قرآن کریم کے ایک ایک لفظ کی لغوی، صرفی، نحوی اور اعرابی تفسیر
افادات :  پروفیسر حافظ احمد یار 
(یونی کوڈ فارمیٹ)

 
 پندرہواں پارہ

سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا  ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ    Ǻ۝
[سُبْحٰنَ الَّذِيٓ: اس کی پاکیزگی ہے جو] [اَسْرٰى: لے گیا] [بِعَبْدِهٖ: اپنے بندے کو] [لَيْلًا: رات کے کسی وقت] [مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ: مسجد حرام سے] [اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِي: اس مسجد اقصیٰ تک] [بٰرَكْنَا: ہم نے برکت دی] [حَوْلَهٗ: جس کے ارد گرد کو] [لِنُرِيَهٗ: تکہ ہم دکھائیں اس کو] [مِنْ اٰيٰتِنَا: اپنی نشانیوں میں سے] [انهٗ: بیشک وہ] [هُوَ السَّمِيْعُ: ہی سننے والا ہے] [الْبَصِيْرُ: دیکھنے والا ہے]

 

ترکیب: (آیت۔1) لَیْلًا ظرف زماں ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اَلْاَقْصٰی کو اَلْاَقْصَا لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املاء ہے۔ لِنُرِیَہٗ کے لام کا تعلق بٰرَکْنَا سے نہیں ہے بلکہ اصرای سے ہے۔

 

نوٹ۔1: آیت نمبر ایک میں واقعۂ معراج کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال قبل پیش آیا۔ حدیث کی کتابوں میں اس کی تفصیلات بکثرت صحابہ (رض)  سے مروی ہیں۔ جن کی تعداد 25 تک ہے۔ آیت کے الفاظ کہ ’’ ایک رات اپنے بندے کو لے گیا‘‘ جسمانی سفر پر صریحاً دلالت کرتے ہیں۔ خواب کے سفر یا کشفی سفر کے لئے یہ الفاظ کسی طرح موزوں نہیں ہو سکتے۔ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ یہ محض ایک روحانی تجربہ نہ تھا بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے نبی
کو کرایا۔ ممکن اور ناممکن کی بحث تو صرف اس صورت میں پیدا ہوتی ہے جب کسی انسان کے اپنے اختیار سے خود کوئی کام کرنے کا معاملہ زیر بحث ہو۔ لیکن جب ذکر یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں کام کہا، تو پھر امکان کا سوال وہی شخص اٹھا سکتا ہے جسے اللہ کے قادر مطلق ہونے کا یقین نہ ہو۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)۔

وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا Ą۝ۭ
[وَاٰتَيْنَا: اور ہم نے دی] [مُوْسَي: موسٰی ؑ کو] [الْكِتٰبَ: کتاب] [وَجَعَلْنٰهُ: اور ہم نے بنایا اس کو] [هُدًى: ہدایت ] [لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ: بنی اسرائیل کے لئے] [اَلَّا تَتَّخِذُوْا: کہ تم لوگ مت بنائو] [مِنْ دُوْنِيْ: میرے علاوہ] [
وَكِيْلًا: کوئی کارساز]

ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ  ۭ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا    Ǽ۝
[ذُرِّيَّــةَ مَنْ: اے ان کی اولادجن کو] [حَمَلْنَا: ہم نے سوار کیا] [مَعَ نُوْحٍ: نوحؑ کے ساتھ] [انهٗ: بیشک وہ] [كَان: تھے] [عَبْدًا شَكُوْرًا: بہت شکرگزار بندے]

 

(آیت۔3) ذُرِّیَّۃَ مضاف ہے اور مَنْ اس کا مضاف الیہ ہے۔ ذُرِّیَّۃَ کے حالت نصب میں ہونے کی متعدد وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ اس کو منادٰی کا مضاف مانا جائے یعنی اس سے پہلے حرفِ ندا ’’ یا‘‘ محذوف ہے اور اس کا تعلق لَا تَتَّخِذُوْا سے ہے۔

وَقَضَيْنَآ اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيْرًا   Ć۝
[وَقَضَيْنَآ: اور ہم نے فیصلہ کیا] [اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ: بنی اسرائیل کی طرف] [فِي الْكِتٰبِ: اس کتاب میں] [لَتُفْسِدُنَّ: (کہ) تم لوگ لازماً نظم بگاڑو گے] [فِي الْاَرْضِ: زمین میں] [مَرَّتَيْنِ: دو مرتبہ] [وَلَتَعْلُنَّ: اور تم لوگ لازماً عروج پائو گے] [عُلُوًّا كَبِيْرًا: ایک بڑا عروج]

فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا   Ĉ۝
[فَاِذَا: پھر جب] [جَاۗءَ: آیا] [وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا: ان دونوں (باری) کی پہلی کا وعدہ] [بَعَثْنَا: تو ہم نے بھیجا] [عَلَيْكُمْ: تم لوگوں پر] [عِبَادًا لَّنَآ: اپنے کچھ ایسے بندے جو] [اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ: شدید جنگ والے تھے] [فَجَاسُوْا: تو وہ گھس گئے] [خِلٰلَ الدِّيَارِ: گھروں کے درمیان] [وَكَان: اور وہ تھا] [وَعْدًا مَّفْعُوْلًا: ایک کیا ہوا وعدہ]

 

ج و س

 [جَوْسًا: (ن) ] لوٹ مار کے لئے کسی جگہ گھس جانا۔ زیر مطالعہ آیت۔5

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا   Č۝
[ثُمَّ: پھر] [رَدَدْنَا: ہم نے لوٹا دیا] [لَكُمُ: تمھارے لئے] [الْكَرَّةَ: اس باری کو] [عَلَيْهِمْ: ان لوگوں پر] [وَاَمْدَدْنٰكُمْ: اور ہم نے مدد دی تم کو] [بِاَمْوَالٍ: مالوں سے] [وَّبَنِيْنَ: اور بیٹوں سے] [وَجَعَلْنٰكُمْ: اور ہم نے کردیا تم کو] [اَكْثَرَ: زیادہ ] [نَفِيْرًا: بطور جتّھے کے]

 

ترکیب: (آیت۔6)۔ جَعَلْنَا کا مفعول اول کُمْ کی ضمیر ہے اور اَکْثَرَ مفعول ثانی ہے جبکہ نَفِیْرًا تمیز ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ (آیت۔7)۔ فَلَھَا میں ھَا کی ضمیر اَنْفس کے لئے ہے۔ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ کے بعد آیت۔6 کا پورا جملہ بَعَثْنَا سے بَاسٍ شَدِیْدٍ تک محذوف ہے۔ لِیَسُوْئٗا دراصل یَسُوْئُ وْنَ تھا۔ لام گی داخل ہونے کی وجہ سے نون گرا تو یَسُوْئُ وْا باقی بچا۔ اس کو یَسُوْئٗ ا لکھنا قرآن کا مخصوص املائ۔

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ  ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا  ۭ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا   Ċ۝
[ان: اگر] [اَحْسَنْتم: بھلائی کرتے ہو] [اَحْسَنْتم: تو بھلائی کرتے ہو] [لِانفُسِكُمْ: اپنی جانوں کے لئے] [وَان: اور اگر] [اَسَاْتم: تم برائی کرتے ہو] [فَلَهَا: تو ان کے لئے] [فَاِذَا: پھر جب] [جَاۗءَ: آیا] [وَعْدُ الْاٰخِرَةِ: آخری (باری) کا وعدہ] [لِيَسُوْۗءٗا: (تو ہم نے بھیجا جنگجو بندوں کو) کہ وہ بگاڑ دیں] [وُجوهَكُمْ: تمھارے چہروں کو] [وَلِيَدْخُلُوا: اور تاکہ وہ داخل ہوں] [الْمَسْجِدَ: مسجد میں] [كَمَا: جیسے کہ] [دَخَلُوْهُ: وہ داخل ہوئے اس میں] [اَوَّلَ مَرَّةٍ: پہلی مرتبہ] [وَّلِــيُتَبِرُوْا: اور تاکہ وہ برباد کریں] [مَا: اس کو جس پر] [عَلَوْا: وہ غالب ہوں] [تَتْبِيْرًا: جیسے کہ برباد کرتے ہیں]

عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا  ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا   Ď۝
[عَسٰي: بعید نہیں] [رَبُّكُمْ: تمھارے رب سے] [ان : کہ] [يَّرْحَمَكُمْ: وہ رحم کرے تم پر] [وَان: اور اگر] [ عُدْتم: تم واپس ہوئے (گناہ کی طرف)] [عُدْنَا: تو ہم واپس ہوں گے (سزا کی طرف)] [وَجَعَلْنَا: اور ہم نے بنایا ] [جَهَنَّمَ: جہنم کو] [لِلْكٰفِرِيْنَ: کافروں کے لئے] [حَصِيْرًا: ایک قید خانہ ]

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِيْرًا    ۝ۙ
[ان: یقینا] [هٰذَا الْقُرْاٰنَ: یہ قرآن] [يَهْدِيْ: ہدایت دیتا ہے] [لِلَّتِيْ: اس کے لئے جو کہ] [ھِيَ: وہ ہی] [اَقْوَمُ: سب سے سیدھی (راہ) ہے] [وَيُبَشِّرُ: اور وہ بشارت دیتا ہے] [الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِينَ: ان ایمان لانے والوں کو جو] [يَعْمَلُوْنَ: عمل کرتے ہیں] [الصّٰلِحٰتِ: نیکیوں کے] [ان: کہ ] [لَهُمْ: ان کے لئے ہے] [اَجْرًا كَبِيْرًا: ایک بڑا اجر]

 

(آیت۔9) لِلَّتِیْ ھِیَ کے بعد اَقْوَمُ مذکر کا استعمال بتا رہا ہے کہ اس کا مضاف الیہ محذوف ہے جو کہ اَلسُّبُلِ ہو سکتا ہے اور یہ تفضیل کل ہے۔ (دیکھیں آسان عربی گرامر، پیراگراف۔7:62)

وَّاَنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا   10۝ۧ
[وَّان: اور (بشارت دیتا ہے) کہ] [الَّذِينَ: وہ لوگ جو] [لَا يُؤْمِنُوْنَ: ایمان نہیں لاتے] [بِالْاٰخِرَةِ: آخرت پر] [اَعْتَدْنَا: ہم نے تیار کیا ہے] [لَهُمْ: ان کے لئے ] [عَذَابًا اَلِـــيْمًا: ایک دردناک عذاب]

 

نوٹ۔1: تورات میں کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل دوبار شرارت کریں گے۔ (اپنے عروج کے نشہ میں بدمست ہو کر۔ مرتب) اس کی جزا میں دشمن ان کے ملک پر غالب ہوں گے۔ اسی طرح ہوا۔ ایک بار جالوت غالب ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت دائودؑ کے ہاتھ سے ہلاک کیا اور بنی اسرائیل نے دوبارہ عروج حاصل کیا جس کی انتہاء حضرت سلیمانؑ کی حکومت تھی۔ دوسری بار بخت نصر غالب ہوا اور اس کے بعد سے ان کی سلطنت نے قوت نہیں پکڑی بعض علماء نے پہلے وعدہ سے بخت نصر کا حملہ، جو 587 قبل مسیح ہوا تھا، اور دوسرے وعدہ سے طیطوس رومی کا حملہ، جو زفع مسیح کے ستر سال بعد ہوا تھا، مراد لیا ہے۔ کیونکہ ان دونوں حملوں میں مقدس ہیکلِ سلیمانی کو برباد کیا گیا۔ (ترجمۂ شیخ الہند)۔ طیطوس رومی کے حملے کے وقت یہودیوں کی حکومت نہیں تھی بلکہ اس وقت فلسطین سلطنت روم کا ایک صوبہ تھا جس میں یہودیوں کو کچھ صوبائی خودمختاری حاصل تھی۔ البتہ وہ اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے روم کے خلاف بغاوت کرتے رہتے تھے۔ اس کی سزا دینے کے لئے طیطوس نے حملہ کیا تھا۔

وَيَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بِالْخَيْرِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا   11؀
[وَيَدْعُ: اور دعوت دیتا ہے] [الْانسَان: انسان] [بِالشَّرِّ: برائی کو] [دُعَاۗءَهٗ: (جیسے) اس کا دعوت دینا ہو] [بِالْخَيْرِ: بھلائی کو] [وَكَان: اور ہے] [الْانسَان: انسان] [عَجولًا: بہت جلد باز]

 

ترکیب: (آیت۔11) یَدْعُ مضارع مجزوم نہیں ہے بلکہ یہ مضارع معروف یَدْعُوْ ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص املاء ہے کہ اس کو یہاں یَدْعُ لکھا جاتا ہے۔

وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ اٰيَـتَيْنِ فَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِيْلًا    12؀
[وَجَعَلْنَا: اور ہم نے بنایا] [الَّيْلَ: رات کو] [وَالنَّهَارَ: اور دن کو] [اٰيَـتَيْنِ: دو نشانیاں] [فَمَــحَوْنَآ: پھر ہم نے مٹایا] [اٰيَةَ الَّيْلِ: رات کی نشانی کو] [وَجَعَلْنَآ: اور ہم نے بنایا] [اٰيَةَ النَّهَارِ: دن کی نشانی کو] [مُبْصِرَةً: دیکھنے والی] [لِتَبْتَغُوْا: تاکہ تم لوگ تلاش کرو] [فَضْلًا: کچھ فضل] [مِّنْ رَّبِكُمْ: اپنے رب سے] [وَلِتَعْلَمُوْا: اور تاکہ تم لوگ جان لو] [عَدَدَ السِّنِيْنَ: برسوں کی گنتی کو] [وَالْحِسَابَ: اور حساب کو] [وَكُلَّ شَيْءٍ: اور ہر ایک چیز کو!] [فَصَّلْنٰهُ: ہم نے تفصیل سے بتایا اس کو] [تَفْصِيْلًا: جیسے کھول کھول کر بتاتے ہیں]

 

(آیت۔12) اَلْحِسَابَ کی نصب بتا رہی ہے کہ یہ عَدَدَ کا مضاف الیہ نہیں ہے بلکہ لِتَعْلَمُوْا کا دوسرا مفعول ہے۔ کُلَّ شَیْئٍ میں کُلَّ کی نصب بتا رہی ہے کہ یہ کسی فعل محذوف کا مفعول ہے۔ یہ فَصَّلْنَا کا مفعول مقدم نہیں ہو سکتا کیونکہ ضمیر مفعولی لـہُ اس کا مفعول ہے۔

وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰۗىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ  ۭ وَنُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا    13؀
[وَكُلَّ انسَان: اور ہر ایک انسان کو!] [اَلْزَمْنٰهُ: ہم نے چپکا دی اس سے] [طٰۗىِٕرَهٗ: اس کی شامتِ عمل] [فِيْ عُنُقِهٖ: اس کی گردن میں] [وَنُخْرِجُ: اور ہم نکالیں گے] [لَهٗ: اس کے لئے] [يَوْمَ الْقِيٰمَةِ: قیامت کے دن] [كِتٰبًا: ایک ایسی کتاب] [يَّلْقٰىهُ: وہ ملے گا (یعنی پائے گا) جس کو] [مَنْشُوْرًا: کھولی ہوئی]

 

ن ش ر

(ن) نَشْرًا کسی چیز کو بکھیرنا۔ پھیلانا۔ وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ (اور وہ پھیلاتا ہے اپنی رحمت کو) 42:28۔

 نُشُوْرًا جی اٹھنا۔ دوبارہ زندہ ہونا۔ دوبارہ اٹھنا۔ کَذٰلِکَ النُّشُوْرُ (اس طرح دوبارہ زندہ ہونا ہے) 35:9۔

 نَاشِرٌ اسم الفاعل ہے۔ پھیلانے والا۔ وَالنّٰشِرٰتِ نَشْرًا (اور پھیلانے والیاں جیسا کہ پھیلانے کا حق ہے) 77:3۔

 مَنْشُوْرٌ اسم المفعول ہے۔ پھیلایا ہوا۔ کھولا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔13۔

(افعال) اِنْشَارًا دوبارہ زندہ کرنا۔ دوبارہ اٹھانا۔ ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقْبَرَہٗ ثُمَّ اِذَا شَائَ اَنْشَرَہٗ (پھر اس نے موت دی اس کو پھر اس نے قبردی اس کو پھر جب بھی وہ چاہے گا وہ دوبارہ زندہ کرے گا اس کو) 80:21۔22۔

 مُنْشَرٌ اسم المفعول ہے۔ زندہ یا اٹھایا جانے والا۔ وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ (اور ہم نہیں ہیں دوبارہ اٹھائے جانے والے) 44:35۔

(تفعیل) تَنْشِیْرًا خوب پھیلانا۔ کھولنا۔

 مُنَشَّرٌ اسم المفعول ہے۔ پھیلایا ہوا۔ کھولا ہوا۔ اَنْ یُّؤْتٰی صُحُفًا مُنَشَّرَۃً (کہ ان کو دیئے جائیں کھولے ہوئے صحیفے) 74:52۔

(افتعال) اِنْتِشَارًا پھیل جانا۔ بکھر جانا۔ وَ مِنْ اٰیٰتِہٖ اَنْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَا اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ (اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے پیدا کیا تم لوگوں کو ایک مٹی سے پھر جب تم لوگ ایک بشر ہوتے ہو تو پھیل جاتے ہو) 30:20۔

 اِنْتَشِرْ فعل امر ہے۔ تو پھیل جا۔ بکھر جا۔ فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا (پھر جب کھا چکو تو منتشر ہو جائو) 33:53۔

 مُنْتَشِرٌ اسم الفاعل ہے۔ پھیلنے والا۔ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ کَاَنَّھُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ (وہ لوگ نکلیں گے قبروں سے گویا کہ وہ پھیلنے والی ٹڈی ہیں) 54:7۔

 

(آیت۔13)۔ کُلَّ اِنْسَانٍ بھی فعل محذوف کا مفعول ہے۔

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ ۭ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا    14۝ۭ
[اِقْرَاْ: تو پڑھ] [كِتٰبَكَ: اپنی کتاب] [كَفٰى: کافی ہے] [بِنَفْسِكَ: تیرا نفس] [الْيَوْمَ: آج کے دن] [عَلَيْكَ: تجھ پر] [حَسِيْبًا: بطور حساب لینے والے کے]

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْــتَدِيْ لِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا  ۭ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا    15؀
[مَنِ: جس نے ] [اهْتَدٰى: ہدایت پائی] [فَانمَا: تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ] [يَهْــتَدِيْ: وہ ہدایت پاتا ہے] [لِنَفْسِهٖ: اپنے نفس کے لئے] [وَمَنْ: اور جو] [ضَلَّ: گمراہ ہوا] [فَانمَا: تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ] [يَضِلُّ: وہ گمراہ ہوتا ہے] [عَلَيْهَا: اس پر] [وَلَا تَزِرُ: اور نہیں اٹھائے گی] [وَازِرَةٌ: کوئی اٹھانے والی (جان)] [وِّزْرَ اُخْرٰى: کسی دوسری کا بوجھ] [وَمَا كُنَا: اور ہم نہیں ہیں] [مُعَذِّبِيْنَ: عذاب دینے والے] [حَتّٰى: یہاں تک کہ] [نَبْعَثَ: ہم بھیجیں] [رَسُوْلًا: کوئی رسول]

وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا     16؀
[وَاِذَآ: اور جب] [اَرَدْنَآ: ہم ارادہ کرتے ہیں] [ان: کہ] [نُّهْلِكَ: ہم ہلاک کریں] [قَرْيَةً: کسی بستی کو] [اَمَرْنَا: تو ہم حکم دیتے ہیں] [مُتْرَفِيْهَا: اس کے خوشحال لوگوں کو] [فَفَسَقُوْا: پھر وہ نافرمانی کرتے ہیں] [فِيْهَا: اس میں] [فَحَقَّ: تو ثابت ہو جاتی ہے] [عَلَيْهَا: اس (بستی) پر] [الْقَوْلُ: بات] [فَدَمَّرْنٰهَا: تو ہم اس کو اجاڑ دیتے ہیں] [تَدْمِيْرًا: جیسا کہ اجاڑنے کا حق ہے]

وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ  ۭوَكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا   17؀
[وَكَمْ اَهْلَكْنَا: اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کیں] [مِنَ الْقُرُوْنِ: قوموں میں سے] [مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ: نوحؑ کے بعد] [وَكَفٰى: اور کافی ہے] [بِرَبِكَ: آپؐ کا رب] [بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ: اپنے بندوں کے گناہوں سے] [خَبِيْرًۢا: باخبر ہونے کے لحاظ سے] [بَصِيْرًا: دیکھنے والا ہونے کے لحاظ سے]

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ   ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا   18؀
[مَنْ: جو] [كَان يُرِيْدُ: چاہتا رہتا ہے] [الْعَاجِلَةَ: دنیا کو] [عَجَّــلْنَا: تو ہم جلدی کر دیتے ہیں] [لَهٗ: اس کے لئے] [فِيْهَا: اس (دنیا) میں] [مَا: وہ (چیز) جو] [نَشَاۗءُ: ہم چاہتے ہیں] [لِمَنْ: اس کے لئے جس کے لئے] [نُّرِيْدُ: ہم چاہتے ہیں] [ثُمَّ: پھر] [جَعَلْنَا: ہم بناتے ہیں] [لَهٗ: اس کے لئے] [جَهَنَّمَ: جہنم] [يَصْلٰىهَا: وہ گرے گا اس میں] [مَذْمُوْمًا: مذمت کیا ہوا] [مَّدْحُوْرًا: کھدیرا ہوا ہوتے ہوئے]

 

نوٹ۔1: اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر ناراض ہوتا ہے اور اس کو عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا ہے تو اس کی ابتدائی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس قوم کے حاکم ایسے لوگ بنا دیئے جاتے ہیں جو عیش پسند ہوں، یا اگر حاکم نہ بھی بنائے جائیں تو اس قوم میں ایسے لوگوں کی کثرت کر دی جاتی ہے۔ دونوں صورتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ دنیا میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانیاں خود بھی کرتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی اس کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ پھر ان پر اللہ کا عذاب آ جاتا ہے۔ (معارف القرآن)

نوٹ۔2: زیر مطالعہ آیت۔18۔19۔ میں دنیا اور آخرت کے طالب اور ان کی جزاء کا ذکر ہے۔ صرف دنیا کے طلبگاروں کے لئے مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ جس میں ہمیشگی کا مفہوم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہنم کی سزا صرف اس صورت میں ہے کہ اس کے عمل میں ہروقت صرف دنیا ہی کی غرض چھائی ہوئی ہو اور آخرت کی طرف کوئی دھیان ہی نہ ہو۔ جبکہ آخرت کے طلبگاروں کے لئے مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن جس وقت، جس عمل میں آخرت کا ارادہ اور نیت کرے گا اس کا وہ عمل مقبول ہو جائے گا خواہ کسی دوسرے عمل کی نیت میں دنیا کی طلب بھی شامل ہو۔ پھر اسی آیت میں سعی کے ساتھ لفظ سَعْیَھَا بڑھا کر یہ بتا دیا گیا کہ آخرت کے لئے ہر عمل اور ہر کوشش نہ مفید ہوتی ہے اور نہ عند اللہ مقبول، بلکہ کوشش وہی معتبر ہے جو مقصد آخرت کے مناسب ہو۔ کسی کوشش کا آخرت کے مناسب ہونا یا نہ ہونا صرف رسول اللہ
کے بیان سے ہی معلوم ہو سکتا ہے۔ اس لئے جو نیک اعمال اپنی رائے اور من گھڑت طریقوں سے کئے جاتے ہیں، خواہ وہ دیکھنے میں کتنے ہی بھلے اور مفید نظر آئیں، وہ نہ اللہ کے نزدیک مقبول ہیں اور نہ ہی آخرت میں کارآمد ہوں گے۔ (معارف القرآن)

وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا    19؀
[وَمَنْ: اور جو] [اَرَادَ: چاہتا ہے] [الْاٰخِرَةَ: آخرت کو] [وَسَعٰى: اور وہ بھاگ دوڑ کرتا ہے] [لَهَا: اس کے لئے ] [سَعْيَهَا: جیسا اس کی بھاگ دوڑ کا حق ہے] [وَ: اس حال میں کہ] [هُوَ: وہ] [مُؤْمِنٌ: ایمان لانے والا ہے] [فَاُولٰۗىِٕكَ: تو وہ لوگ ہیں] [كَان سَعْيُهُمْ: جن کی بھاگ دوڑ ہے] [مَّشْكُوْرًا: قدر کی ہوئی]

كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ  ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا   20؀
[كُلًّا: سب کی] [نُّمِدُّ: ہم مدد کرتے ہیں] [هٰٓؤُلَاۗءِ: ان کی (بھی)] [وَهٰٓؤُلَاۗءِ: اور ان کی (بھی)] [مِنْ عَطَاۗءِ رَبِكَ: آپؐ کے رب کے عطیہ سے] [وَمَا كَان: اور نہیں ہے] [عَطَاۗءُ رَبِكَ: آپ ؐ کے رب کا عطیہ] [مَحْظُوْرًا: روکا ہوا]

 

ح ظ ر

 [حَظْرًا: (ض) ] منع کرنا۔ روک لینا۔

 مَحْظُوْرٌ اسم المفعول ہے۔ منع کیا ہوا۔ روکا ہوا۔ آیت زیر مطالعہ۔20۔

(افتعال) اِحْتِظَارًا اہتمام سے روکنا۔ باڑہ بنانا۔

 مُحْتَظِرٌ اسم الفاعل ہے۔ روکنے والا۔ باڑہ بنانے والا۔ کَھَثِیْمِ الْمُحْتَظِرِ (باڑہ بنانے والے کی خشک ٹہنی کی مانند) 54:31۔

اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا    21؀
[انظُرْ: آپؐ دیکھیں] [كَيْفَ: کیسے] [فَضَّلْنَا: ہم نے فضیلت دی] [بَعْضَهُمْ: ان کے بعض کو] [عَلٰي بَعْضٍ: بعض پر] [وَلَلْاٰخِرَةُ: اور یقینا آخرت] [اَكْبَرُ: سب سے بڑی ہے] [دَرَجٰتٍ: درجوں کے لحاظ سے] [وَّاَكْبَرُ: اور سب سے بڑی ہے] [تَفْضِيْلًا: فضیلت دینے کے لحاظ سے]

 

نوٹ۔3: آیت نمبر۔21 کو اگر آیت۔19 کے تناظر میں پڑھا جائے تو بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ آخرت کے لئے کوشش کرنا مطلوب بھی ہے اور محمود بھی۔ جنت میں داخلہ کا پروانہ مل جانا ہی ایک عظیم کامیابی ہے۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہو جاتی۔ اس کے آگے پھر جنت کی سوسائٹی میں
Status یعنی درجات کا مسئلہ بھی ہے۔ اس کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہم سے کہا گیا کہ اس دنیا میں Status کے جو فرق ہیں ان پر غور کرو اور اس حوالہ سے یہ حقیقت ذہن نشین کرلو کہ دنیا میں Status کا جو فرق ہے، وہ تو محض ایک نمونہ ہے۔ اس کا تھان تو آخرت میں کھلے گا۔ جنت کی سوسائٹی میں درجات کا فرق تعداد کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ ہے اور ایک درجے کی دوسرے درجے پر فضیلت کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ ہے۔

 ہمیں ایمانداری سے سوچنا چاہئے کہ ہم اس دنیا کے عارضی اور فانی
Status کے لئے کتنی جان مارتے ہیں اور جنت کے Status کی ہمیں کتنی فکر ہے۔ جو لوگ آخرت کے لئے کوشاں ہیں ان کسی بھی اکثریت کے ذہن میں جنت کے Status کا مسئلہ نہیں ہے پھر اس کی فکر کرنے کا کیا سوال ہے۔ ہم لوگ مرحومین کے لئے بلندیٔ درجات کی دعا تو مانگتے ہیں لیکن جنت میں اپنے درجات کی اپنی زندگی میں فکر نہیں کرتے۔ اِلاّ ماشاء اللہ۔

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا    22؀ۧ
[لَا تَجْعَلْ: تو مت بنا] [مَعَ اللّٰهِ: اللہ کے ساتھ] [اِلٰـهًا اٰخَرَ: کوئی دوسرا الٰہ] [فَتَقْعُدَ: ورنہ تو بیٹھ رہے گا] [مَذْمُوْمًا: مذمت کیا ہوا] [مَّخْذُوْلًا: بےبس کیا ہوا]

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا  ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا   23؀
[وَقَضٰى: اور فیصلہ کیا] [رَبُّكَ: تیرے رب نے] [اَلَّا تَعْبُدُوْٓا: کہ تم لوگ بندگی مت کرو] [اِلَّآ: مگر] [اِيَّاهُ: اس کی ہی] [وَبِالْوَالِدَيْنِ: اور والدین کے ساتھ] [اِحْسَانا: حسن سلوک کرنے کا] [اِمَا: جب کبھی بھی] [يَبْلُغَنَّ: پہنچ جائیں] [عِنْدَكَ: تیرے پاس] [الْكِبَرَ: بڑھاپے کو] [اَحَدُهُمَآ: دونوں کا ایک] [اَوْ: یا] [كِلٰـهُمَا: دونوں کے دونوں] [فَلَا تَـقُلْ: تو تو مت کہہ] [لَّهُمَآ: ان دونوں سے] [اُفٍّ: اف (بھی)] [وَّلَا تَنْهَرْ: اور تو مت جھڑک] [هُمَا: ان دونوں کو] [وَقُلْ: اور تو کہہ] [لَّهُمَا: ان دونوں سے] [قَوْلًا كَرِيْمًا: شریفانہ بات]

 

ء ف ف

 [اَفًّا: (ن۔ ض) ] تکلیف یا بےقراری میں اُف اُف کہنا۔

 اُفٍّ اسم فعل ہے بمعنی میں ناپسند کرتا ہوں۔ بیزار ہوتا ہوں، زیر مطالعہ آیت۔23

وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا   24؀ۭ
[وَاخْفِضْ: اور تو بچھا ] [لَهُمَا: دونوں کے لئے] [جَنَاحَ الذُّلِ: تابعداری کا پہلو] [مِنَ الرَّحْمَةِ: رحمت سے] [وَقُلْ: اور تو کہہ ] [رَّبِ: اے میرے رب] [ارْحَمْهُمَا: تو رحم کر دونوں پر] [كَمَا: جیسے کہ] [رَبَّيٰنِيْ: ان دونوں نے تربیت کی میری] [صَغِيْرًا: چھوٹا ہوتے ہوئے (یعنی بچپن میں)]

 

نوٹ۔1: معارف القرآن کی جلد۔5 کے صفحات۔451 تا 457 میں والدین کے حقوق پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ ہم اس کے چند اقتباسات ذیل میں نقل کر رہے ہیں۔

1۔ امام قرطبی (رح)  فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ادب و احترام اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو اپنی عبادت کے ساتھ ملا کر واجب کیا ہے۔ جیسا کہ سورہ لقمان (آیت نمبر۔14) میں اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کو ملا کر لازم فرمایا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے شکر کی طرح والدین کا شکر گزار ہونا واجب ہے۔ (میرے خیال میں یہ بات ہمیں اس طرح سمجھنا چاہئے کہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ والدین کی اطاعت اور اللہ کے شکر کے ساتھ والدین کا شکر لازم و ملزوم ہیں۔ مرتب)

2۔ رسول اللہ
نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے لئے اپنے ماں باپ کا فرمانبردار رہا اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھلے رہیں گے۔ اور جو ان کا نافرمان ہوا اس کے لئے جہنم کے دو دروازے کھلے رہیں گے اور اگر ماں باپ میں سے کوئی ایک ہی تھا تو ایک دروازہ ۔ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ یہ جہنم کی وعید اس صورت میں بھی ہے کہ ماں باپ نے اس پر ظلم کیا ہو تو آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا وَاِنْ ظَلَمَا۔ وَ اِنْ ظَلَمَا۔ وَ اِنْ ظَلَمَا۔ (اور اگر ان دونوں نے ظلم کیا)۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اولاد کو ماں باپ سے انتقام لینے کا حق نہیں ہے۔ اگر انہوں نے ظلم کیا تو اسے اجازت نہیں ہے کہ وہ ان کی خدمت اور اطاعت سے ہاتھ کھینچ لے۔

3۔ رسول اللہ
نے فرمایا کہ اللہ کی رضا باپ کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے۔ (میں نے ایک عالم دین سے پوچھا تھا کہ ماں اور باپ میں سے کس کا حق زیادہ ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ خدمت گزاری میں ماں کا حق باپ سے زیادہ ہے اور اطاعت میں باپ کا حق ماں سے زیادہ ہے۔ مرتب)

4۔ رسول اللہ
نے فرمایا کہ اور سب گناہوں کی سزا تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں قیامت تک مؤخر کر دیتے ہیں بجز والدین کی حق تلفی اور نافرمانی کے کہ اس کی سزا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی دی جاتی ہے۔

5۔ اس پر علماء و فقہاء کا اتفاق ہے کہ والدین کی اطاعت صرف جائز کاموں میں واجب ہے۔ ناجائز یا گناہ کے کام میں واجب تو کیا جائز بھی نہیں ہے۔ (کیونکہ) حدیث میں ہے کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔

6۔ ایک شخص رسول اللہ
کی خدمت میں جہاد میں شریک ہونے کی اجازت لینے کے لئے حاضر ہوا۔ آپؐ نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے والدین زندہ ہیں۔ اس نے کہا کہ ہاں زندہ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا فَفِیْھِمَا فَجَاھِدْ (تو ان دونوں میں پھر تم جہاد کرو)۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی خدمت میں ہی تمہیں جہاد کا ثواب مل جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب تک جہاد فرض کفایہ کے درجے میں ہے اس وقت تک کسی کے لئے والدین کی اجازت کے بغیر جہاد میں شریک ہونا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح جب تک کوئی کام فرض کفایہ کے درجے میں ہو تو اولاد کے لئے وہ کام ماں باپ کی اجازت کے غیر کرنا جائز نہیں ہے۔ جس کو بقدر فرض دین کا علم حاصل ہے وہ عالم بننے کے لئے سفر کرے یا لوگوں کو تبلیغ و دعوت کے لئے سفر کرے تو یہ والدین کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔

7۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ (
) ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کا کوئی حق میرے ذمہ باقی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ ان کے لئے دعاء مغفرت اور استغفار کرنا اور جو عہد انھوں نے کسی سے کیا تھا اس کو پورا کرنا اور ان کے دوستوں کا احترام کرنا اور ان کے ایسے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا جن کا رشتہ صرف ان ہی کے واسطے سے ہے۔ والدین کے یہ حقوق ہیں جو ان کے بعد بھی تمھارے ذمہ باقی ہیں۔

8۔ والدین اگر مسلمان ہوں تو ان کے لئے رحمت کی دعا ظاہر ہے۔ لیکن اگر وہ مسلمان نہ ہوں تو ان کی زندگی میں یہ دعا (وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا) اس نیت سے جائز ہوگی کہ ان کو دنیا کی تکالیف سے نجات ہو اور ایمان کی توفیق ہو۔ لیکن مرنے کے بعد ان کے لئے یہ دعائِ رحمت جائز نہیں ہے۔

9۔ ایک شخص رسول اللہ
کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ میرے باپ نے میرا مال لے لیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اپنے باپ کو بلا کر لائو۔ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ تشریف لائے اور کہا کہ جب اس کا باپ آ جائے تو آپؐ اس سے پوچھیں کہ وہ کلمات کیا ہیں جو اس نے دل میں کہے ہیں اور خود اس کے کانوں نے بھی ان کو نہیں سنا۔ جب وہ اپنے والد کو لے کر آیا تو آپؐ نے اس سے کہا کہ تمھارا بیٹا شکایت کرتا ہے۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اس کا مال چھین لو۔ والد نے کہا کہ آپؐ اس سے پوچھیں کہ میں اس کی پھوپھی، خالہ یا اپنے نفس کے سوا کہاں خرچ کرتا ہوں۔ رسول اللہ نے فرمایا ’’ اِیْہ‘‘ اس کا مطلب یہ تھا کہ بس حقیقت معلوم ہو گئی۔ اب اور کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد اس کے والد سے پوچھا کہ وہ کلمات کیا ہیں جن کو ابھی تک خود تمھارے کانوں نے بھی نہیں سنا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ( ) اللہ تعالیٰ ہر معاملہ میں آپؐ پر ہمارا ایمان بڑھا دیتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ میں نے چند اشعار دل میں کہے تھے جن کو میرے کانوں نے بھی نہیں سنا۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہ ہمیں سنائو۔ اس نے وہ اشعار سنائے جن کا ترجمہ یہ ہے۔

 ’’ میں نے تجھے بچپن میں غذا دی اور جوان ہونے کے بعد بھی تیری ذمہ داری۔ تیرا سب کھانا پینا میری ہی کمائی سے تھا۔ جب کسی رات میں تجھے کوئی بیماری پیش آ گئی تو میں نے تمام رات بیداری اور بیقراری میں گزاری۔ گویا کہ تیری بیماری مجھے ہی لگی ہے جس کی وجہ سے تمام شب روتا رہا۔ میرا دل تیری ہلاکت سے ڈرتا رہا حالانکہ میں جانتا تھا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے جو آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ پھر جب تم اس عمر کو پہنچ گئے جس کی میں تمنا کیا کرتا تھا تو تو نے میرا بدلہ سخت کلامی بنا دیا گویا کہ تو ہی مجھ پر احسان کر رہا ہے۔ کاش اگر تجھ سے میرے باپ ہونے کا حق ادا نہیں ہو سکتا تو کم از کم ایسا ہی کر لیتا جیسا ایک شریف پڑوسی کیا کرتا ہے۔‘‘

 رسول اللہ
نے یہ اشعار سن کر بیٹے کا گریبان پکڑ لیا اور فرمایا اَنْتَ وَ مَالُکَ لِاَبِیْکَ یعنی تو بھی اور تیرا مال بھی تیرے باپ کے لئے ہے۔ (ڈاکٹر غلام مرتضیٰ مرحوم نے اپنے ایک خطاب میں فرمایا تھا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ بیوی بچوں کا خرچ پورا نہیں ہوتا تو والدین کو کہاں سے دیں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ میرے بھائی آپ کا سوال غلط ہے۔ اگر آپ مجھ سے پوچھتے کہ والدین کا خرچ پورا نہیں ہوتا تو بیوی بچوں کو کہاں سے دیں، پھر میں آپ کو بتاتا کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے۔ مرتب)

نوٹ۔2: فضول خرچی کے معنی کو قرآن حکیم نے دو لفظوں سے تعبیر فرمایا ہے، ایک تبذیر اور دوسرا اسراف تبذیر کی ممانعت تو زیر مطالعہ آیت۔26 سے واضح ہَے جبکہ اسراف کی ممانعت وَلَاتُسْرِفُوْا (الاعراف۔31) سے ثابت ہے۔ بعض حضرات نے یہ تفصیل کی ہے کہ کسی گناہ میں یا بالکل بےموقع اور بےمحل خرچ کرنے کو تبذیر کہتے ہیں۔ اور جہاں خرچ کرنے کا جائز موقع تو ہو مگر ضرورت سے زیادہ خرچ کیا جائے تو اس کو اسراف کہتے ہیں۔ اس لئے تبذیر بہ نسبت اسراف کے زیادہ سخت ہے اور مبذرین کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے۔ (معارف القرآن)

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ  ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًا  25؀
[رَبُّكُمْ: تم لوگوں کا رب] [اَعْلَمُ: سب سے زیادہ جاننے والا ہے] [بِمَا: اس کو جو] [فِيْ نُفُوْسِكُمْ: تمھاری طبیعتوں میں ہے] [ان: اگر] [تَكُوْنُوْا: تم لوگ ہو گے] [صٰلِحِيْنَ: نیک] [فَانهٗ: تو بیشک] [كَان : وہ ہے] [لِلْاَوَّابِيْنَ: بار بار رجوع کرنے والوں کے لئے] [غَفُوْرًا: بےانتہا بخشنے والا]

وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا  26؀
[وَاٰتِ: اور تو دے] [ذَا الْقُرْبٰى: قرابت والے کو] [حَقَّهٗ: اس کا حق] [وَالْمِسْكِيْنَ: اور مسکین کو] [وَابْنَ السَّبِيْلِ: اور مسافر کو] [وَلَا تُبَذِّرْ: اور تو بےجا مال مت اڑا] [تَبْذِيْرًا: جیسا بےجا مال اڑانا ہے]

اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا  27؀
[ان: بیشک ] [الْمُبَذِّرِيْنَ: بےجا مال اڑانے والے] [كَانوْٓا: ہیں] [اِخْوَان الشَّيٰطِيْنِ: شیطانوں کے بھائی] [وَكَان : اور ہے] [الشَّيْطٰنُ: شیطان] [لِرَبِهٖ: اپنے رب کا] [كَفُوْرًا: انتہائی ناشکرا]

 

ب ذ ر

 [بَذْرًا: (ن) ] (1) کسی بات کو پھیلانا۔ اشاعت کرنا۔ (2) مال کو بکھیرنا۔ فضول خرچی کرنا۔

(تفعیل) تَبْذِیْرًا نام و نمود اور نمائش میں مال اڑانا۔ زیر مطالعہ آیت۔26۔

 مُبَذِّرٌ اسم الفاعل ہے۔ نمائش میں مال اڑانے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔27

وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُوْرًا  28؀
[وَاِمَا: اور جب کبھی] [تُعْرِضَنَّ: تو اعراض کرے] [عَنْهُمُ: ان سے] [ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ: ایسی رحمت کی تلاش کرنے میں] [مِّنْ رَّبِكَ: اپنے رب سے] [تَرْجوهَا: تو امید کرتا ہے جس کی] [فَقُلْ: تب تو کہہ] [لَهُمْ: ان سے] [قَوْلًا مَّيْسُوْرًا: نرم کی ہوئی بات]

وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا  29؀
[وَلَا تَجْعَلْ: اور تو مت بنا] [يَدَكَ: اپنے ہاتھ کو] [مَغْلُوْلَةً: باندھا ہوا] [اِلٰى عُنُقِكَ: اپنی گردن کی طرف] [وَلَا تَبْسُطْهَا: اور تو مت کھول اس کو] [كُلَّ الْبَسْطِ: جیسے بالکل کھولنا ہے] [فَتَـقْعُدَ: نتیجۃً تو بیٹھ رہے] [مَلُوْمًا: ملامت کیا ہوا] [مَّحْسُوْرًا: تھکا ہارا ہوتے ہوئے]

اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا  30؀ۧ
[ان: بیشک ] [رَبَّكَ: تیرا رب] [يَبْسُطُ: کشادہ کرتا ہے] [الرِّزْقَ: روزی کو] [لِمَنْ: اس کے لئے جس کے لئے] [يَّشَاۗءُ: وہ چاہتا ہے] [وَيَــقْدِرُ: اور وہ اندازہ لگاتا ہے (یعنی ناپ تول کر دیتا ہے جسے چاہتا ہے)] [انهٗ: یقینا وہ] [كَان: ہے] [بِعِبَادِهٖ: اپنے بندوں سے] [خَبِيْرًۢا: ہر حال میں باخبر رہنے والا] [بَصِيْرًا: ہر حال میں دیکھنے والا]

وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا  31؀
[وَلَا تَقْتُلُوْٓا: اور تم لوگ قتل مت کرو] [اَوْلَادَكُمْ: اپنی اولاد کو] [خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ: مفلس ہونے کے خوف سے] [نَحْنُ: ہم ہی] [نَرْزُقُهُمْ: رزق دیتے ہیں ان کو] [وَاِيَّاكُمْ: اور تم کو بھی] [ان: یقینا] [قَتْلَهُمْ: ان کو قتل کرنا] [كَان: ہے] [خِطْاً كَبِيْرًا: ایک بڑی غلطی]

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً  ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا  32؀
[وَلَا تَقْرَبُوا: اور تم لوگ قریب مت ہو] [الزِّنٰٓى: زنا کے] [انهٗ: یقینا وہ] [كَان : ہے] [فَاحِشَةً: ایک بےحیائی] [وَسَاۗءَ: اور برا ہے] [سَبِيْلًا: بلحاظ راستہ کے]

 

ز ن ی

 [زِنًی: (ض) ] زنا کرنا۔ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ (اور وہ لوگ قتل نہیں کرتے اس جان کو جسے محترم کیا اللہ نے مگر حق کے ساتھ اور وہ لوگ زنا نہیں کرتے)۔ 25:68۔

 زِنًی اسم ذات بھی ہے۔ زنا۔ زیر مطالعہ آیت۔32۔

 زَانٍ اسم فاعل ہَے۔ زنا کرنے والا۔ اَلزَّنِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّازَانِیَۃً اَوْمُشْرِکَۃً (زنا کرنے والا نکاح نہیں کرتا مگر زنا کرنے والی سے یا شرک کرنے والی سے) 24:3۔

وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ  ۭ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ ۭ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا 33 ؀
[وَلَا تَقْتُلُوا: اور تم لوگ قتل مت کرو] [النَّفْسَ الَّتِيْ: اس جان کو جس کو] [حَرَّمَ: (قتل کرنا) حرام کیا] [اللّٰهُ: اللہ نے] [اِلَّا: مگر] [بِالْحَقِّ: حق کے ساتھ] [وَمَنْ: اور جو] [قُتِلَ: قتل کیا گیا] [مَظْلُوْمًا: مظلوم ہوتے ہوئے] [فَقَدْ جَعَلْنَا: تو ہم نے بنا دیا ہے] [لِوَلِيِّهٖ: اس کے ولی کے لئے] [سُلْطٰنًا: ایک اختیار] [فَلَا يُسْرِفْ: تو اسے چاہئے کہ حد سے تجاوز نہ کرے] [فِّي الْقَتْلِ: قتل کرنے میں] [انهٗ: بیشک وہ] [كَان: ہے] [مَنْصُوْرًا: مدد کیا ہوا]

 

نوٹ۔2: قتل نفس سے مراد صرف دوسرے انسان کا قتل ہی نہیں ہے، بلکہ خود اپنے آپ کو قتل کرنا بھی ہے۔ اس لئے کہ نفس، جس کو اللہ نے ذی حرمت قرار دیا ہے، اس کی تعریف میں دوسرے نفوس کی طرح انسان کا اپنا نفس بھی داخل ہے۔ لہٰذا جتنا بڑا جرم اور گناہ قتل انسان ہے، اتنا ہی بڑا جرم اور گناہ خود کشی بھی ہے۔ (تفہیم القرآن)

نوٹ۔3: اسلامی قانون میں قتل بالحق کی پانچ صورتیں ہیں۔ (1) قتل عمد کے مجرم سے قصاص (2) دین حق کے راستے میں مزاحمت کرنے والوں سے جنگ (3) اسلامی نظامِ حکومت کو الٹنے کی سعی کرنے والوں کو سزا (4) شادی شدہ مرد یا عورت کو ارتکابِ زنا کی سزا (5) ارتداد کی سزا۔ (تفہیم القرآن)

نوٹ۔4: ولی کے اختیار کا مطلب یہ ہے کہ وہ قصاص کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ اس سے اسلامی قانون کا یہ اصول نکلتا ہے کہ قتل کے مقدمے میں اصل مدعی حکومت نہیں بلکہ اولیائے مقتول ہیں۔ ان کو اختیار ہے کہ وہ قصاص میں قاتل کو قتل کروائیں یا خون بہا لینے پر راضی ہوں یا قاتل کو بالکل معاف کر دیں۔ البتہ قاتل کو سزا دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مقتول کے اولیاء اور اس کے قبیلہ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ خود قاتل کو قتل کریں۔ اگر ان کو حکومت کی طرف سے قصاص لینے میں مدد نہیں ملتی تب بھی انھیں قاتل سے بدلہ لینے کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی بدلہ لیتا ہے اور خود قاتل کو قتل کر دیتاہے تو اب وہ خود قتلِ عمد کا مجرم اور گناہگار ہے۔ ایسی صورت میں انھیں اللہ اور اس کے رسول
کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا ہے اور فیصلہ اللہ پر چھوڑ دینا ہے۔ اس حکم پر عمل کرنے والے کو بےغیرت کہنا یا سمجھنا خود بھی ایک گناہ ہے۔

نوٹ۔5: اسراف فی القتل کی متعدد صورتیں ہیں۔ مثلاً اگر قاتل پر قابو نہ پا سکے تو اس کے خاندان یا قبیلے کے کسی فرد کو قتل کرنا۔ یا قاتل کے ساتھ اور لوگوں کو قتل کرنا یا خون بہا لینے کے بعد پھر قتل کرنا۔ وغیرہ وغیرہ یہ سب ممنوع ہیں اور گناہ ہیں۔

وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ  ۠وَاَوْفُوْا بِالْعَهْدِ ۚاِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْــــُٔـوْلًا  34؀
[وَلَا تَقْرَبُوْا: اور تم لوگ قریب مت ہو] [مَالَ الْيَتِيْمِ: یتیم کے مال کے] [اِلَّا بِالَّتِيْ: سوائے اس کے ساتھ جو کہ] [ھِيَ: وہ ہی] [اَحْسَنُ: سب سے بہتر ہو] [حَتّٰى: یہاں تک کہ] [يَبْلُغَ: وہ پہنچے] [اَشُدَّهٗ : اپنی پختگی کو] [وَاَوْفُوْا: اور تم لوگ پورا کرو] [بِالْعَهْدِ: وعدے کو] [ان: یقینا] [الْعَهْدَ: وعدہ] [كَان : ہے ] [مَسْــــُٔـوْلًا: پوچھا جانے والا]

وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 35؀
[وَاَوْفُوا: اور تم لوگ پورا کرو] [الْكَيْلَ: ناپ کو] [اِذَا: جب بھی] [كِلْتم: تم لوگ ناپو] [وَ: اور] [زِنُوْا: تم لوگ وزن کرو] [بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ: سیدھے ترازوے سے] [ذٰلِكَ: یہ] [خَيْرٌ: سب سے بہتر ہے] [وَّاَحْسَنُ: اور سب سے اچھا ہے] [تَاْوِيْلًا: بلحاظ انجام کے]

 

نوٹ۔1: ترازو کے لئے عربی لفظ میزان ہے۔ قــطاس کے معنی بھی ترازو ہے لیکن یہ عربی لفظ نہیں ہے۔ یہ یونانی لفظ ہے اور عرب تاجروں کے ذریعہ عرب میں بھی رائج ہو گیا۔ (حافظ احمد یار صاحب)

وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ  ۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــــُٔــوْلًا  36؀
[وَلَا تَــقْفُ: اور تو پیچھے مت پڑ] [مَا: اس کے ] [لَيْسَ لَكَ: نہیں ہے تیرے لئے (یعنی تیرے پاس)] [بِهٖ: جس کا] [عِلْمٌ: کوئی علم] [ان: یقینا] [السَّمْعَ: سماعت] [وَالْبَصَرَ: اور بصارت] [وَالْفُؤَادَ: اور دل (یعنی نفقّہ)] [كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ: ان کے سب ہیں (کہ)] [كَان: ہے] [عَنْهُ: اس (ہر ایک) کے بارے میں] [مَسْــــُٔــوْلًا: پوچھا جانے والا]

 

ترکیب: (آیت۔36) اَلسَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ، یہ سب اِنَّ کے اسم ہیں۔ اس کے آگے پورا جملہ کُلُّ اُولٍّگکَ کَانَ عَنْہُ مَسَئُوْلًا۔ اِنَّ کی خبر ہے۔ اس جملہ میں کُلُّ اُولٍّگکَ مرکب اضافی کَانَ کا اسم ہے جبکہ مَسْئُوْلًا اس کی خبر ہے۔ اس میں اِنَّ کے تینوں اسم یعنی اَلسَّمْعَ۔ اَلْبَصَرَ اور اَلْفُؤَادَ کی طرف اشارہ ہے اس لئے اسم اشارہ اُولٍّگکَ جمع کا صیغہ آیا ہے لیکن عَنْہُ میں جمع کی ضمیر عَنْھُمْ کے بجائے واحد ضمیر عَنْہُ آئی ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہر ایک صلاحیت کے بارے میں الگ الگ پوچھا جائے گا۔

 

نوٹ۔1: آیت۔36، میں لفظ ’’ علم‘‘ اپنے اصطلاحی اور لغوی، دونوں مفہوموں کا جامع ہے۔ (آیت۔16:56، نوٹ۔1) اس کا مطلب یہ ہے کہ اییعقائد اور نظریات کو اختیار نہ کرے جن کی سند قرآن و حدیث میں نہ ہو۔ زندگی کے معاملات میں جن اوامر اور نواہی کی سند قرآن و حدیث میں ہو ان کے خلاف نہ کرے۔ دیگر معاملات میں قابل اعتبار معلومات کے بغیر محض ظن اور گمان کی بنیاد پر نہ تو کوئی رائے قائم کرے اور نہ ہی کوئی فیصلہ یا اقدام کرے۔

نوٹ۔2: زندگی کے تمام معاملات میں کوئی رائے قائم کرنے یا فیصلہ کرنے کا جو
Process ہے، اس کی وضاحت آیت۔7:179، نوٹ۔2، میں کی جا چکی ہے۔ اس کو دوبارہ پڑھ لیں۔ زیر مطالعہ آیت۔36، میں ہم کو یہ بتایا گیا ہے کہ فیصلہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو صلاحیتیں دے کر انسان کو دنیا کی امتحان گاہ میں بھیجا، ان کے متعلق پوچھا جائے گا کہ ان کو استعمال بھی کیا تھا یا محض اندھی تقلید پر ہی زندگی بسر کرتے رہے اور اگر استعمال کیا تھا تو کس مقصد کے لئے استعمال کیا تھا۔

نوٹ۔3: آیت۔36 میں الفاظ آئے ہیں ’’ عَنْہُ مَسْئُوْلًا‘‘ عام طور پر اس کا مطلب بیان کیا گیا ہے کہ کان، آنکھ اور دل سے پوچھا جائے گا لیکن استادِ محترم حافظ احمد یار صاحب کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سَئَلَ زَیْدًا کا مطلب ہے اس نے زید سے پوچھا۔ جبکہ سَئَلَ عَنْ زَیْدٍ کا مطلب ہے اس نے زید کے بارے میں پوچھا۔ اس لحاظ سے مذکورہ الفاظ کا مطلب یہ بنتا ہے کہ مذکورہ صلاحیتوں سے نہیں بلکہ ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ترجمہ میں اور اوپر نوٹ۔2، میں ہم نے حافظ صاحب کی رائے کو اختیار کیا ہے۔

وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا  ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا  37؀
[وَلَا تمشِ: اور تو مت چل] [فِي الْاَرْضِ: زمین میں] [مَرَحًا: اتراتا ہوا] [انكَ: یقینا تو] [لَنْ تَخْرِقَ: ہرگز نہیں پھاڑ سکے گا] [الْاَرْضَ: زمین کو] [وَلَنْ تَبْلُغَ: اور تو ہرگز نہیں پہنچ سکے گا] [الْجبالَ: پہاڑوں کو] [طُوْلًا: بلحاظ لمبائی کے]

 

م ر ح

 [مَرَحًا: (س) ] ناز سے چلنا۔ اٹھلانا۔ اترانا۔ ذٰلِکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ (یہ اس سبب سے ہے جو تم لوگ خوش ہوتے تھے زمین میں حق کے بغیر اور اس سبب سے ہے جو تم لوگ اٹھلاتے تھے) 40:75 اور زیر مطالعہ آیت۔37۔

 

(آیت 37) مَرَحًا مصدر ہے اور حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا  38؀
[كُلُّ ذٰلِكَ: اس کا سب ہے (کہ)] [كَان : ہے] [سَيِّئُهٗ: اس (ہر ایک) کی برائی] [عِنْدَ رَبِكَ: آپؐ کے رب کے نزدیک] [مَكْرُوْهًا: ناپسند کی ہوئی]

 

(آیت۔38) کُلُّ ذٰلِکَ مبتدا ہے اور آگے کا پورا جملہ اس کی خبر ہے۔ اس جملہ میں کَانَ کا اسم سَیِّئَۃٌہے جبکہ مَکْرُوْھًا اس کی خبر ہے۔

ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ  ۭ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِيْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا  39؀
[ذٰلِكَ: یہ] [مِمَآ: اس میں سے ہے جو] [اَوْحٰٓى: وحی کیا] [اِلَيْكَ: آپؐ کی طرف] [رَبُّكَ: آپؐ کے رب نے] [مِنَ الْحِكْمَةِ: حکمت میں سے] [وَلَا تَجْعَلْ: اور مت بنا] [مَعَ اللّٰهِ: اللہ کے ساتھ] [اِلٰـهًا اٰخَرَ: کوئی دوسرا اِلٰہ] [فَتُلْقٰى: نتیجۃً تو ڈالا جائے گا] [فِيْ جَهَنَّمَ: جہنم میں] [مَلُوْمًا: ملامت کیا ہوا ہوتے ہوئے] [مَّدْحُوْرًا: ہانکا ہوا ہوتے ہوئے]

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِيْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنَاثًا  ۭاِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِيْمًا  40؀ۧ
[اَفَاَصْفٰىكُمْ: تو کیا مخصوص کیا تم لوگوں کو] [رَبُّكُمْ: تمھارے رب نے] [بِالْبَنِيْنَ: بیٹوں کے ساتھ] [وَاتَّخَذَ: اور (خود) اس نے بنائیں] [مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ: فرشتوں میں سے] [اناثًا: بیٹیاں] [انكُمْ: بیشک تم لوگ] [لَتَقُوْلُوْنَ: یقینا کہتے ہو] [قَوْلًا عَظِيْمًا: ایک بڑی بات]

وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْا  ۭ وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا  41؀
[وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا: اور بیشک ہم نے بار بار بیان کیا ہے (مضامین کو)] فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ: اس قرآن میں] [لِيَذَّكَّرُوْا: تاکہ وہ لوگ نصیحت حاصل کریں] [وَمَا يَزِيْدُهُمْ: اور وہ (یعنی قرآن) زیادہ نہیں کرتا ان کو] [اِلَّا: مگر] [نُفُوْرًا: بیزاریوں میں]

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗٓ اٰلِـهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا  42؀
[قُلْ: آپؐ کہہ دیجئے] [لَوْ: اگر] [كَان: ہوتے] [مَعَهٗٓ: اس کے ساتھ] [اٰلِـهَةٌ: کچھ (دوسرے) الٰہ] [كَمَا: جیسے کہ] [يَقُوْلُوْنَ: وہ لوگ کہتے ہیں] [اِذًا: تب تو] [لَّابْتَغَوْا: وہ (دوسرے الٰہ) ضرور تلاش کرتے] [اِلٰى ذِي الْعَرْشِ: عرش والے کی طرف] [سَبِيْلًا: کوئی راستہ ]

سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا  43؀
[سُبْحٰنَهٗ: پاکیزگی اس کی ہے] [وَتَعٰلٰى: اور وہ بلند ہوا] [عَمَا: اس سے جو] [يَقُوْلُوْنَ: وہ لوگ کہتے ہیں] [عُلُوًّا كَبِيْرًا : جیسا بڑے بلند ہونے کا حق ہے]

تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ  ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا  44؀
[تُـسَبِحُ: تسبیح کرتے ہیں] [لَهُ: اس کی] [السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ: سات آسمان] [وَالْاَرْضُ: اور زمین] [وَمَنْ: اور وہ جو] [فِيْ هِنَّ: ان میں ہیں] [وَان (رح) : اور نہیں ہے] [مِّنْ شَيْءٍ: کوئی بھی چیز] [اِلَّا: مگر (یہ کہ)] [يُسَبِحُ: وہ تسبیح کرتی ہے] [بِحَمْدِهٖ: اس کی حمد کے ساتھ] [وَلٰكِنْ: اور لیکن] [لَّا تَفْقَهُوْنَ: تم لوگ سمجھتے نہیں ہو] [تَسْبِيْحَهُمْ: ان کی تسبیح کو ] [انهٗ: بیشک وہ] [كَان: ہے] [حَلِــيْمًا: بردبار] [غَفُوْرًا: بےانتہا بخشنے والا]

 

نوٹ۔1: فرشتوں، انسانوں اور جنوں کے علاوہ جو باقی چیزیں ہیں ان کی تسبیح کا کیا مطلب ہے؟ بعض علماء نے فرمایا کہ ان کی تسبیح سے مراد تسبیح حال ہے۔ یعنی ہر چیز کا مجموعی حال بتا رہا ہے کہ وہ اپنے وجود میں مستقل اور دائمی نہیں ہے بلکہ وہ کسی بڑی قدرت کے تابع چل رہا ہے۔ یہی شہادت حال اس کی تسبیح ہے۔ (اس میں اب یہ اضافہ بھی پڑھنے اور سننے میں آتا ہے کہ ہر چیز اپنے وجود سے گواہی دے رہی ہے کہ ان کا خالق ہر نقص اور عیب سے پاک ہے۔ یہ ان کی تسبیح ہے۔ مرتب) مگر دوسرے اہل تحقیق کا قول یہ ہے کہ تسبیح اختیاری تو صرف فرشتوں اور مومن جن و انس کے لئے مخصوص ہے۔ جبکہ تکوینی طور پر کائنات کا ذرّہ ذرّہ اللہ کا تسبیح خواں ہے۔ قرآن کریم کا یہ ارشاد کہ تم لوگ ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو، اس پر دلالت کرتا ہے کہ ذرّہ ذرّہ کی تسبیح کوئی ایسی چیز ہے جس کو عام انسان سمجھ نہیں سکتے۔ جبکہ تسبیح حالی کو تو اہل عقل و فہم سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ تسبیح صرف حالی نہیں بلکہ حقیقی بھی ہے مگر ہمارے فہم و ادراک سے بالا تر ہے۔ امام قرطبی نے اسی کو راجح قرار دیا ہے اور اس پر قرآن و سنت کے بہت سے دلائل پیش کئے ہیں۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)

وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا  45؀ۙ
[وَاِذَا: اور جب بھی] [قَرَاْتَ: آپؐ پڑھتے ہیں] [الْقُرْاٰنَ: قرآن] [جَعَلْنَا: تو ہم بنا دیتے ہیں] [بَيْنَكَ: آپؐ کے] [وَبَيْنَ الَّذِينَ: اور ان کے درمیان جو] [لَا يُؤْمِنُوْنَ: ایمان نہیں لاتے] [بِالْاٰخِرَةِ: آخرت پر] [حِجَابًا مَّسْتُوْرًا: ایک چھپایا ہوا پردہ]

 

س ت ر

 [سَتْرًا: (ن۔ ض) ] کسی چیز کو ڈھانکنا۔ چھپانا۔

 سِتْرٌ اسم ذات ہے۔ ہر وہ چیز جس سے کوئی چیز چھپائی جائے۔ اُوٹ۔ آڑ۔ لَمْ نَجْعَلْ لَّھُمْ مِّنْ دُوْنِھَا سِتْرًا (ہم نے نہیں بنایا ان کے لئے اس سے کوئی آڑ) 18:90۔

 مَسْتُوْرٌ اسم المفعول ہے۔ ڈھانکا ہوا۔ چھپایا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔45۔

(استفعال) اِسْتِتَارًا ڈھکنا۔ چھپنا۔ پردہ کرنا۔ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ (اور تم لوگ پردہ نہیں کرتے تھے) 41:22۔

وَّجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا  ۭ وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا 46؀
[وَّجَعَلْنَا: اور ہم ڈال دیتے ہیں] [عَلٰي قُلُوْبِهِمْ: ان کے دلوں پر] [اَكِنَّةً: کچھ غلاف] [ان: کہ (کہیں)] [يَّفْقَهُوْهُ: وہ لوگ سمجھ لیں اس کو] [وَفِيْٓ اٰذَانهِمْ: اور ان کے کانوں میں] [وَقْرًا: ایک بوجھ] [وَاِذَا: اور جب بھی] [ذَكَرْتَ: آپؐ ذکر کرتے ہیں] [رَبَّكَ: اپنے رب کا] [فِي الْقُرْاٰنِ: قرآن میں] [وَحْدَهٗ: اس کے واحد ہونے کا] [وَلَوْا: تو وہ پھیر دیتے ہیں (خود کو)] [عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ: اپنی پیٹھوں پر] [نُفُوْرًا: بیزاریاں کرتے ہوئے]

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖٓ اِذْ يَسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ وَاِذْ هُمْ نَجْوٰٓى اِذْ يَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا  47؀
[نَحْنُ: ہم] [اَعْلَمُ: سب سے زیادہ جانتے ہیں] [بِمَا: اس کو] [يَسْتمعُوْنَ: یہ لوگ غور سے سنتے ہیں] [بِهٖٓ: جس کے سبب سے] [اِذْ: جب] [يَسْتمعُوْنَ: یہ لوگ کان دھرتے ہیں] [اِلَيْكَ: آپؐ کی طرف] [وَاِذْ: اور جب] [هُمْ: یہ لوگ] [نَجوٰٓى: سرگوشی کرتے ہیں] [اِذْ يَقُوْلُ: جب کہتے ہیں] [الظّٰلِمُوْنَ: یہ ظالم لوگ] [ان: نہیں] [تَتَّبِعُوْنَ: پیروی کرتے تم لوگ] [اِلَّا: مگر] [رَجُلًا مَّسْحُوْرًا: ایک جادو کئے ہوئے شخص کی]

اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا  48؀
[انظُرْ: آپؐ دیکھیں] [كَيْفَ: کیسے] [ضَرَبُوْا: انھوں نے بیان کیں] [لَكَ: آپؐ کے لئے] [الْاَمْثَالَ: مثالیں] [فَضَلُّوْا: نتیجتاً وہ گمراہ ہوئے] [فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ: پس وہ استطاعت نہیں رکھتے] [سَبِيْلًا: کسی راستے کی]

وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا  49؀
[وَقَالُوْٓا: اور انھوں نے کہا] [ءَ: کیا] [اِذَا: جب] [كُنَا: ہم ہوں گے] [عِظَامًا: ہڈیاں] [وَّرُفَاتًا: اور چورہ] [ءَ: کیا] [انا: ہم] [لَمَبْعُوْثُوْنَ: ضرور اٹھائے جانے والے ہیں] [خَلْقًا جَدِيْدًا: ایک نئی مخلوق ہوتے ہوئے]

 

رف ت

 [رَفْتًا: (ن) ] کسی چیز کو توڑنا۔ کوٹنا۔

 رُفَاتٌ چورہ۔ ریزہ۔ زیر مطالعہ آیت۔49۔

ج د د

 [جَدَّنً: (ض) ] کسی چیز کا نیا ہونا۔

 جَدًّا کسی چیز کو کاٹنا۔ راستہ طے کرنا۔

 جَرِیْدٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ نیا۔ زیر مطالعہ آیت۔49۔

 جُدَّۃٌ ج جُدَدٌ۔ طریقہ۔ راستہ۔ وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِیْض (اور پہاڑوں میں سے سفید راستے ہیں) 35:27۔

 [جَدًّا: (س) ] بزرگی اور عظمت والا ہونا۔

 جَدٌّ اسم ذات بھی ہے۔ عظمت۔ بزرگی۔ وَ اَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا (اور یہ کہ بلند ہوئی ہمارے رب کی عظمت) 72:3۔

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِيْدًا  50؀ۙ
[قُلْ: آپؐ کہہ دیجئے] [كُوْنُوْا: تم لوگ ہو جائو] [حِجَارَةً: کوئی پتھر] [اَوْ: یا] [حَدِيْدًا: کوئی لوہا]

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُمْ ۚ فَسَيَقُوْلُوْنَ مَنْ يُّعِيْدُنَا  ۭ قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ  ۭ قُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51؀
[اَوْ: یا] [خَلْقًا: کوئی مخلوق] [مِّمَا: اس میں سے جو] [يَكْبُرُ: دشوار ہوتی ہے] [فِيْ صُدُوْرِكُمْ: تمھارے سینوں میں (یعنی تمھاری سوچ میں، پھر بھی اٹھائے جائو گے)] [فَسَيَقُوْلُوْنَ: پھر وہ کہیں گے] [مَنْ: کون] [يُّعِيْدُنَا: لوٹائے گا ہم کو] [قُلِ: آپؐ کہہ دیجئے] [الَّذِي: وہ جس نے] [فَطَرَكُمْ: وجود بخشا تم کو] [اَوَّلَ مَرَّةٍ: پہلی مرتبہ] [فَسَيُنْغِضُوْنَ: پھر وہ لوگ لٹکائیں گے] [اِلَيْكَ: آپؐ کی طرف] [رُءُوْسَهُمْ: اپنے سروں کو] [وَيَقُوْلُوْنَ: اور کہیں گے] [مَتٰى: کب] [هُوَ: وہ ہے (یعنی ہو گا)] [قُلْ: آپؐ کہہ دیجئے] [عَسٰٓي: ہو سکتا ہے] [ان: کہ] [يَكُوْنَ: وہ ہو] [قَرِيْبًا: قریب]

 

ن غ ض

 [نَغْضًا: (ن۔ ض) ] کانپنا۔ ہلنا۔

(افعال) اِنْغَاضًا تعجب یا مسخری میں کوئی عضو ہلانا۔ جیسے ہاتھ نچانا۔ سر مٹکانا۔ وغیرہ۔ زیر مطالعہ آیت۔51

يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا  52؀ۧ
[يَوْمَ: جس دن] [يَدْعُوْكُمْ: وہ پکارے گا تم لوگوں کو] [فَتَسْتَجِيْبُوْنَ: پھر تم لوگ جواب دو گے] [بِحَمْدِهٖ: اس کی حمد کے ساتھ] [وَتَظُنُّوْنَ: اور گمان کرو گے (کہ)] [ان: نہیں] [لَّبِثْتم: ٹھہرے تم] [اِلَّا: مگر] [قَلِيْلًا: تھوڑا (عرصہ)]

وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِيْنًا  53؀
[وَقُلْ: آپؐ کہہ دیجئے] [لِعِبَادِيْ: میرے بندوں سے (کہ)] [يَـقُوْلُوا: وہ لوگ کہیں] [الَّتِيْ: وہ جو کہ] [ھِيَ: وہ ہی] [اَحْسَنُ: سب سے اچھا ہے] [ان: بیشک] [الشَّيْطٰنَ: شیطان] [يَنْزَغُ: ناچاقی ڈالتا ہے] [بَيْنَهُمْ: ان کے درمیان] [ان: بیشک] [الشَّيْطٰنَ: شیطان] [كَان: ہے] [لِلْانسَان: انسان کے لئے] [عَدُوًّا مُّبِيْنًا: ایک کھلا دشمن]

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ ۭ اِنْ يَّشَاْ يَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ يَّشَاْ يُعَذِّبْكُمْ ۭ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا 54؀
[رَبُّكُمْ: تم لوگوں کا رب] [اَعْلَمُ: سب سے زیادہ جاننے والا ہے] [بِكُمْ: تم لوگوں کو] [ان: اگر] [يَّشَاْ: وہ چاہے گا] [يَرْحَمْكُمْ: تو وہ رحم کرے گا تم لوگوں پر] [اَوْ: یا] [ان: اگر] [يَّشَاْ: وہ چاہے گا] [يُعَذِّبْكُمْ: تو وہ عذاب دے گا تم لوگوں کو] [وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ: اور ہم نے نہیں بھیجا آپؐ کو] [عَلَيْهِمْ: ان پر] [وَكِيْلًا: کوئی نگہبان (بنا کر)]

 

نوٹ۔1: زیر مطالعہ آیت۔54 میں دعوت کے معاملے میں مومنین اور پیغمبرؐ کی ذمہ داری کی حد واضح فرما دی۔ فرمایا کہ یہ خدا ہی کو معلوم ہے کہ کون رحمت کا مستحق ہے اور وہ ہدایت پا کر رحمت کا مستحق ہو گا اور کون عذاب کا مستحق ہے اور وہ گمراہی پر جمے رہ کر عذاب کا مستحق ٹھہرے گا۔ پیغمبر اور اس کے ساتھیوں پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ سب کو مومن بنا دیں۔ ان پر ذمہ داری صرف حق پہنچا دینے کی ہے۔ ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے۔ (تدبر قرآن)

 اس میں یہ بھی ہدایت ہے کہ اہل ایمان کی زبان پر کبھی اپنے دعوے نہیں آنے چائیں کہ ہم جنتی ہیں اور فلاں شخص یا گروہ دوزخی ہے۔ اس کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہی سب انسانوں کے ظاہر و باطن اور ان کے حال و مستقبل سے واقف ہے۔ اسی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کس پر رحمت فرمائے اور کسے عذاب دے۔ انسان اصولی طور پر تو یہ کہنے کا مجاز ہے کہ کتاب اللہ کی رو سے کس قسم کے انسان رحمت کے مستحق ہیں اور کس قسم کے انسان عذاب کے مستحق ہیں مگر یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ فلاں شخص کو عذاب دیا جائے گا اور فلاں شخص کو بخشا جائے گا۔ (تفہیم القرآن)

وَرَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ وَّاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا 55؀
[وَرَبُّكَ: اور آپؐ کا رب] [اَعْلَمُ: سب سے زیادہ جاننے والا ہے] [بِمَنْ: اس کو جو] [فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ: آسمانوں اور زمین میں ہے] [وَلَقَدْ فَضَّلْنَا: اور بیشک ہم نے فضیلت دی ہے] [بَعْضَ النَّبِيّٖنَ: نبیوں کے بعض کو] [عَلٰي بَعْضٍ: بعض پر] [وَّاٰتَيْنَا: اور ہم نے دی] [دَاوٗدَ: دائود ؑ کو] [زَبُوْرًا: زبور]

 

نوٹ۔2: آیت۔55 کا مطلب ہے کہ زمین و آسمان کے تمام انسان، جنات اور فرشتوں کا اسے علم ہے۔ ان کے مراتب کا بھی اسے علم ہے۔ ایک کو ایک پر فضیلت ہے۔ نبیوں میں بھی درجے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبیوں میں فضیلتیں نہ قائم کیا کرو۔ اس سے مطلب تعصب اور نفس پر کی ہے اپنے طور پر فضیلت قائم کرتا ہے، نہ یہ کہ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ فضیلت سے بھی انکار۔ جو فضیلت جس نبی کی از روئے دلیل ثابت ہو اس کا ماننا واجب ہے۔ (ابن کثیر)

قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيْلًا 56؀
[قُلِ: آپؐ کہئے] [ادْعُوا: تم لوگ پکارو] [الَّذِينَ: ان کو جن کا] [زَعَمْتم: تمھیں زعم ہے] [مِّنْ دُوْنِهٖ: اس کے علاوہ] [فَلَا يَمْلِكُوْنَ: تو وہ لوگ اختیار نہیں رکھتے] [كَشْفَ الضُّرِّ: تکلیف کو کھولنے کا] [عَنْكُمْ: تم لوگوں سے] [وَلَا تَحْوِيْلًا: اور نہ ہی بدلنے کا]

 

نوٹ۔3: آیت۔56 سے معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا کسی کو بھی کچھ اختیار حاصل نہیں ہے۔ نہ کوئی دوسرا کسی مصیبت کو ٹال سکتا ہے، نہ کسی بری حالت کو اچھی حالت سے بدل سکتا ہے۔ اس طرح کا اعتقاد خدا کے سوا جس ہستی کے بارے میں رکھا جائے، وہ ایک مشرکانہ عقیدہ ہے۔ آیت۔57 کے الفاظ خود گواہی دے رہے ہیں کہ مشرکین کے جن معبودوں اور فریاد رسوں کا یہاں ذکر ہے ان سے مراد پتھر کے بت نہیں ہیں، بلکہ یا تو فرشتے ہیں یا گزرے ہوئے زمانے کے برگزیدہ انسان ہیں۔ مطلب صاف صاف یہ ہے کہ انبیاء ہوں یا اولیاء یا فرشتے، کسی کو بھی یہ طاقت نہیں ہے کہ تمھاری دعائیں سنے اور تمھاری مدد کو پہنچے۔ تم حاجت روائی کے لئے ان کو وسیلہ بنا رہے ہو، اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ خود اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور قرب حاصل کرنے کے وسائل ڈھونڈ رہے ہیں۔ (تفہیم القرآن)

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ  ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا 57؀
[اُولٰۗىِٕكَ: وہ لوگ] [الَّذِينَ: جن کو] [يَدْعُوْنَ: یہ لوگ پکارتے ہیں] [يَبْتَغُوْنَ: وہ لوگ (تو خود) تلاش کرتے ہیں] [اِلٰى رَبِهِمُ: اپنے رب کی طرف] [الْوَسِـيْلَةَ: قربت کو] [اَيُّهُمْ: (کہ) ان کا کون] [اَقْرَبُ: زیادہ قریب (ہوتا) ہے] [وَيَرْجونَ: اور وہ لوگ امید رکھتے ہیں] [رَحْمَتَهٗ: اس کی رحمت کی] [وَيَخَافُوْنَ: اور وہ خوف کرتے ہیں] [عَذَابَهٗ: اس کے عذاب کا] [ان: بیشک] [عَذَابَ رَبِكَ: آپؐ کے رب کا عذاب] [كَان: ہے] [مَحْذُوْرًا: کہ جس سے بچا جائے]

وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا  ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا  58؀
[وَان: اور نہیں ہے] [مِّنْ قَرْيَةٍ: کوئی بھی بستی] [اِلَّا: مگر (یہ کہ)] [نَحْنُ: ہم] [مُهْلِكُوْهَا: ہلاک کرنے والے ہیں اس کو] [قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ: قیامت کے دن سے پہلے] [اَوْ: یا] [مُعَذِّبُوْهَا: عذاب دینے والے ہیں اس کو] [عَذَابًا شَدِيْدًا: ایک سخت عذاب] [كَان: ہے ] [ذٰلِكَ: یہ] [فِي الْكِتٰبِ: کتاب میں] [مَسْطُوْرًا: لکھا ہوا]

وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ  ۭ وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا  ۭ وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا  59؀
[وَمَا مَنَعَنَآ: اور نہیں روکا ہم کو] [ان: کہ] [نُّرْسِلَ: ہم بھیجیں (ان رسولؐ کو)] [بِالْاٰيٰتِ: نشانیوں (یعنی معجزوں) کے ساتھ] [اِلَّآ: مگر (اس لئے)] [ان: کہ] [كَذَّبَ: جھٹلایا] [بِهَا: ان کو] [الْاَوَّلُوْنَ: پہلوں نے] [وَاٰتَيْنَا: اور ہم نے دی] [ثَمُوْدَ: ثمود کو] [النَاقَةَ: اونٹنی] [مُبْصِرَةً: ایک بینا کرنے والی (نشانی) ہوتے ہوئے] [فَظَلَمُوْا: پھر انھوں نے ظلم کیا (اپنے آپ پر)] [بِهَا: اس (اونٹنی) کے سبب سے] [وَمَا نُرْسِلُ: اور ہم نہیں بھیجتے (رسولوں کو)] [بِالْاٰيٰتِ: نشانیوں کے ساتھ] [اِلَّا: مگر] [تَخْوِيْفًا: ڈرانے کو]

 

ترکیب: (آیت۔59) ارسل کا مفعول بنفسہ آتا ہے۔ اَلْاٰیٰتِ پر باکا صلہ بتا رہا ہے کہ نُرْسِلَ کا مفعول محذوف ہے جو کہ الرَّسُوْلَ ہو سکتا ہے۔ مُبْصِرَۃً صفت ہے، اس کا موصوف اٰیَۃً محذوف ہے۔ ظَلَمَ کا مفعول بھی بنفسہ آتا ہے۔ ھَا کی ضمیر پر با کا صلہ بتا رہا ہے کہ فَظَلَمُوْا کا مفعول محذوف ہے جو کہ اَنْفُسَھُمْ ہو سکتا ہے۔

 

نوٹ۔1: ہر بستی کے ہلاک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہاں بقائے دوام کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ ہر بستی کو یا تو طبعی موت مرنا ہے یا خدا کے عذاب سے ہلاک ہونا ہے۔ (تفہیم القرآن)

نوٹ۔2: مشرکین مکہ نے رسول اللہ
سے کہا کہ اگر آپؐ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لائیں تو اس صفا کے پہاڑ کو سونے کا کر دیں۔ ہم آپؐ کی سچائی کے قائل ہو جائیں گے۔ آپؐ پر وحی آئی کہ اگر آپؐ کی بھی یہی خواہش ہو تو میں اس پہاڑ کو ابھی سونے کا بنا دیتا ہوں۔ لیکن اگر پھر بھی یہ ایمان نہ لائے تو اب انہیں مہلت نہیں ملے گی۔ فی الفور عذاب آ جائے گا اور یہ تباہ کر دیئے جائیں گے اور اگر آپؐ کو انھیں سونپنے کا موقع دینا منظور ہے تو میں ایسا نہ کروں۔ آپؐ نے فرمایا خدایا میں انھیں باقی رکھنے میں ہی خوش ہوں۔ آیت۔59۔ میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ (ابن کثیر (رح) )

وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ۭ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا  60۝ۧ
[وَاِذْ: اور جب] [قُلْنَا: ہم نے کہا] [لَكَ: آپؐ سے ] [ان: (کہ) بیشک] [رَبَّكَ: آپؐ کے رب نے] [اَحَاطَ: گھیرے میں لیا] [بِالنَاسِ: لوگوں کو] [وَمَا جَعَلْنَا: اور ہم نے نہیں بنایا] [الرُّءْيَا الَّتِيْٓ: اس خواب کو جو] [اَرَيْنٰكَ: ہم نے دکھایا آپؐ کو] [اِلَّا: مگر] [فِتْنَةً: ایک آزمائش] [لِلنَاسِ: لوگوں کے لئے] [وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ: اور لعنت کئے ہوئے درخت کو (بھی)] [فِي الْقُرْاٰنِ: جو قرآن میں ہے] [وَنُخَوِّفُهُمْ: اور ہم خوف دلاتے ہیں ان کو] [فَمَا يَزِيْدُهُمْ: پھر وہ زیادہ نہیں کرتا ان کو] [اِلَّا: مگر] [طُغْيَانا كَبِيْرًا: ایک بڑی سرکشی]

وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًا  61۝ۚ
[وَاِذْ: اور جب] [قُلْنَا: ہم نے کہا] [لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ: فرشتوں سے] [اسْجُدُوْا: تم لوگ سجدہ کرو] [لِاٰدَمَ: آدمؑ کو] [فَسَجَدُوْٓا: تو انھوں نے سجدہ کیا] [اِلَّآ: سوائے] [اِبْلِيْسَ: ابلیس کے] [قَالَ: اس نے کہا] [ءَ: کیا] [اَسْجُدُ: میں سجدہ کروں] [لِمَنْ: اس کو جسے] [خَلَقْتَ: تو نے پیدا کیا] [طِيْنًا: مٹی سے]

 

(آیت۔61)۔ جَعَلْنَا کا مفعول اوّل اَلرُّئْ یَا ہے جبکہ اَلشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ اس کا مفعول ثانی ہے۔ سادہ جملہ اس طرح ہوتا۔ وَمَا جَعَلْنَا الرُّئْ یَا الَّتِیْ اَرَیْنٰکَ وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ فِی الْقُرْاٰنِ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ۔

 

نوٹ۔3: لفظ فتنہ عربی زبان میں بہت سے معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ بی بی عائشہ (رض) ، حضرت معاویہ (رض) ، حسن (رح)  اور مجاہد (رح)  وغیرہ ائمہ تفسیر نے اس جگہ (آیت۔61) فتنہ سے مراد فتنۂ ارتداد لیا ہے۔ جب رسول اللہ
نے شب معراج میں بیت المقدس اور وہاں سے آسمانوں پر جانے اور صبح سے پہلے واپس آنے کا ذکر کیا تو کچھ نو مسلم لوگ، جن میں ایمان راسخ نہیں ہوا تھا، اس بات کی تکذیب کر کے مرتد ہو گئے۔

 اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ لفظ رؤیا عربی زبان میں اگرچہ خواب کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن اس جگہ اس سے مراد خواب نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو لوگوں کے مرتد ہو جانے کی کوئی وجہ نہیں تھی کیونکہ خواب کو ہر شخص ایسے دیکھ سکتا ہے۔ بلکہ اس جگہ رؤیا سے مراد ایک واقعہ کو بحالت بیداری دکھانا ہے۔ (معارف القرآن)

 لغت کٹے ہوئے درخت سے مراد زقوم ہے۔ جب رسول اللہ
نے خبر دی کہ دوزخیوں کو زقوم کا درخت کھلایا جائے گا اور آپؐ نے اسے دیکھا ہے (شب معراج میں) تو کافروں نے اسے سچ نہ مانا اور مذاق اڑایا (کہ دوزخ میں اتنی آگ ہوگی تو وہاں درخت کیسے اگے کا)۔ (ابن کثیر (رح) )

قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا  62؀
[قَالَ: اس نے کہا] [اَرَءَيْتَكَ: بھلا تو دیکھ تو سہی] [هٰذَا الَّذِي: یہ وہ ہے جس کو] [كَرَّمْتَ: تو نے معزز کیا] [عَلَيَّ: مجھ پر] [لَىِٕنْ: یقینا اگر] [اَخَّرْتَنِ: تو نے مہلت دی مجھ کو] [اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ: قیامت کے دن تک] [لَاَحْتَنِكَنَّ: تو میں لازماً قابو پالوں گا] [ذُرِّيَّتَهٗٓ: اس کی اولاد پر] [اِلَّا: سوائے] [قَلِيْلًا: تھوڑے سے (ان میں سے)]

 

ح ن ک

 [حَنْکًا: (ن۔ ض) ] (1) کسی چیز کو چبا کر نرم کرنا۔ (2) گھوڑے کے منھ میں لگام دے کر اسے قابو میں کرنا۔

(افتعال) اِحْتِنَاکًا (1) اہتمام سے چبا کر چٹ کر جانا جیسے ٹڈی دل کاشت کو کھا کر صاف کر دیتا ہے۔ (2) کسی پر غالب ہونا۔ پوری طرح قابو پانا۔ زیر مطالعہ آیت۔62۔

 

ترکیب: (آیت۔62) اَرَئَ یْتَکَ میں ضمیر فدک، ضمیر مفعولی نہیں ہے بلکہ ضمیر زائدہ ہے اور اس کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ یہ پورا افقرہ عربی محاورہ ہے جس کے معنی ہیں ’’ بھلا دیکھ تو سہی۔‘‘ قَلِیْلًا کے آگے مِنْھُمْ محذوف ہے۔ (آیت۔63)۔ اِذْھَبْ کے آگے انت مؤخر محذوف ہے۔

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاۗؤُكُمْ جَزَاۗءً مَّوْفُوْرًا 63؀
[قَالَ: (اللہ نے) کہا] [اذْهَبْ: دفع ہو جا (تو مہلت دیا ہوا ہے)] [فَمَنْ: پس جو] [تَبِعَكَ: پیروی کرے گا تیری] [مِنْهُمْ: ان میں سے] [فَان: تو یقینا] [جَهَنَّمَ: جہنم ] [جَزَاۗؤُكُمْ: تم لوگوں کا بدلہ ہے] [جَزَاۗءً مَّوْفُوْرًا: مکمل بدلہ ہوتے ہوئے]

 

و ف ر

 [وَفْرًا: (ض) ] زیادہ کرنا۔ پورا کرنا۔

 مَوْفُوْرٌ اسم المفعول ہے۔ پورا کیا ہوا۔ مکمل کیا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔63

وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْـتَـطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَاَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ ۭ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا 64؀
[وَاسْتَفْزِزْ: اور تو ڈگمگا لے] [مَنِ: اس کو جس پر] [اسْـتَـطَعْتَ: تیرا بس چلے] [مِنْهُمْ: ان میں سے] [بِصَوْتِكَ: اپنی آواز سے] [وَاَجْلِبْ: اور تو چڑھا لا] [عَلَيْهِمْ: ان پر] [بِخَيْلِكَ: اپنے سواروں کو] [وَرَجِلِكَ: اور اپنے پیادوں کو] [وَشَارِكْهُمْ: اور تو ساجھی بن ان کا] [فِي الْاَمْوَالِ: مالوں میں] [وَالْاَوْلَادِ: اور اولاد میں] [وَ: اور] [عِدْ: تو وعدہ دے] [هُمْ: ان کو] [وَمَا يَعِدُ: اور وعدہ نہیں دیتا] [هُمُ: ان کو] [الشَّيْطٰنُ: شیطان] [اِلَّا: سوائے] [غُرُوْرًا: فریبوں کے]

 

ف ز ز

 [فَزًّا: (ن) ہوش اڑا دینا۔ کسی کو گھبرا کر اس کی جگہ سے ہٹا دینا۔

(استفعال) اِسْتِفْزَازًا مضطرب کر دینا۔ جگہ سے ہٹا دینا۔ زیر مطالعہ آیت۔64

ص و ت

 [صَوْتًا: (ن) ] آواز نکالنا

 صَوْتٌ ج اَصْوَاتٌ۔ آواز۔ زیر مطالعہ آیت۔64۔

ج ل ب

 [جَلْبًا: (ن۔ ض) ] (1) ہانک کرلے آنا۔ (2) زخم اچھا ہوتے وقت اس پر جھلی کا پردہ آنا۔

 جِلْبَابٌ ج جَلَابِیْبُ۔ چادر۔ اوڑھنی۔ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ (وہ خواتین نزدیک کرلیں اپنے اوپر اپنی اوڑھنیوں میں سے) 33:59۔

(افعال) اِجْلَابًا ہانک کرلے آنا۔ چڑھا لانا۔ زیر مطالعہ آیت۔64۔

اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ ۭ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا  65؀
[ان: بیشک] [عِبَادِيْ: میرے بندے (جو ہیں)] [لَيْسَ: نہیں ہے] [لَكَ: تیرے لئے] [عَلَيْهِمْ: ان پر] [سُلْطٰنٌ: کوئی اختیار] [وَكَفٰى: اور کافی ہے] [بِرَبِكَ: آپؐ کا رب] [وَكِيْلًا: بطور کارساز کے]

رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ  ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا  66؀
[رَبُّكُمُ: تمھارا رب] [الَّذِي: وہ ہے جو] [يُزْجِيْ: چلاتا ہے] [لَكُمُ: تمھارے لئے] [الْفُلْكَ: کشتی کو] [فِي الْبَحْرِ: سمندر میں] [لِتَبْتَغُوْا: تاکہ تم لوگ تلاش کرو] [مِنْ فَضْلِهٖ: اس کے فضل میں سے] [انهٗ: بیشک وہ] [كَان: ہے] [بِكُمْ: تم لوگوں پر] [رَحِـيْمًا: ہر حال میں رحم کرنے والا]

وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ  ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ  ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا  67؀
[وَاِذَا: اور جب بھی] [مَسَّكُمُ: چھوتی ہے تم لوگوں کو] [الضُّرُّ: تکلیف (یعنی آفت)] [فِي الْبَحْرِ: سمندر میں] [ضَلَّ: تو گم ہو جاتے ہیں] [مَنْ: وہ جن کو] [تَدْعُوْنَ: تم لوگ پکارتے ہو] [اِلَّآ: مگر] [اِيَّاهُ: اس (اللہ) کو ہی (پکارتے ہو)] [فَلَمَا: پھر جب] [نَجّٰىكُمْ: وہ نجات دیتا ہے تم کو] [اِلَى الْبَرِّ: خشکی کی طرف] [اَعْرَضْتم: تو تم لوگ بےرخی برتے ہو] [وَكَان: اور ہے] [الْانسَان: انسان] [كَفُوْرًا: ہے انتہا ناشکری کرنے والا]

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا  68؀ۙ
[اَفَاَمِنْتم: تو کیا تم لوگ امن میں ہو] [ان: (اس سے) کہ] [يَّخْسِفَ: وہ دھنسا دے] [بِكُمْ: تمھارے ساتھ] [جانب الْبَرِّ: خشکی کے کنارے کو] [اَوْ: یا] [يُرْسِلَ: وہ بھیج دے] [عَلَيْكُمْ: تم لوگوں پر] [حَاصِبًا: کنکریاں مارنے والی تند ہوا کو] [ثُمَّ: پھر] [لَا تَجِدُوْا: تم لوگ نہیں پائو گے] [لَكُمْ: اپنے لئے] [وَكِيْلًا: کوئی کارساز]

 

ح ص ب

 [حَصْبًا: (ن۔ ض) ] کنکری سے مارنا۔ فرش بنانے کے لئے چھوٹے پتھر بچھانا۔

 حَصَبٌ اسم ذات ہے۔ چھوٹے پتھر۔ ایندھن۔ اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ (بیشک تم لوگ اور وہ جس کی تم لوگ پرستش کرتے ہو، اللہ کے علاوہ، (وہ سب) جہنم کا ایندھن ہیں) 21:98

 حَاصِبٌ اسم الفاعل ہے۔ کنکری مارنے والا۔ پھر زیادہ تر کنکریاں اڑانے والی تند ہوا کے لئے آتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔68۔

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ يُّعِيْدَكُمْ فِيْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيْحِ فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ  ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا  69؀
[اَمْ: یا] [اَمِنْتم: تم لوگ امن میں ہو] [ان: (اس سے) کہ] [يُّعِيْدَ: واپس لے جائے] [كُمْ: تم کو] [فِيْهِ: اسی (سمندر) میں] [تَارَةً اُخْرٰى: دوسری مرتبہ] [فَيُرْسِلَ: پھر وہ بھیجے] [عَلَيْكُمْ: تم لوگوں پر] [قَاصِفًا: توڑنے والی شدید ہوا] [مِّنَ الرِّيْحِ: ہوا میں سے] [فَيُغْرِقَكُمْ: نتیجۃً وہ غرق کر دے تم کو] [بِمَا: بسبب اس کے جو] [كَفَرْتم: تم نے ناشکری کی] [ثُمَّ: پھر ] [لَا تَجِدُوْا: تم لوگ نہیں پائو گے] [لَكُمْ: اپنے لئے] [عَلَيْنَا: ہمارے خلاف] [بِهٖ: اس کے سبب سے] [تَبِيْعًا: کوئی پیچھے لگنے والا]

 

ت ء ر

تَارًا جھڑکنا۔ دھمکانا۔

 تَارَۃٌ ایک مرتبہ۔ ایک دفعہ (کثرت استعمال کی وجہ سے اس کا ہمزہ الف میں تبدیل ہو گیا ہے) زیر مطالعہ آیت۔69۔

ق ص ف

 [قَصْفًا: (ض) ] کسی چیز کو توڑنا۔

 قَاصِفٌ اسم الفاعل سے۔ توڑنے والا۔ پھر زیادہ تر درختوں اور عمارتوں کو توڑ دینے والی شدید ہوا کے لئے آتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔69۔

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا  70؀ۧ
[وَلَقَدْ كَرَّمْنَا: اور بیشک ہم نے معزز کیا ہے] [بَنِيْٓ اٰدَمَ: آدمؑ کے بیٹوں کو] [وَحَمَلْنٰهُمْ: اور ہم نے سواری دی ان کو] [فِي الْبَرِّ: خشکی میں] [وَالْبَحْرِ: اور سمندر میں] [وَرَزَقْنٰهُمْ: اور ہم نے رزق دیا ان کو] [مِّنَ الطَّيِّبٰتِ: پاکیزہ (چیزوں) میں سے] [وَفَضَّلْنٰهُمْ: اور ہم نے فضیلت دی ان کو] [عَلٰي كَثِيْرٍ: اکثر پر] [مِّمَنْ: ان میں سے جن کو] [خَلَقْنَا: ہم نے پیدا کیا] [تَفْضِيْلًا: جیسے فضیلت دیتے ہیں]

يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا  71؀
[يَوْمَ: جس دن] [نَدْعُوْا: ہم بلائیں گے] [كُلَّ اناسٍۢ: ہرگروہ کو] [بِاِمَامِهِمْ: ان کے ریکارڈ کے ساتھ] [فَمَنْ: پس وہ جس کو] [اُوْتِيَ: دی گئی] [كِتٰبَهٗ: اس کی کتاب] [بِيَمِيْنِهٖ: اس کے داہنے ہاتھ میں] [فَاُولٰۗىِٕكَ: تو وہ لوگ] [يَقْرَءُوْنَ: پڑھیں گے] [كِتٰبَهُمْ: اپنی کی کتاب] [وَلَا يُظْلَمُوْنَ: اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا] [فَتِيْلًا: کسی دھاگے برابر بھی]

 

نوٹ۔1: آیت نمبر۔2:78 کی لغت میں ہم بتا چکے ہیں کہ قرآن مجید میں لفظ ’’ امام‘‘ تین معانی میں استعمال ہوا ہے۔ (1) راستہ، (2) ریکارڈ اور (3) پیشوا۔ ہم نے جو بھی دوچار تفاسیر دیکھی ہیں ان سب نے زیرِ مطالعہ آیت۔71 میں بِاِمَامِھِمْ کا ترجمہ کیا ہے۔ ’’ ان کے امام : سرداروں : پیشوائوں کے ساتھ۔‘‘ ابن کثیر کے مترجم نے بھی یہی ترجمہ کیا ہے۔ لیکن ابن کثیر (رح)  نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ امام سے مراد یہاں نبی ہیں۔ ہر امت قیامت کے دن اپنے نبی کے ساتھ بلائی جائے گی۔ ابن زید کہتے ہیں یہاں امام سے مراد کتاب خدا ہے جو ان کی شریعت کے بارے میں اتری تھی۔ ابن جریر اس تفسیر کو بہت پسند فرماتے ہیں اور اسی کو مختار کہتے ہیں۔ مجاہد کہتے ہیں اس سے مراد ان کی کتابیں ہیں۔ ممکن ہے کتاب سے مراد یا تو احکام کی کتاب خدا ہو یا نامۂ اعمال ہو۔ چنانچہ ابن عباس  (رض)  اس سے اعمال نامہ مراد لیتے ہیں۔ ابو العالیہ، حسن اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ تر ترجیح والا قول ہے۔ ابن کثیر (رح)  کی اس تفسیر کی بنیاد پر ہم نے بِاِمَامِھِمْ کا ترجمہ کیا ہے ’’ ان کے ریکارڈ کے ساتھ۔‘‘

نوٹ۔2: مخالفین نے رسول اللہ
کے آگے یہ تجویز پیش کی کہ اگر فلاں فلاں احکام میں ترمیم کر دیں تو ہم یہ دعوت قبول کر لیتے ہیں پھر ہم اور آپؐ گہرے دوست بن کر رہیں گے۔ آپؐ کے لئے یہ بڑا ہی سخت مرحلہ تھا۔ ایک طرف اللہ کے احکام تھے جن میں ایک نطقہ کے برابر بھی آپؐ ترمیم کرنے کے مجاز نہ تھے۔ دوسری طرف آپؐ اپنی قوم کے ایمان کی شدید خواہش رکھتے تھے اور کسی ایسے موقع کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہتے تھے جس سے قوم کے ایمان کی راہ پر پڑنے کی امید بندھتی ہو۔ اس صورتحال نے آپؐ کو تذبذب میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس نازک مرحلے میں اپنے پیغمبر کی دستگیری فرمائی اور آپؐ کو تذبذب سے نکال کر صحیح شاہراہ پر کھڑا کر دیا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ نبی کے معصوم ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس کو کوئی تذبذب کی حالت پیش نہیں آتی یا کوئی غلط میلان اس کے دل میں فطور نہیں کرتا بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ اوّل تو اس کا میلان کبھی جانبِ نفس نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ خیر کی جانب ہوتا ہے، دوسرے یہ کہ جانبِ خیر میں بھی اگر وہ کوئی ایسا قدم اٹھاتا نظر آتا ہے جو صحیح نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کو بچا لیتا ہے اور صحیح سمت میں اس کی رہنمائی فرما دیتا ہے۔ (تدبر قرآن)

وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًا  72؀
[وَمَنْ: اور وہ جو] [كَان: تھا] [فِيْ هٰذِهٖٓ: اس (دنیا) میں] [اَعْمٰى: اندھا] [فَهُوَ: تو وہ] [فِي الْاٰخِرَةِ: آخرت میں (بھی)] [اَعْمٰى: اندھا ہو گا] [وَاَضَلُّ: اور (وہ) زیادہ گمراہ ہو گا] [سَبِيْلًا: بلحاظ راستہ کے]

وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهٗ ڰ وَاِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِيْلًا 73؀
[وَان: اور بیشک] [كَادُوْا: وہ لوگ قریب تھے کہ] [لَيَفْتِنُوْنَكَ: وہ ضرور پھسلا دیں آپؐ کو] [عَنِ الَّذِيٓ: اس سے جو] [اَوْحَيْنَآ: ہم نے وحی کیا] [اِلَيْكَ: آپؐ کی طرف] [لِتَفْتَرِيَ: تاکہ آپؐ گھڑیں] [عَلَيْنَا: ہم پر] [غَيْرَهٗ: اس (وحی) کے علاوہ] [وَاِذًا: اور تب تو] [لَّاتَّخَذُوْكَ: وہ ضرور بنا لیں گے آپؐ کو] [خَلِيْلًا: ایک قریبی دوست]

وَلَوْلَآ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَيْهِمْ شَـيْــــًٔـا قَلِيْلًا 74؀ڎ
[وَلَوْلَآ: اگر نہ ہوتا] [ان: کہ] [ثَبَّتْنٰكَ: ہم جما دیں آپؐ کو] [لَقَدْ كِدْتَّ: تو بیشک آپؐ قریب ہو چکے تھے کہ] [تَرْكَنُ: آپؐ مائل ہو جائیں] [اِلَيْهِمْ: ان کی طرف] [شَـيْــــًٔـا قَلِيْلًا: تھوڑا سا]

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيْرًا  75؀
[اِذًا: تب تو] [لَّاَذَقْنٰكَ: ہم ضرور چکھاتے آپؐ کو] [ضِعْفَ الْحَيٰوةِ: زندگی (کے عذاب) کا دوگنا] [وَضِعْفَ الْمَمَاتِ: اور موت (کے عذاب) کا دوگنا] [ثُمَّ: پھر] [لَا تَجِدُ: آپؐ نہ پاتے] [لَكَ: اپنے لئے] [عَلَيْنَا: ہمارے خلاف] [نَصِيْرًا: کوئی مدد کرنے والا]

وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا  76؀
[وَان: اور بیشک] [كَادُوْا: وہ لوگ قریب تھے کہ] [لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ: وہ ضرور اکھاڑ دیں آپؐ کو] [مِنَ الْاَرْضِ: اس زمین پر سے (یعنی مکہ سے)] [لِيُخْرِجوكَ: تاکہ وہ لوگ نکال دیں آپؐ کو] [مِنْهَا: اس (زمین) سے] [وَاِذًا: اور تب تو] [لَّا يَلْبَثُوْنَ: وہ لوگ نہ ٹھہرتے] [خِلٰفَكَ: آپؐ کے پیچھے] [اِلَّا: مگر] [قَلِيْلًا: تھوڑا سا]

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيْلًا  77؀ۧ
[سُنَّةَ مَنْ: (آپؐ مستخضر رکھیں) ان کی سنت کو جن کو] [قَدْ اَرْسَلْنَا: ہم بھیج چکے ہیں] [قَبْلَكَ: آپؐ سے پہلے] [مِنْ رُّسُلِنَا: اپنے پیغمبروں میں سے] [وَلَا تَجِدُ: اور آپؐ نہیں پائیں گے] [لِسُنَّتِنَا: ہمارے سنت کے لئے] [تَحْوِيْلًا: کوئی تبدیلی کرنا]

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ ۭ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا  78؀
[اَقِمِ: آپؐ قائم کریں] [الصَّلٰوةَ: نماز کو] [لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ: سورج کے ڈھلنے سے] [اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ: رات کے تاریک ہونے تک] [وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ: اور فجر کے قرآن کو (قائم کریں)] [ان: بیشک] [قُرْاٰنَ الْفَجْرِ: فجر کا قرآن] [كَان: ہے] [مَشْهُوْدًا: موجود کیا ہوا]

 

د ل ک

 دَلْکًا ملنا۔ رگڑنا

 دُلُوْکًا جھکنا۔ ڈھلنا۔ زیر مطالعہ آیت۔78۔

غ س ق

 [غَسَقًا: (ض) ] تاریک ہونا۔ اندھیرا ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔78۔

 غَاسِقٌ اسم الفاعل ہے۔ تاریک ہونے والا۔ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَ قَبَ (اور تاریک ہونے والے کے شر سے جب وہ گہرا ہو) 113:3

 [غَسَقَانًا: (س) ] آنکھ میں آنسو ڈبڈبانا۔ زخم میں پیپ بھرنا۔

 غَسَّاقٌ بار بار بھرنے والی یعنی بہنے والی پیپ۔ وَلَا شَرَابًا اِلَّا صَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًا (اور نہ ہی پینے کی کوئی چیز سوائے گرم پانی کے اور پیپ کے) 78:24۔25

 

ترکیب: (آیت۔78) قرآن کی نصب بتا رہی ہے کہ یہ اقِمْ پر عطف ہے۔

 

نوٹ۔1: آیت۔78 میں مجملا یہ بتا دیا گیا کہ پنج وقتہ نماز، جو معراج کے موقع پر فرض کی گئی تھی، اس کے اوقات کی تنظیم کس طرح کی جائے۔ حکم ہوا کہ ایک نماز تو طلوع آفتاب سے پہلے پڑھ لی جائے، اور باقی چار نمازیں زوالِ آفتاب کے بعد سے ظلمت شب تک پڑھی جائیں۔ پھر اس حکم کی تشریح کے لئے جبریل ؑ بھیجے گئے جنھوں نے نماز کے ٹھیک ٹھیک اوقات کی تعلیم نبی
کو دی۔ چنانچہ نبی نے فرمایا کہ جبریل ؑ نے دو مرتبہ مجھ کو بیت اللہ کے قریب نماز پڑھائی۔ پہلے دن ظہر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جبکہ سورج ابھی ڈھلا ہی تھا اور سایہ ایک جوتی کے تسمے سے زیادہ دراز نہ تھا۔ پھر عصر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر تھا۔ پھر مغرب کی نماز ٹھیک اس وقت پڑھائی جبکہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے۔ پھر عشاء کی نماز شفق غائب ہوتے ہی پڑھا دی اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جبکہ روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے۔ دوسرے دن انھوں نے ظہر کی نماز مجھے اس وقت پڑھائی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر تھا۔ اور عصر کی نماز اس وقت جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد سے دوگنا ہو گیا اور مغرب کی نماز اس وقت جبکہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے اور عشاء کی نماز ایک تہائی رات گزر جانے پر اور فجر کی نماز اچھی طرح روشنی پھیل جانے پر۔ پھر جبریل ؑ نے پلٹ کر مجھ سے کہا کہ اے محمد ( ) یہ ہی اوقات انبیاء کے نماز پڑھنے کے ہیں اور نمازوں کے صحیح اوقات ان دونوں وقتوں کے درمیان ہیں۔ (تفہیم القرآن)

وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا  79؀
[وَمِنَ الَّيْلِ: اور رات میں سے] [فَتَهَجَّدْ: پھر آپؐ بیدار ہیں] [بِهٖ: اس (قرآن) کے ساتھ] [نَافِلَةً: اضافی ہوتے ہوئے] [لَّكَ: آپؐ کے لئے] [عَسٰٓي: ہو سکتا ہے] [ان: کہ] [يَّبْعَثَكَ: پہنچائے آپؐ کو] [رَبُّكَ: آپؐ کا رب] [مَقَامًا مَّحْمُوْدًا: مقام محمود تک]

 

ھـ ج د

 [ھُجُوْرًا: (ن) ] (1) نیند میں سونا۔ (2) نیند سے جاگنا۔

(تفعل) تَھَجُّدًا (1) بتکلف سونا۔ (2) بتکلف جاگنا۔ بیدار رہنا۔ زیر مطالعہ۔ آیت 79۔

 

(آیت۔79) فَتَھَجَّدْبِہٖ میں ہٖ کی ضمیر قرآن کے لئے ہے۔ مَقَامًا مَحْمُوْدًا ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔

 

نوٹ۔2: مقام محمود تک پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ تم کو ایسے مرتبے پر پہنچا دے جہاں تم محمود خلائق ہو کر رہو۔ ہر طرف سے تم پر مدح و ستائش کی بارش ہو۔ آج تمھارے مخالفین نے تم کو بدنام کرنے کے لئے جھوٹے الزامات کا ایک طوفان برپا کر رکھا ہے، مگر وہ وقت دور نہیں ہے جب دنیا تمھاری تعریفوں سے گونج اٹھے گی اور آخرت میں بھی تم ساری خلق کے ممدوح ہو گے۔ قیامت کے دن نبی
کا مقام شفاعت پر کھڑا ہونا بھی اسی مرتبۂ محمودیں کا ایک حصّہ ہے۔ (تفہیم القرآن)

وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا  80؀
[وَقُلْ: اور آپؐ کہیے] [رَّبِ: اے میرے رب] [اَدْخِلْنِيْ: تو داخل کر مجھ کو] [مُدْخَلَ صِدْقٍ: سچائی کا داخل کرنا] [وَّاَخْرِجْنِيْ: اور تو نکال مجھ کو] [مُخْــرَجَ صِدْقٍ: سچائی کا نکالنا] [وَّاجْعَلْ: اور تو بنا] [لِيْ: میرے لئے] [مِنْ لَّدُنْكَ: اپنے پاس سے] [سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا: ایک مددگار قوت]

 

(آیت۔80)۔ مادہ ’’ د خ ل‘‘ سے باب افعال میں اِدْخَالًا کے علاوہ ایک مصدر مُدْخَلًا بھی آتا ہے۔ جبکہ باب افعال میں اس کا اسم المفعول بھی مُدْخَلٌ ہے جو کہ ظرف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لئے مُدْخَلَ صِدْقٍ کے دونوں طرح کے ترجمے درست ہوں گے۔ ہم مصدر کے لحاظ سے ترجمہ کو ترجیح دیں گے۔ اسی طرح مُخَرَجَ صِدْقٍ کا ترجمہ بھی مصدر کے لحاظ سے کریں گے۔

وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا  81؀
[وَقُلْ: اور آپؐ کہیے] [جَاۗءَ: آیا] [الْحَقُّ: حق] [وَزَهَقَ: اور نابود ہوا] [الْبَاطِلُ: باطل] [ان: بیشک] [الْبَاطِلَ: باطل] [كَان: ہے] [زَهُوْقًا: بالکل نابود ہونے والا]

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا 82؀
[وَنُنَزِّلُ: اور ہم اتارتے ہیں] [مِنَ الْقُرْاٰنِ: قرآن میں سے] [مَا: اس کو] [هُوَ: جو] [شِفَاۗءٌ: شفا ہے] [وَّرَحْمَةٌ: اور رحمت ہے] [لِلْمُؤْمِنِيْنَ: ایمان لانے والوں کے لئے] [وَلَا يَزِيْدُ: اور وہ (یعنی قرآن) زیادہ نہیں کرتا] [الظّٰلِمِيْنَ: ظالموں کو] [اِلَّا: مگر] [خَسَارًا: بلحاظ خسارے کے]

 

(آیت۔82)۔ وَلَا یَزِیْدُ میں شامل ھُوَ کی ضمیر فاعلی القرآن کے لئے ہے۔

وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَي الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ ۚ وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَـــــُٔوْسًا 83؀
[وَاِذَآ: اور جب بھی] [انعَمْنَا: ہم نعمت نچھاور کرتے ہیں] [عَلَي الْانسَان: انسان پر] [اَعْرَضَ: تو وہ منہ پھیر لیتا ہے] [وَنَاٰ: اور موڑ لیتا ہے] [بِجانبهٖ: اپنے پہلو کو] [وَاِذَا: اور جب بھی] [مَسَّهُ: چھوتی ہے اس کو] [الشَّرُّ: تکلیف] [كَان: تو وہ ہوتا ہے] [يَـــــُٔوْسًا: انتہائی مایوس]

قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ ۭ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا  84؀ۧ
[قُلْ: آپؐ کہیے] [كُلٌّ: سب (لوگ)] [يَّعْمَلُ: عمل کرتے ہیں] [عَلٰي شَاكِلَتِهٖ: اپنی طبیعت پر] [فَرَبُّكُمْ: تو تم لوگوں کا رب] [اَعْلَمُ: خوب جاننے والا ہے] [بِمَنْ: اس کو] [هُوَ: جو] [اَهْدٰى: زیادہ ہدایت پر ہے] [سَبِيْلًا: بلحاظ راستے کے]

 

ش ک ل

(ن) شَکْلًا شکل و صورت میں مشابہت ہونا۔ ملتا جلتا ہونا۔ وَاٰخَرُ مِنْ شَکْلِہٖ اَزْوَاجٌ (اور دوسرے اس کے ملتے جلتے سے کچھ جوڑے) 38:58

 شَاکِلَۃٌ اسم الفاعل شاکل کا مؤنث ہے۔ مشابہہ ہونے والی۔ پھر اس سے مراد لیتے ہیں آدمی کی طبیعت و مزاج کیونکہ اس کا عمل اس کے مطابق ہوتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔84

وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ  ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا  85؀
[وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ: اور وہ لوگ پوچھتے ہیں آپؐ سے] [عَنِ الرُّوْحِ: روح کے بارے میں] [قُلِ: آپؐ کہیے] [الرُّوْحُ: روح] [مِنْ اَمْرِ رَبِيْ: میرے رب کے حکم سے ہے] [وَمَآ اُوْتِيْتم: اور تم لوگوں کو نہیں دیا گیا] [مِّنَ الْعِلْمِ: علم میں سے] [اِلَّا: مگر] [قَلِيْلًا: تھوڑا سا]

 

نوٹ۔1: روح کے متعلق جتنی بات کا بتانا ضروری تھا، اور جو لوگوں کی سمجھ میں آنے کے قابل ہے صرف وہ بتا دی گئی اور روا کی مکمل حقیقت جس کا سوال تھا اس کو اس لئے نہیں بتایا کہ وہ لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے۔ اور ان کی کوئی ضرورت اس کے سمجھنے پر موقوف نہیں تھی۔ اس علم کے ساتھ ان کا کوئی دینی یا دنیوی کام اٹکا ہوا نہیں ہے۔ اس لئے سوال کا یہ حصّہ فضول اور لایعنی قرار دے کر اس کا جواب نہیں دیاگیا۔ پھر اگلی آیت میں یہ بھی بتا دیا گیا کہ انسان کو جس قدر بھی علم ملا ہے وہ اس کی ذاتی جاگیر نہیں ہے۔ اللہ چاہے تو اس کو بھی سلب کرسکتا ہے۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ موجودہ علم پر اللہ کا شکر ادا کرے اور فضول و لایعنی تحقیقات میں وقت ضائع نہ کرے۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)

وَلَىِٕنْ شِـئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَيْنَا وَكِيْلًا  86؀ۙ
[وَلَىِٕنْ: اور بیشک اگر] [شِـئْنَا: ہم چاہتے] [لَنَذْهَبَنَّ: تو ہم لازماً لے جاتے] [بِالَّذِيٓ: اس کو جو] [اَوْحَيْنَآ: ہم نے وحی کیا] [اِلَيْكَ: آپؐ کی طرف] [ثُمَّ: پھر] [لَا تَجِدُ: آپؐ نہ پاتے] [لَكَ: اپنے لئے] [بِهٖ: اس کے سبب سے] [عَلَيْنَا: ہمارے خلاف] [وَكِيْلًا: کوئی کارساز]

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا  87؀
[اِلَّا: سوائے ] [رَحْمَةً: اس رحمت کے جو] [مِّنْ رَّبِكَ: آپؐ کے رب (کی طرف) سے ہو] [ان: بیشک] [فَضْلَهٗ: اس کا فضل ] [كَان: ہے] [عَلَيْكَ: آپؐ پر] [كَبِيْرًا: بڑا]

قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا 88؀
[قُلْ: آپؐ کہیے] [لَّىِٕنِ: بیشک اگر] [اجْتمعَتِ: اکٹھا ہو جائیں] [الْانسُ: تمام انسان] [وَالْجِنُّ: اور تجن] [عَلٰٓي ان: اس پر کہ] [يَّاْتُوْا: وہ لوگ لائیں] [بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ: اس قرآن کے مانند] [لَا يَاْتُوْنَ: تو وہ نہ لا سکیں گے] [بِمِثْلِهٖ: اس کے جیسا] [وَلَوْ: اور اگر] [كَان: ہوں ] [بَعْضُهُمْ: ان کے بعض ] [لِبَعْضٍ: بعض کے لئے] [ظَهِيْرًا: مددگار]

وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ  ۡ فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا  89؀
[وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا: اور بیشک پھیر پھیر کر بیان کیا ہے ہم نے] [لِلنَاسِ: لوگوں کے لئے] [فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ: اس قرآن میں] [مِنْ كُلِ مَثَلٍ: ہر ایک مثال سے] [فَاَبٰٓى: تو انکار کیا] [اَكْثَرُ النَاسِ: لوگوں کے اکثر نے (سب کا)] [اِلَّا: سوائے] [كُفُوْرًا: ناشکری کرنے کے]

وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا  90۝ۙ
[وَقَالُوْا: اور انھوں نے کہا] [لَنْ نُّؤْمِنَ: ہم ہرگز نہیں مانیں گے] [لَكَ: آپؐ کی بات] [حَتّٰى: یہاں تک کہ] [تَفْجُرَ: آپؐ پھاڑ کر بہا دیں] [لَنَا: ہمارے لئے] [مِنَ الْاَرْضِ: زمین سے] [يَنْۢبُوْعًا: ایک چشمہ]

 

ن ب ع

 [نَبْعًا: (ن۔ س) ] پانی کا تھوڑا تھوڑا نکلنا۔ چشم جاری ہونا۔

 بَنْبُوْعٌ ج یَنَابِیْعُ۔ اسم ذات ہے۔ چشمہ۔ زیر مطالعہ آیت۔90۔ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً فَلَکَہٗ یَنَا بِیْعَ فِی الْاَرْضِ (کیا تو نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے اتارا آسمان سے کچھ پانی پھر اس نے چلایا اس کو چشمے ہوتے ہوئے زمین میں) 39:21۔

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا  91۝ۙ
[اَوْ: یا] [تَكُوْنَ: (یہاں تک کہ) ہو] [لَكَ: آپؐ کے لئے] [جَنَّةٌ: ایک باغ] [مِّنْ نَّخِيْلٍ: کھجوروں میں سے] [وَّعِنَبٍ: اور انگور میں سے] [فَتُفَجِّرَ: پھر (یہاں تک کہ) آپؐ جاری کریں] [الْانهٰرَ: نہریں] [خِلٰلَهَا: ان کے درمیان سے] [تَفْجِيْرًا: جیسے جاری کرتے ہیں]

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ بِاللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا  92۝ۙ
[اَوْ: یا] [تُسْقِطَ: (یہاں تک کہ) آپؐ گرائیں] [السَّمَاۗءَ: آسمان کو] [كَمَا: جیسا کہ] [زَعَمْتَ: آپؐ نے جتایا] [عَلَيْنَا: ہم پر] [كِسَفًا: ٹکڑے ٹکڑے ہوتے ہوئے] [اَوْ: یا] [تَاْتِيَ: (یہاں تک کہ) آپؐ لائیں] [بِاللّٰهِ: اللہ کو] [وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ: اور فرشتوں کو] [قَبِيْلًا: ایک جماعت ہوتے ہوئے]

 

ک س ف

 [کَسْفًا: (ض) ] (1) کپڑے کاٹنا۔ (2) اللہ تعالیٰ کا چاند یا سورج کو گرہن لگانا۔

 کِسْفٌ ج کِسَفٌ کسی چیز کا ٹکڑا۔ وَاِنْ یَّرَوْا کِسْفًا مِّنَ السَّمَائِ سَاقِطًا (اور اگر وہ لوگ دیکھیں کوئی ٹکڑا آسمان سے گرتا ہوا ) 52:44۔ زیر مطالعہ آیت۔92

اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ  ۭ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا  93؀ۧ
[اَوْ: یا] [يَكُوْنَ: (یہاں تک کہ) ہو] [لَكَ: آپؐ کے لئے] [بَيْتٌ: ایک گھر] [مِّنْ زُخْرُفٍ: سونے میں سے] [اَوْ: یا] [تَرْقٰى: (یہاں تک کہ) آپؐ چڑھیں] [فِي السَّمَاۗءِ: آسمان میں] [وَلَنْ نُّؤْمِنَ: اور ہم ہرگز نہیں مانیں گے] [لِرُقِيِّكَ: آپؐ کے چڑھنے کو ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ] [تُنَزِّلَ: آپؐ اتاریں] [عَلَيْنَا: ہم پر] [كِتٰبًا: ایک ایسی کتاب] [نَّقْرَؤُهٗ: ہم پڑھیں جس کو] [قُلْ: آپؐ کہہ دیجئے] [سُبْحَان : پاکیزگی] [رَبِيْ: میرے رب کی ہے] [هَلْ كُنْتُ: میں کیا ہوں] [اِلَّا: سوائے اس کے کہ] [بَشَرًا رَّسُوْلًا: ایک رسول بشر]

 

ر ق ی

 رُقِیَّمًا کسی چیز پر چڑھنا۔ زیر مطالعہ آیت۔93۔

 تَرْقُوَۃٌ ج تَرَاقِیُ۔ ہنسلی کی ہڈی (کیونکہ سانس پھول کر ہنسلی تک چڑھتی ہے) کَلَّا اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ (ہرگز نہیں! جب وہ یعنی جان پہنچے گی ہنسلیوں تک) 75:26۔

 [رَقْیًا: (ض) ] نفع یا نقصان چڑھانے یعنی پہنچانے کے لئے جھاڑ پھونک کرنا۔

 رَاقٍ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ وَقِیْلَ مَنْ رَاقٍ (اور کہا جائے گا کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا) 75:27

(افتعال) اِرْتِقَائً اہتمام سے چڑھنا۔ فَلْیَرْ تَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ (تو انھیں چاہئے کہ وہ چڑھیں رسیوں میں) 38:10۔

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَاۗءَهُمُ الْهُدٰٓى اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا  94؀
[وَمَا مَنَعَ: اور نہیں روکا] [النَاسَ: لوگوں کو] [ان: کہ ] [يُّؤْمِنُوْٓا: وہ ایمان لائیں] [اِذْ: جب] [جَاۗءَ: آئی] [هُمُ: ان کے پاس] [الْهُدٰٓى: ہدایت ] [اِلَّآ ان: سوائے اس کے کہ] [قَالُوْٓا: انھوں نے کہا] [اَ: کیا] [بَعَثَ: بھیجا] [اللّٰهُ: اللہ نے] [بَشَرًا: ایک بشر کو] [رَّسُوْلًا: بطور رسول کے]

قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا  95؀
[قُلْ: آپؐ کہیے] [لَوْ: اگر] [كَان : ہوتے] [فِي الْاَرْضِ: زمین میں] [مَلٰۗىِٕكَةٌ: فرشتے] [يَّمْشُوْنَ: چلتے ہوئے] [مُطْمَىِٕنِّيْنَ: مطمئن ہونے والے] [لَنَزَّلْنَا: تو ہم ضرور اتارتے] [عَلَيْهِمْ: ان پر] [مِّنَ السَّمَاۗءِ: آسمان سے] [مَلَكًا: ایک فرشتہ] [رَّسُوْلًا: بطور رسول کے]

 

نوٹ۔1: مخالفین کے مطالبات کا جو جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول
کو تلقین فرمایا وہ قابل نظر اور مصلحین امت کے لئے ہمیشہ یاد رکھنے اور لائحہ عمل بنانے کی چیز ہے۔ ان کے مطالبات کے جواب میں نہ تو ان کی بےوقوفی اور مخالفانہ شرارت کا اظہار کیا گیا اور نہ ہی ان پر کوئی فقرہ کسا گیا بلکہ نہایت سادہ الفاظ میں اصل حقیقت کو واضح کردیا گیا کہ تم لوگ شاید یہ سمجھتے ہو کہ جو شخص اللہ کا رسول ہو کر آئے وہ سارے خدائی اختیارات کا مالک ہو۔ یہ خیال غلط ہے۔ رسول کا کام اللہ کا پیغام پہنچانا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی رسالت کو ثابت کرنے کے لئے بہت سے معجزات بھی بھیجتا ہے مگر وہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اختیار سے ہوتا ہے۔ رسول کو خدائی اختیارات نہیں ملتے۔ وہ ایک انسان ہوتا ہے اور انسانی قوت و قدرت سے باہر نہیں ہوتا۔ بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کی امداد کے لئے اپنی قوت قاہرہ کو ظاہر فرما دے۔ (معارف القرآن)

نوٹ۔2: ہر زمانے میں لوگ اسی غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں کہ بشر پیغمبر نہیں ہو سکتا۔ اس لئے جب کوئی رسول آیا تو انھوں نے یہ دیکھ کر کہ کھاتا پیتا ہے، بیوی بچے رکھتا ہے، گوشت پوست کا بنا ہوا ہے، فیصلہ کردیا کہ یہ پیغمبر نہیں ہو سکتا کیونکہ بشر ہے۔ اور جب وہ گزر گیا تو کچھ مدت کے بعد اس کے عقیدت مندوں میں ایسے لوگ پیدا ہونے شروع ہو گئے جو کہنے لگے کہ وہ بشر نہیں تھا کیونکہ وہ پیغمبر تھا۔ چنانچہ کسی نے اس کو خدا بنایا کسی نے اسے خدا کا بیٹا کہا اور کسی نے کہا کہ خدا اس میں حلول کر گیا تھا۔ غرض یہ کہ بشریت اور پیغمبری کا ایک ذات میں جمع ہونا ہمیشہ ایک معمہ ہی بنا رہا۔ (تفہیم القرآن)

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا  96؀
[قُلْ: آپؐ کہیے] [كَفٰى: کافی ہے] [بِاللّٰهِ: اللہ ] [شَهِيْدًۢا: بطور گواہ کے] [بَيْنِيْ: میرے درمیان] [وَبَيْنَكُمْ: اور تمھارے درمیان] [انهٗ: یقینا وہ] [كَان: ہے] [بِعِبَادِهٖ: اپنے بندوں سے] [خَبِيْرًۢا: باخبر رہنے والا] [بَصِيْرًا: دیکھنے والا]

وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۚ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِهٖ  ۭ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا  ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ  ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا  97؀
[وَمَنْ: اور جس کو] [يَّهْدِ: ہدایت دیتا ہے] [اللّٰهُ : اللہ] [فَهُوَ: تو وہ ہی] [الْمُهْتَدِ: ہدایت پانے والا ہے] [وَمَنْ: اور جس کو] [يُّضْلِلْ: وہ گمراہ کرتاہے] [فَلَنْ تَجِدَ: تو آپؐ ہرگز نہیں پائیں] [لَهُمْ: ان کے لئے] [اَوْلِيَاۗءَ: کوئی کارساز] [مِنْ دُوْنِهٖ: اس کے علاوہ] [وَنَحْشُرُهُمْ: اور ہم اکٹھا کریں گے ان کو] [يَوْمَ الْقِيٰمَةِ: قیامت کے دن] [عَلٰي وُجوهِهِمْ: ان کے چہروں پر (یعنی منہ کے بل)] [عُمْيًا: اندھے ہوتے ہوئے] [وَّبُكْمًا: اور گونگے ہوتے ہوئے] [وَّصُمًّا: اور بہرے ہوتے ہوئے] [مَاوٰىهُمْ: ان کا ٹھکانہ] [جَهَنَّمُ: جہنم ہے] [كُلَمَا: جب کبھی] [خَبَتْ: وہ ٹھنڈی ہو گی] [زِدْنٰهُمْ: ہم زیادہ کریں گے ان کو] [سَعِيْرًا: بھڑکتی آگ کے لحاظ سے]

 

ترکیب: (آیت۔97) وَ عَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ میں مَنْ شرطیہ ہے۔ اس لئے مضارع یَھْدِیْ مجزوم ہوا تو اس کی یا گر گئی اور یہ قاعدہ کے مطابق یھد استعمال ہوا۔ لیکن فَھُوَ الْمُھْتَدِ میں لفظ اَلْمُھْتَدِیْ اسم الفاعل ہے اور یہاں یا گرانے کا کوئی عامل نہیں ہے بلکہ یہ ھُوَ کی خبر ہے۔ اس لئے یہ اَلْمُھْتَدِیْ ہی ہے۔ اس جگہ پر اس کی یا کو گرا کر لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔

ذٰلِكَ جَزَاۗؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا  98؀
[ذٰلِكَ: یہ] [جَزَاۗؤُهُمْ: بدلہ ہے ان کا] [بِانهُمْ: اس سبب سے کہ انھوں نے] [كَفَرُوْا: انکار کیا] [بِاٰيٰتِنَا: ہماری نشانیوں کا] [وَقَالُوْٓا: اور کہا] [ءَ: کیا] [اِذَا: جب] [كُنَا: ہم ہو جائیں گے] [عِظَامًا: ہڈیاں] وَّرُفَاتًا: اور چورا] [ءَ: تو کیا] [انا: ہم لوگ] [لَمَبْعُوْثُوْنَ: ضرور ہی اٹھائے جانے والے ہوں گے] [خَلْقًا جَدِيْدًا: ایک نئی مخلوق ہوتے ہوئے]

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيْهِ  ۭ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا  99؀
[اَوَ: اور کیا] [لَمْ يَرَوْا: انھوں نے دیکھا ہی نہیں] [ان: کہ] [اللّٰهَ: اللہ ] [الَّذِي: جس نے ] [خَلَقَ: پیدا کیا] [السَّمٰوٰتِ: آسمانوں کو] [وَالْاَرْضَ: اور زمیں کو] [قَادِرٌ: قدرت رکھنے والا ہے] [عَلٰٓي ان: اس پر کہ] [يَّخْلُقَ: وہ پیدا کرے] [مِثْلَهُمْ: ان کے جیسے] [وَجَعَلَ: اور بنائے (یعنی مقرر کرے)] [لَهُمْ: ان کے لئے] [اَجَلًا: ایک مدت ] [لَّا رَيْبَ: کوئی بھی شک نہ ہو] [فِيْهِ: جس میں] [فَاَبَى: تو (کچھ) نہ مانا] [الظّٰلِمُوْنَ: ظلم کرنے والوں نے] [اِلَّا: سوائے] [كُفُوْرًا: ناشکر گزاریوں کے]

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ  ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا  ١٠٠۝ۧ
[قُلْ: آپؐ کہیے] [لَوْ: اگر] [انتم: تم لوگ] [تملِكُوْنَ: مالک ہوتے] [خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِيْٓ: میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے] [اِذًا: تب تو] [لَّاَمْسَكْتم: تم لوگ ضرور روک کر رکھتے] [خَشْيَةَ الْانفَاقِ: خرچ کرنے کے خوف سے] [وَكَان: اور ہے] [الْانسَان: انسان] [قَتُوْرًا: بہت کنجوسی کرنے والا]

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا  ١٠١؁
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا: اور بیشک ہم نے دی تھیں] [مُوْسٰي: موسٰی ؑ کو] [تِسْعَ: نو] [اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ: واضح نشانیاں] [فَسْــــَٔـلْ: تو آپؐ پوچھیں] [بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ: بنی اسرائیل سے] [اِذْ: جب] [جَاۗءَ: وہؑ آئے] [هُمْ: ان کے پاس] [فَقَالَ: تو کہا] [لَهٗ: انؑ سے] [فِرْعَوْنُ: فرعون نے] [انى: بیشک میں] [لَاَظُنُّكَ: یقینی گمان کرتا ہوں آپؑ کو] [يٰمُوْسٰي: اے موسٰی ؑ] [مَسْحُوْرًا: جادو کیا ہوا]

 

نوٹ۔1: منکرین حدیث نے احادیث پر جو اعتراضات کئے ہیں ان میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ حدیث کی رو سے ایک مرتبہ نبی
پر جادو کا اثر ہو گیا تھا، حالانکہ قرآن کی رو سے آپؐ پر یہ جھوٹا الزام تھا کہ آپؐ ایک سحر زدہ آدمی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح راویانِ حدیث نے قرآن کی تکذیب اور کفار مکہ کی تصدیق کی ہے۔ لیکن دیکھئے کہ یہاں قرآن کی رو سے حضرت موسٰی ؑ پر بھی فرعون کا یہ جھوٹا الزام تھا کہ آپؑ ایک سحر زدہ آدمی ہیں۔ اور پھر قرآن خود ہی سورۃ طٰہٰ کی آیت۔66۔67 میں کہتا ہے کہ جادو کی وجہ سے موسٰی ؑ کو ایسے لگا کہ رسیاں اور لاٹھیاں دوڑ رہی ہیں اور انھوں ؑ نے اپنے جی میں خوف محسوس کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسٰیؑ اس وقت جادو سے متاثر ہو گئے تھے۔ کیا اس کے متعلق بھی منکرین حدیث یہ کہنے کے لئے تیار ہیں کہ یہاں (یعنی زیر مطالعہ آیت۔101 میں) قرآن نے خود اپنی تکذیب اور فرعون کے جھوٹے الزام کی تصدیق کی ہے۔

 دراصل اس طرح کے اعتراضات کرنے والوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ کفار مکہ اور فرعون کس معنی میں نبی
اور حضرت موسٰی ؑ کو مسحور کہتے تھے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ کسی دشمن نے جادو کر کے ان کو دیوانہ بنا دیا ہے جس کے زیر اثر یہ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور ایک نرالا پیغام سناتے ہیں۔ قرآن ان کے اسی الزام کو جھوٹا قرار دیتا ہے۔ رہا وقتی طور پر کسی شخص کا جادو سے متاثر ہو جانا، تو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص کو پتھر مارنے سے چوٹ لگ جائے۔ اس چیز کا نہ قرآن نے الزام لگایا نہ قرآن نے اس کی تردید کی اور نہ اس طرح کے کسی وقتی تاثر سے نبی کے منصب پر کوئی حرف آتا ہے۔ نبی پر اگر زہر کا اثر ہو سکتا ہے، نبی اگر زخمی ہو سکتا ہے، تو اس پر جادو کا اثر بھی ہو سکتا تھا۔ اس سے منصب نبوت پر حرف آنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ منصب نبوت میں اگر قادح ہو سکتی ہے تو یہ بات کہ نبی کے قوائے عقلی و ذہنی جادو سے مغلوب ہو جائیں، یہاں تک کہ اس کا کام اور کلام سب جادو کے زیر اثر ہونے لگے۔ مخالفین حق حضرت موسٰی ؑ پر اور نبی پر یہی الزام لگاتے تھے اور اس کی تردید قرآن نے کی ہے۔ (تفہیم القرآن)

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ۚ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا  ١٠٢؁
[قَالَ: انھوںؑ نے کہا] [لَقَدْ عَلِمْتَ: بیشک تو جان چکا ہے] [مَآ انزَلَ: نہیں اتارا] [هٰٓؤُلَاۗءِ: ان سب کو] [اِلَّا: مگر ] [رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ: زمین اور آسمانوں کے رب نے] [بَصَاۗىِٕرَ: نشان عبرت ہوتے ہوئے] وَانى: اور بیشک میں] [لَاَظُنُّكَ: یقینی گمان کرتا ہوں تجھ کو] [يٰفِرْعَوْنُ: اے فرعون ] [مَثْبُوْرًا: غارت کیا ہوا]

 

ث ب ر

 [ثُبُوْرًا: (ن) ] غارت ہونا۔ ہلاک ہونا (لازم)۔ لَاتَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا کَثِیْرًا (تم لوگ مت مانگو آج کے دن ایک مرتبہ ہلاک ہونے کو اور تم لوگ مانگو کئی مرتبہ ہلاک ہونے کو) 25:14۔

 ثَبْرًا غارت کرنا۔ ہلاک کرنا۔ (متعدی)

 مَثْبُوْرٌ اسم المفعول ہے۔ غارت کیا ہوا۔ ہلاک کیا ہوا۔ زیرِ مطالعہ آیت۔102۔

فَاَرَادَ اَنْ يَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ جَمِيْعًا  ١٠٣؀ۙ
[فَاَرَادَ: پھر اس (فرعون) نے ارادہ کیا] [ان: کہ] [يَّسْتَفِزَّ: وہ اکھاڑ دے] [هُمْ: ان لوگوں کو] [مِّنَ الْاَرْضِ: زمین (ملک) سے] [فَاَغْرَقْنٰهُ: تو ہم نے غرق کیا اس کو] [وَمَنْ: اور ان کو جو] [مَّعَهٗ: اس کے ساتھ تھے] [جَمِيْعًا: سب کے سب کو]

وَّقُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا  ١٠٤؀ۭ
[وَّقُلْنَا: اور ہم نے کہا] [مِنْۢ بَعْدِهٖ: اس کے بعد] [لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ: بنی اسرائیل سے] [اسْكُنُوا: تم لوگ سکونت اختیار کرو] [الْاَرْضَ: اس سرزمین میں] [فَاِذَا: پھر جب] [جَاۗءَ: آئے گا] [وَعْدُ الْاٰخِرَةِ: آخرت کا وعدہ] [جِئْنَا بِكُمْ: تو ہم لے آئیں گے تم لوگوں کو] [لَفِيْفًا: سمیٹنے والا ہوتے ہوئے]

 

ل ف ف

 [لَفًّا: (ن) ] ایک چیز کو دوسری چیز سے ملا دینا۔ جمع کرنا۔ اکٹھا کرنا۔

 لِفٌّ ج اَلْفَافٌ۔ جمع کی ہوئی چیز۔ لِنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًا وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًا (تاکہ ہم نکالیں اس سے اناج اور سبزہ اور اکٹھا کئے ہوئے یعنی گھنے باغات) 78:15۔16۔

 لَفِیْفٌ فَعِیْلٌ کا وزن ہے۔ اکٹھا کرنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔104۔

(افتعال) اِلْتِفَافًا جمع ہونا۔ اکٹھا ہونا۔ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ (اور جب لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے) 75:29۔

وَبِالْحَـقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ۭ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا  ١٠٥؀ۘ
وَبِالْحَـقِّ: اور حق کے ساتھ] [انزَلْنٰهُ: ہم نے اتارا اس (قرآن) کو] [وَبِالْحَقِّ: اور حق کے ساتھ] [نَزَلَ: وہ اترا] [وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ: اور ہم نے نہیں بھیجا آپؐ کو] [اِلَّا مُبَشِّرًا: مگر بشارت دینے والا ہوتے ہوئے] [وَّنَذِيْرًا: اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے]

وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا  ١٠٦؁
[وَقُرْاٰنًا: اور (ہم نے اتارا) قرآن کو] [فَرَقْنٰهُ: (پھر) ہم نے جدا جدا کیا اس کو] [لِتَقْرَاَهٗ: تاکہ آپؐ پڑھیں اس کو] [عَلَي النَاسِ: لوگوں پر] [عَلٰي مُكْثٍ: ٹھہر ٹھہر کر] [وَّنَزَّلْنٰهُ: اور ہم نے بتدریج اتارا اس کو] [تَنْزِيْلًا: جیسا بتدریج اتارنے کا حق ہے]

 

ترکیب: (آیت۔106) قُرْاٰنًا سے پہلے اَنْزَلْنَا محذوف ہے جس کا مفعول ہونے کی وجہ سے یہ حالت نصب میں ہے۔

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖٓ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا  ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا  ١٠٧؀ۙ
[قُلْ: آپؐ کہیے] [اٰمِنُوْا: تم لوگ ایمان لائو] [بِهٖٓ: اس پر] [اَوْ: یا] [لَا تُؤْمِنُوْا: تم لوگ ایمان مت لائو (کوئی پرواہ نہیں ہے)] [ان: بیشک] [الَّذِينَ: وہ لوگ جن کو] [اُوْتُوا: دیا گیا] [الْعِلْمَ: علم] [مِنْ قَبْلِهٖٓ: اس سے پہلے] [اِذَا: جب] [يُتْلٰى: پڑھا جاتا ہے] [عَلَيْهِمْ: ان پر (یہ قرآن)] [يَخِرُّوْنَ: تو وہ لوگ گر پڑتے ہیں] [لِلْاَذْقَان: ٹھوڑیوں پر] [سُجَّدًا: سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے]

 

ذ ق ن

 [ذَقْنًا: (ن) ] ٹھوڑی پر مارنا۔

 ذَقَنٌ ج اَذْقَانٌ۔ ٹھوڑی۔ زیر مطالعہ آیت۔107۔

وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا  ١٠٨؁
[وَّيَـقُوْلُوْنَ: اور وہ لوگ کہتے ہیں] [سُبْحٰنَ رَبِنَآ: پاکیزگی ہمارے رب کی ہے] [ان: بیشک ] [كَان: ہے] [ وَعْدُ رَبِنَا: ہمارے رب کا وعدہ] [لَمَفْعُوْلًا: لازماً پورا کیا جانے والا]

وَيَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ يَبْكُوْنَ وَيَزِيْدُهُمْ خُشُوْعًا  ١٠٩؀۞
[وَيَخِرُّوْنَ: اور وہ گر پڑتے ہیں] [لِلْاَذْقَان : ٹھوڑیوں پر] [يَبْكُوْنَ: روتے ہوئے] [وَيَزِيْدُهُمْ: اور وہ زیادہ کرتا ہے ان کو] [خُشُوْعًا: بلحاظ فروتنی کے]

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ  ۭ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى  ۚ وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا  ١١٠؁
[قُلِ: آپؐ کہیے] [ادْعُوا: تم لوگ پکارو] [اللّٰهَ: اللہ کو] [اَوِ: یا] [ادْعُوا: تم لوگ پکارو] [الرَّحْمٰنَ: رحمن کو ] [اَيًّا مَا: کوئی سا بھی (نام)] [تَدْعُوْا: تم لوگ پکارو] [فَلَهُ: تو اس کے لئے ہی ہیں] [الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى: سارے خوبصورت نام] [وَلَا تَجْـهَرْ: اور آواز نمایاں مت کرو] [بِصَلَاتِكَ: اپنی نماز میں] [وَلَا تُخَافِتْ: اور آواز پوشیدہ مت رکھو] [بِهَا: اس میں] [وَابْتَغِ: اور تلاش کرو] [بَيْنَ ذٰلِكَ: اس کے درمیان] [سَبِيْلًا: ایک راستہ]

 

خ ف ت

 [خُفُوْتًا: (ن) ] آواز کا پست ہونا۔

(مفاعلہ) مَخَافَتَۃً آواز کو پوشیدہ رکھنا۔ پست کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔110۔

(تفاعل) تَخَافُتًا ایک دوسرے سے پست آواز میں بات کرنا۔ سرگوشی کرنا۔ یَتَخَافَتُوْنَ بَیْنَھُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا (وہ لوگ سرگوشی کریں گے آپس میں کہ تم لوگ نہیں ٹھہرے مگر دس دن) 20:103۔

 

(آیت۔110)۔ اسماء استفہام میں سے اَیٌّ یہاں تَدْعُوْا کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں اَیًّا آیا ہے اس کے آگے مَا اسے مزید غیر معین کرنے کے لئے آیا ہے۔ (دیکھیں 2:26، نوٹ۔1)

 

نوٹ۔1: آیت۔110 میں نماز کے اندر تلاوت کرنے کا یہ ادب بتایا گیا ہے کہ نہ بہت بلند آواز سے ہو نہ بہت آہستہ جس کو مقتدی نہ سن سکیں۔ یہ حکم ظاہر ہے کہ جہری نمازوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ ظہر اور عصر کی نمازوں میں تو بالکل اخفاء ہونا سنت متواترہ سے ثابت ہے۔ جہری نماز میں مغرب، عشاء اور فجر کے فرض داخل ہیں اور نماز تہجد بھی۔ (معارف القرآن)۔

وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا   ١١١۝ۧ
[وَقُلِ: اور آپؐ کہیے] [الْحَمْدُ: تمام شکر و سپاس] [للّٰهِ الَّذِي: اس اللہ کے لئے ہے جس نے] [لَمْ يَتَّخِذْ: بنائی ہی نہیں] [وَلَدًا: کوئی اولاد] [وَّلَمْ يَكُنْ: اور ہے ہی نہیں] [لَهٗ: جس کے لئے] [شَرِيْكٌ: کوئی شریک] [فِي الْمُلْكِ: بادشاہت میں] [وَلَمْ يَكُنْ: اور ہے ہی نہیں] [لَهٗ: جس کے لئے] [وَلِيٌّ: کوئی کارساز] [مِّنَ الذُّلِ: کمزوری (کے سبب) سے] [وَكَبِرْهُ: اور بڑائی تسلیم کرائو اس کی] [تَكْبِيْرًا: جیسا بڑائی تسلیم کرانے کا حق ہے]

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ    ۝

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا   Ǻ۝ڸ
[اَلْحَمْدُ: تمام شکر و سپاس] [للّٰهِ الَّذِيٓ: اس اللہ کے لئے ہے جس نے] [انزَلَ: اتارا] [عَلٰي عَبْدِهِ: اپنے بندے پر] [الْكِتٰبَ: اس کتاب کو] [وَلَمْ يَجْعَلْ: اور اس نے نہیں بنائی] [لَهٗ: اس کے لئے] [عِوَجًا: کوئی کجی]

قَـيِّمًا لِّيُنْذِرَ بَاْسًا شَدِيْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَـنًا  Ą۝ۙ
[قَـيِّمًا: سیدھی (کتاب) ہوتے ہوئے] [لِيُنْذِرَ: تاکہ وہ خبردار کریں (لوگوں کو)] [بَاْسًا شَدِيْدًا: ایک ایسی شدید سختی سے جو] [مِّنْ لَّدُنْهُ: اس (اللہ) کے پاس سے ہو گی] [وَيُبَشِّرَ: اور تاکہ وہ بشارت دیں] [الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِينَ: ان ایمان لانے والوں کو جو] [يَعْمَلُوْنَ: عمل کرتے ہیں] [الصّٰلِحٰتِ: نیکیوں کے] [ان: کہ] [لَهُمْ: ان کے لئے] [اَجْرًا حَسَـنًا: ایک خوبصورت اجر ہے]

 

ترکیب: (آیت۔2) گزشتہ آیت میں اَلْکِتٰبَ کا حال ہونے کی وجہ سے قَیِّمًا حالت نصب میں ہے۔ بَاْسًا شَدِیْدًا نکرہ مخصوصہ ہے۔ یُشِّرَ کی نصب بتا رہی ہے کہ یہ لِیُنْذِرَ کے لام کسی پر عطف ہے۔

مَّاكِثِيْنَ فِيْهِ اَبَدًا  Ǽ۝ۙ
[مَاكِثِيْنَ: ٹھہرنے والے ہوتے ہوئے] [فِيْهِ: اس میں ] [اَبَدًا: ہمیشہ]

 

(آیت۔3) فِیْہِ کی ضمیر اَجْرًا حَسَنًا کے لئے ہے۔

وَّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا  Ć۝ۤ
[وَّيُنْذِرَ: اور تاکہ وہ خبردار کریں] [الَّذِينَ: ان کو جنھوں نے] [قَالُوا: کہا] [اتَّخَذَ: بنایا] [اللّٰهُ: اللہ نے] [وَلَدًا: ایک بیٹا]

 

(آیت۔4)۔ آیت۔2 میں لِیُنْذِرَ کے لام کسی پر عطف ہونے کی وجہ سے وَیُنْذِرَ حالت نصب میں ہے۔

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّلَا لِاٰبَاۗىِٕهِمْ ۭ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ ۭ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا  Ĉ۝
[مَا لَهُمْ: نہیں ہے ان کے لئے] [بِهٖ: جس کا] [مِنْ عِلْمٍ: کوئی بھی علم] [وَّلَا لِاٰبَاۗىِٕهِمْ: اور نہ ہی ان کے آبائو اجداد کے لئے] [كَبُرَتْ: بھاری ہوئی] [كَلِمَةً: بلحاظ بات کے] [تَخْرُجُ: (وہ جو) نکلتی ہے] [مِنْ اَفْوَاهِهِمْ: ان کے مونہوں سے] [ان يَّقُوْلُوْنَ: وہ لوگ نہیں کہتے] [اِلَّا: مگر] [كَذِبًا: ایک جھوٹ]

 

(آیت۔5) تُخْرُجُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ سے پہلے ما محذوف ہے اور یہ کَبُرَتْ کا فاعل ہے اور کَلِمَۃً اس کی تمیز ہے۔

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا   Č۝
[فَلَعَلَّكَ: تو شاید کہ آپؐ] [بَاخِعٌ: ہلاکت تک پہنچانے والے ہیں] [نَّفْسَكَ: اپنے آپ کو] [عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ: ان کے پیچھے] [ان: اگر] [لَمْ يُؤْمِنُوْا: وہ لوگ ایمان نہ لائے] [بِهٰذَا الْحَدِيْثِ: اس بات پر] [اَسَفًا: افسوس کرتے ہوئے]

 

ب خ ع

 [بَخْعًا: (ف) ] غم و غصّہ سے خود کو ہلاکت تک پہنچانا۔

 بَاخِعٌ اسم الفاعل ہے۔ ہلاکت تک پہنچانے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔6

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَي الْاَرْضِ زِيْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَيُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا  Ċ۝
[انا: بیشک] [جَعَلْنَا: ہم نے بنایا] [مَا: اس کو جو] [عَلَي الْاَرْضِ: زمین پر ہے] [زِيْنَةً: ایک زینت] [لَّهَا: اس (زمین) کے لئے] [لِنَبْلُوَهُمْ: تاکہ ہم آزمائیں ان کو] [اَيُّهُمْ: (کہ) ان کا کون] [اَحْسَنُ: زیادہ اچھا ہے] [عَمَلًا : بلحاظ عمل کے]

وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَيْهَا صَعِيْدًا جُرُزًا  Ď۝ۭ
[وَانا: اور بیشک ہم] [لَجٰعِلُوْنَ: ضرور بنانے والے ہیں] [مَا: اس کو جو] [عَلَيْهَا: اس (زمین) پر ہے] [صَعِيْدًا جُرُزًا : ایک بنجر میدان]

 

ج ر ز

 [جَرَزًا: (س) ] زمین کا بنجر ہونا۔

 جُرُزٌ بنجر زمین ۔ چٹیل میدان۔ زیر مطالعہ آیت۔8

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيْمِ ۙ كَانُوْا مِنْ اٰيٰتِنَا عَجَبًا  ۝
[اَمْ: کیا] [حَسِبْتَ: آپؐ نے گمان کیا] [ان: کہ] [اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيْمِ: غار اور لوح والے] [كَانوْا: تھے] [مِنْ اٰيٰتِنَا: ہماری نشانیوں میں سے] [عَجبا: کوئی عجیب چیز]

 

ک ھـ ف

 ثلاثی مجرد سے مفعل نہیں آتا۔

(تفعل) تَکَفُّھًا پہاڑ میں غار ہونا۔

 کَھْفٌ پہاڑ میں کھدا ہوا وسیع غار۔ زیر مطالعہ آیت۔9۔

رق م

 [رَقْمًا: (ن) ] جلی حروف میں لکھنا۔ نقش بنانا۔

 مَرْقُوْمٌ اسم المفعول ہے۔ لکھا ہوا۔ کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ (وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے) 83:9

 رَقِیْمٌ فَعِیْلٌ کا وزن ہے اسم المفعول کے معنی میں۔ نقش کی ہوئی یا الفاظ کندہ کی ہوئی لوح۔ زیر مطالعہ آیت۔9۔

 

نوٹ۔1: زیر مطالعہ آیت۔9 میں لفظ رقیم سے کیا مراد ہے، اس میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں۔ کچھ مفسرین برروایت ابن عباس  (رض)  اس کے معنی ایک لکھی ہوئی تختی کے قرار دیتے ہیں، جس پر بادشاہِ وقت نے اصحاب کہف کے نام کندہ کر کے غار کے دروازے پر لگا دیا تھا۔ اس وجہ سے اصحاب کہف کو اصحاب الرقیم بھی کہا جاتا ہے۔ بعض کا قول یہ ہے کہ رقیم اس پہاڑ کے نیچے کی وادی کا نام ہے جس میں اصحاب کہف کا غار تھا۔ بعض نے خود اس پہاڑ کو رقیم کہا ہے۔ (معارف القرآن)

اِذْ اَوَى الْفِتْيَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّهَيِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا   10؀
[اِذْ: جب] [اَوَى: پناہ لی] [الْفِتْيَةُ: نوجوانوں نے] [اِلَى الْكَهْفِ: غار کی طرف] [فَقَالُوْا: پھر انھوں نے کہا] [رَبَّنَآ: اے ہمارے رب] [اٰتِنَا: تو عطا کر ہم کو] [مِنْ لَّدُنْكَ: اپنے پاس سے] [رَحْمَةً: ایک رحمت] [وَّهَيِّئْ: اور تو اسباب پیدا کر دے] [لَنَا: ہمارے لئے] [مِنْ اَمْرِنَا: ہمارے کام میں] [رَشَدًا: نیک راہ کے]

فَضَرَبْنَا عَلٰٓي اٰذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِيْنَ عَدَدًا  11۝ۙ
[فَضَرَبْنَا: تو ہم نے تھپکی دی] [عَلٰٓي اٰذَانهِمْ: ان کے کانوں پر] [فِي الْكَهْفِ: غار میں] [سِنِيْنَ: کچھ برس] [عَدَدًا: بلحاظ گنتی کے]

 

نوٹ۔2: فَضَرَبْنَا عَلٰی اٰذَانِھِمْ کے لفظی معنی کانوں کو بند کر دینے کے ہیں۔ غفلت کی نیند کو ان الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ نیند کے وقت سب سے پہلے آنکھ بند ہوتی ہے مگر کان اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور آواز سنائی دیتی ہے۔ پھر جب نیند غالب ہو جاتی ہے تو کان بھی اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر بیداری میں سب سے پہلے کان اپنا کام شروع کرتے ہیں کہ آوازسے سونے والا چونکتا ہے پھر بیدار ہوتا ہے۔ (معارف القرآن)

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَيُّ الْحِزْبَيْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْٓا اَمَدًا  12۝ۧ
[ثُمَّ: پھر] [بَعَثْنٰهُمْ: ہم نے اٹھایا ان کو] [لِنَعْلَمَ: تاکہ ہم جان لیں کہ] [اَيُّ الْحِزْبَيْنِ: دو گروہوں کے کس نے] [اَحْصٰى: شمار پورا کیا] [لِمَا: اس کا جو] [لَبِثُوْٓا: وہ لوگ ٹھہرے] [اَمَدًا: بلحاظ مدت کے]

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ  ۭ اِنَّهُمْ فِتْيَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنٰهُمْ هُدًى  13۝ڰ
[نَحْنُ: ہم] [نَقُصُّ: بیان کرتے ہیں] [عَلَيْكَ: آپؐ پر] [نَبَاَهُمْ: ان کی خبر ] [بِالْحَقِّ: حق کے ساتھ] [انهُمْ: بیشک وہ] [فِتْيَةٌ: کچھ ایسے نوجوان تھے جو] [اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [بِرَبِهِمْ: اپنے رب پر] [وَزِدْنٰهُمْ: اور ہم نے زیادہ کیا ان کو] [هُدًى: بلحاظ ہدایت کے]

وَّرَبَطْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَا۟ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلٰـهًا لَّقَدْ قُلْنَآ اِذًا شَطَطًا  14؀
[وَّرَبَطْنَا: اور ہم نے مضبوط کیا] [عَلٰي قُلُوْبِهِمْ: ان کے دلوں کو] [اِذْ: جب] [قَامُوْا: وہ کھڑے ہوئے] [فَقَالُوْا: پھر انھوں نے کہا] [رَبُّنَا: ہمارا رب] [رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ: زمین اور آسمانوں کا رب ہے] [لَنْ نَّدْعُوَا۟: ہم ہرگز نہیں پکاریں گے] [مِنْ دُوْنِهٖٓ: اس کے علاوہ] [اِلٰـهًا: کسی الٰہ کو] [لَّقَدْ قُلْنَآ: بیشک ہم کہہ چکے] [اِذًا: تب تو] [شَطَطًا: حد سے گزری ہوئی بات]

 

ش ط ط

 [شَطَطًا: (ض) ] مقررہ حد سے آگے بڑھنا۔ حد سے گزرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔14۔

(افعال) اِشْطَاطًا حق سے دور ہونا۔ زیادتی کرنا۔ فَاحْکُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ َلا تُشْطِطْ (پس آپؑ فیصلہ کریں ہمارے درمیان حق کے ساتھ اور آپؑ زیادتی مت کریں) 38:22۔

هٰٓؤُلَاۗءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً  ۭ لَوْلَا يَاْتُوْنَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطٰنٍۢ بَيِّنٍ ۭ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا  15۝ۭ
[هٰٓؤُلَاۗءِ: یہ] [قَوْمُنَا: ہماری قوم ہے] [اتَّخَذُوْا: انھوں نے بنائے] [مِنْ دُوْنِهٖٓ: اس (اللہ) کے علاوہ] [اٰلِهَةً: کچھ الٰہ] [لَوْلَا: کیوں نہیں] [يَاْتُوْنَ: وہ لوگ لاتے] [عَلَيْهِمْ: ان (اِلہٰوں) پر] [بِسُلْطٰنٍۢ بَيِّنٍ: کوئی واضح دلیل] [فَمَنْ: تو کون] [اَظْلَمُ: زیادہ ظالم ہے] [مِمَّنِ: اس سے جس نے] [افْتَرٰى: گھڑا] [عَلَي اللّٰهِ: اللہ پر] [كَذِبًا: کوئی جھوٹ]

وَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗٓا اِلَى الْكَهْفِ يَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَيُهَــيِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا  16؀
[وَاِذِ: اور جب] [اعْتَزَلْتموْهُمْ: تم لوگ کنارہ کش ہو گئے ان سے] [وَمَا: اور اس سے جس کی] [يَعْبُدُوْنَ: وہ لوگ بندگی کرتے ہیں] [اِلَّا اللّٰهَ: اللہ کے سوا] [فَاْوٗٓا: تو (اب) تم لوگ پناہ لو] [اِلَى الْكَهْفِ: غار کی طرف] [يَنْشُرْ: پھیلا دے گا] [لَكُمْ: تمھارے لئے] [رَبُّكُمْ: تمھارا رب] [مِّنْ رَّحْمَتِهٖ: اپنی رحمت میں سے (کچھ)] [وَيُهَــيِّئْ: اور وہ اسباب پیدا کرے گا] [لَكُمْ: تمھارے لئے] [مِّنْ اَمْرِكُمْ: تمھارے کام میں] [مِّرْفَقًا: سہارا دینے کا ذریعہ]

وَتَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِيْ فَجْــوَةٍ مِّنْهُ  ۭ ذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ  ۭ مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۚ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا  17۝ۧ
[وَتَرَى: اور تو دیکھے] [الشَّمْسَ: سورج کو] [اِذَا: جب] [طَلَعَتْ: وہ طلوع ہوتا ہے] [تَّزٰوَرُ: تو وہ بچ کر نکلتا ہے] [عَنْ كَهْفِهِمْ: ان کے غار سے] [ذَاتَ الْيَمِيْنِ: دا ہنی جانب ] %5