قرآن کریم کے ایک ایک لفظ کی لغوی، صرفی، نحوی اور اعرابی تفسیر
افادات :  پروفیسر حافظ احمد یار 
(یونی کوڈ فارمیٹ)

 

انتیسواں پارہ 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ        ۝

تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۨ     Ǻ۝ۙ
[تَبٰرَكَ الَّذِي: بابرکت ہوئی وہ (ذات)][ بِيَدِهِ: جس کے ہاتھ میں][ الْمُلْكُ ۡ: ساری بادشاہت ہے][ وَهُوَ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ: اور وہ ہر چیز پر][ قَدِيْرُ: قدرت رکھنے والا ہے]

 

نوٹ۔1: حدیث میں ہے کہ رسول اللہ
نے فرمایا کہ یہ سورۃ عذاب کو روکنے والی اور عذاب سے نجات دلانے والی ہے۔ یہ اپنے پڑھنے والے کو عذاب سے بچائے گی۔ (معارف القرآن)

الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا   ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ  Ą۝ۙ
[الَّذِي خَلَقَ: جس نے پیدا کیا][ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ: موت کو اور حیات کو][ لِيَبْلُوَكُمْ: تاکہ وہ جانچے تم لگوں کو (کہ)][ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ: تم لوگوں کا کون زیادہ اچھا ہے][ عَمَلًا : بلحاظ عمل کے][ ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْر: اور وہ ہی بالا دست ہے بےانتہا بخشنے والا ہے]

 

نوٹ۔2: آیت۔2 میں ہے کہ اس نے پیدا کیا موت اور قیامت کو۔ حیات کے لیے پیدا کرنے کا لفظ تو اپنی جگہ ظاہرہے، کہ حیات ایک وجودی چیز ہے۔ لیکن موت جو بظاہر ایک عدم کا نام ہے، اس کے ساتھ تخلیق کا تعلق کس طرح ہوا۔ اس کے جواب میں ائمہ تفسیر سے متعدد اقوال منقول ہیں۔ سب سے زیادہ واضح بات یہ ہے کہ موت عدم محض کا نام نہیں ہے بلکہ روح اور بدن کا تعلق منقطع کر کے روح کو ایک مکان سے دوسرے مکان میں منتقل کرنے کا نام ہے اور یہ ایک وجودی چیز ہے۔ غرض جس طرح حیات ایک حال (یعنی حالت) سے جو جسم انسانی پر طاری ہوتا ہے، اسی طرح موت بھی ایک ایسا ہی حال ہے۔ (معارف القرآن) ۔

 اس دنیا میں انسانوں کے مرنے اور جینے کا یہ سلسلہ اس نے اس لیے شروع کیا ہے کہ ان کا امتحان لے کہ کس انسان کا عمل زیادہ بہتر ہے۔ اس مختصر سے فقرے میں بہت سی حقیقتوں کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔ اوّل یہ کہ موت اور حیات اَسی کی طرف سے ہے، کوئی دوسرا نہ زندگی بخشنے والا ہے نہ موت دینے والا۔ دوسرے یہ کہ انسان جیسی مخلوق، جیسے نیکی اور بدی کرنے کی قدرت عطا کی گئی ہے، اس کی نہ زندگی ہے نہ مقصد ہے نہ موت۔ خالق نے اسے یہاں امتحان کے لیے پیدا کیا ہے۔ زندگی اس کے لیے امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے امتحان کا وقت ختم ہو گیا۔ تیسرے یہ کہ اسی امتحان کی غرض سے کالق نے ہر ایک کو عمل کا موقع دیا ہے تاکہ وہ دنیا میں کام کر کے اپنی اچھائی یا برائی کا اظہار کرسکے۔ چوتھے یہ کہ خالق ہی اس بات کا فیصلہ کرنے والا ہے کہ کس کا عمل اچھا ہے اور کس کا بُرا۔ اعمال کی اچھائی اور برائی کا معیار تجویز کرنا امتحان دینے والوں کا کام نہیں ہے بلکہ امتحان پہلے والے کا کام ہے۔ اس لیے جو بھی امتحان میں کامیاب ہونا چاہے اسے یہ معلوم کرنا ہو گا کہ امتحان لینے والے کے نزدیک حسن عمل کیا ہے۔ پانچواں نکتہ خود امتحان کے مفہوم میں پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ جس کا جیسا عمل ہو گا اسی کے مطابق اس کو جزا دی جائے گی۔ (تفہیم القرآن)

الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا   ۭ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ  Ǽ۝
[الَّذِي خَلَقَ: جس نے پیدا کیا][ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ: سات آسمانوں کو][ طِبَاقًا ۭ: تلے اوپر ہوتے ہوئے][ مَا تَرٰى: تو نہیں دیکھے گا][ فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ: رحمان کی تخلیق میں][ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ: کسی طرح بھی ہم آہنگ نہ ہونا][ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ: پس تو لوٹا بصارت کو][ هَلْ تَرٰى: کیا تو دیکھتا ہے][ مِنْ فُطُوْرٍ: کچھ بھی شگاف]

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيْرٌ   Ć۝
[ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ: پھر تو لوٹا بصارت کو][ كَرَّتَيْنِ: دوبارہ][ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ: تو پلٹ آئے گی تیری طرف بصارت][ خَاسِئًا: تھکی ماندی ہوتے ہوئے][ وَّهُوَ حَسِيْرٌ: اس مال میں کہ وہ ناکام ہو گی]

وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيْرِ   Ĉ۝
[وَلَقَدْ زَيَّنَا: اور بیشک ہم نے سجایا ہے ][ السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا: نزدیکی (دنیوی) آسمان کو] بِمَصَابِيْحَ: چراغوں سے][ وَجَعَلْنٰهَا: اور ہم نے بنایا ان (چراغوں) کو][ رُجومًا: سنگسار کرنے کے ذرائع][ لِلشَّـيٰطِيْنِ: شیطانوں کے لیے][ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ: اور ہم نے تیار کیا ان کے لیے][ عَذَابَ السَّعِيْرِ: بھڑکتی آگ کا عذاب]

 

نوٹ۔3: آیت۔6۔ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہی تارے شیطانوں پر پھینک مارے جاتے ہیں اور یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ شہاب ثاقب صرف شیطانوں کو مارنے ہی کے لیے گرتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ تاروں سے جو بےحد و حساب شہابِ ثاقب نکل کر کائنات میں انتہائی تیز رفتاری سے گھومتے رہتے ہیں اور جن کی بارش زمین پر بھی ہر وقت ہوتی رہتی ہے، وہ اس امر میں مانع ہے کہ زمین کے شیاطین عالم بالا میں جا سکیں۔ اگر وہ اوپر جانے کی کوشش کریں بھی تو یہ شہابِ ثاقب انہیں مار بھگاتے ہیں۔

 رہا یہ سوال کہ ان شہابوں کی حقیقت کیا ہے، تو اس کے بارے میں انسان کی معلومات اس وقت تک کسی قطعی تحقیق سے قاصر ہیں۔ تاہم جس قدر بھی حقائق اور واقعات اب تک انسان کے علم میں آئے ہیں اور زمین پر گرے ہوئے شہابیوں کے معائنے سے جو معلومات حاصل کی گئی ہیں ان کی بناء پر سائنس دانوں میں سب سے زیادہ مقبول نظریہ یہی ہے کہ یہ شہابیے کسی سیارے کے انفجار کی بدولت نکل کر خلا میں گھومتے رہتے ہیں اور پھر کسی وقت زمین کی کشش کے دائرے میں آ کر ادھر کا رخ کر لیتے ہیں۔ (تفہیم القرآن) ۔

وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ   Č۝
[وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا: اور ان کے لیے جنھوں نے انکار کیا][ بِرَبِهِمْ: اپنے رب کا][ عَذَابُ جَهَنَّمَ ۭ: جہنم کا عذاب ہے][ وَبِئْسَ: اور بہت بری ہے (وہ)][ الْمَصِيْرُ: لوٹنے کی جگہ]

اِذَآ اُلْقُوْا فِيْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِيْقًا وَّهِىَ تَفُوْرُ  Ċ۝ۙ
[اِذَآ اُلْقُوْا فِيْهَا: جب وہ ڈالے جائیں گے اس میں][ سَمِعُوْالَهَا: تو وہ سنیں گے اس میں][ شَهِيْقًا: رینکنے والی آواز][ وَّهِىَ تَفُوْر: اس حال میں کہ وہ ابلتی ہو گی]

 

ترکیب: (آیت۔7۔8) اِذَا اور کُلَّمَا حرف شرط ہیں۔ اس لیے افعال ماضی کا ترجمہ مستبقل میں ہو گا۔ تُمَیِّزُ کی پہچان یہ ہے کہ نہ تو یہ تَمَیَّزَ (باب تفعل کا ماضی) ہے اور نہ ہی یہ تُمَیِّزُ (باب تفعیل کا مضارع) ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ بات تفعل کا مضارع تَتَمَیَّرُ ہے جس کی ایک تا گری ہوئی ہے۔ خَازِنٌ کی جمع خَزَنَۃٌ ہے۔ یہاں یہ سَئَلَ کا فاعل اسم ظاہر ہے اس لیے فاعل جمع ہونے کے باوجود فعل سَئَلَ واحد آیا ہے۔

 

نوٹ۔1: آیت ۔7 میں شَھِیْقٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو گدھے کی سی آواز کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس فقرے کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ خود جہنمکی آواز ہو گی، اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ آواز جہنم سے آ رہی ہوگی جہاں ان سے پہلے گرے ہوئے لوگ چیخیں مار رہے ہوں گے۔ اس دوسرے مفہوم کی تائید سورۃ ہود کی آیت۔106 سے ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ دوزخ میں یہ دوزخی لوگ ہانپیں گے اور پھنکاریں گے اور پہلے مفہوم کی تائید سورئہ فرقان کی آیت۔12۔ سے ہوتی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ دوزخ میں جاتے ہوئے یہ لوگ دور ہی سے اس کے غضب اور جوش کی آوازیں سنیں گے۔ اس بنا پر صحیح یہ ہے کہ یہ شور خود جہنم کا بھی ہو گا اور جہنمیوں کا بھی۔ (تفہیم القرآن) ۔

تَكَادُ تَمَــيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ ۭ كُلَّمَآ اُلْقِيَ فِيْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌ   Ď۝
[تَكَادُ تمــيَّزُ: قریب ہے کہ وہ پھٹ پڑے گی][ مِنَ الْغَيْظِ ۭ: شدید غصّہ سے][ كُلَمَآ: جب کبھی بھی][ اُلْقِيَ فِيْهَا فَوْجٌ: ڈالا جائے گا اس میں کسی گروہ کو][ سَاَلَهُمْ: تو پوچھیں گے ان سے][ خَزَنَــتُهَآ: اس (جہنم) کے داروغہ لوگ][ اَلَمْ يَاْتِكُمْ: کیا نہیں پہنچا تمھارے پاس][ نَذِيْرٌ: کوئی خبردار کرنے والا]

قَالُوْا بَلٰي قَدْ جَاۗءَنَا نَذِيْرٌ ڏ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ښ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ  ۝
[قَالُوْا بَلٰي: وہ لوگ کہیں گے کیوں نہیں][ قَدْ جَاۗءَنَا: آ چکا تھا ہمارے پاس][ نَذِيْرٌ: ایک خبردار کرنے والا][ ڏ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا: تو ہم نے جھٹلایا اور ہم نے کہا][ مَا نَزَّلَ اللّٰهُ: نہیں اتارا اللہ نے][ مِنْ شَيْءٍ: کوئی بھی چیز][ ښ ان انتم اِلَّا: نہیں ہو تم (خبردار کرنے والے) لوگ مگر][ فِيْ ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ: ایک بڑی گمراہی میں]

 

 (آیت۔9) قَالُوْا سے پہلے کوئی حرف شرط نہیں ہے لیکن پھر بھی فعل ماضی کا ترجمہ مستبقل میں ہو گا کیونکہ یہ قیامت کا بیان ہے۔ (دیکھیں آیت۔2:28، نوٹ۔13) ۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ میں اِنْ کے بعد اِلَّا آ رہا ہے۔ اس سے معلوم ہا کہ یہ اِنْ نافیہ ہے۔

وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ  10 ؀
[وَقَالُوْا: اور وہ (جہنمی) لوگ کہیں گے][ لَوْ كُنَا نَسْمَعُ: کاش ہم سنا کرتے][ اَوْ نَعقل: یا عقل استعمال کیا کرتے][ مَا كُنَا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ: تو ہم نہ ہوتے آگ والوں میں]

 

 (آیت۔10) اس آیت کے مختلف ترجمے ممکن ہیں۔ لَوْ کو شرطیہ (اگر) مان کر بھی ترجمہ ہو ہے اور اسے تمنی (کاش) مان کر بھی ترجمہ ہو سکتا ہے۔ دونوں ترجمے درست مانے جائیں گے۔ اسی طرح کُنَّا نَسْمَعُ کو ماضی استمراری بھی مانا جا سکتا ہے اور کُنَّا کو فعل ناقص مان لیں تو اس میں شامل نَحْنُ کی ضمیر اس کا اسم اور نَسْمَعُ اس کی خبر ہو گی۔ دونوں ترجمے درست ہوں گے۔

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ   11 ؀
[فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ ۚ: پھر وہ لوگ اعتراف کریں گے اپنے گناہ کا][ فَسُحْقًا: (تو ثابت ہو گی) دوری (رحمت سے)][ لِاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ: آگ والوں کے لیے]

 

(آیت۔11) سُحْقًا کسی فعل محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ   12 ؀
[ان الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ: بیشک جو لوگ مرعوب رہتے ہیں اپنے رب سے][ بِالْغَيْبِ: اَن دیکھے میں][ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ: اس کے لیے مغفرت ہے][ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ: اور بڑا اجر ہے]

وَاَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ  ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ 13؀
[وَاَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ: اور تم لوگ چھپائو اپنی بات کو][ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ ۭ: یا نمایاں کرو اس کو][ انهٗ عَلِيْمٌۢ: بیشک وہ (تو) جاننے والا ہے][ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ: سینوں والی (بات) کو (بھی)]

اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ۭ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ    14؀ۧ
[اَ: کیا][لَا يَعْلَمُ: نہیں جانے گا][ مَنْ خَلَقَ ۭ: وہ جس نے پیدا کیا][ وَهُوَ اللَّطِيْفُ: دو آنحالیکہ وہی باریک بین ہے][ الْخَبِيْرُ: باخبر ہے]

 

 (آیت۔14) اس کے بھی دو ترجمے ممکن ہیں، ایک یہ کہ ان کو حرف تنبیہ (خبردار۔ سن لو) مان کر ترجمہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ ہمزہ کو استفہامیہ (کیا) مان کر اور لَا یَعْلَمُ کو فعل نفی مان کر ترجمہ کیا جائے۔ دونوں ترجمے درست ہوں گے۔

هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِهَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ  ۭ وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ   15؀
[هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ: وہ، وہ ہے جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو][ ذَلُوْلًا: رام (تابعدار) کی ہوئی][ فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِهَا: پس تم لوگ چلو اس کے کندھوں (راستوں) میں][ وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ ۭ: اور کھائو اس (اللہ) کے رزق میں سے][ وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ: اور اس ہی کی طرف دوبارہ اٹھنا ہے]

 

ترکیب: (آیت۔15) ئِ زْقِہٖ کی ضمیر ھُوَ الَّذِیْ کے لیے ہے۔ اگر اَلْاَرْضَ کے لیے ہوتی تو رِزْقَھَا آتا۔

 

نوٹ۔1: فرمایا کہ زمین کو تمہارے لیے ہم نے ایسا مطیع بنا دیا کہ تم اس کے مونڈھوں (کندھوں) پر چڑھتے پھرو۔ مطلب یہ ہے کہ زمین کو حق تعالیٰ نے ایک ایسا قوام (مادہ) بخشا ہے کہ نہ تو پانی کی طرح بہنے والا ہے، نہ روئی اور کیچڑ کی طرح دبنے والا، کیونکہ زمین ایسی ہوتی تو اس پر کسی انسان کا ٹھہرنا ممکن نہ ہوتا۔ اسی طرح زمین کو لوہے یا پتھر کی طرح سخت بھی نہیں بنایا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس میں درخت اور کھیتی نہ بوئی جا سکتی، کنویں اور نہریں نہ کھودی جا سکتیں اور اس کو کھود کر اونچی عمارتوں کی بنیاد نہ رکھی جا سکتی۔ اس قوام (نرم مادے) کے ساتھ اس کو ایسا سکون بخشا کہ اس پر عمارتیں ٹھہر سکیں اور چلنے پھرنے والوں کو لغزش نہ ہو۔ (معارف القرآن) ۔

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ   16؀ۙ
[ءَاَمِنْتم: کیا تم لوگ امن میں (نڈر) ہو گئے][ مَنْ فِي السَّمَاۗءِ: اس سے جو آسمان میں ہے][ ان يَّخْسِفَ: (اِس سے) کہ وہ دھنسا دے][ بِكُمُ الْاَرْضَ: تمھارے ساتھ زمین کو][ فَاِذَا هِيَ تموْرُ: پھر جب ہی وہ کپکپاتی ہو]

 

نوٹ۔2: مَنْ فِی السَّمَائِ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں رہتا ہے بلکہ یہ بات اس لحاظ سے فرمائی گئی ہے کہ انسان فطری طور پر جب خدا سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ دعا مانگتا ہے تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو کتب سماوی کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی باتوں سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ بات کچھ انسان کی فطرت ہی میں ہے کہ وہ جب خدا کا تصور کرتاہے تو اس کا ذہن آسمان کی طرف جاتا ہے۔ اسی بات کو ملحوظ رکھ کے یہاں اللہ تعالیٰ کے متعلق یہاں عَنْ فِی السَّمَائِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس میں اس شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کو آسمان میں مقیم قرار دیتاہے۔ یہ شبہ آخر کیسے پیدا ہو سکتا ہے جب کہ اسی سورئہ ملک کے آغاز میں فرمایا جا چکا ہے کہ جس نے تہہ بہ تہہ سات آسمان پید اکیے اور سورئہ بقرہ میں ارشاد ہوا ہے فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ (پس تم جدھر بھی رخ کرو اس طرح اللہ کا رخ ہے) (تفہیم القرآن)

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا   ۭ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْرِ   17؀
[اَمْ اَمِنْتم: یا تم لوگ امن میں ہو گئے][ مَنْ فِي السَّمَاۗءِ: اس سے جو آسمان میں ہے][ ان يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ: کہ وہ بھیج دے تم لوگوں پر][ حَاصِبًا ۭ: کنکریاں مارنے والی تند ہوا][ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ: پھر تم جان لو گے (کہ) کیسا تھا][ نَذِيْرِ: میرا خبردار کرنے والا]

 

 (آیت۔17۔18) نَذِیْرِ اور نَکِیْرِ کی ر پر کسرہ بتا رہی ہے کہ ان کے آگے یائے متکلم محذوف ہیں اور یہ دراصل نَذِیْرِیْ اور نَکِیْرِیْ ہیں۔

وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ  18؀
[وَلَقَدْ كَذَّبَ: اور بیشک جھٹلا چکے ہیں][ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ: وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے][ فَكَيْفَ كَان : تو (دیکھو کہ) کیسا تھا][ نَكِيْرِ: میرا عدم عرفان]

اَوَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صٰۗفّٰتٍ وَّيَقْبِضْنَ ڪ مَا يُمْسِكُـهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ ۭ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍۢ بَصِيْرٌ     19؀
[اَوَلَمْ يَرَوْا: اور کیا انھوں نے غور ہی نہیں کیا][ اِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ: پرندوں کی طرف اپنے اوپر][ صٰۗفّٰتٍ: صف بچھانے (پھیلانے) والے ہوتے ہوئے][ وَّيَقْبِضْنَ: اور سمیٹتے ہوئے][ ڪ مَا يُمْسِكُـهُنَّ: نہیں تھامتا ان کو (کوئی)][ اِلَّا الرَّحْمٰنُ ۭ : سوائے رحمن کی][ انهٗ بِكُلِ شَيْءٍۢ: بیشک وہ ہر چیز کو][ بَصِيْرٌ: دیکھنے والا ہے]

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ يَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ ۭ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِيْ غُرُوْرٍ  20؀ۚ
[اَمَنْ هٰذَا الَّذِي: یا کون یہ ہے جو (کہ)][ هُوَ جُنْدٌ لَكُمْ: وہ ہو ایسا لشکر تمھارے لیے][ يَنْصُرُكُمْ: جو مدد کرے تمھاری][ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ ۭ: رحمن کے بجائے][ ان الْكٰفِرُوْنَ: نہیں ہیں کافر لوگ][ اِلَّا فِيْ غُرُوْر: مگر کچھ فریبوں میں (مبتلا)]

 

 (آیت۔20) اَمَّنْ دراصل اَمْ مَنْ ہے جس کو ملا کر لکھا گیا ہے۔

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ يَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ  ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِيْ عُتُوٍّ وَّنُفُوْرٍ  21؀
[اَمَنْ هٰذَا الَّذِي؛یا کون یہ ہے جو][ يَرْزُقُكُمْ: روزی دے تم کو][ ان اَمْسَكَ رِزْقَهٗ ۚ: اگر وہ (رحمن) روک لے اپنا رزق][ بَلْ لَّجوا: بلکہ وہ لوگ اڑے رہے][ فِيْ عُتُوٍّ: سرکشی کرنے میں][ وَّنُفُوْرٍ : اور بیزاریوں میں]

 

 (آیت۔21) اَمْسَکَ میں شامل ھُوَ کی ضمیر کو اگر قریبی مرجع ھٰذَا الَّذِیْ کے لیے مانیں تو جملہ بےمعنی ہو جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ضمیر اَلرَّحْمٰن کے لیے ہے۔

اَفَمَنْ يَّمْشِيْ مُكِبًّا عَلٰي وَجْهِهٖٓ اَهْدٰٓى اَمَّنْ يَّمْشِيْ سَوِيًّا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ  22؀
[اَفَمَنْ يَّمْشِيْ: تو کیا وہ جو چلتا ہے][ مُكِبًّا: اوندھا کرنے والا ہوتے ہوئے (خود کو)][ عَلٰي وَجْهِهٖٓ: اپنے چہرے کے بل][ اَهْدٰٓى: زیادہ ہدایت پر ہے][ اَمَنْ يَّمْشِيْ: یا وہ جو چلتا ہے][ سَوِيًّا: کامل (سیدھا) ہوتے ہوئے][ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ: ایک سیدھے راستے پر]

 

 (آیت۔22) یَمْشِیْ فعل لازم ہے۔ اس لیے مُکِبًا اور سَوِیًّا اس کے مفعول نہیں ہو سکتے بلکہ یہ حال ہیں۔

 

نوٹ۔3: آیت۔22۔ میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ ان لوگوں پر یہ آیت کی راہ کیوں نہیں کھل رہی ہے اور سمجھانے کے باوجود یہ گمراہی میں بھٹک رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔ جس طرح کتا زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شائد کوئی چیز کھانے کی مل جائے۔ اسی طرح ان لوگوں کی رہنما بھی عقل کے بجائے ان کی خواہش ہے اور یہ سرجھکائے، آنکھیں بند کیے اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔ خواہش کے پیچھے چلنے والا کبھی ہدایت کی راہ ہیں پا سکتا۔ ہدایت کی راہ اس کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر سر اٹھا کر دہنے بائیں اور آگے پیچھے کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے انسان کو مستوی القامت پیدا کیا، جانوروں کی طرح زمین کی طرف جھکا ہوا نہیں پیدا کیا۔ لیکن بہت سے انسان جانوروں ہی کی روش کی تقلید کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اس اعلیٰ خصوصیت کو کھو بیٹھتے ہیں جو انسان کا اصلی شرف ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خواہش کے پیچھے چلنے والوں کی مثال قرآن میں جگہ جگہ جانوروں سے دی گئی ہے۔ (تدبر قرآن)

قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ    ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ  23؀
[قُلْ: آپ کہیے][ هُوَ الَّذِيٓ انشَاَكُمْ: وہ، وہ ہے جس نے اٹھایا تم لوگوں کو][ وَجَعَلَ لَكُمُ: اور بنائے تمھارے لیے][ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ: سماعت اور بصارتیں اور دل][ قَلِيْلًا مَا تَشْكُرُوْنَ: بہت تھوڑا تم لوگ شکر کرتے ہو]

 

نوٹ۔1: آیت۔23۔ میں اعضاء انسانی میں ان تین اعضاء کا ذکر ہے جن پر علم و ادراک اور شعور موقوف ہے۔ فلاسفہ نے علم و ادراک کے پانچ ذریعے بیان کیے ہیں جن کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ ان پانچ چیزوں میں سے صرف دو کا ذکر کیا ہے یعنی کان اور آنکھ۔ وجہ یہ ہے کہ سونگھنے، چکھنے اور چھونے سے بہت کم چیزوں کا علم انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کی معلومات کا بڑا مدار سننے اور دیکھنے پر ہے۔ اور ان میں بھی سننے کو مقدم کیا گیا ہے۔ غور کرو تو معلوم ہو گا کہ انسان کو اپنی عمر میں جتنی معلومات ہوتی ہیں ان میں سنی ہوئی چیزیں بہ نسبت دیکھی ہوئی چیزوں کے بدرجہا زائد ہوتی ہیں۔ بیشتر معلومات انسانی انہیں دوراہوں سے حاصل ہوتی ہیں اور تیسری چیز قلب کو بتلایا ہے کہ وہ علم کا اصل مرکز اور بنیاد ہے، کانوں سے سنی ہوئی اور آنکھوں سے دیکھی ہوئی چیزوں کا علم بھی قلب پر موقوف ہے۔ جبکہ فلاسفہ (یعنی فلسفی لوگ) دماغ کو اس کا مرکز مانتے ہیں۔ (معارف القرآن) ۔

 جو اس خمسہ سے حاصل شدہ معلومات کے ضمن میں دماغ یعنی عقل اور دل، دونوں کا اپنا اپنا ایک رول ہے جس کی وضاہت آیت۔7:172، نوٹ۔2 میں کی جا چکی ہے۔ اسے دوبارہ دیکھ لیں۔ (مرتب)

قُلْ هُوَ الَّذِيْ ذَرَاَكُمْ فِي الْاَرْضِ وَاِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ   24؀
[قُلْ هُوَ الَّذِي: آپ کہیے وہ، وہ ہے جس نے][ ذَرَاَكُمْ فِي الْاَرْضِ: بکھیرا تم لوگوں کو زمین میں][ وَاِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ: اور اس کی طرف ہی تم لوگ اکٹھا کیے جائو گے]

 

 

نوٹ۔2: آیت۔24۔ میں اس حقیقت کی یاد دہانی کر دی ہے کہ ایک کسان اپنے کھیت میں کوئی فصل بوتا ہے، اس کو کھاد اور پانی دیتا ہے، چرند و پرندے اس کی حفاظت کرتے ہیں تو ہر دیکھنے والا بن بتائے یہ جانتا ہے کہ ایک دن وہ اس کو کاٹے گا اور اس کے دانے اور بھس کو الگ الگ کرے گا۔ آکر یہ واضح حقیقت خدا کے متعلق تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی۔ اگر تم عقل سے کام لو (آیت۔23 کے حوالے سے) تو یہ واضح حقیقت نہایت آسانی سے سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ جس خدا نے تم کو زمین میں بویا (پھیلایا) ہے اور تمہاری پرورش کر رہا ہے وہ تم کو یونہی نہیں چھوڑ رکھے گا، بلکہ وہ اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹ کر اپنے کھلیان میں جمع کرے گا۔ پھر اس کے دانے کو بھس سے الگ کرے گا اور اس کو کھتے میں جمع کر کے بھس کو جلا دے گا۔ یہ امر واضح رہے کہ قرآن نے یہاں جو حقیقت نہایت سادہ لفظوں میں بیان کر دی ہے، قدیم ضحیفوں خصوصاً انجیل میں مختلف اسلوبوں سے بیان ہوتی ہے۔ (تدبر قرآن)

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ   25؀
[وَيَقُوْلُوْنَ: اور یہ لوگ کہتے ہیں][ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ: کب ہے یہ وعدہ][ ان كُنْتم صٰدِقِيْنَ: اگر تم لوگ سچے ہو]

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ   ۠ وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ    26؀
[قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ: آپ کہیے یہ علم تو بس][ عِنْدَ اللّٰهِ ۠: اللہ کے پاس ہے][ وَاِنَّمَآ اَنَا: اور میں تو صرف][ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ: ایک کھلا کھلا خبردار کرنے والا ہوں]

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَقِيْلَ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ   27؀
[فَلَمَا رَاَوْهُ: پھر جب وہ دیکھیں گے اس (وعدہ) کو][ زُلْفَةً: قریب میں][ سِيْۗـــــَٔتْ: تو بگاڑے جائیں گے][ وُجوهُ الَّذِينَ كَفَرُوْا: ان لوگوں کے چہرے جنھوں نے کفر کیا][ وَقِيْلَ هٰذَا الَّذِي: اور کہا جائے گا یہ ہے وہ][ كُنْتم بِهٖ تَدَّعُوْنَ: تم لوگ جس کو مانگا کرتے تھے]

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ وَمَنْ مَّعِيَ اَوْ رَحِمَنَا   ۙ فَمَنْ يُّجِيْرُ الْكٰفِرِيْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ   28؀
[قُلْ اَرَءَيْتُمْ: آپ کہیے کیا تم لوگوں نے غور کیا][اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ: اگر ہلاک کر دے مجھ کو اللہ][ وَمَنْ مَّعِيَ: اور ان کو (بھی) جو میرے ساتھ ہیں][ اَوْ رَحِمَنَا ۙ: یا رحم کرے ہم پر][ فَمَنْ يُّجِيْرُ الْكٰفِرِيْنَ: تو کون بچائے گا کافروں کو][ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ: ایک دردناک عذاب سے]

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا  ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ     29؀
[قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ: آپ کہیے وہی رحمن ہے][ اٰمَنَا بِهٖ: ہم ایمان لائے جس پر][ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۚ : اور اس پر ہی ہم نے بھروسہ کیا][ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ: پس تم لوگ جان لو گے کون وہ ہے جو][ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ: ایک کھلی گمراہی میں ہے]

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَاۗؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَاۗءٍ مَّعِيْنٍ   30؀ۧ
[قُلْ اَرَءَيْتم: آپ کہیے کیا تم لوگوں نے غور کیا][ اِنْ اَصْبَحَ مَاۗؤُكُمْ: اگر ہو جائے تمھارا پانی][ غَوْرًا: زمین میں جذب][ فَمَنْ يَاْتِيْكُمْ: تو کون لائے گا تمھارے پاس][ بِمَاۗءٍ مَّعِيْنٍ: کچھ رواں پانی۔]

 

نوٹ۔3: آخر سورۃ میں (آیت۔30) پھر ایک جملہ میں یہ ارشاد فرمایا کہ زمین پر بسنے والو اور اس کو کھود کر کنویں بنانے والو اور اس کے پانی سے اپنے پینے پلانے اور نباتات اگانے کا کام لینے والو، اس بات کو مت بھولو کہ یہ سب چیزیں کوئی تمہاری ذاتی جاگیر نہیں ہیں، بلکہ صرف حق تعالیٰ کا عطیہ ہیں۔ پانی اس نے برسایا، پانی کو برف کی شکل میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اس نے لاد دیا، پھر برف کو آہستہ آہستہ پگھلا کر پہاڑوں کے عروق کے ذریعہ زمین کے اندر اس نے اتارا اور بغیر کسی پائپ لائن کے پوری زمین میں اس کا ایسا جال پھیلا دیا کہ جہاں چاہو زمین کھود کر پانی نکال لو۔ مگر یہ پانی اس نے زمین کی اوپری سطح پر رکھا ہے جس کو چند فٹ یا چند گز زمین کھود کر نکالا جا سکتا ہے۔ یہ مالک و خالق کا عطیہ ہے اگر وہ چاہے تو اس پانی کو زمین کی نیچے کی سطح پر اتار دے جہاں تک تمہاری رسائی ممکن نہ ہو۔ تو تمہاری کون سی طاقت ہے جو اس بھاری پانی کو حاصل کرسکے۔ حدیث میں ہے کہ جب آدمی اس آیت کی تلاوت کرے تو اس کو سوچنا چاہیے اَللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْن۔ یعنی اللہ ہی پھر اس کو لا سکتا ہے، ہماری کسی کی طاقت نہیں۔ (معارف القرآن)

مورخہ 24: محرم 1431 ھ بمطابق 11۔ جنوری 2010 ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ        ۝

نۗ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ     Ǻ۝ۙ
[نۗ وَالْقَلَمِ: قسم ہے قلم کی][ وَمَا يَسْطُرُوْنَ: اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں]

مَآ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ    Ą۝ۚ
[مَآ انتَ بِنِعْمَةِ رَبِكَ: آپ اپنے رب کی نعمت کے سبب سے][ بِمَجْنُوْن: کوئی مجنون نہیں ہیں]

وَاِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنٍ   Ǽ۝ۚ
[وَاِنَّ لَكَ: اور بیشک آپ کے لیے][ لَاَجْرًا: یقینا ایک ایسا اجر ہے جو][ غَيْرَ مَمْنُوْنٍ : منقطع ہونے والا نہیں ہے]

وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ  Ć۝
[وَاِنَّكَ: اور بیشک آپ][ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ: یقینا عظیم اخلاقیات پر ہیں]

 

نوٹ۔1: رسول کریم
کے وجود میں حق تعالیٰ نے تمام ہی اخلاق فاضلہ بدرجۂ کمال جمع فرما دیئے تھے۔ خود آنحضرت نے فرمایا کہ مجھے اس کام کے لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کروں۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ کی خدمت کی اس پوری مدت میں جو کام میں نے کیا، آپ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ ایسا کیوں کیا اور جو کام نہیں کیا اس پر کبھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام کیوں نہیں کیا۔ بی بی عائشہ  (رض)  فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا بجز جہاد فی سبیل اللہ کے۔ ورنہ آپ نے نہ کسی خادم کو، نہ کسی عورت کو کبھی نہیں مارا۔ ان میں سے کسی سے خطا و لغزش بھی ہوئی تو اس کا انتقام نہیں لیا بجز اس کے کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کو ہو تو شرعی سزا جاری فرمائی۔ آپ نہ فحش گو تھے نہ فحش کے پاس جاتے تھے، نہ بازار میں شوروشغب کرتے تھے۔ برائی کا بدلہ کبھی برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ معافی اور درگزر کا معاملہ فرماتے تھے۔ اور حضرت ابودرداء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ میزانِ عمل میں خلق حسن کے