تو ’’ لَقَدْ‘‘ کا ترجمہ ’’ البتہ‘‘ تحقیق ہی کیا ہے، بعض نے دونوں (لَ +قد) میں زور اور تاکید کا مفہوم سامنے رکھتے ہوئے صرف ’’ بے شک‘‘ سے ہی ترجمہ کیا ہے اور بیشتر حضرات نے اردو محاورے میں اس کا ترجمہ لانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ البتہ اگلے فعل ’’ جاء کم‘‘ کا ترجمہ اس طرح کردیا ہے۔ (مثلاً آچکا) کہ ’’ لقد‘‘ کا مفہوم بھی اس میں آجاتا ہے۔

 ۔ ’’ جاء کم‘‘ اس کے آخر پر توضمیر منصوب ’’ کُم‘‘ ہے جس کا یہاں ترجمہ ’’ تم کو‘‘ کی بجائے ’’ تمہارے پاس‘‘ کرنا پڑتا ہے کیونکہ فعل ’’ جائ‘‘ (آیا) کا تقاضا یہی ہے اور فعل ’’ جائ‘‘ کے مادہ (ج ی ئ) اور وزن (فعل) کے معنی (آنا) وغیرہ کی وضاحت البقرہ:71 [ 2:44:1 (14)] میں کی جاچکی ہے۔

 ۔ ’’ موسیٰ‘‘ نام ہے ایک عظیم الشان پیغمبر کا۔ اس لفظ کی اصل کے لیے دیکھئے [ 2:33:1 (2)]

 ۔ ’’ بِالبیّنٰت‘‘ کی ابتدائی باء (ب) وہ صلہ ہے جو فعل ’’ جائ‘‘ کو متعدی بنانے کے لیے لگتا ہے، یعنی ’’ جائ‘‘= آیا اور ’’ جاء ب… =… کو لایا‘‘ (دراصل ’’… کے ساتھ آیا‘‘ ) بیشتر مترجمین نے اس ’’ آنا‘‘ ’’…کے ساتھ آنا‘ اور ’’ لانا‘‘ تینوں کے مفہوم کو جمع کرتے ہوئے ’’ جاء کم بِ…‘‘ کا ترجمہ ہی ’’ لے کر آیا‘‘ (اور احتراماً) ’’ لے کر آئے‘‘ کی صورت میں کیا ہے جو عمدہ ترجمہ ہے۔

ؤ کلمہ ’’ البینات‘‘ (برسم املائی) کے مادہ (ب ی ن) اور اس سے فعل مجرد وغیرہ پر تو البقرہ:68 [ 2:43:1 (6)] میں بات ہوئی تھی۔ اور خود اِسی لفظ ’’ بینات‘‘ (جو جمع مؤنث سالم ہے) کی ساخت اور وزن و معانی پر [ 2:53:1 (3)] میں بات ہوچکی ہے۔ اس کے اصل معنی تو ہیں ’’ واضح اور کھلی دلیلیں‘‘ اس لیے اس کا ترجمہ ’’ صریح معجزے‘‘ ’’ صاف صاف دلیلیں‘‘، ’’ کھلے نشان‘‘، ’’ کھلی نشانیاں‘‘، ’’ کھلے ہوئے معجزات‘‘ اور ’’ کھلے ہوئے نشان‘‘ کی صورت میں کیا گیا ہے۔ سب کا مفہوم ایک ہی ہے، بس لفظوں کا انتخاب اپنا اپنا ہے۔

ؤ [ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِہٖ]

 ۔ ’’ ثُمَّ‘‘ (پھر) پہلی دفعہ البقرہ:28 [ 2:2:1 (4)] میں گزرا ہے۔

 ۔ ’’ اتَّخَذْتُمُ‘‘ (تم نے پکڑا۔ بنا لیا) کے مادہ (أخ ذ) سے فعل مجرد کے باب اور معنی وغیرہ [ 2:31:1 (5)] میں گزرے۔ اور ’’ اِتَّخَذْتُمْ‘‘ جو بلحاظ وزن ’’ اِفْتَعَلْتُمْ‘‘ ہے (مگر اس کا ہمزہ الوصل تلفظ سے گر گیا ہے) کہ باب (افتعال) کے معنی و استعمال پر البقرہ:51 [ 2:33:1 (5)] میں مفصل بات ہوچکی ہے۔

 ۔ ’’ العِجْلَ‘‘ (بچھڑا - گوسالہ) کی مزید لغوی تشریح چاہیں تو دیکھئے البقرہ:51 [ 2:33:1 (6)]

 ۔ ’’ مِنْ بَعْدِہٖ‘‘ کا ’’ بعد‘‘ (پیچھے) تو اردو میں بھی رائج ہے، مزید چاہیں تو دیکھئے [ 2:33:1 (7)] ’’ مِن بعدہ‘‘ (اس کے بعد - کے پیچھے) سے مراد ’’ ان کی غیر حاضری میں‘‘ ہے۔ ویسے یہی پورا جملہ ’’ ثم اتخذتم العجل من بعدہ‘‘ البقرہ:51 (2:33:1) میں گزر چکا ہے۔ اس کے مزید تراجم وغیرہ وہاں دیکھ لیجئے۔

ؤ [ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ] ’’ اور تم ظلم کرنے والے (تھے : ہو)‘‘ بعینہٖ یہی عبارت البقرہ:51 [ 2:33:1] میں گزر چکی ہے اور اس کے مختلف تراجم (جن میں ’’ ظالم‘‘ کی بجائے ’’ بے انصاف‘‘ اور جملہ اسمیہ کی بجائے جملہ فعلیہ سے ترجمہ کرنے پر بھی بات ہوئی تھی) وہیں بیان ہوئے ہیں۔ وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ ۭخُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاسْمَعُوْا ۭ قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا ۤ وَاُشْرِبُوْا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِھِمْ ۭ قُلْ بِئْسَمَا يَاْمُرُكُمْ بِهٖٓ اِيْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ   93؀
[ وَاِذْ اَخَذْنَا: اور جب ہم نے لیا] [ مِيْثَاقَكُمْ: تم سے پختہ عہد] [ وَرَفَعْنَا: اور ہم نے بلند کیا] [ فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ: تمہارے اوپر کوہ طور کو] [ ۭخُذُوْا: کہ تم لوگ پکڑو] [ مَآ اٰتَيْنٰكُمْ: اس کو جو ہم نے دیا تم کو] [ بِقُوَّةٍ: عمل کی قدرت سے] [ وَّاسْمَعُوْا ۭ: اور تم لوگ سنو] [ قَالُوْا: انہوں نے کہا] [ سَمِعْنَا: ہم نے سنا] [ وَعَصَيْنَا ۤ : اور ہم نے نافرمانی کی ] [ وَاُشْرِبُوْا: اور پلادی گئی] [ فِيْ قُلُوْبِهِمُ: ان کے دلوں میں] [ الْعِجْلَ: بچھڑے کی محبت] [ بِكُفْرِھِمْ ۭ : ان کے کفر کے سبب ] [ قُلْ بِئْسَمَا: آپ کہہ دیجیے کتنا برا ہے وہ] [ يَاْمُرُكُمْ بِهٖٓ: تم کو حکم دیتا ہے جو] [ اِيْمَانُكُمْ: تمہارا ایمان] [ اِنْ كُنْتُمْ : اگر تم لوگ ] [ مُّؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے ہو]

 

 [ وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ]

 ۔ ’’ وَاِذ‘‘ (اور جب - یاد کرو جب) ’’ اِذ‘‘ کے لیے دیکھئے [ 2:21:1 (1)]

 ۔ ’’ اَخَذْنَا‘‘ (ہم نے پکڑا - لیا) اصل فعل مجرد کے مادہ وزن وغیرہ پر البقرہ:48 [ 2:31:1 (5)] میں بات ہوئی تھی۔

 ۔ ’’ میثاقکم‘‘ لفظ ’’ میثاق‘‘ (جو یہاں ضمیر مجرور ’’ کم‘‘ (تمہارا) کی طرف مضاف ہے) کے مادہ (و ث ق) سے فعل مجرد وغیرہ کی بات کے علاوہ خود اسی لفظ ’’ میثاق‘‘ کے وزن (مِفْعال) اور شکل اصلی (مِوْثاق) مع تعلیل وغیرہ کی بحث :27 [ 2:19:1 (14)] میں تفصیل کے ساتھ ہوچکی ہے اور وہیں میثاق کے معنی (عہد وغیرہ) پر بھی بات ہوئی تھی۔ ’’ میثاقکم‘‘ ’’ تمہارا عہد‘‘ اور مراد ہے ’’ تم سے عہد (لیا)‘‘ اور بعینہٖ یہی جملہ (واذ اخذنا میثاقکم) پہلی دفعہ البقرہ:63 [ 2:41:1] میں مع تراجم وغیرہ گزر چکا ہے۔

ؤ [ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ] یہ پورا جملہ اسی طرح پہلی دفعہ البقرہ:63 [ 2:41:1] میں زیر بحث آچکا ہے جہاں ’’ رفع یرفع‘‘ (اٹھانا) ’’ فوق‘‘ (اوپر) اور ’’ الطور‘‘ (پہاڑ) کی لغوی بحث کے علاوہ اس جملہ کے تراجم بھی مذکور ہوئے ہیں۔ مزید بحث آگے ’’ الاعراب‘‘ میں آئے گی۔

ؤ [ خُذُوْا مَآاٰتَیْنَکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاسْمَعُوْا] اس کا ابتدائی (خذوا ما آتینکم بقوۃٍ) بعینہٖ اسی طرح پہلی دفعہ البقرہ:63 [ 2:41:1] میں گزر چکا ہے، جہاں اس کے کلمات مثلاً ’’ خذوا‘‘ کے مادہ (اخ ذ) اور اس کے وزن اور باب فعل کے معنی (لینا۔ پکڑنا) ’’ مَا‘‘ (موصولہ بمعنی جو کہ: جو کچھ کہ) اور آتیناکم (برسم املائی) کے فعل ’’ آتینا‘‘ (ہم نے دیا) کے مادہ (أت ی) باب افعال سے اس کے استعمال (اَتی یُؤتی) کے طریقے، نیز لفظ ’’ قوۃ‘‘ کے مادہ (ق وو) وغیرہ پر بات ہوئی تھی۔ اور اس کے مختلف تراجم اور ان کی وجہ بھی زیر بحث آئی تھی۔ صرف آخری لفظ ’’ واسمعوا‘‘ وہاں نہیں آیا تھا۔ تاہم اس لفظ ’’ اِسْمَعُوْا‘‘ (جس کا وزن ’’ اِفْعَلُوْا‘‘ یعنی صیغہ امر ہے اور ابتدائی ’’ و‘‘ تو عاطفہ ہے) کے مادہ (س م ع) سے فعل مجرد کے معنی (سننا) پر یوں تو [ 2:6:1 (3)] میں کلمہ ’’ سَمْعٌ‘‘ کے ضمن میں بھی بات ہوئی تھی اور خاص فعل مجرد پر [ 2:47:1 (3)] میں دوبارہ بحث گزری ہے۔ اس طرح یہاں ’’ واسمعوا‘‘ کا ترجمہ (باقی جملے کے تراجم کا حوالہ اوپر دے دیا گیا ہے۔) ’’ اور تم سنو‘‘ اور یہی ترجمہ سب نے کیا ہے، صرف ایک صاحب نے ’’ مان لو‘‘ سے ترجمہ کیا ہے جو بلحاظ مفہوم درست بھی سمجھا جائے مگر اصل عبارت سے بہت دور ہے اور اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں تھی۔

ؤ [ قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا]

 اس جملے کے تینوں کلمات (قالو۔ سَمعنا اور عصینا) کے مادے تو پہلے گزر چکے ہیں بلکہ مادہ کے ساتھ ہی ان کے فعل مجرد کے باب اور معنی وغیرہ پر بھی بات ہوچکی ہے (اور یہاں یہ تینوں فعل مجرد کے صیغے ہی ہیں)

 ۔ مثلاً ’’ قالوا‘‘ کے مادہ (ق و ل) کے فعل ’’ قال یقول‘‘ (کہنا) پر تو البقرہ:8 [ 2:7:1 (5)] میں کلمہ ’’ یقول‘‘ کے سلسلے میں بات ہوئی تھی اور خود اسی لفظ (قالوا) کے مادہ باب، وزن اور تعلیل وغیرہ پر [ 2:9:1 (4)] کے بعد بات ہوچکی ہے۔ (یعنی انہوں نے کہا: وہ بولے: کہنے لگے وغیرہ)

 ۔ ’’ سَمِعْنَا‘‘ کا فعل سمِعَ یَسمَع (سننا) [ 2:6:1 (3)] میں زیر بحث آچکا ہے۔ اس کا ترجمہ ہے ’’ ہم نے سنا۔ سن لیا‘‘

 ۔ ’’ عَصَیْنَا‘‘ یہ صیغہ فعل جس کا مادہ (ع ص ی) اور وزن ’’ فَعَلْنَا‘‘ ہے۔ اس کے فعل مجرد (عَصَی یَعْصِی) کے باب اور معنی (نافرمانی کرنا، …کے حکم پر عمل نہ کرنا۔ بجا نہ لانا) وغیرہ پر بھی البقرہ:61 [ 2:39:1 (18)] میں مفصل بات ہوچکی ہے۔

ؤ یوں اس عبارت کا لفظی ترجمہ بنا ’’ انہوں نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی‘‘ اسی مفہوم کو ’’ ہم نے سنا اور نہ مانا‘‘، ’’ سنا ہم نے اور مانا نہیں‘‘ سے بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ بعض نے یہاں ضرورتاً ’’ وَ‘‘ کا ترجمہ ’’ مگر‘‘ یا ’’ لیکن‘‘ سے کیا ہے (یعنی اردو محاورے کی خاطر) مثلاً ’’ ہم نے سن تو لیا مگر ہم نے مانا نہیں‘‘ اور ’’ ہم نے سن تو لیا لیکن دل نہیں مانتا‘‘ یا (زبان سے کہا)’’ ہم نے سنا تو سہی لیکن ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے‘‘ یا ’’ انہوں نے زبان سے کہہ دیا کہ ہم نے سن لیا اور ان سے عمل نہ ہوگا۔‘‘ کی صورت میں ترجمے کیے ہیں۔ تمام تراجم کا خلاصہ مطلب یہی بنتا ہے کہ ظاہراً بات قبول کی مگر اس پر عمل نہ کرسکے کیونکہ نیت ہی خراب تھی۔ آج ہم اسلام اور قرآن کے ظاہری نعروں اور دعووں کے ساتھ اپنے انفرادی اور اجتماعی عمل سے جو کچھ ظاہر کررہے ہیں وہ بعینہٖ ’’ سمعنا و عَصَینا‘‘ کی تصویر ہے۔

 خیال رہے کہ عربی زبان کے محاورے کے مطابق جب کسی بات یا حکم کو سن کر، سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہونے، اسے بجا لانے کا بھی اقرار اور اظہار کرنا ہو تو کہتے ہیں ’’ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا‘‘ (ہم نے سنا اور بجا لائے) یا ’’ اَلسمعَ والطاعۃ‘‘ (ہمارا کام ہی سن لینا اور پھر عمل کرنا ہے) اردو میں ایسے موقع پر عموماً ’’ جی۔ بہت اچھا۔ ٹھیک ہے جناب‘‘ وغیرہ کے الفاظ بولے جاتے ہیں جس سے اسی بات کا اظہار مقصود ہوتا ہے کہ ’’ ہم نے آپ کی بات سن لی اور سمجھ بھی لی ہے اور اس کے مطابق عمل بھی کریں گے۔‘‘ - چونکہ موقع پر زبان سے تو ’’ عصینا‘‘ (ہم نہیں مانتے) کھل کر کوئی نہیں کہے گا اس لیے وضاحتی کلمات ’’ زبان حال‘‘ یا شامل معنی ’’ عمل نہ کرنا‘‘ کے ساتھ ترجمہ کیا گیا ہے۔ ’’ سمعنا واطعنا‘‘ کے استعمال پر مزید بات البقرہ:285 میں ہوگی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

ؤ [ وَاُشْرِبُوْا فِی قُلُوْبِھِمُ الْعِجْلَ بِکُفْرِھِمْ]

 اس حصہ آیت کے تمام کلمات کے اصل مادے (اور بعض دفعہ اصل کلمات بھی) پہلے اپنی اپنی جگہ زیر بحث آچکے ہیں تاہم بلحاظ موجودہ استعمال کے کم از کم ایک لفظ ’’ اشرِبوا‘‘ نیا ہے (اسی لیے یہاں اس کو نمبر برائے حوالہ بھی دیا گیا ہے) اور اسی لیے ہم پہلے اسی کو زیر بحث لاتے ہیں، باقی کلمات کا صرف ترجمہ (اور صاحب ضرورت کے لیے) گزشتہ حوالہ ذکر کرنا کافی ہوگا۔

2:57:1 (1) [ اُشْرِبُوْا] کا مادہ ’’ ش ر ب‘‘ اور وزن ’’ اُفْعِلُوْا‘‘ ہے اس مادہ سے فعل مجرد ’’ شیب یَشرَب‘‘ کے باب اور معنی (پینا) وغیرہ پر البقرہ:60 [ 2:38:1 (10)] میں بات ہوچکی ہے۔

ؤ زیر مطالعہ لفظ ’’ اُشْربوا‘‘ اس مادہ سے باب افعال کا فعل ماضی مجہول صیغہ جمع مذکر غائب ہے اس باب سے فعل ’’ اَشْرَبَ یُشرِبُ اِشْرابًا‘‘ کے بڑے اور بنیادی معنی تو ہیں ’’ پلانا۔ پلا کر سیراب کردینا۔ یا کسی کو پینے پر لگا دینا (جعلہ یشرَب) تاہم یہ فعل متعدد معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نیز یہ فعل لازم متعدی دونوں طرح آتا ہے۔ مثلاً

 ۔ بطور فعل لازم اس کے معنی ہیں ’’ جی بھر کر پی لینا یا سیراب ہوجانا‘‘ (یعنی ’’ رَویَ‘‘) اور اسی کے معنی ہیں ’’ پیاس لگنا یا پیاسا رہ جانا‘‘ (یعنی ’’ عَطِش‘‘) گویا یہ بطور فعل لازم لغت اضداد میں سے ہے۔ پھر اس کے مفہوم میں خود کسی آدمی کا ’’ سیراب ہونا‘‘ یا ’’ پیاسا ہونا‘‘ بھی آتا ہے اور اس کے اونٹوں وغیرہ کا بھی مثلاً ’’ اَشْرَبَ الرجلُ‘‘ کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ آدمی سیراب ہوگیا یا اسے پیاس لگی‘‘ اور یہ بھی کہ ’’ اس آدمی کے اونٹ سیراب ہوگئے یا پیاسے رہے یعنی ’’ الابل‘‘ (اونٹ) کا لفظ لگائے بغیر اس فعل کے یہ معنی ہوتے ہیں۔

ؤ زیادہ تر یہ فعل متعدی استعمال ہوتا ہے اور اس میں بھی یہ کئی معنی کے لیے آتا ہے مثلاً:

 ۔ اس کے مشہور اور بنیادی معنی (جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے) ’’…کو خوب پلانا یا کسی کو پینے پر لگا دینا‘‘ ہیں۔ اس کا مفعول بنفسہٖ آتا ہے مثلاً کہتے ہیں ’’ اَشْرَبَہُ‘‘ (اس نے اسے خوب پلایا، سیراب کردیا۔)

 ۔ یہ ’’ مقید‘‘ کرنا اور ’’ گلے میں رسی ڈالنا‘‘ کے معنی بھی دیتا ہے مثلاً کہتے ہیں ’’ اَشْرَبَ الابل‘‘ (اس نے اونٹوں کو (کسی جگہ) مقید کردیا) اور ’’ اَشْرَبَ الخیلَ‘‘ (اس نے گھوڑوں کے گلے میں رسیاں ڈالیں یعنی باندھ دیے)

 ۔ یہ فعل ’’ رنگ کو گہرا کردینا‘‘ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ اَشرَب اللونَ‘‘ (اس نے رنگ کو مزید بڑھادیا۔ گہرا کردیا۔ پھیلا دیا۔)

 ۔ کبھی یہ دو مفعول کے ساتھ استعمال ہوتا ہے، مثلاً کہیں گے ’’ اَشرَبَ البیاضَ حُمْرَۃً‘‘ (اس نے رنگ کی سفیدی میں سرخی ملا دی یا نمایاں کردی) اسی استعمال سے نبی کریم ﷺ کے حلیہ مبارک میں حضور ﷺ کے چہرہ کا رنگ بیان کرتے ہوئے (حدیث میں) آیا ہے ’’ ابیضُ مُشْرَبٌ حُمْرۃً‘‘ (سفید رنگ کہ پلایا ہوا تھا سرخی یعنی نمایاں سرخی مایل سفید رنگ) اور اسی مفہوم میں کہتے ہیں ’’ اَشْرَبَ الثوبَ حُمْرۃً‘‘ (اس نے کپڑے کے رنگ پر سرخی چڑھا دی۔ یعنی کپڑے کو پلا دی یا اس میں نمایاں کردی) اور ابھی اوپر بیان کردہ ’’ رسی ڈالنا‘‘ والے مفہوم کو دو مفعول کے ساتھ یوں ظاہر کرتے ہیں ’’ اَشْربَ فلانًا الحبْلَ‘‘ (اس نے فلاں کی گردن میں رسی ڈالی) خیال رہے اس استعمال میں ’’ گردن‘‘ کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں رہتی) جیسے اوپر کی مثال ’’ اَشرَبَ الخیلَ‘‘ میں رسی یا گردن کا ذکر ضروری نہیں بلکہ خود سمجھا جاتا ہے۔

 ۔ کبھی اس فعل کا استعمال بطور مجہول ہوتا ہے مثلاً مندرجہ بالا کپڑے کے رنگنے والے مضمون کو یوں بھی بیان کرسکتے ہیں۔ ’’ اَشْرِبَ الثوبُ حُمْرَۃً‘‘ (کپڑے کو سرخی پلائی گئی یعنی اس میں سرخ رنگ نمایاں کردیا گیا) یا مثلاً کہتے ہیں ’’ یُشْرِبُ الثوبُ الصِیغَ‘‘ (کپڑے کو رنگ خوب پلایا یا جذب کرایا جاتا ہے یعنی رنگ سے سیراب کیا جاتا ہے ) اور اسی سے کہتے ہیں ’’ اُشْرِبَ فلانٌ حُبَّ فلانَۃٍ‘‘ (فلاں مرد کو فلاں عورت کی محبت پلا دی گئی یعنی اس سے سیراب کردیا گیا یا سرشار کردیا گیا)

ؤ زیر مطالعہ عبارت میں اس کلمہ ’’ اُشْرِبُوا‘‘ کے معنی اوپر بیان کردہ معانی میں سے (خوب پلانا) (رسی سے باندھ دینا) اور کسی حد تک (رنگ گہرا کردیان) والے - مراد لیے جاسکتے ہیں۔ استعمال اس کا یہاں 5 والا یعنی بطور مجہول ہے ہم اس پر ابھی مزید بات کریں گے پہلے زیر مطالعہ عبارت کے باقی کلمات کے لغوی پہلو اور معنی کی بات کرلیں۔

ؤ ’’ فی قلوبِھم‘‘ (ان کے دلوں میں) -- بعینہٖ یہی ترکیب (جازی) پہلی دفعہ البقرہ:10 [ 2:8:1 (6)] میں سامنے آئی تھی۔

 ’’ العِجْل‘‘ (بچھڑا) مزید چاہیں تو دیکھ لیجئے البقرہ:51 [ 2:33:1 (6)]

 ’’ بکفرھم‘‘ (بسبب ان کے کفر (انکار) کے) ’’ باء سببیہ‘‘ کے لیے دیکھیے البقرہ:45 [ 2:30:1 (1)] ’’ کُفْر‘‘ جو مصدر ہے اور اردو میں مستعمل ہے اس کے فعل مجرد کے استعمال وغیرہ پر چاہیں تو البقرہ:6 [ 2:5:1 (1)] دیکھ لیجئے۔

ؤ یوں اس زیر مطالعہ جملہ (وأشربُوا فی قلوبھم العجل بکفرھم) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ اور وہ خوب پلائے گئے (یا ان کو پلا دیا گیا) اپنے دلوں میں بچھڑا بسبب ان کے کفر کے‘‘ یا ’’ اور وہ باندھ دیے گئے اپنے دلوں میں بچھڑا بوجہ اپنے کفر کے۔‘‘ چونکہ بچھڑا تو پلانے کی چیز ہے اور نہ اس کے گلے میں رسی ڈال کر دل میں اس کا کھونٹا گاڑا جاسکتا ہے اس لیے عربی اور اردو دونوں کے محاورے میں یہاں ’’ بچھڑا‘‘ نہیں بلکہ بچھڑے کی محبت (حُبُّ العجل) مراد ہے۔ یعنی اس عبارت کی سادہ نثر (مقدر) کچھ یوں بنتی ہے۔ ’’ واُشربوا حُبُّ العجل فی قلوبھم بکفرھم‘‘ اسی لیے بعض حضرات نے اس کا ترجمہ ہی کیا ہے۔ ’’ پلائی گئی ان کے دلوں میں محبت (اسی) بچھڑے کی بسبب ان کے کفر کے‘‘ بیشتر مترجمین نے یہاں اردو محاورے کی خاطر فعل مجہول کا ترجمہ فعل لازم کی طرح کرلیا ہے۔ یعنی ’’ بوجہ کفر وہ بچھڑا ان کے دلوں (قلوب) میں پیوست ہوگیا تھا‘‘ یا مثلاً ’’ ان کے دلوں میں بچھڑا رچ رہا تھا‘‘ یا ’’ رچ گیا تھا بچھڑا ان کے دلوں میں‘‘ یا ’’ اور دل میں تو ان کے بچھڑے کی الفت رچ گئی تھی‘‘۔ ان تراجم میں ’’ پلائے گئے‘‘ کی بجائے اردو کا ’’ رچ جانا‘‘ ایسا لفظ ہے کہ اس کو بھی الفت یا محبت کے ذکر کے بغیر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال یہ سب تراجم ’’ خوب پلا دیا جانا‘‘ کے مفہوم میں ہیں، البتہ ’’ پیوست ہونا‘‘ والا ترجمہ ’’ مضبوطی سیب اندھ دینا‘‘ والا مفہوم رکھتا ہے جو کہ المفردات میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

ؤ اور عبارت میں لفظ ’’ حُبّ‘‘ کا نہ لانا (اگرچہ مراد وہی ہے) ایک ادبی خوبی ہے۔ عربی زبان میں جب انتہائی محبت یا انتہائی بغض کا اظہار عبارت میں کرنا چاہیں تو لفظ ’’ شراب‘‘ (پینے کی چیز) یا شرب (پینا) کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ ’’ خوب پلانا۔ سیراب کردینا۔ بھر دینا‘‘ وغیرہ کی قسم کے الفاظ میں مبالغۃ کا مفہوم ہوتا ہے۔ اگر یہاں لفظ ’’ حبُّ العجل‘‘ لایا جاتا (اگرچہ مراد یہی ہے) تو مبالغہ والی بات ہی ختم ہوجاتی۔ اب ’’ بچھڑا ہی پلا دینا‘‘ یا ’’ بچھڑا دلوں میں باندھ دیا جانا۔‘‘ کے الفاظ سے مفہوم یہ ہوگیا ہے کہ بچھڑا ان کی رگ رگ میں رچ بس گیا تھا (اس میں بچھڑے کی محبت، اس کی تعظیم، اور اس کے ادب و احترام کے شدید جذبات کا مفہوم خود بخود آجاتا ہے) یہ کون سا بچھڑا یا گوسالہ تھا؟ اس کا قصہ کسی اچھی تفسیر میں پڑھ لیجئے۔ قرآن کریم میں یہ واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ سورۃ ’’ الاعراف‘‘ میں اور اس سے بھی زیادہ سورۃ طٰہٰ میں بیان ہوا ہے۔

ؤ [ قُلْ بئْسَمَا یَأمُرُکُمْ بِہٖ اِیْمَانُکُمْ]

 تمام کلمات کے الگ الگ معنی (ترجمہ) اور مزید وضاحت کے طالب کے لیے گزشتہ حوالہ جات ذیل میں دیے جاتے ہیں۔

 ۔ ’’ قُلْ‘‘ (تو کہ دے: آپ فرمادیجئے) کے مادہ (ق و ل) سے فعل مجرد ’’ قال یقول‘‘ = کہنا) پر [ 2:7:1 (5)] میں اور خود اسی لفظ (قُلْ) کے وزن، ساخت اور تعلیل وغیرہ کے لیے دیکھئے البقرہ:80 [ 2:50:1 (4)] سے پہلے۔

 ۔ ’’ بِئْسَمَا‘‘ (کتنا برا ہے وہ جو کہ) پر مفصل بحث ابھی اوپر البقرہ:90 [ 2:55:1 (1)] میں گزری ہے۔

 ۔ ’’ یَاْمُرُکُمْ‘‘ (تم کو حکم دیتا ہے) ’’ کُمْ‘‘ (تم کو) تو ضمیر منصوب ہے اور ’’ یامُرُ‘‘ کے مادہ (أ م ر) سے فعل مجرد ’’ امَر یامُر‘‘ (حکم دینا) کے باب اور معنی و طریق استعمال پر البقرہ:27 [ 2:19:1 (16)]میں بات ہوچکی ہے۔

 ۔ ’’ بہ‘‘ (اس کے ساتھ: اس کا) ’’ با‘‘ (بِ) وہ صلہ ہے جو فعل ’’ اَمَرَ‘‘ کے مفعول بہ (جس بات کا حکم دیا جائے) پر لگتا ہے۔ اوپر کے حوالہ میں اس فعل کے طریق استعمال کو دیکھ لیجئے۔

 ۔ ’’ اِیْمَانُکُمْ‘‘ (تمہارا ایمان) لفظ ’’ ایمان‘‘ جو اردو میں رائج ہے باب افعال (مادہ امن سے) کا مصدر ہے اس باب کے معنی اور طریق استعمال پر البقرہ:3 [ 2:2:1 (1)]میں مفصل بات ہوچکی ہے۔

ؤ یوں اس پوری عبارت (قل بئسما یأمرکم بہ ایمانکم) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ کہہ دے کتنا برا ہے وہ جو کہ (کتنی بری ہے وہ چیز جو) حکم دیتا ہے تم کو اس کا (یا جس کا ) تمہارا ایمان‘‘ جس کی سلیس صورت ہے۔‘‘ (کیسی یا کتنی) بری ہے وہ (بات) جس کا حکم تمہارا ایمان تمہیں دے رہا ہے۔‘‘ یا ’’ کیا برا حکم دیتا ہے تم کو تمہارا ایمان‘‘ بعض حضرات نے غالباً مفہوم کی بنا پر (کہ ایمان کوئی شخص تو نہیں) ’’ یامرکم‘‘ کا ترجمہ ’’ سکھاتا ہے‘‘ کیا ہے، جو لفظ سے بہرحال ہٹ کر ہے، گو مفہوم درست ہے۔ اسی طرح ’’ بئس‘‘ میں جو زور ہے (کتنا ہی برا کا) بعض حضرات نے تو اس کو ’’ بہت برا، کیا برا‘‘ اور ’’ کیسی بری‘‘ سے ترجمہ کیا ہے جب کہ بعض نے صرف ’’ برا‘‘ یا ’’ بری‘‘ سے ترجمہ کیا جس میں ’’ بئس‘‘ (فعل ذم) والا زور نہیں ہے۔ ’’ ما‘‘ موصولہ بمعنی جو کہ (بئسما والا) کا ترجمہ بعض نے ’’ بات‘‘ (بری یا ’’ باتیں‘‘ (بری باتیں) اور بعض نے ’’ یہ افعال‘‘ کے وضاحتی الفاظ کے ساتھ کیا ہے اسی طرح بعض حضرات نے ’’ یامُرُ‘‘ کا ترجمہ ’’ بتاتا ہے‘‘، ’’ کی طرف لے جاتا ہے۔‘‘، ’’ تعلیم کرتا ہے‘‘، ’’ تعلیم کررہا ہے۔‘‘ کے ساتھ کیا ہے جو ظاہر ہے لفظ سے بہت ہٹ کر ہے۔ اسے صرف محاورے اور مفہوم کے اعتبار سے ہی درست کہا جاسکتا ہے۔

ؤ [ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ] (اگر ہو تم ایمان والے)

 بعینہٖ یہی جملہ ابھی اوپر البقرہ:91 [ 2:56:1] میں مع تراجم گزر چکا ہے۔ اس پر کچھ مزید بات آگے ’ الاعراب‘ میں آئے گی۔

2:57:2 الاعراب

 نحوی اعتبار سے ان آیات کو دس چھوٹے جملوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جن میں سے بعض کو حال سمجھ کر اپنے سے سابقہ جملے کا جزء بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ الگ الگ جملوں کی اعرابی تفصیل یوں ہے۔ اس میں کسی بعد والے جملے کا اپنے سے سابقہ جملے سے تعلق ہونے یا نہ ہونے کی بات بھی ساتھ ہی کردی جائے گی۔

 ۔ ’’ ولقد جاء کم موسیٰ بالبینات‘‘

 [ وَ] کو یہاں مستانفہ سمجھنا ہی موزوں ہے [ لَقد] لام مفتوحہ (ل) برائے تاکید ہے اور ’’ قد‘‘ حرف تحقیق ہے۔ [ جاء کُم] ’’ جائ‘‘ فعل ماضی معروف صیغہ واحد غائب ہے اور ’’ کم‘‘ ضمیر منصوب مفعول بہ مقدم ہے (ضمر مفعول ہو تو فاعل سے پہلے آتی ہے) [ موسیٰ] فاعل (فعل ’’ جائ‘‘ کا) لہٰذا مرفوع ہے مگر بوجہ اسم مقصور ہونے کے علامت رفع ظاہر نہیں ہے [ بالبینات] حرف الجر (بِ) اور مجرور بالجبر (البینات) مل کر متعلق فعل (جائ) ہیں۔ یا ’’ بِ‘‘ کو فعل ’’ جائ‘‘ کا صلہ برائے تعدیہ (متعدی بنانا) سمجھ لیں تو پھر ’’ بالبینات‘‘ کو مفعول (ثانی) سمجھ کر محلاً منصوب بھی کہہ سکتے ہیں۔ (یعنی لائے بینات)

 ۔ ’’ ثم اتخذتم العجل من بعدہ‘‘

 [ ثم] حرف عطف ہے جس میں ترتیب مع تراخی (ایک کام کے بعد دوسرے کام کا کچھ عرصہ کے بعد واقع ہونے) کا مفہوم ہے۔ [ اتخذتم] فعل ماضی معروف مع ضمیر الفاعلین ’’ انتم‘‘ ہے [ العجل] اس فعل کا مفعول اول ہے، دوسرا مفعول ’’ اِلٰھًا‘‘ محذوف ہے (فعل ’’ اتخذ‘‘ کے عموماً دو مفعول ہوتے ہیں) ’’ یعنی تم نے بچھڑے کو بنا لیا معبود‘‘ [ من بعد] ’’ مِنْ‘‘ جارہ اور ’’ بعد‘‘ ظرف مجرور بھی ہے اور آگے مضاف بھی ہے اور ’’ ہ‘‘ ضمیر مجرور اس ظرف کا مضاف الیہ ہے۔ اور یہ پورا مرکب جاری (من بعدہ) متعلق فعل ’’ اتخذتم‘‘ (یعنی یہ کام کب کیا؟ کا جواب ہے۔

 ۔ ’’ وانتم ظالمون‘‘

 [ وَ] یہاں حالیہ ہے [ انتم] ضمیر مرفوع منفصل مبتدأ ہے اور [ ظالمون] خبر (لہٰذا) مرفوع ہے۔ یہ جملہ اسمیہ (انتم ظالمون) یہاں واو الحال کے ذریعے جملہ حالیہ (حال) ہوکر اپنے سے سابقہ جملے (نمبر 2 مندرجہ بالا) کا ہی ایک حصہ شمار ہوگا (یعنی تم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا حالانکہ تم ظلم کررہے تھے)

 ۔ ’’ واذ اخذنا میثاقکم‘‘

 [ وَ] مستانفہ ہے [ اِذْ] ظرفیہ ہے جس سے پہلے ایک فعل (مثلاً اذکروا) محذوف سمجھا جاتا ہے [ اخذنا] فعل ماضی معروف مع ضمیر تعظیم ’’ نحن‘‘ ہے جو یہاں بطور فاعل اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ [ میثاقکم] ’’ میثاق‘‘ یہاں ’’ اخذنا‘‘ کا مفعول بہ ہے اس لیے منصوب ہے، مگر آگے مضاف ہونے کے باعث خفیف بھی ہے، اس لیے علامت نصب اب ’’ ق‘‘ کی صرف فتحہ (-َ) رہ گئی ہے۔ آخری ضمیر مجرور (کم) اس (میثاق) کا مضاف الیہ ہے اور دراصل تو یہ پورا مرکب اضافی (میثاقکم) ہی مفعول بہ ہے۔

 ۔ ’’ ورفعنا فوقکم الطور‘‘

 [ وَ] یہ واو یہاں عاطفہ بھی ہوسکتی ہے جس سے بعد والے فعل ’’ رَفَعْنَا‘‘ کا عطف سابقہ فعل ’’ اخذنا‘‘ پر ہوسکتا ہے، یعنی ’’ ہم نے یہ کام بھی کیا اور وہ کام بھی کیا‘‘ اور یہ ’’ واو‘‘ حالیہ بھی ہوسکتی ہے۔ [ رَفَعْنَا] فعل ماضی معروف ہے جس میں فاعل ضمیر ’’ نحن‘‘ مستتر ہے۔ [ فَوقکم] ’’ فوق‘‘ ظرف مکان مضاف ہے اور بوجہ ظرف ہونے کے منصوب بھی ہے۔ ’’ کم‘‘ ضمیر مجرور متصل مضاف الیہ ہے۔ [ الطور] فعل ’’ رفعنا‘‘ کا مفعول بہ (لہٰذا) منصوب ہے۔ فقرے کی سادہ نثریوں بنتی ہے ’’ ورفعنا الطور فوقکم‘‘ اس تقدیم (پہلے لانا) کی بنا پر یہاں ’’ فوقکم‘‘ میں ’’ تمہارے ہی اوپر‘‘ کا مفہوم پیدا ہوگیا ہے اور اگر ابتدائی ’’ وَ‘‘ کو حالیہ سمجھیں تو یہ جملہ (ورفعنا فوقکم الطور) سابقہ جملے (4) کے فعل کی ضمیر فاعل کا حال ہے۔ چونکہ فعل ماضی حال نہیں ہوسکتا اس لیے بعض نحوی حضرات ’’ رفعنا‘‘ سے پہلے ایک ’’ قد‘‘ مقدرہ فرض کرلیتے ہیں یعنی ’’ وقد رفعنا‘‘ (یعنی ’’ ہم نے تم سے عہد لیا اس حالت میں کہ ہم نے ’’ طور‘‘ کو تم پر بلند کردیا تھا‘‘) یہاں تک ایک بات مکمل ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں آخر پر وقف مطلق کی علامت (ط) ڈالی جاتی ہے۔

 ۔ ’’ خذوا ما اٰتیناکم بقوۃٍ واسمعوا‘‘

 [ خذوا] فعل امر صیغۃ مع مذکر حاضر ہے۔ اور اس پورے جملے سے پہلے ایک فعل (مثلاً قُلْنَا) محذوف ہے، یعنی یہ جملہ اس فعل کا مقول ہے۔ [ مَا] اسم موصول فعل ’’ خذوا‘‘ کا مفعول بہ ہے۔ لہٰذا منصوب ہے۔ یا یوں کہیے کہ یاں سے مفعول کا بیان شروع ہوتا ہے کیونکہ دراصل تو صلہ موصول مل کر ہی مفعول بنے گا۔ [ اٰتیناکم] ’’ اَتینا‘‘ فعل ماضی معروف مع ضمیر التعظیم ’’ نحن‘‘ ہے اور ’’ کم‘‘ ضمیر منصوب متصل اس فعل کا مفعول بہ ہے اور یہ جملہ فعلیہ (آتیناکم) اسم موصول ’’ مَا‘‘ کا صلہ ہے۔ [ بقوۃ] جارّ (بِ) اور مجرور (قوّۃٍ) مل کر متعلق فعل ’’ خذوا‘‘ ہیں۔ یعنی ’’ پکڑو مضبوطی کے ساتھ ‘‘ یہ اپنے سے قریبی فعل ’’ آتینا‘‘ سے متعلق نہیں قرار دیا جاسکتا کیونکہ اس طرح تو ترجمہ ہوجائے گا ’’ جو ہم نے قوت کے ساتھ تم کو دیا ہے‘‘ [ واسمعوا] کی ’’ و‘‘ عاطفہ ہے جس سے اگلے فعل (اسمعوا) کا عطف ’’ خذوا‘‘ پر ہوا ہے اور ’’ اِسْمَعُوْا‘‘ فعل امر جمع مذکر حاضر ہے۔ یہاں بھی ایک مکمل جملہ ختم ہوتا ہے اس لیے آخر پر وقف مطلق کی علامت (ط) ڈالی جاتی ہے۔

 ۔ ’’ قالوا سمعنا وعصینا‘‘

 یہ تینوں کلمات ماضی معروف کے صیغے ہیں [ قالوا] جمع مذکر غائب کا صیغۃ ہے اور [ سمعنا] جمع متکلم کا صیغہ ہے [ و] عاطفہ اور [ عَصَیْنَا] بھی ماضی جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ ’’ سمعنا و عصینا‘‘ فعل ’’ قالوا‘‘ کا مفعول ہونے کے اعتبار سے محلاً منصوب ہیں۔

 ۔ ’’ وَاُشْرِبُوا فی قلوبھم العجلَ بکفرھم‘‘

 [ وَ] مستانفہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس (اگلے) جملے میں ان لوگوں کی ایک ’’ اور‘‘ کیفیت بیان کی گئی ہے اور اس ’’ وَ‘‘ کو حولیہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے، یعنی انہوں نے یہ ’’ سمعنا‘‘ اور ’’ عصینا‘‘ اس حالت میں کہا (جب وہ بچھڑے کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ جیسا کہ آگے آرہا ہے) [ اُشربوا] فعل ماضی مجہول صیغہ جمع مذکر غائب ہے جس میں پہلا (مفعول) ’’ نائب فاعل‘‘ ضمیر ’’ ھم‘‘ مستتر ہے۔ (فعل ’’ اَشرَب‘‘ کے دو مفعول آتے ہیں ’’ جس کو پلایا‘‘ اور ’’ جو پلایا‘‘) [ فی] حروف الجر ہے اور [ قلوبھم] مضاف (’’ قلوب‘‘ جو مجرور بھی ہے اور خفیف بھی) اور مضاف الیہ (ھم) مل کر مجرور بالجبر ہیں اور یہ مرکب جاری (فی قلوبھم) متعلق فعل ’’ اشربوا‘‘ ہے۔ [ العجل] فعل ’’ اُشرِوا‘‘ کا مفعول ثانی (لہٰذا) منصوب ہے، تاہم چونکہ ’’ العجل‘‘ پلائے جانے کی چیز نہیں لہٰذا یہاں ایک مضاف محذوف ماننا پڑتا ہے یعنی مراد دراصل ’’ حبَّ العجل‘‘ ہے جو دلوں میں سرایت کرگئی تھی یا چپک کر رہ گئی تھی۔ (اس مقدر ترکیب میں ’’ نصب‘‘ لفظ ’’ حُب‘‘ کے لیے ہوگی کیونکہ العجل تو پھر مضاف الیہ ہو جائے گا) [ بکفرھم] میں ’’ بائ(ب)‘‘ تو حرف الجر ہے اور ’’ کفرھم‘‘ مرکب اضافی (کفر مضاف+ ھم ضمیر مضاف الیہ) مجرور بالجبر ہے، علامت جر لفظ ’’ کفر‘‘ کی ’’ ر‘‘ کی کسرہ (-ِ) ہے۔ یہ پورا مرکب جاری (بکفرھم) بھی متعلق فعل (اشربوا) ہے جس میں اس فعل کے سبب (بذریعہ بار سببیہ) بیان ہوا ہے۔

r قل بئسما یامرکم بہ ایمانکم

 [ قل] فعل امر صیغۃ واحد مذکر حاضر ہے [ بئسما] فعل ’’ دم‘‘ بئس اور ’’ ما‘‘ موصولہ (جو اس فعل کی تمیز بھی ہوسکتی ہے اور فاعل بھی) کا مرکب ہے۔ [ یامرکم] فعل (یامر) اور مفعول (ضمیر منصوب ’’ کم‘‘) کا مجموعہ ہے۔ [ بہ] جار (ب) مجرور (ہ) مل کر متعلق فعل ہیں یا (ب) صلہ فعل ہے جو فعل ’’ امر‘‘ کے مامور بہ پر آتا ہے اور ضمیر مجرور (ہ) اسم موصول (ما) کے لیے عاید ہے اور یوں ’’ بہ‘‘ محلاً منصوب ہے۔ اور یہ جملہ ’’ یامرکم بہ‘‘ اسم موصول ’’ ما‘‘ کا صلہ ہے اور یہ سب (صلہ موصول) مل کر ہی ’’ تمیز یا فاعل (فعل ’’ بئس‘‘ کا) بنتے ہیں [ ایمانکم] یہ مرکب اضافی (’’ ایمان‘‘ مضاف اور ’’ کم‘‘ مضاف الیہ مل کر) فعل ’’ یَامر‘‘ کا فاعل ہے، اسی لیے لفظ ’’ ایمان‘‘ مرفوع ہے۔ علامت رفع ’’ ن‘‘ کا ضمہ (-ُ) ہے کیونکہ کلمہ ایمان یہاں آگے مضاف ہونے کے باعث خفیف بھی ہوگیا ہے۔ یہ مرکب بھی ’’ ما‘‘ کے صلہ والے جملہ فعلیہ کا ہی ایک حصہ ہے۔

ان کنتم مؤمنین

 [ ان] حرف شرط ہے [ کنتم] فعل ناقص صیغۃ ماضی جمع مذکر حاضرہے جس میں اس کا اسم ’’ انتم‘‘ شامل ہے۔ [ مومنین] ’’ کنتم‘‘ کی خبر (لہٰذا) منصوب ہے، علامت نصب آخری نون (اعرابی) سے پہلے والی یاء ماقبل مکسور (-ِ ی) ہے۔ اس طرح یہ جملہ اسمیہ شرط ہے مگر اس میں جوابِ شرط محذوف ہے (مثلاً ’’ فلِمَ فعلتم ذٰلک‘‘ پھر تم نے ایسا کیوں کیا؟)

2:57:3 الرسم

 بالحاظ رسم قرآنی (عثمانی) زیر مطالعہ قطعہ آیات میں چھ کلمات قابل وضاحت ہیں، ان میں سے چار کلمات کا رسم متفق علیہ ہے اور دو کلمات کا مختلف فیہ ہے۔ فرق سمجھانے کے لیے ہم پہلے یہاں ان کلمات کو عام رسم املائی کے مطابق لکھتے ہیں جو یہ ہیں: ’’ بالبینات، ظالمون، میثاقکم، اٰتیناکم، بئسما اور ایمانکم‘‘ تفصیل یوں ہے:

 ۔ ’’ بالبینات‘‘ قرآن کریم میں یہاں اور ہر جگہ ’’ بحذف الالف بعد النون‘‘ یعنی بصورت ’’ بالبینت‘‘ لکھا جاتا ہے، بلکہ اس بارے میں رسم عثمانی کا عام قاعدہ یہ ہے کہ تمام ایسے جمع مؤنث سالم جن میں صرف ایک الف آتا ہے (جیسے ’’ بینات‘‘ ہے) یہ سب بحذف الف لکھے جاتے ہیں۔ چند کلمات کا استثناء بیان ہوا ہے جن کا ذکر اپنے اپنے موقع پر ہوگا۔

 ۔ ’’ ظالمون‘‘ یہ لفظ یہاں اور ہر جگہ ’’ بحذف الالف بعد الظائ‘‘ یعنی بصورت ’’ ظلمون‘‘ لکھا جاتا ہے۔ بلکہ اس بارے میں بھی عام قاعدہ یہ ہے کہ تمام مذکر جمع سالم (چند مستثنیات کے سوا جن کا ذکر حسب موقع ہوگا) عموماً بحذف الف ہی لکھتے جاتے ہیں۔

 ۔ ’’ میثاقکم‘‘ کے لفظ ’’ میثاق‘‘ کا رسم مختلف فیہ ہے۔ ابودائود نے اس میں الف (بعد الثائ) کا حذف بیان کیا ہے اس لیے بیشتر افریقی اور عرب ممالک کے مصاحف میں اسے بحذف الف یعنی بصورت ’’ میثاقکم‘‘ لکھا جاتا ہے، جبکہ الدانی نے اس میں خاموشی اختیار کی ہے جو اثبات الف کو مستلزم ہے، چنانچہ لیبیا میں اور برصغیر نیز ایران اور ترکی کے مصاحف میں اسے بالثبات الف بصورت ’’ میثاقکم‘‘ لکھا جاتا ہے۔ نیز دیکھئے البقرہ:27 [ 2:19:3] میں کلمہ ’’ میثاق‘‘۔

 ۔ ’’ آتیناکم‘‘ اس لفظ کے رسم میں دو باتیں قابل ملاحظہ ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کے شروع کا الف ماقبل ہمزئہ مفتوحہ (ئَ ا) صرف ایک ’’ الف‘‘ (ا) کی شکل میں لکھا جاتا ہے (دیکھئے البقرہ:4 [ 2:3:2] میں کلمہ ’’ الاخرۃ‘‘ کی بحث رسم) اور اس قسم کے کلمات کی یہ املاء رسم عثمانی اور رسم املائی میں مشرک ہے۔ دوسری بات قابل ملاحظہ یہ ہے کہ یہاں اور ہر جگہ یہ کلمہ بحذف الالف بعد النون یعنی بصورت ’’ آتینکم‘‘ لکھا جاتا ہے اور اس بارے میں بھی قاعدہ یہ ہے کہ جمع متکلم فعل ماضی کے تمام ایسے صیغے جن کے ساتھ بطور مفعول کوئی ضمیر (منصوب متصل) آرہی ہو تو ایسے تمام صیغوں میں ’’ ن‘‘ کے بعد والا الف لکھنے میں حذف کردیا جاتا ہے، اگرچہ پڑھا ضرور جاتا ہے۔

 ۔ ’’ بئسما‘‘ یہاں بھی موصول (یعنی ’’ بئس‘‘ اور ’’ ما‘‘ کو ملا کر) لکھا جاتا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے دیکھئے البقرہ:90 [ 2:55:3]میں اسی کلمہ کی بحث رسم۔

 ۔ ’’ ایمانکم‘‘ یہ کلمہ (یعنی اس مرکب کا پہلا جزئ’’ ایمان‘‘ بھی بلحاظ رسم ’’ میثاقکم‘‘ کی طرح مختلف فیہ ہے۔ الدانی نے اس کا حذف الف بیان نہیں کیا۔ اس لیے لیبیا اور مشرقی ایشیائی ممالک (برصغیر، ایران، ترکی وغیرہ) کے مصاحف میں یہ باثبات الالف بعد المیم یعنی بصورت ’’ ایمانکم‘‘ لکھا جاتا ہے، جب کہ ابودائود کی طرف منسوب تصریح کی بناء پر عرب اور بیشتر افریقی ممالک میں اسے بحذف الالف بعد المیم یعنی بصورت ’’ ایمنکم‘‘ لکھا جاتا ہے (یعنی ’’ ایمان‘‘ کی بجائے ایمٰن)

2:57:4 الضبط

 زیر مطالعہ قطعہ آیات کے کلمات کے ضبط کا تنوع زیادہ تر ساکن حرف علت (و یا ی) ہائے کنایہ، واو الجمع کے بعد والے الف الوقایہ اور الفات محذوفہ کے ضبط سے تعلق رکھتا ہے۔ جسے مندرجہ ذیل نمونوں سے سمجھا جاسکتا ہے۔ قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ   94؀
]قُلْ : آپ کہے] [ اِنْ كَانَتْ : اگر ہے] [ لَكُمُ: تمہارے لیے] [ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: آخری گھر] [ عِنْدَ اللّٰهِ: اللہ کے پاس] [ خَالِصَةً : الگ کرنے والا] [ مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ : دوسرے لوگوں سے] [ فَتَمَنَّوُا : تو تم لوگ تمنا کرو] [ الْمَوْتَ: اگر تم لوگ ہو] [ اِنْ كُنْتُمْ : اگر تم لوگ] [ صٰدِقِيْنَ: سچ کہنے والے]

 

1 اللغۃ

 اس قطعہ میں پہلی دفعہ آنے والے نئے مادے (یا ان سے بنے لفظ) تو صرف چار ہیں۔ پہلی آیت ایک مکمل شرطیہ جملہ ہے مگر اس میں بھی بیان شرط والا حصہ خاصا لمبا ہے، لہٰذا ہم اس کے الگ الگ کلمات سے بحث کرنے کے بعد اس کے ترجمہ کی بات کریں گے۔

2:58:1 (1) [ قُلْ اِنْ کَانَت لَکُمْ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ عِنْدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِنْ دُوْنِ النَّاسِ]

 ۔ ’ قُلْ‘ (تو کہہ، آپ فرما دیجئے، کہہ دیجئے) مادہ، وزن وغیرہ کی بحث کے لیے دیکھئے [ 2:50:1 (2)]

 ۔ ’ اِنْ‘ (اگر) ’ اِنْ‘ شرطیہ کے استعمال کے لیے دیکھئے البقرہ:23 [ 2:17:1 (1)]

 ۔ ’’ کانت‘‘ (تھی، ہے) یہ فعل ناقص ’’ کان یکون‘‘ کا صیغہ ماضی واحد مؤنث غائب ہے۔ اس فعل کے معنی و استعمال اور تعلیل وغیرہ پر البقرہ:10 [ 2:8:1 (10)] میں بات ہوئی تھی۔ ’’ کَانَتْ‘‘ کا وزن ’’ فَعَلْت‘‘ اور شکل اصلی ’’ کَوَنَتْ‘‘ جس میں واو متحرکہ ماقبل مفتوح الف میں بدل جاتی ہے۔ فعل کا یہ صیغہ دراصل تو ماضی کا ہے مگر شرط کی وجہ سے ترجمہ حال یا مستقبل میں کیا جائے گا۔

 ۔ ’’ لَکُمْ‘‘ (تمہارے لیے، تمہارا) لام الجر اور ضمیر مجرور کا مرکب، یہاں ’’ خبر مقدم‘‘ کے طور پر آنے کے وجہ سے ترجمہ ’’ تمہارے ہی لیے: تمہارا ہی‘‘ سے ہوگا۔

 ۔ ’’ الدارُ الاٰخِرۃُ‘‘ (آخرت کا گھر، پچھلا گھر) یہ دراصل تو مرکب توصیفی ہے مگر اردو محاورے کی بنا پر اس کا ترجمہ مرکب اضافی کی طرح کردیا گیا ہے، اگرچہ بعض نے ’’ پچھلا گھر‘‘ کے ساتھ بھی ترجمہ کیا ہے۔ اس میں لفظ ’’ الدار‘‘ کا مادہ ’’ دور‘‘ اور وزن اصلی (لام تعریف کے بغیر) ’’ فَعَلٌ‘‘ تھا۔ اصلی شکل ’’ دَوَرٌ‘‘ تھی جس میں وائو متحرکہ ماقبل مفتوح الف میں بدل کر لفظ ’’ دار‘‘ بنتا ہے جس کے معنی ہیں ’’ گھر‘‘۔ اس مادہ سے فعل مجرد کے باب اور معنی وغیرہ پر البقرہ:84 [ 2:52:1 (1)] میں کلمہ ’’ دِیار‘‘ کے سلسلے میں بات ہوئی تھی۔ ’’ دار‘‘ اسی ’’ دیار‘‘ کا واحد ہے۔ دوسرے لفظ ’’ الاٰخرۃ‘‘ کے مادہ، وزن اور اس سے فعل مجرد وغیرہ اور ’’ آخرت‘‘ کے اصطلاحی معنی پر مکمل بحث البقرہ:4 [ 2:3:1 (5)] میں کی جاچکی ہے۔ اس لفظ کا اصلی ترجمہ تو ہے ’’ سب سے پیچھے آنے والی‘‘ لفظ ’’ الدار‘‘ (گھر) چونکہ عربی میں مؤنث ہے اس لیے اس کی صفت (عربی میں تو) مؤنث ہی لائی گئی ہے۔ اردو میں لفظ ’’ گھر‘‘ مذکر ہے اس لیے ’’ الآخِرۃ‘‘ کا ترجمہ ’’ الآخِر‘‘ (مذکر) کی طرح ’’ پچھلا‘‘ کیا گیا ہے۔ تاہم اکثر نے اردو محاورے کی خاطر اس ترکیب توصیفی کا ترجمہ ترکیب اضافی کی طرح ’’ آخرت کا گھر‘‘ ہی کیا ہے، ورنہ اس کا ترجمہ تو ’’ آخری گھر‘‘ یا ’’ پچھلا گھر‘‘ ہی ہے۔ بعض نے ترجمہ ’’ عالم آخرت‘‘ کرلیا ہے، جو بہرحال فارسی کی ترکیب اضافی ہی ہے۔ قرآن کریم میں یہ دونوں کلمات اس طرح ترکیب توصیفی (الدار الاخرۃ) کی شکل میں سات جگہ آئے ہیں مگر وہ جگہ مرکب اضافی (دارُ الاخرۃِ) کی صورت میں بھی آئے ہیں جس کا لفظی ترجمہ ہی ’’ آخرت کا گھر‘‘ بنتا ہے۔

 ۔ ’’ عِندَ اللّٰہ‘‘ (اللہ کے ہاں، خدا کے نزدیک) ’’ عِندَ‘‘ پر بات [ 2:34:1 (6)] میں گزری ہے۔

 ۔ ’’ خَالِصَۃً‘‘ کا مادہ ’’ خ ل ص‘‘ اور وزن ’’ فَاعِلَۃٌ‘‘ ہے (و عبارت میں منصوب آیا ہے) ۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ خلَص یخلُص خُلوصًا‘‘ (نصر سے) آتا ہے اور اس کے بنیادی معنی ہیں ’’ الگ ہوجانا‘‘ پھر اسی سے اس میں ’’ خالص اور صاف ہونا‘‘ کے معنی پیدا ہوتے ہیں، یعنی کسی چیز سے ملاوٹ وغیرہ کا الگ ہوجانا۔ ’’ خالِص‘‘ اور ’’ صافٍی‘‘ (صاف) دونوں عربی لفظ ہیں اور قریباً ہم معنی ہیں (اور اردو میں بھی اسی طرح استعمال ہوتے ہیں) مگر ان میں اللسان اور المفردات کے مطابق فرق یہ ہے کہ ’’ خالص‘‘ اس چیز کو کہتے ہیں جس میں کچھ میل ملاوٹ تھی جو الگ (دور) ہوگئی۔ جبکہ ’’ صافِی‘‘ (صاف) عموماً اس چیز کو کہتے ہیں جو شروع سے ’’ صاف اور خالص‘‘ تھی۔ یہ فعل (خلَص) بنیادی طور پر فعل لازم ہے، مگر مختلف صلات کے ساتھ مختلف معنی بھی دیتا ہے۔ مثلاً ’’ خلَص مِن…‘‘ کے معنی ہیں ’’…سے نجات پانا یا بچ جانا۔‘‘‘ اور ’’ خلَص الیٰ… یا خلَص بِ…‘‘ کا مطلب ہے’’… تک پہنچ جانا۔‘‘

 ۔ قرآن کریم میں اس فعل مجرد سے تو صرف ایک ہی صیغہ ماضی (خلَصُوا) ایک ہی جگہ (یوسف:80) آیا ہے۔ جہاں یہ فعل بغیر صلہ کے اور اپنے بنیادی معنی (الگ ہونا) کے لیے ہی استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مزید فیہ کے ابواب افعال اور استفعال سے بھی فعل کے دوچار صیغے آئے ہیں۔ مزید برآں مجرد اور مزید فیہ سے متعدد مشتقات پچیس کے قریب مقامات پر آئے ہیں، ان سب پر حسب موقع بات ہوگی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

 ۔ زیر مطالعہ لفظ ’’ خالِصَۃ‘‘ اس فعل مجرد سے صیغہ اسم الفاعل ہے۔ اس کے آخر پر ’’ۃ‘‘ تانیث کے لیے نہیں مبالغہ کے لیے ہے (جیسے ’’ راوی‘‘ سے ’’ روایۃ‘‘ بنا لیتے ہیں (یعنی ’’ خاص طور پر الگ‘‘) اس سے بصیغہ مذکر اسم الفاعل (خالص) بھی قرآن کریم میں بھی ایک جگہ (النحل:66) آیا ہے اور یہ لفظ (خالِصَۃ) بصیغہ تانیث یا مبالغہ تو پانچ جگہ وارد ہوا ہے --- اس کے فعل مجرد کے مذکورہ معانی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس (خالصۃ) کا ترجمہ ’’ الگ، تنہا، خالص، بلاشرکت، خاص، مخصوص اور خاص کر‘‘ کی شکل میں کیا گیا ہے۔ اصل لفظی ترجمہ ’’ خالص (الگ) ہونے والا یا والی‘‘ کی بجائے یہ تراجم اس لیے درست ہیں کہ یہاں اسم الفاعل بمعنی صفت بھی ہے اور اردو محاورے کا بھی یہی تقاضا ہے۔

 ۔ ’’ مِنْ دُونِ النَّاسِ‘‘ زیر مطالعہ عبارت کا یہ آخری حصہ دراصل تو ایک مرکب جاری ہے جو تین کلمات پر مشتمل ہے۔ اس میں ’’ مِنْ‘‘ تو حرف الجر ہے جو یہاں ظرف ’’ دُونَ‘‘ سے پہلے آیا ہے۔ اس کا ترجمہ ’’ سے‘‘ ہی ہوگا۔ تاہم اگر یہ حرف الجر نہ بھی ہوتا تو صرف ظرف (منصوب) بھی یہی معنی دیتا۔

 ’’ دُون‘‘ (اِدھر۔ اِس طرف۔ سوا… کو چھوڑ کر) کی لغوی تشریح وغیرہ البقرہ:23 [ 2:17:1 (9)] میں گزر چکی ہے۔

 ’’ الناس‘‘ (لوگ، لوگوں، سب انسان) اس لفظ کے مادہ ، وزن، اشتقاق وغیرہ کی بحث البقرہ:8 [ 2:7:1 (3)] میں ہوچکی ہے۔

 یوں ’’ من دُون الناس‘‘ کا ترجمہ بنتا ہے، ’’ لوگوں: کے سوا: کو چھوڑ کر‘‘ بعض نے اسے بامحاورہ بنانے کے لیے ’’ الناس‘‘ کا ترجمہ ’’ اور لوگوں‘‘ سے کیا ہے جو یہاں لفظ ’’ دُونَ‘‘ کا تقاضا ہے۔ کیونکہ یہاں یہ تو مراد نہیں کہ لوگوں یا انسانوں کو چھوڑ کر یہ کسی اور مخلوق کے لیے خاص ہے۔ اس لیے یہاں ’’ لکم‘‘ (تمہارے ہی لیے) کی وجہ سے ترجمہ ’’ اور لوگوں سے‘‘ کرنا موزوں ہے۔ اسی کو بعض نے ’’ دوسروں کو چھوڑ کر، دوسروں کے لیے نہیں، نہ اوروں کے لیے‘‘ اور بعض نے ’’ بلا شرکت غیرے‘‘ سے ترجمہ کیا ہے۔ یہ سب تراجم محاورہ اور مفہوم کے لحاظ سے ہی درست ہیں، ورنہ ظاہر ہے اصل عبارت سے تو ہٹ کر ہیں۔

 ۔ یوں اس پوری زیر مطالعہ عبارت (قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ کہہ دے تو اگر ہے تمہارے ہی لیے آخری گھر اللہ کے ہاں خالص (الگ) لوگوں کے سوا۔‘‘ بعض نے ’’ کانت لکم‘‘ کا ترجمہ (شاید محاورہ کی خاطر) ’’ تم کو ملنا ہے‘‘ سے کیا ہے جو بلحاظ مفہوم ہی درست ہے۔ اسی طرح بعض مترجمین نے ’’ لکم‘‘ اور ’’ خالصۃ‘‘ دونوں کو ملا کر ترجمہ ’’ خاص تمہارے ہی لیے، تمہارے ہی لیے مخصوص‘‘ کی شکل میں کیا ہے۔ بعض نے ’’ محض تمہارے ہی لیے نافع ہے‘‘ سے ترجمہ کیا ہے، ظاہر ہے اس میں ’’ نافع ہے‘‘ ایک تفسیری اضافہ ہے۔ بعض تراجم میں ’’ عند اللہ‘‘ کا ترجمہ ہی نظر انداز ہوگیا ہے جو یقینا سہو ہی ہے۔ ’’ من دون الناس‘‘ کے مختلف تراجم ابھی اوپر مذکور ہوئے ہیں۔

 یہاں تک اس جملے کا ابتدائی حصہ جس میں صرف بیانِ شرط مکمل ہوا ہے۔ جوابِ شرط اگلی عبارت میں آرہا ہے۔

2:58:1 (2) [ فَتَمَنَّوْا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ]

 ۔ نیا لفظ اس میں ’’ فَتَمَنَّوْا‘‘ ہے ۔ اس کی ابتدائی ’’ فاء (ف) تو فاء رابطہ ہے جو جوابِ شرط کے شروع میں آتی ہے۔ باقی لفظ ’’ تَمَنَّوْا‘‘ ہے (اس کی ساکن واو الجمع کو آگے ملانے کے لیے ضمہ (-ُ) دیا گیا ہے) اس کا مادہ ’’ م ن ی‘‘ اور وزن اصلی ’’ تَفَعَّلُوْا‘‘ ہے۔ اس کی اصلی شکل تو ’’ تَمَنَّیُوْا‘‘ تھی۔ پھر واو الجمع سے ماقبل والا حرف علت (جو یہاں ’’ ی‘‘ ہے) گرا دیا جاتا ہے (یعنی ’’-َیُوْا= -َوْا‘‘ کے اصول پر) یوں یہ لفظ ’’ تَمَنَّوْا‘‘ بن جاتا ہے۔ ) (نیز دیکھئے حصہ ’’ الاعراب‘‘)

 ۔ اس مادہ (م ن ی) سے فعل مجرد (جو قرآن کریم میں کہیں استعمال نہیں ہوا) کے باب اور معنی وغیرہ کی بحث تو البقرہ:78 [ 2:49:1 (2)] میں کلمہ ’’ امانّی‘‘ کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ زیر مطالعہ لفظ (تَمَنَّوْا) اس مادہ سے باب تفعّل کا صیغۂ فعل امر ہے۔ اس باب سے فعل ’’ تَمَنَّی… یَتَمَنَّی‘‘ کے معنی ہیں: ’’…کی آرزو کرنا، تمنا کرنا‘‘ اردو کا لفظ ’’ تمنا‘‘ اسی عربی فعل کے صیغہ ماضی کی بگڑی ہوئی شکل ہے جو اردو میں اس فعل کے مصدر کے معنی میں استعمال ہوتی ہے۔ باب تفعل کے اس فعل کا اصلی عربی مصدر ’’ تَمَنّیٍ‘‘ یا ’’ التَمَنِّی‘‘ بنتا ہے۔

 ۔ ’’ التمنی‘‘ کے اصل معنی تو ہیں: ’’ دل میں کسی چیز کا اندازہ کرنا اور اس کا تصور لانا‘‘ جو محض ظن و تخمین پر مبنی بھی ہوسکتا ہے اور کسی ٹھوس بنیاد پر بھی۔ تاہم اکثر یہ بےحقیقت تصور کے لیے آتا ہے۔ اس لیے اس کے معنی میں ’’ آرزو کرنا‘‘ کے علاوہ ’’ بات گھڑ لینا اور جھوٹ کہنا‘‘ کے معنی بھی شامل ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ تمنّی الحدیث‘‘ (اس نے حدیث یا بات گھڑ لی) ’’ التمنی‘‘ کے ایک معنی ’’ پڑھنا، (قراءت یا تلاوت کرنا) بھی ہیں۔ اور قرآن کریم میں کم از کم ایک جگہ (الحج:52) یہ ان معنی میں بھی آیا ہے۔ تاہم اس کا زیادہ استعمال پہلے معنی (آرزو کرنا۔ تمنا کرنا) میں ہی ہوتا ہے، مثلاً کہتے ہیں ’’ تَمَنَّیْتُ التی‘‘ میں نے اس چیز کی تمنا کی یعنی دل سے چاہا کہ وہ مجھے مل جائے) ۔ قرآن کریم میں اس فعل سے مختلف صیغے نو (9) جگہ آئے ہیں۔

 ۔ زیر مطالعہ لفظ ’’ تَمَنَّوْا‘‘ اس فعل سے فعل امر کا جمع مذکر حاضر کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے جس کا ترجمہ ہوگا: ’’ تم سب آرزو کرو‘‘ اور یہی لفظ اس فعل سے صیغہ ماضی جمع مذکر غائب بھی ہوسکتا ہے۔ ’’ ان سب نے آرزو کی‘‘ کے معنی میں۔ یعنی بلحاظ ساخت تو یہ صیغہ دونوں میں مشترک ہے۔ تاہم سیاقِ عبارت سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہاں یہ فعل امر کا صیغہ ہے (اس لفظ کے صیغہ مای اور امر کے اصل فرق کے لیے دیکھئے حصہ ’’ الاعراب‘‘) اور اس لیے اس (فتمنوا) کا ترجمہ ’’ تو پھر آرزو کرو، تمنا تو کرو‘‘ کی صورت میں ہوگا۔ اور ایسا ہی کیا گیا ہے، بلکہ بیشتر حضرات نے لفظ ’’ آرزو‘‘ ہی کا انتخاب کیا ہے۔

 ۔ [ المَوت] اس لفظ کی لغوی وضاحت (مادہ، وزن فعل مجرد وغیرہ) البقرہ:19 [ 2:14:1 (12)] میں اور پھر [ 2:2:1 (2)] میں بھی کلمہ ’’ اموَاتًا‘‘ کے ضمن میں بھی گزر چکی ہے۔ لفظ ’’ مَوت‘‘ اردو میں بھی عام مستعمل ہے۔ اس کا الگ ترجمہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔

 ۔ [ اِنْ کُنْتُم صٰدِقِیْنَ] (اگر تم سچے ہو تو) ۔ بعینہٖ یہی جملہ البقرہ:23 اور 31 [ 2:17:1] اور [ 2:22:1]میں گزر چکا ہے۔

 ۔ یوں اس پورے جملے (فتمنوا الموت ان کنتم صٰدقین) کا (جو دراصل سابقہ جملے کا جوابِ شرط ہے) ترجمہ بنتا ہے ’’ پس: تو تم آرزو کرو موت کی اگر تم ہو سچے‘‘۔ بعض نے ’’ مَوْت‘‘ کا بھی ترجمہ ’’ مرنے‘‘ (کی) سے کردیا ہے جو خالص اردو لفظ ہے۔ بعض نے اردو محاورے کا خیال کرتے ہوئے ’’ آرزو کرو‘‘ کی بجائے ’’ آرزو: تمنا کرکے دکھلا دو‘‘ کیا ہے۔ بعض نے ابتدائی فاء (ف) کا بامحاورہ ترجمہ ’’ تو بھلا‘‘ سے کیا ہے۔ بعض نے ’’ صٰدقین‘‘ کا ترجمہ فعل مضارع کی شکل میں ’’ سچ کہتے ہو‘‘ سے کیا ہے جسے اردو محاورے کے مطابق اور بلحاظ مفہوم ہی درست کہہ سکتے ہیں۔ وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ  95۝
[ وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ: اور وہ الوگ ہرگز تمنا نہیں کریں گے اس کی] [ اَبَدًۢا : کبھی بھی ] [ بِمَا: بسبب اس کے جو] [ قَدَّمَتْ: آگے بھیجے] [ اَيْدِيْهِمْ ۭ : ان کے ہاتھوں نے ] [ وَاللّٰهُ: اور اللہ ] [ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے] [ بِالظّٰلِمِيْنَ: ظلم کرنے والوں کو]

 

 



 ۔ ابتدائی ’’ وَ‘‘ مستانفہ ہے، ترجمہ ’’ اور‘‘ ہی کیا جاسکتا ہے۔ اگلا لفظ

 ۔ ’’ لن یتمنَّوہ‘‘ ہے جس کے آخر پر ضمیر منصوب (ہ) ہے جس کا اردو ترجمہ تو ’’ اس کو‘‘ بنتا ہے مگر اردو کے فعل (آرزو کرنا) کی مناسبت سے اس کا ترجمہ یہاں ’’ اس کی‘‘ ہی ہوسکتا ہے۔ باقی صیغۂ فعل ’’ لن یتمنَّوْا‘‘ ہے (خیال رہے جب ضمیر مفعول ساتھ نہیں لکھیں گے تو پھر واو الجمع کے بعد الف الوقایہ لکھنا ضروری ہے) ۔ یہ ابھی اوپر بیان کردہ فعل ’’ تمنّی… یتمنّی‘‘ (آرزو کرنا) سے فعل مضارع معروف منفی ’’ بِلَنْ‘‘ صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ اس کا ترجمہ ہوگا ’’ وہ ہرگز آرزو نہیں کریں گے۔‘‘

 ۔ [ اَبَدًا] اس عبارت میں یہی لفظ نیا ہے۔ اس کے مادہ (ا ب د) سے فعل مجرد ’’ أبَد یَاْبُدُا بُودًا‘‘ (نصر سے) ’’ وحشی ہونا۔ الگ تھلگ رہنا یا الگ گھومتے پھرنا‘‘ کے معنی دیتا ہے اور ’’ أبِدَ یأبَدُ اَبَدًا‘‘ (سمع سے) کے معنی ’ غضبناک ہونا‘ بھی ہوتے ہیں۔ عام عربی میں اس مادہ سے مزید فیہ کے بعض ابواب سے بھی فعل استعمال ہوتے ہیں۔ اور بطور اسم ’’ اَبَدٌ‘‘ بمعنی دہر یا زمانہ بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کا خاص مح اور اتی استعمال ’’ ابدَا الّا باد‘‘ یا ’’ ابَد الّا بدین‘‘ (رہتی دنیا تک ہمیشہ ہی‘‘ کے مفہوم میں) ہوتا ہے۔ تاہم قرآن کریم میں اس مادہ سے کسی قسم کا فعل یا اسم وغیرہ استعمال نہیں ہوا سوائے اس زیر مطالعہ لفظ (ابدًا) کے جو قرآن کریم میں 28 جگہ وارد ہوا ہے۔

 ۔ یہ لفظ ’’ ابدًا‘‘ ظرف ہے (اسی یہ ہمیشہ منصوب استعمال ہوتا ہے) یہ صرف زمانۂ مستقبل کے لیے آتا ہے اور نفی و اثبات یعنی منفی یا مثبت دونوں جملوں کے ساتھ استعمال ہوتا ہے، مثلاً کہتے ہیں ’’ اَفْعَلُہ أبدًا‘‘ (میں اسے آئندہ ہمیشہ کروں گا) یا بطور نفی ’’ لا اَفْعَلُہ اَبَدًا‘‘ (میں یہ آئندہ کبھی بھی نہیں کروں گا) اسی یہ استمرار (کسی حالت یا کیفیت وغیرہ کے ہمیشہ جاری رہتے) کا مفہوم دیتا ہے یعنی ’’ ہمیشہ کے لیے‘‘ یا ’’ ہمیشہ ہی‘‘ کے لیے ہے۔ اسی مفہوم میں یہ قرآن کریم میں اکثر ’’ خالدین‘‘ یا ’’ خالدًا‘‘ (حال) کے ساتھ بطورہ تاکید (ابدًا) آتا ہے۔

 ۔ قرآن کریم میں یہ زیادہ تر تو منفی جملوں کے ساتھ (کبھی نہ ہوگا کے معنی میں) استعمال ہوا ہے، تاہم مثبت جملوں کے ساتھ (ہمیشہ ایسا ہوگا کے معنی میں) بھی استعمال ہوا ہے، جن پر حسب موقع بات ہوگی۔ اِن شاء اللہ۔ خیال رہے کہ ’’ ابدًا‘‘ ماضی کے ساتھ کبھی استعمال نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر کہنا ’’ میں ہرگز ایسا (کبھی) نہیں کروں گا‘‘ تو عربی میں کہیں گے ’’ لا افعلُہ‘‘ یا ’’ لن افعلَہ ابدا‘‘ اور اگر کہنا ہو کہ ’’ میں نے ہرگز کبھی ایسا نہیں کیا‘‘ تو اس صورت میں عربی میں کہیں گے ’’ ما فعلتہُ ابدا‘‘ کہنا بالکل غلط ہوگا۔ بہرحال ’’ ابدًا‘‘ کا اردو ترجمہ ’’ کبھی بھی‘‘ ہوسکتا ہے اور مراد ہوگا ’’ آئندہ کبھی بھی۔‘‘

 ۔ اس حصۂ عبارت (وَلَن یتمنَّوہ ابدًا) کا ترجمہ بنتا ہے ’’ اور وہ ہرگز آرزو نہ کریں گے اس کی کبھی‘‘ چونکہ اس میں نفی حجد بلَنْ بھی ہے (یعنی زور اور تاکید کے ساتھ نفی) اور ساتھ ’’ ابدًا‘‘ بھی ہے اس لیے اردو محاورے میں ان دونوں کے مفہوم کو یکجا کرتے ہوئے ترجمہ ’’ وہ اس کی آرزو ہرگز کبھی بھی نہ کریں گے‘‘ اور ’’ ہرگز کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے‘‘ سے کیا گیا ہے۔ بعض نے ضمیر مفعول (ہ) کی بجائے (اس کی بجائے) ’’ موت کی آرزو‘‘ مرنے کی آرزو نہ کریں گے‘‘ سے ترجمہ کیا کیونکہ یہاں اس ضمیر کا مرجع (مَوْت) پہلے مذکور ہوا ہے۔

2:58:1 (4) [ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ]

 ۔ ’’ بِمَا‘‘ (بسبب اس کے جو کہ) میں ’’ بِ‘‘ سببیہ اور ’’ مَا‘‘ موصولہ ہے جس کو مصدریہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

 ۔ ’’ قَدَّمَتْ‘‘ کا مادہ ’’ ق د م‘‘ اور وزن ’’ فَقَلَتُ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد مختلف ابواب سے (اور مختلف مصادر کے ساتھ) مختلف معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے، تاہم اس کے تمام معانی میں ’’ قَدَمٌ‘‘ (پائوں، جمع اقدام) اٹھانا‘‘ کا مفہوم ضرور شامل ہوتا ہے اور اس لیے اس کے معانی میں ’’ آگے بڑھنا‘‘ (سبقت) کا تصور ہوتا ہے، چاہے بلحاظ مکان (جگہ) ہو یا بلحاظ زمان یا بلحاظ زمان یا بلحاظ شرف و مرتبہ ہو۔ مثلاً (1) ’’ قَدَم… یقدُم قُدُومًا‘‘ (نصر سے) کے معنی ہوتے ہیں: ’’…سے آگے بڑھنا: … کے آگے آگے چلنا‘‘ یعنی ’’ صارقُدَّامَھم‘‘ اور اسی سے آیا ہے ’’ یقدُم قومَہ یومَ القیامۃِ‘‘ (ھود:98) (یعنی وہ اپنے لوگوں کے آگے آگے آئے گا قیامت کے دن) اور کبھی ان ہی معنی کے لیے یہ فعل باب فتح سے (قدَم یقدَم قَدْمًا) بھی آتا ہے۔ تاہم قرآن کریم میں یہ باب نصر سے ہی آیا ہے (2) ’’ قدِم یقدَم قَدْمًا‘‘ (سمع سے) کے معنی ’’ آپہنچا، آجانا‘‘ ہوتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ قدِم فلانٌ من سفَرِہ‘‘ (فلاں اپنے سفر سے واپس آگیا) اور اگر اس کے ساتھ ’’ الیٰ‘‘ کا صلہ لگے یعنی ’’ قدِم الیٰ…‘‘ تو اس کے معنی ’’…تک پہنچنا، … کی طرف متوجہ ہونا‘‘ ہوتے ہیں۔ اسی سے قرآن کریم میں آیا ہے ’’ وقدِمُنا الٰی ما عمِلوا من عمل‘‘ (الفرقان:23) یعنی ’’ اور ہم پہنچے: متوجہ ہوئے ان کے اعمال (جو کچھ انہوں نے عمل کیا) تک: کی طرف‘‘ (3) قدُم یقدُم قِدَمًا (کرم سے) کے معنی ہیں: ’’ قدیم ہونا۔ بلحاظ زمانہ پیچھے (ماضی میں) رہ جانا۔ پرانا ہونا‘‘ اسی فعل سے عربی کی صفت مشتبہ قدیم ’’ اردو میں بھی مستعمل ہے۔ قرآن کریم میں یہ فعل اپنے پہلے دو معنی (1 اور 2 مندرجہ بالا) میں ہی استعمال ہوا ہے بلکہ اس فعل مجرد سے قرآن کریم میں صرف یہی دو صیغے آئے ہیں جو اوپر دو مثالوں میں مذکور ہوئے ہیں۔

 ۔ زیر مطالعہ صیغۂ فعل (قدَّمَتْ) اس مادہ سے باب تفعیل کا فعل ماضی معروف صیغہ واحد مونث غائب ہے۔ باب تفعیل کا یہ فعل ’’ قدَّم… یُقَدِّمُ تقدیمًا‘‘ بنیادی طور پر بطور متعدی آتا ہے اور اس کے معنی ’’…کو آگے بھیجنا: کرنا: لانا: پیش کرنا‘‘ ہوتے ہیں۔ اور کبھی اس کے معنی بطور فعل لازم ’’ آگے بڑھنا‘‘ (تقدَّم) کے بھی آتے ہیں اور اس کے معنی (بطور متعدی) ’’ کسی سے آگے نکل جانا‘‘ (سبَقَہ) کے بھی ہوتے ہیں کہتے ہیں ’’ قدَّم القومَ‘‘ (وہ لوگوں سے آگے نکل گیا) اس کے علاوہ مختلف صلات کے ساتھ یہ بھی مختلف معنی دیتا ہے۔ مثلاً ’’ قدَّم بَیْنَ یَدَیْ فلانٍ‘‘ کے معنی ہیں ’’ وہ فلاں سے پہل کر گیا‘‘ اور قرآن کریم (الحجرات:1) میں یہ اسی معنی میں آیا ہے۔’’ الی‘‘ کے صلہ کے ساتھ اس کے معنی ’’…کو قبل از وقت خبردار کرنا یا قبل از وقت کوئی حکم دینا‘‘ بھی ہوتے ہیں اور اسی سے قرآن کریم میں آیا ہے ’’ وقد قدَّمتُ الیکم بالوعید‘‘ کے معنی ’’…سے قبل از وقت آگاہ کرنا‘‘ ہوتے ہیں۔ اوپر کی مثال میں ’’ الیٰ‘‘ اور ’’ ب‘‘ دونوں کا استعمال ہوا ہے یعنی ’’…کو …سے قبل از وقت آگاہ کردیا‘‘۔ (الیہ اور بالوعید)

 ۔ قرآن کریم میں (باب تفعیل کے) اس فعل سے ماضی مضارع امر و نہی کے مختلف صیغے 27 جگہ آئے ہیں، جن میں سے صرف زیر مطالعہ صیغہ (قدَّمَتْ) ہی 14 جگہ آیا ہے۔ نیز باب تفعّل اور استفعال سے افعال کے کچھ صیغے بھی چھ جگہ آئے ہیں۔ اس کے علاوہ مجرد و مزید سے مختلف مشتق و ماخوذ کلمات (مثلاً قدم، اَقدام، قدیم، اقدمو، مستقدمین) 13 جگہ وارد ہوئے ہیں۔

 ۔ ’’ اَیْدِیْھِم‘‘ (ان کے ہاتھوں نے) مرکب اضافی کا پہلا جزء ’’ اَیْدٍی‘‘ لفظ ’’ ید‘‘ (ہاتھ) کی جمع مکسر ہے۔ ’’ ید‘‘ کی لغوی (مادہ، وزن، باب، فعل اور ساخت کلمہ وغیرہ کی) بحث پہلے البقرہ:66 [ 2:42:1 (6)] میں گزری تھی، پھر اسی لفظ (اَیْدِیْھِمْ) پر البقرہ:79 [ 2:49:1 (4)] میں بھی بات ہوئی تھی۔

 ۔ یوں اس عبارت (بِما قدَّمَتْ ایدیھم) کا ترجمہ بنتا ہے ’’ بسبب اس کے جو کہ آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے ’’ بما‘‘ کا ترجمہ ’’ جس واسطے‘‘ کیا گیا ہے جو کہ ’’ اس کے واسطے جو کہ‘‘ کی زیادہ سلیس شکل ہے۔ بعض نے ’’ ان اعمال بد: برے کام: بداعمالیوں کے سبب، ان گناہوں کے سبب، ان اعمال کی وجہ سے جو‘‘ کی صورت میں ترجمہ کیا ہے۔ ظاہر ان میں ’’ بداعمالیوں، گناہوں‘‘ وغیرہ تفسیری اضافے ہیں۔ اسی طرح بعض نے ’’ قَدَّمَتْ‘‘ (آگے بھیجا) کا ترجمہ (جو گناہ وہ) پہلے کرچکے ہیں‘‘ کے ساتھ کیا ہے اور بعض نے (جو اپنے ہاتھوں) ’’ سمیٹ چکے ہیں‘‘ اور (جو) آگے کرچکے ہیں‘‘ کے ساتھ ترجمہ کیا ہے۔ ان میں اکثر تراجم اردو محاورے اور اپنے مفہوم کے اعتبار سے درست ہیں ورنہ اصل الفاظ سے تو ذرا ہٹ کر ہی ہیں۔

 ۔ بعض مترجمین نے اردو میں فقرے کی ساخت کے تقاضے کو ملحوظ رکھتے ہوئے پہلے ’’ بِمَا قَدَّمَت ایدیھم‘‘ اور بعد میں (پہلی عبارت) ’’ ولن یَتَمَنَّوُہ اَبَدًا‘‘ کا ترجمہ کیا ہے۔ جو ترجمے کے قواعد کے لحاظ سے درست ہی ہے۔

2:58:1 (5) [ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بالظّٰلِمِیْنَ]

 ۔ ’’ وَاللّٰہ‘‘ کی ’’ واو‘‘ یہاں مستانفہ ہے بلحاظ معنی اس کا سابقہ عبارت پر عطف (کا تعلق) ہو ہی نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے پہلے عبارت کے آخر پر وقف مطلق کی علامت (ط) ڈالی جاتی ہے کہ وہاں سابقہ مضمون ختم ہوتا ہے اور جملہ بھی مکمل ہوجاتا ہے۔ اسم جلالت (اللہ) کی لغوی بحث ’’ بسم اللہ‘‘ کے ضمن میں ہوئی تھی۔

 ۔ ’’ علیم‘‘ جو مادہ ’’ ع ل م‘‘ سے صفت مشبہ بروزن ’’ فعیل‘‘ ہے، اس کی مکمل وضاحت البقرہ:21 [ 2:2:1] کے آخر پر ہوچکی ہے یعنی ’’ خوب جاننے والا‘‘ ’’ بالظّٰلمین‘‘ کی ابتدائی ’’ با (ب)‘‘ وہ صلہ ہے جو کبھی کبھی فعل ’’ عَلِمَ‘‘ پر آتا ہے یعنی ’’ عَلِمَہٗ‘‘ اور ’’ عَلِمَ بہ‘‘ دونوں کا مطلب ہے ’’ اس نے اسے جان لیا‘‘ اور کلمہ ’’ الظالمین‘‘ (یعنی اردو کا ’’ ظالموں‘‘) کی لغوی بحث پہلی دفعہ البقرہ:35 [ 2:26:1] کے آخر پر ہوئی تھی۔

 ۔ اب یہ عبارت آپ کے لیے چنداں مشکل نہیں اس کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ اور اللہ تعالیٰ خوب اچھی طرح جاننے والا ہے ظالموں کو‘‘ بعض نے ’’ علیم‘‘ کا ترجمہ ’’ خوب واقف‘‘ سے کیا ہے جبکہ بہت سے حضرات نے اس کا ترجمہ بصورتِ فعل یعنی ’’ خوب جانتا ہے‘‘ سے کیا ہے جو اردو محاورے کے لحاظ سے درست ہے۔ ورنہ بظاہر تو یہ ’’ یَعْلَمُ‘‘ کا ترجمہ لگتا ہے۔ بعض نے ’’ کو خوب اطلاع‘‘ ہے سے ترجمہ کیا ہے جو تکلف اور تصنع سے خالی نہیں۔ اسی طرح ’’ ظالمین‘‘ کا اردو ترجمہ ’’ گناہگاروں‘‘ اور ’’ بے انصافوں‘‘ سے بھی کیا گیا ہے جو بلحاظ مفہوم درست ہے۔

2:58:2 الإعراب

 اس قطعہ کی پہلی آیت تو ایک ذرا لمبا مکمل شرطیہ جملہ ہے، ہم اسے دو حصوں (بیانِ شرط اور جوابِ شرط) میں تقسیم کرکے اعراب پر بات کریں گے۔ دوسری آیت (95) اعرابی لحاظ سے دو مکمل جملے ہیں۔ ہر ایک جملہ پر الگ الگ بات ہوگی۔

 ۔ ’’ قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس…‘‘ [ قُل] فعل امر صیغہ واحد مذکر حاضر ہے [ ان] شرطیہ جازمہ ہے مگر یہاں فعل ماضی پر اس کا کوئی عمل نہیں ہوا ’’ اگرچہ بعض نحوی کہتے ہیں کہ یہاں فعل ’’ کانت‘‘ محلاً مجزوم ہے، مگر یہ محض تکلف ہے۔ ’’ اِنْ‘‘ تو صرف مضارع کو ہی جزم دیتا ہے۔ [ کانت] فعل ناقص صیغہ ماضی واحد مؤنث غائب ہے۔ [ لکم] جار مجرور (ل+کم) مل کر ’’ کانت‘‘ کی خبر مقدم (جو اس کے اسم سے پہلے لائی گئی ہے) ہے اور اس تقدیم کی وجہ سے ’’ لکم‘‘ کا ترجمہ ’’ تمہارے ہی لیے‘‘ ہوگا۔ [ الدارُ الاخرۃُ] مرکب توصیفی مل کر ’’ کانت‘‘ کا اسم (لہٰذا) مرفوع ہے جو خبر سے مؤخر (بعد میں) لایا گیا ہے اور چاہیں تو یوں کہہ لیجئے کہ ’’ الدارُ‘‘ (گھر) ہی دراصل اسم ’’ کانت‘‘ ہے لہٰذا رفع میں ہے اور ’’ الآخرۃ‘‘ اس (الدار) کی صفت ہے اور اس لیے یہ حالت، جنس عدد وغیرہ سب پہلوئوں سے اپنے موصوف کے مطابق ہے (اور یوں یہ مرفوع بھی ہے) [ عنداللہ] میں ’’ عند‘‘ ظرف مکان ہے (اس لیے منصوب ہے) جو ’’ اللّٰہ‘‘ کی طرف مضاف ہے اور اسم جلالت اسی لیے مجرور ہے اور اس ظرف مکان کا تعلق اگلے لفظ ’’ خالصۃ‘‘ سے ہے، یعنی یہ اس (خالصۃ) کے معنی مزید واضح کرتا ہے ) کہ الگ اور وہ بھی اللہ کے پاس [ خالصۃ] یہ ’’ الدار‘‘ کا حال ہے، اس لیے منصوب ہے یعنی ’’ خالص ہوتے ہوئے‘‘ یا ’’ خاص کر‘‘۔ ویسے یہ بھی ممکن ہے کہ ’’ خالصۃ‘‘ کو فعل ناقص ’’ کانت‘‘ کی خبر (لہٰذا منصوب) سمجھا جائے اور ابتدائی ’’ لکم‘‘ کو اس کا متعلق خبر مقدم قرار دیا جائے۔ اس سے اردو ترجمہ میں کوئی فرق نہیں پڑسکتا۔ [ من دون الناس] جار مجرور مل کر (جس میں مجرور ’’ دون الناس‘‘ میں ظرف مضاف اور اس کا مضاف الیہ شامل ہیں) حال: یا خبر (خالصۃً) کا حال مؤکدہ ہے، کیونکہ ’’ دُون‘‘ اختصاص کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں کہتے ہیں ’’ ھذا لی دونک: مِن دونِک‘‘ (یعنی یہ چیز میری ہی ہے، تیرا اس سے کوئی تعلق نہیں) اسی لیے ’’ من دون الناس‘‘ کا ترجمہ دوسروں کا نہیں، دوسروں کو چھوڑ کر‘‘ وغیرہ سے کیا گیا ہے (دیکھئے تراجم حصۃ ’’ اللغۃ‘‘ میں) ۔ یہاں تک بیانِ شرط پورا ہوتا ہے۔

 ۔ فتَمنَّوا المَوْتَ ان کنتم صادقین

 [ فتمنَّوا] کی ابتدائی ’’ فا (فَ)‘‘ وہ ہے جو جوابِ شرط پر آتی ہے، خصوصاً جب جوابِ شرط میں معنی ’’ طلب‘‘ پایا جائے۔ ’’ تَمَنَّوْا‘‘ یہاں فعل امر صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ اس میں آخری ’’ ن‘‘ (تتمنون کا) امر کے مجزوم ہونے کی وجہ سے گر گیا ہے۔ اب واو الجمع ضمیر الفاعلین ’’ انتم‘‘ کے معنی دے رہی ہے اور اس صیغۃ کے شروع سے ایک ’’ ت‘‘ بھی گرا دی گئی ہے۔ اصل صیغہ ’’ تَتَمَنَّوْا‘‘ تھا، پھر باب تفعل اور تفاعل ہیں جہاں دو تاء (ت) جمع ہوتے ہیں وہاں ایک ’’ ت‘‘ کا حذف جائز ہے اور اس طرح یہ صیغۂ امر بظاہر فعل ماضی کے صیغہ جمع مذکر غائب سے مشابہ ہوگیا ہے، ورنہ دراصل تو دونوں صیغے الگ الگ (’’ تَمَنَوَّا‘‘ ماضی اور ’’ تَتَمَنَّوا‘‘ امر) ہوتے ہیں۔ [ الموت] فعل ’’ تَمَنَّوا‘‘ کا مفعول (لہٰذا) منصوب ہے۔ [ ان کنتم صادقین] یہ بذات خود ادھورا جملہ ہے جو بیان شرط پر مشتمل ہے یعنی ’’ ان‘‘ شرطیہ ’’ کنتم‘‘ فعل ناقص مع اسم ’’ انتم‘‘ ہے اور ’’ صادقین‘‘ اس (کنتم) کی خبر (لہٰذا) منصوب ہے علامت نصب آخری نون سے پہلے والی یاء ماقبل مکسور (-ِی) ہے اور یہ جملہ (ان کنتم صادقین) ایک محذوف جواب شرط کا محتاج ہے جو ’’ فافعلوا ھذا‘‘ یا ’’ فتمنُّوا الموت‘‘ ہوسکتا ہے۔ یعنی ’’ اگر سچے ہو‘‘ تو یہ (موت کی تمنا کرنے والا) کام کردکھائو۔ یہ عبارت سابقہ (1) کا جواب شرط ہے۔ یہ دونوں جملے (1، 2 مندرجہ بالا) مل کر ایک جملہ شرطیہ مکمل ہوتا ہے۔

 ۔ ولن یتمنَّوا ابدًا بما قدَّمَت ایدیھم

 [ وَ] یہاں استیناف کی ہے [ لَنْ] حرف ناصب ِ مضارع جو نفی اور مستقبل کے معنی دیتا ہے۔ [ یتمنوہ] میں ’’ یتمنوا‘‘ تو فعل مضارع نصوب (بِلَنْ) ہے جس میں علامت نصب آخری نون کا (یتمنوْنَ کا) گر جانا ہے اس میں واو الجمع ضمیر الفاعلین ’’ ھم‘‘ کے لیے ہے اور صیغۂ عل کے آخر پر ضمیر منصوب (ہ) اس فعل کا مفعول بہ ہے۔ مفعول ضمیر ہونے کے باعث یہاں واو الجمع کے بعد الف الوقایہ نہیں لکھا جاتا [ ابدًا] ظرف زمان برائے مستقل ہے۔ جس کا تعلق فعل ’’ یتمنوہ‘‘ سے ہے۔ [ بِما] باء الجر (جو یہاں سببیہ ہے) اور ’’ مَا‘‘ موصولہ کا مرکب ہے (قدَّمَتْ) فعل ماضی واحد مؤنث غائب ہے اور [ اَیْدِیْھِمْ] مضاف ’’ ایدی‘‘ اور مضاف الیہ ’’ ھم‘‘ مل کر فعل ’’ قَدَّمَتْ‘‘ فعل ماضی واحد مؤنث غائب ہے اور [ اَیْدِیْھِمْ] مضاف ’’ ایدی‘‘ اور مضاف الیہ ’’ ھم‘‘ مل کر فعل ’’ قَدَّمَتْ‘‘ کا فاعل ہے۔ یہاں ’’ ایدیٍ‘‘ مرفوع ہے جو آگے مضاف ہونے کے باعث خفیف ’’ اَیْدِیْ‘‘ ہوگیا ہے (تنوین ختم ہوگئی ہے) یہ لفظ اسم منقوص کی طرح رفع نصب جر میں ’’ ایدی ۔ ایدیًا اور ایدٍی‘‘ ہوتا ہے۔ پھر مضاف ہوتے وقت رفع اور جر میں تو ’’ ی‘‘ ساکن ہو جاتی ہے مگر نصب میں مفتوح (ی) ہوجاتی ہے اور یہ پورا جملہ (قدمَتْ اَیْدِیْھِمْ) اسم موصول ما (’’ بما‘‘ والا) کا صلہ ہے اور یوں یہ پورا مرکب جاری (بما قدمت ایدیھم) متعلق فعل ’’ لن یتمنوا‘‘ بنتا ہے۔ یعنی ’’ جرأت تمنا‘‘ نہ کرسکنے کی وجہ بتاتا ہے۔

 ۔ واللّٰہ علیم بالظالمین

 [ وَ] مستانفہ ہے اور [ اللہ] مبتدأ مرفوع ہے۔ [ علیم] اس کی خبر (لہٰذا) مرفوع ہے [ بالظالمین] جار مجرور (ب+ الظالمین) مل کر متعلق خبر (علیم) ہے اور یہ پورا جملہ اسمیہ ایک الگ (مستانفہ) جملہ ہے۔

2:58:3 الرسم

 بلحاظ رسم عثمانی (قرآنی) اس قطعہ میں صرف دو لفظ قابل ذکر ہیں۔ یعنی ’’ صدقین‘‘ اور ’’ الظلمین‘‘۔ ویسے یہ دونوں لفظ پہلے بھی گزر چکے ہیں۔ اور ان کا قعدہ وہی جمع مذکر سالم کے حذف الف والا ہے، جو بیان ہوچکا ہے۔

 ۔ ’’ صدقین‘‘ جس کی رسم املائی ’’ صادقین‘‘ ہے، قرآن کریم میں یہاں اور ہر جگہ ’’ بحذف الالف بعد الصاد‘‘ لکھا جاتا ہے۔

 ۔ ’’ الظلمین‘‘ جس کی رسم املائی ’’ الظالمین‘‘ ہے، یہ بھی قرآن کریم میں یہاں اور ہر جگہ ’’ بحذف الالف بعد الظائ‘‘ لکھا جاتا ہے۔

 خیال رہے دونوں لفظوں میں الف الفاعلین لکھنے میں محذوف ہوتا ہے مگر پڑھا ضرور جاتا ہے، پھر ضبط سے ظاہر کیا جاتا ہے۔

2:58:4 الضبط

 ان دو آیات کے کلمات میں ضبط کا تنوع زیادہ تر ساکن حرف علت، نون مخفاۃ اور اقلاب نون میم کے طریق ضبط سے تعلق رکھتا ہے۔ یا پھر افریقی مصاحف میں ف اور ق کے اعجام اور ’’ ن‘‘ متطرف (آخر پر آنے والا نون) کے عدم اعجام سے متعلق ہے۔ تفصیل یوں ہے۔ وَلَتَجِدَنَّھُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰي حَيٰوةٍ ڔ وَمِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُــوْا ڔ يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ ۚ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ    96؀
[ وَلَتَجِدَنَّھُمْ: اور تو لازما پائے گا ان کو] [ اَحْرَصَ النَّاسِ: لوگوں میں سب سے زیادہ حریص] [ عَلٰي حَيٰوةٍ ڔ : زندگی پر ] [ وَمِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُــوْا ڔ : اور ان سے (بھی زیادہ حریص) جنہوں نے شریک کیا ] [ يَوَدُّ: چاہتا ہے] [ اَحَدُھُمْ: ان کا ہر ایک ] [ لَوْ يُعَمَّرُ: کاش وہ عمر دیا جاءے] [ اَلْفَ سَـنَةٍ ۚ : ہزار سال کی] [ وَمَا ھُوَ: اور یہ (آرزو) ] [ بِمُزَحْزِحِهٖ : اس کو بچانے والی نہیں ہے ] [ مِنَ الْعَذَابِ: عذاب سے] [ اَنْ يُّعَمَّرَ ۭ : کہ وہ عمر دیا جاءے (لمبی) ] [ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ : اور اللہ دیکھنے والا ہے ] [ بِمَا: اس کو جو] [ يَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے ہیں]

 

1 اللغۃ

 اس آیت میں بہت سے (آٹھ دس) الفاظ نئے (پہلی دفعہ) آئے ہیں۔ ہم آیت کو (مربوط ترجمہ کرسکنے کی آسانی کے لیے) چھوٹ چھوٹے نحوی جملوں کی شکل میں لکھ کر‘ پہلے ہر ایک جملے کے مفردات (الگ الگ کلمات) کی لغوی بحث کریں گے اور آخر پر اس جملے کا ترجمہ (یا تراجم) زیر بحث لائیں گے۔ حوالے کا نمبر ہر چھوٹے جملے کا ہو گا۔

2: 59: 1 (1) [ وَ لَتَجِدَنَّھُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ]

A ’’ وَ لَتَجِدَنَّھُمْ‘‘ یہ ’’ وَ + لَتَجِدَنَّ + ھم‘‘ کا مرکب ہے۔ ابتدائی ’’ وَ‘‘ عاطفہ ہے یا استیناف کی ہو سکتی ہے ترجمہ ’’ اور‘‘ ہی ہو گا۔ آخری ضمیر منصوب ’’ ھم‘‘ کا ترجمہ یہاں ’’ ان کو‘‘ ہو گا - باقی صیغۂ فعل ’’ لَتَجِدَنَّ‘‘ مضارع موکد بلام و نون ثقیلہ ہے۔ اصل فعل ’’ تَجَدُ‘‘ ہے (جس کی دال کی فتحہ ’’-َ‘‘ موکد صیغہ کی ساخت کی وجہ سے ہے) ۔ اس طرح اس فعل ’’ تجِدُ‘‘ کا مادہ ’’ و ج د‘‘ اور وزن اصلی ’’ تَفْعِلُ‘‘ ہے اور ’’ لَتَجِدَنَّ‘‘ کا وزن اصلی ’’ لَتَفْعِلَنَّ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ وجَد … یجد‘‘ (ضرب سے) استعمال ہوتا ہے اور مختلف مصدروں کے ساتھ مختلف معنی دیتا ہے۔ یہ مادہ ’’ مثل وادی‘‘ ہے جس کے مضارع میں فاء کلمہ (و) گر جاتی ہے۔ یعنی مضارع ’’ یَوْجِدُ‘‘ کی بجائے ’’ یَجِدُ‘‘ آتا ہے اور یوں ’’ لَتَجِدَنَّ‘‘ کا موجودہ وزن ’’ لَتَعِلَنَّ‘‘ رہ گیا ہے۔

 ۔ ’’ وجَد … یَجِدُ وُجودًا و وِجْدانًا‘‘ کے بنیادی معنی ہیں ’’… کو پانا۔ پا لینا‘‘ مثلاً کہتے ہیں ’’ وَجد مطلوبَہ‘‘ ’’ اس نے اپنا مطلوب یعنی جس کی طلب تھی پا لیا‘‘۔ پھر یہ ’’ پا لینا‘‘ حسی بھی ہوتا ہے یعنی جس چیز کو حواس خمسہ میں سے کوئی حِس پا لے اور ’’ وجود‘‘ عقلی بھی ہوتا ہے یعنی جسے عقل پا لے اسی لیے بعض دفعہ حسب موقع اس فعل (وجد) کا ترجمہ ’’ مشاہدہ کرنا‘‘ یا ’’ قابو پانا‘‘ بھی کیا جا سکتا ہے۔

 ۔ یہ فعل متعدی ہے اور اس کا مفعول بنفسہ (بغیر صلہ کے) آتا ہے تاہم عموماً یہ دو مفعول کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے اور دونوں مفعل بنفسہ (منسوب) آتا ہے اور اس وقت ’’ وجَد‘‘ گویا ’’ عَلِم‘‘ (جان لیا) کے معنی میں آتا ہے یا دوسرے مفعول کو ’’ حال‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً ’’ وجدناہ صابرا‘‘ (ص: 44) یعنی ’’ ہم نے اس کو صبر کرنے والا پایا‘‘ یا ’’ جان لیا / دیکھ لیا۔‘‘

 ۔ مندرجہ بالا معنی کے علاوہ یہ فعل بعض دیگر معانی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً ’’ وجَد یجِد وَجْدًا‘‘ کے معنی ’’ غمگین ہونا‘‘ بھی ہوتے ہیں۔ اور ’’ وجد یجد عَلَیہ موجِدَۃً‘‘ کے معنی ’’… پر ناراض ونا۔ غضبناک ہونا‘‘ ہوتے ہیں۔ اور ’’ وجد یجِد بہٖ وَجْدًا‘‘ کے معنی ’’… سے محبت کرنا‘‘ بھی ہوتے ہیں۔ تاہم ان معانی کے لیے یہ فعل قرآن کریم میں کہیں استعمال نہیں ہوا، بلکہ قرآن میں یہ اوپر والے معنی (پانا۔ پا لینا وغیرہ) میں ہی آیا ہے۔ قرآن کریم میں اس فعل مجرد کے ہی ماضی و مضارع کے مختلف صیغے سو سے زائد (104) جگہ آئے ہیں۔ عام عربی میں اگرچہ اس مادہ سے مزید فیہ کے افعال بھی استعمال ہوتے ہیں بلکہ بعض الفاظ (مثلاً ’’ ایجاد‘‘) تو اردو میں بھی رائج ہیں، تاہم قرآن کریم میں اس سے مزید فیہ کا کوئی فعل استعمال نہیں ہوا ہے۔

 ۔ اس طرح ’’ وَ لَتَجِدَنَّھُمْ‘‘ کا ترجمہ بنا ’’ اور تو ضرور پائے گا ان کو۔‘‘ جسے بعض نے ’’ تو دیکھے گا ان کو‘‘ ّیعنی مشاہدہ کرے گا) سے ترجمہ کیا ہے۔ اور چونکہ آیت کے اولین مخاطب تو نبی کریم ﷺ ہیں اس لیے بعض نے ترجمہ بصیغۂ احترام ’’ پائیں گے‘ دیکھیں گے‘‘ سے کیا ہے۔

B ’’ اَحْرَصَ النَّاسِ‘‘ اس مرکب کے دوسرے جزء (الناس یعنی ’’ لوگوں‘‘) کی لغوی تشریح البقرہ: 8 [ 2: 7: 1 (3)] میں کی جا چکی ہے۔ پہلے جزء ’’ اَحْرَصُ‘‘ کا مادہ ’’ ح ر ص‘‘ اور وزن ’’ اَفْعَلُ‘‘ (افعل التفضیل والا) ہے‘ جو اصل عبارت میں منصوب آیا ہے (وجہ پر ’’ الاعراب‘‘ میں بات ہو گی) ۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ حرَص … یحرِصُ حِرْصًا‘‘ (ضرب سے) کے بنیادی معنی ہیں! ’’ پوری طرح چھیل دینا۔‘ ‘ مثلاً کہتے ہیں: ’’ حرصتِ الماشیۃُ المَرْعی‘‘ (موشیوں نے چراگاہ کو صاف کردیا یعنی کچھ نہ چھوڑا) گویا اس میں بنیادی مفہوم ’’ شدت اور ارادے کی زیادتی کا ہے۔ اس فعل کے ساتھ ’’ عَلٰی‘‘ کا صلہ آئے تو اس کے معنی ’’… کا بہت خواہشمند ہونا… کی شدید ررغبت رکھنا، … کا زبردست خیرخواہ ہونا‘‘ ہوتے ہیں۔ مثلاً ’’ حرَص علی الرجُلِ‘‘ (اس نے آدمی سے نفع اور بھلائی کی پُر زور کوشش کی) ۔ اسی فعل سے صفت مشبہ ’’ حرِیْصٌ‘‘ اردو میں ’’ لالچی‘‘ کے معنی میں مستعمل ہے۔ اس میں وہی ’’ شدید خواہش‘‘ اور ’’ ارادے کی زیادتی‘‘ کا مفہوم موجود ہے۔ قرآن کریم میں اس فعل مجرد سے مختلف صیغے صرف تین جگہ آئے ہیں اور اس سے مشتق اسم ’’ حریص‘‘ اور ’’ اَحْرص‘‘ بھی ایک ایک بار وارد ہوتے ہیں۔

 ۔ زیر مطالعہ لفظ (احرص) اس فعل سے صیغۂ افعل التفضیل ہے اور یوں اس کے معنی ’’ سب سے زیادہ حریص/ بہت ہی آرزومند‘‘ ہیں اور اس طرح ’’ اَحْرص الناسِ‘‘ کا ترجمہ ’’ تمام لوگوں سے زیادہ حریص‘‘ یعنی ’ سب لوگوں سے بڑھ کر حریص/ ریجھے ہوئے/ زیادہ ہوس رکھنے والے‘‘ وغیرہ کی صورت میں ہو سکتا ہے اور کیا گیا ہے۔

C ’’ عَلٰی حَیٰوۃٍ‘‘ (زندگی پر)- لفظ ’’ حیٰوۃ‘‘ جس کا مادہ ’’ ح ی ی‘‘ اور وزن اصلی ’’ فَعَلَۃٌ‘‘ ہے‘ کی لغوی وضاحت یعنی فعل مجرد وغیرہ پر تو البقرہ: 26 [ 2: 19: 1 (1)] میں کلمہ ’’ یَسْتحی‘‘ کے ضمن میں بات ہوئی تھی‘ پھر خود لفظ ’’ حَیٰوۃ‘‘ بصورت ’’ الحیوۃ الدنیا‘‘ البقرہ: 85 [ 2: 52: 1 (8)] میں زیر بحث آ چکا ہے۔

 ۔ یوں اس زیر مطالعہ حصۂ آیت [ وَ لَتَجِدَنَّھُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ] کا ترجمہ بنتا ہے ’’ اور تو ضرور پائے گا/ دیکھے گا ان کو سب لوگوں سے بڑھ کر زندگی/ پر حریص/ کی ہوس رکھنے والے/ پر ریجھے ہوئے‘‘ ۔ یعنی اسی دنیوی زندگی اور اس کی نعمتوں کے حد سے زیادہ دلدادہ اور طلبگار۔‘‘

2: 59: 1 (2) [ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا] اس عبارت کے ابتدائی کلمات ’’ وَ‘‘ (اور) ’’ مِنْ‘‘ (میں سے) اور ’’ الذین‘‘ (وہ سب جو کہ) کے معانی سے آپ واقف ہو چکے ہیں۔ بلکہ ان کا تو لغوی تشریح اور استعمال کا گزشتہ حوالہ بیان کرنا بھی غیر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ البتہ نیا لفظ یہاں ’’ اَشْرَکُوْا‘‘ آیا ہے جس کا مادہ ’’ ش ر ک‘‘ اور وزن ’’ اَفْعَلُوْا‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ شرِک … یشرَک شِرکۃً‘‘ (سمع سے) کے معروف معنی ہیں ’’… کا حصہ دار بننا‘‘ اور ایسے آدمی کو ’’ شریک‘‘ کہتے ہیں یعنی ’’ شرِکَہ‘‘ کا مطلب ہے ’’ وہ اس کا (کسی چیز میں) حصہ دار بن گیا۔‘‘ اگرچہ اسی فعل کے معنی ’’ جوتے کا تسمہ ٹوٹ جانا‘‘ بھی ہیں۔ تاہم قرآن کریم میں اس فعل مجرد سے کسی قسم کا صیغۂ فعل کسی بھی معنی میں استعمال نہیں ہوا۔

 ۔ ’’ اَشْرَکُوْا‘‘ اس مادہ سے باب اِفعال کا صیغہ ٔ ماضی جمع مذکر غائب ہے۔ اس باب سے فعل ’’ اَشْرَک … یُشرِکُ اِشراکًا‘‘ کے معنی ہیں: ’’… کو حصہ دار (شریک) بنا لینا۔‘‘ اس کا مفعول بھی بنفسہ آتا ہے۔ جیسے قرآن میں ہے۔ ’’ اشْرِکہ فی اَمْری‘‘ (طہٰ: 32) یعنی ’’ تو اسے میرے کام میں شریک کر دے‘‘۔ جس چیز میں حصہ دار بنایا جائے اس پر ’’ فی‘‘ لگتا ہے جیسے اوپر کی مثال میں ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کے شریک (حصہ دار) بنانے کی بات ہو تو اسم جلالت یا اس کے لیے ضمیر پر ’’ با‘‘ (بِ) کا صلہ لگتا ہے یعنی کہتے ہیں ’’ اَشْرِکْ باللّٰہِ‘‘ ’’ اس نے اللہ کا شریک بنایا‘‘ یا ’’ اس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا۔‘‘ اس شرک کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں مثلاً خدا کی ذات اور اس کی صفات میں شریک بنانا یا سمجھ لینا۔ ’’ اِشراک‘‘ کے یہ معنی اتنے معروف ہیں کہ اگر اس کے ساتھ ’’ باللّٰہ‘‘ نہ بھی لگا ہو تب بھی اس فعل سے ’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا‘‘ ہی مراد ہوتا ہے جیسے زیر مطالعہ صیغہ ’’ اشرَکوا‘‘ کا مطلب ہی یہ ہو گا ’’ انہوں نے شرک کیا اللہ کے ساتھ۔‘‘

 ۔ چونکہ اہل عرب کا قبل از اسلام عام مذہب یہی شرک تھا انہوں نے بتوں وغیرہ کو خدا کے شریک بنا رکھا تھا لہٰذا قرآن کریم میں ان کا عموماً ’’ المشرکون‘‘ (شرک کرنے والے) اور ’’ الذین اشرکوا‘‘ (جنہوں نے شرک کیا) کہہ کر ذکر کیا جاتا ہے۔ اس وقت یہ فعل ایک خاص معنی (ایک گروہ کا مذہب) دیتا ہے۔ اگرچہ اس کے لفظی معنی تو مطلقًا ’’ شرک کرنا‘‘ ہیں یعنی جو بھی جس قسم کا شرک کرتا ہے اور جس چیز یا شخص کو جس معاملے میں بھی اللہ کا شریک یا حصہ دار سمجھ لیتا ہے۔

 ۔ قرآن کریم میں اس مادہ سے زیادہ تر فعل کے صیغے اسی باب اِفعال سے ستر (70) سے زائد جگہ آئے ہیں۔ ایک جگہ باب مفاعلہ کا ایک فعل آیا ہے‘ البتہ مشتق و ماخوذ اسماء میں فعل مجرد اور باب افتعال سے بھی بہت سے کلمات (مثلاً شریک‘ شرکائ‘ مشرک‘ مشترکون وغیرہ) 95 مقامات پر آئے ہیں۔ ان پر مفصل بات حسب موقع ہو گی‘ اِن شاء اللہ تعالیٰ۔

 ۔ زیر مطالعہ عبارت ’’ ومن الذین اَشرکوا‘‘ کا ترجمہ تو بنتا ہے ’’ اور ان لوگوں میں سے جنہوں نے (خدا کے ساتھ) شرک کیا۔‘‘ تاہم اس سے مراد آنحضرت ﷺ کے زمانے کے ’’ مشرکین عرب‘‘ ہیں (اس سے پہلے اس زمانے کے یہودیوں کا ذکر ہوا ہے) اسی لیے بیشتر مترجمین نے یہاں ترجمہ ’’ مشرکوں میں سے‘‘ ہی کیا ہے۔ اس عبارت کے ابتدائی ’’ مِن‘‘ کی وجہ سے اس کا ترجمہ دو طرح کیا جا سکتا ہے۔ اس پر مزید بات آگے حصہ ’’ الاعراب‘‘ میں آئے گی۔

2: 95: 1 (3) [ یَوَدُّا اَحَدُھُمْ]

A ’’ یَوَدُّا‘‘ کا مادہ ’’ ودد‘‘ اور وزن اصلی ’’ یَفْعَلُ‘‘ ہے جس کی اصلی شکل ’’ یَوْدَدُ‘‘ تھی‘ پھر دال متحرکہ ما قبل ساکن ھرف علت (و) کی وجہ سے دال کی حرکت فتحہ (-َ) اس ’’ و‘‘ کو دے کر ساکن ’’ دال‘‘ کا دوسری (آخری) دال میں ادغام کردیا گیا یعنی ’’ یَوْدَدُ = یَوَددُ = یَوَدُّ۔‘‘

 ۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ وَدَّ… یوَدودّاً‘‘ باب سمع اور فتح سے) آتا ہے (یعنی یہ دراصل ’’ وَدِدَ یَوْدَدُ…‘‘ تھا‘ پھر ماضی و مضارع دونوں میں مضاعف کے قاعدے کے مطابق ’’ ودَِ د‘‘ میں پہلی دال کو ساکن کر کے اور ’’ یَوْدَد‘‘ میں دال کی حرکت ’’ و‘‘ کو دے کر - دونوں دال مدغم کر دیئے جاتے ہیں)

 اس فعل کے معنی: ’’… کی آرزو کرنا… کی محبت رکھنا‘‘ یعنی کسی پسندیدہ چیز کے حاصل کرنے کی تمنا یا خواہش کرنا، چاہنا۔‘‘ اس فعل سے ماضی اور مضارع کے مختلف صیغے قرآن کریم میں کل 16 جگہ آئے ہیں اور مزید فیہ کے باب مفاعلہ سے بھی ایک صیغۂ فعل صرف ایک جگہ (المجادلہ: 22) آیا ہے۔ ان کے علاوہ بعض ماخوذ و مشتق کلمات (مثلاً وُدٌّ‘ وَدُود‘ مَودَّۃ اور وَدٌّ وغیرہ) آئے ہیں، جن پر حسب موقع مزید بات ہو گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

B ’’ اَحَدُھُمْ‘‘ لفظ ’’ اَحَدٌ‘‘ کی اصل ’’ وَحَدٌ‘‘ ہے جس میں ’’ وَ‘‘ کو الف میں بدل دیا گیا ہے اور عربی میں ’’ وَ‘‘ کو الف میں بدلنے کی اسماء اور افعال دونوں میں مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً ’’ وُقِّتَ‘‘ کو ’ اُقِّتَ‘‘ (وقت مقرر پر لایا جانا) پڑھتے یا بولتے ہیں (یہ فعل المرسلات: 11 میں بصورت اُقِّتَتْ‘‘ آیا ہے) اسی طرح ’’ وَحَدٌ‘‘ کو ’’ اَحَدٌ‘‘ بولتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض کتب لغت (مثلاً البستان) میں تو مادہ ’’ ا ح د‘‘ پر الگ بات ہی نہیں کی گئی بلکہ اس کے تمام استعمالات کو بھی مادہ ’’ و ح د‘‘ کے تحت ہی بیان کیا گیا ہے۔ تاہم اکثر معاجم و قوامیس (مثل اللسان‘ القاموس‘ المفردات اور الوسیط وغیرہ) میں ’’ ا ح د‘‘ کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے‘ اگرچہ مادہ ’’ ا ح د‘‘ سے نسبتاً کم الفاظ (افعال و اسمائ) استعمال ہوتے ہیں اور ان میں سے بھی زیادہ تر کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’’ الف‘‘ دراصل ’’ و‘‘ سے ہی بدلا ہے۔ جب کہ ’’ و ح د‘‘ وسیع مادہ ہے‘ اس سے زیادہ افعال و اسماء استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً ’’ ا ح د‘‘ سے کوئی فعل مجرد نہیں آتا جب کہ ’’ و ح د‘‘ سے مختلف ابواب سے فعل مجرد ہی متعدد معنی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اور مزید فیہ بھی زیادہ ’’ و ح د‘‘ سے ہی آتے ہیں۔ بہرحال قرآن کریم میں ان دونوں مادوں سے کسی قسم کا کوئی صیغۂ فعل (نہ مجرد نہ مزید فیہ) کہیں استعمال نہیں ہوا۔ قرآن کریم میں ’’ ا ح د‘‘ مادہ سے صرف دو لفظ ’’ اَحَد‘‘ اور ’’ اِحْدی‘‘ مختلف صورتوں (مفرد ومرکب) اور مختلف (اعرابی) حالتوں میں 85 جگہ آئے ہیں۔ جب کہ ’’ و ح د‘‘ مادہ سے چار لفظ (وَحدَہٗ، واحد، واحدۃ اور وحید) مختلف اعرابی حالتوں کے ساتھ 68 جگہ استعمال ہوئے ہیں۔

 ۔ یہاں ہمارا زیر مطالعہ لفظ تو ’’ اَحَدٌ‘‘ ہی ہے جو یہاں مضاف ہو کر آیا ہے۔ اس کا مادہ ’’ ا ح د‘‘ سمجھ لیں (اکثر کتب لغت میں یہ اسی مادہ کے تحت ہی بیان کیا گیا ہے) یا ’’ و ح د‘‘ (کہ اس کی اصلی شکل سب نے ’’ وَحَدٌ‘‘ ہی لکھی ہے) بہرحال اس کا وزن تو ’’ فَعَلٌ‘‘ ہی ہے۔ اس (اَحدٌ) کا اردو ترجمہ ’’ ایک‘‘ سے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے استعمال کو سمجھانے کے لیے ساتھ ایک دوسرے ہم معنی لفظ ’’ واحِدٌ‘‘ کو بھی شامل کرنا پڑتا ہے۔ ’’ واحِدٌ‘‘ کا اردو ترجمہ بھی ’’ ایک‘‘ ہی کیا جا سکتا ہے‘ مگر ان دونوں (جس پر مفسل بات البقرہ: 61 [ 2: 39: 1 (2)] میں گزر چکی ہے) کے استعمال میں فرق ہے اور اس کو سمجھنے سے ہی ’’ اَحَد‘‘ کے معنی واضح ہوتے ہیں۔ اس بارے میں چند اہم امور حسب ذیل ہیں:-

 ۔ ’’ اَحَد‘‘: کی جمع ’’ اَحادد‘‘ (اکائیاں) استعمال ہوتی ہے (جس کا اطلاق اسے 9 تک کے ہندسوں پر ہوتا ہے) ’’ واحد‘‘ (جو ’’ وحد‘‘ سے اسم الفاعل ہے اور جس کا مطلب ہی ’’ ایک‘‘ ہے) کی جمع استعمال نہیں ہوتی ’’ فاحد‘‘ کی مؤنث ’’ اِحْدٰی‘‘ ہے جب کہ ’’ واحد‘‘ کی مؤنث عام قاعدے کے مطابق ’’ واحدۃ‘‘ ہے۔ لفظ ’’ احد‘‘ بطور سفت استعمال نہیں ہوتا بلکہ بطور صفت سرف ’’ واحد‘‘ (یا ’’ واحدۃ‘‘) استعمال ہوتا ہے ’’ رجلٌ اَحَدٌ‘‘ یا ’’ امرأۃ احدی‘‘ نہیں کہتے بلکہ ’’ رجل واحدٌ‘‘ (ایک ہی مرد) یا ’’ امرأۃ واحدۃ‘‘ (ایک ہی عورت) کہیں گے۔

 ۔ دو استعمالات میں ’’ اَحَد‘‘ اور ’’ واحِد‘‘ یکساں ہیں۔ پہلا یہ کہ صفات باری تعالیٰ (یعنی اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام) کے طور پر دونوں استعمال ہوتے ہیں اگرچہ بلحاظ معنی اتنا فرق ہے کہ ’’ الاحدُ‘‘ (یکتا) وہ ہے (یعنی اس لحاظ سے ہے) کہ اس کی ذات میں کوئی شریک نہیں (یعنی خدا بلحاظ ’’ تعداد‘‘ بھی ایک ہی ہے۔ دو یا زیادہ نہیں ہیں) اور ’’ الواحد‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس کی صفات میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں اپنی صفات میں بھی وہ ’’ اکیلا‘‘ ہی ہے۔ دوسرا یکساں استعمال ان دونوں کا بطور عدد ہے۔ اگرچہ ابتدائی عدد (1) کے لیے عربی میں زیادہ تر ’’ واحد‘‘ یا ’’ واحدۃ‘‘ استعمال ہوتا ہے‘ مثلاً کہیں گے ’’ واحد، اثنان … الخ یا (مؤنث) واحدۃ‘ اثنتانِ … الخ۔ تاہم ’’ گیارہ‘‘ کے لیے ’’ اَحَدَ عشَرَ‘‘ برائے مذکر یا ’’ اِحْدٰی عَشْرَۃٌ‘‘ برائے مؤنث استعمال ہوتا ہے اور آگے دہائیوں کے ساتھ ’’ اَحَدٌ و عشرون‘‘ یا ’’ واحدٌ و عشرون‘‘ اور مؤنث کی صورت میں ’’ احدی و عشرون‘‘ یا ’’ واحدۃٌ و عشرون‘‘ بولتے اور لکھتے ہیں (اسی طرح باقی دہائیوں مثلاً ثلاثون‘ اربعون وغیرہ کے ساتھ ہو گا)

 ۔ مندرجہ بالا دو استعمالات (صفت باری تعالیٰ ہونا یا مطلقًا عدد ہونا) کے علاوہ باقی تمام چیزوں میں ’’ احد‘‘ اور ’’ واحد‘‘ کا استعمال مختلف ہے‘ خصوصًا یہ کہ ’’ احد‘‘ ہمیشہ استغراق اور جنس کی نفی میں استعمال ہوتا ہے (یعنی تھوڑے یا بہت سب کے نہ ہونے کے لیے) جب کہ ’’ واحد‘‘ اثبات کے لیے آتا ہے مثلاً کہیں گے ’’ ما فی الدار اَحَدٌ‘‘ (گھر میں کوئی ایک مرد یا عورت بھی نہیں ہے) اگر کہیں ’’ ما فی الدار واحدٌ‘‘ تو یہ پوری طرح نفی کے معنی نہیں دے گا بلکہ مطلب ہو گا ’’ گھر میں صرف ایک (مرد) نہیں (بلکہ زیادہ ہیں) ’’ البتہ اثبات میں کہیں گے ’’ فی الدار واحد‘‘ (گھر میں ایک (مرد) موجود ہے) اس (اثبات) کے لیے ’’ فی الدار اَحَدٌ‘‘ کہنا غلط ہو گا‘ البتہ مضاف ہو کر استعمال ہو سکتا ہے‘ مثلاً ’’ فی الدار احدھم‘‘ یعنی ’’ ان میں سے ایک گھر میں موجود ہے۔‘‘

 ۔ اسی چیز کو اردو میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ’’ اَحَدٌ‘‘ کا ترجمہ ’’ کوئی ایک بھی‘‘ ہو گا جب کہ ’’ واحدٌ‘‘ کا ترجمہ صرف ’’ ایک یا ایک ہی‘‘ ہو سکتا ہے۔ (اردو میں اس ’’ ہی‘‘ اور ’’ بھی‘‘ میں وہی اثبات اور نفی کا فرق ہے۔

 ۔ ’’ اَحَد‘‘ مذکر مؤنث واحد جمع سب کے لیے استعمال ہوتا ہے جب کہ ’’ واحد‘‘ اس طرح استعمال نہیں ہوتا۔ مثلاً قرآن کریم میں ہے ’’ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِنَ النِّسَائِ‘‘ (الاحزاب: 32) جس میں آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات (سب) کو کہا گیا ہے کہ ’’ تم عورتوں میں کسی ایک بھی جیسی نہیں ہو‘‘ یعنی ’’ کَوَاحِدَۃٍ مِنَ النِّسَائ‘‘ یا (تم عام عورتوں جیسی نہیں ہو) ۔ بلحاظ معنی یہاں ’’ اَحَد‘‘ جمع مؤنث (النِّسَاء یعنی عورتوں) کے ساتھ آیا ہے۔ دوسری جگہ ہے ’’ مَا کَانَ مُحَمَّدً اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ‘‘ (الاحزاب: 40) یعنی ’’ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی ایک کے بھی باپ نہیں ہیں‘‘ یہاں یہ ’’ اَبَا وَاحِدٍ مِن رِجَالِکُمْ‘‘ کے معنی میں ہے۔ یہاں ’’ احد‘‘ جمع مذکر کے ساتھ آیا ہے۔ گویا ’’ احد‘‘ ان دو آیتوں میں ’’ واحد‘‘ اور ’’ واحدۃ‘‘ دونوں کی جگہ آیا ہے۔

 ۔ لفظ ’’ احدٌ‘‘ اکیلا (مفرد) بھی استعمال ہوتا ہے مگر اس کا مؤنث ’’ اِحدٰی‘‘ اکیلا استعمال نہیں ہوتا بلکہ وہ ہمیشہ کسی عدد کے ساتھ یا کسی ضمیر کی طرف مضاف ہو کر ہی استعمال ہوتا ہے۔

 ۔ ’’ احدٌ‘‘ کبھی شئ (چیز) کے معنی بھی دیتا ہے‘ خصوصًا جب اس کے شروع میں ’’ مِن‘‘ لگا ہو‘ مثلاً ’’ مَا فی الدار مِن احدٍ‘‘ کا مطلب ہو گا ’’ گھر میں عاقل یا غیر عاقل کوئی شے نہیں ہے۔‘‘

 ۔ اس طرح یہاں (زیر مطالعہ عبارت میں) ’’ اَحدُھم‘‘ کے معنی ہیں ’’ ان میں سے کوئی ایک‘‘ مگر یہاں یہ کسی منفی جملے کے بعد نہیں آیا کہ اس کا ترجمہ ’’ کوئی ایک بھی‘‘ کیا جائے‘ بلکہ ایک مثبت جملے ’’ یَوَدُّ‘‘ کے ساتھ آیا ہے اور ’’ احد‘‘ بھی مضاف ہو کر آیا ہے۔ مفرد وہ صرف نفی کے ساتھ آتا ہے لہٰذا یہاں اس کا مفہوم ہے ’’ ان میں سے جس ایک کو بھی دیکھیں وہ یہی چاہتا ہے۔‘‘ اس طرح یہاں ’’ احدُھُمْ‘‘ کا ترجمہ بنے گا ’’ ان میں سے ہر ایک۔‘‘ اور یوں اس پوری عبارت (یود احدھم) کا ترجمہ بنے گا ’’ چاہتا ہے ان کا کوئی ایک بھی‘‘۔ اسی کو با محاورہ بنانے کے لیے ترجمہ کو ’’ ایک ایک چاہتا ہے ان میں سے‘ ان کا ہر ایک آرزو کرتا ہے‘‘۔ ’’ ان میں سے ہر ایک کی یہی خواہش ہے‘‘۔ ’’ ان میں کا ایک ایک اس ہوس میں ہے‘‘ کی شکل دی گئی ہے۔ ایک مترجم نے ’’(مشرکوں) میں سے ایک کو تمنا ہے‘‘ کیا ہے۔ ممکن ہے کاتب نے غلطی سے ’’ ایک ایک کی بجائے ’’ ایک‘‘ ہی لکھ دیا ہو‘ البتہ اس پر مزید بات ’’ الاعراب‘‘ میں ہوگی۔

2: 59: 1 (4) لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَۃٍ

 اس عبارت میں تین الفاظ نئے ہیں۔ تفصیل یوں ہے:

A ’’ لَوْ‘‘ یہاں ’’ کاش کہ‘‘ کے معنی میں ہے جو تمنا کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے اور فعل ’’ وَ یَوَدُّ‘‘ کے لیے بطور مفعول آنے والے جملے کے شروع میں آتا ہے۔ ’’ لَوْ‘‘ کے مختلف استعمالات اور ان کے مطابق اس کے اردو تراجم پر البقرہ:20 [ 2:15:1 (7)] میں بات ہونی تھی اور آگے ’’ الاعراب‘‘ میں بھی ہو گی۔

B ’’ یُعَمَّرُ‘‘ کا مادہ ’’ ع م ر‘‘ اور وزن ’’ یُفَعَّلُ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ عمَر … یَعْمر عِمارۃ‘‘ (نصر سے) کے معنی ہیں … کو آباد کرنا۔ مثلاً کہتے ہیں’’ عمَر ارضَہ‘‘ (اس نے اپنی زمین آباد کی) یا ’’ عمَر القومُ المکانَ‘‘ (لوگوں نے اس جگہ سکونت اختیار کی) اور اسی فعل کے معنی (عَمْراً مصدر کے ساتھ) ’’… کو عمر دینا‘‘ بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ عمر اللّٰہُ فلانًا‘‘ (اللہ نے فلاں کی زندگی دراز کی) ۔ لفظ ’’ عُمْر‘‘ میں بھی ایک طرح سے ’’ بدن کی عمارت (آبادی) کی مدت‘‘ کا مفہوم موجود ہے۔ عربی میں یہ لفظ دو طرح استعمال ہوتا ہے ’’ عُمُر‘‘ اور ’’ عَمْر‘‘ دونوں کا مطلب عمر یا ’’ زندگی کی مدت‘‘ ہی ہے‘ تاہم عربی میں قسم کے موقع پر ’’ عَمْر‘‘ استعمال ہوتا ہے‘ جیسے ’’ لَعَمْرُکَ‘‘ (تیری زندگی کی قسم) ۔ یہ لفظ الحجر: 72 میں استعمال ہوا ہے۔ عام استعمال (قسم کے علاوہ) ’’ عُمُر‘‘ (میم کے ضمہ کے ساتھ) ہے۔ جو قرآن کریم میں بھی سات جگہ آیا ہے۔

 ۔ فعل ’’ عمَر یعمُر‘‘ بعض دفعہ بطور فعل لازم بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً ’’ عمرَ الرجلُ عَمْراً‘‘ کا مطلب ہے ’’ اس آدمی نے (لمبی) عمر پائی‘‘۔ اور ’’ عمَر المنزِلُ باَھلہ‘‘ کے معنی ہیں ’’ منزل اپنے رہنے والوں سے آباد ہو گئی‘‘۔ اور ’’ عمَر المالُ یا عمُر المال (اکرم سے) کے معنی ہیں ’’ مال زیادہ ہو گیا‘‘۔ قرآن کریم میں اس فعل مجرد سے ماضی مضارع کے صیغہ ہائے فعل کل چار جگہ آئے ہیں اور مزید فیہ کے ابواب تفعیل‘ افتعال اور استفعال سے مختلف صیغہ ہائے فعل سات جگہ آئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس مادہ سے ماخوذ اور مشتق کلمات (مثلاً عمر‘ معمور‘ معمّر‘ العمرۃ‘ عمارۃ‘ عمران وغیرہ) بھی 16 جگہ وارد ہوئے ہیں ان پر اپنے اپنے موقع پر مزید بات ہو گی‘ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

 ۔ زیر مطالعہ لفظ ’’ یُعَمَّرُ‘‘ اس مادہ سے باب تفعیل کے فعل مضارع مجہول کا صیغہ ) واحد مذکر غائب) ہے۔ باب تفعیل سے اس کے فعل ’’ عَمَّر … یُعَمِّرُ تعمِیْرًا‘‘ کے معنی ’’… کو لمبی عمر دینا‘‘ بھی ہوتے ہیں اور ’’… کو آباد کرنا‘‘ بھی۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ عَمَّر اللّٰہُ فلانٍا‘‘ (اللہ نے اسے لمبی عمر دی) اور عمَّر المنزلَ اھلُھا یا عمَّرَ الارضَ کا مطلب ہے ’’ گھر والوں نے منزل (گھر) کو آباد کیا‘‘ یا ’’ اس نے زمین کو آباد کیا‘‘ یعنی اس پر مکان بنا کرسکونت اختیار کی۔ زیر مطالعہ لفظ کے بعد چونکہ ایک مدت کا ذکر ہے لہٰذا یہاں اس (یُعَمَّرُ) کا مطلب ہے ’’ اس کو (لمبی) عمر دی جائے‘‘ ویسے تو ’’ یُعَمَّر‘‘ کے معنی ہیں ’’ لمبی عمر دیا جاتا ہے یا دیا جائے گا‘‘۔ مگر ابتداء میں ’’ تمنا‘‘ کا حرف ’’ لَوْ‘‘ آ جانے کی وجہ سے ترجمہ ’’ عمر دی جائے‘‘ کے ساتھ ہو گا۔

C ’’ اَلْفَ‘‘ کا مادہ ’’ ا ل ف‘‘ اور وزن ’’ فَعْلٌ‘‘ ہے (جو عبارت میں منصوب اور خفیف آیا ہے‘ وجہ ’’ الاعراب‘‘ میں بیان ہوگی) اس مادہ سے فعل مجرد ’’ اُلَف… یألِفُ اَلْفًا‘‘ (ضرب سے) کے معنی ہیں: ’’… کو ایک ہزار دینا‘‘ اور ’’ الِفَ … یألَفُ اَلْفًا و اِلافًا‘‘ (سمع سے) کے معنی ہوتے ہیں: ’’… سے محبت کرنا … کے ساتھ اُنس اور الفت رکھنا‘ مانوس ہونا‘‘۔ اس سے اسم الفاعل اَلِفٌ (محبت کرنے والا) اور صفت مشبہ ’’ اَلِیْف‘‘ (بمعنی بہت مانوس‘ دوست) استعمال ہوتا ہے۔ تاہم قرآن کریم میں یہ فعل مجرد کسی طرح اور کہیں استعمال نہیں ہوا۔ البتہ مزید فیہ کے باب تفعیل سے فعل کے کچھ صیغے پانچ جگہ آئے ہیں اور بعض مشتق و ماخوذ کلمات (المؤلّفہ‘ ایلاف‘ الف‘ اَلاف‘ الوفوغیرہ) سترہ جگہ آئے ہیں۔ ان پر حسب موقع بات ہو گی‘ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

 ۔ زیر مطالعہ لفظ ’’ اَلْفٌ‘‘ اسی مادہ سے ماخوذ ایک لفط ہے۔ اور عربی میں اس سے مراد ’’ ایک ہزار‘‘ ہوتا ہے‘ یعنی یہ ایک اسم عدد ہے جس کے استعمال کے کچھ قواعد ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہ اپنے معدود (تمیز) کی طرف مضاف ہو کر استعمال ہوتا ہے (اس لیے خفیف استعمال ہوتا ہے) اور اس کا مورود (جسے تمیز کہتے ہیں) ہمیشہ واحد نکرہ اور مجرور آتا ہے۔ اگر گنتی میں اَلْف کی جمع آئے (مثلاً تین ہزار‘ دس ہزار وغیرہ) تو لفظ ’’ آلاف‘‘ استعمال ہوتا ہے اور اگر بغیر مقرر گنتی کے ’’ ہزاروں‘‘ کہنا ہو تو پھر اس کی جمع ’’ اُلُوف‘‘ استعمال ہوتی ہے۔ قرآنن کریم میں لفظ ’’ الف‘‘ دس جگہ آیا ہے اور اس کا تثنیہ (اَلفین کی صورت میں) صرف ایک جگہ جمع ’’ اَلاف‘‘ دو جگہ اور دوسری جمع (الوف) بھی صرف ایک ہی جگہ آنی ہے۔

D ’’ سسَنَۃٍ‘‘ کا مادہ ’’ س ن ھ‘‘ بھی ہو سکتا اور ’’ س ن و‘‘ بھی۔ اکثر کتب لغت میں اسے ان دونوں مادوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ اور صاحب القاموس نے ’’ س ن و‘‘ کو ترجیح دی ہے (اگرچہ بیان دونوں جگہ کیا ہے) اس کا اصلی وزن ’’ فَعْلَۃٌ‘‘ ہے۔ اصلی شکل یا تو ’’ سَنَھَۃٌ‘‘ تھی یا ’’ سَنَوَۃٌ‘‘ ۔ پھر خلاف قیاس لام کلمہ والی ’’ لا‘‘ یا ’’ و‘‘ کو حذف کردیا گیا جس طرح ’’ شَفَھَۃٌ/ شَفَوَہٌ سے شَفَۃٌ (ہونٹ) بنا ہے۔

 ۔ ’’ س ن ہـ‘‘ مادہ سے فعل مجرد ’’ سَنِہَ یَسْنَہُ سَنَھًا‘‘ (سمع سے) کے معنی ہیں ’’ بدبودار ہونا‘ ذائقہ اور بو بدل جانا‘‘ زیادہ تر اس کا استعمال کھانے پینے کی چیزوں پر ہوتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں: ’’ سَنِہَ الطعامُ اوِ الشرابُ‘‘ (کھانا یا مشروب بد بودار ہو گیا) اور اس کا مطلب ’’ کسی چیز پر کئی برس گزر جانا‘‘ بھی ہوتا ہے اور ان ہی معانی کے لیے یہ مزید فیہ کے باب مفاعلہ اور تفعل سے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بلکہ قرآن مجید میں بھی اس کے باب تفعل سے ایک صیغہ فعل ایک جگہ آیا ہے۔

 ۔ اور ’’ س ن و‘‘ مادہ سے فعل مجرد ’’ سنا یسنُوْ (سنوَ یَسْنُوْ) سَنْوًا‘‘ (نصر سے) کے معنی ہیں:’’ چمکنا، روشن اور بلند ہونا‘‘۔ زیادہ تر اس کے ساتھ ’’ البرق‘‘ (بجلی) یا ’’ النار‘‘ (آگ) فاعل ہو کر استعمال ہوتے ہیں یعنی ’’ سَنا البرقُ اَو النارُ‘‘ (بجلی یا آگ کی روشنی نمودار ہوئی) تاہم یہ بعض دوسرے معانی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً ’’ سَنا البابَ‘‘ (اس نے دروازہ کھول دیا) یا ’’ سَنا الدَلُوَ‘‘ (اس نے ڈول کھینچ کر (کنوئیں سے) باہر نکالا) گویا یہ لازم و متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ بلکہ ان معنوں کے لیے یہ ’’ یائی اللام‘‘ (س ن ی) مادہ سے بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً ’’ سَنَی (یَسْنِی سَنْیًا) البابَ‘‘ (ضرب سے) کے معنی بھی ’’ دروازہ کھولا‘‘ ہی ہوتے ہیں اور ’’ سِنَی یَسْنَی سَنَائً‘‘ (سمع سے) کے معنی ’’ بلند (مرتبت) ہونا‘‘ بھی ہوتے ہیں اور اس (یائی) مادہ سے بھی باب تفعل میں فعل ’’ تَسَنَّی‘‘ کے معنی بھی ’’ بدل جانا‘‘ (ذائقہ یا بُو) ہوتے ہیں۔ گویا اس لحاظ سے فعل ’’ تَسَنَّہَ‘‘ اور ’’ تَسَنَّی‘‘ کا مطلب ایک ہی ہے۔

 ۔ قرآن کریم میں ان مادوں (سنو‘ سنہ یا سنی) سے کسی قسم کا فعل مجرد کہیں استعمال نہیں ہوا۔ اور مزید فیہ سے بھی صرف باب تفعل کا ایک ہی صیغہ صرف ایک جگہ (البقرہ: 259) میں آیا ہے جو (جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے) ’’ سنہ‘‘ سے بھی ہو سکتا ہے اور ’’ سنی‘‘ سے بھی۔ (اس پر مزید بات حسب موقع ہوگی ان شاء اللہ تعالیٰ) ۔ ان مادوں سے ماخوذ الفاظ (سنا۔ سَنَۃ اور سنین) اور قرآن کریم میں بیس جگہ آئے ہیں۔

 ۔ زیر مطالعہ لفظ ’’ سَنَۃ‘‘ بھی ’’ سنو‘‘ یا ’’ سنہ‘‘ سے بنا ہے۔ اس کا مطلب ہے ’’ ایک سال‘‘ اور بعض دفعہ اس سے مراد ’’ قحط والا سال‘‘ لیا جاتا ہے۔ لفظ ’’ سنہ‘‘ کی جمع ’’ سَنَھات‘ سنوات اور سِنون‘‘ آتی ہے۔ ان میں سے قرآن کریم میں صرف آخری جمع سالم مذکر مجرور یا منصوب صورت میں (سِنِیْن) بکثرت استعمال ہوئی ہے جو مطلق برسوں کے علاوہ ’’ قحط والے برسوں‘‘ کے لیے بھی آیا ہے۔ باقی دو جمعیں قرآن میں نہیں آئیں۔

 ۔ اس طرح (مفردات کی اس وضاحت کی بناء پر) اس پوری عبارت (لَو یُعمَّرُ اَلْفَ سنۃٍ) کا ترجمہ ہوا ’’ کاش کہ اس کو (لمبی) عمر دی جائے ایک ہزار سال‘‘۔ اسی کو بامحاورہ کرنے کے لیے ’’ کہ عمر پاوے ایک ہزار برس: کہ اس کی عمر ہزار برس کی ہو جاوے: اے کاش اس کی عمر ہزار برس ہو: کہ کہیں ہزار بر جیے: کاش جیتا رہے ہزار برس: کاش وہ ہزار برس جیتا رہے: کہ ہزار (ہزار) برس کی عمر پائے‘‘ کی صورت دی گئی ہے۔ اس میں محاورے ہی کی وجہ سے بہت سے حضرات نے ’’ لَوْ‘‘ (کاش کہ) کا ترجمہ نظر انداز کردیا ہے، کیونکہ اردو کا فعل اس مفہوم کو اپنے اندر رکھتا ہے۔ اسی طرح ’’ یُعَمَّر‘‘ کے فعل مجہول ہونے کو بھی تراجم میں ظاہر نہیں کیا گیا کیونکہ ’’ عمر پانا‘‘ میں ’’ عمر دیئے جانا‘‘ کا مفہوم آ جاتا ہے۔ اور ’’ جینا‘‘ یا ’’ جیتے رہنا‘‘ یا ’’ عمر کا ہو جانا‘‘ بھی بلحاظ مفہوم درست ہیں، اگرچہ اصل لفظ (نص) سے ذرا ہت کر ہیں۔

2: 59: 1 (5) وَ مَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِہٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُعَمَّرَ

 عبارت میں نیا وضاحت طلب لفظ ’’ بِمُزَحْزِحِہٖ‘‘ ہے، بلکہ اس کی ابتدائی ’’ با (ب)‘‘ کا تو کوئی ترجمہ نہیں ہو گا، کیونکہ یہ وہ ’’ با (ب)‘‘ ہے جو ’’ مَا‘‘ الحجازیۃ (نافیہ) کی خبر پر آتی ہے۔ دیکھیے [ 2: 2: 1 (5)] میں --- اور آخری ضمری مجرور (ہ) بھی یہاں بمعنی ’’ اس کو‘‘ ہے۔ باقی کلمات بھی پہلے گزر چکے ہیں‘ ان کا صرف ترجمہ لکھ دینا کافی ہے۔ مثلاً ’’ وَ‘‘ (’’ اور‘‘ یا ’’ حالانکہ‘‘) [ دیکھیے [ 1:4: 1 (3)]۔ ’’ مَا‘‘ (نہیں ہے) الحجازیہ کا حوالہ ابھی اوپر بیان ہوا ہے۔ ’’ ھُوَ‘‘ (وہ) معروف ضمیر ہے۔ ’’ مِن‘‘ (سے) کی وضاحت چاہیں تو [ 2:2:1 (5)] میں دیکھ لیجیے۔ ’’ العذاب‘‘ (سخت سزا۔ عذاب) کی لغوی تشریح البقرہ: 7 [ 2:6؛1 (6)] میں گزر چکی ہے اور ’’ اَن‘‘ (یہ کہ) یا صرف ’’ کہ‘‘ پر [ 2:19:1: (2)] میں بات ہوئی تھی اور آخری لفظ ’’ یُعَمَّرَ‘‘ پر تو ابھی اسی قطعہ میں اوپر [ 2:59:1 (4)] میں بات ہوئی ہے۔

 ۔ اس طرح نیا لفظ یہاں ’’ مُزَحْزِحٌ‘‘ ہے (جو عبارت میں مجرور اور خفیف آیا ہے‘ اس کی وجہ ’’ الاعراب‘‘ میں بیان ہوگی) ۔ یہ رباعی (چار حرفی مادہ ’’ ز ح ز ح‘‘ سے ہے۔ بلکہ دراصل تو اس کا تعلق ثلاثی مادہ ’’ ز ح ح‘‘ سے ہے کیونکہ اس ثلاثی مادہ سے فعل مجرد ’’ زَخّ… یَزُخُّ زَحًّا‘‘ (نصر سے) کے معنی ’’… کو اپنی جگہ سے ہٹا دینا‘‘ ہوتے ہیں اور رباعی فعل ’’ زَحْزَح… یُزَحْزِحُ زَحْزَحَۃً‘‘ کے معنی بھی ’’…کو دور کر دینا، …کو پرے سرکا دینا‘‘ ہوتا ہے۔ اور جس چیز سے دور کردیا جائے اس پر ’’ عن‘‘ کا صلہ بھی لگتا ہے اور ’’ مِن‘‘ بھی‘ اور قرآن کریم میں اس کے ساتھ دونوں صلوں کا استعمال آیا ہے۔ قرآن کریم میں اس فعل سے ماضی مجہول کا ایک صیغہ صرف ایک جگہ (آل عمران: 185) آیا ہے۔

 ۔ زیر مطالعہ ’’ مُزَحْزِحٌ‘‘ اس فعل سے صیغۂ اسم الفاعل ہے اور اس کا مطلب (ترجمہ) ہے ’’ دور کر دینے والا سر کا دینے والا‘‘ جس کا بامحاورہ ترجمہ بعض نے ’’ بچانے والا نجات دینے والا‘‘ سے کیا ہے اور بعض نے اس ترجمہ صیغۂ فعل ’’ مُزَحْزِحٌ‘‘ (چھڑا سکنا۔ بچا سکنا، دور کرنا وغیرہ ) سے ہی کرلیا ہے جیسا کہ ابھی بیان ہو گا۔

 ۔ اس طرح اس زیر مطالعہ عبارت’’ و ما ھو بمزحزحہ من العذاب ان یعمر‘‘: کا لفظی ترجمہ بنا ’’ حالانکہ نہیں ہے وہ دور کرنے والا اس (آدمی) کو عذاب سے کہ اس کو لمبی عمر دی جائے۔‘‘ اس پر مزید بات تو ’’ الاعرب‘‘ میں آئے گی، سردست اتنا بتا دینا ضروری ہے کہ یہاں ’’ ھو‘‘ (وہ) اور ’’ اَنْیُعَمَّرَ‘‘: (کہ وہ زیادہ عمر پائے) ایک دوسرے کے لیے ہی آئے ہیں اور عبارت کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ’’ وہ چیز یعنی زیادہ عمرماپا اس (آدمی) کو عذاب سے دور کر دینے والا نہیں ہے ہو گا۔‘‘ اس مفہوم کو ظاہر کرنے کے لیے مترجمین نے مندرجہ بالالفظی ترجمہ کو بامحاورہ کرنے کے لیے کس کس طرح ترجمہ کیا ہے اس کا اندازہ تراجم کے درج ذیل تقابلی مطالعہ سے ہو گا جس سے آپ یہ بھی دیکھ سکیں گے کہ کون بامحاورہ اور لفظ ترجمہ دونوں کا توازن بر قرار رکھ سکا ہے اور کون محاورہ یا مفہوم کی وضاحت کے لیے اصل الفاظ سے کتنا دور گیا ہے، کیونکہ بلحاظ مفہوم تو یہ سب تراجم درست ہی ہیں مثلاً:

 ۔ نہیں اس کو بچانے والا عذاب سے اس قدر جینا/ نہیں اس کو نجات دینے والا عذاب سے اس قدر جینا اتنی عمر پانا/ اتنی عمر دینے جانا۔‘‘ اس میں’’ مزحزح‘‘ کا لفظی ترجمہ دور ہٹانے والا‘ کی بجائے ’’ بچانے والا‘‘ نجات دینے ولا کیا گیا ہے ان معنی کے لیے الگ عربی لفظ (مثلا ’’ وَ فی یقیِ یا انجی یُنجی‘‘ سے اسم الفاعل آتے ہیں مگر یہاں محاورے کی بناء پر یہ ترجمہ اختیار کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس میں فعل مجہول کے صیغۂ مضارع کی بجائے مصدری صورت میں ترجمہ عمر دیا جانا‘ (یا جینا عمر پانا) سے کیا گیا ہے۔ اس’’ عمر دیا جانا‘‘ میں مجہول فعل کا مفہوم موجود ہے اور مصدر کے ساتھ ترجمہ کرنے کی وجہ یہاں ’’ اَن‘‘ : جا استعمال ہے [ ’’ اَنُ‘‘ کے مصدری استعمال کے لیے دیکھئے البقرہ: [ 2:19:1 (2)]

 بہت سے مترجمین نے ’’ مُزَحُزِحٌ‘‘ (اسم الفاعل) کا ترجمہ فعل مضارع ’’ یُزَحْزِحٌ ‘‘ کی طرح کردیا ہے‘ مثلاً اور کچھ اس کو سرکانہ دے گا عذاب سے (اِتَّا جینا اس قدر جینا‘‘ وہ اسے عذاب سے دُور نہ کرے گا اتنی عمر دیا جانا‘‘ یا ’’ حالانکہ اتنی عمر پانا (بھی) اس کو عذاب سے نہیں چھڑا سکتا‘‘ ان ترجموں (اتنی عمر اس قدر جینا) میں ’’ اتنی‘‘ اور اس قدر سے اشارہ ہزار برس جینے کی تمنا کی طرف ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے۔ ورنہ اصل عربی عبارت میں اس ’’ اتنی‘‘ اور ’’ اس قدر‘‘ کے لیے کوئی لفظ نہیں ہے۔ اسی ہزار برس کی عمر کی تمنا کو سامنے رکھتے ہوئے بعض نے ’’ اَنْ یُعَمّر‘‘ کا ترجمہ اتنی لمبی عمر اس کو مل بھی جائے‘‘ اور اتنی عمر وہ پا بھی جائے‘‘ (تو یہ اسے عذاب سے تو نہیں چھڑا سکتی : تو نہیں بچا سکتی) کی صورت میں کیا ہے یہ اسم الفاعل کا ترجمہ فعل کے صیغے کی طرح کرنا اردو محاورے کی مجبوری ہے۔ اسی طرح مل بھی جائے اور پا بھی لے‘‘ میں’’ بھی‘‘ کا استعمال بھی اردو محاورے کے لیے ہی ہے۔ بعض نے ابتدائی ’’ ھو‘‘ کا ترجمہ ’’ یہ امر‘‘ سے کیا ہے‘ یعنی ’’ یہ امر عذاب سے تو نہیں بچا سکتا کہ (کسی کی) بڑی عمر ہو جائے‘‘ یہاں بھی ’’ عمر لمبی دیا جائے‘‘ کی بجائے‘‘ بڑی عمر ہو جاوے‘‘ سے ترجمہ اردو محاورے کے لحاظ سے ہی درست ہے اور بعض نے اس کا ترجمہ کیا ہے ’’ حالانکہ اتنی مدت جینا بھی ہے تو بھی یہ درازی عمر اس کو عذاب سے نجات دینے والی نہیں‘‘ جو مفہوم کے اعتبار سے تو عمدہ ہے مگر اصل الفاظ سے بہت دور ہو گیا ہے۔

 اس کی بجائے اوپر یہی مفہوم رکھنے والے مختصر تراجم پر نظر ڈال لیجیے (مثلاً اتنی عمر پانا بھی اس کو عذاب سے نہیں چھڑا سکتا) ان تراجم میں ’’ بچا سکنا۔ چھڑا سکنا‘‘ وغیرہ میں یہ ’’ سکنا‘‘ کا اضافہ بھی اردو محاورے کے مطابق نفی کے زور کو ظاہر کرنے کے لیے کرنا پڑا ہے۔

2:59:1 (6) وَاللّٰہُ بَصِیرٌ بِمَا یَعْمَلُوْنَ

 اس عبارت میں بلحاظ اصل تو کوئی لفظ بھی نیا نہیں، البتہ بلحاظ استعمال اور ساخت کلمات کی وضاحت کی ضرورت ہو گی۔

A ’’ وَاللّٰہُ‘‘ میں ’’ وَ‘‘ استیناف کی ہے، یعنی یہاں سے ایک الگ مضمون شروع ہوتا ہے۔ اسی لیے اس سے سابقہ عبارت کے آخر پر وقف مطلق کی علامت (ط) ڈالی جاتی ہے۔ اب اس ’’ وَ‘‘ کا اردو ترجمہ تو اور ہی کیا جاتا ہے مگر مفہوم اس میں اور یہ بات بھی قابل ذکر یا قابل غور ہے کہ کا ہوتا ہے

B ’’ بَصِیْرٌ‘‘ کے معنی ہیں ’’ خوب دیکھنے والا ہر قت دیکھنے والا۔‘‘ کیونکہ یہ صفت شبہ ہے اس کا مادہ ’’ ب ص ر‘‘ اور وزن ’’ فَعِیْلٌ‘‘ ہے اس مادہ سے فعل مجرد (بصِر اور بصُر) کے معنی دیکھنا دیکھ لینا اور اس کے ساتھ ’’ با‘‘ (ب) کے صلہ کے استعمال پر (یعنی ’’ بصِرَہ اور بصُرہ بہ‘‘ کے معنی پر مفصل بات البقرہ:7 [ 2:6:1 (4)] میں کلمہ ’’ ابصار‘‘ کے ضمن میں گزری تھی۔ اور پھر البقرہ 17 [ 2:13:1 (11) ]میں بھی کچھ بات ہوئی تھی۔

C ’’ بِمَا‘‘ (اس کو جو کہ) ۔ اس کی ’’ با (ب)‘‘ تو وہی ہے جو فعل ’’ بصُربہ‘‘ میں مفعول سے پہلے بطور صلہ آتی ہے اور ’’ مَا‘‘ موصولہ ہے۔ فعل کے ساتھ اگر کوئی صلہ استعمال ہوتا ہو تو وہ صلہ اس فعل سے بننے والی صفت مشبہ کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی یہاں ’’ بصیر بما‘‘ ایک طرح سے ’’ یبصُرْ بما‘‘ کے برابر ہے۔ البتہ فعل کی بجائے صفت مشبہ کے استعمال میں دوام و استمرار اور قدرے مبالغہ کا مفہوم ہوتا ہے‘ مثلاً ’’ یبصُر بِما‘‘ کا ترجمہ ہوتا ’’ وہ دیکھ لیتا ہے اسے جو‘‘ مگر اب ’’ بصیر بما‘‘ کا ترجمہ ہو گا: ’’ وہ خوب اچھی طرح اور ہر وقت دیکھنے والا (یعنی دیکھتا رہتا) ہے اس کو جو کہ۔‘‘

D ’’ یَعْمَلُوْنَ‘‘ کے فعل ’’ عمِل یَعْمَل عَمَلاً‘‘ (کام کرنا۔ عمل کرنا) کے مادہ (ع م ل) اور باب وغیرہ کے استعمال پر البقرہ:25 [ 2:18:1 (2)] میں بات ہوئی تھی ’’ یَعْمَلُوْنَ‘‘ کا ترجمہ ہو گا ’’ وہ عمل کرتے ہیں‘ وہ کام کرتے ہیں۔‘‘

 ۔ اس طرح زیر مطالعہ جملے (واللّٰہ بصیر بما یعملون) کا لفظی ترجمہ ہو گا ’’ اللہ تعالیٰ خوب ہر وقت دیکھنے والا ہے اس کو جو عمل وہ کرتے ہیں‘‘۔ یہاں بھی اردو محاورے کے لیے تقریباً تمام مترجمین نے ’’ بصیر‘‘ کا ترجمہ صفت مشبہ کی طرح کرنے کی بجائے صیغۂ فعل ’’ یبصُر‘‘ کی طرح کردیا ہے یعنی ’’ اللہ دیکھتا ہے‘‘ کی صورت میں۔ البتہ بیشتر حضرات نے صفت مشبہ کے استمرار اور دوام کے مفہوم کو ’’ دیکھ رہا ہے‘‘ کی صورت میں ظاہر کیا ہے، بلکہ بعض نے اسی لیے ’’ خوب دیکھ رہا ہے‘‘ سے ترجمہ کیا ہے اور بعض نے ’’ حق تعالیٰ کے پیش نظر ہیں‘‘ کی صورت میں ترجمہ کیا ہے۔ اس ’’ پیش نظر‘‘ میں (ہر وقت نظر کے سامنے رہنا) کا مفہوم موجود ہے۔ اسی طرح ’’ بما یعملون‘‘ (جو کچھ وہ کرتے ہیں اس کو) کا ترجمہ بھی بعض نے تو ’’ جو کچھ: جو وہ کرتے ہیں، جو کام وہ کرتے ہیں‘‘ سے ہی کیا ہے۔ بعض نے اس میں بھی ’’ کر رہے ہیں‘‘ کے ساتھ ترجمہ کیا ہے۔ یعنی ان کے ہر وقت کے عمل۔ بعض نے ’’ بما یعملون‘‘ کی (’’ ما‘‘ کے مصدریہ استعمال کے لیے دیکھیے البقرہ: 75 [ 2: 47: 1 (5)]) ترجمہ ’’ ان کے کام‘ ان کے کوتک (کرتوت)‘‘ کے ساتھ کیا ہے۔ کیونکہ بلحاظ مفہوم یہاں دراصل ان کے ’’ بُرے اعمال‘‘ ہی مراد ہے‘ اگرچہ ’’ مَا‘‘ میں تو تمام اعمال (اچھے برے سب ہی) آ جاتے ہیں۔

2؛ 59: 2 الإعراب

 حصّہ اللغۃ کی طرح نحوی ترکیب کے لحاظ سے بھی اس قطعہ کو (جو ایک ہی آیت پر مشتمل ہے) چار جملوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس میں ایک حصہ (مرکب جاری) ایسا بھی ہے جو بلحاظ اعراب اپنے سے ما قبل جملے کا حصہ بھی بن سکتا ہے اور اپنے سے مابعد کا بھی۔ جس کی وجہ سے ترجمہ میں بھی فرق ہو گا۔ بہرحال اعراب کی تفصیل یوں ہے:

A و لتجدنھم احرص الناس علی حیوۃ

 [ وَ] عاطفہ ہے اور [ لتجدنھم] کا ابتدائی حصہ (لتجدنَّ) فعل مضارع مؤکد بلام و نون ثقیلہ ہے۔ یہ لام مفتوحہ (لَ) تاکید کے لیے آتا ہے (بمعنی ’’ ضرور ہی‘‘) اور بعض نحوی اس سے پہلے ایک قسم (مثلاً واللّٰہِ = بخدا) محذوف سمجھتے ہیں جس کے جواب پر یہ (لام تاکید) لگتا ہے۔ (خیال رہے کہ فعل مضارع --- بلکہ امر اور نھی بھی --- اس لام کے بغیر صرف آخر پر نون ثقیلہ (نَّ) یا خفیفہ (نْ) لگانے سے بھی مؤکد ہو سکتے ہیں) ’’ لتجدنَّ‘‘ کے بعد ضمیر منصوب ’’ ھم‘‘ اس فعل (وجد یجد) کا مفعول اوّل ہے۔ اس کے بعد [ احرَصَ الناسِ] کا ابتدائی کلمہ ’’ اَحْرَصَ‘‘ (جو صیغۂ افعل التفضیل ہے) اس فعل (لتجدنّ) کا دوسرا مفعول (لہٰذا منصوب) ہے اور ’’ سب کے مقابلے میں‘‘ کے مفہوم کے لیے یہ ’’ الناسِ‘‘ کی طرف مضاف ہے (اسی لیے ’’ الناس‘‘ مجرور (بالاضافہ) ہے) یعنی سب لوگوں سے زیادہ حریص [ علی حیوۃ] کا ’’ علی‘‘ حرف الجر ہے جو فعل ’’ حرَص یحرِص‘‘ کے مفعول پر بطور صلہ لگتا ہے۔ گویا ’’ احرص‘‘ یہاں ’’ یحرصون علی…‘‘ کے مفہوم میں ہے ’’ حیوۃ‘‘ مجرور بالجر ہے اور یہ مرکب جازی (علی حیوۃ) ’’ احرص‘‘ سے متعلق ہیں۔ یعنی اس کے معنی میں شامل ’’ فعل‘‘ (یحرصون) سے متعلق ہیں۔ یہاں لفظ ’’ حیوۃ‘‘ کو نکرہ (بجائے ’’ الحیوۃ‘‘) لانے کی ایک دلچسپ توجیہ بلحاظ بلاغت یوں بیان کی گئی ہے کہ انسان ساری زندگی کا حریص نہیں ہوتا، جو گزر چکی وہ تو گزر چکی۔ دراصل وہ بقایا یعنی مستقبل کی زندگی کا حریص ہوتا ہے جو زندگ قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ   97؀
[ قُلْ: آپ کہہ دیجیے ] [ مَنْ كَانَ: جو ہے ] [ عَدُوًّا: دشمن ] [ لِّجِبْرِيْلَ: جبریل کا] [ فَاِنَّهٗ: تو انہوں نے تو ] [ نَزَّلَهٗ: اتارا اس کو ] [ عَلٰي قَلْبِكَ: آپ کے دل پر] [ بِاِذْنِ اللّٰهِ: اللہ کی اجازت سے] [ مُصَدِّقًا: تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے ] [ لِّمَا: اس کی جو ] [ بَيْنَ يَدَيْهِ: اس کے پہلے ہے] [ وَھُدًى: اور ہدایت ہوتے ہوئے] [ وَّبُشْرٰى: اور بشارت ہوتے ہوئے] [ لِلْمُؤْمِنِيْنَ: ایمان لانے والوں کے لیے]

 

 اللغۃ

 اس قطعہ میں کوئی نیا لفظ نہیں ہے‘ ماسوائے ’’ جبریل‘‘ اور ’’ میکٰل‘‘ کے‘ جو دو فرشتوں کے نام ہیں اور دراصل غیر عربی کلمات ہیں۔ باقی تمام کلمات بلا واسطہ (اسی شکل میں) یا بالواسطہ (مادہ اور اصل کے لحاظ سے) پہلے گزر چکے ہیں، لہٰذا ان کا صرف ترجمہ ---- اور طالبِ مزید کے لیے ---- لفظ کی لغوی تشریح کا گزشتہ حوالہ لکھ دیا جائے گا۔ اس کے لیے عبارت کو چند ادھورے جملوں میں تقسیم کرنا پڑے گا۔

2: 60: 1 (1) قُل مَنْ کَانَ عَدّوًّا لِّجِبْرِیْلَ …

A ’’ قل‘‘ (تو کہہ دے) جس کا مادہ ’’ ق و ل‘‘ اور وزن اصلی ’’ اُفْعُلْ‘‘ ہے، کے باب، معنیٰ اور ساخت میں تعلیل وغیرہ کے مفصل بیان کے لیے دیکھیے البقرہ: 8: [ 2:50:1 (2)] نیز [ 2:7:1 (5)]

B ’’ مَنْ‘‘ (جو کوئی - جو) دیکھیے البقرہ: 8 [ 2:7:1 (4)]

C ’’ کَانَ‘‘ (تھا - ہے) جس کا مادہ ’’ ک و ن‘‘ اور وزن اصلی ’’ فَعَلَ‘‘ ہے، کے معنیٰ، باب اور ساخت کے لیے دیکھیے البقرہ:34 [ 2:25:1 (5)]

D ’’ عَدّوًّا‘‘ (دشمن) اس کا مادہ ’’ ع د و‘‘ اور وزن ’’ فَعُولٌ‘‘ ہے (جو عبارت میں منصوب آیا ہے) اس کے باب، فعل کے معنی اور لفظ کی ساخت وغیرہ پر بحث کے لیے دیکھیے البقرہ: 36 [ 2:26:1 (19)]

 ۔ ’’ لِجِبْرِیْلَ‘‘ کی ابتدائی لام (الجر) یہاں مضاف کو نکرہ بنانے کے لیے استعمال ہوئی ہے، یعنی ’’ جبریل کا ایک دشمن‘‘۔ عام اضافت ہوتی تو ’’ عَدُوًّا جِبْرِیلَ‘‘ آتا۔ کلمہ ’’ جبریل‘‘ ایک فرشتہ کے نام کے طور پر آیا ہے۔ عجمی لفظ اور عَلَم (نام) ہونے کے باعث یہ لفظ غیر منصرف ہے۔ کہا گیا ہے (تفاسیر میں) کہ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے جو ’’ جبر‘‘ (بمعنی عبد یا بندہ) اور ’’ اِبْل‘‘ (بمعنی خدا) کا مرکب ہے اور یوں اس کا مطلب ’’ خدا کا بندہ‘‘ ہے۔ مختلف قبائل عرب میں اس لفظ کا تلفظ کئی طرح بیان ہوا ہے، یعنی ’’ جِبْرِیْل‘ جَبْرَئِیل‘ جِبْرِیْن‘‘ (بالنون) ’’ جَبْرِیْل‘‘ اور ’’ جَبَرَئِل‘‘ 1؎ وغیرہ۔

1؎: دیکھیے اعراب القرآن للخاس 1: 250۔ و نثر المرجان 1: 190

 ۔ یوں اس عبارت کا لفظی ترجمہ ہوا ’’ کہ دے جو کوئی ہے (’’ ہو‘‘ یا ’’ ہو گا‘‘۔ بوجہ شرط ماضی میں ترجمہ نہیں ہو گا) دشمن (مخالف) جبریل کا‘‘۔ اردو محاورے کی وجہ سے نکرہ مضاف ’’ عَدّوًّا‘‘ کا ترجمہ نظر انداز کرنا پڑتا ہے، در اصل تو تھا ’’ جبریل کا ایک دشمن‘‘ ---- اسی لیے بعض نے اس کا ترجمہ ’’ جبریل سے عداوت رکھے‘‘ کے ساتھ کیا ہے، جو لفظ سے تو ہٹ کر ہے، مگر ایک لحاظ سے اس میں وہ ’’ عَدّوًّا‘‘ کے نکرہ ہونے والی بات کا مفہوم آ گیا ہے، جو ’’ جبریل کا دشمن‘‘ کہنے میں نہیں ہے۔ ’’ قُلْ‘‘ کے مخاطب آنحضرتؐ ہیں، اس لیے احتراماً اس کا ترجمہ ’’ تو کہہ دے‘‘ کی بجائے آپ کہہ دیجیے: تم فرما دو‘‘ سے بھی کیا گیا ہے۔ اس عبارت میں بیانِ شرط ہے۔

2:60:1 (2) فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ …

(اس عبارت سے پہلے سابقہ جملہ (نمبر 1 جو بیان شرط ہے) کا جواب شرط محذوف ہے‘ یعنی ’’ فَلْیَمُتْ غَیظًا‘‘ (پس مر جائے غصہ سے) یا ’’ فَلا مُوجِبَ لِعَدواتہٖ‘‘ (پس اس کی دشمنی کی کوئی وجہ نہیں) وغیرہ۔ اسی لیے اردو کے بعض مترجمین نے اس حصہ آیت سے پہلے ’’ تو ہو کرے‘‘ یا ’’ تو یہ اس کی بےوقوفی ہے اور دشمنی کی کوئی وجہ نہیں‘‘ یا ’’ تو اسے غصے میں مر جانا چاہیے‘‘ وغیرہ کے توضیحی اضافے کے ساتھ ترجمہ کیا ہے۔

A ’’ فَاِنَّہٗ‘‘ جو ’’ فَ + اِنَّ + ہٗ‘‘ ہے یہ ’’ فَا‘‘ (فَ) معنی پس: سو، جواب شرط والی ’’ فا‘‘ نہیں ہے (ورنہ آگے آنے والے صیغہ ماضی ’’ نَزَّلَ‘‘ کا ترجمہ بھی (بوجہ جواب شرط) مستقبل میں کرنا پڑتا۔ لہٰذا یہ ’’ فا‘‘ اس محذوف جواب شرط پر (جس کا اوپر ذکر ہوا ہے) عطف ہے‘ یعنی اگلے جملے کا اس جواب شرط (محذوف) سے ربط پیدا کرتی ہے۔

 باقی ’’ اِنَّہ‘‘ (بے شک اس لیے) ’’ اِنَّ‘‘ اور اس کے اسم (ضمیر منصوب) پر مشتمل ہے اور ضمیر ’’ ہُ‘‘ کا مرجع ’’ جبریل‘‘ ہے۔

B ’’ نَزَّلَہٗ‘‘ (اس نے اسے اتارا) فعل ’’ نَزَّلَ یُنَزِّلُ‘‘ (اتارنا‘ نازل کرنا) کے معنی و استعمال پر البقرہ: 23 [ 2: 17: 1 (2)] میں بات ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ضمیر منصوب ’’ ہُ‘‘ ہے، جس کا مرجع یہاں قرآن مجید ہے، جو اگرچہ اس سے پہلے عبارت میں مذکور نہیں ہوا۔ قرآن کریم کا اس طرح ذکر (بذریعہ ضمیر بغیر سابق ذکر) کئی جگہ آیا ہے اور یہ انداز بیان صاحب قرآن (ﷺ) کی عظمت و اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں مفہوم کو سمجھنے کے لیے صرف عربی گرامر کا جاننا کافی نہیں ہے، بلکہ قرآن کریم کا مجموعی اسلوب اور انداز بیان سامنے رکھنا پڑتا ہے۔

C ’’ عَلٰی قَلْبِکَ‘‘ (تیرے دل پر) ’’ عَلٰی‘‘ (حرف الجر) یہاں ’’ پر‘‘ کے معنی میں ہے، دیگر استعمالات کے لیے [ 1:6:1 (3)] دیکھیے۔ آخری ضمیر مجرور ’’ کَ‘‘ معنی ’’ تیرا ہے اور لفظ ’’ قَلْب‘‘ (دل) کی مفصل لغوی بحث [ 2: 6: 1 (2)] میں ہو چکی ہے۔

D ’’ بِاِذْنِ اللّٰہِ‘‘ (اللہ کے حکم سے) ۔ ’’ بَا‘‘ (بِ) کے استعمالات پر بحث استعاذہ میں اور البقرہ: 45 [ 2: 30: 1 (1)] میں گزری تھی۔ اسم جلالت ’’ اللّٰہ‘‘ اور باء الجر ’’ بِ‘‘ کے درمیان کلمہ ’’ اِذْن‘‘ ہے‘ جس کے مادہ فعل مجرد کے باب و معنی وغیرہ پر البقرہ: 19 [ 2: 14: 1 (9)] میں کلمہ ’’ اذَان‘‘ (جمع اُذُن بمعنی کان) کے ضمن میں بات ہوئی تھی۔ زیر مطالعہ کلمہ ’’ اِذْن‘‘ ویسے تو ثلاثی مجرد فعل کا مصدر ہے مگر یہ بطور اسم بھی استعمال ہوتا ہے (یعنی ’’ اجازت دینا‘‘ اور ’’ اجازت‘‘ دونوں طرح) ۔ یہاں یہ لفظ در اصل تو ’’ اجازت‘‘ ہی کے معنی میں تھا مگر یہ معنی ’’ حکم‘‘ اس لیے لیا گیا ہے کہ جبریل ؑ نے قرآن اتارنے کی اجازت خود تو حاصل نہیں کی بلکہ اسے خود اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا تھا‘ اس لیے اس کا ترجمہ یہاں ’’ حکم‘‘ ہی کیا گیا ہے۔ جبریل ؑ فرشتے کا کام پیغمبروں تک اللہ کا کلام اور اس کے احکام پہنچانا ہے۔

 ۔ یوں اس عبارت ’’ فانہ نزّلہ علی قلبک باذن اللّٰہ‘‘ کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ پس بےشک اسی نے اتارا اس کو تیرے دل پر اللہ کی اجازت سے‘‘۔ اکثر مترجمین نے یہاں ’’ اس کو‘‘ (نَزَّلَہ کی ضمیر مفعول) کا وضاحتی ترجمہ بصورت ’’ یہ کلام‘ یہ قرآن‘ اس قرآن‘‘ یہ کتاب‘‘ وغیرہ سے کیا ہے۔ بعض نے ’’ نَزَّلَ‘‘ کا ترجمہ ’’ پہنچا دیا ہے‘‘ (قلب تک) اور ’’ ڈالا ہے‘‘ (دل میں) سے کیا ہے، جو صرف محاورہ اور مفہوم کے لحاظ سے درست ہے، ورنہ اصل لفظ سے تو ہٹ کر ہے۔ ’’ باِذن اللّٰہ‘‘ کے لفظ معنی اور ترجمہ (حکم) کی مناسبت پر ابھی اوپر بات ہوئی ہے۔

2: 60: 1 (3) مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَ ھُدًی وَّ بُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ

 یہ عبارت کوئی مستقل جملہ نہیں بلکہ یہ سابقہ جملہ کے ’’ نزِّلہ‘‘ کی ضمیر مفعول (جس سے مراد قرآن کریم ہے) کا ’’ حال‘‘ ہو کر اسی جملے (نمبر 2 بالا) کا ہی حصہ ہیں۔ کلمات کا ترجمہ (اور مزید کے طالب کے لیے) گزشتہ حوالہ درج ذیل ہے۔

A ’’ مُصَدِّقًا لِّمَا‘‘ (سچا کہنے ولا اس کو جو) یعنی ’’ تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے اس کی جو‘‘ ---- یہی ترکیب اس سے پہلے البقرہ : 41 [ 2: 28: 1 (9)] میں گزر چکی ہے‘ جس میں ’’ مصدِّق‘‘ اور ’’ لِ‘‘ اور’’ مَا‘‘ سب کی وضاحت ہوئی تھی۔

B ’’ بَیْنَ یَدَیْہِ‘‘ (اس کے دونوں ہاتھوں کے درمیان، یعنی اس کے آگے، اس کے پہلے، اپنے سے قبل) ۔ لفظ ’’ یَد‘‘ (ہاتھ) کی لغوی وضاحت کے علاوہ قریباً یہی ترکیب ’’ بَیْنَ یَدَیْھَا‘‘ کی صورت میں البقرہ: 66 [ 2: 46: 1 (6)] میں گزری ہے۔ وہاں آخر پر واحد مؤنث ضمیر مجرور ’’ ھا‘‘ تھی، یہاں واحد مذکر ضمیر مجرور ’’ ہ‘‘ ہے۔

C ’’ وَ ھُدًی‘‘ (اور ہدایت، رہنمائی ہوتے ہوئے) لفظ ’’ ھُدًی‘‘ کی مفصل لغوی تشریح کے لیے دیکھ لیجیے البقرہ: 2 [ 2:1:1 (6)] اور اس کے مادہ اور اس سے فعل مجرد وغیرہ کی بات الفاتحہ: 6 [ 1: 5: 1 (1)] میں گزری تھی۔

D ’’ وَ بُشْرٰی‘‘ (اور خوشخبری ہوتے ہوئے) کلمہ ’’ بُشْرٰی‘‘ (بمعنی خوشخبری) کے مادہ (ب ش ر) سے فعل مجرد وغیرہ کی بحث البقرہ: 25 [ 2:18:1 (1)] میں گزری تھی۔ اس مادہ سے ماخوذ یہ لفظ (بشری) معرفہ، نکرہ، مفرد، مرکب صورتوں میں قرآن حکیم کے اندر 15 جگہ وارد ہوا ہے۔ لفظ ’’ بِشَارَۃ‘‘ (اردو میں ’’ بشارت‘‘) بھی اس کے ہم معنی ہے۔

 ۔ ’’ لِلْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ (ایمان لانے والوں کے لیے) ۔ کلمہ ’’ مُؤْمِن‘‘ (جس کی جمع مجرور ’’ مُؤْمِنِیْن‘‘ یہاں آئی ہے) کے مادہ ’’ أمن‘‘ سے باب افعال ’’ آمَنَ یُؤمِنُ‘‘ کے معنی وغیرہ پر البقرہ: 3 [ 2:2:1 (1)] میں بات ہو چکی ہے۔ یہ (مؤمن) اس فعل سے صیغہ اسم الفاعل ہے جس کی جمع سالم مجرور ’’ مُؤمِنین‘‘ کے معنی ’’ ایمان لانے والے‘‘ ہے۔

 ۔ یوں اس عبارت کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ سچا کہنے والا ہوتے ہوئے اس کو جو اس کے دونوں ہاتھوں کے آگے (سامنے) ہے اور ہدایت ہوتے ہوئے اور خوشخبری ہوتے ہوئے ایمان لانے والوں کے لیے‘‘۔ اردو محاورے میں اس طرح ’’ حال‘‘ کا ترجمہ فٹ نہیں بیٹھتا اس لیے اسے کم از کم ’’ اور حالت یہ ہے کہ وہ (قرآن) اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والا اور ہدایت اور خوشخبری ہے اہل ایمان کے لیے‘‘ کرنا پڑا۔ بہت سے مترجمین نے ’’ مُصَدِّق‘‘ اسم الفاعل کا ترجمہ فعل ’’ یُصَدِّقُ‘‘ کے ساتھ کرلیا ہے۔ یعنی ’’ تصدیق کررہا ہے‘‘ اور ’’ سچ بتاتا ہے‘‘ اور ’’ تصدیق کرتا ہے‘‘ اور بعض نے ’’ حال‘‘ یا ’’ حالت یہ ہے‘‘ کی بجائے صرف خبر کی طرح ترجمہ کردیا ہے۔ یہ سب اردو محاورے کے باعث کرنا پڑا ہے، کیونکہ عربی کے ’’ حال‘‘ ہونے والی ترکیب اردو عبارت کی ساخت میں غیر مانوس لگتی ہے، لہٰذا اسے ’’ خبر‘‘ یا ’’ صفت‘‘ کے طور پر بیان کرنا پڑتا ہے۔ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبْرِيْلَ وَمِيْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَ   98؀
[ مَنْ كَانَ: جو ہے ] [ عَدُوًّا: دشمن ] [ لِّلّٰهِ: اللہ کا] [ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ: اور اس کے فرشتوں کا] [ وَرُسُلِهٖ: اور اس کے رسولوں کا] [ وَجِبْرِيْلَ: اور جبریل کا] [ وَمِيْكٰىلَ: اور میکائیل کا] [ فَاِنَّ اللّٰهَ: تو بیشک اللہ ] [ عَدُوٌّ: دشمن ہے] [ لِّلْكٰفِرِيْنَ: انکار کرنے والوں کا]

 

2:60:1 (4) مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَ مَلٰئِکَتِہٖ وَ رُسُلُہٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْکٰلَ

 یہ بھی مکمل جملہ نہیں بلکہ اس میں صرف بیان شرط ہے‘ جواب شرط اس سے اگلے جملے میں ہے۔

 مفردات کا الگ الگ ترجمہ مع گزشتہ حوالہ (برائے ضرورت مند) درج ذیل ہے:

A ’’ مَنْ‘‘ (جو کوئی بھی‘ جو) یہاں موصولہ شرطیہ ہے [ 2: 7: 1 (4)]

B ’’ کَانَ‘‘ (ہے‘ ہو گا) دیکھیے اوپر شروع آیت ’’ قُلْ مَنْ کَانَ …‘‘

C ’’ عَدُوًّا لِّلّٰہِ‘‘ (اللہ کا دشمن‘ اللہ سے عداوت رکھنے والا) یہی الفاظ اوپر گزرے ہیں۔ وہاں ’’ عَدُوًّا‘‘ کے بعد ’’ لِجِبْرِیلَ‘‘ تھا یہاں ’’ لِلّٰہِ‘‘ ہے۔

D ’’ وَ مَلٰئِکَتِہٖ‘‘ (اور اس کے فرشتوں کا (دشمن) ۔ لفظ ’’ مَلائِکۃ‘‘ کے مادہ اور اشتقاق کی مفصل بحث البقرہ: 3 [ 2:21:1 (2)] میں گزر چکی ہے‘ یہاں ضمیر مجرور (ہ) اللہ تعالیٰ کے لیے ہے‘ یعنی’’ لِلّٰہِ وَ لِمَلٰئِکتہٖ‘‘ مراد ہے۔

E ’’ وَ رُسُلِہٖ‘‘ (اور اس کے رسولوں کا (دشمن) ۔ ’’ وَ‘‘ (اور) اور آخری ضمیر (ہ) بمعنی ’’ اس کے‘‘ کو چھوڑ کر باقی لفظ ’’ رُسُل‘‘ ہے‘ جو ’’ رَسُول‘‘ (پیغمبر) کی جمع ہے۔ اس مادہ (ر س ل) کے فعل مجرد کی بحث کے علاوہ (جو قرآن میں استعمال نہیں ہوا) اور خود لفظ ’’ الرسل‘‘ (جو اس کی معرف باللام شکل ہے) پر البقرہ: 87 [ 2: 53: 1 (1 و 4)] میں بات ہوئی تھی۔

F ’’ وَ جِبْرِیْلَ‘‘ (اور جبریل کا) اس پر ابھی اوپر بات ہوئی ہے۔

G ’’ وَ مِیْکٰلَ‘‘ (اور میکائیل کا) لفظ ’’ میکٰل‘‘ خاص قرآنی رسم ہے، اردو میں یہ ’’ میکائیل‘‘ استعمال ہوا ہے۔ ’’ جبریل‘‘ کی طرح یہ بھی ایک فرشتہ کا نام ہے اور یہ بھی در اصل عبرانی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی بھی ’’ خدا کا معمولی بندہ‘‘ بتائے جاتے ہیں اور اس نام کو بھی اہل عرب چار طرح بولتے ہیں یعنی ’’ میکال‘‘ (اہل حجاز کی بولی میں) اور میکائِل اور ’’ میکایِل‘‘ اور’’ میکا أَل‘‘ 1؎

1؎: اعراب القرآن للخاص 1: 25۔ نیز نثر المرجان 1: 191

M یوں اس زیر مطالعہ عبارت کا ترجمہ لفظی بنتا ہے ’’ جو کوئی بھی ہو (گا) دشمن (دشمنی رکھے گا) اللہ کے لیے اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرئیل اور میکائیل (فرشتوں) کا …‘‘ اور اسے سلیس بنانے کے لیے اردو فقرے کی ترتیب الفاظ میں کچھ ردوبدل کرلیا جاتا ہے۔

H ’’ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِریْنَ‘‘ یہاں ابتدائی ’’ فَا‘‘ جوابِ شرط والی ہے کیونکہ اس کے بعد جملہ اسمیہ آیا ہے۔ یہاں (سابقہ آیت کی طرح) کسی محذوف جواب شرط کی ضرورت نہیں۔ عبارت کے تمام الفاظ بہت آسان اور پہلے کئی بار گزر چکے ہیں۔ بلکہ ان میں سے ’’ فا‘‘ (فَ) (پس)‘ ’’ اِنَّ‘‘ (بے شک) اور ’’ عَدُوّ‘‘ (دشمن) تو اسی قطعہ میں گزرے ہیں اور ’’ الکٰفِرین‘‘ --- جو ’’ کفَر یکفُر‘‘ سے اسم الفاعلین (مجرور بلام الجر) ہے ---- اس پر تفصیلی بات البقرہ: 19 [ 2: 14: 1 (14)] میں ہوئی تھی، بلکہ یہ لفظ تو اردو میں اتنا عام ہے کہ تمام مترجمین نے اس کا ترجمہ ہی ’’ کافروں‘‘ رہنے دیا ہے۔

 ۔ اس عبارت کا لفظی ترجمہ تو ہے: ’’ پس بےشک اللہ دشمن ہے کافروں کے لیے‘‘ چونکہ ’’ الکافِرین‘‘ کا لام تعریف یہاں عہد کا ہو سکتا ہے، یعنی وہ کافر جن کی بات ہو رہی ہے، اس لیے بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ ’’ ایسے کافروں کا‘‘ اور بعض نے ’’ ان کافروں کا‘‘ سے کیا ہے۔ اسی طرح جوابِ شرط پر ’’ اِنَّ‘‘ آنے کے زور کو بعض نے ترجمہ میں ’’ اللہ بھی (دشمن ہے)‘‘ کی صورت میں ظاہر کیا ہے۔

 ۔ اس قطعہ میں جبریل، میکائیل کا ذکر آنے کی وجہ سے، ان فرشتوں کے بارے میں مزید وضاحت اور آیت میں ان سے جس دشمنی کا ذکر ہے اس کا پس منظر یعنی آیت کا شان نزول جاننے کے لیے کسی اچھی اور مستند تفسیر کو دیکھ لیجیے۔ کیونکہ یہ بات تو آیت کے ترجمہ سے ہی معلوم ہو جاتی ہے کہ اس میں بیان کردہ بات کا کوئی خاص پس منظر ہے۔ وہ کیا ہے؟ اس کا جواب تفاسیر میں ملتا ہے۔

2:60:2 الاعراب

 زیر مطالعہ دونوں آیات بلحاظِ ترکیب نحوی دو شرطیہ جملوں پر مشتمل ہیں۔ ہر ایک آیت ایک بیان شرط اور ایک جواب شرط پر مشتمل ہے۔ تاہم طوالت کی بنا پر ہم ہر ایک آیت کے اجزاء کو الگ الگ بیان کریں گے۔

A قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ …

 [ قُلْ] فعل امر معروف مع ضمیر الفاعل ’’ اَنْتَ‘‘ ہے اور ’’ قُلْ‘‘ کے بعد آنے والی عبارت اس ’’ قُلْ‘‘ کا مقول (کہی گئی بات) ہو کر مفعول‘ لہٰذا محلاً منصوب سمجھی جائے گی۔ [ مَنْ] اسم موصول یہاں بطور اسم شرط آیا ہے۔

 [ کَانَ] فعل ناقص ماضی صیغہ واحد مذکر غائب ہے، جس میں اس کا اسم ’’ ھُوَ‘‘ موجود ہے، جو ’’ مَنْ‘‘ کے لیے ہے [ عَدُوًّا] کَانَ کی خبر (لہٰذا) منصوب ہے۔ [ لِجِبْرِیلَ] لام الجر اور اس کا مجرور ’’ جِبِرْیلَ‘‘ مل کر متعلق خبر ’’ کَانَ‘‘ ہیں۔ اس ’’ جِبریل‘‘ میں علامت جر ’’ ل‘‘ کی فتحہ (-َ) ہے کیونکہ لفظ ’’ جِبریل‘‘ بوجہ عجمیت اور عَلَمیت غیر منصرف ہے۔ یہاں تک بیان شرط مکمل ہوتا ہے۔

D فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَ ھُدًی وَّ بُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ

 [ فَ] بظاہر جواب شرط کی ہے‘ لیکن اگر یوں سمجھا جائے تو اگلے فعل ’’ نَزَّلَ‘‘ کا ترجمہ ’’ اتارے گا‘‘ ہونا چاہیے‘ کیونکہ شرط اور اس کے جواب کا تعلق زمانہ مستقبل سے ہوتا ہے‘ شرط ماضی پر نہیں ہوتی۔ اس لیے نحیوں نے یہاں اصل جواب شرط محذوف مانا ہے‘ جیسا کہ اوپر حصہ ’’ اللغۃ‘‘ میں مع اضافی ترجمہ بیان ہوا ---- تاہم یہ ایک فنی سی وجہ ہے۔ بلحاظ معنی اس (زیر مطالعہ) عبارت کو بھی جواب شرط قرار دینا چنداں غلط بھی نہیں ہو گا۔ یوں [ فَاِنَّہٗٗ] فَا برائے رابطہ یا عاطفہ ہے اور ’’ اِنَّہٗ‘‘ حرفِ مشبہ بالفعل ’’ اِنَّ‘‘ اور اس کے اسم منصوب (ضمیر ’’ ہ‘‘) پر مشتمل ہے‘ جس کی خبر [ نَزَّلَہٗ] ہے جو فعل ماضی معروف ’’ نَزَّلَ‘‘ اور اس کے مفعول بہ (ضمیر منصوب) ’’ ہ‘‘ پر مشتمل ہے۔ [ عَلٰی قَلْبِکَ]میں ’’ عَلٰی‘‘ حرف الجر اور ’’ قَلْبِکَ‘‘ مضاف و مضاف الیہ [ قَلْب + کَ] مل کر مجرور ہے اور یہ مرکب جاری متعلق فعل (نزَّل) ہے۔ اسی طرح [ بِاِذْنِ اللّٰہ] بھی حرف الجر (بِ) اور مرکب اضافی ’’ اذنِ اللّٰہ‘‘ مجرور پر مشتمل ہے اور یہ مرکب جاری ’’ باذن اللہ‘‘ بھی دوسرا متعلق فعل ہے۔ ان دونوں تراکیب (عَلٰی قلبک اور’’ باذن اللّٰہ‘‘) میں مضاف کلمہ ’’ قلب‘‘ اور ’’ اذن‘‘ مجرور بالجر اور بوجہ مضاف ہونے کے خفیف بھی آئے ہیں۔ یہاں تک ویسے تو جملہ مکمل ہو جاتا ہے مگر ’’ نزّلہ‘‘ کی ضمیر مفعول کا مرجع (قرآن) چونکہ پہلے مذکور نہیں اس لیے اس سے اگلی عبارت میں اس (قرآن) کے پہ در پے تین ’’ حال‘‘ لائے گئے ہیں تاکہ واضح ہوجائے کہ بات قرآن کریم کی ہو رہی ہے، کیونکہ یہ ’’ حال‘‘ (یا صفات) صرف قرآن کریم ہی پر منطبق ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ [ مُصَدِّقًا] پہلا حال ہے، یعنی حالت یہ ہے کہ وہ (قرآن) تو تصدیق کرنے والا ہے [ لِمَا] لام الجر اور ’’ مَا‘‘ موصولہ ہے۔ [ بَیْنَ یَدَیْہِ] میں ’’ بَیْنَ‘‘ ظرف مضاف اور ’’ یَدَیْہِ‘‘ خود مرکب اضافی (یَدَی مضاف + ’’ ہ‘‘ مضاف الیہ) اس ظرف کی طرف مضاف ہے، اسی لیے ’’ یَدَیْ‘‘ مجرور (یعنی ’’ یَد‘‘ کا تثنیہ مجرور) ہے۔ یہاں علامتِ جر ’’ یا‘‘ ما قبل مفتوح (-َ یْ) ہے۔ اور یہ سارا مرکب اضافی ’’ بَیْنَ یَدَیْہِ‘‘ اسم موصول ’’ مَا‘‘ کا صلہ ہے اور پھر یہ صلہ موصول مجرور (بلام الجر) ہیں اور یہ مرکب جاری (لِمَا بین یدَیہِ) ’’ مصدّقًا‘‘ سے متعلق ہیں۔ یعنی اس کے معنی فعل (تصدیق کرنا) سے متعلق ہیں، کہ کس کی تصدیق کرتا ہے؟ کا جواب اس میں موجود ہے اور ایک طرح سے یہ فعل ’’ تصدیق کرنا‘‘ کے مفعول (بلاحظ معنی) ہیں۔ اسی طرح [ وَھُدًی] میں ’’ ھُدًی‘‘ بھی حال ہونے کی وجہ سے اور سابقہ منصوب حال (مصدّقًا) پر معطوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ علامت نصب بظاہر تنوین نصب (-ً) ہے مگر در اصل یہ لفظ (ھُدًی) بھی مقصور ہوتا ہے، اس میں رفع نصب جر کی ظاہر کوئی علامت نہیں ہوتی۔ اور اسی طرح [ بُشْرٰی] بھی حال ہونے اور سابقہ حال پر عطف ہونے کے باعث منصوب ہے۔ یہ بھی اسم مقصور ہے جس میں اعرابی حالت ظاہر نہیں ہوتی۔ ’’ لِلمُومنِین‘‘ جار مجرور مل کر متعلق حال (بُشرٰی) ہیں، یعنی جس طرح ’’ لِما بین یدَیہ‘‘ ، ’’ مصدّقًا‘‘ سے متعلق تھا اسی طرح ’’ لِلمُؤمنین‘‘ کا تعلق ’’ بشرٰی‘‘ سے ہے، یعنی یہ اس ’’ بشرٰی‘‘ کی وضاحت ہے کہ کس کے لیے؟ یوں یہ زیر مطالعہ پوری عبارت ایک جواب شرط کی وضاحت ہے۔

C مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَ مَلٰئِکَتِہٖ وَ رُسُلُہٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْکٰلَ

 اس کی ترکیب سابقہ جملے کی سی ہے۔ یعنی [ مَن] اسم شرط (موصول) ہے، [ کَانَ] فعل ناقص مع اسم (ھُوَ) ہے، [ عدوًّا] اس (کَانَ) کی خبر منصوب، [ لِلّٰہ] جار مجرور متعلق خبر کان (عدوًّا) ہے، یعنی کس کا دشمن؟ کی وضاحت ہے۔ [ و ملٰئکتِہ] میں واو عاطفہ ہے ’’ ملائکتِہ‘‘ مرکب اضافی مجرور بالعطف ہے۔ اسی طرح (ورُسلِہ) بھی واو العطف اور معطوف مجرور ’’ رُسُلہ‘‘ پر مشتمل ہے، جس میں ’’ رسُلہ‘‘ بھی مرکب اضافی ہے اور آگے [ وجبریل] اور [ و میکٰل] بھی ہر ایک واو العطف کے ذریعے ’’ للّٰہ‘‘ پر عطف ہو کر مجرور ہیں۔ ’’ جبریل‘‘ اور ’’ میکال‘‘ غیر منصرف ہیں، اس لیے ان پر علامت جر ’’ ل‘‘ کی فتحہ (-َ) ہی ہے۔ اتنا حصہ عبارت بیان شرط ہے، آگے جواب، شرط آ رہا ہے۔

D فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ

 [ فَا] برائے رابطہ ہے جو جواب شرط پر آتی ہے‘ [ اِنَّ] حرفِ مشبہ بالفعل اور [ اللّٰہ] اس کا اسم منصوب ہے، [ عدو] اس ’’ اِنَّ‘‘ کی خبر (لہٰذا) مرفوع ہے اور [ للکفرین] جار مجرور (لام الجر + الکافرین مجرور) مل کر متعلق خبر ’’ اِنَّ‘‘ (یعنی ’’ عدو‘‘ کی وضاحت) ہیں۔

2:60:3 الرسم

 بلحاظ رسم قرآنی اس قطعہ میں صرف تین کلمات قابل ذکر ہیں‘ یعنی میکٰل‘ ملئکتہ اور للکفرین۔ تفصیل یوں ہے:

A ’’ میکٰل‘‘ جس کا تلفظ قراء تِ حفص کے مطابق ’’ میکال‘‘ (مطابق رسم املائی) ہے۔ قرآن کریم میں یہ لفظ (جو یہاں ایک جگہ ہی آیا ہے) ’’ کاف‘‘ کے بعد ’’ الف‘‘ کے حذف‘ مگر ’’ ی‘‘ کے نبرہ (دندانہ) کے اضافہ کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔ چونکہ اس لفظ کی بعض دوسری قراء ات بھی ہیں‘ لہٰذا اس کا یہ عثمانی رسم الخط ان قراء توں کا محتمل بھی ہے مثلاً قانون کی قراءت میں یہ ’’ مِیْکٰئِل‘‘ (میکائل) پڑھتے ہیں تو وہ نبرہ (دندانہ) کو ہمزہ کا نبرہ (جو ’’ ی‘‘ کے نبرہ کی طرح ہو گا) سمجھ کر ضبط اس کے مطابق کر لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس ’’ ی‘‘ کے نبرہ کو ’’ الف بصورت یائ‘‘ (موسیٰ کی طرح) سمجھ لیا جاتا ہے۔

B ’’ لملئکتہ‘‘ کے کلمہ ’’ ملئکۃ‘‘ (جس کی عام املاء ’’ ملائکۃ‘‘ ہے) قرآن کریم میں یہاں اور ہر جگہ ’’ بحذف الالف بعد اللام‘‘ لکھا جاتا ہے۔ نیز دیکھیے [ 2: 21: 3] میں اس کلمہ کے رسم کی بحث۔

C ’’ للکفرین‘‘ جس کی رسم املائی ’’ للکافرین‘‘ ہے۔ یہ لفظ (کفرین) یہاں اور ہر جگہ ’’ بحذف الالف بعد الکاف‘‘ لکھا جاتا ہے۔ بلکہ جمع مذکر سالم عموماً ہر جگہ بحذفِ الف ہی لکھا جاتا ہے۔ مزید بحث کے لیے دیکھیے [ 2: 14: 3]۔

2:60:4 الضبط

 اس قطعہ کے بعض کلمات کا ضبط خصوصاً دلچسپ ہے۔ ذیل کے نمونوں سے ضبط کا یہ تنوع سمجھا جا سکتا ہے۔ جہاں صرف حرکات کی شکل کا فرق ہے (-َ -ِ -ُ / -َ -ِ -) اسے دوبارہ نہیں لکھا گیا۔ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ۚ وَمَا يَكْفُرُ بِهَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ   99۝
[ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ: اور بیشک ہم نے اتارا ہے] [ اِلَيْكَ: آپ کی طرف] [ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ۚ : کھلی نشانیوں کو] [ وَمَا يَكْفُرُ: ار انکار نہیں کرتے] [ بِهَآ: اس کا] [ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ : مگر نافرمانی کرنے والے]

 

 اللّغۃ

 اس قطعہ میں بھی بالکل نئے (بلحاظِ مادہ) صرف دو ہی لفظ آئے ہیں لہٰذا اسے ہم چھوٹے جملوں کی صورت میں لکھ کر ہر ایک کے مفردات کا صرف ترجمہ (مع گزشتہ حوالہ برائے طالب مزید) لکھتے جائیں گے۔ نئے کلمات کی وضاحت اپنے مقام پر آ جائے گی۔ نمبر حوالہ صرف اسی جملے کا دیا جائے گا جس میں کوئی نیا لفظ آئے گا۔

 وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ

A ’’ وَ لَقَدْ‘‘ (اور ضرور بالتحقیق) ۔ ’’ لقد‘‘ کے لام مفتوحہ پر البقرہ: 64 [ 2: 41: 1 (6)] میں اور ’’ قد‘‘ (حرف تحقیق) کے معنی و استعمال پر البقرہ: 60 [ 2: 38: 1 (8)] میں بحث ہو چکی ہے۔

 B ’’ اَنْزَلْنَا‘‘ (ہم نے اتارا - نازل کیا) جو ’’ ن ز ل‘‘ سے باب افعال کا صیغہ ماضی ہے‘ اس باب سے اسی فعل کے معنی و طریق استعمال پر البقرہ: 4 [ 2: 3: 1 (2)] میں کلمہ ’’ اُنْزِلَ‘‘ کے ضمن میں بات ہوئی تھی۔

C ’’ اِلَیْکَ‘‘ (تیری طرف) یہی مرکب جاری [ 2: 3: 1 (4)] میں گزرا ہے۔

D ’’ اٰیَات‘‘ (آیات - احکام - نشانیاں) جو ’’ آیۃ‘‘ کی جم ہے۔ اس کے مادہ (ا ی ی) اور فعل وغیرہ نیز اس کلمہ کے معانی پر البقرہ: 39 [ 2: 27: 1 (7)] میں کلمہ ’’ آیاتنا‘‘ کے سلسلے میں مکمل بحث ہو چکی ہے۔

 ۔ ’’ بَیِّنَات‘‘ (کھلی کھلی - واضح - روشن) جو ’’ بیِّنۃ‘‘ کی جمع ہے اس کے مادہ (ب ی ن) اور فعل مجرور وغیرہ پر البقرہ: 6 [ 2:43: 1 (6)] میں اور خود اسی لفظ (بینات) پر [ 2: 53: 1 (3)] میں بحث ہو چکی ہے۔

 ۔ اس طرح اس حصہ آیت کا ترجمہ لفظی بنتا ہے ’’ اور البتہ تحقیق اتاریں ہم نے تیری طرف نشانیاں ظاہر۔ واضح‘‘ …اردو محاورے کی رعایت سے اکثر مترجمین نے ’’ لقد‘‘ کے ’’ لام‘‘ اور ’’ قد‘‘ کا الگ الگ ترجمہ نہیں کیا۔ اس کی بجائے مجموعی ترجمہ ’’ بالیقین‘‘ یا ’’ بے شک‘‘ کی صورت میں کردیا ہے۔ بلکہ اکثر نے اس کا ترجمہ ہی نظر انداز کردیا ہے۔ اس کی بجائے فعل ’’ انزلنا‘‘ کا ترجمہ ماضی قریب کامل کے ساتھ ’’ اُتارے ہیں‘‘ ، ’’ نازل کیے ہیں‘‘ کی صورت میں کرلیا ہے (جس میں ایک طرح سے تاکید کا مفہوم آجاتا ہے) جب کہ بیشتر نے یہ بھی نہیں کیا بلکہ صرف ماضی مطلق کے ساتھ ترجمہ کردیا ہے۔ جو ایک لحاظ سے درست نہیں۔ ’’ آیات‘‘ کا ترجمہ یہاں سیاق و سباق کی مناسبت سے ’’ آیتیں‘‘ ہی کیا گیا ہے، اگرچہ بعض نے لفظی ترجمہ ’’ نشانیاں‘‘ اور ’’ نشان‘‘ کیا ہے۔ اسی طرح ’’ بَیِّنات‘‘ کا ترجمہ ’’ ظاہر، واضح، روشن، کھلی، سلجھی ہوئی‘‘ کیا ہے۔ سب کا مفہوم ایک ہے۔ بعض نے ’’ آیات بینات‘‘ کا مجموعی ترجمہ ’’ دلائل واضح‘‘ کیا ہے جو اصل سے کم مشکل نہیں ہے۔

 وَمَا یَکْفُرُ بِہَآ اِلاَّ الْفٰسِقُوْنَ

A ’’ وَمَا‘‘ (اور نہیں) ’’ ما‘‘ یہاں نافی ہے، دیکھیے [ 2:2:1 (5)]

B ’’ یَکْفُرُ‘‘ (انکار کرتا ہے’’ کفر کرتے ہیں‘‘ بوجہ آگے فاعل کے جمع آنے کے) اس فعل کے مادہ، معنی اور استعمال کے لیے دیکھیے البقرہ: 6 [ 2:5:1 (1)]

C ’’ بِھَا‘‘ (ان کا۔ اس کا ’’ ھا‘‘ آیات کے لیے ہے اس لیے ترجمہ جمع میں ہو گا) ’’ بِ‘‘ فعل ’’ کفر‘‘ کے مفعول پر آنے والا صلہ ہے جس پر [ 2: 5: 1 (1)] میں بات ہوئی تھی۔

D ’’ اَلاَّ‘‘ (سوائے۔ مگر) اس حرف استثناء پر البقرہ: 26 [ 2: 19: 1 (11)] میں مختصراً بات ہوئی تھی۔ مزید بات آگے ’’ الاعراب‘‘ میں بھی ہو گی۔

 ۔ ’’ الفَاسِقُون‘‘ (نا فرمان لوگ) اس کے مادہ ’’ ف س ق‘‘ اور فعل کے باب و معنی پر بلکہ خود اسی لفظ پر بات البقرہ: 26 [ 2: 19: 1 (11)] میں ہوئی تھی۔

 ۔ یوں اس حصہ آیت کا لفظی ترجمہ بنتا ہے : ’’ اور نہیں کفر کرتے: انکار کرتے ان کا مگر نا فرمان لوگ‘‘ … ’’ مَا‘‘ (نہیں) اور ’’ اِلاَّ‘‘ (مگر) کے جمع ہونے کی وجہ سے اردو ترجمہ ’’ مگر صرف وہی جو، مگر وہی جو، صرف وہی لوگ جو‘‘ کی صورت میں کیا جا سکتا ہے۔ ’’ وایکفر بھا‘‘ کے ترجمہ میں ’’ منکر نہ ہوں گے ان سے‘‘ اور ’’ نہ انکار کریں گے ان کا ‘‘ (بصیغہ مستقبل) کی بھی گنجائش موجود ہے۔ بعض نے ’’ الا‘‘ اور ’’ ما‘‘ کے جمع ہونے کے باعث اردو محاورے کے لیے فعل کا نفی میں ترجمہ کرنے کی بجائے فعل مثبت کے ساتھ (مگر صرف وہی لگا کر) ترجمہ کیا ہے یعنی ’’ ان سے انکار صرف وہی کرتے ہیں‘‘ کی صورت میں۔ بعض نے ’’ وما یکفر‘‘ کا ترجمہ ’’ کوئی انکار نہیں کرتا یا کوئی بھی انکار نہیں کرتا‘‘ سے کیا ہے۔ گویا ’’ ما یکفر‘‘ کی نفی کی وجہ سے ایک محذوف فاعل ’’ احد‘‘ فرض کرلیا گیا ہے۔ یہ تمام عمدہ تراجم ہیں۔

 ’’ الفاسقون‘‘ کا ترجمہ بعض نے ’’ فاسق لوگ‘‘ ہی رہنے دیا ہے، بعض نے ’’ عدول حکمی کے عادی‘‘ اور ’’ بے حکم‘‘ کیا ہے اور بعض نے ’’ بدکار‘‘ اور ’’ بد کردار‘‘ بھی کردیا ہے۔ شاید اس وجہ سے کہ اردو میں ’’ فسق و فجور‘‘ عموماً اکٹھا استعمال ہوتے ہیں۔ ’’ بدکاری‘‘ اصل میں ’’ فجور‘‘ کا ترجمہ ہے ’’ فسق‘‘ کا نہیں۔ اَوَكُلَّمَا عٰھَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ ۭ بَلْ اَكْثَرُھُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ  ١٠٠۝
[ اَوَ : اور کیا (ایسا نہیں ہے کہ ) ] [ كُلَّمَ: جب کبھی ] [ ا عٰھَدُوْا: ان لوگوں نے معاہدہ کیا] [ عَهْدًا: جیسا عہد کرنے کا حق ہے] [ نَّبَذَهٗ: تو پھینکا اس کو] [ فَرِيْقٌ: ایک فریق نے] [ مِّنْھُمْ ۭ : ان میں سے ] [ بَلْ: بلکہ ] [ اَكْثَرُھُمْ: ان کے اکثر] [ لَا يُؤْمِنُوْنَ: ایمان نہیں لاتے]

 

 اَوَکُلَّمَا عٰہَدُوْا عَہْدًا نَّبَذَہٗ فَرِیْقٌ مِّنْہُم

 اس میں ’’ عاھَدوا‘‘ اور ’’ نبذ‘‘ نئے لفظ ہیں۔

A ’’ اَوَ‘‘ (اور کیا؟ کیا؟ کیا یہ ہے کہ۔ آیا؟) بیان ہو چکا ہے کہ جب ’’ و‘‘ یا ’’ ف‘‘ کے ساتھ حرف استفہام (ا) لگے تو وہ ان سے پہلے آتا ہے یعنی ’’ اَوَ‘‘ یا ’’ اَفَ‘‘ کہتے ہیں اور اگر دوسرا کلمہ استفہام (ھَلْ) لگے تو وہ بعد میں لگتا ہے‘ مثلاً کہیں گے ’’ وَھَلْ‘‘ یا ’’ فَھَلْ‘‘ … قرآن کریم میں دونوں استعمالات آئے ہیں۔

B ’’ کُلَّمَا‘‘ (جب بھی۔ جب کبھی بھی۔ جب جب۔ جس بار) جو ’’ کُلَّ‘‘ اور ’’ مَا‘‘ (ظرفیہ) کا مرکب ہے، اس پر البقرہ: 20 [ 2:15:1 (3)] میں بات ہوئی تھی۔

C ’’ عَاھَدُوا‘‘ کا مادہ ’’ ع ھ د‘‘ اور وزن ’’ فَاعَلُوا‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد کے باب وغیرہ پر البقرہ: 27 [ 2:19:1 (13)] میں کلمہ ’’ عھد‘‘ کے سلسلے میں بات ہوئی تھی۔ یہ کلمہ (عاھدوا) اس مادہ سے باب مفاعلہ کے فعل ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ اس باب سے فعل ’’ عَاھَدَ … یُعَاھِدُ مُعَاھَدَۃً‘‘ کے معنی ہوتے ہیں ’’… کو عہد یا قرار دینا، … سے عہد یا قرار باندھنا۔‘‘ عہد دینے والا ’’ مُعَاھِد‘‘ اور جس سے عہد کیا جائے ’’ مُعَاھَد‘‘ (بصیغہ مفعول) کہلاتا ہے اور اسی کو حدیث میں ’’ ذُو عھدٍ‘‘ بھی کہا گیا ہے۔

 ۔ بنیادی طور پر یہ فعل متعدی ہے اور اس کا مفہول بنفسہٖ آتا ہے اور جس بات پر عہد کیا جاتا ہے اس پر ’’ عَلٰی‘‘ کا صلہ آئے گا، جیسے ’’ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ‘‘ (الاحزاب: 23) میں ہے۔ یعنی ’’ ایسے مرد جنہوں نے سچا کر دکھایا اس کو جس پر انہوں نے اللہ سے عہد باندھا تھا۔‘‘ کبھی اس کا مفعول بلکہ جس بات پر عہد کیا جائے دونوں ہی محذوف کر دیئے جاتے ہیں، جیسے اسی زیر مطالعہ آیت میں نہ تو یہ مذکور ہے کہ کس سے عہد باندھا؟ اور نہ یہ بتایا گیا ہے کہ کس بات پر عہد باندھا؟ یہ چیزیں سیاق عبارت سے سمجھی جا سکتی ہیں‘ مثلاً ’’ اللہ سے عہد باندھا‘‘ اور دین پر عمل کرنے کا عہد باندھا وغیرہ۔

 ۔ قرآن کریم میں باب مفاعلہ کے اس فعل کے مختلف صیغے گیارہ جگہ آئے ہیں، ان میں سے صرف چار جگہ مفعول مذکور ہوا ہے اور اس کے ساتھ ’’ عَلٰی‘‘ کا استعمال بھی صرف دو جگہ آیا ہے … (عَاھَدُوا ۔ ’’ انہوں نے عہد باندھا‘‘) ۔

D ’’ عَھْدًا‘‘ (عہد۔ قرار) اس پر بحث کے لیے دیکھیے البقرہ: 27 [ 2: 19: 1 (13)]۔

 ۔ ’’ نَبَذَہٗ‘‘ … آخری ضمیر منصوب (ہ) کا ترجمہ تو یہاں ’’ اس کو‘‘ ہے اور باقی فعل ماضی کا صیغہ (نبَذ) ہے جس کا مادہ ’’ ن ب ذ‘‘ اور وزن ’’ فَعَلَ‘‘ ہے۔ یہ فعل مجرد ’’ نبَذ … یَنبِذُ نَبْذًا‘‘ (ضرب سے) آتا ہے اور اس کے بنیادی معنی ہیں: ’’… (کسی چیز) کو ناقابل توجہ سمجھ کر پرے پھینک دینا‘‘۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ نبَذ النَعلَ الخَلِقَ‘‘ (اس نے پرانا جوتا پھینک دیا) پھر اسی سے اس میں ’’ عہد تو دینا‘‘ یا ’’ کسی معاملے کو ٹال دینا اور اس پر عمل نہ کرنا‘‘ کے معنی پیدا ہوتے ہیں، مثلاً کہتے ہیں ’’ نبَذ العھدَ‘‘ (عہد پھینک دیا یعنی توڑ دیا) اور ’’ نبَذ الامرَ‘‘ (اس نے بات پر عمل نہ کیا) … اس کے علاوہ یہ فعل بعض اور معانی مثلاً ’’ دل کا دھڑکنا‘‘ (بنَذ قلبُہٗ) اور ’’ کھجور کا نبیذ‘‘ (ایک مشروب) بن جانا (نبَذ التمرُ) کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

 ۔ تاہم قرآن کریم میں یہ فعل صرف پہلے معنی (پھینک دینا۔ اور نظر انداز کرنا) کے لیے ہی استعمال ہوا ہے۔ البتہ بعض جگہ اس کا مفعول محذوف ہوا ہے۔ قرآن کریم میں اس فعل مجرد سے ماضی، مضارع (معروف، مجہول) اور فعل امر وغیرہ کے مختلف صیغے دس جگہ آئے ہیں اور مزید فیہ کے باب افتعال سے بھی ایک صیغہ فعل دو جگہ آیا ہے۔

F ’’ فَرِیْقٌ‘‘ (گروہ۔ جماعت) اور خود لفظ ’’ فریق‘‘ بھی اردو میں مستعمل ہے۔ اس لفظ کے مادہ، فعل کے باب و معنی وغیرہ پر پہلی دفعہ البقرہ: 50 [ 2:32:1 (10)] میں کلمہ ’’ فرَقنا‘‘ میں اور خود اسی لفظ (فریق) پر البقرہ: 75 [ 2:47:1 (2)] میں بات ہوئی تھی۔

G ’’ مِنْھُمْ‘‘ (ان میں سے) ’’ مِنْ‘‘ (تبعیضیہ) کے لیے دیکھیے [ 2: 2: 1 (5)]۔

 ۔ اس طرح زیر مطالعہ عبارت (او کلما عاھدوا عھدا نبذہ فریق منھم) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے: ’’ کیا اور جب کبھی بھی انہوں نے باندھا کوئی عہد (تو) پھینک دیا اس کو کسی گروہ نے ان میں سے‘‘ اس کو سلیس اور با محاورہ بنانے کے لیے بعض الفاظ کو آگے پیچھے کرنے (مثلاً ان میں سے کسی گروہ نے) کے علاوہ بعض مترجمین نے یہاں ’’ عاھَدوا‘‘ اور ’’ نبَذ‘‘ کے ماضی کے صیغوں کا ترجمہ ’’ کُلَّمَا‘‘ کی شرط کی وجہ سے حال یا مستقبل میں کیا ہے۔ یعنی ’’ باندھیں گے، عہد کرتے ہیں‘ قول و قرار کرتے ہیں‘‘ اور ’’ تو پھینک دیں گے، پھینک دیتا ہے، رد کر دیتا ہے‘‘ کی صورت میں ترجمہ کیا ہے۔ اور بعض نے محاورے کے مطابق اسے ماضی ہی رہنے دیا ہے، مثلاً ’’ انہوں نے جب کبھی کوئی عہد کیا ہے تو ان ہی میں سے کسی (نہ کسی) جماعت (گروہ) نے اسے توڑ پھینکا ہے‘‘ … ’’ فریق‘‘ نکرہ کا یہاں سیاق عبارت کے لحاظ سے با محاورہ ترجمہ ’’ کوئی نہ کوئی فریق‘‘ یا ’’ کسی نہ کسی جماعت‘‘ زیادہ موزوں ہے۔ بعض نے ’’ نبَذ‘‘ کا ترجمہ ’’ پھینک دینا‘‘ کی بجائے ’’ نظر انداز کر دینا‘‘، ’’ رد کر دینا‘‘ یا ’’ توڑ پھینکنا‘‘ سے کیا ہے جس میں محاورے کا زور ہے۔

2: 61: 1 (3) بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ

A ’’ بَل‘‘ … (بلکہ) اسے عربی گرامر میں حرفِ اِضراب کہتے ہیں۔ یعنی یہ بنیادی طور پر اپنے سے ما قبل (مفہوم) کی نفی یا تردید کے لیے آتا ہے اور اپنے سے ما بعد والے (مفہوم) کو ثابت کرتا یا برقرار رکھتا ہے۔ یہ بعض دفعہ کسی مفرد کلمہ پر بھی آتا ہے‘ اس وقت یہ حرفِ عطف کا کام بھی دیتا ہے‘ یعنی اس سے پہلے اور بعد والے کلمہ (اسم) کا اعراب ایک ہی ہوتا ہے‘ مثلاً ’’ لَا تَقُلْ شِعرًا بل نثرًا‘‘ (شعر نہ کہو بلکہ نثر کہو) … زیادہ تر یہ کسی جملے پر ہی داخل ہوتا ہے اور اپنے سے سابق مضمون کی اپنے سے بعد والے جملے کے مضمون کے ذریعہ سے تردید کرتا ہے‘ یعنی سابقہ بات کو غلط اور دوسری بات کو ہی درست قرار دیتا ہے۔ ایسے موقع پر اس کا ترجمہ ’’ یوں نہیں بلکہ‘‘ یا ’’ ہرگز نہیں بلکہ‘‘ سے کرنا موزوں ہوتا ہے۔ مثلاً ’’ اَمْ یقولون بہٖ جِنّۃ … بَل جائَ ھُم بِالحَقِّ‘‘ (المومنون: 70) یعنی ’’ کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اسے پاگل پن ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ وہ تو حق لے کر آیا ہے۔‘‘ البتہ بعض دفعہ یہ سابقہ مضمون کے اِبطال (رد کرنا) کی بجائے ایک دوسرے مضمون کی طرف انتقال (تبدیل ہونا) کے لیے بھی آتا ہے۔ اس وقت اس کا موزوں اردو ترجمہ (لیکن‘ مگر یا بلکہ) سے ہوتا ہے۔ جیسے ’’ بل تُؤثِرون الحیٰوۃَ الدُّنیا‘‘ (الاعلی: 16) میں ہے ’’ مگر تم تو دنیاوی زندگی کو ہی ترجیح دیتے ہو‘‘ اور زیادہ تر اس کا استعمال ابطال کی بجائے انتقال معنی (دوسرے مضمون کی طرف جانا) کے لیے ہی ہوتا ہے … اردو فارسی کا لفظ ’’ بلکہ‘‘ دراصل اسی ’’ بَلْ‘‘ کے بعد فارسی ’’ کہ‘‘ لگا کر ہی بنا لیا گیا ہے … اور اس کا استعمال اردو ’’ بلکہ‘‘ ہی کی طرح ہے … عربی میں کبھی نفی کے لیے اس سے پہلے (مزید تاکید اور زور کے لیے ) ’’ کَلاَّ‘‘ (ہرگز نہیں) بھی آتا ہے‘ جیسے سبا: 27 میں آیا ہے (آیت اور اس کا ترجمہ کسی مترجم نسخہ قرآن میں دیکھ لیجیے)

 ۔ آج کل جدید عربی میں اس کے بعد ’’ وَ‘‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ فلانٌ یُخطیئُ بَلْ وَ یُصِرُّ‘‘ (فلاں غلطی کرتا ہے بلکہ اس پر اصرار بھی کرتا ہے) یہ اسلوب قرآن کریم میں کہیں نہیں آیا‘ بلکہ پرانی عربی میں بھی کہیں نہیں آیا … یہ صرف جدید استعمال ہے … یہ لفظ (بَلْ) قرآن مجید میں پچیس کے قریب مقامات پر آیا ہے۔

B ’’ اَکْثَرُھُمْ‘‘ (ان کے اکثر۔ ان میں سے بہت زیادہ۔ ان کی اکثریت) … لفظ ’’ اکثر‘‘ جو ’’ ک ث ر‘‘ سے افعل التفضیل ہے اس کے فعل مجرد کے باب اور معنی وغیرہ پر البقرہ: 6 [ 2: 19: 1 (10)] میں کلمہ ’’ کثیر‘‘ کے ضمن میں بات ہوئی تھی۔

C ’’ لَا یُؤْمِنُوْنَ‘‘ (ایمان نہیں لاتے: رکھتے) یہ فعل ’’ آمَنَ یُؤمنُ اِیمانًا‘‘ سے فعل مضارع منفی کا صیغہ ہے۔ بابِ افعال کے اس فعل کے معنی اور استعمال کے لیے البقرہ: 3 [ 2: 2: 1 (1)] دیکھیے۔

 ۔ یوں اس عبارت (بل اکثرھم لا یومنون) کا لفظی ترجمہ ہے ’’ بلکہ اکثر ان کے ایمان نہیں لاتے‘‘۔ اسی کو بعض نے ’’ بلکہ ان میں سے اکثر یقین نہیں کرتے‘‘ ’’ بلکہ ان میں سے بہت سے تو ایمان ہی نہیں رکھتے‘‘ کی صورت دی ہے۔ بعض نے ’’ لا یُؤمِنُون‘‘ کا ترجمہ ’’ بے ایمان ہیں‘‘ کیا ہے‘ یعنی جملہ فعلیہ کا ترجمہ جملہ اسمیہ (خبر) کے ساتھ جس کی کوئی مجبوری نہ تھی۔ بعض حضرات نے ’’ بَل‘‘ کا ترجمہ ’’ اصل یہ ہے: حقیقت یہ ہے‘‘ سے کیا ہے۔ گویا یہ یوں نہیں: یہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے‘‘ کی با محاورہ صورت ہے۔ بعض نے ’’ اکثرھم‘‘ کا ترجمہ ’’ ان میں زیادہ تو ایسے ہی نکلیں گے‘‘ سے کیا ہے جو ترجمہ کی حد سے تو تجاوز ہے البتہ مفہوم درست ہے۔ وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ نَبَذَ فَرِيْقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ ڎ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِھِمْ كَاَنَّھُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ   ١٠١۝ۡ
[ وَلَمَّا: اور جب ] [ جَاۗءَھُمْ: آیا ان کے پاس ] [ رَسُوْلٌ: ایک رسول] [ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ: اللہ کے پاس سے] [ مُصَدِّقٌ: تصدیق کرنے والا] [ لِّمَا: اس کی جو] [ مَعَھُمْ: ان کے ساتھ ہے] [ نَبَذَ: تو پھینکا] [ فَرِيْقٌ: ایک فریق نے] [ مِّنَ الَّذِيْنَ: ان میں سے جن کو] [ اُوْتُوا : دی گئی ] [ الْكِتٰبَ ڎ : کتاب ] [ كِتٰبَ اللّٰهِ: اللہ کی کتاب کو] [ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِھِمْ: اپنی پیٹھوں کے پیچھے] [ كَاَنَّھُمْ: جیسے کہ وہ لوگ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتے نہیں ہیں]

 

 [ وَلَمَّا جَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ]

 اس عبارت کے تمام کلمات پہلے گزر چکے ہیں۔

A ’’ وَ لَمَّا‘‘ (اور جب: جس وقت) ’’ لمَّا‘‘ کے معنی اور استعمال پر البقرہ: 7 [ 2: 13: 1 (4)] میں بات ہوئی تھی۔

B ’’ جَائَ ھُمْ‘‘ (ان کے پاس آیا) فعل ’’ جَائَ یَجِیْئُ (آنا) پر البقرہ: 71 [ 2: 44: 1 (14)] میں کلمہ ’’ جِئْتَ‘‘ کے ضمن میں بات ہوئی تھی۔

C ’’ رَسُولٌ‘‘ (ایک رسول: پیغمبر) لغوی تشریح کے لیے دیکھیے البقرہ: 87 [ 2: 53: 1 (1) و (14)] جہاں ’’ الرّسل‘‘ اور ’’ رسول‘‘ دونوں کلمات آئے ہیں۔

D ’’ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ‘‘ (اللہ کے پاس سے۔ اللہ کی طرف سے) مزید لغوی تشریح چاہیں تو ’’ مِنْ‘‘ کے لیے [ 2: 2: 1 (5)] اور ’’ عِنْدَ‘‘ کے لیے [ 2: 34: 1 (6)] دیکھیے۔

E " ۔ ’’ مُصَدِّقٌ‘‘ (سچ بتانے والا۔ تصدیق کرنے والا) یہ لفظ جو مادہ ’’ ص د ق‘‘ سے باب تفعیل کا اسم الفاعل ہے اس کی مزید لغوی تشریح کے لیے چاہیں تو البقرہ: 41 [ 2: 28: 1 (9)] دیکھ لیجیے۔

F ’’ لِمَا‘‘ (اس چیز کے لیے جو کہ: اس چیز کی جو کہ) لام (ل) کے معنی و استعمال پر [ 1: 2 : 1 (4)] میں اور ’’ ما‘‘ موصولہ پر [ 2: 2: 1 (5)] پر بات ہو چکی ہے۔

G ’’ مَعَھُمْ‘‘ (ان کے ساتھ) ’’ مَعَ‘‘ کے معنی و استعمال پر البقرہ: 14 [ 2: 11: 1 (5)] میں بات ہوئی تھی۔

 ۔ یوں اس زیر مطالعہ عبارت کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ اور جب آیا ان کے پاس ایک پیغمبر اللہ کی طرف سے (جو) سچ بتانے والا (ہے) اس چیز کا جو ان کے پاس ہے۔‘‘ اس کو سلیس اردو کی شکل دینے کے لیے مترجمین کو نہ صرف عبارت کی اردو ساخت کے مطابق کلمات میں تقدیم و تاخیر (آگے پیچھے کرنا) سے کام لینا پرا بلکہ محاورے کا لحاظ رکھتے ہوئے بھی بعض تبدیلیاں کرنی پڑیں‘ مثلاً ’’ جب ان کے پاس خدا کی طرف سے پیغمبر آیا‘‘۔ بعض نے ’’ جَائَ ھُمْ‘‘ کا ترجمہ ’’ ان کے پاس پہنچا‘‘ کرلیا ہے جو محاورہ اور مفہوم کے لحاظ سے درست ہے۔ بعض نے ’’ رسول‘‘ سے مراد نبی کریم ﷺ ہی لے کر ترجمہ کیا ہے … اسی طرح لفظ ’’ مصدِّق‘‘ کا ترجمہ بعض نے فعل مضارع کی طرح ’’ تصدیق کرتا ہے‘ تصدیق کر رہے ہیں‘ سچا بتاتا ہے‘‘ کی صورت میں کردیا ہے جسے اردو محاورے کی مجبوری کہہ سکتے ہیں مگر جن حضرات نے اس (مصدِّقٌ) کا ترجمہ حال کی طرح ’’ تصدیق کرتے ہوئے‘ تصدیق فرماتا‘ سچ بتاتے ہوئے‘‘ کیا ہے وہ بلحاظ ترجمہ محل نظر ہے کیونکہ یہاں ’’ مصدِّق‘‘ رسول کی صفت ہے حال نہیں ہے۔ بلکہ اردو محاورے میں بھی حال کا ترجمہ بھی صفت سے کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح بعض نے ’’ لِمَا‘‘ کا ترجمہ ’’ اس کتاب کی جو‘ ان کتابوں کی جو‘‘ سے کیا ہے‘ اسے تفسیری ترجمہ کہہ سکتے ہیں۔ بہرحال … یہ عبارت مکمل جملہ نہیں ہے بلکہ ایک طرح سے اس میں بیانِ شرط کا سا مفہوم ہے‘ یعنی ’’ جب یوں ہوا تو …‘‘ اس ’’ تو‘‘ یا جوابِ شرط کا بیان اگلے جملے میں آئے گا اور یوں یہ دونوں جملے مل کر ایک طویل مکمل جملہ بنتے ہیں۔

 [ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ کِتَابَ اللّٰہِ وَرَآئَ ظُہُوْرِہِمْ]

 جہاں تک مفردات کا تعلق ہے اس عبارت کے تمام کلمات کسی نہ کسی صورت میں پہلے زیر بحث آ چکے ہیں۔ لہٰذا ذیل میں ان کے صرف ترجمہ اور لغوی تشریح کے سابقہ حوالے پر اکتفاء کیا جائے گا۔

A ’’ نبَذ‘‘ (پرے پھینک دیا۔ پھینک مارا‘ ڈال دیا‘ پھینک دی) ۔ اس فعل کے باب معنی اور استعمال پر ابھی اوپر اسی زیر مطالعہ قطعہ یعنی [ 2: 61: 1 (1 - 2)] میں بات ہوئی تھی۔

B ’’ فَرِیْقٌ‘‘ (ایک گروہ: جماعت: فریق نے) یہ لفظ ابھی اوپر گزرا ہے۔

C ’’ مِنَ الَّذِیْنَ‘‘ (ان لوگوں میں سے جو کہ) یعنی یہ ’’ پھینکنے والا گروہ ان میں سے تھا جو … ’’ مِن‘‘ یہاں تبعیضیہ ہے (دیکھیے [ 2: 2: 1 (75)]) ’’ الذین‘‘ اسم موصول برائے جمع مذکر ہے۔

D ’’ اُوتُوا‘‘ (وہ دیئے گئے۔ ان کو دیا گیا: دی گئی) یہ ’’ ا ت ی‘‘ مادہ سے ’’ اُفْعِلُوا‘‘ کے وزن پر باب اِفعال کا فعل ماضی مجہول صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ اس کی اصل شکل ’’ أُأْتِیُوْا‘‘ تھی۔ جس میں ’’ أُ أْ‘‘ تو ’’ أُوْ‘‘ بنتا ہے اور واو الجمع سے ما قبل والا حرفِ علت (جو یہاں ’’ ی‘‘ ہے) ساقط ہو جاتا ہے اور عین کلمہ (جو یہاں ’’ ت‘‘ ہے) کی کسرہ (-ِ) کو واو الجمع کے مطابق ضمہ (-ُ) میں بدل دیا جاتا ہے۔ یوں یہ لفظ ’’ اُوتُوا‘‘ کی شکل میں لکھا اور بولا جاتا ہے۔ باب اِفعال کے اس فعل ’’ آتٰی یُؤتِی ایتائً‘‘ (کو دینا) کے معنی و استعمال پر البقرہ: 43 یعن [ 2: 29: 1 (5)] میں مفصل بحث گزر چکی ہے۔

 ۔ ’’ الکتابَ‘‘ (کتاب) دیکھیے [ 2: 1: 1 (2)]۔

F ’’ کِتَابَ اللّٰہِ‘‘ (اللہ کی کتاب کو) (دیکھیے آگے بحث ’’ الاعراب ‘‘) ۔

G ’’ وَرَائَ …‘‘ (… کے پرے‘ … کے پیچھے) ۔ اس لفظ پر مکمل لغوی بحث البقرہ: 91 یعنی [ 2: 56: 1 (1)] میں دیکھیے۔

H ’’ ظُھُوْرِھِمْ‘‘ (ان کی: اپنی پیٹھوں …) لفظ ’’ ظُھُور‘‘ ’’ ظَھْرٌ‘‘ (پیٹھ) کی جمع مکسر ہے۔ اس کے مادہ ’ ظ ھ ر‘‘ سے فعل مجرد وغیرہ پر البقرہ: 85 [ 2: 52: 1 (3)] میں کلمہ ’’ تَظاھَرُون ‘‘ کے ضمن میں بات ہوئی تھی۔ قرآن کریم میں لفظ ’’ ظَھْر‘‘ (بصیغہ واحد) چار جگہ اور ’’ ظُھْور‘‘ (بصیغہ جمع) گیارہ جگہ آیا ہے۔ دونوں کلمات ہر جگہ مرکب (اضافی) کی شکل میں آئے ہیں۔

 ۔ مفردات کی اس وضاحت اور الگ الگ ترجمہ کے بعد آپ دیکھ سکتے ہیں کہ زیر مطاعہ عبارت ’’ نبَذ فریقٌ … ظُھورِھم) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’(تو) پھینک دیا ایک گروہ نے ان میں سے جن کو دی گئی تھی کتاب اللہ کی کتاب کو پرے (پیچھے) اپنی پیٹھوں کے۔‘‘ سلیس اردو بنانے کے لیے ایک تو الفاظ میں تقدیم و تاخیر (اردو فقرے کی ساخت کے مطابق) کرنی پڑے گی مثلاً ’’ جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی ان میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو اپنی پیٹھوں پیچھے پھینک دیا‘‘ کی شکل دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض تبدیلیاں اردو محاورے کی خاطر کرنی پڑتی ہیں مثلاً اردو میں ’’ پیٹھوں‘‘ (جمع) کی بجائے ’’ پیٹھ‘‘ (واحد) کے ساتھ ترجمہ کرنے کی یہی وجہ ہے یعنی ’’ پیٹھ پیچھے پھینک دیا: ڈال دیا: پھینک مارا۔‘‘ وغیرہ ہیں۔ بعض نے اس کے لیے فارسی ترکیب ’’ پس پشت‘‘ (ڈال دیا) اختیار کی ہے جو اصلی عربی سے کم مشکل نہیں ہے۔ اسی طرح ’’ الذین اوتوا الکتاب‘‘ (جن کو کتاب دی گئی) کا ترجمہ ایک مختصر لفظ ’’ اہل کتاب‘‘ کے ساتھ کرنے کی وجہ بھی محاورہ ہی ہے۔

2: 61: 1 (4) [ کَأَنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ]

 یہ سادہ اور آسان سا جملہ اسمیہ ہے۔ اس میں:

A ’’ کَأَنَّ‘‘ (گویا کہ) مشہور حرف مشبہ بالفعل ہے (باقی حروف مشبہ بالفعل ’’ اِنَّ‘ اَنَّ‘ لٰکِنَّ‘ لَیْتَ اور لَعَلَّ‘‘ ہیں جن کے معنی علی الترتیب ’’ بے شک‘ کہ بےشک‘ لیکن‘ کاش کہ اور شاید کہ‘‘ ہیں) یہ سب جملہ اسمیہ میں مبتدأ کو (جسے ان کا اسم کہا جاتا ہے) نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔ ’’ کَأَنَّ‘‘ کی خبر اگر کوئی اسم جامد (غیر مشتق) ہو تو اس میں تشبیہ کا مفہوم ہوتا ہے جیسے ’’ کأَنَّ زیدًا اسدٌ‘‘ (گویا کہ زید شیر ہے) اور اگر اس کی خبر کوئی اسم مشتق (اسم الفاعل‘ اسم المفعول وغیرہ) یا کوئی جملہ فعلیہ ہو (جیسے زیر مطالعہ عبارت میں ہے) تو اس میں عموماً ’’ ظن‘‘ یعنی گمانِ غالب کا مفہوم ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ’’ کَأَنَّ‘‘ بیس سے زائد جگہ آیا ہے اور زیادہ تر اس کا اسم کوئی ضمیر (ہ - ھا - ھم - ھن وغیرہ) آئی ہے۔ کبھی حروف مشبہ بالفعل کے بعد (ساتھ) ’’ ما‘‘ زائدہ بھی لگتا ہے جسے ’’ ما کافّہ‘‘ کہتے ہیں۔ جیسے ’’ انَّما‘ کأَنَّما وغیرہ میں ہے۔ اس سے معنی میں تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا (البتہ تاکید کا مفہوم زیادہ ہو جاتا ہے) مگر اس صورت میں حروف مشبہ بالفعل کا کوئی عمل نہیں ہوتا۔ ’’ کَأَنَّمَا‘‘ بھی قرآن کریم میں پانچ مقامات پر استعمال ہوا ہے۔؎

 B ’’ ھُمْ‘‘ (وہ) یہ ضمیر یہاں ’’ کَأَنَّ‘‘ کا اسم ہو کر آئی ہے۔

C ’’ لَا یَعْلَمُوْنَ‘‘ (وہ نہیں جانتے) اس کا فعل ’’ عَلِمَ یعلَم‘‘ (جاننا) کئی دفعہ گزر چکا ہے۔ پہلی دفعہ اس کے باب اور معنی و استعمال پر الفاتحہ: 2 [ 1: 2: 1 (4)] میں کلمہ ’’ عالَمین‘‘ کے ضمن میں بات ہوئی تھی اور پھر البقرہ: 13 [ 2: 1: 1 (3)] میں یہی لفظ ’’ لَا یعلمون‘‘ گزرا ہے۔

 ۔ اس عبارت کا سادہ لفظی ترجمہ تو بنتا ہے ’’ گویا کہ وہ نہیں جانتے‘‘ جس کی ایک صورت ’’ گویا ان کو معلوم نہیں‘‘ یا ’’ گویا ان کو علم نہیں‘‘ بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم اردو محاورے کے مطابق مفہوم میں زور پیدا کرنے کے لیے بیشتر مترجمین نے یہاں ’’ کچھ‘‘ اور ’’ ہی‘‘ کا اضافہ کیا ہے‘ یعنی ’’ گویا ان کو کچھ علم ہی نہیں: کچھ خبر ہی نہیں: علم ہی نہیں رکھتے: جانتے ہی نہیں‘‘ وغیرہ کی صورت میں ترجمہ کیا ہے‘ اگرچہ اصل عبارت میں ’’ شیئًا‘‘ وغیرہ کی قسم کا کوئی لفظ نہیں ہے۔ یعنی ان کی عملی حالت دیکھ کر گمانِ غالب یہی ہوتا ہے کہ گویا وہ بالکل بےخبر ہیں (کتاب اللہ سے) … قصہ تو یہود کا ہے مگر اس میں غور اور عبرت کا مقام (قرآن کے حوالے سے) مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔

2: 61: 2 الاعراب

 بیانِ اعراب کے لیے اس قطعہ کو سات چھوٹے جملوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جن میں سے دو کا باہمی تعلق شرط اور جوابِ شرط کا سا ہے۔ لہٰذا ان دونوں کو مجموعی طور پر لے کر ہی جملہ شمار کیا جا سکتا ہے۔ تفصیل یوں ہے:

 A ’’ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ‘‘

 [ وَ] یہاں مستانہ ہے [ لَقَدْ] حرفِ تاکید اور حرفِ تحقیق جمع ہو گئے ہیں [ اَنْزَلْنَا] فعل ماضی معروف مع ضمیر تعظیم ’’ نَحْنُ‘‘ ہے [ ِاِلَیْک] جار (الٰی) اور مجرور (ک) مل کر متعلق فعل ’’ اَنْزَلْنَا‘‘ ہیں جو مفعول سے مقدم آئے ہیں کیونکہ در اصل تو بنتا تھا ’’ لَقَدْ اَنْزَلْنَا آیاتٍ بیّناتٍ الیک‘‘ … [ آیاتٍ] فعل ’’ انزلنا‘‘ کا مفعول (لہٰذا) منصوب ہے‘ علامت نصب ’’ اتٍ‘‘ ہے کیونکہ یہ جمع مؤنث سالم ہے [ بیناتٍ] صفت ہے (آیات کی) اس لیے منصوب ہے۔ یہ بھی اسی طرح جمع مؤنث سالم ہے۔

B ’’ وَمَا یَکْفُرُ بِہَآ اِلاَّ الْفٰسِقُوْنَ‘‘

 [ وَ] عاطفہ ہے اور [ مَا] نافیہ ہے [ یَکفُر] فعل مضارع معروف صیغہ واحد مذکر مؤنث ہے [ بِھَا] جار (بِ) اور مجرور (ھَا) مل کر متعلق فعل ’’ یکفر‘‘ ہے۔ یا اگر ’’ بِ‘‘ کو فعل ’’ یکفر‘‘ کا صلہ قرار دیں تو پھر مرکب جاری (بھا) کو مفعول سمجھ کر محلاً منصوب بھی کہہ سکتے ہیں۔ [ اِلَا] حرف استثناء ہے‘ اس سے پہلے فعل ’’ یکفر‘‘ کا فاعل ’’ احدٌ‘‘ محذوف ہے۔ [ الفَاسِقُون] یہاں یکفر کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے (علامت رفع آخری نون سے ما قبل -ُ وْ ) ہے … چونکہ یہاں حرف استثناء سے پہلے جملہ منفی غیر تام (غیر مکمل) ہے اس لیے ’’ الفاسقون‘‘ کا اعراب موقع کے مطابق رفع کا ہے۔ یعنی اگر ’’ ما‘‘ نافیہ اور ’’ الا‘‘ کو ہٹا دیں تو باقی ’’ یکفر الفاسقون‘‘ ہی بنتا ہے۔

C ’’ اَوَکُلَّمَا عٰہَدُوْا عَہْدًا نَّبَذَہٗ فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ‘‘

 [ اَوَ] ہمزہ استفہام اور واو العطف کا مرکب ہے (استعمال کے لیے دیکھیے حصہ اللغۃ ) ۔ [ کُلَّمَا] اس میں ظرف اور شرط جمع ہیں۔ یعنی یہ طرف زمان متضمن معنی شرط ہے [ عاھَدوا] عل ماضی معروف مع ضمیر الفاعلین ’’ ھم‘‘ ہے۔ [ عَھْدًا] اسے فعل ’’ عاھدوا‘‘ کا مفعول بہٖ (لہٰذا منصوب) بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس صورت میں یہاں ایک مفعول محذوف ہے (مثلاً عاھَدُوا اللّٰہَ یا عاھدوکم بھی کہہ سکتے ہیں۔ [ نبَذہ] ’’ نبَذ‘‘ تو فعل ماضی معروف برائے واحد مذکر غائ؛ب ہے اور ضمیر منصوب (ہ) مفعول بہ مقدم ہے کیونکہ مفعول کوئی ضمیر ہو تو فاعل سے پہلے آتی ہے۔ [ فریقٌ] فعل ’’ نبَذ‘‘ کا فاعل (لہٰذا) مرفوع ہے‘ علامت رفع تنوین رفع (-ٌ) ہے [ منھم] جار (مِن) اور مجرور (ھُم) مل کر ’’ فریق‘‘ کی صفت یا بیان ہے۔ یعنی ایسا گروہ جو ان ہی میں سے ہے۔

D ’’ بَلْ اَکْثَرُہُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ‘‘

 [ بَلْ] حرفِ اضراب ہے جو یہاں سابقہ مضمون (عہد کو پرے پھینک دینا) کے ابطال کے لیے نہیں بلکہ انتقال مضمون کے لیے ہے۔ یعنی صرف یہی نہیں کہ وہ عہد کی پروا نہیں کرتے بلکہ وہ تو ایمان سے ہی محروم ہیں۔ [ اکثرھم] مضاف (اکثر) اور مضاف الیہ (ھم) مل کر مبتدأ بنتا ہے اسی لیے ’’ اکثر‘‘ مرفوع ہے۔ اور [ لا یؤمنون] فعل مضارع منفی مع ضمیر الفاعلین ’’ ھم‘‘ پورا جملہ فعلیہ ہو کر ’’ اکثرھم‘‘ کی خبر بن رہا ہے۔

 ۔ ’’ وَلَمَّا جَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ‘‘

 [ وَ] عاطفہ ہے اور [ لَمَّا] حینیہ ظرفیہ ہے‘ یعنی یہ وقت کا مفہوم رکھتا ہے (’’ جب‘‘ کا) جس میں ایک طرح سے شرط کا معنی بھی موجود ہے مگر یہ جازم نہیں ہے۔ [ جائَ ھم] فعل ماضی معروف (جائَ) مع ضمیر (ھم) مفعول بہ ہے اور [ رسول] اس فعل (جائَ) کا فاعل (لہٰذا) مرفوع ہے۔ [ مِن عندِ اللّٰہ] مرکب جارّی (جس میں ’’ مِن‘‘ حرف الجر ہے اور ’’ عندِ‘‘ ظرفِ مضاف اور مجرور بالجر بھی ہے اور ’’ اللّٰہِ‘‘ مجرور بالاضافہ ہے) ’’ رسول‘‘ (جو نکرہ موصوفہ ہے) کی صفت بنتا ہے (یعنی ایسا رسول جو اللہ کی طرف سے ہے) اور [ مصدِّقٌ] اس (رسول) کی دوسری صفت ہے جو چاروں (حالت‘ جنس‘ عدد‘ وسعت) لحاظ سے اپنے موصوف کے مطابق ہے۔ [ لِمَا] جار (لِ) اور مجرور ( مَا موصولہ) مل کر ’’ مصدِّقٌ‘‘ سے معلق ہیں۔ یعنی ہ کس کا مصدّق؟ کا جواب مہیا کرتا ہے۔ [ مَعَھُمْ] ظرفِ مکان مضاف (معَ) اور مضاف الیہ (ھُمْ) مل کر اسم موصول (مَا) کا سلہ بنتا ہے۔ اور یوں یہ پوری عبارت [ لما معھم] مل کر ’’ مصدِّق‘‘ کے معنی فعل (تصدیق کرتا ہے) سے متعلق ہے۔ بلحاظ معنی یہاں تک جملہ مکمل نہیں ہوتا کیونکہ یہ ایک طرح سے بیان شرط ہے (اگرچہ اس میں کوئی جازم بھی نہیں اور یہ قصہ بھی زمانہ ماضی کا بیان ہو رہا ہے تاہم اس کے بعد حرفِ ربط کے طور پر اگلی عبارت سے پہلے ایک ’’ تو‘‘ کا اضافہ ضروری معلوم ہوتا ہے‘ یعنی ’’ جب… تو …‘‘ کی صورت میں‘ اس لیے اگلا جملہ اس جملے سے مربوط ہے۔)

F ’’ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآئَ ظُہُوْرِہِمْ‘‘

 [ نبَذ] فعل ماضی معروف صیغہ واحد مذکر غائب ہے اور [ فریقٌ] جو یہاں نکرہ موصوفہ بھی ہے‘ اس فعل کا فاعل (لہذا) مرفوع ہے۔ یعنی ’’ ایک ایسے گروہ نے جو‘‘۔ [ من الذین] جار (مِن) اور مجرور (الذینجو اسم موصول بھی ہے) مل کر ’’ فریقٌ‘‘ کی صفت کا کام دے رہے ہیں (یعنی جو ان لوگوں میں سے ہے جو) [ اُوتُوا] فعل ماضی مجہول مع مرفوع ضمیر برائے نائب الفاعلین ’’ ھم‘‘ ہے اور [ الکتابَ] اس فعل کا مفعول بہ ثانی ہے جو نصب میں آیا ہے (دو مفعول والا فعل جیس ’’ آتٰی یُؤتِی‘‘ ہے۔ مجہول آئے تو ایک مفعول نائب فاعل بن کر رفع میں آتا ہے اور دوسرا نصب میں آتا ہے) علامت نصب آخری ’’ بَ‘‘ کی فتحہ (-َ) ہے کیونکہ یہ معرف باللام بھی ہے۔ [ کتابَ اللّٰہِ] مرکب اضافی ہے جس میں مضاف (کتابَ) فعل ’’ نبَذ‘‘ کا مفعول بہٖ ہونے کے باعث منصوب ہے اور آگے مضاف ہونے کے باعث خفیف بھی ہے اس لیے یہاں بھی علامت نصب فتحہ (-َ) ہی رہ گئی ہے۔ اور اسم جلالت (اللّٰہ) مجرور بالاضافہ ہے [ ورائَ ظُھورھم] یہ مجموعی طور پر تو مرکب اضافی ہے جس میں ’’ ورائ‘‘ ظرف مضاف ہے اور ’’ طھور‘‘ اس (ورائ) کا مضاف الیہ اور آگے مضاف بھی ہے اسی لیے خفیف بھی اور مجرور بھی ہے۔ یعنی اس میں علامت جر اب آخری ’’ ر‘‘ کی ایک کسرہ (-ِ) رہ گئی ہے اور آخر پر (ھم) ضمیر مجرور اس (ظھور) کا مضاف الیہ ہے۔ اس پورے مرکب اضافی (وراء ظھورھم) کے پہلے جزء (ورائ) کی نصب در اصل تو ظرف (مکان) ہونے کی وجہ سے ہے … تاہم بعض نحوی یہ کہتے ہیں کہ چونکہ یہاں ’’ پیٹھ پیچھے: سے پرے‘‘ کا مطلب ’’ حسی‘‘ نہیں لیا جا سکتا … یعنی کتاب کو کسی ’’ جگہ‘‘ (جو حواس سے معلوم کی جا سکتی ہو) تو نہیں پھینکا تھا۔ بلکہ یہاں مجازاً ’’ پھینکے ہوئے جیسا بنا دینا‘‘ مراد ہے۔ گویا یہاں فعل ’’ نبَذ‘‘ (پھینک دیا) در اصل ’’ جعَل‘‘ یا ’’ صبَّر‘‘ کے معنی میں ہے جس کے دو مفعول ہوتے ہیں اس لیے یہاں ’’ ورائ‘‘ در اصل مفعول بہ ثانی کا درجہ رکھتا ہے … لیکن یہ سب تکلف معلوم ہوتا ہے۔ اسلوب عبارت سے ہی ظاہر ہے کہ یہاں ’’ پھینک‘‘ دینا سے مراد ’’ حسی‘‘ طور پر پھینکنا مراد نہیں جیسا کہ حصہ ’’ اللغۃ‘‘ میں اس فعل کے معانی میں بیان ہوا ہے۔

G کَاَنَّہُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ

 [ کأنھم] حرفِ مشبہ بالفعل (کان) اور اس کے اسم (ھم) پر مشتمل ہے اور [ لا یعلمون] فعل مضارع معروف منفی مع ضمیر الفاعلین ’’ ھم‘‘ جملہ فعلیہ بن کر ’’ اکثرھم‘‘ کی خبر ہے۔ اگرچہ یہ ایک مسقل جملہ اسمیہ ہے تاہم سیاق و سباق عبارت کے لحاظ سے اسے ’’ پھینکنے والے گروہ‘‘ کا (یعنی فعل نبذ کے فاعلین کا) حال قرار دیا جا سکتا ہے یعنی انہوں نے یہ کام بےخبروں اور جاہلوں سے مشابہ (مانند) ہوتے ہوئے کر ڈالا تھا۔

2: 61: 3 الرسم

 زیر مطالعہ قطعہ آیات میں بلحاظ رسم صرف چھ کلمات وضاحت طلب ہیں‘ یعنی ’’ ایت‘ بینت‘ الفسقون‘ کلما‘ عھدوا اور الکتاب‘‘ (جو عبارت میں دو دفعہ آیا ہے) تفصیل نمبر وار یوں ہے:

A ’’ ایت‘‘ جس کا عام رسم املائی ’’ آیات‘‘ ہے۔ قرآن مجید میں یہاں اور (زیادہ تر) ہر جگہ ’’ بحذف الال بعد الیائ‘‘ لکھا جاتا ہے چاہے مفرد ہو یا مرکب اور نکرہ ہو یا معرفہ۔ البتہ ایک دو جگہ کے بارے میں اختلاف ہے‘ ان کا ذکر اپنے موقع پر آئے گا۔ نیز دیکھیے البقرہ: 61 [ 2: 39: 3] میں کلمہ ’’ آیات اللّٰہ‘‘ اور البقرہ: 39 یعنی [ 2: 27: 3] میں ’’ ایاتنا‘‘ کی بحث رسم۔

B ’’ بینت‘‘ کا عام رسم املائی ’’ بینات‘‘ ہے مگر قرآن کریم میں یہ یہاں اور ہر جگہ بحذف الالف بعد النون لکھا جاتا ہے۔ نیز دیکھیے البقرہ: 87 [ 2: 53: 3] میں کلمہ البینات کی بحث رسم۔

C ’’ الفسقون‘‘ جس کی عام املاء ’’ الفاسقون‘‘ ہے‘ قرآن کریم میں یہاں اور ہر جگہ بحذف الالف بعد الفاء لکھا جاتا ہے۔ نیز دیکھیے البقرہ: 26 [ 2: 19: 3] میں کلمہ ’’ الفاسقین‘‘ کی بحث سم۔

D ’’ کُلَّما‘‘ یہ لفظ یہاں اور قریباً ہر جگہ اسی طرح موصول (یعنی ’’ کُلَّ‘‘ اور ’’ مَا‘‘ کو ملا کر) لکھا جاتا ہے … البتہ ایک جگہ (ابراہیم: 34) یہ مقطوع (بصورت ’’ کُلَّ مَا‘‘ ) لکھا جاتا ہے اور تین چار مقامات پر یہ مقطوع اور موصول کے درمیان مختلف فیہ ہے ان پر حسب موقع بات ہو گی۔ نیز دیکھیے البقرہ: 20 [ 2: 15: 3] (بحث الرسم)

 ۔ ’’ عھدوا‘‘ جس کا عام رسم املائی ’’ عاھدوا‘‘ ہے۔ قرآن کریم میں یہ لفظ یہاں تو بالاتفاق ’’ بحذف الالف بعد العین‘‘ لکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہی صیغہ فعل (عاھَدوا) قرآن کریم میں مزید تین جگہ بھی آیا ہے‘ ان میں سے الف (بعد العین) کے حذف اور اثبات کے بارے میں اختلاف ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میں باب مفاعلہ کے اس فعل سے ماضی ہی کے کچھ اور صیغے (عاھد‘ عاھدت‘ عاھدتم) بھی سات جگہ آئے ہیں‘ ان میں سے بھی صرف ’’ عاھد‘‘ کے حذف الف (’’ عٰھَدَ‘‘ لکھنے) پر اتفاق ہے مگر باقی کلمات کا رسم اِس (حذف و اثبات) کے بارے میں مختلف فیہ ہے … لہٰذا ان تمام کلمات پر حسب موقع بات ہو گی۔

F ’’ الکتٰب اور کتٰب اللّٰہ‘‘ اس میں کلمہ ’’ کتب‘‘ کا عام رسم املائی تو ’’ کتاب‘‘ ہے مگر قرآن کریم میں یہ کلمہ ہر جگہ (ما سوائے چار خاص مقامات کے) بحذف الالف بعد التاء ہی لکھا جاتا ہے۔ نیز دیکھیے البقرہ: 2 [ 2: 1: 3] میں ’’ الکتب‘‘ کے رسم پر بحث۔

2: 61: 4 الضبط

 اس قطعہ آیات میں بھی ضبط کا تنوع زیادہ تر الف محذوف‘ ھاء کنایہ‘ نون مخفاۃ و مظہرہ‘ حرفِ علت کے طریق ضبط میں منحصر ہے‘ نیز افریقی مصاحف میں متطرف (آخر پر آنے والے) حروف (ی ن ف ق) کا عدم اعجام بھی قابل ذکر ہے۔ درج ذیل نمونوں سے آپ ضبط کے اس اختلاف یا تنوع کو سمجھ سکتے ہیں جہاں صرف حرکت کی صورت (یعنی فتحہ کسرہ ضمہ یا سکون) کا فرق ہے اسے دوبارہ نہیں لکھا گیا۔ وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ عَلٰي مُلْكِ سُلَيْمٰنَ ۚ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيْنَ كَفَرُوْا يُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ ۤوَمَآ اُنْزِلَ عَلَي الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ ھَارُوْتَ وَمَارُوْتَ ۭ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى يَقُوْلَآ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۭ فَيَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهٖ ۭ وَمَا ھُمْ بِضَاۗرِّيْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَيَتَعَلَّمُوْنَ مَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ ۭ وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىھُ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ڜ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖٓ اَنْفُسَھُمْ ۭ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ  ١٠٢۝
[ وَاتَّبَعُوْا: اور وہ لوگ پیچھے پڑے] [ مَا: اس کے جو] [ تَتْلُوا: پڑھتے تھے] [ الشَّيٰطِيْنُ: شیاطین] [ عَلٰي مُلْكِ سُلَيْمٰنَ ۚ : سلیمان کے ملک میں ] [ وَمَا كَفَرَ: اور کفر نہیں کیا] [ سُلَيْمٰنُ: سلیمان نے] [ وَلٰكِنَّ: اور لیکن (بلکہ)] [ الشَّيٰطِيْنَ: شیاطین نے] [ كَفَرُوْا: کفر کیا ہے] [ يُعَلِّمُوْنَ: وہ سکھاتے تھے] [ النَّاسَ: لوگوں کو] [ السِّحْرَ ۤ: جادو] [ وَمَآ: اور اس کے (پیچھے پڑے) جو] [ اُنْزِلَ: اتارا گیا] [ عَلَي الْمَلَكَيْنِ: دو فرشتوں پر] [ بِبَابِلَ: بابل میں ] [ ھَارُوْتَ وَمَارُوْتَ ۭ : ہاروت اور ماروت پر] [ وَمَا يُعَلِّمٰنِ: اور وہ دونوں نہیں سکھاتے تھے] [ مِنْ اَحَدٍ: کسی ایک کو] [ حَتّٰى: یہاں تک کہ] [ يَقُوْلَآ: وہ دونوں کہتے] [ اِنَّمَا: کچھ نہیں سوا 4 ے اس کے کہ] [ نَحْنُ: ہم ] [ فِتْنَةٌ: آزماءش ہیں] [ فَلَا تَكْفُرْ ۭ : پس تو کفر مت کر] [ فَيَتَعَلَّمُوْنَ: تو (بھی) وہ لوگ سیکھتے] [ مِنْهُمَا: ان دونوں سے] [ مَا: اس کو] [ يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ: وہ لوگ جدائی ڈالتے جس سے] [ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهٖ ۭ : مرد اور اس کی بیوی کے مابین] [ وَمَا ھُمْ بِضَاۗرِّيْنَ : اور وہ لوگ نقصان پہنچانے والے نہیں ہیں] [ بِهٖ: اس سے] [ مِنْ اَحَدٍ: کسی ایک کو] [ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ : مگر اللہ کی اجازت سے] [ وَيَتَعَلَّمُوْنَ: اور وہ سیکھتے] [ مَا: اس کو جو] [ يَضُرُّھُمْ: ان کو نقصان دیتا] [ وَلَا يَنْفَعُھُمْ ۭ : اور ان کو نفع نہیں دیتا] [ وَلَقَدْ عَلِمُوْا: اور یقینا وہ جان چکے تھے] [ لَمَنِ اشْتَرٰىھُ: کہ بیشک جس نے خریدا اس کو] [ مَا لَهٗ: اس کے لیے نہیں ہے ] [ فِي الْاٰخِرَةِ: آخرت میں] [ مِنْ خَلَاقٍ ڜ : کوئی حصہ] [ وَلَبِئْسَ: اور یقینا کتنا برا ہے] [ مَا شَرَوْا بِهٖٓ: وہ انہوں نے سودا کیا جس سے] [ اَنْفُسَھُمْ ۭ : اپنے آپ کا ] [ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ : کاش وہ لوگ جانتے ہوتے]

 

2: 62: 2 الاعراب

 ترکیب نحوی کے لیے اس عبارت کو 13 جملوں میں تقسیم کای جا سکتا ہے اسی لیے ہر نحوی جملے کے آخر پر کوئی نہ کوئی علامت وقف دی گئی ہے۔

A وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ

 [ وَ] عاطفہ ہے جو اگلے فعل [ اتبعوا] کو سابقہ آیت کے صیغہ فعل (نبَذ) پر عطف کرتی ہے [ اتبعوا] فعل ماضی معروف جمع مذکر غائب ہے جس میں ضمیر الفاعلین ’’ ھم‘‘ موجود ہے۔ [ ما] موصولہ ہے جو یہاں فعل ’’ اتبعوا‘‘ کا مفعول ہے‘ یا یوں کہیے کہ یہاں (اسم موصول) ہے یہ مفعول شروع ہوتا ہے جسے محلاً منصوب کہا جائے گا۔ [ تتلو] فعل مضارع معروف صیغہ واحد مؤنث غائب ہے جو فاعل [ الشَیاطینُ] کے جمع مکسر آنے کی وجہ سے آیا ہے اور بیان قصہ کی بناء پر یہاں یہ بمعنی ’’ تَلَتْ‘‘ (صیغہ ماضی مؤنث غائب) کے لے آیا ہے۔ [ علٰی مُلکِ سلیمٰن] علٰی حرف الجر یہاں بمعنی ’’ فِی‘‘ آیا ہے اور ’’ مُلْکِ سُلَیْمٰن‘‘ مضاف (مُلک) اور مضاف الیہ (سُلیمان) مل کر مجرور ہیں اور اس سے پہلے لفظ ’’ زَمَن‘‘ محذوف ہے جو ’’ فِی‘‘ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ’’ مُلْک‘‘ تو یہاں مجرور بالجر ہے (علٰی کی وجہ سے) اور آگے مضاف ہونے کے باعث خففی بھی ہے اور اس میں علامت جر آخری ’’ ک‘‘ کی کسرہ (-ِ) رہ گئی ہے ’’ سلیمان‘‘ غیر منصرف ہے‘ اس لیے اس میں جر (جو بالاضافہ ہے) کی علامت ’’ ن‘‘ کی فتحہ ہے۔ سلیمان کا غیر منصرف ہونا عجمیت اور علمیت کی بنا پر ہے یعنی وہ ایک غیر عربی نام ہے۔

B وَمَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ

 [ وَ] کو مستانفہ بھی کہہ سکتے ہیں اور اس میں حالیہ (بمعنی حالانکہ) ہونے کی گنجائش بھی ہے۔ [ ما کفَر] فعل ماضی معروف واحد مذکر غائب منفی ہے اور یہ نفی ’’ ما‘‘ نافیہ کے ذریعے واقع ہوئی ہے۔ [ سلیمان] اس منفی فعل (ما کفر) کا فاعل لہٰذا مرفوع ہے۔ [ و لٰکِنَّ] واو العطف ہے اور ’’ لٰکِنَّ‘‘ حرف مشبہ بالفعل ہے جس کا اسم منصوب [ الشَّیاطِینَ] ہے جو جمع سالم نہیں بلکہ جمع مکسر ہے اور [ کفَروا] فعل ماضی معروف جملہ فعلیہ بن کر ’’ لٰکِنَّ‘‘ کی خبر لہٰذا محلاً مرفوع ہے۔ [ یُعَلِّمُونَ] فعل مضارع معروف ہے ضمیر الفاعلین ’’ ھُمْ‘‘ ہے جس کی علامت صیغہ فعل کی واو الجمع (-ُ وْ) ہے۔ [ النَّاسَ] اس فعل (یُعَلِّمُونَ) کا پہلا مفعول (لہٰذا منصوب) ہے۔ علامت نصب ’’ سَ‘‘ کی فتحہ (-َ) ہے۔ [ السِحرَ] اس فعل کا دوسرا مفعول منصوب ہے جس کی علامت ’’ رَ‘‘ کی فتحہ (-َ) ہے۔ اور یہ پورا جملہ فعلیہ (یُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ) سابقہ فعل ’’ کفَروا‘‘ کی ضمیر الفاعلین کا حال بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی ’’ اُنہوں نے کفر کیا اس حالت میں کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے‘‘ یا اس جملہ کو ’’ الشَّیاطینَ‘‘ (اسم لٰکِنَّ) کی خبر ثانی کہہ سکتے ہیں ’’ یعنی‘‘ کفر بھی کیا اور تعلیم سحر کا کام بھی کیا۔‘‘

C وَمَآ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ہَارُوْتَ وَمَارُوْتَ

 [ وَ] برائے عطف ہے اور [ مَا] موصولہ ہے جو واو عافہ کے ذریعے ’’ السحر‘‘ پر معطوف ہے یعنی ’’ ’’ جادو‘‘ بھی سکھاتے تھے اور وہ بھی جو …‘‘ گویا یہ ’’ مَا‘‘ (اپنے ما بعد صلہ سمیت) فعل ’’ یُعَلِّمُونَ‘‘ کا ہی ایک اور مفعول ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے سابقہ جملے کے ’’ مَا تَتْلُو‘‘ پر عطف سمجھا جائے۔ اس صورت میں یہ فعل ’’ وَ اتَّبَعُوا‘‘ (اوپر جملہ نمبر 1 والا) کا مفعول ثانی بن سکتا ہے۔ یعنی وہ پیچھے لگ گئے اس کے جو شیاطین پڑھتے تھے اور اس کے بھی جو … (بابل میں اتارا گیا۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے) ۔ اردو مترجمین نے دونوں طرح ترجمہ کیا ہے یعنی مندرجہ بالا پہلی ترکیب کے مطابق بھی اور دوسری ترکیب کے مطابق بھی۔ بلکہ زیادہ تر نے دوسری ترکیب کے ساتھ ہی ترجمہ کیا ہے۔ [ اُنْزِلَ] فعل ماضی مجہول واحد مذکر غائب ہے جس میں نائب الفاعل ضمیر ’’ ھُوَ‘‘ مندرجہ بالا ’’ مَا‘‘ موصولہ کے لیے ہے۔ [ علَی المَلَکَیْنِ] میں علامت جر آخری نون سے ما قبل والی ’’ یائ‘‘ ما قبل مفتوح (-َ یْ ہے جو تثنیہ میں استعمال ہوتی ہے۔ [ بِبَابِلَ] حرف الجر (بِ) اور مجرور (بابلَ) کو بھی ’’ اُنْزِلَ‘‘ سے متعلق سمجھا جا سکتا ہے اور معناً اسے ’’ المَلَکَین‘‘ کا حال بھی کہہ سکتے ہیں۔ لفظ ’’ بابل‘‘ بھی عجمی علم ہونے کے باعث غیر منصرف ہے اس لیے اس میں علامت جر آخری ’’ لَ‘‘ کی فتحہ (-َ) ہے [ ھَارُوتَ و مَارُوتَ] دونوں بذریعہ واو العطف مل کر ’’ المَلَکین‘‘ کا بدل ہے لہٰذا مجرور ہیں۔ یہ بھی عجمی نام ہیں اس لیے غیر منصرف ہیں اور علامت جر ان میں آخری ’’ ت‘‘ کی فتحہ (-َ) ہے۔

 ۔ بعض نحویوں نے … اور ہمارے زمانے کے بعض مفسرین نے بھی اس جملے کے ابتدائی ’’ مَا‘‘ کو موصولہ کی بجائے ’’ نافیہ‘‘ قرار دیا ہے۔ اس صورت میں ’’ مَا اُنْزِلَ‘‘ کا ترجمہ ہو گا ’’ اور وہ نہیں اتارا گیا تھا‘‘ (بابل میں دو فرشتوں پر) گویا یہ ہاروت ماروت کا قصہ ایک یہودی افسانہ ہے جس کی قرآن نے تردید کر دی … اس جملے کی حد تک تو یہ نحوی توجیہ قابل قبول ہو سکتی ہے مگر اس کے بعد آنے والے جملوں میں یہ عبارت کسی طرح فٹ نہیں آتی۔ اسی لیے اہل علم کی اکثریت نے یہاں ’’ مَا‘‘ کو موصولہ ہی قرار دیا ہے۔

D وَمَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلَآ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلاَ تَکْفُرْ

 [ وَ] یہاں استیناف کے لیے ہے یعنی ایک الگ بات یا قصے کا دوسرا پہلو یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ [ مَا] نافیہ ہے اور اس کی تائید آگے ’’ حتٰی‘‘ کے استعمال سے ہوتی ہے۔ [ یُعَلِّمَانِ] (اس کے قرآنی رسم پر آگے بات ہو گی) فعل مضارع معروف صیغہ تثنیہ مذکر غائب ہے جس میں ضمیر الفاعلین ’’ ھُمَا‘‘ ’’ المَلَکَین‘‘ کے لیے ہے۔ [ مِنْ اَحَدٍ] یہ در اصل تو ’’ اَحَدًا‘‘ تھا جو فعل ’’ یُعَلِّمَان‘‘ کا ایک مفعول تھا (دوسرا مفعول یہاں محذوف ہے) پھر اس نکرہ ’’ احدًا‘‘ (کسی ایک کو) پر عموم نکرہ کی قطعیت کے لیے ’’ مِن‘‘ آیا ہے۔ اب یہ جار مجرور مل کر مفعول ہیں اور محلاً نصب میں ہیں اور اسی لیے ترجمہ ’’ کسی ایک کو بھی‘‘ ہو گا۔ [ حَتّٰی] یہاں ’’ اِلٰی اَنْ‘‘ (یہاں تک کہ) کے معنی میں ہے اور اسی لیے بعض نے یہاں ’’ حَتّٰی‘‘ بمعنی ’’ اِلاَّ اَنْ‘‘ ہی لیا ہے (مثلاً العکبری نے) جب کہ بعض نے اسے غلط قرار دیا ہے (مثلاً الدرویش نے) بلکہ اسے حرفِ غایب (یہاں تک کہ‘ جب تک کہ‘ اس وقت تک جب کہ) ہی سمجھا ہے۔ ویسے اس بحث سے عبارت کے اصل مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ [ یَقُولَا] فعل مضارع منصوب بوجہ ’’ حتّٰی‘‘ ہے۔ علامت نصب آخری ’’ ن‘‘ (یقولان کا) گرنا ہے اور اس صیغہ تثنیہ کی ضمیر فاعل ’’ ھما‘‘ بھی ’’ الملَکَین‘‘ ہی کے لیے ہے۔ [ اِنَّما] کی ’’ مَا‘‘ کافہ اور ’’ اِنَّ‘‘ مکفوفہ ہے یعنی ’’ مَا‘‘ نے ’’ اِنَّ‘‘ کا عمل روک دیا ہے اور اس میں حصر کے معنی پیدا ہو گئے ہیں۔ [ نَحْنُ] ضمیر مرفوع منفصل مبتدأ ہے اور [ فِتنۃٌ] اس کی خبر ہے جو نکرہ بھی ہے اور مرفوع بھی۔ [ فَلَا تَکْفُرْ] فاء (فَ) یہاں فصیحہ ہے جو بغیر شرط کے جوابِ شرط کا مفہوم دیتی ہے۔ اردو ترجمہ اس کا بہرحال ’’ سو‘‘ یا ’’ پس‘‘ ہی ہو گا۔ ’’ لَا تَکْفُرْ‘‘ فعل نہی صیغہ واحد مذکر حاضر ہے اور یہ پورا جملہ (اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْ) اوپر والے فعل ’’ یَقُولَا‘‘ کا مقول (مفعول) ہو کر ایک طرح سے محل نصب میں ہے اور یہاں ’’ اسے سیکھ کر‘‘ کے معنی کا ایک فعل محذوف ہے جو عبارت سے سمجھا جاتا ہے۔

 ۔ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْہُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِہٖ بَیْنَ الْمَرْئِ وَزَوْجِہٖ

 [ فائ۔ ف] کو یہاں مستانفہ سمجھنا زیادہ موزوں ہے۔ [ یَتَعَلَّمُونَ] فعل مضارع معروف مع ضمیر الفاعلین ’’ ھُمْ‘‘ ہے۔ [ مِنْھُمَا] جار مجرور مل کر متعلق فعل [ یَتَعَلَّمُونَ] ہیں۔ [ مَا] موصولہ ہے‘ فعل (یَتَعَلَّمُونَ) کا مفعول لہٰذا محلاً منصوب ہے بلکہ در اصل تو ’’ مَا‘‘ کے بعد آنے والا صلہ بھی ساتھ مل کر مفعول بنے گا۔ [ یُفَرِّقُونَ] فعل مضارع معروف مع ضمیر الفاعلین ’’ ھُمْ‘‘ ہے اور [ بِہٖ] جار مجرور مل کر اس فعل (یُفَرِّقُونَ) سے متعلق ہیں۔ [ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ زَوْجِہف] میں ’’ بَیْنَ‘‘ تو ظرفِ منصوب ہے (جو ہمیشہ مضاف ہو کر ہی آتا ہے) اس کے بعد ’’ المَرْئِ‘‘ اس ظرف کا مضاف الیہ مجرور ہے‘ علامت جر آخری ’’ئ‘‘ کی کسرہ (-ِ) ہے کیونکہ یہ معرف باللام بھی ہے۔ اس کے بعد ’’ وَ‘‘ کے زریعے بعد والے لفظ (زَوْجِہٖ) کو اس (المَرئ) پر عطف کیا گیا ہے۔ ’’ زَوجہٖ‘‘ جو خود مرکب اضافی ہے‘ کا پہلا جزء ’’ زَوْج‘‘ یہاں مجرور پر عطف کی بناء پر مجرور ہے اور آگے مضاف ہونے کی وجہ سے خفیف بھی ہو گیا ہے۔ در اصل یہاں ’’ زَوْجِہٖ‘‘ سے پہلے بھی ایک ’’ بَیْنَ‘‘ محذوف ہے یعنی ’’ بَیْنَ المَرْئِ وَ بَیْنَ زَوْجِہٖ‘‘ ہونا چاہیے تھا مگر جب وہ اسم ظاہر ’’ بَیْنَ‘‘ کے مضاف الیہ ہوں تو ’’ بَیْنَ‘‘ کی تکرار نہیں کی جاتی۔ اور یہ پورا جملہ (یُفَرِقُونَ بِہٖ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ زَوْجِہٖ) ’’ مَا‘‘ موصولہ کا صلہ ہے اور پھر یہ سارا صلہ موصول مل کر فعل ’’ یَتَعَلَّمُونَ‘‘ کا مفعول بنتا ہے۔

F وَمَا ہُمْ بِضَآرِّیْنَ بِہٖ مِنْ اَحَدٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ

 [ وَ] کو یہاں حالیہ ہی سمجھا جا سکتا ہے بمعنی ’’ حالانکہ‘‘ [ مَا] نافیہ حجازیہ ہے (جس کی خبر پر باء الجر آتی ہے) ۔ [ ھُمْ] اس (مَا) کا اسم مرفوع ہے اور [ بِضَارِّینَ] میں باء الجر زائدہ ہے (ان معنی میں کہ اس کے بغیر بھی ’’ ضَارِّینَ‘‘ خبر منصوب ہو سکتی تھی مگر اس ’’ بِ‘‘ سے معنی میں ایک زور پیدا ہوتا ہے لہٰذا یہ محض بیکار نہیں ہے) اور یہ ’’ بِضَارِّینَ‘‘ جار مجرور مل کر ’’ مَا‘‘ کی خبر ہے جو محلاً نصب میں ہی ہے۔ [ بِہٖ] جار مجرور مل کر متعلق خبر (ضَارِّینَ) ہیں۔ [ مِنْ اَحَدٍ] میں بھی در اصل تو ’’ اَحَدًا‘‘ اسم الفاعل ’’ ضَارِّینَ‘‘ کا مفعول ہو کر نصب میں تھا مگر اس پر ’’ مِنْ‘‘ لگا کر اس کے عموم جنکرہ میں قطعیت پیدا کی گئی ہے یعنی کسی ’’ ایک ایک کو بھی‘‘ یوں یہ ’’ مِنْ اَحَدٍ‘‘ مفعول ہو کر (لفظاً مجرور مگر) محلاً منصوب ہے کیونکہ اسم الفاعل (جیسا کہ ’’ ضَارِّینَ‘‘ ہے) بھی فعل کا سا عمل کرتا ہے۔ [ اِلاَّ] حرف استثناء ہے جو نفی کے بعد آنے سے ’’ اداۃِ حصر‘‘ بن گیا ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ ’’ مگر صرف‘‘ ہو گا۔ [ بِاِذْنِ اللّٰہِ] باء الجر کے بعد مضاف ’’ اِذْن‘‘ اور مضاف الیہ ’’ اللّٰہِ‘‘ بلحاظِ معنی ’’ ضَارِّینَ‘‘ (فاعل) یا ’’ مِنْ اَحَدٍ‘‘ (مفعول) دونوں کا حال سمجھا گیا ہے یعنی یہ نقصان اور ضرر پہنچانا‘‘ یا ’’ پہنچنا‘‘ اسی حالت میں ہو سکتا ہے کہ اللہ کا اذن و حکم ساتھ شامل ہو یعنی مقدر عبارت ’’ اِلاَّ مَقْرُونًا بِاِذْنِ اللّٰہِ‘‘ بنتی ہے۔

G وَیَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّہُمْ وَلاَ یَنْفَعُہُمْ

 [ وَ] عاطفہ ہے۔ [ یَتَعَلَّمُونَ] فعل مضارع معروف مع ضمیر الفاعلین ’’ ھُمْ‘‘ ہے اور یہ سابقہ ’’ یَتَعَلَّمُونَ‘‘ پر ہی عطف ہے۔ [ مَا] موصولہ ’’ یَتَعَلَّمُونَ‘‘ کا مفعول بہ محلاً منصوب ہے۔ [ یَضُرُّھُمْ] میں ’’ یَضُرُّ‘‘ فعل مضارع معروف صیغہ واحد غائب مذکر ہے جس کی ضمیر فاعل ’’ ھُوَ‘‘ مَا موصولہ کے لیے ہے اور ’’ ھُمْ‘‘ ضمیر منصوب فعل ’’ یَضُرُّ‘‘ کا مفعول بہ ہے اور یہ جملہ ’’ یَضُرُّھُمْ‘‘ ’’ مَا‘‘ کا صلہ ہے۔ اس کے بعد پھر [ وَ] عاطفہ ہے اور [ لَا یَنْفَعُعُمْ] میں ’’ لَا یَنْفَعُ‘‘ تو فعل مضارع معروف منفی بلا مع ضمیر الفاعل ’’ ھُوَ‘‘ ہے اور اس کے آخر پر بھی ’’ ھم‘‘ ضمیر منصوب مفعول بہ ہے اور یہ جملہ (لَا یَنْفَعُعُمْ) بھی بذریعہ واو العطف ’’ مَا‘‘ کا صلہ ہی بنتا ہے اور یہ صل موصول (ما یضرُّھم وَ لا ینفعُھم) مل کر فعل ’’ یتعلَّمُون‘‘ کا مفعول بہ لہٰذا محلاً منصوب ہے۔

H وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰہُ مَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلاَقٍط

 [ وَ] یہاں مستانفہ ہی ہو سکتی ہے۔ اس لیے اس عبارت کے شروع اور آخر میں وقف مطلق کی علامت (ط) ڈالی گئی ہے۔ [ لَقَدْ] لامِ تاکید اور حرفِ تحقیق ’’ قَدْ‘‘ کا مجموعہ ہے۔ [ عَلِمُوا] فعل ماضی معروف مع ضمیر الفاعلین ’’ ھُمْ‘‘ ہے اور [ لَمَن] کی ابتدائی لام مفتوحہ لام الابتداء ہے (جو مبتدا پر آتی ہے اور تاکید کے معنی پیدا کرتی ہے) اور ’’ مَنْ‘‘ یہاں اسم الموصول مبتدأ ہے اور یہ شرطیہ بھی ہے۔ [ اشترٰہ] فعل ماضی معروف واحد مذکر غائب (اشترٰی) کے ساتھ ضمیر منصوب (ہُ) مفعول بہ ہے۔ [ مَا] نافیہ حجازیہ ہے۔ [ لَہ] جار (ل) اور مجرور (ہ) مل کر اس ’’ مَا‘‘ کی خبر (قائم مقام خبر) کا کام دے رہا ہے جو اس کے اسم سے مقدم آئی ہے۔ [ فِی الاخرۃِ] جار (ف) اور مجرور (الاخرہ) مل کر متعلق خبر یا بلحاظ معنی حال کا قائم مقام سمجھا جا سکتا ہے (یعنی ا حالت میں کہ وہ آخرت میں ہو گا کے مفہوم کی صورت میں) ۔ [ مِنْ خَلَاقٍ] ’’ مِنْ‘‘ جارہ زائدہ ہے اور ’’ خَلَاق‘‘ نکرہ مجرور ’’ بِمَنْ‘‘ ہے جس سے ’’ خَلَاقٍ‘‘ (کچھ حصہ) کے عموم نکرہ میں مزید قطعیت آتی ہے۔ یعنی کچھ حصے میں سے بھی نہیں ہو گا۔ یہاں در اصل لفظ ’’ خَلَاقٌ‘‘ مرفوع تھا کیونکہ وہ ’’ مَا‘‘ کا اسم یا مبتدأ مؤخر تھا (جب خبر جار مجرور یا ظرفِ مضاف کی صورت میں مقدم آئے۔ جیسے یہاں ’’ لَہٗ‘‘ ہے تو مبتدأ مٔخر نکرہ ہو کر آتا ہے) ۔ یہاں اگر جملہ منفی نہ ہوتا تو بنیادی عبارت ہوتی ’’ لہ خَلاقٌ‘‘ (اس کے لیے کچھ حصہ ہے) جیسے کہیں ’’ لہ ابنٌ‘‘ اس کا ایک بیٹا ہے‘ پھر شروع میں ’’ ما‘‘ لگنے سے جملہ منفی ہوا۔ یعنی ’’ ما لہ خلاقٌ‘‘ بنا (اس کا کوئی حصہ نہیں ہے) پھر اس میں مبتدأ مؤخر سے پہلے ’’ فی الآخرۃِ‘‘ کا اضافہ ہوا۔ یہ بعد میں بھی آ سکتا تھا مگر اس تقدیم سے اس میں زور پیدا ہوا ہے یعنی ’’ آخرت میں ہی‘‘ تو اس کا کچھ حصہ نہ ہو گا اور ’’ خَلاق‘‘ کو مزید قطعی نکرہ بنانے کے لیے ’’ مِن‘‘ لگا۔ یوں اس (مِن خَلاقٍ) کا ترجمہ ہوا ’’ کچھ بھی حصہ‘‘۔ اس طرح یہ ’’ مِنْ خَلَاقٍ‘‘ ’’ مَا‘‘ کا اسم ہونے کی بناء پر محلاً مرفوع ہے اور یہ جملہ (لَمَنِ اشْتَرٰہُ مَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ) اس لحاظ سے محلاً مرفوع ہے کہ یہ در اصل ابتدائی فعل ’’ عَلِمُوا‘‘ کے دونوں مفعولوں کا قائم مقام ہے۔ (فعل ’’ عَلِمَ‘‘ کے بعض دفعہ دو مفعول بھی آتے ہیں۔ دیکھیے الممتحنہ: 10 میں ہے ’’ اِنْ عَلِمْتُموُھُنَّ مُؤْمِنَاتٍ‘‘ ) یعنی ’’ انہوں نے جان لیا اس کے خریدار کو محرومِ آخرت‘‘ کے مفہوم کے ساتھ یہ عبارت فعل ’’ عَلِمُوا‘‘ کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔

I وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِہٖٓ اَنْفُسَہُمْ

 [ وَ] عاطفہ ہے اور [ لَبِئْسَ] کی ابتدائی لام مفتوحہ تاکید کے لیے آتی ہے اور ’’ بِئْسَ‘‘ فعل ذم ہے جو جامد فعل ہے۔ [ مَا] کو موصولہ سمجھیں تو یہ ’’ بِئْسَ‘‘ کا فاعل مرفوع ہے یا اسے نکرہ تامہ (بمعنی شَیْئًا ) لیں تو اے فعل ذم کی تمیز منصوب بھی سمجھ سکتے ہیں (نحوی افعال مدح و ذم کی دونوں طرح ترکیب کرتے ہیں۔ دیکھیے البقرہ: 9 [ 2: 55: 2] میں ’’ بِئْسَمَا‘‘ کے اعراب کی بحث) اور یہ فعل اور فاعل (لَبِئْسَ مَا) مل کر آگے آنے والے مبتدأ (مخصوص بالذم) کی خبر مقدم بنتی ہے۔ [ شَرَوْا] فعل ماضی معروف مع ضمیر الفاعلین ’’ ھُمْ‘‘ ہے۔ [ بِہٖ] جار مجرور متعلق فعل ’’ شَرَوْا‘‘ اور [ اَنْفُسَھُمْ] مضاف (اَنْفُس) اور مضاف الیہ (ھُم) مل کر فعل ’’ شَرَوْا‘‘ کا مفعول بہ ہے۔ ای لیے ’’ اَنْفُسَ‘‘ نصب میں ہے جس کی علامت ’’ مَن‘‘ کی فتحہ (-َ) ہے اس طرح یہ جملہ (شَرَوْا بِہٖ اَنْفُسَھُمْ) مخصوص بالذم ہو کر مبتدأ ہے جس کی خبر مقدم جملہ فعلیہ ’’ بِئْسَ مَا‘‘ ہے۔

J لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ

 [ لَوْ] شرطیہ (بمعنی اگر) بھی ہو سکتا ہے اور حرفِ تمنی (بمعنی کاش کہ) بھی۔ دونوں صورتوں میں یہ کوئی عمل نہیں کرتا یعنی شرطیہ ہوتے ہوئے بھی جزم نہیں دیتا۔ [ کَانُوا] فعل ناقص صیغہ جمع مذکر غائب ہے جس میں اسم کَانَ ’’ ھُمْ‘‘ شامل ہے۔ [ یَعْلَمُونَ] فعل مضارع معروف مع ضمیر الفاعلین ’’ ھُمْ‘‘ جملہ فعلیہ بن کر ’’ کَانُوا‘‘ کی خبر ہے۔ گویا ’’ لَو کَانُوا عَالِمِین‘‘ کے مفہوم میں ہے۔ ’’ لَوْ‘‘ کو ’’ تمنّی‘‘ کے لیے سمجھیں تو یہ جملہ مکمل ہے۔ اگر ’’ لَوْ‘‘ کو شرطیہ سمجھا جائے تو جوابِ شرط محذوف ہے مثلاً ’’ لَمَّا فَعَلُوہُ‘‘ (تو وہ ایسا نہ کرتے)

K وَلَوْ اَنَّہُمْ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَمَثُوْبَۃٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ خَیْرٌ

 [ وَ] یہاں استیناف کی ہے اور [ لَوْ] یہاں شرطیہ ہی ہے جسے بعض نحوی ’’ حرفُ امتناعٍ لِامتناعٍ‘‘ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کسی ایسی شرط کا بیان ہوتا ہے جس کا وجود نہیں (یعنی پائی نہ گئی) اس لیے اس کا جواب بھی ممتنع (نا قابل حصول) ہے۔ یعنی چونکہ شرط ممتنع (غیر موجود ہے) تو جوابِ شرط بھی ممتنع (غیر ممکن) ہوتا ہے۔ [ اَنَّھُم] یہ حرفِ مشبہ بالفعل (اَنَّ) اور اس کا اسم (ضمیر منصوب ’’ ھُمْ‘‘ ) ہے مگر چونکہ ’’ لَوْ‘‘ شرطیہ جملہ اسمیہ پر داخل نہیں ہوتا اس کے بعد کوئی فعل ہی آنا چاہیے اس لیے نحوی اس ’’ اَنَّھُمْ‘‘ کو ایک محذوف فعل ( ثَبَتَ = ثابت ہو جانا) کے ہم معنی سمجھتے ہیں اور پھر اس (اَنَّھُمْ) کے بعد بصورت خبر آنے والے فعل کو مصدر مؤول (بطورِ مصدر) اس محذوف فعل (ثَبَتَ) کا فاعل سمجھتے ہیں مثلاً یہاں اس ’’ اَنَّھُمْ‘‘ کی خبر ماضی کے دو صیغہ فعل [ اَمَنُوا وَ اتَّقَوْا] آئے ہیں اب یا تو یہ سیدھا شرطیہ جملہ ’’ لَوْ اٰمَنُوا وَاتَّقَوْا‘‘ ہوتا تو ٹھیک تھا کہ ’’ لَوْ‘‘ کے بعد فعل ہی آتا ہے لیکن اب ’’ لَوْ‘‘ کے بعد ’’ اَنَّھُمْ‘‘ آنے کی وجہ سے (جو جملہ اسمیہ کی ابتداء ہے) ان دونوں صیغہ ہائے فعل کے مصدر مؤوّل اس محذوف فعل کے فاعل مرفوع سمجھے جائیں گے۔ گویا یہ عبارت اب در اصل ’’ لَوْ ثَبَتَ اِیمَانُھم و تَقوٰھُم‘‘ سمجھی جائے گی یعنی اگر ان کا ’’ ایمان اور تقویٰ ثابت ہوتا‘‘ یہ الجھن صرف اس لیے پیدا ہوئی کہ ’’ لَوْ‘‘ کے بعد جملہ فعلیہ ہی آتا ہے اگر جملہ اسمیہ آ جائے تو نحوی حضرات اسے کھینچ تان کر (ایک محذوف فعل کے ذریعے ہی سہی) جملہ فعلیہ بنا لیتے ہیں۔ اردو میں اس ’’ اَنَّھُمْ‘‘ کے ’’ اَنَّ‘‘ (کہ بےشک) کا ترجمہ نہ کرنے کی یہی وجہ ہے۔ کیونکہ ’’ لَوْ‘‘ (اگر) کے ساتھ (بے شک) لگنے کا کوئی تُک نہیں بنتا۔ اسی لیے نحوی اس ’’ اَنّ‘‘ کو فعل ’’ ثَبَتَ‘‘ کے معنی میں لیتے ہیں کہ ’’ ثابت‘‘ اور ’’ بے شک‘‘ ایک طرح سے ہم معنی ہیں۔ [ لَمَثُوبَۃٌ] کے شروع میں لام الابتداء ہے جو بعض دفعہ بغرض تاکید مبتدأ پر بھی لگتی ہے اور یہ جوابِ شرط (لَوْ) میں آنے والی لامِ مفتوحہ بھی ہو سکتی ہے۔ ویسے عموماً جواب لَوْ میں آنے والے لام مفتوحہ کے بعد بھی جملہ فعلیہ ہی آتا ہے۔ اس لیے اسے لام الابتداء سمجھنا زیادہ بہتر ہے۔ ’’ مَثُوبۃٌ‘‘ یہاں مبتدأ مرفوع ہے اور اس کے نکرہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر صفت موصوف (مرکب توصیفی) نکرہ آئے تو اس میں مبتدأ بننے کی صلاحیت ہوتی ہے (جیسے لَعَبْدٌ مُؤمِنٌ خَیْرٌ مِنْ مُشْرِکٍ ) (البقرہ: 221 میں ہے) یہاں بھی [ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ] پورا مرکب جاری (مِنْ جارہ + عند ظرف مضاف + اللّٰہ مضاف الیہ) مل کر ’’ مَثُوبۃ‘‘ نکرہ موصوفہ کی صفت کا کام دے رہا ہے‘ یعنی ’’ وہ ثواب جو اللہ کے ہاں سے ملتا تو وہ‘‘ کا مفہوم رکھتا ہے۔ [ خَیْر] اس (مَثُوبَۃ) کی خبر مرفوع ہے۔

L لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ

 یہی جملہ اوپر نمبر 10 میں گزرا ہے۔

2: 62: 3 الرسم

 زیر مطالعہ آیات میں بلحاظ رسم قرآنی کل گیارہ کلمات قابل توجہ ہیں۔ ان میں سے چار کلمات کا رسم مختلف فیہ ہے اور سات کا متفق علیہ۔ یہ گیارہ کلمات حسب ذیل ہیں: تتلوا‘ الشیٰطین‘ سلیمٰن‘ لٰکن‘ ھاروت‘ ماروت‘ یعلَمٰن‘ اشترٰہ‘ الاخرۃ‘ خَلَاق اور لَبِئس مَا ۔

 تفصیل یوں ہے:

A ’’ تَتْلُوا‘‘ : اس صیغہ فعل کی عام املاء ’’ تَتْلُو‘‘ (واو کے بعد الف کے بغیر) ہے تاہم مصاحف میں اس کے آخر پر ایک زائد الف لکھا جاتا ہے (تَتْلُوا) اصل مصاحف عثمانی کے رسم میں متعدد کلمات میں الف زائدہ لکھا گیا تھا جن کا ذکر کتب الرسم میں تفصیل سے کیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض ’’ زیادات‘‘ کو کسی قاعدے (عموم) کے تحت بھی بیان کیا گیا ہے۔1؎ (یا یوں کہیے کہ مصاحف عثمانی کے رسم سے یہ قاعدے اخذ کیے گئے) تاہم زیادہ تر ’’ الف‘‘ کی یہ زیادتی کسی قاعدہ قانون کے تحت نہیں بلکہ ’’ نقل صحیح‘‘ کی بناء پر اس کی پابندی کی جاتی ہے۔ مثلاً رسم عثمانی میں ہر واو متطرفہ (آخر پر آنے والی واو) کے آخر پر عموماً ایک زائد الف لکھا گیا تھا چاہے وہ کوئی اسم مضاف ہو یا صیغہ فعل۔ مثلاً اولوا‘ بنوا‘ مرسلوا یا آمنوا‘ لا تفسدوا وغیرہ۔ بعد میں جب عربی املاء کو نحویوں نے ترقی دی اور اس کے قواعد بنائے تو اس قسم کا زائد الف صرف واو الجمع والے صیغہ فعل کے لیے ضروری قرار دیا گیا باقی کلمات میں جہاں واو متطرفہ آئے وہاں اس کا لکھنا غلط قرار دیا گیا‘ تاہم قرآن کریم کی املاء نحوی قواعد املاء کے تحت نہیں بلکہ نقل اور روایت کے تحت اختیار کی جاتی ہے۔ قرآن کریم کی املاء میں یہ واو الجمع (فعل) کے بعد الف زائدہ کا قاعدہ چلتا ہے۔ مثلاً اسی قطعہ میں سات افعال (اتبعوا‘ کفروا‘ شروا‘ کانوا‘ آمنوا‘ اتقوا اور علموا ) کے ساتھ آخر پر واو کے بعد الف زائدہ لکھا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس قاعدہ کے خلاف (یا اس سے مستثنیٰ) چھ صیغہ افعال آئے ہیں۔ ان پر حسب موقع بات ہو گی۔ اب یہ صیغہ فعل ’’ تَتْلُو‘‘ تو واحد کا صیغہ ہے اور اس کی ’’ واو‘‘ واو الجمع نہیں بلکہ اصل مادہ کی ’’ و‘‘ ہے (تَلا یتلُو سے) ۔ لہٰذا عام رسم املائی میں اس کے بعد زائد الف لکھنا غلط ہے مگر رسم عثمانی کے مطابق یہاں زائد الف لکھنا بالاتفاق ضروری ہے۔ قرآن کریم میں صیغہ فعل ’’ یتلوا‘‘ (واحد مذکر) سات جگہ‘ ’’ تَتْلُوا‘‘ (صیغہ واحد مؤنث غائب یا مذکر حاضر) 5 جگہ‘ ’’ اَتْلُوا‘‘ (واحد متکلم) دو جگہ اور ’’ نَتْلُوا‘‘ (جمع متکلم) ایک جگہ آیا ہے۔ ان تمام مقامات پر آخر میں الف زائدہ لکھا جاتا ہے۔ البتہ اگر ایسے صیغہ فعل کے ساتھ کوئی ضمیر منصوب (مفعول) آ جائے تو پھر یہ الف نہیں لکھا جاتا۔

1؎ مثلاً دیکھیے سمیر الطالبین للضباع‘ ص 72۔ المقنع للدانی‘ ص 42۔ العقیلہ‘ ص 55۔ ببعد‘ دلیل الحیران للمارعنی‘ ص 224۔ و نشر المرجان للارکاتی‘ 1: 61 تا 65۔

B ’’ الشّیٰطِین‘‘ : اس کی عام املاء ’’ الشیَاطین‘‘ (باثبات الف بعد الیائ) ہے مگر قرآن کریم میں بالاتفاق اسے یہاں اور ہر جگہ (اور یہ لفظ مفرد مرکب صورتوں میں 18 جگہ آیا ہے) بحذف الالف بعد الیاء (الشیٰطین) لکھا جاتا ہے تاہم یہ الف پڑھا جاتا ہے اس لیے بذریعہ ضبط ظاہر کیا جاتا ہے اسی آیت میں یہ لفظ دو بار آیا ہے۔

C ’’ سلیمٰن‘‘ : اس کی عام املاء ’’ سُلَیمان‘‘ یعنی باثبات الف بعد المیم ہے مگر قرآن کریم میں اسے یہاں اور ہر جگہ (اور یہ لفظ کل 17 جگہ آیا ہے دو دفعہ تو اسی آیت میں ہے) بالاتفاق بحذف الالف بعد المیم (بصورت ’’ سلیمٰن‘‘ ) ہی لکھا جاتا ہے۔

D ’’ لٰکِن‘‘: مخففہ (لٰکِنْ) ہو یا مشددہ (لٰکِنَّ) قرآن کریم میں بلکہ عام عربی املاء میں بھی ہمیشہ ’’ بحذف الالف بعد اللام‘‘ لکھا جاتا ہے (قیاس تو ’’ لاکِن‘‘ چاہتا تھا) اور اس کا یہ رسم املائی بھی عربی املاء پر رسم قرآنی (عثمانی) کے اثرات کا مظہر ہے۔

 ۔ ’’ ھَارُوت‘‘ : یہ بھی ایک عجمی (غیر عربی) نام ہے۔ اس کے الف بعد الھاء کے حذف یا اثبات میں اختلاف ہے۔ ابو داؤد کی طرف منسوب قول حذف کے حق میں ہے جبکہ الدانی سے اثبات منقول ہے۔ چنانچہ بیشتر عرب اور افریقی مصاحف میں اسے بحذف الف ’’ ھروت‘‘ لکھا جاتا ہے مگر برصغیر‘ ایران‘ ترکی وغیر کے علاوہ لیبیا کے مصاحف میں اسے باثباتِ الف ’’ ھَارُوت‘‘ لکھا جاتا ہے۔

F ’’ مَارُوت‘‘ : اس کی املاء میں بھی وہی مندرجہ بالا ( ھَارُوت والا) اختلاف ہے۔ یعنی ابو داؤد کے مطابق یہ ’’ مٰرُوت‘‘ ہے۔ مگر الدانی کے مطابق اس کی املاء ’’ مَارُوت‘‘ (باثباتِ الف) ہے۔

G ’’ یُعَلِّمٰنِ‘‘ : یہ فعل مضارع کا صیغہ تثنیہ مذکر غائب ہے۔ عام رسم املائی میں اسے ’’ یعلِّمان‘‘ (باثبات الف بعد المیم) لکھا جاتا ہے۔ تثنیہ کے صیغہ کے بارے میں رسم قرآنی کا قاعدہ یہ بیان کیا گیا ہے 1؎ کہ تثنیہ

1؎ دیکھیے‘ سمیر الطالبین‘ ص 37۔ المقنع ص 17۔ شرح العقیلہ‘ ص 47۔ و لطائف البیان لزیتحارا: 33 و نشر المرجان 1: 31۔

کا الف (فعل میں ہو جیسے یہاں ہے یا کسی اسم مرفوع میں ہو جیسے ’’ رَجُلَانِ‘‘ میں ہے) یہ جب لفظ کے اندر واقع ہو یعنی متطرف (آخر پر الگ) نہ ہو (جیسے قالا] کانَتا یا مضاف مرفوع مثلاً ’’ رَسُولَا رَبِّکَ‘‘ میں ہے) تو ابو داؤد کے قول کے مطابق یہ الف تثنیہ ہر جگہ لکھا جاتا ہے البتہ بعض مقامات پر محذوف کیا جاتا ہے۔ جب کہ الدانی کے مطابق تثنیہ کا یہ الف (اسماء و افعال دونوں میں) لکھنے میں محذوف ہوتا ہے البتہ سورۂ الرحمٰن کے ’’ تُکَذِّبَانِ‘‘ دونوں طرح (بحذف اور باثبات) لکھے جاتے ہیں۔ چنانچہ ایشیائی ممالک اور لیبیا کے مصاحف میں یہ لفظ بحذفِ الف ’’ یُعَلِّمٰنِ‘‘ لکھا جاتا ہے‘ جب کہ ابو داؤد کے قول پر عمل کرتے ہوئے بیشتر عرب اور افریقی ممالک کے مصاحف میں اسے باثباتِ الف یعنی عام رسم املائی کی طرح ’’ یُعَلِّمَانِ‘‘ لکھا جاتا ہے اور وجہ اس اختلاف کی یہ ہے کہ اصل مصاحف عثمانی میں یہ (تثنیہ والے الفاظ) کہیں حذف الف اور کہیں اثبات الف کے ساتھ لکھے گئے تھے۔

H ’’ اِشْتَرٰیہُ‘‘ : اس کا ابتدائی صیغہ فعل ’’ اِشْتَرٰی‘‘ رسم املائی میں بھی آخر پر ’’ ی‘‘ کے ساتھ ہی لکھا جاتا ہے جو پڑھی بصورت ’’ الف‘‘ ہی جاتی ہے۔ جب اس صیغہ کے بعد کوئی ضمیر بطور مفعول آ رہی ہو (جیسے یہاں ہے) تو عام رسم املائی میں اس ’’ ی‘‘ کو بصورتِ الف ہی لکھ دیتے ہیں (یعنی یہاں بصورت ’’ اِشْتَرَاہُ‘‘ ) تاہم قرآن کریم میں ایسی ’’ ی‘‘ جو تعلیل صرفی کی بنا پر الف میں بدل کر بولی جاتی ہو عموماً اسے ہر جگہ بصورت ’’ یائ‘‘ ہی لکھا جاتا ہے البتہ اس کے بعد مستثنیات ہیں جو حسب موقع بیان ہوں گے۔ تعلیل صرفی کے نتیجے میں الف میں بدلنے والی ’’ یائ‘‘ کے علاوہ اور بھی کئی قسم کے الف بصورت ’’ یائ‘‘ ہی لکھے جاتے ہیں (مثلاً اِلٰی‘ علٰی‘ حتی یا یتامٰی‘ نحوی وغیرہ) جن میں سے بہت سے کلمات عام عربی میں بھی رسم قرآنی ہی کی طرح لکھے جاتے ہیں یعنی الف کو بصورت ’’ ی‘‘ لکھنے کے کچھ مقررہ قواعد مستنبط کیے گئے ہیں اور ہر قاعدہ کے کچھ مستثنیات ہیں 1؎ لہٰذا ہم ایسے الفاظ پر حسب موقع فرداً فرداً بات کرتے جائیں گے۔ بہرحال یہ لفظ ’’ اشترٰی‘‘ (صیغہ واحد مذکر غائب) ضمیر مفعول برائے واحد مذکر (ہُ) کے ساتھ قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے اور دونوں جگہ بالاتفاق الف بصورت یاء کے ساتھ (یعنی ’’ اشترٰی‘‘ ) ہی لکھا جاتا ہے۔

1؎ دیکھیے‘ المقنع ص 63۔ ببعد‘ سمیر الطالبین‘ س 85۔ ببعد‘ نثر المرجان 1: 69 ببعد۔

 ۔ ’’ الاخِرَۃ‘‘: اس لفظ کے رسم عثمانی پر جو رسم املائی کے مطابق ہی ہے (یا یوں کہیے کہ رسم املائی در اصل قرآنی پر ہی مبنی ہے) اس سے پہلے البقرہ؛ 4 [ 2: 3: 3] میں مفصل بات ہوئی تھی۔

 ۔ ’’ خَلاق‘‘: یہی اس کا رسم املائی بھی ہے۔ تاہم اس کے رسم عثمانی میں اختلاف ہے۔ ابو داؤد کے قول کے مطابق یہ ’’ بحذف الالف بعد اللام‘‘ یعنی بصورت ’’ خلٰق‘‘ لکھا جاتا ہے۔ الدانی نے اس کے حذفِ الف کا ذکر نہیں کیا جو اثبات کو مستلزم ہے۔ بلکہ الدانی نے ’’ فعّال‘‘ کے وزن پر آنے والے کلمات میں الف کے اثبات کی تصریح کی ہے۔ چنانچہ یہ لفظ بھی بیشتر افریقی و عرب ممالک کے مصاحف میں بحذف الف (خلٰق) لکھا جاتا ہے۔ اور لیبیا کے علاوہ تمام ایشیائی ممالک میں یہ باثبات الف (خَلاق) لکھا جاتا ہے۔ یہ لفظ قرآن کریم میں (مفرد یا مرکب شکل میں) کل چھ جگہ آیا ہے اور ہر جگہ یہی اختلاف ہے۔

 ۔ ’’ لَبِئْسَ مَا‘‘: یہ دو لفظ یہاں بالاتفاق مقطوع لکھے جاتے ہیں یعنی ’’ لبئس‘‘ کے ’’ س‘‘ کو ’’ ما‘‘ کے ساتھ ملا کر نہیں لکھا جاتا ہے (جیسا کہ چند مقررہ مقامات پر ’’ بئس‘‘ اور ’’ ما‘‘ کو موصول (ملا کر) لکھا جات ہے۔ مزید دیکھیے البقرہ: 9 [ 2: 55: 3] میں کلمہ ’’ بِئْسَمَا‘‘ کی بحث الرسم۔

2: 62: 4 الضبط

 زیر مطالعہ قطعہ میں ضبط کا کافی تنوع موجود ہے۔ تاہم اب ہم صرف ان کلمات کے ضبط کے نمونے دیں گے جن میں تنوع زیادہ ہے۔ اگر محض حرکات یا ہمزہ کی شکل کا فرق ہے (-َ ‘ -ِ ‘ -ُ یا -َ ‘ -ِ ‘ -ُ یائ‘ ۔ ‘ ر یاہ وغیرہ) تو اسے دوبارہ نہیں لکھا جائے گا وَلَوْ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَيْرٌ ۭ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ   ١٠٣؀ۧ
[ وَلَوْ: اور اگر] [ اَنَّھُمْ: یہ کہ وہ لوگ] [ اٰمَنُوْا: ایمان لاتے] [ وَاتَّقَوْا: اور پرہیزگاری کرتے] [ لَمَثُوْبَةٌ: تو بدلہ] [ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ: اللہ کے پاس سے] [ خَيْرٌ ۭ : بہتر ہوتا] [ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ : کاش وہ لوگ جانتے ہوتے] يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ    ١٠٤؁
[ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا: اے لوگو جو ایمان لائے ہو] [ لَا تَقُوْلُوْا: تم لوگ مت کہو] [ رَاعِنَا: راعنا] [ وَقُوْلُوا: اور کہو] [ انْظُرْنَا: آپ مہلت دیں ہم کو] [ وَاسْمَعُوْا ۭ : اور تم لوگ سنو] [ وَلِلْكٰفِرِيْنَ: اور انکار کرنے والوں کے لیے] [ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ: ایک دردناک عذاب ہے] مَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ خَيْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ  ١٠٥؁
[ مَا يَوَدُّ: نہیں چاہتے] [ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا: وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا] [ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ: اہل کتاب میں سے] [ وَلَا الْمُشْرِكِيْنَ: اور نہ ہی شرک کرنے والوں میں سے] [ اَنْ يُّنَزَّلَ: کہ نازل کی جائے] [ عَلَيْكُمْ: تم لوگوں پر] [ مِّنْ خَيْرٍ: کوئی بھلائی] [ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭ : تمہارے رب کی طرف سے] [ وَاللّٰهُ: اور اللہ ] [ يَخْتَصُّ: مخصوص کرتا ہے] [ بِرَحْمَتِهٖ: اپنی رحمت سے] [ مَنْ: ان کو جن کو] [ يَّشَاۗءُ ۭ: وہ چاہتا ہے] [ وَاللّٰهُ: اور اللہ] [ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ: بڑے فضل والا ہے] مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ  ١٠٦؁
[ مَا نَنْسَخْ: جو ہم زائل کرتے ہیں] [ مِنْ اٰيَةٍ: کوئی بھی آیت] [ اَوْ نُنْسِهَا: یا ہم بھلا دیتے ہیں اس کو] [ نَاْتِ: تو ہم لاتے ہیں] [ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ: اس سے زیادہ بہتر کو] [ اَوْ مِثْلِهَا ۭ: یا اس کی مانند] [ اَلَمْ تَعْلَمْ : کیا تو نے جانا نہیں] [ اَنَّ اللّٰه: کہ اللہ َ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیر پر ] [ قَدِيْرٌ قدرت والا ہے]

 

 

2: 64: 1 اللغۃ

 لغوی اعتبار سے تو اس پورے قطعہ میں صرف ایک ہی لفظ ’’ نَنْسَخْ‘‘ نیا ہے‘ باقی تمام کلمات براہِ راست یا بالواسطہ پہلے گزر چکے ہیں۔ لہٰذا عبارت کو چھوٹے چھوٹے جملوں میں تقسیم کر کے ہر ایک کلمہ کا ترجمہ مع گزشتہ حوالہ لکھ دینا کافی ہو گا۔

2: 64: 1 (1) [ مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِھَا …]

A ’’ مَا‘‘ (جو بھی۔ جس کو بھی) یہاں ’’ مَا‘‘ موصولہ بطور شرطیہ ہے‘ دیکھیے [ 2: 2: 1 (5)]

B ’’ [ نَنْسَخْ]‘‘ کا مادہ ’’ ن س خ‘‘ اور وزن ’’ نَفْعَلْ‘‘ ہے۔ یعنی یہ فعل مجرد سے صیغہ مضارع مجزوم جمع متکلم ہے (جزم کی وجہ ’’ الاعراب‘‘ میں آئے گی) ۔

 ۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ نسَخ … ینسَخْ نَسْخًا‘‘ (فتح سے) آتا ہے اور اس کے بنیادی معنی ہیں ’’… کو (اس کی جگہ سے) ہٹا دینا‘ مٹا دینا‘‘ (اس کی جگہ کوئی دوسری چیز لائی جائے یا نہ لائی جائے) ۔ اس فعل کا مفعول بنفسہٖ (منصوب) آتا ہے‘ مثلاً کہتے ہیں ’’ نسخَتِ الریحُ الأثرَ‘‘ (ہوا نے نشان کو مٹا دیا) ۔ پھر اس فعل میں بلحاظِ استعمال کئی مفہوم پیدا ہوتے ہیں۔ ۔ بعض دفعہ اس میں کسی چیز کو ہٹا کر خود (فاعل کا) اس کی جگہ لے لینے کا مفہوم ہوتا ہے‘ مثلاً کہتے ہیں ’’ نسخَ الشیبُ الشبابَ‘‘ (بڑھاپے نے جوانی کو ہٹا دیا‘ یعنی خود اس کی جگہ لے لی) ۔ اور بعض دفعہ ان ہی معنوں کے لیے ہٹائی جانے والی چیز تو عبارت میں مفعول بنفسہٖ (منصوب) ہو کر آتی ہے مگر اس کی جگہ لائی جانے والی چیز کا ذکر ’’ بِ‘‘ (کے ذریعے) کا صلہ لگ کر ہوتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ نسَخ شیئًا بشیئٍ‘‘ (اس نے ایک چیز کو کسی دوسری چیز سے ہٹا دیا یعنی پہلی کو ہٹا کر دوسری اس کی جگہ لایا) تاہم یہ ’’ بِ‘‘ کے صلہ والا) استعمال قرآن کریم میں نہیں آیا۔ ۔ پھر اسی سے اس فعل میں ’’ ہٹا کر دوسری جگہ لے جانا‘‘ کے معنی پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ نسختِ الشمسُ الظلَّ‘‘ (سورج نے سائے کو ہٹا دیا‘ یعنی اے دوسری جگہ لے گیا) اور ۔ پھر اسی ’’ منتقل کرنا‘‘ سے اس میں اصل کے مطابق ’’ نقل کرنا‘‘ کے معنی آتے ہیں یعنی اصل کو ہٹائے یا مٹائے بغیر بلکہ اسے ثابت اور برقرار رکھتے ہوئے اس جیسی دوسری چیز تیار کر لینا۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ نسخَ الکتابَ‘‘ (اس نے کتاب (سے دوسری کتاب یا عبارت) حرف بحرف نقل کر لی‘ لکھ لی۔)

 ۔ قرآن کریم کی کتابت میں (عموماً) استعمال ہونے والے خط کو ’’ خطِ نسخ‘ ‘ (جو عربی خطوطِ جمیلہ کی ایک قسم ہے) اسی لیے کہتے ہیں کہ قرآن کریم کا ہر نسخہ ہمیشہ کسی دوسرے نسخہ سے (بلحاظِ طریق املاء و ہجائ) ہو بہو نقل کیا جاتا ہے۔ [ خود ’’ نسخۃ‘‘ کا لفظ‘ جو فعل نسَخ ینسَخ سے ہی ماخوذ ایک اسم ہے‘ قرآن کریم میں آیا ہے (الاعراف: 154) جس کے اصل معنی تو ہیں ’’ جس سے نقل کیا گیا‘‘ (منقول عنہ) تاہم جو ’’ نقل کیا گیا‘‘ (منقول) اسے بھی ’’ نُسخۃ‘‘ ہی کہتے ہیں کیونکہ وہ اصل کا قائم مقام ہے۔ یہ لفظ (نسخہ) اردو میں (بعض دوسرے معانی کے لیے بھی) مستعمل ہے۔

 ۔ اور اس فعل ’’ نَسَخَ‘‘ کے ان ہی (مندرجہ بالا) معانی میں استعمال کی بناء پر راغب ۔ نے (مفردات میں) لکھا ہے کہ ’’ نَسْخ‘‘ میں ’’ ازالۃ‘‘ (یعنی اصل کو ہی ہٹا یا مٹا دینا) کا مفہوم بھی ہوتا ہے اور کبھی (اصل کے) ’’ اثبات‘‘ (برقرار رکھنا) کا مفہوم بھی ہوتا ہے اور کبھی بیک وقت دونوں مفہوم موجود ہوتے ہیں۔

 ۔ اور اس ’’ ہٹا دینا‘ مٹانا‘‘ سے ہی اس فعل ’’ نسَخ ینسَخ‘‘ کا ایک ترجمہ ’’ منسوخ کر دینا‘‘ بھی کیا جا سکتا ہے اور کیا گیا ہے۔ (’’ منسوخ‘‘ خود اس فعل سے اسم المفعول ہے بمعنی ’’ ہٹا دیا ہوا‘‘) اور چونکہ اردو … خصوصاً پرانی اردو … میں ’’ موقوف کرنا‘‘ بمعنی ’’ ہٹا دینا‘ برطرف کرنا‘‘ (مثلاً نوکری سے) بھی استعمال ہوتا ہے اس لیے بعض مترجمین قرآن نے اس کا ترجمہ ’’ موقوف کرنا‘‘ بھی کیا ہے۔

 ۔ اس فعل مجرد سے قرآن کریم میں صرف فعل مضارع کے دو ہی صیغے دو جگہ آئے ہیں (دوسرا صیغہ الحج: 52 میں ہے) ۔ اس کے علاوہ مزید فیہ کے باب استفعال سے ایک صیغہ فعل اور ثلاثی مجرد سے ماخوذ ایک اسم ’’ نُسْخَۃ‘‘ بھی ایک جگہ آیا ہے (جس کا ابھی اوپر ذکر ہوا ہے)

 ۔ قرآن کریم میں یہ فعل مجرد (دونوں جگہ) اپنے اصل بنیادی (’’ ہٹا دینا‘‘ والے) معنی میں ہی استعمال ہوا ہے۔ اس طرح یہاں ’’ مَا نَنْسَخْ‘‘ کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ جو بھی: جس کو بھی ہم ہٹا دیتے ہیں: موقوف کر دیتے ہیں: منسوخ کر دیتے ہیں‘‘۔ بعض مترجمین نے ’’ کر دیتے‘‘ کی بجائے (جس میں ’’ تکمیل‘‘ یعنی ’’ پوری طرح کرنا‘‘ کا مفہوم ہے) صرف ’’ کرتے‘‘ سے ترجمہ کیا ہے جو لفظ سے زیادہ قریب ہے۔ بعض نے زمانہ حال کی بجائے صرف مضارع یعنی ’’ کر دیں‘‘ سے ہی ترجمہ کیا ہے۔ (عربی میں مضارع زمانہ حال اور مستقبل دونوں کا مفہوم رکھتا ہے) جب کہ بعض حضرات نے ضمیر تعظیم کا لحاظ کرتے ہوئے ’’ ہم منسوخ فرما دیں‘‘ سے ترجمہ کیا ہے۔ البتہ جن حضرات نے ’’ مَا‘‘ کا ترجمہ (’’ جو بھی: جس کو بھی‘‘ کی بجائے) ’’ جب‘‘ سے کیا ہے یہ محل نظر ہے‘ کیونکہ یہ تو ’’ اِذَا‘‘ یا ’’ اِذْ‘‘ کا ترجمہ لگتا ہے۔ اور ’’ مَا‘‘ اگر ظرفیہ بھی ہو تو اس کا اردو ترجمہ ’’ جب تک یا جتنی دیر تک‘‘ ہوتا ہے۔

C ’’ مِنْ آیۃٍ‘‘ (کسی آیت میں سے: کوئی بھی آیت) ’’ مِنْ‘‘ جو مشہور حرف الجر ہے یہاں تبعیض کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور تنصیص نکرہ (نکرہ کی قطعیت اور تاکید) کے لیے بھی‘ دیکھیے البقرہ: 3 [ 2: 2: 1 (5)]۔ پہلی (تبعیض کی) صورت میں اس مرکب کا ترجمہ ’’ کسی آیت: میں سے: کا کچھ حصہ‘‘ ہو کتا ہے۔ مترجمین میں سے بعض نے اس کا ترجمہ ’’ آیتوں میں سے‘‘ کی صورت میں کیا ہے جس میں واحد کا بصورتِ جمع ترجمہ تفسیری ہی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بعض نے ’’ کسی آیت کا حکم‘‘ سے ترجمہ کیا ہے۔ اس میں ’’ حکم‘‘ کا اضافہ بھی تفسیری ہے۔ دوسری صورت (تنصیص) میں اس کا ترجمہ ’’ کوئی بھی آیت: جس بھی آیت کو: کسی بھی آیت کو‘‘ ہونا چاہیے۔ اکثر مترجمین نے ’’ بھی‘‘ کے بغیر صرف ’’ کوئی آیت: کسی آیت‘‘ سے ترجمہ کیا ہے جو بظاہر صرف لفظ ’’ آیۃٍ‘‘ کا ترجمہ لگتا ہے۔ تنصیص کے مفہوم کے لیے اردو میں ’’ بھی‘‘ کا لانا ضروری تھا‘ تاہم ’’ کسی یا کوئی‘‘ میں نکرہ کا مفہوم آ گیا ہے۔ بعض نے صرف ’’ جو آیت: جس آیت‘‘ سے ترجمہ کیا ہے جس میں نہ تبعیض کا مفہوم ہے نہ تنصیص والی تاکید اور قطعیت کا۔ دوسرا لفظ ’’ آیۃ‘‘ ہے جس کا مادہ ’’ أ ی ی‘‘ اور وزن اصلی (غالباً) ’’ فَعَلَۃٌ‘‘ ہے۔ اس پر مفصل بحث البقرہ: 39 [ 2: 27: 1 (5)] میں گزر چکی ہے۔ اس لفظ کے قرآنی ضبط پر آگے بات ہو گی‘ کیونکہ یہاں جو ہم نے اسے ’’ آ‘‘ کے ساتھ لکھا ہے یہ عام املائی رسم ہے۔

D [ اَوْ نُنْسِھَا] یہ در اصل تتین کلمات اَوْ + نُنْسِ + ھَا کا مرکب ہے۔ ان میں سے ’’ اَوْ‘‘ (بمعنی ’’ یا‘‘) کے استعمال پر البقرہ: 19 [ 2: 14: 1 (1)] میں بات ہو چکی ہے۔ آخری لفظ ’’ ھَا‘‘ ضمیر واحد مؤنث غائب (بمعنی ’’ اس کو‘‘) ہے … اور کلمہ ’’ نُنْسِ‘‘ کا مادہ ’’ ن س ی‘‘ اور وزن اصلی ’’ نُفْعِلُ‘‘ ہے۔ یعنی یہ باب افعال سے فعل مضارع مجزوم کا صیغہ جمع متکلم ہے (جزم کی وجہ آگے ’’ الاعراب‘‘ میں آئے گی) یہ اصل میں ’’ نُنْسِیْ‘‘ تھا۔ جزم کی وجہ سے ’’ نُنْسِیْ‘‘ ہو گیا اور ناقص مجزوم کے قاعدے کی بنا پر آخری ’’ ی‘‘ گر کر اس کی (استعمالی) صورت ’’ نُنْسِ‘‘ ہو گئی جس کا وزن اب ’’ نُفْعِ‘‘ رہ گیا ہے۔

 ۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ نَسِیَ یَنْسَی‘‘ (بھول جانا‘ ترک کرنا) کے باب اور معانی و استعمال پر البقرہ: 44 [ 2: 29: 1 (8)] میں مفصل بات ہو چکی ہے (کلمہ تَنْسَوْنَ کے ضمن میں) ۔

 ۔ اس سے بابِ افعال کے فعل اَنْسٰی یُنْسِی اِنْسائً‘‘ (در اصل اَنْسَیَ یُنْسِیُ اِنْسَایًا) کے معنی ہیں: بھلا دینا‘ ذہن سے اتار دینا‘ فراموش کر دینا۔ اس متعدی فعل کے ہمیشہ دو مفعول اور دونوں بنفسہٖ (منصوب) آتے ہیں۔ پہلا مفعول وہ شخص ہوتا ہے جس کو بھلا دیا جائے یا اس کے ذہن سے اتار دیا جائے … دوسرا مفعول وہ چیز یا بات ہوتی ہے جو اس (شخص) کو بھلا دی جائے اور جس کو اس (شخص) کے ذہن سے اتار دیا جائے۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ اَنْسَی الرَّجلَ الشیئَ‘‘ (اس نے آدمی کو چیز بھلا دی‘ فراموش کرا دی) اور قرآن کریم میں ہے نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسَا ھُمْ اَنْفُسَھُمْ (الحشر: 19) یعنی ’’ وہ بھول گئے اللہ کو تو اس نے بھلا دیئے ان کو ان کے (اپنے) نفس (جانیں) ۔‘‘

 ۔ بعض دفعہ اس فعل کا ایک مفعول محذوف (غیر مذکور) ہوتا ہے جو سیاق عبارت سے سمجھا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس فعل (اَنْسٰی یُنْسِی) کے مختلف صیغے سات جگہ آئے ہیں اور ان میں سے چھ مقامات پر دونوں مفعول مذکور ہوئے ہیں۔ صرف ایک (زیر مطالعہ) آیت میں پہلا مفول محذوف ہے۔ گویا یہاں ’’ نُنْسِھَا‘‘ در اصل ’’ نُنْسِکَھَا‘‘ سمجھا جائے گا (یعنی ہم بھلا دیتے ہیں تجھ کو وہ) اور ’’ وہ‘‘ (ھَا) سے مراد آیت ہے جو پہلے مذکور ہے۔ اور یہاں مقدر (محذوف) ضمیر منصوب (کَ) بظاہر مخاطب اول (رسول اللہ ﷺ) کے لیے ہے۔

 ۔ اِس طرح ’’ اَوْ نُنْسِھَا‘‘ کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ یا ہم بھلا دیتے ہیں (تجھے) اس کو: یا ہم اتار دیتے ہیں (تیرے) ذہن سے اس کو: یا ہم فراموش کرا دیتے ہیں (تجھے: ذہنوں سے) اس کو‘‘ … جسے اکثر مترجمین نے ’’ بھلا دیتے ہیں‘‘ سے ترجمہ کیا ہے۔ ایک آدھ نے ’’ بھلا دیں‘‘ (بصورتِ مضارع) کیا ہے۔ بعض نے ’’ فراموش کرنا: کرانا‘‘ استعمال کیا ہے اور ایک نے ’’ ذہن سے اتار دینا‘‘ سے کام لیا ہے۔

 ۔ سوائے ایک مترجم کے سب نے ’’ نُنْسِ‘‘ میں مستتر ضمیر (نَحْنُ = ہم) کا ترجمہ نہیں کیا‘ بلکہ سابقہ فعل ’’ نَنْسَخْ‘‘ کے ترجمہ میں ’’ ہم‘‘ کے استعمال کو کافی سمجھا ہے۔ اسی طرح یہاں منصوب ضمیر مفعول (ھَا) کا ترجمہ بھی (غالباً محاورے کی بنا پر) اکثر نے نظر انداز کردیا ہے۔ اور سابقہ لفظ ’’ آیت‘‘ (مِنْ آیۃٍ) کے ذکر پر اکتفا کیا ہے (کیونکہ یہ ضمیر (ھَا) اسی (آیۃ) کے لیے ہے۔ صرف ایک دو مترجمین نے اس کے لیے ترجمہ میں ’’ اس کو: اسے‘‘ کا اضافہ کیا ہے۔ اور بعض نے دوبارہ لفظ آیت استعمال کرتے ہوئے اس ’’ ھَا‘‘ کا ترجمہ ’’ اس آیت (ہی) کو‘‘ کی صورت میں کیا ہے۔ اسی طرح مقدر (غیر مذکور) مفعول اول کا ذکر بھی قریباً سب نے نظر انداز کیا ہے۔ صرف ایک آدھ نے اس کے لیے قوسین میں بطور وضاحت (تمہارے) اور ایک نے (ذہنوں سے) کے ساتھ ترجمہ کیا ہے … بلحاظِ مفہوم سب تراجم یکساں ہیں۔

2: 64: 1 (2) [ نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَآ اَوْ مِثْلِھَا] یہ تمام کلمات بھی پہلے گزر چکے ہیں‘ اس لیے یہاں ہر ایک کا مختصراً ذکر اور گزشتہ حوالہ کافی ہو گا۔

A ’’ نَاْتِ‘‘ جس کا مادہ ’’ ا ت ی‘‘ اور وزن اصلی ’’ نَفْعِلُ‘‘ ہے‘ یہ ثلاثی مجرد کے فعل ’’ أَتَی یَأْتِی‘‘ (در اصل أَتِیَ یَاْتِیُ ) سے فعل مضارع مجزوم کا صیغہ جمع متکلم ہے جو ابھی اوپر مذکور کلمہ ’’ نُنْسِ‘‘ کی طرح تعلیل ہو کر نَأْتِیُ = نَأْتِیْ = نَأْتِ بنا ہے اور اب اس کا وزن ’’ نُفْعِ‘‘ رہ گیا ہے۔ اس فعل مجرد (اَتَی یَاْتِی) کے باب‘ معانی اور استعمال پر مفصل بات البقرہ: 23 [ 2: 17: 1 (4)] میں کلمہ ’’ فَاْتُوا‘‘ کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ یہاں اس کا ترجمہ ’’ بِ‘‘ کے صلہ کی بناء پر (جو اگلے کلمہ ’’ بِخَیْرٍ‘‘ کے شروع میں ہے) یعنی ’’ نَاْتِ بِ … = تو ہم لاتے ہیں‘‘ --- ہو گا۔

B ’’ بِخَیْرٍ‘‘ ابتدائی ’’ بِ‘‘ تو فعل ’’ نَاْتِ‘‘ کا صلہ ہے (جس سے فعل اَتٰی بِ … ’’ لے آنا‘‘ کے معنی دیتا ہے) اور کلمہ ’’ خَیْرٍ‘‘ یہاں افعل التفضیل کے معنی میں ہے‘ یعنی ’’ بہتر‘ زیادہ اچھا: اچھی‘‘ … اس لفظ (خَیر) کے معنی اور استعمال پر البقرہ: 54 [ 2؛ 34: 1 (5)] میں بات ہو چکی ہے۔

C ’’ مِنْھَا‘‘ جو دو کلمات (مِنْ + ھَا) کا مرکب ہے‘ اس میں من یہاں ’’ تفضیلیۃ‘‘ ہے اور محاورۃً (آگے نکلنا) کا مفہوم دیتی ہے۔ دیکھیے البقرہ: 3 [ 2: 2: 1 (5)] اور ھَا ضمیر مؤنث واحد غائب بمعنی ’’ اس‘‘ ہے۔ یوں ’’ مِنْھَا‘‘ کا ترجمہ ہوا ’’ اس سے: اس کے مقابلے پر: اس کی نسبت۔‘‘

D ’’ اَوْ مِثْلِھَا‘‘ یہ بھی (اوپر مذکور ’’ اَوْ نُنْسِھَا‘‘ کی طرح) در اصل تین کلمات ’’ اَوْ + مِثْلِ + ھَا کا مرکب ہے۔ ’’ اَوْ‘‘ (بمعنی ’’ یا‘‘) مختلف مفہوم دیتا ہے۔ دیکھیے البقرہ: 19 [ 2: 14: 1 (1)] ’’ مِثْل‘‘ کا ترجمہ ’’ مانند] جیسا‘ ہم پلہ‘ برابر‘‘ اور ’’ کی مثل‘‘ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لفظ کے مادہ‘ معنی اور استعمال پر البقرہ: 23 [ 2: 17: 1 (6)] میں بات ہوئی تھی۔ اور ضمیر مجرور (ھا) کا ترجمہ ’’ اس کی: کا‘‘ ہے مگر مثل کے ساتھ مل کر اس (مثلھا) کا ترجمہ ’’ اس جیسی‘ ویسی ہی‘‘ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعض نے ’’ مثل اس کے‘ اس کے برابر اور ان کی مانند‘‘ (آیت کو بمعنی جمع لے کر) بھی کیا ہے اور بعض نے صرف ضمیر کی بجائے اس کے مرجع کو بھی ساتھ لے کر ترجمہ ’’ اس آیت ہی کی مثل‘‘ سے بھی کیا ہے۔ مفہوم سب کا ایک ہے۔

 ۔ یوں اس حصہ آیت (نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَآ اَوْ مِثْلِھَا) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ تو (اس ’’ تو‘‘ کی وجہ آگے ’’ الاعراب‘‘ میں بیان ہو گی) ہم لاتے: لے آتے ہیں اس سے بہتر یا اس کے برابر: اس کی مثل: مثل اس کی : اس جیسی: ویسی ہی۔‘‘ زیادہ تر مترجمین نے ان ہی مذکور متبادل الفاظ کے ساتھ ترجمہ کیا ہے‘ البتہ اردو عبارت کی ساخت کے اعتبار سے فعل کا ترجمہ جملے کے آخر پر لائے ہیں۔ البتہ بعض نے بصورت مستقبل ترجمہ ’’ لائیں گے‘‘ کے ساتھ کیا ہے‘ جس کی بلحاظِ سیاقِ عبارت چنداں ضرورت نہ تھی۔ بعض مترجمین نے ’’ نَاْتِ بِ …‘‘ کا ترجمہ ’’ پہنچاتے‘ بھیج دیتے: نازل کر دیتے ہیں‘‘ کی صورت مین کیا ہے جو بلحاظ مفہوم درست ہے‘ اگرچہ لفظ سے قدرے ہٹ کر ہے۔ بعض نے ضمیر ’’ ھَا‘‘ کا ترجمہ دونوں جگہ (مِنْھَا اور مِثْلِھَا) ضمیر کے مرجع ’’ آیۃ‘‘ (کے اسم ظاہر) کے ساتھ کیا ہے یعنی ’’ اس آیت سے بہتر یا اس آیت ہی کی مثل‘‘ کی صورت میں … اور بعض نے ’’ مِثْلِھَا‘‘ کا ترجمہ ’’ ویسی ہی اور آیت‘‘ سے کیا ہے۔ یہ سب وضاحتی یا تفسیری ترجمے ہیں‘ ورنہ ضمیر کا بصورتِ ضمیر ترجمہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں‘ بلکہ اکثر نے یہی کیا ہے۔

 ۔ زیر مطالعہ آیت کے اس حصہ میں (جس پر ابھی دو حصے کر کے بات ہوئی ہے‘ یعنی ’’ مَا نَنْسَخْ … نُنْسِھَا‘‘ اور ’’ نَاْتِ … مِثْلِھَا‘‘ کی صورت میں) اس کے مجموعی ترجمے میں یہ جو کسی آیت کو منسوخ کرنے یا بھلا دینے اور پھر ویسی ہی بلکہ اس سے بہتر آیت لانے کا ذکر ہے (اور قرآن کریم کی ایک اور آیت ’’ وَ اِذَا بَدَّلْنَا آیَۃً مَّکَانَ آیَۃٍ … الخ (النحل: 191) میں بھی یہی مضمون ہے) ۔ اس کا تعلق ’’ نسخ فی القرآن‘‘ کی مشہور بحث سے ہے اور اس موضوع پر مستقل تصانیف بھی ہیں (جن میں ایک مصری عالم ڈاکٹر مصطفی زید کی ایک ہزار صفحات پر مشتمل دو جلدوں میں شائع شدہ کتاب ’’ النسخ فی القرآن‘‘ قابل ذکر ہے) اور تفسیری مباحث بھی … جن میں بہت کچھ افراط اور تفریط سے بھی کام لیا گیا ہے۔ بہرحال ’’ نسخ‘‘ کی اصطلاحی تعریف (کسی ھکم کو ہمیشہ کے لیے اور ہر شخص کے لیے ختم کر دینا) کے مطابق اور ان معنوں میں قرآن کریم کی کوئی آیت مطلقاً منسوخ نہیں ہے۔ جزوی اور وقتی نسخ کے لیے الگ اصطلاحات (عام‘ خاص‘ مطلق‘ مقید وغیرہ) بھی موجود ہیں۔ اس بناء پر اس پیچیدہ بحث کے لیے کسی اچھی اور معتمد علیہ تفسیر یا اصول تفسیر یا علوم القرآن کی کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ۔ کی کتاب ’’ الکفوز الکبیر‘‘ میں اس پر بہت عمدہ بحث کی گئی ہے‘ جو اہل علم کے لیے تحقیق اور تفہیم کے نئے راستے بھی کھولتی ہے۔

2: 64: 1 (3) [ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ]

A ’’ اَلَمْ تَعْلَمْ‘‘ کا ابتدائی ہمزہ (أَ) استفہام کے لیے ہے (بمعنی ’’ کیا‘‘ ؟) ہمزۂ استفہام سیاق و سباقِ عبارت کے مطابق متعدد مفہوم دیتا ہے۔ اس کے بعض استعمالات البقرہ: 6 [ 2: 5: 1 (3)] نیز البقرہ: 44 [ 2: 29: 1 (5)] میں بیان ہوئے تھے۔ یہاں یہ تعجب یا تقریر (اقرار) کا مفہوم دیتا ہے‘ اور اگلا لفظ ’’ لَمْ تَعْلَمْ‘‘ فعل علم یعلم بمعنی ’’ جاننا‘ جان لینا‘‘ سے صیغہ مضارع منفی بِلَم ہے۔ فعل ’’ عَلِم‘‘ کے معنی و استعمال پر [ 1: 2: 1 (4)] اور [ 2: 10: 1 (3)] میں بات ہوئی تھی۔ اور فعل مضارع پر ’’ لَمْ‘‘ کے استعمال اور اس کے اثر پر البقرہ: 33 [ 2: 23: 1 (2)] میں (اَلَمْ اَقُلْ کے ضمن میں) بات ہوئی تھی کہ لَمْ مضارع کو بلحاظ صورت جزم دیتا ہے اور بلحاظ معنی اسے ماضی منفی مع جحد (بزور انکار) بنا دیتا ہے۔ اس طرح یہاں ’’ اَلَمْ تَعْلَمْ‘‘ کا ترجمہ بنتا ہے ’’ کیا تُو نے جانا ہی نہیں؟‘‘ اسی کو بعض نے ’’ کیا نہ جانا تو نے؟‘‘ اور ’’ کیا تم نہیں جانتے؟‘‘ سے ترجمہ کیا ہے جبکہ بعض نے اسے مزید با محاورہ اور سلیس کرتے ہوئے ’’ کیا تجھ کو: تم کو: تجھے: تمہیں معلوم نہیں: خبر نہیں‘‘ کی صورت دی ہے۔ لفظ ’’ معلوم‘‘ فعل ’’ عَلِمَ‘‘ سے اسم المفعول ہے اور اردو میں رائج اور معروف ہے۔

B ’’ اَنَّ اللّٰہَ‘‘ (کہ بیشک اللہ تعالیٰ) ۔ یہ ’’ أَنَّ‘‘ بھی ’’إنَّ‘‘ کی اخوات (بہنوں) یعنی إِنَّ‘ أَنَّ‘ کَاَنَّ‘ لَیْتَ‘ لٰکِنَّ و لَعَلَّ‘‘ میں سے ایک ہے‘ جو حروف مشبہ بالفعل بھی کہلاتے ہیں اور جو سب اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔ ہر ایک پر بات اپنے موقع پر ہو تی۔ ’’ أَنَّ‘‘ پر مختصراً بات البقرہ: 6 [ 2: 5: 1] میں ہوئی تھی۔ ’’إِن‘‘ اور ’’ أَنَّ‘‘ دونوں کے معنی یکساں ہیں (بے شک‘ یقینا‘ بلا شبہ‘ تحقیق) البتہ ان کے موقع استعمال میں فرق ہوتا ہے۔ گرامر کی بڑی کتابوں میں تو ان کے مواقع استعمال کے لمبے چوڑے قواعد لکھے ہوئے ہیں‘ مثلاً یہ کہ دس مواقع ایسے ہیں جہاں لازماً ’’إِنَّ‘‘ (بکسرہ ہمزہ) آتا ہے۔ اور آٹھ مواقع ایسے ہیں جہاں لازماً ’’ أَنَّ‘‘ (بفتح ہمزہ) آتا ہے اور نو کے قریب ایسے مواقع ہیں جہاں ’’إَِٔنَّ‘‘ دونوں طرح استعمال ہو سکتے ہیں۔1؎

1؎ مثلاً چاہیں تو دیکھ لیجیے معجم النحو‘ ص 69 تا 74

 آپ مختصراً اتنا یاد رکھیں کہ کسی جملے کی ابتدا میں تو ہمیشہ ’’ إِنَّ‘‘ ہی استعمال ہوتا ہے‘ مگر جملے کے درمیان میں ’’ أَنَّ‘‘ آتا ہے۔ البتہ فعل ’’ قَالَ یَقُولُ‘‘ کے کسی صیغے کے بعد درمیان، کلام بھی ’’إِنَّ‘‘ آئے گا۔ مثلاً ’’ أَشْھَدُ أَنَّ …‘‘ آتا ہے مگر ’’ أَقُولُ إِنَّ…‘‘ کہیں گے۔ اس فرق کی وجہ سے ہی ’’إِنّ‘‘ کا ترجمہ تو ’’ بے شک اور یقینا‘‘ کرتے ہیں مگر ’’ أَنَّ‘‘ کا ترجمہ ’’ کہ بیشک۔ کہ یقینا‘‘ کیا جاتا ہے۔ بلکہ اردو محاورے میں تو بعض دفعہ صرف ’’ کہ‘‘ پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے‘ جیسا کہ اس (زیر مطالعہ) موقع پر اکثر مترجمین نے کیا ہے۔

 ۔ اسم جلالت (اللّٰہ) کے بارے میں لغوی بحث ’’ بسم اللّٰہ‘‘ یعنی [ 1: 1: 2] میں گزری ہے۔

C ’’ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ‘‘ (ہر چیز پر ہر وقت اور ہر طرح سے قدرت رکھنے والا ہے) ۔ اس عبارت (کے تمام کلمات) پر البقرہ: 20 [ 2: 15: 1 (10 - 11)] میں بحث ہو چکی ہے۔ اور یہی عبارت قرآن کریم میں قریباً 35 مقامات پر آئی ہے۔ یہاں (اور باقی جگہوں پر بھی) اکثر نے ترجمہ ’’ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ سے کیا ہے۔ اردو محاورہ کے لحاظ سے یہ ترجمہ درست ہے۔ تاہم ہم نے اوپر جو ترجمہ لکھا ہے وہ قَادِرٌ (اسم الفاعل) اور قَدِیر (الصفۃ المشبھۃ) کے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ شاید اسی لیے اردو کے بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ ’’ قدرت رکھتا ہے‘‘ اور ’’ سب کچھ کرسکتا ہے‘‘ سے کیا ہے۔

 

2: 64: 2: الاعراب

 زیر مطالعہ دو آیات میں سے ہر ایک بلحاظ مضمون دو الگ الگ جملوں پر مشتمل ہے‘ اسی لیے دونوں آیتوں میں ہر جملے کے اختتام پر وقف مطلق کی علامت ’’ ط‘‘ لگائی گئی ہے۔ پہلی آیت کا پہلا حصہ جملہ شرطیہ ہے‘ یعنی یہ شرط اور جزاء (جوابِ شرط) دونوں پر مشتمل ہے۔ ہر ایک جملے کے اعراب کی تفصیل یوں ہے۔

A مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْہَا اَوْ مِثْلِہَا

 [ مَا] موصولہ شرطیہ (بمعنی ’’ جو کچھ بھی کہ‘‘) ہے جس کی وجہ سے اگلا صیغہ فعل [ ننسخ] مجزوم ہے‘ علامت جزم لام کلمہ (خ) کا سکون ہے۔ اور اس لحاظ سے ’’ مَا‘‘ اس فعل کا مفعول مقدم ہے جو محلاً منصوب ہے‘ جس میں مبنی ہونے کی وجہ سے کوئی ظاہری علامت نصب نہیں ہے۔ [ مِن] جار اور [ آیۃٍ] مجرور ہے۔ ا مرکب جاری میں اگر ’’ من‘‘ کو تبعیض کے لیے سمجھا جائے تو پھر ’’ مِن آیۃٍ‘‘ اس ’’ ما‘‘ کی صفت بنے گا یعنی ’’ جو کچھ بھی کہ کی آیت میں سے ‘‘ یا ’’ جو کچھ حصہ آیت بھی‘‘ اور چونکہ ’’ ما‘‘ محلاً منصوب ہے لہٰذا یہ مرکب جاری بھی محلاً منصوب ہی ہو گا۔ اور اگر ’’ مِنْ‘‘ زائدہ برائے تنصیص نکرہ سمجھیں تو پھر بلحاظ محل (موقع) اسم شرط (ما) کا حال یا اس کی تمیز بن سکتا ہے (حال اور تمیز ونوں منصوب ہوتے ہیں لہٰذا اس صورت میں بھی ’’ من آیۃ‘‘ محلاً منصوب ہی بنے گا) حال ہو تو ترجمہ بنے گا ’’ جو کچھ بھی کہ کوئی بھی آیت ہوتے ہوئے (منسوخ ہو)‘‘ اور تمیز کی صورت میں ترجمہ کچھ یوں ہو گا ’’ جو کچھ بھی کہ کسی بھی آیت کی مقار‘‘ [ یہ ایسے ہے جیسے ’’ عنی رطلٌ زیتًا‘‘ = میرے پاس ایک رطل (ایک پیمانہ) تیل ہے … کی بجائے کہہ سکتے ہیں ’’ عنی رطل مِن زیتٍ‘‘ مطلب ایک ہی ہے]۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ یہ حال یا تمیز والی بات الٹی طرف سے کان کو ہاتھ لگانے والا تکلف ہی ہے۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ مرکب جاری (من آیۃ) کا تعلق ’’ مَا‘‘ سے ہی ہے‘ یا بصورتِ تبعیض یا بصورتِ تنصیص (اور دونوں صورتوں میں ترجمہ کا اصل فرق حصہ ’’ اللغۃ‘‘ میں بیان ہو چکا ہے) ۔ [ وَ] حرفِ عطف اور [ نُنْسِھا] میں ’’ ننس‘‘ مضارع صیغہ جمع متکلم ہے جو سابقہ مجزوم (بوجہ شرط) فعل ’’ نَنْسَخ‘‘ پر معطوف ہو کر مجزوم ہے۔ علامت جزم حرفِ علت لام کلمہ (ی) کا سقوط ہے (اصل نُنْسِی تھا) ور ’’ ھا‘‘ ضمیر منصوب اس فعل ’’ نُنْسِ‘‘ کا مفعول بہ ہے۔ یہاں تک جملہ شرطیہ کا پہلا حصہ (بیانِ شرط) مکمل ہوتا ہے۔ آگے جوابِ شرط (جزائ) شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ [ نَاْتِ] جو صیغہ مضارع جمع متکلم ہے اسی (جوابِ شرط ہونے کی) وجہ سے مجزوم ہے۔ علامت جزم یہاں بھی حرفِ علت لام کلمہ (جو یہاں بھی ’’ ی‘‘ تھی) کا سقوط ہے (یہ در اصل ’’ نَاْتِیْ‘‘ تھا) … شرط اور جزاء کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں‘ ان میں سے بڑی واضح اور عمدہ صورت (شرط کے) مضارع مجزوم کے جواب میں مضارع مجزوم (بغیر ’’ فا‘‘ کے) کا لانا ہے۔ اسی جوابِ شرط ہونے کی وجہ سے ’’ نَاْتِ‘‘ کے ترجمہ سے پہلے اردو میں ’’ تُو‘‘ لگتا ہے۔ [ بخیرٍ] جار (بِ) اور مجرور (خَیْرٍ) کا تعلق فعل ’’ نَاْتِ‘‘ سے ہے۔ بلکہ یوں سمجھئے کہ حرف الجر (بِ) تو فعل (نَاْتِ) کا صلہ ہے جس سے ’’ اَتٰی یَاْتِی بِ‘‘ میں ’’ لے آنا‘‘ کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح لفظ ’’ خَیْر‘‘ یہاں مفعول ہونے کے لحاظ سے محلاً منصوب ہے کیونکہ اگر اس صلہ (بِ) کے بغیر اس فعل کے یہی (لے آنا والے) معنی ہوتے تو عبارت ’’ نَاْتِ خَیْراً‘‘ ہوتی [ منھا] من حرف الجر یہاں تفضیلیۃ ہے جو افعل التفضیل کے ساتھ استعمال ہوتا ہے (جو یہاں ’’ خَیْر‘‘ ہے) اور ’’ ھَا‘‘ ضمیر مجرور مفضل منہ (جس پر فضیلت دی جائے) کے لیے ہے اور اس کا مرجع لفظ ’’ آیۃ‘‘ ہے جو پہلے گزر چکا ہے (یعنی اس آیت سے زیادہ اچھی: بہتر) [ مِثْلِھَا] مضاف (مثل) اور مضاف الیہ (ھا ۔ ضمیر مجرور) مل کر ’’ او‘‘ کے ذریعے لفظ ’’ آیۃ‘‘ ہی پر عطف ہے جس کے لیے ’’ ھا‘‘ (ضمیر) پہلے بھی آ چکی ہے۔ اب آپ اس بیانِ اعراب کے بعد حصہ اللغۃ میں بیان کردہ تراجم کی لغوی وجہ کے علاوہ نحوی وجہ بھی سمجھ سکتے ہیں۔ یہاں تک شرط اور جوابِ شرط مکمل ہو کر ایک مضمون ختم ہوا ہے‘ لہٰذا یہاں وقف مطلق ہونا چاہیے۔

 (رض) B اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ

 [ ا] ہمزۂ استفہام برائے تقریر (اقرار کا مفہوم) ہے اور [ لَمْ تَعْلَمْ] میں ابتدائی ’’ لَمْ‘‘ حرفِ جازم مضارع ہے جس سے مضارع کے معنی الٹ کر (قلب ہو کر) ماضی اور وہ بھی منفی کے ہو جاتے ہیں‘ اس لیے ’’ لَمْ‘‘ کو حرفِ جزم و نفی و قلب بھی کہتے ہیں۔ ’’ تَعْلَمْ‘‘ مضارع مجزوم ’’ بِلَمْ‘‘ ہے‘ علامت جزم لام کلمہ (م) کا سکون ہے [ اَنَّ] حرفِ مشبہ بالفعل ہے اور [ اللّٰہَ] اس کا اسم منصوب ہے‘ علامت نصب آخری ’’ ھ‘‘ کی فتحہ ہے۔ [ عَلٰی کل شیئٍ] یہ مرکب جاری ہے جس میں ’’ عَلٰی‘‘ حرف الجر کے بعد ’’ کّلِّ‘‘ مجرور ہے اور آگے مضاف بھی ہے۔ علامت جر آخری ’’ لِ‘‘ کی کسرہ ہے کیونکہ یہ خفیف (لام تعریف اور تنوین کے کے بغیر) بھی ہے اور ’’ شَیئٍ‘‘ اس (کُل) کا مضاف الیہ (لہٰذا) مجرور ہے‘ علامت جر تنوین الجر (-ٍ) ہے اور یہ پورا مرکب جاری (علٰی کُلِّ شَیْئٍ) متعلق خبر (مقدم) ہے‘ یعنی اس کا تعلق اگلے لفظ [ قدیرٌ] سے ہے جو ’’ ان‘‘ کی خبر مرفوع ہے۔ علامت رفع تنوین رفع (-ٌ) ہے۔ گویا اصل عبارت یوں بنتی تھی کہ ’’ اِنَّ اللّٰہ قدیرٌ علٰی کُلِّ شَیئٍ‘‘ مگر فاصلہ (آیت کے آخری لفظ) کی رعایت سے متعلق خبر (’’ علٰی کُلِّ شَیْئٍ‘‘ کو خبر (قدیرٌ) پر مقدم کردیا گیا ہے‘ جس سے قدرت کے کمال اور وسعت کی تاکید کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ اسی تاکید کے مفہوم کو بعض نے ’’ سب کچھ کرسکتا ہے‘‘ کے (ترجمے کے) ذریعے ظاہر کیا ہے۔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ ١٠٧؁
[ اَلَمْ تَعْلَمْ: کیا تو نے جانا] [ اَنَّ اللّٰهَ: کہ اللہ] [ لَهٗ: کے لیے ہے] [ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ : زمین اور آسمانوں کا اقتدار ] [ وَمَا لَكُم: اور تمہارے لیے نہیں ہے] [ ْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ: اللہ کے علاوہ] [ مِنْ وَّلِيٍّ: کوئی بھی کارساز] [ وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ ہی مددگار]

 

 [ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ] بعینہٖ یہی عبارت ابھی اوپر A اور B میں گزری ہے‘ لفظی ترجمہ ہے ’’ کیا تُو نے جانا ہی نہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ‘‘۔ با محاورہ اور سلیس تراجم اوپر دیکھیے۔

2: 64: 1 (4) [ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ] (اس ہی کے لیے ہے بادشاہی: سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی)

A ’’ لَہٗ‘‘ یہ لام الجر (لِ) + (ہ) ضمیر مجرور ہے۔ لام الجر ضمیروں کے ساتھ مفتوح (لَ) آتا ہے۔ اس لام (لِ) کے مختلف معانی و استعمالات پر الفاتحہ: 2 [ 1: 2: 1 (2)] میں بات ہوئی تھی۔ یہاں یہ ’’ کے لیے‘ کا (حق)‘ کی (ملکیت)‘‘ کے معنی میں آیا ہے۔ اس لیے اس کا ترجمہ ’’ واسطے اس کے ہے: اس ہی کے لیے ہے: اسی کی ہے: اسی ہی کی ہے‘‘ کی صورت میں کیا گیا ہے اور چونکہ اس سے پہلے ’’ أَنَّ اللّٰہَ‘‘ آیا ہے اور ’’ لَہٗ‘‘ کی ضمیر اللہ کے لیے ہے اس لیے مترجمین نے محاورے کے مطابق اللہ کے ساتھ ’’ اس‘‘ کو جمع نہیں کیا بلکہ ’’ اس‘‘ کی بجائے اسم جلالت ’’ اللّٰہ‘‘ لگا کر ترجمہ کیا ہے‘ یعنی ’’ اللہ ہی کے لیے: اللہ ہی کی‘‘ کی صورت میں اور ’’ ہی‘‘ لگانے کی وجہ ’’ لہ‘‘ کا پہلے آنا ہے۔ اس پر مزید بات ’’ الاعراب‘‘ میں ہو گی۔

B ’’ مُلْکُ‘‘ جو یہاں مضاف ہے‘ کا مادہ ’’ م ل ک‘‘ اور وزن ’’ فُعْلٌ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ مَلَکَ یَمْلِکُ = مالک ہونا‘‘ کے معانی باب اور استعمال پر الفاتحہ: 4 [ 1: 3: 1 (1)] میں بات ہوئی تھی اور پھر البقرہ: 102 [ 2: 62: 2 (1)] میں خود یہی لفظ (مُلْکُ) پہلی دفعہ گزر چکا ہے۔ یہ لفظ مفرد مرکب معرفہ نکرہ مختلف حالتوں میں قرآن کریم کے اندر پچاس کے قریب مقامات پر آیا ہے اور اس کے بنیادی معنی میں قوت‘ قبضہ اور حکم کا مفہوم ہے۔ اس کا اردو ترجمہ ’’ بادشاہی‘ حکمرانی‘ سلطنت‘ اقتدار‘‘ کی صورت میں کا جا سکتا ہے۔ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے مذکور ہو تو اس کے معنی ’’ حقیقی بادشاہی اور اقتدارِ اعلیٰ‘‘ کے ہوتے ہیں۔

C ’’ السَّمٰوٰتِ‘‘ جس کا مادہ ’’ س م و‘‘ اور وزن (لام تعریف نکال کر) ’’ فَعالات‘‘ ہے۔ یہ ’’ السَّمائ‘‘ (آسمان) کی جمع مؤنث سالم ہے۔ لفظ ’’ السَّمائ‘‘ (واحد) پر بات البقرہ: 19 [ 2:14: 1 (3)] میں ہوئی تھی اور ’’ سمٰوٰت‘‘ (جمع نکرہ) کا لفظ پہلی دفعہ البقرہ: 29 [ 2: 20: 1 (10)] میں زیر بحث آیا تھا۔ (سَبْعَ سمٰوٰتٍ کے ضمن میں) ۔ ’’ السمٰوٰت‘‘ کا اردو ترجمہ ’’ آسمانوں‘‘ ہے۔

D ’’ وَ الاَرْض‘‘ میں ’’ و‘‘ تو عاطفہ (بمعنی ’’ اور‘‘) ہے اور لفظ ’’ الارض‘‘ (بمعنی ’’ زمین‘‘) کے مادہ اور معنی وغیرہ پر پہلی دفعہ البقرہ: 11 [ 2: 9: 1 (4)] میں مفصل بات ہو چکی ہے۔

 ۔ اس طرح اس پوری عبارت (اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ) کو ملا کر اس کا با محاورہ و سلیس ترجمہ (لفظی ترجمے اوپر لکھ دیئے گئے ہیں) ’’ لہ‘‘ کی ضمیر ’’ ہ‘‘ کی بجائے اس کے مرجع ’’ اللّٰہ‘‘ کو استعمال کرتے ہوئے ’’ اللہ: ہی کو: ہی کے لیے: ہی کو: ہے بادشاہی: سلطنت: بادشاہت: آسمانوں اور زمین کی‘‘ کی صورت میں کیا گیا ہے۔ بعض نے اردو جملے کے ساخت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ’’ آسمان: آسمانوں اور زمین کی سلطنت: بادشاہت اسی اللہ کی: خدا ہی کی ہے‘‘ کے ساتھ ترجمہ کیا ہے۔ بعض نے ’’ أَنَّ اللّٰہَ لَہٗ‘‘ کی ترکیب کی وجہ سے ترجمہ ’’ کہ حق تعالیٰ (اللہ) ایسے ہیں کہ خاص ان ہی کی ہے …‘‘ کی صورت میں کیا ہے۔ تما تراجم کا مفہوم یکساں ہے۔

2: 64: 1 (5) [ وَ مَا لَکُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ …] اس حصہ عبارت کے تمام کلمات بھی پہلے گزر چکے ہیں۔ ہر ایک کی مختصراً وضاحت یوں ہے:

A ’’ وَ‘‘ کا ترجمہ تو ’’ اور‘‘ ہی سے ہو گا۔ تاہم یہ ’’ و‘‘ استیناف کے لیے ہے کیونکہ یہاں سے ایک نیا مضمون شروع ہوتا ہے۔ اور اسی لیے اس سے سابقہ جملے کے آخر پر وقف مطلق ’’ ط‘‘ لکھا گیا ہے۔ مستانفہ واو (یا واو الاستیناف) پر البقرہ:8 [ 2:7:1 (1)] میں مفصل بات ہوئی تھی۔

B ’’ مَا‘‘ (نہیں ہے) ۔ یہاں ’’ مَا‘‘ نافیہ مشابہہ بِلَیْسَ ہے‘ جسے ’’ مَا الحِجازیہ‘‘ بھی کہتے ہیں‘ دیکھیے البقرہ: 3 [ 2: 2: 1 (5)]۔

C ’’ لَکُمْ‘‘ (تمہارے لیے‘ تمہارا‘ تمہارے واسطے) اس میں ضمیر مجرور (کم) بمعنی ’’ تم‘‘ سے پہلے لام الجر (لِ) ہے جو ضمیر کی وجہ سے مفتوح ہے۔ لام الجر کے مختلف معانی پر الفاتحہ: 1 [ 1: 2: 1 (2)] بات ہوئی تھی۔

D ’’ مِنْ دُوْنِ اللّٰہ‘‘ (اللہ کے سوا: کے بغیر: کے مقابلے پر) بعینہٖ یہی ترکیب البقرہ: 24 [ 2: 17: 1 (9)] میں گزر چکی ہے۔ وہاں ’’ دُونَ‘‘ کے بطور ظرف مجاف (جو ) اکثر مجرور ’’ بِمِنْ‘‘ بھی آتا ہے) کے استعمال اور اس کے 12 مختلف معانی پر بات ہوئی تھی۔ یہ لفظ (دُوْنَ) مختلف تراکیب میں (اور زیادہ تر مجرور ’’ بِمِن‘‘ ہو کر) قرآن کریم میں 92 مقامات پر آیا ہے۔

 ۔ اس طرح اس حصہ عبارت (وَ مَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللّٰہ) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ اور نہیں ہے تمہارے لیے سوائے اللہ کے‘‘ جسے زیادہ تر نے ’’ اللہ کے سوا‘‘ اور بعض نے ’’ خدا کے سوا‘‘ یا ’’ حق تعالیٰ کے سوا‘‘ سے ترجمہ کیا ہے۔ ’’ واسطے تمہارے: تمہارے لیے‘‘ کو اکثر نے ’’ تمہارا‘‘ کی سلیس اور با محاورہ شکل دی ہے۔ بعض نے ’’ تم مسلمانوں کا‘‘ سے ترجمہ کیا ہے جسے تفسیری ترجمہ کہہ سکتے ہیں۔

2: 64: 1 (6) [ … مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ] یہ حصہ عبارت سابقہ (مندرجہ بالا) عبارت کے ساتھ (بلحاظِ ترکیب جملہ) مربوط ہے۔ اسی لیے اس عبارت کے آخر پر اور اس عبارت کے شروع میں نقطے (…) ڈالے گئے ہیں۔ اس (زیر مطالعہ) عبارت کے بھی سب الفاظ بلحاظِ ’’ مادہ‘‘ تو پہلے گزر چکے ہیں‘ البتہ بلحاظِ ساخت و اشتقاق دو لفظ ’’ وَلِیّ‘‘ اور ’’ نَصِیر‘‘ نئے ہیں‘ لہٰذا ان کی وضاحت ضروری ہے۔ تفصیل یوں ہے:

A ’’ مِنْ‘‘ یہاں تنصیص نکرہ کے لیے ہے‘ یعنی اس سے نکرہ میں مزید عموم اور تاکید کا مفہوم ہوتا ہے۔ دیکھیے البقرہ: 3 [ 2: 2: 1 (5)] اسے ’’ مِنْ زائدہ‘‘ بھی کہتے ہیں‘ اس کی وجہ سے اگلے لفظ (وَلِی اور نَصِیر ) سے پہلے ترجمہ میں ’’ کوئی بھی‘‘ لگے گا۔

C ’’ وَلِیّ‘‘ کا مادہ ’’ و ل ی‘‘ اور وزن ’’ فَعِیل‘‘ ہے (جو یہاں مجرور آیا ہے) گویا یہ لفظ در اصل ’’ وَلِیْیٌ‘‘ تھا جس میں آخری دو ’’ ی‘‘ (یْ ی) مدغم ہو کر ’’ یّ‘‘ بن گئی ہیں۔

 ۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ وَلِیَ یَلِی = قریب ہونا‘ آس پاس ہونا‘‘ پر البقرہ: 64 [ 2: 41:1 (4)] میں بات ہوئی تھی۔ یہ لفظ (وَلِیّ) اس فعل مجرد سے صفت مشبہ کا صیغہ بھی ہو سکتا ہے اور اسم مبالغہ بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب ہو گا ’’ ہر وقت‘ ہر جگہ قریب اور پاس‘‘ اور دوسری صورت میں اس کا مطلب ہو گا ’’ بہت زیادہ قریب اور پاس‘‘ … اسی لیے اس لفظ کا ترجمہ ’’ دوست: یار: حمایتی: حامی‘‘ کی صورت میں کیا گیا ہے۔ اور اس کا ترجمہ ’’ سرپرست: کارساز‘‘ بھی ہو سکتا۔ ان سب الفاظ میں بنیادی مفہوم ’’ قرب اور نزدیکی‘‘ کا ہے‘ چاہے وہ بلحاظِ مکان (جگہ) ہو یا بلحاظِ نسب یا بلحاظِ دین یا بلحاظ حمایت اور دوستی ہو … لفظ ’’ وَلِیّ‘‘ قرآن کریم میں مفرد مرکب معرفہ نکرہ مختلف اعرابی حالتوں میں 44 جگہ استعمال ہوا ہے اور اکثر جگہ اللہ تعالیٰ کو اہل ایمان کا ’’ وَلیّّ‘‘ کہا گیا ہے۔ اسی لفظ کی جمع مکسر ’’ اَولیائُ‘‘ (غیر منصرف) ہے اور یہ لفظ بھی قرآن کریم میں چالیس سے زائد جگہ وارد ہوا ہے۔

C ’’ وَ لا‘‘ (اور نہ ہی) ’’ وَ‘‘ بمعنی ’’ اور‘‘ کئی دفعہ گزر چکا ہے اور ’’ لَا‘‘ بمعنی ’’ نہ: نہیں‘‘ یہاں ’’ مَا نافیہ‘‘ کے بعد آیا ہے‘ لہٰذا ’’ نفی‘‘ کے مفہوم کی تکرار کے باعث اس کا اردو میں صحیح مفہوم ’’ نہ‘‘ کے بعد ’’ ہی‘‘ لگانے سے واضح ہو سکتا ہے۔

D ’’ نَصِیر‘‘ (مددگار) ۔ جس کا مادہ ’’ ن ص ر‘‘ اور وزن ’’ فَعِیل‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ نصَر ینصُر = مدد کرنا‘‘ کے باب اور معنی وغیرہ پر البقرہ: 48 [ 2: 31: 1 (7)] میں بات ہوئی تھی۔ خیال رہے ’’ نصَر‘‘ کا اصل مفہوم ایسی مدد کرنا ہوتا ہے جو آدمی کو (دشمن وغیرہ کے مقابلے پر) کامیاب کر دے۔ لفظ ’’ نَصِیر‘‘ اس فعل سے اسم المبالغہ کا صیغہ ہے (عموماً صفت مشبہ فعل لازم سے اور اسم مبالغہ فعل متعدی سے آتا ہے) ۔ اردو میں قریباً سب نے ہی اس کا ترجمہ ’’ مددگار‘‘ کیا ہے۔

 ۔ یوں اتنی عبارت (… مِن وَلِیٍّ وَ لَا نَصِیر) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’… کوئی بھی دوست اور نہ ہی کوئی مددگار‘‘۔ جیسا کہ ابھی مذکور ہوا لفظ ’’ وَلِیّ‘‘ کا ترجمہ بعض دوسرے الفاظ (حمایتی‘ حامی‘ کارساز‘ سرپرست وغیرہ) سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ نَصِیر کا ترجمہ ’’ مدد والا‘‘ بھی کیا گیا ہے جو خالص اردو ترکیب ہے۔ اکثر نے یہاں ’’ مِنْ‘‘ کے ترجمہ میں ’’ کوئی‘‘ کے ساتھ ’’ بھی‘‘ کو اور ’’ وَ لَا‘‘ کے ترجمہ میں ’’ نہ‘‘ کے ساتھ ’’ ہی‘‘ کو نظر انداز کیا ہے۔ البتہ بعض نے نکرہ (کوئی) کی تکرار کو ملحوظ رکھ کر ترجمہ ’’ نہ کوئی دوست ہے نہ کوئی مددگار‘‘ کوئی نہیں حامی اور نہ کوئی مددگار‘‘ کی صورت میں کیا ہے اور بعض نے (شاید اردو محاورہ کی خاطر) ایک جگہ ’’ کوئی‘‘ اور دوسری جگہ ’’ نہ‘‘ کا استعمال کیا ہے۔ یعنی ’’ کوئی دوست اور نہ مددگار: کوئی حمایتی ہے اور نہ مددگار: کوئی حمایتی اور نہ مددگار‘‘ کی صورت میں۔ جبکہ بعض حضرات نے اردو جملے کی ساخت کا لحاظ رکھتے ہوئے سابقہ عبارت (وَ مَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللّٰہ) کے ’’ مَا‘‘ کا ترجمہ آخر پر بصورت ’’ نہیں‘‘ لائے ہیں۔ مثلاً ’’ کوئی یار و مددگار بھی نہیں: کوئی دوست: یار و مددگار نہیں‘‘ کی صورت میں … تمام تراجم کا مفہوم یکساں ہے۔ البتہ جس نے ’’ کوئی بھی: نہ ہی‘‘ کے ساتھ یا ’’ کوئی‘‘ اور ’’ نہ‘‘ کی تکرار سے ترجمہ کیا ہے وہ اصل سے قریب تر ہے۔

 

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ

 [ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ] ابھی اوپر گزرا ہے۔ اگلی عبارت میں [ لَہٗ] جار مجرور (لام الجر (لِ) + ضمیر واحد مذکر مجرور (ہٗ) مل کر خبر مقدم ہے جسے قائم مقام خبر بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ خبر ہی کا کام دے رہا ہے۔ اس کے بعد [ مُلْکُ] اپنے بعد والی پوری ترکیب اضافی سمیت مبتدا مؤخر (لہٰذا) مرفوع ہے۔ علامت رفع ’’ کُ‘‘ کا ضمہ ہے کیونکہ یہ لفظ آگے مضاف ہونے کے باعث خفیف بھی ہے۔ [ السمٰوٰت] مضاف الیہ (لہٰذا) مجرور ہے‘ علامت جر آخری ’’ اتِ‘‘ ہے جو جمع مؤنث سالم میں اعراب کی علامت ہوتی ہے (… ات) ۔ [ و] عاطفہ ہے جس سے [ الارض] ’’ السمٰوٰت‘‘ پر معطوف ہوکر (خود بھی) مجرور بالاضافہ ہو گیا ہے‘ علامت جر ’’ ضِ‘‘ کی کسرہ (-ِ) ہے کیونکہ الارض معرف باللام بھی ہے۔ یوں یہ پورا مرکب اضافی (مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ) مبتداء مؤخر ہے جس کی خبر مقدم کا کام ’’ لہ‘‘ (جار مجرور …) دے رہا ہے۔ اور یہ پورا جملہ اسمیہ (مبتدا مؤخر + خبر مقدم) ’’ ان‘‘ کی خبر لہٰذا محلاً مرفوع ہے۔ گویا اصل جملہ ایک طرح سے ’’ اَنَّ اللّٰہَ مَالِکُ: مَلِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‘‘ بنتا تھا مگر ’’ لہ‘‘ کو خبر مقدم بنا کر ’’ اسی ہی کے لیے: اسی ہی کا ہے‘‘ کا زوردار مفہوم پیدا ہو گیا ہے۔ یہ زور اور تاکید عام سادہ جملہ اسمیہ کے ذریعے ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔

D وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ نَصِیْرٍ

 [ وَ] مستانفہ ہے جس کا ترجمہ تو ’’ اور‘‘ ہی کیا جاتا ہے مگر اس میں ’’ اور یہ بات بھی توجہ طلب ہے‘‘ کا مفہوم ہے‘ اسی لیے بعض نے اس ’’ و‘‘ کے ترجمہ کی قوسین میں یوں وضاحت کی ہے ’’ اور (یہ بھی سمجھ رکھو کہ)‘‘۔ [ مَا] نافیہ حجازیہ ہے [ لکم] جار مجرور (ل + کم) خبر مقدم (یا قائم مقام خبر) ہے جس کا مبتدا مٔخر آگے آ رہا ہے۔ [ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ] میں من جار ہے جو ظروف سے پہلے اکثر لگتا ہے۔ ’’ دون‘‘ ظرفِ مکان ہے جو آگے مضاف بھی ہے‘ اور ’’ اللّٰہ‘‘ مضاف الیہ مجرور ہے۔ اگر شروع میں ’’ مِن‘‘ نہ ہوتا تو ظرف منصوب ہو کر مضاف ہوتا یعنی بصورت ’’ دون اللّٰہ‘‘ (اور یہ ترکیب بھی قرآن کریم میں بہت جگہ آئی ہے۔ یہ مرکب (من دون اللّٰہ) آگے آنے والے مبتداء مؤخر (ولی) سے متعلق ہے‘ یعنی اسی کا حال یا صفت کہہ سکتے ہیں۔ [ مِن] زائدہ برائے تنصیص نکرہ ہے۔ [ وَلِیٍّ] مبتدأ مؤخر لہٰذا محلاً مرفوع ہے مگر یہ مجرور ’’ بمن‘‘ ہے اور اسی ’’ من‘‘ کی وجہ سے ’’ من ولی‘‘ کا ترجمہ ’’ کوئی بھی دوست: حمایتی‘‘ بنتا ہے۔ [ و] عاطفہ ہے اور [ لَا] تاکید نفی کے لیے ہے (صرف ’’ نفی‘‘ (نہیں) تو ابتدائی ’’ مَا‘‘ (الحجازیۃ) میں بھی موجود تھی) اسی تاکید کی وجہ سے یہاں ’’ لا‘‘ کا ترجمہ ’’ نہ ہی‘‘ سے ہو گا [ نصیر] واو عاطفہ کے ذریعہ مبتدا مؤخر (ولی) پر معطوف ہے۔ گویا دوسرا مبتداء مؤخر ہے۔ یہ بھی محلاً مرفوع ہے‘ اگرچہ مجرور بِمِن (وَلِیّ) پر عطف کی وجہ سے لفظاً مجرور ہی ہے۔ گویا اصل منفی (بمَا) جملہ بنتا تھا ’’ مَا لَکُمْ وَلِیٌّ و نَصِیْرٌ‘‘ (نہیں ہے تمہارا کوئی دوست اور مددگار) [ اور یہ بالکل ایسا ہے جیسے کہیں ’’ مَا لَہ ابنٌ وَ بِنتٌ ۔ اس کی کوئی بیٹا‘ بیٹی نہیں ہے]۔ پھر ’’ وَلِیّ‘‘ کے شروع میں ’’ من‘‘ زائدہ برائے تنصیص لگنے سے ’’ مِن وَلِیٍّ‘‘ کے معنی ’’ کوئی بھی دوست‘‘ ہے اور واو عاطفہ کے بعد تاکید نفی کے لیے ’’ لا‘‘ لگا کر ’ و لا‘‘ کے معنی ہوئے ’’ اور نہ ہی‘‘۔ پھر اس دوست: مددگار کی صفت یا حال کے طور پر اور تاکید کا مفہوم پیدا کرنے کے لیے ’’ مِن دُون اللّٰہِ‘‘ کو مبتدأ مؤخر سے بھی مقدم کردیا گیا ہے‘ ورنہ سادہ جملہ ’’ مَا لَکُم وَلِیٌٍّ وَ نَصِیرٌ مِن دُونِ اللّٰہِ‘‘ بھی ہو سکتا تھا مگر اس میں وہ تاکید اور نفی کے عموم (وسیع تر مفہوم) والی بات نہ ہوتی۔

2: 64: 3 الرسم

 اس قطعہ آیات کے تمام کلمات کا رسم املائی اور رسم عثمانی یکساں ہے ما سوائے صرف ایک کلمہ ’ السمٰوٰت‘‘ کے‘ جس کا رسم املائی تو ’’ سَمَاوَات‘‘ ہے مگر رسم عثمانی میں بالاتفاق یہاں اس کی کتابت میں دونوں الف (’’ م‘‘ کے بعد والا اور ’’ و‘‘ کے بعد والا) حذف کر دیئے جاتے ہیں۔ اور پھر پڑھنے کے لیے ان کو بذریعہ ضبط ظاہر کیا جاتا ہے۔ اسی لفظ کے رسم پر سب سے پہلے البقرہ: 29 [ 2: 20: 3] میں بات ہوئی تھی‘ چاہیں تو اسے بھی دوبارہ دیکھ لیجیے۔

2: 64: 4 الضّبط

 اس (زیر مطالعہ) قطعہ کے ساتھ ہم اپنی اختلافاتِ ضبط کے بارے میں ’’ تحریری‘‘ نمونے پیش کرنے کی پالیسی میں تھوڑی سی تبدیلی کرنا چاہتے ہیں۔ اس تبدیلی کی وضاحت سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ’’ رسم‘‘ و ’’ ضبط‘‘ کے باہمی تعلق: ان کی اہمیت اور ضبط میں اختلاف ک بنیادی اسلوب کے بارے میں بعض تعارفی امور مختصراً بیان کر دیئے جائیں (ان میں سے بعض چیزوں کی طرف مقدمہ کتاب میں بھی اشارہ کردیا گیا تھا) ۔

 ہم نے کتاب کے اصل موضوع ’’ لغات و اعراب‘‘ کے ساتھ قرآن کریم کے ’’ رسم‘‘ اور ’’ ضبط‘‘ کے قواعد کا بیان اہل شوق اور اصحاب ذوق کی ضیافت طبع کے لیے شامل کر رکھا ہے۔ ’’ رسم‘‘ کا تعلق قرآنی عبارات کی درست کتابت‘ طریق ہجاء و املاء سے ہے‘ جب کہ ’’ ضبط‘‘ کا تعلق قرآن کریم کی مکتوب عبارت کو (بذریعہ حرکات) درست پڑھنے سے ہے‘ اگرچہ قرآن کریم کے متعدد کلمات کو مسلمہ اور مستند (سات یا دس) قراء ات کے مطابق مختلف صورتوں میں بھی پڑھا جاتا ہے۔ تاہم بنیادی طور پر تمام قراء ات رسم کے تابع ہوتی ہیں یعنی کلمہ کی ہجاء اور املاء کا طریقہ ایک ہی ہوتا ہے مگر اس کو کسی خاص طریق پر پڑھنے کے لیے حرکات مختلف طریقے سے لگائی جاتی ہیں۔

 ۔ اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ سورۃ الفاتحہ میں ’’ مَالِک‘‘ کو ’’ مَلِک‘‘ بھی پڑھنا خود رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ تاہم اس کا قرآنی (عثمانی) رسم ’’ مٰلِک‘‘ (الف کے بغیر) ہے۔ اب ’’ مَالِک‘‘ والی قراءت (مثلاً عاصم‘ الکسائی اور خلف وغیرہ‘ جن میں سے حفص عن عاصم کی قراءت ہی تمام ایشیائی ممالک میں رائج ہے) کے لیے اسے ضبط کے ساتھ بصورت ’’ مٰلِک‘‘ لکھتے ہیں۔ مگر ’’ مَلِک‘‘ والی قراءت (مثلاً ورش اور قالون (عن نافع) اور الدوری (عن ابی عمرو) کی روایت کے مطابق اسے ’’ مَلِک‘‘ ہی کے ضبط سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ تاہم بعض دفعہ ایک ہی قراءت کے باوجود ضبط میں فرق ہوتا ہے۔ مثلاً (قراءت حفص ہی کے مطابق) ’’ مَالِک‘‘ پڑھنے کے لیے ’’ ملِک‘‘ کے علاوہ (جو بیشتر مشرقی ممالک کا ضبط ہے) اسی لفظ کو بصورت ’’ مَلِک‘‘ بھی لکھتے ہیں (جو بیشتر عرب اور افریقی مماک کا ضبط ہے …) البتہ بعض ایشیائی ملکوں (خصوصاً ایران اور ترکی) میں (جہاں حفص والی قراءت ہی رائج ہے) لفظ کا اصل رسم الخط بگاڑ کر اس کا طریق ہجاء ہی اپنی ضرورت (قراء ت) کے مطابق بدل کر ’’ مَالِک‘‘ ہی کردیا گیا ہے۔ جو رسم عثمانی کی خلاف ورزی اور لہٰذا اصولی طور پر ایک غلط بات ہے … بلکہ ان ملکوں میں رسم عثمانی کی اور بھی بہت سی خلاف ورزیوں کا رواج ہو گیا ہے۔

 ۔ اس طرح قرآنی یا عثمانی ’’ رسم‘‘ کو تو ایک بنیادی حیثیت اور تقدس حاصل ہے مگر ’’ ضبط‘‘ میں ہر ملک کے اپنے عام تعلیمی قواعد اور علمی مزاج کے مطابق ہمیشہ اصلاح اور تبدیلی ہوتی رہی ہے بلکہ یہ عمل اب بھی جاری ہے۔ بیشتر عرب اور افریقی ممالک میں ضبط کے قواعد عربی صَرف و نحو کو مد نظر رکھ کر بنائے گئے ہیں مگر برصغیر اور دیگر ایشیائی ملکوں میں یہ قاعدے گرامر سے زیادہ صوتی قواعد کو سامنے رکھ کر بنائے گئے ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ بعض ممالک کا طریق ضبط بلحاظ قواعد زیادہ دقیق اور جامع ہے۔ جب کہ بیشتر (عجمی) ممالک میں طریق ضبط کے قواعد اختصار اور اجمال پر مبنی ہوتے ہیں جن کی تفصیل استاد سے زبانی معلوم ہوتی ہے۔

 ۔ بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ ’’ ضبط‘‘ خواہ کتنا ہی دقیق اور جامع ہو پھر بھی قرآنی کلمات کی درست قراءت کے لیے استاد کی زبانی تعلیم کے بغیر چارہ نہیں۔ بلکہ قراءت کے بعض طریقے تو محض علاماتِ ضبط کے ذریعے سکھائے ہی نہیں جا سکتے (مثلاً روم‘ اشمام‘ امالہ ‘ اختلاس وغیرہ) ہر ایک ملک میں رائج ضبط کے بنیادی قواعد (اجمالاً یا تفصیلاً) کسی ’’ قرآنی قاعدہ‘‘ کے ذریعے اور استاد کی عملی تعلیم سے سکھائے اور پڑھائے جاتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ کسی ایک طریق ضبط کے مطابق پڑھا ہوا … خصوصاً ناظرہ خوان … کسی دوسرے ملک کے طریق ضبط کے مطابق لکھے گئے نسخہ قرآن (مصحف) سے درست تلاوت ہرگز نہیں کرسکتا۔

 ۔ ضبط کے ان مختلف طریقوں میں فرق کی بعض نمایاں وجوہ (یا مظاہر) کی بنیاد حسب ذیل امور ہیں۔

A حرکاتِ ثلاثہ (زبر‘ زیر‘ پیش) کی شکل میں فرق اور ان حرکات کی صورت کے مطابق (علامت) تنوین کی مختلف صورتوں اور ان کے مواقع استعمال میں اختلاف‘ مثلاً اخفاء و اظہار کے لیے الگ الگ یا یکساں صورت تنوین۔

B علامت سکون کی شکل میں فرق ( ’’ ْ ‘‘ ‘‘ یا ’’ ْ ‘‘ ) اور اس کے مواقع استعمال یا عدم استعمال کا اختلاف۔

C علامت تشدید ( ّ ) اور اس کے مواقع استعمال میں فرق‘ خصوصاً ادغام تام اور ناقص کی صورت میں اسے استعمال کرنا یا نہ کرنا۔

D مُظرۃ اور مُخفاۃ (’’ ن‘‘ اور ’’ م‘‘) کا فرق ظاہر کرنا یا نہ کرنا اور مکتوب یا ملفوظہ نون ساکنہ کے ’’ م‘‘ میں اقلاب کو ظاہر کرنا یا نہ کرنا۔

 ۔ ہمزۃ القطع کے لیے علامات کا فرق (ئ‘ ۔ ' ۔ وغیرہ) اور ان کے مواقع استعمال میں اختلاف۔

F ہمزۃ الوصل کو ظاہر کرنے کے مختلف طریقے‘ جن میں سے سب سے سادہ اور سہل (اگرچہ غیر علمی) طریقہ برصغیر اور بہت سے ایشیائی ممالک کا ہے۔ اور نسبتاً پیچیدہ اور ناقص طریقہ عرب ممالک کا ہے کیونکہ اس میں زیادہ بھروسہ قاری کی عربی دانی پر کیا گیا ہے۔ اور سب سے جامع اور علمی طریقہ افریقی ممالک کا ہے۔

G رسم میں محذوف (مگر قراءت میں ملفوظ) حروف کو ظاہر کرنے کے طریقے میں اختلاف (مثلاً ’’ لہٗ‘‘ کے بعد والی ’’ و‘‘، ’’ بِہٖ‘‘ کے بد والی ’’ ی‘‘ اور ’’ مٰلک‘‘ کے میم کے بعد والا الف)

H رسم میں زائد موجود (مگر غیر ملفوظ) حروف کو ظاہر کرنے کا طریقہ (مثلاً ’’ اُولٰئک‘‘ میں ’’ ی‘‘ )

I ’’ و‘‘ اور ’’ ی‘‘ ممدودہ کو علامت سکون دینا یا نہ دینا۔

J خاص علاماتِ ضبط (اشمام‘ روم‘ اختلاس‘ اِمالہ وغیرہ) استعمال کرنا یا نہ کرنا۔

K لام الف کے احکام کا فرق یعنی ’’ لا‘‘ کا کون سا سرا الف ہے اور کونسا لام۔

L بعض حروف کے طریق اعجام میں فرق۔ مثلاً افریقی ممالک میں ’’ ف‘‘ اور ’’ ق‘‘ کو ’’ ف‘‘ اور ’’ ق‘‘ کی صورت میں لکھنا… اور افریقی ممالک ہی میں آخر پر آنے والے حروف ’’ ینفق‘‘ (ی ن ف ق) کو نقطے سے خالی رکھنا۔ اگرچہ اب بعض افریقی ملکوں میں ان دونوں چیزوں (ف ق کے اعجام اور آخر والے حروف ’’ ینفق‘‘ والا قاعدہ) میں مشرقی ملکوں والا طریقہ اختیار کیا جانے لگا ہے۔

 ۔ اور اسی (مذکورہ بالا) فق اور اختلاف کے مطالعہ اور مشاہدہ کے لیے کتاب میں ’’ ضبط‘‘ کی بحث بھی شامل کر دی گئی ہے۔ یہ فرق قواعد کے بیان کی صورت میں بھی واضح کیا جا سکتا ہے (جیسا کہ شروع میں کیا بھی گیا تھا) اور ایک ہی تلفظ اور قراءت کے باوجود مختلف ضبط کے تحریری نمونے سامنے لانے سے بھی وضاحت کی جا سکتی ہے (جیسا کہ ہم کرتے چلے آئے ہیں) اور چونکہ دنیا بھر میں رائج قرآنی ضبط کی تمام صورتوں کو بطور نمونہ سامنے لانا ممکن نہ تھا اس لیے ہم نے صرف چار قسم کے (نمائندہ) نمونے پیش کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ یعنی علی الترتیب A برصغیر میں رائج ضبط (جس سے ہم بخوبی آشنا ہیں) B ایران اور ترکی میں رائج ضبط (جو بہت سی باتوں میں مماثل ہوتا ہے) C مصر اور ایشیائی عرب ممالک میں رائج طریق ضبط اور D افریقی ممالک کا طیرق ضبط (جو بہت سی باتوں میں عرب ممالک کے ضبط سے مشابہ ہوتا ہے) ۔

 ۔ اس کے بعد ہم نے اب تک عموماً ہر قطعہ آیات کے ہر ایک کلمہ کے لیے اس ’’ چہار گانہ‘‘ ضبط کا نمونہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اب (اگرچہ خاصی دیر کے بعد) یہ فیصلہ کیا ہے کہ جو لفظ یا مرکب پہلے گزر چکا ہے اس کا آئندہ صرف گزشتہ حوالہ دے دیا جائے گا۔ اور اب بطور نمونہ صرف ان الفاظ اور مرکبات کو لیا جائے گا جو پہلی دفعہ سامنے آئیں گے یا جن میں ضبط کا کوئی خاص قاعدہ سامنے آئے گا۔ خیال رہے کہ اکثر الفاظ (یا مرکبات) کے حروف کے ضبط کا ما قبل اور ما بعد والے حرف کے تلفظ (اور لہٰذا ضبط) سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس لیے ایک ایک (مفرد) لفظ کی بجائے بعض دفعہ مرکب (کم از کم دو) الفاظ کو لینا پڑے گا۔

 ۔ اب اس نئی پالیسی کے تحت زیر مطالعہ قطعہ آیات کے کلمات کے ضبط کی صورت یوں بنتی ہے … پہلے ہم ترتیب وار ان کلمات کا (گزشتہ حوالے کے ساتھ) ذکر کرتے ہیں جو پہلے گزر چکے ہیں۔

 ’’ مَا‘‘ یہ لفظ اس سے پہلے 45 دفعہ گزر چکا ہے۔ پہلی دفعہ البقرہ: 4 [ 2: 3: 4] میں اس کے ضبط پر بات ہوئی تھی۔

 ’’ مِنْ‘‘ یہ لفظ مفرد مرکب اور ضبط کی مختلف صورتوں (مظہرہ‘ مخفاۃ یا متحرک) کے ساتھ پچاس سے زائد دفعہ گزر چکا ہے۔ یہاں یہ نون مظہرہ ہے۔ پہلی دفعہ نون مظہرہ کا ضبط البقرہ: 49 [ 2: 32: 4] میں آیا تھا۔ (نون مخفاۃ کا ضبط پہلی دفعہ البقرہ: 4 [ 2: 3: 4] میں گزرا ہے)

 ’’ اَوْ‘‘ پہلی دفعہ البقرہ: 19 [ 2: 14: 4] میں گزرا ہے۔

 ’’ بِخَیر‘‘ لفظ ’’ خَیْر‘‘ پہلی دفعہ البقرہ: 54 [ 2: 34: 4] میں دیکھیے۔

 ’’ مِنْھَا‘‘ یہ لفظ اس سے پہلے آٹھ دفعہ گزر چکا ہے۔ پہلی دفعہ البقرہ: 25 [ 2: 18: 14] میں آیا تھا۔ البتہ ما قبل کی تنوین کے ساتھ زیر مطالعہ میں پہلی دفعہ آیا ہے جس کی وجہ سے ’’ م‘‘ پر تشدید آئی ہے یعنی ’’ مِّنْھا‘‘ کی صورت میں … ’’ اَوْ‘‘ کا حوالہ ابھی گزرا ہے۔

 ’’ اَلَمْ تَعْلَمْ‘‘ میں سے ’’ اَلَمْ‘‘ کا ضبط پہلی دفعہ البقرہ: 33 [ 2: 23: 4] کے ’’ اَلَمْ اَقُلْ‘‘ میں گزرا ہے۔ ’’ تَعْلَمْ‘‘ کے ضبط میں کسی کا اختلاف نہیں‘ سوائے اس کے کہ بعض علامت سکون ’’ ْ ‘‘ استعمال کرتے ہیں۔

 ’’ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ‘‘ یہ پورا جملہ البقرہ: 20 میں گزر چکا ہے اور اس کے کلمات کے ضبط کے لیے دیکھیے [ 2: 15: 4] صرف اس فرق کے ساتھ کہ یہاں ’’ اَنَّ‘‘ ہے اور وہاں ’’ اِنَّ‘‘ تھا۔

 ’’ مُلْک‘‘ پہلے البقرہ: 102 میں گزر چکا ہے [ 2: 62: 4]۔

 ’’ السَّمٰوٰت والارض‘‘ کے تمام کلمات کے ضبط پر البقرہ: 33 [ 2: 23: 4] میں بات ہوئی تھی۔

 ’’ وَ مَا لَکُمْ‘‘ میں سے ’’ وَ‘‘ سب سے پہلے الفاتحہ: 5 میں آیا تھا۔ ’’ ما‘‘ پر ابھی اوپر بات ہوئی ہے۔ ’’ لَکُمْ‘‘ اس سے پہلے ’’ م‘‘ کے سکون اور ما بعد والے میم کی تشدید کے ساتھ [ 2: 20: 4] میں گزرا ہے۔ ویسے ’’ لَکُمْ‘‘ مختلف صورتوں میں دس دفعہ گزر چکا ہے۔

 ’’ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ‘‘ پوری ترکیب کا ضبط البقرہ: 23 [ 2: 17: 4] میں گزر چکا ہے۔ اَمْ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَسْـــَٔـلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُىِٕلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ ۭ وَمَنْ يَّتَـبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ  ١٠٨؁
[ اَمْ تُرِيْدُوْنَ: یا تم لوگ چاہتے ہو] [ اَنْ تَسْـــَٔـلُوْا: کہ تم لوگ پوچھو] [ رَسُوْلَكُمْ: اپنے رسول سے] [ كَمَا: اس کی مانند] [ سُىِٕلَ: پوچھاگیا] [ مُوْسٰى: موسیٰ سے] [ مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے] [ ۭ وَمَنْ يَّتَـبَدَّلِ: اور جو بدلہ میں لیتا ہے] [ الْكُفْرَ: کفر کو] [ بِالْاِيْمَانِ : ایمان کے عوض ] [ فَقَدْ ضَلَّ: تو وہ بھٹک گیا ہے] [ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ : راہ کے وسط سے]

 

 1 اللغۃ

 اس آیت میں بھی بالکل نیا اور بلحاظ مادہ پہلی دفعہ آنے والا لفظ تو صرف ’’ السبیل‘‘ ہے۔ باقی تمام کلمات براہِ راست (اپنی اسی موجودہ شکل میں) یا بالواسطہ (یعنی) اصل مادہ کے لحاظ سے) پہلے گزر چکے ہیں۔ اس لیے ہم عبارت کو چھوٹ چھوٹے جملوں (یا جملوں سے ملتے جلتے حصوں) میں تقسیم کر کے ہر ایک جزء کے کلمات کی وضاحت کریں گے یا حسب ضرورت گزشتہ حوالہ دیتے جائیں گے۔

2: 65: 1 (1) [ اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَکُمْ …]

A ’’ اَمْ‘‘ (آیا: کیا؟: بلکہ: شاید) اس کی دو اقسام یعنی ’’ اَمْ متّصلہ‘‘ اور ’’ اَمْ منقطعہ‘‘ پر بات البقرہ: 6 [ 2: 5: 1 (4)] میں ہو چکی ہے۔

B ’’ تُرِیدُونَ‘‘ (تم ارادہ کرتے ہو) اس کا مادہ ’’ ر و د‘‘ اور وزن ’’ تُفْعِلُونَ‘‘ ہے۔ یہ در اصل ’’ تُرْوِدُوْنَ‘‘ تھا۔ پھر ’’-ُ -ْ وِ = -ْ -ِ یْ‘‘ کے مطابق ’’ وِ‘‘ کی حرکت (-ِ) ما قبل ساکن (رْ) کو منتقل ہوئی اور پھر خود ’’ وْ‘‘ بوجہ ما قبل مکسور کے ’’ یْ‘‘ میں بدل گئی یعنی تُرْوِدُوْنَ - تُرِوْدُوْن = تُرِیْدُوْنَ ۔ گویا یہ اس مادہ سے باب اِفعال کا فعل مضارع معروف صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔

 ۔ اس مادہ سے فعل ثلاثی مجرد (جو قرآن کریم میں نہیں آیا) اور اس سے باب افعال کے فعل ’’ اَرادَ یُرِیدُ‘‘ کی اصل صورت‘ اس کی تعلیل اور معنی (قصد کرنا‘ چاہنا‘ ارادہ کرنا) پر البقرہ: 26 [ 2: 19: 1 (8)] میں مفصل بات ہو چکی ہے۔ اس طرح اس صیغہ (تُرِیدُون) کا لفظی ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر لکھا گیا ہے۔ تاہم اکثر مترجمین نے اس کا ترجمہ ’’ کیا تم یہ چاہتے ہو‘‘ سے کیا ہے۔ بعض نے ضمیر مخاطب کے بغیر ترجمہ بصورت ’’ کیا یہ چاہتے ہو‘‘ کیا ہے جس میں اردو محاورے کے مطابق ’’ تم‘‘ کا مفہوم مووجد ہے۔ بعض نے اس کا ترجمہ ’’ کیا تم مسلمان بھی چاہتے ہو‘‘ کیا ہے جو تفسیری ترجمہ ہے۔ اس میں ’’ بھی‘‘ کا استعمال آگے آنے والی عبارت ’’ کَمَا سُئِلَ…‘‘ کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

C ’’ اَنْ‘‘ (یہ کہ: کہ) کے استعمال اور معانی پر البقرہ: 26 [ 2: 19: 1 (2)] میں پہلی دفعہ مفصل بات ہوئی تھی۔ اس کے بعد اب تک یہ لفظ تو دفعہ گزر چکا ہے۔ یہاں یہ مصدریہ ناصبہ ہے۔ اس کی وجہ سے ترجمے میں (یہ کہ) آتا ہے جسے اردو محاورے کے مطابق جملے میں جدا کر کے استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی ’’ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ‘‘ کی صورت میں۔

D ’’ تَسْئَلُوْا‘‘ (’’ کہ‘‘: تم پوچھو‘ سوال کرو) اس کا مادہ ’’ س ء ل‘‘ اور وزن ’’ تَفْعَلُوا‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ سَأَلَ یَسْأَلُ‘‘ (= مانگنا‘ پوچھنا‘ سوال کرنا) کے باب اور استعمالات کے متعلق البقرہ: 61 [ 2: 39: 1 (13)] میں وضاحت کی جا چکی ہے۔ ’’ تسألوا‘‘ اس فعل سے صیغہ مضارع منصوب (جمع حاضر) ہے‘ علامت نصب آخری نون کا گرنا ہے (در اصل تَسأَلونَ تھا) واو الجمع کے بعد الف لکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس طرح ’’ اَنْ تسألوا‘‘ کا مجموعی ترجمہ کرنا پڑتا ہے۔ یعنی ’’… کہ سوال کرو‘‘۔ اس کے مصدری ترجمہ پر ’’ الاعراب‘‘ میں مزید بات ہو گی۔

 ۔ ’’ رَسُولَکُمْ‘‘ (تمہارے (اپنے) رسول کو) ۔ اس کا آخری حصہ (کُمْ) تو ضمیر مجرور ہے بمعنی ’’ تمہارا‘‘۔ پہلا لفظ ’’ رَسُول‘‘ اس سے پہلے البقرہ: 87 [ 2: 53: 1 (1 - 4)] میں گزرا ہے اور وہاں اس کی لغوی وضاحت بھی ہوئی تھی جس کا یہاں دوبارہ مختصراً ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کا مادہ ’’ ر س ل‘‘ اور وزن ’’ فَعُوْلٌ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ بالوں کا لمبا ہونا اور اونٹ کا نرم رفتار ہونا‘‘ کے لیے آتا ہے‘ تاہم یہ فعل قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا‘ بلکہ قرآن کریم میں یہ مادہ بصورتِ فعل صرف بابِ افعال سے استعمال ہوا ہے۔ لفظ ’’ رَسُول‘‘ اس مادہ سے کسی متروک الاستعمال فعل کا مصدر بمعنی ’’ رِسَالۃ‘‘ (پیغام) ہے اور مصدر بمعنی اسم الفاعل بھی استعمال ہوتا ہے یعنی ’’ پیغام والا: پیغمبر‘‘۔ اصل میں مصدر ہونے اور ’’ فَعُول‘‘ کے وزن پر ہونے کی وجہ سے ہی یہ لفظ (رسول) مذکر مؤنث واحد جمع کے لیے یکساں رہتا ہے۔ مثلاً ھُوَ رسولٌ۔ ھی رسولٌ۔ ھُم رسولٌ اور ھُنَّ رسولٌ کہہ سکتے ہیں اور اسی لیے قرآن کریم میں ایک جگہ (الشعرائ: 16) یہ لفظ مبتدأ (جمع) کے لیے خبر (بلفظ واحد) آیا ہے یعنی ’’ اِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِینَ‘‘ اردو میں اس کے لیے فارسی لفظ ’’ پیغمبر‘‘ بھی استعمال ہوتا ہے اور خود لفظ ’’ رسول‘‘ اپنے اصطلاحی معنی (اللہ کے پیغام لانے والا) کے ساتھ عام رائج ہے۔ اور اسی لیے اکثر مترجمین نے اس کا ترجمہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

2: 65ـ: 1 (2) [ کَمَا سُئِلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ]

A ’’ کَمَا‘‘ (جیسے: جیسا کہ: جس طرح) یہ کاف الجر اور ’’ مَا‘‘ موصولہ کا مرکب ہے ’’ کَ‘‘ بمعنی ’’ مثل‘‘ بطور اسم بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس پر مفصل بحث البقرہ: 13 [ 2: 10: 1 (1)] میں گزری ہے جہاں یہ لفظ دو دفعہ وارد ہوا ہے۔

B ’’ سُئِلَ‘‘ (سوال کیا گیا: پوچھا گیا: سوال کیے جا چکے: ہو چکے) کا مادہ ’’ س ء ل‘‘ اور وزن ’’ فُعِل‘‘ ہے۔ یعنی یہ اس مادہ سے فعل مجرد کا صیغہ ماضی مجہول ہے۔ اس فعل مجرد پر ابھی اوپر ’’ اَنْ تَسْئَلُوا‘‘ میں اور اس سے پہلے البقرہ: 61 [ 2: 39: 1 (13)] میں بات ہو چکی ہے۔ یہاں جمع کے ساتھ ترجمہ (سوال کیے گئے: جا چکے) ایک طرح سے تفسیری ترجمہ ہے کیونکہ ان لوگوں ( قوم موسیٰ ( علیہ السلام) ) نے کئی بار اور متعدد ناروا سوال پوچھے تھے اور ماضی مجہول کا صیغہ دوسرے محذوف مفعول مطلق کی بناء پر واحد جمع دونوں معنی کا متحمل ہو سکتا ہے۔ قرآن، کریم میں اس مجہول فعل کے مختلف صیغے تین جگہ آئے ہیں۔ اس کے یہاں مصدری معنی پر آگے ’’ الاعراب‘‘ میں مزید بات ہو گی۔

C ’’ مُوْسٰی‘‘ مشہور پیغمبر کا نام ہے۔ یہ لفظ پہلی دفعہ البقرہ: 15 [ 2: 33: 1 (2)] میں آیا تھا اور وہاں اس کے اشتقاق اور معنی پر بھی بات ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک یہ لفظ نو دفعہ گزر چکا ہے۔

D ’’ مِنْ قَبلُ‘‘ (پہلے بھی: اس سے پہلے) یہ ترکیب جاری سب سے پہلے البقرہ: 25 [ 2: 18: 1 (7)] میں زیر بحث آ چکی ہے اور پھر البقرہ؛ 89 [ 2: 54: 1 (3)] میں بھی گزر چکی ہے۔ ’’ مِنْ‘‘ الجارہ اور ظرف ’’ قبل‘‘ کے الگ الگ استعمال اور معانی پر البقرہ: 4 [ 2: 3: 1 (4)] میں بات ہوئی تھی۔

 ۔ یوں اس عبارت (کما سُئِل موسٰی من قبل) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ جیسا کہ سوال کیا گیا تھا موسیٰ کو پہلے بھی: اس سے پہلے) اردو محاورے کے مطابق یہاں تمام مترجمین نے ’’ کو‘‘ کی بجائے ’’ سے‘‘ کے ساتھ ہی ترجمہ کیا ہے۔ بعض نے سوال کو جمع کا مفہوم دے کر ترجمہ ’’ سوال ہو چکے ہیں موسیٰ سے پہلے‘‘ کی صورت میں کیا ہے جس میں یہ ابہام رہ جاتا ہے کہ شاید یہ سوالات حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے پہلے کسی کو پیش کیے گئے۔ اسی لیے بعض مترجمین نے ’’ مِنْ قَبْل‘‘ کا ترجمہ ’’ اس سے پہلے‘‘ اور بعض نے ’’ اس سے قبل موسیٰ ( علیہ السلام) سے بھی‘‘ کے ساتھ کیا ہے۔ بعض نے ’’ جس طرح کے سوال پہلے موسیٰ ( علیہ السلام) سے کیے گئے‘‘ کے ساتھ ترجمہ کیا ہے جو زیادہ جامع ہے۔ بعض نے ’’ سوال‘‘ کے لیے ’’ بیہودہ درخواستیں‘‘ اور ’’ ایسی ایسی بےجا درخواستیں‘‘ (کی جا چکی ہیں) کی صورت میں ترجمہ کیا ہے جس سے پیغمبر (حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا احترام اور سوال کی نوعیت کی وضاحت (تفسیر) مقصود ہے۔

2: 65: 1 (3) [ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْکُفْرَ بِالْاِیْمَانِ]

A ’’ وَ‘‘ (اور) یہاں مستانفہ ہے جس کے متعلق [ 2: 7: 1 (1)] میں بات ہوئی تھی۔ یہاں یہ ’’ اور یہ بھی سوچ لو کہ‘‘ کا مفہوم رکھتی ہے۔

B ’’ مَنْ‘‘ (جو کوئی بھی کہ: جو کوئی: جو شخص: جس شخص نے) ۔ یہاں یہ (مَنْ) شرطیہ موصولہ ہے‘ دیکھیے البقرہ: 8 [ 2: 7: 1 (4)]

C ’’ یَتَبَدَّلْ‘‘ (لیوے: لے لے: اختیار کرے … کو بدلے… کے بدلے: لے… بدلے… کے) اس کا مادہ ’’ ب د ل‘‘ اور وزن ’’ یَتَفَعَّلْ‘‘ ہے‘ یعنی یہ اس مادہ سے باب تفعّل کا صیغہ مضارع (واحد مذکر غائب) مجزوم ہے (جزم کی وجہ ’’ الاعراب‘‘ میں آئے گی) اور اس میں آخری ساکن لام (ل) کو آگے ملانے کے لیے کسرہ (-ِ) دی گئی ہے (بصورتِ ’’ لِ‘‘) اس مادہ سے فعل مجرد (جو قرآن کریم میں کہیں استعمال نہیں ہوا) کے معنی وغیرہ پر۔ نیز اس سے باب تفعیل کے استعمال پر البقرہ: 59 [ 2: 37: 1 (9)] میں اور اسی مادہ سے باب استفعال کے استعمال پر البقرہ: 61 [ 2: 39: 1 (9)] میں مفصل بات ہو چکی ہے۔ ان (گزشتہ) دونوں مواقع پر ’’ بَدَّلَ‘‘ اور ’’ اِسْتَبْدَلَ‘‘ کے مفعول ثانی پر باء (بِ) کے صلہ کے استعمال پر ----- ضرورت ہو تو ----- ایک دفعہ نظر ڈال لیجیے۔

 ۔ زیر مطالعہ فعل ’’ یَتَبَّدَل‘‘ استعمال اور معنی کے لحاظ سے فعل ’’ اِسْتَبْدَلَ‘‘ کی مانند ہے‘ البتہ باب ’’ تفعّل‘‘ میں فعل لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے جبکہ ’’ اِستبدَل‘‘ صرف متعدی فعل ہے۔ یعنی ’’ تَبَدَّلَ‘‘ کے معنی ’’ تَغَیّرَ‘‘ (بدل گیا‘ تبدیل ہو گیا) بھی ہوتے ہیں اور ’’ تبدَّل الشَّیْئَ بِالشَّیْئِ‘‘ ہی کے معنی ’’ اِسْتَبْدَلَ الشَّیْئَ بِالشَّیْئِ‘‘ (بدل کر A کو لے لیا بدلے: کے بجائے B کے) بھی ہوتے ہیں اور اس فعل کے (باب تفعّل سے) متعدی استعمال میں بھی (باب استفعال کی طرح) ایک مفعول (جو چیز بدلے میں لی جائے) تو مفعول بنفسہٖ منصوب ہو کر اور دوسرا مفعول (جو چیز بدلے میں دے دی جائے) ’’ بِ‘‘ کے صلہ کے ساتھ آتا ہے۔ قرآن کریم میں اس باب (تفعّل) سے فعل کے مختلف صیغے تین جگہ آئے ہیں۔ اور ہر جگہ یہ فعل متعدی اور ہر دو مفعول کے ذکر سمیت آیا ہے۔ جیسا کہ زیر مطالعہ آیت میں ہے۔

D ’’ الْکُفرَ‘‘ (کفر کو: (لے لے) کفر) ۔ یہ فعل مجرد ’’ کفَر یکفُر‘‘ کا مصدر ہے جس کا وزن (لام تعریف نکال کر) ’’ فُعْلٌ‘‘ ہے۔ اس فعل کے باب اور معنیٰ وغیرہ پر سب سے پہلے البقرہ: 6 [ 2: 5: 1 (1)] میں بات ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک اس فعل سے مختلف صیغے پندرہ جگہ گزر چکے ہیں۔ البتہ یہ مصدر (الکُفر) یہاں پہلی دفعہ آیا ہے۔ یہ لفظ (کُفر) اپنے پورے اصطلاحی معنی کے ساتھ اردو میں عام مستعمل ہے۔ اس لیے اکثر مترجمین نے اس کا ترجمہ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ البتہ بعض نے اس کا ترجمہ بصورت ’’ اِنکار‘‘ کیا ہے۔

 ۔ ’’ بِالْاِیمَانِ‘ (بدلے: بجائے ایمان: یقین کے‘ ایمان کے بدلے میں) ابتدائی ’’ بِ‘‘ تو وہ صلہ ہے جو فعل ’’ تبدَّل‘‘ (اور ’’ استدل‘‘) کے دوسرے مفعول (جو چیز بدلے میں دے دی جائے) پر لگتا ہے۔ ’’ الاِیمَان‘‘ کا مادہ ’’ ا م ن‘‘ اور وزن (لام تعریف نکال کر ’’ اِفعال‘‘) ہے۔ یعنی یہ اس مادہ سے بابِ افعال کا مصدر ہے۔ یہ در اصل ’’ اِئْ مَان‘‘ تھا۔ مہموز کے قاعدہ تخفیف (ئِ ئْ = ئِ یْ) کے مطابق دوسرا ساکن ہمزہ پہلے متحرک ہمزہ کی حرکت (-ِ) کے موافق حرفِ علت (ی) میں بدل گیا۔ یوں یہ لفظ ’’ اِیْمَان‘‘ ہو گیا۔

 ۔ یوں اس زیر مطالعہ حصہ آیت (وَ مَنْ یَتَبَدَّلِ الْکُفْرَ بِالْاِیْمَانِ) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ اور جو کوئی بدل کرلے لے کفر بجائے ایمان کے‘‘ پھر اسے جملے کی اردو ساخت (Suntax) کے مطابق ’’ جو کوئی ایمان کے بدلے: بدل میں کفر لے لے: اختیار کرے‘‘ کی صورت دی گئی ہے۔ اکثر حضرات نے اردو میں بھی اصل عربی فعل کی طرح مضارع کے ساتھ ہی ترجمہ کیا ہے۔ البتہ بعض نے اس کا ترجمہ (غالباً شرط کے مفہوم کی بناء پر) فعل مستقبل کے ساتھ بصورت ’’ لے لے گا: اختیار کرے گا‘‘ کیا ہے۔ عربی میں مضارع ہی حال اور مستقبل دونوں کا کام دیتا ہے۔ البتہ جن حضرات نے اس کا ترجمہ فعل ماضی کے ساتھ بصورت ’’ ایمان کے بدلے کفر لیا‘‘ کیا ہے تو یہ اردو محاورے کی وجہ سے ہے۔ بعض نے ایمان کا ترجمہ ’’ ایمان لانے کی بجائے‘‘ سے اور ’’ کفر‘‘ کا ترجمہ ’’ کفر کی باتیں کرنا‘‘ سے کیا ہے‘ جو بلحاظ مفہوم درست ہے۔

2: 65: 1 (4) [ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلِ]

A ’’ فَقَدْ‘‘ (پس تحقیق: سو یقینا: تو بیشک) اس میں پہلی ’’ فَ‘‘ (جو زیادہ تر عاطفہ بمعنی ’’ پھر: پس‘‘ آتی ہے) یہاں جواب شرط پر داخل ہونے کے باعث اس کا ترجمہ ’’ تو‘‘ سے ہو گا اور ’’ قَدْ‘‘ حرفِ تحقیق ہے۔ اس کے معنی اور استعمال پر البقرہ: 60 [ 2: 38: 1 (8)] میں بات ہو چکی ہے۔ قَدْ (بے شک) کبھی فَقَدْ (پس بیشک) اور کبھی ’’ لَقَدْ‘‘ کی صورت میں (یعنی لامِ تاکید + حرفِ تحقیق) بھی استعمال ہوتا ہے۔

B ’’ ضَلَّ‘‘ (بھٹک گیا: گمراہ ہوا: بہک گیا: دور جا پڑا) جس کا مادہ ’’ ض ل ل‘‘ اور وزن اصلی ’’ فَعَلَ‘‘ ہے‘ کے معانی اور استعمال پر الفاتحہ: 7 [ 1: 6: 1 (6)] میں بات ہو چکی ہے۔ اور اس کے بعد اس سے بابِ افعال کا صیغہ مضارع ’’ یُضِلُّ‘‘ (گمراہ کرتا ہے) البقرہ: 26 میں اور ایک اسم (مصدر) ’’ ضَلالَۃ‘‘ بھی البقرہ: 16 میں گزرے ہیں۔

C ’’ سَوَائٌ‘‘ (درمیان: برابر: ٹھیک وسط: یکساں) کے مادہ (سو و) وزن اور معانی و استعمال پر البقرہ: 6 [ 2: 5: 1 (2)] میں مفصل بات ہو چکی ہے۔ یہاں یہ لفظ بصورت ’’ سَوَائٌ‘‘ یعنی منصوب اور خفیف ہو کر آیا ہے جس کی وجہ آگے ’’ الاعراب‘‘ میں بیان ہو گی۔

D ’’ السَّبیل‘‘ (راستہ: راہ) کا مادہ ’’ س ب ل‘‘ اور وزن ’’ فَعِیلٌ‘‘ ہے (عبارت میں لفظ معرف باللام اور مجرور آیا ہے) اس مادہ سے فعل مجرد بہت کم استعمال ہوتا ہے بلکہ اکثر کتب (معاجم) میں اس کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ البتہ مزید فیہ کے ایک دو ابواب سے مختلف معانی کے لیے فعل استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم قرآن کریم میں اس مادہ سے کسی قسم کا کوئی صیغہ فعل کہیں استعمال نہیں ہوا۔ قرآن کریم میں اس مادہ سے مشتق صرف یہی اسم (سَبِیل) مفرد‘ مرکب‘ معرفہ‘ نکرہ اور مختلف حالتوں (رفع‘ نصب‘ جر) میں قریباً 166 جگہ وارد ہوا ہے اور اس کی جمع مکسر ’’ سُبُلٌ‘‘ بھی مختلف تراکیب کی صورت میں کم و بیش دس جگہ آئی ہے۔

 لفظ ’’ سَبِیل‘‘ کے بنیادی معنی ’’ راستہ‘‘ کے ہی ہیں اور یہ لفظ مذکر مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے بلکہ خود قرآن کریم میں بھی یہ دونوں طرح آیا ہے (مثلاً مذکر استعمال کے لیے دیکھیے ’’ الاعراف: 146‘‘ اور مؤنث استعمال کے لیے دیکھیے ’’ یوسف: 108‘‘ اتفاق کی بات ہے کہ اردو میں مذکر ترجمہ ’’ راستہ‘‘ اور مؤنث ترجمہ ’’ راہ‘‘ بالکل مترادف ہیں۔ قرآن کریم میں یہ لفظ ’’ سَبِیل‘‘ بعض دوسرے معانی مثلاً ’’ ذمہ داری‘ گرفت‘ الزام‘ مواخذہ‘ باز پرس‘‘ کے لیے (خصوصاً ’’ علٰی‘‘ کے ساتھ) اور بمعنی ’’ سنگت‘ قریبی تعلق‘‘ بھی (’’ مَعَ‘‘ کے ساتھ) استعمال ہوا ہے۔ تاہم غور سے دیکھا جائے تو ان سب معانی کے پیچھے ’’ راستہ‘‘ کا مفہوم موجود ہے۔ اسی طرح قرآن کریم مین اس لفظ کے بعض مخصوص اور با محاورہ استعمال کی صورتیں بھی آئی ہیں مثلاً ’’ ابن السَّبیل‘‘ اور ’’ سبیل اللّٰہ‘‘ جن پر حسب موقع بات ہو گی۔ ان شاء اللہ۔

 اور ان ہی با محاورہ صورتوں میں سے زیر مطالعہ ترکیب ’’ سوائَ السَّبِیل‘‘ ہے جس کا لفظی ترجمہ تو ہے ’’ راستے کا ٹھیک درمیان‘‘ یا ’’ درمیانی حصہ‘‘ جس میں راستہ سے ذرا بھی اِدھر اُدھر نہ ہونے کا مفہوم ہے۔ اس لیے اکثر مترجمین نے اس کا ترجمہ ’ سیدھا راستہ‘‘ ‘ ’’ سیدھی راہ‘‘ سے اور بعض نے ’’ راہِ راست‘‘ اور ’’ ٹھیک راستہ‘‘ سے کیا ہے۔

 ۔ یوں اس حصہ آیت ’’ فَقَدْ ضَلَّ سَوائَ السَّبِیل‘‘ کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ تو بیشک وہ بھٹک گیا راستے کی ٹھیک درمیانی جگہ سے‘‘ جسے بعض نے جملے کی عربی ساخت کے مطابق فعل کا ترجمہ پہلے کرتے ہوئے بصورت ’’ پس تحقیق: تو: وہ گمراہ ہوا: بھولا: بہکا: بھٹک گیا: سیدھی راہ: سیدھے راستے: سے‘‘ کیا ہے۔ جبکہ بعض نے اجزائے جملہ کی اردو ترتیب کے مطابق فعل کا ترجمہ بعد میں کیا ہے۔ یعنی ’’ تو: سو وہ یقینا: بلا شک راہ راست: سیدھی راہ: سیدھے راستے سے اور جا پڑا: بھٹک گیا: بہک گیا‘‘ کی صورت میں۔

2: 65: 2 الاعراب

 آسانی کے لیے یہاں بھی ہم زیر مطالعہ آیت کو (بحث ’’ اللغۃ‘‘ کی طرح) چار جملوں (حصوں) میں تقسیم کر کے ’ اعراب‘‘ کی بات کریں گے۔

A اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَکُمْ …

 [ اَمْ] یہاں منقطعہ ہے کیونکہ عبارت میں اس سے پہلے کوئی (ئَ) ہمزۃ التسویہ (دیکھیے [ 2: 5: 1 (3)]) نہیں آیا۔ ایسا ’’ اَمَ‘‘ عموماً ’’ بَلْ أَ‘‘ … (بلکہ کیا: بلکہ شاید) کے معنی دیتا ہے۔ [ تُرِیدُون] فعل مضارع معروف صیغہ جمع حاضر مذکر ہے جس میں ضمیر فاعلین ’’ اَنْتُم‘‘ مستتر ہے۔ [ اَنْ] ناصبہ مصدریہ ہے [ دیکھیے 2: 19: 1 (2)] اور [ تسئلوا] فعل مضارع منصوب (بِاَن) ہے‘ علامت نصب آخری نون کا گرنا ہے۔ اس صیغہ میں ضمیر فاعلین ’’ انتم‘‘ شامل ہے۔ اور [ رَسُولَکُم] میں ’’ رَسول‘‘ مفعول (فعل ’’ تَسْئَلوا‘‘ کا) لہٰذا منصوب ہے۔ علامت نصب ’’ لَ‘‘ کی فتحہ ہے کیونکہ یہاں لفظ ’’ رسول‘‘ آگے مضاف ہونے کے باعث خفیف بھی ہے۔ ضمیر مجرور ’’ کُمْ‘‘ مضاف الیہ ہے۔ یعنی در اصل تو پورا مرکب اضافی (رَسُولَکم) مفعول ہے۔ اور چونکہ ’’ اَن‘‘ کے بعد والے فعل مضارع سمیت مصدر کے معنی میں سمجھا جا سکتا ہے (جسے مصدر مؤول کہتے ہیں) لہٰذا یہاں ’’ ان تسئلوا‘‘ کی بجائے لفظ ’’ سوال‘‘ لگ سکتا ہے (بلحاظ مفہوم) مقدر عبارت ’’ اَتریدون سُوالَ رسولِکم‘‘ ہو گی۔ گویا اس عبارت کا ترجمہ ’’ چاہتے ہو کہ سوال کرو‘‘ کی بجائے ’’ چاہتے ہو سوال کرنا: پوچھنا اپنے رسول سے‘‘ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم اردو کے تمام مترجمین نے اس (مصدری) ترجمہ کو نظر انداز کیا ہے ---- سب نے ’’ کہ سوال کرو‘‘ سے ہی ترجمہ کیا ہے۔ مصدری ترجمہ کی صورت میں ’’ اَن‘‘ کا ترجمہ (کہ) کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

B کَمَا سُئِلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ …

 [ کمَا] میں کاف الجر (کَ) تشبیہہ کے لیے ہے بمعنی ’’ مانند‘‘ اور ’’ مَا‘‘ موصولہ (بمعنی ’’ جو کہ‘‘) ہے۔ دیکھیے [ 2: 1: 1 (1)] [ سُئل] فعل ماضی مجہول برائے واحد مذکر غائب ہے جس کا فاعل مذکور نہیں (مراد قوم موسیٰ ہے) اس کے بعد [ مُوسٰی] نائب فاعل (لہٰذا) مرفوع ہے (جس میں ظاہراً کوئی علامت رفع نہیں ہے) اور چونکہ ایسے موقع پر ’’ ما‘‘ بھی مصدریہ استعمال ہو سکتی ہے یعنی ’’ مَا‘‘ اور اس کے بعد والا فعل مل کر اس فعل کا مصدر (بلحاظ معنی) سمجھا جا سکتا ہے۔ گویا یہاں ’’ مَا سُئِل‘‘ کو مصدر (مؤول) ’’ سوال‘‘ سمجھیں تو عبارت ’’ کمَا سُئِل مُوسٰی‘‘ کو ’’ کَسُوالِ موسٰی‘‘ سمجھا جا سکتا ہے۔ خیال رہے مصدر فعل معروف اور مجہول دونوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔ یعنی ’’ سوال‘‘ کا مطلب ’’ پوچھنا: سوال کرنا‘‘ بھی ہو سکتا ہے اور ’’ پوچھا جانا: سوال کیا جانا‘‘ بھی۔ اس لیے ابھی اوپر ’’ اَنْ تسئَلوا‘‘ (فعل معروف) کا مصدر بھی ’’ سوال‘‘ ہی بنا تھا اور یہاں ’’ ما سُئِل‘‘ کی مصدری صورت بھی وہی ’’ سوال‘‘ ہی بنتی ہے۔ گویا سابقہ اور موجودہ عبارت کے مصدر موول ہو سکنے والے حصہ عبارت ’’ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَکُمْ کَمَا سُئِلَ مُوْسٰی‘‘ کو دوسرے لفظوں میں یوں بھی ظاہر کرسکتے ہیں (سمجھانے کے لیے) ’’ تُرِیدُون سُؤالَ رَسولِکُم کسُؤالِ ( قوم موسٰی نبیَّھم) مُوسٰی‘‘… اردو کے صرف ایک مترجم نے ’’ کما سئل‘‘ کا مصدری ترجمہ ’’ جیسا سوال‘‘ کی سورت میں کیا ہے۔ [ مِن قبل] میں ’’ مِن‘‘ جارہ ہے مگر مجرور ’’ قبل‘‘ مبنی بر ضمہ (-ُ) ہے‘ کیونکہ اس کا مضاف الیہ محزوف ہے۔ گویا در اصل ’’ مِن قبلِ سُؤالِکم‘‘ (تمہارے پوچھنے سے پہلے) تھا۔ اور یہاں اس ’’ مِن قبلُ‘‘ کا ذکر صرف تاکید کے لیے ہے ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) سے جو سوال کیے گئے وہ پہلے (قبل) کی بات ہی تو ہے۔ اسی لیے ’’ کَمَا‘‘ اور ’’ مِن قبل‘‘ کا ترجمہ ’’ ویسے ہی سوال پہلے بھی‘‘ کیا گیا ہے۔

C وَمَنْ یَّتَبَدَّلِ الْکُفْرَ بِالْاِِیْمَانِ …

 [ وَ] یہاں مستانفہ ہے [ مَنْ] موصولہ شرطیہ ہے جس کی وجہ سے اگلا فعل مضارع (صیغہ واحد مذکر غائب) [ یَتَبَدَّلْ] مجزوم ہے‘ علامت جزم ’’ ل‘‘ کا سکون ہے (جسے صرف آگے ملانے کے لیے کسرہ (-ِ) دی گئی ہے [ الکُفرَ] اس فعل مضارع کا مفعول (لہٰذا) منصوب ہے علامت نصب ’’ ر‘‘ کی فتحہ (-َ) ہے (معرف باللام ہونے کی وجہ سے) [ باِلایمانِ] کی ابتدائی ’’ بِ‘‘ جارہ صلہ فعل ہے اور یہاں یہ ’’ بائ‘‘ تعویض (کے بدلے) کے لیے ہے (’’ بِ‘‘ کے استعمال کے لیے چاہیں تو بحث ’’ استعاذہ‘‘ دیکھ لیں) اور … ’’ الایمانِ‘‘ مجرور بالجر ہے۔ یہاں تک اس جملہ شرطیہ کا پہلا حصہ (بیانِ شرط) مکمل ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ (جوابِ شرط) آگے آ رہا ہے۔

D فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلِ …

 [ فَ] عاطفہ یہاں جوابِ شرط کے رابطہ کے لیے (بمعنی ’’ تو: سو‘‘) ہے اور [ قَدْ] حرفِ تحقیق ہے۔ [ ضَلَّ] فعل ماضی معروف ہے جس میں ضمیر واحد مذکر غائب ’’ ھُوَ‘‘ بطور فاعل شامل ہے [ سَوائَ] مفعول بہٖ منصوب ہے۔ علامت نصب آخری ’’ئَ‘‘ کی فتحہ (-َ) ہے۔ کیونکہ یہ آگے مضاف الیہ ہونے کے باعث خفیف بھی ہے۔ [ السَّبِیلِ] مضاف الیہ مجرور ہے‘ علامت جر ’’ لِ‘‘ کی کسرہ (-ِ) ہے۔ عبارت کا یہ حصہ جوابِ شرط ہے جسے نحوی لوگ محلاً مجزوم کہتے ہیں۔ اگرچہ یہاں جواب، شرط میں فعل مجزوم نہیں آیا۔

2: 65: 3 الرسم

 زیر مطالعہ آیت کے تمام کلمات کا رسم عثمانی اور رسم املائی یکساں ہے ما سوائے دو کلمات یعنی ’’ تَسْئَلُوا‘‘ اور ’’ بِالْاِیمَانِ‘‘ کے‘ تفصیل یوں ہے:

 ۔ ’’ تَسْئَلُوْا‘‘ (جس کا عام رسم املائی تو ’’ تَسَأَلُوا‘‘ ہے‘ کیونکہ عام قاعدۂ املایہ ہے کہ ہمزۂ مفتوحہ اگر کسی لفظ کے درمیان میں ہو (یعنی ابتداء یا آخر میں نہ ہو) تو اسے الف (ا) پر لکھا جاتا ہے‘ تاہم عام املاء میں اسے کبھی بصورتِ ’’ تَسْئَلُوا‘‘ بھی لکھتے ہیں جو رسم املائی اور رسم عثمانی دونوں کے لحاظ سے غلط ہے۔ مگر رسم عثمانی میں یہ لفظ بصورتِ ’’ تَسْئَلُوا‘‘ لکھا جاتا ہے۔ یعنی اس کی ’’ کرسی‘‘ والا الف (ا) حذف کردیا جاتا ہے مگر ’’ من‘‘ (ساکنہ) اور ’’ ل‘‘ (متحرکہ) کے درمیان ہمزہ (ئ) کی کرسی کے لیے کوئی نبرہ (دندانہ) بھی نہیں بنایا جاتا۔ تھوڑی سی لمبی خالی جگہ (س اور ل کے درمیان) چھوڑی جاتی ہے جس پر ہمزۂ قطع بذریعہ ضبط ظاہر کیا جاتا ہے۔ مزید وضاحت (برائے کتابت ہمزہ) کے لیے دیکھیے [ 2: 11: 3] میں کلمہ ’’ مُستھزِئُ ون‘‘ کا رسم اور [ 2: 22: 3] میں کلمہ ’’ اَنبِعئُونی‘‘ کی بحث رسم۔ بعض ممالک (مثلاً ایران) میں اسے جو بصورتِ ’’ تسئلوا‘‘ (ہمزہ کو ’’ ی‘‘ کے دندانہ: نبرہ پر) لکھتے ہیں تو یہ رسم عثمانی کی خلاف ورزی ہے۔ بخلافِ کلمہ ’’ سُئِلَ‘‘ کے (جو آگے آ رہا ہے) کہ اس کے لیے رسم املائی اور رسم عثمانی دونوں میں نبرہ (یعنی دندانہ برائے ’’ ی‘‘) ڈالا جاتا ہے۔ یعنی ’’ س‘‘ اور ’’ ل‘‘ کے درمیان بصورتِ ’’ سئل‘‘ اور پھر اس دندانہ کے اوپر یا نیچے ہمزہ (ئ) اور اس کی حرکت کو بذریعہ ضبط ظاہر کرنے کے مختلف طریقے ہیں جیسا کہ ضبط میں آئے گا۔

 ۔ دوسرے کلمہ ’’ اِیمان‘‘ (بِالایمان میں) کے رسم میں اختلاف ہے۔ الدانی نے اس میں الف کے حذف (جو ’’ م‘‘ اور ’’ ن‘‘ کے درمیان ہے) کی تصریح نہیں کی جو اثبات کو مستلزم ہے۔ اس لیے افریقہ میں سے لیبیا اور کئی مشرقی ممالک (برصغیر میں ترکی ایران وغیرہ کے مصاحف میں اسے باثباتِ الف بصورتِ ’’ بِالاِیمَان‘‘ لکھا جاتا ہے۔ جبکہ ابو داؤد کی طرف منسوب قول کے مطابق بیشتر عرب اور افریقی ممالک کے مصاحف میں اسے بحذف الف (بین المیم و النون) بصورتِ ’’ بِالایمٰن‘‘ لکھا جاتا۔

2: 65: 4 الضبط

 ذیل میں ہم زیر مطالعہ قطعہ کے کلمات کے لیے قرآنی ضبط کے مختلف طریقے نمونوں کی صورت میں ظاہر کرتے ہیں۔ ک جو کلمات پہلے گزر چکے ہیں ان کا بحث ضبط والا گزشتہ حوالہ لکھنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ بعض کلمات کے ضمن میں کچھ مزید وضاحت (صرف نمونہ کے علاوہ) بھی کی گئی ہے۔

 ’’ اَمْ‘‘ [ 2: 5: 4]۔ تُرِیْدُوْنَ: تُرٖیدُونَ: تُرِیدُونَ 3 تُرَِیدَٰونَ۔ اَنْ (نون مخفاۃ کے ساتھ‘ جیسے یہاں ہے‘ پہلی دفعہ [ 2: 19: 4] میں اور نون مخفاۃ و مظرہ دونوں کے ساتھ [ 2: 43: 4] میں گزرا ہے) تَسْئَلُوْا: تَسْئَلُوا: تَسْئَلُوْا: تسْسَلُواْ۔ رَسُوْلَکُمْ: رَسُولَکُمْ: رَسُولَکُمْ: رَسُولَکُمْ۔ کَمَا [ 2: 10: 4] میں پہلی دفعہ دو مرتبہ گزرا ہے۔ سُئِلَ: سُئِلَ: سُئِلَ: سُئَِل۔ مُوسٰی [ 2: 33: 4] مِنْ قَبْلُ پہلی دفعہ یہی ترکیب البقرہ: 25 [ 2: 18: 4] میں گزری ہے وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ۔ نون مخفاۃ ما قبل یائے متحرکہ کے ساتھ (جیسے یہاں ہے) البقرہ: 8 [ 2: 7: 4] میں ’’ مَنْ یَّقُوْلُ‘‘ کی صورت میں گزرا ہے۔ وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا ښ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۚ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْ ءٍ قَدِيْرٌ   ١٠٩؁
[ وَدَّ: چاہا] [ كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ: اہل کتاب کی اکثریت] [ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ: کاش وہ لوگ پھیر دیں تم لوگوں کو] [ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ: تمہارے ایمان کے بعد] [ كُفَّارًا: کفر کرنے والی حالت] [ ښ حَسَدًا: حسد کرتے ہوئے] [ مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ: اپنے جی ہی جی میں] [ مِّنْۢ بَعْدِ مَا: اس کے بعد بھی کہ جو] [ تَبَيَّنَ: واضح ہوا] [ لَهُمُ: ان کے لیے] [ الْحَقُّ ۚ: حق] [ فَاعْفُوْا: پس تم لوگ معاف کرو] [ وَاصْفَحُوْا : اور نظر انداز کرو] [ حَتّٰى: یہاں تک کہ] [ يَاْتِيَ: یہاں تک کہ لاءے] [ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ۭ: اللہ اپنا فیصلہ] [ اِنَّ اللّٰهَ : بےشک اللہ ] [ عَلٰي كُلِّ شَيْ ءٍ: ہر چیر پر] [ قَدِيْرٌ : قدرت والا ہے]

 

 1 اللُّغۃ

2؛ 66: 1: (1) [ وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰب]

A ’’ وَدَّ‘‘ کا مادہ ’’ و د د‘‘ اور وزن (اصلی) ’’ فعل‘‘ ہے۔ اس سے فعل مجرد باب سمع اور فتح دونوں سے آتا ہے۔ یعنی وَدَّ … یَوَدًّ وَ مَوَدَّۃً۔ ماضی مضارع در اصل وَدَدَ یَؤْدَدُ تھے‘ پھر مضاعف کے قاعدے کے مطابق صیغہ ماضی میں مثل اول متحرک کو ساکن کر کے مثل ثانی میں مدغم کردیا جاتا ہے یعنی وَدَدَ = وَدْدَ … اور صیغہ مضارع میں متحرک مثل اول کی حرکت ما قبل ساکن حرف علت ’’ و‘‘ کو منتقل ہو جاتی ہے اور اب ساکن مثل اول مثل ثانی میں مدغم ہو جاتا ہے یعنی یَوْدَدُ = یَوَدْدُ = یَوَدُّ۔ اس فعل میں بنیادی معنی ’’… سے محبت کرنا‘ … کو دل سے چاہنا‘ … کو دوست رکھا‘‘ ہیں اور پھر اس میں ’’… کی تمنا کرنا۔ آرزو کرنا اور کی خواہش کرنا‘‘ کے معنی پیدا ہوتے ہیں۔

 اس فعل کا مفعول بنفسہ بھی آتا ہے۔ لیکن زیادہ تر اس کا مفعول حرف تمنا ’’ لَوْ‘‘ (کاش کہ) یا ’’ اَنْ‘‘ (کہ) سے شروع ہونے والے جملے کی صورت میں آتا ہے۔ قرآن کریم میں اس فعل مجرد سے مختلف صیغے 16 جگہ آئے ہیں جن میں سے صرف ایک جگہ (آل عمران: 117) یہ مفعول بنفسہٖ کے ساتھ آیا ہے۔ تین جگہ ’’ اَنْ‘‘ کے ساتھ باقی سب جگہ ’’ لَوْ‘‘ کے ساتھ آیا ہے اور بعض دفعہ دونوں معنی کو اردو میں صرف ’’ چاہنا‘‘ یا ’’ دل سے چاہنا‘‘ کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں۔ اس فعل مجرد کے متعدد مصادر آئے ہیں‘ ان میں سے دو (وَدٌّ (بضم الواو) اور ’’ مَوَدَّۃٌ‘‘ قرآن کریم میں آئے ہیں۔ نیز مزید فیہ کے باب مفاعلہ سے ایک صیغہ فعل کے علاوہ اس مادہ سے متعدد ماخوذ و مشتق اسم (وَدُوْد‘ وَدٌّ اور مَوَدَّۃ وغیرہ) بھی قرآن میں وارد ہوئے ہیں۔ نیز دیکھیے البقرہ: 96 [ 2: 59: 1 (3)] زیر مطالعہ فعل ’’ وَدَّ‘‘ صیغہ ماضی ہے مگر بیان واقعہ اور سیاق عبارت کے لحاظ سے اکثر مترجمین نے اس کا ترجمہ بزمانہ حال ’’ درست رکھتے: چاہتے: دل سے چاہتے: یہ چاہتے ہیں‘‘ کی صورت میں کیا ہے۔ ایک آدھ نے ’’ چاہا‘‘ (بصورت ماضی) بھی ترجمہ (لفظی) کیا ہے اور بعض نے ’’ وَدَّ‘‘ کا فاعل ’’ اہل کتاب‘‘ (جن کا ذکر آگے) آ رہا ہے) کی بجائے ان کے ’’ دل‘‘ کو ہی بتا کر با محاورہ بصورت ’’… کا دل چاہتا ہے‘‘ سے کیا ہے‘ جس میں ’’ تمنا‘‘ والا مفہوم موجود ہے۔

B ’’ کَثِیرٌ‘‘ (بہت سے: بہت: بہتیرے) ۔ جو ’’ ک ث ر‘‘ سے فعیل کے وزن پر اسم مبالغہ ہے‘ اردو میں مستعمل ہے۔ اس کے متعلق مفصل بحث البقرہ: 26 [ 2: 19: 1 (10)] میں ہوئی تھی۔

C ’’ مِنْ‘‘ (میں سے) بہت دفعہ گزرا ہے۔ نیز دیکھیے البقرہ: 3 [ 2: 2: 1 (5)]

D ’’ اَھْلِ الْکِتٰبِ‘‘ (کتاب والے: کتابی: اہل کتاب) اس ترکیب اضافی میں ’’ کتاب‘‘ تو معروف لفظ ہے۔ دیکھیے البقرہ: 2 [ 2: 1: 1 (2)] اور ’ اَھْل‘‘ … جس کا مادہ ’’ اھـ ل‘‘ اور وزن فَعْلٌہے فعل مجرد ’’ اَھَلَ یَأھُلُ‘‘ (نصر سے) کے معنی ’’ آباد ہونا‘‘ ہیں اور جو زیادہ تر مجہول استعمال ہوتا ہے‘ مثلاً ’’ اُھِلَ الْمَکَانُ‘‘ (جگہ آباد کی گئی: ہو گئی۔ اس میں رہنے والے آگئے) … تاہم اس مادہ سے کسی قسم کا کوئی صیغۂ فعل قرآن کریم میں کہیں نہیں آیا۔ بلکہ صرف یہی لفظ (اَھْل) مرکب صورتوں میں 121 مقامات پر آیا ہے اور اس کی جمع سالم ’’ اَھْلُونَ‘‘ مختلف حالتوں (رفع‘ نصب‘ جر) میں مضاف ہو کر بصورتِ ’’ اَھْلُو …: اَھْلِی …‘‘ چھ دفعہ آئی ہے‘ بلکہ یہ لفظ ’’ اَھْل‘‘ واحد ہو یا جمع ہمیشہ مضاف ہو کر ہی استعمال ہوتا ہے۔ اس کی جمع مکسر ’’ اَھَالٍ‘‘ (بروزن لَیالٍ = راتیں) بھی آتی ہے۔ تاہم یہ جمع (مکسر) قرآن کریم میں نہیں آئی اور یہی جمع اردو میں بصورتِ ’’ اَھالِی‘‘ استعمال ہوتی ہے‘ جو در اصل عربی ہی ہے۔

 ۔ لفظ ’’ اَھل‘‘ کا اردو ترجمہ موقع استعمال کی مناسبت سے ’’ گھر والے‘ افرادِ کنبہ‘ قریبی رشتہ دار‘ بیوی بچے‘ پیروکار‘ حقدار‘ مالک مستحق‘ سزاوار‘ باشندے‘‘ کی صورت میں اور بعض دفعہ ’’ مضاف‘ اصحاب اور اُولُو‘‘ کی طرح) ’’ والے‘‘ کے ساتھ ترجمہ کرتے ہیں مثلاً اھل القرٰی (بستیوں والے)‘ اھل البَیتِ (گھر والے)‘ اھل النّارِ (دوزخ والے) وغیرہ اور جمع کے مفہوم کے باوجود یہ لفظ عموماً بصورتِ واحد ہی استعمال ہوتا ہے۔ صرف ایک جگہ (المدثر: 56) یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے ’’ سزاوار‘ لائق‘‘ اور ’’ والا‘‘ (واحد) کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ یعنی ’’ اَھْلُ التَّقْوٰی وَ اَھْلُ الْمَغْفِرَۃُِ‘‘ (ڈرنے کے لائق اور بخشش والا) ۔

 ۔ ’’ اھل الکتاب‘‘ کا ترجمہ تو ’’ کتاب والے‘‘ ہے۔ عموماً اس سے مراد مسیحی اور یہودی لیے جاتے ہیں۔ اور زیر مطالعہ آیت میں بھی یہ ترکیب اسی مفہوم کے ساتھ آئی ہے … اس حصہ آیت (وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰب) کا ترجمہ لفظی بنتا ہے ’’ دل سے چاہا بہتیروں نے کتاب والوں میں سے‘‘ جس کی ایک با محاورہ صورت ’’ دل چاہتا ہے بہت سے اہل کتاب: کتاب والوں: کتابیوں کا‘‘ بھی ہے‘ تاہم اکثر مترجمین نے ’’ اہل کتاب‘‘ کی اردو میں رائج (فارسی) ترکیب کو ہی استعمال کیا ہے اور اردو محاورے کے مطابق فعل (وَدَّ) کا ترجمہ بھی آخر پر لائے ہیں‘‘ یعنی بہت سے اہل کتاب: اکثر اہل کتاب: اہل کتاب سے بہت سے لوگ: اہل کتاب میں سے بہتیرے چاہتے ہیں: دل سے تو یہ چاہتے ہیں: دل ہی سے چاہتے ہیں‘‘ کی صورت میں۔

2: 66: 1 (2) [ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْم بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا]

A ’’ لَوْ‘‘ (کاش: کہ: کی طرح) ۔ گرائمر والے اے حرفِ تقدیر کہتے ہیں کیونکہ عموماً اس کے ذریعے کوئی اندازہ بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ ’’ تمنا‘‘ کے مفہوم میں آیا ہے۔ مزید یکھیے [ 2: 15:1 (7)]

B ’’ یَرُدُّوْنَکُمْ‘‘ (پھیر دیں: پھیر کر: پھر سے بنا دیں: بنا لیں وہ تم کو …) اس میں آخری ضمیر منصوب (کُمْ) بمعنی ’’ تم کو: تمہیں‘‘ ہے اور اس سے پہلے صیغۂ فعل (مضارع) ’’ یَرُدُّونَ‘‘ کا مادہ ’’ ر د د‘‘ اور وزن اصلی ’’ یَفْعُلُونَ‘‘ ہے‘ جو در اصل ’’ یَرْدُدُوْنَ‘‘ تھا‘ پھر مثل اوّل کی حرکت اِس سے ما قبل ساکن (ر) کو دے کر مثلین کو مدغم کردیا گیا‘ یعنی ’’ یَرْدُدُوْنَ = یَرُدْدُوْنَ = یَرْدُّوْنَ۔

 ۔ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ رَدَّ یَرُدُّ‘‘ (در اصل رَدَدَ - یَرْدُدُ) رَدًّ اَوْ مَرَدًّا (باب نصر سے) کے بنیادی معنی ’’ پھیر دینا‘ واپس لانا‘‘ ہیں۔ اس فعل کے استعمالات اور معانی پر البقرہ: 85 [ 2: 52: 1 (8)] میں بات ہوئی تھی۔ یہاں اس کے جو مختلف لفظی یا با محاورہ تراجم کیے گئے ہیں وہ اوپر لکھ دیئے گئے ہیں۔ سب کا مفہوم ایک ہی ہے۔

C ’’ مِنْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ‘‘ (تمہارے ایمان: لائے: لا چکنے: لے آنے: مسلمان ہوئے: ہونے: (کے) پیچھے: کے بعد) ۔ اس پوری ترکیب جاری پر تو آگے ’’ الاعراب‘‘ میں مزید بات ہو گی۔ مرکب کے ابتدائی حصہ (مِنْ بَعْدِ) کے استعمالات اور معنی پر البقرہ: 51 [ 2: 33: 1 (7)] میں بحث ہو چکی ہے۔ اور ’’… اِیمَانِکُمْ‘‘ کی آخری ضمیر مجرور (کُمْ) تو بمعنی ’’ تمہارا: تمہارے‘‘ ہے۔ اور لفظ ’’ اِیمَان‘‘ (بمعنی ’’ ایمان لے آنا‘‘) پر (جو باب افعال کا مصدر ہے) البقرہ: 3 [ 2: 2: 1 (1)] میں بات ہو چکی ہے۔ ’’ ایمان لے آنا‘‘ کی بجائے ’’ مسلمان ہونا‘‘ کا ترجمہ بلحاظ مفہوم (زیر مطالعہ عبارت کی حد تک تو) درست ہے۔ تاہم ’’ ایمان‘‘ اور ’’ اسلام‘‘ کے باہمی تعلق اور دقیق فرق کے بارے میں ذہن میں واضح تصور ہونا چاہیے جو قرآن کریم کی مختلف آیات میں موجود ہے اور محتاج مطالعہ ہے۔

D ’’ کُفَّارًا‘‘ (کافر) اس لفظ کی (یہاں) نصب پر تو آگے ’’ الاعراب‘‘ میں بات ہو گی۔ لغوی اعتبار سے یہ لفظ (کُفَّار) اسم الفاعل (کَافِر کی ایک جمع مکسر ہے جو قرآن کریم میں کم و بیش بیس جگہ آئی ہے (ایک اور جمع مکسر ’’ الکَفَرَۃ‘‘ بھی ایک جگہ آئی ہے) ورنہ زیادہ تر تو قرآن کریم میں اس لفظ کی جمع مذکر سالم ’’ الکَافِرُون - الکَافِرِین) ہی استعمال ہوئی ہے۔ اس لفظ کے مادہ (ک ف ر) سے فعل مجرد کے باب معنی وغیرہ پر پہلی دفعہ البقرہ: 6 [ 2: 5: 1 (1)] میں مفصل بات ہوئی تھی۔ یہ الفاظ (کَافِر - کُفَّار) اردو میں اتنے متعارف ہیں کہ ترجمہ کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ اردو میں لفظ ’’ کَافِر‘‘ بطور جمع بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے ’’ کافر بھاگ گئے‘‘ میں۔ اسی لیے اکثر مترجمین نے ’’ کُفَّار‘‘ کا ترجمہ ’’ کافر‘‘ ہی کردیا ہے۔ ایک آدھ نے سابقہ عبارت (پھیر دیں) کی مناسبت سے اس لفظ کا ترجمہ ’’ کفر کی طرف‘‘ کیا ہے جو بلحاظ مفہوم ہی درست قرار دیا جا سکتا ہے۔

 ۔ الفاظ اور تراکیب کے الگ الگ لفظی اور با محاورہ ترجموں کی مدد سے (جو اوپر دیئے گئے ہیں) اب آپ مندرجہ بالا دونوں حصۂ عبارت (وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا) کا ترجمہ مختلف انداز (مگر یکساں مفہوم) میں کرسکتے ہیں۔ تاہم ابھی یہ عبارت آگے چلتی ہے اور پورا ترجمہ اختتامِ آیت کے بعد ہی ممکن ہو گا۔

2: 66: 1 (3) [ … حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِہِمْ …]

A ’’ حَسَدًا‘‘ (حسد: جلن: سے: کی وجہ سے: رکھ کر: کے بب: کی راہ سے) اس لفظ کی (یہاں) نصب پر تو ’’ الاعراب‘‘ میں بات ہو گی۔ اس کا مادہ (جسیا کہ ظاہر ہے) ’’ ح س د‘‘ اور وزن ’’ فَعَلٌ‘‘ ہے جو یہاں منصوب آیا ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد حَسَدَ … یَحْسُدُ حَسَدًا (نصر سے) آتا ہے اور اس کا عام اردو ترجمہ ’’… سے حسد کرنا‘‘ کرسکتے ہیں۔ کیونکہ لفظ ’’ حَسَد‘‘ (جو اس فعل مجرد کا مصدر ہے) اردو میں رائج اور مستعمل ہے۔ عربی میں اس لفظ (اور اس کے فعل) کا مطلب ہے ’’ کسی مستحق شخص کی کسی خداداداد نعمت کو خود چھین لینے یا کم از کم اس شخص سے چھن جانے کی خواہش اور تمنا رکھنا۔‘‘ اور اس مقصد کے لیے ہر طرح کی تدبیر کرنا بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ جس شخص سے حسد کیا جائے اور جس چیز (نعمت) کی وجہ سے حسد کیا جائے وہ دونوں مفعول بنفسہٖ (منصوب) بھی آتے ہیں اور دوسرے مفعول (وجہ حسد چیز) پر ’’ عَلٰی‘‘ بھی لگتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں: ’’ حَسَدَہُ الشَّیْئَ وَ حَسَدَہُ عَلیَ الشَّیْئِ‘‘ (اس نے اس سے چیز کا: کی وجہ سے: حسد کیا) ۔ بعض دفعہ دوسرا مفعول (وجہ حسد) محذوف یا غیر مذکور ہوتا ہے اور بعض دفعہ دونوں مفعول محذوف ہوتے ہیں۔ قرآن کریم میں اس فعل سے تین صیغے (تین جگہ) آئے ہیں اور تینوں طرح استعمال ہوتے ہیں [ یعنی دونوں مفعول کے حذف کے ساتھ‘ صرف دوسرے مفعول کے حذف کے ساتھ اور دوسرے مفعول پر ’’ عَلٰی‘‘ کے ساتھ] بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ ’’ جلن‘‘ یا ’’ دلی جلن‘‘ کی صورت میں کیا ہے‘ جو حسد کی خاصیت یا حاسد کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔

B ’’ مِنْ عِنْدِ …‘‘ (کے پاس سے: … کی ہی جانب سے: … کی طرف سے) ’’ عِنْدَ‘‘ (ظرف منصوب) کی اصل‘ اس کے معنی و استعمال اور اس پر ’’ مِنْ‘‘ (الجارۃ) کے استعمال پر البقرہ: 54 [ 2: 34: 1 (8)] میں مفصل بات ہو چکی ہے۔

C ’’… اَنْفُسِھِمْ‘‘ (… ان کی جانوں کے: … اپنے اندر کے: … ان کے دلوں ہی …: اپنے ہی دلی…) عربی کے کسی بھی مرکب جاری یا اضافی کی طرح اس پوری ترکیب (مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ) کے اردو ترجمہ میں پہلے ’’ اَنْفُسِھِمْ‘‘ اور پھر ’’ مِنْ عِنْدِ‘‘ کا ترجمہ کرنا پڑتا ہے اسی لیے اس کا بالکل لفظی ترجمہ ’’ جانوں اپنی کے پاس سے‘‘ کیا گیا ہے جسے با محاورہ کرنے کے لیے ’’ اپنے اندر سے: خود ان کے دلوں ہی سے: ان کے نفسوں میں سے: اپنے ہی دلوں سے‘‘ کی صورت میں دی گئی ہے۔

 ۔ ’’ انفسھم‘‘ میں آخری مجرور ضمیر ’’ ھم‘‘ بمعنی ’’ ان کے‘‘ ہے اور ’’ اَنْفُس‘‘ بمعنی ’’ جانیں‘‘ جمع مکسر ہے‘ جس کا واحد ’’ نفسٌ‘‘ ہے۔ اس مفرد کلمہ (نفس) اور خود زیر مطالعہ ترکیب (انفسِھم سے ملتی جلتی ترکیب ’’ انفسَھم‘‘ [ یعنی صرف ’’ انفس‘‘ کی اعرابی حالت کے فرق کے ساتھ] پر البقرہ: 9 [ 2: 8: 1 (4)] میں مفصل بات ہو چکی ہے۔

 ۔ اس طرح اس پرے حصہ عبارت (حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ حسد سے پاس جانوں اپنی کے‘‘ یا ’’ حس کر کر (کرتے ہوئے) اپنے اندر سے‘‘ … جسے با محاورہ کرتے ہوئے ’’ بسبب اپنے دلی حسد کے: حسد کی وجہ سے جو خود ان کے دلوں ہی سے ہے: اپنے دلی حسد کی وجہ سے: اپنے ہی دلوں کی جلن سے: اپنے دلوں میں حسد رکھ کر: اپنے دل کی جلن سے: حسد کی راہ سے جو ان کے نفسوں میں (ہے)‘‘ کی صورت دی گئی ہے۔ ان تمام تراجم میں ’’ انفس‘‘ کا ترجمہ ’’ دل: دلوں‘‘ سے کرنے کی وجہ یہی ہے کہ اس میں ایک اندرونی پوشیدہ کیفیت کا ذکر ہے۔ اسی لیے قرآن کریم میں ’’ نفوس: انفس (جانو) صُدور (سینو) قلوب (دلوں)‘‘ کئی مقامات پر قریباً ہم معنی (یا ایک جیسی نفسیاتی کیفیت کے لیے) استعمال ہوئے ہیں۔ بعض تراجم میں لفظ ’’ جو‘‘ لانے کی وجہ آگے ’’ الاعراب‘‘ میں بیان ہو گی۔

2: 66: 1 (4) [ … مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْحَقُّ …]

A ’’ مِنْ بَعْدِ مَا‘‘ (پیچھے اِس کے جو: بعد اِس کے کہ: باوجود یہ کہ: حالانکہ) ’’ مِنْ بَعْدِ …‘‘ تو ابھی اوپر گزرا ہے۔ یہاں ’’ مِنْ بَعْدِ …‘‘ کا مضاف الیہ وہ جملہ ہے جو ’’ مَا‘‘ سے شروع (ہو کر … الحق پر ختم) ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ہی ترکبی (مِن بَعْدِ مَا) البقرہ: 75 [ 2: 47؛ 1 (5)] میں زیر بحث آ چکی ہے۔ اس کے ’’ ما‘‘ کی مصدریت پر آگے ’’ الاعراب‘‘ میں بات ہو گی۔

C ’’ تَبَیَّنَ‘‘ (ظاہر ہو گیا: چکا: مکمل چکا: واضح ہو چکا: خوب ظاہر ہو چکا) اس لفظ کا مادہ ’’ ب ی ن‘‘ اور وزن ’’ تَفَعَّلَ‘‘ ہے۔ یعنی یہ اس مادہ سے باب تفعُّل کا صیغہ ماضی (واحد مذکر غائب) ہے۔ اس مادہ سے فعل مجرد کے باب‘ معنی اور استعمال کے بیان کے علاوہ اس سے مزدی فیہ کے باب تفعیل کے معنی وغیرہ پر بھی البقرہ: 68 [ 2: 43: 1 (6)] میں مفصل بات ہو چکی ہے۔

 ۔ ’’ تَبَیَّنَ یَتَبَیَّنُ‘‘ کے معنی عموماً تو ہوتے ہیں ’’ طاہر اور واضح ہو جانا‘‘ اور چونکہ باب تفعُّل کی ایک خصوصیت ’’ تکلف‘ کوشش اور بنانا سنوارنا‘‘ بھی ہے اس لیے اس فعل کا زیادہ بہتر مفہوم ’’ خوب طاہر ہو جانا‘ اچھی طرح واضح ہو جانا‘‘ کی صورت میں ادا کیا جا سکتا ہے۔ جس شخص وغیرہ پر بات واضح ہو جائے اس کے لیے عربی میں لام (لِ) کا صلہ لگتا ہے‘ مثلاً کہیں گے ’’ تَبَیَّنَ لَہٗ‘‘ (اس پر: کے لیے: واضح ہو گیا) یعنی اس کے اردو ترجمہ میں ’’ کے لیے‘‘ کی بجائے ’’ پر‘‘ لگ سکتا ہے‘ مگر عربی میں ’’ تَبَیَّنَ عَلَیْہِ‘‘ کہنا غلط ہو گا۔

 ۔ اوپر ہم نے اس فعل کے معنی فعل لازم کی صورت میں بیان کیے ہیں‘ تاہم یہی فعل بطور متعدی بھی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی یہ فعل ’’ خوب واضح کرنا‘ ظاہر کرنا‘‘ کے معنی بھی دیتا ہے۔ مثلاً کہہ سکتے ہیں ’’ تَبَیَّنَ الشَّیْئٌ‘‘ (چیز واضح ہو گئی) اور ’’ تَبَیَّنَ الشَّیئَ‘‘ (اس نے چیز واضح کر دی) … بلکہ یہ عجیب بات ہے کہ اس مادہ (ب ی ن) سے فعل مجرد کی ایک صورت [ بَانَ یَبِینُ بَیانًا] کے علاوہ اس سے باب تفعیل‘ تفعّل‘ اِفعال اور استفعال سے بھی فعل لازم اور متعدی دونوں طرح (اور ہم معنی) استعمال ہوتے ہیں‘ مثلاً کہیں گے بَانَ الشَّیئُ و بَیَّنَ وَ تَبَیَّنَ وَ اَبَانَ وَ اسْتَبَانَ (سب کا مطلب ہے چیز واضح ہو گئی) اور اسی کو بطور متعدی یوں بھی کہہ سکتے ہیں: بَانَ الشَّیئَ وَ بَیَّنَہُ وَ تَبَیَّنَہُ وَ اَبَانَہُ وَ اسْتَبَانَہُ (سب کا مطلب ہے ’’ اس نے چیز کو واضح کر دیا‘‘) ’’ بَانَ یَبِینُ‘‘ اور ’’ بَیَّنَ یُبَیِّنُ‘‘ کے متعلق یہی بات (لازم متعدی استعمال والی) البقرہ: 68 [ 2: 43: 1 (6)] میں بھی بیان ہوئی تھی۔ بابِ ’’ تفعّل‘‘ کی وضاحت یہاں ہو گئی ہے۔ اسی مادے سے باب افعال اور استفعال کے استعمال آگے آئیں گے۔

 ۔ ثلاثی مجرد والا استعمال قرآن کریم میں نہیں آیا مگر مذکورہ بالا مزید فیہ کے چاروں افعال قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں اگرچہ قرآن کریم می اس مادہ سے باب تفعیل اور افعال کا زیادہ استعمال بطور متعدی اور باب تفعُّل اور استفعال کا زیادہ استعمال بطور لازم ہوا ہے۔

 ۔ اس فعل (تَبَیَّنَ) کے ایک معنی ’’ کسی بات یا معاملے کی وضاحت کے لیے (جلد بازی کی بجائے ٹھنڈے دل سے) غور و فکر سے کام لینا‘‘ بھی ہیں جس کا عام فہم اردو ترجمہ ’’ تحقیق کر لینا‘ تحقیق سے کام لینا‘ اچھی طرح تحقیق کر لینا‘‘ کی صورفت میں کیا جا سکتا ہے۔ یہ استعمال بھی قرآن کریم میں متعدد جگہ آیا ہے۔ مزید بات حسب موقع ہو گی۔ ان شاء اللہ۔

 ۔ اس فعل (تَبَیَّنَ) سے مختلف صیغے قرآن کریم میں کم و بیش اٹھارہ جگہ آئے ہیں۔ ان میں سے گیارہ جگہ یہ فعل لام کے صلہ کے ساتھ (یعنی جس پر بات واضح ہو‘ اس کے ذکر کے ساتھ) آیا ہے‘ باقی مقامات پر عمومی وضاحت (مثلاً سب ہی پر) کے لیے آیا ہے یا ’’ تحقیق کر لینا‘‘ کے معنی میں آیا ہے اور کم از کم ایک موقع (سبائ: 14) پر اس کے لازم متعدی دونوں طرح استعمال کا امکان بھی ہے۔

C ’’ لَھُمْ‘‘ (ان کے لیے: ان پر) یہ لام الجر + ضمیر جمع غائب (ھم) کا مرکب ہے جس میں ضمیر کی آخری ساکن میم کو آگے ملانے کے لیے ما قبل والی ہائے مضمومہ (ہُ) کی مناسبت سے ضمہ (-ُ) دیا گیا ہے۔ یہاں لام الجر ’’ لِ‘‘ جو ضمیر کے ساتھ آنے کی وجہ سے ’’ لَ‘‘ ہو گیا ہے) وہی صلہ ہے جو فعل تَبَیَّنَ کے ساتھ (… پر واضح ہونا) کے مفہوم کے لیے آتا ہے جس کے لیے یہاں ضمیر ’’ ھُمْ‘ ہے جس سے مراد (مرجع) اہل کتاب کی وہ اکثریت ہے جس کا ذکر شروع آیت میں آیا ہے۔

D ’’ الحَقُّ‘‘ (حق: سچ) اپنے بہت سے (بنیادی 9 عربی معانی کے ساتھ یہ لفظ اردو میں اتنا متعارف اور مستعمل ہے کہ اس کی ترجمہ کی ضرورت کبھی محسوس نہیں ہوتی۔ ویسے اس کے متعلق مفصل لغوی بحث البقرہ: 26 [ 2: 19: 1 (6)] میں گزر چکی ہے۔

 ۔ اس طرح اس حصہ آیت (مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ) کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ’’ پیچھے: بعد: اس کے جو کہ ظاہر: واضح ہو گیا ان کے لیے حق) جسے با محاورہ بناتے ہوئے ’’ بعد اس کے: اس کے بعد کہ: ظاہر ہو چکا: کھل چکا: ان پر: حق‘‘ کی صورت دی گئی ہے۔ بعض نے جملے کی اردو ترتیب و ترکیب کی بناء پر ’’ تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ‘‘ کے ترجمہ میں ’’ الحَقُّ‘ کا ترجمہ پہلے اور پھر ’’ لَھُمْ‘‘ کا ترجمہ اور آخر پر فعل ’’ تَبَیَّنَ‘‘ کا ترجمہ کیا ہے‘ یعنی بصورت ’’ حق ان پر خوب ظاہر ہو چکا ہے: (حالانکہ) حق بات ان پر کھل چکی ہے‘‘ اور بعض نے اردو جملے کی اسی ترکیب کی بناء پر سب سے پہلے ’’ لَھُمْ‘‘ کا ترجمہ اور پھر ’’ الحَقُّ‘‘ کا ترجمہ اور بعد میں فعل ’’ تَبَیَّنَ‘‘ کا ترجمہ کیا ہے (اردو کے جملہ فعلیہ میں فعل - فاعل مفعول کے بعد‘ آخر پر آتا ہے) یعنی تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ ترجمہ کو ’’ ان پر حق ظاہر ہو چکا: واضح ہو چکا ہے‘‘ کی صورت دی ہے … اور ایک ترجمہ ’’ حق واضح ہوئے پیچھے‘‘ کی صورت میں کیا گیا ہے۔ اس میں ’’ لھم‘‘ کا ترجمہ نظر انداز ہو گیا ہے اگرچہ مفہوم درست ہے۔۔

 ۔ مندرجہ بالا چار حصہ ہائے عبارت [ ۔ وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ ۔ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا ۔ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِہِمْ ۔ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْحَقُّ] کا مجموعی ترجمہ (کیونکہ یہ در اصل ایک ہی مربوط طویل جملہ ہے) جزوی فرق کے ساتھ … عموماً چاروں اجزاء جملہ کی اسی ترتیب کے ساتھ کیا گیا ہے۔ البتہ دو مترجمین نے (غالباً اردو محاورہ کی خاطر) پہلے ’’ کَثِیْرٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ‘‘ کا‘ پھر ’’ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِہِمْ‘‘ کا ترجمہ کرنے کے بعد (اردو جملہ فعلیہ کے مطابق) فعل ماضی ’’ وَدَّ‘‘ کا ترجمہ (بزمانہ حال) اور پھر اس کے بعد ’’ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا‘‘ کا ترجمہ کیا ہے۔ یعنی بصورت ’’ اہل کتاب سے بہت سے لوگ: بہت سے اہل کتاب: دل میں حسد رکھ کر: اپنے دل کی جلن سے: یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے بعد: ایمان لا چکنے کے بعد: پھر تم کو: تم کو پھر: کافر بنا دیں۔‘‘ اگرچہ اس ترجمہ کی بڑی وجہ تو اردو محاورہ اور جملے کی اردو ترتیب کا لحاظ ہی ہے‘ تاہم اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کلمہ ’’ حَسَدًا‘‘ کا تعلق فعل ’’ وَدَّ‘ سے ہے یا فعل ’’ یَرُدُّونَ‘‘ سے؟ لہٰذا اس پر مزید بات ’’ الاعراب‘‘ میں ہو گی۔

 ۔ کم از کم ایک مترجم نے ’’ غالباً اردو محاورے کے جوش میں) آیت کے مذکورہ بالا تمام اجزاء کی ترتیب کو الٹ پلٹ کر (یعنی پہلے A - وَدَّ پھر D + وَدَّ پھر C اور آخر پر B کرتے ہوئے) ترجمہ یوں کیا ہے ’’ اکثر اہل کتاب: باوجود یہ کہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے: (پھر بھی) اپنے دلی حسد کی وجہ سے: چاہتے ہیں کہ : تمہارے ایمان لائے پیچھے پھر تم کو کافر بنا دیں‘‘۔ یہ ترجمہ اردو محاورے کے لحاظ سے بھی اور مفہوم عبارت کو واضح کرنے کے لحاظ سے بھی بہت عمدہ ہے۔ مگر اس قسم کے ترجمہ کو بین السطور (عربی عبارت کے نیچے) لکھنے سے عام (غیر عربی دان) قاری کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کس عبارت کا کہاں اور کیا ترجمہ کیا گیا ہے؟ … اس قسم کے با محاورہ‘ رواں اور سلیس (اور آزاد) ترجمہ کے لیے مناسب یہ ہے کہ اصل (پوری) مجموعی عربی عبارت (بصورت آیت یا قطعۂ آیات) اور ترجمہ الگ الگ ایک دوسرے کے بالمقابل یا اوپر نیچے … مگر بین السطور نہیں … لکھے جائیں‘ جیسا کہ اکثر انگریزی تراجم میں اور بعض تفاسیر میں کیا گیا ہے۔ جہاں تک اصل ترجمہ کی صحت‘ انتخابِ الفاظ کی موزونیت اور اصل (عربی عبارت) کی نحوی ترکیب کی رعایت کا تعلق ہے تو اس کو جانچنا تو عربی دانی کا محتاج ہے۔

گزشتہ سے پیوستہ

2: 66: 1 (5) [ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ]

 عبارت میں دو کلمات (اعفوا: اصفحوا‘‘ نئے یعنی پہلی دفعہ (بلحاظ مادہ) آئے ہیں‘ جن کی وضاحت توجہ طلب ہو گی۔ باقی کلمات بلحاظ اصل پہلے گزر چکے ہیں۔

A ’’ فَاعْفُوا‘‘ یہ در اصل ’’ فَ‘‘ + ’’ اُعْفُوا‘‘ ہے جس میں ہمزۃ الوصل ’’ فَ‘‘ کے ساتھ ملا کر بصورتِ ’’ فَا‘‘ لکھا جاتا ہے مگر پڑھا نہیں جاتا … ابتدائی فاء (فَ) عاطفہ ہے جو یہاں فاء رابطہ بھی ہو سکتی ہے اور فاء فصیحہ بھی۔ مزید دیکھیے البقرہ: 22 [ 2: 16: 1 (10)] نیز آگے ’’ الاعراب‘‘ میں۔ بہر حال اس کا اردو ترجمہ ’’ سو پھر: پس پھر: پس: تو‘‘ سے ہی ہو گا۔

 ۔ ’’ اُعْفُوا‘‘ کا مادہ ’’ ع ف و‘‘ اور وزن اصلی ’’ اُفْعُلُوْا‘‘ ہے یعنی یہ فعل امر حاضر کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ یہ در اصل ’’ اُعْفُوُوْا‘‘ تھا‘ پھر ناقص کی گردانوں میں استعمال ہونے والے قاعدہ -ُ وُوْا = -ُ وْا‘‘ کے مطابق پہلی ’’ و‘‘ (جو بوجہ ضمہ (-ُ) ثقیل تھی) گر کر صورت کلمہ ’’ اُعْفُوا‘‘ رہ گئی۔ جس کا وزن اب ’’ اُفْعُوا‘‘ رہ گیا ہے۔ اس کی املاء ’’ اُعْفُوا‘‘ میں آخری صامت الف جو الف الوقایہ کہلاتا ہے‘ واو الجمع پر ختم ہونے والے تمام صیغوں کے آخر پر لکھا جاتا ہے‘ تاہم یہ پڑھنے میں نہیں آتا۔ اور اسی لیے عرب اور افریقی ممالک کے مصاحف میں اس پر الف زائدہ صامتہ کی علامت باریک گول دائرے’ ’ ْ ‘‘ کی صورت میں ڈالتے ہیں۔ یعنی ’’ فَاعْفُواْ‘‘۔ برصغیر کے مصاحف میں اس الف کو ہر طرح کی علاماتِ ضبط سے خالی رکھا جاتا ہے جس کا مطلب ہے یہ تلفظ میں نہیں آئے گا۔

 ۔ اس مادہ (ع ف و) سے فعل مجرد ’’ عَفَا یَعْفُو عَفْواً‘‘ (ماضی ادر اصل ’’ عَفَوَ‘‘ تھی جس میں ’’-َ وَ= -َ ا‘‘ کے مطابق ’’ واو متحرکہ ما قبل مفتوح الف میں بدل جاتی ہے اور مضارع ’’ یَعْفُو‘‘ کی آخری واو کا ضمہ (-ُ) بوجہ ثقل گرا دیا جاتا ہے) باب نصر سے آتا ہے جس کا عام ترجمہ ’’ معاف کر دینا‘‘ کیا جاتا ہے اور جسے بعض دفعہ ’’ درگزر کرنا‘ چھوڑ دینا اور جانے دینا‘‘ کی صورت بھی دیتے ہیں۔ لیکن در اصل یہ فعل متعدد معانی کے لیے --- لازم متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اور خود قرآن کریم میں بھی نہ صرف یہ فعل (عَفَا یَعْفُو) بلکہ اس کا مصدر (اور اسم) ’’ العَفْو‘‘ بھی کم از کم ایک سے زیادہ معنوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ بعض علمائِ لگہ اور اصحاب معاجم نے اس کے اصل اور بنیادی معنی کی نشاندہی کی ہے اور پھر اس بنیادی معنی کا اس فعل کے مختلف معانی سے تعلق کا بھی ذکر کیا ہے۔ مثلاً صاحب ’’ لسان العرب‘‘ نے اس کی اصل ’’ مَحْو وَطَمْس‘‘ (’’ مٹانا‘‘۔ ’’ مٹ جانا‘‘۔ خیال رہے مصدر معروف و مجہول کا ایک ہی ہوتا ہے) کو قرار دیا ہے۔ صاحب ’’ المفردات‘‘ (راغب ) نے ا کی اصل ’’ القَصد لتناول الشیِٔ‘‘ (چیز کو لے لینے کا ارادہ کر لینا) بتائی ہے اور صاحب ’’ مقاییس اللغۃ‘‘ (ابن فارس) نے اس کی دو ’’ اصلیں‘‘ (بنیادی معنی) بیان کی ہیں (جو باہم متضاد بھی ہیں) یعنی ترک الشیٔ و طلبُہ (چیز کو چھوڑ دینا: یا اسے طلب کرنا) ۔ ’’ طلب کرنا‘‘ والے معنی میں یہ فعل قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا۔

 ۔ اس فعل مجرد کے چند اہم معانی اور استعمال کی صورتیں یوں ہیں ـ:

A مٹا دینا اور مٹ جانا (متعدی لازم ہر دو) کے لیے۔ کہتے ہیں ’’ عفتِ الریحُ الآثار‘‘ (ہوا نے نشانات مٹا دیئے) اور ’’ عفتِ الآثار: عَفا الاثرُ‘‘ (نشانات مٹ گئے: نشان مٹ گیا) ۔ راغب کے نزدیک اس کا مطلب ہے: ’’ گویا ہوا نے نشانیوں کو مٹانے کے لیے ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا‘‘ یا ’’ آثار: اثر نے خود بوسیدگی اور نابود ہونے کا ارادہ کر لیا‘‘۔ اور ابن فارس کے نزدیک جب حفاظت و نگہداشت ترک کر دی تو گویا مٹا دیا … یا جب کسی شے کی نگہداشت ترک کر دی گئی تو مٹ گئی‘‘ (تَرْک = چھوڑ دینا: چھوڑ دیا جانا) ۔

B زیادہ کرنا‘ بڑھا دینا: زیادہ ہو جانا۔ بڑھ جانا (متعدی نزی لازم) کے لیے۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ عَفَا الشیئَ‘‘ (چیز کو زیادہ کر دیا: لمبا کر دیا: چھوڑ دیا) مثلاً عفا الشَعرَ او النبتَ (بالوں یا پودوں (وغیرہ) کا کاٹنا چھانٹنا چھوڑ دیا‘ بڑھنے دیا‘ چنانچہ وہ بڑھ گئے: لمبے یا زیادہ ہو گئے۔‘‘ اور اسی سے حدیث شریف میں آیا ہے قَصُّو الشَّوارِبَ وَاعفُوا اللُّحٰی [ مونچھوں (کے بالوں) کو کاٹو اور داڑھیوں (کے بالوں) کو لمبا ہونے دو (چھوڑ دو)]۔ اور فعل کے لازم استعمال میں کہتے ہیں ’’ عَفا الشیئُ‘‘ (چیز زیادہ ہو گئی‘ یا ضرورت سے زائد ہو گئی) بظاہر ’’ مٹا دینا: مٹ جانا‘‘ اور ’’ بڑھا دینا: بڑھ جانا‘‘ لغت اضداد (یعنی ایک ہی لفظ کے دو ایسے معنی جو ایک دوسرے کے ’’ الٹ‘‘ اور ’’ ضد‘‘ ہوں) معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اگر بنیادی معنی (ترک کرنا: چھوڑ دینا) کو سامنے رکھیں تو ایک معنی میں ’’ حفاظت اور نگہداشت چھوڑ دینا‘‘ کا مفہوم اور دوسرے معنی میں ’’ کانٹ چھانٹ اور قطع و برید کو چھوڑ دینا‘‘ کا مفہوم موجود ہے۔ لغت اضداد نہیں 1؎۔

1؎ دیکھیے ’’ مقاییس اللغۃ‘‘ ج 4‘ ص 58

C ’’ معاف کر دینا‘‘ کے معنی میں یہ فعل ہمیشہ متعدی استعمال ہوتا ہے (اور قرآن کریم میں یہ زیدہ تر ان ہی معنی کے لیے آیا ہے) اور اس مقصد کے لیے بنیادی طور پر اسس کے دو مفعول ہوتے ہیں: جس کو معاف کیا جائے اور جو چیز (گناہ وغیرہ) معاف کی جائے۔ اور اس کے لیے کبھی ایک مفعول پر اور کبھی دوسرے مفعول پر (زیادہ تر تو) ’’ عَنْ‘‘ کا استعمال زیادہ آیا ہے اگرچہ ایک دفعہ لام (لِ) بھی آیا ہے … ان (معاف کر دینے والے) معنی کے لیے یہ فعل کئی طرح استعمال ہوتا ہے‘ مثلاً کہتے ہیں ’’ عَفا عنہ‘‘ ) اس نے اس کو معاف کر دیا) اور ’’ عفا عنہ ذنبَہ‘‘ (اس نے اس کو اس کا گناہ معاف کر دیا) اور ’’ عفا عَن ذَنبِہٖ‘‘ (اس نے اس کے گناہ سے معافی دے دی) اور ’’ عفا لَہٗ ذنبَہ‘‘ (اس نے اس کے لیے (یعنی اس کو) اس کا گناہ معاف کر دیا) ان سب استعمالات میں ’’ گناہ کی سزا ترک کر دینے‘‘ یا ’’ گناہ کے نتائج مٹا دینے‘‘ یا ’’ گناہ کے ازالہ کے ارادہ کرنے‘‘ کی صورت میں اصل بنیادی مفہوم (ترک: محو: قصد) موجود ہے۔

 ۔ عام عربی میں فعل مجرد کے علاوہ اس سے مزید فیہ کے مختلف ابواب سے بھی متعدد اور مختلف معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تاہم قرآن کریم میں اس کا استعمال صرف فعل مجرد ہی کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس فعل مجرد سے مختلف صیغے قرآن کریم میں 27 مقامات پر وارد ہوئے ہیں‘ جن میں سے صرف ایک جگہ یہ ’’ زادَ و کَثُرَ‘‘ (زیادہ ہو جانا) کے معنی میں آیا ہے‘ باقی 26 جگہوں پر یہ فعل ’’ معاف کر دینا‘‘ والے معنی کے ساتھ ہی استعمال ہوا ہے اور ان میں سے صرف ایک جگہ اس سے فعل مجہول لام الجر کے ساتھ (عُفِیَ لَہٗ کی صورت میں) آیا ہے۔ باقی 25 مقامات پر اس سے معروف کے صیغے ہی آئے ہیں۔ البتہ ان (25) میں سے نو (9) مقامات پر مفعول اوّل (جن کو معافی ملی) پر ’’ عَنْ‘‘ کے استعمال (مثلاً عنکم‘ عنھم‘ عنک‘ عَنّا‘ عن طائفۃٍ وغیرہ کی صورت میں) اور مفعول ثانی (جس بات کی معافی ملی) کے حذف کے ساتھ (فعل) آیا ہے۔ جبکہ آٹھ (8) مقامات پر مفعول اوّل (جس کو معافی ملی) کے حذف اور مفعول ثانی (جس پر معافی ملی) پر ’’ عن‘‘ کے استعمال (مثلاً عَمَّا سَلَفَ‘ عَنْ ذٰلِکَ‘ عَن سُوْئٍ: السَّیِّئَاتِ اور عَنْ کَثیرٍ کی صورت میں) کے ساتھ آیا ہے۔ باقی آٹھ مقامات پر یہ فعل مفعول اوّل و ثانی ہر دو کے حذف کے ساتھ استعمال ہوا ہے جو عبارت کے سیاق و سباق سے سمجھے جاتے ہیں۔ فاعل کا ذکر کبھی بطور اسم ظاہر (مثلاً اللّٰہ) اور اکثرت بصورتِ ضمیر فاعل آیا ہے۔

 ۔ اکثر مترجمین نے ’’ فَاعْفُوْا‘‘ کا ترجمہ ’’ پس: سو: تم معاف کرو‘‘ سے کیا ہے‘ بعض نے ’’ معاف کرتے رہو‘‘ اختیار کیا ہے۔ اس کے علاوہ ’’ درگزر کرو‘‘ ‘ ’’ چھوڑ دو‘‘ اور ’’ جانے دو‘‘ سے بھی ترجمہ کیا گیا ہے۔ مفہوم ایک ہی ہے۔

 ۔ فعل کے مذکورہ بالا استعمالات کے علاوہ اس مادہ (اور فعل مجرد) سے مشتق اور ماخوذ بعض کلمات (مثلاً العَفْو‘ عَفُوّ اور العَافِین) بھی آئے ہیں۔ ان سب پر حسب موقع بات ہو گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

 البتہ بر سبیل تذکرہ غالباً یہاں یہ بتانا مناسب ہو گا کہ اردو میں عام استعمال ہونے والے بعض کلمات (مثلاً ’’ معاف‘‘ ‘ ’’ عافیت‘‘ اور ’’ استعفائ‘‘ کا تعلق اسی مادہ (عفو) سے ہے‘ اگرچہ یہ الفاظ قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوئے۔ کلمہ ’’ معاف‘‘ اور (اس کا اردو حاصل مصدر) ’’ معافی‘‘ اردو میں اتنا متعارف ہے کہ فعل ’’ عفا یعفو‘‘ کا ترجمہ ہی معاف کرنا‘ معافی دینا‘‘ کرنا پڑتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ بعض دفعہ عربی کے (بلحاظ اشتقاق) خاصے مشکل الفاظ اردو میں بغیر تکلف کے استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ لفظ (معاف) ہے جو در اصل ’’ عفو‘‘ مادہ سے باب مفاعلہ ’’ عَافَی یُعَافِی مُعَافاۃً و عِفائً و عَافِیۃً‘‘ (صحت و تندرستی دینا: چھوٹ دینا) کے یا تو مصدر (مُعافاۃ) کی بگڑی ہوئی شکل ہے یا اسی (باب مفاعلہ والے) فعل سے اسم الفاعل ’’ مُعافٍی‘‘ یا اسم المفعول ’’ مُعافًی‘‘ کی بدلی ہوئی شکل ہے۔ لفظ ’’ عَافِیۃ‘‘ (جس کی اردو فارسی املاء ’’ عافیت‘‘ ہے) عربی کی طرح اردو فارسی میں ’’ صحت و تندرستی‘‘ کے معنی میں متعارف ہے۔ بظاہر یہ لفظ فعل ’’ عَفا یعفُو‘‘ سے صیغہ اسم الفاعلۃ (مؤنث) ہے لیکن در اصل یہ باب مفاعلہ کا ایک مصر ہے (جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے) باب مفاعلہ سے بعض مصادر ’’ فاعلۃ‘‘ کے وزن پر بھی آ جاتے ہیں۔ اور لفظ ’’ استعفائ‘‘ (کام ترک کرنے کی اجازت چاہنا) تو جیسا کہ ظاہر ہے ’’ عفو‘‘ سے باب استفعال کا مصدر ہے۔

B ’’ وَاصْفَحُوْا‘‘ کی ابتدائی ’’ وَ‘‘ عاطفہ بمعنی ’’ اور‘‘ ہے۔ اور ’’ اِصْفَحُوا‘‘ (جو فعل امر حاضر جمع مذکر ہے اور جس کا ابتدائی مکسور ہمزۃ الوصل ’’ و‘‘ کی وجہ سے تلفظ میں نہیں آتا) کا مادہ ’’ ص ف ح‘‘ اور وزن ’’ اِفْعَلُوا‘‘ ہے‘ اس سے فعل مجرد ’’ صَفَحَ یَصْفَحُ صَفْحًا‘‘ (باب فتح سے) آتا ہے اور اس کے متعدد معانی اور استعمالات ہیں اور سب میں بنیادی معنی ’’ الگ الگ پھیلانا اور چوڑا کرنا‘‘ کے ہیں مثلاً ’’ صَفَحَ الْکَلْبُ ذِرَاعَیہ‘‘ (کتے نے دونوں (اگلے) بازو پھیلا دیئے) اور ’’ صفَح ورقَ المُصحَف‘‘ (اس نے قرآن مجید کا ایک ایک ورق پھیلاتے ہوئے سامنے سے گزارا یعنی دیکھ ڈالا) اور ’’ صفَح الناسَ اَوِ القومَ‘‘ (اس نے لوگوں کو (بغرض معائنہ و پڑتال) ایک ایک کر کے سامنے پیش کیا) ۔ تاہم قرآن کریم میں یہ فعل ان میں سے کسی بھی معنی کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ بلکہ قرآن کریم میں تو … جہاں اس فعل مجرد کے مختلف صیغے چھ جگہ آئے ہیں … یہ فعل صرف ایک ہی معنی ’’ درگزر کرنا: خیال میں نہ لانا‘‘ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یعنی یہ بھی گویا گزشتہ فعل (عفا یعفو) کے ہم معنی ہے اور (اس کی طرح) اس فعل کے ساتھ بھی ’’ عن‘‘ استعمال ہوتا ہے مگر اس فرق کے ساتھ کہ ’’ عفا یعفو‘‘ کے ساتھ بعض دفعہ دونوں مفعول (شخص اور گناہ) مذکور ہوتے ہیں (جیسے ’’ وفا عنہ ذنبَہ‘‘ میں ہے) مگر اس فعل (صفَح یصفَح) میں ’’ عن‘‘ کے بعد صرف ایک مفعول (شخص یا گناہ) ہی مذکور ہوتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں ’’ صفَح عنہ‘‘ (اس نے اس شخص سے درگزر کیا) یا کہتے ہیں ’’ صفَح عَن ذنبِہٖ‘‘ (اس نے اس کے گناہ سے درگزر کیا) یعنی اس فعل میں ’’ صفَح عنہ زنبَہ‘‘ نہیں کہتے۔ البتہ جب ’’ عن‘‘ ساتھ استعمال نہ ہو تو دونوں افعال (عفا اور صفَح) کے دونوں مفعول محذوف بھی کر دیئے جاتے ہیں جیسے زیر مطالعہ دونوں کے صیغہ امر ’’ فاعفُوا وَاصفَحوا‘‘ (معاف کر دو: درگزر کر دو) میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس کو معاف کرو اور کیا معاف کرو؟ البتہ یہ بات سیاق و عبارت سے سمجھی جا سکتی ہے۔

 ۔ ہم معنی اور مترادف ہونے کے باوجود ’’ عَفْوٌ‘‘ اور ’’ صَفْحٌ‘‘ میں ایک لطیف فرق ہے ’’ عفو‘‘ (عفا یعفو) کا مطلب ہے ’’ ترکِ عقوبت‘‘ یعنی کسی کو اس کے جرم و گناہ کی سزا کا ارادہ ترک کر دینا‘‘ جب کہ ’’ صفْح‘‘ (صفَح یصفَح) کا مطلب ہے ترکِ تثریب یعنی گناہ گار اور مجرم کو ملامت اور سرزنش بھی نہ کرنا۔ اور اسی لیے صاحب المفردات نے لکھا ہے کہ ’’ صفح‘‘ ’’ عفو‘‘ سے بھی بڑا طرزِ عمل ہے کیونک کتنی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی کو (سزا) معاف تو کر دیتا ہے مگر ملامت کر گزرتا ہے۔ یعنی ترکِ عقوبت قدرے آسان ہے مگر ’’ ترکِ ملامت‘‘ نسبتاً مشکل اور زیادہ بلند ہمتی کا کام ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اکثر جگہ ’’ عفو‘‘ کے معاً بعد ’’ صفح‘‘ کا حکم آیا ہے۔

 اس فعل کے مصدر (صَفْ) کا بطور اسم استعمال ’’ کسی چیز کی چوڑائی جو آپ کے سامنے ہو‘‘ کے لیے ہوتا ہے اور اسی لیے ’’ صفحٌ‘‘ کے معنی ’’ جانب‘‘ اور ’’ طرف‘‘ کے ہوتے ہیں اور ’’ صفح‘‘ اور ’’ صفحۃ‘‘ رخسار کو بھی کہتے ہیں۔ کسی ورق کے دونوں صحفے عربی میں ’’ صفحتان‘‘ اور ’’ صفحتا الورقۃ‘‘ کہلاتے ہیں اور یہ لفظ (صفحۃ) ہماری روز مرہ کی زبان میں مستعمل ہے۔ اس طرح اس فعل ’’ صفح یصفح‘‘ کے مفہوم کی اصل یہی ہے کہ گویا سزا بلکہ ملامت سے بھی چہرہ دوسری طرف کرلیا جائے یعنی چہرے سے بھی ملامت ظاہر نہ کی جائے۔

 ۔ عام عربی میں اس مادہ (ص ف ح) سے فعل مجرد کے علاوہ مزید فیہ کے مختلف ابواب سے بھی فعل مختلف معانی کے لیے استعمال ہوتے ہیں (جو ڈکشنریوں میں دیکھے جا سکتے ہیں) تاہم قرآن کریم میں اس سے صرف فعل مجرد کے ہی چند صیغے چھ جگہ آئے ہیں اور ان میں سے صرف ایک جگہ یہ فعل ’’ عن‘‘ کے ساتھ آیا ہے‘ باقی مقامات پر ’’ عن‘‘ محذوف ہے‘ یعنی مفعول (شخص یا گناہ) غیر مذکور ہے‘ تاہم سیاق عبارت سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اور ان چھ میں سے چار مقامات پر ’’ عفو‘‘ اور ’’ صفح‘‘ سے صیغہ امر معاً مذکور ہوئے ہیں۔ اکثر مترجمین نے ’’ اصفحوا‘‘ کا ترجمہ ’’ درگزر کرو‘‘ سے ہی کیا ہے‘ صرف ایک ترجمہ میں ’’ خیال نہ کرو‘‘ آیا ہے جس میں ترکِ ملامت کا مفہوم واضح ہے۔

C ’’ حتَّی‘‘ (یہاں تک کہ: جب تک کہ نہ) ’’ حتی‘‘ کے معانی اور استعمالات پر مفصل بات البقرہ: 55 [ 2: 35: 1 (2)] میں گزر چکی ہے۔

D ’’ یَاْتِیَ اللّٰہُ …‘‘ (اس کا ترجمہ اس سے اگلی عبارت (بامرہ) کے ساتھ مل کر ہی ممکن ہو گا) ۔ اس میں دوسرے حصہ اسم جلالت (اللّٰہ) کی لغوی بحث اگر دیکھنا ہی چاہیں تو بحث بِسْمِ اللّٰہ [ 1: 1: 1 (2)] میں دیکھ لیجیے۔

 ۔ پہلے حصہ ’’ یَأْتِی‘‘ کا مادہ ’’ أ ت ی‘‘ اور وزن ’’ یَفْعِلُ‘‘ ہے۔ یعنی یہ اس مادہ سے فعل مجرد کا صیغہ مضارع منصوب ہے (نصب پر بات آگے ’’ الاعراب‘‘ میں ہو گی) اس فعل مجرد ’’ أَتیَ یَأًتِی۔ آنا۔ کرنا‘‘ کے معنی اور استعمال پر سب سے پہلے البقرہ: 23 [ 2: 17: 1 (4)] میں (کلمہ ’’ فَاْتُوا‘‘ کے ضمن میں) بات ہو چکی ہے۔ اس کے بعد اس فعل کے متعدد صیغے گزر چکے ہیں مثلاً ’’ اُتُوا‘‘ [ 2: 18: 1 (8)] میں۔ ’’ یَاْتِیَنَّ‘‘ البقرہ: 38 [ 2: 27: 1 (2)] میں ’’ یَاْتُوا‘‘ [ 2: 52: 1 (5)] اور ’’ نَاْتِ‘‘ ابھی اوپر گزرا ہے [ 2: 17: 1 (4)] میں۔ اس فعل پر باء (بِ) لگنے سے اس کے معنی میں تبدیلی (یعنی اَتَی بِ … = لانا۔ آنا) کی بات بھی ہوئی تھی۔

 ۔ ’’ بِاَمْرِہٖ‘‘ جو بِ + امر + ہ کا مرکب ہے اس میں آخری ضمیر مجرور ’’ ہ‘‘ (بمعنی … اس کا: اپنا) ہے اور ابتدائی باء (بِ) وہی صلہ ہے جو فعل اتی یاتی (بمعنی ’’ آنا‘‘) پر لگ کر اس میں ’’ لانا‘ لے آنا‘‘ کے معنی پیدا کرتا ہے۔ باقی لفظ ’’ امر‘‘ جس کا مادہ اور وزن بالکل ظاہر ہیں (ا م ر‘‘ سے فَعْلٌ یہ اس مادہ سے فعل مجرد ’’ امر یامر - حکم دینا‘‘ کا مصدر ہے جو زیادہ تر بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ فعل مجرد (امر یامرُ) کے معنی اور استعمال پر سب سے پہلے البقرہ: 27 [ 2: 19: 1 (16)] میں بات ہوئی تھی۔ اور اس کے بعد اس کے متعدد صیغہ ہائے فعل گزر چکے ہیں مثلاً ’’ تَاْمُرُوْنَ‘‘ البقرہ: 44 [ 2: 29: 1 (6)] سے متصل پہلے۔ اور ’’ تُؤْمَرُونَ‘‘ البقرہ: 68 [ 2: 43: 1 (8)] کے متصل بعد گزرا ہے۔

 ۔ کلمہ ’’ اَمْر‘‘ ایک کثیر الاستعمال اور متعدد معانی کا حامل لفظ ہے۔ قرآن کریم میں یہ لفظ کم و بیش ڈیڑھ سو جگہ آیا ہے۔ اور کم از کم دس کے قریب متنوع معانی میں استعمال ہوا ہے۔ ان مختلف معانی کو بلحاظ اصل دو قسموں میں تقسی کیا جا سکتا ہے‘ بلکہ اس کے استعمالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا ایک طرح سے بنیادی (یا جامع) ترجمہ بھی (یوں تو صرف) دو لفظوں میں کیا جا سکتا ہے یعنی A حکم اور B معاملہ۔ باقی تراجم ان کی فرع (قسم) ہیں۔

 ۔ پہلے معنی (حکم) کا تعلق اس مادہ کے فعل مجرد (اَمَر - حکم دینا) سے ہے‘ یعنی یہ اس فعل کا مصدر بھی ہے اور بطور حاصل مصدر یا اسم مصدر بھی استعمال ہوتا ہے۔ گرائمر میں جسے ہم امر و نہی (فعل) کہتے ہیں‘ شرعی یا قانونی اعتبار سے وہ دونوں ’’ حکم‘‘ ہی ہوتے ہیں۔ اس اصل کی بناء پر لفظ ’’ امرٌ‘‘ کے تراجم (بلحاظ استعمال) ’’ فرمان‘ فرمانروائی‘ حکومت‘ حکمرانی‘ اختیار‘ فیصلہ‘‘ کی صورت میں بھی کیے جا سکتے ہیں اور کیے گئے ہیں۔ ان سب میں مشترک مفہوم ’’ حکم‘‘ کا ہے۔ ان معنی میں امر کی جمع ’’ اَوَامِر‘‘ آتی ہے (تاہم یہ جمع قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوئی)

 ۔ دوسرے معنی (معاملہ) کا بظاہر تو اس مادہ (ا م ر) کے کسی فعل سے تعلق نہیں ہے۔ البتہ (شاید) یہ کہہ سکتے ہیں کہ جن کاموں کے بارے میں ’’ حکم‘‘ دیا جاتا ہے یا کسی ’’ حکم‘‘ کے نتیجے میں جو باتیں یا چیزں سامنے آتی ہیں ان ہی کو ’’ معاملہ‘‘ یا ’’ معاملات‘‘ کہتے ہیں‘ جس کے لیے فارسی میں ’’ کار‘‘ اور انگریزی میں affair یا matter استعمال ہوتے ہیں۔ اس مفہوم میں لفظ ’’ اَمر‘‘ کی جمع ’’ اُمور‘‘ آتی ہے (اور خود یہ جمع بھی قرآن کریم میں 13 جگہ آئی ہے) بلکہ یہ لفظ (امور بمعنی ’’ معاملات‘‘) اردو میں بھی مستعمل ہے۔

 ۔ اور چو وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ۭ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ    ١١٠؁
[ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ : اور تم لوگ نماز کو قائم کرو] [ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ۭ : اور پہنچاؤ زکاۃ کو] [ وَمَا تُقَدِّمُوْا: اور جو تم لوگ آگے بھیجو گے] لِاَنْفُسِكُمْ : اپنے آپ کے لیے] [ مِّنْ خَيْرٍ : کوئی بھی بھلائی] [ تَجِدُوْهُ: تو تم لوگ پاؤ گے اس کو] [ عِنْدَ اللّٰهِ ۭ : اللہ کے پاس ] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیقینا اللہ ] [ بِمَا تَعْمَلُوْنَ: اس کی جو تم لوگ کرتے ہو] [ بَصِيْرٌ : ہر حال میں دیکھنے والا ہے۔

 

وَاَقِیْمُواالصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ… بعینہٖ یہی عبارت جو دو جملوں پر مشتمل ہے سب سے پہلے البقرہ: 43 میں گزری ہے۔ اس کی اعرابی بحث کے لیے دیکھیے [ 2: 29: 2] میں جملہ نمبر 2۔ اس کے بعد یہی عبارت البقرہ: 83 میں بھی آئی تھی‘ جس کے اعراب پر بات [ 2: 51: 2] میں جملہ نمبر 5 میں ہوئی تھی۔

F وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ

 [ وَ] مستانفہ ہے۔ یہاں سے ایک الگ مضمون شروع ہوتا ہے۔ اسی لیے اس سے پہلے عبارت کے آخر پر وقف مطلق (ط) ہے۔ [ مَا] موصولہ شرطیہ ہے بمعنی ’’ جو کچھ بھی کہ‘‘ جو یہاں اگلے فعل الشرط (تُقَدِموا) کا مفعول مقدم ہو کر محل نصب میں ہے۔ مبنی ہونے کی وجہ سے ’’ مَا‘‘ میں ظاہراً کوئی علامت نصب نہیں ہے۔ [ تُقَدِّمُوْا] فعل مضارع مجزوم (سیغہ جمع مذکر حاضر) ہے۔ جزم کی وجہ اس سے پہلے اسم الشرط جازم (مَا) کا آنا ہے اور اس (فعل الشرط) کی علامت جزم آخری نون (اعرابی) کا گر جانا ہے۔ اب اس کے واو الجمع میں ضمیر الفاعلین ’’ انتم‘‘ شامل ہے۔ [ لِاَنْفُسِکم] یہ مرکب جاری جو لام الجر (لِ) + کم کا مرکب ہے اور جس میں انفسکم‘‘ مرکب اضافی ہے اور ’’ انفس‘‘ مجرور اور آگے مضاف ہونے کے باعث خفیف بھی ہے۔ علامت جر کسرہ (-ِ) ہو گئی ہے۔ یہ پورا مرکب جاری (لِاَنفُسِکم) فعل ’’ تقدِّموا‘‘ سے متعلق ہے اور [ مِن خَیْر] جار (مِن)+ مجرور (خَیْرٍ) مل کر اس فعل (تُقَدِّمُوا) کے مفعول مقدم (مَا) کی صفت یا تمیز ہے جس میں ’’ مِن‘‘ تبعیضیہ بھی ہو سکتا ہے اور بیانیہ بھی۔ دیکھیے [ 2: 2: 1 (5)] یہاں تک کہ حصہ عبارت (وَ ما تقدِّموا لانفسِکم مِن خیرٍ) کی سلیس و سادہ شکل (فعل فاعل مفعول کی عام ترتیب کے مطابق) ’’ وَ ما تقدِّموا من خیرٍ لانفُسِکم‘‘ ہوتی۔ اب ’’ لِاَنفسُسِکم‘‘ کی تقدیم سے اس میں ’’ اپنی ہی جانوں کے لیے: اپنے ہی لیے‘‘ کا مفہوم ہے۔ [ تَجِدُوہُ] کی آخری ’’ ہ‘‘ تو ضمیر منصوب (مفعول) ہے اور ’’ تَجِدُوا‘‘ (ضمیر مفعول کے بغیر واو الجمع کے بعد الف الوقایہ لکھنا ضروری ہوتا ہے) فعل مضارع مجزوم ہے۔ جزم کی وجہ جوابِ شرط میں آتا ہے اور علامت جزم آخری نون کا گرنا ہے (در اصل صیغہ مضارع ’’ تَجِدون‘‘ تھا) اور واو الجمع میں ضمیر الفاعلین ’’ انتم‘‘ موجود ہے۔ یہاں فعل ’’ وجَد یجِد‘‘ صرف ایک مفعول کے ساتھ بمعنی ’’ پا لینا: حاصل کرنا‘‘ آیا ہے۔ [ عندَ اللّٰہِ] میں ’’ عِنْدَ‘‘ ظرف مکان مضاف (لہٰذا) منصوب ہے‘ علامت نصب ’’ د‘‘ کی فتحہ (-َ) ہے اور اسم جلالت اس کا مضاف الیہ ہو کر مجرور ہے اور یہ مرکب ظرفی فعل ’’ تَجِدُوا‘‘: سے متعلق ہے‘ یعنی اس میں ’’ کہاں: کس جگہ پائو گے‘‘ کا جواب ہے۔

G اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ … اس سے ملتا جلتا جملہ ’’ وَاللّٰہُ بصیرٌ بما یَعْمَلون‘‘ : البقرہ: 96 میں گزرا ہے جس کے اعراب پر [ 2: 59: 2] کے جملہ نمبر 5 میں بات ہو چکی ہے۔ بہر حال یہاں جملہ [ اِنَّ] حرف مشبہ بالفعل سے شروع ہوتا ہے اور اسم جلالت [ اللّٰہ] اس ’’ اِنَّ‘‘ کا اسم ہو کر منصوب ہے۔ [ بِمَا] باء جارہ یہاں فعل (بصُر بِہ - کو دیکھنا) کے صلہ والی ہے اور ’’ مَا‘‘ اسم موصول مجرور (بِالبَائ) ہے اور ’’ مَا‘‘ مبنی ہے‘‘ اس لیے اس میں ظاہراً کوئی علامت جر نہیں ہے۔ [ تعمَلُون] فعل مضارع معروف صیغہ جمع مذکر حاضر ہے جس میں ضمیر فاعلین ’’ انتم‘‘ شامل ہے اور یہ جملہ فعلیہ (فعل فاعل) ہو کر موصول ہے جس میں ضمیر عائد محذوف ہے‘ یعنی در اصل ’’ تعمَلونَہٗ‘‘ : تھا۔ اور یہ صلہ موصول (مَا تعمَلون) باء الجر کے ساتھ (بصورت ’’ بما تعمَلُون‘‘ متعلق خبر مقدم ہے اور [ بَصِیرٌ] خبر ’’ اِنَّ‘‘ (لہٰذا) مرفوع ہے جملے کی سادہ نثر ’’ اِن اللّٰہَ بصیرٌ بما تعمَلون‘‘ بنتی ہے جس میں رعایت فاصلہ کی بناء پر متعلق خبر (بما تعمَلون) کو مقدم کردیا گیا ہے۔ خیال رہے فعل ’’ یبصُر بِ اور صفتِ مشبہ ’’ بصیرٌ بِ …‘‘ دونوں کا مطلب تو ’’… کو دیکھتا: دیکھنے والا‘‘ بنتا ہے مگر صفت مشبہ میں دوام و استمرار کا مفہوم ہے جیسا کہ حصہ ’’ اللّغۃ‘‘ میں بیان ہوا۔

2: 66: 3 الرّسم

 بلحاظ رسم زیر مطالعہ قطعہ میں صرف چار لفظ قابل ذکر ہیں یعنی ’’ الکتٰب‘ ایمَانُکم‘ الصلٰوۃ اور الزکٰوۃ‘‘ … ان میں سے ’’ ایمانکم‘‘ کا رسم عثمانی مختلف فیہ ہے۔ باقی تین کا رسم متفق علیہ ہے۔ یہ چاروں الفاظ پہلے بھی گزر چکے ہیں … ’’ الکتٰب‘‘ کے رسم کے لیے دیکھیے البقرہ: 2 [ 2: 1: 3] میں نمبر 2۔ ’’ ایمانکم‘‘ کے لفظ ’’ ایمان‘‘ کے رسم کے اختلاف کے لیے دیکھیے البقرہ: 93 [ 2: 57: 3] میں نمبر 6۔ ’’ الصلوۃ‘‘ کے رسم پر بحث کے لیے دیکھیے البقرہ: 3 [ 2: 2: 3] میں نمبر 1 اور پھر ’’ الصلٰوۃ‘‘ اور ’’ الزکٰوۃ‘‘ دونوں کے رسم کے لیے دیکھیے البقرہ: 43 [ 2: 29: 3) میں نمبر 2۔

2: 66: 4 الضبط

 اس قطعہ سے صرف بعض چیدہ الفاظ (مفرد و مرکب) کے ضبط بطور نمونہ درج ذیل ہیں۔ اکثر الفاظ پہلے متعدد بار گزر چکے ہیں یا ان کے ضبط میں صرف حرکات کی شکل کا اختلاف ہے۔ وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ۭ تِلْكَ اَمَانِيُّھُمْ ۭ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ    ١١١؁
( وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا ( ( لَنْ یَّدْخُلَ : ہرگز داخل نہیں ہو گا) (الْجَنَّۃَ : جنت میں) (اِلاَّ مَنْ : سوائے اس کے جو)

(کَانَ ھُوْدًا : یہودی ہو) (اَوْ نَصٰرٰی: یا عیسائی ہو) ( تِلْکَ اَمَانِیُّھُمْ: یہ ان کی آرزوئیں ہیں) ( قُلْ : (آپؐ ) کہئے!)

(ھَاتُوْا : تم لوگ دو) (بُرْھَانَــکُمْ: اپنی روشن دلیل) (اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ: اگر تم لوگ سچے ہو)



ھـ ت و

 ھَتْوًا (ن) : کسی چیز کو توڑ کر روندنا۔

 ھِتَائً (مفاعلہ) : دوسرے کی بات کو روندنا‘ اپنی رائے دینا۔

 ھَاتِ (ج ھَاتُوْا) : فعل امر ۔ تُو دے ‘ تُو لا ( آیت زیرِ مطالعہ)

ب ر ھـ

 بَرَھًا (س) : جسم کا صحت مند ہونا‘ صحت مند جلد کی طرح چمکدار ہونا۔

 بُرْھَانٌ : فُعلانٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ انتہائی چمکدار ‘ انتہائی روشن۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ یہ لفظ زیادہ تر فیصلہ کن دلیل کے لئے آتا ہے۔ {یٰٓـاَ یُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ کُمْ بُّرْھَانٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ} (المائدۃ:174)’’ اے لوگو! آ چکی ہے تمہارے پاس ایک انتہائی روشن دلیل تمہارے رب کی طرف سے‘‘۔

 نوٹ (1) ھُوْدًا اَوْ نَصَارٰی میں ’’ اَو‘‘ تفصیل کے لئے ہے۔ یعنی یہودی اپنے لئے اور نصاریٰ اپنے لئے یہی بات کہتے تھے۔

 نوٹ (2) اس آیت میں بُرْہَانٌ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تورات یا انجیل میں ایسی کوئی بات موجود ہے تو اسے سامنے لائو۔ بَلٰي ۤ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗٓ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۠ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ    ١١٢؀
(بَلـٰی: کیوں نہیں) (مَنْ اَسْلَمَ : جس نے تابع فرمان کیا) ( وَجْھَــہٗ : اپنے چہرے کو) (لِلّٰہِ : اللہ کے لئے) (وَ : اس حال میں کہ) (ھُوَ : وہ) (مُحْسِنٌ : بلا کم و کاست کام کرنے والا ہے) (فَــلَــــــــہٗ : تو اس کے لئے ہے) (اَجْرُ ہٗ : اس کا اجر ) (عِنْدَ رَبِّہٖ : اس کے رب کے پاس) (وَلَا خَوْفٌ : اور کوئی خوف نہیں ہے) (عَلَیْھِمْ : ان پر ) (وَلَا ھُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ) (یَحْزَ نُوْنَ : پچھتاتے ہیں)



و ج ھـ

 وَجَاھَۃً (ک) : بلند رتبہ ہونا‘ باعزت ہونا۔

 وَجِیْہٌ : فَعِیلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ ہمیشہ بلند رتبہ‘ باعزت۔ {اِسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْھًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ }(البقرۃ:45)’’ ان کا نام مسیح ابن مریم (ں) ہے‘ بلند رتبہ ہوتے ہوئے دنیا اور آخرت میں‘‘۔

 وَجْہٌ (ج وُجُوْہٌ) : اسم ذات ہے اور مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔

 (1) کسی چیز کا اشرف یا ابتدائی حصہ۔ {اٰمِنُوْا بِالَّذِیْ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّھَارِ وَاکْفُرُوْا اٰخِرَہٗ} (آل عمران:72) ’’ تم لوگ ایمان لائو اس پر جو نازل کیا گیا ان پر جو ایمان لائے‘ دن کے اشرف حصہ میں ( یعنی صبح کو) اور انکار کرو اس کے آخر میں

( یعنی شام‘ کو)‘‘

 (2) چہرہ (کیونکہ یہ انسان کا اشرف اور ابتدائی حصہ ہے) {فَاَلْقُوْہُ عَلٰی وَجْہِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا ج} (یوسف:93) ’’ پس ڈالو اس کو میرے والد کے چہرے پر تو وہ ہو جائیں گے دیکھنے والے۔‘‘ {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ} (آل عمران:176)’’ جس دن سفید (یعنی روشن) ہو جائیں گے کچھ چہرے اور سیاہ ہو جائیں گے کچھ چہرے‘‘۔

 (3) توجہ ‘ خوشنودی۔ {اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ} (الدہر:9)’’ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ہم کھلاتے ہیں تم لوگوں کو اللہ کی خوشنودی کے لئے۔‘‘ {اُقْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْہُ اَرْضًا یَّخْلُ لَکُمْ وَجْہُ اَبِیْکُمْ} (یوسف:9)’’ تم لوگ قتل کرو یوسف ؑ کو یا پھینک دو اس کو کسی زمین میں تو خالی (یعنی خالص) ہو جائے گی تمہارے لئے تمہارے والد کی توجہ۔‘‘

 جِھَۃٌ (ج وِجْہَۃٌ) : اسم ذات ہے۔ توجہ کرنے کی سمت ۔ {وَلِکُلٍّ وِّجْھَۃٌ ھُوَ مُوَلِّیْھَا } (البقرۃ:148)’’ اور سب کے لئے توجہ کرنے کی کچھ سمتیں ہیں‘ وہ پھیرنے والا (یعنی اپنے چہرے کو پھیرنے والا ) ہے اس کی طرف۔‘‘

 تَوْجِیْھًا (تفعیل) : (1) کسی کا رُخ کسی جانب کرنا۔ (2) کسی کو کسی جانب بھیجنا۔ {اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ} (البقرۃ:79)’’ میں رُخ کرتا ہوں اپنے چہرے کا اس کی طرف جس نے بنایا آسمانوں اور زمین کو۔‘‘ {اَیْنَمَا یُوَجِّھْہُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ} (النحل:76)’’ جہاں کہیں وہ بھیجتا ہے اس کو تو وہ نہیں لاتا کوئی بھلائی۔‘‘

 تَوَجُّھًا (تفعّل) : اپنا رُخ کسی جانب کرنا‘ متوجہ ہونا ۔ {وَلَمَّا تَوَجَّہَ تِلْقَآئَ مَدْیَنَ } (القصص:22)’’ اور جب وہ متوجہ ہوئے مدین کے سامنے۔‘‘

 ترکیب: ’’ مَنْ‘‘ شرطیہ ہے۔ ’’ اَسْلَمَ‘‘ سے ’’ مُحْسِنٌ‘‘ تک شرط ہے۔ ’’ فَلــَـــــــــــہٗ‘‘ سے ’’ یَحْزَنُوْنَ‘‘ تک جوابِ شرط ہے۔ اَسْلَمَ میں شامل ضمیر ’’ ھُوَ ‘‘ اس کا فاعل ہے ‘ جو کہ مَنْ کے لئے ہے۔ مرکب اضافی وَجْھـَــــــــہٗ اس کا مفعول ہے‘ اس لئے اس کے مضاف وَجْہَ پر نصب آئی ہے۔ وَھُوَ مُحْسِنٌ کا ’’ واو‘‘ حالیہ ہے۔ مرکب اضافی اَجْرُ ہٗ مبتدأ مؤخر ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے‘ جو کہ ’’ ثَابِتٌ‘‘ ہو سکتی ہے۔ فَلَـــــــــہٗ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ خَوْفٌ مبتدأ نکرہ ہے ‘ کیونکہ اصول بیان کیا گیا ہے ۔ اس کی خبر محذوف ہے جو کہ مَوْجُوْدٌ ہو سکتی ہے۔

 نوٹ (1) قرآن مجید کا یہ ایک خاص انداز ہے کہ اکثر وہ کسی چیز کے کسی جز وکا ذکر کر کے اس چیز کے کُل کو مراد لیتا ہے۔ نماز کے ذکر میں یہ انداز نسبتاً زیادہ واضح ہے۔ جیسے {قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیْـلًا} (المزمل:2) ۔ اس میں نماز کے ایک رکن ’’ قیام‘‘ کا ذکر کر کے نماز مراد لی گئی ہے۔ یا: {وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ} (البقرۃ:43) اس میں نماز کے ایک رکن ’’ رکوع‘‘ کا ذکر کر کے نماز باجماعت مراد لی گئی ہے۔ اسی طرح آیت زیرِ مطالعہ میں وَجْــہَــــــہٗ سے صرف چہرہ مراد نہیں بلکہ پوری شخصیت مراد ہے۔ وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ لَيْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰي شَيْءٍ ۠ وَّقَالَتِ النَّصٰرٰى لَيْسَتِ الْيَهُوْدُ عَلٰي شَيْءٍ ۙ وَّھُمْ يَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ ۭ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَھُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ   ١١٣؁
(وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ : اور کہا یہود نے ) (لَیْسَتِ النَّصٰرٰی : نہیں ہیں عیسائی) ( عَلٰی شَیْ ئٍ : کسی چیز پر) (وَقَالَتِ النَّصٰرٰی : اور کہا عیسائیوں نے) (لَیْسَتِ الْیَھُوْدُ : نہیں ہیں یہود) (عَلٰی شَیْ ئٍ : کسی چیز پر) (وَّ : اس حال میں کہ) (ھُمْ یَتْلُوْنَ : وہ لوگ پڑھتے ہیں) (الْکِتٰبَ : کتاب کو ) (کَذٰلِکَ : ایسے ہی) ( قَالَ : کہا) (الَّذِیْنَ : ان لوگوں نے جو) (لَا یَعْلَمُوْنَ : علم نہیں رکھتے) (مِثْلَ قَوْلِھِمْ : ان کے قول کی مانند) (فَاللّٰہُ : تو اللہ ) (یَحْکُمُ : فیصلہ کرے گا) (بَیْنَھُمْ : ان کے مابین) (یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن) (فِیْمَا : اس میں) (کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْن : وہ لوگ اختلاف کیا کرتے تھے جس میں)



 ترکیب : اَ لْــیَھُوْدُ اور اَلنَّصٰرٰی عاقل کی جمع مکسر ہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ افعال کے مذکر اور مؤنث دونوں صیغے جائز ہیں۔ اس آیت میں قَالَتْ اور لَـیْسَتْ مؤنث کے صیغے آئے ہیں۔

 لَیْسَتِ النَّصٰرٰی اور لَیْسَتِ الْیَھُوْدُ میں النَّصٰرٰی اور اَلْیَھُوْدُ دونوں لَیْسَتْ کا اسم ہیں‘ ان کی خبر محذوف ہے جو کہ قَائِمًا ہو سکتی ہے‘ جبکہ عَلٰی شَیْ ئٍ متعلق خبر ہے۔ وَھُمْ یَتْلُوْنَ کا ’’ وائو‘‘ حالیہ ہے۔ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ کا مفعول ’’ قولاً ‘‘ محذوف ہے‘ مرکب اضافی مِثْلَ قَوْلِھِمْ اس کی صفت ہے ‘ اس لئے مضاف مِثْلَ پر نصب آئی ہے۔



 نوٹ (1) اس آیت میں اَلْکِتٰبَ سے مراد ہے توراۃ اور انجیل۔ چنانچہ توراۃ اور انجیل پڑھنے والے علماء یہود اور علمائِ نصاریٰ کے قول کو نقل کرنے کے بعد ہمیں بتایا گیا ہے کہ ایسی ہی بات وہ یہود اور نصاریٰ بھی کہتے ہیں جو علم نہیں رکھتے ‘ یعنی جاہل ہیں۔ اس طرح عالم اور جاہل برابر ہو گئے۔ یہاں زندگی کے ایک اہم اصول کی جانب ہماری راہنمائی کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ subjective thinking یعنی کسی آرزو سے مغلوب سوچ انسان کو عالم‘ سے جاہل بنا دیتی ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے علماء کرام کے لئے یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ يُّذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ وَسَعٰى فِيْ خَرَابِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ مَا كَانَ لَھُمْ اَنْ يَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَاۗىِٕفِيْنَ ڛ لَھُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ    ١١٤؁
( وَمَنْ : اور کون) (اَظْلَمُ : زیادہ ظالم ہے) (مِمَّنْ : ان سے جو ) (مَّنَعَ : روکیں) ( مَسٰجِدَ اللّٰہِ : اللہ کی مسجدوں کو) (اَنْ یُّذْکَرَ : کہ یاد کیا جائے) (فِیْھَا : ان میں) (اسْمُہٗ : اس کے نام کو) (وَسَعٰی: اور کوشش کریں) (فِیْ خَرَابِھَا : ان کی ویرانی میں) (اُولٰئِکَ : یہ لوگ ہیں) (مَا کَانَ لَھُمْ : نہیں تھا جن کے لئے) (اَنْ یَّدْخُلُوْھَا : کہ وہ داخل ہوں ان میں) (اِلاَّ خَائِفِیْنَ : مگر خوف کرنے والے ہوتے ہوئے) (لَھُمْ فِی الدُّنْیَا: ان کے لئے دنیا میں ہے) (خِزْیٌ : ایک رسوائی) (وَّلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ: اور ان کے لئے آخرت میں ہے) (عَذَابٌ عَظِیْمٌ : ایک عظیم عذاب)



م ن ع

 مَنْعًا (ف) : (1) کِسی کو کسی کام سے روکنا۔ {مَا مَنَعَکَ اَ لاَّ تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ} (الاعراف:12)’’ کس چیز نے روکا تجھ کو کہ تو سجدہ نہ کرے جب میں نے حکم دیا تجھ کو‘‘۔

 (2) کسی چیز کو اپنے پاس روکنا‘ کنجوسی کرنا۔ {وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ ۔ } (الماعون) ’’ اور اپنے پاس روکتے ہیں برتنے کی چیز کو‘‘۔

 (3) کسی کو نقصان پہنچانے سے روکنا‘ کسی کو کسی سے بچانا۔ {اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْکُمْ وَنَمْنَعْکُمْ مِّنَ الْمُؤْ مِنِیْنَط} (النسائ:141)’’ کیا ہم قابو یافتہ نہ تھے تم پر اور کیا ہم نے نہیں بچایا تم کو مؤمنوں سے؟‘‘

 مَانِعٌ (مؤنث مَانِعَۃٌ) : ( اسم الفاعل) : روکنے والا‘ بچانے والا۔ {وَظَنُّوْا اَ نَّھُمْ مَّانِعَتُھُمْ حُصُوْنُــھُمْ مِّنَ اللّٰہِ}(الحشر:2)’’ اور انہوں نے گمان کیا کہ ان کو بچانے والے ہیں ان کے قلعے اللہ سے۔‘‘

 مَمْنُوْعٌ (مؤنث مَمْنُوْعَۃٌ) : (اسم المفعول) : روکا ہوا۔ {وَفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۔ لاَّ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ ۔ } (الواقعۃ)’’ اور کثیرپھل ‘ نہ کاٹے ہوئے اور نہ روکے ہوئے۔‘‘

 مَنُوْعٌ : فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بہت روکنے والا۔ {وَاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا ۔ } (المعارج)’’ اور جب بھی پہنچے اس کو بھلائی تو بہت کنجوسی کرنے والا ہو۔‘‘

 مَنَّاعٌ : فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بہت روکنے والا۔ {مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ} (ق:25)’’ بہت روکنے والا بھلائی سے‘‘۔

س ع ی

 سَعْیًا (ف) : تیز تیز چلنا‘ کسی کام کے لئے بھاگ دوڑ کرنا‘ کوشش کرنا۔ {یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ}(الحدید:12) ’’ جس دن تو دیکھے گا مؤمنوں اور مؤمنات کو‘ دوڑتا ہو گا ان کا نور ان کے سامنے ۔‘‘ {یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی} (النّٰزعٰت:35)’’ جس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے بھاگ دوڑ کی۔‘‘

 اِسْعَ (فعل امر) : تُو دوڑ‘ تُو کوشش کر۔ {اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ} (الجمعۃ:9)’’ جب بھی ندا دی جائے نماز کے لئے جمعہ کے دن تو تم لوگ لپکو اللہ کے ذکر کی طرف۔‘‘

 سَعْیٌ (اسم ذات) : بھاگ دوڑ‘ کوشش۔ {فَــلَا کُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ ج} (الانبیائ:94)’’ تو کسی قسم کی کوئی ناشکری نہیں ہے اس کی کوشش کی‘‘۔

خ ر ب

 خَرَبًا (س) : کسی جگہ کا اجاڑ ہونا‘ ویران ہونا۔

 خَرَابٌ (اسم ذات) : ویرانی ( آیت زیر مطالعہ)

 اِخْرَابًا (افعال) : اجاڑنا‘ ویران کرنا۔{یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَھُمْ بِاَیْدِیْھِمْ} (الحشر:2) ’’ وہ لوگ اُجاڑتے ہیں اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے۔‘‘

 ترکیب : مَنْ استفہامیہ مبتدأ ہے اور اَظْلَمُاس کی خبر ہے۔ مِمَّنْ اصل میں مِنْ اور مَنْ ہے۔ یہ مَنْ جمع کے مفہوم میں ہے۔ لفظی رعایت کے تحت فعل مَنَعَ اور سَعٰی واحد آیا ہے۔ پھر معنوی رعایت کے تحت اسم اشارہ اُولٰئِکَ اور لَھُمْ میں ھُمْکی ضمیر جمع آئی ہے۔ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مرکب اضافی ہے اور مَنَعَ کا مفعول ہے۔ فِیْھَا میں ھَاکی ضمیر مساجد کے لئے ہے جبکہ اِسْمُہٗ میں ہٗ کی ضمیر اللہ کے لئے ہے ۔ خَرَابِھَا میں بھی ھَا کی ضمیر مساجد کے لئے ہے‘ خَائِفِیْنَحال ہے۔ خِزْیٌ اور عَذَابٌ عَظِیْمٌمبتدأ مؤخر نکرہ ہیں اور ان کی خبریں محذوف ہیں۔

 ’’ اَنْ یُّذْکَرَ‘‘ کی ترکیب میں تین احتمال ہیں : (1) ’’ مَسَاجِدَ اللّٰہِ‘‘ سے بدل اشتمال ہونے کی بنا پر محلاً منصوب ہے ۔ تقدیر عبارت یوں ہے : ’’ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللّٰہِ ذِکْرَ اسْمِہٖ فِیْھَا‘‘۔ (2) مفعول لہٗ ہونے کی بنا پر محلاً منصوب ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہے: ’’ کَرَاھِیَۃً اَنْ یُذْکَرَ ‘‘۔ (3) محلاً مجرور ہے اور اس سے پہلے مِنْ حرفِ جر مقدر ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہے : ’’ مِنْ اَنْ یُذْکَرَ فِیْھَا‘‘ اور مِنْ حرفِ جر متعلق ہے مَنَعَ سے۔



 نوٹ (1) مفتی محمد شفیع نے ’’ معارف القرآن‘‘ میں اس آیت سے حاصل ہونے والی راہنمائی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے :

1) مسجد میں نماز اور ذکر سے روکنے کی جتنی بھی صورتیں ہیں وہ سب ناجائز اور حرام ہیں۔

2) اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی کو مسجد میں جانے سے صراحتاً روکا جائے۔

3) دوسری صورت یہ ہے کہ مسجد میں شور کر کے یا اس کے قرب و جوار میں شور کر کے لوگوں کی نماز اور ذکر میں خلل ڈالے۔ یہ بھی ذکر اللہ سے روکنے میں داخل ہے۔

4) تیسری صورت یہ ہے کہ جب لوگ اپنی نوافل یا تسبیح و تلاوت میں مصروف ہوں اس وقت مسجد میں کوئی بلند آواز سے تلاوت یا ذکر کرنے لگے تو یہ بھی نمازیوں کی نماز و تسبیح میں خلل ڈالنے اور ذکر اللہ کو روکنے کی صورت ہے۔ اس لئے یہ بھی ناجائز ہے۔

5) جس وقت لوگ نماز و تسبیح میں مشغول ہوں اس وقت مسجد میں اپنے لئے سوال کرنا یا دینی کام کے لئے چندہ کرنا ممنوع ہے۔ وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۤ فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ    ١١٥؁
(وَلِلّٰہِ : اور اللہ کے لئے ہی ہے ) ( الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ : مشرق اور مغرب) (فَاَیْنَمَا : پس جہاں کہیں بھی) (تُوَلُّوْا: تم لوگ پھیرو گے (اپنے چہروں کو) فَثَمَّ : تو وہیں) (وَجْہُ اللّٰہِ : اللہ کی توجہ ہے) ( اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ) (وَاسِعٌ عَلِیْمٌ: وسعت والا جاننے والا ہے)

ش ر ق

 شَرْقًا (ن ۔ س) : روشنی کا پھوٹنا‘ کسی چیز کا سرخ ہونا۔

 مَشْرِقٌ (ج مَشَارِقُ) : مَفْعِلٌ کے وزن پر اسم الظرف ہے‘ یعنی روشن یا سرخ ہونے کی جگہ یا سمت۔ اصطلاحاً سورج نکلنے کی سمت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ {لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ} (البقرۃ:177) ’’ نیکی یہی نہیں ہے کہ تم لوگ پھیر دو اپنے چہروں کو مشرق اور مغرب کی طرف‘‘۔ {وَرَبُّ الْمَشَارِقِ} (الصّٰفّٰت:5)’’ اور تمام مشرقوں کا ربّ۔‘‘

 شَرْقِیٌّ : (اسم نسبت ہے) : مشرق والا‘ مشرقی۔ {لَا شَرْقِیَّۃٍ وَّلَا غَرْبِیَّۃٍ} (النور:35) ’’ نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی ہے ‘‘۔

 اِشْرَاقًا (افعال) : کسی چیز سے کسی چیز کا روشن یا سرخ ہونا۔ {وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّھَا} (الروم:69)’’ اور جگمگا اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور سے۔‘‘

 اَلْاِشْرَاقُ : یہ باب افعال کا مصدر ہے۔ اصطلاحاً اس کا مطلب ہے سورج سے زمین کا روشن ہونا یا روشن ہونے کا وقت جب سورج سوا نیزا بلند ہو جائے ‘ یعنی طلوعِ آفتاب کے 20 سے 25 منٹ بعد۔ {یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ} (ص:18)’’ وہ سب تسبیح کرتے ہیں عشاء اور اشراق میں۔‘‘

 مُشْرِقٌ (اسم الفاعل) : روشن ہونے والا۔ اصطلاحاً اس کا مطلب ہے سورج نکلتے ہی صبح کا وقت۔ {فَاَ تْبَعُوْھُمْ مُّشْرِقِیْنَ} (الشعرائ:60) ’’ تو انہوں نے پیچھا کیا ان کا سورج نکلتے ہی‘‘۔

غ ر ب

 غَرْبًِا (ن) : دور چلے جانا‘ دوری کی وجہ سے چھپ جانا‘ غروب ہونا۔ {وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُھُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ} (الکہف:17)’’ اور جب وہ (یعنی سورج ) غروب ہوتا ہے‘ کترا جاتا ہے ان سے بائیں جانب‘‘ ۔

 غَرَبًا (س) : سیاہ رنگ والا ہونا (سیاہی اصل رنگ کو چھپا دیتی ہے)

 غُرُوْبٌ : یہ باب نَصَرَ کے مصدر غَرْبٌ کی جمع ہے۔ {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا ح} (طٰہٰ:130)’’ اور آپ تسبیح کریں اپنے رب کی حمد کے ساتھ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے۔‘‘

 مَغْرِبٌ (جمع مَغَارِبُ) : مَفعِلٌ کے وزن پر اسم الظرف ہے۔ غروب ہونے کی سمت یا وقت۔ مادہ ’’ ش ر ق‘‘ میں ’’ البقرۃ ‘‘ کی آیت 177 دیکھئے۔ نیز: {فَلَا اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ}(المعارج:40)’’ پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی‘‘۔

 غَرْبِیٌّ : اسم نسبت ہے۔ مغرب والا‘ مغربی۔ مادہ ’’ ش ر ق‘‘ میں ’’ النور ‘‘ کی آیت 35 دیکھیں۔

 غُرَابٌ : اسم جنس ہے۔ کوّا (کیونکہ وہ سیاہ ہوتا ہے) {فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا} (المائدۃ:31) ’’ تو بھیجا اللہ نے ایک کوا‘‘ ۔

 غِرْبِیْبٌ (جمع غَرَابِیْبُ) : صفت ہے۔ انتہائی سیاہ‘ بھجنگ۔ {وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِیْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہَا وَغَرَابِیْبُ سُوْدٌ}(فاطر:27)’’ اور پہاڑوں میں سفید راستے ہیں‘ مختلف سرخی ہے ان کے رنگوں کی ‘ اور کچھ بھجنگ سیاہ ہیں‘‘ ۔

ث م م

 ثَمًّا (ن): کسی چیز کو درست کرنا۔

 ثُمَّ : پھر‘ تب‘ اس کے بعد۔ حرف عطف ہے جو کلام کی ترتیب کو درست رکھنے کے لئے آتا ہے۔ {ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا}(المائدۃ:93) ’’ پھر انہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے ‘ اس کے بعد پھر انہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور بلاکم و کاست نیکی کی‘‘۔

 ثَمَّ : اشارہ بعید کے طور پر آتا ہے ۔ وہیں‘ اسی جگہ ۔ {وَاِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا} (الدھر:20)’’ جب بھی تو دیکھے گا تو وہیں تو دیکھے گا ہمیشگی والی آسودگی‘‘۔

و س ع

 سَعَۃً وَسِعَۃً ( س ‘ ح) : کشادہ ہونا (لازم) ‘ کشادہ کرنا (متعدی) ۔ {وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْ ئٍ ط} ’’ اور میری رحمت کشادہ ہوئی ہر چیز پر۔‘‘

 سَعَۃٌ : اسم ذات بھی ہے۔ کشادگی‘ وسعت ۔ {لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖط} (الطلاق:7) ’’ چاہئے کہ خرچ کرے کشادگی والا اپنی کشادگی میں سے‘‘۔

 وُسْعٌ : اسم ذات ہے۔ وسعت‘ اہلیت۔ {لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَھَاط}(البقرۃ:286) ’’ اللہ تکلیف نہیں دیتا کسی جان کو مگر اس کی اہلیت کو‘‘ ۔

 وَاسِعٌ : فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل ہے۔ کشادہ کرنے والا۔ {ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ج وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۔ } (المائدۃ)’’ یہ اللہ کا فضل ہے ‘ وہ دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے‘ اور اللہ کشادہ کرنے والا جاننے والا ہے‘‘۔

 وَاسِعَۃٌ : یہ وَاسِعٌ کا مؤنث ہے۔ زیادہ تر صفت کے طور پر آتا ہے۔ کشادہ ہونے والی یعنی کشادہ۔ {وَاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ ط}(الروم:10) ’’ اور اللہ کی زمین کشادہ ہے‘‘۔

 اِیْسَاعًا (افعال) : رزق میں کشادہ ہونا‘ کسی جگہ کو کشادہ کرنا۔

 مُوْسِعٌ (اسم الفاعل) : رزق میں کشادہ ہونے والا‘ جگہ کو کشادہ کرنے والا۔ {عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُ ہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُ ہٗ} (البقرۃ:236)’’ رزق میں کشادہ ہونے والے پر ہے اس کے مقدور بھر اور تنگدست پر ہے اس کے مقدور بھر‘‘۔ {وَالسَّمَآئَ بَِنَیْنٰھَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ ۔ }(الذریت)’’ اور آسمان ‘ ہم نے بنایا اس کو (اپنے) ہاتھوں سے اور بیشک ہم کشادہ کرنے والے ہیں‘‘۔

 ترکیب : اَلْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ مبتدأ مؤخر ہیں‘ خبر محذوف ہے اور قائم مقام خبر کو تاکید کے لئے مقدم کیا گیا ہے۔ اَیْنَمَا ‘ تُوَلُّوْا کا مفعول فیہ ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔ کلمہ شرط ہے۔ تُوَلُّوْا شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اور فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ جواب شرط ہے۔ مضارع مجزوم تُوَلُّوْا کا فاعل اس میں شامل اَنْتُمْ کی ضمیر ہے اور اس کا مفعول وُجُوْھَکُمْ محذوف ہے۔

 نوٹ (1) یہ آیت تحویلِ قبلہ کے حکم سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے اسے تحویلِ قبلہ کے حکم کی پیش بندی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اور اس پہلو سے آیت میں مشرق اور مغرب کے الفاظ کی اہمیت کو سمجھ لیں۔

 مدینہ میں ہجرت کے بعد سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھی گئی۔ اس وقت مدینہ کے نمازیوں کا رُخ شمال کی طرف ہوتا تھا ‘ کیونکہ بیت المقدس مدینہ کے شمال میں ہے۔ تحویلِ قبلہ کے بعد اب مدینہ کے نمازیوں کا رُخ جنوب کی طرف ہوتا ہے ‘ کیونکہ خانۂ کعبہ مدینہ کے جنوب میں ہے۔ اب نوٹ کریں کہ اس آیت میں شمال اور جنوب کے بجائے مشرق اور مغرب کی بات کی گئی ہے۔ اس طرح گویا چاروں سمتوں کا احاطہ کر کے فرمایا:’’ فَاَیْنَمَا‘‘ جہاں کہیں بھی ‘ یعنی جس طرف بھی رُخ کرو اللہ کی توجہ ہر طرف ہے۔

 نوٹ (2) اس میں یہ حقیقت واضح کر دی کہ اللہ تعالیٰ کی توجہ کسی سمت میں مقید نہیں ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کر لینے کے بعد عمل کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص کو آزادی دے دی جائے کہ جس طرف اس کا جی چاہے رُخ کر کے نماز پڑھ لے۔ دوسری یہ کہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود کوئی ایک سمت مقرر کی جائے۔ اسلام میں جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ اس لحاظ سے بڑا عجیب ہے کہ نہ تو افراد کو آزادی ہے کہ جدھر جی چاہے رُخ کر کے نماز پڑھیں اور نہ ہی کسی ایک سمت کا تعین ہے۔ البتہ ایک رُخ کا تعین کیا گیا ہے ۔

 ایک قبلہ مقرر کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ امت کا ہر فرد پابند ہے کہ وہ اسی طرف رُخ کر کے نماز پڑھے۔ اس طرح امت میں تنظیم اور اتحاد کی عملی تربیت کا اہتمام ہو گیا۔ اب ساری دنیا کے مسلمان جب قبلہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے ہیں تو نہ صرف شمال و جنوب اور مشرق و مغرب بلکہ ان کے درمیان کے تمام زاویۂ سمت کا خود بخود احاطہ ہو جاتا ہے۔ وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ بَلْ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭكُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ    ١١٦؁
( وَقَالُوا : اور انہوں نے کہا ) (اتَّخَذَ : بنایا ) ( اللّٰہُ : اللہ نے ) (وَلَدًا : ایک بیٹا) (سُبْحَانَـــــہٗ : اس کی پاکیزگی ہے) (بَلْ لَّـــــہٗ : بلکہ اس کی ملکیت ہے) (مَا : جو کچھ) (فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : آسمانوں میں اور زمین میں ہے) (کُلٌّ لَّـــــہٗ : سب اس کی ) (قٰنِتُوْنَ : فرمانبرداری کرنے والے ہیں)



و ل د

 وَلَدَ (ض) لِدَۃً ۔ وِلادۃً ۔ وِلَادًا (ض) : بچہ جننا۔ {وَلَا یَلِدُوْا اِلاَّ فَاجِرًا کَفَّارًا ۔ } (نوح) ’’ اور وہ لوگ نہیں جنیں گے مگر گنہگار ناشکرے کو‘‘۔

 وَالِدٌمؤنث وَالِدَۃٌ (اسم الفاعل): پیدائش کا باعث ہونے والا۔ والد‘ باپ۔ {وَاخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِہٖ ز} (لقمان:33) ’’ تم لوگ ڈرو ایک ایسے دن سے جب کام نہیں آئے گا کوئی باپ اپنی اولاد کے‘‘۔ {لَا تُضَارَّ وَالِدَۃٌ بِوَلَدِھَا} (البقرۃ:233) ’’ ضرر نہ پہنچایا جائے کسی ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے ۔‘‘

 وَالِدَانِ (وَالِدٌکاتثنیہ) : اصطلاحاً ماں باپ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔{اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ ط} (لقمان:14)’’ کہ تو شکر کر میرا اور اپنے ماں باپ کا‘‘۔

 مَوْلُوْدٌ (اسم المفعول) : پیدا کیا ہوا‘ یعنی بچہ۔ {وَلَا مَوْلُوْدٌ ھُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِہٖ} (لقمان:33)’’ اور نہ کوئی بچہ کام آنے والا ہے اپنے باپ کے‘‘۔

 وَلَدٌ ج اَوْلَادٌ (اسم ذات) : بچہ یا بچی ‘ لیکن زیادہ تر عرف میں بیٹے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ’’ وَلَدٌ ‘‘ کا لفظ واحد‘ جمع‘ مذکر‘ مؤنث‘ سب کے لئے آتا ہے اور اس کی جمع اَوْلَادٌ ‘ وِِلْدَۃٌ ‘ اِلْدَۃٌ اور وُلْدٌ بھی آتی ہے۔

 وَلِیْدٌ ج وِلْدَانٌ : فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ کم عمر لڑکا ۔ {وَیَطُوْفُ عَلَیْھِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَج} (الدھر:19) ’’ اور پھریں گے ان کے گرد ہمیشگی دیئے ہوئے کم عمر لڑکے۔‘‘

ق ن ت

 قَنَتَ (ن) قُنُوْتًا : اطاعت کرنا‘ فرمانبرداری کرنا۔ {وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ} (الاحزاب:31) ’’ اور جو فرمانبرداری کرے گی تم میں سے اللہ کی اور اس کے رسول کی۔‘‘

 اُقْنُتْ (فعل امر) : تو اطاعت کر‘ فرمانبرداری کر ۔ {یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ} (آل‘ عمران:43) ’’ اے مریم! آپ فرمانبرداری کریں اپنے رب کی۔‘‘

 قَانِتٌ (اسم الفاعل) : فرمانبرداری کرنے والا ۔ {اَمَّنْ ھُوَ قَانِتٌ اٰنَائَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّقَائِمًا } (الزمر:9) ’’ یا وہ جو فرمانبرداری کرنے والا ہے رات کی گھڑیوں میں سجدہ کرنے والا اور قیام کرنے والا ہوتے ہوئے۔‘‘

 ترکیب: ’’ اِتَّخَذَ ‘‘ فعل ’’ اَللّٰہُ‘‘ فاعل اور ’’ وَلَدًا ‘‘ مفعول‘ یہ جملہ فعلیہ ’’ قَالُوْا‘‘ کا مقولہ ہے ‘ جبکہ ’’ سُبْحٰـنَـــــہٗ‘‘ جملہ معترضہ ہے۔ مفعول مطلق ہے فعل محذوف کا۔ ’’ بَلْ‘‘ حرفِ عطف و اِضراب مقولہ کی تردید کے لئے آیا ہے۔ ’’ مَا‘‘ موصولہ مبتدأ ہے‘ اس کی خبر ’’ مَوْجُوْدٌ‘‘ محذوف ہے‘ جبکہ ’’ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ‘‘ اور ’’ لَـــــــــہٗ‘‘ متعلق خبر ہیں۔ ’’ لَـــــــــہٗ‘‘ کا لام‘ لامِ تملیک ہے۔ ’’ کُلٌّ‘‘ مبتدأ نکرہ ہے۔ لما فیہ من معنی العموم۔ ’’ قَانِتُوْنَ‘‘ خبر اور ’’ لَـــــــــہٗ‘‘ متعلق خبر ہیں۔ ’’ کُلٌّ ‘‘ ہمیشہ مضاف ہو کر استعمال ہوتا ہے ‘ اس کا مضاف الیہ محذوف ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے:’’ کُلُّ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ‘‘۔ یا ’’ کُلُّھُمْ‘‘ مضاف الیہ کو حذف کر کے اس کے عوض میں ’’ کُلٌّ‘‘ کے اوپر تنوین آ گئی ۔ اس کو ’’ تنوین عوض‘‘ کہتے ہیں۔



 نوٹ (1) فعل ’’ اِتَّخَذَ‘‘ دو مفعول کا تقاضا کرتا ہے کہ کس کو بنایا اور کیا بنایا؟ اس آیت میں مفعول اوّل (کس کو بنایا) محذوف ہے اور صرف مفعول ثانی (کیا بنایا) مذکور ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس طرح سے اس نوعیت کے تمام عقائد کی تردیدہو گئی ہے۔ اگر مفعول اوّل مذکور ہوتا تو صرف مذکورہ عقیدے کی تردید ہوتی۔

 نوٹ (2) اولاد کی ضرورت صاحب اولاد کی ذات کے کسی نقص کی دلیل ہوتی ہے۔ مثلاً صاحب اولاد کی ذات کا فانی ہونا‘ تاکہ اولاد کی شکل میں اس کی ذات کا تسلسل برقرار رہے اور کوئی نام لینے والا ہو۔ یا صاحب اولاد کے کسی کام کا نامکمل رہ جانا‘ تاکہ اولاد اس کے کام کو آگے بڑھائے ‘ وغیرہ وغیرہ۔ جملہ معترضہ’’ سُبْحٰـنَــــــہٗ‘‘ سے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر نوعیت کے نقص سے پاک ہے۔ بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭوَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ   ١١٧؁
(بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کا ایجاد کرنے والا ہے) (وَاِذَا : اور جب بھی ) (قَضٰی : وہ فیصلہ کرتا ہے ) (اَمْرًا : کسی کام کا ) (فَاِنَّمَا : تو بس) (یَقُوْلُ : وہ کہتا ہے ) (لَــــــــہٗ : اس کو ) (کُنْ : تو ہوجا) (فَیَــــکُوْنُ : پس وہ ہو جاتاہے )



ب د ع

 بَدَعَ (ف) بَدْعًا : نمونے کے بغیر کوئی چیز بنانا‘ ایجاد کرنا۔ اس لفظ کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے تو اس کا مفہوم ہوتا ہے کہ نمونہ‘ مادہ یا اوزار وغیرہ کے بغیر ایجاد کرنا۔

 بَدِیْعٌ (فَعِیلٌ کے وزن پر اسم الفاعل ) : ایجاد کرنے والا۔ (آیت زیرِ مطالعہ)

 بِدْعٌ (صفت) : نیا‘ انوکھا ۔ {مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } (الاحقاف:9) ’’ میں کوئی انوکھا نہیں ہوں رسولوں میں سے۔‘‘

 اِبْتِدَاعًا (باب افتعال سے) : اہتمام سے کوئی نئی چیز ایجاد کرنا۔ {وَرَھْبَانِیَّۃَنِ ابْتَدَعُوْھَا مَا کَتَبْنٰھَا عَلَیْھِمْ } (الحدید:27) ’’ اور رَہبانیت! انہوں نے ایجاد کیا اس کو‘ ہم نے واجب نہیں کیا جسے ان پر۔‘‘

ق ض ی

 قَضٰی (ض) قَضَائً : (1) کسی چیز کو مضبوطی سے بنانا ۔ {فَقَضٰھُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ} (حم‘ السجدۃ:12) ’’ تو اس نے مضبوطی سے بنایا ان کو سات آسمان۔‘‘ (2) کسی کام کو پورا کر کے فارغ ہو جانا۔ {فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ } (البقرۃ:200) ’’ پس جب تم لوگ فارغ ہو جائو اپنے عبادت کے طریقوں سے تو یاد کرو اللہ کو۔‘‘ (3) کسی بات یا کام کا فیصلہ کرنا۔ {وَقَضٰی رَبُّکَ اَ لاَّ تَعْبُدُوْا اِلاَّ اِیَّاہُ} (بنی اسرائیل:23) ’’ اور فیصلہ کیا تیرے رب نے کہ تم لوگ عبادت مت کرو مگر اسی کی۔‘‘

 اِقْضِ (فعل امر) : تو فیصلہ کر ۔ {فَاقْضِ مَا اَنْتَ قَاضٍط اِنَّمَا تَقْضِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ۔ } (طٰہٰ) ’’ پس تو فیصلہ کر جو تو فیصلہ کرنے والا ہے۔ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ تو فیصلہ کرے گا اِس دنیا کی زندگی کا۔‘‘

 قَاضٍ (فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل): فیصلہ کرنے والا۔ (ملاحظہ کریں مذکورہ بالا آیت)

 مَقْضِیٌّ (اسم المفعول) : فیصلہ کیا ہوا۔ {وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا ۔ } (مریم) ’’ اور وہ تھا فیصلہ کیا ہوا کام۔‘‘

 ترکیب: مرکب اضافی ’’ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‘‘ خبر ہے۔ اس کا مبتدأ ’’ ھُوَ‘‘ محذوف ہے۔ ’’ اِذَا‘‘ کلمۂ شرط‘ ظرف اور ’’ قَضٰی اَمْرًا‘‘ اِذَا کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے محلاً مجرور۔ قَضٰی اَمْرًا شرط اور ’’ فَاِنَّمَا‘‘ میں فاء رابطہ ہے اور ’’ اِنَّمَا‘‘ میں ’’ مَا‘‘ کا فہ زائدہ ہے۔ ’’ کُنْ‘‘ کَانَ تامہ سے فعل امر ہے۔ ’’ فَیَکُوْنُ‘‘ میں ’’ فائ‘‘ استیناف اور یَکُوْنُ فعل مضارع ہے کَانَ تامہ سے اور معنی ہے فھو یحدث ۔ ’’ فَاِنَّمَا‘‘ سے ’’ فَـــیَــکُوْنُ‘‘ تک جوابِ شرط ہے۔ ’’ فَــیَـــکُوْن‘‘ کو جمہور نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے ’’ یَقُوْلُ‘‘ پر عطف کرتے ہوئے یا اس سے پہلے ’’ ھُوَ‘‘ ضمیر مبتدأ محذوف کی خبر مان کر۔ تقدیر عبارت یوں ہے: ’’ فَھُوَ یَکُوْنُ‘‘۔ وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِيْنَآ اٰيَةٌ ۭ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۭ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُھُمْ ۭ قَدْ بَيَّنَّا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ   ١١٨؁
(وَقَالَ : اور کہا ) ( الَّذِیْنَ : ان لوگوں نے جو) (لَا یَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے) ( لَوْ لَا : کیوں نہیں) (یُکَلِّمُنَا : کلام کرتا ہم سے) ( اللّٰہُ : اللہ) ( اَوْ : یا (کیوں نہیں) تَاْتِیْنَا : آتی ہمارے پاس) ( اٰیَۃٌ : کوئی نشانی) (کَذٰلِکَ : اس کی طرح) ( قَالَ : کہا) (الَّذِیْنَ : انہوں نے جو ) ( مِنْ قَبْلِھِمْ : ان سے پہلے تھے ) ( مِّثْلَ قَوْلِھِمْ : ان کے قول کی مانند) (تَشَابَھَتْ : باہم ملتے جلتے ہوئے) (قُلُوْبُھُمْ : ان کے دل ) (قَدْ بَیَّنَّا : ہم واضح کر چکے ہیں ) (الْاٰیٰتِ : نشانیوں کو ) (لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے جو ) (یُّوْقِنُوْنَ : یقین کرتے ہیں)



 ترکیب : ’’ یُکَلِّمُ‘‘ فعل ضمیر مفعولی ’’ نَا‘‘ اس کا مفعول اور ’’ اَللّٰہُ‘‘ فاعل ہے۔ اسی طرح ’’ تَاْتِیْ‘‘ فعل‘ ضمیر مفعولی ’’ نَا‘‘ اس کا مفعول اور ’’ اٰیَۃٌ‘‘ فاعل ہے۔ ’’ کَذٰلِکَ قَالَ‘‘ کا فاعل ’’ الَّذِیْنَ‘‘ ہے اور اس کا مفعول ’’ قَوْلاً ‘‘ محذوف ہے۔ ’’ مِثْلَ‘‘ اس کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ’’ بَـــــیَّــــنَّا‘‘ کا فاعل اس میں شامل ’’ نَحْنُ‘‘ کی ضمیر ہے۔ ’’ ا لْاٰیٰتِ‘‘ اس کا مفعول ہے۔ ’’ لِقَوْمٍ‘‘ متعلق فعل ہے اور ’’ قَوْمٍ‘‘ نکرہ موصوفہ ہے‘ اس کی صفت جملہ فعلیہ ’’ یُوْقِنُوْنَ‘‘ ہے۔

 نوٹ (1) ’’ لَوْ لَا‘‘ اور ’’ لَوْمَا‘‘ جب فعل پر آتے ہیں تو زیادہ تر مضارع پر آتے ہیں۔ اس وقت ’’ لَوْ‘‘ شرطیہ نہیں ہوتا بلکہ تمنی ہوتا ہے ‘ اس لئے غیر عامل ہوتا ہے‘ یعنی مضارع کو مجزوم نہیں کرتا اور منفی ہونے کی وجہ سے ’’ کاش ایسا ہوتا‘‘ کے بجائے ’’ کیوں نہ ایسا ہوا‘‘ کے معانی دیتاہے۔ اس کے بعد اگر فعل مستقبل آئے تو بمعنی تخضیض اور اگر ماضی آئے تو بمعنی توبیخ ہوتا ہے۔

 نوٹ (2) ’’ اَوْ تَاْتِیْنَا اٰیَۃٌ‘‘ میں آیت کا لفظ قرآن مجید کی آیات کے لئے نہیں ہے‘ بلکہ کھلی نشانی کے لئے ہے اور ’’ مِنْ قَبْلِھِمْ‘‘ میں عمومیت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے اس نوعیت کے جتنے مطالبے کئے جا چکے ہیں‘ ان سب کی طرف اشارہ ہے۔ اس کی ایک بہت واضح مثال بنو اسرائیل کا حضرت موسیٰں سے یہ مطالبہ تھا کہ جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا نہ دیکھ لیں ‘ اس وقت تک ہم آپ کی بات نہیں مانیں گے۔ (البقرۃ:55)

 نوٹ (3) ’’ لِقَوْمٍ‘‘ کی صفت ’’ یُوْقِنُوْنَ‘‘ آئی ہے۔ یہ دراصل علم الیقین کی بات ہے۔ اس دنیا میں انسان کا اصل امتحان علم کی بنیاد پر یقین کرنا یعنی ایمان لانا ہے۔ اور صرف علم الیقین پر ہی اجر وثواب ملتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کو دیکھ لینے کے بعد یقین کرنے یعنی ایمان لانے میں کوئی کمال نہیں ہے۔ اس لئے عین الیقین پر کوئی اجر و ثواب بھی نہیں ہے۔

 اب یہ سمجھ لیں کہ علم الیقین کے لئے objective thinking شرط ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی پسند وناپسند اور معاشرتی رواج کو ایک طرف رکھتے ہوئے صحیح بات اور حقیقت کو معلوم کرنے کی خواہش رکھے اور اس کے لئے کوشش کرے۔ یہ خواہش اور تڑپ جتنی زیادہ ہوگی ‘ انسان اتنا ہی علم سے استفادہ کر کے حقائق کا یقین حاصل کرے گا۔

 اس کے برعکس subjective thinking میں انسان کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ کہیں سے اور کسی طرح سے کوئی ایسی بات ملے جس سے اس کی پسند وناپسند کی تصدیق و تائید ہوتی ہو۔ ایسا انسان کتنی بھی معلومات جمع کر لے‘ علم حاصل کرلے اور تحقیق کر لے‘ اس کے دل و دماغ کھلی کھلی نشانیوں کو بھی قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔

 اس حوالہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جس طرح قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرنے کے لئے تقویٰ شرط ہے (البقرۃ:2) اسی طرح ہمارے اپنے وجود اور اس کائنات میں بکھری ہوئی بےشمار نشانیوں (حٰمٓ السجدۃ:53) سے عرفان حاصل کرنے کے لئے objective thinking شرط ہے۔ ع

فیضانِ محبت عام تو ہے ‘ عرفانِ محبت عام نہیں! اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ۙ وَّلَا تُسْـــَٔـلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِيْمِ   ١١٩؁
(اِنَّا : بیشک ہم نے ) (اَرْسَلْنٰکَ : بھیجا آپؐ کو ) (بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ) (بَشِیْرًا : خوشخبری دینے والا ہوتے ہوئے) ( وَّنَذِیْرًا : اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے) ( وَلَا تُسْئَلُ : اور آپ سے نہیں پوچھا جائے گا) ( عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِِ : دوزخ والوں کے بارے میں)



 ترکیب : ’’ اِنَّا‘‘ دراصل’’ اِنَّ نَا‘‘ ہے۔ ضمیر منصوبہ ’ نَا‘ ’ اِنَّ‘ کا اسم ہے۔ ’’ اَرْسَلْنٰکَ‘‘ سے ’’ نَذِیْرًا‘‘ تک جملہ فعلیہ ’’ اِنَّ‘‘ کی خبر ہے۔ ’’ اَرْسَلْنَا‘‘ فعل ہے‘ اس میں شامل ’’ نَا‘‘ ضمیر متصل مرفوع کی ضمیر اس کا فاعل ہے اور ضمیر مفعولی ’’ کَ‘‘ مفعول ہے۔ ’’ بالحق‘‘ جار ومجرور یا تو ضمیر مفعولی ’’ کَ‘‘ سے حال واقع ہونے کی بنا پر مقام نصب میں ہیں اور تقدیر عبارت یوں ہے : ’’ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ وَمَعَکَ الْحَقُّ‘‘ اور یا فاعل سے حال واقع ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے ۔ تقدیر عبارت یوں ہے :’’ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ وَمَعَنَا الْحَقُّ‘‘ جبکہ ’’ بَشِیْرًا ‘‘ اور ’’ نَذِیْرًا‘‘ ضمیرمفعولی ’’ کَ‘‘ کا حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ ’’ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا‘‘ عطف ہو کر مقام نصب میں ہے ۔ وَلَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ مرفوع اور بضم التاء پڑھنے کی صورت میں حال ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہے :’’ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّغَیْرَمَسْئُوْلٍ عَنْ اَصْحَابِ الْجَحِیْمِ ‘‘۔ مضارع مجہول ہے اور اس میں شامل ’’ اَنْتَ‘‘ کی ضمیر نائب الفاعل ہے۔ نیز بصیغہ نہی وَلَا تُسْئَلْ پڑھنا بھی جائز ہے ‘ اس صورت میں جملہ مستأنفہ ہو گا۔



 نوٹ (1) مطلب یہ ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ حضور ﷺ سے یہ نہیں پوچھے گا کہ ہم نے حق دے کر آپ کو بھیجا تھا‘ لوگوں کو خوشخبری دینا اور خبردار کرنا آپ کی ذمہ داری تھی‘ تو پھر یہ اتنے لوگ جہنمی کیوں قرار پائے۔ اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ کسی کوشش کے نتیجے کے بارے میں قیامت کے دن انسان کو جوابدہی نہیں کرنی ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نتیجہ پر انسان کا اختیار نہیں ہے۔ کسی کوشش کا نتیجہ نکلے گا یا نہیں‘ کب نکلے گا‘ کتنا نکلے گا‘ یہ سارے فیصلے اللہ تعالیٰ نے اپنے قبضۂ قدرت میں رکھے ہوئے ہیں اور ان کا کوئی اختیار اس نے انسان کو delegate نہیں کیا ہے ۔ اس لئے نتیجہ سے انسان بری ٔالذمہ ہے۔

 البتہ کوشش کرنے یا نہ کرنے کا اختیار اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کوشش کی quantity اور quality دونوں پر انسان کو کنٹرول دیا گیا ہے۔ اس لئے قیامت میں اس کی کوششوں کے متعلق انسان سے پوچھا جائے گا اور اس کی اسے جواب دہی کرنی ہو گی۔ وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ ۭ قُلْ اِنَّ ھُدَى اللّٰهِ ھُوَ الْهُدٰى ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ  ١٢٠؁
(وَلَنْ تَرْضٰی : اور ہرگز راضی نہیں ہوں گے ) (عَنْکَ : آپؐ سے ) ( الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی : یہودی اور نہ ہی عیسائی) (حَتّٰی : یہاں تک کہ ) (تَتَّبِعَ : آپؐ پیروی کریں) (مِلَّتَھُمْ : ان کے عقیدوں کی) (قُلْ : آپؐ کہئے ) (اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ : بیشک اللہ کی ہدایت) (ھُوَ الْھُدٰی : ہی کل ہدایت ہے ) (وَلَئِنِ : اور اگر) (اتَّبَعْتَ : آپؐ نے پیروی کی ) (اَھْوَآئَ ھُمْ : ان کی خواہشات کی) (بَعْدَ الَّذِیْ : اس کے بعد جو ) (جَآئَ کَ : آیا آپ کے پاس) (مِنَ الْعِلْمِ : العلم میں سے ) (مَالَکَ : تو نہیں ہے آپؐ کے لئے) (مِنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف ) سے) (مِنْ وَّلِیٍّ : کوئی بھی کارساز) (وَّلاَ نَصِیْرٍ : اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی مددگار)



رض ی

 رَضِیَ (س) رِضًی اور مَرْضَاۃً : (1) کسی سے راضی ہونا۔ اس معنی میں عموماً ’’ عَنْ‘‘ کا صلہ آتا ہے۔ {رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ط} (المائدۃ:119) ’’ اللہ راضی ہوا ان سے اور وہ لوگ راضی ہوئے اس سے۔‘‘ (2) کسی چیز کو پسند کرنا۔ اس معنی میں ’’ بِ‘‘ کا صلہ آتا ہے یا مفعول بنفسہ آتا ہے۔ {اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ ج} (التوبۃ:38) ’’ کیا تم لوگوں نے پسند کیا دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں۔‘‘ {وَرَضِیْتُ لَــکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاط} (المائدۃ:3) ’’ اور میں نے پسند کیا تمہارے لئے اسلام کو بطور دین۔‘‘

 رَاضِیَۃً (فَاعِلٌ مؤنث فَاعِلَۃٌ کے وزن پر اسم الفاعل) : راضی ہونے والا‘ پسند کرنے والا۔ {وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَۃٌ ۔ لِّسَعْیِھَا رَاضِیَۃٌ ۔ } (الغاشیۃ) ’’ کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہونے والے ہیں‘ اپنی کوشش پر راضی ہونے والے ہیں۔‘‘

 مَرْضِیَّۃٌ : ناقص کے اسم المفعول کے وزن مَرْضِیٌّ کا مؤنث ہے۔ مطلب ہے پسند کیا ہوا‘ پسندیدہ۔ {یٰـاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ۔ ارْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ۔ } (الفجر) ’’ اے مطمئن جان! تو واپس چل اپنے رب کی طرف ‘ پسند کرنے والی ہوتے ہوئے‘ پسندیدہ ہوتے ہوئے۔‘‘

 رَضِیٌّ : فَعِیْلٌ کے وزن پر اسم المفعول کے معنی میں صفت ہے۔ {وَاجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّا ۔ } (مریم) ’’ اور تو بنا اس کو‘ اے میرے ربّ‘ پسندیدہ۔‘‘

 رِضْوَانٌ (اسم ذات): خوشنودی ۔ {وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکْبَرُ} (التوبۃ:73) ’’ اور اللہ کی خوشنودی سب سے بڑی ہے۔‘‘

 اِرْضَائٌ (باب اِفعال) : کسی کو راضی کرنا۔ {یُرْضُوْنَــــکُمْ بِاَفْوَاھِھِمْ} (التوبۃ:8) ’’ وہ راضی کرتے ہیں تم لوگوں کو اپنے مُنہ سے (یعنی اپنی باتوں سے) ۔‘‘

 تَرَاضٍ : باب تفاعل کا مصدر ہے۔ باہم ایک دوسرے سے راضی ہونا۔ {اِلاَّ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْقف} (النسائ:29) ’’ سوائے اس کے کہ وہ ہو کوئی سودا تم لوگوں کے باہم راضی ہونے سے۔‘‘

 اِرْتِضَائٌ (اِفتعال ) : اہتمام سے پسند کرنا۔ {وَلَا یَشْفَعُوْنَ اِلاَّ لِمَنِ ارْتَضٰی} (الانبیائ:28) ’’ اور وہ شفاعت نہیں کریں گے مگر جس کے لئے وہ پسند کرے گا۔‘‘

مِلَّۃ

 امام راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ دین کی طرح ’’ مِلَّۃ‘‘ بھی اس دستور الٰہی کا نام ہے جو اللہ اپنے بندوں کے لئے جاری فرماتا ہے‘ تاکہ اس پر چل کر انسان قربِ خداوندی حاصل کرسکے اور یہ دستور انبیاء کی وساطت سے بندوں تک پہنچتا ہے۔ لیکن قرآن مجید میں لفظ ملت کا اطلاق کئی جگہ باطل مذاہب پر بھی ہوا ہے جو خود انسانوں کا تراشیدہ تھا‘ دستور الٰہی پر مبنی نہ تھا۔ جیسا کہ حضرت یوسف نے جیل خانہ کے دونوں قیدیوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:{اِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ } اسی طرح سورۃ ’’ ص‘‘ میں اللہ عزوجل نے قریش کا قول نقل فرمایا ہے : {مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ} (آیت 7) اس آیت کریمہ کی تفسیر میں علامہ بغوی نے معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ ’’ ابن عباس‘ کلبی اور مقاتل کے نزدیک ملۃٌ آخرۃٌ سے مراد نصرانیت ہے ‘ اس لئے کہ نصرانیت توحید سے خالی ہو چکی تھی (اور تثلیث پر مبنی تھی) مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مذہب قریش مراد ہے‘‘۔ مِلۃٌ آخرۃٌ سے مذہب قریش مراد ہو یا تثلیث پر مبنی نصرانیت‘ دونوں دستور الٰہی پر مبنی نہیں تھیں۔ اس صورت میں راغب کا یہ کہنا کہ ملت دین ہی کی طرح دستور الٰہی کا نام ہے ‘ بظاہر غلط معلوم ہوتا ہے ۔ شاید راغب کی مراد یہ ہو کہ ’’ مِلَّۃ‘‘ اصل میں تو دستور الٰہی ہی کا نام ہے جو انبیاء کی معرفت بھیجا جاتا ہے ‘ لیکن اگر انسانی دماغ کبھی اس میں خرد برد کرلیں تب بھی بطور مجاز اس پر لفظ ملت کا اطلاق ہو جاتا ہے کیونکہ خرد برد کرنے والوں کے دعویٰ میں تو شکستہ اور بریدہ دین یا دستور بھی اللہ کا بھیجا ہوا دین ہوتا ہے۔ واللہ اعلم!

 امام راغب نے ملۃ اور دین کا فرق ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ لفظ ’ ملت‘ کی اضافت صرف انبیاء کی طرف ہوتی ہے کسی غیر نبی کی طرف نہیں‘ اسی طرح اس کی اضافت اللہ کی طرف بھی نہیں ہوتی۔ چنانچہ ’’ مِلّۃُ اللّٰہ‘‘ اور ’’ مِلۃُ زیدٍ‘‘ یا’’ مِلَّتِی‘‘ نہیں کہا جاتا ۔ ہاں ’ دین‘ کا استعمال عام ہے‘‘۔

 معلوم ایسا ہوتا ہے کہ لفظ ’’ ملت‘‘ کی انبیاء کے ساتھ تخصیص بھی امام راغب کے اسی نظریہ پر مبنی ہے کہ ملت صرف دستور الٰہی کا نام ہے جو انبیاء کی معرفت بھیجا جاتا ہے۔ کیونکہ غیر انبیاء کی طرف اضافت خود سورئہ یوسف کی آیت {اِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ } میں موجود ہے۔

 امام راغب نے لفظ ’’ ملت‘‘ کا استعمالی ماخذ أمللت الکتاب کو قرار دیا ہے ‘ اگر کوئی تحریر آپ کسی سے لکھوائیں تو کہیں گے أمللت الکتاب ۔ تو گویا اللہ کی جاری کردہ یا تحریر کردہ چیز ’’ ملۃ‘‘ ہوئی۔

 ترکیب : واواستیناف اور ’’ لَــنْ‘‘ حرفِ نفی‘ نصب اور استقبال ہے۔ ’’ تَرْضٰی‘‘ فعل مضارع منصوب بِلَنْ ہے۔ ’’ عَنْکَ‘‘ جار ومجرور متعلق ’’ تَرْضٰی‘‘ ’’ الْیَھُوْدُ‘‘ فاعل ’’ وَلَا النَّصَارٰی‘‘ اَ لْیَھُوْدُپر عطف ہے۔ ’’ حَتّٰی‘‘ حرف غایت و جر ’’ تَـــــتَّبِعَ‘‘ فعل مضارع منصوب بان مضمرۃ وجوبا بعد حتی ’’ مِلَّتَھُمْ‘‘ مفعول بہ اور فاعل تَتَّبِعَ میں اَنْتَ ضمیر مقدر۔ ’’ قُلْ‘‘ فعل امر مبنی علی السکون والجملۃ مستانفۃ ۔ ’’ اِنَّ‘‘ حرف مشبہ بالفعل ’’ ھُدَی اللّٰہِ‘‘ اس کا اسم۔’’ ھُوَ‘‘ مبتدا ’’ الْھُدٰی‘‘ اس کی خبر‘ یہ جملہ اسمیہ ’’ اِنَّ‘‘ کی خبر ’’ وَلَئِنْ‘‘ واو استیناف ۔ ’’ لام‘‘ موطئہ للقسم ’’ اِنْ‘‘ حرف شرطِ جازم ’’ اِتَّبَعْتَ ‘‘ فعل ماضی محلاً مجزوم تاء ضمیر بارز فاعل ’’ اَھْوَائَ ھُمْ‘‘ مفعول بہ۔ جواب شرط محذوف ہے جس پر جواب قسم دلالت کرتا ہے۔ ’’ بَعْدَ‘‘ ظرف۔ ’’ اَلَّذِیْ‘‘ اسم موصول بعد کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے محلاً مجرور‘ اور یہ متعلق ہے ’’ اِتَّبَعْتَ‘‘ کے ’’ جَائَ کَ‘‘ صلہ ہے موصول کا۔ ’’ مِنَ الْعِلْمِ‘‘ لفظاً مجرور محلاً منصوب ہے جَائَ کے خبر فاعل سے حال ہونے کی بناء پر۔ تقدیر عبارت یوں ہے ’’ جَائَ کَ کَاَنَّ مِنَ الْعِلْمِ ۔ ’’ مَالَکَ‘‘ ما نافیہ ’’ لَکَ‘‘ جار مجرور متعلق لمحذوف خبر مقدم ’’ مِنَ اللّٰہِ‘‘ جار مجرور متعلق ولی کے۔ ’’ مِنْ وَّلِیٍّ‘‘ من جر زائد ولی مجرور لفظاً مرفوع محلا عَلٰی انہ مبتدا مؤخر۔ ’’ وَلَا نَصِیْرٍ‘‘ عطف علی ’’ ولی‘‘۔



نوٹ (1) لفظ ’’ ھُدًی‘‘ مبنی کی طرح استعمال ہوتا ہے۔ اس آیت میں ’’ ھُدَی اللّٰہِ‘‘ کے حوالے سے یہ بات نوٹ کرلیں کہ مبنی کی طرح ہونے کے باوجود جب یہ مضاف بنتا ہے تو اس کی تنوین ختم ہو جاتی ہے۔

 نوٹ (2) پنجابی کی ایک کہاوت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کہنا بیٹی سے لیکن سنانا بہو کو۔ اس آیت میں خطاب کا انداز یہی ہے۔ بظاہر خطاب حضور ﷺ سے ہے لیکن درحقیقت ہم لوگوں کے کان کھولے گئے ہیں اور خبردار کیا گیا ہے۔

 نوٹ (3) اس آیت میں استعمال ہونے والے الفاظ ’’ مِلَّتَھُمْ‘‘ اور ’’ اَھْوَائَ ھُمْ‘‘ نیز ’’ ھُدَی اللّٰہ‘‘ اور ’’ اِلْعِلْمِ‘‘ کے مابین جو ربط و ترتیب ہے اس پر اگر تھوڑا سا غور کریں تو آیت کے بین السطور پیغام کو آسانی سے سمجھاجا سکتا ہے۔ وہ پیغام یہ ہے کہ یہود‘ عیسائی یا دنیا کے دیگر عقائد و نظریات کی بنیاد دراصل ان عقائد کے حامل افراد کی خواہشات پر رکھی گئی ہے۔ ایسے نظریات میں علم کا جو عنصر شامل ہوتا ہے ‘ اسے analyse کرنے کے بجائے rationalise کیا جاتا ہے یعنی subjective thinking سے کام لیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رُسل کے ذریعہ جو ہدایت بھیجی ہے اس کی بنیاد اصل اور حقیقی علم پر ہے اور وہ انسانی خواہشات سے پاک ہے۔

 کسی استثناء کے بغیر دنیا کے تمام نظریات اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ کسی چیز کا حقیقی علم اس کے ڈیزائنر اور مینوفیکچرر کے پاس ہی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کے تقریباً تمام نظریات اللہ تعالیٰ کو کسی نہ کسی نام سے جانتے ہیں اور اسے اس کائنات کا مصور اور خالق تسلیم کرتے ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کر لینے کے بعد اس کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کو ترجیح دینا بالکل غیر منطقی حرکت ہے۔ اس صورت میں انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے لوگوں کو ان کی خواہشات کے حوالے کردیا جائے۔ اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ   ١٢١۝ۧ
( اَلَّذِیْنَ : وہ لوگ ) (اٰتَیْنٰھُمْ : ہم نے دی جن کو ) (الْکِتٰبَ : کتاب) (یَتْلُوْنَــــــہٗ : وہ لوگ تلاوت کرتے ہیں اس کی) (حَقَّ تِلَاوَتِہٖ : جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے) (اُولٰئِکَ : وہ لوگ ) (یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ : ایمان لاتے ہیں اس پر) (وَمَنْ : اور جو ) (یَّکْفُرْ بِہٖ : انکار کرتا ہے اس کا) (فَاُولٰئِکَ : تو وہ لوگ ) (ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ : ہی خسارہ پانے والے ہیں)



 ترکیب : ’’ اٰتَیْنَا ‘‘ کا فاعل ’’ نَا ‘‘ ضمیر بارز مرفوع متصل ہے نہ کہ ’’ نَحْنُ‘‘ جو ضمیر مرفوع منفصل ہے۔ اس کا مفعولِ اوّل ’’ ھُمْ‘‘ کی ضمیر ہے جو ’’ اَ لَّذِیْنَ‘‘ کے لئے ہے اور اس کا مفعول ثانی ’’ اَلْکِتٰبَ‘‘ ہے۔ یہ پورا جملہ ’’ اَ لَّذِیْنَ‘‘ کا صلہ ہے۔ اور یہ صلہ اور موصول مل کر مبتدأ ہے۔ ’’ یَتْلُوْنَ ‘‘ کا فاعل وائو ضمیر مرفوع بارز متصل ہے جو ’’ اَ لَّذِیْنَ‘‘ کے لئے ہے‘ اس کا مفعول ’’ ہٗ‘‘ کی ضمیر ہے جو ’’ اَ لْکِتٰبَ‘‘ کے لئے ہے‘ جبکہ مرکب اضافی ’’ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ‘‘ صفت ہے اور موصوف ’’ تِلَاوَۃً ‘ ‘ محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہے : تِلَاوَۃً حَقَّ تِلَاوَتِہٖ اور پھر یہ مفعول مطلق ہے۔ ’’ یَتْلُوْنَـــہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ‘‘ یہ جملہ فعلیہ ہو کرخبر اوّل ’’ اُولٰئِکَ‘‘ مبتدا ٔہے اور جملہ فعلیہ ’’ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ‘‘ اس کی خبر ہے۔ پھر یہ مبتدأ و خبر مل کر جملہ اسمیہ ہو کر دوسری خبر ہے۔ اور یہ ترتیب محی الدین درویش نے اپنی کتاب اعراب القرآن میں کی ہے۔ جبکہ عکبری نے املاء ما منّ بہ الرحمان میں لکھا ہے کہ ’’ بِہٖ‘‘ میں ’’ ہٖ‘‘ کی ضمیر ’’ اَ لْکِتٰبَ‘‘ کے لئے ہے۔ ’’ مَن‘‘ شرطیہ ہے اس لئے ’’ یَکْفُرْ بِہٖ‘‘ مضارع مجزوم ہے اور یہ شرط ہے۔ جبکہ ’’ فَاُولٰئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ‘‘ جواب شرط ہے۔ ’’ یَتْلُوْنَـــہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ‘‘ کا جملہ ’’ ھُمْ‘‘ ضمیر یا ’’ اَلْکِتَاب‘‘ سے حال ہونے کی بنا پر مقام نصب میں ہے ’’ اَ لَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ‘‘ کی خبر نہیں ہے۔ کیونکہ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا کی ہے وہ سب کے سب اس کی ایسی تلاوت کرتے ہیں جس طرح اس کی تلاوت کا حق ہے اور ظاہر ہے کہ اہل کتاب کے سارے کے سارے افراد ایسے نہیں ہیں۔

 حق کے اصلی معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں اور اس کا استعمال چار طرح ہوتا ہے: (1) اس ذات کے لئے جو اپنی حکمت کے اقتضاء کی بناء پر کسی شے کی ایجاد فرمائے۔ اللہ عزوجل کو اسی لئے حق کہا جاتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : {وَرُدُّوْا اِلَی اللّٰہِ مَوْلٰــھُمُ الْحَقُّ} (یونس:30) {فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّـکُمُ الْحَقُّ} (یونس:32)

 (2) وہ چیز کہ جو حکمت کے اقتضاء کے مطابق ایجاد کی گئی ہو۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کل فعل حق ہیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : {ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَائً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ط مَا خَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلاَّ بِالْحَقِّ ج} (یونس:5)

 (3) کسی شے کے متعلق وہ اعتقاد رکھنا جو نفس الامر کے مطابق ہو ۔ ارشاد ربانی ہے : {فَھَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ}(البقرۃ:213)

 (4) وہ قول یا فعل جو اسی طرح واقع ہو جس طرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو کہ جس مقدار اور جس وقت میں اس کا ہونا واجب ہے۔ چنانچہ قولِ حق اور فعلِ حق اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:{وَلٰـکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ} (السجدۃ:13)

 آیت زیر بحث میں ’’ حق ‘‘ کا مؤخر الذکر مفہوم مراد ہے۔



 نوٹ (1) اس آیت کے الفاظ عمومیت کے حامل ہیں۔ اس لئے شریعت موسوی ؑ میں تورات‘ شریعت عیسوی ؑ میں انجیل اور شریعت محمدیؐ میں قرآن مجید پر ’’ الْکِتٰب‘‘ کا اطلاق ہو گا۔

 نوٹ (2) لفظ تلاوت کا مطلب ہے کتاب پڑھ کر اس کی پیروی کرنا۔ اس لئے ’’ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ‘‘ کا تعلق شریعت پر عمل کرنے سے ہے۔ اسی طرح ’’ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ‘‘ اور ’’ یَکْفُرْ بِہٖ‘‘ ایمانِ عملی اور انکارِ عملی کے لئے آیا ہے۔ اور شریعت پر عمل نہ کرنے والے کا شمار خسارہ پانے والوں میں ہو گا۔

 نوٹ (3) شریعت موسوی ؑ اور شریعت عیسوی ؑ کے زمانے میں سمجھ اور عمل کے بغیر مجرد تورات یا انجیل کی تلاوت بھی ثواب سے خالی نہیں تھی۔ اسی طرح آج کے زمانے میں مجرد قرآن مجید کی تلاوت بھی ثواب سے خالی نہیں ہے۔ لیکن اس ثواب کے ہوتے ہوئے بھی شریعت پر عمل نہ کرنا خسارے کا سودا ہے۔ کیونکہ جنت میں کم تر درجہ پانا بھی خسارہ ہے‘ براستہ (via) جہنم‘ جنت میں جانا بھی خسارہ ہے ‘ اور جس کے لئے خلود فی النار کا حکم ہو گا تو وہ خسارے کی انتہا ہے۔ يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ  ١٢٢۝
(یٰــبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ : اے اسرائیل ؑ کے بیٹو) (اذْکُرُوْا : تم لوگ یاد کرو ) (نِعْمَتِیَ : میری نعمت کو ) (الَّتِیْ : جس کو کہ) (اَنْعَمْتُ : میں نے انعام کیا ) (عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر) ( وَاَ نِّیْ : اور یہ کہ ) (فَضَّلْتُـکُمْ: میں نے فضیلت دی تم لوگوں کو) (عَلَی الْعٰلَمِیْنَ : سب جہانوں پر )



 یٰــبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ ’’ یَا‘‘ حرفِ ندا ’’ بَنِیْ‘‘ منادیٰ مضاف ‘ علامت نصب ’’ یاء ‘‘ ہے‘ کیونکہ یہ ملحق بجمع مذکر سالم ہے۔ ’’ ابْنٌ‘‘ کی اصل ’’ بَنَــوٌ‘‘ بر ورزن ’’ فَعَلٌ‘‘ ہے ۔ ناقص واوی ہے اور دلیل یہ ہے کہ اس کا مصدر ’’ بُنُوَّۃٌ ‘‘ ہے۔ اس کی جمع مکسر ’’ اَبْنَائٌ ‘‘ اور جمع سلامت ’’ بُنُوْنَ ‘‘ آتی ہے۔

 بعض علماء کا خیال ہے کہ اس کا لام کلمہ بجائے ’’ واؤ‘‘ کے ’’ یائ‘‘ ہے اور یہ ناقص یائی ہے۔ اور یہ مشتق ہے بَنٰی یَبْنِیْ بِنَائً بمعنی وضع الشی ٔ ‘ علی الشیء سے ۔ چونکہ ’’ ابن ‘‘ فرع ہونے کی بناء پر موضوع اور ’’ اَبٌ ‘ ‘ اصل ہونے کی بناء پر موضوع علیہ ہے۔ باقی رہا اس کے مصدر کا ’’ بُنُوَّۃٌ ‘‘ کے وزن پر آنا تو یہ اس کے ناقص واوی ہونے کی دلیل نہیں ‘ کیونکہ فَتٰی جو ناقص یائی ہے اس کا مصدر بھی ’’ فُتُوَّۃٌ ‘‘ کے وزن پر آتا ہے۔ ’’ اسرائیل‘‘ اسباب منع صرف میں سے علمیت اور عجمہ ہونے کی بنا پر غیر منصرف ہے ۔ اس کے مختلف تلفظ ہیں: ’’ اسرائیل‘ سراییل‘ اسرایل‘ اسرال اور اسرائین۔

 اسی انداز کی آیت کریمہ چونکہ پہلے گزر چکی ہے اس لئے ترکیب کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِيْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ   ١٢٣؀
(وَاتَّقُوْا : اور تم لوگ بچو) (یَوْمًا : ایک ایسے دن سے جب ) (لاَّ تَجْزِیْ : کام نہیں آئے گی ) (نَفْسٌ : کوئی جان ) (عَنْ نَّفْسٍ : کسی جان کے ) (شَیْئًا : کچھ بھی) (وَّلَا یُقْبَلُ : اور قبول نہیں کیا جائے گا) (مِنْھَا : اس سے ) (عَدْلٌ : بدلے میں کچھ ) (وَّلَا تَنْفَعُھَا : اور نفع نہیں دے گی اس کو) (شَفَاعَۃٌ : کوئی شفاعت ) (وَّلَا ھُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ ) (یُنْصَرُوْنَ : مدد دیئے جائیں گے )

 نوٹ (1) بلیغ کلام کی ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ بات کی ابتداء جامع بات سے ہوتی ہے‘ پھر اس کی تفصیل بیان کی جاتی ہے ‘ اور بات ختم کرتے وقت خلاصہ کے طور پر جامع بات کا اعادہ کیا جاتا ہے ۔ جیسے ہم کہیں ’’ تکبر بہت بری چیز ہے‘‘۔ پھر تکبر کی تعریف‘ اس کی علامات‘ اس کے اثرات اور نقصانات بیان کرنے کے بعد بات ختم کرتے ہوئے کہیں ’’ غرضیکہ تکبر بہت بری چیز ہے‘‘۔

 آیات زیر مطالعہ میں سورۃ البقرۃ کی آیت 47 کو لفظ بہ لفظ اور آیت 48 کو تھوڑی سی لفظی تبدیلی کے ساتھ دہرایا گیا ہے۔ یہ وہی بلاغت کا انداز ہے اور اس سے معلوم ہو گیا کہ بنواسرائیل سے براہِ راست خطاب اب اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ۭ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ ۭ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ   ١٢٤؀
(وَاِذِ ابْتَلٰی : اور جب آزمایا ) (اِبْرٰھٖمَ : ابراہیم ؑ کو) (رَبُّـــــہٗ : ان کے رب نے ) (بِکَلِمٰتٍ : کچھ فرمانوں سے) (فَاَتَمَّھُنَّ تو انہوں نے پورا کیا ان کو) ( قَالَ : اس نے ( یعنی اللہ نے) کہا) (اِنِّیْ : کہ میں ) (جَاعِلُکَ : بنانے والا ہوں آپؑ کو) (لِلنَّاسِ : لوگوں کے لئے ) (اِمَامًا : ایک پیشوا) (قَالَ : انہوں ؑ نے کہا) (وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ : اور میری نسل میں سے) (قَالَ : اس نے کہا ) (لَا یَنَالُ : نہیں پہنچتا) (عَھْدِیْ : میرا وعدہ) (الظّٰلِمِیْنَ : چیزوں کو غلط جگہ رکھنے والوں کو)





ت م م

 تَمَّ(ض) تَمَامًا : کسی چیز کی ہر کمی یا نقص کا دور ہو جانا‘ پورا ہونا‘ تمام ہونا۔ {وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ} (الانعام:115) ’’ اور پورا ہوا تیرے رب کا فرمان۔‘‘

 اَتْمَمَ ۔ اِتْمَامًا (افعال) : پورا کرنا‘ تمام کرنا ۔{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَـــکُمْ دِیْنَــکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْـکُمْ نِعْمَتِیْ } (المائدۃ:3) ’’ آج میں نے مکمل کیا تمہارے لئے تمہارے دین کو اور میں نے تمام کی تم پر اپنی نعمت۔‘‘

 اَتْمِمْ (فعل امر) : تو پورا کر۔ {رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا} (التحریم:8) ’’ اے ہمارے رب! تو پورا کر دے ہمارے لئے نور کو۔‘‘

 مُتِمٌّ (اسم الفاعل) : پورا کرنے والا ۔{وَاللّٰہُ مُتِمُّ نَوْرِہٖ} (الصّف:8) ’’ اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے۔‘‘

ذُرِّیَّۃٌ

 ذُرِّیَّـــۃ : اولاد۔ اصل میں چھوٹے بچوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ‘ مگر عرف میں چھوٹی اور بڑی سب اولاد کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اصلاً تو یہ جمع ہے مگر واحد اور جمع دونوں کے لئے مستعمل ہے۔ ’’ ذُرِّیَّـــۃٌ ‘‘ کے ماخذ کے بارے میں تین اقوال ہیں: (1) یہ ’’ ذرأٌ‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی پیدا کرنے اور پھیلانے کے ہیں‘ اس کی ہمزہ متروک ہو گئی ہے ‘ جیسے ’’ بَرِیَّــــۃٌ‘‘ میں۔ (2) اس کی اصل ’’ ذُرْوِیَۃٌ ‘‘ ہے۔ (3) یہ ’’ ذرٌّ ‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی بکھیرنے کے ہیں۔ ’’ فُعْلِیَّۃٌ ‘‘ کے وزن پر ہے‘ جیسے ’’ قُمْرِیَّــــۃٌ‘‘ ۔’’ ذُرَارِیْ‘‘ اور ’’ ذُرِّیَّاتٌ‘‘ جمع۔

ن ی ل

 نَالَ (ف) نَیْــــــــلًا : (1) مطلوبہ چیز کو حاصل کرنا (2) مطلوب کا پہنچنا۔ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ط} (آل عمران:92) ’’ تم لوگ ہرگز حاصل نہیں کرو گے نیکی کو یہاں تک کہ تم لوگ انفاق کرو اس میں سے جو تم کو محبوب ہے۔‘‘ {لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُھَا وَلَا دِمَائُ ھَا} (الحج:37) ’’ ہرگز نہیں پہنچتا اللہ کو ان کا گوشت اور نہ ہی ان کا خون۔‘‘

 نَیْلٌ (اسم ذات) : مطلوبہ چیز۔ {وَلَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْــــلًا} (التوبۃ:120) ’’ اور وہ لوگ حاصل نہیں کرتے کسی دشمن سے کوئی مطلوبہ چیز۔‘‘

 ترکیب : ’’ اِذْ‘‘ فعل محذوف کا مفعول فیہ ہونے کی بنا پر مقام نصب میں ہے ۔ تقدیر عبارت یوں ہے:’’ اُذْکُرْ اِذِ ابْتَلٰی ‘‘ اِبْتَلٰیفعل‘ ’ اِبْرٰھٖمَ‘‘ مفعول اور ’’ رَبُّــــــــہٗ‘‘ فاعل ہے۔ ’’ رَبُّــــــہٗ‘‘ میں’’ ہٗ‘‘ کی ضمیر ابراہیمَ کے لئے ہے جبکہ ’’ بِکَلِمٰتٍ‘‘ متعلق فعل ہے۔ ’’ فا ‘‘ عاطفہ ’’ اَتَمَّ‘‘ فعل‘ اس کا فاعل اس میں شامل ’’ ھُوَ‘‘ کی ضمیر ہے جو ابراہیم ؑ کے لئے ہے اور ’’ ھُنَّ‘‘ ضمیر مفعولی ہے جو ’’ کَلِمٰتٍ‘‘ کے لئے ہے۔ اور یہ جملہ عطف ہے اِبْتَلٰی پر ۔’’ اِنِّیْ‘‘ میں ’’ اِنَّ‘‘ کے ساتھ اس کا اسم یائے متکلم ہے اور ’’ جَاعِلُکَ اِمَامًا‘‘ اس کی خبر ہے۔ جبکہ ’’ لِلنَّاسِ‘‘ متعلق جَاعِلُکَ ہے۔ یا یہ حال ہونے کی بناء پر مقام نصب میں ہے اور عبارت یوں ہے: انی جاعلک امامًا للناس۔ اسم الفاعل ’’ جَاعِلٌ‘‘ مضاف ہونے کی وجہ سے ’’ جَاعِلُ‘‘ آیا ہے اور فعل کا کام کر رہا ہے۔ ضمیر مفعولی ’’ کَ‘‘ اس کا مفعول اوّل اور ’’ اِمَامًا‘‘ مفعول ثانی ہے۔ ’’ لَا یَنَالُ‘‘ کا فاعل ’’ عَھْدِیْ‘‘ ہے اور’’ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ مفعول ہے۔ ’’ قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ‘‘ اصل میں ’’ قَالَ اجْعَلْ فَرِیْقًا مِنْ ذُرِّیَّتِیْ اِمَامًا‘‘ ہے۔



 نوٹ (1) اس آیت میں ہماری راہنمائی کے متعدد پہلو ہیں۔ ان میں سے چند کو سمجھ کر ذہن نشین کر لیں۔ (1) ’’ اِبْتَلٰی‘‘ کے فاعل کے لئے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے لفظ رب آیا ہے۔ رب اس ہستی کو کہتے ہیں جو کسی چیز کو درجہ بدرجہ ترقی دے کر اس کے درجۂ کمال تک پہنچا دے۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ حضرت ابراہیم کی آزمائشیں نعوذ باللہ کسی غلطی یا خطا کی پاداش میں نہیں تھیں ‘ بلکہ ان کی تربیت کی غرض سے تھیں۔

 (2) حضرت ابراہیم کے امتحانات کی نوعیت علمی (Theoritical) نہیں تھی‘ بلکہ (Practical) تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عملی ثابت قدمی یعنی صبر سے علم اور یقین‘ دونوں کی کیفیت از خود عیاں ہو جاتی ہے۔ اور جب کسی انسان کا علم و یقین عمل میں ڈھلتا ہے تو اس کا نقد انعام ہے لوگوں کی امامت۔

 (3) حضرت ابراہیمں نے اپنی نسل میں امامت کا جو سوال کیا تھا وہ دنیوی غرض سے نہ تھا بلکہ آخرت کے رتبہ اور مقام کے لئے تھا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ ہم لوگ جو بھی نیک اعمال کرتے ہیں اس کا فائدہ ہمارے آباء و اجداد کو پہنچتا ہے۔

 (4) حضرت ابراہیمں کے سوال کا اللہ تعالیٰ نے جو جواب دیا وہ منفی نہیں بلکہ مثبت ہے۔ البتہ مشروط ہے۔ اس لئے لَا یَنَالُ سے پہلے نَعَمْ وَلٰـــکِنْ محذوف مان کر پڑھیں تو بات پوری طرح سمجھ میں آجائے گی۔

 (5) اللہ تعالیٰ کے مشروط جواب سے معلوم ہوجاتا ہے کہ امامت کے مقام و رتبہ کا تعلق نسل سے نہیں بلکہ عمل سے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امامت دراصل زمین پر اللہ تعالیٰ کی خلافت ہے اور یہ کسی باغی یا نافرمان کو نہیں دی جا سکتی۔ وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا ۭ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ  اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى ۭ وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ   ١٢٥؁
(وَاِذْ جَعَلْنَا : اور جب ہم نے بنایا) (الْبَیْتَ : اس گھر کو ) (مَثَابَۃً : اپنے اصل کی طرف لوٹنے کا ایک ٹھکانہ) (لِّلنَّاسِ : لوگوں کے لئے ) (وَاَمْنًا : اور امن میں ہونا) (وَاتَّخِذُوْا : اور تم لوگ بنائو) (مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھِیْمَ : ابراہیم ؑ کے کھڑے ہونے کی جگہ میں سے) (مُصَلًّی : نماز کی جگہ) (وَعَھِدْنَا : اور ہم نے تاکید کی ) (اِلٰی اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ : ابراہیم ؑ کو اور اسماعیل ؑ کو) (اَنْ طَھِّرَا : کہ وہ دونوں پاک رکھیں) (بَیْتِیَ : میرے گھر کو ) (لِلطَّآئِفِیْنَ : طواف کرنے والوں کے لئے) (وَالْعٰکِفِیْنَ : اور اعتکاف کرنے والوں کے لئے ) (وَالرُّکَّعِ : اور رکوع کرنے والوں کے لئے) (السُّجُوْدِ : سجدہ کرنے والوں کے لئے)



ب ی ت

 بَاتَ (ض) بَیْتًا : کسی جگہ رات گزارنا۔ {وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا ۔ } (الفرقان:) ’’ اور وہ لوگ جو رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لئے سجدے کی حالت میں اور قیام کی حالت میں۔‘‘

 بَیْتٌ ج بُیُوْتٌ (اسم ذات) : رات گزارنے کا ٹھکانہ‘ گھر۔ {اَوْ یَکُوْنَ لَکَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ} (بنی اسرائیل :93) ’’ یا ہوتا تیرے لئے کوئی گھر سنہرا۔‘‘ {لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا} (النور:27) ’’ تم لوگ داخل مت ہو کچھ گھروں میں اپنے گھروں کے علاوہ‘ یہاں تک کہ اجازت طلب کر لو۔‘‘

 بَیَاتٌ (اسم ذات) : رات۔ {اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَابُہٗ بَیَاتًا اَوْ نَھَارًا} (یونس:50) ’’ اگر پہنچے ‘ تم لوگوں کو اس کا عذاب رات کے وقت یا دن کے وقت۔‘‘

 تَبْـیِـــیْــتًا (تفعیل) : (1) رات میں حملہ کرنا‘ شب خون مارنا۔ (2) رات میں سوچ بچار کرنا‘ مشورہ کرنا۔ {قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ} (النمل:49) ’’ انہوں نے کہا آپس میں قسم کھائو اللہ کی کہ ہم لازماً شب خون ماریں گے اس پر۔‘‘{وَاللّٰہُ یَکْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ ج} (النسائ:81) ’’ اور اللہ لکھتا ہے جو وہ لوگ رات میں مشورہ کرتے ہیں۔‘‘

ط و ف

 طَافَ (ن) طَوَافًا : کسی کے گرد چکر لگانا‘ گھیرنا۔ {یَطُوْفُ عَلَیْھِمْ غِلْمَانٌ لَّھُمْ} (الطور:24) ’’ چکر لگاتے ہیں ان کے گرد کچھ خدام ان کے لئے۔‘‘

 یُطَافُ (مضارع مجہول) : چکر دیا جانا‘ گردش میں لایا جانا۔ {یُطَافُ عَلَیْھِمْ بِکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ ۔ } (الصّٰفّٰت) ’’ گردش دیئے جائیں گے ان کے لئے شراب کے جام۔‘‘

 طَائِفٌ ( فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل): چکر لگانے والا‘ گھیرنے والا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) ذہن میں گردش کرنے والا خیال‘ وسوسہ ۔ {اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّھُمْ طٰئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا} (الاعراف:201) ’’ بیشک جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کو جب بھی چھوتا ہے کوئی وسوسہ شیطان سے تو وہ لوگ خود کو یاد کراتے ہیں۔‘‘ (2) کوئی آفت جو انسان پر گھوم جائے۔ {فَطَافَ عَلَیْھَا طَائِفٌ مِّنْ رَّبِّکَ وَھُمْ نَائِمُوْنَ} (القلم:19) ’’ تو چکر لگایا اس پر ایک آفت نے آپؐ کے رب کی طرف سے اس حال میں کہ وہ لوگ سو رہے تھے۔‘‘ (3) طواف کرنے والا۔ آیت زیرِمطالعہ۔

 طَائِفَۃٌ : فَاعِلٌ کے مؤنث فَاعِلَۃٌ کا وزن ہے۔ اس کا زیادہ تر استعمال کسی بڑی جماعت‘ کے چھوٹے گروہ کے لئے ہوتا ہے۔ {وَدَّتْ طَآئِفَۃٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَـــکُمْط}(آل عمرآن:69) ’’ تمنا کی اہل کتاب کے ایک گروہ نے کہ کاش وہ لوگ بھٹکا دیں تم لوگوں کو۔‘‘

 طَوَّافٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ) : بار بار چکر لگانے والا‘ خادم۔ {طَوّٰفُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط} (النور:58) ’’ بار بار چکر لگانے والے ہیں تمہارے گرد‘ تم سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہو۔‘‘

 طُوْفَانُ ( فُعْلَانُ کے وزن پر مبالغہ) : بےانتہا گھیرنے والا۔ زیادہ تر انتہائی تیز ہوا اور بارش کے لئے آتا ہے‘ سائیکلون (Cyclone) ۔{فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الطُّوْفَانَ} (الاعراف:133) ’’ تو ہم نے بھیجا ان پر سائیکلون۔‘‘

ع ک ف

 عَکَفَ (ن) عَکْفًا : تعظیماً کسی سے وابستہ رہنا‘ چپکے بیٹھے رہنا (لازم) ‘ وابستگی سے روکنا (متعدی) ۔ {فَاَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُوْنَ عَلٰی اَصْنَامٍ لَّھُمْ ط} (الاعراف:138) ’’ تو وہ لوگ پہنچے ایک قوم پر جو چپکے بیٹھے رہتے ہیں اپنے بُتوں پر۔‘‘

 عَاکِفٌ (اسم الفاعل) : رُکا رہنے والا‘ اعتکاف کرنے والا۔ {قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَھَا عٰکِفِیْنَ ۔ } (الشعرائ) ’’ انہوں نے کہا ہم عبادت کرتے ہیں کچھ بُتوں کی تو ہم ہو جاتے ہیں ان کے لئے اعتکاف کرنے والے۔‘‘

 مَعْکُوْفٌ (اسم المفعول) روکا ہوا۔{وَالْھَدْیُ مَعْکُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّــــہٗ ط} (الفتح:25) ’’ اور قربانی کے جانور روکے گئے ہیں کہ وہ پہنچیں اپنی جگہ پر۔‘‘

 ترکیب : ’’ جَعَلْنَا‘‘ کا فاعل ’’ نَا‘‘ ضمیر بارز مرفوع متصل ہے ( نہ کہ ’’ نَحْنُ‘‘ جو ضمیر مرفوع منفصل ہے) جو اللہ کے لئے ہے۔ ’’ جَعَلْنَا‘‘ کا مفعول اوّل ’’ اَلْبَیْتَ‘‘ ہے اور اس پر لام تعریف لگا ہے‘ جبکہ ’’ مَثَابَۃً‘‘ مفعول ثانی ہے۔ یہ ترکیب اس صورت میں ہے اگر ’’ جَعَلْنَا‘‘ کو بمعنی’’ صَیَّرْنَا‘‘ لیا جائے۔ اور اگر ’’ جَعَلْنَا‘‘ بمعنی ’’ خَلَقْنَا‘‘ لیا جائے تو ’’ مَثَابَۃً‘‘ مفعول ثانی نہیں بلکہ ’’ اَلْبَیْتَ‘‘ سے حال ہونے کی بنا پر منصوب ہو گا‘ کیونکہ اس صورت میں ’’ جَعَلْنَا‘‘ متعدی بیک مفعول ہو گا۔ ’’ لِلنَّاسِ‘‘ یا تو صفت ہے مَثَابَۃً کی اور تقدیر عبارت یوں ہے: مَثَابَۃً کَا ئِنَۃً لِلنَّاسِ۔ اس صورت میں یہ کَائِنَۃً محذوف کے متعلق ہو گا اور یا ’’ جَعَلْنَا‘‘ کے متعلق ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے: لِاَجْلِ نَفْعِ النَّاسِ۔’’ اَمْنًا‘‘ مصدر ہے اور ’’ مَثُوْبَۃً‘‘ پر عطف ہے۔

 ’’ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھِیْمَ مُصَلّٰی‘‘ ’’ اِتَّخِذُوْا‘‘ فعل یا فاعل ’’ مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھِیْمَِ‘‘ متعلق ’’ اِتَّخِذُوْا‘‘ ’’ مُصَلًّی‘‘ مفعول بہٖ جملہ فعلیہ مقولہ (مفعول) ہے فعل محذوف ’’ قُـــــلْـــنَا‘‘ کا جو معطوف ہے ’’ وَاِذْ جَعَلْنَا‘‘ پر اور عبارت یوں ہے: ’’ وَقُلْنَا اتَّخِذُوْا مِنْ مَقَامِ اِبْرٰھِیْمَ مُصَلًّی‘‘۔’’ مُصَلًّی‘‘ باب تفعیل کا اسم ظرف ہے۔ ’’ اَلْعٰکِفِیْنَ‘‘ ’’ اَلرُّکَّعِ‘‘ اور ’’ اَلسُّجُوْدِ‘‘ یہ سب ’’ اَلطَّائِفِیْنَ‘‘ پر داخل ہونے والے حرف جر’’ لِ‘‘ کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہیں۔



 نوٹ (1) لفظ ’’ مَثَابَۃً‘‘ کے معنی ’’ اپنے اصل کی طرف لوٹنے کا ایک ٹھکانہ ‘‘ ہیں۔ بار بار لوٹنے کا مفہوم از خود شامل ہے۔ جیسے ہر شخص سارا دن گھوم پھر کر شام کو اپنے گھر کی طرف لوٹتا ہے۔ اس کی تصدیق ایک حدیثِ قدسی سے ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو بندہ ایسا ہو کہ میں نے اس کو صحت عطا کر رکھی ہے اور اس کی روزی میں وسعت دے رکھی ہے اور اس پر پانچ سال ایسے گزر جائیں کہ وہ میرے دربار میں حاضر نہ ہو تو وہ یقینا محروم ہے۔ اسی مضمون کی کئی اور احادیث بھی روایت کی گئی ہیں (منقول از فضائل حج‘ صفحہ 34) یہی وجہ ہے کہ امام شافعی (رح)  اور امام احمد (رح)  کے نزدیک عمرہ کرنا واجب ہے ‘ جبکہ امام مالک (رح)  اور امام ابوحنیفہ (رح)  کے نزدیک یہ سنت ہے۔

 اب جب کبھی کسی اخبار یا رسالہ میں آپ کوئی ایسا مضمون یا ایڈیٹر کے نام خط پڑھیں جس میں نفلی حج اور عمرہ پر کئے جانے والے اخراجات کو wastage اور ملکی معیشت کے لئے نقصان دہ قرار دیا گیا ہو اور اس پیسے کے زیادہ مفید استعمال بتائے گئے ہوں‘ تو اس وقت آپ آیت زیر مطالعہ ‘ مذکورہ حدیث قدسی اور ائمہ کرام کے اقوال کو ذہن میں ضرور تازہ کرلیا کریں۔ اس طرح آپ پیسے کو اپنا الٰہ بنانے کے شرک سے ان شاء اللہ محفوظ رہیں گے۔

 نوٹ (2) طواف کے بعد دو رکعت نماز کا واجب ہونا اس آیت سے معلوم ہوا اور مقام ابراہیم کے ساتھ ’’ مِنْ‘‘ کے اضافے سے معلوم ہوا کہ یہ حرمِ مکہ میں کہیں بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ حجۃ الوداع میں بی بی اُمّ سلمہ  (رض)  کو طواف کے بعد نماز کا موقع نہیں ملا تو مکہ شہر سے نکلنے کے بعد ادا کی۔ (معارف القرآن) ۔ وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَھْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِيْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗٓ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ  ١٢٦؀
(وَاِذْ قَالَ : اور جب کہا ) (اِبْرٰھٖمُ : ابراہیم ؑ نے) ( رَبِّ : اے میرے ربّ!) (اجْعَلْ : تو بنا دے) (ھٰذَا : اس کو ) (بَلَدًا اٰمِنًا : امن میں ہونے والا شہر) (وَّارْزُقْ : اور تو رزق دے ) (اَھْلَـــــــہٗ : اس کے لوگوں کو ) (مِنَ الثَّمَرٰتِ : پھلوں میں سے) (مَنْ : اس کو جو ) (اٰمَنَ : ایمان لائے ) (مِنْھُمْ : ان میں سے ) (بِاللّٰہِ : اللہ پر ) (وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر) (قَالَ : اس نے کہا) (وَمَنْ کَفَرَ : اور جس نے کفر کیا) (فَاُمَتِّعُـــہٗ : تو میں فائدہ اٹھانے کے لئے دوں گا اس کو (بھی) (قَلِیْــــــــلًا : تھوڑا سا سامان) (ثُمَّ : پھر) (اَضْطَرُّہٗ : میں مجبور کروں گا اس کو) (اِلٰی عَذَابِ النَّارِ : آگ کے عذاب کی طرف ) ( وَبِئْسَ : اور وہ بہت ہی برا) (الْمَصِیْرُ : لوٹنے کا ٹھکانہ ہے)



ب ل د

 بَلَدَ (ن) بُلُوْدًا : کسی جگہ آباد ہونا‘ شہر بنانا۔

 بَلَدٌ واحد بَلْدَۃٌ جمع بِلَادٌ (اسم جنس) : شہر ‘ بستی۔ {وَتَحْمِلُ اَثْقَالَـــکُمْ اِلٰی بَلَدٍ} (النحل:7) ’’ اور وہ (یعنی چوپائے) اٹھاتے ہیں تمہارے بوجھ کسی شہر تک۔‘‘ {وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَائً طَھُوْرًا ۔ لِّنُحْیِیَ بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا} (الفرقان:48‘49) ’’ اور اس نے اتارا آسمان سے کچھ پاکیزہ پانی تاکہ وہ زندہ کرے اس سے کسی مردہ شہر کو۔‘‘ {لاَ یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ ۔ } (آل عمران) ’’ ہرگز دھوکہ نہ دے تجھ کو گھومنا پھرناان لوگوں کا جنہوں نے کفر کیا‘ شہروں میں۔‘‘

ص ی ر

 صَارَ (ض) صَیْرًا اور مَصِیْرًا : منتقل ہونا‘ لوٹنا ۔{اَ لَآ اِلَی اللّٰہِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ ۔ } (الشوریٰ) ’’ خبردار رہو! اللہ کی طرف ہی لوٹتے ہیں تمام امور۔‘‘ {وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ۔ } (النور) ’’ اور اللہ کے لئے ہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہت ہے ‘ اور اللہ کی طرف ہی لوٹنا ہے۔‘‘

 مَصِیْرٌ : مصدر کے علاوہ اسم الظرف بھی ہے۔ لوٹنے کا ٹھکانہ۔ آیت زیر مطالعہ۔

 ترکیب : ’’ رَبِّ‘‘ کی جر بتا رہی ہے کہ اس کی یائے متکلم محذوف ہے اور یہ ’’ رَبِّیْ‘‘ تھا۔ اس سے قبل حرف ندا ’’ یَا‘‘ کو بھی محذوف مانا جا سکتا ہے۔ فعل امر ’’ اِجْعَلْ‘‘ کا مفعول اوّل ’’ ھٰذَا‘‘ ہے جبکہ مرکب توصیفی ’’ بَلَدًا اٰمِنًا‘‘ مفعول ثانی ہے۔ فعل امر ’’ اُرْزُقْ‘‘ کا مفعول ’’ اَھْلَـــــہٗ‘‘ ہے۔ اس میں ’’ ہٗ‘‘ کی ضمیر’’ بَلَدًا اٰمِنًا‘‘ کے لئے ہے۔ ’’ مِنَ الثَّمَرٰتِ‘‘ متعلق فعل ہے۔ ’’ مَنْ‘‘ اَھْــلَــــــہٗپرحرفِ عطف نہیں ہے بلکہ اس سے بدل بعض ہے۔ ’’ قَالَ‘‘ کا فاعل اس میں شامل ’’ ھُوَ‘‘ کی ضمیر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ ’’ وَمَنْ کَفَرَ فَاُمَتِّعُـــــہٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّہٗ‘‘ میں’’ مَنْ‘‘ بمعنی ’’ اَ لَّذِیْ‘‘ موصول ’’ کَفَرَ‘‘ اس کا صلہ یا ’’ مَنْ‘‘ نکرہ موصوفہ ’’ کَفَرَ‘‘ اس کی صفت۔ موصول اور صلہ مل کر یا موصوف اور صفت مل کر فعل محذوف کے لئے مفعول۔ تقدیر عبارت یوں ہے:’’ قَالَ وَارْزُقْ مَنْ کَفَرَ‘‘۔’’ فَاُمَتِّعُـــــہٗ‘‘ جملہ فعلیہ معطوف ہے ’’ وَارْزُقْ‘‘ فعل محذوف پر۔

 (نوٹ) ’’ مَنْ‘‘ کو مبتدا ٔقراردے کر ’’ فَاُمَتِّعُــــہٗ‘ ‘ کو خبر بنانا بھی جائز ہے ‘ کیونکہ ’’ مَنْ‘‘ بمعنی ’’ اَ لَّذِیْ‘‘ ہے اس لئے ’’ اَ لَّذِیْ‘‘ کی خبر پر ’’ فائ‘‘ لگانا درست ہے‘ کیونکہ ’’ اَ لَّذِیْ‘‘ اسم موصول متضمن معنی شرط بھی ہے‘ اس لئے اس کی خبر پر فاء لگانا درست ہے ۔ علاوہ ازیں ’’ من‘‘ کو شرطیہ قرار دے کر ’’ فَاُمَتِّعُـــــہٗ‘‘ کو اس کا جواب قرار دینا بھی درست ہے۔ ’’ قَلِیْــــلًا‘‘ صفت ہے اور اس کا موصوف محذوف ہے جو ’’ مَتَاعًا‘‘ ہو سکتا ہے۔ یہ مرکب توصیفی ’’ اُمَتِّعُ‘‘ کا مفعول ثانی ہے جبکہ اس سے متصل ’’ ہٗ‘‘ کی ضمیر اس کا مفعول اوّل ہے جو ’’ مَنْ کَفَرَ‘‘ کے لئے ہے۔ ’’ اَضْطَرُّہٗ‘‘ کی ضمیر مفعولی بھی ’’ مَنْ کَفَرَ‘‘ کے لئے ہے۔



 نوٹ (1) البقرۃ کی آیت 124 میں حضرت ابراہیمنے اپنی نسل میں امامت کے لئے سوال کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ یہ نافرمانوں کو نہیں ملے گی۔ اس کا لحاظ کرتے ہوئے اس آیت میں حضرت ابراہیم ؑ نے صرف مؤمنوں کے لئے رزق کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے تصحیح فرما دی کہ امامت اور چیز ہے‘ رزق کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے‘ اس لئے رزق مؤمن‘ کافر سب کو دیا جائے گا۔ وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ ۭ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۭ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ   ١٢٧؁
( وَاِذْ : اور جب ) ( یَرْفَعُ : بلند کر رہے تھے) ( اِبْرٰھٖمُ : ابراہیم ؑ) (الْقَوَاعِدَ : بنیادوں کو ) ( مِنَ الْبَیْتِ : اس گھر کی ) (وَاِسْمٰعِیْلُ : اور اسماعیل ؑ) (رَبَّـنَا : (تو وہ دونوں کہتے تھے) اے ہمارے ربّ) (تَقَبَّلْ : تو قبول فرما) (مِنَّا : ہم سے ) ( اِنَّکَ اَنْتَ : بیشک تو ہی) (السَّمِیْعُ : سننے والا) (الْعَلِیْمُ: جاننے والا ہے)



ق ع د

 قَعَدَ (ن) قُعُوْدًا : بیٹھنا۔ {وَقَعَدَ الَّذِیْنَ کَذَبُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَــہٗ ط} (التوبۃ:90) ’’ اور بیٹھے وہ لوگ جنہوں نے جھوٹ بولا اللہ سے اور اس کے رسولؐ سے‘‘۔

 اُقْعُدْ (فعل امر) : تو بیٹھ۔ { وَقِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ ۔ } (التوبۃ) ’’ اور کہا گیا تم لوگ بیٹھو‘ بیٹھنے والوں کے ساتھ۔‘‘

 قَاعِدٌ : فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل ہے۔ بیٹھنے والا۔ { فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ ۔ } (المائدۃ) ’’ پس جائیں آپؑ اور آپؑ کا ربّ‘ تو دونوں قتال کریں‘ بیشک ہم یہیں بیٹھنے والے ہیں۔‘‘

 قُعُوْدٌ : یہ مصدر بھی ہے اور قَاعِدٌ کی جمع مکسر بھی ہے۔ یعنی اس کا معنی ’’ بیٹھنا‘‘ بھی ہے اور ’’ بیٹھنے والے‘‘ بھی ہے۔ {اِنَّــکُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ ۔ } (التوبۃ) ’’ بیشک تم لوگ راضی ہوئے بیٹھنے پر پہلی مرتبہ‘ پس تم لوگ بیٹھو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ۔‘‘ {اِذْ ھُمْ عَلَیْھَا قُعُوْدٌ ۔ } (البروج) ’’ جب وہ لوگ اس پر (یعنی آگ پر) بیٹھنے والے ہیں۔‘‘

 قَاعِدَۃٌ ج قَوَاعِدُ : یہ قَاعِدٌ کا مؤنث ہے۔ بیٹھنے والی۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً : (1) عمر رسیدہ خاتون۔ (2) قاعدہ کلیہ‘ اصول۔ (3) بنیاد۔ {وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآئِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِکَاحًا} (النور:60) ’’ اور عمر رسیدہ خواتین عورتوں میں سے جو توقع نہیں کرتیں نکاح کی۔‘‘

 قَعِیْدٌ : یہ واحد‘ جمع‘ مذکر‘ مؤنث‘ سب کے لئے آتا ہے۔ فعیل کے وزن پر اسم الفاعل ہے۔ ہمیشہ بیٹھنے والا۔ محافظ۔ نگران۔ {اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیَانِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ ۔ } (ق) ’’ جب لیا دو لینے والوں نے دائیں سے اور بائیں سے ‘ وہ نگران ہیں (یعنی کراماً کاتبین فرشتے) ۔‘‘

 مَقْعَدٌ ج مَقَاعِدُ : مَفْعَلٌ کے وزن پر اسم الظرف ہے۔ بیٹھنے کی جگہ۔ { فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِھِمْ} (التوبۃ:81) ’’ خوش ہوئے پیچھے کئے گئے لوگ اپنے بیٹھنے کی جگہ سے۔‘‘{ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِط} (آل عمران:121) ’’ آپؐ بٹھاتے تھے مؤمنوں کو بیٹھنے کی جگہوں پر (یعنی مورچوں پر) قتال کے لئے۔‘‘

 ترکیب : ’’ اِبْرٰھٖمُ‘‘ اور ’’ اِسْمٰعِیْلُ‘‘ کی رفع بتا رہی ہے کہ یہ دونوں ’’ یَرْفَعُ‘‘ کے فاعل ہیں‘’’ اَلْقَوَاعِدَ‘‘ مفعول ہے اور ’’ مِنَ الْبَیْتِ‘‘ ’’ اَلْقَوَاعِدَ‘‘ سے حال ہونے کی بنا پر مقام نصب میں ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے: ’’ وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ کَائِنَۃً مِنَ الْبَیْتِ‘‘۔ ’’ رَبَّــنَا‘‘ میں ’’ رَبَّ‘‘ کی نصب بتا رہی ہے کہ اس سے پہلے حرف ندا ء ’’ یا‘‘ محذوف ہے۔ اور اس سے پہلے ’’ یَـقُوْلَانِ‘‘ بھی محذوف ہے۔ ان کا اسمِ ضمیر’’ کَ‘‘ ہے جبکہ ’’ اَنْتَ‘‘ ضمیر فاصل ہے کیونکہ خبر معرف باللام ہے۔ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۠ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ  ١٢٨؁
(رَبَّــنَا : اے ہمارے ربّ) (وَاجْعَلْنَا : اور تو بنا دے ہم دونوں کو) (مُسْلِمَیْنِ : فرماں بردار) (لَکَ : اپنا) (وَ : اور (تو بنا دے) مِنْ ذُرِّیَّتِنَا : ہماری نسل سے) (اُمَّــۃً مُّسْلِمَۃً : ایک فرماں بردار امت) (لَّکَ : اپنی) (وَ : اور) (اَرِ : تو سمجھا دے ) (نَا : ہم کو) (مَنَاسِکَنَا : ہماری بندگی کے طریقے) (وَتُبْ عَلَیْنَا : اور تو توبہ قبول فرما ہماری) ( اِنَّکَ : بیشک تو ) (اَنْتَ التَّوَّابُ : ہی تو بار بار توبہ قبول کرنے والا) (الرَّحِیْمُ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہے )



ا م م

 اَمَّ (ن) اِمَامَۃً وَاَمًّا وَاِمَامًا ۔ الْقَوْمَ وَبِالْقَوْمِ : امام بننا۔

 اُمَّـــــۃٌ : امت‘ جماعت‘ مدت‘ طریقہ‘ دین۔ ہر وہ جماعت جس کے ارکان میں کسی قسم کا کوئی رابطۂ اشتراک موجود ہو اسے امت کہا جاتا ہے ‘ خواہ یہ اتحاد مذہبی وحدت کی بنا پر ہو یا جغرافیائی اور عصری وحدت کی وجہ سے ‘ اور خواہ اس رابطہ میں امت کے اپنے اختیار کو دخل ہو یا نہ ہو۔ اخفش نے تصریح کی ہے کہ امت باعتبار لفظ کے واحد ہے اور باعتبار معنی کے جمع۔ نیز حیوان کی ہر جنس ایک امت ہے۔ (ملاحظہ ہو عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری‘ 5:198‘ باب قول النبی ﷺ لا نکتب ولا نحسب) ابن درستویہ کا بیان ہے کہ جہاں بھی امت کے معنی مدت کے ہوں گے وہاں اس کا مضاف محذوف ہو گا اور مضاف الیہ مضاف کے قائم مقام سمجھا جائے گا۔ (ملاحظہ ہو فتح القدیرللشوکانی‘ 3:29) ۔ اس لحاظ سے {وَلَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْھُمُ الْعَذَابَ اِلٰی اُمَّۃٍ مَّعْدُوْدَۃٍ} اور {وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّۃٍ} میں لفظ ’’ زَمن‘‘ یا ’’ حِین ‘‘ محذوف ہے۔ گویا اصل میں یوں تھا : اِلٰی زَمَنِ اُمَّۃٍ مَعْدُوْدَۃٍ اور بَعْدَ حِیْنِ اُمَّۃٍ ۔ زَمن اور حِین کو حذف کر کے مضاف الیہ یعنی لفظ امت کو اس کا قائم مقام سمجھا گیا۔

 امت کے مجازی معنی طریقہ اور دین کے بھی آتے ہیں ۔ عرب بولتے ہیں: فُلَانٌ لَا اُمَّۃَ لَــہٗ ۔ یعنی فلاں کا کوئی دین اور طریقہ نہیں۔ (عمدۃ القاری‘ 5:198)

ن س ک

 نَسَکَ (ن) نَسْکًا : درویش بننا۔ بندگی کرنا۔ قربانی کرنا۔

 نُسُکٌ (اسم الفعل) : قربانی ۔{ اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ } (الانعام) ’’ بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میرا عرصۂ حیات اور عرصۂ موت اللہ کے لئے ہے جو تمام عالَموں کا رب ہے۔‘‘

 نَاسِکٌ (اسم الفاعل) : بندگی کرنے والا ۔ { لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا ھُمْ نَاسِکُوْہُ} (الحج:67) ’’ ہر ایک امت کے لئے ہم نے بنایا ایک بندگی کا طریقہ ‘ وہ لوگ بندگی کرنے والے ہیں اس پر۔‘‘

 مَنْسَکٌ ج مَنَاسِکُ : مَفْعَلٌ کے وزن پر اسم الظرف ہے۔ بندگی کرنے کی جگہ۔ استعارۃً بندگی کے طریقہ کے لئے آتا ہے۔ لفظ ’’ مَنْسَکٌ‘‘ کے لئے متذکرہ بالا آیت (الحج:67) دیکھیں۔ ’’ مَنَاسِکُ ‘‘ کا لفظ آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے۔

 ترکیب : ’’ وَاجْعَلْ‘‘ کا مفعول اوّل ’’ نَا‘‘ کی ضمیر ہے اور ’’ مُسْلِمَیْنِ‘‘ مفعول ثانی ہے۔ ’’ وَ‘‘ عطف ہے ’’ نَا‘‘ ضمیر متکلم پر ’’ اجْعَلْ‘‘ کے تحت ہے۔ ’’ مِنْ ذُرِّیَّتِنَا‘‘ مفعول ثانی اور ’’ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً‘‘ مفعول اوّل ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ’’ اُمَّۃً‘‘ مفعول اوّل ہے ’’ مِنْ ذُرِّیَّتِنَا‘‘ ’’ اُمَّۃً‘‘ کی صفت ہے جو مقدم ہونے کی بنا پر حال ہے اور ’’ مُسْلِمَۃً‘‘ مفعول ثانی ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ’’ مِنْ ذُرِّیَّتِنَا‘‘ اس کا مفعول اوّل اور مرکب توصیفی ’’ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً‘‘ مفعول ثانی ہے۔ فعل امر ’’ اَرِ‘‘ کا مفعول اوّل ’’ نَا‘‘ کی ضمیر ہے اور مرکب اضافی ’’ مَنَاسِکَنَا‘‘ مفعول ثانی ہے۔ اسی لئے ’’ مَنَاسِکَ‘‘ منصوب آیا ہے۔ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ    ١٢٩؀ۧ
(رَبَّــنَا : اے ہمارے ربّ) (وَابْعَثْ : اور تو بھیج) (فِیْھِمْ : ان میں ) (رَسُوْلًا : ایک ایسا رسول) (مِّنْھُمْ : ان ) (میں سے یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ : جو پڑھ کر سنائے ان کو) (اٰیٰتِکَ : تیری آیات) (وَیُعَلِّمُھُمُ : اور جو تعلیم دے ان کو) (الْکِتٰبَ : کتاب کی) (وَالْحِکْمَۃَ : اور حکمت کی) (وَیُزَکِّیْھِمْ : اور جو تزکیہ کرے ان کا) ( اِنَّکَ : بیشک تو

اَنْتَ الْعَزِیْزُ : ہی تو بالادست ) (الْحَکِیْمُ : حکمت والا ہے)





ع ز ز

 عَزَّ (ض) عِزًّا : مغلوبیت سے محفوظ ہونا‘ سخت ہونا۔

 عَزَّ (ن) عَزًّا : کسی پر غالب آنا ۔ { وَعَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ ۔ } (صٓ) ’’ اور وہ غالب آیا مجھ پر بات میں۔‘‘

 عِزٌّ: مصدر کے علاوہ اسم ذات بھی ہے۔ مغلوبیت سے حفاظت‘ پناہ‘ مدد ۔ {وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِھَۃً لِّیَکُوْنُوْا لَھُمْ عِزًّا ۔ } (مریم) ’’ اور ان لوگوں نے بنایا اللہ کے علاوہ ایک الٰہ تاکہ وہ ہو ان کے لئے ایک پناہ۔‘‘

 عِزَّۃٌ (اسم ذات) : (1) سختی‘ بےجا خود داری‘ گھمنڈ (2) غلبہ‘ عزت۔ { بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ ۔ } (صٓ) ’’ جن لوگوں نے کفر کیا وہ گھمنڈ اور مخالفت کرنے میں ہیں۔‘‘ { مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا ط} (فاطر:10) ’’ جو چاہا کرتا ہے عزت کو‘ تو عزت کُل کی کُل اللہ کے لئے ہی ہے‘‘۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو عزت اللہ تعالیٰ سے حاصل نہ ہو وہ سراسر ذلت ہے (مفردات) ۔

 عَزِیْزٌ ج اَعِزَّۃٌ : فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ (1) سخت‘ بھاری‘ گراں (2) غالب‘ بالادست (جس کے اختیارات پر کوئی تحدیدات (limitations) نہ ہوں) {لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ}(التوبۃ:128) ’’ آ چکا ہے تمہارے پاس ایک رسولؐ تم میں سے‘ گراں ہے اس پر وہ جس سے تم لوگ مشکل میں پڑو۔‘‘{ اَذِلَّــۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ز} (المائدۃ:54) ’’ نرم ہیں مؤمنوں پر‘ سخت ہیں کافروں پر۔‘‘ {اِنَّہٗ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ } (العنکبوت) ’’ بیشک وہی بالادست حکمت والا ہے۔‘‘

 اَعَزُّ : افعل التفضیل ہے۔ زیادہ سخت ‘ زیادہ عزت والا۔ { لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّط} (المنافقون:8) ’’ لازماً نکالے گا زیادہ عزت والا اس میں سے زیادہ ذلت والے کو۔‘‘

 عُزّٰی : فُعْلٰی کے وزن پر افعل التفضیل کا مؤنث ہے۔ زیادہ سخت۔ زیادہ عزت والی۔ ’’ اَلْعُزّٰی‘‘ ایک بت کا نام۔ {اَفَرَئَ یْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰی }(النجم) ’’ کیا تم نے دیکھا لات اور عزیٰ کو (بتوں کے نام)؟‘‘

 اَعَزَّ (افعال) اِعْزَازًا : کسی کو عزت دینا۔ { وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ ط بِیَدِکَ الْخَیْرُ ط} (آل عمران:26) ’’ اور تو عزت دیتا ہے اس کو جس کو تو چاہتا ہے اور تو ذلت دیتا ہے اس کو جس کو تو چاہتا ہے‘ تیرے ہاتھ میں کُل خیر ہے۔‘‘

 عَزَّزَ (تفعیل) تَعْزِیْزًا : کسی کو سخت کرنا‘ قوت دینا۔ { اِذْ اَرْسَلْنَا اِلَیْھِمُ اثْنَیْنِ فَکَذَّبُوْھُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ} (یٰسٓ:14) ’’ جب ہم نے بھیجا ان کی طرف دو کو تو ان لوگوں نے جھٹلایا دونوں کو ‘ تو ہم نے تقویت دی تیسرے سے۔‘‘

 ترکیب : فعل امر ’’ اِبْعَثْ‘‘ کا مفعول ’’ رَسُوْلًا‘‘ ہے۔ فِیْھِمْ میں ھُمْ کی ضمیر کا مرجع اُمَّۃ ہے۔ پھر امت میں اگرچہ تاء تانیث لگی ہے‘ لیکن چونکہ معنی مذکر ہے اس لئے ضمیر مذکر ’’ ھُمْ‘‘ کی لوٹائی گئی۔ رَسُوْلاً نکرہ موصوفہ ہے‘ صفت ’’ مِنْھُمْ‘‘ ہے۔ تقدیر عبارت ’’ یَتْلُوْ رَسُوْلًاکَائِنًا مِّنْھُمْ۔ عَلَیْھِمْ‘‘ سے لے کر ’’ یُزَکِّیْھِمْ‘‘ تک یا تو صفت ہے یا حال ہے۔ ’’ یَتْلُوْا‘‘ ’’ یُعَلِّمُ ‘‘ اور ’’ یُزَکِّیْ‘‘ تینوں افعال مضارع ہیں ‘ لیکن یہ دعا میں آئے ہیں‘ اس لئے ترجمہ میں اس کا لحاظ کرنا ہو گا۔





 نوٹ (1) : آج کے دور میں ہمارے لئے اس آیت میں کیا راہنمائی ہے‘ اس کو سمجھ لیں۔’’ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ‘‘ میں قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنا شامل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جو احکام‘ ہدایات اور ترغیبات دی ہیں‘ ان سے اللہ تعالیٰ کی حقیقی مرضی اور منشا کیا ہے‘ حضور ﷺ اس کی تعلیم دے گئے ہیں‘ اس لئے تعلیم کتاب میں ہمارے لئے احادیث کو بھی سمجھ کر پڑھنا شامل ہے۔

 اللہ تعالیٰ کے احکام میں کیا حکمت مضمر ہے‘ یعنی ان احکام کے ’’ کیوں اور کیسے‘‘ کی وضاحت بھی حضور ﷺ اور صحابہ کرام  کر گئے ہیں‘ جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ ان احکام پر ہمارے عمل کرنے یا نہ کرنے سے اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں نہ کوئی اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی کمی ہوتی ہے‘ بلکہ یہ احکام صرف اور صرف انسان کی عارضی اور دائمی‘ دونوں زندگیوں کی بھلائی کے لئے دیئے گئے ہیں۔ یہ حقیقت اگر ذہن نشین ہو جائے تو پھر ان احکام پر عمل کرنا ہلکا اور آسان ہو جاتا ہے۔ اس لئے تعلیم حکمت میں ہمارے لئے سیرت اور آثارِ صحابہ کا مطالعہ شامل ہے۔

 نوٹ (2) : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی دعا کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ آگے چل کر تین مقامات (البقرۃ:151۔ آل عمران:164۔ الجمعۃ:2) پر اس دعا کی قبولیت کا اعلان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہی الفاظ کو دہرایا ہے‘ البتہ ان کی ترتیب میں ایک تبدیلی کی ہے جو غور طلب ہے۔

 حضرت ابراہیم کی دعا میں ترتیب یہ ہے : (1) تلاوتِ آیات‘ (2) تعلیم کتاب‘ (3) تعلیم حکمت اور (4) تزکیہ۔ دعا کی قبولیت کا اعلان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ ترتیب رکھی ہے: (1) تلاوتِ آیات‘ (2) تزکیہ‘ (3) تعلیم کتاب اور (4) تعلیم حکمت۔ مذکورہ تبدیلی پر غور کرنے سے جو بات سامنے آتی ہے اسے سمجھ لیں۔

 ایسے عقائد و نظریات جو اِس کائنات کی صداقتوں پر مبنی نہ ہوں‘ انسان کے اندرحُبِّ دنیا اور پھر حُبِّ عاجلہ کو جنم دیتے ہیں‘ جس کے نتیجے میں پھر انسان اپنی فطرت کی پکار کا گلا گھونٹنا شروع کر دیتا ہے۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے انسان کے سامنے وہ عقائد و نظریات آتے ہیں جو اس کائنات کی صداقتوں پر مبنی ہیں۔ ان سے انسان کی فطرت کی پکار کو تقویت حاصل ہوتی ہے‘ جس کے نتیجے میں اس کے اندر تقویٰ کا جذبہ ابھرتا ہے اور پروان چڑھتا ہے۔ یہ اصل تزکیہ ہے اور اس کا ذریعہ قرآن مجید ہے۔

 تقویٰ کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی مرضی و منشا معلوم کرنے کی جستجو پیدا ہوتی ہے۔ پھر زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کے لئے مطلوبہ قوتِ عمل بھی تقویٰ کا جذبہ ہی فراہم کرتاہے۔ اس طرح انسان اللہ کے احکام پر عمل کرنا شروع کردیتا ہے‘ خواہ ان کی حکمت اس کی سمجھ میں آئی ہو یا نہ آئی ہو۔ اس لئے تعلیم کتاب کو تزکیہ کے بعد اور تعلیم حکمت سے پہلے رکھا گیا ہے۔

 تعلیم حکمت ایک اضافی سہولت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عطا کی ہے۔ جیسے آخرت پر ایمان اور یقین ہوتے ہوئے حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ سے اطمینانِ قلب کی درخواست کی تھی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا ۔ (دیکھئے البقرۃ:260) اس حوالے سے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اپنے اعمال کی جواب دہی اور نتائج کے لئے انسان پر حجت اس کی عقل نہیں بلکہ اس کی فطرت ہے‘ جس کے ساتھ اسے اس امتحان گاہ میں بھیجا جاتا ہے۔ فطرت کے ساتھ اسے عقل بھی دی جاتی ہے اور قرآن مجید عقل کی نفی نہیں کرتا‘ البتہ وہ ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھتا ہے۔ اور قرآن نے عقل کو فطرت کے ماتحت رکھا ہے۔

 نوٹ (3) : ایک رائے یہ ہے کہ اس آیت میں حضور ﷺ کے مقصد بعثت کا بیان ہے۔ لیکن میرا ذہن اس رائے کو ترجیح دیتا ہے کہ اس آیت میں آپؐ کے مقصد بعثت کو پورا کرنے کا طریقۂ کار (Modus Operendi) کا بیان ہے‘ جبکہ آپ ﷺ کے مقصد بعثت کا بیان التوبۃ:33‘ الفتح:28‘ اور الصف:9 میں آیا ہے۔ وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ ۭ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا ۚ وَاِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ   ١٣٠؁
(وَمَنْ : اور کون ) (یَّرْغَبُ عَنْ : اعراض کرتا ہے) ( مِلَّۃِ اِبْرٰھٖمَ : ابراہیم ؑ کے دین سے) (اِلاَّ مَنْ : سوائے اس کے جو ) (سَفِہَ : بیوقوف ہوا) (نَفْسَہٗ : بلحاظ اپنے نفس کے ) (وَلَقَدِ اصْطَفَیْنٰــہُ : اور ہم نے چنا ہے اس ؑکو) (فِی الدُّنْیَا : دنیا میں ) (وَاِنَّــہٗ : اور یقینا وہ) (فِی الْاٰخِرَۃِ : آخرت میں) (لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ : صالحین میں سے ہے)



ر غ ب

 رَغِبَ (س) رَغَبًا : (1) خواہش کرنا‘ (2) التجا کرنا‘ مانگنا۔ اس معنی میں عموماً ’’ اِلٰی‘‘ کے صلہ کے ساتھ آتا ہے ۔ (3) اعراض کرنا‘ مُنہ موڑنا۔ اس معنی میں عموماً ’’ عَنْ‘‘ کے صلہ کے ساتھ آتا ہے۔ {وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ} (النسائ:127) ’’ اور تم لوگ چاہتے ہو کہ نکاح کرو ان عورتوں سے۔‘‘

 رَاغِبٌ : فَاعِلٌ کے وزن پر اسم الفاعل ہے۔ چاہنے والا‘ التجا کرنے والا‘ اعراض کرنے والا۔ { اِنَّا اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ ۔ } (التوبۃ) ’’ بیشک ہم اللہ سے التجا کرنے والے ہیں۔‘‘ {اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِھَتِیْ یٰــاِبْرٰھِیْمُ ج} (مریم:46) ’’ کیا اعراض کرنے والا ہے تو میرے معبودوں سے اے ابراہیم؟‘‘

 اِرْغَبْ(فعل امر) : تو مانگ‘ التجا کر۔ {فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ۔ وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ۔ } (الانشراح) ’’ پس جب بھی فارغ ہو تو محنت کر اور اپنے رب سے مانگ۔‘‘

ص ف و

 صَفَا (ن) صَفْوًا : کسی چیز کا ہر طرح کی آمیزش سے پاک ہونا‘ صاف ہونا۔

 صَفْوَانٌ : چکنا پتھر (جو مٹی وغیرہ کی آمیزش سے پاک ہو) ۔ {فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْہِ تُرَابٌ} (البقرۃ:264) ’’ تو اس کی مثال ایک چکنے پتھر کی مانند ہے جس پر کچھ مٹی ہو۔‘‘

 اَلصَّفَا : خانہ کعبہ کے پاس ایک پہاڑی کا نام (اس پہاڑی کا پتھر بالکل صاف اور چکنا ہے۔ {اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ ج} (البقرۃ:158) ’’ بیشک صفا اور مَروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔‘‘

 اَصْفٰی (افعال) اِصْفَائً : کسی کو آمیزش سے پاک کرنا ‘ یعنی دوسروں سے الگ کر کے کسی کو کسی چیز یا کسی کام کے لئے مخصوص کرنا۔ {اَفَاَصْفٰـٹکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِیْنَ}

(بنی اسرائیل:40) ’’ تو کیا مخصوص کیا تم لوگوں کو تمہارے رب نے بیٹوں کے لئے۔‘‘

 صَفّٰی (تفعیل) تَصْفِیَۃً : کسی چیز کو آمیزش سے پاک کرنا‘ صاف کرنا۔

 مُصَفًّی (اسم المفعول ) : صاف کیا ہوا ۔ { وَاَنْھٰــرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی ط} (محمد:15) ’’ اور نہریں ہیں صاف کی ہوئی شہد کی۔‘‘

 اِصْطَفٰی (افتعال) اِصْطِفَائً : کسی کو اپنے لئے خاص کرنا ۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ دو معانی میں آتا ہے: (1) چن لینا۔ (2) منتخب کرنا۔ (3) کسی کو دوسروں پر ترجیح دینا‘ پسند کرنا۔ {اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰئِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِط} (الحج:75) ’’ اللہ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے کچھ رسول اور انسانوں میں سے۔‘‘ {اَصْطَفَی الْبَنَاتِ عَلَی الْبَنِیْنَ ۔ } (الصّٰفّٰت) ’’ کیا اس نے ترجیح دی بیٹیوں کو بیٹوں پر؟‘‘

 مُصْطَفٰی (اسم المفعول) : چنا ہوا‘ پسند کیا ہوا۔ {وَاِنَّھُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ ۔ } (صٓ) ’’ اور بیشک وہ سب ہمارے پاس چنے ہوئے نیک لوگوں میں سے ہیں۔‘‘

 ترکیب : ’’ یَرْغَبُ‘‘ مرفوع آیا ہے۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ ’’ مَنْ‘‘ شرطیہ نہیں بلکہ استفہامیہ ہے۔ ’’ مَنْ‘‘ مبتدأ ہے اور ’’ یَرْغَبُ عَنْ مِّلَّۃِ اِبْرٰھٖمَ‘‘ جملہ فعلیہ بن کر ’’ مَنْ‘‘ کی خبر ہے۔ ’’ اِلاَّ مَنْ سَفِہَ نَفْسَہٗ‘‘ ’’ مَنْ‘‘ مستثنیٰ ہونے کی بنا پر منصوب ہے یا ’’ یَرْغَبُ‘‘ کی ضمیر سے بدل ہونے کی بنا پر حالت رفع میں ہے۔ ’’ مَنْ‘‘ نکرہ موصوفہ ہے یا بمعنی ’’ اَلَّذِی‘‘ ہے۔ ’’ نَفْسَہٗ‘‘ سَفِہَ کا مفعول ہے ‘ کیونکہ ’’ سَفِہَ‘‘ بمعنی ’’ جَھَلَ ‘‘ ہے۔ اور تقدیر عبارت یوں ہے: ’’ اِلاَّ مَنْ جَھَلَ خَلْقَ نَفْسِہٖ‘‘ اس لئے ’’ نَفْسَہٗ‘‘ تمیز نہیں ہے‘ کیونکہ تمیز اسم نکرہ جبکہ یہ اسم معرفہ ہے۔ اگرچہ فراء نے اس کو تمیز ہی مانا ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ’’ نَفْسَہٗ ‘‘ منصوب بنزع الخافض ہے اور عبارت یوں ہے : سَفِہَ فِیْ نَفْسِہٖ۔ اور یہ اس صورت میں ہے کہ سَفِہَ کو متعدی بِنَفْسِہٖ نہ مانا جائے ۔ لیکن ثعلب اور مبرد نے اس کو متعدی بنفسہ ہی لکھا ہے۔ تو اس صورت میں نَفْسَہُ ‘ سَفِہَ کا مفعول بنے گا۔ ’’ اصْطَفَیْنٰــہُ‘‘ میں ’’ ہُ ‘‘ کی ضمیر ابراہیم کے لئے ہے۔ اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ   ١٣١؁
(اِذْ قَالَ : جب کہا ) (لَــہٗ : اس سے ) (رَبُّــہٗ : اس کے رب نے ) (اَسْلِمْ : تو فرمانبردار ہو) ( قَالَ : (تو) اس نے کہا) (اَسْلَمْتُ : میں فرماں بردار ہوا) (لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ : تمام جہانوں کے رب کے لئے)



 ترکیب : ’’ اِذْ‘‘ یا تو ’’ اصْطَفَیْنٰــہُ‘‘ کا ظرف ہے‘ یا ’’ فِی الدُّنْیَا‘‘ سے بدل ہے‘ یا اس سے پہلے ’’ اُذْکُرْ‘‘ فعل محذوف ہے۔ ’’ اِذْ قَالَ‘‘ میں ’’ قَالَ‘‘ کا فاعل ’’ رَبُّــــہٗ‘‘ ہے۔ اس میں ’’ ہُ‘‘ کی ضمیر اور ’’ لَــہٗ‘‘ کی ضمیر‘ دونوں حضرت ابراہیم کے لئے ہیں‘ جن کا ذکر گزشتہ آیت میں آیا ہے۔ ’’ اَسْلِمْ‘‘ کے بعد ’’ قَالَ‘‘ کا فاعل اس میں شامل ’’ ھُوَ‘‘ کی ضمیر ہے اور یہ بھی حضرت ابراہیمں کے لئے ہے۔ ’’ اَلْعٰلَمِیْنَ‘‘ پر لامِ جنس ہے۔



 نوٹ (1) : غور طلب بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے ’’ اَسْلَمْتُ لَکَ‘‘ نہیں کہا۔ شاید اس لئے کہ اس میں احسان رکھنے کا پہلو ہے ۔ جیسے آج کل کے ماتحت اپنے افسر کی فرمانبرداری کر کے اس پر احسان دھرتے ہیں۔ اس لئے ’’ لَکَ‘‘ کے بجائے ’’ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ کہہ کر واضح کردیا کہ انہوں نے فرمانبرداری اپنی ضرورت اور اپنے مفاد میں قبول کی ہے‘ کسی پر احسان نہیں کیا ہے۔ وَوَصّٰى بِهَآ اِبْرٰھٖمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوْبُ ۭيٰبَنِىَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّيْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ   ١٣٢؁
( وَوَصّٰی : اور تاکید کی ( ( بِھَآ : اس کی ( ( اِبْرٰھٖمُ : ابراہیم ؑ نے ( ( بَنِیْہِ : اپنے اپنے بیٹوں کو ( ( وَیَعْقُوْبُ : اور یعقوبؑ نے ( (یٰـبَنِیَّ : اے میرے بیٹو! ( ( اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ نے ( (اصْطَفٰی : چنا ( ( لَــکُمُ : تم لوگوں کے لئے ( (الدِّیْنَ : اِس دین کو ( (فَـلَا تَمُوْتُنَّ : تو تم لوگ ہرگز نہ مرنا ( (اِلاَّ وَ : مگر اس حال میں کہ ( (اَنْتُمْ : تم لوگ ( ( مُّسْلِمُوْنَ : فرمانبرداری کرنے والے ہو (



و ص ی

 وَصٰی (ض) وَصْیًا : کسی چیزکا کسی چیز سے پیوستہ ہونا‘ جیسے گھاس ایک دوسرے میں گتھی ہوتی ہے۔ کسی کام کے لئے کسی بات کا پیوستہ ہونا یعنی تاکید ہونا۔

 وَصِیَّۃٌ : فَعِیْلَۃٌ کا وزن ہے۔ تاکید‘ وصیت۔ {فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْ بِھَآ اَوْ دَیْنٍ} (النسائ:11) ’’ تو اس کی ماں کے لئے چھٹا حصہ ہے وصیت کے بعد‘ اس نے وصیت کی جس کی‘ یا قرض کے بعد۔‘‘

 اَوْصٰی (افعال) اِیْصَائً : کسی بات یا کام کی تاکید کرنا‘ وصیت کرنا۔ {وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰــوۃِ وَالزَّکٰــوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا ۔ } (مریم) ’’ اور اس نے تاکید کی مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کی جب تک میں ہوں زندہ۔‘‘

 مُوْصٍ (اسم الفاعل) : تاکید کرنے والا‘ وصیت کرنے والا۔ { فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا} (البقرۃ:182) ’’ تو جو خوف کرے وصیت کرنے والے سے طرفداری کا یا گناہ کا۔‘‘

 وَصّٰی (تفعیل) تَوْصِیَۃً : تاکید کرنا‘ وصیت کرنا ۔ { وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ} (لقمان:14) ’’ اور ہم نے تاکید کی انسان کو اس کے والدین کے لئے۔‘‘

 تَوَاصٰی (تفاعل) تَوَاصِیًا : باہم ایک دوسرے کو تاکید کرنا ۔ { وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ} (العصر:3) ’’ اور ان لوگوں نے باہم تاکید کی حق کی اور باہم تاکید کی صبر کی۔‘‘

 ترکیب : ’’ اِبْرٰھٖمُ‘‘ اور ’’ یَعْقُوْبُ‘‘ کی رفع بتا رہی ہے کہ یہ دونوں ’’ وَصّٰی‘‘ کے فاعل ہیں۔ ’’ بِھَا‘‘ کی ضمیر آیت 130 کے لفظ ’’ مِلَّۃِ‘‘ کے لئے ہے جبکہ ’’ بَنِیْہِ‘‘ مفعول ہے۔ ’’ اَلدِّیْنَ‘‘ پر لامِ تعریف ہے۔ ’’ وَاَنْتُمْ‘‘ کا وائو حالیہ ہے۔





 نوٹ (1) : لفظ ’’ بَنِیْہِ‘‘ کو سمجھ لیں۔ ’’ اِبْنٌ‘‘ کی جمع حالت رفع میں ’’ بَنُوْنَ‘‘ اور نصب و جر میں ’’ بَنِیْنَ‘‘ آتی ہے۔ مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں یہ ’’ بَنِیْنَ‘‘ تھا۔ پھر مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا تو ’’ بَنِیْہِ‘‘ استعمال ہوا۔ یہ بھی نوٹ کریں کہ حالانکہ یہ دو فاعلوں کا مفعول ہے لیکن پھر بھی اس کے مضاف الیہ کے طور پر تثنیہ کی ضمیر’’ ھُمَا‘‘ کے بجائے واحد کی ضمیر’’ ہُ‘‘ آئی ہے۔ اس سے یہ راہنمائی ملتی ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے اور حضرت یعقوبنے اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی۔ ترجمہ میں اس بات کو ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سے اس جانب بھی اشارہ ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے تین یا تین سے زیادہ بیٹے تھے۔ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ ۭ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبَاۗىِٕكَ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰــهًا وَّاحِدًا ښ وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ  ١٣٣؁
(اَمْ کُنْتُمْ : یا تم لوگ) (شُھَدَآئَ : موقع پر موجودتھے) (اِذْ حَضَرَ : جب سامنے آئی) (یَعْقُوْبَ : یعقوبؑ کے) (الْمَوْتُ : موت) (اِذْ قَالَ : جب انہوں نے کہا) (لِبَنِیْہِ : اپنے بیٹوں سے) (مَا : کس کی) ( تَعْبُدُوْنَ: تم لوگ عبادت کرو گے) (مِنْ بَعْدِیْ : میرے بعد ) ( قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا) (نَعْبُدُ : ہم لوگ عبادت کریں گے) (اِلٰـھَکَ : آپ کے الٰہ کی) (وَاِلٰــہَ اٰبَآئِکَ : اور آپ کے آباء کے الٰہ کی) (اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ : ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ اور اسحق ؑ(کے الٰہ کی) (اِلٰــھًا وَّاحِدًا : جو کہ واحد الٰہ ہے) ( وَنَحْنُ لَــہٗ : اور ہم لوگ اس کی ہی) (مُسْلِمُوْنَ: فرمانبرداری کرنے والے ہیں)



ح ض ر

 حَضَرَ (ن) حُضُوْرًا: اس کا بنیادی مفہوم ہے کسی شہر میں اقامت پذیر ہونا۔ اس کے ساتھ زیادہ تر دو معنی میں آتا ہے: (1) کسی جگہ موجود ہونا۔ (2) کسی کے سامنے ہونا یعنی حاضر ہونا۔ {حَتّٰی اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ} (النسائ:18) ’’ یہاں تک کہ جب سامنے آئے ان کے ایک کے موت‘ تو وہ کہے کہ میں توبہ کرتا ہوں اب۔‘‘

 حَاضِرٌ : فَاعِلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ موجود‘ حاضر ۔{ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا} (الکہف:49) ’’ اور وہ لوگ پائیں گے اس کو جو انہوں نے عمل کئے‘ سامنے موجود۔‘‘

 حَاضِرَۃٌ : یہ صفت حَاضِرٌ کی مؤنث بھی ہے اور اسم ذات بھی ہے۔ اس وقت اس کے معنی ہوتے ہیں کوئی بستی۔ کوئی شہر۔{ اِلاَّ اَنْ تَــکُوْنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً} (البقرۃ:282) ’’ سوائے اس کے کہ وہ ہو کوئی حاضر تجارت۔‘‘ {وَسْئَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ} (الاعراف:163) ’’ اور ان سے پوچھو اس بستی کے بارے میں جو تھی سمندر کی بستی یعنی سمندر کے کنارے۔‘‘

 اَحْضَرَ (افعال) اِحْضَارًا : کسی کو کسی کے سامنے لانا‘ حاضر کرنا۔ {عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا اَحْضَرَتْ ۔ } (التکویر) ’’ جان لے گی ہر جان اس کو جو اس نے حاضر کیا۔‘‘

 مُحْضَرٌ (اسم المفعول) : حاضر کیا ہوا۔{ یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِّنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا} (آل عمران:30) ’’ اس دن پائے گی ہر ایک جان اس کو جو اس نے عمل کیا کسی نیکی میں سے‘ حاضر کیا ہوا۔‘‘

 اِحْتَضَرَ (افتعال) اِحْتِضَارًا : اہتمام سے سامنے کرنا ‘ یعنی باری باری سامنے کرنا۔

 مُحْتَضَرٌ (اسم المفعول) : سامنے کیا ہوا ۔ {وَنَبِّئْھُمْ اَنَّ الْمَآئَ قِسْمَۃٌ بَیْنَھُمْ کُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ ۔ } (القمر) ’’ اور ان کو خبر دو کہ پانی بانٹا ہے ان کے مابین‘ پینے کی باری پر ہر ایک سامنے کیا ہوا ہے۔‘‘

 ترکیب : ’’ کُنْتُمْ‘‘ کا اسم اس میں شامل ’’ اَنْتُمْ‘‘ کی ضمیر ہے اور’’ شُھَدَآئَ‘‘ اس کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔’’ حَضَرَ‘‘ کا مفعول’’ یَعْقُوْبَ‘‘ ہے اور فاعل ’’ اَلْمَوْتُ‘‘ ہے۔ ’’ مَا‘‘ استفہامیہ مبتدأ ‘ ’’ تَعْبُدُوْنَ‘‘ خبر اور ’’ مِنْ بَعْدِیْ‘‘ متعلق خبر ہے۔’’ نَعْبُدُ‘‘ کا مفعول ’’ اِلٰـھَکَ وَاِلٰـہَ اٰبَائِکَ‘‘ ہے۔ اس میں ’’ اٰبَائِکَ‘‘ کا بدل ’’ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ‘‘ ہیں اور ’’ اِلٰــہَ‘‘ کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہیں ۔ جبکہ ’’ اِلٰـھًا وَّاحِدًا‘‘ لفظ ’’ اِلٰـــہَ‘‘ کا بدل ہے۔ تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ وَلَا تُسْـــَٔــلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ   ١٣٤؁
(تِلْکَ : وہ) (اُمَّــۃٌ : ایک امت ہے جو) (قَدْ خَلَتْ : گزر چکی ہے) ( لَھَا : اس کے لئے ہی ہے ) (مَا کَسَبَتْ : وہ جو اس نے کمایا) (وَلَــکُمْ : اور تم لوگوں کے لئے ہی ہے ) (مَّا کَسَبْتُمْ : وہ جو تم لوگوں نے کمایا) (وَلَا تُسْئَلُوْنَ : اور تم لوگوں سے نہیں پوچھا جائے گا) (عَمَّا : اس کے بارے میں جو ) (کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ: وہ لوگ کیا کرتے تھے)



 ترکیب : ’’ تِلْکَ‘‘ مبتدأ جبکہ ’’ اُمَّۃٌ‘‘ خبر ہے اور نکرہ موصوفہ ہے۔ ’’ قَدْ خَلَتْ‘‘ اس کی صفت ہے۔ ’’ مَا‘‘ موصولہ ہے اور ’’ کَسَبَتْ‘‘ اس کا صلہ ہے۔ صلہ موصول مل کر مبتدأ ہیں۔ اس کی خبر’’ وَاجِبٌ‘‘ محذوف ہے اور ’’ لَھَا‘‘ قائم مقام خبر مقدم ہوتی ہے۔ ’’ تُسْئَلُوْنَ‘‘ مضارع مجہول ہے اور اس کا نائب الفاعل اس میں شامل ’’ اَنْتُمْ‘‘ کی ضمیر ہے۔

 نوٹ (1) : یہ بات تو ہم لوگ جانتے ہیں کہ ہمارے نیک اعمال کے ثواب میں اور برے اعمال کے گناہ میں ہمارے آباء و اجداد کا خصوصاً والدین کا ایک حصّہ ہوتا ہے۔ لیکن اس آیت کے حوالہ سے اب یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ آباء و اجداد کی نیکیوں کے ثواب میں اور ان کی برائیوں کے گناہ میں ہم لوگوں کا یعنی اولاد کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ وَقَالُوْا كُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا ۭ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰھٖمَ حَنِيْفًا ۭ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ  ١٣٥؁
(وَقَالُوْا : اور ان لوگوں نے کہا) (کُوْنُوْا : تم لوگ ہو جائو) (ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی : یہودی یا عیسائی) (تَھْتَدُوْا : تو تم لوگ ہدایت پائو گے) (قُلْ : آپؐ کہئے) (بَلْ : (ہرگز نہیں) بلکہ) (مِلَّۃَ اِبْرٰھٖمَ : (پیروی کرو) ابراہیم ؑ کے دین کی) (حَنِیْفًا : یکسو ہوتے ہوئے) (وَمَا کَانَ : اور وہ نہیں تھے) (مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ: شرک کرنے والوں میں سے)



ح ن ف

 حَنُفَ (ک) حَنَافَۃً : (1) ٹیڑھے پیر والا ہونا (ٹیڑھا پیر کسی طرف نہیں مڑتا اور ہمیشہ ایک رخ پر ہوتا ہے) ۔ (2) ہر طرف سے کٹ کر کسی ایک سمت میں یکسوہونا۔

 حَنِیْفٌ ج حُنَفَائَ : فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ ہمیشہ اور ہر حال میں یکسو۔ {اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا} (الانعام:79) ’’ بیشک میں نے متوجہ کیا اپنے چہرے کو اس کے لئے جس نے بنایا آسمانوں اور زمین کو‘ یکسوہوتے ہوئے ۔‘‘ { وَمَآ اُمِرُوْآ اِلاَّ لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَــآئَ} (البیّنۃ:5) ’’ اور ان لوگوں کو حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ وہ لوگ عبادت کریں اللہ کی‘ خالص کرنے والا ہوتے ہوئے اس کے لئے نظام حیات کو‘ یکسو ہوتے ہوئے۔‘‘

ش ر ک

 شَرِکَ (س) شَرَکًا : کسی چیزیا کام میں کسی کا ساجھی ہونا۔ حصہ دار ہونا۔

 شِرْکٌ (اسم ذات) : حصہ‘ ساجھا‘ شرکت۔{ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَھُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ} (فاطر:40) ’’ تم لوگ دکھائو مجھ کو کیا تخلیق کیا ان لوگوں نے زمین میں یا ان کے لئے ہے کوئی ساجھا آسمان میں؟‘‘

 شَرِیْکٌ ج شُرَکَائُ : فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ ہمیشہ اور ہر حال میں حصہ دار۔ ساجھے دار۔{ وَلَمْ یَکُنْ لَّــہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ} (الفرقان:2) ’’ اور ہے ہی نہیں اس کے لئے کوئی ساجھے دار بادشاہت میں۔‘‘ { فَاِنْ کَانُوْا اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَھُمْ شُرَکَآئُ فِی الثُّلُثِ} (النسائ:12) ’’ پس اگر وہ لوگ اس سے زیادہ ہیں تو وہ لوگ حصہ دار ہیں تہائی میں۔‘‘

 اَشْرَکَ (افعال) اِشْرَاکًا : کسی کو کسی کا حصہ دار یا ساجھی بنانا یاقرار دینا ۔

{وَلَآ اُشْرِکُ بِرَبِّیْ اَحَدًا} (الکہف:38) ’’ اور میں ساجھی قرار نہیں دیتا اپنے رب کے ساتھ کسی ایک کو۔‘‘

 شِرْکٌ : یہ ثلاثی مجرد میں اسم ذات بھی ہے اور بابِ افعال کے مصدر کے طور پر بھی آتا ہے۔ البتہ باب افعال میں اس کا استعمال اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں کسی کو شریک کرنے کے معنی میں مخصوص ہے۔ {اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ ۔ } (لقمان:13) ’’ بیشک اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں کسی کو شریک قرار دینا ایک عظیم ظلم ہے‘‘۔

 اَشْرِکْ (فعل امر) : تو ساجھی بنا‘ تو حصہ دار بنا۔ { وَاَشْرِکْہُ فِیْ اَمْرِیْ ۔ } (طٰہٰ) ’’ اور تو ساجھی بنا اس کو میرے کام میں۔‘‘

 مُشْرِکٌ (اسم الفاعل) : ساجھی بنانے والا‘ شرک کرنے والا ۔ { اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ} (التوبۃ:28) ’’ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ شرک کرنے والے پلید ہیں۔‘‘

 شَارَکَ (مفاعلہ) مُشَارَکَۃٌ : باہم ایک دوسرے کا حصہ دار بننا۔ شریک ہونا۔

 شَارِکْ (فعل امر) : تو حصہ دار بن‘ شریک ہو۔{ وَشَارِکْھُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ} (بنی اسرائیل:64) ’’ اور تو شریک ہو ان کے ساتھ مال میں اور اولاد میں۔‘‘

 اِشْتَرَکَ (افتعال) اِشْتِرَاکًا : اہتمام سے شریک ہونا۔

 مُشْتَرِکٌ (اسم الفاعل) : شریک ہونے والا۔{فَاِنَّھُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ ۔ } (الصّٰفّٰت) ’’ پس یقینا وہ لوگ اس دن عذاب میں شریک ہونے

والے ہیں۔‘‘

 ترکیب : ’’ کُوْنُوْا‘‘ کَانَکا فعل امر ہے۔ اس کا اسم اس میں شامل ’’ اَنْتُمْ‘‘ کی ضمیر ہے اور ’’ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی‘‘ اس کی خبر ہے۔ ’’ تَھْتَدُوْا‘‘ جو اب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔’’ بَلْ‘‘ سے پہلے ’’ کَلاَّ‘‘ محذوف ہے۔ ’’ مِلَّۃَ اِبْرٰھٖمَ‘‘ مرکب اضافی ہے اور اس کے مضاف ’’ مِلَّۃَ‘‘ کی نصب بتا رہی ہے کہ یہ کسی محذوف فعل کا مفعول ہے‘ جو’’ نَــتَّبِعُ‘‘ یا ’’ اِتَّبِعُوْا‘‘ ہو سکتا ہے۔’’ حَنِیْفًا‘‘ کا ’’ اِبْرٰھٖم‘‘ سے حال ہونا قیاساً ضعیف ہے‘ کیونکہ ابراہیم مضاف الیہ ہے اور مضاف الیہ سے حال ہونا قلیل الاستعمال ہے۔ لہٰذا یا تو’’ اِتَّبِعُوْا‘‘ یا’’ نَتَّبِعُ‘‘ فعل محذوف کی ضمیر فاعلی سے حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور یا فعل محذوف’’ اعنی‘‘ کا مفعول ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔’’ مَا کَانَ‘‘ میں ’’ کَانَ‘‘ کا اسم اس میں شامل ’’ ھُوَ‘‘ کی ضمیر ہے جو ابراہیم ؑ کے لئے ہے۔’’ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ‘‘ کَانَکی خبر ہے۔



 نوٹ (1) : اس کا یہ مطلب نہیں کہ چاہے یہودی ہو جائو یا عیسائی ہو جائو‘ ہدایت پائو گے۔ مطلب یہ ہے کہ یہودی کہتے ہیں کہ یہودی ہو گے تو ہدایت پائو گے اور عیسائی کہتے ہیں کہ عیسائی ہو گے تو ہدایت پائو گے۔ دونوں کے اقوال کو یہاں یکجا نقل کیا گیا ہے۔ قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ڮ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ   ١٣٦؁
(قُوْلُوْآ : تم لوگ کہو) (اٰمَنَّا : ہم لوگ ایمان لائے) (بِاللّٰہِ : اللہ پر) (وَمَآ : اور اس پر جو) (اُنْزِلَ : اتارا گیا) (اِلَــیْنَا : ہماری طرف) (وَمَآ : اور اس پر جو) (اُنْزِلَ : اتارا گیا) (اِلٰی اِبْرٰھٖمَ : ابراہیم ؑ کی طرف) (وَاِسْمٰعِیْلَ : اور اسمٰعیل ؑ ) (ی طرف) (وَاِسْحٰقَ : اور اسحاقؑ کی طرف) (وَیَعْقُوْبَ : اور یعقوبؑ کی طرف) (وَالْاَسْبَاطِ : اور ان کی نسل کی طرف) (وَمَآ : اور اس پر جو) (اُوْتِیَ مُوْسٰی : دیا گیاموسٰی ؑ کو) (وَعِیْسٰی : اور عیسیٰ  ؑ کو) (وَمَآ : اور اس پر جو) (اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ : دیا گیا انبیاء ؑکو) (مِنْ رَّبِّھِمْ : ان کے رب کی جانب سے) (لَا نُفَرِّقُ : ہم فرق نہیں کرتے) (بَیْنَ اَحَدٍ : کسی ایک کے مابین) (مِّنْھُمْ : ان میں سے) (وَنَحْنُ لَــہٗ : اور ہم اس کے ہی) (مُسْلِمُوْنَ: فرمانبردار ہیں)



س ب ط

 سَبِطَ (س) سَبَطًا : بالوں کا سیدھا اور دراز ہونا۔

 سِبْطٌ ج اَسْبَاطٌ : اولاد کی اولادیں یعنی پوتے‘ نواسے اور ان کی اولاد۔ نسل۔ (آیت زیرِ مطالعہ)

 ترکیب : ’’ قُوْلُوْا‘‘ فعل امر ہے۔ ’’ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ‘‘ میں لفظ اللہ پر جو حرف جارہ ’’ بِ‘‘ ہے‘ یہ آگے چاروں جگہ لفظ ’’ مَا‘‘ سے پہلے محذوف ہے ‘ یعنی وہ دراصل ’’ بِمَا‘‘ ہیں۔ ’’ اِبْرٰھٖمَ‘‘ سے لے کر ’’ وَالْاَسْبَاطِ‘‘ تک تمام الفاظ ’’ اِلٰی‘‘ کے زیر اثر حالت جر میں ہیں۔ ’’ اُوْتِیَ‘‘ باب افعال کا ماضی مجہول ہے۔ ’’ مُوْسٰی‘ عِیْسٰی‘‘ اور ’’ النَّبِیُّوْنَ‘‘ اس کے نائب فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہیں۔ ’’ نَحْنُ‘‘ مبتدأ ‘ ’’ مُسْلِمُوْنَ‘‘ خبر اور ’’ لَـہٗ‘‘ متعلق خبر مقدم ہے تاکید کے لئے۔’’ لَـہٗ‘‘ میں ’’ ٹہٗ‘‘ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اھْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ھُمْ فِيْ شِقَاقٍ ۚ فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ ۚ وَھُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ   ١٣٧؁ۭ
(فَاِنْ اٰمَنُوْا : پس اگر وہ لوگ ایمان لائیں) (بِمِثْلِ مَا : اس کے مانند) (اٰمَنْتُمْ : تم لوگ ایمان لائے) (بِہٖ : جیسے ) (فَقَدِ اھْتَدَوْا : تو ان لوگوں نے ہدایت پا لی) ( وَاِنْ تَوَلَّوْا : اور اگر وہ لوگ اعراض کریں) (فَاِنَّمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ) (ھُمْ : وہ لوگ) (فِیْ شِقَاقٍ: مخالفت کرنے میں (اَڑے ہوئے) ہیں) (فَسَیَکْفِیْکَھُمُ: تو بےنیاز کرے گا آپؐ ‘ کو ان سے) ( اللّٰہُ : اللہ ) (وَھُوَ : اور وہی) (السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ: ہرحال میں سننے والا جاننے والا ہے)



ک ف ی

 کَفٰی (ض) کِفَایَۃً : (1) کسی ضرورت کی تکمیل کے لئے دوسروں سے بےنیاز ہونا۔ کافی ہونا (لازم ۔ اس مفہوم میں عموماً اس کے فاعل پر ’’ بَا‘‘ زائدہ آتا ہے ‘ یعنی اس کے کوئی معنی نہیں ہوتے‘ جیسے ’’ مَا‘‘ اور ’’ لَـیْسَ‘‘ کی خبر پر آتا ہے) ۔ {وَکَفٰی بِاللّٰہِ نَصِیْرًا ۔ } (النسائ) ’’ اور کافی ہے اللہ بطور مددگار کے‘‘۔ (2) کسی کو کسی سے بےنیاز کرنا (متعدی۔ اس مفہوم میں اس کے دو مفعول درکار ہوتے ہیں: کس کو بےنیاز کیا اور کس سے بےنیاز کیا۔ اور عموماً دونوں بنفسہ آتے ہیں) ۔ {اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِئِ یْنَ ۔ } (الحجر) ’’ بیشک ہم نے بےنیاز کیا آپؐ‘ کو مذاق اڑانے والوں سے‘‘۔

 کَافٍ (اسم الفاعل) : کافی ہونے والا‘ بےنیاز کرنے والا۔{ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ} (الزمر:36) ’’ کیا اللہ بےنیاز کرنے والا نہیں ہے اپنے بندے کو؟‘‘

 ترکیب : ’’ فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَا اٰمَنْتُمْ بِہٖ‘‘ شرط ہے اور ’’ فَقَدِ اھْتَدَوْا‘‘ جواب شرط ہے۔ اسی طرح ’’ وَاِنْ تَوَلَّوْا‘‘ شرط ہے اور ’’ فَاِنَّمَا ھُمْ فِیْ شِقَاقٍ‘‘ جواب شرط ہے۔

 ’’ اٰمَنُوْا‘ اِھْتَدَوْا‘‘ اور ’’ تَوَلَّوْا‘‘ کے فاعل ان میں شامل’’ ھُمْ‘‘ کی ضمیریں ہیں جو آیت نمبر۔135 میں مذکور یہود و نصاریٰ کے لئے ہیں۔ ’’ بِمِثْلِ مَا اٰمَنْتُمْ بِہٖ‘‘ ۔ ’’ بَا‘‘ زائدہ ہے اور مثل مصدر محذوف ’’ اِیْمَانًا‘‘ کی صفت ہے۔ ’’ مَا‘‘ مصدریہ ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے: ’’ فَاِنْ اٰمَنُوْا اِیْمَانًا مِثْلَ اِیْمَانِــکُمْ‘‘ ۔ یا ’’ مِثْل‘‘ زائد ہے اور ’’ مَا‘‘ بمعنی ’’ الَّذِیْ‘‘ ہے اور عبارت یوں ہے : ’’ فَاِنْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْ اٰمَنْتُمْ بِہٖ‘‘ ۔ ’’ ھُمْ‘‘ مبتدأ ہے ‘ اس کی خبر محذوف ہے جو ’’ قَائِمٌ‘‘ یا ’’ رَاسِخٌ‘‘ ہو سکتی ہے‘ جبکہ ’’ فِیْ شِقَاقٍ‘‘ قائم مقام خبر ہے۔ ’’ سَیَکْفِیْ‘‘ کا فاعل’’ اَللّٰہُ‘‘ ہے۔ اس کا مفعولِ اوّل ’’ کَ‘‘ کی ضمیر ہے جو حضور ﷺ کے لئے ہے اور مفعول ثانی ’’ ھُمْ‘‘ کی ضمیر ہے جو یہود و نصاریٰ کے لئے ہے۔

 نوٹ (1) : آیت 13 میں جو بات {کَمَا اٰمَنَ النَّاسُ} کے الفاظ میں کہی گئی تھی وہی بات اس آیت میں {بِمِثْلِ مَا اٰمَنْتُمْ بِہٖ} کے الفاظ میں کہی گئی ہے۔ اس حوالہ سے یہ بات دوبارہ ذہن نشین کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس وہی ایمان مقبول ہے جو صحابۂ کرام کے ایمان جیسا ہو۔ غیر مستند اور خود ساختہ توہمات پر ایمان لانا نیکی نہیں ہے۔ ان کو قرآن مجید میں ’’ اَ مَانِی‘‘ کہا گیا ہے۔ صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً ۡ وَّنَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ   ١٣٨؁
(صِبْغَۃَ اللّٰہِ : (ہم قبول کرتے ہیں) اللہ کے دین کو) (وَمَنْ : اور کون) (اَحْسَنُ : زیادہ اچھا ہے) (مِنَ اللّٰہِ : اللہ سے) (صِبْغَۃً : بلحاظ دین کے) (وَنَحْنُ : اور ہم) (لَــہٗ : اس کی ہی ) (عٰبِدُوْنَ: بندگی کرنے والے ہیں)



ص ب غ

 صَبَغَ (ف) صَبْغًا : کسی پر کوئی رنگ چڑھانا۔ بپتسمہ دینا۔ مذہب میں پختہ کرنا۔

 صِبْغَۃٌ : مذہب کا رنگ ‘ بپتسمہ کا رنگ‘ دین ( آیت زیرِ مطالعہ)

 صِبْغٌ : سالن یا سرکہ وغیرہ (کیونکہ ان میں پانی پر کوئی رنگ چڑھ جاتا ہے) ۔ { تَنْبُتُ بِالدُّھْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیْنَ} (المؤمنون:20) ’’ وہ اُگتا ہے چکنائی کے ساتھ اور سالن کے ساتھ کھانوں والوں کے لئے۔‘‘

 ترکیب : ’’ صِبْغَۃَ اللّٰہِ‘‘ میں مضاف کی نصب بتار ہی ہے کہ یہ مرکب اضافی مفعول ہے اور اس کا فعل محذوف ہے جو کہ نَقْبَلُ یا ’’ اِتَّبِعُوْا‘‘ ہو سکتا ہے۔ یا یہ بدل ہے ’’ مِلَّۃَ اِبْرٰھٖمَ‘‘ سے۔ ’’ مَنْ‘‘ مبتدأ‘ ’’ اَحْسَنُ‘‘ خبر اور ’’ مِنَ اللّٰہِ‘‘ متعلق خبر ہے ‘ جبکہ ’’ صِبْغَۃً‘ اَحْسَنُ‘‘ کی تمیز ہے۔ ’’ نَحْنُ‘‘ مبتدأ اور ’’ عٰبِدُوْنَ‘‘ خبر ہے ‘ جبکہ متعلق خبر ’’ لَـہٗ‘‘ کو تاکید کے لئے مقدم کیا گیا ہے۔ قُلْ اَتُحَاۗجُّوْنَـــنَا فِي اللّٰهِ وَھُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۚ وَلَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۚ وَنَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَ    ١٣٩؁
(قُلْ : کہو) (اَتُحَآجُّوْنَنَا: کیا تم لوگ دلیل بازی کرتے ہو ہم سے؟) ( فِی اللّٰہِ : اللہ (کے بارے ) میں) (وَھُوَ رَبُّنَا ) (حالانکہ وہ ہمارا رب ہے) (وَرَبُّــکُمْ : اور تمہارا رب ہے) (وَلَنَـآ : اور ہمارے لئے ہی ہیں) (اَعْمَالُــنَا : ہمارے اعمال) (وَلَــکُمْ : اور تمہارے لئے ہی ہیں) (اَعْمَالُــکُمْ : تمہارے اعمال) ( وَنَحْنُ : اور ہم ) (لَــہٗ : اس کے لئے ہی ) (مُخْلِصُوْنَ: خالص کرنے والے ہیں (اپنے اعمال کو)



 ترکیب : ’’ اَتُحَاجُّوْنَنَا‘‘ میں ہمزہ استفہام کا ہے۔’’ تُحَاجُّوْنَ‘‘ فعل مضارع ہے اور اس کے ساتھ ضمیر مفعولی’’ نَا‘‘ ہے۔ ’’ وَھُوَ رَبُّنَا‘‘ کا واوحالیہ ہے۔ ’’ ھُوَ‘‘ مبتدأ’’ رَبُّنَا‘‘ خبر اوّل اور’’ رَبُّـکُمْ‘‘ خبر ثانی ہے۔ ’’ اَعْمَالُنَا‘‘ مبتدأ مؤخر ہے اور اس کی خبر محذوف ہے جبکہ ’’ لَنَا‘‘ قائم مقام خبر مقدم ہے۔’’ نَحْنُ‘‘ مبتدأ ’’ لَـہٗ‘‘ متعلق خبر مقدم اور اسم الفاعل’’ مُخْلِصُوْنَ‘‘ خبر بھی ہے اور فعل کا کام بھی کر رہا ہے۔ اس کا مفعول’’ اَعْمَالَنَا‘‘ محذوف ہے۔



 نوٹ (1) : عمل کو ملاوٹ سے پاک کرنے یعنی خالص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے عمل کرے اور اسی سے اجر و ثواب کی امید رکھے۔ اللہ کے سوا کسی سے نہ تو اجر کی توقع کرے اور نہ ہی مدح و ستائش کی خواہش دل میں پیدا ہونے دے۔

 ’’ بعض بزرگوں کا قول ہے کہ اخلاص ایک ایسا عمل ہے جس کو نہ تو فرشتے پہچان سکتے ہیں اور نہ شیطان‘ وہ صرف بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک راز ہے‘‘۔ (معارف القرآن) اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ كَانُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ۭ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ ۭ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ   ١٤٠؁
(اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ : یا تم لوگ کہتے ہو کہ) (َ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ: ابراہیم ؑ اور اسماعیل ) (ؑاور اسحاقؑ اور یعقوبؑ اور ان کی اولادیں‘) (کَانُوْا : وہ سب تھے) (ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی : یہودی یا عیسائی) (قُلْ : کہو) (ئَ اَنْتُمْ : کیا تم لوگ) (اَعْلَمُ : زیادہ جانتے ہو ) (اَمِ اللّٰہُ : یا اللہ (زیادہ جانتا ہے) وَمَنْ : اور کون ) (اَظْلَمُ: زیادہ ظالم ہے) (مِمَّنْ : اس سے جس نے ) (کَتَمَ : چھپایا) (شَھَادَۃً : اس گواہی کو جو ) (عِنْدَہٗ : اس کے پاس ہے ) (مِنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے) (وَمَا اللّٰہُ : اور اللہ) (بِغَافِلٍ : غافل نہیں ہے ) () (عَمَّا : اس سے جو) (تَعْمَلُوْنَ: تم لوگ کرتے ہو)





 ترکیب : ’’ اِبْرٰھٖمَ‘‘ سے لے کر ’’ وَالْاَسْبَاطَ‘‘ تک‘ یہ سب ’’ اِنَّ‘‘ کا اسم ہے‘ جبکہ ’’ اِنَّ‘‘ کی خبر کے طور پر پورا جملہ آیا ہے جو کہ ’’ کَانُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی‘‘ ہے۔ اس جملہ میں ’’ کَانُوْا‘‘ کا اسم اس میں شامل ’’ ھُمْ‘‘ کی ضمیر ہے جو کہ ’’ اِبْرٰھٖمَ‘‘ سے لے کر ’’ وَالْاَسْبَاطَ‘‘ تک سب کے لئے ہے۔ جبکہ اس کی خبر ’’ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی‘‘ ہے۔ ’’ئَ اَنْتُمْ‘‘ مبتدأ اور ’’ اَعْلَمُ‘‘ خبر ہے۔ ’’ اَمِ اللّٰہُ‘‘ پھر مبتدأ ہے اور اس کی خبر ’’ اَعْلَمُ‘‘ محذوف ہے۔ ’’ مَنْ‘‘ استفہامیہ مبتدأ اور ’’ اَظْلَمُ‘‘ اس کی خبر ہے۔ ’’ مِمَّنْ‘‘ اصل میں ’’ مِنْ مَنْ‘‘ ہے۔ یہ ’’ مَنْ‘‘ استفہامیہ بھی مبتدأ ہے اور ’’ کَتَمَ‘‘ سے لے کر’’ مِنَ اللّٰہِ‘‘ تک پورا جملہ فعلیہ اس کی خبر ہے۔ ’’ کَتَمَ‘‘ فعل‘ اس کا فاعل اس میں شامل ’’ ھُوَ‘‘ کی ضمیر ہے جو ’’ مَنْ‘‘ کے لئے ہے۔ اس کا مفعول ’’ شَھَادَۃً‘‘ ہے جو نکرہ مخصوصہ ہے۔ ’’ کُنْتُمْ‘‘ متعدی بہ دہ مفعول ہوتا ہے‘ دوسرا مفعول محذوف ہے اور عبارت یوں ہے: ’’ کَتَمَ النَّاسُ شَھَادَۃً‘‘ اور ’’ عِنْدَہٗ‘‘ اور ’’ مِنَ اللّٰہِ‘‘ یہ دونوں’’ شَھَادَۃً‘‘ کی صفات ہیں۔ جبکہ ’’ عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِ‘‘ اس کی خصوصیت ہے۔ لفظ’’ اَللّٰہُ‘‘ مَا نافیہ کا اسم ہے اور ’’ بِغَافِلٍ‘‘ اس کی خبر ہے۔ جبکہ ’’ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ‘‘ متعلق خبر ہے۔ ’’ عَمَّا‘‘ دراصل ’’ عَنْ مَا‘‘ ہے۔ تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ وَلَا تُسْـَٔـلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ   ١٤١؁ۧ
(تِلْکَ : وہ) (اُمَّــۃٌ : ایک امت ہے جو) (قَدْ خَلَتْ : گزر چکی ہے) ( لَھَا : اس کے لئے ہی ہے ) (مَا کَسَبَتْ : وہ جو اس نے کمایا) (وَلَــکُمْ : اور تم لوگوں کے لئے ہی ہے ) (مَّا کَسَبْتُمْ : وہ جو تم لوگوں نے کمایا) (وَلَا تُسْئَلُوْنَ : اور تم لوگوں سے نہیں پوچھا جائے گا) (عَمَّا : اس کے بارے میں جو ) (کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ: وہ لوگ کیا کرتے تھے)