قرآن کریم کے ایک ایک لفظ کی لغوی، صرفی، نحوی اور اعرابی تفسیر
افادات :  پروفیسر حافظ احمد یار 
(یونی کوڈ فارمیٹ)

 
تیرہواں پارہ

وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ  ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ          53؀
[وَمَآ اُبَرِّئُ: اور میں بری نہیں کرتا] [ نَفْسِيْ : اپنے نفس کو] [ ان : بیشک] [النَّفْسَ: نفس] [لَاَمَارَةٌۢ: یقینا بار بار اُکسانے والا سے] [ بِالسُّوْۗءِ: برائی پر] [ اِلَّا: مگر] [ مَا: جب] [ رَحِمَ : رحم کرے] [رَبِيْ: میرا رب [ان: بیشک [ رَبِيْ: میرا رب] [غَفُوْرٌ: بخشنے والا ہے [ رَّحِيْمٌ: رحم کرنے والا ہے]

 

نوٹ۔1: آیت نمبر 50 سے 53 تک جو کچھ قرآن نے بیان کیا ہے اس کا کوئی ذکر بائبل اور تلمود میں نہیں ہے، حالانکہ وہ اس قصّہ کا ایک بڑا ہی اہم باب ہے۔ بائبل کا بیان ہے کہ بادشاہ کی طلبی پر حضرت یوسف ؑ فوراً چلنے کو تیار ہو گئے۔ تلمود اس سے بھی زیادہ گھٹیا صورت میں اس واقعے کو پیش کرتی ہے، اس کا بیان ہے کہ بادشاہ نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ یوسف ؑ کو میرے حضور پیش کرو۔ چنانچہ شاہی کارندوں نے یوسف ؑ کو قید سے نکالا حجامت بنوائی، کپڑے بدلوائے اور دربار میں لا کر پیش کر دیا، وہاں زر و جواہر کی چمک دمک اور دربار کی شان دیکھ کر یوسف ؑ ہکا بکا رہ گیا۔ شاہی تخت کی سات سیڑھیاں تھیں۔ قاعدہ یہ تھا کہ جب کوئی معزز آدمی بادشاہ سے کچھ عرض کرنا چاہتا تھا تو وہ چھ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جاتا اور بادشاہ سے ہم کلام ہوتا۔ اور ادنیٰ طبقہ کا کوئی آدمی بلایا جاتا تو وہ نیچے کھڑا رہتا اور بادشاہ تیسری سیڑھی تک اتر کر اس سے بات کرتا۔ یوسف ؑ اس قاعدے کے مطابق نیچے کھڑا ہوا اور زمین بوس ہو کر اس نے بادشاہ کو سلامی دی اور بادشاہ نے تیسری سیڑھی تک اتر کر اس سے گفتگو کی۔ اس تصویر میں بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر کو جتنا گرا کر پیش کیا ہے اس کو نگاہ میں رکھئے اور پھر دیکھئے کہ قرآن ان کی قید سے نکلنے اور بادشاہ سے ملنے کا واقعہ کس شان کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنا ہر صاحب نظر کا اپنا کام ہے کہ ان دونوں تصویروں میں سے کون سی تصویر پیغمبری کے مرتبے سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ (تفہیم القرآن)

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖٓ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِيْ ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ       54؀
[وَقَالَ : اور کہا] [الْمَلِكُ: اس بادشاہ نے] [ ائْتُوْنِيْ: لائو میرے پاس] [ بِهٖٓ: اس کو] [ اَسْتَخْلِصْهُ : میں چن لوں گا اس کو [لِنَفْسِيْ: اپنے لئے] [ فَلَمَا: پھر جب] [كَلَّمَهٗ: اس نے بات کی انؑ سے] [قَالَ : تو اس نے کہا] [انكَ: بیشک تو] [الْيَوْمَ : آج سے] [ لَدَيْنَا : ہمارے پاس] [مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ: ایک امانتدار معزز ہے]

قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ         55؀
[قَالَ: انھوںؑ نے کہا] [اجْعَلْنِيْ: تو بنا دے مجھ کو] [ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ: زمین کے خزانوں پر (وزیر)] [ انى : بیشک میں] [حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ: علم رکھنے والا نگران ہوں]

وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاۗءُ  ۭ نُصِيْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَاۗءُ وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ         56؀
[وَكَذٰلِكَ: اس طرح [ مَكَّنَا: ہم نے اختیار دیا] [ لِيُوْسُفَ: یوسف ؑ کو [ فِي الْاَرْضِ : اس سر زمین میں] [ يَتَبَوَّاُ: (کہ) وہ اقامت اختیار کریں] [ مِنْهَا: اس میں سے] [حَيْثُ: جہاں] [يَشَاۗءُ: وہ چاہیں] [نُصِيْبُ: ہم پہنچاتے ہیں] [بِرَحْمَتِنَا: اپنی رحمت کو] [ مَنْ: اسے جسے] [ نَّشَاۗءُ: ہم چاہتے ہیں [ وَلَا نُضِيْعُ: اور ہم ضائع نہیں کرتے [ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ: خوب کاروں کے اجر کو]

وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ       57؀ۧ
[وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ: اور یقینا آخرت کا اجر] [ خَيْرٌ: بہتر ہے] [لِلَّذِيْنَ: ان کے لئے جو] [اٰمَنُوْا: ایمان لائے [ وَكَانوْا يَتَّقُوْنَ: اور تقویٰ کرتے رہے]

وَجَاۗءَ اِخْوَةُ يُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ        58؀
[وَجَاۗءَ: اور آئے] [ اِخْوَةُ يُوْسُفَ: یوسفؑ کے بھائی] [ فَدَخَلُوْا عَلَيْهِ: پھر وہ لوگ داخل ہوئے انؑ پر (یعنی حاضر ہوئے)] [ فَعَرَفَهُمْ : تو انھوںؑ نے پہچانا ان لوگوں کو] [وَهُمْ : اور وہ لوگ] [لَهٗ: انؑ کو] [مُنْكِرُوْنَ: نہ پہچاننے والے تھے]

 

 ج ھـ ز

 [جَھْزًا: (ف) کسی ادھورے کام کو پورا کرنا جیسے زخمی کو مار کر اس کا کام تمام کر دینا۔] [جَھَازٌ: کسی کی ضرورت پوری کرنے والا سامان۔ زیر مطالعہ آیت 59۔] [تَجْھِیْزًا: (تفعیل) کسی کے لئے ضرورت کا سامان مہیا کرنا۔ تیار کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔59]

وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِيْكُمْ ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّىْٓ اُوْفِي الْكَيْلَ وَاَنَا خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ     59؀
[وَلَمَا: اور جب] [ جَهَّزَهُمْ : انھوںؑ نے تیار کیا ان کے لئے] [بِجَهَازِهِمْ: ان کی ضرورت کے سامان کو] [ قَالَ: تو انھوںؑ نے کہا] [ ائْتُوْنِيْ: تم لوگ آنا میرے پاس ] [ بِاَخٍ لَكُمْ: اپنے اس بھائی کے ساتھ جو] [ مِّنْ اَبِيْكُمْ : تمھارے والد سے ہے] [ اَ : کیا] [لَا تَرَوْنَ: تم لوگ دیکھتی نہیں] [ انىٓ: کہ میں] [اُوْفِي : پورا کرتا ہوں] [الْكَيْلَ: پیمانہ بھرنے کو] [وَانا: اور میں] [خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ: اتارنے والوں (یعنی مہمان نوازوں) کا بہترین ہیں]

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِيْ بِهٖ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِيْ وَلَا تَقْرَبُوْنِ    60؀
[فَان : پھر اگر] [لَمْ تَاْتُوْنِيْ: تم نہ آئے میرے پاس] [بِهٖ: اس کے ساتھ] [فَلَا كَيْلَ: تو کوئی پیمانہ بھرنا نہیں ہے] [لَكُمْ: تمھارے لئے] [ عِنْدِيْ: میرے پاس] [ وَلَا تَقْرَبُوْنِ: اور تم لوگ قریب مت آنا میرے]

 

نوٹ۔1: آیت 59۔60 کو سمجھنے کے لئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ قحط کے زمانے میں مصر میں غلہ کو ضابطہ بندی تھی اور ہر شخص ایک مقرر مقدار میں غلّہ لے سکتا تھا۔ غلہ لینے کے لئے دس بھائی آئے تھے مگر وہ اپنے والد اور اپنے گیارھویں بھائی کا قصّہ بھی مانگتے ہوں گے۔ اس پر حضرت یوسف ؑ نے کہا ہو گا کہ تمھارے والد کے نہ آنے کا عذر تو معقول ہو سکتا ہے کہ وہ بہت بوڑھے اور نابینا ہیں مگر بھائی کے نہ آنے کا معقول سبب نہیں ہے۔ اس وقت تو ہم تمھاری زبان کا اعتبار کر کے پورا غلہ دے دیتے ہیں مگر آئندہ اگر تم اس کو ساتھ نہ لائے تو تمھارا اعتبار جاتا رہے گا اور تمھیں یہاں سے کوئی غلّہ نہیں مل سکے گا۔ (تفہیم القرآن)

نوٹ۔2: حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کی پونجی ان کے سامان میں رکھوا دی تھی۔ اس کی کیا وجہ تھی۔ ابن کثیر  (رح)  نے اس کے کئی احتمال بیان کئے ہیں۔ ایک یہ کہ ان ؑ کو خیال آیا کہ شاید ان کے بھائیوں کے پاس اس نقد اور زیور کے سوا اور کچھ نہ ہو، تو پھر دوبارہ غلّہ لینے کے لئے نہیں آ سکیں گے۔ دوسرے یہ کہ اپنے والد اور بھائیوں سے کھانے کی قیمت لینا گواراہ نہ ہو۔ اس لئے شاہی خزانہ میں اپنے پاس سے رقم جمع کر کے ان کی رقم واپس کر دی۔ تیسرے یہ کہ وہ جانتے تھے کہ جب ان کی پونجی ان کو واپس ملے گی اور والد کو علم ہو گا تو وہ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پونجی کو مصری خزانے کی امانت سمجھ کر ضرور واپس بھیجیں گے۔ اس طرح بھائیوں کا واپس آنا یقینی ہو جائے گا۔ بہرحال حضرت یوسف ؑ نے یہ انتظام اس لئے کیا کہ آئند

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَ     61؀
[قَالُوْا: ان لوگوں نے کہا] [ سَنُرَاوِدُ: ہم پھسلائیں گے] [ عَنْهُ : اس کو (روکنے) سے] [اَبَاهُ: اس کے والد کو] [ وَانا: اور بیشک ہم] [ لَفٰعِلُوْنَ: (یہ) ضرور کرنے والے ہیں]

وَقَالَ لِفِتْيٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِيْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُوْنَهَآ اِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ    62؀
[وَقَالَ : اور انھوں ؑ نے کہا] [لِفِتْيٰنِهِ: اپنے نوجوان خادموں سے] [اجْعَلُوْا: تم لوگ رکھ دو] [بِضَاعَتَهُمْ : ان کی پونجی کو] [فِيْ رِحَالِهِمْ: ان کی بوریوں میں] [ لَعَلَهُمْ؛شائد وہ لوگ] [يَعْرِفُوْنَهَآ: پہچانیں اس کو] [اِذَا: جب] [انقَلَبُوْا: وہ لوگ پلٹیں] [ اِلٰٓى اَهْلِهِمْ: اپنے گھر والوں کی طرف] [ لَعَلَهُمْ؛شائد وہ لوگ] [ يَرْجِعُوْنَ: واپس آئیں]

 

ر ح ل

 [رَحْلًا: (ف) (1) اونٹ یا گھوڑے کی پیٹھ پر کجادہ باندھنا۔ (2) سفر کرنا۔] [رَحْلٌ: ج رِحَالٌ۔ سامان رکھنے کا تھیلا یا بوری وغیرہ۔ زیر مطالعہ آیت 62۔] [رحلۃ: کوچ۔ سفر۔ رِحْلَۃَ الشِّتَائِ وَالصَّیْفِ (جاڑے اور گرمی کا سفر) 106:2۔]

فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْهِمْ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَآ اَخَانَا نَكْتَلْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ     63؀
[فَلَمَا: پھر جب] [رَجَعُوْٓا: وہ لوگ واپس پہنچے] [ اِلٰٓى اَبِيْهِمْ: اپنے والد کی طرف] [ قَالُوْا: تو ان لوگوں نے کہا] [يٰٓاَبَانا: اے ہمارے والد] [ مُنِعَ: روکا گیا] [ مِنَا: ہم سے] [ الْكَيْلُ : پیمانہ بھرنے کو] [فَاَرْسِلْ: تو آپؑ بھیجیں] [مَعَنَآ: ہمارے ساتھ] [ اَخَانا: ہمارے بھائی کو] [ نَكْتَلْ: تو ہم اپنے لئے پیمانہ بھریں [ وَانا: اور بیشک] [ لَهٗ : اس کی] [لَحٰفِظُوْنَ: یقینا حفاظت کرنے والے ہیں]

 

ترکیب: (آیت۔63) نَکْتَلْ۔ باب اطتعال کا مضارع مجزوم ہے جو فعل امر اَرْسِلْ کا جواب امر ہونے کی وجہ سے مجروم ہوا ہے۔

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْهِ اِلَّا كَمَآ اَمِنْتُكُمْ عَلٰٓي اَخِيْهِ مِنْ قَبْلُ  ۭ فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا  ۠ وَّهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ     64؀
[قَالَ: (یعقوبؑ نے) کہا] [هَلْ: کیا] [ اٰمَنُكُمْ: میں اعتبار کروں تم لوگوں کا] [عَلَيْهِ : اس (بات) پر] [اِلَّا: سوائے اس کے کہ] [ كَمَآ: جس طرح] [اَمِنْتُكُمْ: میں نے اعتبار کیا تمھارا] [عَلٰٓي اَخِيْهِ: اس کے بھائی کے بارے میں] [مِنْ قَبْلُ: اس سے پہلے] [ فَاللّٰهُ : پس اللہ] [خَيْرٌ: سب سے بہتر ہے] [حٰفِظًا: بطور حفاظت کرنے والے کے] [ وَّهُوَ: اور وہ] [اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ: رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے]

وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَيْهِمْ ۭ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَا نَبْغِيْ  ۭهٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَيْنَا  ۚ وَنَمِيْرُ اَهْلَنَا وَنَحْفَظُ اَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيْرٍ  ۭ ذٰلِكَ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ    65؀
[وَلَمَا: اور جب] [ فَتَحُوْا: انھوں نے کھولا] [مَتَاعَهُمْ: اپنے سامان کو] [ وَجَدُوْا: تو انھوں نے پایا [بِضَاعَتَهُمْ: اپنی پونجی کو] [رُدَّتْ: جو لوٹائی گئی] [ اِلَيْهِمْ : ان کی طرف] [قَالُوْا: انھوں نے کہا] [يٰٓاَبَانا: اے ہمارے باپ] [ مَا نَبْغِيْ: ہم (اور) کیا چاہیں] [هٰذِهٖ: یہ] [ بِضَاعَتُنَا: ہماری پونجی سے] [رُدَّتْ: جو لوٹائی گئی ] [ اِلَيْنَا : ہماری طرف] [وَنَمِيْرُ: اور ہم خوراک لائیں گے] [اَهْلَنَا: اپنے گھر والوں کے لئے] [ وَنَحْفَظُ: اور ہم حفاظت کریں گے] [ اَخَانا: اپنے بھائی کی] [ وَنَزْدَادُ: اور ہم زیادہ ہوں گے] [ كَيْلَ بَعِيْرٍ: ایک اونٹ کے پیمانے (بوجھ) کے لحاظ سے] [ذٰلِكَ: یہ] [ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ: آسان پیمانہ بھرنا ہے]

 

 م ی ر

 [مَیْرًا: (ض) کسی کے لئے خوراک لانا۔ زیر مطالعہ آیت۔65]

 

ب ع ر

 [بَعِسْرًا: (س) اونٹ کا چار سال یا نو سال کا ہونا۔] [بَعِیْرٌ: اونٹ (مذکر و مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے) زیر مطالعہ آیت۔65]

 

ترکیب: (آیت۔65) نَزْدَادُ دراصل مادہ ’’ ز ی د‘‘ ہے باب افتعال کے مضارع کا جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ جو اصل میں نَزْتَا دُعَا تائِ افتعال کو دال سے بدل دیا گیا ہے۔ (آیت۔67) بَنِیَّ دراصل بَنِیْنَ تھا۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون گرا تو بَنِیْ باقی بچی۔ اسی پر مضاف الیہ پائے متکلم داخل ہوئی تو بَلِیَّ ہو گیا۔ (آیت۔68) قَضٰھَا کی ضمیر فاعلی ھُوَ کی ضمیر ہے جو یعقوبؑ کے لئے ہے اور ھَا کی ضمیر مفعولی حَاجَۃً کے لئے ہے۔

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِيْ بِهٖٓ اِلَّآ اَنْ يُّحَاطَ بِكُمْ ۚ فَلَمَّآ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰي مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ     66؀
[قَالَ: انھوںؑ نے کہا] [ لَنْ اُرْسِلَهٗ: میں ہرگز نہیں بھیجونگا اس کو ] [مَعَكُمْ: تم لوگوں کے ساتھ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ] [ تُؤْتُوْنِ: تو لوگ دو مجھ کو [ مَوْثِقًا: ایک پختہ وعدہ] [ مِّنَ اللّٰهِ: اللہ سے] [ لَتَاْتُنَّنِيْ : (کہ) تم لوگ لازماً آئو گے میرے پاس] [بِهٖٓ: اس کے ساتھ] [ اِلَّآ ان: سوائے اس کے کہ] [ يُّحَاطَ: گھیر لیا جائے] [ بِكُمْ : تم لوگوں کو] [ فَلَمَآ: پھر جب] [ اٰتَوْهُ: ان لوگوں نے دیا انؑ کو] [مَوْثِقَهُمْ: اپنا پختہ وعدہ [ قَالَ: تو انھوںؑ نے کہا] [ اللّٰهُ: اللہ] [عَلٰي مَا: اس پر جو] [ نَقُوْلُ : ہم کہتے ہیں] [وَكِيْلٌ: نگہبان ہے]

وَقَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ  ۭ وَمَآ اُغْنِيْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ  ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ  ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ  ۚ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ     67؀
[وَقَالَ: اور انھوںؑ نے کہا] [ يٰبَنِيَّ: اے میرے بیٹو] [لَا تَدْخُلُوْا: تم لوگ داخل مت ہونا] [مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ: ایک دروازے سے] [ وَّادْخُلُوْا: اور تم لوگ داخل ہونا] [مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ : الگ الگ دروازوں سے] [ وَمَآ اُغْنِيْ: اور میں کام نہیں آئوں گا] [عَنْكُمْ: تمھارے ] [ مِّنَ اللّٰهِ: اللہ سے] [مِنْ شَيْءٍ: کسی بھی چیز سے] [ ان: نہیں ہے] [ الْحُكْمُ: حکم دینا ] [ اِلَّا: مگر [ للّٰهِ : اللہ کے لئے] [عَلَيْهِ: اس پر بھی ] [تَوَكَّلْتُ : میں نے بھروسہ کیا] [ وَعَلَيْهِ: اور اس پر بھی] [ فَلْيَتَوَكَّلِ: پس چاہئے کہ بھروسہ کریں [ الْمُتَوَكِّلُوْنَ: بھروسہ کرنے والے]

وَلَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَيْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ ۭ مَا كَانَ يُغْنِيْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِيْ نَفْسِ يَعْقُوْبَ قَضٰىهَا   ۭ وَاِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ     68؀ۧ
[وَلَمَا: اور جب] [ دَخَلُوْا: وہ داخل ہوئے [ مِنْ حَيْثُ: جہاں سے] [ اَمَرَهُمْ: حکم دیا ان کو] [ اَبُوْهُمْ : ان کے والد نے] [ مَا كَان: تو وہ نہیں تھا (کہ)] [ يُغْنِيْ: کام آتا] [ عَنْهُمْ: ان کے] [ مِّنَ اللّٰهِ: اللہ سے] [مِنْ شَيْءٍ: کسی بھی چیز سے] [ اِلَّا: مگر ] [ حَاجَةً: ایک خواہش] [ فِيْ نَفْسِ يَعْقُوْبَ: یعقوبؑ کے جی میں] [ قَضٰىهَا : انھوں نے پورا کیا اس کو] [ وَانهٗ: اور بیشک وہ [لَذُوْ عِلْمٍ: یقینا صاحب علم تھے] [ لِمَا: اس کے جو] [ عَلَّمْنٰهُ: ہم نے علم دیا ان کو] [ وَلٰكِنَّ: اور لیکن [ اَكْثَرَ النَاسِ: لوگوں کے اکثر] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتے نہیں ہیں]

 

ح و ج

 [حَوْجًا: (ن) ضرورت مند ہوا کسی چیز کی خواہش کرنا۔] [حَاجَۃٌ: ایسی ضرورت جس کی دل میں خواہش ہو۔ (1) ضرورت (2) دلی خواہش زیر مطالعہ آیت۔68]

 

نوٹ۔1: آیت۔68 میں ہے کہ حضرت یعقوبؑ صاحب علم تھے اور یہ علم اللہ نے ان کو دیا تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تدبیر اور توکل کے درمیان اتنا ٹھیک اور صحیح تو ازن جو حضرت یعقوبؑ کے مذکورہ بالا اقوال میں پایا جاتا ہے۔ وہ دراصل اس علم حقیقت کا فیض ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا تھا۔ طرف وہ عالم اسباب کے قوانین کے مطابق تمام ایسی تدبیریں کرتے ہیں جو عقل و فکر اور تجربہ کی بنیاد پر اختیار کرنی ممکن تھیں۔ بیٹوں کا ان کا پہلا جرم یاد دلا کر تنبیہہ کرتے ہیں، خدا کے نام پر عہد و پیمان لیتے ہیں اور وقت کے سیاسی حالات کے تحت تاکید کرتے ہیں کہ تم سب ایک دروازے سے داخل مت ہونا۔ مگر دوسری طرف بار بار اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ کوئی انسانی تدبیر اللہ کی مشیت کو نافذ ہونے سے نہیں روک سکتی۔ اور اصل حفاظت اللہ کی حفاظت ہے اور بھروسہ اپنی تدبیروں پر نہیں بلکہ اللہ ہی کے فضل پر ہونا چاہئے۔

 اپنی باتوں اور اپنے کاموں میں یہ صحیح توازن صرف وہی شخص قائم کرسکتا ہے جو حقیقت کا علم رکھتا ہو۔ جو یہ بھی جانتا ہو کہ دنیا کے ظاہری اسباب و عدل کے نظام کے پیچھے اصل کارفرما طاقت کون سی ہے اور اس کے ہوتے ہوئے اپنی سعی و عمل پر انسان کا بھروسہ کس قدر بےبنیاد ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (تفہیم القرآن)

وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّىْٓ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ     69؀
[وَلَمَا: اور جب] [ دَخَلُوْا: وہ لوگ داخل (حاضر) ہوئے] [عَلٰي يُوْسُفَ: یوسف ؑ پر] [اٰوٰٓى: تو انھوںؑ نے جگہ دی] [ اِلَيْهِ: اپنے پاس] [اَخَاهُ: اپنے بھائی کو] [ قَالَ: (پر) انھوںؑ نے کہا] [ انىٓ انا: کہ میں ہی] [ اَخُوْكَ: تمھارا بھائی ہوں] [ فَلَا تَبْتَىِٕسْ: پس تم دل برداشتہ مت ہو] [ بِمَا: اس سے جو] [ كَانوْا يَعْمَلُوْنَ: یہ لوگ کرتے تھے]

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ     70؀
[فَلَمَا: پھر جب] [ جَهَّزَهُمْ: انھوںؑ نے تیار کیا ان کے لئے] [ بِجَهَازِهِمْ: ان ضرورت کے سامان کو] [ جَعَلَ: تو انھوںؑ نے رکھا [السِّقَايَةَ: پینے کے پیالے کو [ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ: اپنے بھائی کے تھیلے میں] [ ثُمَّ: پھر] [ اَذَّنَ: پکارا ] [مُؤَذِّنٌ: ایک پکارنے والے نے ] [ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ: اے قافلے والو ] [ انكُمْ : بیشک تم لوگ] [لَسٰرِقُوْنَ: یقینا چوری کرنے والے ہو]

 

 ع ی ر

 [عَیْرًا: (ض) ادھر ادھر آنا جانا۔] [عِیْرٌ: قافلہ۔ زیر مطالعہ آیت۔70]

قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ     71؀
[قَالُوْا: ان لوگوں نے کہا] [ وَاَقْبَلُوْا: اور وہ لوگ سامنے ہوئے] [ عَلَيْهِمْ: ان کے] [مَاذَا: وہ کیا ہے جو] [ تَفْقِدُوْنَ: تم لوگ نہیں پاتے]

 

ف ق د

 [فُقْدَانًا: (ض) (1) کسی چیز کا گم ہو جانا۔ (2) کسی چیز کو نہ پانا۔ زیر مطالعہ آیت۔71] [تَفْقُرًا: (تفعل) (1) تلاش کرنا۔ (2) کسی چیز کا جائزہ لینا کہ کچھ کم یا گم تو نہیں ہوئی۔

وَتَفَقَّہَ الطَّیْرَ (اور اس نے جائزہ لیا پرندوں کا) 27:20]

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ      72؀
[قَالُوْا: ان لوگوں نے کہا] [ نَفْقِدُ: ہم نہیں پاتے] [ صُوَاعَ الْمَلِكِ : بادشاہ کا پینے کا پیالہ] [وَلِمَنْ: اور اس کے لئے جو] [ جَاۗءَ بِهٖ: لائے گا اس کو] [حِمْلُ بَعِيْرٍ: ایک اونٹ کا بوجھ (انعام) ہے] [وَّانا: اور میں ] [ بِهٖ: اس کا ] [ زَعِيْمٌ: ضامن ہوں]

 

ص و ع

 [صَوْعًا: (ن) کسی پیمانے سے ناپنا۔] [صُوَاعٌ: پینے کا پیالہ۔ زیر مطالعہ آیت 72۔]

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ    73؀
[قَالُوْا: ان لوگوں نے کہا] [ تَاللّٰهِ: اللہ کی قسم] [ لَقَدْ عَلِمْتم: بیشک تم لوگ جان چکے ہو] [مَا جِئْنَا: ہم نہیں آئے [ لِنُفْسِدَ: کہ ہم نظم بگاڑیں [ فِي الْاَرْضِ: زمین میں [ وَمَا كُنَا: اور ہم نہیں ہیں] [ سٰرِقِيْنَ: چوری کرنے والے]

قَالُوْا فَمَا جَزَاۗؤُهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ    74؀
[قَالُوْا: ان لوگوں نے کہا [ فَمَا: تو کیا] [ جَزَاۗؤُهٗٓ: اس کا بدلہ ہے [ ان : اگر ] [ كُنْتم: تم لوگ] [ كٰذِبِيْنَ: جھوٹ کہنے والے ہو]

قَالُوْا جَزَاۗؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ  ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ    75؀
[قَالُوْا: ان لوگوں نے کہا] [ جَزَاۗؤُهٗ: اس کا بدلہ] [ مَنْ: وہ ہے] [وُّجِدَ: وہ (پیالہ) پایا گیا] [ فِيْ رَحْلِهٖ: جس کے تھیلے میں] [ فَهُوَ: تو وہ ہی] [جَزَاۗؤُهٗ: اس کا بدلہ ہے] [ كَذٰلِكَ : اس طرح] [نَجْزِي: ہم بدلہ دیتے ہیں] [الظّٰلِمِيْنَ: ظلم کرنے والوں کو]

فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاۗءِ اَخِيْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَاۗءِ اَخِيْهِ  ۭ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ  ۭ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ  ۭ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ  ۭ وَفَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ      76؀
[فَبَدَاَ: تو انھوںؑ نے ابتدا کی] [ بِاَوْعِيَتِهِمْ : ان لوگوں کے تھیلوں (کی تلاشی) سے ] [قَبْلَ وِعَاۗءِ اَخِيْهِ: اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے] [ ثُمَّ : پھر] [اسْتَخْرَجَهَا: انھوںؑ نے نکالا اس (پیالے) کو] [ مِنْ وِّعَاۗءِ اَخِيْهِ : اپنے بھائی کے تھیلے سے] [ كَذٰلِكَ : اس طرح] [كِدْنَا: ہم نے (یعنی اللہ نے) خفیہ تدبیر کی] [ لِيُوْسُفَ: یوسف ؑ کے لئے] [ مَا كَان : (ممکن) نہیں تھا] [ لِيَاْخُذَ: کہ وہؑ پکڑیں] [اَخَاهُ : اپنے بھائی کو] [فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ: بادشاہ کے دستور میں] [ اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ (جو)] [ يَّشَاۗءَ: چاہے] [ اللّٰهُ : اللہ] [ نَرْفَعُ : ہم بلند کرتے ہیں] [دَرَجٰتٍ: درجوں کے لحاظ سے] [ مَنْ: اس کو جسے] [ نَّشَاۗءُ : ہم چاہتے ہیں] [ وَفَوْقَ كُلِ ذِيْ عِلْمٍ: اور ہر علم والے کے اوپر] [ عَلِيْمٌ : ایک عظیم (ذات) ہے]

 

و ع ی

 [وَعْیًا: (ض) جمع کرنا۔ یاد رکھنا۔ لِنَجْعَلَھَالَکُمْ تَذْکِرَۃً وَّ تَعِیَھَا اُذُنٌ وَّاعِیَۃٌ (تاکہ ہم بنائیں اس کو تمھارے لئے ایک یاددہانی اور تاکہ یاد رکھیں اس کو یاد رکھنے والے کان) 69:12۔] [وَاعِیَۃٌ: اسم الفاعل واع کا مؤنث سے۔ یاد رکھنے والا۔ اور آیت 69:12 دیکھیں۔] [وِعَائٌ: ج اَوْعِیَۃٌ۔ وہ چیز جس میں کوئی چیز جمع کی جائے۔ تھیلا۔ بوری وغیرہ۔ زیر مطالعہ آیت۔76۔] [اِیْعَائً: (افعال) جمع کی ہوئی چیز کو محفوظ رکھنا۔ وجمع فاوعی (اور اس نے جمع کیا پھر محفوظ رکھا) 70:18]

 

نوٹ۔1: اپنے بھائی کو روکنے کے لئے یوسف ؑ نے جو تدبیر کی اس سے ذہن میں کچھ الجھنیں پیدا ہوتی ہیں اور اس کے مختلف جوابات دیئے گئے ہیں لیکن صحیح جواب وہی ہے جو قرطبی اور مظہری وغیرہ نے دیا ہے کہ اس واقعہ میں جو کچھ کیا گیا اور کہا گیا وہ سب بامر الٰہی تھے اور اس ہی کو حکمت بالغہ کے مظاہر تھے۔ اس جواب کی طرف خود قرآن کی اس آیت میں اشارہ موجود ہے کہ ’’ اس طرح ہم نے خفیہ تدبیر کی یوسف ؑ کے لئے۔‘‘ اس آیت میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے اس تدبیر کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ جب یہ سب کچھ بامر خدا وندی ہوا تو اس کو ناجائز کہنے کے کوئی معنٰی نہیں رہتے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے حضرت خضر ؑ کا کشتی توڑنا، لڑکے قتل کرنا وغیرہ جو بظاہر گناہ تھے۔ اسی لئے حضرت موسٰی ؑ نے ان پر اعتراض کیا تھا۔ مگر حضرت خضر ؑ یہ سب کام باذن خداوندی خاص مصلحتوں کے تحت کر رہے تھے اس لئے ان کا کوئی گناہ نہ تھا۔ (معارف القرآن)

قَالُوْٓا اِنْ يَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ  لَّهٗ مِنْ قَبْلُ ۚ فَاَسَرَّهَا يُوْسُفُ فِيْ نَفْسِهٖ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ  ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا  ۚ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ   77؀
[قَالُوْٓا: ان لوگوں نے کہا] [ ان: اگر] [ يَّسْرِقْ: اس نے چوری کی ہے] [ فَقَدْ سَرَقَ: تو چوری کر چکا ہے] [ اَخٌ: ایک بھائی] [ لَهٗ: اس کا] [ مِنْ قَبْلُ: اس سے پہلے] [ فَاَسَرَّهَا: تو چھپایا اس (بات)] [ يُوْسُفُ: یوسف ؑ نے] [ فِيْ نَفْسِهٖ: اپنے جی میں] [ وَلَمْ يُبْدِهَا: اور ظاہر نہیں کیا اس (بات) کو] [لَهُمْ : ان کے لئے] [ قَالَ : انھوں ؑ نے (اپنے جی میں) کہا] [انتم: تم لوگ] [ شَرٌّ: سب سے گھٹیا ہو] [ مَّكَانا : بلحاظ درجہ کے] [ وَاللّٰهُ: اور اللہ] [ اَعْلَمُ : خوب جاننے والا ہے [بِمَا: اس کو جو] [ تَصِفُوْنَ: تم لوگ بتاتے ہو]

قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ  لَهٗٓ اَبًا شَيْخًا كَبِيْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ  ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ   78؀
[قَالُوْا: ان لوگوں نے کہا] [ يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ : اے عزیز] [ان لَهٗٓ: کہ اس کے] [ اَبًا: ایک والد ہیں] [ شَيْخًا كَبِيْرًا: جو بہت بوڑھے ہیں] [ فَخُذْ: پس آپؑ پکڑیں] [ اَحَدَنَا: ہمارے ایک کو] [ مَكَانهٗ : اس کی جگہ ] [ انا: بیشک] [ نَرٰىكَ : ہم دیکھتے ہیں آپؑ کو [مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ: احسان کرنے والوں میں سے]

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗٓ  ۙ اِنَّآ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ     79؀ۧ
[قَالَ: انھوں ؑ نے کہا] [ مَعَاذَ اللّٰهِ : اللہ کی پناہ] [ان: کہ] [ نَاخُذَ: ہم پکڑیں ] [ اِلَّا: مگر] [ مَنْ: اس کو] [ وَّجَدْنَا: ہم نے پایا] [ مَتَاعَنَا: اپنا سامان ] [ عِنْدَهٗٓ : جس کے پاس] [ انآ: بیشک ہم] [ اِذًا: پھر تو] [ لَّظٰلِمُوْنَ: ضرور ظلم کرنے والے ہیں]

فَلَمَّا اسْتَيْـــَٔـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا  ۭ قَالَ كَبِيْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَيْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِيْ يُوْسُفَ  ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى يَاْذَنَ لِيْٓ اَبِيْٓ اَوْ يَحْكُمَ اللّٰهُ لِيْ  ۚ  وَهُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ    80؀
[فَلَمَا: پھر جب] [ اسْتَيْـــَٔـسُوْا: وہ مایوس ہوئے] [ مِنْهُ : ان ؑ سے] [خَلَصُوْا: تو وہ لوگ الگ ہوئے] [ نَجِيًّا: سرگوشی کرتے ہوئے] [ قَالَ: کہا] [ كَبِيْرُهُمْ: ان کے بڑے نے] [ اَلَمْ تَعْلَمُوْٓا: کیا تم لوگوں نے نہیں جانا] [ ان: کہ] [ اَبَاكُمْ: تمھارے والد نے] [ قَدْ اَخَذَ: لیا ہے] عَلَيْكُمْ: تم لوگوں پر] [ مَّوْثِقًا: ایک پختہ وعدہ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے] [وَمِنْ قَبْلُ: اور اس سے پہلے] [ مَا: جو] [ فَرَّطْتم: تم نے کوتاہی کی] [ فِيْ يُوْسُفَ : یوسف ؑ (کے معاملہ) میں] [ فَلَنْ اَبْرَحَ : پس میں ہرگز نہیں ہٹوں گا] [الْاَرْضَ: اس سرزمین سے] [ حَتّٰى: یہاں تک کہ] [ يَاْذَنَ: اجازت دیں ] [ لِيْٓ: مجھ کو] [ اَبِيْٓ: میرے والد] [اَو: یا] [ يَحْكُمَ: حکم دے] [اللّٰهُ: اللہ ] [ لِيْ: مجھ کو] [ وَهُوَ: اور وہ] [ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ: حکم دینے والوں کا بہترین ہے]

 

ب ر ح

 [بَرَحًا: (س) کسی چیز کو چھوڑ دینا۔ کسی جگہ سے ہٹ جانا۔ زیر مطالعہ آیت 80۔]

اِرْجِعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْكُمْ فَقُوْلُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ  ۚ وَمَا شَهِدْنَآ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْنَ     81 ؀
[اِرْجِعُوْٓا: تم لوگ لوٹو] [ اِلٰٓى اَبِيْكُمْ: اپنے والد کی طرف] [ فَقُوْلُوْا: پھر کہو] [ يٰٓاَبَانآ: اے ہمارے والد ] [ ان: بیشک] [ابْنَكَ: آپ کے بیٹے نے] [ سَرَقَ : چوری کی] [ وَمَا شَهِدْنَآ: اور ہم نے گواہی نہیں دی] [ اِلَّا: مگر] [ بِمَا: اس کی جو] [ عَلِمْنَا: ہم نے جانا [ وَمَا كُنَا: اور ہم نہیں تھے] [ لِلْغَيْبِ : غیب کی] [حٰفِظِيْنَ: حفاظت کرنے والے]

وَسْـــَٔـلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَالْعِيْرَ الَّتِيْٓ اَقْبَلْنَا فِيْهَا  ۭ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ   82؀
[وَسْـــَٔـلِ: اور آپ پوچھ لیں] [ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ: اس بستی والوں سے] [ كُنَا: ہم تھے] [ فِيْهَا: جس میں] [ وَالْعِيْرَ الَّتِيْٓ: اور اس قافلہ سے] [اَقْبَلْنَا: ہم آگے بڑھے (یعنی آئے)] [ فِيْهَا : جس میں] [ وَانا: اور بیشک ہم] [ لَصٰدِقُوْنَ: یقینا سچ کہنے والے ہیں]

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا  ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ  ۭ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِيْ بِهِمْ جَمِيْعًا  ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ   83؀
[قَالَ: (یعقوبؑ نے) کہا] [ بَلْ: بلکہ] [ سَوَّلَتْ: خوشنما بنا کر پیش کیا] [ لَكُمْ : تمھارے لئے] [انفُسُكُمْ: تمھارے نفسوں نے] [ اَمْرًا: ایک کام کو] [ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ: تو (اب) خوبصورت صبر کرنا ہے] [عَسَى اللّٰهُ ان: امید ہے کہ اللہ] [يَاْتِيَنِيْ : لے آئے گا میرے پاس] [بِهِمْ: ان کو] [جَمِيْعًا : سب کو] [ انهٗ: بیشک وہ] [ هُوَ الْعَلِيْمُ : ہی جاننے والا ہے] [الْحَكِيْمُ: حکمت والا ہے]

وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ     84؀
[وَتَوَلّٰى: اور انھوں نے منہ پھیرا] [ عَنْهُمْ : ان سے] [وَقَالَ: اور کہا] [ يٰٓاَسَفٰى: ہائے میرا افسوس] [عَلٰي يُوْسُفَ: یوسف ؑ (کی جدائی) پر [ وَابْيَضَّتْ: اور سفید ہو گئیں] [ عَيْنٰهُ: ان کی دونوں آنکھیں [ مِنَ الْحُزْنِ: غم سے] [فَهُوَ كَظِيْمٌ: تو وہ مشتقل غمزدہ ہیں]

 

ترکیب: (آیت۔84) یٰاَسَفٰی میں اَسَفٌ پر یائے متکلم لگی ہوئی ہے۔ منادی پر جب یائے متکلم لگاتے ہیں تو عموماً اسے الف مقصورٰی کی طرح لکھتے ہیں جیسے یَا وَیْلَثٰی۔ یَا حَسْرَتٰی وغیرہ۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ يُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِيْنَ    85؀
[قَالُوْا: ان لوگوں نے کہا] [ تَاللّٰهِ: اللہ کی قسم] [ تَفْتَؤُا: آپ کرتے رہیں گے] [ تَذْكُرُ يُوْسُفَ: یوسف ؑ کا تذکرہ] [ حَتّٰى : یہاں تک کہ [تَكُوْنَ : آپ ہو جائیں] [حَرَضًا: لاغر] [ اَوْ: یا] [ تَكُوْنَ : آپ ہو جائیں] [مِنَ الْهٰلِكِيْن: ہلاک ہونے والوں میں سے]

 

ف ت ء

 [فَتْئًا: (ف۔ س) کسی کام کو کرتے رہنا۔ زیر مطالعہ آیت۔85]

قَالَ اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللّٰهِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ     86؀
[قَالَ : (یعقوب ؑ نے) کہا] [انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ] [اَشْكُوْا: میں ظاہر کرتا ہوں ] [ بَثِّيْ : اپنی پراگندی کو [وَحُزْنِيْٓ : اور اپنے غم کو] [اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف] [وَاَعْلَمُ : اور میں جانتا ہوں] [مِنَ اللّٰهِ : اللہ (کی طرف) سے] [مَا : اس کو جو] [لَا تَعْلَمُوْنَ: تم لوگ نہیں جانتے]

 

ش ک و

 [شَکْوًا: (ن) کسی چیز کو ظاہر کرنا۔ بیان کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔86] [مِشْکٰوۃٌ: ظاہر کرنے کا آلہ۔ چراغ رکھنے کا طاق۔ مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْھَا مِصْبَاحٌ (اس کے نور کی مثال ایک طاق جیسی ہے جس میں ایک چراغ ہے) 24:35] [اِشْتِکَائً: (افتعال) اہتمام سے بیان کرنا۔ فریاد کرنا۔ وَ تَشْتَکِیْ اِلَی اللّٰہِ (اور وہ فریاد کرتی ہے اللہ سے) 85:1۔]

 

نوٹ۔1: آیت۔86 میں یعقوب ؑ نے کہا کہ اللہ کی طرف سے جو میں جانتا ہوں وہ تم لوگ نہیں جانتے۔ یہ دراصل اشارہ ہے کہ اللہ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ یوسف ؑ کو ان سے ملا دے گا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اللہ کے وعدہ کے ظہور کے لئے کوشش ضروری ہے۔ اس لئے اپنے بیٹوں کو ہدایت کی کہ تم لوگ جائو اور یوسف ؑ کو تلاش کرو۔

يٰبَنِيَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَاَخِيْهِ وَلَا تَايْـــــَٔـسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ ۭ اِنَّهٗ لَا يَايْـــــَٔـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ     87؀
[يٰبَنِيَّ : اے میرے بیٹو] [اذْهَبُوْا: تم لوگ جائو] [ فَتَحَسَّسُوْا: پھر سراغ لگائو] [ مِنْ يُّوْسُفَ: یوسف ؑ کا] [ وَاَخِيْهِ: اور ان کے بھائی کا] [ وَلَا تَايْـــــَٔـسُوْا: اور مایوس مت ہو] [ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ : اللہ کی رحمت سے] [ انهٗ: حقیقت یہ ہے کہ] [ لَا يَايْـــــَٔـسُ: مایوس نہیں ہوتے] [ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ : اللہ کی رحمت سے ] [اِلَّا : اِلَّا ] [الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ: الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ(87) ]

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا  ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِيْنَ  88؀
[فَلَمَا: پھر جب] [ دَخَلُوْا: وہ لوگ داخل (حاضر) ہوئے] [ عَلَيْهِ : ان ؑ پر] [قَالُوْا: تو انھوں نے کہا] [ يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ: اے عزیز] [ مَسَّنَا: چھوا ہم کو] [ وَاَهْلَنَا: اور ہمارے گھر والوں کو] [الضُّرُّ: سختی نے] [وَجِئْنَا: اور آئے ہم] [بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ: ایک حقیر سی پونجی کے سات] [ فَاَوْفِ: پس آپ ؑ پورا کریں] [ لَنَا: ہمارے لئے] [الْكَيْلَ: پیمانہ بھرنے کو] [ وَتَصَدَّقْ: اور آپ ؑ حق سے زیادہ نچھاور کریں] [عَلَيْنَا: ہم پر] [ان: بیشک] [اللّٰهَ: اللہ] [ يَجْزِي: جزا دیتا ہے] [الْمُتَصَدِّقِيْنَ: حق سے زیادہ دینے والوں کو]

 

ز ج د

 [زَجْوًا: (ن) کسی کو ہانکنا۔ چلانا۔] [اِزْجَائً: (افعال) یہ ثلاثی مجرد کا ہم معنی ہے۔ ہانکنا۔ چلانا۔ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَابًا (کیا تو نے دیکھا نہیں کہ اللہ ہانکتا ہے بادل کو) 24:23] [مُزْجَاۃٌ: اسم المفعول ہے۔ ہانکی ہوئی چیز۔ حقیر و ذلیل چیز۔ زیر مطالعہ آیت۔88۔]

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ وَاَخِيْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ 89؀
[قَالَ: (یوسف ؑ نے) کہا] [ هَلْ: کیا] [ عَلِمْتم: تم لوگوں نے جانا] [ مَا: اس کو جو] [ فَعَلْتم: تم لوگوں نے کیا] [ بِيُوْسُفَ: یوسف کے ساتھ] [وَاَخِيْهِ : اور اس کے بھائی کے ساتھ] [اِذْ: جب] [ انتم: تم لوگ] [ جٰهِلُوْنَ: غلط سوچ والے تھے]

قَالُوْٓا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُ  ۭ قَالَ اَنَا يُوْسُفُ وَهٰذَآ اَخِيْ ۡ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا  ۭ اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ    90؀
[قَالُوْٓا: ان لوگوں نے کہا] [ ءَ: کیا [ انكَ: بیشک] [لَانتَ يُوْسُفُ : تو ہی تو یوسف ہے] [ قَالَ: انھوں ؑ نے کہا] [ انا: میں] [ يُوْسُفُ: یوسف ہوں] [ وَهٰذَآ: اور یہ [ اَخِيْ : میرا بھائی ہے] [ قَدْ مَنَّ: احسان کیا ہے] [اللّٰهُ : اللہ نے] [عَلَيْنَا : ہم پر [ انهٗ: حقیقت یہ ہے کہ [ مَنْ: جو] [ يَّتَّقِ: تقوٰی کرتا ہے] [وَيَصْبِرْ: اور صبر کرتا ہے] [ فَان: تو بیشک] [اللّٰهَ: اللہ] [ لَا يُضِيْعُ: ضائع نہیں کرتا] [اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ: خوب کاروں کے اجر کو]

 

نوٹ۔1: قَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا سے معلوم ہوا کہ جب انسان کسی تکلیف و مصیبت میں گرفتار ہو اور پھر اللہ تعالیٰ اسے نجات عطا فرما کر اپنی نعمت سے نوازیں تو اب اس کو گذشتہ مصائب کا ذکر کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے اس انعام و احسان کا ذکر کرنا چاہئے جو اب حاصل ہوا ہے۔ مصیبت سے نجات اور انعام الٰہی کے حصول کے بعد بھی پچھلی تکلیف و مصیبت کو روتے رہنا ناشکری ہے اور اپنے ناشکرے کو قرآن مجید میں کَنُوْدٌ کہا گیا ہے۔ (110:6) یعنی ایسا شخص جو احسانات کو یاد نہ رکھے، صرف تکلیفوں اور مصیبتوں کو ہی یاد رکھے۔ (معارف القرآن)۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِــــِٕيْنَ      91؀
[قَالُوْا: ان لوگوں نے کہا] [ تَاللّٰهِ: اللہ کی قسم ] [ لَقَدْ اٰثَرَكَ : یقینا ترجیح دی ہے آپؑ کو [اللّٰهُ: اللہ نے [عَلَيْنَا : ہم پر] [وَان: اور بیشک] [ كُنَا: ہم تھے [ لَخٰطِــــِٕيْنَ: یقینا غلطی کرنے والے]

قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ  ۭ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ۡ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ      92؁
[قَالَ : انھوں ؑ نے کہا [لَا تَثْرِيْبَ: کوئی بھی عتاب نہیں ہے] [عَلَيْكُمُ : تم لوگوں پر] [الْيَوْمَۭ : آج] [ يَغْفِرُ: مغفرت کرے گا] [ اللّٰهُ: اللہ] [ لَكُمْ : تم لوگوں کی] [وَهُوَ: اور وہ ] [ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ: رحم کرنے والوں کا سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے]

 

ث ر ب

 [ثَرَبًا: (ض) کسی کے کام کو برا سمجھنا۔] [تَثْرِیْبًا: (تفعیل) کسی کو اس کے کام پر سرزنش کرنا۔ عتاب کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔92۔]

اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرًا ۚ وَاْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ    93؀ۧ
[اِذْهَبُوْا: تم لوگ جائو] [بِقَمِيْصِيْ هٰذَا: میری اس قمیص کے ساتھ] [فَاَلْقُوْهُ: پھر ڈالو اس کو] [عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ: میرے والد کے چہرے پر] [ يَاْتِ: تو وہ آئیں گے] [ بَصِيْرًا : دیکھنے والا ہوتے ہوئے] [ وَاْتُوْنِيْ: اور تم لوگ آئو میرے پاس] [ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ: اپنے تمام گھر والوں کے ساتھ]

 

نوٹ۔1: قَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا سے معلوم ہوا کہ جب انسان کسی تکلیف و مصیبت میں گرفتار ہو اور پھر اللہ تعالیٰ اسے نجات عطا فرما کر اپنی نعمت سے نوازیں تو اب اس کو گذشتہ مصائب کا ذکر کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے اس انعام و احسان کا ذکر کرنا چاہئے جو اب حاصل ہوا ہے۔ مصیبت سے نجات اور انعام الٰہی کے حصول کے بعد بھی پچھلی تکلیف و مصیبت کو روتے رہنا ناشکری ہے اور اپنے ناشکرے کو قرآن مجید میں کَنُوْدٌ کہا گیا ہے۔ (110:6) یعنی ایسا شخص جو احسانات کو یاد نہ رکھے، صرف تکلیفوں اور مصیبتوں کو ہی یاد رکھے۔ (معارف القرآن)۔

وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّىْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ    94؀
[وَلَمَا: اور جب] [ فَصَلَتِ: روانہ ہوا] [ الْعِيْرُ: قافلہ] [ قَالَ: کہا [ اَبُوْهُمْ: ان لوگوں کے والد نے] [ انى: کہ میں] [ لَاَجِدُ: پاتا ہوں] [ رِيْحَ يُوْسُفَ: یوسف ؑ کی مہک کو [ لَوْلَآ: اگر نہ ہو] [ ان: کہ ] [ تُفَنِّدُوْنِ: تم لوگ بہکا ہوا سمجھو مجھ کو]

 

ف ن د

 [فَنْدًا: (س) ضعیف العمل ہونا۔ بہکی بہکی باتیں کرنا۔] [تَفْنِیْدًا: (تفعیل) کسی کو بہکا ہوا قرار دینا یا سمجھنا۔ زیر مطالعہ آیت۔94۔]

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ     95؀
[قَالُوْا: ان لوگوں نے کہا] [ تَاللّٰهِ: اللہ کی قسم] [ انكَ: بیشک آپ] [ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ: اپنی پرانی گمراہی میں ہی ہیں]

فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰي وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا  ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ ڌ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ     96؀
[فَلَمَآ ان : پھر جیسے ہی] [ جَاۗءَ: آیا] [ الْبَشِيْرُ: بشارت دینے ول] [ اَلْقٰىهُ : تو اس نے ڈالا اس کو] [عَلٰي وَجْهِهٖ: ان کے چہرے پر] [ فَارْتَدَّ: تو وہ لوٹے] [بَصِيْرًا : دیکھنے والے ہوتے ہوئے] [ قَالَ: انھوں ؑ نے کہا] [ اَ: کیا] [ لَمْ اَقُلْ: میں نے نہیں کہا تھا] [ لَكُمْ: تم لوگوں سے] [انىٓ : کہ میں] [اَعْلَمُ: جانتا ہوں] [ مِنَ اللّٰهِ: اللہ (کی طرف) سے] [ مَا: اس کو جو] [ لَا تَعْلَمُوْنَ: تم لوگ نہیں جانتے]

قَالُوْا يٰٓاَبَانَا اسْـتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ اِنَّا كُنَّا خٰطِـــِٕـيْنَ     97؀
[قَالُوْا: ان لوگوں نے کہا] [ يٰٓاَبَانا: اے ہمارے والد] [ اسْـتَغْفِرْ: آپؑ مغفرت مانگیں] [ لَنَا: ہمارے لئے] [ ذُنُوْبَنَآ: ہمارے گناہوں کی] [ انا كُنَا: بیشک ہم تھے ] [ خٰطِـــِٕـيْنَ: غلطی کرنے والے]

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ  ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ     98؀
[قَالَ : انھوں ؑ نے کہا] [سَوْفَ: عنقریب] [ اَسْتَغْفِرُ: میں مغفرت مانگوں گا] [ لَكُمْ : تم لوگوں کے لئے] [رَبِيْ : اپنے رب سے] [ انهٗ: بیشک وہ] [ هُوَ الْغَفُوْرُ: ہی بخشنے والا ہے] [ الرَّحِيْمُ: رحم کرنے والا ہے]

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ      99؀ۭ
[فَلَمَا: پھر جب] [ دَخَلُوْا: وہ لوگ داخل (حاضر) ہوئے] [ عَلٰي يُوْسُفَ: یوسف ؑ پر] [ اٰوٰٓى: تو انھوں ؑ نے جگہ دی] [ اِلَيْهِ: اپنے پاس] [ اَبَوَيْهِ : اپنے والدین کو] [وَقَالَ: اور انھوں ؑ نے کہا] [ادْخُلُوْا: آپ لوگ داخل ہوں] [مِصْرَ : ملکِ مصر میں] [ان: اگر] [ شَاۗءَ: چاہا] [ اللّٰهُ : اللہ نے (تو)] [اٰمِنِيْنَ : امن میں ہونے والے ہوتے ہوئے]

 

 

ترکیب: (آیت۔99) مِصْرَ غیر منصرف آیا ہے اس لئے اس سے مراد ملکِ مصر ہے۔ دیکھیں آیت نمبر 2:61 مادہ ’’ م ص ر‘‘۔ (آیت۔100) مِنْ قَبْلُ کے آگے رَئَ یْتُھَا محذوف ہے۔ (آیت۔101) فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ میں فَاطِرَ کی نصب منادٰی مضاف ہونے کی وجہ سے ہے یعنی اس سے پہلے حرف ندٰی ’’ یَا‘‘ محذوف ہے۔

وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا  لَهٗ سُجَّدًا  ۚ وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا  ۭ وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ  ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ  ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ      ١٠٠؁
[وَرَفَعَ: اور انھوں ؑ نے بلند کیا] [ اَبَوَيْهِ: اپنے والدین کو] [ عَلَي الْعَرْشِ: تخت پر] [ وَخَرُّوْا: اور وہ لوگ گر پڑے] [ لَهٗ: ان ؑ کے لئے] [ سُجَّدًا : سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے] [ وَقَالَ : اور انھوں ؑ نے کہا] [يٰٓاَبَتِ: اے میرے والد] [ هٰذَا: یہ] [ تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ : میرے خواب کی تعبیر ہے] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے (جو میں نے دیکھا)] [ قَدْ جَعَلَهَا: بنا دیا ہے اس کو] [ رَبِيْ : میرے رب نے] [حَقًّا: سچ] [وَقَدْ اَحْسَنَ: اور اس نے احسان کیا ہے] [ بِيْٓ : مجھ پر] [اِذْ: جب ] [ اَخْرَجَنِيْ: اس نے نکالا مجھ کو] [ مِنَ السِّجْنِ: قید خانہ سے] [ وَجَاۗءَ بِكُمْ: اور وہ لایا آپ لوگوں کو] [ مِّنَ الْبَدْوِ: گائوں سے] [ مِنْۢ بَعْدِ: اس کے بعد] [ ان: کہ] [ نَّزَغَ : ناچاقی ڈالی] [الشَّيْطٰنُ: شیطان نے] [ بَيْنِيْ: میرے درمیان] [ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ : اور میرے بھائیوں کے درمیان] ان: بیشک] [ رَبِيْ : میرا رب] [لَطِيْفٌ: غیر محسوس تدبیر کرنے والا ہے] [ لِمَا: اس کی جو] [ يَشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے] [ انهٗ: بیشک وہ] [ هُوَ الْعَلِيْمُ: ہی جاننے والا ہے] [ الْحَكِيْمُ: حکمت والا ہے]

رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ  ۣ اَنْتَ وَلِيّٖ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ     ١٠١؁
[رَبِ: اے میرے رب] [ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ: تو نے دیا ہے مجھ کو] [ مِنَ الْمُلْكِ: حکومت میں سے] [وَعَلَّمْتَنِيْ: اور تو نے علم دیا مجھ کو] [ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ : خوابوں کی تعبیر میں سے] [فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : اے زمین اور آسمانوں کو وجود بخشنے والے] [انتَ: تو ] [ وَلِيّٖ: میرا کارساز ہے] [ فِي الدُّنْيَا: دنیا میں] [ وَالْاٰخِرَةِ : اور آخرت میں] [ تَوَفَّنِيْ: تو وفات دے مجھ کو] [ مُسْلِمًا: فرمانبردار ہوتے ہوئے] [وَّاَلْحِقْنِيْ: اور تو ملا دے مجھ کو] [بِالصّٰلِحِيْنَ: صالح لوگوں کے ساتھ]

 

نوٹ۔1: بائبل کا بیان ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے خاندان کے جو افراد مصر گئے وہ 67 تھے۔ اس وقت حضرت یعقوب ؑ کی عمر 130 سال تھی اور اس کے بعد وہ مصر میں 17 سال زندہ رہے۔ پھر جب تقریباً پانچ سو سال کے بعد وہ لوگ مصر سے نکلے تو لاکھوں کی تعداد میں تھے۔ بائبل میں ہے کہ خروج کے بعد دوسرے سال صحرائے سینا میں حضرت موسٰی ؑ نے ان کی جو مردم شماری کرائی تھی اس میں صرف قابل جنگ مردوں کی تعداد= 551،13،6 تھی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عورت، مرد، بچے سب ملا کر وہ کم از کم بیس لاکھ ہوں گے۔

 یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی حساب سے پانچ سو سال میں 68 آدمیوں کی اتنی اولاد ہو سکتی ہے؟ اس سوال پر غور کرنے سے ایک اہم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ پانچ سو سال میں ایک خاندان تو اتنا نہیں بڑھ سکتا۔ لیکن بنی اسرائیل پیغمبروں کی اولاد تھے۔ حضرت یوسف ؑ خود بھی پیغمبر تھے اور چار۔ پانچ صدی تک اقتدار انہیں لوگوں کے ہاتھ میں رہا۔ اس دوران یقینا انھوں نے مصر میں اسلام کی تبلیغ کی ہو گی۔ اہل مصر میں سے جو لوگ اسلام لائے ہوں گے ان کا مذہب ہی نہیں بلکہ ان کا پورا طرز زندگی غیر مسلم مصریوں سے الگ اور بنی اسرائیل سے ہم رنگ ہو گیا ہو گا۔ مصریوں سے وہ سب ایسے ہی الگ ہو گئے ہوں گے جیسے ہندوستان میں ہندی مسلمان ہندوئوں سے الگ ہیں۔ ان کے اوپر اسرائیلی کا لفظ اسی طرح چسپاں کردیا گیا ہو گا جس طرح غیر عرب مسلمانوں پر محمڈن کا لفظ آج چسپاں کیا جاتا ہے۔ اور وہ خود بھی دینی و تہذیبی روابط اور شادی بیاہ کے تعلقات کی وجہ سے غیر مسلم مصریوں سے کٹ کر بنی اسرائیل سے وابستہ ہو کر رہ گئے ہوں گے۔ پھر جب مصر میں قوم پرستی کا طوفان اٹھا تو مظالم صرف بنی اسرائیل ہی پر نہیں ہوئے بلکہ مصری مسلمان بھی ان کے ساتھ لپیٹ لئے گئے۔ اور جب بنی اسرائیل نے ملک چھوڑا تو مصری مسلمان بھی ان کے ساتھ نکلے۔

 ہمارے اس قیاس کی تائید بائبل کے متعدد اشارات سے ہوتی ہے۔ مثلاً خروج میں جہاں بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کا حال بیان ہوا ہے بائبل کا مصنف کہتا ہے کہ ’’ ان کے ساتھ ایک ملی جلی گروہ گئی‘‘ (12:38)۔ اسی طرح گنتی میں وہ پھر کہتا ہے کہ ’’ جو ملی جلی بھیڑ ان لوگوں میں تھی وہ طرح طرح کی حرص کرنے لگی‘‘ (11:4)۔ پھر بتدریج ان غیر اسرائیلی مسلمانوں کے لئے اجنبی اور پردیسی کی اصطلاحیں استعمال ہونے لگیں۔ چنانچہ توراۃ میں حضرت موسٰی ؑ کو جو احکام دئے گئے ان میں ہم کو یہ تصریح ملتی ہے کہ ’’ تمھارے لئے اور اس پردیسی کے لئے جو تم میں رہتا ہے نسل در نسل سدا ایک ہی آئین رہے گا۔ خداوند کے آگے پردیسی بھی ویسے ہی ہوں جیسے تم ہو۔ تمھارے لئے اور پردیسیوں کے لئے جو تمھارے ساتھ رہتے ہیں ایک ہی شرع اور ایک ہی قانون ہو (گنتی۔15: 15۔17)۔ ’’ جو شخص بےباک ہو کر گناہ کرے خواہ وہ یسی ہو یا پردیسی وہ خداوند کی اہانت کرتا ہے۔ وہ شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے گا (گنتی۔15:30)۔ ’’ خواہ بھائی بھائی کا معاملہ ہو یا پردیسی کا تم ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کرنا‘‘ (استثنائ۔1: 16)۔

 اب یہ تحقیق کرنا مشکل ہے کہ کتاب الٰہی میں غیر اسرائیلیوں کے لئے وہ اصل لفظ کیا استعمال کیا گیا تھا جسے ترجمہ کرنے والوں نے پردیسی بنا کر رکھ دیا (تفہیم القرآن)

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْٓا اَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُوْنَ      ١٠٢؁
[ذٰلِكَ: یہ] [ مِنْ انۢبَاۗءِ الْغَيْبِ: غیب کی خبروں میں سے ہے] [ نُوْحِيْهِ : ہم وحی کرتے ہیں اس کو] [اِلَيْكَ : آپؑ کی طرف] [ وَمَا كُنْتَ: اور آپؑ نہیں تھے] [ لَدَيْهِمْ: ان کے پاس] [ اِذْ: جب] [اَجْمَعُوْٓا: ان لوگوں نے اتفاق کیا] [ اَمْرَهُمْ: اپنے کام پر] [ وَ: اس حال میں کہ] [هُمْ : وہ لوگ] [يَمْكُرُوْنَ : خفیہ تدبیر کر رہے تھے]

 

ترکیب: (آیت۔102) تُوْصِیْہِ کی ضمیر مفعولی ذلک کے لئے ہے اگر اَنْبَائِ کے لئے ہوتی تو ھا کی ضمیر آتی۔ اَجْمَعُوْا میں شامل ھُمْ کی ضمیرفاعلی یوسف ؑ کے بھائیوں کے لئے ہے۔ (آیت۔105)۔ اَیٌّ پر حرف جار ’’ ک‘‘ داخل ہوا تو یہ کَاَیٍ ہے جسے نون تنوین ظاہر کر کے کَاَیِّنْ لکھا گیا ہے اور یہ کَمْ خبریہ کا ہم معنی ہے۔ فرق یہ ہے کہ کم خبریہ مِنْ کے ساتھ بھی آتا ہے اور مِنْ کے بغیر بھی جبکہ کَاَیٍّ عام طور پر مِنْ کے ساتھ آتا ہے۔ (آیت۔108)۔ ایک امکان یہ ہے کہ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ کو اَدْعُوْا کا حال مانا جائے۔ ایسی صورت میں اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ کو اَدْعُوْا کی وضاحت مانا جائے گا۔ دوسرا امکان یہ ہے اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ کو مبتدا مؤخر اور عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اس کی قائم مقام خبر مقدم مانا جائے۔ دونوں طرح کے ترجمے درست تسلیم کئے جائیں گے۔ ہم پہلے امکان کو ترجیح دیں گے۔

وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ     ١٠٣؁
[وَمَآ اَكْثَرُ النَاسِ : اور نہیں ہے لوگوں کی اکثریت] [وَلَوْ حَرَصْتَ: اور اگرچہ آپؐ شدید خواہش کریں] [ بِمُؤْمِنِيْنَ: ایمان لانے والے]

وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ ۭ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ     ١٠٤؀ۧ
[وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ : اور آپؐ نہیں مانگتے ان سے] [عَلَيْهِ: اس پر] [ مِنْ اَجْرٍ: کوئی بھی معاوضہ] [ ان : نہیں ہے] [ هُوَ: یہ ] [ اِلَّا: مگر] [ ذِكْرٌ: ایک یاد دہانی] [ لِلْعٰلَمِيْنَ: تمام جہانوں کے لئے]

وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ     ١٠٥؁
[وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ: اور کتنی ہی نشانیاں] [ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ: آسمانوں اور زمین میں ہیں] [ يَمُرُّوْنَ: یہ لوگ گزرتے ہیں] [ عَلَيْهَا: جن پر سے] [ وَ: اس حال میں کہ] [هُمْ: وہ لوگ] [ عَنْهَا: ان سے] [ مُعْرِضُوْنَ: اعراض کرنے والے ہوتے ہیں]

وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ      ١٠٦؁
[وَمَا يُؤْمِنُ: اور ایمان نہیں لاتے] [اَكْثَرُهُمْ: ان کے اکثر] [ بِاللّٰهِ: اللہ پر] [اِلَّا: مگر] [ وَ: اس حال میں کہ] [هُمْ: وہ لوگ] [ مُّشْرِكُوْنَ: شرک کرنے والے ہوتے ہیں]

 

نوٹ۔1: آیت۔106 میں ہے کہ اکثر لوگ اللہ پر ایمان تو رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بھی کرتے ہیں۔ ابن کثیر  (رح)  نے فرمایا کہ اس آیت کے مفہوم میں وہ مسلمان بھی داخل ہیں جو ایمان کے باوجود مختلف قسم کے شرک میں مبتلا ہیں۔ ایک حدیث میں غیر اللہ کی قسم کھانے کو شرک فرمایا (بحوالہ ترمذی)۔ ریاء کو بھی شرک اصغر فرمایا (بحوالہ مسند احمد)۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کے نام کی منت اور نیاز ماننا بھی باتفاق فقہاء اس میں داخل ہے (منقول از معارف القرآن)

 مذکورہ مسلمانوں کے علاوہ اس آیت میں بہت سے دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل ہیں کیونکہ تمام مذاہب میں اس کائنات کی ایک خالق اور مالک ہستی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ قریش مکہ بھی اللہ کو تو مانتے تھے۔ البتہ اس کے ساتھ پھر دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ (ترجمہ قرآن کیسٹ)۔ حافظ احمد یار صاحب مرحوم کی اس بات کو مزید سمجھنے کے لئے آیت نمبر 2:62، نوٹ۔1 کو دوبارہ دیکھ لیں۔

اَفَاَمِنُوْٓا اَنْ تَاْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ      ١٠٧؁
[اَفَاَمِنُوْٓا: تو کیا وہ لوگ امن میں ہو گئے] [ ان: (اس سے) کہ] [تَاْتِيَهُمْ: پہنچے ان کے پاس] [ غَاشِيَةٌ: کوئی چھا جانے والے (آفت)] [ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ : اللہ کے عذاب میں سے] [اَوْ : یا] [تَاْتِيَهُمُ: پہنچے ان کے پاس] [السَّاعَةُ: وہ گھڑی (یعنی قیامت)] [ بَغْتَةً : ہے گمان] [وَّ: اس حال میں کہ] [هُمْ: وہ لوگ] [ لَا يَشْعُرُوْنَ: شعور نہ رکھتے ہوں]

قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ ۷ عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ  ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ      ١٠٨؁
[قُلْ : آپؑ کہہ دیجئے] [هٰذِهٖ: یہ] [ سَبِيْلِيْٓ: میرا راستہ ہے [ اَدْعُوْٓا: میں بلاتا ہوں] [ اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف] [ عَلٰي بَصِيْرَةٍ: عام فہم دلیل (کی بنیاد) پر] [ انا: میں (بھی)] [ وَمَنِ: اور وہ (بھی) جس نے] [ اتَّبَعَنِيْ : پیروی کی میری] [ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ: اور پاکی اللہ کی ہے] [ وَمَآ انا: اور میں نہیں ہوں] [ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ: شرک کرنے والوں میں سے]

 

نوٹ۔2: آیت۔108 میں ومن اتبعنی میں صحابۂ کرام  (رض)  بھی شامل ہیں اور ہر وہ شخص شامل ہے جو قیامت تک رسول اللہ
کی دعوت کو لوگوں تک پہنچانے کی خدمت میں مشغول ہو۔ جو شخص رسول اللہ کی پیروی کا دعوٰی کرے اس پر لازم ہے کہ وہ آپؐ کی دعوت کو لوگوں میں پھیلائے اور قرآن کی تعلیم کو عم کرے (معارف القرآن)۔ یہ بات ظاہر ہے کہ ہر شخص کی ذمہ داری اور جوابدہی اس کے ظروف و احوال اور استعداد کے مطابق ہو گی۔

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى ۭ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّـلَّذِيْنَ اتَّقَوْا ۭاَفَلَا تَعْقِلُوْنَ     ١٠٩؁
[وَمَآ اَرْسَلْنَا: اور نہیں بھیجا ہم نے] [ مِنْ قَبْلِكَ: آپؐ سے پہلے] [ اِلَّا: مگر] [ رِجَالًا: کچھ ایسے مرد] [ نُّوْحِيْٓ: ہم وحی کرتے تھے] [ اِلَيْهِمْ : جن کی طرف [مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى : بستیوں والوں میں سے] [ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا: تو کیا ان لوگوں نے سیر نہیں کی] [ فِي الْاَرْضِ: زمین میں] [ فَيَنْظُرُوْا: تاکہ وہ دیکھتے] [ كَيْفَ: کیسا] [ كَان: تھا] [عَاقِبَةُ الَّذِينَ: ان لوگوں کا انجام جو] [ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے تھے] [ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ: اور یقینا آخرت کا گھر] [ خَيْرٌ: بہترین ہے] [ لِـلَّذِيْنَ: ان کے لئے جنھوں نے] [ اتَّقَوْا: تقوٰی کیا] [اَفَلَا تَعقلوْنَ: تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے]

حَتّٰٓي  اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَاۗءَهُمْ نَصْرُنَا  ۙ فَنُجِّيَ مَنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُـنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ    ١١٠؁
[حَتّٰٓي : یہاں تک کہ] [اِذَا: جب] [اسْتَيْــــَٔـسَ: مایوس ہوئے] [ الرُّسُلُ: رسول (لوگوں سے)] [ وَظَنُّوْٓا: اور لوگوں نے گمان کیا] [ انهُمْ: کہ ان سے] [ قَدْ كُذِبُوْا: جھوٹ کہا گیا ہے] [ جَاۗءَهُمْ: تو آئی ان کے پاس] [ نَصْرُنَا : ہماری مدد] [ فَنُجِّيَ: پھر بچا لیا گیا] [ مَنْ: اس کو جس کو] [ نَّشَاۗءُ : ہم نے چاہا] [ وَلَا يُرَدُّ: اور لوٹائی نہیں جاتی] [ بَاْسُـنَا: ہماری سختی] [عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ: جرم کرنے والے لوگوں سے]

 

ترکیب: (آیت۔110) اَلرَّسُلُ کے بعد عنھم محذوف ہے۔ وَظَنُّوْا میں ھُمْ کی ضمیر فاعلی اَھْلِ الْقُرٰی یعنی رسولوں کے امتیوں کے لئے ہے جبکہ جَائَ ھُمْ میں ھُمْ کی ضمیر رسولوں کے لئے ہے (آیت۔111) لَقَدْ کَانَ میں کَانَ کا اسم عِبْرَۃٌ ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے اور فِیْ قَصَصَھِمْ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ مَاکَانَ کا اسم اس میں ھُوَ کی ضمیر ہے اور حَدِیْثًا اس کی خبر ہے۔ تصدیق سے پہلے کَانَ محذوف ہے اور تَصْدِیْقَ اس کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ جبکہ تَفْصِیْلَ کُلِّ شَیْ ئٍ، ھُدًی، رَحْمَۃً، یہ سب بھی اسی کَانَ کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔

لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ  ۭ مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ     ١١١۝ۧ
[لَقَدْ كَان: یقینا ہو چکی ہے] [فِيْ قَصَصِهِمْ: ان لوگوں کا قصہ سنانے میں] [عِبْرَةٌ: ایک عبرت] [لِاُولِي الْاَلْبَابِ : خالص (غیر متعصب) عقل والوں کے لئے] [مَا كَان: یہ نہیں ہے] [حَدِيْثًا: کوئی ایسی بات جو] [ يُّفْتَرٰى: گھڑی گئی] [ وَلٰكِنْ: اور لیکن] [تَصْدِيْقَ الَّذِي: (یہ ہے) تصدیق کرنا اسی کی جو] [بَيْنَ يَدَيْهِ: اس سے پہلے ہے] [وَتَفْصِيْلَ كُلِ شَيْءٍ: اور ہر چیز کی تفصیل بیان کرنا ہے] [ وَّهُدًى: اور ہدایت] [ وَّرَحْمَةً: اور رحمت] [ لِقَوْمٍ: ایسے لوگوں کے لئے جو] [ يُّؤْمِنُوْنَ: ایمان لاتے ہیں]

 

نوٹ۔1: آیت۔119 سے معلوم ہوا کہ نبوت خواتین میں نہیں رہی۔ س کی وضاہت آیت۔5:75، نوٹ۔2 میں کی جا چکی ہے۔

نوٹ۔2: آیت۔111 میں تَفْصِیْلَ کُلِّ شَیْئٍ کا مطلب ہے ہر اس چیز کی تفصیل جو انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے ضروری ہو۔ بعض لوگ اس سے دنیا بھر کی چیزوں کی تفصیل لے لیتے ہیں پھر ان کو یہ پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ قرآن میں دوسرے علوم و فنون کے متعلق کوئی تفصیل نہیں ملتی (تفہیم القرآن)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ       ۝

الۗمّۗرٰ   ۣتِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ  ۭ وَالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ    Ǻ۝
[الۗمّۗرٰ۔۔] [تِلْكَ: یہ] [ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ : کتاب کی آیات ہیں] [ وَالَّذِيٓ: اور جو] [ انزِلَ: اتارا گیا] [ اِلَيْكَ: آپؑ کی طرف] [ مِنْ رَّبِكَ: آپؑ کے رب (کی طرف) سے] [ الْحَقُّ: (وہ ہی) حق ہے] [ وَلٰكِنَّ: اور لیکن] [ اَكْثَرَ النَاسِ: لوگوں کے اکثر] [ لَا يُؤْمِنُوْنَ: ایمان نہیں لاتے]

 

ترکیب: (آیت۔1)۔ الحق خبر معرفہ ہے۔ اس سے پہلے ھُوَ محذوف ہے۔ (آیت۔2) تَرَوَنَھا کی ضمیر مفعولی اَلسَّمٰوٰتِ کے لئے ہے۔

اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ  ۭ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَاۗءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ     Ą۝
[اللّٰهُ: اللہ ] [ الَّذِي: وہ ہے جس نے] [ رَفَعَ: بلند کیا] [ السَّمٰوٰتِ: آسمانوں کو] [ بِغَيْرِ عَمَدٍ: ستونوں کے بغیر] [ تَرَوْنَهَا: تم لوگ دیکھتے ہوجن کو] [ ثُمَّ : پھر] [اسْتَوٰى: وہ متمکن ہوا] [ عَلَي الْعَرْشِ: عرش پر] [ وَسَخَّرَ: اور اس نے مطیع کیا] [ الشَّمْسَ : سورج کو] [وَالْقَمَرَ: اور چاند کو] [ كُلٌّ: سب] [ يَّجْرِيْ: رواں ہیں] [ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى : ایک معین مدت کے لئے] [ يُدَبِرُ: وہ تدبیر کرتا ہے] [ الْاَمْرَ: تمام کاموں کی] [ يُفَصِّلُ : وہ کھول کھول کر بیان کرتا ہے] [الْاٰيٰتِ: نشانیوں کو] [ لَعَلَّكُمْ: شائد تم لوگ] [ بِلِقَاۗءِ رَبِكُمْ: اپنے رب کی ملاقات پر] [ تُوْقِنُوْنَ: یقین کرو]

وَهُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ وَاَنْهٰرًا  ۭ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيْهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ  ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ    Ǽ۝
[وَهُوَ: اور وہ] [الَّذِي: وہ ہے جس نے] [ مَدَّ: پھیلایا] [ الْاَرْضَ: زمین کو] [وَجَعَلَ: اور اس نے بنایا ] [فِيْهَا: اس میں] [رَوَاسِيَ: پہاڑوں کو] [وَانهٰرًا: اور نہروں کو ] [ وَمِنْ كُلِ الثَّمَرٰتِ : اور سب پھلوں میں سے] [جَعَلَ: اس نے بنایا] [فِيْهَا: ان میں] [زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ: دو جوڑے] [ يُغْشِي: وہ ڈھانپتا ہے] [ الَّيْلَ: رات سے] [ النَّهَارَ: دن کو] [ ان: بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ: اس میں] [ لَاٰيٰتٍ: یقینا نشانیاں ہیں] [لِقَوْمٍ: ایسے لوگوں کے لئے جو] [ يَّتَفَكَّرُوْنَ: سوچ بچار کرتے ہیں]

 

نوٹ۔1: آیت۔3 میں اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس کائنات کے ہر گوشہ میں، ہر چیز میں، آسمان اور زمین، سورج اور چاند، رات اور دن وغیرہ میں جس طرح کا تضاد اور پھر ساتھ ہی جس طرح کی موافقت پائی جاتی ہے وہ صاف صاف شہادت ہے کہ یہ کائنات مختلف دیوتائوں کی ازم گاہ نہیں ہے بلکہ اس پر ایک ہی قادر مطلق کا ارادہ کارفرما ہے۔ مِنْ کُلِّ الثَّمٰرٰتِ کے الفاظ سے تضاد اور موافقت کے اس قانون کی ہمہ گیری کی طرف کارفرما ہے اسی طرح ایک ایک پھل اور ایک ایک دانے کے اندر بھی کارفرما ہے، خواہ انسان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ گندم کے ایک دانے کو دیکھیں تو وہ بھی دو حصوں میں منقسم نظر آتا ہے، تاہم دونوں میں پوری وابستگی اور پیوستگی پائی جاتی ہے۔ کائنات کے ہر گوشہ کی یہ شہادت اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہ دنیا بھی تنہا نہیں ہے بلکہ اس کا بھی جوڑا ہے، اور وہ ہے آخرت۔ اپنے اس جوڑے کے ساتھ مل کر ہی یہ اپنی غایت کو پہنچتی ہے ورنہ اس کا وجود بےمقصد ہو کر رہ جاتا ہے۔ (تدبر قرآن)

وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ  ۣ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ  ۭ اِنَّ فِيْ  ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ  يَّعْقِلُوْنَ    Ć۝
[وَفِي الْاَرْضِ: اور زمین میں] [ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ: باہم متصل قطعات ہیں] [ وَّجَنّٰتٌ: اور باغات ہیں] [ مِّنْ اَعْنَابٍ : انگوروں میں سے] [وَّزَرْعٌ: اور کھیتی ہے] [ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَان : اور ایک جڑے کئی شاخوں والے کھجور ہیں] [ وَّغَيْرُ صِنْوَان: اور کئی بغیر شاخوں والے ہیں] [ يُّسْقٰى: ان کو پلایا جاتا ہے] [ بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ : ایک (ہی) پانی] [وَنُفَضِّلُ: اور (پھر) ہم فضیلت دیتے ہیں] [ بَعْضَهَا : ان کے بعض کو] [عَلٰي بَعْضٍ: بعض پر] [ فِي الْاُكُلِ : پھلوں (کے ذائقے) میں] [ ان : بیشک] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں] [لَاٰيٰتٍ: یقینا نشانیاں ہیں] [ لِقَوْمٍ: اپنے لوگوں کے لئے جو] [ يَّعقلوْنَ: عقل استعمال کرتے ہیں]

 

ص ن و

ثلاثی مجرد ہے فعل نہیں آتا۔

 [اِصْنَائً: (افعال) درخت کا جڑ سے دو شاخیں نکالنا۔] [صِنْوٌ: کسی درخت کی جڑ سے پھوٹنے والی مختلف شاخوں میں سے ہر ایک کو صِنْوٌ کہتے ہیں۔ تثنیہ صِنْوَانٌ۔ جمع صِنْوَانٌ۔ زیر مطالعہ آیت۔4]

وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ڛ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ الْاَغْلٰلُ فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ  ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ    Ĉ۝
[وَان: اور اگر] [تَعْجب: آپؐ تعجب کریں] [ فَعَجب: تو عجیب ہے] [ قَوْلُهُمْ : ان لوگوں کی بات (کہ)] [ءَ: کیا] [اِذَا: جب] [ كُنَا: ہم ہو جائیں گے] [ تُرٰبًا: مٹی] [ءَ: (تو) کیا] [انا: ہم] [لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ: ضرور ایک نئی مخلوق میں ہوں گے] [اُولٰۗىِٕكَ: وہ لوگ ہیں] [الَّذِينَ: جنھوں نے] [ كَفَرُوْا: انکار کیا] [ بِرَبِهِمْ : اپنے رب کا] [ وَاُولٰۗىِٕكَ: اور وہ ہیں (کہ)] [الْاَغْلٰلُ: طوق ہیں] [ فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ : ان کی گردنوں میں] [ وَاُولٰۗىِٕكَ: اور وہ لوگ ] [اَصْحٰبُ النَارِ : آگ والے ہیں] [هُمْ: وہ] [ فِيْهَا: اس میں] [ خٰلِدُوْنَ: ہمیشہ رہنے والے ہیں]

 

نوٹ۔1: آیت۔5 میں ہے کہ ان کی گردنوں میں طوق ہیں۔ گردن میں طوق ہونا قیدی ہونے کی علامت ہے۔ ان کی گردنوں میں طوق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی جہالت، ہٹ دھرمی، خواہشاتِ نفس اور آبائو اجداد کی اندھی تقلید کے اسیر بنے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ آزادانہ غوروفکر نہیں کرسکتے۔ ان کو ان کے تعصبات نے جکڑ رکھا ہے۔ (تفہیم القرآن)

وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ ۭ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ    Č۝
[وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ: اور وہ لوگ جلدی مانگتے ہیں آپؐ سے] [ بِالسَّيِّئَةِ: برائی کو] [قَبْلَ الْحَسَنَةِ: بھلائی سے پہلے] [ وَ: حالانکہ] [ قَدْ خَلَتْ: گزر چکی ہیں] [مِنْ قَبْلِهِمُ: ان کے پہلے سے] [ الْمَثُلٰتُ: عبرتناک سزائیں] [ وَان: اور بیشک] [رَبَّكَ: آپؐ کا رب] [ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ: یقینا مغفرت والا ہے] [ لِلنَاسِ: لوگوں کے لئے] [ عَلٰي ظُلْمِهِمْ : ان کے ظلم کے باوجود] [ وَان : اور بیشک] [ رَبَّكَ: آپؐ کا رب] [ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ: یقینا پکڑنے کا سخت ہے]

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ  ۭ اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ     Ċ۝ۧ
[وَيَقُوْلُ: اور کہتے ہیں] [ الَّذِينَ: وہ لوگ جنھوں نے] [ كَفَرُوْا: کفر کیا] [ لَوْلَآ: کیوں نہیں] [ انزِلَ: اتاری گئی] [ عَلَيْهِ: انؐ پر ] [ اٰيَةٌ: کوئی نشانی] [ مِّنْ رَّبِهٖ: انؐ کے رب (کی طرف) سے] [انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ] [انتَ: آپؐ] [ مُنْذِرٌ: خبردار کرنے والے ہیں] [وَّلِكُلِ قَوْمٍ هَادٍ: اور ہر قوم کے لئے ایک ہدایت دینے والا ہے]

 

نوٹ۔2: آیت۔7 میں جو یہ ارشاد ہے کہ ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہے، اس سے ثابت ہوا کہ کوئی قوم اور کوئی خطۂ ملک اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہدایت کرنے والوں سے خالی نہیں ہو سکتا، خواہ وہ نبی ہو یا اس کے قائم مقام نبی کی دعوت کو پھیلانے والا ہو۔ جیسا سورہ یٰسین میں نبی کی طرف سے کسی قوم کی طرف دو شخصوں کو دعوت و ہدایت کے لئے بھیجنے کا ذکر ہے، جو خود نبی نہیں تھے اور پھر تیسرے آدمی کو ان کی تائید کے لئے بھیجنا مذکور ہے۔ اس لئے اس آیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہندوستان میں بھی کوئی نبی و رسول پیدا ہوا ہو۔ البتہ دعوت کو پہنچانے والے علماء کا یہاں آنا بھی ثابت ہے اور پھر یہاں ایسے ہادیوں کا پیدا ہونا سب کو معلوم ہے۔ (معارف القرآن)

اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۭ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ   Ď۝
[اللّٰهُ: اللہ] [ يَعْلَمُ: جانتا ہے] [ مَا: اس کو جو] [ تَحْمِلُ: اٹھاتی ہے] [ كُلُّ انثٰى: ہر مؤنث] [ وَمَا: اور اس کو جو] [ تَغِيْضُ: سکیڑتی ہیں] [ الْاَرْحَامُ: بچہ دانیاں] [ وَمَا: اور اس کو جو] [ تَزْدَادُ : وہ بڑھاتی ہیں] [ وَكُلُّ شَيْءٍ: اور ہر چیز] [ عِنْدَهٗ : اس کے پاس] [بِمِقْدَارٍ: ایک مقدار سے ہے]

عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيْرُ الْمُتَعَالِ    ۝
[عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ: (وہ) ظاہر اور پوشیدہ کا جاننے والا ہے] [الْكَبِيْرُ: جو سب سے بڑا ہے] [ الْمُتَعَالِ: جو سب سے بلند ہے]

سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ  10۝
[سَوَاۗءٌ: برابر ہے] [ مِّنْكُمْ : تم لوگوں میں سے] [مَنْ: وہ جس نے] [ اَسَرَّ: چھپایا] [الْقَوْلَ: بات کو] [ وَمَنْ : اور وہ جس نے] [جَهَرَ: نمایاں کیا] [ بِهٖ: اس کو] [ وَمَنْ هُوَ: اور جو وہ ہے (کہ)] [ مُسْتَخْفٍۢ: چھپنے والا ہے] [ بِالَّيْلِ: رات میں] [ وَسَارِبٌۢ: اور چلنے پھرنے والا ہے] [ بِالنَّهَارِ: دن میں]

 

س ر ب

 [سُرُوْبًا: (ن) پانی کا جاری ہونا۔ گھستے چلے جانا۔] [سَرَبًا: (س) پانی کا برتن سے بہہ نکلنا۔ نشیب میں اترنا۔ فَاتَّخَذَ سَبِیْلَہٗ فِی الْبَحْرِ شَرَبًا (تو اس نے یعنی مچھلی نے بنایا اپنا راستہ پانی میں، نشیب میں گھستے ہوئے) 18:61۔] [شَارِبٌ: اسم الفاعل ہے۔ بہنے والا۔ چلنے پھرنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔10۔] [سَرَابٌ: بہتے پانی کی طرح نظر آنے والی ریت۔ دھوکہ۔ فریب۔ اَعْمَالُھُمْ کَرَابٍ بِقِیْعَۃٍ یَّحْبَدُہُ الظَّمْاٰنُ مَائً (ان کے اعمال ایک چمکتی ریت کی مانند ہیں پیاسا اس کو گمان کرتا ہے پانی) 24:39۔]

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاِذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ  لَهٗ  ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ   11۝
[لَهٗ: اس کے لئے ہیں] [مُعَقِّبٰتٌ: پہرہ دینے والے (فرشتے)] [مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ : اس کے سامنے سے] [وَمِنْ خَلْفِهٖ: اور اس کے پیچھے سے] [ يَحْفَظُوْنَهٗ: وہ حفاظت کرتے ہیں اس کی] [مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ : اللہ کے حکم سے] [ان : بیشک] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ لَا يُغَيِّرُ: نہیں بدلتا] [مَا: اس کو جو] [ بِقَوْمٍ: کسی قوم کے ساتھ ہے] [ حَتّٰى: یہاں تک کہ] [يُغَيِّرُوْا: وہ لوگ بدلیں] [مَا: اس کو جو] [بِانفُسِهِمْ: ان کی نفسیات میں ہے] [ وَاِذَآ: اور جب کبھی ] [ اَرَادَ: ارادہ کرتا ہے] [ اللّٰهُ: اللہ] [ بِقَوْمٍ: کسی قوم سے] [ سُوْۗءًا: کسی برائی کا] [ فَلَا مَرَدَّ: تو کوئی بھی لوٹانے کی جگہ (یعنی امکان) نہیں ہے] [ لَهٗ : اس کو] [ وَمَا لَهُمْ: اور نہیں ہے ان کے لئے] [ مِّنْ دُوْنِهٖ: اس کے علاوہ [ مِنْ وَّالٍ: کوئی بھی حمایتی]

 

ترکیب: (آیت۔11) لَہٗ۔ یَدَیْہِ اور خَلْفِہٖ کی ضمیریں گذشتہ آیت میں مَنْ کے لئے ہیں۔ مُعَقِّبٰتٌ صفت ہے۔ اس کا موصوف مَلَاگکَۃ محذوف ہے۔ یَحْفَظُوْنَہٗ کی ضمیر فاعلی ھُمْ مَلَاگکَہ کے لئے ہے۔ یہ مؤنث غیر حقیقی ہے اس لئے مذکر کا صیغہ بھی جائز ہے۔ (آیت۔12) خَوْفًا اور طَمَعًا حال نہیں بن سکتے اس لئے یہاں یہ مفعول لَہٗ ہیں۔ (آیت۔14) اگر وَالَّذِیْنَ کو یَدْعُوْنَ کا فاعل مانیں تو اس کا مفعول محذوف مانا جائے گا اور لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ کی ضمیر فاعلی مفعول محذوف کے لئے ہو گی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وَالَّذِیْنَ کو مفعول مقدم مانا جائے۔ ایسی صورت میں یَدْعُوْنَ کا فاعل اس کی ضمیر فاعلی ہوگی اور لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ کی ضمیر فاعلی وَالَّذِیْنَ کے لئے ہو گی۔ ترجمہ میں ہم دوسری صورت کو ترجیح دیں گے۔

هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّيُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ    12۝ۚ
[هُوَ: وہ] [الَّذِي: وہ ہے جو] [ يُرِيْكُمُ: دکھاتا ہے تم لوگوں کو] [الْبَرْقَ: بجلی کی چمک] [ خَوْفًا: خوف کے لئے] [ وَّطَمَعًا: اور امید کے لئے] [ وَّيُنْشِئُ: اور وہ اٹھاتا ہے] [السَّحَابَ الثِّقَالَ : بھاری بادلوں کو]

وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ مِنْ خِيْفَتِهٖ ۚ وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيْبُ بِهَا مَنْ يَّشَاۗءُ وَهُمْ يُجَادِلُوْنَ فِي اللّٰهِ ۚ وَهُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِ   13۝ۭ
[وَيُسَبِحُ: اور تسبیح کرتی ہے] [ الرَّعْدُ: بادل کی گرج] [ بِحَمْدِهٖ: اس کی حمد کے ساتھ [ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ: اور فرشتے (بھی)] [ مِنْ خِيْفَتِهٖ : اس کے خوف سے] [ وَيُرْسِلُ: اور وہ بھیجتا ہے] [ الصَّوَاعِقَ: گرنے والی بجلیاں] [ فَيُصِيْبُ بِهَا: پھر وہ لگاتا ہے ان کو] [ مَنْ: اسے جس کو] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے] [وَ: اس حال میں کہ] [هُمْ: وہ لوگ] [ يُجَادِلُوْنَ: مناظرہ کرتے ہیں] [ فِي اللّٰهِ : اللہ میں] [ وَهُوَ: اور وہ [ شَدِيْدُ الْمِحَالِ: تدبیر کرنے کا سخت ہے]

 

م ح ل

 [مِحَالًا: (ف۔ س) کسی کے خلاف تدبیر کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔13۔]

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ ۭ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ لَهُمْ بِشَيْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَاۗءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهٖ  ۭ وَمَا دُعَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ    14؀
[لَهٗ: اس کے لئے ہی ہے] [دَعْوَةُ الْحَقِّ: حق کی پکار] [ وَالَّذِينَ: اور جن لوگوں کو] [يَدْعُوْنَ : یہ لوگ پکارتے ہیں] [مِنْ دُوْنِهٖ: اس کے علاوہ] [لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ: وہ جواب نہیں دیتے] [ لَهُمْ: ان کے لئے] [بِشَيْءٍ: کسی چیز کا] [ اِلَّا: سوائے اس کے کہ] [كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ: (وہ) اپنی دونوں ہتھیلیوں کو پھیلانے والے کی مانند ہے] [ اِلَى الْمَاۗءِ: پانی کی طرف] [ لِيَبْلُغَ: کہ وہ پہنچے] [ فَاهُ : اس کے منہ کو] [وَ: حالانکہ] [مَا: نہیں ہے] [هُوَ: وہ] [بِبَالِغِهٖ : پہنچنے والا اس کو] [وَمَا: اور نہیں ہے] [دُعَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ: کافروں کی دعا] [اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ: مگر گمراہی ہو]

وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ    15۝۞
[وَللّٰهِ: اور اللہ کے لئے ہی] [ يَسْجُدُ: سجدہ کرتے ہیں] [ مَنْ: وہ جو] [ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ: زمین اور آسمانوں میں ہیں] [ طَوْعًا: تابعدار ہوتے ہوئے] [ وَّكَرْهًا: اور ناپسند کرتے ہوئے] [ وَّظِلٰلُهُمْ: اور ان کے سائے (بھی)] [ بِالْغُدُوِّ: صبح میں] [ وَالْاٰصَالِ: اور شام میں]

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ  ۭ قُلِ اللّٰهُ  ۭ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ لَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا  ۭ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ڏ اَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ ڬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ  ۭ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ    16 ؁
[قُلْ: آپؐ کہئے] [مَنْ: کون] [ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ: زمین اور آسمانوں کا رب ہے] [ قُلِ اللّٰهُ : آپؐ کہئے (وہ) اللہ ہی ہے] [ قُلْ: آپؐ کہئے] [اَفَاتَّخَذْتم: تو کیا تم لوگوں نے بنائے] [مِّنْ دُوْنِهٖٓ: اس کے علاوہ] [ اَوْلِيَاۗءَ: کچھ ایسے کارساز [ لَا يَمْلِكُوْنَ: جو مالک نہیں ہیں] [ لِانفُسِهِمْ: اپنی جانوں کے لئے (بھی)] [ نَفْعًا: کیس نفع کے] [ وَّلَا ضَرًّا: اور نہ ہی کسی نقصان کے] [ قُلْ: آپؐ کہئے] [ هَلْ: کیا] [ يَسْتَوِي: برابر ہوتا ہے] [الْاَعْمٰى: اندھا] [وَالْبَصِيْر: اور دیکھنے والا] [اَمْ: یا ] [ هَلْ: کیا [ تَسْتَوِي: برابر ہوتے ہیں] [الظُّلُمٰتُ: اندھیرے] [وَالنُّوْرُ: اور نور] [اَمْ: یا] [ جَعَلُوْا: ان لوگوں نے بنایا] [للّٰهِ: اللہ کے لئے] [ شُرَكَاۗءَ: کچھ ایسے شریک] [ خَلَقُوْا: جنھوں نے پیدا کیا] [ كَخَلْقِهٖ: اس کی مخلوق کی مانند] [ فَتَشَابَهَ: پھر باہم ملتی جلتی ہو گئیں] [ الْخَلْقُ: تمام مخلوقیں] [ عَلَيْهِمْ: ان پر] [ قُلِ: آپؐ کہئے] [ اللّٰهُ: اللہ] [ خَالِقُ كُلِ شَيْءٍ: ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے] [ وَّهُوَ: اور وہ] [ الْوَاحِدُ: یکتا ہے] [ الْقَهَارُ: زبردست ہے]

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا  ۭ وَمِمَّا يُوْقِدُوْنَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاۗءَ حِلْيَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ  ۭ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ڛ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاۗءً  ۚ وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ  ۭ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ    17۝ۭ
[انزَلَ: اس نے اتارا] [ مِنَ السَّمَاۗءِ: آسمان سے] [ مَاۗءً: کچھ پانی] [فَسَالَتْ: تو بہہ نکلیں] [ اَوْدِيَةٌۢ: وادیاں ] [ بِقَدَرِهَا: اپنے اندازے (یعنی گنجائش) کے مطابق] [فَاحْتملَ: تو اٹھایا] [ السَّيْلُ: بہتے پانی نے] [ زَبَدًا رَّابِيًا: ابھرنے والا کچھ جھاگ] [ وَمِمَا: اور اس (دھات) میں سے] [ يُوْقِدُوْنَ : وہ لوگ چمکاتے (یعنی پگھلاتے) ہیں] [عَلَيْهِ: جس کو] [ فِي النَارِ: آگ میں] [ ابْتِغَاۗءَ حِلْيَةٍ: کسی زیور کی تلاش میں] [اَوْ مَتَاعٍ: یا کسی سامان کی] [زَبَدٌ: کچھ جھاگ ہوا] [ مِّثْلُهٗ: اس کے جیسا] [ كَذٰلِكَ: اس طرح] [ يَضْرِبُ: بیان کرتا ہے] [ اللّٰهُ: اللہ] [ الْحَقَّ: حق کو] [وَالْبَاطِلَ: اور باطل کو] [فَاَمَا: پس وہ جو] [ الزَّبَدُ: جھاگ سے] [ فَيَذْهَبُ: تو وہ جاتاہے] [ جُفَاۗءً : رائیگاں ہوتے ہوئے] [ وَاَمَا: اور وہ جو ہے] [ مَا: جو ] [ يَنْفَعُ: نفع دیتا ہے] [ النَاسَ: لوگوں کو] [ فَيَمْكُثُ: تو وہ ٹھہرتا ہے] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں] [ كَذٰلِكَ: اس طرح] [ يَضْرِبُ: بیان کرتا ہے] [ اللّٰهُ : اللہ] [الْاَمْثَالَ: مثالوں کو]

 

س ی ل

 [سَیْلًا: (ض) پانی کا بہہ نکلنا۔ زیر مطالعہ آیت۔17۔] [سَیْلٌ: اسم ذات بھی ہے۔ بہتا پانی۔ سیلاب۔ زیر مطالعہ آیت۔17] [اِسَالَۃً: (افعال) رقیق چیز کو بہانا۔ جمی ہوئی چیز کو پگھلانا۔ وَاَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ (اور ہم نے پگھلایا ان ؑ کے لئے تانبے کے چشمے کو) 34:12]

 

ز ب د

 [زَبْدًا: (ض) دودھ کا مکھن نکالنا۔ پانی کا جھاگ نکالنا۔] [زَبَدٌ: اسم ذات ہے۔ دھاتوں کا میل۔ پانی کا جھاگ۔ زیر مطالعہ آیت۔17]

 

ج ف ء

 [جَفْئًا: (ف) ہانڈی کا ابل کر کناروں سے بہہ نکلنا۔ کسی چیز کا رائیگاں جانا۔ بےفائدہ ہو جانا۔] [جُفَائٌ: فعال کے وزن پر صفت ہے۔ بےفائدہ۔ رائیگاں۔ زیر مطالعہ آیت۔17]

 

م ک ث

 [مَکْثًا: (ن) کسی جگہ رکنا۔ ٹھہرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔17۔] [مُکْثٌ: اسم فعل ہے۔ رکنے کا عمل۔ ٹھہرائو۔ لتقراہ علی الناس علی مکث (تاکہ آپؐ پڑھ کر سنائیں اے لوگوں کو ٹھہرائو پر یعنی رک رک کر) 17:106۔] [مَاکِثٌ: اسم الفاعل ہے۔ رکنے والا۔ ٹھہرنے والا۔ مَاکِثِیْنَ فِیْہِ اَبَدًا (ٹھہرنے والے ہیں اس میں ہمیشہ) 18:3۔]

لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى ڼ وَالَّذِيْنَ لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا  لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّمِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ ۭاُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ سُوْۗءُ الْحِسَابِ ڏ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ  ۭ وَبِئْسَ الْمِهَادُ   18۝ۧ
[لِلَّذِيْنَ: ان کے لئے جنھوں نے] [اسْتَجَابُوْا: حکم مانا] [ لِرَبِهِمُ: اپنے رب کا] [الْحُسْنٰى: کل بھلائی ہے] [وَالَّذِينَ: اور جنھوں نے] [لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا: حکم نہیں مانا] [ لَهٗ: اس کا] [لَوْ: اگر] [ ان: یہ کہ] [ لَهُمْ: ان کے لئے (ہوتا)] [ مَا: وہ جو] [ فِي الْاَرْضِ: زمین میں ہے] [ جَمِيْعًا: سب کا سب] [ وَّمِثْلَهٗ: اور اس کے جیسا] [ مَعَهٗ: اس کے ساتھ (اور ہوتا)] [لَافْتَدَوْا: تو ضرور خود کو چھڑاتے] [ بِهٖ : اسے دے کر] [اُولٰۗىِٕكَ: وہ لوگ ہیں] [ لَهُمْ : جن کے لئے ہے] [سُوْۗءُ الْحِسَابِ: برا حساب] [وَمَاوٰىهُمْ: اور ان کی اترنے کی جگہ] [جَهَنَّمُ: جہنم ہے] [وَبِئْسَ: اور (وہ) کتنی بری] [ الْمِهَادُ: آرام گاہ ہے]

اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ    19۝ۙ
[اَفَمَنْ: تو کیا جو] [ يَّعْلَمُ : جانتا ہے] [انمَآ: کہ وہ جو] [ انزِلَ: اتارا گیا] [ اِلَيْكَ: آپؐ کی طرف] [مِنْ رَّبِكَ: آپؐ رب (کی طرف) سے] [الْحَقُّ: کل حق ہے] [ كَمَنْ: اس کی مانند ہے] [ هُوَ: (کہ) وہ] [ اَعْمٰى : اندھا ہے] [ انمَا: کچھ نہیں سوائے اس کے کہ] [ يَتَذَكَّرُ: نصیحت حاصل کرتے ہیں] [ اُولُوا الْاَلْبَابِ: اوہام سے پاک عقل والے]

 

ترکیب: (آیت۔19) اَنَّمَا اُنْزِلَ میں اَنَّمَا کلمۂ حصر نہیں ہے بلکہ یہ اَنَّ مَا ہے۔ یہ قرآن مجید کا یہ مخصوص املا ہے کہ یہاں اسکو ملا کر لکھا گیا ہے۔ جبکہ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ میں اِنَّمَا کلمہ حصر ہے۔ (آیت۔22) اِبْتِغَاء مفعول لَہٗ ہے اور اس کو حال ماننے کی بھی گنجائش ہے۔ ہم ترجمہ مفعول لَہٗ کے لحاظ سے کریں گے۔ جبکہ سِرًّا اور عَلَانِیَۃً حال ہیں۔

الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ   20۝ۙ
[الَّذِينَ: جو لوگ] [ يُوْفُوْنَ: پورا کرتے ہیں] [ بِعَهْدِ اللّٰهِ: اللہ کے عہد کو] [ وَلَا يَنْقُضُوْن: اور وہ نہیں توڑتے] [َ الْمِيْثَاقَ: اس وعدہ کو]

وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُوْنَ سُوْۗءَ الْحِسَابِ   21۝ۭ
[وَالَّذِينَ: اور جو لوگ] [ يَصِلُوْنَ: ملاتے ہیں ] [ مَآ : اس کو] [اَمَرَ: حکم دیا] [ اللّٰهُ: اللہ نے ] [ بِهٖٓ : جس کا] [ان: کہ] [ يُّوْصَلَ: وہ ملایا جائے] [ وَيَخْشَوْنَ: اور مرعوب ہوتے ہیں] [ رَبَّهُمْ: اپنے رب سے] [ وَيَخَافُوْنَ: اور اندیشہ رکھتے ہیں] [ سُوْۗءَ الْحِسَابِ: برے حساب کا]

وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً وَّيَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ  22۝ۙ
وَالَّذِينَ: اور جو لوگ] [ صَبَرُوا: ثابت قدم رہے] [ ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِهِمْ: اپنے رب کی توجہ کی جستجو میں] [ وَاَقَامُوا: اور انھوں نے قائم کی] [ الصَّلٰوةَ: نماز] [ وَانفَقُوْا: اور انھوں نے خرچ کیا] [ مِمَا: اس میں سے جو] [ رَزَقْنٰهُمْ: ہم نے عطا کیا ان کو] [ سِرًّا: چھپاتے ہوئے] [ وَّعَلَانيَةً: اور اعلانیہ] [ وَّيَدْرَءُوْنَ: اور ہٹاتے ہیں] [ بِالْحَسَنَةِ: بھلائی سے] [ السَّيِّئَةَ: برائی کو] [ اُولٰۗىِٕكَ: وہ لوگ ہیں] [ لَهُمْ : جن کے لئے ہے] [عُقْبَى الدَّارِ: اس (آخری) گُم گھر کا انجام]

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ   23؀ۚ
[جَنّٰتُ عَدْنٍ: عدن کے باغات ہیں] [ يَّدْخُلُوْنَهَا: وہ لوگ داخل ہوں گے ان میں] [ وَمَنْ : اور وہ (بھی) جو] [صَلَحَ : نیک ہوا] [مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ: ان کے آبائو اجداد میں سے] [ وَاَزْوَاجِهِمْ: اور ان کے جوڑوں میں سے] [وَذُرِّيّٰــتِهِمْ: اور ان کی اولادوں میں سے] [ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ: اور فرشتے] [ يَدْخُلُوْنَ: داخل ہوں گے] [ عَلَيْهِمْ: ان پر] [مِّنْ كُلِ بَابٍ: ہر دروازے سے]

سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ   24؀ۭ
[سَلٰمٌ: (وہ کہیں گے) سلامتی ہو] [عَلَيْكُمْ: تم لوگوں پر] [بِمَا: بسبب اس کے جو] [صَبَرْتم: تم لوگ ثابت قدم رہے] [ فَنِعْمَ: تو کتنا اچھا ہے] [عُقْبَى الدَّارِ: اس (آخری) گھر کا انجام]

 

نوٹ۔1: ان آیات میں اللہ کا حکم ماننے والوں کی کچھ صفات کا ذکر ہے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ لوگ برائی کے جواب میں برائی نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ بھی بھلائی کرتے ہیں جو ان کے ساتھ برائی کرے۔ اس مفہوم کی وضاحت میں ہمیں متعدد احادیث ملتی ہیں۔ مثلاً رسول اللہ
کا ارشاد ہے کہ تم اپنے طرز عمل کو لوگوں کے طرز عمل کا تابع بنا کر مت رکھو۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اگر لوگ بھلائی کریں گے تو ہم بھلائی کریں گے اور لوگ ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے۔ تم اپنے نفس کو ایک قاعدے کا پابند بنائو۔ اگر لوگ نیکی کریں تو تم نیکی کرو۔ اور اگر لوگ تم سے بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو۔ اسی معنی میں وہ حدیث ہے جس میں آپؐ نے فرمایا کہ میرے رب نے مجھے نو باتوں کا حکم دیا ہے اور ان میں سے چار باتیں آپؐ نے یہ فرمائیں کہ میں خواہ کسی سے خوش ہوں یا ناراض ہر حالت میں انصاف کی بات کہوں، جو میرا حق مارے میں اس کا حق ادا کروں، جو مجھے محروم کرے میں اس کو عطا کروں اور جو مجھ پر ظلم کرے میں ان کو معاف کر دوں۔ اور اس معنی میں وہ حدیث ہے جس میں آپؐ نے فرمایا کہ جو تجھ سے خیانت کرے تو اس سے خیانت نہ کر۔ (تفہیم القرآن)۔

وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ  بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ  25 ؁
[وَالَّذِينَ: اور وہ لوگ جو] [ يَنْقُضُوْنَ: توڑتے ہیں] [ عَهْدَ اللّٰهِ: اللہ کے عہد کو] [ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ: اس کے پختہ ہونے کے بعد] [ وَيَقْطَعُوْنَ: اور وہ لوگ کاٹتے ہیں] [ مَآ: اس کو] [ اَمَرَ: حکم دیا] [ اللّٰهُ: اللہ نے] [ بِهٖٓ : جس کا] [ان : کہ] [ يُّوْصَلَ: وہ جوڑا جائے] [وَيُفْسِدُوْنَ: اور وہ لوگ نظم بگاڑتے ہیں] [ فِي الْاَرْضِ: زمین میں] [ اُولٰۗىِٕكَ: وہ لوگ ہیں] [ لَهُمُ: جن کے لئے ہے] [ اللَّعْنَةُ : کل لعنت] [وَلَهُمْ: اور ان کے لئے ہے] [ سُوْۗءُ الدَّارِ: اس (آخری) گھر کی برائی]

اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ  ۭ وَفَرِحُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا  ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ    26؀ۧ
[اللّٰهُ: اللہ] [يَبْسُطُ: کشادہ کرتا ہے] [ الرِّزْقَ: رزق کو] [ لِمَنْ: اس کے لئے جس کو] [يَّشَاۗءُ: وہ جانتا ہے] [وَيَــقْدِرُ: اور وہ اندازہ لگاتا ہے (یعنی ناپ تول کر دیتا ہے جس کو چاہتا ہے)] [وَفَرِحُوْا: اور وہ لوگ خوش ہوئے] [ بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا: دنیوی زندگی پر] [وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا: اور دنیوی زندگی نہیں ہے] [فِي الْاٰخِرَةِ: آخرت (کے مقابلہ) میں] [ اِلَّا: مگر] [ مَتَاعٌ: ایک برتنے کا سامان]

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ اَنَابَ    27؀ڻ
[وَيَقُوْلُ: اور کہتے ہیں] [ الَّذِينَ: وہ لوگ جنھوں نے] [ كَفَرُوْا: کفر کیا] [ لَوْلَآ: کیوں نہیں] [ انزِلَ: اتاری جاتی] [ عَلَيْهِ: انؐ پر] [ اٰيَةٌ : کوئی نشانی] [مِّنْ رَّبِهٖ : ان کے رب (کی طرف) سے] [قُلْ: آپؐ کہئے] [ ان: بیشک اللہ] [اللّٰهَ: اللہ] [يُضِلُّ: گمراہ کرتا ہے] [مَنْ: اس کو جس کو] [ يَّشَاۗءُ: وہ چاہتا ہے] [ وَيَهْدِيْٓ: اور وہ ہدایت دیتا ہے] [اِلَيْهِ: اپنی طرف] [ مَنْ: اس کو جس نے] [ انابَ: رخ کیا (اس کی طرف)]

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ    28؀ۭ
[الَّذِينَ: جو لوگ] [ اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [ وَتَطْمَىِٕنُّ: اور اطمینان پاتے ہیں] [ قُلُوْبُهُمْ: ان کے دل] [ بِذِكْرِ اللّٰهِ: اللہ کی یاد سے] [ اَلَا: سن لو] [ بِذِكْرِ اللّٰهِ: اللہ کی یاد سے ہی] [ تَـطْمَىِٕنُّ: اطمینان پاتے ہیں] [ الْقُلُوْبُ: دل]

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ    29؁
[الَّذِينَ: جو لوگ] [اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [ وَعَمِلُوا: اور انھوں نے عمل کئے] [ الصّٰلِحٰتِ: نیکیوں کے] [طُوْبٰى: تو انتہائی فرحت ہے] [ لَهُمْ: ان کے لئے] [ وَحُسْنُ مَاٰبٍ: اور لوٹنے کی جگہ کا حسن ہے]

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْٓ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَآ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ ۭ قُلْ هُوَ رَبِّيْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ مَتَابِ   30؁
[كَذٰلِكَ: اس طرح] [ اَرْسَلْنٰكَ: ہم نے بھیجا آپؐ کو] [ فِيْٓ اُمَّةٍ: ایک ایسی امت میں] [قَدْ خَلَتْ: گزر چکی ہیں] [ مِنْ قَبْلِهَآ: جس سے پہلے] [ اُمَمٌ: کچھ امتیں] [ لِتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ: تاکہ آپؐ پڑھ کر سنائیں ان کو] [ الَّذِيٓ: وہ جو] [ اَوْحَيْنَآ: ہم نے وحی کیا] [ اِلَيْكَ: آپؐ کی طرف ] [ وَ: حالانکہ] [هُمْ: وہ لوگ] [ يَكْفُرُوْنَ: انکار کرتے ہیں] [ بِالرَّحْمٰنِ : رحمن کا] [قُلْ: آپؐ کہئے [ هُوَ: وہ ] [ رَبِيْ: میرا رب ہے] [ لَآ اِلٰهَ: کوئی الٰہ نہیں ہے] [ اِلَّا: مگر] [هُوَ : وہ (ہی)] [ عَلَيْهِ: اس پر ہی] [ تَوَكَّلْتُ: میں نے بھروسہ کیا] [ وَاِلَيْهِ: اور اس کی طرف ہی] [ مَتَابِ: میرا لوٹنا ہے]

 

ترکیب: (آیت۔30) مَتَابِ کی کسرہ بنا رہی ہے کہ اس کے آگے یائے متکلم محذوف ہے۔ یعنی یہ مَتَابِیْ ہے۔

وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى  ۭ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا  ۭاَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا  ۭ وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى يَاْتِيَ وَعْدُ اللّٰهِ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ    31 ؀ۧ
[وَلَوْ: اور اگر] [ ان: یہ کہ] [ قُرْاٰنًا: کوئی ایسا قرآن (ہوتا)] [سُيِّرَتْ: چلائے جاتے] [بِهِ: جس سے] [ الْجبالُ: پہاڑ] [ اَوْ: یا] [ قُطِّعَتْ: ٹکڑے ٹکڑے کی جاتی] [ بِهِ: جس سے] [الْاَرْضُ: زمین] [ اَوْ: یا] [كُلِمَ: بلوائے جاتے] [ بِهِ: جس سے] [ الْمَوْتٰى: مردے ] [بَلْ: بلکہ] [للّٰهِ : اللہ کے لئے ہی ہیں] [الْاَمْرُ: تمام معاملات [ جَمِيْعًا: سب کے سب] [اَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ: تو کیا جانتا ہی نہیں] [الَّذِينَ: ان لوگوں نے جو] [ اٰمَنُوْٓا: ایمان لائے] [ ان: کہ] [ لَوْ: اگر] [ يَشَاۗءُ: چاہتا] [ اللّٰهُ : اللہ] [لَهَدَى: تو ضرور ہدایت دیتا] [ النَاسَ: لوگوں کو] [جَمِيْعًا : سب کے سب کو] [ وَلَا يَزَالُ: اور ہمیشہ] [الَّذِينَ: جنھوں نے] [ كَفَرُوْا: کفر کیا،] [ تُصِيْبُهُمْ: آ لگتی رہے گی ان کو] [ بِمَا: بسبب اس کے جو] [صَنَعُوْا: انھوں نے کارستانی کی] [قَارِعَةٌ : کوئی آفت] [اَوْ: یا (ہمیشہ) ] [ تَحُلُّ: اترتی رہے گی] [ قَرِيْبًا: نزدیک ہی] [ مِّنْ دَارِهِمْ : ان کے گھر سے] [حَتّٰى: یہاں تک کہ] [ يَاْتِيَ: آئے] [ وَعْدُ اللّٰهِ : اللہ کا وعدہ] [ ان : بیشک] [ اللّٰهَ: اللہ] [ لَا يُخْلِفُ: خلاف نہیں کرتا] [ الْمِيْعَادَ: وعدے کے]

 

ق ر ع

 [قَرْعًا: (ف) کھٹکھٹانا۔] [قَارِعَۃٌ: کھٹکھٹانے والی۔ آفت۔ زیر مطالعہ آیت۔31۔] [

 

 (آیت۔31) پروفیسر حافظ احمد یار صاحب مرحوم کا کہنا ہے کہ یَگسَ کے بعد مِنْ کا صلہ آئے تو معنی ہوتے ہیں ’’ مایوس ہونا‘‘ اگر اَنْ کا صلہ آئے تو معنی ہوتے ہیں ’’ جاننا‘‘۔ اس کی سند المنجد کے علاوہ کچھ تفاسیر ہیں جن میں اس کی سند کے لئے اشعار جاہلیہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اور قرآن مجید میں یہ واحد مقام ہے جہاں یَگسَ اَنْ کے صلہ کے ساتھ ’’ جاننا‘‘ کے معنی میں آیا ہے۔ ترجمہ میں ہم حافظ صاحب کی رائے کو ترجیح دیں گے۔

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَيْتُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ  ۣ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ    32؁
[وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ: اور بیشک مذاق اُڑایا جا چکا ہے] [ بِرُسُلٍ: رسولوں کا] [ مِّنْ قَبْلِكَ: آپؐ سے پہلے] [ فَاَمْلَيْتُ: تو میں نے مہلت دی] [ لِلَّذِيْنَ : ان کو جنھوں نے] [كَفَرُوْا: کفر کیا] [ ثُمَّ : پھر ] [اَخَذْتُهُمْ : میں نے پکڑا ان کو] [ فَكَيْفَ: تو کیسا] [ كَان: تھا] [عِقَابِ: میرا پکڑنا]

 

 (آیت۔32) عِمَّابِ بھی دراصل عقابی ہے۔

اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ  بِمَا كَسَبَتْ ۚ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ  ۭ قُلْ سَمُّوْهُمْ  ۭ اَمْ تُنَبِّــــــُٔـوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ ۭ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَصُدُّوْا عَنِ السَّبِيْلِ ۭوَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا  لَهٗ مِنْ هَادٍ    33؁
[اَفَمَنْ هُوَ: تو کیا وہ جو] [ قَاۗىِٕمٌ: نگرانی کرنے والا ہے] [عَلٰي كُلِ نَفْسٍۢ: ہر ایک جان کی] [ بِمَا: اس کے ساتھ جو] [ كَسَبَتْ: اس نے کمایا (کسی کے مانند ہو سکتا ہے)] [ وَجَعَلُوْا : اور (پھر بھی) انھوں نے بنائے] [للّٰهِ: اللہ کے لئے] [شُرَكَاۗءَ: کچھ شریک] [ قُلْ: آپؐ کہیے] [سَمُّوْهُمْ : تم لوگ نام (یعنی صفات) بتائوان کی] [اَمْ: یا] [ تُنَبِــــــُٔـوْنَهٗ: تم لوگ خبر دیتے ہو اس کو] [ بِمَا: اس کی جو] [ لَا يَعْلَمُ : وہ نہیں جانتا (یعنی جس کا وجود نہیں ہے)] [فِي الْاَرْضِ: زمیں میں] [ اَمْ: یا] [ بِظَاهِرٍ: (فریفتہ ہو) ظاہری پر] [مِّنَ الْقَوْلِ : بات سے] [ بَلْ: بلکہ] [ زُيِّنَ: سجایا گیا] [ لِلَّذِيْنَ: ان کے لئے جنھوں نے] [كَفَرُوْا: کفر کیا] [مَكْرُهُمْ: ان کی پالبازی کو] [ وَصُدُّوْا: اور وہ لوگ روک دئے گئے] [ عَنِ السَّبِيْل: اس راستے سے] [وَمَنْ: اور جس کو] [ يُّضْلِلِ: گمراہ کرتا ہے] [ اللّٰهُ: اللہ] [ فَمَا: تو نہیں ہے] [لَهٗ: اس کے لئے] [ مِنْ هَادٍ: کوئی بھی ہدایت دینے والا]

 

نوٹ۔1: آیت۔33 کے ترجمہ میں ہم نے نام کے ساتھ صفات کا اضافہ کیا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے آیت۔2:21 کا نوٹ۔1، دوبارہ دیکھ لیں۔

نوٹ۔2: آیت۔33 میں شرک کو مکاری یعنی چالبازی اس لئے کہا گیا ہے کہ جن اجرام فلکی یا فرشتوں یا ارواح یا بزرگ انسانوں کو خدائی اختیارات میں شریک قرار دیا گیا ہے ان میں سے کسی نے بھی کبھی ان اختیارات و صفات کا دعوٰی نہیں کیا۔ یہ تو چالاک انسانوں کا کام ہے کہ انھوں نے عوام پر اپنی خدائی کا سکّہ جمانے کے لئے اور ان کی کمائی میں حصّہ بٹانے کے لئے کچھ بناوٹی خدا تصنیف کئے، لوگوں کو ان کا معتقد بنایا اور اپنے آپ کو ان کا نمائندہ ٹھہرا کر اپنا اُلّو سیدھا کرنا شروع کر دیا۔ (تفہیم القرآن)

لَهُمْ عَذَابٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ   34؁
[لَهُمْ: ان کے لئے] [ عَذَابٌ: ایک عذاب ہے] [ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا: دنیوی زندگی میں] [ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ: اور یقینا آخرت کا عذاب [ اَشَقُّ : سب سے زیادہ دشوار ہے] [وَمَا: اور نہیں ہے] [ لَهُمْ: ان کے لئے] [ مِّنَ اللّٰهِ: اللہ سے] [مِنْ وَّاقٍ: کوئی بھی بچانے والا]

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ  ۭ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۭ اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا  ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ    35؁
[مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ: اس جنت کی مثال جس کا] [ وُعِدَ: وعدہ کیا گیا] [الْمُتَّقُوْنَ : متقی لوگوں سے (یہ ہے کہ)] [ تَجْرِيْ: بہتی ہیں] [ مِنْ تَحْتِهَا: اس کے نیچے سے] [ الْانهٰرُ: نہریں] [ اُكُلُهَا: اس کا پھل] [ دَاۗىِٕمٌ: ہمیشہ رہنے والا ہے] [ وَّظِلُّهَا: اور اس کا سایہ (بھی)] [ تِلْكَ: یہ] [ عُقْبَى الَّذِينَ: ان کا انجام ہے جنھوں نے] [ اتَّقَوْا: تقوٰی کیا] [وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ: اور کافروں کا انجام] [ النَارُ: آگ ہے]

 

دوم

 [دَوَامًا: (ن) ساکن رہنا۔ ہمیشہ رہنا] [مَادَامَ: افعال ناقصہ میں سے ہے۔ دیکھیں آیت۔2:57، نوٹ۔1۔] [دَائمٌ: ساکن رہنے والا۔ ہمیشہ رہنے والا۔ زیرِ مطالعہ آیت 35۔]

وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ يُّنْكِرُ بَعْضَهٗ ۭ قُلْ اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَلَآ اُشْرِكَ بِهٖ ۭ اِلَيْهِ اَدْعُوْا وَاِلَيْهِ مَاٰبِ  36؀
[وَالَّذِينَ: اور وہ لوگ] [ اٰتَيْنٰهُمُ: ہم نے دی جن کو] [ الْكِتٰبَ: کتاب] [ يَفْرَحُوْنَ: خوش ہوتے ہیں] [ بِمَآ : اس سے جو] [انزِلَ: اتارا گیا] [ اِلَيْكَ: آپؐ کی طرف] [ وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ: اور گروہوں میں سے وہ بھی ہیں جو] [ يُّنْكِرُ: انکار کرتے ہیں] [ بَعْضَهٗ : اس کے بعض کا] [ قُلْ : آپؐ کہیے] [انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ] [اُمِرْتُ: مجھے حکم دیا گیا] [ ان : کہ] [ اَعْبُدَ: میں بندگی کروں] [ اللّٰهَ: اللہ کی] [ وَلَآ اُشْرِكَ: اور میں شریک نہ کروں (کسی کو)] [ بِهٖ : اس کے ساتھ] [ اِلَيْهِ: اس کی طرف ہی [ اَدْعُوْا: میں بلاتا ہوں] [وَاِلَيْهِ: اور اس کی طرف ہی] [ مَاٰبِ: میری لوٹنے کی جگہ ہے]

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا  ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَاۗءَهُمْ بَعْدَمَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا وَاقٍ    37؀ۧ
[وَكَذٰلِكَ: اور اس طرح] [ انزَلْنٰهُ: ہم نے اتارا اس کو] [ حُكْمًا: حکم ہوتے ہوئے [عَرَبِيًّا: عربی زبان میں] [ وَلَىِٕنِ: اور یقینا اگر] [ اتَّبَعْتَ: آپؐ نے پیروی کی [اَهْوَاۗءَهُمْ: ان کی خواہشات کی] [ بَعْدَمَا: اس کے بعد کہ جو] [ جَاۗءَكَ: آیا آپؐ کے پاس] [ مِنَ الْعِلْمِ : علم میں سے] [ مَا: تو نہیں ہو گا] [ لَكَ : آپؐ کے لئے] [مِنَ اللّٰهِ: اللہ سے] [مِنْ وَّلِيٍّ: کوئی بھی حمایت کرنے والا] [ وَّلَا وَاقٍ: اور نہ کوئی بھی بچانے والا]

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّيَّةً ۭ  وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ  ۭ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ   38؁
[وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا: اور ہم بھیج چکے ہیں] [ رُسُلًا: کچھ رسولوں کو] [ مِّنْ قَبْلِكَ: آپؐ سے پہلے] [ وَجَعَلْنَا: اور ہم نے بنائیں ] [ لَهُمْ: ان کے لئے] [ اَزْوَاجًا: بیویاں] [ وَّذُرِّيَّةً : اور اولاد] [ وَمَا كَان: اور (ممکن) نہیں تھا] [لِرَسُوْلٍ: کسی رسول کے لئے] [ ان: کہ] [ يَاْتِيَ: وہ لائے] [ بِاٰيَةٍ: کوئی نشانی] [ اِلَّا: مگر] [ بِاِذْنِ اللّٰهِ : اللہ کی اجازت سے] [ لِكُلِ اَجَلٍ: ہر ایک کا وقت (خاتمہ کا)] [ كِتَابٌ: لکھا ہوا ہے]

يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ ښ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ    39؁
[يَمْحُوا: مٹاتا ہے] [اللّٰهُ: اللہ] [ مَا: اسے جو] [ يَشَاۗءُ: وہ چاہتا ہے] [ وَيُثْبِتُ: اور باقی رہنے دیتا ہے (جو وہ چاہتاہے)] [وَعِنْدَهٗٓ: اور اس کے پاس ہی] [ اُمُّ الْكِتٰبِ: اہل کتاب ہے]

 

م ح و

 [مَحْوًا: (ن) کسی چیز اور نشان کو مٹا دینا۔ زیرِ مطالعہ آیت 39۔]

 

نوٹ۔1: آیت۔39 کی تشریح یہ ہے کہ بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اعمال سے انسان کی عمر اور رزق میں کمی بیشی ہوئی ہے۔ بخاری میں ہے کہ صلہ رحمی عمر میں زیادتی کا سبب بنتی ہے۔ مسند احمد کی روایات میں ہے کہ بعض اوقات آدمی کوئی ایسا گناہ کرتا ہے کہ اس کے سبب سے رزق سے محروم کردیا جاتا ہے اور ماں باپ کی خدمت وا طاعت سے عمر بڑھ جاتی ہے اور تقدیر الٰہی کو کوئی چیز بجز دعا کے ٹال نہیں سکتی۔ ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عمر یا رزق وغیرہ کسی کی تقدیر میں لکھ دیا ہے وہ بعض اعمال کی وجہ سے کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں اور دعا کی وجہ سے تقدیر بدلی جا سکتی ہے (معارف القرآن)

وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ    40؁
[وَان مَا: اور اگر] [ نُرِيَنَّكَ: ہم دکھا دیں آپ کو] [ بَعْضَ الَّذِي: اس کے بعض کو جو] [نَعِدُهُمْ: ہم وعدہ کرتے ہیں ان سے] [ اَوْ: یا] [نَتَوَفَّيَنَّكَ: ہم اٹھا لیں آپؐ کو] [فَانمَا: پس کچھ نہیں سوائے اس کے کہ] [عَلَيْكَ: آپؐ پر ہے] [ الْبَلٰغُ: پہنچانا] [ وَعَلَيْنَا: اور ہم پر ہے] [ الْحِسَابُ: حساب لینا]

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا  ۭوَاللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ ۭ وَهُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ     41؁
[اَوَلَمْ يَرَوْا: کیا انھوں نے نہیں دیکھا] [انا نَاتِي: کہ ہم آتے ہیں] [ الْاَرْضَ: زمین کے پاس] [ نَنْقُصُهَا: گھٹاتے ہوئے اس کو] [ مِنْ اَطْرَافِهَا: اس کے کناروں سے] [وَاللّٰهُ: اور اللہ] [ يَحْكُمُ : حکم کرتا ہے] [لَا مُعَقِّبَ: (تو) کوئی بھی پیچھے ڈالنے والا نہیں ہے] [لِحُكْمِهٖ: اس کے حکم کو] [ وَهُوَ: اور وہ ] [ سَرِيْعُ الْحِسَابِ: حساب لینے کا تیز ہے]

وَقَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِيْعًا  ۭ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ ۭ وَسَيَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ   42؁
[وَقَدْ مَكَرَ: اور چالبازی کرچکے ہیں] [ الَّذِينَ: وہ لوگ جو] [ مِنْ قَبْلِهِمْ: ان سے پہلے تھے] [ فَللّٰهِ : تو اللہ ہی کے لئے ہیں] [الْمَكْرُ: تمام تدبیریں] [جَمِيْعًا: سب کی سب] [ يَعْلَمُ: وہ جانتا ہے] [ مَا: اس کو جو] [ تَكْسِبُ: کماتی ہے] [ كُلُّ نَفْسٍ: ہر ایک جان] [ وَسَيَعْلَمُ: اور جان لیں گے] [ الْكُفّٰرُ: کافر لوگ] [ لِمَنْ: کس کے لئے ہے] [ عُقْبَى الدَّارِ: اس (آخری) گھر کا انجام]

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا  ۭ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا  بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ    43؀ۧ
[وَيَقُوْلُ: کہتے ہیں] [ الَّذِينَ: وہ لوگ جنھوں نے] [ كَفَرُوْا: کفر کیا] [ لَسْتَ: آپؐ نہیں ہیں] [مُرْسَلًا: بھیجے ہوئے] [ قُلْ: آپؐ کہیے] [ كَفٰى: کافی ہے ] [ بِاللّٰهِ: اللہ] [ شَهِيْدًۢا: بطور گواہ کے] [ بَيْنِيْ: میرے درمیان] [ وَبَيْنَكُمْ : اور تمھارے درمیان] [ وَمَنْ: اور وہ (بھی)] [عِنْدَهٗ: جس کے پاس] [ عِلْمُ الْكِتٰبِ: کتاب کا علم ہے]

اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَافِي السَّمٰوٰتِ وَمَافِي الْاَرْضِ ۭ وَوَيْلٌ لِّلْكٰفِرِيْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيْدِۨ     Ą۝ۙ
[اللّٰهِ الَّذِي: جو وہ اللہ ہے] [ لَهٗ : جس کے لئے ہی ہے ] [مَا: وہ جو] [فِي السَّمٰوٰتِ: آسمانوں میں ہے] [ وَمَا: اور وہ جو] [ فِي الْاَرْضِ: زمین میں ہے] [وَوَيْلٌ: اور ہلاکت ہے] [لِلْكٰفِرِيْنَ: کافروں کے لئے] [ مِنْ عَذَابٍ شَدِيْدِۨ: ایک شدید عذاب سے]

 

(آیت۔2) اَلْعَزِیْزَ الْحَمِیْدِ کا بدل ہونے کی وجہ سے اللہ حالت جر میں آیا ہے۔

الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَھَا عِوَجًا  ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ    Ǽ۝
[الَّذِينَ: وہ لوگ جو] [ يَسْتَحِبُّوْنَ: ترجیح دیتے ہیں] [ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا: دنیوی زندگی کو] [عَلَي الْاٰخِرَةِ: آخرت پر] [ وَيَصُدُّوْنَ: اور وہ لوگ روکتے ہیں] [عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ: اللہ کی راہ سے] [ وَيَبْغُوْنَھَا: اور تلاش کرتے ہیں اس میں] [ عِوَجًا: کجی کو] [ اُولٰۗىِٕكَ: یہ لوگ] [ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ: دور والی گمراہی میں ہیں]

 

(آیت۔3) یَبْخُوْنَھَا کی ضمیر مفعولی سَبِیْلِ کے لئے ہے۔

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۭ فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ  ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ    Ć۝
[وَمَآ اَرْسَلْنَا: اور ہم نے نہیں بھیجا] [ مِنْ رَّسُوْلٍ: کوئی بھی رسول] [ اِلَّا: مگر] [ بِلِسَان قَوْمِهٖ: اپنی قوم کی زبان (بولنے) والا] [ لِيُبَيِّنَ: تاکہ وہ خوب واضح کر دے] [لَهُمْ : ان کے لئے] [ فَيُضِلُّ : پھر گمراہ کرتا ہے] [اللّٰهُ: اللہ] [ مَنْ: اس کو جس کو] [ يَّشَاۗءُ: وہ چاہتا ہے] [ وَيَهْدِيْ: اور وہ ہدایت دیتا ہے] [ مَنْ: اس کو جس کو] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے] [ وَهُوَ: اور وہ ہی ] [ الْعَزِيْزُ: بالا دست ہے] [ الْحَكِيْمُ: حکمت والا ہے]

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآاَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَذَكِّرْهُمْ  ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ  ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ   Ĉ۝
[وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا: اور ہم بھیج چکے ہیں] [ مُوْسٰى: موسٰی ؑ کو] [ بِاٰيٰتِنَآ: اپنی نشانیوں کے ساتھ] [ ان: کہ] [اَخْرِجْ: آپؑ نکالیں] [ قَوْمَكَ: اپنی قوم کو] [ مِنَ الظُّلُمٰتِ: اندھیروں سے] [ اِلَى النُّوْرِ: روشنی کی طرف] [ وَذَكِّرْهُمْ: اور آپؑ نصیحت کریں ان کو] [بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ : اللہ کے دنوں کے ساتھ] [ ان: بیشک] [فِيْ ذٰلِكَ: اس میں] [لَاٰيٰتٍ: یقینا نشانیاں ہیں] [ لِكُلِ صَبَّارٍ: ہر ایک بہت ثابت قدم کے لئے] [ شَكُوْرٍ: بہت شکر گزار کے لئے]

 

نوٹ۔1: مسند احمد کی مرفوع حدیث میں اَیَّامِ اللّٰہِ کی تفسیر خدا کی نعمتوں سے مروی ہے۔ (ابن کثیر)۔ ایام کا لفظ جب اس طرح آتا ہے جیسے یہاں آیا ہے تو اس سے اہم تاریخی دن مراد ہوتے ہیں۔ مثلاً ایام العرب سے عرب کی جنگیں مراد ہوں گی۔ اسی طرح اَیَّامِ اللّٰہِ سے مراد وہ تاریخی دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں پر عذاب نازل فرمائے اور اہل ایمان کو ان کے ظلم و ستم سے نجات دی۔ (تدبر قرآن)

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ  ۭ وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ     Č۝ۧ
[وَاِذْ: اور جب] [ قَالَ: کہا] [ مُوْسٰى: موسٰیؑ نے] [لِقَوْمِهِ : اپنی قوم سے] [اذْكُرُوْا: تم لوگ یاد کرو] [ نِعْمَةَ اللّٰهِ: اللہ کی نعمت کو] [ عَلَيْكُمْ: تم لوگوں پر] [ اِذْ: جب] [ انجٰىكُمْ: اس نے نجات دی تم کو] [ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ: فرعون کے پیرو کاروں سے] [ يَسُوْمُوْنَكُمْ: وہ لوگ تکلیف دیتے تھے تم کو] [ سُوْۗءَ الْعَذَابِ: عذاب کی برائی سے] [وَيُذَبِحُوْنَ: اور وہ ذبح کیا کرتے تھے] [اَبْنَاۗءَكُمْ: تمھارے بیٹوں کو] [ وَيَسْتَحْيُوْنَ: اور زندہ رکھتے تھے] [ نِسَاۗءَكُمْ : تمھاری عورتوں کو] [ وَفِيْ ذٰلِكُمْ : اور اس میں] [بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِكُمْ عَظِيْمٌ: تمھارے رب کی طرف سے ایک بڑی آزمائش تھی]

وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ    Ċ۝
[وَاِذْ : اور جب] [تَاَذَّنَ: جتا دیا] [ رَبُّكُمْ: تمھارے رب نے] [ لَىِٕنْ: یقینا اگر] [شَكَرْتم: تم لوگ شکر کرو گے] [ لَاَزِيْدَنَّكُمْ: تو میں لازماً زیادہ کروں گا تم کو (ہر لحاظ سے)] [ وَلَىِٕنْ: اور البتہ اگر] [كَفَرْتم: تم لوگ ناشکری کرو گے] [ ان: تو بیشک] [عَذَابِيْ: میرا عذاب] [لَشَدِيْدٌ: یقینا شدید ہے]

وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا  ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ    Ď۝
[وَقَالَ : اور کہا] [مُوْسٰٓى: موسٰی ؑ] [ ان: اگر] [تَكْفُرُوْٓا: تم لوگ ناشکری کرو گے] [انتم : تم لوگ] [وَمَنْ: اور وہ (بھی) جو] [ فِي الْاَرْضِ: زمین میں ہیں] [ جَمِيْعًا: سب کے سب] [فَان : تو بیشک] [اللّٰهَ: اللہ] [لَغَنِيٌّ: یقینا بےنیاز ہے] [ حَمِيْدٌ: حمد کیا ہواہے]

اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ  ټ وَالَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ړ لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ  ۭ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرَدُّوْٓا اَيْدِيَهُمْ فِيْٓ اَفْوَاهِهِمْ وَقَالُوْٓا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَاِنَّا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ     ۝
[اَلَمْ يَاْتِكُمْ: کیا نہیں پہنچی تم لوگوں کو] [ نَبَؤُا الَّذِينَ: ان لوگوں کی خبر جو] [مِنْ قَبْلِكُمْ: تم سے پہلے تھے] [ قَوْمِ نُوْحٍ: (جیسے) قوم نوحؑ] [ وَّعَادٍ: اور عاد] [ وَّثَمُوْدَ: اور ثمود] [وَالَّذِينَ: اور وہ لوگ جو] [ مِنْۢ بَعْدِهِمْ: ان کے بعد ہوئے] [لَا يَعْلَمُهُمْ: نہیں جانتا ان کو (کوئی)] [اِلَّا: مگر] [اللّٰهُ : اللہ] [جَاۗءَتْهُمْ: آئے ان کے پاس] [رُسُلُهُمْ: ان کے رسول] [بِالْبَيِّنٰتِ: واضح (نشانیوں) کے ساتھ] [فَرَدُّوْٓا: تو انھوں نے لوٹائے] [اَيْدِيَهُمْ: اپنے ہاتھ] [ فِيْٓ اَفْوَاهِهِمْ: اپنے مونہوں میں] [ وَقَالُوْٓا: اور کہا] [ انا كَفَرْنَا: بیشک ہم نے انکار کیا] [بِمَآ: اس کا] [ اُرْسِلْتم: آپؑ بھیجے گئے] [ بِهٖ: جس کے ساتھ] [وَانا: اور بیشک ہم] [ لَفِيْ شَكٍّ : یقینا ایک شک میں ہیں] [مِّمَا: اس سے] [ تَدْعُوْنَنَآ: آپؑ بلاتے ہیں ہم کو] [ اِلَيْهِ: جس کی طرف] [ مُرِيْبٍ: جو شبہ میں ڈالنے والا ہے]

 

ترکیب: آیت۔9 نَبَؤُ مضاف ہے۔ اس کے آگے الف کا اضافہ قرآن کا املا ہے۔ اَلَّذِیْنَ اس کا مضاف الیہ ہے اور محلاًّ حالت جر میں ہے۔ اَلَّذِیْنَ کا بدل ہونے کی وجہ سے قَوْمِ حالت جر میں آیا ہے جبکہ قَوْمِ کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے نُوْحٍ مجرور ہے۔ عَادٍ اور ثَمُوْدَ بھی اَلَّذِیْنَ کا بدل ہونے کی وجہ سے مجرور ہیں۔ مُرِیْبٍ کو شَکٍّ کی صفت بھی مانا جا سکتا ہے لیکن ہماری ترجیح ہے کہ اس کو شَکٍّ کا بدل مانا جائے۔

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يَدْعُوْكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ قَالُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا  ۭ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ      10؀
[قَالَتْ: کہا] [ رُسُلُهُمْ: ان کے رسولوں نے] [ اَ: کیا] [ فِي اللّٰهِ: اللہ (کے بارے) میں] [ شَكٌّ: شک ہے] [ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : جو زمین اور آسمانوں کو وجود بخشنے والا ہے] [يَدْعُوْكُمْ: وہ بلاتا ہے تم لوگوں کو] [ لِيَغْفِرَ: تاکہ وہ بخش دے] [ لَكُمْ: تمھارے لئے] [ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ: تمھارے گناہوں میں سے (کچھ) کو] [ وَيُؤَخِّرَكُمْ : اور تاکہ وہ پیچھے کرے (یعنی مہلت دے) تم لوگوں کو] [اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى: ایک مقررہ مدت تک] [قَالُوْٓا: ان لوگوں نے کہا] [ان انتم: آپؑ لوگ نہیں ہیں] [ اِلَّا: مگر] [بَشَرٌ: ایک بشر] [مِّثْلُنَا: ہمارے جیسے] [تُرِيْدُوْنَ: آپؑ لوگ چاہتے ہیں] [ ان: کہ] [ تَصُدُّوْنَا: روک دیں ہم کو] [عَمَا: اس سے جس کی] [ كَان يَعْبُدُ: بندگی کرتے تھے] [اٰبَاۗؤُنَا: ہمارے آبا و اجداد] [فَاْتُوْنَا: تو لائیں ہمارے پاس] [بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ: کوئی واضح دلیل]

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ  ۭ وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ     11 ؀
[قَالَتْ: کہا] [لَهُمْ: ان کو] [رُسُلُهُمْ: ان کے رسولوں نے] [ ان نَحْنُ: ہم نہیں] [ اِلَّا: مگر] [بَشَرٌ: ایک بشر] [مِّثْلُكُمْ : تمھارے جیسے] [وَلٰكِنَّ: اور لیکن] [ اللّٰهَ: اللہ] [ يَمُنُّ: احسان کرتا ہے] [ عَلٰي مَنْ: اس پر جس پر] [ يَّشَاۗءُ: وہ چاہتا ہے] [ مِنْ عِبَادِهٖ: اپنے بندوں میں سے] [ وَمَا كَان: اور (ممکن) نہیں ہے] [لَنَآ: ہمارے لئے] [ ان: کہ] [نَاتِيَكُمْ: ہم لائیں تمھارے پاس] [ بِسُلْطٰنٍ: کوئی دلیل] [ اِلَّا: مگر] [بِاِذْنِ اللّٰهِ : اللہ کی اجازت سے] [وَعَلَي اللّٰهِ: اور اللہ پر ہی] [ فَلْيَتَوَكَّلِ: چاہے کہ بھروسہ کریں] [الْمُؤْمِنُوْنَ: ایمان لانے والے]

وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللّٰهِ وَقَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا  ۭ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰي مَآ اٰذَيْتُمُوْنَا  ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ    12۝ۧ
[وَمَا لَنَآ: اور ہمیں کیا ہے] [ اَلَّا نَتَوَكَّلَ: کہ ہم بھروسہ نہ کریں] [عَلَي اللّٰهِ: اللہ پر] [وَ: اس حال میں کہ] [ قَدْ هَدٰىنَا: اس نے ہدایت دی ہے ہم کو] [ سُبُلَنَا: ہماری راہوں کی] [وَلَنَصْبِرَنَّ: اور ہم لازماً ثابت قدم رہیں گے] [ عَلٰي مَآ: اس پر جو] [ اٰذَيْتموْنَا : تم لوگ اذیت دیتے ہو ہم کو] [ وَعَلَي اللّٰهِ: اور اللہ پر ہی] [ فَلْيَتَوَكَّلِ: چاہئے کہ بھروسہ کریں] [الْمُتَوَكِّلُوْنَ: بھروسہ کرنے والے]

 

نوٹ۔1: مذکورہ آیات میں رسولوں اور ان کی قوموں کے لئے جمع کے صیغے آئے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ سب قومیں اور ان کے رسول ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ موجود تھے جب یہ مکالمہ ہوا تھا۔ بلکہ ہر قوم کے مقام پر اور اس کے وقت پر اس کے پاس ان کا رسول آیا تھا۔ ان قوموں کے مابین زمان و مکان کا بہت فاصلہ ہے اس کے باوجودہر زمانے میں اللہ کے رسولوں کا پیغام ایک ہی رہا ہے اور ان کو جواب بھی ایک ہی ملا ہے۔ اس حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے یہ مکالمہ جمع کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ نبوت و رسالت کا انکار کرنے والوں کی ایک دلیل ہمیشہ مشترک رہی ہے اور وہ یہ کہ کوئی بشر نبی نہیں ہو سکتا۔ اور چونکہ نبوت و رسالت کے مدعی بشر ہوتے تھے اس لئے ان کی قومیں ان کا انکار کرتی تھیں، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر زمانے میں ہر نبی اور رسول نے اس دلیل کے جواب میں ہمیشہ اپنی بشریت کا اعتراف اور اقرار کیا۔ کسی ایک بھی نبی یا رسول نے کبھی مافوق البشر ہونے کا دعوٰی نہیں کیا۔ اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں میں ہی سے کسی کو اس منصب پر فائز کرتا ہے۔ (حافظ احمد یار صاحب کے کیسٹ سے ماخوذ)۔

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا  ۭ فَاَوْحٰٓى اِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِيْنَ   13۝ۙ
[وَقَالَ: اور کہا] [ الَّذِينَ: ان لوگوں نے جنھوں نے] [ كَفَرُوْا: انکار کیا] [لِرُسُلِهِمْ: اپنے رسولوں سے] [ لَنُخْرِجَنَّكُمْ: ہم لازماً نکالیں گے آپؑ لوگوں کو] [ مِّنْ اَرْضِنَآ: اپنی زمین سے] [ اَوْ: یا (پھر)] [ لَتَعُوْدُنَّ: آپؑ لوگ لازماً لوٹیں گے] [ فِيْ مِلَّتِنَا : ہمارے مذہب میں] [ فَاَوْحٰٓى: تو وحی کیا] [ اِلَيْهِمْ : انؑ کی طرف] [رَبُّهُمْ: انؑ کے رب نے] [ لَنُهْلِكَنَّ: ہم لازماً ہلاک کریں گے] [ الظّٰلِمِيْنَ: ظلم کرنے والوں کو]

وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ۭ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِيْ وَخَافَ وَعِيْدِ    14؀
[وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ: اور ہم لازماً سکونت دیں گے آپؑ لوگوں کو] [ الْاَرْضَ: اس زمین میں] [مِنْۢ بَعْدِهِمْ: ان کے بعد] [ذٰلِكَ: یہ] [ لِمَنْ: اس کے لئے ہے جو] [خَافَ: ڈرا] [مَقَامِيْ: میرے سامنے کھڑا ہونے سے] [وَخَافَ: اور ڈرا] [وَعِيْدِ: میری وارننگ سے]

وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ    15۝ۙ
[وَاسْتَفْتَحُوْا: اور انھوں ؑ نے فتح مانگی] [ وَخَابَ: اور نامراد ہوا] [ كُلُّ جبارٍ عَنِيْدٍ : ہر ایک زبردست، ہٹ دھرم]

مِّنْ وَّرَاۗىِٕهٖ جَهَنَّمُ وَيُسْقٰى مِنْ مَّاۗءٍ صَدِيْدٍ    16۝ۙ
[مِّنْ وَّرَاۗىِٕهٖ: اس کے پیچھے] [ جَهَنَّمُ: دوزخ ہے] [ وَيُسْقٰى: اور اس کو پلایا جائے گا] [ مِنْ مَاۗءٍ صَدِيْدٍ: پیپ والے پانی میں سے]

يَّتَجَرَّعُهٗ وَلَا يَكَادُ يُسِيْغُهٗ وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍ  ۭ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ    17؀
[يَّتَجَرَّعُهٗ : وہ مشکل سے گھونٹ گھونٹ پیئے گا اس کو] [وَلَا يَكَادُ: اور لگے گا نہیں کہ] [ يُسِيْغُهٗ : وہ گلے سے اتارے گا اس کو] [وَيَاْتِيْهِ: اور آئے گی اس کے پاس] [ الْمَوْتُ : موت] [مِنْ كُلِ مَكَان: ہر جگہ سے] [ وَّ : اس حال میں کہ] [مَا هُوَ: وہ نہیں ہو گا] [ بِمَيِّتٍ : مردہ] [وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهٖ: اور اس کے پیچھے] [ عَذَابٌ غَلِيْظٌ: ایک غلیظ عذاب ہے]

 

ج ر ع

 [جَرْعًا: (ف) پانی یکبارگی پی جانا۔] [تَجَرُّعًا: (تفعل) بتکلف گھونٹ گھونٹ پینا، زیر مطالعہ آیت 17۔]

 

س و غ

 [سَوْغًا: (ن) آسانی سے گلے سے اترنا۔ خوشگوار ہونا۔] [سَائعٌ: فَاعِلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ خوشگوار ہونے والا یعنی خوشگوار۔ لَبَنًا خَالِصًا سَاگغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ (خالص دودھ، خوشگوار ہوتے ہوئے پینے والوں کے لئے) 16:66۔] [اِسَاغَۃً: (افعال) آسانی سے گلے سے اتارنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17۔]

مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ ۭ لَا يَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰي شَيْءٍ  ۭ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ     18؀
[مَثَلُ الَّذِينَ: ان کی مثال جنھوں نے] [ كَفَرُوْا: کفر کیا] [ بِرَبِهِمْ: اپنے رب کا (یہ ہے کہ)] [ اَعْمَالُهُمْ: ان کے اعمال ] [ كَرَمَادِۨ : راکھ کی مانند ہیں] [اشْـتَدَّتْ: شدّت اختیار کی] [بِهِ: جن پر] [ الرِّيْحُ: ہوا نے] [ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ : ایک تیز آندھی والے دن میں] [لَا يَقْدِرُوْنَ: وہ قدرت نہیں رکھیں گے] [ مِمَا: اس میں سے جو] [ كَسَبُوْا: انھوں نے کمایا] [ عَلٰي شَيْءٍ : کسی چیز پر] [ ذٰلِكَ: یہ] [ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ : ہی دور والی گمراہی ہے]

 

ر م د

 [رَمْدًا: (ض) آگ کا بجھ کر ٹھنڈا ہو جانا۔ راکھ ہو جانا۔] [رَمَادٌ: اسم ذات ہے۔ راکھ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18۔]

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۭ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ    19۝ۙ
[اَ: کیا] [ لَمْ تَر: تو نے غور نہیں کیا] [َ ان: کہ] [اللّٰهَ: اللہ نے] [ خَلَقَ: پیدا کیا] [السَّمٰوٰتِ: آسمانوں کو] [وَالْاَرْضَ: اور زمین کو] [بِالْحَقِّ: حق (یعنی مقصد) کے ساتھ] [ان : اگر] [ يَّشَاْ: وہ چاہے ] [ يُذْهِبْكُمْ: تو وہ لے جائے تم لوگوں کو] [وَيَاْتِ: اور لے آئے] [بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ: کوئی نئی مخلوق]

وَّمَا ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ   20؀
[وَمَا ذٰلِكَ: اور یہ نہیں ہے] [عَلَي اللّٰهِ: اللہ پر] [ بِعَزِيْزٍ: کوئی مشکل]

وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰۗؤُا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَيْنٰكُمْ  ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِيْصٍ    21۝ۧ
[وَبَرَزُوْا: اور وہ لوگ سامنے آئیں گے] [ للّٰهِ: اللہ کے لئے] [ جَمِيْعًا: سب کے سب] [فَقَالَ: پھر کہیں گے] [ الضُّعَفٰۗؤُا: ضعیف لوگ] [لِلَّذِيْنَ: ان سے جنھوں نے] [اسْـتَكْبَرُوْٓا: بڑائی چاہی [انا كُنَا: بیشک ہم تھے] [ لَكُمْ: تمھاری] [تَبَعًا: پیروی کرنے والے] [ فَهَلْ: تو کیا] [انتم: تم لوگ] [مُّغْنُوْنَ: دور کرنے والے ہو] [عَنَا: ہم سے] [مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ : اللہ کے عذاب میں سے] [مِنْ شَيْءٍ: کچھ بھی] [ قَالُوْا: وہ لوگ کہیں گے] [ لَوْ: اگر ] [هَدٰىنَا: ہدایت دیتا ہم کو] [اللّٰهُ : اللہ] [لَهَدَيْنٰكُمْ : تو ہم ضرور ہدایت دیتے تم کو] [سَوَاۗءٌ: برابر ہے] [ عَلَيْنَآ: ہم پر] [ اَ: چاہے] [ جَزِعْنَآ: ہم غم کا اظہار کریں] [اَمْ: یا] [ صَبَرْنَا: ہم صبر کریں] [ مَا لَنَا: ہمارے لئے نہیں ہے] [ مِنْ مَّحِيْصٍ: کوئی بھی بچنے کی جگہ]

 

نوٹ۔1: آیت نمبر۔21 میں جو مکالمہ نقل کیا گیا ہے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قیامت میں یہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا کہ میں بےقصور ہوں۔ فلاں نے مجھے بہکا دیا تھا۔ اس لئے مجھے کچھ نہ کہو بلکہ اس کو پکڑو۔ اس آیت سے بھی اور قرآن کی متعدد دوسری آیات سے بھی یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ غلط عقائد و نظریات کے داعی اور غلط راہ دکھانے والوں کے ساتھ ان کی اندھی تقلید کرنے والے بھی مجرم قرار دیئے جائیں گے۔ اس اصول کی وجہ بھی اور دلیل بھی اگلی آیت میں شیطان کا قول نقل کر کے دی گئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر بہکانے والوں کو پکڑا جائے اور بہکنے والوں کو چھوڑ دیا جائے تو پھر کوئی بھی انسان دوزخ میں نہیں جائے گا کیونکہ انسانوں کو بہکانے والے شیاطین ہیں، اور دلیل یہ ہے کہ بہکانے والے انسان ہوں یا شیطان، کسی کو اپنی بات منوانے کا اختیار نہیں ہے۔ وہ صرف دعوت دیتے ہیں۔ اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ان کو حاصل ہے جن کو دعوت دی جاتی ہے۔ اس لئے کوئی اپنی مرضی اور اختیار سے غلط دعوت قبول کرتا ہے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہے۔ اس مسئلہ پر اسلام کا جائزہ کورس کے پہلے سبق میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔

وَقَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ ۭ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ مَآ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ  ۭ اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ  ۭ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ     22؁
[وَقَالَ: اور کہے گا] [ الشَّيْطٰنُ: شیطان] [ لَمَا: جب] [ قُضِيَ: فیصلہ کردیا جائے گا] [ الْاَمْرُ: تمام معاملات کا] [ ان : بیشک] [ اللّٰهَ : اللہ نے] [وَعَدَكُمْ: وعدہ کیا تم لوگوں سے] [ وَعْدَ الْحَقِّ: حق کا وعدہ] [ وَوَعَدْتُّكُمْ: اور میں نے وعدہ کیا تم سے] [ فَاَخْلَفْتُكُمْ : پھر میں نے وعدہ خلافی کی تم سے] [ وَمَا كَان: اور نہیں تھا] [لِيَ: میرے لئے] [عَلَيْكُمْ: تم لوگوں پر] [ مِّنْ سُلْطٰنٍ: کوئی بھی اختیار] [ اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ] [دَعَوْتُكُمْ: میں نے دعوت دی تمھیں] [ فَاسْتَجبتم لِيْ : پھر قبول کیا تم لوگوں نے میری (دعوت)] [ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ: پس تم لوگ ملامت مت کرو مجھ کو] [وَلُوْمُوْٓا: اور ملامت کرو] [انفُسَكُمْ : اپنے آپ کو] [ مَآ انا: میں نہیں ہوں] [بِمُصْرِخِكُمْ: تمھاری فریاد رسی کرنے والا] [وَمَآ انتم: اور تم لوگ نہیں ہو] [ بِمُصْرِخِيَّ : میری فریاد رسی کرنے والے] [ انى: بیشک میں نے] [ كَفَرْتُ : انکار کیا] [بِمَآ: اس کا جس میں] [ اَشْرَكْتموْنِ: تم نے شریک کیا مجھ کو] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے] [ ان : بیشک] [الظّٰلِمِيْنَ: ظالم لوگ] [ لَهُمْ: ان کے لئے ہی ہے] [ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ایک درد ناک عذاب]

وَاُدْخِلَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ  ۭ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ   23؀
[وَاُدْخِلَ: اور داخل کئے گئے] [ الَّذِينَ: وہ لوگ جو] [ اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [وَعَمِلُوا: اور انھوں نے عمل کئے] [ الصّٰلِحٰتِ: نیکیوں کے] [ جَنّٰتٍ: ایسے باغات میں] [ تَجْرِيْ: بہتی ہیں] [ مِنْ تَحْتِهَا: جن کے نیچے سے] [ الْانهٰرُ: نہریں] [ خٰلِدِيْنَ: ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے] [فِيْهَا: ان میں] [ بِاِذْنِ رَبِهِمْ : اپنے رب کی اجازت سے] [ تَحِيَّتُهُمْ: اس کا دعا دینا ہے] [ فِيْهَا: ان میں] [ سَلٰمٌ: سلام]

اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِي السَّمَاۗءِ     24؀ۙ
[اَ: کیا] [ لَمْ تَرَ: آپؐ نے غور نہیں کیا] [ كَيْفَ: کیسے] [ ضَرَبَ: بیان کی] [ اللّٰهُ: اللہ نے] [مَثَلًا: ایک مثال جو] [كَلِمَةً طَيِّبَةً: ایک ایسی پاکیزہ بات کی ہے جو] [كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ : ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے] [اَصْلُهَا: اس کی جڑ] [ ثَابِتٌ: جمی رہنے والی ہے] [وَّفَرْعُهَا: اور اس کی شاخ] [ فِي السَّمَاۗءِ: آسمان میں ہے]

 

نوٹ۔1: کَلِمَۃً طَیِّبَۃً سے کلمہ توحید اور اس پر مبنی عقائد و نظریات ہیں۔ شَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ وہ درخت جو پھل دینے والا، سایہ دار اور نفع بخش ہو۔ درخت چونکہ زمین اور فضا دونوں سے غذا اور قوت حاصل کرتاہے اس لئے فرمایا کہ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُھَا فِی السَّمَائِ یعنی زمین میں اس کی جڑیں اتری ہوئی ہونے کے سبب سے زمین سے بھی اسے پوری غذا مل رہی ہے اور شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہونے کی وجہ سے فضا بھی اس کی پرورش میں پورا پورا حصہ لے رہی ہے۔

 کلمہ توحید کی تمثیل ایک ایسے درخت سے دے کر قرآن نے ایک حقیقت تو یہ واضح فرمائی کہ اس کی جڑیں انسانی عقل و فطرت کے اندر بھی گہری اتری ہوئی ہیں اور عند اللہ بھی یہ سب سے زیادہ قدرو قیمت رکھنے والی حقیقت ہے۔ دوسری حقیقت یہ واضح فرمائی کہ اس کو انسانی فطرت کے اندر سے بھی برابر غذا اور قوت حاصل ہوتی رہتی ہے اور اوپر سے بھی برابر ترشحات (یعنی سکینت) نازل ہوتے رہتے ہیں۔ تیسری حقیقت یہ واضح فرمائی کہ اس کی برکات ابدی اور دائمی ہیں۔ اس کا فیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ جس کے سینہ میں یہ نور موجود ہے وہ ہمیشہ آسودہ اور شاد کام رہتا ہے۔ (تدبر قرآن)

نوٹ۔2: زندگی کی گہما گہمی میں کبھی کبھار اللہ کے کسی ایسے بندے سے ملاقات ہو جاتی ہے جس نے توحید پر مبنی عقائد و نظریات سے اپنے سینے کو آباد کیا ہوا ہے اور ان کے برکات و ثمرات سے فیض یاب بھی ہو رہا ہے، تو اس وقت ایک شعر ضرور ذہن میں آتاہے۔ وہ پیش خدمت ہے۔ جگر مرحوم کا شعر ہے جسمیں ایک لفظ تبدیل کردیا گیا ہے۔

شعر: ہستی مومن اللہ اللہ فرش نشیں و عرش نشیمن

تُؤْتِيْٓ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۢ بِاِذْنِ رَبِّهَا  ۭ وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ    25؁
[تُؤْتِيْٓ: وہ دیتا ہے] [ اُكُلَهَا: اپنے پھل] [ كُلَّ حِيْنٍۢ: ہر وقت ] [ بِاِذْنِ رَبِهَا: اپنے رب کی اجازت سے] [ وَيَضْرِبُ: اور بیان کرتا ہے] [ اللّٰهُ : اللہ] [الْاَمْثَالَ: مثالیں] [لِلنَاسِ: لوگوں کے لئے] [لَعَلَهُمْ: شاید وہ لوگ] [ يَتَذَكَّرُوْنَ: نصیحت حاصل کریں]

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِۨ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ    26؁
[وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ: اور کسی ردّی بات کی مثال] [ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِۨ : ایک ایسے ردّی درخت کی مانند ہے] [اجْتُثَّتْ: جس کو اکھاڑا گیا] [ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ زمین کے اوپر سے] [مَا لَهَا: نہیں ہے اس کے لئے] [ مِنْ قَرَارٍ: کوئی بھی ٹھہرائو]

يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ  ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ  ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ      27؀ۧ
[يُثَبِتُ: جما دیتا ہے] [اللّٰهُ: اللہ] [الَّذِينَ: ان لوگوں کو جو] [ اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ: جم جانے والی بات ہے] [فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا: دنیوی زندگی میں] [وَفِي الْاٰخِرَةِ : اور آخرت میں (بھی)] [وَيُضِلُّ: اور گمراہ کرتاہے] [ اللّٰهُ: اللہ] [ الظّٰلِمِيْنَ: ظلم کرنے والوں کو] [وَيَفْعَلُ: اور کرتا ہے] [ اللّٰهُ : اللہ] [مَا: وہ جو] [ يَشَاۗءُ: وہ چاہتا ہے]

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ   28؀ۙ
[اَ: کیا] [ لَمْ تَرَ: آپؐ نے غور نہیں کیا] [ اِلَى الَّذِينَ: ان کی طرف جنھوں نے] [بَدَّلُوْا: تبدیل کیا] [ نِعْمَةَ اللّٰهِ: اللہ کی نعمت کو] [كُفْرًا: ناشکری کرتے ہوئے] [ وَّاَحَلُّوْا: اور انھوں نے اتارا] [ قَوْمَهُمْ: اپنی قوم کو] [ دَارَ الْبَوَارِ: تباہی کے گھر یں]

جَهَنَّمَ  ۚ  يَصْلَوْنَهَا  ۭ وَبِئْسَ الْقَرَارُ    29؁
[جَهَنَّمَ : جو جہنم ہے] [ يَصْلَوْنَهَا: وہ لوگ گریں گے اس میں] [ وَبِئْسَ: اور کتنا برا ہے] [الْقَرَارُ: یہ ٹھہرنا]

وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ  ۭ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِيْرَكُمْ اِلَى النَّارِ   30؁
[وَجَعَلُوْا: اور انھوں نے بنائے] [ للّٰهِ: اللہ کے لئے] [ اندَادًا: مدّمقابل] [ لِيُضِلُّوْا: تاکہ وہ گمراہ کریں (لوگوں کو)] [ عَنْ سَبِيْلِهٖ : اس کے راستے سے] [ قُلْ: آپؐ کہیے] [تمتَّعُوْا: تم لوگ فائدہ اٹھا لو] [ فَان: پھر بیشک] [مَصِيْرَكُمْ: تمھارا لوٹنا] [ اِلَى النَارِ: آگ کی طرف ہے]

قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ     31؁
[قُلْ: آپؐ کہہ دیجئے] [لِعِبَادِيَ الَّذِينَ: میرے ان بندوں سے جو] [ اٰمَنُوْا: ایمان لائے کہ] [يُقِيْمُوا: چاہئے کہ وہ لوگ قائم رکھیں] [الصَّلٰوةَ: نماز کو] [وَيُنْفِقُوْا: اور چاہئے کہ وہ لوگ خرچ کریں] [ مِمَا: اس میں سے جو] [ رَزَقْنٰهُمْ : ہم نے عطا کیا ان کو] [سِرًّا: چھپاتے ہوئے] [وَّعَلَانيَةً : اور ظاہر ہوتے ہوئے] [مِّنْ قَبْلِ: اس سے پہلے] [ان: کہ] [يَاْتِيَ: آئے] [يَوْمٌ: ایک ایسا دن ] [ لَّا بَيْعٌ: کوئی سودا نہیں ہے] [ فِيْهِ: جس میں] [ وَلَا خِلٰلٌ: اور نہ ہی یارانے]

 

ترکیب: (آیت۔31) یُقِیْمُوْا اور یُنْفِقُوْا کے نون اعرابی گرے ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے لام امر محذوف ہیں اور یہ فعل امر غائب کے صیغے ہیں۔

اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۚ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ  ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَ    32؀ۚ
[اللّٰهُ : اللہ] [الَّذِي: وہ ہے جس نے] [ خَلَقَ: پیدا کیا] [ السَّمٰوٰتِ: آسمانوں کو] [ وَالْاَرْضَ: اور زمین کو] [ وَانزَلَ: اور اس نے اتارا] [ مِنَ السَّمَاۗءِ: آسمانوں سے] [مَاۗءً: کچھ پانی] [فَاَخْرَجَ: پھر اس نے نکالا] [ بِهٖ: اس سے] [ مِنَ الثَّمَرٰتِ: پھلوں میں سے] [رِزْقًا: رزق ہوتے ہوئے] [ لَكُمْ: تمھارے لئے] [ وَسَخَّــرَ: اور اس نے مطیع کیا] [ لَكُمُ: تمھارے لئے] [الْفُلْكَ: کشتی کو] [لِتَجْرِيَ: تاکہ وہ بہے] [ فِي الْبَحْرِ: سمندر میں] [ بِاَمْرِهٖ : اس کے حکم سے] [ وَسَخَّرَ: اور اس نے مطیع کیا] [ لَكُمُ: تمھارے لئے] [الْانهٰرَ: نہروں کو]

وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ   33؀ۚ
[وَسَخَّــرَ: اور اس لئے بیگار میں لگایا] [ لَكُمُ: تمھارے لئے] [الشَّمْسَ: سورج کو] [وَالْقَمَرَ: اور چاند کو] [دَاۗىِٕـبَيْنِ : مسلسل چلنے والے ہوتے ہوئے] [وَسَخَّرَ: اور اس نے بیگار میں لگایا] [لَكُمُ: تمھارے لئے] [ الَّيْلَ: رات کو] [وَالنَّهَارَ: اور دن کو]

وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ  ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا  ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ     34؀ۧ
[وَاٰتٰىكُمْ: اور اس نے دیا تم لوگوں کو] [ مِّنْ كُلِ مَا: اس کے سب میں سے جو] [سَاَلْتموْهُ: تم لوگوں نے مانگا اس سے] [ وَان: اور اگر] [ تَعُدُّوْا: تم لوگ گنتی کرو گے] [نِعْمَتَ اللّٰهِ: اللہ کی نعمت کی] [لَا تُحْصُوْهَا : تو شمار پورا نہ کر پائو گے اس کا] [ان : بیشک] [الْانسَان: انسان] [لَظَلُوْمٌ: یقینا بےانتہا ظلم کرنے والا ہے] [ كَفَّارٌ: انتہائی ناشکرا ہے]

 

ح ص ی

 [حَصْیًا: (ض) (1) کنکری سے مارنا۔ (2) کنکری پر گنتی کرنا۔] [اِحْصَائً: (افعال) (1) کسی چیز کی گنتی کو پورا کرنا۔ شمار مکمل کرنا۔ (2) کسی کام کا حق پورا کرنا۔ نباہنا۔ (3) پھیر لینا۔ احاطہ کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔34۔ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْہُ فَتَابَہَ عَلَیْکُمْ (اس نے یعنی اللہ نے جانا کہ تم لوگ ہرگز نہ نباہ سکو گے اس کو تو اس نے شفقت کی تم لوگوں پر) 73:20۔ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّ لَا کَبِیْرَۃً اِلَّا اَحْصٰھَا (یہ نہیں چھوڑتی کوئی چھوٹی اور نہ کوئی بڑی سوائے اس کے کہ گھیر لیا اس کو) 18:49۔]

 

(آیت۔34)۔ لَا تُخَصُوْھَا میں جو لَا ہے یہ لائے نہی نہیں سے بلکہ لائے نفی ہے۔ اور تحصوا دراصل ان کا جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا ہے۔

 

نوٹ۔1: وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِ مَا سَاَلْتموْهُ کا مطلب قاضی بیضاوی نے یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہر وہ چیز دے دی جو مانگنے کے قابل ہے خواہ انسان نے مانگی ہو یا نہ مانگی ہو۔ (معارف القرآن)

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ 35؀ۭ
[وَاِذْ: اور جب] [ قَالَ: کہا] [ اِبْرٰهِيْمُ: ابراہیم ؑ نے] [ رَبِ: اے میرے رب] [ اجْعَلْ: تو بنا] [هٰذَا الْبَلَدَ: اس شہر کو] [ اٰمِنًا: امن میں ہونے والا] [وَّاجْنُبْنِيْ: اور تو دور کر دے مجھ کو] [وَبَنِيَّ: اور میرے بیٹوں کو] [ ان: کہ] [نَّعْبُدَ: ہم عبادت کریں] [الْاَصْنَامَ: بتوں کی ]

 

ترکیب: (آیت۔35)۔ وَاجْنُبْ کا مفعول ہونے کی وجہ سے بَنِیَّ حالت نصب میں ہے ۔ یہ لفظ بَنِیْنَ تھا۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا تو بَنِیْ باقی بچا پھر اس پر مضاف الیہ یائے متکلم داخل ہوئی تو بَنِیَّ استعمال ہوا۔ (آیت۔37)۔ بِوَادٍ نکرہ مخصوصہ ہے اور اس کی خصوصیت یعنی صفت ہونے کی وجہ سے غَیْرِ حالت جر میں آیا ہے۔ (آیت۔40)۔ تَقَبَّلْ کے مفعول دُعَائِ پر نہ تو لام تعریف ہے، نہ تنوین ہے اور یہ حالت جر میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل مضاف دُعَائَ تھا۔ اس پر مضاف الیہ یائے متکلم داخل ہوا تو دُعَائِ یْ ہو گیا۔ یہاں یائے متکلم گری ہوئی ہے۔

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ  فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ      36؀
[رَبِ: اے میرے رب] [انهُنَّ: بیشک انہوں نے] [اَضْلَلْنَ: گمراہ کیا] [كَثِيْرًا: بہتوں کو] [مِّنَ النَاسِ: لوگوں میں سے] [ فَمَنْ: پس جس نے] [ تَبِعَنِيْ: پیروی کی میری] [فَانهٗ: تو بیشک وہ] [مِنِّىْ : مجھ میں سے ہے] [ وَمَنْ: اور جس نے] [عَصَانيْ: نافرمانی کی میری] [فَانكَ: تو بیشک تو] [غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ہے] [رَّحِيْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے]

رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ     37؀
[رَبَّنَآ: اے ہمارے رب] [ انىٓ: بیشک میں نے] [ اَسْكَنْتُ: بسا دیا] [مِنْ ذُرِّيَّتِيْ: اپنی اولاد میں سے (ایک کو)] [بِوَادٍ: ایک ایسی وادی میں جو] [غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ: کھیتی والی نہیں ہے] [ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ : تیرے محترم گھر کے پاس] [رَبَّنَا: اے ہمارے رب] [لِيُقِيْمُوا: تاکہ وہ لوگ قائم رکھیں] [الصَّلٰوةَ: نماز کو] [فَاجْعَلْ: پس تو بنا دے] [اَفْىِٕدَةً : کچھ دلوں کو] [مِّنَ النَاسِ: لوگوں میں سے] [ تَهْوِيْٓ: (کہ) وہ مائل ہوتے ہوں] [ اِلَيْهِمْ: ان کی طرف] [ وَارْزُقْهُمْ: اور تو رزق دے ان کو] [ مِّنَ الثَّمَرٰتِ: پھلوں میں سے] [ لَعَلَهُمْ: شائد وہ لوگ] [ يَشْكُرُوْنَ: شکر ادا کریں]

رَبَّنَآ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِيْ وَمَا نُعْلِنُ ۭ وَمَا يَخْفٰى عَلَي اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ    38؁
[رَبَّنَآ: اے ہمارے رب] [انكَ: بیشک تو] [ تَعْلَمُ: جانتا ہے] [ مَا: اس کو جو] [نُخْفِيْ: ہم چھپاتے ہیں] [وَمَا: اور اس کو جو] [ نُعْلِنُ: ہم آشکار کرنے ہیں] [ وَمَا يَخْفٰى: اور پوشیدہ نہیں ہوتی ہے] [ عَلَي اللّٰهِ: اللہ پر] [ مِنْ شَيْءٍ : کوئی بھی چیز] [فِي الْاَرْضِ: زمین میں] [وَلَا فِي السَّمَاۗءِ: اور نہ ہی آسمان میں]

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ   ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَسَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ     39؁
[اَلْحَمْدُ: تمام شکر و سپاس] [ للّٰهِ الَّذِي: اس اللہ کے لئے ہے جس نے] [ وَهَبَ: عطا کیا] [ لِيْ: میرے لئے] [عَلَي الْكِبَرِ: بڑھاپے کے باوجود] [اِسْمٰعِيْلَ: اسماعیل ] [وَاِسْحٰقَ: اور اسحاق] [ان: بیشک] [رَبِيْ: میرا رب] [لَسَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ: یقینا دعا کو سننے والا ہے]

رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ  ڰ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاۗءِ    40؁
[رَبِ : اے میرے رب] [اجْعَلْنِيْ: تو بنا دے مجھ کو] [ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ: نماز کو قائم رکھنے والا] [وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ: اور میری اولاد میں سے (بھی)] [رَبَّنَا: اے ہمارے رب] [وَتَقَبَّلْ: اور تو قبول کر] [دُعَاۗءِ: میری دعا کو]

رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ     41؀ۧ
[رَبَّنَا: اے ہمارے رب] [ اغْفِرْ لِيْ: تو بخش دینا مجھ کو] [وَلِوَالِدَيَّ: اور میرے والدین کو] [وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ: اور تمام ایمان لانے والوں کو] [يَوْمَ: جس دن] [ يَقُوْمُ: قائم ہو گا] [الْحِسَابُ: حساب]

وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ ڛ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَارُ   42۝ۙ
[وَلَا تَحْسَبَنَّ: اور آپؐ ہرگز گمان مت کریں] [ اللّٰهَ: اللہ کو] [ غَافِلًا: غافل ] [عَمَا: اس سے جو] [ يَعْمَلُ: عمل کرتے ہیں] [الظّٰلِمُوْنَ: ظالم لوگ] [انمَا: کچھ نہیں سوائے اس کے کہ] [يُؤَخِّر: وہ مؤخر کرتا ہے (مہلت دیتا ہے)]
هُمْ: ان کو (پکڑنے میں)] [لِيَوْمٍ: ایک ایسے دن کے لئے] [تَشْخَصُ : کھلی کی کھلی رہ جائیں گی] [فِيْهِ: جس میں ] [ الْاَبْصَارُ: آنکھیں]

 

ش خ ص

 [شُخُوْصًا: (ف) آنکھوں کا کھلا رہ جانا۔ ٹکٹکی لگنا۔ زیر مطالعہ آیت۔42۔] [شَاخِصَۃٌ: اسم الفاعل ہے۔ کھلی رہ جانے والی۔ فَاِذَا ھِیَ شَاخِصَۃٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (تو جب ہی کھلی رہ جانے والی ہیں ان کی آنکھیں جنھوں نے کفر کیا) 21:97۔]

مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ  ۚ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاۗءٌ     43؀ۭ
[مُهْطِعِيْنَ: دوڑنے والے ہوتے ہوئے] [ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ: اپنے سروں کو اٹھانے والے ہوتے ہیں] [ لَا يَرْتَدُّ: نہیں پلٹے گی] [ اِلَيْهِمْ: ان کی طرف] [ طَرْفُهُ%