قرآن کریم کے ایک ایک لفظ کی لغوی، صرفی، نحوی اور اعرابی تفسیر
افادات :  پروفیسر حافظ احمد یار 
(یونی کوڈ فارمیٹ)

 
پارہ ششم

لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَــهْرَ بِالسُّوْۗءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ  ۭ وَكَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًا عَلِـــيْمًا     ١٤٨؁
[ لاَ یُحِبُّ : نہیں پسند کرتا ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ الْجَہْرَ : نمایاں کرنا ] [ بِالسُّوْٓئِ : برائی کو ] [ مِنَ الْقَوْلِ: بات سے ] [ اِلاَّ : سوائے اس کے ] [ مَنْ : جس پر ] [ ظُلِمَ : ظلم کیا گیا ] [ وَکَانَ : ہو رہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ سَمِیْعًا : سننے والا ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ]

اِنْ تُبْدُوْا خَيْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْۗءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيْرًا     ١٤٩؁
[ اِنْ : اگر ] [ تُبْدُوْا : تم لوگ نمایاں کرو ] [ خَیْرًا : کسی بھلائی کو ] [ اَوْ: یا ] [ تُخْفُوْہُ : چھپائو اس کو ] [ اَوْ : یا ] [ تَعْفُوْا: درگزر کرو ] [ عَنْ سُوْٓئٍ : کسی برائی سے ] [ فَاِنَّ : تو یقینا ] [ اللّٰہَ : اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ عَفُــوًّا : بےانتہا درگزر کرنے والا ] [ ؐقَدِیْرًا: قدرت رکھنے والا ]

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا    ١٥٠؀ۙ
[ اِنَّ : بےشک ] [ الَّذِیْنَ : جو لوگ ] [ یَکْفُرُوْنَ : انکار کرتے ہیں ] [ بِاللّٰہِ : اللہ کا ] [ وَرُسُلِہٖ : اور اس کے رسولوں کا ] [ وَیُرِیْدُوْنَ : اور چاہتے ہیں ] [ اَنْ : کہ ] [ یُّفَرِّقُوْا : وہ فرق کریں ] [ بَیْنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہٖ : اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان ] [ وَیَــقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ] [ نُــؤْمِنُ : ہم ایمان لاتے ہیں ] [ بِبَعْضٍ: کسی پر ] [ وَّنَــکْفُرُ : اور انکار کرتے ہیں ] [ بِبَعْض: کسی کا] [ وَّیُرِیْدُوْنَ : اور چاہتے ہیں ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّــتَّخِذُوْا : وہ بنائیں ] [ بَیْنَ ذٰلِکَ : اس کے درمیان ] [ سَبِیْلاً : ایک راستہ ]

يَسْــَٔــلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰٓى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْٓا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ ۚ وَاٰتَيْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِيْنًا      ١٥٣؁
[ یَسْئَلُکَ : مانگتے ہیں آپ سے ] [ اَہْلُ الْکِتٰبِ : اہل کتاب ] [ اَنْ : کہ ] [ تُـنَـزِّلَ : آپؐ اتاریں ] [ عَلَیْہِمْ : ان پر ] [ کِتٰـبًا: کوئی کتاب ] [ مِّنَ السَّمَآئِ : آسمان سے ] [ فَقَدْ سَاَلُــوْا : تو وہ مانگ چکے ہیں] [ مُوْسٰٓی: موسیٰ ؑسے] [ اَکْبَرَ مِنْ ذٰلِکَ: اس سے زیادہ بڑی (چیز) ] [ فَقَالُوْآ : تو انہوں نے کہا ] [ اَرِنَا: آپ ؐ دکھائیں ہمیں ] [ اللّٰہَ: اللہ کو ] [ جَہْرَۃً : کھلم کھلا ] [ فَاَخَذَتْہُمُ : تو پکڑا ان کو ] [ الصّٰعِقَۃُ : آسمانی بجلی نے ] [ بِظُلْمِہِمْ : ان کے ظلم کے سبب سے ] [ ثُمَّ اتَّخَذُوا: پھر انہوں نے بنایا ] [ الْعِجْلَ : بچھڑے کو (الٰہ) ] [ مِنْم بَعْدِ مَا: اس کے بعد کہ ] [ جَآئَ تْہُمُ : آئیں ان کے پاس ] [ الْبَـیِّنٰتُ : واضح (نشانیاں) ] [ فَعَفَوْنَا : پھر ہم نے درگزر کیا ] [ عَنْ ذٰلِکَ : اس سے ] [ ؐوَاٰتَـیْنَا : اور ہم نے دیا ] [ مُوْسٰی : موسیٰ ؑکو] [ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا : واضح علبہ]

وَرَفَعْنَا فَوْقَھُمُ الطُّوْرَ بِمِيْثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِي السَّبْتِ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا     ١٥٤؁
[ وَرَفَعْنَا : اور ہم نے بلند کیا ] [ فَوْقَہُمُ : ان لوگوں کے اوپر ] [ الطُّوْرَ : کوہِ طور کو] [ بِمِیْثَاقِہِمْ : ان کے پختہ عہد کے لیے ] [ وَقُلْنَا : اور ہم نے کہا ] [ لَہُمُ : ان سے ] [ ادْخُلُوا : تم داخل ہو ] [ الْبَابَ : دروازے میں ] [ سُجَّدًا : سجدہ کرنے والوں کی حالت میں ] [ وَّقُلْنَا : اور ہم نے کہا ] [ لَہُمْ : ان سے] [ لاَ تَعْدُوْا : تم حد سے مت بڑھو] [ فِی السَّبْتِ : ہفتے کے دن میں ] [ وَاَخَذْنَا: اور ہم نے لیا ] [ مِنْہُمْ : ان سے ] [ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا : ایک مضبوط عہد ]

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِمْ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَقَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِيَاۗءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَّقَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ۭ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا     ١٥٥؀۠
[ فَبِمَا : پس جو (ان کی سزا ہے) وہ ہے ] [ نَقْضِہِمْ : ان کے توڑنے کے سبب سے ] [ مِّیْثَاقَہُمْ : اپنے عہد کو ] [ وَکُفْرِہِمْ: اور ان کے انکار کرنے کے سبب سے ] [ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی نشانیوں کا ] [ وَقَتْلِہِمُ: اور ان کے قتل کرنے کے سبب سے ] [ الْاَنْبِیَـآئَ : نبیوں کو ] [ بِغَیْرِ حَقٍّ : کسی حق کے بغیر ] [ وَّقَوْلِہِمْ : اور ان کے کہنے کے سبب سے ] [ قُلُوْبُنَا : ہمارے دل ] [ غُلْفٌ : غلافوں میں بند ہیں ] [ بَلْ : (ہرگز نہیں) بلکہ ] [ طَبَعَ : چھاپ لگا دی ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ عَلَیْہَا : ان پر (یعنی دلوں پر) ] [ بِکُفْرِہِمْ : ان کے کفر کے سبب سے ] [ فَلاَ یُؤْمِنُوْنَ : پس یہ ایمان نہیں لائیں گے] [ اِلاَّ قَلِیْلاً: مگر تھوڑے سے ]

 

ط ب ع

 طَبَعَ یَطْبَعُ (ف) طَبْعًا : کسی چیز کو ڈھال کر کوئی شکل دینا جیسے سکہ ڈھالنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے: (1) کوئی تصویر یا نقش و نگار بنانا ۔ (2) کسی چیز پر کچھ چھاپنا یا چھاپ لگانا۔ آیت زیر مطالعہ۔

وَّبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلٰي مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيْمًا     ١٥٦؀ۙ
[ وَّبِکُفْرِہِمْ : اور ان کے کفر کے سبب سے ] [ وَقَوْلِہِمْ : اور ان کے کہنے سے ] [ عَلٰی مَرْیَمَ : بی بی مریم پر ] [ بُہْتَانًا عَظِیْمًا: ایک عظیم بہتان]

 

ترکیب :’’ قَتَلْنَا‘‘ کا مفعول ’’ اَلْمَسِیْحُ‘‘ ہے اور اس کا بدل ’’ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ‘‘ ہے۔ پھر ’’ عِیْسَی ابْن 3 مَرْیَمَ‘‘ کا بدل ’’ رَسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ ہے۔ ’’ بِہٖ‘‘ اور ’’ مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ ؑ کے لیے ہیں۔ اسی طرح ’’ یَـکُوْنُ‘‘ کا اسم اس میں شامل ’’ ھُوَ‘‘ کی ضمیر ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ کے لیے ہے۔

وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ  ۭ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا   ١٥٧؀ۙ
[ وَّقَوْلِہِمْ : اور ان کے کہنے سے ] [ اِنَّا: کہ ہم نے] [ قَـتَلْنَا : قتل کیا ] [ الْمَسِیْحَ : مسیحؑ کو] [ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ : جو عیسیٰ بن مریم ہیں ] [ رَسُوْلَ اللّٰہِ : جو اللہ کے رسول ہیں ] [ وَمَا قَتَلُوْہُ : اور انہوں نے قتل نہیں کیا ان کو ] [ وَمَا صَلَبُوْہُ: اور نہ ہی انہوں نے سولی چڑھایا انؑ کو] [ وَلٰــکِنْ : اور لیکن ] [ شُبِّہَ : مشتبہ کیا گیا (معاملہ) ] [ لَہُمْ : ان کے لیے ] [ وَاِنَّ : اور بےشک ] [ الَّذِیْنَ : جن لوگوں نے ] [ اخْتَلَفُوْا : اختلاف کیا ] [ فِیْہِ : اس میں ] [ لَفِیْ شَکٍّ : یقینا (وہ) شک میں ہیں ] [ مِّنْہُ : اس (کی طرف) سے ] [ مَا لَہُمْ : ان کے لیے ] [ بِہٖ : نہیں ہے ان کے لیے ] [ مِنْ عِلْمٍ: کسی قسم کا کوئی علم ] [ اِلاَّ: سوائے اس کے کہ ] [ ؐ اتِّبَاعَ : پیروی کرنا ] [ الظَّنِّ : گمان کی ] [ وَمَا قَتَلُوْہُ : اور انہوں نے نہیں قتل کیا ان کو] [ یَـقِیْنًام: یقینا ]

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا     ١٥٨؁
[ بَلْ : بلکہ ] [ رَّفَعَہُ : اٹھایا انؑ کو] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ اِلَـیْہِ : اپنی طرف ] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ عَزِیْزًا : بالادست ] [ حَکِیْمًا: حکمت والا ]

وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا     ١٥٩؀ۚ
[ وَاِنْ : اور نہیں ہے ] [ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ: اہل کتاب میں کوئی ] [ اِلاَّ : مگر یہ کہ ] [ لَیُؤْمِنَنَّ : وہ لازماً ایمان لائے گا ] [ بِہٖ : ان ؑپر ] [ قَبْلَ مَوْتِہٖ: ان کی موت سے پہلے ] [ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : اور قیامت کے دن ] [ یَکُوْنُ : وہ ہوں گے ] [ عَلَیْہِمْ : ان پر ] [ شَہِیْدًا : گواہ ]

 

نوٹ : حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع آسمانی کی وضاحت آل عمران:55 کے نوٹ 1 میں کی جا چکی ہے۔ آیات زیر مطالعہ میں اس عقیدے کی بہت واضح الفاظ میں تردید کی گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نعوذ باللہ قتل کیا گیا یا سولی چڑھایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہ معاملہ ان لوگوں کے لیے مشتبہ کردیا گیا تھا۔

 اس معاملے کو کس طرح مشتبہ کیا گیا‘ اس کی وضاحت قرآن مجید میں کہیں نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی حدیث میری نظر سے گزری ہے ۔ البتہ اس کی تفسیر میں ابن کثیر (رح)  نے حضرت عبداللہ بن عباس  (رض)  اور وہب بن منبہ  (رض)  کے اقوال نقل کیے ہیں۔ دونوں کا حاصل یہ ہے کہ جب شاہی سپاہیوں اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑکے مکان کا محاصرہ کیا تو اس وقت آپؐ کے ساتھ سترہ حواری تھے۔ آپؐ نے فرمایا تم میں سے کون اسے پسند کرتا ہے کہ اس پر میری شبیہہ ڈالی جائے‘ وہ میری جگہ قتل کیا جائے اور جنت میں میرا رفیق بنے۔ ایک حواری اس کے لیے تیار ہو گئے اور حضرت عیسیٰ ؑ کی جگہ ان کو قتل کر کے صلیب پر لٹکایا گیا۔ جبکہ اللہ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا۔

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَثِيْرًا     ١٦٠؀ۙ
[ فَبِظُلْمٍ : پس ظلم کے سبب سے] [ مِّنَ الَّذِیْنَ : ان میں سے جو ] [ ہَادُوْا : یہودی ہوئے ] [ حَرَّمْنَا : ہم نے حرام کیں ] [ عَلَیْہِمْ : ان پر ] [ طَیِّبٰتٍ : کچھ ایسی پاکیزہ چیزیں جو] [ اُحِلَّتْ : حلال کی گئی تھیں] [ لَہُمْ : ان کے لیے ] [ وَبِصَدِّہِمْ: اور ان کے روکنے کے سبب سے] [ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کے راستے سے ] [ کَثِیْرًا : بہتوں کو ]

 

ترکیب:’’ طیبت‘‘ نکرہ موصوفہ ہے اور ’’ احلت‘‘ اس کی صفت ہے۔ ’’ بصدھم‘‘ کے ’’ با‘‘ سببیہ پر عطف ہونے کی وجہ سے ’’ اخذھم‘‘ اور ’’ اکلھم‘‘ مجرور ہوئے ہیں۔ ’’ والمقیمین‘‘ اسم الفاعل ہے اور حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔

وَّاَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْهُ وَاَ كْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ۭوَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا     ١٦١؁
[ وَّاَخْذِہِمُ: اور ان کے پکڑنے کے سبب سے] [ الرِّبٰوا : سود کو ] [ وَ: حالانکہ ] [ قَدْ نُھُوْا : وہ لوگ روکے گئے ہیں ] [ عَنْہُ : اس سے ] [ وَاَکْلِہِمْ : اور ان کے کھانے کے سبب سے] [ اَمْوَالَ النَّاسِ : لوگوں کے مال کو ] [ بِالْبَاطِلِ : باطل سے ] [ وَاَعْتَدْنَا : اور ہم نے تیار کیا ] [ لِلْکٰفِرِیْنَ : کافروں کے لیے ] [ مِنْہُمْ : ان میں سے ] [ عَذَابًا اَلِیْمًا: ایک درد ناک عذاب]

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَالْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوةَ وَالْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ سَنُؤْتِيْهِمْ اَجْرًا عَظِيْمًا      ١٦٢؀ۧ
[ لٰـکِنِ : لیکن ] [ الرّٰسِخُوْنَ : جم جانے والے ] [ فِی الْْعِلْمِ : علم میں ] [ مِنْہُمْ : ان میں سے ] [ وَالْمُؤْمِنُوْنَ : اور ایمان لانے والے ] [ یُؤْمِنُوْنَ : جو ایمان لاتے ہیں ] [ بِمَآ : اس پر جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا] [ اِلَـیْکَ : آپؐ کی طرف ] [ وَمَــآ : اور جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ مِنْ قَبْلِکَ : آپؐ سے پہلے ] [ وَالْمُقِیْمِیْنَ: اور قائم رکھنے والے ہوتے ہوئے] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کے ] [ وَالْمُؤْتُوْنَ : اور پہنچانے و الے] [ الزَّکٰوۃَ : زکوٰۃ کو ] [ وَالْمُؤْمِنُوْنَ : اور ایمان لانے والے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ: اور آخری دن پر ] [ اُولٰٓئِکَ : یہ لوگ ہیں ] [ سَنُؤْتِیْہِمْ : ہم دیں گے جن کو ] [ اَجْرًا عَظِیْمًا : ایک شاندار بدلہ]

 

نوٹ : آیت 160 میں یہودیوں کا ایک جرم یہ بتایا گیا ہے کہ یہ دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خود اللہ کے راستے سے منحرف ہونے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے میں اپنی تمام صلاحیتیں اور وسائل صرف کرتے ہیں۔ اور اس جرم پر یہ آج تک بڑی استقامت سے قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے دنیا میں جب بھی کوئی تحریک اٹھتی ہے تو اس کے پیچھے یہودی دماغ اور یہودی سرمایہ کام کرتا نظرآتا ہے ۔ (تفہیم القرآن) آج کل امریکہ کی سربراہی میں اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانی کی جو تحریک برپا ہے وہ بھی یہودی ذہن اور سرمائے کی پیداوار ہے۔

اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ  ۚ  وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِيْسٰى وَاَيُّوْبَ وَيُوْنُسَ وَهٰرُوْنَ وَسُلَيْمٰنَ ۚ وَاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا     ١٦٣؀ۚ
[ اِنَّــآ اَوْحَیْنَــآ : بےشک ہم نے وحی کی ] [ اِلَـیْکَ : آپؐ کی طرف ] [ کَمَآ : جیسے کہ ] [ اَوْحَیْنَــآ: ہم نے وحی کیا ] [ اِلٰی نُوْحٍ : نوحؑ کی طرف] [ وَّالنَّبِیّٖنَ : اور نبیوں کی طرف ] [ مِنْم بَعْدِہٖ: انؑ کے بعد] [ وَاَوْحَیْنَـآ: اور ہم نے وحی کیا ] [ اِلٰٓی اِبْرٰہِیْمَ : ابراہیم ؑ کی طرف] [ وَاِسْمٰعِیْلَ : اور اسماعیل ؑ کی طرف] [ وَاِسْحٰقَ : اور اسحاقؑ کی طرف] [ وَیَعْقُوْبَ : اور یعقوبؑ کی طرف] [ وَالْاَسْبَاطِ : اور (ان کی) نسل کی طرف] [ وَعِیْسٰی : اور عیسیٰ ؑ کی طرف] [ وَاَیُّــوْبَ : اور ایوبؑ کی طرف] [ وَیُوْنُسَ : اور یونسؑ کی طرف] [ وَہٰرُوْنَ : اور ہارونؑ کی طرف] [ وَسُلَیْمٰنَ : اور سلیمانؑ کی طرف] [ وَاٰتَـیْنَا : اور ہم نے دیا ] [ دَاوٗدَ : دائودؑ کو] [ زَبُوْرًا : زبور]

 

ترکیب :’’ اَلنَّبِیّٖنَ‘ اِلٰی ‘‘ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہے۔ ’’ اِلٰی اِبْرٰھِیْمَ‘‘ کے بعد تمام پیغمبروں کے نام بھی ’’ اِلٰی‘‘ پر عطف ہونے کی وجہ سے مجرور ہیں۔ آیت 164 میں دو مرتبہ اور 165 میں ایک مرتبہ ’’ رُسُلًا‘‘ آیا ہے ان سے پہلے ’’ کَانُوْا‘‘ محذوف ہے۔ اس کا اسم اس میں ’’ ھُمْ‘‘ کی ضمیر ہے اور ’’ رسلا‘‘ خبر ہے۔ ’’ مُبَشِّرِیْنَ‘‘ اور’’ مُنْذِرِیْنَ‘‘ حال ہیں۔ ’’ حُجَّۃً‘‘ مبتدأ موخر نکرہ اور ’’ یَکُوْنَ‘‘ کا اسم ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے جو ’’ بَاقِیًا‘‘ ہو سکتی ہے۔

وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ  ۭ وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا     ١٦٤؀ۚ
[ وَرُسُلاً : اور (تھے) کچھ رسول] [ قَدْ قَصَصْنٰـہُمْ : ہم نے بیان کیا ہے جن کا ] [ عَلَیْکَ : آپؐ پر] [ ؐمِنْ قَـبْلُ : اس سے پہلے ] [ وَرُسُلاً : اور (تھے) کچھ رسول] [ لَّمْ نَقْصُصْہُمْ : ہم نے نہیں بیان کیا جن کا] [ عَلَیْکَ : آپؐ پر] [ وَکَلَّمَ : اور کلام کیا ] [ اللّٰہُ مُوْسٰی : اللہ نے موسیٰ ؑسے] [ تَـکْلِیْمًا: جیسے کلام کرتے ہیں ]

رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا    ١٦٥؁
[ رُسُلاً : (وہ تھے) کچھ رسول] [ مُّبَشِّرِیْنَ: خوشخبری دینے والے ] [ وَمُنْذِرِیْنَ : اور خبردار کرنے والے] [ لِئَلاَّ یَکُوْنَ : تاکہ (باقی) نہ رہے ] [ لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ حُجَّۃٌم : کوئی حجت ] [ بَعْدَ الرُّسُلِ : رسولوں کے بعد] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ عَزِیْزًا : بالادست] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ]

لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ ۚ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَشْهَدُوْنَ ۭوَكَفٰي بِاللّٰهِ شَهِيْدًا     ١٦٦؀ۭ
[ لٰـکِنِ : لیکن ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ یَشْہَدُ : گواہی دیتا ہے ] [ بِمَآ : اس کی جو ] [ اَنْزَلَ: اس نے اتارا] [ اِلَـیْکَ : آپؐ کی طرف] [ اَنْزَلَہٗ : کہ اس نے اتارا اس کو ] [ بِعِلْمِہٖ : اپنے علم سے ] [ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ : اور فرشتے] [ یَشْہَدُوْنَ : (بھی) گواہی دیتے ہیں ] [ وَکَفٰی : اور کافی ہے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ ] [ شَہِیْدًا : بطور گواہ کے ]

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا     ١٦٧؁
[ اِنَّ : بےشک ] [ الَّذِیْنَ : جن لوگوں نے ] [ کَفَرُوْا: کفر کیا ] [ وَصَدُّوْا : اور رکے رہے ] [ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کے راستے سے ] [ قَدْ ضَلُّوْا : اور گمراہ ہوئے ہیں ] [ ضَلٰلاً م بَعِیْدًا : دور کا گمراہ ہونا]

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَظَلَمُوْا لَمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيْقًا    ١٦٨؀ۙ
[ اِنَّ : بےشک ] [ الَّذِیْنَ : جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : کفر کیا ] [ وَظَلَمُوْا : اور ظلم کیا ] [ لَمْ یَکُنِ : ہے ہی نہیں ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ لِیَغْفِرَ : کہ و ہ معاف کرے ] [ لَہُمْ : ان کو ] [ وَلاَ لِیَہْدِیَہُمْ : اور نہ ہی (یہ) کہ وہ ہدای دے ان کو ] [ طَرِیْقًا : کسی راہ کی ]

 

ط ر ق

 طَرَقَ یَطْرُقُ (ن) طَرْقًا : (1) ہتھوڑا مارنا‘ لوہا کاٹنا۔ (2) کسی چیز میں راستہ بنانا۔

 طُرُوْقًا : رات میں آنا۔

 طَارِقٌ (اسم الفاعل) : رات میں آنے والا ‘ ستارہ۔ {وَمَا اَدْرٰٹکَ مَا الطَّارِقُ ۔ اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ ۔ } (الطارق) ’’ اور تو نے کیا سمجھا ہے رات میں آنے والا‘ (وہ ہے) تارا چمکنے والا ۔‘‘

 طَرِیْقٌ مؤنث طَرِیْقَۃٌ ج طَرَائِقُ : چلنے کا راستہ۔ {فَاضْرِبْ لَھُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ} (طٰہٰ:77) ’’ پھر تو بنا ان کے لیے ایک راستہ سمندر میں۔‘‘ {وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَـکُمْ سَبْعَ طَرَائِقَق} (المؤمنون:17) ’’ اور بےشک ہم نے تخلیق کیے ہیں تمہارے اوپر سات راستے ۔‘‘ (2) کوئی کام کرنے یا عمل کرنے کا طریقہ‘ راہ‘ مسلک‘ آیت زیر مطالعہ اور {وَیَذْھَبَا بِطَرِیْقَتُکُمُ الْمُثْلٰی ۔ } (طٰہٰ) ’’ اور وہ دونوں لے جائیں تمہارے بےمثال چلن کو۔‘‘{کُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا ۔ } (الجن) ’’ ہم تھے الگ الگ راہوں پر۔‘‘

اِلَّا طَرِيْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭوَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا     ١٦٩؁
[ اِلاَّ : سوائے ] [ طَرِیْقَ جَہَنَّمَ : جہنم کی راہ کے ] [ خٰلِدِیْنَ : ایک حالت میں رہنے والے ہیں] [ فِیْہَآ : اس میں ] [ اَبَدًا : ہمیشہ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ ذٰلِکَ : یہ ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ یَسِیْرًا : آسان ]

 

نوٹ : آیت 165 میں فرمایا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہے۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ سلسلہ نبوت و رسالت حجت نہیں ہے بلکہ اتمام حجت ہے۔ انسانوں پر اصل حجت ان کی فطرت کے داعیات اور فکر و عقل کی صلاحیتیں ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ اگر کسی انسان تک کسی نبی یا رسول کی دعوت نہیں پہنچی تب بھی وہ جواب دہ ہے۔

 یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انسانی فطرت خیر وشر کے شعور سے محروم نہیں ہے اور نہ ہی عقل حق و باطل کے امتیاز سے قاصر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے انسان کو عقل و فطرت کی راہنمائی کے ساتھ وحی اور انبیاء کی راہنمائی سے بھی نوازا تاکہ گمراہوں کے لیے کوئی ادنیٰ عذر بھی باقی نہ رہے ۔ (تدبر القرآن)

يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَيْرًا لَّكُمْ ۭ وَاِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا     ١٧٠؁
[ یٰٓــاَیـُّــہَا النَّاسُ : اے لوگو ] [ قَدْ جَآئَ کُمُ : تمہارے پاس آچکے ہیں ] [ الرَّسُوْلُ : یہ رسول ؐ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ مِنْ رَّبِّکُمْ : تمہارے رب کی طرف سے ] [ فَاٰمِنُوْا : پس تم ایمان لائو ] [ خَیْرًا: (تو وہ ہوگا) بہتر ] [ لَّــکُمْ : تمہارے لیے ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَـکْفُرُوْا : تم انکار کرو گے ] [ فَاِنَّ : تو یقینا ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ہی ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَالْاَرْضِ : اور زمین میں ہے ] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ]

 

ترکیب : پہلی آیت میں فعل امر ’’ فَاٰمِنُوْا‘‘ کے بعد اور اگلی آیت میں ’’ اِنْتَھُوْا‘‘ کے بعد ’’ خیرا‘‘ آیا ہے‘ اس سے پہلے ’’ فَـیَـکُوْنُ‘‘ محذوف ہے۔ اس کا اسم اس میں ’’ ھُوَ‘‘ کی ضمیر ہے اور ’’ خیرا‘‘ اس کی خبر ہے۔ ’’ لَا تَقُوْلُوْا‘‘ کا مفعول ہونے کی وجہ سے ’’ اَلْحَقُّ‘‘ منصوب ہے۔ ’’ اَلْمَسِیْحُ‘‘ مبتدأ ہے اور ’’ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ‘‘ اس کا بدل ہے۔ جبکہ ’’ رَسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ اور ’’ کَلِمَتُہٗ‘‘ اور ’’ رُوْحٌ‘‘ اس کی خبریں ہیں۔ ’’ ثَلٰـثَۃٌ‘‘ اگر ’’ لَا تَقُوْلُوْا‘‘ کا مفعول ہوتا تو ’’ ثَلَاثَۃٌ‘‘ آتا۔ اس کی رفع بتا رہی ہے کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں اسے
direct tense میں نقل کیا گیا ہے (دیکھیں آیت البقرۃ:58‘ ترکیب) ۔ ’’ اَنْ یَـکُوْنَ‘‘ کا اسم ’’ وَلَدٌ‘‘ ہے اور خبر محذوف ہے۔ ’’ یَسْتَنْکِفُ‘‘ کا فاعل ’’ اَلْمَسِیْحُ‘‘ اور ’’ اَلْمَلٰٓئِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ‘‘ ہیں۔

يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ ۭاِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَكَلِمَتُهٗ ۚ اَلْقٰىهَآ اِلٰي مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْهُ  ۡ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ  ڟ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ  ۭاِنْتَھُوْا خَيْرًا لَّكُمْ ۭاِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭسُبْحٰنَهٗٓ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ  ۘ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭوَكَفٰي بِاللّٰهِ وَكِيْلًا     ١٧١؀ۧ
[ یٰٓــاَہْلَ الْکِتٰبِ : اے اہل کتاب! ] [ لاَ تَغْلُوْا : تم لوگ مبالغہ مت کرو ] [ فِیْ دِیْـنِکُمْ : اپنے دین میں ] [ وَلاَ تَقُوْلُوْا : اور تم لوگ مت کہو] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ اِلاَّ : سوائے ] [ ؐالْحَقَّ: حق کے ] [ اِنَّمَا: کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ الْمَسِیْحُ : مسیحؑ] [ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ : جو عیسیٰ ابن مریم ہیں ] [ رَسُوْلُ اللّٰہِ : (وہ) اللہ کے رسول ہیں] [ وَکَلِمَتُہٗ : اور اس کا فرمان ہیں] [ اَلْقٰہَآ : اس نے ڈالا جس کو ] [ اِلٰی مَرْیَمَ : بی بی مریم کی طرف ] [ وَرُوْحٌ : اور ایک روح ہیں ] [ مِّنْہُ : اس (کی طرف) سے ] [ فَاٰمِنُوْا : پس تم ایمان لائو ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَرُسُلِہٖ : اور اس کے رسولوں پر ] [ وَلاَ تَقُوْلُوْا : اور تم مت کہو ] [ ثَلٰـثَۃٌ : ’’(کہ وہ) تین ہیں‘‘] [ اِنْتَہُوْا : تم باز آ جائو ] [ خَیْرًا : (تو وہ ہو گا) بہتر] [ لَّـکُمْ : تمہارے لیے ] [ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ] [ اللّٰہُ: اللہ ] [ اِلٰـــہٌ وَّاحِدٌ : واحد الٰہ ہے ] [ سُبْحٰنَہٓٗ : وہ پاک ہے ] [ اَنْ : (اس سے) کہ ] [ یَّــکُوْنَ : ہو ] [ لَہٗ : اس کے لیے ] [ وَلَــدٌ : کوئی اولاد ] [ 8 لَہٗ : اس کا ہی ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَمَا : اور وہ جو ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ وَکَفٰی : اور کافی ہے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ ] [ وَکِیْلاً: بطور کام بنانے والے کے ]

 

غ ل و

 (ن) غُلُوًّا : تیر کو انتہائی دور تک پھینکنا‘ مبالغہ کرنا‘ آیت زیر مطالعہ۔

لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَلَا الْمَلٰۗىِٕكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ ۭوَمَنْ يَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ اِلَيْهِ جَمِيْعًا     ١٧٢؁
[ لَنْ یَّسْتَنْکِفَ : ہرگز عار نہیں سمجھتے ] [ الْمَسِیْحُ : مسیحؑ] [ اَنْ : (اس کو) کہ ] [ یَّکُوْنَ : وہ ہوں ] [ عَبْدًا : ایک بندے ] [ لِّلّٰہِ : اللہ کے ] [ وَلاَ الْمَلٰٓئِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ : اور نہ ہی مقرب فرشتے ] [ وَمَنْ یَّسْتَنْکِفْ : اور جو عار سمجھ کر رکے گا ] [ عَنْ عِبَادَتِہٖ : اس کی عبادت سے ] [ وَیَسْتَـکْبِرْ : اور بڑائی چاہے گا] [ فَسَیَحْشُرُہُمْ : تو وہ اکٹھا کرے گا ان کو ] [ اِلَـیْہِ : اپنی طرف ] [ جَمِیْعًا : کل کے کل کو ]

 

ن ک ف

 نَـکَفَ یَنْکُفُ (ن) نَـکْفًا : ناک بھوں چڑھانا‘ بیزار ہونا۔

 اِسْتَنْکَفَ یَسْتَنْکِفُ (استفعال) اِسْتِنْکَافًا : باعث ننگ عار سمجھنا‘ عار سمجھ کر رکنا۔ آیت زیر مطالعہ۔

فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَيَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ ۚ وَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَاسْتَكْبَرُوْا فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِــيْمًا  ۥۙ وَّلَا يَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا     ١٧٣؁
[ فَاَمَّا الَّذِیْنَ : پس وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور عمل کیے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیک ] [ فَیُوَفِّیْہِمْ : تو وہ پورا پورا دے گا ان کو ] [ اُجُوْرَہُمْ : ان کے بدلے ] [ وَیَزِیْدُہُمْ : اور وہ زیادہ دے گا ان کو] [ مِّنْ فَضْلِہٖ : اپنے فضل سے ] [ وَاَمَّا الَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جو ] [  (رض)  اسْتَنْکَفُوْا : عار سمجھ کر رکے ] [ وَاسْتَـکْبَرُوْا : اور بڑائی چاہی ] [ فَـیُعَذِّبُہُمْ : تو وہ عذاب دے گا ان کو ] [ عَذَابًا اَلِیْمًا : ایک دردناک عذاب ] [ وَّلاَ یَجِدُوْنَ : اور وہ لوگ نہیں پائیں گے] [ لَہُمْ : اپنے لیے ] [  (رض)  مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ : اللہ کے سوا ] [ وَلِـیًّا : کوئی کارساز ] [ وَّلاَ نَصِیْرًا : اور نہ ہی کوئی مددگار]

 

نوٹ (1) : دین میں مبالغہ کا مطلب یہ ہے کہ دین میں جس چیز کا جو درجہ اور مقام ہے اس کو اس سے بڑھادیا جائے۔ جو حکم مستحب کے درجہ میں ہے اسے فرض اور واجب کا درجہ دیا جائے۔ کسی فقیہہ یا مجتہد یا صحابی  (رض)  کو امام معصوم بنادیا جائے۔ جس کی تعظیم مطلوب ہے اس کی عبادت شروع کر دی جائے۔ یہ اور اسی قبیل کی ساری باتیں غلو میں داخل ہیں۔ یوں تو اس غلو میں تمام اہل مذاہب مبتلا ہوئے ہیں‘ یہاں تک کہ ہم مسلمان بھی اس فتنہ میں مبتلا ہو گئے‘ لیکن نصاریٰ کو اس فساد میں امامت کا درجہ حاصل ہے ۔ (تدبر القرآن)

نوٹ (2) : اس کائنات میں ہر چیز اللہ کے حکم سے ہی وجود میں آتی ہے۔ البتہ اس حکم پر عمل درآمد اس کے تخلیق کردہ کسی نظام کے تحت ہوتا ہے۔ لیکن عیسیٰ ؑ باپ کے بغیروجود میں آئے تھے اس لیے کَلِمَتُہٗ کا اضافہ کر کے بتا دیا کہ یہ بھی اللہ کا ہی فرمان تھا اور حضرت عیسیٰ ؑکا وجود اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن کا مظہر ہے۔

 کَلِمَتُہٗکی طرح آگے رُوْحُہٗ آتا تو اس کا مطلب ہوتا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اس کی یعنی اللہ کی روح ہیں۔ لیکن ضمیر کے ساتھ مِنْ کا اضافہ کر کے اس عقیدے کی نفی کر دی گئی اور واضح کردیا گیا کہ ہر ذی روح کی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کی روح بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔

آیات 174 تا 176

يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا     ١٧٤؁
[ یٰٓــاَیـُّــہَا النَّاسُ : اے لوگو!] [ قَدْ جَآئَ‘ کُمْ : آ چکی ہے تمہارے پاس ] [ بُرْہَانٌ : ایک روشن دلیل ] [ مِّنْ رَّبِّکُمْ: تمہارے رب (کی طرف) سے ] [ وَاَنْزَلْـنَــآ : اور ہم نے اتارا ] [ اِلَـیْکُمْ : تمہاری طرف ] [ نُوْرًا مُّبِیْنًا : ایک روشن نور ]

فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَاعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَـيُدْخِلُهُمْ فِيْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ ۙ وَّيَهْدِيْهِمْ اِلَيْهِ صِرَاطًا مُّسْتَــقِيْمًا    ١٧٥؀ۭ
[ فَاَمَّا الَّذِیْنَ : پس وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَاعْتَصَمُوْا: اور انہوں نے مضبوطی سے پکڑا] [ بِہٖ : اس کو ] [ فَسَیُدْخِلُہُمْ : تو وہ داخل کرے گا ان کو] [ فِیْ رَحْمَۃٍ : رحمت میں ] [ مِّنْہُ : اپنے (پاس) سے ] [ وَفَضْلٍ : اور فضل میں ] [ وَّیَہْدِیْہِمْ : اور وہ ہدایت دے گا ان کو] [ اِلَـیْہِ : اپنی طرف ] [ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا: ایک سیدھے راستے کی ]

يَسْتَـفْتُوْنَكَ ۭ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِي الْكَلٰلَةِ  ۭاِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَيْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَهٗٓ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ ۭفَاِنْ كَانَتَا اثْنَـتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ  ۭوَاِنْ كَانُوْٓا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّنِسَاۗءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَـيَيْنِ ۭ يُـبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا  ۭوَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ      ١٧٦؀ۧ
[ یَسْتَفْتُوْنَکَ: یہ لوگ فتویٰ مانگتے ہیں آپؐ سے] [ قُلِ : آپؐ کہیے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ یُـفْتِیْکُمْ : فتویٰ دیتا ہے تم کو ] [ فِی الْْکَلٰلَۃِ : کلالہ (کے بارے) میں] [ اِنِ : اگر ] [ امْرُؤٌ : ایک مرد ] [ ہَلَکَ : ہلاک ہوا ] [ لَـیْسَ : نہیں ہے ] [ لَـہٗ : اس کی ] [ وَلَـدٌ : کوئی اولاد ] [ وَّلَـہٓٗ : اور اس کی ] [ اُخْتٌ : ایک بہن ہے ] [ فَلَہَا : تو اس کے لیے ہے ] [ نِصْفُ مَا : اس کا آدھا جو ] [ تَرَکَ : اس نے چھوڑا] [ وَہُوَ : اور وہ مرد (یعنی بھائی) ] [ یَرِثُـہَـآ: وارث ہو گا اس عورت کا (یعنی بہن کا) ] [ اِنْ : اگر ] [ لَّـمْ یَکُنْ : نہ ہو ] [ لَّـہَا : اس عورت کی ] [ وَلَدٌ : کوئی اولاد ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ کَانَتَا : وہ ہوں ] [ اثْنَتَـیْنِ : دو عورتیں (یعنی بہنیں) ] [ فَلَہُمَا : تو ان دونوں کے لیے ہے ] [ الثُّلُثٰنِ : دو تہائی ] [ مِمَّا : اس میں سے جو ] [ تَرَکَ : اس نے چھوڑا] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ کَانُوْآ: وہ لوگ ہوں] [ اِخْوَۃً : بھائی بہن ] [ رِّجَالاً: کچھ مرد ] [ وَّنِسَآئً : اور کچھ عورتیں] [ فَلِلذَّکَرِ: تو مرد کے لیے ہے ] [ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ: دو عورتوں کے حصے جیسا] [ یُـبَـیِّنُ : واضح کرتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ لَــکُمْ : تم لوگوں کے لیے ] [ اَنْ : کہ (کہیں) ] [ تَضِلُّوْا : تم لوگ گمراہ ہو جائو ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ بِکُلِّ شَیْئٍ : ہر ایک چیز کا ] [ عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ]

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ           ۝

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ڛ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ  ۭاِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيْدُ      Ǻ۝
[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ: اے لوگوجو] [ اٰمَنُوْٓا: ایمان لائے] [ اَوْفُوْا: تو لوگ پورا کرو] [ بِالْعُقُوْدِ: عہدوں کو] [ ڛ اُحِلَّتْ: حلال کیا گیا ] [ لَكُمْ: تمہارے لیے ] [ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ: بےزبان مویشیوں کو ] [ اِلَّا مَا: سوائے اس کے جو ] [ يُتْلٰى عَلَيْكُمْ : پڑھ کر سنایا جائے گا تم کو] [ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ: شکار کو حلال کرنے والے نہ ہوتے ہوئے] [ وَ: اس حال میں کہ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ] [ حُرُمٌ ۭ: محترم (یعنی احرام میں ہو)] [ اِنَّ اللّٰهَ: بیشک اللہ ] [ يَحْكُمُ : حکم دیتا ہے] [ مَا : وہ جو] [ يُرِيْدُ : وہ ارادہ کرتا]

ب ھ م

ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوتا ۔ بھیمہ جس کے منہ سے نکلی ہوئی آواز مبہم ہو ۔ بےزبان آیت زیر مطالعہ ۔

ص ی د ۔ (ض) صیداشکار کرنا ۔ صیدٌ اسم ذات بھی ہے ۔ شکار ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ اصطیادٌ شکار کھلینا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

ق ل د قلدا (ض) (1) رسی بٹلنا ۔ (2) گلے میں تلوار یا کوئی چیز لٹکانا ۔ قلادۃ ج قلاید ۔ گلے میں پڑی ہوئی کوئی چیز جیسے پٹہ ۔ ہار ۔ نیکلس وغیرہ ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

مقلادج مقالید ۔ پٹہ کھولنے کا آلہ ۔ کنجی ۔ (آیت ) لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ اس کے لیے ہی ہیں زمین اور آسمانوں کی کنجیاں ] ۔39:63

ج ر م (ض) (س) جرما کسی کو کسی برائی پر آمادہ کرنا ۔ پھر مطلقا آمادہ کرنے کے لیے بھی آتا ہے ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

جرما صاف ہونا ۔ یقینی ہونا ۔

جرم صاف ۔ یقینی ۔ (آیت ) لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَاَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ [ نہیں ! یقینی ہے کہ ان لوگوں کے لیے آگ ہے ]16:62۔ اس میں لا منفصلہ ہے ۔ جیسے لاَ اُقسم کا الگ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں قسم نہیں کھاتا ، بلکہ لا الگ یعنی منفصل ہے اور اقسم الگ ہے ۔ اس لیے اس کا مطلب ہے نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں ۔ ایسے ہی لا جرم کا لا بھی الگ یعنی منفصل ہے ۔ عام قاری کو اس باریکی میں الجھانے کے بجائے عام طور پر اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ’’ کوئی شک نہیں ہے ‘‘۔

(افعال ) اجراما برائی کرنا ۔ جرم کرنا ۔ (آیت ) فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ [ تو مجھ پر ہے میرا جرم کرنا اور میں بری ہوں اس سے جو تم لوگ جرم کرتے ہو ]۔11:35۔

مجرم اسم الفاعل ہے ۔ جرم کرنے والا ۔ مجرم ۔ (آیت ) وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْن (اور خواہ کراہیت کریں مجرم لوگ ۔8:8

ش نء (ف۔ س) شنان بغض رکھنا ۔ نفرت کرنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ شانی اسم الفاعل ہے ۔ (آیت ) اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتر [ بےشک آپ
سے بغض رکھنے والا ہی انتہائی بےنام ونشان ہے ]۔108:3

ترکیب ۔ احلت کا نائب فاعل بھیمۃ الانعام ہے جو کہ مرکب اضافی ہے لیکن اردو محاورے کی ضرورت کے تحت اس کا ترجمہ مرکب توصیفی کا ہو گا یعنی بےزبان مویشی ۔ غیر حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اس کا مضاف الیہ محلین تھا جو الصید کا مضاف بنا تو اس کا نون اعرابی گرگیا ۔ القلائد سے پہلے ذوات محذوف ہے یعنی پٹوں والے ۔ امین اسم الفاعل ہے اور لا تحلوا کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے ۔ پھر اس نے فعل کا عمل کیا ہے ۔ تو البیت الحرام اس کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہوا ہے ۔

نوٹ ۔1 ،چوپاؤں میں سے انعام یعنی مویشی ایسے جانوروں کو کہتے ہیں جن کے پیر کے سم چرے ہوئے ہوں اور وہ جگالی کرتے ہوں ۔ اس لحاظ سے بھیڑ، بکری ، اونٹ ، ہرن ، نیل گائے وغیرہ سب انعام ہیں ۔ لیکن گھوڑے ،گدھے، شیر ،ریچھ وغیرہ انعام نہیں ہیں ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ آیت نمبر ۔3:14 میں گھوڑوں کو انعام میں شامل نہیں کیا گیا اور ان کا ذکر الگ کیا گیا ہے ۔ گھوڑوں کے حلال ہونے کا علم اور اسی طرح سے پروندوں میں سے کسی کے حلال ہونے اور کسی کے حرام ہونے کا علم ہمیں احادیث سے حاصل ہوتا ہے ۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَاۗىِٕدَ وَلَآ اٰۗمِّيْنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا  ۭوَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا  ۭوَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا  ۘوَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۠وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ    Ą۝
[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ: اے لوگوں جو] [ اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [ لَا تُحِلُّوْا: تم لوگ حلال مت کرو (بے ادبی کے لیے)] [ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ: اللہ کی علامتوں کو] [ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ: اور نہ ہی محترم مہینے کو] [ وَلَا الْهَدْيَ: اور نہ ہی قربانی کے جانور کو] [ وَلَا الْقَلَاۗىِٕدَ: اور نہ ہی پٹے (والوں ) کو] [ وَلَآ اٰۗمِّيْنَ: [ اور نہ ہی ارادہ کرنے والوں کو] [ الْبَيْتَ الْحَرَامَ: اس محترم گھر کا] [ يَبْتَغُوْنَ: جو تلاش کرتے ہیں] [ فَضْلًا: فضل کو] [ مِّنْ رَّبِّهِمْ: اپنے رب (کی طرف ) سے] [ وَرِضْوَانًا ۭ: اور (اس کی ) رضاکو] [ وَاِذَا: اور جب] [ حَلَلْتُمْ: تم لوگ حلال ہوجاؤ(یعنی احرام کھول دو)] [ فَاصْطَادُوْا: تو شکار کرو] [ ۭوَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ: اور تم کو ہر گز آمادہ نہ کرے ] [ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ: کسی قوم کی عداوت] [ اَنْ: (کیوں ) کہ] [ صَدُّوْكُمْ: انھوں نے روکا تم کو] [ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ: مسجد حرام سے] [ اَنْ: کہ] [ تَعْتَدُوْا ۘ: تم لوگ زیادتی کرو] [ وَتَعَاوَنُوْا: اور تم لوگ آپس میں تعاون کرو] [ عَلَي الْبِرِّ: نیکی میں] [ وَالتَّقْوٰى ۠ : اور تقوی میں] [ وَلَا تَعَاوَنُوْا: اور تعاون مت کرو] [ عَلَي الْاِثْمِ: گناہ میں] [ وَالْعُدْوَانِ ۠: اور زیادتی میں] [ وَاتَّقُوا: اور تقوی کرو] [ اللّٰهَ ۭ : اللہ کا] [ اِنَّ اللّٰهَ: یقینا اللہ] [ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : سزا دینے کا سخت ہے] ۝

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوْذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيْحَةُ وَمَآ اَ كَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ   ۣ وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ وَاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ  ۭذٰلِكُمْ فِسْقٌ ۭ اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ  ۭ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا  ۭ فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ  ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ     Ǽ۝
[ حُرِّمَتْ: حرام کیا گیا] [ عَلَيْكُمُ: تم لوگوں پر] [ الْمَيْتَةُ: مردار کو] [ وَالدَّمُ: اور خون کو] [ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ: اور سور کے گوشت کو] [ وَمَآ: اور اس کو] [ اُهِلَّ: پکارا گیا] [ لِغَيْرِ اللّٰهِ: اللہ کے سوا] [ بِهٖ: جس کو] [ وَالْمُنْخَنِقَةُ: اور گلا گھٹ کر مرنے والے کو] [ وَالْمَوْقُوْذَةُ: اور چوٹ سے مارے ہوئے کو] [ وَالْمُتَرَدِّيَةُ: اور گڑھے میں گرنے والے کو ] [ وَالنَّطِيْحَةُ: اور سینگ مارے ہوئے کو] [ وَمَآ: اور اس کو ، جس کو ] [ اَ كَلَ: کھایا] [ السَّبُعُ: درندے نے] [ اِلَّا مَا: سوائے اس کے جس کو] [ ذَكَّيْتُمْ ۣ : اچھی طرح ذبح کیا تم نے] [وَمَا: اور اس کو ، جس کو ] [ ذُبِحَ: ذبح کیا گیا] [ عَلَي النُّصُبِ: استھان پر] [ وَاَنْ: اور یہ کہ] [ تَسْـتَقْسِمُوْا: تم لوگ تقیسم کرو] [ بِالْاَزْلَامِ ۭ: فال نکالنے کے تیروں سے] [ ذٰلِكُمْ: یہ] [ فِسْقٌ ۭ: نافرمانی ہے] [ اَلْيَوْمَ: آج کے دن] [ يَىِٕسَ: مایوس ہوئے] [ الَّذِيْنَ: وہ لوگ جنھوں نے] [ كَفَرُوْا: کفر کیا] [ مِنْ دِيْنِكُمْ: تمھارے دین سے] [ فَلَا تَخْشَوْهُمْ: پس تم لوگ مت ڈروان سے] [ وَاخْشَوْنِ ۭ: اور ڈرومجھ سے] [ اَلْيَوْمَ: آج کے دن] [ اَ كْمَلْتُ: میں نے مکمل کیا] [ لَكُمْ: تمہارے لیے] [ دِيْنَكُمْ: تمہارے دین کو] [ وَاَتْمَمْتُ: اور میں نے تمام کردیا] [ عَلَيْكُمْ؛تم لوگوں پر] [ نِعْمَتِيْ: اپنی نعمت کو] [ وَرَضِيْتُ: اور میں راضی ہوا] [ لَكُمُ: تمہارے لیے] [ الْاِسْلَامَ: اسلام سے] [ دِيْنًا: بطور دین کے] [ ۭ فَمَنِ: پھر جو] [ اضْطُرَّ: لاچار کیا گیا] [ فِيْ مَخْمَصَةٍ: سخت بھوک کے وقت میں] [ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ: مائل ہونے والا ہوئے بغیر] [ لِّاِثْمٍ ۙ : گناہ کے لیے] [ فَاِنَّ اللّٰهَ: تو یقینا اللہ] [ غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ہے] [ رَّحِيْمٌ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہے]



آیت نمبر 5:3

ل ح م (ف) لحما ۔ گوشت ۔ لحم ج لحوم ۔ اسم ذات بھی ہے ۔ گوشت ۔ (آیت ) لن ینال اللہ لحومھا ولا دماوھا [ہرگز نہیں پہنچتے اللہ کو ان کے گوشت اور نہ ہی ان کے خون]22:37۔

خ ن ق (ن) خنقا گلا گھونٹنا ۔ (انفعال) انخناقا گلا گھٹنا ۔ منخنق اسم الفاعل ہے ۔ گلا گھٹنے والا ۔ گلا گھٹ کر مرنے والا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

و ق ذ (ض) وقذا مہلک چوٹ لگا نا ۔ موقوذ اسم المفعول ہے ۔ مہلک چوٹ لگایا ہوا ۔ چوٹ سے مارا ہوا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

ر د ی (س) ردی تباہ وبرباد ہونا ۔ ہلاک ہونا ۔ گڑھے میں گرنا ۔ فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى [پس ہر گز نہ روکے تجھ کو اس سے یعنی قیامت پر ایمان لانے سے ہو جو ایمان نہیں لاتا اس پر اور پیروی کرتا ہے اپنی خواہش کی ، ورنہ تو ہلاک ہوگا ] 20:16

(افعال) ارداء تباہ و برباد کرنا ۔ ہلاک کرنا ۔ وَذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِيْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ [اور تمہارا وہ گمان ہے جو تم نے گمان کیا اپنے رب کے بارے میں تو اس نے تم کو ہلاک کیا ] 41:23۔

(تفعل ) تردی ہلاک ہونا ۔ گڑھے میں گرنا ۔ وَمَا يُغْنِيْ عَنْهُ مَالُهٗٓ اِذَا تَرَدّٰى [اور کام نہ آئے گا اس کے اس کا مال جب ہو ہلاکت میں گرے گا ] 92:11۔ متردی اسم الفاعل ہے ۔ گڑھے میں گرنے والا۔ آیت زیر مطالعہ ۔

ن ط ح (ف) نظحا سینگ مارنا۔ نطیح ، فعیل کا وزن ہے اسم المفعول کے معنی میں ۔ سینگ مارا ہوا۔ آیت زیر مطالعہ ۔

ذک و (ن) ذکا جانور کو ذبح کرنا ۔ (تفعیل ) تذکیۃ خوب اچھی طرح ذبح کرنا۔ آیت زیر مطالعہ ۔

ذ ل م (ن) ذلما خطاکرنا ۔ ذلم ج اذلام ۔ بغیر پرکا تیر ۔ ایسے تیر جن سے فال نکالتے ہیں۔ آیت زیر مطالعہ ۔

خ م ص (ن) خمصا شدید بھوک سے پیٹ کا پچک جانا ۔ کمر سے لگ جانا ۔ مخمص اسم الظرف ہے ۔ شدید بھوک کے وقت۔ آیت زیر مطالعہ

ی ء س (س) یاسا ، ناامید ہونا ۔ مایوس ہونا۔ آیت زیر مطالعہ ۔ یئوس فعول کے وزن پر مبالغہ ہے ۔ انتہائی مایوس ۔ وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَـــــُٔوْسًا [اور جب کبھی اس کو لگے برائی تو وہ ہو جاتا ہے انتہائی مایوس ]17:83۔ (استفعال ) استیئاسا ۔ ثلاثی مجرد کا ہم معنی ہے مایوسی سمجھنا یعنی مایوس ہونا ۔ فَلَمَّا اسْتَيْـــَٔـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا [پھر جب وہ لوگ ناامید ہوئے اس سے یعنی یوسف سے تو وہ لوگ الگ ہوئے سرگوشی کرتے ہوئے ]12:80۔

ترکیب ۔ حرمت ماضی مجہول ہے ۔ آگے اس کے نائب الفاعل آئے ہیں ۔ الا ما ذکیتم درمیان میں جملہ معترضہ ہے ۔ اس کے بعد باذبح اور ان تستقسموا بھی نائب الفاعل ہیں ۔ الیوم ظرف ، دینا تمیز اور غیر حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں ۔

نوٹ ۔1 ، اسلام سے کافروں کی مایوسی کا مطلب یہ ہے کہ اس دن ان کی یہ توقع ختم ہوگئی کہ وہ اسلام میں کچھ خلط ملط کرسکیں یا اپنے دین کو اسلام میں گڈ مڈ کرلیں ۔ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں نازل ہوئی ۔ اس کے بعد رسول اللہ
اکیاسی (81) دن حیات رہے ،(ابن کثیر ) اس آیت کے نزول کے بعد کوئی نیا حکم نازل نہیں ہوا ۔ جو چند آیتیں اس کے بعد نازل ہوئیں ۔ ان میں یا تو ترغیب وترہیب کے مضامین تھے یا انہی احکام کی تاکید تھی جن کا بیان پہلے ہوچکا تھا ۔ (معارف القرآن )

يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ ۭقُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ ۙوَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۡ فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ  ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ  ۭاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ    Ć۝
[ يَسْـــَٔلُوْنَكَ: وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ
سے] [ مَاذَآ: وہ کیا ہے جو] [ اُحِلَّ: حلال کی گئی] [ لَهُمْ ۭ: ان کے لیے] [ قُلْ: آپ کہہ دیجئے] [ اُحِلَّ: حلال کیا گیا] [ لَكُمُ: تمہارے لیے] [ الطَّيِّبٰتُ ۙ: پاکیزہ (چیزوں] [ وَمَا: اور اس کو جو] [ عَلَّمْتُمْ: تم نے سکھایا] [ مِّنَ الْجَوَارِحِ: درندوں میں سے] [ مُكَلِّبِيْنَ: شکار کے لیے سدھانے والا ہوتے ہوئے] [ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ: تم لوگ سکھاتے ہوان کو] [ مِمَّا: اس میں سے جو] [ عَلَّمَكُمُ: سکھایا تم کو] [ اللّٰهُ ۡ: اللہ نے] [ فَكُلُوْا: تو تم لوگ کھاو] [ مِمَّآ: اس میں سے جو] [ اَمْسَكْنَ: انھوں نے تھاما] [ عَلَيْكُمْ: تمہارے لیے] [ وَاذْكُرُوا: اور ذکر کرو] [ اسْمَ اللّٰهِ : اللہ کے نام کا] [ عَلَيْهِ ۠ : اس پر] [ وَاتَّقُوا: اور تقوی کرو] [ اللّٰهَ ۭ: اللہ کا] [ اِنَّ اللّٰهَ : یقینا اللہ ] [ سَرِيْعُ الْحِسَابِ : حساب لینے کا تیز ہے] ۝



ج رح (ف) جرحا (1) کمانا ۔ (2) زخمی کرنا ۔ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ [ اور وہ جانتا ہے جو تم لوگ کماتے ہو دن میں ) ۔6:60 ۔ جرح ، ج ، جروح ، اسم ذات ہے ۔ زخم ۔ والجروح قصاص (اور زخموں میں بدلہ ہے )۔5:45۔ جارحۃ ، ج، جوارح ۔ یہ اسم الفاعل جارح کا مونث ہے ۔ زخمی کرنے والا ۔ درندہ ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

(افتعال) اجتراحا ، اہتمام سے کمانا ۔ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ [ جنھوں نے کمائیں برائیاں ]۔45:21

ک ل ب (ض) کلبا کتے کی طرح آواز نکالنا ۔ بھونکنا۔ کلب اسم ذات ہے ۔ کتا ۔ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۔ [ پس اس کی مثال کتے کی مثال کی مانند ہے ]۔7:176۔ (تفعیل ) تکلیبا ، کتوں کو شکار کے لیے سدھانا۔ مکلب ، اسم الفاعل ہے ۔ سدھانے والا ۔

ترکیب: احل کا نائب فاعل الطیبت اور وما ہیں ۔ مکلبین حال ہے ۔ تعلمونھن میں ھن کی ضمیر الجوارح کے لیے ہے ۔ دونوں جگہ طعام اپنے مضاف الیہ کے ساتھ مل کر مبتداء ہے اور حل ان کی خبریں ہیں جبکہ لکم اور لہم متعلق خبر ہیں ۔ والمحصنت سے اخدان تک پورا فقرہ حل لکم پر عطف ہے جس میں مخاطب اہل ایمان ہیں اور حل لہم پر نہیں ہے ، جس میں غائب کی ضمیر اہل کتاب کے لیے ہے کیونکہ اذا شرطیہ کے بعد اتیتموھن آیا ہے ، جو جمع مذکر مخاطب کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہوگا کہ اے ایمان والو! جب تم ان عورتوں کو ان کے حقوق دے دو تو وہ تمہارے لیے حلال ہیں ۔ محصنین اور مسفحین حال ہیں ۔ متخذی دراصل متخذین ہے ۔ مضاف ہونے کی وجہ سے اس کا نون گرا ہوا ہے اور یہ بھی حال ہے ۔

اَلْيَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ  ۭ وَطَعَامُ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ  ۠ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ  ۡ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِيْٓ اَخْدَانٍ  ۭوَمَنْ يَّكْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ     Ĉ۝ۧ
[ اَلْيَوْمَ: آج کے دن] [ اُحِلَّ: حلال کیا گیا] [ لَكُمُ: تمہارے لیے] [ الطَّيِّبٰتُ ۭ: پاکیزہ (چیزوں ) کو] [ وَطَعَامُ الَّذِيْنَ: اور ان کا کھانا جن کو] [ اُوْتُوا: دی گئی] [ الْكِتٰبَ: کتاب] [ حِلٌّ: حلال ہے] [ لَّكُمْ ۠: تمہارے لیے] [ وَطَعَامُكُمْ: اور تمہارا کھانا] [ حِلٌّ؛حلال ہے] [ لَّهُمْ ۡ: ان کے لیے] [ وَالْمُحْصَنٰتُ: اور خاندانی عورتیں] [ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ: مسلمان عورتیں میں سے] [ وَالْمُحْصَنٰتُ: اور خاندانی عورتیں] [ مِنَ الَّذِيْنَ: ان میں سے جن کو] [ اُوْتُوا: دی گئی] [ الْكِتٰبَ: کتاب] [ مِنْ قَبْلِكُمْ: تم سے پہلے (حلال میں تمہارے لیے )] [ اِذَآ: جب] [ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ: تم دو ان کو] [ اُجُوْرَهُنَّ: ان کے حقوق] [ مُحْصِنِيْنَ: حفاظت کرنے والا ہوتے ہوئے] [ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ: بدکاری نہ کرنے والا ہوتے ہوئے] [ وَلَا مُتَّخِذِيْٓ اَخْدَانٍ ۭ: اور نہ ہی یاری بنانے والا ہوتے ہوئے] [ وَمَنْ يَّكْفُرْ: اور جو انکار کرتا ہے] [ بِالْاِيْمَانِ: ایمان کا] [ فَقَدْ حَبِطَ: تو اکارت ہوچکے ہیں] [ عَمَلُهٗ ۡ: اس کے عمل] [ وَهُوَ: اور وہ ہے] [ فِي الْاٰخِرَةِ: آخرت میں] [ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ : خسارہ پانے والوں میں سے] ۝ۧ

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا  ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ اَوْ جَاۗءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاۗىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ  ۭ مَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰكِنْ يُّرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ     Č۝
[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ: اے لوگوں جو] [ اٰمَنُوْٓا: ایمان لائے] [ اِذَا: جب کبھی] [ قُمْتُمْ: تم لوگ اٹھو] [ اِلَى الصَّلٰوةِ: نماز کی طرف] [ فَاغْسِلُوْا: تو دھولو] [ وُجُوْهَكُمْ: اپنے چہروں کو] [ وَاَيْدِيَكُمْ: اور اپنے ہاتھوں کو] [ اِلَى الْمَرَافِقِ؛ کہنیوں تک] [ وَامْسَحُوْا: اور مسح کرو] [ بِرُءُوْسِكُمْ: اپنے سروں کا] [ وَاَرْجُلَكُمْ: اور (دھولو) اپنے پیروں کو] [ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۭ: دونوں ٹخنوں تک] [ وَاِنْ: اور اگر] [ كُنْتُمْ: تم لوگ ہو] [ جُنُبًا: ناپاک] [ فَاطَّهَّرُوْا ۭ : تو خود کو پاک کرو] [ وَاِنْ: اور اگر] [ كُنْتُمْ: تو لوگ ہو] [ مَّرْضٰٓى؛مریض] [ اَوْ: یا (ہو)] [ عَلٰي سَفَرٍ؛کسی سفر پر] [ اَوْ جَاۗءَ: یا آئے] [ اَحَدٌ: کوئی ایک] [ مِّنْكُمْ: تم میں سے] [ مِّنَ الْغَاۗىِٕطِ: باتھ روم میں سے] [ اَوْ لٰمَسْتُمُ: یا تم لوگ مباشرت کرو] [ النِّسَاۗءَ: بیویوں سے] [ فَلَمْ تَجِدُوْا: پھر تم لوگ نہ پاؤ] [ مَاۗءً: پانی] [ فَتَيَمَّمُوْا: تو تیمم کرو] [ صَعِيْدًا طَيِّبًا: کسی پاک مٹی سے] [ فَامْسَحُوْا: تو مسح کرو] [ بِوُجُوْهِكُمْ: اپنے چہروں کا] [ وَاَيْدِيْكُمْ: اور اپنے ہاتھوں کا] [ مِّنْهُ ۭ: اس سے] [ مَا يُرِيْدُ: نہیں چاہتا] [ اللّٰهُ: اللہ] [ لِيَجْعَلَ: کہ وہ بنائے] [ عَلَيْكُمْ: تم لوگوں پر] [ مِّنْ حَرَجٍ: کسی قسم کی کوئی تنگی] [ وَّلٰكِنْ: اور لیکن (یعنی بلکہ )] [ يُّرِيْدُ: وہ چاہتا ہے] [ لِيُطَهِّرَكُمْ: کہ وہ پاک کرے تم لوگوں کو] [ وَلِيُتِمَّ: اور (یہ) کہ وہ تمام کرے] [ نِعْمَتَهٗ: اپنی نعمت کو] [ عَلَيْكُمْ: تم لوگوں پر] [ لَعَلَّكُمْ: شائدکہ] [ تَشْكُرُوْنَ : حق مانو]





ک ع ب (ن۔ ض) کعوبا (1) کوئی بھی اٹھنے والی یا ابھرنے والی چیز ۔ (2) کوئی مکعب چیز یعنی جس کی لمبائی ،چوڑائی اور اونچائی ایک جیسی ہو۔ کعب ، کسی چیز کی ابھری ہوئی گرہ ۔ جیسے گنے کے دو پوروں کے درمیان کی گرہ یا پنڈلی اور پیر کے درمیان کی گرہ یعنی ٹخنہ ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ کعبۃ کوئی مربع کمرہ ۔ خانہ کعبہ ۔ جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ [ بنایا اللہ نے کعبہ کو محترم گھر ] ۔5:97۔ کاعب ، ج ، کواعب ۔ اسم الفاعل ہے ۔ اٹھنے والا ۔ ابھرنے والا ۔ پھر استعارۃ نو عمر لڑکی کے لیے بھی آتا ہے ۔ وَّكَوَاعِبَ اَتْرَابًا [ اور نوعمر لڑکیاں ہم عمر]78:33۔

ترکیب ۔ فاغسلوا کا مفعول اول وجوھکم اور مفعول ثانی ایدیکم ہے ۔ اس لیے دونوں کے مضاف حالت نصب میں ہیں ۔ وامسحوا کا مفعول

برء و سکم ہے جو کہ با کہ صلہ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جز میں وارجلکم کی نصب بتا رہی ہے کہ یہ فاغسلوا کا مفعول ثالث ہے ۔ صعیدا طیبا کے بعد فامسحوا کا مفول بوجوھکم ہے ۔ با کے صلہ پر عطف ہونے کی وجہ سے ایدیکم حالت جز میں آیا ہے ۔ اس لیے یہ اس فامسحوا کا مفعول ثانی ہے ۔

وَاذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَهُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِهٖٓ  ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا  ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ  ۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ     Ċ۝
[ وَاذْكُرُوْا: اور یاد کرو] [ نِعْمَةَ اللّٰهِ: اللہ کی نعمت کو] [ عَلَيْكُمْ: اپنے اوپر] [ وَمِيْثَاقَهُ الَّذِيْ: اور اس کے اس پختہ عہد کو] [ وَاثَقَكُمْ: اس نے معاہدے میں جکڑا تم لوگوں کو] [ بِهٖٓ ۙ: جس سے] [ اِذْ: جب] [ قُلْتُمْ: تم لوگوں نے کہا] [ سَمِعْنَا: ہم نے سنا] [ وَاَطَعْنَا ۡ: اور ہم نے اطاعت کی] [ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ: اور تقوی کرو اللہ کا] [ اِنَّ اللّٰهَ: بیشک اللہ] [ عَلِيْمٌۢ: جاننے والا ہے] [ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ: سینوں والی (باتوں ) کو]

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ ۡ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا  ۭاِعْدِلُوْا   ۣ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ  ۭاِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ     Ď۝
[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ: اے لوگوں جو] [ اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [ كُوْنُوْا: تم لوگ ہوجاؤ] [ قَوّٰمِيْنَ: خوب نگرانی کرنے والے] [ لِلّٰهِ: اللہ کی خاطر] [ شُهَدَاۗءَ: گواہی دینے والے] [ بِالْقِسْطِ ۡ: انصاف کی] [ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ: اور تم کو ہر گز آمادہ نہ کرے] [ شَنَاٰنُ قَوْمٍ: کسی قوم کی عداوت] [ عَلٰٓي: اس پر] [ اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭ: کہ تم لوگ عدل نہ کرو] [ اِعْدِلُوْا ۣ: (بلکہ ) تم لوگ عدل کرو] [ هُوَ اَقْرَبُ : یہ زیادہ قریب ہے] [ لِلتَّقْوٰى ۡ: تقوی کے لیے] [ وَاتَّقُوا: اور ڈرو تم] [ اللّٰهَ: اللہ سے] [ ۭاِنَّ اللّٰهَ : یقینا اللہ ] [ خَبِيْرٌۢ : باخبر ہے] [ بِمَا : اس سے جو] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو]



ترکیب: الا دراصل ان لا ہے ۔ وعد کے دو مفعول آتے ہیں ۔ کس سے وعدہ کیا اور کیا وعدہ کیا ۔ اس کا مفعول اول الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ہے اور مفعول ثانی لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ ہے ۔ اس لیے پورا جملہ محلا حالت نصب میں ہے ۔ آیت نمبر 11 میں ’ نعمت ‘ لمبی تا سے لکھی گئی ہے جو کہ قرآن مجید کا مخصوص املا ہے ۔ کیف کا فاعل اس میں ھو کی ضمیر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ۔

نوٹ :1۔ زیر مطالعہ آیت نمبر ۔8 کا مضمون سورۃ النساء کی آیت نمبر ۔135 میں بھی تھوڑے سے فرق کے ساتھ گزر چکا ہے ۔ دونوں کے تقابلی مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کو عدل وانصاف سے روکنے کے عموما دو سبب ہوا کرتے ہیں ۔ ایک اپنے نفس یا عزیزوں کی طرفداری اور دوسرے کسی کی عداوت ۔ سورۃ النساء میں پہلے سبب کی اور آیت زیر مطالعہ میں دوسرے سبب کی نشاندہی کی گئی ہے اور حکم یہ دیا ہے کہ اپنے نفس ، والدین اور عزیزوں کی رعایت میں انصاف کا دامن مت چھوڑو ۔ اور کسی کی دشمنی کی وجہ سے ، اس کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی انصاف کا دامن ہاتھ سے مت جانے دو ۔ (معارف القرآن )

نوٹ :2۔ ان دونوں آیتوں میں دوسرا حکم یہ دیا گیا ہے کہ سچی گواہی دینے سے پہلو تہی مت کرو تاکہ فیصلہ کرنے والوں کو حق اور انصاف سے فیصلہ کرنے میں آسانی ہو ۔ قرآن مجید میں متعدد آیات میں تاکید کی گئی ہے کہ سچی گواہی دینے میں کوتاہی اور سستی نہ کی جائے ۔ مثلا ایک جگہ فرمایا کہ ’’ تم لوگ مت چھپاؤ گواہی کو ، اور جو چھپاتا ہے اس کو تو یقینا اس کا دل گناہ کرنے والا ہے ‘‘ (2:283) اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سچی گواہی دینا واجب اور اس کو چھپانا سخت گناہ ہے ۔

اس کے ساتھ ہی قرآن مجید میں یہ حکم بھی موجود ہے کہ ’’ تکلیف نہ دی جائے کسی لکھنے والے کو اور نہ ہی کسی گواہ کو ‘‘ (2:282) اس حکم پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ موقع کے سچے گواہ شاذونادر ہی ملتے ہیں ۔ لوگ ایسی جگہوں سے دور بھاگتے ہیں کہ کہیں گواہی میں نام نہ آجائے ۔ پولیس ادھر ادھر کے گواہوں سے خانہ پری کرتی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت کم مقدمات کا فیصلہ حق وانصاف پر ہوتا ہے ۔ عدالتیں مجبور ہیں کیونکہ جیسی شہادتیں ان کے پاس پہنچتی ہیں ، وہ انھیں کی بنیاد پر فیصلہ کرسکتی ہیں ۔ جبکہ آج بھی سعودی عرب اور بعض دوسرے ممالک میں قرآن کی اس ہدایت پر عمل ہو رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہاں جرائم اور مقدمات کی نہ تو اتنی کثرت ہے اور نہ ہی گواہی دینا کوئی مصیبت ہے ۔

اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ ہے کہ آج کل عام طور پر شہادت کا مطلب صرف یہ لیا جاتا ہے کہ مقدمات میں عدالت کے سامنے گواہی دینا ۔ لیکن قرآن وسنت کی اصطلاح میں لفظ شہادت اس سے زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے ۔ مثلا کسی کو ڈاکٹری سرٹیفیکیٹ دینا کہ وہ ڈیوٹی ادا کرنے کے قابل نہیں ہے یا نوکری کرنے کے قابل نہیں ہے ۔ یہ بھی ایک شہادت ہے ۔ اگر اس میں واقعہ کے خلاف لکھا گیا تو وہ جھوٹی شہادت ہوکر گناہ کبیرہ ہو گیا ۔ اسی طرح امتحانات میں طلبا کے پرچوں پر نمبر لگانا بھی ایک شہادت ہے ۔ اگر جان بوجھ کر یا لاپرواہی سے نمبروں میں کمی بیشی کر دی گئی تو وہ بھی جھوٹی شہادت ہے اور حرام اور سخت گناہ ہے ۔

اسی طرح انتخابات میں کسی امیدوار کو ووٹ دینا بھی ایک شہادت ہے ۔ جس میں ووٹ دینے والے کی طرف سے اس کی گواہی ہے کہ اس کے نزدیک یہ امیدوار اپنی استعداد اور قابلیت کے اعتبار سے بھی اور دیانت وامانت کے اعتبار سے بھی نمائندہ بننے کے قابل ہے ، مگر ہم لوگوں نے اس کو محض ہار جیت کا کھیل سمجھ رکھا ہے ۔ اس لیے ووٹ اکثر رشتہ داری یا دوستی کی نبیاد پر استعمال ہوتا ہے ، کبھی کسی دباؤ کے تحت استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی فروخت کردیا جاتا ہے ۔ اور تو اور پڑھے لکھے دیندار مسلمان بھی نااہل لوگوں کو ووٹ دیتے وقت کبھی یہ محسوس نہیں کرتے کہ ہم یہ جھوٹی گواہی دے کر مستحق لعنت وعذاب بن رہے ہیں ۔

ووٹ دینے از روئے قرآن ایک دوسری حیثیت بھی ہے جس کو شفاعت یا سفارش کہا جاتا ہے کہ ووٹ دینے والا گویا سفارش کرتا ہے کہ فلاں امیدوار کو نمائندگی دی جائے ۔ سفارش کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو اچھی سفارش کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں ایک حصہ ہوتا ہے اور جو کوئی بری سفارش کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں سے ایک ذمہ داری ہوتی ہے (4:85) اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی نمائندہ جب کوئی غلط اور ناجائز کام کرتا ہے تو اس کا وبال اسے ووٹ دینے والوں کو بھی پہنچے گا۔ (معارف القرآن )

شہادت (گواہی) اور شفاعت (سفارش) کی جو مذکورہ بالا تفسیر مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے ، انتخابات کے وقت اس پر عمل کرنے میں ہمیں کچھ الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ان میں سے دو زیادہ عام ہیں۔ مناسب ہے کہ ان کی وضاحت یہاں پر کردی جائے تاکہ جو اللہ کے حکم پر عمل کرنے کا جذبہ رکھتا ہے وہ اطمینان قلب کے ساتھ اس پر عمل کرے ۔ (مرتب)

امیدوار اگر ہماری برادری یا قبیلے کا ہے تو ہمارے ووٹ پر اس کا حق بنتا ہے ۔ یا امیدوار ہماری اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر کھڑا ہوا ہے تو اس کو ووٹ دینا امیر کا حکم ہے ۔ اس کی صلاحیت اور امانت ودیانت قابل اعتماد نہیں ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رشتہ داروں کا حق ادا کرنا اور امیر کی اطاعت کرنا بھی اللہ کا ہی حکم ہے ۔ اس مسئلہ کا حل سورۃ النساء کی آیت نمبر ۔135 میں موجود ہے جہاں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ انصاف پر قائم رہو خواہ وہ ہمارے اپنے یا والدین یا قرابت داروں کے خلاف ہو۔ اس کے علاوہ رسول اللہ
کا فرمان ہے کہ کسی کی بھی کوئی اطاعت نہیں ہے اللہ کی معصیت میں ۔ یعنی اگر کسی رشتہ دار کا حق ادا کرنے سے یا امیر کی اطاعت کرنے سے اللہ کے کسی حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو یہ دونوں چیزیں ساقط ہوجائیں گئی اور اللہ کا حکم قائم رہے گا۔

دوسری الجھن یہ ہوتی ہے کہ کہیں فلاں پارٹی کی حکومت نہ بن جائے اس لیے کم برائی والے (
LESSER EVIL) کو ووٹ دے دو ۔ یہ خود فریبی ہے ۔ کسی کی حکومت کے آنے یا نہ آنے کے متعلق قیامت میں ہم سے جواب طلب نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس پر ہمارا اختیار نہیں ہے ۔ وہاں ہم سے صرف یہ پوچھا جائے گا کہ ایک اہل اور دیانتدار شخص کے حق میں ووٹ کیوں نہیں دیا تھا یا ایک نااہل اور بددیانت کو ووٹ کیوں دیا تھا ۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ     ۝
[ وَعَدَ: وعدہ کیا] [ اللّٰهُ: اللہ نے] [ الَّذِيْنَ: ان لوگوں سے جو] [ اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [ وَعَمِلُوا: اور عمل کیے] [ الصّٰلِحٰتِ ۙ: نیک ] [ لَهُمْ: (کہ ) ان کے لیے] [ مَّغْفِرَةٌ: مغفرت ہے] [ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ : ایک شاندار بہ لہ ہے]

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ    10۝
[ وَالَّذِيْنَ: اور وہ لوگ جنھوں نے] [ كَفَرُوْا: انکار کیا] [ وَكَذَّبُوْا: اور جھٹلایا] [ بِاٰيٰتِنَآ: ہماری نشانیوں کو] [ اُولٰۗىِٕكَ: (تو ) وہ لوگ] [ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ: دوزخ والے ہیں]

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ     11۝ۧ
[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ: اے لوگوجو] [ اٰمَنُوا: ایمان لائے] [ اذْكُرُوْا: تم لوگ یاد کرو] [ نِعْمَتَ اللّٰهِ: اللہ کی نعمت کو] [ عَلَيْكُمْ: تم لوگوں پر] [ اِذْ: جب] [ هَمَّ: ارادہ کیا] [ قَوْمٌ: ایک قوم نے] [ اَنْ: کہ] [ يَّبْسُطُوْٓا: وہ لوگ پھیلائیں] [ اِلَيْكُمْ: تمھاری طرف] [ اَيْدِيَهُمْ: اپنے ہاتھوں کو] [ فَكَفَّ: تو اس نے روکا] [ اَيْدِيَهُمْ: ان کے ہاتھوں کو] [ عَنْكُمْ ۚ: تم سے] [ وَاتَّقُوا: اور تقوی کرو] [ اللّٰهَ ۭ : اللہ کا] [ وَعَلَي اللّٰهِ: اور اللہ پر ہی] [ فَلْيَتَوَكَّلِ: چاہیے کہ بھروسہ کریں] [ الْمُؤْمِنُوْنَ: مومن لوگ]

وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا  ۭوَقَالَ اللّٰهُ اِنِّىْ مَعَكُمْ ۭلَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوةَ وَاٰتَيْتُمُ الزَّكٰوةَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَـنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ  وَلَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ     12؀
[ وَلَقَدْ اَخَذَ: اور بیشک لیا ہے] [ اللّٰهُ: اللہ نے ] [ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ ۚ: بنی اسرائیل سے عہد] [ وَبَعَثْنَا: اور ہم نے اٹھائے (یعنی مقرر کیے )] [ مِنْهُمُ: ان میں سے] [ اثْنَيْ عَشَرَ: بارہ] [ نَقِيْبًا ۭ: نقیب ] [ وَقَالَ: اور کہا] [ اللّٰهُ؛اللہ نے] [ اِنِّىْ: کہ میں] [ مَعَكُمْ ۭ: تمہارے ساتھ ہوں] [ لَىِٕنْ: بیشک اگر] [ اَقَمْــتُمُ؛تم لوگ قائم کروگے] [ الصَّلٰوةَ: نماز کو] [ وَاٰتَيْتُمُ: اور پہنچاؤ گے] [ الزَّكٰوةَ: زکوۃ کو] [ وَاٰمَنْتُمْ: اور ایمان لاؤگے] [ بِرُسُلِيْ: میرے رسولوں پر] [ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ؛اور تقویت دوگے ان کو] [ وَاَقْرَضْتُمُ: اور قرضہ دوگے] [ اللّٰهَ: اللہ کو] [ قَرْضًا حَسَـنًا: جیسا کہ خوبصورت قرضہ دینے کا حق ہے] [ لَّاُكَفِّرَنَّ : تو میں لازما دور کروں گا] [ عَنْكُمْ: تم سے] [ سَيِّاٰتِكُمْ : تمھاری برائیوں کو] [ وَلَاُدْخِلَنَّكُمْ: اور میں لازما داخل کروں گا تم لوگوں کو] [ جَنّٰتٍ: ایسے باغات میں] [ تَجْرِيْ: بہتی ہیں] [ مِنْ تَحْتِهَا: جن کے نیچے سے] [ الْاَنْھٰرُ ۚ: نہریں] [ فَمَنْ: پھر جو] [ كَفَرَ : انکار کرے گا] [ بَعْدَ ذٰلِكَ : اس کے بعد] [ مِنْكُمْ: تم میں سے] [ فَقَدْ ضَلَّ : تو وہ ضرور گمراہ ہو گا] [ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ : راستے کے بیچ سے]



ن ق ب (ن) نقبا ۔ کسی چمڑے یا دیوار میں سوراخ کرنا ۔ نقب لگانا ۔ وَمَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا [ اور انہیں قدرت نہیں اس میں سوراخ کرنے کی ] ۔ 18 :97

(س) نقبا ۔ راستوں پر چلنا (یعنی فضا میں سوراخ کرنا ) (ک) نقابہ (1) سوراخ میں سے جھانکنا یعنی ایسی جگہ سے نگرانی کرنا جہاں سے نگرانی کرنے والا دوسروں کو دیکھ سکے لیکن اس کو نہ دیکھا جا سکے ۔ (2) سردار ہونا ۔ کیونکہ سردار دوسروں سے معلومات حاصل کرکے اپنی قوم کی نگرانی کرتا ہے ۔ نقیب ۔ فعیل ، کے وزن پر صفت ہے ۔ نگرانی کرنے والا ۔ سردار ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ (تفعیل ) ۔ تنقیبا۔ کثرت سے آنا جانا بھاگ دوڑ کرنا ۔ فنقبوا فی البلاد [ تو انھوں نے بھاگ دوڑ کی شہروں میں ] ۔50:36۔

ع ز ر (ض) عزرا ۔ کسی کو اس کے فرائض سے آگاہ کرنا ۔ مدد کرنا ۔ (تفعیل) تعزیرا۔ کسی کی تعظیم میں اس کے مشن کو تقویت دینا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

غ ر و (س ) غراء ۔ چمٹنا لازم ہونا ۔ (افعال ) اغراء ۔ (1) چمٹانا ۔ لازم کرنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ (2) کسی کو کسی پر حاوی کردینا ۔ لنغرینک بہم [ ہم لازما حاوی کردیں گے آپ کو ان پر ] ۔33:60

ص ن ع (ف) صنعا اور صنعا ۔ کسی خام مال سے اچھی چیز بنانا ۔ کاریگری کرنا ۔ صنعت کاری کرنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ اصنع ۔ فعل امر ہے ۔ فاوحینا الیہ ان اصنع الفلک [ توہم نے وحی کیا ان کی طرف کہ آپ کشتی بنائیں ]23:27۔ مصنع ج مصانع ۔ اسم الظرف ہے ۔ صنعت گری کی جگہ ۔ قلعہ ۔ محل ۔ وتتخذون مصانع لعلکم تخلدون [ اور تم لوگ بناتے ہو محلات شائد کہ تم ہمیشہ رہو گے ] 26۔:129۔ (افعال ) اصنعاعا ۔ کسی چیز کو بڑی مہارت سے بنانا ۔ پرورش کرنا ۔ پروان چڑھانا ۔ ولتصنع علی عینی [ اور تاکہ تو پروان چڑھایا جائے میری نگاہ کے سامنے ] ۔20:39۔ ( افتعال) ۔ اصطناعا اہتمام سے بنانا ۔ واصطنعتک لنفسی [ اور میں نے اہتمام سے پروان چڑھایا آپ کو اپنے واسطے ] ۔20: 41۔

ترکیب : اثنی دراصل اثنین ہے جو بعثنا کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے اور مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا ہوا ہے نقیبا تمیز ہے ۔ لئن میں ان شرطیہ پر لام تاکید ہے ۔ ان شرطیہ کی وجہ سے آگے شرط میں افعال ماضی کے ترجمے مستقبل میں ہوں گے ۔ فبما میں باسییہ ہے اور اس کا بدل ہونے کی وجہ سے نقضہم کامضاف مجرور ہوا ہے ۔ نقض مصدر نے فعل کا عمل کیا ہے میثاقہم اس کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے ۔ تطلع باب افتعال کا مضارع ہے ۔ خائنۃ پر تائے مبالغہ ہے جیسے علامۃ ۔ بما کانوا میں بافعل ینبا کا صلہ ہے ۔

نوٹ :1۔ سواء السبیل مرکب اضافی ہے اور اس کا لفظی ترجمہ ’’ راستے کا درمیان ‘‘ بنتا ہے لیکن اردو میں اس مفہوم کے لیے مرکب توصیفی ’’ درمیانی راستہ ‘‘ استعمال ہوتا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سواء السبیل اور الصراط المستقیم قرآن مجید کی اہم اصطلاحات ہیں جن کا اصطلاحی مفہوم اردو ترجمے میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہے ۔ اس لیے ان کے معانی مراد کی وضاحت ضروری ہے ۔ یہ بھی نوٹ کرلیں کہ یہ وضاحت تفیہم القرآن سے ماخوذ ہے ۔

یہ دنیا ہر انسان کا کمرہ امتحان ہے ۔ اور امتحان کی غرض سے ہر انسان کے اندر بہت سی مختلف اور باہم متصادم صلاحیتوں ، جذبات اور رجحانات کو ودیعت کرکے اسے امتحان گاہ میں بھیجا جاتا ہے ۔ ہمارے نفس اور جسم کے تقاضے بھی مختلف ہیں جبکہ روح اور طبیعت کے بھی مختلف تقاضے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ہم کسی موڈ میں ہوتے ہیں اور کبھی ہمارا موڈ کچھ اور ہی ہوتا ہے ۔ ایسے افراد کے باہمی ربط وتعلقات سے جو اجتماعی زندگی وجود میں آتی ہے وہ بھی بہت پیچیدہ اور متصادم تعلقات باہمی سے مرکب ہوتی ہے ۔ جس کے نتیجے میں یہاں ہر شخص کے جہاں کچھ حقوق ہیں ، وہیں اس کے کچھ فرائض بھی ہیں ۔ پھر اس دنیا میں جو سامان زندگی ہمارے چاروں طرف پھیلا ہوا ہے ۔ اسے استعمال کرنے اور آپس میں تقسیم کرنے پر بھی انفرادی اور اجتماعی سطح پر بہت سے پیچیدہ اور متصادم مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔

انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے پورے عرصہ حیات پر پھیلے ہوئے تمام مسائل کے ہر پہلو پر بیک وقت ایک متوازن نظر ڈال سکے ۔ اس لیے وہ خود اپنی زندگی کے لیے کوئی ایسا راستہ نہیں بنا سکتا جس میں اس کے سارے جذبات ورجحانات میں توازن قائم رہ سکے اور تمام انفرادی واجتماعی تقاضوں کے ساتھ وہ انصاف کرسکے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان اپنی زندگی کا راستہ خود متعین کرتا ہے تو ضروریات میں سے کوئی ایک ضرورت اور مسائل میں سے کوئی ایک مسئلہ اس کے دماغ پر اس طرح مسلط ہوجاتا ہے کہ دوسری ضروریات اور مسائل کے ساتھ وہ باارادہ یا بلا ارادہ ناانصافی کرنے لگتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے ۔ جس کے لیے قرآن مجید کی اصطلاح فساد ہے ۔ انسان کی یہ کج روی اپنی انتہا کو پہنچنے لگتی ہے تو باقی ضروریات اور مسائل بغاوت کرکے زور لگاتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے ۔ پھر انسان ان میں سے کچھ کی طرف توجہ کرکے اور باقیوں کو نظر انداز کرکے ایک نئی ٹیڑھی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے ۔ اس طرح انسان اپنی خود ساختہ ٹیڑھی میڑھی (
ZIG ZAG) راہوں پر اپنی زندگی کا سفر طے کرتا ہے ۔

زندگی کی ایک راہ ایسی بھی ہے جو ان ٹیڑھی میڑھی راہوں کے عین وسط میں واقع ہے جس میں نہ کوئی افراط اور نہ تفریط ہے ۔ اس لیے اس راہ پر سفر کرتے ہوئے انسان اپنی تمام ضروریات کو ان کا حق دے سکتا ہے اور مسائل کے ہر پہلو کا احاطہ کرتے ہوئے انھیں حل کرسکتا ہے ۔ اس طرح وہ دنیاوی زندگی اطمینان اور سکون سے بسر کرسکتا ہے اور دائمی زندگی میں اپنی مراد پاسکتا ہے ۔ ہر انسان کی فطرت اسی درمیانی اور متوازن راہ کو تلاش کرتی لیکن انسان اسے معلوم کرنے پر قادر نہیں ہے ۔ اس کی نشاندہی وہی ہستی کرسکتی ہے جو انسان کی مصور (
DESIGNER) اور خالق ہے ۔ اور اس نے اپنے رسول اسی لیے بھیجے کہ اس راہ کی طرف وہ انسانوں کی راہنمائی کرے ۔ قرآن اسی راہ کو سواء السبیل اور الصراط المستقیم کہتا ہے ۔

علم وحی سے محروم بعض فلسفیوں نے یہ دیکھ کر کہ انسانی زندگی پے درپے ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف دھکے کھاتی چلی جارہی ہے ۔ یہ غلط نتیجہ نکال لیا کہ ’’ جدلی عمل ‘‘ (
DEALECTICAL PROCESS) انسانی زندگی کے ارتقاء کا فطری طریق ہے ۔ چنانچہ وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ انسان کے ارتقاء کا راستہ یہ ہے کہ پہلے ایک انتہا پسندانہ دعوی (THSIS) اسے ایک رخ پر بہا لے جائے ، پھر اس کے جواب میں دوسرا انتہا پسندانہ دعوی ( ANTITHESIS) اسے دوسری انتہا کی طرف کھینچے اور پھر دونوں کے امتزاج (SYNTHSIS) سے ارتقاء حیات کا راستہ بنے ۔ حالانکہ دراصل یہ ارتقاء کی راہ نہیں ہے بلکہ بدنصیبی کے دھکے ہیں جو انسانی زندگی کے فلاحی ارتقاء میں مانع ہو رہے ہیں ۔ فلاحی ارتقاء کی راہ یعنی سواء السبیل علم وحی کی روشنی کے بغیر نظر نہیں آتی اور اس پر ثابت قدم رہنا ایمان کی قوت کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

نوٹ :2 ۔ آج کل کے عیسائیوں کے حالات سے یہ شبہہ پیدا ہوسکتا ہے کہ وہ باہم متحد ہیں ۔ لیکن آیت زیر مطالعہ میں بات ان لوگوں کی ہے جو عیسائی مذہب کے پابند ہیں ۔ ان کی فرقہ بندی اور عداوت آج بھی ہے ، خصوصا کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی عداوت (معارف القرآن سے ماخوذ ) دنیاوی سطح پر عیسائیوں کے باہمی بغض اور عداوت کی وجہ سے گزشتہ صدی میں انسانیت کو دو عالمگیر جنگوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا وقتی طور پر یہ عداوت کچھ دب گئی ہے لیکن ختم نہیں ہوئی ہے ۔ اس کا اظہار دوبارہ جرمنی ، فرانس اور اٹلی وغیرہ کے رویہ سے ہو رہا ہے جو انھوں نے امریکہ اور برطانیہ کے خلاف عراق کے مسئلہ پر اختیار کیا ہوا ہے (فروری 2003)

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً ۚ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ ۙ وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰي خَاۗىِٕنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ      13؀
[ فَبِمَا نَقْضِهِمْ: پس بسبب اس کے جو ان کا توڑنا ہے] [ مِّيْثَاقَهُمْ: اپنے عہد کو] [ لَعَنّٰهُمْ: ہم نے لعنت کی ان پر] [ وَجَعَلْنَا: اور ہم نے بنادیا] [ قُلُوْبَهُمْ: ان کے دلوں کو] [ قٰسِـيَةً ۚ: سخت ہونے والا] [ يُحَرِّفُوْنَ: وہ لوگ پھیرتے ہیں] [ الْكَلِمَ: کلاموں کو] [ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ ۙ: ان کے رکھنے کی جگہوں سے] [ وَنَسُوْا: اور انہوں نے بھلادیا] [ حَظًّا: ایک حصہ] [ مِّمَّا: اس میں سے] [ ذُكِّرُوْا: ان کو نصیحت کی گئی] [ بِهٖ ۚ: جس سے] [ وَلَا تَزَالُ: اور ہمیشہ ] [ تَطَّلِعُ: آپ آگاہ ہوں گے] [ عَلٰي خَاۗىِٕنَةٍ: کسی بڑے وعدہ خلاف پر] [ مِّنْهُمْ؛ان میں سے] [ اِلَّا: سوائے اس کے کہ ] [ قَلِيْلًا: تھوڑے سے] [ مِّنْهُمْ: ان میں سے] [ فَاعْفُ: تو آپ درگزر کریں] [ عَنْهُمْ: ان سے] [ وَاصْفَحْ ۭ: اور نظر انداز کریں] [ اِنَّ اللّٰهَ: یقینا اللہ] [ يُحِبُّ: پسند کرتا ہے] [ الْمُحْسِنِيْنَ : احسان کرنے والوں کو]

وَمِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓى اَخَذْنَا مِيْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ۠ فَاَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ  ۭ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ       14؀
[ وَمِنَ الَّذِيْنَ: اور ان میں وہ بھی ہیں جنھوں نے] [ قَالُوْٓا: کہا] [ اِنَّا: کہ ہم] [ نَصٰرٰٓى: نصاری ہیں] [ اَخَذْنَا: ہم نے لیا] [ مِيْثَاقَهُمْ: ان سے عہد] [ فَنَسُوْا: تو انھوں نے بھلا دیا] [ حَظًّا: ایک حصہ] [ مِّمَّا: اس میں سے] [ ذُكِّرُوْا: ان کو نصیحت کی گئی] [ بِهٖ ۠: جس سے] [ فَاَغْرَيْنَا: تو ہم نے چپکا دیا] [ بَيْنَهُمُ: ان کے مابین] [ الْعَدَاوَةَ : عداوت کو] [ وَالْبَغْضَاۗءَ: اور بغض کو] [ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۭ: قیامت کے دن تک] [ وَسَوْفَ : اور عنقریب] [ يُنَبِّئُهُمُ : جتادے گا ان کو] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ بِمَا : وہ جو] [ كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ: وہ کاریگری کیا کرتے تھے]

يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ ڛ قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ     15؀ۙ
[ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ: اے اہل کتاب] [ قَدْ جَاۗءَكُمْ: آچکا ہے تمہارے پاس] [ رَسُوْلُنَا: ہمارا رسول] [ يُبَيِّنُ: جو واضح کرتا ہے] [ لَكُمْ: تمھارے لیے] [ كَثِيْرًا: بہت کچھ] [ مِّمَّا: اس میں سے جو] [ كُنْتُمْ: تم لوگ] [ تُخْفُوْنَ : چھپاتے ہو] [ مِنَ الْكِتٰبِ: کتاب میں سے] [ وَيَعْفُوْا: اور وہ درگزر کرتا ہے] [ عَنْ كَثِيْرٍ: بہتوں سے] [ ڛ قَدْ جَاۗءَكُمْ : آچکا ہے تمہارے پاس] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ (کی طرف ) سے] [ نُوْرٌ: ایک نور] [ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ : اور ایک واضح کتاب]





ف ت ر : (ن) فتورا ۔ تیزی کے بعد ساکن ہونا یعنی آنا یا سست پڑنا ۔ يُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَايَفْتُرُوْنَ [ تسبیح کرتے ہیں رات اور دن کے وقت ، وہ لوگ سست نہیں پڑتے ] 21 :20۔ فترۃ ۔ اس ذات ہے ۔ وقفہ ۔ سستی ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ (تفعیل ) تفتیرا ۔ وقفہ دینا ، سست کرنا ۔ ہلکا کرنا ۔ لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ [ وہ ہلکا نہیں کیا جائے گا ان سے ] ۔43:75۔

ترکیب : کنتم تخفون کو ماضی استمراری بھی مانا جا سکتا ہے لیکن ترجیح یہ ہے کہ کنتم کو فعل ناقص اور تخفون کو اس کی خبر مانا جائے اور ترجمہ جملہ اسمیہ کا کیا جائے ۔ یھدی بہ میں ضمیر واحد آئی ہے اور بھما نہیں آیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نور وکتب ایک ہی چیز ہے ۔ یھدی کا مفعول اول من ہے اور سبل السلام مفول ثانی ہے ھو ضمیر فاصل ہے اور المسیح خبر ہے جبکہ ابن مریم اس کا بدل ہے ۔

نوٹ : 1 ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک کی درمیانی مدت میں انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا سلسلہ برابر جاری رہا اس میں کبھی وفقہ نہیں ہوا ۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد سے رسول اللہ
کی بعثت تک کے درمیانی عرصہ میں سلسلہ انبیاء بند رہا ۔ اس سے پہلے کبھی اتنا زمانہ انبیاء کی بعثت سے خالی نہیں رہا ۔ اسی لیے اس زمانے کو زمانہ فترت کہتے ہیں ۔ (معارف القرآن )

يَّهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَيَهْدِيْهِمْ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ     16؀
[ يَّهْدِيْ: ہدایت دیتا ہے] [ بِهِ: اس سے] [ اللّٰهُ: اللہ] [ مَنِ: اس کو جس نے] [ اتَّبَعَ: پیروی کی] [ رِضْوَانَهٗ: اس کی رضا کی] [ سُبُلَ السَّلٰمِ: سلامتی کی راہوں کی] [ وَيُخْرِجُهُمْ: اور وہ نکالتا ہے ان کو] [ مِّنَ الظُّلُمٰتِ: اندھیروں سے] [ اِلَى النُّوْرِ: نور کی طرف] [ بِاِذْنِهٖ: اپنے حکم سے] [ وَيَهْدِيْهِمْ: اور وہ ہدایت دیتا ہے ان کو] [ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ: ایک سیدھے راستے کی طرف]

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ  ۭ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــًٔـا اِنْ اَرَادَ اَنْ يُّهْلِكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا  ۭوَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا  ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ  ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ     17؀
[ لَقَدْ كَفَرَ: یقینا کفر کیا ہے] [ الَّذِيْنَ: ان لوگوں نے جنھوں نے] [ قَالُوْٓا: کہا] [ اِنَّ: کہ] [ اللّٰهَ: اللہ] [ هُوَ الْمَسِيْحُ: مسیح ہی ہیں] [ ابْنُ مَرْيَمَ ۭ: جو بی بی مریم کے بیٹے ہیں] [ قُلْ: آپ کہیے] [ فَمَنْ: تو کون] [ يَّمْلِكُ: اختیار رکھتا ہے] [ مِنَ اللّٰهِ: اللہ سے (اس کے مقابلہ پر ] [ شَـيْـــًٔـا: کچھ بھی] [ اِنْ: اگر] [ اَرَادَ: وہ ارادہ کرے] [ اَنْ: کہ] [ يُّهْلِكَ: وہ ہلاک کرے] [ الْمَسِيْحَ: مسیح کو] [ ابْنَ مَرْيَمَ: جو بی بی مریم کے بیٹے ہیں] [ وَاُمَّهٗ: اور ان کی والدہ کو] [ وَمَنْ: اور اس کو جو] [ فِي الْاَرْضِ: زمین میں ہے] [ جَمِيْعًا: سب کو] [ ۭوَلِلّٰهِ: اور اللہ کی ہی ہے] [ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ: زمین اور آسمانوں کی بادشاہت] [ وَمَا: اور اس کی جو] [ بَيْنَهُمَا ۭ: ان دونوں کے درمیان ہے] [ يَخْلُقُ: وہ تخلیق کرتا ہے] [ مَا يَشَاۗءُ : جو وہ چاہتا ہے] [ ۭوَاللّٰهُ: اور اللہ] [ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ: ہر چیز پر] [ قَدِيْرٌ : قادرہے]

وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ  ۭقُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ ۭ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۭيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ  ۭوَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۡ وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ     18؀
وَقَالَتِ: اور کہا] [ الْيَھُوْدُ: یہودیوں نے] [ وَالنَّصٰرٰى: اور نصاری نے] [ نَحْنُ: ہم] [ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ: اللہ کے بیٹے ہیں] [ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ : اور اس کے چہیتے ہیں] [ ۭقُلْ: آپ کہہ دیجئے] [ فَلِمَ: پھر کیوں] [ يُعَذِّبُكُمْ: وہ عذاب دیتا ہے تم کو] [ بِذُنُوْبِكُمْ ۭ : تمھارے گناہوں کے سبب سے] [ بَلْ: بلکہ] [ اَنْتُمْ: تم لوگ] [ بَشَرٌ: ایک بشرہو] [ مِّمَّنْ: اس میں سے جو] [ خَلَقَ ۭ: اس نے تخلیق کیا] [ يَغْفِرُ: وہ بخشتا ہے] [ لِمَنْ: اس کو جس کو] [ يَّشَاۗءُ: وہ چاہتا ہے] [ وَيُعَذِّبُ: اور وہ عذاب دیتا ہے] [ مَنْ: اس کو جس کو] [ يَّشَاۗءُ: وہ چاہتا ہے] [ ۭوَلِلّٰهِ: اور اس کی ہی ہے] [ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ: زمین اور آسمانوں کی بادشاہت] [ وَمَا: اور اس کی جو] [ بَيْنَهُمَا ۡ: ان دونوں کے درمیان ہے] [ وَاِلَيْهِ: اور اس کی طرف ہی] [ الْمَصِيْرُ: لوٹنا]

يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَاۗءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ ۡ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّنَذِيْرٌ  ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ    19۝ۧ
[ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ: اپنے اہل کتاب] [ قَدْ جَاۗءَكُمْ: تمہارے پاس آچکا ہے] [ رَسُوْلُنَا: ہمارا رسول] [ يُبَيِّنُ: وہ کھولتا ہے] [ لَكُمْ: تمہارے لیے] [ عَلٰي فَتْرَةٍ: وفقہ پر] [ مِّنَ الرُّسُلِ: رسولوں کے] [ اَنْ: کہ (کہیں)] [ تَقُوْلُوْا: تم لوگ کہو] [ مَا جَاۗءَنَا: نہیں آیا ہمارے پاس] [ مِنْۢ بَشِيْرٍ: کوئی بھی بشارت دینے والا] [ وَّلَا نَذِيْرٍ ۡ: اور نہ ہی کوئی خبردار کرنے والا] [ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ: تو آچکا ہے تمہارے پاس] [ بَشِيْرٌ: ایک بشارت دینے والا] [ وَّنَذِيْرٌ ۭ: اور خبر دار کرنے والا] [ وَاللّٰهُ: اور اللہ] [ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ: ہر ایک چیز پر] [ قَدِيْرٌ: قدرت رکھنے والا ہے]

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَاۗءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ڰ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ     20؀
[ وَاِذْ قَالَ: اور جب کہا] [ مُوْسٰى: موسیٰ نے] [ لِقَوْمِهٖ: اپنی قوم سے] [ يٰقَوْمِ: اے میری قوم !] [ اذْكُرُوْا: تم لوگ یاد کرو] [ نِعْمَةَ اللّٰهِ: اللہ کی نعمت کو] [ عَلَيْكُمْ: اپنے اوپر] [ اِذْ جَعَلَ: جب اس نے بنائے] [ فِيْكُمْ: تم لوگوں میں سے] [ اَنْۢبِيَاۗءَ: انبیاء ] [ وَجَعَلَكُمْ: اور بنایا تم لوگوں کو] [ مُّلُوْكًا: بادشاہ] [ ڰ وَّاٰتٰىكُمْ : اور اس نے دیا تم لوگوں کو] [ م:َّا : وہ جو] [ لَمْ يُؤْتِ : اس نے نہیں دیا ] [ [ اَحَدًا: کسی ایک کو] مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ: تمام عالموں میں سے]



ج ب ر : (ن) جبرا۔ (1) زبردستی یا دباؤ سے کسی چیز کی اصلاح کرنا ۔ جیسے ٹوٹی ہوئی ہڈی جوڑنا ۔ اللہ تعالیٰ کی صفت الجبار اسی معنی میں ہے ۔ (2) کسی کو اس کی مرضی کے خلاف کام پر مجبور کرنا ۔ زبردستی کرنا ۔ بندوں کی صفت عموما اسی معنی میں آتی ہے ۔ جبار۔ فعال کے وزن پر مبالغہ ہے (1) بار بار اور کثرت سے اصلاح کرنے والا ۔ (2) بار بار اور کثرت سے زبردستی کرنے والا ۔ زبردست ۔ طاقتور آیت زیر مطالعہ ۔

ت ی ھ : (ض) تیھا ۔ راستے سے بھٹک جانا ۔ سرگردان پھرنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

ء س و : (ن) اسوا مایوسیوں کا علاج کرنا ۔ کسی کو کسی کے لیے نمونہ بنانا ۔ اسوۃ۔ وہ چیز جس سے تسلی حاصل کی جائے ۔ نمونہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [ بیشک ہو چکا ہے تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بھلائی والا ایک نمونہ ] 33:21 (س) ۔ اسی ۔ مایوس ہونا ۔ افسوس کرنا ۔ فَكَيْفَ اٰسٰي عَلٰي قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ [ پھر کیسے میں افسوس کروں ایک کافر قوم پر ]۔7:93۔ لاتاس ۔ فعل نہی ہے ۔ تو افسوس مت کر۔ تو مایوس مت ہو ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

ترکیب : یقوم دراصل یقومی ہے ۔ لاترتدوا کے لائے نہی پر عطف مانیں تو فتنقلبوا مجزوم ہے اور فا کو سبیہ مانیں تو یہ حالت نصب میں ہے ۔ ہماری ترجیح ہے کہ اسے فاسببیہ مانا جائے ۔ ان کا اسم قوما جبارین ہے ، اس کی خبر محذوف ہے اور فیھا قائم مقام خبر ہے ۔ رب بھی دراصل ربی ہے ۔ اربعین ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے ۔ سنۃ اس کی تمیز ہے ۔

نوٹ :1۔ مصر سے نکلنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی منزل فلسطین تھی ۔ آپ جب اس کے پاس پہنچے تو دشت فاران میں قیام فرمایا اور بنواسرائیل کے بارہ سرداروں کی وہاں کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا ۔ واپس آکر ان سرداروں نے علاقے کی زرخیزی اور شادابی کی رپورٹ دی اور یہ بھی بتایا وہاں پر لوگ بڑے قد آور اور زور آور ہیں ۔ یہ سن کر بنواسرائیل نے حوصلہ ہار دیا اور جس ملک میں آباد ہونے کے لیے یہاں تک پہنچے تھے ، اس میں داخل ہونے کے بجائے پھر مصر پلٹ جانے کی باتیں کرنے لگے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو بتایا کہ یہ علاقہ اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے ۔ بارہ میں سے دو سرداروں نے بھی ان کی ہمت بندھانے کی کوشش کی لیکن ان لوگوں نے اپنے رسول کا حکم ماننے سے انکار کردیا ۔ (تدبر القرآن )

يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِيْنَ    21؀
[ يٰقَوْمِ: اے میری قوم] [ ادْخُلُوا: تم لوگ داخل ہوجاؤ] [ الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ: پاک کی ہوئی زمین میں] [ الَّتِيْ: جس کو] [ كَتَبَ: لکھا] [ اللّٰهُ: اللہ نے] [ لَكُمْ: تمہارے لیے] [ وَلَا تَرْتَدُّوْا: اور مت پھر جانا] [ عَلٰٓي اَدْبَارِكُمْ: اپنی پیٹھوں پر] [ فَتَنْقَلِبُوْا: ورنہ ہو جاؤگے] [ خٰسِرِيْنَ: نقصان اٹھانے والے]

قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّ فِيْهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ ڰ وَاِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰي يَخْرُجُوْا مِنْهَا  ۚ فَاِنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ    22؀
[ قَالُوْا: انھوں نے کہا] [ يٰمُوْسٰٓى: اے موسی] [ اِنَّ: کہ] [ فِيْهَا: اس میں ہے ] [ قَوْمًا جَبَّارِيْنَ ڰ: ایک زبر دست قوم] [ وَاِنَّا: اور ہم] [ لَنْ نَّدْخُلَهَا: ہر گز داخل نہیں ہوں گے اس میں] [ حَتّٰي: یہاں تک کہ] [ يَخْرُجُوْا: وہ لوگ نکلیں] [ مِنْهَا ۚ: اس سے] [ فَاِنْ: پھر اگر] [ يَّخْرُجُوْا: وہ لوگ نکلیں] [ مِنْهَا: اس سے] [ فَاِنَّا؛توہم] [ دٰخِلُوْنَ: داخل ہونے والے ہیں]

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَيْهِمُ الْبَابَ ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ ۥ ۚ وَعَلَي اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ      23؀
[ قَالَ رَجُلٰنِ: کہا مردوں نے] [ مِنَ الَّذِيْنَ: ان میں سے جو] [ يَخَافُوْنَ: ڈرتے ہیں (اللہ سے )] [ اَنْعَمَ: انعام کیا] [ اللّٰهُ: اللہ نے] [ عَلَيْهِمَا: جن پر] [ ادْخُلُوْا: (کہ ) داخل ہوجاؤ] [ عَلَيْهِمُ: ان پر] [ الْبَابَ ۚ فَاِذَا: پھر جب] [ دَخَلْتُمُوْهُ: تم لوگ داخل ہوگے اس سے] [ فَاِنَّكُمْ: تو یقینا تم لوگ] [ غٰلِبُوْنَ ۥ ۚ : غلبہ پانے والے ہوگے] [ وَعَلَي اللّٰهِ: اور اللہ پر ہی] [ فَتَوَكَّلُوْٓا: پس تم لوگ بھروسہ کرو] [ اِنْ كُنْتُمْ: اگر تم لوگ] [ مُّؤْمِنِيْنَ: مومن ہو]

قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ     24؀
[ قَالُوْا: انھوں نے کہا] [ يٰمُوْسٰٓى: اے موسی] [ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَآ: کہ ہم ہر گز داخل نہیں ہوں گے اس میں] [ اَبَدًا: کبھی بھی] [ مَّا دَامُوْا: جب تک وہ رہیں گے] [ فِيْهَا: اس میں] [ فَاذْهَبْ: پس جائیں] [ اَنْتَ: آپ] [ وَرَبُّكَ: اور آپ کا رب] [ فَقَاتِلَآ: پھر آپ دونوں جنگ کریں] [ اِنَّا: بیشک ہم] [ ھٰهُنَا: یہیں] [ قٰعِدُوْنَ: بیٹھنے والے ہیں]

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ    25؀
[ قَالَ: کہا (موسی نے )] [ رَبِّ: اے میرے رب] [ اِنِّىْ: کہ میں] [ لَآ اَمْلِكُ: اختیار نہیں رکھتا] [ اِلَّا: سوائے] [ نَفْسِيْ: اپنی جان] [ وَاَخِيْ: اور اپنے بھائی کے] [ فَافْرُقْ: پس تو جدائی ڈال دے] [ بَيْنَنَا: ہمارے درمیان] [ وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ : اور نافرمانی کرنے والی قوم کے درمیان]

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً ۚ يَتِيْھُوْنَ فِي الْاَرْضِ ۭ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ     26؀ۧ
[ قَالَ: کہا (اللہ نے )] [ فَاِنَّهَا: تویہ] [ مُحَرَّمَةٌ: حرام کی گئی ہے] [ عَلَيْهِمْ: ان پر] [ اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً ۚ: چالیس سال تک] [ يَتِيْھُوْنَ: یہ لوگ سرگرداں پھریں گے] [ فِي الْاَرْضِ ۭ: زمین میں] [ فَلَا تَاْسَ: تو آپ افسوس نہ کریں] [ عَلَي الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ: نافرمانی کرنے والی قوم پر]

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ  ۘاِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ ۭ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ  ۭ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ     27؀
[ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ: اور آپ پڑھ کر سنائیں ان لوگوں کو] [ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ: حضرت آدم کے دو بیٹوں کی خبر] [ بِالْحَقِّ ۘ: حق کے ساتھ] [ اِذْ: جب] [ قَرَّبَا: ان دونوں نے پیش کی] [ قُرْبَانًا: ایک قربانی] [ فَتُقُبِّلَ: تو قبول کی گئی] [ مِنْ اَحَدِهِمَا: ان دونوں کے ایک سے] [ وَلَمْ يُتَقَبَّلْ: اور نہیں قبول کی گئی] [ مِنَ الْاٰخَرِ ۭ: دوسرے سے] [ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ ۭ : اس نے کہا میں لازما قتل کروں گا تجھ کو] [ قَالَ: اس نے کہا] [ اِنَّمَا: کچھ نہیں سوائے اس کے کہ] [ يَتَقَبَّلُ : قبول کرتا ہے] [ اللّٰهُ : اللہ] [ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ : تقوی کرنے والوں سے]





ب ج ث : (ف) ۔ بحثا ۔ کسی چیز کو کھود کر اس میں کچھ تلاش کرنا ۔ کریدنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

ح ج ز: (ض) ۔ عجزا ۔ کسی کام کو کرنے کی قدرت نہ رکھنا ۔ بےاکتیار ہونا ۔ عاجزہونا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ عجوز ۔ فعول کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بہت بےاختیار ۔ بوڑھی عورت ۔ ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوْزٌ [ کیا میں جنوں گی اس حال میں کہ میں بڑھیا ہوں ] ۔11:72 ۔ عجز ۔ ج ، اعجاز ۔ کھجور کا کھوکھلا تنا ۔ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ [ گویا کہ وہ کسی اکھڑی ہوئی کھجور کے تنے ہیں ]۔ 54:20۔ (افعال ) اعجازا۔ کسی کو بےاختیار کرنا ۔ عاجز کرنا ۔ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعْجِزَهٗ مِنْ شَيْءٍ [ اور اللہ وہ نہیں ہے کہ اس کو بےاختیار کردے کوئی بھی چیز] 35:44۔ معجز اسم الفاعل ہے ۔ بےاختیار کرنے والا ۔ عاجز کرنے والا ۔ وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ [ اور تم لوگ عاجز کرنے والے نہیں ]۔ 6 :134 ۔ (مفاعلہ ) معاجزۃ ۔ کسی کو ہرانے کی کوشش کرنا ۔ مسابقت کرنا ۔ معاجز ۔ اسم الفاعل ہے ۔ ہرانے کی کوشش کرنے والا ۔ آگے نکلنے کی کوشش کرنے والا ۔ وَالَّذِيْنَ سَعَوْا فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ [ اور وہ وہ لوگ جنھوں نے بھاگ دوڑ کی ہماری نشانیوں میں ہرانے والا ہوتے ہوئے ]۔ 22 :51۔

ن د م (س) ۔ ندما ۔ پشیمان ہونا ۔ شرمندہ ہونا۔ نادم اسم الفاعل ہے پشیمان ہونے والا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ ندامۃ ۔ اسم ذات ہے ۔ پشیمانی ۔ شرمندگی ۔ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ [ اور چھپائیں گے پشمانی کو جب وہ لوگ دیکھیں گے عذاب ] ۔54:10

ترکیب : نبا کا مضاف الیہ ابنین تھا جو آگے ادم کا مضاف بنا تو اس کا نون گر گیا ۔ بباسط اسم الفاعل ہے ۔ اس نے فعل کا عمل کیا ہے اور اس کا مفعول یدا تھا ۔ یائے متکلم اس کا مضاف الیہ ہے اس لیے یدا کی تنوین ختم ہوئی اور یدی استعمال ہوا ۔ باثمی کی با پر عطف ہونے کی وجہ سے اثمک حالت جز میں آیا ہے ۔ فطوعت کا فاعل نفسہ ہے غرابانکرہ مخصوصہ ہے اور یبحث فی الارض اس کی خصوصیت ہے ۔ لیریہ میں ضمیر فاعلی اللہ کے لیے ہے اور ضمیر مفعولی قاتل کے لیے ہے ۔ یواری کی ضمیر فاعلی بھی قاتل کے لیے ہے ۔ ھذا الغراب مرکب اشاری مثل کا مضاف الیہ ہے اس لیے الغراب حالت جز میں آیا ہے جبکہ مثل کی نصب اکون کی خبر ہونے کی وجہ سے ہے ۔ فاواری کا فاسببیہ ہے جس کے مضارع اواری کو نصب دی ہے ۔

نوٹ:1۔ قرآن کریم کوئی قصہ کہانی یا تاریخ کی کتاب نہیں ہے اس لیے اس میں کسی واقعہ کو تفصیلات کے ساتھ اول سے آخر تک بیان نہیں کیا جاتا ۔ البتہ ہدایت کے لیے گزشتہ اقوام کی سرگزشت میں عبرت اور نصیحت کے پہلو کو نمایاں کیا جاتا ہے ۔ اس لیے قرآن کا عام اسلوب یہ ہے کہ اکثر پورا واقعہ ایک جگہ بیان نہیں کرتا ، بلکہ اس کے جتنے حصے سے اس جگہ کی نصیحت کا تعلق ہوتا ہے ، اس کا وہی حصہ بیان کرتا ہے (معارف القرآن ) اس لیے قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والوں کے حق میں مفید بات یہ ہے کہ وہ ان تفصیلات کی تلاش میں کولمبس نہ بنیں ، جنھیں قرآن مجید نے نظر انداز کردیا ہے اور اپنی توجہ کو مقصود کلام پر مرتکز کریں ورنہ ہدایت سے محرومی کا اندیشہ ہے ۔

نوٹ : 2۔ قابیل کو یہ جان کر کہ اس کی قربانی قبول نہیں ہوئی ہابیل پر غصہ آیا کہ اس کی قربانی قبول نہیں ہوئی ۔ حالانکہ اس کی قربانی قبول نہ ہونے میں ہابیل کا کوئی دخل نہیں تھا بلکہ قصور اس کا اپنا تھا ۔ لیکن جب آدمی پر حسد کا دورہ پڑتا ہے ۔ تو اس کو اپنی نالائقیاں نظر نہیں آتیں بلکہ وہ اپنی ناکامی کے اسباب دوسروں پر ڈالتا ہے (تدبرالقرآن ) ۔ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ میں حاسد کے حسد کے علاج کا ذکر کیا گیا ہے کہ کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت عطا فرمائی ہے جو اس کو حاصل نہیں ہے تو اس کو چاہیے کہ اپنی عملی کوتاہی اور گناہوں کی اصلاح کی فکر کرے ۔

لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ ۚ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ     28؀
[ لَىِٕنْۢ: البتہ اگر] [ بَسَطْتَّ: تو بڑھائے گا] [ اِلَيَّ: میری طرف] [ يَدَكَ: اپنا ہاتھ] [ لِتَقْتُلَنِيْ: تاکہ تو قتل کرے مجھ کو] [ مَآ اَنَا: تو میں] [ بِبَاسِطٍ: بڑھانے والا نہیں ہوں] [ يَّدِيَ: اپنا ہاتھ] [ اِلَيْكَ: تیری] [ لِاَقْتُلَكَ ۚ: کہ میں قتل کروں تجھ کو] [ اِنِّىْٓ: بیشک میں] [ اَخَافُ: ڈرتا ہوں] [ اللّٰهَ: اللہ سے] [ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ: جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا ہے]

اِنِّىْٓ اُرِيْدُ اَنْ تَبُوْۗاَ بِاِثْمِيْ وَاِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ۚ وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُ ا الظّٰلِمِيْنَ     29؀ۚ
[ اِنِّىْٓ: بیشک میں] [ اُرِيْدُ: چاہتا ہوں] [ اَنْ: کہ] [ تَبُوْۗاَ: تولوٹے] [ بِاِثْمِيْ: میرے گناہ کے ساتھ] [ وَاِثْمِكَ: اور اپنے گناہ کے ساتھ] [ فَتَكُوْنَ: نتیجا تو ہو جائے] [ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ۚ: آگ والوں میں سے] [ وَذٰلِكَ: اور یہ (ہی)] [ جَزٰۗؤُ ا الظّٰلِمِيْنَ: ظلم کرنے والوں کا بدلہ ہے]

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِيْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ     30؀
[ فَطَوَّعَتْ: پس راضی کیا] [ لَهٗ: اس کو] [ نَفْسُهٗ: اس کے نفس نے] [ قَتْلَ اَخِيْهِ: اپنے بھائی کے قتل پر] [ فَقَتَلَهٗ: تو اس نے قتل کیا اس کو] [ فَاَصْبَحَ: نتیجتا وہ ہوگیا] [ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ: خسارہ اٹھانے والوں میں سے]

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِي الْاَرْضِ لِيُرِيَهٗ كَيْفَ يُوَارِيْ سَوْءَةَ اَخِيْهِ  ۭ قَالَ يٰوَيْلَتٰٓى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِيَ سَوْءَةَ اَخِيْ ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ      31۝ٺ
[ فَبَعَثَ: پھر بھیجا] [ اللّٰهُ: اللہ نے] [ غُرَابًا: ایک ایسا کوا] [ يَّبْحَثُ: جو کریدتا ہے] [ فِي الْاَرْضِ: زمین میں] [ لِيُرِيَهٗ: تاکہ وہ دکھائے اس کو (یعنی اللہ] [ كَيْفَ: (کہ ) کیسے] [ يُوَارِيْ: وہ چھپائے] [ سَوْءَةَ اَخِيْهِ: اپنے بھائی کی لاش کو] [ ۭ قَالَ: اس نے کہا] [ يٰوَيْلَتٰٓى: ہائے میری بدبختی] [ اَعَجَزْتُ: کیا میں عاجز ہوا] [ اَنْ: (اس سے بھی ) کہ] [ اَكُوْنَ: میں ہوتا ] [ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ:: اس کوے کے جیسا] [ تو میں چھپاتا] [ فَاُوَارِيَ سَوْءَةَ اَخِيْ ۚ: اپنے بھائی کی لاش کو] [ فَاَصْبَحَ: پھر وہ ہوگیا] [ مِنَ النّٰدِمِيْنَ: پشیمان ہونے والوں میں سے]

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ ۃ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢابِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا  ۭوَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا  ۭوَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنٰتِ ۡ ثُمَّ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِي الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ     32؀
[ مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ: اس وجہ سے] [ كَتَبْنَا: ہم نے لکھا] [ عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ: بنی اسرائیل پر] [ اَنَّهٗ: کہ حقیقت یہ ہے کہ] [ مَنْ: جس نے] [ قَتَلَ: قتل کیا] [ نَفْسًۢا: کسی جان کو] [ بِغَيْرِ نَفْسٍ: کسی جان کے (بدلے کے] [ اَوْ: یا] [ فَسَادٍ: کسی فساد کے بغیر] [ فِي الْاَرْضِ: زمین میں] [ فَكَاَنَّمَا: تو گویا کہ] [ قَتَلَ: اس نے قتل کیا] [ النَّاسَ: انسانوں کو] [ جَمِيْعًا: تمام کے تمام] [ ۭوَمَنْ: اور جس نے] [ اَحْيَاهَا: زندہ رکھا اس کو] [ فَكَاَنَّمَآ: تو گویا کہ] [ اَحْيَا: اس نے زندہ رکھا] [ النَّاسَ: انسانوں کو] [ جَمِيْعًا: تمام کے تمام] [ ۭوَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ: اور آچکے ہیں ان کے پاس] [ رُسُلُنَا: ہمارے رسول] [ بِالْبَيِّنٰتِ ۡ: واضح (نشانیوں) کے ساتھ] [ ثُمَّ : پھر] [ اِنَّ : بیشک] [ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ: ان میں سے اکثر] [ بَعْدَ ذٰلِكَ : اس کے بعد] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں] [ لَمُسْرِفُوْنَ : یقینا حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ]



ن ف و : (ن) نفوا۔ کسی کو کسی جگہ سے ہٹانا ۔ نکالنا ۔ (1) ملک بدر کرنا ۔ (2) قید کرنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

ترکیب : انہ میں ضمیر الشان ہے ۔ فساد کی جز بتا رہی ہے کہ یہ بغیر کا دوسرا مضاف الیہ ہے ۔ قتل کا مفعول الناس ہے اور جمیعا تمیز ہے ۔ احیاھا کی ضمیر نفسا کے لیے ہے ۔ ان کا اسم کثیرا منہم ہے اور لمسرفون اس کی خبر ہے ۔

نوٹ : 1 ۔ اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے کا مطلب ہے اسلام کے عدل اجتماعی اور اس کے قوانین کے خلاف تگ ودو کرنا ۔ چھوٹے پیمانے پر راہزنی وڈکیتی ہو یا بڑے پیمانے پر اسلامی نظام کی جگہ کوئی دوسرا نظام قائم کرنے کی جدو جہد ہو ، وہ دراصل اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تعزیرات ہند میں ہر اس شخص کو جو ہندوستان میں برطانوی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے ۔ بادشاہ کے خلاف لڑائی (
WAGING WAR AGAINST THE DING) کا مجرم قرار دیا گیا تھا ۔ (تفہیم القرآن )

نوٹ:2 ۔ مختلف سزائیں بیان کردی گئی ہیں ۔ اب یہ عدالت کا کام ہے کہ ہر مجرم کو اس کے جرم کی نوعیت کے مطابق سزا دے ( تفہیم القرآن ) ۔ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ کے متعلق حضرت عمر (رض) نے فیصلہ فرمایا تھا کہ اگر مجرم کو یہاں سے نکال کر دوسرے شہروں میں آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہاں کے لوگوں کو ستائے گا۔ اس لیے ایسے مجرم کو قید کردیا جائے ۔ یہی اس کو زمین سے نکالنا ہے کہ زمین میں کہیں چل پھر نہیں سکتا ۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہی اختیار فرمایا ہے ۔ (معارف القرآن )

نوٹ : 3۔ شریعت اسلام میں سزاؤں کی تین قسمیں ہیں ۔ (1) تعزیرات ۔ (2) قصاص اور ۔ (3) حدود ۔ جن جرائم کی سزا قرآن وسنت نے متعین نہیں کی بلکہ حکام کی صوابدید پر چھوڑا ہے ان کو تعزیرات کہتے ہیں ۔ حالات کے تحت یہ سزائیں ہلکی یا سخت بھی کی جا سکتی ہیں اور معاف بھی کی جا سکتی ہیں ۔ ان میں حکام کے اختیارات وسیع ہیں ۔

جن جرائم کی سزائیں قرآن وسنت نے متعین کردی ہیں ان میں سے ایک قسم کی سزا کو قصا ص کہتے ہیں ۔ ان میں حقوق العباد کا پہلو غالب ہے ۔ اس لیے جرم ثابت ہوجانے کے بعد عدالت یا حکومت کو مجرم کی سزا میں کمی کرنے یا معاف کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔ البتہ یہ اختیار متاثر بندے یا مقتول کے ولی کو حاصل ہوجاتا ہے ۔ وہ چاہے تو سزا دلوائے یا قصاص لے لے یا فی سبیل اللہ معاف کردے ۔

قرآن وسنت کی معین کردہ سزاؤں کی دوسری قسم کو حدود کہتے ہیں ۔ ان میں حقوق اللہ کا پہلو غالب ہے ۔ اس لیے جرم ثابت ہوجانے کے بعد سزا میں معمولی سابھی تغیر وتبدل یا کمی بیشی کرنے کی حکومت یا عدالت یا متاثر بندے کو اجازت نہیں ہے ۔ اسی طرح توبہ کرلینے سے بھی دنیوی سزا معاف نہیں ہوگی ۔ البتہ مخلصانہ توبہ سے آخرت کا گناہ معاف ہوجاتا ہے ۔ حدود اللہ میں سفارش کرنے اور سننے سے رسول اللہ
نے سختی سے منع فرمایا ہے ۔ حدود کی سزائیں سخت ہیں اور ان کے نفاذ کا قانون بھی سخت ہے لیکن معاملہ کو معتدل کرنے کے لیے ثبوت جرم کی شرطیں بھی سخت رکھی گئی ہیں ۔ اور ثبوت میں ادنی ساشبہ بھی پایا جائے تو حد ساقط ہوجاتی ہے البتہ تعزیری سزا دی جا سکتی ہے ۔ مثلا زنا کے ثبوت میں تین گواہ ہیں جو ثقہ ہیں جن پر جھوٹ کا شبہ نہیں ہوسکتا مگر ازروئے شریعت چوتھا گواہ نہ ہونے کی وجہ سے حد شرعی جاری نہیں ہوگی لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اس کو کھلی چھٹی دے دی جائے گی ۔ بلکہ عدالت اس کو مناسب تعزیری سزا دے گی ۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)

اِنَّمَا جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْٓا اَوْ يُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُـقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ۭ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَاوَلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ      33؀ۙ
[ اِنَّمَا: کچھ نہیں سوائے اس کے کہ] [ جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ: ان لوگوں کی سزا جو] [ يُحَارِبُوْنَ: لڑتے ہیں] [ اللّٰهَ: اللہ سے] [ وَرَسُوْلَهٗ: اور اس کے رسول سے] [ وَيَسْعَوْنَ: اور بھاگ دوڑ کرتے ہیں] [ فِي الْاَرْضِ: زمین میں] [ فَسَادًا: (حقوق وفرائض کا ) توازن بگاڑنے کو] [ اَنْ: (یہ ہے ) کہ] [ يُّقَتَّلُوْٓا: وہ لوگ قتل کیے جائیں] [ اَوْ يُصَلَّبُوْٓا: یا پھانسی دیئے جائیں] [ اَوْ تُـقَطَّعَ: یا کاٹے جائیں] [ اَيْدِيْهِمْ: ان کے ہاتھ] [ وَاَرْجُلُهُمْ: اور ان کے پیر] [ مِّنْ خِلَافٍ: مخالف (طرف ) سے] [ اَوْ يُنْفَوْا: یا وہ قید کئے جائیں] [ مِنَ الْاَرْضِ ۭ: زمین سے (نکال کر )] [ ذٰلِكَ: یہ] [ لَهُمْ: ان کے لیے] [ خِزْيٌ: رسوائی ہے] [ فِي الدُّنْيَا: دنیا میں] [ وَلَهُمْ: اور ان کے لیے] [ فِي الْاٰخِرَةِ: آخرت میں] [ عَذَابٌ عَظِيْمٌ: ایک عظیم عذاب ہے]

اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهِمْ ۚ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ      34؀ۧ
[ اِلَّا الَّذِيْنَ: سوائے ان کے جنھوں نے] [ تَابُوْا: توبہ کی] [ مِنْ قَبْلِ: اس سے پہلے] [ اَنْ: کہ] [ تَقْدِرُوْا: تم لوگ قابو پاؤ] [ عَلَيْهِمْ ۚ : ان پر] [ فَاعْلَمُوْٓا: پس جان لو] [ اَنَّ اللّٰهَ: کہ اللہ] [ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: بخشنے والا رحم کرنے والا ہے]

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابْتَغُوْٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ وَجَاهِدُوْا فِيْ سَبِيْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ     35؀
[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگوں جو] [ اٰمَنُوا: ایمان لائے] [ اتَّقُوا: تولوگ تقوی کرو] [ اللّٰهَ: اللہ کا] [ وَابْتَغُوْٓا: اور تلاش کرو] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف] [ الْوَسِيْلَةَ : قربت کو ] [ وَجَاهِدُوْا : اور تم جدوجہد کرو] [ فِيْ سَبِيْلِهٖ: اس کی راہ میں] [ لَعَلَّكُمْ : شاید کہ تم ] [ تُفْلِحُوْنَ : فلاح پاؤ]



وس ل (ض) ۔ وسیلۃ ۔ کسی چیز کی طرف رغبت کے ساتھ پہنچنا (مفردات القرآن ) اللہ تک تقرب حاصل کرنا ۔ (المنجد) وسیلۃ اسم ذات بھی ہے ۔ تقرب ۔ قربت ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

ترکیب: وابتغو کا مفعول الوسیلۃ ہے ۔ الیہ اور سبیلہ کی ضمیریں اللہ کے لیے ہیں ۔ لو، شرطیہ ہے ۔ مثلہ اور معہ کی ضمیریں مافی الارض کے لیے ہیں ۔ جمیعا تمیز ہے ۔ ما تقبل ماضی مجہول ہے لیکن یہ لو کا جواب شرط ہے اس لیے اس کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا ۔

نوٹ : 1 ۔ عربی میں وسیلۃ کا لفظ ’’ قربت ‘‘ کے معنی میں بھی آتا ہے اور ’’ ذریعہ ‘‘ کے معنی میں بھی ۔ لیکن قرآن مجید میں یہ لفظ دو جگہ آیا ہے اور دونوں جگہ قربت کے معنی میں آیا ہے ۔ اذان سننے کے بعد ہم جو دعا مانگتے ہیں اس میں یہ لفظ قربت کے مقام کے لیے آیاہے ۔

اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباس  (رض)  نے فرمایا کہ خدا کے منع کردہ کاموں سے رکے رہو اور اس کی طرف قربت تلاش کرو۔ حضرت مجاہد (رض) ، حضرت ابو وائل (رض) ، حضرت حسن (رض) حضرت ابن زید  (رض) اور بہت سے مفسرین سے بھی یہی مروی ہے ۔ حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ خداکی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔ ان ائمہ نے وسیلے کے جو معنی اس آیت میں کیے ہیں اس پر سب مفسرین کا گویا اجماع ہے اور کسی ایک کا بھی خلاف نہیں ہے ۔ ایک حدیث میں رسول اللہ
کا ارشاد ہے کہ وسیلے سے بڑا درجہ جنت میں کوئی نہیں ہے ۔ پس تم اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کے ملنے کی دعا کرو۔ (منقول از ابن کثیر)

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّمِثْلَهٗ مَعَهٗ لِيَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ        36؀
[ اِنَّ الَّذِيْنَ: یقینا جنھوں نے] [ كَفَرُوْا: کفر کیا] [ لَوْ: اگر] [ اَنَّ: یہ کہ] [ لَهُمْ: ان کے لیے] [ مَّا: وہ ہوجو] [ فِي الْاَرْضِ: زمین میں ہے] [ جَمِيْعًا: سب کا سب] [ وَّمِثْلَهٗ: اور اس کے جیسا] [ مَعَهٗ: اس کے ساتھ] [ لِيَفْتَدُوْا: تاکہ وہ خود کو چھڑائیں] [ بِهٖ: جسے دے کر] [ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ: قیامت کے دن کے عذاب سے] [ مَا تُقُبِّلَ: تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا] [ مِنْهُمْ ۚ: ان سے] [ وَلَهُمْ: اور ان کے لیے] [ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ایک دردناک عذاب ہے]

يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا  ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ      37؀
[ يُرِيْدُوْنَ: وہ لوگ چاہیں گے] [ اَنْ: کہ] [ يَّخْرُجُوْا: وہ نکلیں] [ مِنَ النَّارِ: آگ سے] [ وَمَا: حالانکہ] [ هُمْ: ھم] [ بِخٰرِجِيْنَ: نکلنے والے نہیں ہیں] [ مِنْهَا ۡ: اس سے] [ وَلَهُمْ: اور ان کے لیے] [ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ: ایک ہمیشہ قائم رہنے والا عذاب ہے]

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ      38؀
[ وَالسَّارِقُ : اور چوری کرنے والا] [ وَالسَّارِقَةُ: اور چوری کرنے والی (جب چوری کریں)] [ فَاقْطَعُوْٓا: تو کاٹ دو] [ اَيْدِيَهُمَا : ان دونوں کے ہاتھ] [ جَزَاۗءًۢ: بدلہ ہوتے ہوئے] [ بِمَا: بسبب اس کے جو] [ كَسَـبَا : ان دونوں نے کمایا] [ نَكَالًا : عبرت ہوتے ہوئے] [ مِّنَ اللّٰهِ ۭ: اللہ (کی طرف ) سے] [ وَاللّٰهُ: اور اللہ] [ عَزِيْزٌ : بالا دست ہے] [ حَكِيْمٌ: حکمت والا ہے]



س ر ق : (ض) کوئی چیز چرانا ۔ يٰٓاَبَانَآ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [ اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ] ۔ 12:81 ۔ سارق ۔ اسم الفاعل ہے ، چوری کرنے والا ۔ چور آیت زیر مطالعہ ۔ (افتعال) ۔ استراقا۔ اہتمام سے چرانا ۔ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ [ سوائے اس کے جس نے چپکے سے چرایا سننے کو ] ۔15 :18۔

ترکیب السارق اور السارقۃ پر لام جنس ہے اور یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہیں ۔ ان کی خبر محذوف ہے جو اذا سرقا ہو سکتی ہے ۔ اذا محذوف کا جواب شرط فاقطعوا ہے ۔ جزاء اور نکالا حال ہیں ۔

نوٹ : 1۔ متعدد احادیث میں مختلف اشیاء کی چوری پر ہاتھ کاٹنے سے رسول اللہ
نے منع فرمایا ہے ۔ ان احادیث اور حضرت عمر (رض) ، حضرت عثمان (رض) ، حضرت علی (رض) کے فیصلوں کی بنیاد پر مختلف فقہاء نے مختلف چیزوں کو ہاتھ کاٹنے کے حکم سے مستثنی قرار دیا ہے ۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پھل ، گوشت ، پکا ہوا کھانا ، غلہ جس کا ابھی کھلیان نہ کیا گیا ہو، کھیل اور موسیقی کے آلات ، چرتے ہوئے جانور اور بیت المال کی چوری ہاتھ کاٹنے سے مستثنی ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے چوروں پر حد جاری نہیں ہوگی بلکہ ان کو مناسب تعزیری سزا دی جائے گی ۔ (تفہیم القرآن)

نوٹ : 2 ۔ فقہاء اس پر متفق ہیں کہ چور اگر چوری کرنے کے بعد خواہ گرفتاری سے پہلے یا بعد میں ، توبہ کرلے تو دنیاوی سزا یعنی ہاتھ کاٹنے کی سزا معاف نہیں ہوگی ۔ اس کی توبہ قبول ہونے کا مطلب آخرت کے عذاب سے معافی ملنا ہے ۔ (معارف القرآن )

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوْبُ عَلَيْهِ  ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ         39؀
[ فَمَنْ: پھر جس نے] [ تَابَ: توبہ کی] [ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ: اپنے ظلم کے بعد] [ وَاَصْلَحَ: اور اصلاح کی] [ فَاِنَّ اللّٰهَ: تو یقینا اللہ] [ يَتُوْبُ عَلَيْهِ: اس کی توبہ قبول کرتاہے] [ ۭاِنَّ اللّٰهَ: بیشک اللہ] [ غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ہے] [ رَّحِيْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے]

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ  ۭ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ  ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ      40؀
اَلَمْ: کیا] [ تَعْلَمْ: تو نے نہیں جانا] [ اَنَّ: کہ] [ اللّٰهَ: اللہ] [ لَهٗ: اس کی ہی ہے] [ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ: زمین اور آسمانوں کی بادشاہت] [ يُعَذِّبُ: وہ عذاب دیتا ہے] [ مَنْ: اس کو جس کو] [ يَّشَاۗءُ: وہ چاہتا ہے] [ وَيَغْفِرُ؛اور وہ بخشتا دیتا ہے] [ لِمَنْ: اس کو جس] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے] [ ۭوَاللّٰهُ: اور اللہ] [ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ: ہر چیز پر] [ قَدِيْرٌ: قادر ہے]

يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ ڔ وَمِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا ڔ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِيْنَ ۙ لَمْ يَاْتُوْكَ ۭيُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ ۚ يَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِيْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا  ۭ وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا  ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَمْ يُرِدِ اللّٰهُ اَنْ يُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ  ۭلَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ښ وَّلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ      41؀
[ يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ: اے رسول] [ لَا يَحْزُنْكَ: چاہیے کہ غمگین نہ کریں آپ کو] [ الَّذِيْنَ: وہ لوگ جو] [ يُسَارِعُوْنَ: دوڑ دھوپ کرتے ہیں] [ فِي الْكُفْرِ: کفر میں] [ مِنَ الَّذِيْنَ: ان میں سے جنھوں نے] [ قَالُوْٓا: کہا] [ اٰمَنَّا: ہم ایمان لائے] [ بِاَفْوَاهِهِمْ؛ اپنے مونہوں سے] [ وَ: حالانکہ] [ لَمْ تُؤْمِنْ: ایمان لائے ہی نہیں] [ قُلُوْبُهُمْ: ان کے دل] [ ڔ وَمِنَ الَّذِيْنَ: اور ان میں سے جو ] [ هَادُوْا: یہودی ہیں] [ ڔ سَمّٰعُوْنَ: بہت ٹوہ لگانے والے ہیں] [ لِلْكَذِبِ: جھوٹ (پھیلانے ) کے لیے] [ سَمّٰعُوْنَ: جاسوسی کرنے والے ہیں] [ لِقَوْمٍ اٰخَرِيْنَ ۙ: ایک دوسری قوم کے لیے] [ لَمْ يَاْتُوْكَ ۭ: جو ابھی نہیں آئے آپ کے پاس ] [ يُحَرِّفُوْنَ: وہ لوگ پھیرتے ہیں] [ الْكَلِمَ: کلاموں کو] [ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ ۚ: ان کے رکھنے کی جگہوں (کے تعین ) کے بعد سے] [ يَقُوْلُوْنَ: کہتے ہیں] [ اِنْ: اگر] [ اُوْتِيْتُمْ: تم لوگوں کو دیا جائے ] [ هٰذَا: یہ] [ فَخُذُوْهُ: تو پکڑ لو اس کو] [ وَاِنْ: اور اگر] [ لَّمْ تُؤْتَوْهُ: تم کو نہ دیا جائے وہ] [ فَاحْذَرُوْا ۭ: تو تم لوگ بچو] [ وَمَنْ: اور جس کے لیے] [ يُّرِدِ: ارادہ کرتا ہے] [ اللّٰهُ: اللہ] [ فِتْنَتَهٗ: اس کی آزمائش کا] [ فَلَنْ تَمْلِكَ: تو آپ کو ہر گز اختیار نہیں] [ لَهٗ: اس کے لیے] [ مِنَ اللّٰهِ: اللہ سے] [ شَـيْـــــًٔـا: کچھ بھی] [ ۭ اُولٰۗىِٕكَ: وہ لوگ ہیں] [ الَّذِيْنَ: جن کے لیے] [ لَمْ يُرِدِ: ارادہ نہیں کیا] [ اللّٰهُ: اللہ نے] [ اَنْ: کہ] [ يُّطَهِّرَ: وہ پاک کرے] [ قُلُوْبَهُمْ : ان کے دلوں کوۭ] [ لَهُمْ: ان کے لیے] [ فِي الدُّنْيَا: دنیا میں] [ خِزْيٌ ښ: ایک رسوائی ہے] [ وَّلَهُمْ : اور ان کے لیے] [ فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں] [ عَذَابٌ عَظِيْمٌ : ایک عظیم عذاب ہے]



س ح ت : (ف)۔ سحتا ۔ پھل سے چھلکا اتارنا یا گوشت سے چربی چھیلنا ۔ کسی کو ہلاک کرنا ۔ سحت ۔ حرام اور ناپاک کمائی جو دنیا میں عار اور آخرت میں ہلاکت کا سبب بنے ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ (افعال ) اسحاتا جڑ سے اکھاڑ دینا ۔ بیخ کنی کرنا ۔ لَا تَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ [ تم لوگ مت باندھو اللہ پر جھوٹ ورنہ وہ اکھاڑ پھینکے گا تم لوگوں کو عذاب سے ] 20: 61۔

نوٹ : 1۔ اللہ کی طرف سے کسی کو فتنہ میں ڈالنے کا ایک مطلب یہ ہے ، اور یہاں یہی مراد ہے ، کہ کسی شخص کے اندر جب برائی پرورش پاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ایسے مواقع لاتا ہے جس میں اس کی سخت آزمائش ہوتی ہے ، تاکہ وہ سنبھل جائے اور اپنی اصلاح کرلے ، لیکن اگر وہ پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتا تو پھر وہ مزید برائی میں پھنستا چلا جاتا ہے ۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وہ فتنہ ہے جس سے کسی بگڑتے ہوئے انسان کو بچا لینا اس کے کسی خیر خواہ کے بس میں نہیں ہوتا ۔ (تفیہم القرآن )

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ ۭ فَاِنْ جَاۗءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ ۚ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا  ۭوَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ  ۭاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ      42؀
[ سَمّٰعُوْنَ: بہت ٹوہ لگانے والے] [ لِلْكَذِبِ: جھوٹ (پھیلانے ) کے لیے] [ اَكّٰلُوْنَ؛رج کے کھانے والے] [ لِلسُّحْتِ ۭ: حرام کی کمائی کے لیے] [ فَاِنْ: پھر اگر] [ جَاۗءُوْكَ: وہ لوگ آئیں آپ کے پاس] [ فَاحْكُمْ؛تو آپ فیصلہ کریں] [ بَيْنَهُمْ: ان کے درمیان] [ اَوْ: یا ] [ اَعْرِضْ: اعراض کریں] [ عَنْهُمْ ۚ: ان سے] [ وَاِنْ: اور اگر] [ تُعْرِضْ: آپ اعراض کریں گے] [ عَنْهُمْ: ان سے] [ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ: تو وہ ہر گز نقصان نہیں پہنچا سکتے آپ کو] [ شَـيْـــًٔـا ۭ: کچھ بھی] [ وَاِنْ: اور اگر] [ حَكَمْتَ: آپ فیصلہ کریں] [ فَاحْكُمْ: تو آپ فیصلہ کریں ] [ بَيْنَهُمْ: ان کے درمیان] [ بِالْقِسْطِ ۭ: انصاف سے] [ اِنَّ اللّٰهَ:: بیشک اللہ [ يُحِبُّ: پسند کرتا ہے] [ الْمُقْسِطِيْنَ: انصاف کرنے والوں کو]

وَكَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ وَعِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِيْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۭ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ      43؀ۧ
[ وَكَيْفَ؛اور کیسے] [ يُحَكِّمُوْنَكَ: وہ لوگ حکم مانیں گے آپ کو] [ وَ؛اس حال میں کہ] [ عِنْدَهُمُ: ان کے پاس] [ التَّوْرٰىةُ؛تورات ہے] [ فِيْهَا: اس میں] [ حُكْمُ اللّٰهِ: اللہ کا حکم ہے] [ ثُمَّ: پھر] [ يَتَوَلَّوْنَ: منہ پھیرتے ہیں] [ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۭ: اس کے (نزول ) کے بعد سے] [ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ: اور وہ لوگ ] [ بِالْمُؤْمِنِيْنَ: ایمان لانے والے نہیں ہیں]

اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَكَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَاۗءَ  ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا  ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ      44؀
[ اِنَّآ: بیشک ہم نے] [ اَنْزَلْنَا: نازل کیا] [ التَّوْرٰىةَ: تورات کو] [ فِيْهَا: اس میں] [ هُدًى: ہدایت ہے] [ وَّنُوْرٌ ۚ: اور نور ہے] [ يَحْكُمُ: فیصلہ کیا کرتے تھے] [ بِهَا؛اس سے ] [ النَّبِيُّوْنَ: انبیاء کرام] [ الَّذِيْنَ: جنھوں نے ] [ اَسْلَمُوْا؛تابعداری کی] [ لِلَّذِيْنَ؛ان کے لیے جو] [ هَادُوْا: یہودی ہوئے ] [ وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ: اور اللہ والے لوگ (بھی ) ] [ وَالْاَحْبَارُ: اور علماء (بھی)] [ بِمَا؛اس وجہ سے کہ] [ اسْتُحْفِظُوْا: وہ محافظ بنائے گئے] [ مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ؛اللہ کی کتاب میں سے] [ وَكَانُوْا؛اور وہ لوگ تھے] [ عَلَيْهِ: اس پر] [ شُهَدَاۗءَ : گواہ] [ ۚ فَلَا تَخْشَوُا: پس تم لوگ مت ڈرو] [ النَّاسَ: لوگوں سے] [ وَاخْشَوْنِ: اور (یعنی بلکہ ) مجھ سے ڈرو] [ وَلَا تَشْتَرُوْا ؛اور مت خریدو] [ بِاٰيٰتِيْ: میری آیات کے عوض] [ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭ: تھوڑی سی قیمت وَمَنْ : اور جو] [ لَّمْ يَحْكُمْ ؛فیصلہ نہیں کرتے] [ بِمَآ: اس سے جو] [ اَنْزَلَ: نازل کیا] [ اللّٰهُ: اللہ نے] [ فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ : ہی کافر ہیں]



ح ب ر : (ن) ۔ حبرا ۔ آراستہ کرنا ۔ نقش ونگار بنانا۔ (س) ۔ حبرا ۔ کسی چیز کا اپنے نشانات چھوڑ جانا ۔ حبر ج ۔ احبار ۔ عالم دین [ کیونکہ وہ علم سے آراستہ ہوتا ہے اور اپنے علم کے اثرات چھوڑ جاتا ہے ) آیت زیر مطالعہ ۔ (افعال) ۔ احبارا ۔ کسی کو مسرور کرنا ۔ آؤ بھگت کرنا ۔ فَهُمْ فِيْ رَوْضَةٍ يُّحْبَرُوْنَ [ تو ان لوگوں کی ایک باغ میں آؤ بھگت کی جائے گی ] ۔ 30 :15

ء ن ف ــ: (س) ۔ انفعا ۔ (1) خود دار ہونا ۔ ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینا ۔ (2) ناک بھوں چڑھانا ۔ انف۔ ہر چیز کی ابتداء جیسے (1) پہاڑ کی چوٹی ۔ (2) ناک ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ انفا۔ ظرف ہے اس لیے منصوب ہوتا ہے ۔ شروع میں ، ابھی ۔ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا ۣ [ انھوں نے کیا فرمایا ابھی ] ۔ 47 :16

ترکیب : جملہ فعل ماضی انزلنا سے شروع ہوا ہے اس لیے یحکم سے پہلے کان محذوف مانا جائے گا اور اس کا ترجمہ ماضی میں ہوگا ۔ النبیون موصول ہے اور الذین اسلموا صلہ ہے ۔ صلہ اور موصول مل کر یحکم کا فاعل ہے ۔ جبکہ للذین ھادوا یحکم سے متعلق ہے ۔ الربنیون اور الاحبار بھی یحکم کے فاعل ہیں جبکہ بما بھی یحکم سے متعلق ہیں ۔ علیہ کی ضمیر کتب اللہ کے لیے ہے ۔ من شرطیہ ہے اس لیے لم یحکم کا ترجمہ حال میں ہو گا۔

وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ ۙوَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ ۭ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ  ۭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ      45؀
[ وَكَتَبْنَا؛اور ہم نے لکھا] [ عَلَيْهِمْ: ان پر] [ فِيْهَآ: اس میں] [ اَنَّ: کہ] [ النَّفْسَ: جان (کا بدلہ ہے )] [ بِالنَّفْسِ ۙ: جان سے] [ وَالْعَيْنَ: اور آنکھ (کا بدلہ ہے )] [ بِالْعَيْنِ: آنکھ سے] [ وَالْاَنْفَ؛اور ناک (کا بدلہ ہے] [ بِالْاَنْفِ: ناک ہے] [ وَالْاُذُنَ؛اور کان (کا بدلہ ہے )] [ بِالْاُذُنِ؛کان سے] [ وَالسِّنَّ: اور دانت (کا بدلہ ہے )] [ بِالسِّنِّ ۙ: دانت سے] [ وَالْجُرُوْحَ؛اور زخموں ) (کا بھی )] [ قِصَاصٌ ۭ: بدلہ ہے] [ فَمَنْ؛تو جس نے] [ تَصَدَّقَ بِهٖ؛اپنا حق چھوڑا] [ فَهُوَ: تو یہ] [ كَفَّارَةٌ: کفارہ ہے (گناہوں کا )] [ لَّهٗ ۭ: اس کے لیے] [ وَمَنْ: اور جو] [ لَّمْ يَحْكُمْ: اس سے جو] [ بِمَآ: اس سے جو] [ اَنْزَلَ: نازل کیا] [ اللّٰهُ: اللہ نے] [ فَاُولٰۗىِٕكَ: تو وہ لوگ] [ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ: ہی ظلم کرنے والے ہیں]

وَقَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ  ۠ وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ فِيْهِ هُدًى وَّنُوْرٌ ۙ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَهُدًى وَّمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ      46؀ۭ
[ وَقَفَّيْنَا: اور ہم نے پیچھے بھیجا] [ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ: ان کے نقوش قدم پر] [ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ: عیسیٰ ابن مریم کو] [ مُصَدِّقًا: تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے] [ لِّمَا: اس کی جو] [ بَيْنَ يَدَيْهِ: ان کے سامنے ہے] [ مِنَ التَّوْرٰىةِ ۠: تورات میں سے] [ وَاٰتَيْنٰهُ: اور ہم نے دی ان کو] [ الْاِنْجِيْلَ: انجیل] [ فِيْهِ: اس میں] [ هُدًى: ہدایت ہے] [ وَّنُوْرٌ : اور نور ہےۙ [ َّمُصَدِّقًا : اور تصدیق کرنے والی ہوتے ہوئے] [ لِّمَا: اس کی جو ] [ بَيْنَ يَدَيْهِ : اس کے سامنے ہے] [ مِنَ التَّوْرٰىةِ : تورات میں سے] [ وَهُدًى : اور ہدایت ہوتے ہوئے] [ وَّمَوْعِظَةً: اور نصیحت ہوتے ہوئے] [ لِّلْمُتَّقِيْنَ : اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے]



ء ث ر : (ن ۔ ض ) اثرا ۔ (1) کسی چیز کا اپنا نشان چھوڑ جانا جو اس کے وجود پر دلیل ہو ۔ (2) کسی کا احترام کرنا ۔ اثر۔ ج ، اثار ۔ اسم ذات بھی ہے ۔ نشان ۔ اثر ۔ نقش قدم ۔ سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ [ ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے ] 48:29۔ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ [ تو میں نے قبضے میں لیا ایک مٹھی بھر فرشتے کے نقش قدم سے )۔ 20 :96۔ اثرۃ ۔ ج ، اثارۃ ، کسی علم کا بقیہ حصہ ۔ اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ [ تم لوگ لاؤ میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کسی علم کے باقی حصے ] 46:4۔ (افعال) ایثار ۔ کسی کو کسی پر ترجیح دینا ۔ بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا [ بلکہ تم لوگ ترجیح دیتے ہو دنیا کی زندگی کو ] ۔ 87 : 16۔

ھ ی م ن ۔ (رباعی ) ۔ ھیمنۃ ، حفاظت کرنا ۔ نگرانی کرنا ۔ مھیمن ۔ اسم الفاعل ہے ۔ حفاظت اور نگرانی کرنے والا ۔

ش ر ع (ف) شرعا ۔ کسی کے لیے قانون بنانا ۔ شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا [ اس نے قانون بنایا تمہارے لیے نظام حیات میں سے ، اس کو اس نے تاکید کی جس کی نوح کو ] 13: 42 ۔ شرعۃ ۔ قوانین کا مجموعہ ۔ دستور ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

شریعۃ۔ قوانین کی پابندی کرنے کا لائحہ عمل ۔ راستہ ۔ ضابطہ ۔ ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا [ پھر ہم نے رکھا آپ کو ایک ضابطے پر حکم میں سے ، تو آپ پیروی کریں اس کی ] ۔45:18 (ف) شروعا۔ پانی میں گھسنا ۔ شارعۃ ۔ ج ،شرع ۔ اسم الفاعل ہے ۔ پانی میں گھسنے والی ۔ اِذْ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا [ جب آتیں ان کے پاس ان کی مچھلیاں ان کے ہفتے کے دن پانی میں تیرتی ہوئی ] ۔ 7:163

ن ھ ج ۔ (ف) ۔ نھجا ۔ راستہ چلنا ۔ منھاج راستہ آیت زیر مطالعہ ۔

ترکیب : علی اثارہم کی ضمیر آیت نمبر 44، میں مذکور النبیون ، الربنیون اور الاحبار کے لیے ہے ، مصدقا حال ہے ، وھدی وموعظۃ یہ دونوں بھی حال ہیں۔ الیک الکتاب من الکتاب میں الکتاب پر الام تعریف ہے جبکہ من الکتاب میں الکتاب پر لام جنس ہے ۔ عما دراصل عن ما ہے ۔ اس سے پہلے کوئی ایسا فعل محذوف ہے جس کے ساتھ عن کا صلہ آتا ہے ۔ یہاں پر فتعرض محذوف ماننا مناسب ہے ۔ ولکن کے بعد بھی کوئی فعل محذوف ہے جیسے فرقتہم ۔ اصاب ۔ یصیب ۔ اصابۃ [ ٹھیک نشانہ پر لگنا لازم ہے لیکن یہاں پر یہ ب کے صلے کے ساتھ آیا ہے اس لیے متعدی ہو گیا یعنی ٹھیک نشانے پر لگانا ۔

نوٹ : 1۔ قرآن مجید کو ’’ الکتاب‘‘ پر محافظ اور نگران کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ان تمام برحق تعلیمات کو ، جو پچھلی آسمانی کتابوں میں دی گئی تھیں ، اپنے اندر محفوظ کردیا ہے۔ اب ان تعلیمات کا کوئی حصہ ضائع نہ ہونے پائے گا ۔ گزشتہ کتابوں میں خدا کے کلام اور لوگوں کے کلام کی جو آمیزش ہوگئی ہے ، قرآن کی شہادت سے ان کو پھر چھانٹا جاسکتا ہے ۔ جو کچھ قرآن کے مطابق ہے وہ خدا کا کلام ہے اور جو قرآن کے خلاف ہے وہ لوگوں کا کلام ہے ۔ (تفہیم القرآن )

نوٹ: 2۔ جاہلیت کا لفظ اسلام کے مقابلے میں استعمال کیا جاتا ہے (یعنی جو طریقہ اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا وہ جاہلیت ہے ) اسلام کا طریقہ سراسر علم ہے کیونکہ اس کی طرف اللہ تعالیٰ نے راہنمائی کی ہے ۔ اس کے برعکس ہر وہ طریقہ جو اسلام سے مختلف ہے جاہلیت کا طریقہ ہے ۔ عرب کے زمانہ قبل اسلام کو جاہلیت کا دور اسی معنی میں کہا گیا ہے کہ اس زمانے میں علم کے بغیر وہم وگمان اور خواہشات کی بنا پر انسانوں نے اپنے لیے زندگی کے طریقے مقرر کرلیے تھے ۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی اور جہاں کہیں بھی انسان اختیار کرے گا اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا ۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے اور کسی معنی میں بھی انسان کی راہنمائی کے لیے کافی نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو نظام زندگی اس جزوی علم کے ساتھ ظنون وادہام اور قیاسات وخواہشات کی آمیزش کرکے بنا لیے گئے ہیں وہ بھی اسی طرح جاہلیت کی تعریف میں آتے ہیں جس طرح قدیم زمانے کے جاہلی طریقے اس تعریف میں آتے تھے (تفہیم القرآن )

مولانا مودودی کی مذکورہ وضاحت سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ’’ جاہلیت ‘‘ محض ایک لفظ نہیں بلکہ قرآن مجید کی ایک مخصوص اصطلاح ہے اور اس کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ اس میں کسی بھی معاشرے کے ، یہاں تک کہ کسی مسلم معاشرے کے بھی وہ رسم ورواج اور طور طریقے شامل ہیں جو غیر اسلامی ہیں ، خواہ وہ
ANTI ISLAMIC ہوں یا UN.ISLAMIC ہوں ۔ قرآن مجید میں یہ اصلاح چار جگہ آئی ہے اور ہر جگہ جاہلیت کی کسی مخصوص جہت (DIMENSION) کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اس کو سمجھ لینے سے کسی بھی معاشرے کا تجزیاتی جائزہ لینے میں بہت مدد ملتی ہے ۔

(1) سورہ ال عمران کی آیت نمبر ۔ 154 میں ’’ ظن الجاھلیۃ ‘‘ آیا ہے یعنی جاہلیت کا گمان اور مذکورہ بالا وضاحت کے بعد اب ہم اس کا ترجمہ کرسکتے ہیں ۔ کہ غیراسلامی گمان ۔ یہ اعتقادی گمراہی کی جہت ہے ۔ پاکستان کے مسلم معاشرے میں اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے بلی کے راستہ کاٹ جانے کو منحوس خیال کرنا یا رشتے کے بھائی بہنوں (چچا زاد ۔ ماموں زاد وغیرہ) کا ایک دوسرے سے پردہ کرنے کو دقیانوسیت سمجھنا ۔

(2) اس کے بعد سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۔ 50 میں حکم الجاھلیۃ آیا ہے یعنی جاہلیت کا فیصلہ ۔ یہ قانونی گمراہی کی جہت ہے ۔ آج کل جیسے رجم کی سزا کا انکار کرنا یا ہاتھ کاٹنے اور برسرعام کوڑے مارنے کی سزا کو وحشیانہ قرار دینا ۔

(3) اس کے بعد سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر ۔ 33 میں تبرج الجاھلیۃ آیا ہے یعنی جاہلیت کا دکھاوا کرنا ۔ یہ خود کو نمایاں کرنے اور نمود ونمائش کی جہت ہے ۔ آج کل جیسے شادی بیاہ میں روشنی کا اہتمام کرنا یا بیوٹی پارلر میں بالوں ، آنکھ کی پلکوں اور بھنوؤں وغیرہ کی تراش خراش کرانا ۔

(4) اس کے بعد سورہ الفتح کی آیت نمبر 26۔ میں حمیۃ الجاھلیۃ آیاہے یعنی جاہلیت کی حمیت ۔ یہ غیرت اور خود داری میں گمراہی کی جہت ہے ۔ آج کل جیسے غیرت کے نام پر قتل کرنا یا بیک وقت تین طلاق دینے کو درست سمجھنا جبکہ یہ گناہ ہیں ۔

وَلْيَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِيْهِ  ۭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ     47؀
[ وَلْيَحْكُمْ؛اور چاہیے کہ فیصلہ کریں] [ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ: انجیل والے] [ بِمَآ: اس سے جو ] [ اَنْزَلَ؛اتارا] [ اللّٰهُ: اللہ نے] [ فِيْهِ ۭ: اس میں] [ وَمَنْ: اور جو] [ لَّمْ يَحْكُمْ: فیصلہ نہیں کرتا] [ بِمَآ: اس سے جو] [ اَنْزَلَ: نازل کیا] [ اللّٰهُ: اللہ نے] [ فَاُولٰۗىِٕكَ: تو وہ لوگ] [ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ: ہی نافرمانی کرنے والے ہیں]

وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ عَمَّا جَاۗءَكَ مِنَ الْحَقِّ ۭ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا  ۭوَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ     48؀ۙ
[ وَاَنْزَلْنَآ: اور ہم نے نازل کیا] [ اِلَيْكَ: آپ کی طرف] [ الْكِتٰبَ: اس کتاب کو] [ بِالْحَقِّ: حق کے ساتھ] [ مُصَدِّقًا: تصدیق کرنے والی ہوتے ہوئے] [ لِّمَا: اس کی جو] [ بَيْنَ يَدَيْهِ:: اس کے سامنے ہے] [ مِنَ الْكِتٰبِ: کتابوں میں سے] [ وَمُهَيْمِنًا: اور نگراں ہوتے ہوئے] [ عَلَيْهِ: ان پر] [ فَاحْكُمْ: پس آپ فیصلہ کریں] [ بَيْنَهُمْ: ان کے درمیان] [ بِمَآ: اس سے جو ] [ اَنْزَلَ: نازل کیا] [ اللّٰهُ: اللہ نے] [ وَلَا تَتَّبِعْ: اور آپ پیروی مت کریں] [ اَهْوَاۗءَهُمْ: ان کی خواہشات کی] [ عَمَّا: (ورنہ آپ گریز کریں گے ) اس سے جو] [ جَاۗءَكَ: آیا آپ کے پاس] [ مِنَ الْحَقِّ: حق میں سے] [ ۭ لِكُلٍّ: سب کے لیے] [ جَعَلْنَا: ہم نے بنایا] [ مِنْكُمْ: تم میں سے] [ شِرْعَةً: ایک دستور] [ وَّمِنْهَاجًا: ایک راستہ] [ ۭوَلَوْ: اور اگر] [ شَاۗءَ: چاہتا] [ اللّٰهُ: اللہ] [ لَجَعَلَكُمْ: تو وہ بناتا تم کو] [ اُمَّةً وَّاحِدَةً: ایک امت] [ وَّلٰكِنْ: اور لیکن (اس نے فرق رکھا تم میں )] [ لِّيَبْلُوَكُمْ: تاکہ وہ آزمائے تم کو] [ فِيْ مَآ: اس میں جو] [ اٰتٰىكُمْ: اس نے دیا تم کو] [ فَاسْتَبِقُوا: پس سبقت کرو] [ الْخَيْرٰتِ ۭ: بھلائیوں میں] [ اِلَى اللّٰهِ: اللہ کی طرف ہی] [ مَرْجِعُكُمْ: تمہارے لوٹنے کی جگہ ہے] [ جَمِيْعًا: سب کی] [ فَيُنَبِّئُكُمْ: پھر وہ بتلائے گا تم کو] [ بِمَا: وہ ] [ كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ: تم لوگ اختلاف کیا کرتے تھے جس میں]

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَاۗءَ  ۘبَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ      51؀
[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ: اے لوگو! جو] [ اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [ لَا تَتَّخِذُوا: تم لوگ مت بناو] [ الْيَھُوْدَ: یہودیوں کو ] [ وَالنَّصٰرٰٓى: اور نصرانیوں کو] [ اَوْلِيَاۗءَ : کارساز ] [ ۘبَعْضُهُمْ: ان کے بعض] [ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ: بعض کے کار ساز ہیں] [ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ:: دوستی کرے گا ان سے] [ مِّنْكُمْ : تم میں سے] [ فَاِنَّهٗ: تو یقینا وہ] [ مِنْهُمْ ۭ: ان میں سے ہے] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ] [ لَا يَهْدِي: ہدایت نہیں دیتا] [ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ: ظالم لوگوں کو]



ج ھ د : (ف) ۔ جھدا ۔ کسی کام میں طاقت صرف کرنا ۔ کوشش کرنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ جہد ۔ اسم ذات ہے ۔ کوشش ۔ محنت ۔ وَالَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ [ اور ان لوگوں کو جو نہیں پاتے مگر محنت سے ] ۔9 :79 ۔ (مفاعلہ ) ۔ مجاھدۃ ۔ کسی کے مقابلے پر محنت صرف کرنا ۔ کشمکش کرنا ۔ وَمَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ [ اور جس نے کشمکش کی تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ کشمکش کرتا ہے اپنے ہی لیے ] 29:6 ۔ جاھد ۔ فعل امر ہے تو کشمکش کر ۔ جدوجہد کر۔ وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا [ اور آپ ان سے جدوجہد کریں اس سے یعنی قرآن سے جیسے کہ بڑی جدوجہد کرنے کا حق ہے ] ۔ 52 : 56۔

ل و م :ـ (ن) لوما ۔ برا بھلا کہنا ۔ ملامت کرنا ۔ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ [ تویہ وہ ہے تم عورتوں نے ملامت کی مجھ کو جس کے بارے میں ] ۔ 12:32 ۔ لم ۔ فعل امر ہے ۔ تو ملامت کر ۔ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ [ پس تم لوگ ملامت مت کرو مجھ کو اور ملامت کرو اپنے آپ کو ] ۔ 14:22 ۔ لومۃ اسم ذات ہے ۔ ملامت ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ لائم ۔ اسم الفاعل ہے ۔ ملامت کرنے والا۔ آیت زیر مطالعہ ۔ ملوم ۔ اسم المفعول ہے ۔ ملامت کیا ہوا ۔ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ [ پس آپ منہ پھیر لیں ان سے تو آپ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں یعنی آپ پر کوئی الزام نہیں ہے ] ۔ 51 :54۔ لوام ۔ فعال ۔ کے وزن پر مبالغہ ہے ۔ بار بار ملامت کرنے والے نفس کی ] ۔75:6۔ (افعال) ۔ الا مۃ ۔ اپنے آپ کو ملامت کرنا۔ ملیم۔ اسم الفاعل ہے ۔ خود کو ملامت کرنے والا ۔ فَنَبَذْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيْمٌ [ تو ہم نے پھینکا ان کو پانی میں اس حال میں کہ وہ خود کو ملامت کرنے والا تھا ] ۔51:40۔ (تفاعل ) ۔ تلاوما ۔ ایک دوسرے کو ملامت کرنا ۔ فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَلَاوَمُوْنَ [ تو ان کے بعض سامنکے آئے بعض کے ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہوئے ] ۔ 68:30۔

ح ز ب : (ن) ۔ حزبا۔ سخت ہونا ۔ مضبوط ہونا۔ حزب ۔ ج ۔ احزاب ۔ مضبوط جتھایا گروہ ۔ لشکر ۔ وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ يُّنْكِرُ بَعْضَهٗ ۭ [ اور گروہوں میں وہ بھی ہیں جو انکار کرتے ہیں اس کے بعض کا ] ۔ 13:36۔

ترکیب : یسارعون کی ضمیر فاعلی ھم ہے جو کہ الذین فی قلوبہم مرض کے لیے ہے جبکہ فیہم کی ضمیر یہود اور نصاری کے لیے ہے ۔ بالفتح کی با پر عطف ہونے کی وجہ سے امر مجرور ہوا ہے ۔ فیصبحوا کا فاسبیبہ ہے ۔ جھداایمانہم مرکب اضافی ہے اور اس کے مضاف جھد کی نصب بتا رہی ہے کہ یہ پورا مرکب فعل محذوف جھدوا کا مفعول مطلق ہے ۔ یحبہم کی ضمیر فاعلی ھو ہے جو اللہ کے لیے ہے اور یحبونہ کی ضمیر فاعلی ھم ہے جو بقوم کے لیے بقوم کی صفت ہونے کی وجہ سے اذلۃ اور اعذۃ مجرور ہیں ۔ حزب اسم جمع ہے اس لیے اس کی خبر الغلبون جمع آئی ہے۔ ؎

نوٹ : 1 ۔ آیات زیر مطالعہ کے نزول کے وقت تک عرب میں کفر اور اسلام کی کشمکش کا فیصلہ نہیں ہوا تھا ۔ اگرچہ اسلام ایک طاقت بن چکا تھا لیکن مقابل کی طاقتیں بھی زبردست تھیں ۔ اس وقت عرب میں عیسائیوں اور یہودیوں کی معاشی قوت سب سے زیادہ تھی ۔ عرب کے سرسبز وشاداب خطے ان کے قبضے میں تھے ۔ ان کے سودی قرضوں کا جال ہر طرف پھیلا ہوا تھا ۔ اس لیے دائرہ اسلام میں شامل کچھ دنیا پرستی کے روگی لوگوں کو خطرہ تھا کہ اسلام کا ساتھ دیتے ہوئے ان سب قوموں سے تعلقات منقطع کرنا سیاسی اور معاشی دونوں لحاظ سے خطرناک ہوگا ۔ (تفہیم القرآن )

کفر واسلام کی کشمکش کی جو صورتحال ان آیات کے نزول کے وقت عرب میں تھی ، بالکل وہی صورتحال آج پوری دنیا میں ہے ۔ آج بھی مسلم امت میں جہاں کچھ مخلص دیوانے ہیں ، وہیں دنیا پرست فرزانے بھی ہیں ، جو کافر قوموں سے قطع تعلق کو خود کشی قرار دے رہے ہیں کیونکہ کفار کی معاشی اور فوجی برتری ناقابل تسخیر نظر آرہی ہے۔ لیکن بہرحال اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ کہ بالآخر مسلم امت ہی غالب ہونے والی ہے (ان شاء اللہ )۔

یہ بات بھی ذہن میں واضح رہنی چاہیے کہ قرآن مجید کی کسی ایک آیت سے کافروں سے تعلقات کے متعلق کوئی فیصلہ کرنا درست نہیں ہے ۔ پورے قرآن مجید ، سنت اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے عمل کو سامنے رکھ کر لائحہ عمل بنتا ہے اس کی وضاحت آیت نمبر ۔ 3:28 کے نوٹ ۔ 1 ، میں کی جاچکی ہے ۔ اس لحاظ سے آج تک (15: دسمبر 2002 ء ) امریکہ ، برطانیہ ، بھارت اور اسرائیل کافر حربی کے زمرے میں آتے ہیں ۔ باقی غیر مسلم ممالک کو فی الحال کافر حربی قرار دینا محل نظر ہے۔

نوٹ : 2۔ آیت نمبر ۔ 51، میں کہا گیا ہے کہ یہود ونصری ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ یہ قرآن کی پیشنگوئیوں میں سے ایک ایسی پیشنگوئی ہے جواب پوری ہوئی ہے ۔ عیسائی عقیدے کے مطابق یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قاتل ہیں ۔ اس لیے اس آیت کے نزول کے وقت یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے اور ان کی یہ دشمنی بیسویں صدی کے وسط تک قائم تھی ، حضرت عمر (رض) کے زمانے میں یروشلم پر مسلمانوں کا قبضہ ہوا ۔ اس وقت وہاں مدتوں سے عیسائی حکومت تھی اور انھوں نے وہاں یہودیوں کے داخلے پر پابندی لگائی ہوئی تھی ۔ حضرت عمر (رض) نے یہودیوں کو یروشلم میں آنے اور وہاں آباد ہونے کی اجازت دی تھی ۔ 1939 ء کی دوسری عالمی جنگ سے پہلے جرمنی میں ہٹلر نے یہودیوں کا قتل عام کیا تو وہ لوگ جرمنی سے بھاگ کر یورپ کے ممالک میں پناہ گزیں ہوئے ۔ اس وقت کوئی عیسائی ملک انھیں اپنے ملک میں آباد کرنے کے لیے آمادہ نہیں تھا ۔ پھر بڑی کوششوں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر ملک کے لیے یہودیوں کو آباد کرنے کا کوٹہ مقرر کیا گیا ۔ کیوبا اور امریکہ میں آباد کیے جانے والے یہودیوں کو لے کر ایک بحری جہاز یورپ سے روانہ ہوا جب وہ کیوبا پہنچا تو وہاں کی حکومت نے اپنے کوٹے کے صرف بیس فیصد افراد کو اترنے کی اجازت دی اور باقی کو لینے سے انکار کردیا ۔ جب یہ جہاز امریکہ پہنچا تو انھوں نے ایک آدمی کو بھی اترنے کی اجازت نہیں دی اور سب کو لے کر جہاز کو یورپ واپس آنا پڑا ۔ پھر موجودہ پوپ سے پہلے پوپ صاحب نے یہودیوں کو عیسیٰ کا خون معاف کرنے کا اعلان کیا ۔ اس کے بعد یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست بنے ۔ اس طرح یہ قرآنی پیشنگوئی پوری ہوئی ہے ۔

فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ  ۭفَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَ سَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِيْنَ       52؀ۭ
[ فَتَرَى: پس تو دیکھے گا] [ الَّذِيْنَ: ان کو جن کے] [ فِيْ قُلُوْبِهِمْ: دلوں میں] [ مَّرَضٌ: ایک روگ ہے] [ يُّسَارِعُوْنَ: (کہ ) وہ لپکتے ہیں] [ فِيْهِمْ: ان میں] [ يَقُوْلُوْنَ: (اور) کہتے ہیں] [ نَخْشٰٓى: ہم ڈرتے ہیں] [ اَنْ: کہ] [ تُصِيْبَنَا: آن لگے ہم کو] [ دَاۗىِٕرَةٌ: کوئی گردش ] [ ۭفَعَسَى: تو قریب ہے] [ اللّٰهُ: اللہ ] [ اَنْ: کہ] [ يَّاْتِيَ: وہ لے آئے] [ بِالْفَتْحِ: فتح] [ اَوْ: یا] [ اَمْرٍ: کوئی حکم] [ مِّنْ عِنْدِهٖ: اپنے پاس سے] [ فَيُصْبِحُوْا: نتیجتا وہ ہو جائیں] [ عَلٰي مَآ: اس پر جو ] [ اَ سَرُّوْا: انھوں نے چھپایا] [ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ: اپنے جیئوں میں] [ نٰدِمِيْنَ: ندامت کرنے والے]

اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ رٰكِعُوْنَ     55؀
[ اِنَّمَا: کچھ نہیں سوائے اس کے کہ] [ وَلِيُّكُمُ: تم لوگوں کا کارساز ] [ اللّٰهُ: اللہ ہے] [ وَرَسُوْلُهٗ: اور اس کے رسول ہیں] [ وَالَّذِيْنَ: اور وہ لوگ ہیں جو] [ اٰمَنُوا: ایمان لائے] [ الَّذِيْنَ: جو لوگ (کہ )] [ يُقِيْمُوْنَ: قائم رکھتے ہیں] [ الصَّلٰوةَ: نماز کو] [ وَيُؤْتُوْنَ: اور پہنچاتے ہیں] [ الزَّكٰوةَ: زکوۃ کو] [ وَهُمْ: اور وہ لوگ] [ رٰكِعُوْنَ: جھکنے والے ہیں]

وَمَنْ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ      56؀ۧ
وَمَنْ: اور جو] [ يَّتَوَلَّ: دوستی کرے گا] [ اللّٰهَ: اللہ سے] [ وَرَسُوْلَهٗ: اور اس کے رسول سے] [ وَالَّذِيْنَ: اور ان لوگوں سے جو] [ اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [ فَاِنَّ: تو بیشک] [ حِزْبَ اللّٰهِ: اللہ کی جماعت] [ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ: ہی غالب ہونے والی ہے]

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَكُمْ هُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ اَوْلِيَاۗءَ  ۚوَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ       57؀
[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ: اے لوگو! جو] [ اٰمَنُوْا: ایمان لائے] [ لَا تَتَّخِذُوا: تم لوگ مت بناؤ] [ الَّذِيْنَ: ان لوگوں کو جنھوں نے] [ اتَّخَذُوْا: بنایا ] [ دِيْنَكُمْ: تمہارے دین کو] [ هُزُوًا: تمسخر] [ وَّلَعِبًا: اور تفریح] [ مِّنَ الَّذِيْنَ: ان لوگوں میں سے جن کو] [ اُوْتُوا: دی گئی] [ الْكِتٰبَ : کتاب ] [ مِنْ قَبْلِكُمْ: تم سے پہلے] [ وَالْكُفَّارَ: اور (نہ ہی ) کافروں کو] [ اَوْلِيَاۗءَ : (اپنا ) کارساز] [ ۚوَاتَّقُوا ا: اور تقوی اختیار کرو] [ للّٰهَ: اللہ کا] [ اِنْ؛اگر] [ كُنْتُمْ : تم لوگ ہو] [ مُّؤْمِنِيْنَ: ایمان لانے والے]



ل ع ب ۔ (ف) ۔ لعبا۔ بچے کے منہ سے رال ٹپکنا ۔ لعاب نکلنا ۔ (س) ۔ لعبا ۔ تفریح کے لیے کوئی کام کرنا ۔ اَوَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِيَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّهُمْ يَلْعَبُوْنَ [ اور کیا امن میں ہوگئے بستی والے اس سے کہ ان کے پاس آئے ہماری سختی دن کے وقت اس حال میں کہ وہ کھیلتے ہوں ] ۔ 7:98۔ لعب۔ اسم ذات ہے ۔ کھیل کود۔ تفریح ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ لاعب، اسم الفاعل ہے۔ کھیلنے والا ۔ کھلاڑی ، اَجِئْـتَنَا بِالْحَــقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِيْنَ [ کیا تو لایا ہمارے پاس حق یا تو کھلینے والوں میں سے ہے ] 21: 55۔

ترکیب : لا تتخذوا کے مفعول اول الذین اتتخذوا اور الکفار ہیں جبکہ اس کا مفعول ثانی اولیاء ہے الذین اتتخذوا کا مفعول اول دینکم جبکہ اس کے مفعول ثانی ھزوا اور لعبا ہیں ۔ من الذین کا من بیانیہ ہے ۔ اتخذوھا کی ضمیر مفعولی نادیتم کے مصدر مناداۃ کے لیے ہے ۔ انبئکم کا مفعول بشر من ذلک ہے اور شر افعل تفضیل ہے ( دیکھیں آسان عربی گرامر ، پیراگراف ۔ 6:61) جبکہ مثوبۃ اس کی تمیز ہے ۔ شر بھی افعل تفضیل ہے اور مکانا اس کی تمیز ہے ۔

وَاِذَا نَادَيْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا  ۭذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ        58؀
وَاِذَا [ اور جب بھی ]نَادَيْتُمْ [ تم لوگ پکارتے ہو ] اِلَى الصَّلٰوةِ [ نماز کی طرف ] اتَّخَذُوْهَا [ تو وہ لوگ بناتے ہیں اس کو ] هُزُوًا [ تمسخر ] وَّلَعِبًا [ اور تفریح ] ۭذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ [ یہ اس لیے کہ وہ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہیں جو ] لَّا يَعْقِلُوْنَ [ عقل استعمال نہیں کرتے ]

قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ ۙ وَاَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ      59؀
قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ [ اے اہل کتاب ]هَلْ تَنْقِمُوْنَ [ تم لوگ کیا برا مانتے ہو ]مِنَّآ [ ہم سے ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ]بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَمَآ [ اور اس پر جو ]اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْنَا [ ہماری طرف ]وَمَآ [ اور اس پر جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ]مِنْ قَبْلُ ۙ [ اس سے پہلے ]وَاَنَّ [ اس حال میں کہ ] اَكْثَرَكُمْ [ تمہارے اکثر لوگ ]فٰسِقُوْنَ [ نافرمانی کرنے والے ہیں ]

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ  ۭ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَـنَازِيْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوْتَ ۭ اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ      60؀
قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] هَلْ [ کیا ] اُنَبِّئُكُمْ [ میں خبر دوں تم لوگوں ]بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ [ اس سے زیادہ بری چیز کی ]مَثُوْبَةً [ بطور بدلے کے ]عِنْدَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے پاس ] مَنْ [ وہ لوگ ]لَّعَنَهُ [ لعنت کی جن پر ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَغَضِبَ [ اور اس نے غضب کیا ] عَلَيْهِ [ جن پر ] وَجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ]مِنْهُمُ [ جن میں سے ] الْقِرَدَةَ [ بندر ] وَالْخَـنَازِيْرَ [ اور سور ] وَعَبَدَ [ اور جنھوں نے غلامی کی ] الطَّاغُوْتَ ۭ [ طاغوت کی ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] شَرٌّ [ سب سے زیادہ برے ہیں ] مَّكَانًا [ بلحاظ ٹھکا نے کے ] وَّاَضَلُّ [ اور سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں ] عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ [ درمیانی راہ سے ]

وَاِذَا جَاۗءُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَقَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ ۭ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ     61؀
وَاِذَا [ اور جب بھی ] جَاۗءُوْكُمْ [ وہ آتے ہیں تمہارے پاس ] قَالُوْٓا [ تو کہتے ہیں ] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ]وَ [ حالانکہ ] قَدْ دَّخَلُوْا [ وہ داخل ہوئے ہیں ]بِالْكُفْرِ [ کفر کے ساتھ ] وَهُمْ [ اور وہ ] قَدْ خَرَجُوْا [ نکلے ہیں ]بِهٖ ۭ [ اس کے ساتھ ]وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] اَعْلَمُ [ خوب جانتا ہے ]بِمَا [ اس کو جو ] كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ [ وہ لوگ چھپا یا کرتے ہیں ]

وَتَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ يُسَارِعُوْنَ فِي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ      62؀
وَتَرٰى [ اور آپ دیکھیں گے ]كَثِيْرًا [ بہت سے لوگوں کو ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] يُسَارِعُوْنَ [ کہ وہ لوگ باہم سبقت کرتے ہیں ]فِي الْاِثْمِ [ گناہ میں ]وَالْعُدْوَانِ [ اور زیادتی میں ]وَاَكْلِهِمُ [ اور اپنے کھانے میں ] السُّحْتَ ۭ [ ناپاک کمائی کو] لَبِئْسَ [ یقینا بہت برا ہے ] مَا [ وہ جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ وہ لوگ کیا کرتے ہیں ]



آیت نمبر۔ 5: 62 تا 66

ط ف ء (س) طفوء ۔ کسی چیز کی روشنی کا ختم ہوجانا ۔ آگ کا بجھ جانا ۔ (افعال ) اطفاء ۔ روشنی کو ختم کرنا ۔ آگ بجھانا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

ق ص د (ض) قصدا ۔ اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنا ۔ اقصد ۔ فعل امر ہے ۔ تومیانہ روی اختیار کر۔ واقصد فی مشیک [ اور تم میانہ روی اختیار اپنی چال میں ] ۔1:19۔ قصد ۔ کسی چیز کا اوسط ۔ درمیان ۔ وعلی اللہ قصد السبیل [ اور اللہ پر ہے راستے کا اعتدال یعنی اسے واضح کرنا ] ۔16:9۔ قاصد ۔ فاعل کے وزن پر صفت ہے ۔ درمیان میں ہونے والا یعنی درمیانی ۔ متوسط ۔ لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيْبًا وَّسَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ [ اگر ہوتا کوئی قریبی سامان سفر تو وہ لوگ ضرور پیروی کرتے آپ کی ] ۔ 9 :42۔ (افتعال) اقتصادا۔ اہتمام سے میانہ رو ہونا ۔ مقتصد ۔ اسم الفاعل ہے ۔ اہتمام سے میانہ روی اختیار کرنے والا یعنی میانہ رو ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

ترکیب : کثیرا صفت ہے ، اس کا موصوف رجالا محذوف ہے ۔ فی پر عطف ہونے کی وجہ سے اکلہم کا مضاف اکل مجرور ہوا اور اس مصدر نے فعل کا عمل کیا ہے ، السحت اس کا مفعول ہے ۔ اسی طرح قولہم کے مصدر قول کا مفعول الاثم ہے ۔ لولا کے بعد فعل مضارع ینھی آیا ہے ۔ اس لحاظ سے اس کا ترجمہ ہوگا ۔ (آیت نمبر ۔ 2 :64، نوٹ ۔1) الیھود عاقل کی جمع مکسر ہے اس لیے واحدمؤنث قالت بھی جائز ہے ۔ ید للہ مغلولۃ اگر قالت کا مفعول ہوتا تو پھر ید اللہ آتا ۔ ید کی رفع بتا رہی ہے کہ یہود جس طرح کہتے تھے ، ان کی بات کو ویسے ہی یعنی (
TENSE DIRECT) میں نقل کیا گیا ہے ، عربی میں اعراب کی سہولت موجود ہونے کی وجہ سے مقولہ (TENSE DIRECT) کی پہچان کے لیے کوئی شناختی نشان لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی ، جیسے کہ انگریزی میں ضرورت ہوتی ہے ۔ یدہ میں ید دراصل یدان تھا ۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا ہوا ہے اور ہ کی ضمیر اس کا مضاف الیہ ہے ید مؤنث سماعی ہے اس لیے اس کی خبر میں مبسوطۃ کا تثنیہ مبسوطتن آیا ہے ۔ لیریدن کا مفعول کثیرا ہے اور یہاں بھی رجالا محذوف ہے، جبکہ اس کا فاعل ماانزل ہے ۔ طغیانا اور کفرا اس کی تمیز ہیں ۔ آیت نمبر ۔ 65۔66، دنوں میں لو شرطیہ ہیں ۔ اس لیے افعال ماضی کا ترجمہ اس لحاظ سے ہو گا ۔ ساء آفاقی صداقت ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر ۔ 2:49، نوٹ ۔2)

نوٹ: 1۔ رسول کریم
کا ارشاد ہے کہ جب کسی قوم میں گناہ کے کام کئے جائیں اور کوئی آدمی اس قوم میں رہتا ہے اور ان کو منع نہیں کرتا تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں پر عذاب بھیج دے ۔ حضرت یوشع علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ آپ کی قوم کے ایک لاکھ آدمی عذاب سے ہلاک کئے جائیں گے ، جن میں چالیس ہزار نیک لوگ ہیں اور ساٹھ ہزار بدعمل ہیں ۔ انھوں نے عرض کیا کہ رب العالمین بدکاروں کی ہلاکت کی وجہ تو ظاہر ہے لیکن نیک لوگوں کو کیوں ہلاک کیا جارہا ہے تو ارشاد ہوا کہ یہ نیک لوگ ان بدکاروں کے ساتھ کھانے پینے اور ہنسی دل لگی میں شریک رہتے تھے۔ میری نافرمانیاں اور گناہ دیکھ کر بھی ان کے چہرے پر کوئی ناگواری کا اثر تک نہ آیا (معارف القرآن )

لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ  ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ      63؀
لَوْلَا [ کیوں نہ ایسا ہو اکہ ]يَنْھٰىهُمُ [ روکتے ان کو ] الرَّبّٰنِيُّوْنَ [ اللہ والے ] وَالْاَحْبَارُ [ اور علماء ]عَنْ قَوْلِهِمُ [ ان کی بات سے ] الْاِثْمَ [ گناہ کی ]وَاَكْلِهِمُ [ اور ان کے کھانے سے ] السُّحْتَ [ ناپاک کمائی کو ]لَبِئْسَ [ یقینا بہت برا ہے ] مَا [ وہ جو ] كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ [ وہ لوگ ہنر مندی کیا کرتے ہیں ]

وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ يَدُاللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ  ۭغُلَّتْ اَيْدِيْهِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا  ۘبَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ ۙ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاۗءُ ۭ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۭ وَاَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۭكُلَّمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّـلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ ۙوَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا  ۭوَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ       64؀
وَقَالَتِ [ اور کہا ] الْيَھُوْدُ [ یہودیوں نے ] يَدُاللّٰهِ [ اللہ کا ہاتھ ] مَغْلُوْلَةٌ ۭ [ بندھا ہوا ہے ] غُلَّتْ [ باندھے گئے ] اَيْدِيْهِمْ [ ان کے ہاتھ ] وَلُعِنُوْا [ اور ان پر لعنت کی گئی ]بِمَا [ بسبب اس کے جو ]قَالُوْا ۘ [ انھوں نے کہا ] بَلْ [ بلکہ ] يَدٰهُ [ اس کے دونوں ہاتھ ]مَبْسُوْطَتٰنِ ۙ [ کھلے ہوئے ہیں ] يُنْفِقُ [ وہ خرچ کرتا ہے ] كَيْفَ [ جیسے ] يَشَاۗءُ [ وہ چاہتا ہے ] وَلَيَزِيْدَنَّ [ اور لازما زیادہ کرے گا ] كَثِيْرًا [ بہت سے لوگوں کو ]مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] مَّآ [ وہ جو ]اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ]اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف سے ) ] طُغْيَانًا [ بلحاظ سرکشی کے ] وَّكُفْرًا ۭ [ اور بلحاظ انکار کے ] وَاَلْقَيْنَا [ اور ہم نے ڈالا ] بَيْنَهُمُ [ ان کے مابین ] الْعَدَاوَةَ [ عداوت ] وَالْبَغْضَاۗءَ [ اور بغض ]اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۭ [ قیامت کے دن تک ] كُلَّمَآ [ جب بھی ]اَوْقَدُوْا [ وہ لوگ بھڑکاتے ہیں ]نَارًا [ کوئی آگ ] لِّـلْحَرْبِ [ لڑائی کے لیے ] اَطْفَاَهَا [ تو بجھاتا ہے اس کو ] اللّٰهُ ۙ [ اللہ ] وَيَسْعَوْنَ [ اور وہ لوگ تک ودو کرتے ہیں ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَسَادًا ۭ [ نظم بگاڑتے ہیں ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] لَا يُحِبُّ [ پسند نہیں کرتا ] الْمُفْسِدِيْنَ [ نظم بگاڑنے والوں کو ]

وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ      65؀
وَلَوْ اَنَّ [ اور اگر یہ کہ ] اَهْلَ الْكِتٰبِ [ اہل کتاب ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائیں] وَاتَّقَوْا [ اور تقوی اختیار کریں ] لَكَفَّرْنَا [ تو ہم دور کردیں گے ] عَنْهُمْ [ ان سے ] سَيِّاٰتِهِمْ [ ان کی برائیوں کو ] وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ [ اور ہم داخل کریں گے ان کو ] جَنّٰتِ النَّعِيْمِ [ ہمیشہ سرسبزی کے باغات میں ]

وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ  ۭمِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ     66؀ۧ
وَلَوْ اَنَّهُمْ [ اور اگر یہ کہ وہ لوگ ]اَقَامُوا [ قائم کریں ] التَّوْرٰىةَ [ تورات کو ] وَالْاِنْجِيْلَ [ اور انجیل کو ]وَمَآ [ اور اس کو جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ]اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ]مِّنْ رَّبِّهِمْ [ ان کے رب (کی طرف ) سے ]لَاَكَلُوْا [ تو وہ لوگ کھائیں گے ] مِنْ فَوْقِهِمْ [ اپنے اوپر سے ] وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭ [ اور اپنے پیروں کے نیچے سے ] مِنْهُمْ [ ان میں ] اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ [ ایک میانہ روگروہ ہے ] وَكَثِيْرٌ [ اور اکثر ]مِّنْهُمْ [ ان میں سے ]سَاۗءَ [ برا ہے] مَا [ وہ ، جو ] يَعْمَلُوْنَ [ وہ کرتے ہیں ]

يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ  ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ      67؀
يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ [ اے رسول !]بَلِّــغْ [ آپ پہنچاتے رہیں ] مَآ [ اس کو جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] مِنْ رَّبِّكَ ۭ [ آپ کی رب (کی طرف ) سے] وَاِنْ [ اور اگر ] لَّمْ تَفْعَلْ [ آپ (یہ ) نہیں کریں گے ] فَمَا بَلَّغْتَ [ تو آپ نے نہیں پہنچایا ]رِسَالَتَهٗ ۭ [ اس کے پیغام کو ]وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَعْصِمُكَ [ بچائے گا آپ کو ] مِنَ النَّاسِ ۭ [ لوگوں سے ]اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ [ کافر قوم کو ]



ترکیب: لستم کا اسم اس میں شامل انتم کی ضمیر ہے، اس کی خبر محذوف ہے اور علی شیء قائم مقام خبر ہے ۔ فلاتاس فعل نہی ہے اور مجزوم ہونے کی وجہ سے تاسی کی ’ یا‘ گری ہوئی ہے ۔ من امن میں منہم محذوف ہے ۔ خوف مبتداء نکرہ ہے ، اس کی خبر محذوف ہے اور علیہم قائم مقام خبر ہے ۔ وارسلنا میں لقد محذوف ہے ۔ فریقا کی نصب بتا رہی ہے کہ یہ کذبوا اور یقتلون کے مفعول مقدم ہیں ۔ الا میں ان کی وجہ سے تکون منصوب ہوا ہے اور یہ کان تامہ ہے

قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭوَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا  ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ     68؀
قُلْ [ آپ کہئے ] يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ [ اے اہل کتاب !] لَسْتُمْ [ تم لوگ نہیں ہو] عَلٰي شَيْءٍ [ کسی چیز پر ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] تُقِيْمُوا [ تم لوگ قائم کرو] التَّوْرٰىةَ [ تورات کو ] وَالْاِنْجِيْلَ [ اور انجیل کو ] وَمَآ [ اور اس کو جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْكُمْ [ تم لوگوں کی طرف ] مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭ [ تمھارے رب (کی طرف ) سے ] وَلَيَزِيْدَنَّ [ اور لازما زیادہ کرے گا ] كَثِيْرًا ] [ اکثرا لوگوں کو] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] مَّآ [ وہ ، جو] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ]مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف ) سے ] طُغْيَانًا [ بلحاظ سرکشی کے ] وَّكُفْرًا ۚ [ اور بلحاظ انکار کرنے کے ] فَلَا تَاْسَ [ پس آپ افسوس نہ کریں ] عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ [ کافر قوم پر ]

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِـُٔــوْنَ وَالنَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ      69؀
اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے] وَالَّذِيْنَ هَادُوْا [ اور جو یہودی ہوئے ] وَالصّٰبِـُٔــوْنَ [ اور صائبی ہوئے ]وَالنَّصٰرٰى [ اور نصاری ہوئے ] مَنْ [ (ان میں سے ) جو ] اٰمَنَ [ ایمان لایا ]بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ [ اور آخری دن پر ] وَعَمِلَ [ اور عمل کیا ] صَالِحًا [ نیک ]فَلَا خَوْفٌ [ تو کوئی خوف نہیں ہے ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] وَلَا هُمْ [ اور نہ وہ لوگ ] [ يَحْزَنُوْنَ: غمگین ہوتے ہیں ]

لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَاَرْسَلْنَآ اِلَيْهِمْ رُسُلًا  ۭكُلَّمَا جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُهُمْ ۙ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ       70؀ۤ
لَقَدْ اَخَذْنَا [ یقینا ہم لے چکے ہیں ] مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کا پختہ عہد ] وَاَرْسَلْنَآ [ اور ہم بھیج چکے ہیں ]اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] رُسُلًا ۭ [ بہت سے رسول ] كُلَّمَا [ جب بھی ] جَاۗءَهُمْ [ آیا ان کے پاس ] رَسُوْلٌۢ [ کوئی رسول ] بِمَا [ اس کے ساتھ جو ]لَا تَهْوٰٓى [ پسند نہیں کرتے ]اَنْفُسُهُمْ ۙ [ ان کے جی ]فَرِيْقًا [ تو ایک فریق کو ] كَذَّبُوْا [ انھوں نے جھٹلایا ]وَفَرِيْقًا [ اور ایک فریق کو ] يَّقْتُلُوْنَ [ وہ قتل کرتے ہیں ]

وَحَسِبُوْٓا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَصَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَصَمُّوْا كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ       71؀
وَحَسِبُوْٓا [ اور انھوں نے گمان کیا ] اَلَّا تَكُوْنَ [ کہ نہیں ہوگی ]فِتْنَةٌ [ کوئی آفت ] فَعَمُوْا [ پس وہ لوگ اندھے ہوئے ] وَصَمُّوْا [ اور بہرے ہوئے ] ثُمَّ تَابَ [ متوجہ ہوا (اپنی شفقت کے ساتھ )] اللّٰهُ [ اللہ ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ]ثُمَّ [ پھر ] عَمُوْا [ اندھے ہوگئے ]وَصَمُّوْا [ اور بہرے ہوگئے ] كَثِيْرٌ [ اکثر ] مِّنْهُمْ ۭ [ ان میں سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ]بَصِيْرٌۢ [ ہمیشہ دیکھنے والا ہے ] بِمَا [ اس کو جو ] يَعْمَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے ہیں ۔]

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ  ۭوَقَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ ۭاِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ  ۭوَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ    72؀
لَقَدْ كَفَرَ [ یقینا کفر کرچکے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] قَالُوْٓا [ کہا ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] هُوَ الْمَسِيْحُ [ ہی مسیح ہے ] ابْنُ مَرْيَمَ ۭ [ جو مریم کا بیٹا ہے ] وَ [ حالانکہ ] قَالَ [ کہا] الْمَسِيْحُ [ مسیح نے ]يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ اے بنی اسرائیل ] اعْبُدُوا [ تم لوگ بندگی کرو] اللّٰهَ [ اللہ کی ] رَبِّيْ [ جو میرا رب ہے ] وَرَبَّكُمْ ۭ [ اور تمہارا رب ہے ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] مَنْ [ جو ] يُّشْرِكْ [ شرک کرتا ہے ] بِاللّٰهِ [ اللہ کے ساتھ ] فَقَدْ حَرَّمَ [ تو حرام کرچکا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَلَيْهِ [ اس پر ] الْجَنَّةَ [ جنت کو ]وَمَاْوٰىهُ [ اور اس کا ٹھکانہ ] النَّارُ ۭ [ آگ ہے ] وَمَا [ اور نہیں ہے ] لِلظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں کے لیے ] مِنْ اَنْصَارٍ [ کسی قسم کا کوئی مددگار ]



ء ف ک : (ض) ۔ افکا ۔ (1) کسی چیز کو اس کے رخ سے پھیر دینا ۔ (2) جھوٹ گھڑنا ۔ جھوٹی چیزیں بنانا ۔ قَالُوْٓا اَجِئْتَـنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا ۚ ۔ [ کیا تو آیا ہمارے پاس تاکہ تو پھیر دے ہم کو ہمارے خداؤں سے ] 46:22 فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ [ تو جب ہی وہ نکلتی ہے اس کو جو وہ لوگ جھوٹ بناوٹ کرتے ہیں ] ۔ 7:117۔ افک ۔ اسم ذات ہے ۔ گھڑا ہوا جھوٹ ۔ بہتان ۔ ھذا افک مبین [ یہ ایک کھلا بہتان ہے ] ۔ 24:12 ۔ افاک ۔ فعال کے وزن پر مبالغہ ہے ۔ بار بار یا بکثرت جھوٹ گھڑنے والا ۔ بہتان لگانے والا ۔ وَيْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ [ تباہی ہے ہر ایک بہتان باز گنہگار کے لیے ] ۔ 45:7۔ (افتعال ) ایتفا کا ۔ کسی جگہ یا بستی کا الٹ جانا ۔ اوندھا ہونا ۔ مؤتفکۃ۔ اسم الفاعل ہے ۔ الٹ جانے والی ۔ وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى [ اور الٹ جانے والی بستی کو اس نے نیچے گرایا ] ۔ 53: 53۔

ترکیب : ان کا اسم اللہ ہے، المسیح اس کی خبر معرف باللام آئی ہے اس لیے ھو کی ضمیر فاصل آئی ہے جبکہ ابن مریم بدل ہے المسیح کا ۔ انہ میں ہ کی ضمیر ان کا اسم ہے جبکہ من یشرک سے الجنۃ تک پورا جملہ اس کی خبر ہے ۔ قدخلت کا فاعل الرسل ہے جو عاقل کی جمع مکسر ہے اس لیے واحد مؤنث کا صیغہ بھی جائز ہے ۔ امہ میں ہ کی ضمیر المسیح کے لیے ہے ۔ غیرالحق حال ہے اس لیے غیر منصوب ہوا ہے ۔

نوٹ :1 ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ابتدائی پیروکار جو عقائد رکھتے تھے وہ بڑی حد تک اس حقیقت کے مطابق تھے جس کا مشاہدہ انھوں نے خود کیا تھا اور جس کی تعلیم حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کو دی تھی ۔ مگر بعد کے عیسائیوں نے ایک طرف ان کی تعظیم میں غلو کرکے اور دوسری طرف ہمسایہ قوموں کے ادہام اور فلسفوں سے متاثر ہوکر ایک بالکل نیا مذہب تیار کرلیا جس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اصل تعلیمات سے دور کا واسطہ بھی نہ رہا ۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے چودھویں ایڈیشن میں
JESUS CHRIST کے عنوان پر ایک مسیحی عالم دینیات ریواینڈ چارلس اینڈ رسن اسکاٹ کا ایک طویل مضمون شامل ہے ۔ اس میں صاحب مضمون نے لکھا ہے کہ پہلی تین انجیلوں (متی ۔ مرقس ۔ لوقا) میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے یہ گمان کیا جا سکتا ہو کہ ان انجیلوں کے لکھنے والے یسوع کو انسان کے سوا کچھ اور سمجھتے تھے ۔ ان کی نگاہ میں وہ ایک انسان تھے ۔ درحقیقت ان کے حاضروناضر ہونے کا اگر دعوی کیا جائے تو یہ اس پورے تصور کے بالکل خلاف ہوگا جو ہمیں انجیلوں سے حاصل ہوتا ہے ۔ پھر مسیح کو قادر مطلق سمجھنے کی گنجائش تو انجیلوں میں اور بھی کم ہے ۔ فی الواقع یہ بات ان انجیلوں (یعنی مذکورہ تین انجیلوں ) کے تاریخی حیثیت سے معتبر ہونے کی اہم شہادت ہے کہ ان میں ایک طرف مسیح کے فی الحقیقت انسان ہونے کی شہادت محفوظ ہے اور دوسری طرف ان کے اندر کوئی شہادت اس امر کی موجود نہیں ہے کہ مسیح اپنے آپ کو خدا سمجھتے تھے ۔ یہ سینٹ پال تھا جس نے اعلان کیا کہ واقعہ رفع کے وقت اسی فعل رفع کے ذریعہ سے یسوع کو پورے اختیارات کے ساتھ ابن اللہ کے مرتبہ پر اعلانیہ فائز کیا گیا ۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے ایک دوسرے مضمون
CHRISTIANITY میں ریورنڈ جارج ولیم ناکس مسیح کلیسا کے بنیادی عقیدے پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ عقیدہ تثلیت کافکری سانچہ یونانی ہے اور یہودی تعلیمات اس میں ڈھالی گئی ہیں ۔ اس لحاظ سے یہ ہمارے لیے ایک عجیب قسم کا مرکب ہے ۔ مذہبی خیالات بائبل کے اور ڈھلے ہوئے ایک اجنبی فلسفے کی صورتوں میں ۔ نیقیا کی کونسل نے اس عقدے میں جو درج کیا ہے اسے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنی تمام خصوصیات میں بالکل یونانی فکر کا نمونہ ہے ۔

اسی سلسلہ میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے ایک اور مضمون
CHURCH HISTORY میں لکھا ہے کہ تیسری صدی عیسوی کے خاتمہ سے پہلے مسیح کو عام طور پر ’’ کلام ‘‘ کا جدی ظہور تو مان لیا گیا تھا تاہم بکثرت عیسائی ایسے تھے جو مسح کی الوہیت کے قائل نہ تھے ۔ چوتھی صدی میں اس مسئلہ پر سخت بحثیں چھڑی ہوئی تھیں جن سے کلیسا کی بنیادیں ہل گئی تھیں ۔ آخرکار 325 ء میں نیقیا کی کونسل نے الوہیت مسیح کو باضابطہ سرکاری طور پر اصل مسیحی عقیدہ قرار دیا اور مخصوص الفاظ میں اسے مرتب کردیا ۔ اگرچہ اس کے بعد بھی کچھ مدت تک جھگڑا چلتا رہا لیکن آخری فتح نیقیا ہی کے فیصلے کی ہوئی ۔ اس طرح عقیدہ تثلیث مسیحی مذہب کا ایک جزو لاینفک قرار پا گیا ۔

نوٹ :2۔ ابن حزم وغیرہ کی رائے ہے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نبیہ تھیں کیونکہ بی بی سارہ سے فرشتوں نے کلام کیا تھا (11:73) حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرف اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی تھی (28:7) اور بی بی مریم سے بھی فرشتے نے کلام کیا تھا (19: 19) جبکہ جمہور علماء کی رائے ہے کہ نبوت مردوں میں رہتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے پیغام دے کر نہیں بیجھا آپ سے پہلے مگر مردوں کو (12:109)۔ (تفسیر ابن کثیر سے ماخوذ)

اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کسی سے صرف فرشتوں کا خطاب کرلینا یا کسی کی طرف اللہ کا وحی بھیج دینا اس کے نبی ہونے کے لیے کافی نہیں ہے ۔ نبی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کسی قوم کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے مامور بھی کیا ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ زیر مطالعہ آیت نمبر 75 میں بی بی مریم کو نبیہ کے بجائے صدیقہ کہا گیا ہے ۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ  ۘوَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّآ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭوَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ      73؀
لَقَدْ كَفَرَ [ بیشک کفر کر چکے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] قَالُوْٓا [ کہا ]اِنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘ [ تین کا تیسرا ہے ]وَمَا [ اور نہیں ہے ] مِنْ اِلٰهٍ [ کسی قسم کا کوئی الہ ] اِلَّآ [ سوائے ] اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭ [ واحد الہ کے ] وَاِنْ [ اور اگر ] لَّمْ يَنْتَھُوْا [ یہ لوگ باز نہ آئے ] عَمَّا [ اس سے جو ]يَقُوْلُوْنَ [ یہ کہتے ہیں ]لَيَمَسَّنَّ [ تو لازما پہنچے گا ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] مِنْهُمْ [ ان میں سے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک درد ناک عذاب ]

اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ  ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ      74؀
اَفَلَا [ تو کیوں نہیں ] يَتُوْبُوْنَ [ یہ لوگ پلٹتے ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ] وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ ۭ [ اور معافی مانگتے اس سے ] وَ [ جبکہ] اللّٰهُ [ اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہامعاف کرنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]

مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ  ۭوَاُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ  ۭكَانَا يَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ  ۭاُنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْاٰيٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ     75؀
مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ [ مریم کے بیٹے مسیح نہیں ہیں ]اِلَّا [ مگر ]رَسُوْلٌ ۚ [ ایک رسول ] قَدْ خَلَتْ [ گزرچکے ہیں ] مِنْ قَبْلِهِ [ ان سے پہلے ] الرُّسُلُ ۭ [ بہت سے رسول ] وَاُمُّهٗ [ اور ان کی والدہ ] صِدِّيْقَةٌ ۭ [ سچی ہیں ] كَانَا يَاْكُلٰنِ [ وہ دونوں کھاتے تھے] الطَّعَامَ ۭ [ کھانا ] اُنْظُرْ [ تو دیکھو ] كَيْفَ [ کیسے ] نُبَيِّنُ [ ہم واضح کرتے ہیں ]لَهُمُ [ ان کے لیے ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] ثُمَّ انْظُرْ [ پھر دیکھو ] اَنّٰى [ کہاں سے ] يُؤْفَكُوْنَ [ یہ لوگ پھیرے جاتے ہیں ]

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا ۭوَاللّٰهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ      76؀
قُلْ [ آپ کہئے ] اَتَعْبُدُوْنَ [ کیا تم لوگ عبادت کرتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] مَا [ اس کی جو ] لَا يَمْلِكُ [ مالک نہیں ہے ]لَكُمْ [ تمہارے لیے ] ضَرًّا [ کسی نقصان کا ] وَّلَا نَفْعًا ۭ [ اور نہ ہی کسی نفع کا ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] هُوَ السَّمِيْعُ [ ہی سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے ]

قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَهْوَاۗءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ     77؀ۧ
قُلْ [ آپ کہئے ] يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ [ اے اہل کتاب ] لَا تَغْلُوْا [ تم لوگ زیادتی مت کرو]فِيْ دِيْنِكُمْ [ اپنے دین میں ] غَيْرَ الْحَقِّ [ ناحق کی ] وَلَا تَتَّبِعُوْٓا [ اور پیروی مت کرو]اَهْوَاۗءَ قَوْمٍ [ ایک ایسی قوم کی خواہشات کی ] قَدْ ضَلُّوْا [ جو بھٹک چکے ]مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] وَاَضَلُّوْا [ اور جنھوں نے گمراہ کیا ] كَثِيْرًا [ بہتوں کو ] وَّضَلُّوْا [ اور گمراہ ہوئے ] عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ [ راستے کے بیچ سے ]

لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَلٰي لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ  ۭذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ     78؀
لُعِنَ [ لعنت کی گئی ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں پر جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل میں سے ] عَلٰي لِسَانِ دَاوٗدَ [ داؤد کی زبان پر (یعنی سے ) وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۭ [ اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے ]ذٰلِكَ [ یہ ] بِمَا [ اس سبب سے کہ ] عَصَوْا [ انھوں نے نافرمانی کی ] وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ [ اور وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ]



ق س س : (ن) قسا ۔ رات میں کسی چیز کی جستجو کرنا ۔ قسیس۔ رات میں علم کی جستجو کرنے والا ۔ نصاری کا عالم پادری ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

د م ع : (ف) دمعا ۔ آنسو جاری ہونا ۔ دمع ۔ اسم ذات بھی ہے ۔ آنسو ۔ آیت زیر مطالعہ ۔

ترکیب : وعیسی ابن مریم میں ابن کی جز بتا رہی ہے کہ یہ فقرہ بھی علی لسان کا مضاف الیہ ہے ۔ یتناھون باب تفاعل کا مضارع ہے فعلوہ کی ضمیر مفعولی منکر کے لیے ہے ۔ ھم مبتداء ہے ، خلدون اس کی خبر ہے اور فی العذاب متعلق خبر مقدم ہے ۔ لو شرطیہ ہے ۔ کانوا سے الیہ تک شرط ہے اور مااتخذوا جواب شرط ہے ۔ کانوا کا اسم اس میں ھم کی ضمیر ہے اور یؤمنون اس کی خبر ہے ۔ لتجدن کا مفعول اول اشد ہے جبکہ الیھود اور والذین اشرکوا مفعول ثانی ہیں ۔ بان کا اسم قسیسین اور رھبانا ہیں ، اس کی خبر محذوف ہے اور منہم قائم مقام خبر مقدم ہے ۔

نوٹ : 1۔ رسول اللہ
نے فرمایا کہ سب سے پہلی برائی بنی اسرائیل میں یہی داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا ۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا اور میل جول باقی رکھتا ۔ اس وجہ سے سب میں ہی سنگ دلی آگئی ۔ (ابو داؤد ) آپ نے فرمایا کہ یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تعالیٰ تم پر کوئی عذاب بھیج دے گا ۔ پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا (مسند احمد اور ترمذی ) ایک اور حدیث میں فرمایا کہ اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں (ابن ماجہ ) ۔ (منقول از ابن کثیر) نوٹ: 2۔ آیات زیر مطالعہ میں یہود، مشرکین اور نصاری کے متعلق جو بات کی گئی ہے وہ مطلق نہیں ہے بلکہ تناسب کے لحاظ سے ہے ۔ آج بھی صورتحال یہی ہے کہ یہودی اور آج کے مشرک یعنی ہندو ، مسلمانوں کا وجود بھی گوارہ نہیں کرتے اور انھیں صفحہ ہستی سے نابود کرنے کے لیے کوشاں ہیں ، جبکہ عیسائی بھی مسلمانوں کو مغلوب اور دست نگر بنا کر رکھنے کے لیے تو کوشاں ہیں لیکن اس مخالفت میں وہ اتنے شدید نہیں ہیں ۔

كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ  ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ       79؀
كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ [ ایک دوسرے کو منع نہیں کیا کرتے تھے ] عَنْ مُّنْكَرٍ [ کسی برائی سے ] فَعَلُوْهُ ۭ [ جو انھوں نے کیں ] لَبِئْسَ [ تو کتنا برا ہے ] مَا [ وہ جو ] كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے تھے ]

تَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا  ۭلَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِـــطَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ      80؀
تَرٰى [ تو دیکھے گا ]كَثِيْرًا [ اکثر کو ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] يَتَوَلَّوْنَ [ کہ وہ دوستی کرتے ہیں ] الَّذِيْنَ [ ان سے جنھوں نے ] كَفَرُوْا ۭ [ کفر کیا ] لَبِئْسَ [ توکتنا برا ہے ] مَا [ وہ جو ] قَدَّمَتْ [ آگے بھیجا ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] اَنْفُسُهُمْ [ ان کے نفسوں نے] اَنْ [ کہ ] سَخِـــطَ [ غصہ کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] وَفِي الْعَذَابِ [ اور عذاب میں ] هُمْ [ وہ لوگ ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ]

وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِيَاۗءَ وَلٰكِنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ      81؀
وَلَوْ [ اور اگر ] كَانُوْا [ وہ لوگ ہوتے ] يُؤْمِنُوْنَ [ کہ ایمان لاتے ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالنَّبِيِّ [ اور ان نبی پر ]وَمَآ [ اور اس پر جو ] اُنْزِلَ [ اتارا گیا ] اِلَيْهِ [ ان کی طرف ] مَا اتَّخَذُوْهُمْ [ تو نہ بناتے ان کو ] اَوْلِيَاۗءَ [ دوست ] وَلٰكِنَّ [ اور لیکن ] كَثِيْرًا [ اکثر ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] فٰسِقُوْنَ [ نافرمانی کرنے والے ہیں ]

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى ۭذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ      82؀
لَتَجِدَنَّ [ تو لازما پائے گا] اَشَدَّ النَّاسِ [ لوگوں میں سب سے سخت ] عَدَاوَةً [ بلحاظ عداوت کے ] لِّلَّذِيْنَ [ ان کے لیے جو ] اٰمَنُوا [ ایمان لائے ] الْيَھُوْدَ [ یہودیوں کو ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان کو جنھوں نے ] اَشْرَكُوْا ۚ [ شرک کیا ] وَلَتَجِدَنَّ [ اور تو لازما پائے گا] اَقْرَبَهُمْ [ ان میں سب سے قریب ] مَّوَدَّةً [ بلحاظ دوستی کے ] لِّلَّذِيْنَ [ ان کے لیے جو ] اٰمَنُوا [ ایمان لائے ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] قَالُوْٓا [ کہا ] اِنَّا [ کہ ہم ] نَصٰرٰى ۭ [ نصرانی ہیں ] ذٰلِكَ [ یہ ] بِاَنَّ [ اس سبب سے کہ ] مِنْهُمْ [ ان میں ]قِسِّيْسِيْنَ [ علماء ہیں ] وَرُهْبَانًا [ اور درویش ہیں ] وَّاَنَّهُمْ [ اور یہ کہ وہ لوگ ] لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ [ تکبر نہیں کرتے ]